Naeyufaq Dec-16

بے سائباں لوگ

ناظم بخاری

نو سالہ عابی نے گلی میں جھانکا،اسے شانی کہیں نظر نہیں آیا۔حالانکہ کل اس نے کہا تھا کہ وہ ٹھیک اسی وقت اسی گلی میں ہوگا۔ مگر اِس وقت وہ گلی سنسان پڑی ہوئی تھی اورشانی کا کہیں نام و نشاں نہیں تھا۔
وہ وہیں تھوڑی دیر کھڑا سوچتا رہا کہ وہ شانی کو ڈھونڈنے کس طرف جائے کہ اچانک اسے چوہدریوں کے پلاٹ کاخیال آیا۔ چوہدریوں کا ایک ایکڑ کاوہ پلاٹ بستی سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ جسے بچوں نے اپنے لیے کھیل کا میدان بنا رکھا تھا۔اسے خیال آیا کہ ہو نہ ہو، وہ اِس وقت چوہدریوں کے پلاٹ میں ہی ہوگا اور ہْوا بھی یہی۔ وہ دس منٹ کا فاصلہ طے کر کے جب چوہدریوں کے پلاٹ پر پہنچا توشانی اسے سامنے ہی کھیلتا ہْوا دکھائی دے گیا۔ وہ اس سے چند سال بڑا تھا اور اس سے زیادہ ذہین اورتیز تھا۔اس نے عابی کے سامنے کئی ایسے حیرت انگیز کام کیے تھے کہ عابی اس کی ذہانت کا معترف ہو گیا تھا۔
’’شانی!‘‘
اس نے شانی کو دور سے پکارا۔ شانی نے اس کی طرف دیکھااوراسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کردیا۔
’’یہاں آ جاؤ‘‘
وہ قریب پہنچا توشانی اسے گولیاں کھیلتاہوا نظر آیا۔ وہ کافی ہشاش بشاش اور خوش نظر آ رہا تھا۔
’’آج تو اپنی جیب فل گرم ہے یار۔‘‘ اس نے اپنی جیب تھپتھپائی۔
’’سالوں کو ایک گولی بھی نہیںجیتنے دی۔یہاں کوئی مائی کا لعل ایسا نہیں ہے جو آج مجھ سے جیت سکے۔ آج تو لگتا ہے، اپنا لک عروج پر ہے۔‘‘ وہ زور سے ہنسا۔
’’بس ان کے پاس کچھ گولیاں رہ گئی ہیں، یہ جیت لوں تو ان سب سالوں کی جیبیں خالی ہو جائیں گی، پھر کہیں چلتے ہیں۔‘‘
شانی سے دو تِین لڑکے کھیل رہے تھے، ان میں ایک اس کا ہَم عمر لڑکا ناصر بھی تھا۔ وہ غصے سے بولا۔
’’دیکھ شانی، تو کھیل جیت رہا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو ہمیں گالیاں بھی دے۔ جب ہَم تمہیں کچھ نہیں کہہ رہے تو تو بھی ہمیں گالیاں مت دے۔‘‘
’’دوں گا، سو بار دوں گا۔‘‘ شانی نے چڑاتے ہوئے کہا۔
’’جب تم لوگ جیت جاتے ہو تو کیسی کیسی باتیں کرتے ہو۔ اب میں جیت رہا ہوں تو برداشت نہیں ہو رہا کمینو…‘‘
شانی سے ہارنے والوں میں ایک لڑکا قمر بھی تھا۔ وہ تھا توشانی سے ایک سال چھوٹا، مگر تھا بہت تیز اور جھگڑالو۔شانی کی جیت سے وہ بھی تپا بیٹھا تھا۔ اس نے کہا۔
’’دیکھ شانی، میں بھی کہہ رہا ہوں کہ گالیاں دینا بند کر دے، نہیں تو اچھانہیں ہوگا۔‘‘
’’اچھا، تو کیا کر لو گے تم …‘‘
شانی نے اسے ایک اورگالی دی۔
قمر اچانک اٹھا اور اس سے بھڑ گیا۔
’’سالے، تو گالی دے گا تو کیا ہمارے منہ میں زْبان نہیں ہے، یا ہمارے ہاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں؟ اب دیکھتا ہوں تو کیسے نکالتا ہے گالی۔‘‘ اچانک وہ ایک دوسرے سے دست وگریباں ہو گئے۔ قمر نے شانی کے منہ پر زور سے ہاتھ مارا۔ اس کے ہونٹوں سے لہو رسنے لگا۔ اس نے اپنے منہ میں لہو کا ذائقہ محسوس کر کے نیچے تھوکا اور غصے میں آ کر اپنی لات پوری قوت سے اس کے پیٹ میں دے ماری۔
’’تیری ماں کی۔۔۔‘‘
اس کے منہ سے بے اختیار ایک گالی نکلی۔
باقی الفاظ درد کی شدت نے اس کے منہ سے چھین لیے۔ وہ تکلیف سے بے حَال ہو کر زمین پر ادھر سے اْدھر لڑھکنے لگا۔شانی نے ایک بار پِھر لہو کا ذائقہ منہ میں محسوس کر کے نیچے تھوکا۔
’’کتی کے بچے۔۔۔جب ہار برداشت نہیں ہوتی توکھیلتے کیوں ہو؟ بتاؤ مجھے۔۔۔‘‘
اچانک درد سے تڑپتے ہوئے قمر کے ہاتھ ایک بڑا ساپتھر لگا۔اس وقت تک اس کے درد کی شدت کم ہو گئی تھی۔ وہ احتیاط سے کھڑا ہوا اور پوری قوت سے وہ پتھر شانی کے سَر پر دے مارا۔ اس کے سَر سے لہو کا ایک فوارہ نکلا اور وہ چیخ کر رہ گیا۔
’’او میں مرگیا۔۔۔۔‘‘
دوسرے ہی پل وہ درد سے بے حال ہو کر وہیں زمین پرگر پڑا۔اس کے سَر سے لہو نکلتا دیکھ کر قمر اور دوسرے بچے فوراً ہی وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔وہاں صرف عابی رہ گیا۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ اِس صورت حَال میں کیا کرے ؟شانی اپنے سَر پر ہاتھ رکھے، دَرد سے تڑپ رہا تھا۔ عابی کو اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا، اس نے اپنے قدم فوراً ہی شانی کے گھر کی طرف دوڑادیے۔چند لمحوں بعد وہ شانی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔
…٭٭…
اگر اس بستی کے چندآوارہ اور گنے چنے لوگوں کا شمار کیا جاتا تو عدیل عرف دیلا ان میں سَرفہرست تھا۔
سگریٹ ، چرس ، شراب ، عورتوں کی دلالی ، چوری ، کبوتر بازی ، تاش، سٹہ۔۔۔۔۔
اِن سب کاموں کا وہ نہ صرف عادی اور ماہر تھا بلکہ وہ اپنے حصے کا رزق انہی کاموں اور جگہوںسے حاصل کرتا رہتا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کی واحد اولاد تھا۔ اس کا باپ ایک گورنمنٹ اسکول میں چپڑاسی تھا اور ایک مسجد میں پیش امام۔۔۔اس نے دیلے کو اچھا انسان بنا کر رکھنے میں یا بنانے میں کبھی کوئی کسر اٹھا کرنہ?ں رکھی تھی۔ مگر پتہ نہیں دیلا کیسے اس کے ہاتھوں سے نکل گیا تھا۔ اور نکلنے کے بعد اِس قدر بگڑ گیا تھا کہ غلام حسین کی جب بھی اس پر نگاہ پڑتی، اس کا دِل دکھ سے جاتا۔ وہ اکثر سوچتا کہ اس سے آخِر ایسا کون سا گناہ سرزد ہْوا تھا کہ جس کی سزا کے طور پر اسے دیلے جیسا بیٹا ملا ہے۔اسے اچھی طرح یاد تھا کہ وہ ساری زندگی صوم و صلواۃ کا پابند رہا ہے۔ اس نے کبھی کسی کی حق تلفی نہیں کی۔
تمام زندگی رزق حالال کمایا اور گھر والوں کو کھلایا ہے اور دیلے پرتو کچھ زیادہ ہی نوازشیں اور توجہ کی ہے۔تو پِھر اس سب کے باوجود وہ کیسے اس کے ہاتھ سے نکل گیا؟ کیسے دنیا کے آوارہ ترین لوگوں میں اپنا نام شمار کرا لیا؟
غلام حسین جتنا اِس بارے میں سوچتا، اس کا اتنا ہی دِل دکھتا۔ کبھی کبھی، انتہائی بے بسی کی حالت میں خدا سے بھی اپنے اس گناہ کے بارے میں سوال کر بیٹھتا، جو شاید کبھی انجانے میں اس سے ہْوا ہو اور جس کے نتیجے میں اسے دیلا کے ’’تحفے‘‘سینواز دیا گیا ہو۔ دیلا صبح اس کے ساتھ اسکول بھی جاتا تھا اور شام کومدرسے بھی۔ باپ کی سختی سے مجبور ہو کر وہ کبھی کبھار اس کے ساتھ مسجد بھی چل دیا کرتا تھا، مگر صرف اوپری دِل سے۔ سچے دِل سے اس کے قدم کبھی صداقت کے راستے کی طرف نہیں اْٹھے تھے۔ پتہ نہیں یہ اس کے باپ کی غفلت کا نتیجہ تھا، تقدیر کا لکھا تھا یا کچھ اورکہ دیلا دھیرے دھیرے پڑھائی سے دور اور لوفر گردی کے نزدیک ہوتا گیا۔ وہ بچپن میں گولیاں کھیلتا، پیسے کھیلتا، پتنگ اڑاتا، کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی کاغذ کی تاش کھیلتا اور گلیوں میں، چوک میں ادھر اْدھر بکھرے ہوئے سگریٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اٹھا کر پیتا۔ یہ لت اسے حمید عرف میدے نے لگائی تھی۔ وہ اس کے گھر کے ساتھ ہی رہتا تھا اور اس کے ساتھ، اس کی کلاس میں پڑھتا تھا۔ دونوں کے شوق ایک جیسے تھے سو دونوں آپس میں گہرے دوست بن گئے۔ وہ گلیوں میں، یہاں وہاں سے آدھ جلے، آدھ بجھے سگریٹ کے ٹکڑے جمع کرتے اور قبرستان کے ایک ویران حصے میں چلے جاتے۔وہاں وہ جی بھرکرموج مستی کرتے۔اس مخصوص جگہ پرماچس، میدے نے پہلے سے ہی چھپائی ہوئی ہوتی۔وہ وہاں سے ماچس اٹھاتے اور وہ ادھ جلے اور بجھے ٹکڑے سلگاکرپینے لگتے۔ کبھی سگریٹ کے یہ ٹکڑے جمع کرنے کی باری میدے کی ہوتی، کبھی دیلے کی۔انہیں گلیوں میں سگریٹ کے ٹوٹے چنتے دیکھ کر، ایک دوبارچند لوگوں نے انہیں ٹوکا اور سختی سے منع بھی کیا تھا مگروہ دونوں بھی استاد تھے۔جب سَر عام لوگ انہیں اس کام سے روکنے لگے تو وہ دونوں چْھپ کر اور لوگوں کی نظروں سے بچ کر یہ کام کرنے لگے تھے اور پھر ایک دن اپنے باپ کی پوری سگریٹ کی ڈبیہ اڑا لایا۔اس دن پہلی بار دیلے کو پتہ چلا تھا کہ سگریٹ پینے کا اصل لطف تو بھرے ہو ئے اور مکمل سگریٹ پینے میں ہے، گلیوں سے چنے ہوئے ٹکڑوں میں نہیں۔ جو مزہ ان میں تھا، وہ ان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کہاں تھا۔ اس نے اس بات کا اظہار میدے سے بھی کردیا۔
’’یارآج تو مزہ آگیا قسم سے۔آج کے بعد گلیوں میں اور چوک میں بکھرے ہوئے ٹکڑے چننا بند۔ پئیں گے تو بھری ہوئی سگریٹ، ورنہ نہیں پئیںگے۔‘‘
میدا اس کی بات پر کھل کر ہنسا تھا۔
’’اور پیسے کہاں سے آئیں گے ؟ تیرے باپ کے گھر سے ؟یہ تو ابّا کی سگریٹ ہاتھ لگ گئی تو چرا کر لے آیا، ورنہ روز روز یہ موقع تھوڑا ملے گا اور اب یہ مت کہنا کہ میں روز ہی یہ سگریٹ چرا کر لے آیا کروں۔ اگر ایسا کوئی خیال تیرے ذہن میں آ رہا ہے تو اس سے آگے سوچنا بھی مت۔ اگر ابّا نے دیکھ لیا تو زندہ نہیں چھوڑیگا۔‘‘
’’میں ایسی کوئی بات نہیں سوچ رہا۔ بس اتنا سوچ رہا ہوں کہ اب ہَم گلیوں میں سے ٹکڑے چن کرنہیں پئیںگے،خرید کر پئیں گے۔۔۔ مطلب کسی سے منگوا کرپئیںگے‘‘
’’اور اِس کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے ؟‘‘
’’اس بارے میں بھی کچھ سوچ لیں گے۔‘‘
اگلے دن جب دیلے کو جیب خرچ ملا تو وہ اس نے میدے کے سامنے کر دیا۔
’’یہ کیا ہے ؟‘‘
’’ہماری عیاشی کے پیسے‘‘
’’مطلب ؟‘‘
’’مطلب یہ کہ تم کسی دکان سے سگریٹ خرید کر لاؤ ،اگر کوئی نہ دے تواپنے ابا کا نام لے لینا کہ اس نے منگوائے ہیں۔ پِھر ہَم عیاشی کریں گے۔‘‘
میدا اس کی بات سن کر بہت زور سے ہنسا۔
’’ان پیسوں میں تو صرف ایک سگریٹ ہی مل سکے گا۔‘‘
دیلے کو مایوسی ہوئی۔
’’اچھا۔۔۔ چلو ایک ہی سہی، وہ تو لاؤ۔ بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔‘‘
جب تک میدا سگریٹ لینے گیا، دیلے نے لوگوں کی نظروں سے بچ کر، زمین پر پڑے سگریٹ کے کچھ ٹکڑے اپنے قبضے میں کر لیے۔
جب میدا آ گیا تو وہ اپنی مخصوص جگہ کی طرف چل دیے۔
ایک مکمل سگریٹ کو دونوں نے آدھا آدھا پیا اور جب سگریٹ ختم ہو گئی تو اپنی تشنگی’’ٹوٹوں‘‘ سے بجھائی۔
اِس بار بھی دیلے کو صاف صاف محسوس ہو رہا تھا کہ جو مزہ مکمل سگریٹ میں تھا، وہ ان ٹکڑوں میں نہیں ہے۔اس کے دل میں ایک بار پھر اس خواہش نے کروٹ لی کہ کاش انہیں کسی طرح رورانہ ایسے ہی دوچار سگریٹ مل جایاکریںتو کیا بات ہو۔اگرنہ ملیں تو وہ خودبندوبست کر لیا کریں۔
اپنی اِس سوچ سے اس نے میدے کو بھی آگاہ کر دیا کہ وہ خود بھی کہیں نہ کہیں سے پیسوں کا بندو بست کرتا ہے، وہ بھی کرے۔تاکہ وہ روزانہ اسی طرح عیاشی کر سکیں۔
میدا پہلی بار کی طرح اس بار بھی اس کی بات سن کر مسکرا دیا تھا۔ ’’کہیں نا کہیں‘‘ سے دیلے کا کیا مطلب تھا، اِس پر بھی اس نے کچھ روشنی ڈالی تھی۔ پِھر اِس سے پہلے کہ وہ خود کہیں سے ہیرا پھیری یا چوری چکاری سے پیسوں کا بندوبست کرتے، ان کی اچانک ملاقات شریف عرف شرفو سے ہوئی۔اس دن سگریٹ پینے کے دوران میدے کو رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے اپنے قدم بلا جھجک ساتھ والی کپاس کی فصل کی طرف بڑھا دیے تھے۔جب وہ کچھ دیربعد فارغ ہو کر آیا تھا تو اس نے دیلے سے کہا تھا۔
’’یار مجھے لگتا ہے، کوئی شخص کپاس کی فصل کے اندر موجود ہے۔‘‘
’’وہم ہوگا تیرا۔‘‘
’’وہم نہیں ہے یار۔میں جب پیشاب کر رہا تھا، مجھے یوں لگا، جیسے کچھ فاصلے پر کوئی اور شخص بھی موجود ہے۔ کبھی کبھی وہ حرکت کرتا، پِھر رک جاتا، کچھ دیر بعد وہ پِھر حرکت کرنے لگتا تھا۔‘‘
’’تیرا کیا خیال ہے، اندر کون ہوگا اور کیا کر رہاہوگا ؟‘‘
’’اندر تو کوئی بھی ہو سکتا ہے۔پر مجھے لگتا ہے، اندر والا شخص کوئی ایسا کام کر رہا ہے، جو اسے نہیں کَرنا چاہیے۔‘‘
’’مطلب ؟‘‘
’’مطلب یہ کہ کوئی شخص اندر کپاس چن رہا ہے اور وہ بھی چوری۔‘‘
دیلے کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
’’چوری۔۔۔۔ ارے یہ تو چوہدریوں کے کھیت ہیں۔ بستی میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جو یہ جرأت کر سکے۔ یہ صرف تیرا وہم ہے، ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا، اگر ایسی بات ہے تو میرے ساتھ ذرا دور چل کے بیٹھ۔ ہَم چْھپ کے کہیں بیٹھ جاتے ہیں۔تم اپنی آنکھوںسے خود دیکھ لینا۔کچھ دیر بعد اِس کھیت سے ضرور کوئی باہر نکلے گا۔‘‘
’’اگر ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے، میں بھی دیکھتا ہوں کہ تیرا اندازہ کتنا درست ہے۔‘‘
وہ دنوں وہاں سے کچھ فاصلے پر جا کر چْھپ گئے اور اپنی نگاہیں سامنے والی کپاس کی فصل پر جما دیں۔میدے کا اندازہ بالکل ٹھیک تھا۔دس منٹ بعد انہیں اس فصل سے ایک شخص باہر نکلتا ہْوا دکھائی دیا۔ وہ سترہ، اٹھارہ سال کاایک لڑکا تھا۔ گو وہاں سے فاصلہ زیادہ نہیں تھا مگر وہ دونوں پِھر بھی اسے پہچان نہیں سکے۔
اس شخص نے آہستہ سے فصل سے باہر سر نکال کر ارد گرد دیکھا جب اسے تسلی ہو گئی کہ باہر کوئی نہیں ہے اور میدان صاف ہے تووہ آرام سے باہر نکل آیا۔
اس کے ایک ہاتھ میں ایک چادر تھی، جس میں چار پانچ کلو کے قریب کپاس بندھی ہوئی تھی۔
میدے کا اندازہ ٹھیک نکلا تھا۔دیلا دِل ہی دِل میں اسے سراہے بغیر نہ رہ سکا۔میدا فاتحانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’میں نے کہا تھا نا کہ اندر کوئی نا کوئی موجود ہے۔دیکھا، میرا اندازہ ٹھیک نکلا۔‘‘
’’یار یہ تو سچ مچ کوئی چور کا پتر ہے … جلدی اٹھ، چل کر پکڑتے ہیں سالے کواور بڑے چوہدری کے حوالے کرتے ہیں۔ کافی انعام ملے گا۔زیادہ نہیں تو دو چار دن کی عیاشی تو ہو ہی جائے گی۔‘‘
’’چلو۔‘‘
وہ دونوں اپنی جگہ سے باہر نکلے اور انہوں نے وہیں سے اسے آواز دی۔
’’رک اوئے چور کے پتر! باپ کا مال ہے جو چوری کر کے لے جا رہا ہے ؟‘‘
شرفو کے اٹھتے ہوئے قدموں میں زنجیرسی پڑ گئی۔ اس کا دِل بے اختیار اچھل کر حلق میں آگیا۔ وہ سمجھا کہ اب خیریت نہیں ہے، مگر جب اس نے پلٹ کر دیکھا تو اس کے حواس بحال ہوئے۔
اس کے سامنے اس سے بھی کم عمر دو لڑکے موجود تھے، جو اسے کسی طرح بھی زیرنہیں کرسکتے تھے۔ اس کا خوف کسی قدر دور ہو گیا۔
قریب آتے ہی میدے نے تیکھی آواز میں پوچھا۔’’اوئے کون ہے تو اور یہ کپاس چرا کر کہاں جا رہا ہے؟‘‘
شرفو اس کے لہجے سے ذرا بھی متاثر نہیں ہْوا۔
’’بیچنے جا رہا ہوں اور کچھ…؟‘‘
میدے کو اس کے لہجے پر حیرت ہوئی۔ اس کے لہجے سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اس نے یہ کپاس چرائی نہ ہو، بلکہ اس کی اپنی ہو۔
اس نے اپنا شک دور کَرنا چاہا۔
’’یہ کپاس سامنے والی فصل سے چرائی ہے نا تم نے ؟‘‘
’’ہاں وہیں سے چرائی ہے۔‘‘
ان دونوں کو حیرت ہوئی۔ یہ کیسا انسان ہے، جس نے چوری بھی کی تھی اور مان بھی رہا تھا۔ اگر وہ فصل ان دونوں کی ہوتی تو وہ اسی وقت اس سے بھڑ جاتے اور اس کا وہ حال کرتے کہ وہ یاد رکھتا، مگر یہ فصل اور کپاس کسی اور کی تھی۔
’’جانتے ہو تم نے کس کے کھیت میں چوری کی ہے؟‘‘
’’جانتا ہوں، یہ چوہدریوں کے کھیت ہیں۔‘‘
ان دونوں کو مزید حیرت ہوئی۔
’’اگر کسی دن تم ان کے ہتھے چڑھ گئے تو ؟‘‘
شرفو ہنسا۔’’ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ میں ہر کام دیکھ بھال کر اور سوچ سمجھ کے کرتا ہوں۔‘‘
’’اور اگر ہَم دونوں نے جا کر بڑے چوہدری کو بتا دیا تو…؟‘‘
شرفواعتماد سے مسکرایا۔
’’پہلی بات یہ کہ وہ تم دونوں کی بات کا اعتبار نہیں کرے گا۔ دوسری بات یہ کہ تم مجھے جانتے نہیں ہواور تیسری بات یہ کہ تم دونوں ایسا کچھ کرنے والے نہیں ہو۔ کیوں کے میں یہ ’’پھٹی‘‘ بیچ کر اس میں سے کچھ پیسے تمہیں بھی دینے والا ہوں تاکہ تم میرا یہ راز ہمیشہ راز ہی رکھ سکو۔‘‘
میدے اور دیلے کو یہ بات پرکشش لگی۔
’’یعنی تم ہمیں، اِس کپاس میں سے حصہ دو گے؟‘‘
’’ہاں بالکل، بس شرط اتنی سی ہے کہ میرا یہ راز، صرف تم دونوں تک ہی محدود رہے۔‘‘
’’تم بے فکر ہو جاؤ۔یہ راز صرف ہَم دونوں تک ہی رہے گا۔‘‘
’’اچھا تم میرے ساتھ چلو۔ میرا گھرپاس والی بستی میں ہے۔ میں وہاں کپاس بیچ کر تم دونوں کو تمہارا حصہ دے دوں گا۔‘‘
میدے نے انکار میں سَر ہلایا
’’نہیں یار، ہَم اتنا دور نہیں جا سکتے، وہ بستی تو بہت دور ہے۔‘‘
’’تو پِھر اپنا حصہ کیسے لو گے؟‘‘
’’تم ایسا کَرنا، کل یہیں ہمارا حصہ پہنچا دینا۔‘‘
’’چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ میں کل اسی وقت یہاں تمھارا حصہ لے کر آ جاؤں گا۔‘‘
وہ رخصت ہو گیا تو دیلا اور میدا اس کی بہادری پر عش عش کرتے رہے۔
اس شخص میں اتنا حوصلہ تھا کہ اس نے نا صرف چوہدریوں کی فصل میں چوری کرنے کاسوچا تھا، بلکہ کر بھی لی تھی۔
ویسے ان دونوں کو امید نہیں تھی کہ کل وہ وہاں آئے گا، لیکن اگلے دن نا صرف وہ وہاں آیا تھا، بلکہ اپنے ساتھ ان کے حصے کی رقم بھی لایا تھا۔
وہ پہلی ملاقات ہی ان تینوں کی گہری دوستی میں بَدَل گئی تھی۔
شرفو نے انہیں بتایا کہ وہ ساتھ والی بستی میں رہتا ہے اور اسی طرح چھوٹی موٹی چوریاں کر کے اپناگزارا کرتا رہتا ہے۔اگر ان لوگوں کو بھی کسی چیز کی ضرورت ہے یا وہ چار پیسے کمانا چاہتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں۔اس سے جو رقم حاصل ہوگی، وہ اس کے تِین حصے کریں گے۔
دیلا تو اس کی بات سے کسی حد تک رضا مند ہو گیا تھا، مگرمیدے کا دِل نہیں بندھا۔
اس نے کہا۔ ’’نہیں یار،تو جیسے اکیلا کام کر رہا ہے،کرتا رہ۔ ہَم میں تجھ جیسی ہمت نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘
شرفو ان کی بات پر مسکرا دیا تھا۔
ان تینوں کی اکثر ملاقاتیں وہیں پر ہوتی تھیں۔ اگلی دو چارملاقاتوں میں وہ ایک دوسرے کے مشاغل کے بارے میں کافی حد تک جان گئے تھے۔
شرفوکو اِس بات کی خوشی ہوئی تھی کہ وہ دونوں بھی سگریٹ پیتے ہیں۔ وہ خود بھی انہی کے مزاج کا بندہ تھا۔
وہ اگلی ملاقات میں ان سے ملنے آیا تو اپنے ساتھ ان کی علیحدہ سے سگریٹ کی دو ڈبیہ بھی لیتا آیا، جو اس نے ان دونوں کو تھما دی تھیں اور اپنی ڈبیہ کھول کر ان دونوں کو عیاشی الگ سے کرائی تھی۔
جلد ہی وہ ایک دوسرے کے ساتھ پوری طرح گْھل مل گئے تھے اوران میں گہری دوستی ہو گئی تھی۔
اگلے چند مہینے اسی طرح گزرے تھے۔ بلکہ ایک سال کا عرصہ بیت گیا تھا۔
میدے اوردیلے کی زندگی صرف انہی دو چار چیزوں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
گولیاں کھیلنا ، پیسے کھیلنے ، سگریٹ پینا پتنگ اڑانا اورشرفو کیساتھ، قبرستان کے اس مخصوص حصے میں بیٹھ کر تاش کھیلنا، جو وہ اپنے ساتھ لایا کرتا تھا۔ وہ اب کاغذ کی بنی ہوئی تاش نہیں کھیلتے تھے، بلکہ اصلی تاش سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
شرفو نے انہیں بتایا کہ زندگی کا مزہ صرف انہی چند چیزوں تک محدود نہیں ہے۔اور بھی بہت سی چیزیں، دنیا میں کرنے اور دیکھنے کے لیے ہیں۔
اور جب ان دونوں نے پوچھا تھا کہ وہ چیزیں کیا ہیں؟ تواس نے اپنی جیب میں رکھے ہوئے اخبار کے چند بوسیدہ سے ٹکڑے نکالے اور ان دونوں کے آگے پھیلا دیے۔
ان دونوںکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی۔
ان اخبار کے ٹکڑوں پر عورتوں کی نیم برہنہ تصویریں بنی ہوئی تھیں۔
’’یہ… یہ کہاں سے حاصل کیں تم نے ؟‘‘
وہ ہنسا۔
’’تم لوگ آم کھاؤ، پیڑ مت گنو۔‘‘
’’پِھر بھی یار…‘‘ میدے نے اصرارکیا۔
’’بس چھوڑو اِس بات کو، یہ بتائو، کیسا لگا یہ تحفہ ؟‘‘
ان دونوں کا سانس ابھی تک اعتدال پرنہیں آیا تھا۔
’’زبردست ہے یار، قسم سے۔‘‘
ان دونوں نے بیک وقت کہا۔ان کی تعریف سے شرفو خوش ہو گیا، جیسے اسے اِس تحفے کی قیمت وصول ہو گئی ہو۔ ان دنوں دیلا چودہ سال کا تھا اورمیدااس سے ایک سال بڑا تھا۔
جب سے ان تینوں کی دوستی ہوئی تھی، ان دونوں نے اسے ایک طرح سے اپنا اْستاد مان لیا تھا۔وہ اس کے ایک ایک فن کے معترف ہو گئے تھے اور اسے تھوڑی بہت عزت دینے لگے تھے۔ جواباً شرفو بھی ان کا خیال رکھنے لگا تھا۔
اور ان کی کئی ضرورتیں خود ہی پوری کر دیتا تھا۔ خاص کر سگریٹ پانی کی ضرورت۔ پچھلے ایک سال میں وہ روزانہ تو نہیں، البتہ دوسرے تیسرے دن ایک دوسرے سے ایک بارضرور ملتے تھے اور ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے تھے۔انہی دنوں، ایک ملاقات میں شرفو نے اْنہیں زندگی کی ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔
اس نے اْنہیں بتایا کہ جنسی تعلق کسے کہتے ہیں، اس میں کتنا لطف ملتا ہے اور وہ کیسے قائم کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔وہ ایک بارپھر اس کے معترف ہو گئے۔
پچھلے کچھ عرصے سے دیلے اور میدے نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا اور سارا سارا دن ادھر سے اْدھر آوارہ گردی کرتے پھرتے تھے۔
شرفو سے ملے، انہیں ایک سال ہونے کو آیا تھا۔ وہ سردیوں کا موسم تھا۔
کپاس کی فصل دوبارہ آ گئی تھی اورشرفو نے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی چوہدریوں کی فصل میں ہاتھ دکھانا شروع کر دیا تھا۔
مگر اِس بار تقدیر اس کے ساتھ نہیں تھی۔
اس دن دیلا اور میدا بھی نہیں آئے تھے، ورنہ وہی اکثر فصل سے باہر رہ کر آس پاس نظر رکھتے تھے اور شرفو اندر اپنا کام کرتا رہتا تھا۔ جب کام پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا تو وہ تمام رقم آپس میں بانٹ لیتے تھے۔
اس دن شرفو کو کسی کام کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑ گئی تھی۔ پیسے حاصل کرنے کا جو آسان رستہ اسے نظر آیا تھا، وہ چوہدریوں کے کھیت میں سے کپاس چوری کر نے کا تھا۔
پچھلے کچھ دنوں سے چوہدری کے منشی، اللہ بخش کو محسوس ہو رہا تھا کہ کوئی شخص ان کی فصل میں ہاتھ دکھا رہا ہے اور اس کا ثبوت بھی اسے مل چکا تھا۔کچھ جگہوں پر کپاس کے بے ثمر بوٹے اس بات کے گواہ تھے۔ اس نے نگرانی شروع کرا دی اور پہلی ہی کوشش میںشرفو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔جس دن دیلے اورمیدے کو یہ خبر ملی تھی، ان دونوں کے دِل کی دھڑکن ایک پل کو رک سی گئی تھی۔ اْنہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب شرفوکی خیر نہیں۔ وہ دونوں سچے دِل سے اس کی خیریت کی دعا کرنے لگے تھے، مگر اب شاید دعا کی قبولیت کا وقت نکل چکا تھا۔
اگلے دن شرفوکا جو حَال ہْوا تھا، وہ پوری بستی نے دیکھا تھا۔شرفو کی ایسی گت بنائی گئی تھی کہ جو بھی دیکھتا، کانوں کو ہاتھ لگا کر رہ جاتا۔اس کے چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر کالے اور نیلے داغ تھے اور اس کا منہ سوجا ہْوا تھا۔
اس کا توے کی سیاہی سے منہ کالا کر کے، اسے ایک گدھے پر بٹھا کر پوری بستی میں گھمایا گیا تھااور بتانے والے نے رک رک کر لوگوں کو اس کے جرم سے آگاہ کیا تھا۔ شام کو منشی نے اسے یہ کہہ کر بستی سے نکال باہر کیا تھا کہ آج کے بعد وہ اِس بستی میں یا اِس کے آس پاس بھی دوبارا نظر آیا تو اسے زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔
جب شرفو بستی سے جا رہا تھا، بستی کے آدھے لوگ وہاں موجود تھے۔ ان میں دیلا اور میدا بھی تھا۔
انہیں رہ رہ کر اِس بات کا افسوس ہو رہا تھا کہ آج کے بعد ان کی شرفو سے ملاقات نہیں ہو سکے گی۔ وہ بہت عجیب حالات میں ان سے ملا تھا۔ ان کے قریب ہوا تھا، ان سے دوستی کی تھی اوران کو زندگی کی بہت سی چیزوں سے روشناس کرانے کے ساتھ، ان دونوں کو کبھی کسی قسم کی پریشانی نہیں آنے دی تھی۔ان کا نشہ پانی وہی پورا کرتا رہا تھا۔ اب وہ دونوں پتہ نہیں کیسے حالات کے ساتھ چلتے، اپنے اخراجات پورے کرتے؟
شرفواس بستی سے ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا اور ان دونوں کو سوچوں کے بھنور میں اکیلا چھوڑ گیا تھا۔
شرفوجاتے جاتے، اپنی اچھی بری عادتوں کی طرح، چرس کی عادت بھی انہیں لگا گیا تھا۔جب تک وہ ساتھ تھے، اِس کا بندو بست بھی وہی کرتا تھا۔
اس کے جانے سے وہ دونوں پریشان ہوگئے تھے کہ اب اس کے بغیر وہ اپنا خرچہ کیسے اْٹھائیں گے؟
گھر والے ان کی فطرت سے واقف ہو چکے تھے اور انہیں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتے تھے۔
ان دونوں کو دو وقت کا کھانا مل جاتا تھا، اتنا بھی بہت تھا۔
دیلا اور میدا اب جوان ہو گئے تھے۔
اپنے نشے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لڑکپن کی طرح گلیوں سے سگریٹ کے ٹوٹے چن کر نہیں پی سکتے تھے۔ اور دوسرا شرفو انہیں جس طرح کی عادات میں مبتلا کر گیا تھا، ان کا گزارا عام حالات میں ہونا مشکل تھا۔
ایک دو دن تک دونوں نے مل کر سوچا کہ اپنے نشے کی عادت سے چھٹکارا پا لیں، یہی ان کے لیے ٹھیک رہے گا، مگر یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ دو دن میں ہی انہیں پتہ چل گیا کہ وہ جن بری عادتوں میں پڑ گئے ہیں، ان سے اب چھٹکاڑا پانا ممکن نہیں ہے۔
دونوں نے سوچا کہ وہ ادھر ادھر سے چار پیسے حاصل کر کے اپنے نشے پانی کی ضرورت کو پورا کریں مگر میدے کو باوجود کوشش کے کہیں سے بھی ایک پائی نہیں مل سکی تھی اور دیلے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔اس کے پاس بھی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ جس سے چار پیسے آتے اور وہ اپنی طلب پوری کرتا۔ لے دے کر ایک ماں اور باپ تھا، جن سے کچھ امید کی جا سکتی تھی۔ مگر باپ نے تو اسی وقت سے ہی ہاتھ کھینچ لیا تھا، جب سے اس نے اسکول چھوڑا تھا اور اس کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی اپنی آوارہ گردی سے باز نہیں آیا تھا۔ اس سے کچھ مانگنا یا حاصل کرنا بے سود تھا۔
اب صرف ایک ماں ہی تھی، جس سے چار پیسے ملنے کی امیدکی جا سکتی تھی۔
وہ ماں تھی، بیٹے کو اِس حالت میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔
دیلے کو پیسے کے لیے انکار کَرنا اس کے بس سے باہرتھا۔
شروع شروع میں وہ اپنے نشے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ماں سے محبت سے، خوشامد سے اور منت سماجت سے پیسے وصول کرتا رہا اور اپنی نشے کی ضرورت پوری کرتا رہا۔ پر ماں کے پاس بھی کوئی قارون کا خزانہ نہیں تھا، جو تمام زندگی چلتا رہتا۔اس کے پاس جو تھوڑا بہت پیسہ تھا، جلد ہی ختم ہو گیا۔گھر میں جو نقدی تھی وہ سب ختم ہوگئی۔اس گھر میں صرف ایک تولے کا سونے کا ایک سیٹ بچ گیا تھا، جس پردیلے کی نظرتھی۔ اگروہ سیٹ اسے مل جاتا تو…
اس نے ماں سے جلد ہی ایک نئی کہانی کہنی شروع کر دی۔
اس نے ماں سے کہا کہ وہ اِس نشے کی لعنت میں پڑ کر بہت بری طرح پھنس گیا ہے۔ وہ اِس لعنتی شے سے آزاد ہونا چاہتا ہے، مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے۔
اِس کے لیے علاج کی اور بہت سے پیسوں کی ضرورت ہے۔
وہ اگر اسے تندرست دیکھنا چاہتی ہے تو اس کی مدد کرے۔ اسے کہیں نا کہیں سے بہت سے پیسے لا کر دے، تا کہ وہ اپنا علاج کروا کرخود کو سدھار سکے۔ممتا کی ماری ہوئی ماں کو بے وقوف بنانا اور اس کی سادگی سے کھیلنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ ہر ماں کی طرح دیلے کی ماں نے بھی اس کے لیے بہت اچھے خواب بن رکھے تھے، جن کی تکمیل کی وہ خواہش مند تھی۔
اس بار دیلے کی بات سن کرنجانے کیوں اسے امید ہو چلی تھی کہ خدا خدا ہے، کیا پتہ میدے کے دِل میں سچ میں سدھرنے کا خیال آ گیا ہو۔
گھر میںاب ایک تولے کاسونے کا سیٹ بچا ہْوا تھا، جودیلے کی ماں نے اس کی دلہن کے لیے سنبھال کر رکھا ہْوا تھا۔
وہ سفید پوش لوگ تھے۔دیلے کی ماں نے اچھے دنوں میں کفایت شعاری کر کے وہ سیٹ بنوایا تھا۔ اب تو ایسا وقت تھا کہ گھر میں دو وقت کا عزت کا کھانا بھی بڑی مشکل سے پورا ہوتا تھا۔
ماں نے دیلے کی آنکھوں میں نمی اور جھوٹی سچائی کی جھلک دیکھی تو اس نے شوہر سے پوچھے بغیر وہ سونے کا سیٹ اٹھا کر خوش فہم امیدوں کے سہارے دیلے کے حوالے کردیا۔
وہ سیٹ بیچ کردیلے کے ہاتھ جو رقم لگی، اس سے اس کے اورمیدے کے دو چار دن بَڑے مزے سے گزرے۔
مال ہاتھ میں تھا، یار ساتھ تھا، اور کیا چاہیے تھا ؟
وہ تاش کھیلنا تو جوان ہونے سے پہلے ہی سیکھ گیا تھا، مگر پیسے لگاکرتاش کھیلنے کا اتفاق اسے کبھی نہیں ہْوا تھا۔
اس بستی سے ایک کلو میٹر دور، ایک صحرا نما سا، دو سے تِین کلو میٹر وسیع قبرستان تھا۔ وہ تھا تو قبرستان، مگر وہاں قبریں نا ہونے کے برابر تھیں۔ البتہ ریت کے کئی چھوٹے بڑے ٹیلے ضرور موجود تھے۔
اس صحرا نما سی جگہ کے سب سے آخری حصے کو، اس بستی کے آوارہ مزاج لوگوں نے اپنے تاش کھیلنے کا اڈا بنا رکھا تھا۔ وہاں بیک وقت، بستی کے کم سے کم آٹھ سے دس افراد موجود رہتے تھے۔ وہ سارا سارا دن وہاں بیٹھ کر تاش کھیلتے،گالیاں نکالتے، بیہودہ مذاق کرتے اور رات ہونے تک واپس بستی میں لوٹ آتے۔
دیلا کئی بارمیدے کے ساتھ وہاں پر جا چکا تھا۔ وہ اکثر وہاں کھڑا ان لوگوں کو دیکھتا رہتا تھا۔ ان کی ایک دوسرے سے کی گئی بیہودہ باتیں سنتا رہتا تھا اور شام کو واپس لوٹ آتا تھا۔
اِس دوران کئی بار اس کے دِل میں خیال آیا تھا کہ اگر اس کے پاس چار پیسے ہوں، اور وہ ان بَڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ کھیلے تو ان سے با آسانی جیت سکتا ہے۔ مگر افسوس ان دنوں اس کے پاس پیسے نا ہونے کے برابر ہوتے تھے۔
ان کا خرچاشرفو اٹھاتا تھا۔اِس بار سونے کا سیٹ بیچ کر ایک بڑی رقم اس کے ہاتھ کیا آئی، اس کا دِل چاہا کہ وہ قبرستان کے اس آخری حصے میں چلا جائے اور بَڑی عمر کے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر، کھل کر تاش کھیلے اور اتناکھیلے کہ ان سب کی جیبیںخالی کر دے۔اس نے اپنی اِس سوچ کا اظہار میدے سے کیا تو وہ بھی اِس کی بات سے متفق نظر آیا۔
اگلے دو چار دن دیلے کے ان بَڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ تاش کھیلنے میں بسر ہوئے۔
وہ لوگ صرف ایک ایک دو دو روپے کی بازی کھیلتے تھے، اِس سے زیادہ کوئی کھیلنے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔دیلے کو بھی مجبورا اتنی ہی رقم لگانا پڑتی تھی، ورنہ اس کا دل کرتا تھا کہ وہ بڑی رقم لگائے اور بڑا داؤ کھیلے۔
معلوم نہیں اس کا کھیل اچھا تھا یا تقدیر اس کا ساتھ دیتی تھی کہ وہ اکثر بازی جیت جاتا تھا۔
اِس جیت نے اسے اِس خوش فہمی میں مبتلا کر دیا کہ اس سے اچھی تاش کھیلنے والا وہاں کوئی نہیں ہے۔ وہ جس سے بھی تاش کھیلے گا، اسے ہرا دیگا۔ اسے یہ ایک ایک دو دو روپے کی بازیاں کھیلنا پسند نہیں تھا۔ اس کا دِل چاہتا تھا کہ کم سے کم ہر بازی پچاس پچاس یا سو سو روپے کی ہو۔ جس میں سچ میں ہار یا جیت کا مزہ آ سکے۔
اس نے اپنی اِس سوچ کا اظہار دوران کھیل کیاتوایک شخص نے کہا۔
’’بیٹا جی ،جیب میں زیادہ پیسے مچل رہے ہیںتو چوہدریوں کے ڈیرے پر چلا جا۔ وہاں بڑی بڑی بازیاں ہوتی ہیں۔ہفتے کی ہفتے محفل جمتی ہے۔وہاں جتنے مرضی کا داؤ جا کر کھیل …‘‘
اس کی بات دیلے کے دِل کو لگی۔
وہ سچ میں بڑے داؤ کھیلنا چاہتا تھا، جس میں وہ ایک ہی دن میں امیر بن جاتا یا پِھر…
اِس بارچوہدریوں کے ڈیرے پر محفل جمی تو وہ بھی وہاں موجود تھا۔ جتنی رقم اس کے پاس موجود تھی، وہ ساری اپنے ساتھ وہاں لے گیا تھا۔
صبح سے لے کر شام تک وہ وہاں کھیلتا رہا تھا اور جب شام کو وہ وہاں سے رخصت ہْوا تھا تو اس کی جیب اورہاتھ دونوں خالی تھے۔
اس کی ساری رقم دوسروں کی جیب میں منتقل ہو چکی تھی۔
اس دن دیلے کو پہلی بار احساس ہْوا تھا کہ جوا کسی کا نہ ہوا۔
دیلے کے ساتھ ساری رقم ہار جانے پر میدا بھی رنجیدہ تھا پر اس نے دیلے کو حوصلہ دیا کہ وہ اِس بات پر دِل چھوٹا نہ کرے۔ہار جیت زندگی کا حصہ ہے، وہ پریشان نہ ہو۔ اگر زندگی نے دوسری بار موقع دیا تو جیت انہی کی ہوگی۔
دو چار دنوں بعد دیلے کی ایک بار پھر وہی حالت تھی ، جوماں سے ایک تولہ سونا کا سیٹ لینے سے قبل تھی۔
جیب میں ایک پیسہ نہیں تھا اور نشے کی طلب سے اس کا بدن ٹوٹ رہا تھا۔اس بار اس نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ایک اور راستہ اپنایا۔
اس دن، رات کی تاریکی میں اس نے ماں باپ کی نظروں سے بچ کر گھر کی دو چار چیزیںاٹھائیں اور باہررکے ہوئے میدے کو تھما دیں۔
اگلے دن وہ شہر گیا اور وہ چیزیں بیچ کر دو پیسے لے آیا۔
دو چار دن مزید آسانی سے آگے بڑھ گئے تھے۔
گھر کا سامان چوری ہونے کے بعد غلام حسین کو پورا یقین تھا کہ یہ چوری دیلے نے کی ہے یا اپنے کسی یار دوست سے کرائی ہے۔ کوئی باہر کا آدمی اتنی جْرات نہیں کر سکتا تھا کہ اتنی دیدہ دلیری سے اس گھر میں آ کرچوری کر لیتا۔
اور دوسرا اس گھر میں ایسا کچھ قیمتی سامان بھی نہیں تھا کہ جس کے لیے اتنا رسک لیا جاتا،مگر اس نے یہ بات دیلے سے نہیں کی تھی۔ اسے پتہ تھاکہ ایک تو دیلا یہ بات ماننے سے انکار کر دے گا اور دوسرا اگر وہ یہ بات مان لیتا کہ ہاں اسی نے ہی یہ چوری کی ہے تو وہ اس کا کیا بگاڑ لیتا؟
اگر اس دوران اسے زیادہ غصہ آ گیا اور اس نے اسے گھر سے نکال باہر کیا تو… مگر یہ اس کے لیے آسان نہیں تھا۔دیلے کی ماں اس سے بہت پیار کرتی تھی اور وہ جیسا بھی تھا، اسے نظروں سے کبھی دور نہ ہونے دیتی۔
سو غلام حسین کے نزدیک سمجھداری اسی میں تھی کہ جو نقصان ہْوا تھا، اس پر صبر کا گھونٹ بھر لیا جاتا اور گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اس بات کو فراموش کیا جاتا۔وقت گزرتا گیا اوردیلا ،میدے کے ساتھ اپنی جوانی برباد کرتا گیا۔
نشے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جب گھر میں کوئی چیز نہ رہی تو اس نے دل بڑا کرتے ہوئے میدے کے ساتھ دوسروں کے گھروں کا راستہ ناپا۔
خوش قسمتی سے ابتدائی چند وارداتوں میں کامیابی نے ان کے قدم چومے اور ان کے حوصلے جوان ہو گئے۔
کبھی کسی کے گھر سے کوئی بکری غائب ہو رہی ہے تو کبھی سائیکل۔کبھی کسی کے گھر سے کبوتر غائب ہو رہے ہیں تو کہیں سے ریڈیو اوراگرکہیں سے اور کچھ نا ملا تومرغی پر ہی ہاتھ صاف کر لیا۔
ایک دو وارداتوں تک تو لوگوں کو زیادہ تشویش نہیں ہوئی مگر جب مسلسل یہ چوریاں ہونے لگیں تو نا صرف انہوں نے چورکو پکڑنے کا سوچا، بلکہ اسے پکڑ بھی لیا۔دیلا اور میدا رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
لوگوں نے ان دونوں کو پیٹنے اور اچھی طرح ان پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد ان کو چوک میں اْگے کیکر کے درخت کے ساتھ باندھ دیا تھا کہ جو کوئی بھی انہیں چھڑانے آئے گا، وہ ان کا نقصان پورا کر کے انہیں لے جائے گا۔
یہ خبر دیلے کی ماں تک پہنچی تو اس نے رو رو کر آسمان سَر پر اٹھا لیا تھا اور اپنے کانوں سے چاندی کی بالیاں اْتَار کر اپنے شوہر کودے دی تھیں کہ وہ انہیں دے کردیلے کو چھڑا لائے۔
دیلے کا باپ دِل پر پتھر رکھ کر گیا اور دیلے کو چھڑا لایا۔
ماں نے دیلے کو دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
مارنے والوں نے تسلی سے اپنے دِل کی حسرت نکالی تھی۔
اس کی ایک آنکھ اور ہونٹ سوجھ گیا تھا اور اس کے پورے وجود پر سیاہ اور نیلے داغ تھے۔
وہ دو دن تک روتی بھی رہی تھی اور ریت گرم کر کے اس کے وجود کی ٹکور بھی کرتی رہی تھی۔
دیلا دو دن بعد کہیں جا کر چلنے کے قابل ہْوا تھا۔
اِس دوران اس کی ماں اسے بار بار اپنے دودھ کا واسطہ دے کر کہتی رہی کہ وہ سارے برے کام چھوڑ کر اچھا انسان بن جائے۔ چوری چکاری اور نشہ پتہ سب چھوڑ دے۔
پورے محلے میں ان کی ایک عزت ہے۔ وہ اگر ان کی عزت کا باعث نہیں بن سکتا تو کم سے کم رسوائی کا باعث بھی نہ بنے۔
دیلے نے ہمیشہ کی طرح ماں کو بہلا کر سدھرنے کا جھوٹا وعدہ کر لیا تھا۔ دو دن بعد وہ گھر سے باہر نکلا اور سیدھا میدے کے پاس پہنچا تو نشے سے اس کا بدن ٹوٹ رہاتھا۔محلے والوں نے اسے دو دن باندھ کر رکھنے کے بعدچھوڑ دیا تھا۔ میدے کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں تھی۔
اس کے پاس صرف چند ایک خالی سگریٹ تھے۔
ان دونوں نے مل کر وہ خالی سگریٹ پیے اور سوچتے رہے کہ بھرے ہوئے سگریٹ کہاں سے اور کیسے حاصل کیے جائیں۔اب کے چوری کاخیال بھی اپنے دِل میں لانا ٹھیک نہیں تھا۔
پوری بستی نے انہیں وارننگ دی تھی کہ اگر اب وہ دونوںچوری کرتے ہوئے ان کے ہاتھ لگے تو وہ انہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔
لے دے کر اب ایک ہی رستہ بچتا تھا اور وہ تھا اْدھار۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ انہیں ادھاردے گا کون اور کیوں۔۔۔ ؟ اور اگر کسی نے اْدھار دے بھی دیا تو وہ اتاریں گے کہاں سے؟
وہ دونوں ہی جسمانی طور پر کمزور تھے۔ گو سترہ، اٹھارہ برس کے ہو چکے تھے، مگر مزدوری کَرنا ان کے بس سے باہر تھا۔
ایک بار مجبوری کے عالم میں انہوں نے یہ کام بھی کر کے دیکھا تھا، مگر جان نکالنے والا یہ کام انہیں اتنا مشکل لگا تھا کہ وہ شام ہونے سے پہلے پہلے ہی یہ کام چھوڑ کر بھاگ آئے تھے اور ان دونوں نے توبہ کر لی تھی کہ چاہے بھوکے مرنا پڑے ، وہ مر جائیں گے مگر کبھی مزدوری نہیں کریں گے۔
ایک بار چرس بیچنے والے خادی نے انہیں دس دس روپے کی اْدھار چرس دی تھی، جسے کیے ہوئے وعدے پر وہ دونوں چکا نہیں پائے تھے۔
پر خادی بھی معاف کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔
اس نے ایک دن تنہائی میں دیلے سے اپنا اْدھار اچھے سے وصول کر لیا تھا اوراس سے کہا تھا۔
’’ارے یار۔۔۔ پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تو اپنے مزاج کا بندہ ہے تو بلا ناغہ، روزانہ میرے پاس آ کر اپنا نشہ پانی پورا کر لیا کَر، تیرے لیے کسی چیز سے انکار نہیں ہے…‘‘
دیلے کو اْس دن ایک عجیب سی مسرت کا احساس ہْوا۔
اسے، اس سے پہلے اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ اس کے پاس کوئی ایسی شے بھی ہے، جس سے کام لے کر وہ اپنا نشہ پانی با آسانی پورا کر سکتا ہے۔
خادی اِس معاملے میں اس کا پہلا طلبگار بنا تھا۔
دیلے کو جب بھی نشے کی طلب ہوتی،اس کے قدم خادی کی طرف اٹھ جاتے۔
خادی اسے اپنے ساتھ بٹھا کر بھی دو چار بھرے ہوئے سگریٹ پلاتا اور دو چار ساتھ بھی کر دیتا۔ جس میں سے وہ کچھ میدے کوجاکر دے دیتا تھا۔
دیلا ان دنوں بڑا خوش تھا۔ پتہ نہیں کیوں اسے یقین تھا کہ خادی سے جو ’دوستی‘ ہو گئی ہے، یہ اب ہمیشہ برقرار رہے گی۔
اسے اب نشے پانی کی فکر نہیںکَرنا پڑے گی، اس کے لیے خادی کا وجود موجود تھا۔۔۔مگر یہ اس کی بھول تھی۔
صرف پندرہ دنوں بعد ہی خادی کا رخ بدلنے لگا تھا۔
وہ اس کے آنے پر زیادہ سے زیادہ اسے ایک آدھ سگریٹ پلاتا اور رخصت کر دیتا۔بھرے ہوئے سگریٹ بھی اب اس نے دیلے کے ساتھ کرنے بند کر دیے تھے اور دوسرا اس نے اب دیلے کے وجود سے بھی فائدہ اٹھانا کم کر دیا تھا۔
دیلے کے پوچھنے پر اس نے اسے بتایا تھا کہ روزانہ ایک جیسا کھانا کھا کھاکر من اوب جاتا ہے اور دوسرا زیادہ کھانے سے بدہضمی کا بھی اندیشہ رہتا ہے، لہذا بہتری اسی میں ہے کہ … جب بھوک لگے، تب کھانا کھایا جائے۔
مزید ایک دو ہفتوں بعد وہ ایک بار پِھر اسی مقام پر آ کھڑا ہْوا تھا، جہاں سے وہ چلا تھا۔خادی نے اسے یہ کہہ کر اس دن اپنے پاس سے رخصت کر دیا تھا کہ وہ پندرہ دنوں بعدکسی دن اس کے پاس چکر لگا سکتا ہے اور سارا دن اس کے پاس بیٹھ کر پی سکتا ہے۔مگر پندرہ دنوں سے پہلے وہ اس کے پاس کسی صورت بھی نہ آئے ورنہ ….دیلے کا یہ ذریعہ بھی بلآخِر ختم ہو گیا تھا۔
اس دن، دو دن بعد جب وہ گھر سے نکل کرمیدے سے ملنے گیا تھا تو وہ رات گئے تک اِس سلسلے میں سوچتے اور بات کرتے رہے تھے کہ آخِر ایسا کیا کیا جائے کہ جس سے کہیں نہ کہیں سے چارپیسوں کی آمدنی ہو سکے۔
یونہی پیسوں کے بارے میں سوچتے ہوئے اور آوارہ گردی کرتے ہوئے رات کے دس بج گئے تھے۔
وہ دسمبر کا مہینہ تھا۔ گاؤں میں آدھی رات کا سا سماں تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں سکون سے سو رہے تھے۔وہ لوگ جامع مسجد کے پاس گزرے تو اچانک ٹھٹک کر رک گئے۔ مسجد کا بیرونی دروازہ کھلا ہْوا تھا اور آس پاس کسی ذی روح کا نام و نشاں تک نہیں تھا۔دیلے کے دِل میں بھی بیک وقت وہی خیال آیا ، جو میدے کے دل میں آ رہا تھا۔
ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے پراپنے من کی بات کو ظاہر کیا اور اپنے قدم مسجد کے کمروں کی طرف بڑھا دیے۔
…٭٭…
شانی کی ماں ابھی ابھی بَڑی حویلی سے لوٹی تھی۔آج چوہدریوںکے ہاں کچھ مہمان آئے ہوئے تھے۔اسے آنے میں کچھ دیر ہو گئی تھی۔
وہ اپنے گھر میں ایک عدد شوھر اور تِین عدد بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔ سب سے بڑا،چودہ سالہ شانی تھا۔ اس سے دو سال چھوٹی مریم تھی اور اس سے دس سال چھوٹی بانو تھی۔پورے گھر کی ذمہ دری کوثر کے کاندھوں پر تھی۔جب سے اس کے شوہر شمشاد عرف شمے کاایکسڈنٹ ہْواتھا اور وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا، یہ ذمہ دری کوثر کے کندھوں پر آ پڑی تھی۔ جسے وہ تب سے لے کر اب تک اْٹھاتی آئی تھی۔
وہ پچھلے دو سالوں سے بڑی حویلی میں کام کر رہی تھی، جس سے اتنا کچھ مل جاتا تھا کہ گھر کا گزارا ہورہا تھا۔وہ جہاں رہتے تھے، دو کمروں کے اس مکان کی حالت بہت خستہ تھی۔اچھے وقتوں میں بنایا گیا صرف ایک پکا کمرا تھا، جو توجہ کے قابل تھا۔دوسرا کمرا کچی اینٹوں سے بنا ہْوا تھا، جو کسی وقت بھی اپنا وجود کھو سکتا تھا۔
کوثر سردیوں میں اس کمرے کو باورچی خانے کے طور پر استعمال کرتی تھی۔اس گھر میں کبھی اچھے برتنوں کا بھی وجود رہا ہو گا، مگراِس وقت وہاں بالکل عام سے برتن رہ گئے تھا، جو کھانے پینے کی ضرورت میں کام آتے تھے۔
چھ مرلے پر مشتمل وہ شکستہ سا گھر، مکینوں کی طرح خود اپنے وجود پر شرمسار تھا۔ صحن کی کچی دیواروں پر گارے سے کیا گیا پَلاستر جگہ جگہ سے اْکھڑ رہا تھا۔ صحن میں مٹی کے ’شور‘ سے زمین ابھری ہوئی تھی اور باہر والا دروازہ ایک طرف سے ٹوٹ کر دیوار کے آسرے پر ٹکاہوا تھا۔ جسے اکثر کاندھے کا زور لگا کر بند کیا جاتا تھا۔ پکے کمرے کے اندر ، کچھ پرانے دور کی فلمی اداکاراؤں کی رنگین تصویریں لگی ہوئی تھں، جن میں سے گزرے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ تصویروں کا رنگ اْڑ چکا تھا اور کچھ تصویریں پھٹ کر آدھی رہ گئی تھیں۔
شما جن دنوں تانگا چلاتا تھا، وہ تصویریں بڑے شوق سے لایا کرتا تھا۔ وہ ان کی صورتوں کے ساتھ کوثر کی صورت ملا کر اس کا مذاق اْڑایا کرتا تھا کہ تصویر والی عورتیں حسین ہیں، کوثر بد صورت ہے۔ حالانکہ ان باتوں میں بالکل سچائی نہیں ہوتی تھی۔
کوثر اس کی یہ باتیں سنتی اور نظر اندازِ کر دیا کرتی تھی۔
صحن میں ایک طرف، نلکے کے نیچے دو دن کے میلے کچیلے کپڑے اپنے دھونے کے منتظرپڑے تھے۔
شور زدہ صحن کے فرش پر دو سالہ بانو زور زور سے رَو رہی تھی، جسے مریم سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر وہ کسی طرح اس کے قابو میں نہیںآ رہی تھی۔شمے نے کوثرکے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے قہوہ بنانے کا حکم صادر کیا۔ وہ صحن میں لگے بکین کے درخت کے نیچے شاہ جی اور دیلے کے ساتھ تاش کھیلنے میں مصروف تھا۔کوثر نے بانو کے رونے کو نظر اندازِ کرتے ہوئے جلدی سے ایک میلی کچیلی سی دیگچی میں پانی ڈَلا اور اسے چولہے پر رکھ کر آگ جلانے لگی۔مگر آج آگ کو بھی موت پڑ گئی تھی،جوکسی طور جلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
دوسری طرف بانو رَو رَو کر آسمان سَر پر اٹھا رہی تھی۔کوثرنے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا اور آگ جلانے کا کام ایک طرف رکھ کربانو کے پاس جانے کو اٹھی ہی تھی اچانک اس کے کانوں سے شمے کی آوازٹکرائی۔
’’کتنی دیر ہے کمو!ذرا جلدی کر ناں‘‘
کمو، کوثر کا اْلٹا نام تھا، جو شمے نے اسے دیا تھا۔
کوثر کو مخاطب کرنے کے بعد وہ دیلے سے مخاطب ہْوا۔’’آج تو لگتا ہے میرے یار کا لک عروج پر ہے۔صبح سے چھ بازیاں جیت لی ہیں لگاتار۔پر لگتا ہے آج شاہ جی کا لک اس سے روٹھا ہْوا ہے۔‘‘
دیلااس کی بات پر ہنسا۔
’’لک تو اپنا ہمیشہ ہی عروج پر رہتا ہے، بس کبھی کبھی ساتھ نہیں دے پاتا۔‘‘
ساتھ بیٹھے شاہ جی نے گہری سانس لی۔
’’لک تو سالا اپنا بھی ہمیشہ عروج پر رہا ہے۔ پر آج لگتا ہے کسی نینا بائی کے کوٹھے پر چلا گیا ہے۔‘‘
اِس بات پر زور کا قہقہہ پڑا۔
شاہ جی زندہ دِل انسان تھا اور اپنی ہار کو کبھی سنجیدہ نہیں لیتا
تھا۔ویسے بھی اسے ہارکی زیادہ پروا نہیں ہوتی تھی۔ وہ پیسے والی آسامی تھی۔
کوثر نے شمے کی طرف دیکھا۔وہ بکین کے نیچے بچھی ہوئی چٹائی پر بیٹھا تاش کھیلتے ہوئے قہقہے لگا رہا تھا۔
اس نے بیزاری سے اس کی طرف دیکھا اور دوبارہ پھونکوں سے آگ جلانے لگی۔اس بار اس کی محنت بیکار نہیں گئی۔
آگ جلانے کے بعد اس نے جلدی سے اپنے قدم بانو کی طرف بڑھادیے۔
اسے روتا دیکھ کر اس کا کلیجہ کافی دیر سے کٹ رہا تھا۔وہ اسے اٹھا کر اندر لائی۔دودھ کا فیڈر بنا کر اس کے منہ میں دیا اور اسے وہیں کمرے کے فرش پر لٹا دیا۔ وہ دوبارہ چولہے کے پاس آ بیٹھی۔
قہوہ تیار ہونے کے بعد اس نے وہ قہوہ پیالوں میں انڈیلا اور ’’مہمانوں‘‘
کے پاس جا کر رکھ دیا۔ وہ دوبارہ بانو کا پتہ کرنے کے لیے کمرے میں جانے ہی والی تھی کہ اسے دروازے پر دستک سنائی دی۔
اس کے قدم کمرے میں جانے کی بجائے دروازے کی طرف اٹھ گئے۔اس نے دروازہ کھولا تو اسے سامنے عابی کھڑا ہوا دکھائی دیا۔وہ اسے جانتی تھی، وہ شانی کا دوست تھا۔
اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’خالہ خالہ… وہ جو قمر ہے نا، نیازی کا بیٹا، اس نے ایک پتھر سے شانی کا سَر پھاڑ دیاہے۔ اس کے سَر سے بہت سا خون نکل رہا ہے۔ آپ جلدی چلو….‘‘
کوثر کا دِل ایک پل کو رک سا گیا۔
’’کہاں ہے وہ ؟ کیسے ہْوا یہ سب ؟‘‘
’’وہ چوہدریوںکے پلاٹ میں پڑا ہْوا ہے،آپ جلدی چلو۔وہاں چل کر سب دیکھ لینا۔‘‘
کوثر نے پلٹ کر ایک نظر گھرکو دیکھا۔
شما تاش کھیلنے میں مصروف تھا اور مریم بانو کو گود میں سلائے فیڈر سے دودھ پلا رہی تھی۔
اس کی نظریں دوبارہ شوہر کی طرف اٹھیں اور اس کی معذور ٹانگوں پر آ کر تھم گئیں۔ اگر شما ٹانگوں سے معذور نہ ہوتا تو وہ خود اسے شانی کو لانے کے لیے بھیجتی مگر وہ تو اِس قابل بھی نہیں تھا کہ کسی کی مدد کے بغیر گھر سے باہر ہی دو قدم نکال سکتا۔وہ خود دوسروں کا محتاج تھا۔
دو سال پہلے تک وہ بالکل ٹھیک تھا اور ہرجگہ آتا جاتا تھا۔وہ تانگا چلاتا تھا اور اس کی کمائی سے کوثر اور بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتا تھا، مگر افسوس کہ ایک ایکسیڈنٹ میں اسے اپنی دونوں ٹانگوں سے ہاتھ دھوناپڑا
اور اس کے بعد یہ سب ذمہ دری کوثر کے کاندھوں پر آ پڑی۔
اس نے ایک گہری سانس لے کر اپنے ذہن میں آئی ہوئی سوچوں کو جھٹکا اور اپنے قدم جلدی سے چوہدریوں کے پلاٹ کی طرف بڑھا دیے۔معلوم نہیں وہاں شانی کس حال میں پڑا تھا۔
…٭٭…
دیلے کے قدم اچھائی کے ارادے سے شاید ہی کبھی جوانی میں خدا کے گھر کی طرف اْٹھے ہوں مگر برائی کے ارادے سے ضرور اس طرف اٹھ گئے تھے۔اس کا باپ اس مسجد کا پیش امام تھا۔مسجد انتظامیہ میں سے شاید کوئی آج دروازوں کو تالا لگانا بھول گیا تھا اور ان دونوں کی ضرورت پوری کرنے کا رستہ کر گیا تھا۔ خدا کے گھر میں چوری کرتے ہوئے دیلے کا دِل ایک دفعہ گھبرایا ضرور مگر اس نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی کہ خدا کی ذات بہت بلند ہے، اسے ان باتوں کی پروا نہیں ہے کہ کون اس کے گھر میں عبادت کرنے آتا ہے اور کون چوری۔ یہ صرف انسان ہی ہیں جو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی سوچ رکھتے ہیں اور اتنی سی بات کے لیے آسمان سَر پر اٹھا لیتے ہیں۔مسجد کے کمروں سے دو عدد پنکھے اتارنے کے بعددیلے نے وہ پنکھے میدے کے حوالے کر دیے۔ وہ اس سے بہتر طریقے سے ان پنکھوں کو غائب کر کے بعد میں آسانی سے کہیں بیچ سکتا تھا۔
اس سے جو رقم حاصل ہوتی ، وہ دونوں بعد میں آدھی آدھی بانٹ لیتے۔ پنکھے اْتَارنے کے بعددیلا اپنے رستے ہو لیا اور میدا اپنے۔
اگلی صبح یہ خبر سب کے لیے حیرت اور دکھ کا باعث بنی ہوئی تھی کہ کوئی، کل رات خدا کے گھر سے دو عدد پنکھے چوری کرکے اپنی دنیا اور آخِرَت برباد کر گیا ہے۔
ایسا واقعہ پہلی بار بستی میں ہْوا تھا۔ لوگ دکھ اور غصے کی حالت میں تھے۔ ان کے بس سے باہر تھا کہ کسی طرح چور کا انہیں پتہ چلے اور وہ اسے مار کرزندہ دفن کر دیں۔ اِس معاملے میں بھی سب سے پہلے دیلے اورمیدے پر شک کیا گیا۔
یوں تو بستی میں دو چار اور بھی لوفر،آوارہ اور چورقسم کے لوگ تھے، مگر ان دونوں کا نام ایسا بدنام ہْوا تھا کہ چوری کہیں بھی ہوتی ، شک سب سے پہلے انہی پر جاتا۔
دیلے نے ماں اور باپ کے سامنے خدا اور رسول کی قسمیں کھائیں کہ وہ اور میدا اِس بار بے قصور ہیں، یہ چوری انہوں نے نہیں کی۔
باپ کو تو کیا یقین آنا تھا مگر اس کی ماں ایک بار پِھر اسکی باتوں میں آگئی اوردیلے کے ساتھ مل کر اس نے خدا ، رسول کی قسمیں کھا کر لوگوں کو یقین دلایا کہ اِس بار دیلا بے قصور ہے۔ یہ کام کسی اور کا ہے۔ ساتھ میں اس نے غلام حسین سے بھی کہا کہ وہ بھی لوگوں کو اس بات کی صفائی دے۔
اسے دیلے کی باتوں پر یقین ہوتا تو وہ صفائی دیتا۔ اس نے چْپ چاپ خاموشی اختیار کر لی۔ اگلے دن ایک شخص نے لوگوں کو بتایا کہ کل رات دس بجے جب وہ اپنے گھر لوٹ رہا تھا تو اس نے دیلے اور میدے کو مسجد کے باہر کھڑا ہْوا دیکھا تھا۔ اِس بیان سے لوگوں کا شک اور بھی پختہ ہو گیا۔
انہوں نے دیلے کی ماں سے صاف صاف کہہ دیا کہ یا تو کوئی معززشخص دیلے کی صفائی دے کہ وہ بے قصور ہے، یا پِھر دیلے کو ان کے حوالے کیا جائے تا کہ وہ اسے پولیس کے حوالے کر سکیں… میدے کے گھر والوں تک بھی یہ پیغام پہنچ چکا تھا۔اس کے باپ نے اس کاہاتھ تھام کرلوگوں کے ہاتھ میں دے دیا تھااور کہا تھا کہ آج کے بعد میدے سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وہ اسے ہمیشہ کے لیے گھر سے نکال رہا ہے۔ وہ اب اسے پولیس کے حوالے کریں یاکسی اورکے، یہ درد سر اب ان کا ہے۔ پولیس کے نام پرمیدے کے بھی ہوش اْڑ گئے تھے۔
کچھ دن پہلے بستی کے ایک شخص کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی اور اس کا انہوں نے جو حشر کیا تھا، وہ خود اس نے سب کو آ کر بتایا تھا۔ اس دن سے تھانے اور پولیس کا خوف میدے کے دِل میں جگہ بنا کر بیٹھ گیا تھا۔اس نے اسی دن سوچ لیا تھا کہ اگر کبھی ایسی کوئی نوبت آئی تو وہ مرتا مر جائے گا، مگر تھانے کبھی نہیں جائے گا۔ اب جو اسے لوگوں نے تھانے لے جانے کی بات کی تواس نے عورتوں کی طرح رَو رَو کر آسمان سر پر اٹھالیا اور ماں کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھائیں کہ وہ بے گناہ ہے۔
ساتھ اس نے ماں کو دھمکی دی کہ اگراسے پولیس کے حوالے کیا گیا تو … وہ ان کے ہاتھ آنے سے پہلے ہی خود کشی کر لے گا۔اس نے اپنی ماں کو مجبور کیا کہ وہ اس کے باپ کو، اس کی صفائی دینے کے لیے مجبور کرے۔ اگر اس کے باپ نے اس کی صفائی دیدی تو اس کو نجات مل سکتی ہے۔ آدھی رات کو ممتا کی ماری ماں نے غلام حسین کے قدموں پر روتے ہوئے سَر رکھ دیا اور اسے اِس بات پر رضامند کر لیا کہ کل وہ مسجد کی انتظامیہ کے سامنے دیلے کی صفائی دے کہ وہ بے گناہ ہے۔اس سیدھی سادی عورت نے ساری زندگی اس سے کچھ نہیں مانگا تھا۔ اس رات، پہلی بار اس نے غلام حسین سے کچھ مانگا تھا اور غلام حسین اس کی بات ٹال نہیں سکا۔
اگلے دن مسجد انتظامیہ کے سامنے اس نے دیلے کی صفائی میں بیان دے دیا تھا کہ اس بار دیلابے قصور ہے، یہ کام کسی اور نے کیا ہے اور اس کی اس بات کو مان بھی لیا گیا۔ مگر اِس واقعے کے بعد وہ اکثر چْپ چْپ رہنے لگا۔
اس کا دِل اکثر گواہی دیتا کہ اِس چوری میں دیلے کا کہیں نا کہیں ہاتھ ضرور ہے، مگر اِس بات کا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔اسے اکثر خیال آتا کہ اس نے دیلے کے حق میں بیان دے کر اچھا نہیں کیا۔ کیا خبر سچ مچ دیلے نے ہی یہ چوری کی ہو۔ اِس گناہ پر اکثر اس کا دِل پشیمان رہتااور شک کے سانپ اس کے ذہن میںکلبلاتے رہتے۔اسے دیلے کی اس حرکت پر شک تو تھا، مگر یہ شک اس دن یقین میں بَدَل گیا، جس دن بال بنواتے ہوئے اس کی نظر شیدے نائی کی دکان کی چھت کی طرف اٹھ گئی۔ وہاں جو پنکھا لگا ہْوا تھا، اس پر نیا رنگ کیا گیا تھا اور اس کی پرانی صورت تبدیل کرنے کی پوری کوشش کی گئی تھی۔ مگر غلام حسین نے پھر بھی مسجد کے اس پنکھے کو پہچان لیا تھا۔اس نے شیدے نائی سے جب اس بارے میں تنہائی میں پوچھا تو وہ فوراً ہی مکر گیا۔
’’غلط فہمی ہوئی ہے آپ کو بزرگو۔یہ پنکھا تو میں تِین ماہ پہلے شہر سے لایا تھا۔ یہ وہ پنکھانہیں ہے جس پر آپ شک کر رہے ہو۔‘‘
’’اچھا میاں، تو ٹھیک ہے پِھر، اگر آپ نے سچ نہیں بتانا تو نہ بتائیں۔ میں مسجد کی انتظامیہ سے اپنے شک کا اظہار کر دیتا ہوں، وہ خود آ کر اِس بات کی تسلی کر لے گی کہ یہ پنکھا وہی چوری شدہ ہے یا کوئی اور ہے…‘‘
شیدے کی اچانک ہی ساری ہوا نکل گئی۔اس نے بے اختیار غلام حسین کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
’’بزرگو! غلطی ہو گئی مجھ سے، معاف کر دو مجھے۔غریب بندہ ہوں جی، چار پیسے کا لالچ کر بیٹھا۔ یہ پنکھا میں نے میدے سے خریدا تھا، ایک ماہ پہلے۔ بہت سستا مل رہا تھا، مجھے ضرورت بھی تھی، سو خرید لیا۔ پنکھے کے پیسے لیتے وقت آپ کا لڑکا بھی ساتھ آیا تھا اس کے اور اس نے مجھے منع کیا تھا کہ میں اِس بارے میں کسی کو کچھ نہ بتاؤں۔اسی لیے آپ سے چھپا رہا تھا۔ غریب بندہ ہوں جی، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جی۔ مجھ پررحم کریں۔‘‘
غلام حسین کے دِل پر جیسے پر کسی نے پتھر سا کھینچ مارا تھا۔ اس نے شیدے سے کہا کہ وہ اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائے گا۔وہ بے فکر ہو جائے۔
اس رات، عشاء کی نماز کے بعد وہ بہت دیر تک اپنے اِس گناہ پرخدا سے معافی مانگتا رہا تھا۔اس کی آنکھوں سے آنسو برستے رہے تھے۔
جب سے دیلا برے کاموں میں پڑا تھا، اس کے دِل میں اس کے لیے بیٹے جیسا کوئی جذبہ نہیں رہ گیا تھا مگر جب سے مسجد میں چوری کی سچائی اسے معلوم ہوئی تھی، اسے دیلے سے بے حد نفرت ہو گئی تھی۔
وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔اس کے لاکھ سمجھانے اور منع کرنے کے باوجود وہ جس طرح برائی کے رستے پر چل نکلا تھا، اس نے غلام حسین کے دِل میں ایک چھید سا کر ڈَلا تھا۔
غلام حسین جب سے شیدے سے مل کر آیا تھا، اس کی جب بھی دیلے پر نظر پڑتی، اس کے لبوں پر صرف ایک ہی دعا مچل جاتی۔
’’میرے مولا! میری آنکھوں کی بینائی چھین لے مجھ سے یا اِس شخص سے بہت دور کردے مجھے۔ میں اس انسان کو ہرگز ہرگز دیکھنا نہیں چاہتا، جو تیرے گھر میں بھی چوری کرنے سے نہیں شرمایا….‘‘جب شب و روز ہی اس کے لبوں پر یہی دعا رہنے لگی تو ایک دن خدا نے اس کی دعا سن لی۔اسے دیلے سے دور اور اپنے پاس بلا لیا۔
پورا محلہ اور بستی کے سب لوگ دیلے کے گھر میں کچھ لمحوں کو جمع ہوئے اورپھر وہ سب مل کر اسے اس کی آخری آرام گاہ تک چھوڑ آئے۔
غلام حسین کے جانے سے اور تو کچھ نہیں ہْوا، بس گھر میں کمانے والے اس فرد کی کمی ہو گئی، جس نے اس گھر کی ساری ذمہ داری اْٹھائی ہوئی تھی۔باپ کے جانے کے بعد دیلے کے سَر پر گھر کی ذمہ دری تو آن پڑی تھی، مگر وہ اِس ذمہ داری کو اْٹھانے سے قاصر تھا۔ باپ کے گزرنے سے پہلے، جب وہ آدھی رات کو گھر آتا تھا تو اسے بنا بنایا کھانا مل جاتا تھا اور صبح کا ناشتہ بھی۔ مگر اب…جب تک گھر میں آٹا اور ضرورت کا سامان موجود رہا، کسی نا کسی طرح پیٹ کا دوزخ بھرتا رہا،
مگر جب سب چیزیںختم ہو گئیں تو گھر میں فاقوں کی نوبت آ گئی۔غلام حسین کے سسرال والوں کو جب اِس صورت حَال کا پتہ چلا کہ ان کی بہن وہاں فاقوں میں وقت گزار رہی ہے تو ایک دن دیلے کا بڑا ماموں آیا اوردیلے کو لعنت ملامت کر کے، اس کی ماں کو اپنے ساتھ گھر لے گیا۔
دیلا اس گھر میں اکیلا ہو کر رہ گیا۔ماں باپ کے جانے سے اسے اور توکچھ فرق نہیں پڑا، بس نشہ پانی کے ساتھ ساتھ وہ دو وقت کے کھانے کے لیے بھی پریشان رہنے لگا تھا۔پہلے یہ پریشانی اسے کبھی نہیں ہوئی تھی۔
جس طرح پہلے وہ اپنے نشے پانی کا بندو بست کہیں نہ کہیں سے کر لیا کرتا تھا، اب دو وقت کے کھانے کا بھی کر لیتا تھا۔ یہ الگ بات کہ وہ بہت مشکل سے کر پاتا تھا۔
…٭٭…
سعدیہ عرف سادی کا شمار دنیا کی ان لاکھوں لڑکیوں میں تھا، جو کسی عام سے گھر میں پیدا ہوتی ہیں، عام سے گھر میں پلی بڑھتی ہیں اور جوانی کی دہلیز میں قدم رکھنے کے بعد کسی عام سے گھر میں بیاہ دی جاتی ہیں۔سادی نے بھی شادی سے پہلے اپنی آنکھوں میں وہی خواب سجا لیے تھے، جو ہر کنواری لڑکی دیکھتی ہے۔ ایک خوبصورت اور خوش اخلاق شوہر ، جس کی ایک اچھی تَن خواہ والی نوکری بھی ہو۔ ایک اچھا اور خوبصورت گھر، جس میں نوکر اور چاکروں کے ساتھ ضرورت اور سہولت کی ہر شے موجود ہو،اور اگر اس کے ساتھ گھر میں ساس، سسر ، دیور اور نند جیسا کوئی رشتہ نہ ہو تو سونے پر سہاگا۔۔۔ مگر افسوس کہ اسے ایسا کچھ نہیں ملا تھا۔ اس کی جس شخص سے شادی ہوئی تھی، وہ عمر میں اس سے پندرہ سال بڑا تھا۔یعنی تیس سال کا تھا۔سادی کی سہاگ رات کو جب اس پر نظر پڑی تو وہ اپنا دِل تھام کر رہ گئی تھی۔گو وہ خود بھی کوئی حور پری نہیں تھی مگر وسیم تو بالکل ہی گیا گزرا تھا۔اس کی شکل اپنے نام سے بالکل الٹ تھی۔پھر بھی اس نے اپنے دِل پر پتھر رکھ کر اِس حقیقت کو قبول کر لیا اور اپنے دِل میں وسیم کے لیے کوئی میل نہیں آنے دیا۔ وسیم کا شمار دنیا کے ان لاکھوں مردوں میں ہوتا تھا، جن کا وجود اِس دھرتی پر بوجھ کے علاوہ اور کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
وہ بھی اس بستی کے ان آوارہ ترین لوگوں میں سے ایک تھا، جو قبرستان والے اڈے پر سارا سارا دن تاش کھیلتے، جوا لگاتے، چرس پیتے، اور کبھی کبھار شراب منگوا کر من بہلا لیتے تھے۔
پتہ نہیں سادی کے باپ نے کیا سوچ کر اس کی شادی وسیم سے کر دی تھی۔جس میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی خوبی نہیں تھی۔ وسیم صرف چند ایکڑزمین کا مالک تھا، جس کی سالانہ، آدھی آمدنی سے گھر کے اخراجات پورے ہوتے تھے اور آدھی آمدنی وہ عیاشی میں صرف کرتا تھا۔ شاید سادی کے باپ نے یہی ایک بات دیکھ کر اس کا رشتہ وہاں کر دیا تھا کہ اس کی بیٹی اس گھر میں خوش رہے گی۔ یا پِھر اسے ، اپنے گھر میں مزید دو دوجوان بیٹیوں کی فکر نے وسیم جیسے آوارہ شخص سے بیاہنے پر مجبور کر دیا تھا۔اس کی اتنی آمدنی نہیں تھی کہ وہ بہت زیادہ جہیز کا بندوبست کرتا۔ البتہ اس سے جو کچھ ہو سکا تھا، اس نے ضرورت کی وہ ساری چیزیں سعدیہ کو جہیز میں دی تھیں۔
اس گھر میں سعدیہ کے ایک دیور کے علاوہ صرف اس کی ساس کا وجود تھا۔
سسر اس کی آمد سے بہت پہلے ہی چل بسا تھا اور نند جیسا کوئی رشتہ اس گھر کے نصیب میں نہیں تھا۔سادی نے پہلے دن ہی صبر شکر پڑھ کر اس گھر میں تمام عمر گزارنے کا سوچ لیا تھا۔ مگراس کے اِس ارادے میں ناکامی کی دراڑ اس وقت پڑی، جب شادی کے ایک ہفتے بعد ہی وسیم کے چھوٹے بھائی جاوید عرف جیدے نے اس سے وہ حرکت کی، جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ شادی کے بعد اس نے اس گھر کے ہر فرد کا دِل جیتنے کے لیے سچے دل سے سب کی خدمت کَرنا شروع کر دی تھی۔وہ کبھی ساس اور دیور کے میلے کپڑے دھو رہی ہے، تو کبھی خشک ہونے کے بعد ان پر استری کر رہی ہے۔ کبھی کھانا بنا کر سب کو ان کے کمرے میں پہنچا رہی ہے تو کبھی صحن میں جھاڑو دے کر کمروں کی صفائی میں لگی ہوئی ہے مگر اس کی ساس تھی کہ جو اس سے کبھی خوش نہیں ہوتی تھی پر سعدیہ کو امید تھی کہ ایک دن وہ ضرور اس کا دِل جیت لے گی۔جیدا وسیم سے پانچ سال چھوٹا اور سادی سے دس سال بڑا تھا۔ سادی جب سے بیاہ کر آئی تھی، اس نے نوٹ کیا تھا کہ جیدا اسے ہر وقت بڑی عجیب سی نظروں سے گھورتا رہتا ہے۔ اسے جیدے کے اِس طرح دیکھنے سے بَڑی الجھن ہوتی تھی۔ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ اس کا جیدا سے سامنا کم سے کم ہو تاکہ اسے اِس کی نظروں کا سامنا نہ کَرنا پڑے۔ مگر دن میں دو چار بار، نہ چاہنے کے باوجود ایسا ہو جاتا تھا۔وسیم، جیدا اور اس کی ساس، سب کا کمرا الگ الگ تھا۔ سادی کھانا بنانے کے بعد، اول دن سے ہی سب کا کھانا ان کے کمروں میں جاکردیتی آئی تھی۔اس دن بھی وہ رات کا کھانا بنا کرجیدے کے کمرے میں دینے گئی توجیدے نے اس کا ہاتھ پکڑ کراسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
’’بھابی جی۔۔۔ کبھی ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو، ہَم بھی آخِر تمہارے کچھ لگتے ہیں۔۔۔‘‘ سادی کا اچانک ہی دِل گھبرانے لگا۔جیدا کہتا رہا۔ ’’مجھے تو حیرت ہوتی ہے تم پر، کیسے لٹو کی طرح سارا دن ادھر سے اْدھر گھومتی پھرتی ہو۔ کبھی یہ کام کر رہی ہو تو کبھی وہ۔ پتہ نہیں رات کو کیا حالت ہوتی ہوگی تمھاری۔ لاؤ، میں تمھاری ٹانگیں دبا دوں۔‘‘
اس نے سادی کی ٹانگوں کو چھوا ہی تھا کہ وہ تڑپ کر چار پائی سے اٹھی اور دوسرے ہی پل کمرے سے باہر نکل گئی۔اس کا دِل سینے میں بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے اس رات جیدے کی آنکھوں میں ہوس کا وہ پیغام پڑھ لیا تھا، جو کوئی عورت کسی بھی مرد کی آنکھوں میں پڑھ لیتی ہے۔ اس کی چھٹی حس کئی دنوں سے اسے اِس بات سے آگاہ کر رہی تھی کہ جیدا ،کبھی نہ کبھی ایسا ضرور کچھ کرے گا اور بلآخِر اس کی چھٹی حس کی پیش گوئی پوری ہو گئی تھی۔ جیدا وسیم کا بھائی تھا اور اس میں بھی وہ تمام خامیاں موجود تھیں، جو وسیم میں تھیں۔ وسیم بھی چرس ، شراب اور جوے کے ساتھ ساتھ ہوس کا پجاری تھا اور ساری ساری رات سعدیہ کو مختلف طریقوں سے اذیتیں دے کر تسکین حاصل کرتا رہتا تھا اور جیدے کو بھی وہی تمام ’’شوق‘‘ لاحق تھے۔ جیدا اپنے باقی سارے شوق تو باہر سے ہی پورے کر لیتا تھا مگر یہ ہوس کی ضرورت وہ گھر سے پوری کَرنا چاہتا تھا۔سادی پہلے دن سے ہی اس کے من میں اتر گئی تھی اور اس نے اسی دن سے دل میں ارادہ باندھ لیا تھاکہ وہ ایک نہ ایک دن سعدیہ کو ضرور حاصل کرے گا۔ سادی کاجیدے کی اس حرکت سے بہت دِل دکھا تھا۔ وہ پڑھی لکھی بالکل نہیں تھی مگر غلط اور درست کی پہچان اسے ضرور تھی۔ اسے پتہ تھا کہ اس کے وجود پر صرف اس کے شوہر کا حق ہے، کسی اور کا نہیں۔ اس نے اسی دن سے سوچ لیا تھا کہ وہ آج کے بعد جیدے کے ہوتے ہوئے، اس کے کمرے میں کبھی کھانا رکھنے نہیں جائے گی۔ اس دن کے بعد، جب جیدا گھر سے باہر ہوتا، وہ اس کے کمرے میں جا کر اس کا کھانا ڈھانپ کر رکھ آتی۔اس واقعے کے صرف تِین دن بعد ہی وہ واقعہ پیش آگیا، جوکہ نہیں آنا چاہیے تھا۔اس دن جیدا گھر میں نہیں تھا۔ وہ اس کے گھر میں ہونے اور نا ہونے کے اوقات سے کافی حد تک واقف ہوگی تھی اور اسی دوران ہی وہ اس کا کھانا اس کے کمرے میں جا کر رکھ آتی تھی۔اس دن بھی وہ جیدے کا کھانا اس کے کمرے میں رکھنے گئی اور واپس پلٹی ہی تھی کہ اسے جیدا کمرے کی چوکھٹ پر کھڑا ہْوا دکھائی دیا۔سادی اپنا دِل تھام کر رہ گئی۔اِس سے پہلے کہ وہ کمرے سے باہر نکلتی یا کچھ اور سوچتی، اچانک جیدے نے چند قدم بڑھائے اورسادی کے قریب پہنچ کر، فوراً ہی اس کا چہرہ چوم لیا۔ سادی اپنی جگہ پتھر ہو کر رہ گئی۔
…٭٭…
گودیلے کی ماں اس سے جدا ہو کر بھائی کے ساتھ اس کے گھرآ گئی تھی، مگر وہاں آنے کے بعد ایک دن بھی اس کا وہاں دِل نہیں لگا تھا۔
اسے رہ رہ کر دیلے کی یاد آتی رہی تھی اور اس کا دِل بے چین ہوتا رہا تھا۔اس نے اپنے بھائی کے پاس بمشکل ایک ہفتہ بِتایا ہوگا کہ اس کا دِل دیلے سے ملنے کے لیے مچلنے لگا۔ شوہر کے گزر جانے کے بعد وہی اس کا آسرا رہ گیا تھا۔ وہ اس کے اور کسی کام نہ آتا تو بھی وہ اسے دیکھ کر جی تو سکتی تھی۔ وہ اس کے لیے اور کچھ نہ سہی کم سے کم آنکھوں کی ٹھنڈک تو تھا۔جسے دیکھ کروہ جی سکتی تھی، اپنا کلیجہ ٹھنڈا کر سکتی تھی۔اِس کے علاوہ اسے رہ رہ کر دیلے کی تنہائی کا بھی خیال آتا اور اس کے کھانے پینے کا بھی۔ وہ اس کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھی۔ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ دیلے کے لیے دو وقت کے کھانے کابھی بندوبست کَرنا مشکل ہوگا۔ وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ہر ایرے غیرے کا محتاج ہوتا پھرے گااور یہ بات اسے گوارہ نہیں تھی۔ وہ اس وقت تو بھائی کے کہنے پر اس کے ساتھ آ گئی تھی مگر یہاں آنے کے بعد اس کا دِل ایک پل بھی سکون سے نہیں رہ سکا تھا۔وہ کچھ دنوں تک تو اپنی بیقراری پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی، مگر جو یہ کام اس کے بس سے باہر ہو گیا تو اس نے ایک دن روتے ہوئے بھائی کے سامنے اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔اس کا بھائی بھی اسی کی طرح نرم دِل انسان تھا۔
اس نے اسی وقت بہن کے آنسو پونچھے اور اسے اپنے ساتھ لے کر دوبارہ وہیں چھوڑ آیا، جہاں سے ایک ہفتہ پہلے لے کر گیا تھا۔اپنی بہن کے ساتھ، وہ اپنے گھر سے کچھ من گندم اور گھر کی ضرورت کی کچھ اور چیزیں بھی لے گیا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ دیلا ایسا انسان نہیں ہے کہ اپنی ماں کا بوجھ اٹھا سکے۔
اپنی بہن کا بوجھ انہیں خود اْٹھانا تھا۔ بلکہ اِس کے ساتھ دیلے کا بوجھ بھی اْٹھانا تھا۔ یہی سوچ کر وہ گھر سے کچھ من گندم اور ضرورت کی اور چیزیں اپنے ساتھ لایا تھا، تاکہ اس کی بہن جب تک وہاں رہے، اسے کوئی پریشانی نہ ہو۔ اس کا اِرادَہ تھا کہ جب تک دیلا سدھر نہیں جاتا، وہ ضرورت کی یہ ساری چیزیں، جب جب ختم ہوتی رہیں گی وہاں آ کر پہنچا جایا کرے گا۔اس دن بھی اپنی بہن کووہاں چھوڑکر اس نے ضرورت کا سامان وہاں رکھا اور واپس لوٹ گیا۔اس دن، دیلا رات گئے گھر لوٹااور اس نے اپنی ماں کو وہاں موجود پایا تو اس کا دِل خوشی سے جھوم اٹھا۔ اسے اس بات کی خوشی نہیں تھی کہ اس کی ماں واپس لوٹ آئی تھی بلکہ اسے اِس بات کی خوشی ہوئی تھی کہ اس کا ماموں ایک ماہ کے لیے ان کا خرچہ پانی وہاں چھوڑ گیا تھا۔
ماں کے پیچھے اس نے بَڑی مشکل سے دن کاٹے تھے۔ نشے پانی کی تو اسے پریشانی تھی ہی تھی، ساتھ میں اسے دو وقت کے کھانے کے بھی لالے پڑ گئے تھے۔ اب جو اس نے گھر میں راشن پانی دیکھا تو اس کا دِل خوشی سے جھوم اٹھا۔ اور کچھ نہ سہی،کم سے کم دو وقت کے کھانے کی پریشانی تو عارضی طور پر ٹلی تھی۔دیلے کی ماں وہاں آنے کے بعد اس سے اور بھی زیادہ محبت اور شفقت سے پیش آنے اور اسے برائی کے رستے سے روکنے لگی تھی، مگر دیلا وہ انسان نہیں تھا جو اتنی آسانی سے سیدھا ہو جاتا۔جب دیلے کی ماں اپنی طرف سے ہر طرح سے اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی تو کسی نے اسے دیلے کے شادی کرنے کا مشورہ دیا کہ جب بیوی آئے گی تو یہ خود سیدھا ہو جائے گا۔ یہ بات اس کے دِل کو لگی تھی۔ پتہ نہیں کیوں اسے یقین ہونے لگا تھا کہ اگر دیلا سدھر سکتا ہے تو صرف شادی سے سدھر سکتا ہے۔ صرف بیوی اسے سدھار سکتی ہے، ورنہ وہ اور کسی شے سے سدھرنے والانہیں ہے۔ یہ بات اس کے ذہن میں آئی تو اس نے ادھر اْدھر سے دیلے کی دلہن تلاش کرنا شروع کر دی۔آس پاس، دور پرے کے کچھ رشتے موجود تھے، مگر دیلے کے لیے کوئی گھر بھی رشتہ دینے کو تیار نہ ہْوا۔ لے دے کے اس کی نظروں میں صرف ایک ہی گھر رہ گیا تھا اور وہ تھا بھائی کا گھر۔ اس نے روتے ہوئے بڑے بھائی کے سامنے دامن پھیلا کردیلے کے لیے سکینہ کا رشتہ مانگا تو وہ انکار نہ کر سکا۔بہن کی آنکھوں میں آنسو ، اسے کسی طورگوارہ نہیں تھے۔ اس نے اس کے آنسو پونچھے اور سکینہ کا ہاتھ اسے تھما دیا۔سکینہ بہت سلجھی ہوئی، سمجھدار اور نیک سیرت لڑکی تھی۔دیلے کی ماں کو پورا یقین ہو چکا تھاکہ صرف یہی عورت دیلے کی زندگی میں تبدیلی لا سکتی ہے۔ اگلے کچھ دنوں میں سکینہ دلہن بن کردیلے کی زندگی میں آ گئی تھی۔دیلے کی ماں کو جب یہ یقین آ گیا کہ کوئی اس کے پیچھے دیلے کو اچھی طرح سنبھالنے والا موجود ہے تواس نے ایک دن سے آنکھیں بند کیں اور اپنے شوہر کے پاس جاسوئی۔سکینہ کے آنے کے بعد بھی دیلے کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اسے ویسے بھی جنسی آسودگی کے لیے کسی لڑکی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔وہ دوسرے مزاج کا بندہ تھا۔سکینہ جب سے آئی تھی، اس نے اس کے ساتھ ہَم بستری کے فرائض بھی صرف چند بار ہی پورے کیے تھے، ورنہ اسے اِس چیز کی زیادہ طلب نہیں ہوتی تھی۔ اس کی زندگی اسی طرح گزرتی رہی جیسے پہلے گزرتی تھی۔اس کا ماموں پہلے بہن کے لیے وہاں دانہ پانی چھوڑجاتا تھا،اب بیٹی کے لیے لانے لگا تھا۔
ماں کے جانے سے اور سکینہ کے آنے سے دیلے کوصرف اتنا فائدہ ہْوا تھا کہ اسے دو وقت، بغیر کسی مشقت کے کھانا مل جاتا تھا۔سکینہ کی آمد سے دیلے کو ایک اور فائدہ بھی ہْوا تھا۔ وہ اپنے ساتھ جہیز میں ضرورت کا جو سامان لائی تھی، دیلا اسے بیچ کر اپنا نشہ پانی پورا کر سکتا تھا اور اس نے کیا بھی۔ یہاں تک کہ چوری چھپے ہر شے لے جانے کے بعد اس نے آخرمیں سکینہ کے کانوں سے سونے کی چھوٹی چھوٹی بالیاں بھی اْتَروا لی تھیں۔
اْدھر سکینہ نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی کہ کسی طرح وہ دیلے کو سدھار سکے۔ اِس کوشش میں اس نے دیلے کی ہر بات مانی تھی یہاں تک کہ اسے اپنے کانوں کی بالیاں بھی اْتَار کر دے دی تھیں۔ مگر اپنی پوری کوشش کے باوجود وہ دیلے کو سدھار نہیں سکی تھی اور اب وہ مایوس ہو گئی تھی، اس نے اپنی یہ کوشش ترک کر دی تھی۔اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ دیلے کو سدھارنا اس کے بس سے باہر ہے۔جب سے سکینہ کی جہیز کی چیزوں نے دیلے کا ساتھ دیا، اس کے اور میدے کے کچھ ہفتے بڑے سکون اور عیاشی میں گزرے اور جب سب کچھ ختم ہو گیا تو وہ دونوں ایک بار پِھر اس مقام پر آ کھڑے ہوئے، جہاں وہ پہلے تھے۔اِس
دوران وہ دونوں ہمیشہ ایک ہی بات سوچتے رہتے تھے کہ کسی طرح کوئی ایسا آسان اورمستقل کام انہیں مل جائے ، جس کی آمدنی سے ان کے شب و روز سکون سے گزر سکیں۔ مگر باوجود کوشش کے ایسا کوئی کام ان کے ذہن میں نہیں آ سکا تھا۔
جب سکینہ کے جہیز کی قیمتی چیزیں بھی ختم ہو گئیں تو ایک دن میدے نے دیلے سے کہا۔
’’یار اگر تجھے برا نا لگے تو ایک کام میرے ذہن میں آ رہا ہے۔اگر تم وہ کام شروع کر دو تو ہَم دونوں کا کام بنتا رہے گا اور ہمیں نشے پانی کے لیے جگہ جگہ لوگوں کے سامنے گڑگڑانا بھی نہیں پڑے گا۔اگر میرے بس میں ہوتا تو میں یہ کام خود شروع کرتا۔ مگریہ کام فی الحال میرے بس میں نہیں ہے، تم ہی یہ کام کر سکتے ہو۔‘‘
دیلے نے جب اس کی بات سنی تو وہ بات اس کے دِل کو لگی۔ اسے خیال آیا کہ اسے خود یہ خیال کیوں نہیں آیا؟
اگر سچ میں میدے کا بتایا ہْوا کام شروع ہو جائے تو سچ میں ان کے نشے پانی کا مستقل بندوبست ہو سکتا تھا۔
اس نے میدے سے کہا کہ وہ آج ہی اِس سلسلے میں کوشش شروع کرتا ہے۔
…٭٭…
اس کا نام اقبال عرف بالی تھا۔اقبال مردوں کا نام ہوتا ہے، پر اس کا لڑکی ہو کر یہی نام تھا۔ معلوم نہیں اس کے ماں باپ نے اس کا مردوں والا یہ نام کیوں رکھا تھا؟ اِس بات سے شاید وہ خود بھی واقف نہیں تھے۔ بالی کے ماں باپ ایک وکیل صاحب کے ہاں کام کرتے تھے۔ اس کی ماں اندر کے کام کرتی تھی اور اس کا باپ باہر کے۔بالی بھی اپنے ماں باپ کے ساتھ وہیں رہتی تھی۔وکیل صاحب کی صرف ایک بیٹی تھی، جس کا نام انہوں نے ثوبیہ رکھا تھا۔ثوبیہ ، بالی سے صرف چند سال بڑی تھی اور اس نے شہر میں کالج تک تعلیم حاصل کی تھی۔جب ثوبیہ اور بالی کی پہلی ملاقات ہوئی اور ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو ’’بھا‘‘ گئیں۔
ثوبیہ کو وہ چھوئی موئی سی لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔اگلی کچھ ہی ملاقاتوں میں وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئیں اور بالی نے ثوبیہ کے دِل میں ایک گھر سا بنا لیا۔ وہ یوں کہ وہ ثوبیہ کی کوئی بات نہیں ٹالتی تھی اور اس کی ہر بات بھاگ بھاگ کر پورا کرتی تھی۔اس کے لبوں سے نکلی ایسی کوئی بات نہیں تھی، جس کی تعمیل وہ نہ کرتی ہو۔ اگر بالی ثوبیہ کا ہر کہا مانتی تھی تو ثوبیہ بھی اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔ وہ اکثر اپنے نئے کپڑے، جو اس نے صرف ایک دو بار ہی پہنے ہوتے، بالی کو دے دیا کرتی اور یہی حال وہ اپنے جوتوں کا کرتی۔ ثوبیہ کی اتنی مہربانی سے بالی کے پاس اتنے کپڑے اورجوتے جمع ہو گئے تھے، جس کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
بالی پر ثوبیہ کی مہربانی کی ایک وجہ اور بھی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بالی اس کے ساتھ اس کے پلنگ پر سوتی تھی۔ اور یہ سلسلہ اس دن سے شروع ہوا تھا، جس دن ثوبیہ اسے پہلی بار شاپنگ کے لیے بازار لے گئی تھی۔شاپنگ کرتے کرتے صبح سے شام ہو گئی تھی اور جب وہ شام کو لوٹی تھی تو ثوبیہ نے اس سے کہا تھا۔
’’یار میں تو آج بہت تھک گئی ہوں۔صبح سے شام تک چلنا عذاب بن گیا میرے لیے تو تم ایسا کرو، تھوڑی دیر کے لیے میری ٹانگیںدبا دو، میرا تھکن سے بہت برا حال ہے۔۔۔‘‘
بالی کو بھلا کیا انکار ہوتا۔ وہ اسی وقت ہی ثوبیہ کی ٹانگیں دبانے بیٹھ گئی۔ جب وہ ثوبیہ کی ٹانگیں دبا چکی تو اچانک ثوبیہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اس نے اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بالی کا چہرہ بھر لیااور پِھر اس نے اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے بالی سے سرگوشی کے سے انداز میں کہا۔’’ اور اب مجھے یہاں چومو۔۔۔‘‘
اس نے اپنے ایک رخسار پر انگلی رکھی۔بالی اس کی اِس فرمائش پر ایک پل کوہچکچائی، پر دوسرے ہی پل اس نے اس خواہش کی بھی تکمیل کر دی۔
’’اور اب یہاں بھی۔۔۔‘‘
اس نے اپنے پنکھریوں ایسے ہونٹوں کو چھوا۔اِس بار بھی بالی نے تعمیل حکم کی اور پِھر ثوبیہ اسے جہاں جہاں کہتی گئی، بالی وہاں وہاں اپنے ہونٹوں کے نشان ثبت کرتی گئی یہاں تک کہ۔۔۔۔۔۔ صبح جب ثوبیہ بیدار ہوئی تو اس نے بے اختیار بالی کو اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا اور اپنے گلابی لب اس کے رخسار پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’یو آر گریٹ یار! مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم اتنی کمال کی ہو۔ میں آج کے بعد کبھی تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں تم نے تو میرا دِل خوش کر دیا۔۔۔۔‘‘ اور اس دِن کے بعد ثوبیہ نے واقعی اسے کبھی خود سے دور نہیں کیا تھا۔ اس نے وکیل صاحب سے کہہ کر بالی کا ٹھکانا اپنے کمرے میں کرا لیا تھا۔بالی کے ماں باپ کو بھی اِس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔وہ دونوں لڑکیاں تھیں اور ان دونوں کا ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں سونا غلط نہیں تھا۔
اس دن کے بعد ثوبیہ جو کھاتی، وہ ہی بالی کو کھلاتی۔جو پہنتی،وہی اسے پہناتی۔ وہ اس کا ہر طرح سے خیال رکھنے لگی تھی۔ ثوبیہ کو صرف چند ہی شوق تھے۔ اچھا کھانا، اچھا پہننا، گھومنا، پھرنا، فلمیں دیکھنا، گانے سننا اور ان پر رقص کَرنا۔ ثوبیہ کی صحبت میں رہ کر بالی بھی کسی حد تک اسی کے رنگ میں رنگ گئی تھی۔
اس کے من میں بھی وہ سب شوق سما گئے تھے، جو ثوبیہ کے من میں سمائے ہوئے تھے۔ وہ اس کے ساتھ وی سی آر پر فلمیں دیکھتی، گانے سنتی اور ثوبیہ کے ساتھ مل کر ان پر رقص کرتی۔
کبھی وہ دونوں مل کر رقص کرتیں تو کبھی اکیلے۔کبھی ثوبیہ رقص کرتی تو بالی اسے داد دیتی رہتی اور کبھی بالی رقص کرتی تو ثوبیہ اس کی حوصلہ افزائی کرتی۔
شروع شروع میں بالی اِس فن میں بہت پیچھے تھی۔ وہ پاؤں کہاں ڈالتی ، پڑتا کہیں تھا۔ پِھرثوبیہ نے دھیرے دھیرے اسے اِس فن کے سبھی رموز و اوقاف سے آگاہ کیا تھا، یہاں تک کہ وہ اِس فن میں کافی حد تک ماہر ہو گئی تھی۔
بالی ثوبیہ کی قربت میں بہت خوش تھی۔ وہ دیہات کی رہنے والی لڑکی تھی، اسے شہر کی رونقوں اور دنیا کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ اس کا باپ شہر میں کبھی کہیں نوکری کرتا تھا، کبھی کہیں۔یوں ہی پھرتے پھرتے وہ وکیل صاحب سے ایک دن آ ملا۔ تقدیر اس پر مہربان تھی۔ وکیل صاحب نے اسے اچھی تنخواہ پر مستقل اپنے پاس رکھ لیا اور اسی کے کہنے پر اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو بھی شہر میں بلا لیا تھا۔اب وہ تینوں وہاں خوش تھے۔ خاص کر بالی وہاں بہت خوش تھی۔ اسے وہ سب کچھ وہاں دیکھنے اور حاصل کرنے کو ملا تھا، جس کے اس نے کبھی خواب بھی نہیں دیکھے تھے۔ ثوبیہ اس پر اتنی مہربانی تھی، اس کا اتنا خیال رکھتی تھی اور اسے اتنی چیزیں دیتی تھی کہ اگر وہ اسے اپنی جان دینے کو بھی کہتی تو بھی بالی انکار نہ کرتی۔ اِس لیے ثوبیہ اسے جب بھی، جو بھی بات کہتی، بالی آنکھیں بند کر کے اس پر عمل پیرا ہوجاتی۔ ان کے دن اسی طرح گزر رہے تھے کہ اچانک ثوبیہ کی ایک کزن کی شادی کے دن قریب آ گئے۔ وہ اس کی شادی میں شرکت کرنے گئی تو اپنے ساتھ بالی کو بھی لیتی گئی۔اس نے بالی سے کہا تھا کے وہاں ہنسی خوشی کے ماحول میں ناچ گانا بھی ہوگا اور وہاں اسے اپنے فن کوآزمانے کا موقع بھی ملے گا۔ وہاں بہت سے لوگ ہوں گے ، جو اسے اور اس کے فن کوداد دیں گے اور اس سے اگلی رات، بڑی رات کو جب رت جگا ہْوا تو وہاں عورتیں تو عورتیں، مردوں نے بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے تھے، جن میں واصف بھی تھا۔ ساڑھے پانچ فٹ سے نکلتا ہْوا قد، سرخ و سفید رنگت اور مضبوط قدو قامت کا وہ شخص ثوبیہ کے دِل میں اْتَر گیا تھا۔ ثوبیہ کو یہ تو پتہ تھا کہ وہ اس کا دور پرے کا کوئی رشتہ دار ہے، پر کون ہے، کہاں رہتا ہے؟ اس کا اسے کچھ پتہ نہیں تھا۔اس نے اسی وقت ہی دِل میں اِرادَہ باندھ لیا کہ وہ جلد ہی اس کے بارے میں معلومات حاصل کر کے، اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گی۔اْدھر واصف کے دِل میں وہ سانولی سلونی سی لڑکی، بالی بس گئی تھی۔ اس نے بھی ثوبیہ کی طرح دِل میں عہد کر لیا تھا کہ وہ جلد ہی بالی کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔اسے اتنا تو پتہ چل گیا تھا کہ وہ سانولی سلونی سی لڑکی، اس سرخ و سفید لڑکی کے ساتھ آئی ہوئی ہے، جو غالبا اس کی کوئی دور پرے کی رشتہ دار تھی۔اس نے دل میں ارادہ باندھ لیا کہ وہ سب سے پہلے اس سرخ و سفید سی لڑکی کی طرف اپنی دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا اور پِھر اِس کے ذریعے سے بالی تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔پھر اس سے پہلے کہ وہ بالی یا ثوبیہ کے بارے میں مزید کچھ جان پاتا، اچانک ثوبیہ نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا۔ وہ بھی ثوبیہ کو اتنا ہی جانتا تھا، جتنا ثوبیہ اس کے بارے میں جانتی تھی۔ ثوبیہ نے جب اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو اس نے اِس شرط پر اس کی دوستی کا ہاتھ تھام لیا کہ وہ عنقریب بالی کو بھی اس کے دوستوں کی فہرست میں شامل کرے گی۔ ثوبیہ نے اس سے کہا تھا۔
’’ڈونٹ وری یار۔۔۔ یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ وہ میری بہت اچھی اور کمال کی دوست ہے۔ وہ میری کوئی بات نہیں ٹالتی۔ تم بے فکر ہو جاؤ، میں تمھاری اس سے دوستی کرا دوں گی۔‘‘ اور واصف نے مسکراتے ہوئے اس کی دوستی کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ واصف کی قربت کے وہ دن، ثوبیہ کی زندگی کے یادگار دن تھے۔ اس نے اسے ایسی کھٹی میٹھی لذتوں سے روشناس کیا تھا، اسے وہ مسرتیں دی تھیں، جو بالی بھی اسے نہیں دے پائی تھی۔ ثوبیہ کا خمار واصف کے سَر سے اترنے لگا تو اس نے ثوبیہ کو اس کا وعدہ یاد دلایا۔ ثوبیہ نے کہا۔
’’میں آج ہی بالی سے بات کرتی ہوں۔ امید ہے، ہَم آج رات کا کھانا ایک ساتھ ہی کہیں کھائیں گے۔‘‘
اس نے بالی کے پاس جا کر واصف کی ایسی تعریف کی کہ بالی اسی وقت ہی اس سے ملنے کو بے چین ہو گئی۔ ثوبیہ نے مزید کہا تھا۔
’’یار میں نے ایسا انسان آج تک نہیں دیکھا۔ ایسا ینگ، خوبصورت اور دلکش انسان۔۔۔ سچ پوچھو تو میں تو پہلی نظر میں ہی اس پر لٹو ہو گئی تھی، مگر میں جب اس سے ملی تو پتہ چلا کہ وہ تو تیرے رقص کا دیوانہ ہے۔ مجھے کہنے لگا، میں نے آج تک ایسا رقص کسی کا نہیں دیکھا۔ قسم سے، ایسا ناچتی ہے وہ، جیسے ایک ایک قدم دِل پر پڑ رہا ہو۔اس کے سامنے تو مور بھی ناچتے ہوئے شرما جائیں۔ کاش میں ایک بار پِھر اسے، صرف اپنے سامنے ناچتا ہْوا دیکھ پاتا۔ پتہ نہیں وہ ناچتی ہے یا ہواؤں میں اڑتی ہے۔۔۔۔۔‘‘ بالی، ثوبیہ کے ایک ایک لفظ کے ساتھ خود کو ہواؤں میں اْڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ آج تک کسی نے اس کی، اس کے رقص کی ایسی تعریف نہیں کی تھی۔ اسے ایسی داد نہیں دی تھی، خاص کر کسی مرد نے۔ گو رتجگے کی رات اس نے بھی واصف کو دیکھا تھا۔ وہ بھی مردوں کی ٹولی میں بہت خوب ناچا تھا، مگر اس وقت بالی نے اس پر توجہ نہیں دی تھی۔ اور اب۔۔۔ اب اس کا دِل کر رہا تھا کہ وہ فور اْڑ کر اس کے سامنے چلی جائے اوروہ جیسا کہے، کرتی جائے۔۔۔۔اس نے ثوبیہ سے کہا کہ وہ جب کہے گی، وہ اس کے ساتھ واصف سے ملنے کو چل دے گی۔ اس رات جب وہ تینوں اکٹھے ہوئے اور ثوبیہ نے سب سے پہلے رقص کاآغاز کیا تو اس کمرے میں ان تینوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ ثوبیہ جب اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی تو وہ بالی سے یہ کہہ کر باہر چلی گئی۔
’’اب تم واصف کو اپنا ناچ دکھاؤ، میں ذرا باہر سے ہو کر آتی ہوں۔واصف تمھارا رقص دیکھنے کے لیے بہت بے تاب ہے۔ وہ تمھارا رقص بھی دیکھتا رہے گا اور تمہیں داد بھی دیتا رہے گا۔ میں دس منٹ میں آئی۔‘‘
بالی نے جب اپنا رقص شروع کیا تو واصف کی نظریں اس کے رقص پر نہیں، اس کے جسم کے نشیب و فراز پر تھیں۔ اس دن بالی اپنے آپ سے غافل ہو کر اتنا ناچی تھی، شاید ہی وہ کبھی اس دن سے پہلے اتنا ناچی ہو۔پر اس رات، جب وہ کمرے سے باہر نکلی تو تھکن سے اس کا انگ انگ چور تھا اور وہ بہت دل شکستہ تھی۔اس نے واصف کے سامنے اپنے وجود کا ہرزاویے سے رقص پیش کیا تھا، اپنے انگ انگ کو بروئے کار لا کر اتنا ناچی تھی کہ خود اسے اپنا ہوش نہیں رہا تھا، مگر اس کے باوجود واصف نے اسے وہ داد نہیں دی تھی، جس کی وہ اپنے دل میں تمنا لے کر گئی تھی۔بلکہ واصف نے اسے اس داد سے نوازا تھا، جو وہ نہیں چاہتی تھی۔شاید واصف اس کے رقص کا نہیں،خود اس کا دیوانہ تھا۔ اس رات کمرے سے نکلنے کے بعد اس نے اپنے من میں عہد کر لیا تھا کہ وہ آج کے بعد کبھی کسی کے سامنے اپنے فن کامظاہرہ نہیں کرے گی۔وہ ثوبیہ کے ساتھ اس کی کزن کی شادی میں بہت خوش خوش گئی تھی، مگرجب لوٹی تو بہت دِل شکستہ تھی۔ اسے یہاں زندگی کا ایک اور رخ دیکھنے کو ملا تھا، جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ثوبیہ اور وہ شادی سے لوٹیں تو وکیل صاحب نے آتے ہی ثوبیہ کی ایک اچھے گھرانے میں شادی کر دی تھی اور اس کی شادی کے کچھ عرصے بعد بالی کے ماں باپ کو بھی اس کے ہاتھ پیلے کرنے کا خیال آیاتھا۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے بھی ایک مناسب سا رشتہ دیکھ کر بالی کے ہاتھ پیلے کر دیے تھے۔ اور وہ وہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر پیا گھر سدھار گئی تھی۔
…٭٭…
جب وہ جیدے کے کمرے میں کھانا رکھنے گئی تھی تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جیدا اس وقت کمرے میں آ کر اس کے ساتھ ایسی حرکت بھی کر سکتا ہے، مگر جیدا نہ صرف کمرے آ چکا تھا، بلکہ اس کے ساتھ اس کے چہرے کوچومنے کی حرکت بھی کر چکا تھا۔ سادی اچانک تڑپ کر پلٹی اور دوسرے ہی پل وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔اپنے کمرے میں آنے کے بعد وہ گہری گہری سانسیں لینے لگی۔ اس کا دِل اس کے سینے میں پوری قوت سے دھڑک رہا تھا۔ اپنی سانسیں اعتدال پر آنے کے بعد اس نے سوچا کہ بس اب بہت ہو گئی۔ وہ آج ہی اِس سلسلے میں وسیم سے بات کرتی ہے۔ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور یہاں تو۔۔۔۔۔ رات کو جب وسیم گھر آیا اور سادی کے ساتھ لیٹنے کے بعد وہ اس سے اپنی خواہش کی تکمیل کر چکا تو سادی نے کہا۔
’’سنیے جی، مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے۔‘‘
وسیم اپنی ضرورت پوری کر چکنے کے بعد اس سے دور ہو کر سونے کی تیاری کر رہا تھا، اس نے کہا۔
’’جو بات کرنی ہے، صبح کرنا۔ مجھے ابھی نیند آ رہی ہے۔‘‘
’’نہیں جی، ابھی کی بات ہے۔ آپ سن لیں تھوڑی ذرا۔‘‘اگر کوئی اور وقت ہوتا اور وہ اِس طرح اس سے بات کرتی تو وہ اسے دو چار گالیوں سے ضرور نوازتا مگر اِس وقت وہ اپنی ساری توانائی صرف کر چکا تھا۔
’’اچھا، بول کیا بات ہے؟‘’’وہ جی آپ کا بھائی ہے نا، جاوید بھائی، اس نے مجھ سے۔۔۔۔۔بدتمیزی کی ہے۔۔۔۔ میں ان کے کمرے میں کھانا رکھنے گئی تو انہوں نے مجھے پکڑلیا اور۔۔۔۔میرے چہرے کو چوم لیا۔۔۔۔۔‘‘
’’تو کیا ہو گیا ؟ تو کون سا چوم لینے سے گھس گئی ہے‘‘
وسیم نے یوں کہا، جیسے یہ کوئی بات ہی نا ہو۔ سادی حیرت سے گنگ ہوکر رہ گئی۔
’’اور ہاں، ایک بات کان کھول کر سن لے‘‘
وسیم نے ایک سگریٹ سلگا کر اپنے لبوں میں رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں تیری ساری بات سمجھتا ہوں۔تو ہم دونوں بھائیوں کو لڑانا چاہتی ہے نا، یہ خیال اپنے دل سے نکال دے، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔اگر آج کے بعد تونے دوبارہ ایسی ویسی کوئی بات کہی تو میں تیرا منہ توڑ کر ہاتھ میں رکھ دوں گا کمینی۔۔۔ اب ایک طرف دفع ہو۔۔۔‘‘
سادی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو پیا۔ اس کا خیال تھا کہ وسیم اس کی بات سن کرجیدے کو برا بھلا کہے گا یا کم سے کم اتنا توضرو کہے گا کہ وہ جیدے سے بات کرے گا مگر وسیم نے جس طرح اسے جواب دیا تھا، یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے تھے۔
وسیم کے اِس رویے نے اسے بہت دِل برداشتہ کر دیا تھا۔اس سے بات کر کے اور کچھ نہ سہی، اسے کم سے کم اتنا اندازہ توضرور ہو گیا تھا کہ اسے آج کے بعد وسیم کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں کہنی۔یہاں انصاف تو انصاف اْلٹا اسی کو ہی غلط کہا جا رہا تھا کہ اگر اس نے آج کے بعد ایسی کوئی بات کی تو۔۔۔۔۔
ایک بار اسے خیال آیا کہ وہ جیدے کی اِس حرکت کے بارے میں اپنی ساس سے بات کرے مگر دوسرے ہی پل اس نے اپنی اِس سوچ کو جھٹک دیا۔ وہ تو وسیم سے بھی دو ہاتھ آگے تھی۔ وہ جب سے بیاہ کر آئی تھی، اس نے کبھی اس سے ہنس کر بات نہیں کی تھی حالانکہ سادی نے اس کی خدمت کرنے میں کبھی کوئی کسراٹھا کر نہیں رکھی تھی۔اور سادی کو اْمید تھی کہ ایک نا ایک دن وہ اپنی ساس کا دِل جیتنے میں کامیاب ہوجائے گی۔مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔۔۔ وسیم کی بات سننے کے بعد، اس رات اس نے دِل میں سوچ لیا تھا کہ اگر اسے اِس گھر میں رہنا ہے تو اسے جیدے سے اپنی حفاظت خود کرنی ہو گی۔اس دن کے بعد وہ جیدے سے اور محتاط رہنے لگی تھی۔ مگر تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ جس دن جیدے نے سادی کو چوما تھا،اسے امید تھی کہ سادی اس سے سختی سے پیش آئے گی یا کم سے کم وسیم سے اس کی شکایت ضرورکرے گی مگر بقول اس کے، جب ایسا کچھ نہیں ہْوا تو اس کے حوصلے اور بڑھ گئے۔ اب اسے جیسے ہی موقع ملتا، وہ دوسروں سے نظر بچا کر، چپکے سے سادی کے ساتھ کوئی نا کوئی بد تمیزی کر گزرتا۔ سادی اس کی ہر حرکت کڑوا گھونٹ بھر کر برداشت کرتی رہی۔ شاید کسی اچھے وقت کی امید پر مگر اچھا وقت شاید اس کی قسمت میں نہیں لکھا تھا۔کچھ دن بعد وہ اکیلی گھر میں کام کاج کر رہی تھی کہ اچانک جیدا چلا آیا۔ اس نے گھر میں سادی کو اکیلا دیکھا تو اس کے اندر کا شیطان اچانک ہی جاگ اٹھا۔
وہ پچھلے کئی دنوں سے اسی موقع کی تلاش میں تھا۔ سادی اس وقت گھر میں اکیلی تھی۔ اس کی ساس پاس والے کسی گھر میں گئی ہوئی تھی اور وسیم معمول کے مطابق گھر سے باہر تھا۔
سادی اس وقت اپنے کمرے کی صفائی کر رہی تھی۔ صفائی کرتے کرتے اس نے پلٹ کر دیکھا۔ اسے کمرے کی چوکھٹ پر جیدا کھڑا ہْوا دکھائی دیا۔ وہ اسے انتہائی بری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے لبوں پر ایک مکروہ سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ سادی کو اس کی آنکھوں میں ہوس کی سرخی صاف نظر آئی۔جیدا اس کی طرف بری نیت سے بڑھا تو اس نے کہا۔
’’دیکھیں جاوید بھائی، بہتر یہی ہے کہ آپ یہاں سے باہر چلے جائیں۔ اگر آپ نے مجھ سے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو۔۔۔۔‘‘
’’تو کیا کر لو گی؟‘‘
’’میں۔۔۔شور مچا کر پورے محلے کو جمع کر لوں گی۔‘‘
جیدا اِس کی فطرت سے بخوبی واقف تھا۔ اس نے اندازہ کر لیا تھا کہ اگر وہ اتنی ہی ہمت والی ہوتی تو کب کا ایسا کر چکی ہوتی۔ اسے یقین تھا کہ اس میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ایسا کر سکے۔۔۔ مگر یہ اس کی بھول تھی۔ اس نے جونہی اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے اور اس کے وجود کو چھوا، سادی نے اچانک ہی چیخنا اور چلانا شروع کر دیا۔ جیدا ایک ہاتھ سے اس کے ساتھ دست درازی کرنے لگا اور ایک ہاتھ سے اسے خاموش کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر اسے کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔ سادی جتنے زور سے چیخ اور چلا رہی تھی، اس کی آوازنے اس کی ساس اور محلے کی کچھ عورتوں کو اس گھر میں آنے پر مجبور کر دیا۔ ان میں بالی بھی تھی۔ بالی کا گھر بھی اسی گلی میں تھا۔وہ اس کی بہت اچھی دوست تھی۔ گھر میں ماں اور دوسری عورتوں کی آمد نے جیدے کو سادی سے دور ہونے پر مجبور کر دیا۔اس سے امید نہیں تھی کہ سادی نے جس طرح کہا تھا،اس طرح اپنی بات پرعمل بھی شروع کر دے گی۔پر جب سادی نے اپنی بات پر عمل کیا تو جیدے نے اس کا منہ دبا کر اس کی آواز باہر نہ جانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پایا تھا۔اس نے گھر میں ماں اور دوسری عورتوں کو دیکھا تواچانک ہی اپنے بچاؤ کا ایک رستہ سوچ لیا۔ سادی بھاگ کر اپنی ساس کے قریب جا پہنچی۔
’’ماں جی۔۔۔وہ۔۔۔ وہ جیدے بھائی نے۔۔۔ مجھ سے بد تمیزی کی کوشش کی ہے۔۔۔‘‘
سادی کی ساس کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسے یہاں ایسی کسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔پہلے تو اس کا خیال تھا کہ جیدا یہ حرکت نہیں کرسکتا اور اگر جیدے نے ایسی کوئی حرکت کی تھی تو سادی کوکم سے کم یہ بات سب کے سامنے کہنے کی بجائے خود تک محدود رکھنی چاہیے تھی۔یہ گھر کا معاملہ تھا اور۔۔۔۔سادی کی اس بات نے اسے مشتعل کر دیا۔اس نے ایک ہی پل میں ایک فیصلہ کر لیا تھاکہ اسے کیا کرنا ہے۔ اس نے تند لہجے میں کہا۔
’’اے لڑکی، منہ سنبھال کر بات کر۔ کیا بکواس کر رہی ہے تو۔۔۔‘‘
جیدا بھی فوراً کمرے سے باہر نکل آیا۔اس کا رخ سادی کی طرف تھا۔
’’کیا بکواس کر رہی ہے تو؟ ایک چوری تو اوپر سے سینہ زوری۔۔۔‘‘
وہ ماں کی طرف پلٹا۔
’’اماں، یہ بکواس کر رہی ہے۔ یہ تمہارے کمرے میں بکسے کا تالا توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میں نے موقع پر اسے دیکھ لیا تو اْلٹا مجھے بد نام کرنے کی کوشش کرنے لگی۔‘‘
اس بات پر کسی کو غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ جیدا تو ان کے سامنے وسیم اور سادی کے کمرے سے نکلا تھا، جبکہ اس کی ماں کا کمرہ دوسرا تھا۔جیدے کی ماں کا پارا، اس کی بات سن کر مزید چڑھ گیا۔اس نے تاؤ کھائے لہجے میں کہا۔
’’بے شرم کہیں کی، شرم نہیں آتی تجھے میرے بچے پر الزام لگاتے ہوئے؟ حرامزادی۔۔۔۔‘‘
’’خدا کی قسم میں سچ کہہ رہی ہوں‘‘ سادی کالہجہ بھرا گیا۔
’’اچھا، تو بڑی حجانی ہے‘‘ اس نے اچانک سادی کو بالوں سے پکڑ لیا۔
’’تو کیا سمجھتی ہے کہ میں تیری فطرت کو نہیں جانتی۔ میں تیری رگ رگ کو سمجھتی ہوں کمینی۔۔۔تیری بھلائی اسی میں ہے کہ تو ابھی اور اسی وقت نکل جا میرے گھر۔ میں اس عورت کو ایک پل بھی اپنے گھرمیں رکھنے پرتیار نہیں ہوں، جو اِس گھر کی عزت کو مٹی میں ملانے پر تل گئی ہو۔۔۔‘‘
اپنی ساس کی بات سنتے ہی اس نے بھی وہاں سے چلے جانا بہتر سمجھا۔ اسے بھی اس گھر میں، ایک مرد کے نکاح میں رہ کر، دو دو مردوں کو خوش کَرنا منظور نہیں تھا۔ اِس سے بہتر تو کم سے کم اس کے ماں باپ کا گھر ہوتا، جہاں اس کی عزت تو محفوظ ہوتی۔ وہ اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولی۔
’’میں بھی اب اِس گھر میں ایک پل رہ کر راضی نہیں ہوں، جہاں ایک مرد کے نکاح میں رہ کر دو دو مردوں کو راضی کَرنا پڑے۔‘‘
وہ روتی ہوئی اپنے کپڑے باندھ کر کمرے سے نکلی تو اس کی ساس نے کہا۔
’’ اگر ایک باپ کی ہے تو آج کے بعد اس گھر میں قدم بھی نہیں رکھنا، ورنہ۔۔۔‘‘
سادی اپنے آنسو پونچھتی، اس کی بات نظرانداز کرتی، بالی کا ہاتھ تھام کر اس کے گھر آگئی۔
سادی کی ساس، اس سے نمٹنے کے بعد محلے کی عورتوں کے پیچھے پڑ گئی۔
’’تم یہاں کیا تماشا دیکھ رہی ہو ؟
تمہارا اپنا گھر نہیں ہے کیا۔۔۔دفع ہو سب اپنے اپنے گھر۔۔۔‘‘
جب ان عورتوں کو وہاں دیکھنے کو کچھ نہ ملا تو وہ بڑبڑاتی ہوئیں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔بالی کے گھر آ کر اس نے اسے شروع سے لے کر آخر تک ساری کہانی سنا دی۔ بالی کو اس کی بات سن کر بہت دکھ ہْوا۔ سادی نے کہا۔
’’تم آج ہی میرے ساتھ چل کر مجھے میرے میکے چھوڑ آئو میں نے بہت برداشت کر لیا ان لوگوں کو، اب ایک دن بھی برداشت نہیں کروں گی۔ میں نے جتنی ان لوگوں کی خدمت کی ہے، اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو ان کاشکریہ ادا کرتے منہ نا تھکتا اور ایک یہ لوگ ہیں کہ۔۔۔۔۔‘‘
سادی کی آواز بھرا گئی۔
’’میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے مقدر میں ایسا گھر لکھا ہوگا۔۔۔اِس سے بہتر تھا کہ یہاں بیاہنے کی بجائے میرا باپ میرا گلا دبا کر مجھے ماردیتا۔‘‘ بالی نے اسے تسلی دی۔
’’کوئی بات نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تم ذرا سانس لے لو۔اپنے آنسو پونچھو، پِھر تمہارے میکے چلتے ہیں۔‘‘
ایک گھنٹے بعد، سادی بالی کے ساتھ اپنے میکے آ گئی تھی۔پر اپنے گھر کی چوکھٹ پار کرنے سے پہلے ہی اسے احساس ہو گیا تھا کہ وہاں آ کر اس نے غلط کیا ہے۔
ایک ماہ پہلے جب اسکی رخصتی ہو رہی تھی، ہر لڑکی کی ماں کی طرح اس کی ماں نے بھی اسے رخصت کرتے وقت کہا تھا۔
’’ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔بیٹیاں اپنے گھر میں ہی ہنستی بستی اچھی لگتی ہیں۔اور اچھی بیٹی وہی ہوتی ہے، جو اپنے سسرال والوں کی خدمت کرے اور انہیں خوش رکھے۔ ہر گھر میں اونچ نیچ بھی ہوجاتی ہے اور لڑائی جھگڑا بھی۔ مگر سمجھدار وہی لڑکی ہوتی ہے جو میکے کی بات میکے اور سسرال کی بات سسرال میں رکھے۔ پتر! اگر تجھ پر بھی کوئی ایسا وقت آئے تو تو بھی ایسا ہی کَرنا۔ ہَم غریبوں کی پریشانیوں میں اضافہ مت کَرنا۔۔۔۔‘‘
اور سادی نے وعدہ تھا کہ وہ ایسا ہی کرے گی مگر اب، جب اس نے اپنے ماں باپ کی چوکھٹ پر قدم رکھا تو اسے یہ ساری باتیں بے اختیار یاد آئیں۔اسے احساس ہونے لگا کہ اس نے یہاں آ کرٹھیک نہیں کیا۔ گھر میں اس کی چار چار بہنیں تھیں۔ دو جوان تھیں، دو جوان ہونے کے قریب تھیں۔ اس کا باپ تانگا چلا کر ان کا بوجھ اٹھاتا تھا۔ ایک ماہ پہلے اس نے اس کی شادی کر کے اپنا ایک بوجھ کم کرنے کی کوشش کی تھی اور اب وہ ایک بار پِھر ان پر بوجھ بن کر ان کے گھر آ گئی تھی۔اسے اچانک ہی اپنی بے بسی پر رونا آ گیا۔اس نے بھیگے ہوئے لہجے میں بالی سے اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور مزید کہا۔
’’میں اپنے ماں باپ پر بھر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔کاش مجھے ایک بار پھر سسرال میں رہنے کا موقع مل جائے اور جاوید بھائی مجھ سے دوبارہ وہ بری حرکت نہ کریں تو میں کبھی بھی اس گھر کو نہ چھوڑوں۔۔۔۔۔۔‘‘بالی ایک گہری سانس لے گر رہ گئی۔سادی کی بے بسی کا خیال کر کے اس کا دل بھر آیا۔
اس نے اسے تسلی دی کہ وہ پریشان نہ ہو۔گھر والوں کو سچائی نہ بتائے۔ وہ گھر جا کر جلد ہی اس کا جیدے والا مسئلہ حَل کرنے کی پوری کوشش کرے گی اور اسے یہاں سے دوبارہ واپس لے جائے گی۔
سادی نے اپنی ماں کو سیدھی بات بتانے کی بجائے صرف اتنا کہا کہ اسے ان لوگوں کی یاد آ رہی تھی،سو وہ بالی کو لے کر ان سے ملنے چلی آئی۔ وسیم کو آنے کی فرصت نہیں تھی اس لیے وہ نہیں آیا۔بالی کے بارے میں اس نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ اس کی بہت اچھی سہیلی ہے اور اس کے سسرال کے پاس ہی اس کا گھر ہے۔سادی کی ماں نے اسے بہت سی دعائیں دیں۔ بالی اس کے گھر کچھ دیربیٹھ کر واپس آ گئی تھی۔
سادی، اس کے پیچھے سوچنے لگی کہ بالی نے کہا تھا، وہ گھر جا
کراس کا جیدے والا کانٹا نکالنے کی اپنی سی کوشش کرے گی۔بالی کس طرح اس کا کانٹا نکالے گی؟
کیا یہ اس کے بس کی بات ہے یا پھر۔۔۔۔ اگر دنیا میں خوش قسمت اور بعد قسمت انسانوں کو چنا جاتا تو بالی کا نام دونوں فہرست میں دکھائی دیتا۔ اس کا جس شخص سے نکاح ہْوا تھا وہ بہت سیدھا سادہ اور صاف دِل کا انسان تھا۔بالی کی ساس بھی اسی کے جیسی اچھے دِل کی عورت تھی۔ اس نے بالی کو اسی طرح پیار دیا اور آنکھوں پر رکھاتھا کہ بالی اپنے آپ کودنیاکی خوش قسمت انسان سمجھنے لگی تھی۔بالی کا شوہر سارا دن محنت مزدوری کر کے جب شام کو گھر لوٹتا تو اس کے دونوں ہاتھوں میں سامان سے بھرے ہوئے شاپر ہوتے، جس میں بالی کی پسندیدہ چیزیںہوتیں۔ بالی اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوئے بغیر نا رہ پاتی کہ اسے اتنا چاہنے ولا شوہر ملاہے، جو اس کی ہر خواہش اور ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔ مگر یہ خوشیاں اس کے لیے ریت کی دیوار کی سی حیثیت رکھتی تھیں۔ابھی اس کی شادی کو صرف چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ اس کے ماں باپ کا، وکیل صاحب کے گاڑی میں آتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہْوا اور وہ دونوں ہی وکیل صاحب سمیت خالق کو پیارے ہو گئے۔ بالی کے دِل پر جیسے قیامت گزر گئی۔
اِس کا بہن بھائی جیسا کوئی رشتہ تو تھا نہیں، صرف ایک ماں باپ کا تھا، وہ بھی ختم ہو گیا تھا۔ابھی وہ اس حادثے سے سنبھل نہیں پائی تھی کہ تقدیر نے ایک اور وار کر دیا۔ ایک دن وقاص مزدوری کرنے شہر گیا تواس کی لاش واپس آئی۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا تھا کہ وہ جس عمارت کی چوتھی منزل پر کام کر رہا تھا، وہاں سے سر کے بل گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھاہے۔ اِس بار بالی کا وہ حال تھا، جیسے کسی نے اس کے جسم کی رہی سہی توانائی بھی سلب کر لی ہو۔ وہ اِس بار اِس قدر ٹوٹ کر بکھری تھی کہ اس کا خود کوسنبھالنا دشوار ہو کر رہ گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں کیسے کیسے خواب دیکھ رکھے تھے،مگر تقدیر نے ایک خواب بھی پورا ہونے کا اسے وقت نہیں دیا تھا۔ پہلے ماں باپ چھوڑ کر چلے گئے تھا اور اب وقاص، دو ماہ کے عابد کو اس کی گود میں ڈال کر چل دیا تھا۔ وہ پوری دنیا میں بے یارو مدد گار ہو کر رہ گئی تھی۔ نہ ہی کوئی اس کے آگے تھا اور نا ہی کوئی اس کے پیچھے۔ گھر میں ایک وہ تھی اور ایک اس کی، آنکھوں سے کسی حد تک کم دیکھنے والی ساس۔ وقاص جب تک حیات تھا، اسے کچھ نہ کچھ دکھائی دے جاتا تھامگر اس کے جانے کے بعد تو یوں لگتا تھا، جیسے وہ جاتے جاتے اس کی رہی سہی بینائی بھی اپنے ساتھ لے گیا ہو۔گھرمیں کمانے والا فرد چل دیا تو یہ ذمہ داری بالی کے کاندھوں پر آ پڑی۔اسے صرف ایک ہی کام آتا تھا اور وہ تھا رقص۔ مگر یہ کوئی ایسا کام نہیں تھا کہ جس سے چار پیسے کمائے جا سکتے اور اگر ایسا ممکن بھی ہوتا تو یہ کام کسی شادی بیاہ تک محدود ہوتا۔جہاں کچھ دیر کو ناچ کر کچھ پیسے کمائے جا سکتے۔
مگر یہ شادی بیاہ بھی تو روز کا کام نہیں تھا۔یہ خوشی کبھی کبھی اور کسی کسی گھر میں ہوتی تھی۔ تو کیا وہ اپنا کوٹھا کھول کر بیٹھ جائے ؟ یہ کام تو صرف وہاں ہی چل سکتا تھا، مگر دوسرے ہی پل اس نے یہ خیال بھی جھٹک دیا۔ ایک تو وہ ایسا کر نہیں سکتی تھی اور دوسرا لوگ آج کل کوٹھوں پر رقص دیکھنے نہیں، جسم خریدنے جاتے ہیں اور یہ جسم بیچنے والا کام اسے گوارہ نہیں تھا۔
ایک بار نادانی میں اس نے اپنا وجود ایک شخص کو سونپا تھا، جس
پر اسے آج بھی پچھتاوا تھا۔اچانک اس کے ذہن میں لا شعوری طور پر شاہد کاخیال چلا آیا۔ شاہد اس کا ہمسایہ تھا اور اس کی دوست فرحانہ کا بھائی تھا۔ جن دنوں وہ بیاہ کرآئی تھی اس کی سب سے پہلے دوستی فرحانہ سے ہوئی تھی۔ اور وہ بھی یوں کہ اس بستی کی ایک شادی میں فرحانہ نے اپنا رقص پیش کیا تھا اور اتنا اچھا پیش کیا تھا کہ بالی اس کی گرویدہ ہو گئی تھی۔ اسے بے اختیار ثوبیہ یاد آ گئی تھی۔اس کے اور ثوبیہ کے رقص میں کوئی فرق نہیں تھا۔ اس رات اس نے بھی اپنا رقص پیش کیا تھا اور یوں وہ رات ان کی دوستی کا سنگ بنیاد ثابت ہوئی تھی۔ اس دن کے بعد بالی فرحانہ کے گھر آنے جانے لگی تھی اور وہیں اس نے شاہد کو دیکھا تھا، جو اسے پہلی نظر میں پسند نہیں آیا تھا۔ وہ جب بھی فرحانہ کے گھر جاتی اور اِس دوران شاہد وہاں موجود ہوتا تھا تو وہ اسے بہت بری اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا رہتا۔
اور ایک بار تو جب گھر میں کوئی نہیں تھا اور بالی فرحانہ سے ملنے گئی تھی تو شاہد نے اس سے تھوڑی سی بدتمیزی بھی کی تھی۔ جواب میں بالی نے اسے ایک کرارا سا تھپڑ جڑا تھا اور وہاں سے چلی آئی تھی۔ اب جو وقاص رخصت ہْوا تو شاہد نے ایک بار پِھر اپنے قدم بالی کی طرف بڑھا دیے۔ وہ اکثر کسی نہ کسی بہانے سے بالی کی ساس کے پاس آ بیٹھتا اور اس سے ادھر اْدھر کی باتیں کرتا رہتا۔ کبھی کبھار وہ اپنے ساتھ پھل فروٹ اور عابد کے لیے کھلونے بھی لے آتا۔یہ الگ بات کہ ابھی اس کی عمر ان کھلونوں سے کھیلنے کی نہیں تھی۔بالی کے ساتھ بھی وہ اب عزت سے پیش آنے لگاتھا۔ بالی کو اِس بار وہ پہلے سے بہت بھلااور بدلا ہوا انسان لگا۔
اِس بار شاہد نے خلوص کے ساتھ بالی کی طرف محبت کا ہاتھ بڑھایا تو وہ اس کی محبت کو ٹھکرا نہ سکی۔شاہد نے بالی سے کہا کہ وہ اس سے حقیقتا سچا پیار کرنے لگا ہے اور اس سے شادی کَرنا چاہتا ہے۔ اگر اسے اس کی باتوں پر بھروسہ ہے تو وہ اس کا ہاتھ تھام لے اور اگر نہیں ہے تو جھٹک دے۔بالی کے پاس اِس کاہاتھ تھامنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اس کا نہ تو کوئی اب آگے رہا تھا اور نہ ہی پیچھے۔ اِس کے پاس اِس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں تھا کہ وہ اس کا ہاتھ تھام لے اور وہ اس نے تھام لیا تھا۔ بلآخر شاہد کی محنت رنگ لے آئی اور ایک دن وہ بالی کے ساتھ شاہ جی کو کہہ آیا کہ اگر اس کی غیر موجودی میں بالی جو چیز بھی لینے آئے ، وہ اسے دے دیا کرے۔ اس کے پیسے وہ خود ادا کیا کرے گا۔اس دن کے بعد بالی کو جس شے کی ضرورت ہوتی، وہ شاہد کا نام لے کرشاہ جی کی دکان سے لے آتی۔دھیرے دھیرے شاہد نے پورے گھر کی ذمہ داری اٹھالی۔ اور پِھر ایک دن شاہد نے تنہائی میں اسے اپنے قریب کیا تو بالی نہ چاہنے کے باوجود اسے انکار نہیں کر سکی۔ وہ تیسرا شخص تھا، جو اس کی زندگی میں داخل ہْوا تھا۔اس دن کے بعد وہ تنہائی میں جب چاہتا، جیسے چاہتا، بالی سے بغیر نکاح کے اپنی خواہش کی تکمیل کر لیا کرتا۔ بالی نے اسے ایک دو بار شادی کا کہا تو وہ ہنس کر ٹال گیا۔
’’یار کر لیں گے شادی بھی۔ ہَم کون سا بھاگے جا رہے ہیں۔ تم بھی یہیں ہو اور ہَم بھی۔ تھوڑی فرصت تو مل جائے، یہ کام بھی کر لیں گے۔۔۔‘‘ مگر شاہد کو کبھی وہ فرصت میسر نہیں آئی، جو اس نے بالی سے کہہ رکھی تھی۔ بالی سے شاہد کے مراسم کاسلسلہ صرف چند ماہ ہی چل سکا تھا۔ جب اس کا بالی سے دِل بھر گیا تو وہ خود ہی دھیرے دھیرے بالی سے پیچھے ہوتا چلا گیا۔اس نے بالی پر بہت پیسہ اور وقت برباد کر لیا تھا اور بالی سے وہ جس چیز کا وہ طلبگار تھا، اس کو بھی اس نے جی بھر کر حاصل کر لیا تھا۔اب بالی کے لیے مزیدپیسہ اور وقت برباد کَرنا اس کے نزدیک ٹھیک نہیں تھا۔ سو دھیرے دھیرے وہ بالی سے دور ہوتا گیا۔یہاں تک کہ اس نے بالی کے پاس آنا ہی ترک کر دیا۔ بالی دو چار دن تک تو اس کا انتظار کرتی رہی تھی، مگر جب وہ کئی دنوں تک نہ آیا اور گھر کی ضرورت کی سب چیزیں ختم ہو گئیں تو اس نے اپنے قدم شاہ جی کی دکان کی طرف بڑھا دیے۔وہاں پہنچ کر جب اس نے شاہد کا نام لے کر کچھ سامان لینا چاہا تو شاہ جی نے کہا ’’شاہد تو منع کر گیا ہے جی۔ اس نے کہا تھا کہ اب اگر آپ سامان لینے آؤ تو میں آپ کو اْدھار سامان نہ دوں۔وہ اس کی ادائیگی نہیں کرے گا۔‘‘
بالی کے دِل پر ایک پتھر سا آ لگا۔ لاشعوری طور پر اس کے دِل میں یہ خطرہ موجود رہا تھا کہ ایک نہ ایک دن ایسا ضرور ہو گا۔ شاہد اسے چھوڑکر چلا جائے گا مگر یہ سب اتنا جلدی ہو جائے گا، یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔وہ مایوس ہو کر شاہ جی کی دکان سے واپس پلٹی تو شاہ جی نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
’’سنیں جی۔۔۔آپ کو جس چیزکی ضرورت ہے وہ آپ لے جائیں، پیسے پِھر آ کر دے جانا۔‘‘وہ شاہ جی کی مہربانی کواچھی طرح سمجھ رہی تھی۔
جب سے وہ شاہ جی کی دکان پر آ رہی تھی، اس نے یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی تھی کہ شاہ جی اسے ہمیشہ اس نگاہ سے دیکھتا ہے، جس میں پسندیدگی کے ساتھ ہوس کی لے بھی شامل ہوتی ہے۔ شاہ جی اسے ہمیشہ نگاہوں ہی نگاہوں میں وہ پیغام دینے کی کوشش کرتا، جسے وہ اچھے سے جانتی تھی، مگر اس راہ پر چلنے کا اس کا کوئی اِرادَہ نہیں تھا۔ اسے شاہد کی باتوں پر اعتبار تھا اور اسے یقین تھا کہ شاہد اسے اپنالے گا مگر افسوس اس کا یہ اندازہ غلط ثابت ہْوا تھا۔
وہ اس وقت تو شاہ جی کی بات نظر اندازِ کر کے گھر چلی آئی تھی مگر کچھ گھنٹوں بعد ہی وہ پِھر شاہ جی کی دکان پر تھی۔ گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا اور اس کے پاس شاہ جی سے سامان ادھارلینے کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں تھا۔ شاہ جی اسے اپنے سامنے پا کر اور اس کامسئلہ سن کر کھل سا اٹھا تھا۔ وہ چاہتا بھی یہی تھا کہ بالی اس سے اْدھار سامان لیتی رہے اور اتنا لیتی رہے کہ اس کے پاس وہ رقم لوٹانے کا کوئی رستہ نہ ہو اور اسے اپنی خواہش کی تکمیل کا رستہ مل سکے۔ اس نے بڑی خوش دلی سے بالی کو اْدھارسامان دے دیا اور اس دن کے بعد بالی اکثر شاہ جی کی دکان سے ضرورت کی چیزیں لینے لگی۔ یہاں تک کہ دو ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ بالی اِس دوران منتظر رہی کہ شاہ جی اس سے اپنے اْدھار کے بدلے اس کے جسم کو پانے کی خواہش کا اظہار کرے گا اور اس کے پاس شاہ جی کو اپنا وجود سونپنے کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں ھوگا، مگر شاہ جی اورطبیعت کا ملک تھا۔وہ جلد بازی میں کوئی قدم اٹھانا نہیں چاہتا تھا۔ بالی پر جب دو ماہ کی اْدھار ہو گئی تب شاہ جی نے اس سے اپنی اْدھار کے کا تقاضہ کیا۔ بالی نے ایک گہری سانس لاتے ہوئے کہا۔
’’کل رات کو میرے گھر آ جانا۔ میں تمھارا اْدھار چکا دوں گی‘‘ اور اس رات شاہ جی بالی کے بتائے ہوئے وقت پر اس کے گھر پہنچا تو بالی اس کی منتظر تھی۔اس نے شاہ جی کا ادھار چکانے کا سوچ لیا تھا۔جب رات کے پچھلے پہر وہ بالی کے گھر سے نکلا تو وہ اس سے اپنے اْدھار کی پائی پائی وصول کر چکا تھا۔اگلے دو سے تِین ماہ تک بالی اور شاہ جی کے مراسم قائم رہے اور پِھر شاہ جی نے بھی اس سے اسی طرح کنارہ کر لیا، جس طرح شاہد کر چکا تھا۔شاہد کی طرح شاہ جی کے لیے بھی اب بالی میں کوئی کشش نہیں رہ گئی اور بغیر کسی فائدے کے وہ کسی پر ایک روپیہ بھی خرچ کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اگلے کچھ دنوں میں ہی اس نے بالی کے پاس جانا ترک کر دیا۔ اگلی بار وہ شاہ جی کی دکان پر گئی تو شاہ جی نے بڑی بے رخی سے سامان دینے سے صاف انکار کر دیا کہ پہلے پچھلے پیسے دو، پِھر آگے سامان ملے گا۔ بالی کو اندازہ تو تھا کہ ایک نا ایک دن یہ وقت ضرور آئے گا۔ شاہ جی بھی اس سے شاہد کی طرح کنارا کشی اختیار کر لے گا، مگر شاہ جی نے جس طرح مروت کو بالائے طاق رکھ کراس سے تعلق منقطع کیا تھا،اس سے وہ مردوں کی فطرت کو بَخْوبی سمجھ گئی تھی۔ شاہ جی کی بات سن کر وہ ایک گہری سانس لیتے ہوئے واپس پلٹ آئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب حالات کس طرح کٹیںگے؟
یہ تو اسے معلوم تھا کہ اس کی زندگی میں اب کوئی وقاص جیسا شخص نہیں آ سکتا۔ جب تک سانسوں کی ڈوری بندھی ہے، اسے اپنا جسم بیچ کر ہی وقت گزارنا تھا مگر اِس بار وہ اپنا جسم کسے بیچے گی؟ کون اس کاخریدار بنے گا ؟ اسے اس کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ وہ شاہ جی کی دکان سے اپنی قسمت پر دو آنسو بہا کر واپس لوٹ آئی تھی۔ وہ شاہ جی کے پاس، اس بار یہ سوچ کر گئی تھی کہ سامان کے ساتھ ساتھ وہ اس سے کچھ پیسے بھی لے گی۔ کیوں کے عابد کی طبیعت پچھلے دو دن سے بہت خراب تھی اور اسے علاج کی ضرورت تھی مگر شاہ جی اسے دوائی کے پیسے تو کیا دیتا، اسے گھر کی ضرورت کا سامان بھی نہیں دیا تھا۔ وہ گھر آئی اور اپنی ساس سے عابدکو لیا تو وہ بخار میں جل رہا تھا۔
وہ اسے اپنی گود میں ڈال کر اپنا دودھ پلانے کی کوشش کرنے لگی۔عابد کو گود میں لیے، اس کی تکلیف کا خیال کرتے ہی اس کے آنسو بہنے لگے۔اچانک وہاں سعدیہ چلی آئی۔ وہ پچھلے کچھ عرصے میں اس کی دوست بن گئی تھی اور اس کے بالی کے ساتھ بہت اچھے مراسم قائم ہو گئے تھے۔ اس نے بالی کوروتے ہوئے دیکھا تو پوچھا۔
’’خیر تو ہے، کیا ہْوا، کیوں رَو رہی ہو؟‘‘ سعدیہ کااپنایت بھرا لہجہ محسوس کرتے ہی اس کے آنسو اور شدت سے بہنے لگے۔
اس نے روتے ہوئے سعدیہ کوعابد کی بیماری کے بارے میں بتا دیا۔ سعدیہ نے فوراً ہی اپنے کانوں سے چھوٹی چھوٹی سونے کی دو بالیاں اتاریں اور بالی کے ہاتھ پر رکھ دیں۔
’’یہ لے جاؤ اور میرے منے کی دوائی لے آؤ۔‘‘
’’یہ۔۔۔ یہ میں نہیں لے سکتی۔‘‘
بالی کو خود اندازہ نہیں تھا کہ اس کا لہجہ بہت کمزور ہے۔ سعدیہ نے کہا۔
’’میں تم پر کوئی احسان نہیں کر رہی۔ یہ یوں سمجھ لو کہ اْدھار ہے۔ جب تمھاری فرصت ہو جائے، مجھے اِس سے اور اچھے بنوا کر دے دینا۔‘‘
اس بار بالی کے لیے انکار کَرنا مشکل ہو گیا۔ وہ خود خدا سے کسی ایسی مدد کی دعا مانگ رہی تھی اور سادی اس کی دعا کے پورا ہونے کا سبب بن کر چلی آئی تھی۔ وہ اس کے جس کڑے وقت میں کام آ رہی تھی، یہ اس کا بہت بڑا احسان تھا اور بالی نے سوچ لیا تھا کہ اگر کوئی وقت آیا اور اسے موقع ملا تو وہ اس کا یہ احسان اتارنے کی اپنی سی پوری کوشش کرے گی اور اب اس کا یہ احسان اْتارنے کا وقت آ گیا تھا۔اسے سعدیہ کی مدد کرتے ہوئے جیدے کا کانٹا اس کے راستے سے ہٹانا تھا۔ کیسے ہٹانا تھا؟ اس کے بارے میں بھی اس نے سوچ لیا تھا۔
…٭٭…
جیدا بالی کی ہی گلی میں رہتا تھا۔ بالی نے ایک دو دن میں ہی اس کے گھر آنے جانے کا وقت نوٹ کر لیا تھا۔ وہ اکثر اس کے گھرکے سامنے سے گزر کرجاتا تھا۔ اس دن وہ اس کے گھر کے سامنے سے گزرنے لگا تو بالی نے اسے آواز دے کر روک لیا
’’اے جیدے بات سن ذرا۔‘‘جیدے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی اسے بالی روک کراپنے پاس بلا بھی سکتی ہے۔
پر آج نہ صرف اس نے اسے روک لیا تھا، بلکہ وہ اسے اپنے پاس بلا بھی رہی تھی۔ جیدا بالی کے بارے میں زیادہ تو نہیں جاتا تھا، پر اتنا ضرور جانتا تھا کہ وہ ٹھیک عورت نہیں ہے۔ شوہر کے گزرنے کے بعد وہ غلط رستے پر چل پڑی ہے۔ پہلے اس کے شاہد کیساتھ مراسم تھے، پِھر شاہ جی کے بارے میں سننے کو آیا۔۔۔اور اب پچھلے کچھ دنوں سے اس کے دوست گلو سے اس کے مراسم قائم تھے۔ یہ بات خود گلو نے اسے بتائی تھی اور اس نے کہا تھا کہ اگر اس کا دِل بالی کے لیے مچلتا ہے تو وہ اس کے ساتھ اس کی بات کرا دے گا مگر اِس کے لیے تھوڑا بہت خرچہ کَرنا پڑے گا۔خرچے کے نام پرجیدے کی جان جاتی تھی۔اگر دس بیس کی بات ہوتی تو وہ کہیں نہ کہیں سے بندوبست کرلیتا، مگر یہاں تو کم سے کم پچاس سو کی بات تھی اور اس کے بعد کہیں جا کر مچھلی جال میں پھنستی۔سو گلو کی بات سن کر اس نے بالی کو پانے کا خیال دِل سے نکال دیا تھا اور اب وہی بالی اسے بلا رہی تھی۔ بالی کے اِس طرح مخاطب کرنے پر اس کا دِل دھڑک اٹھا تھا۔ وہ اپنے دِل سنبھالے بالی کے دروازے کے سامنے جا رکا۔
’’جی کہیے؟‘‘ اس نے اپنے لہجے میں حد درجہ شرافت سمونے کی کوشش کی۔ بالی کو اس کے لہجے پر بے اختیار ہنسی آگئی
’’یہ ذرا شاہ جی کی دوکان سے مجھے گھی تولادو۔ منا بہت رَو رہا ہے۔ ورنہ میں خود چلی جاتی۔‘‘ بالی نے اس کی طرف پیسے بڑھائے۔
’’رہنے دیں جی، میں لے آتا ہوں۔‘‘
بالی نے زیادہ اصرار نہیں کیا۔ وہ گھی لے کر آیا تو بالی نے اسے سبزی لینے کے لیے بھیج دیا اورجیدا بغیر پیسے لیے یہ حکم بھی بجا لایا۔ دو چار دنوں میں بالی سے جتنا ہو سکا تھا، اس نے جیدے کی جیب خالی کرانے کی پوری کوشش کی تھی۔ اسے پتہ تھا کہ اب ایک دو دنوں میں ہی وہ اس کی طرف اپنی ہوس کا ہاتھ بڑھائے گا اور ہوا بھی وہی۔ جب اس کی جیب خالی ہو گئی اور اس نے اپنے نزدیک بالی پر کافی پیسے خرچ کر دیے تو ایک دن اس نے بالی کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کر دیا، جس کی بالی کوامید تھی۔ بالی نے جیدے سے کہا۔
’’دیکھ جیدے، میں تمھاری بات من لیتی ہوں پر میری بھی ایک دو شرطیں ہیں۔‘‘
’’مجھے ہر شرط منظور ہے‘‘
’’پہلی شرط تو یہ ہے کہ میں جس سے دوستی کرتی ہوں، اس کی کسی اور کے ساتھ دوستی گوارا نہیں کر سکتی۔‘‘
’’پر میری تو کسی کے ساتھ بھی دوستی نہیں ہے۔ نہ ہی کسی سے کوئی ایسا سلسلہ ہے‘‘
’’اور وہ جو سعدیہ سے تم نے حرکت کی تھی۔۔؟‘‘
سعدیہ کے بارے میں سن کراس نے برا سا منہ بنایا۔
’’وہ حرام زادی جھوٹی تھی۔ میں نے اس کے ساتھ کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کی تھی۔‘‘
بالی کو اس کے جھوٹ پر بے حد غصہ آیا۔
’’دیکھ جیدے، سعدیہ میری بہت اچھی دوست ہے۔ میں اس کی طبیعت سے اچھی طرح واقف ہوں۔وہ مر تو سکتی ہے پر کسی پر ایسا الزام لگا کرجھوٹ نہیں بول سکتی۔ البتہ تم ضرور جھوٹ بول رہے ہو اگر تم نے مجھ سے جھوٹ ہی بولنا ہے تو ضرور بولو مگر یہ مت سمجھنا کہ میں تمہاری باتوں پر اعتبار کر لوں گی اور اب بہتر یہی ہے کہ تم یہاں سے چلے جاؤ اور آج کے بعدمجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔۔مجھے جھوٹے لوگوں سے نفرت ہے۔۔۔‘‘
جیدا اس کی بات سن کر گھبراگیا
’’اچھا۔۔اچھا ٹھیک ہے، میں مانتا ہوں وہ میری غلطی تھی۔اصل میں میرا اس پر دِل آ گیا تھااور اسی لیے میں اس دن وہ حرکت کر بیٹھا تھا مگر وہ سالی میرے ہاتھ بھی نہیں آئی تھی اور بدنامی بھی مفت میں ہوئی تھی۔۔۔۔‘‘
’’وہ میری دوست ہے تمہیں اسے گالی دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا۔۔۔اب نہیں دوں گا۔‘‘
’’تم مجھے اس شرط پر حاصل کر سکتے ہو کہ اب اگر وہ کبھی تمہارے گھر آ گئی تو تم اس کے ساتھ کبھی ایسی حرکت نہیں کرو گے۔۔۔‘‘ جیدے نے وعدہ کر لیا کہ وہ دوبارہ سعدیہ کے ساتھ ایسی حرکت نہیں کرے گا اور اگر سعدیہ لوٹ آئی تو وہ اسے اپنی بہن کی طرح سمجھے گا۔
’’اور میری دوسری شرط۔‘‘بالی نے کہا۔’’جب تک تم میرے ساتھ رہو گے، میرے گھر کاخرچا تمہیں اٹھانا پڑے گا۔‘‘
اِس بات پر جیدے کا منہ اْتَر گیا۔
’’اصل میں، میرے پاس جو کچھ تھا، وہ میں پہلے ہی تمہیں دے چکا ہوں۔ اب میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ البتہ میری نوکری لگنے والی ہے، جوں ہی مجھے پہلی تَنخواہ ملے گی، وہ میں لا کر تمہارے ہاتھ پر رکھ دوں گا‘‘
’’چلو۔۔۔یہ بھی ٹھیک ہے۔اپنا وعدہ یاد رکھنا۔‘‘
اس دن کے بعد بالی اورجیدے کے مراسم قائم ہو گئے تھے۔اس کے ساتھ مراسم قائم ہونے کے بعد وہ اسے اتنی بھائی کہ وہ صبح شام اسی کے گیت گانے لگا۔ بالی کو بھی اِس دوران اندازہ ہو گیا کہ جیدا اتنا بھی برا انسان نہیں ہے، جتنا وہ اسے سمجھتی تھی۔
سعدیہ کو اپنے ماں باپ کے گھر گئے آٹھ، دس دن ہو گئے تھے۔
بالی کا ذہن اس کی طرف ہی اَٹکا ہْوا تھا۔ایک دن اس نے جیدے سے کہا۔
’’اب اپنے بھائی کو کہو کہ وہ جا کر سعدیہ کو لے آئے۔ یوں چھوٹی چھوٹی باتوںکو انا کا مسئلہ بنا کر گھر برباد نہیں کرتے۔اگر وہ خود نہیں لے آتے تو میںجا کر سعدیہ کو لے آتی ہوں، پر اِس شرط پر کہ اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔۔۔‘‘جیدے کہا۔’’ میں اِس سلسلے میں گھر بات کر کے تمہیں بتاؤں گا۔‘‘
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close