Naeyufaq Dec-16

ہیرا پھیری

عمر فاروق ارشد

دعا نے کمرے میں جھانکا…ہائے فضلو بھائی ‘ ذرا زحمت فرماکر دادا حضور کے کمرے میں تشریف لے آئیں وہ آپ کو شدت سے یاد فرمارہے ہیں۔‘‘ کی بورڈ پر تیزی سے چلتی ہوئی میر ی انگلیاں تھم گئیں۔
’’خدا خیر کرے ‘ دادا جی کو آج کل ہم کچھ زیادہ ہی یاد آنے لگے ہیں۔ ‘‘
دعا ہنس دی ۔
’’بس جو بھی ہے، آپ جلدی آئیں۔‘‘
میں اٹھ کھڑا ہوا ۔
’’چلو دیکھتے ہیں کیا چکر ہے۔ ‘‘
دادا حضور صوفے پر پھیلے ہوئے تھے۔ نگائیں خون خوار انداز میں دروازے پر ہی مرکوز تھیں اور لاٹھی کو اضطراری اندا ز میں ادھر ادھر گھمارہے تھے۔ میں نے بے بسی سے دعا کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر شرارت کے رنگ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ آج پھر استغاثہ کی طرف سے دادا جی کی عدالت میں کوئی دعویٰ دائر کردیا گیا ہے۔
’’سلام گرینڈ پا…میں نے ان کے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ انہوں نے لاٹھی گھمائی ۔ نشانہ میں تھا مگر جھکائی دے کر بچ گیا۔
’’اٹھ حرام خور ۔‘‘ وہ گرجے ۔
’’گرینڈ پا کہہ کر دانہ مت ڈال۔ادھر میرے سامنے کھڑا ہوجا۔‘‘
دعا بمشکل ہنسی دبائے ہوئے تھی۔ میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’کل میں نے تمہیں واقعہ سنایا تھا کہ قائد اعظم نے میرے مشورے پر پاکستان حاصل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سنا ہے تم کہتے پھر رہے ہو کہ دادا جی کی کھوپڑی الٹ گئی ہے۔ کیا ایسے ہی ہے؟ ‘‘ انہوں نے لاٹھی زمین پر مارتے ہوئے تصدیق چاہی ۔
’’نہیں گرینڈ پا میں نے تو…‘‘ اب کی بار لاٹھی گھومی اور دو سو واٹ کا بلب میری آنکھوں تلے روشن ہوگیا۔
’’دادا کہہ دادا‘ گرینڈ پا نہیں چلے گا آج سے۔ ‘‘
’’جی دادا جی ۔‘‘ میں بڑبڑایا ۔
’’مطلب تم نے ایسا کہا ہے؟‘‘لاٹھی فضا میں بلند ہوچکی تھی ۔
’’نن نہیں میری پوری بات سنیں دادا جی۔‘‘ میں نے تیزی سے کہا مگر ذہن میں فوراً کوئی بہانہ نہیں آسکا۔
’’جلدی سنا کیا بات ہے؟‘‘ وہ دہاڑے ۔
’’وہ دراصل یہ بات ٹونی مجھے کہہ رہا تھا ۔‘‘ میرا نشانہ ٹھیک بیٹھا۔ حسب توقع دادا کے چہرے پر الجھن نمودار ہوئی۔ اوپر سے میرا مظلوم ترین چہرہ انہیں پریشان کر رہا تھا۔ میں غیر محسوس انداز میں کھسک کر پیچھے ہوتا چلا گیا ۔ تاکہ اگر لاٹھی چلے بھی تو بچت ہوجائے۔
انہوں نے دعا کی طرف دیکھا وہ ٹونی کو بلالائی۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی آگیا۔ ٹونی بے چارے کو شاید دعا سوتے ہوئے اٹھا کر کھینچ لائی تھی۔ وہ ادھ کھلی آنکھوں سے سب کے چہرے تک رہا تھا۔
’’تو نے شراب پی رکھی ہے مردود؟ کیسے نشئی کی طرح آنکھیں مٹکا رہا ہے۔ ‘‘ ساتھ ہی وہ لاٹھی برسانا چاہتے تھے مگر ٹونی کی آنکھیں چھپاک سے کھل گئیں۔
’’میں سو رہا تھا گرینڈ…‘‘
’’گرینڈ پا نہیں کہنا۔‘‘ میں نے سرگوشی کی۔ وہ فوراً خاموش ہوگیا۔
’’ہاں بول شاباش ۔‘‘ دادا جی نے لاٹھی پر گرفت مضبوط کی۔
’’میں سو رہا تھا دادا جی۔‘‘ وہ بولا ۔ دادا جی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری مگر مونچھوں تلے دبا گئے۔
’’اچھا تو تم نے…‘‘ دادا جی نے ٹونی کو مخاطب کیا۔
’’تم نے بولا تھا کہ میری کھوپڑی الٹ گئی ہے؟‘‘
میں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک مخصوص اشارہ کیا۔
ٹونی بولا۔
’’بالکل نہیں دادا جی بلکہ یہ بات تو کل عاقب کہہ رہا تھا اویس سے۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔‘‘
دادا جی کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے بارہ بج گئے کیونکہ مجرم ہاتھ آنے کے بجائے پھسلتا جارہا تھا اگلے ہی لمحے وہ چلائے ۔
’’ان دونوں خبیثوں کو بھی میرے پاس لاؤ۔ ‘‘
دعا حکم کی تعمیل میں باہر نکل گئی ۔
’’یہ سارا چکر اس چڑیل کا چلایا ہوا ہے۔‘‘ ٹونی نے سرگوشی کی۔
’’اور مجھے ڈر ہے کہ عاقب بھانڈا نہ پھوڑ دے۔ منہ پھٹ سا ہے۔ ‘‘
اتنے میں عاقب چیونگم چباتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔
’’یار تم فارغ لوگوں کا پرابلم کیا ہے؟ میرا گیم لاسٹ راؤنڈ میں داخل ہوگیا تھا۔‘‘
دادا جی کی آنکھیں خون خوار انداز میں عاقب کی جانب گھوم گئیں۔
’’تیرا گیم آج میں مکمل کردوں گا۔ حرام خور کبھی ڈھنگ کا کام بھی کرلیا کر۔‘‘
’’دادا جی!‘‘
’’پلیز یار کم ٹو دی پوائنٹ۔‘‘ وہ جماہی لے کر بولا ۔
’’دادا جی کی لاٹھی اس کا مقدر بنے گی ۔‘‘ ٹونی نے میرے کان میں سرگوشی کی۔
خلاف توقع دادا جی لاٹھی کو حرکت دیئے بغیر بولے ۔
’’تم سب حرام خور ہو سچ سچ بتادو کہ کل ہماری شان میں گستاخی کس نے کی…؟ جب ہم خود کہہ رہے ہیں کہ ہم ذاتی طور پر جناب قائد اعظم کے ساتھ تقاریر کرتے رہے ہیں تو پھر ہمارے بیان کو جھٹلانے کی ہمت کرنے والا کون ہے؟ ہم ہر صورت جان کر رہیں گے۔‘‘
سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ دعا ایک طرف کھڑی ہماری بے بسی کو پورے پروٹوکول کے ساتھ انجوائے کر رہی تھی۔ دادا جی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا۔
’’دعا بیٹا تم کیا کہتی ہو ‘ یہ مانیں گے یا نہیں؟‘‘
وہ معصومیت سے بولی ۔
’’دادا حضور یہ ساری ڈھیٹ آتماؤں کی فوج ہے یہ سزا کے بغیر نہیں مان سکتے۔ ویسے مجھے فضلو بھائی اور ٹونی پر شک ہے۔ آپ کے مزاج کو برہم کرنے والا بیان ان دونوں میں سے کسی نے جاری کیا ہوگا۔‘‘
’’او خدایا‘ میری اس چڑیل سے کیا دشمنی ہے بھلا؟ ‘‘ ٹونی رونے والا ہوگیا تھا۔ کل اسے بریانی کھلادیتے تو اچھا تھا اب بھگتو۔‘‘ میں نے ٹونی کو لتاڑا ۔ ہم سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے ۔
دادا جی نے لاٹھی کو جھٹکا دیا۔
’’کیا کھسر پھسر لگار کھی ہے تم نے۔ جو بھی بات ہے میرے سامنے کرو۔‘‘
’’دادا جی یہ آپ کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہوں گے۔ ویسے بھی یہ کاٹھ کے الو سازشوں کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔‘‘ دعا نے موقع دیکھ کر دادا جی کو نیشنل والوں کا مصالحہ لگادیا۔دادا جی صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
’’دعا بیٹا ‘ تم سب لوگوں کو باہر لے جاؤ‘ صرف یہ دو گدھے ادھر رہیں۔ ‘‘ اشارہ مبارک ہماری طرف تھا۔ٹونی سرگوشی کرنے سے باز نہیں آیا ۔
’’بھائی جی بس یہ عزت افزائی باقی رہ گئی تھی۔‘‘ میں صرف سر ہلا کر رہ گیا۔
دعا سب کو ہانک کر باہر لے گئی۔ دادا جی دوبارہ بیٹھ گئے۔
’’میرے نالائق صاحب زادو غور سے میری بات اپنے بھیجے میں بٹھالو۔ ‘‘ انہوں نے قدرے نرمی سے بولنا شروع کیا۔
’’یہ تمہاری نالائقیاں کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہیں۔ محلے سے لے کر گاؤں والے ‘ سبھی تمہارے کارناموں سے تنگ ہیں۔ میں صرف پچھلے ایک ہفتے میں تمہارے نمایاں کارناموں کا تذکرہ کروں گا ۔ چاچا برکت کی مرغیوں کے انڈے تم نے اڑائے‘ بشیر کو چوان کے آموں کا باغ ایک رات میں خالی کردیا‘ مولوی صاحب کو سوتے ہوئے چارپائی سمیت اٹھا کر تالاب میں پھینک دیا‘ صرف اس لیے کہ اس نے تم دونوں حرام خوروں کو نماز کا کہا تھا۔ تم دونوں نے مل کر بدنامیوں کا عالمی ریکارڈ قائم کردیاہے۔ میں کافی دنوں کی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ …‘‘ وہ ذرا سانس لینے کو رکے اور پھر بات جاری کھی۔
’’تم دونوں کو کسی معیاری کام میں مصروف کردیا جائے۔ اس طرح تمہاری صلاحیتوں کا امتحان بھی ہوجائے گا جو کہ فی الحال تمہارے اندر نظر نہیں آرہیں۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ فراغت کی وجہ سے تمہارے دماغوں کو جو بخار چڑھا ہوا ہے وہ اتر جائے گا‘ کیا تمہیں منظور ہے؟‘‘ ٹونی نے پہلو بدلا ۔
’’وہ دراصل دادا جی بات یہ ہے کہ آئندہ…‘‘
دادا جی نے ہاتھ اٹھا کر اس کی بات کاٹ دی اور کہا ’’کوئی صفائی نہیں چلے گی ۔ تم دونوں پہلے بھی کئی دفعہ اپنی قینچی جیسی زبان استعمال کرکے مجھے چونا لگاچکے ہو۔اس بار کسی بہانے کا کوئی چانس نہیں۔‘‘
’’جی بہتر دادا حضور ۔ ‘‘ٹونی نے فرمان برداری سے گردن جھکالی۔
’’میں تم دونوں کو ایک خطرناک مہم پر بھیج رہا ہوں ۔ ‘‘ دادا جی بولے ناکام تھوبڑے واپس لے کر آنے سے بہتر ہوگا کہ تمہاری لاشیں اس حویلی میں واپس آئیں ۔ میں پورے اہتمام سے ان کی تدفین کا بندوبست کردوں گا۔‘‘
میرا رنگ فق ہوگیا۔ ٹونی نے میری طرف دیکھا ۔
’’ابے کیا ہوگیا ہے تجھے‘ حوصلہ رکھ ۔ دادا جی نے قہقہہ لگایا ۔
’’تمہاری ڈرامے بازیاں میں اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔ اب سن لو کہ کام کیا ہے۔یہ تمہاری پیدائش کے سانحے سے پہلے کی بات ہے میرے ابا حضور یعنی کہ تمہارے پردادا حضور نے تلوار بازی کے ایک مقابلے میں تین نایاب ہیرے جیتے تھے۔ یہ سفید رنگ کے نایاب اور قیمتی ہیرے تھے اور پوری دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا مگر پھر ہوا کچھ یوں کہ جب میں نے حویلی کا نظام اپنے ہاتھوں میں لیا تو اس خوشی میں پھولے نہ سماتے ہوئے پورے علاقے کو پہلوانی کے میدان میں چیلنج کردیا۔ میری صحت سے تو تم واقف ہو۔ ‘‘ دادا جی نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا۔
’’اب بھی تم جیسے نئی نسل کے تین چار چوہے پھڑکا سکتا ہوں مگر خدا کی کرنی ہوئی کہ میں سورت میں آئے ہوئے ایک پہلوان سے ہار گیا۔ مقابلے کا انعام یہ رکھا گیا تھا کہ جیتنے والا مجھ سے منہ مانگی چیز مانگ سکتا ہے اور اس کمبخت نے …وہ ہیرے مانگ لیے۔‘‘
میں اور ٹونی حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
’’مگر دادا جی اس پہلوان کو کیا ہیروں کے متعلق الہام ہوگیا تھا ؟‘‘ ٹونی نے پوچھا۔ دادا جی جیسے ماضی میں کھوگئے۔
’’اسے میرے کسی دشمن نے بتایا تھا اور پھر ہزاروں کے مجمع کے سامنے مجھے ہیرے دینا پڑے۔ ‘‘
’’اس کا مطلب ہے اگر لوگ نہ ہوتے تو آپ نے مکرجانا تھا؟‘‘ ٹونی نے موقع پاتے ہی چوٹ لگادی۔ دادا جی کی پیشانی پر بل پڑگئے۔
’’حرام خور اپنی طر ف سے اندازے نہ لگایا کر۔ تجھے پتہ ہونا چائیے میری ایمان داری کا یہ عالم ہے کہ میں نے کبھی چوری کا پانی بھی اپنی ز مینوں کو نہیں لگایا۔ بلکہ محکمہ زراعت کے افسروں کو رشوت دے کر باقاعدہ اصولوں کے تحت پانی چوری کرتا ہوں۔‘‘ ٹونی نے میرے کان کے پاس سرگوشی کی۔
’’بزرگوار کی ایمانداری تو دیکھو نئی نسل کو ان سے کچھ سیکھنا چاہیے۔‘‘ دادا جی نے یقیناً اس کی سرگوشی سن لی تھی اس لیے لاٹھی کا بھرپور وار اس کے داہنے بازو پر ہوا‘ وہ بلبلا اٹھا۔
’’ہائے مر گیا اتنی جلدی نہیں مرنے والے تم‘ دادا جی دہاڑے‘ میری بات سن نہیں رہے ہو اور اپنی ہانکے جارہے ہو۔ ‘‘دادا جی نے میری طرف دیکھا۔
’’تم نے بھی کچھ کہنا ہے؟‘‘ میں نے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی‘ انہوں نے بولنا شروع کیا اور 25سال گزرنے کے بعد آخر مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ پہلوان میرے ہیرے لے کر کہاں گیاہے۔‘‘ سبحان اللہ‘ ٹونی بولا بہت فاسٹ انٹیلی جنس سروس ہے۔ دادا جی نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ انہوں نے بولنا جاری رکھا۔
’’اس پہلوان نے وہ ہیرے وادی خواب نگر کے ایک مقامی نواب کو فروخت کردیئے تھے‘ میں مسلسل اس کے پیچھے لگا ہو اتھا۔ قریب تھا کہ میں اس نواب سے وہ ہیرے اڑالیتا مگر نواب برطانیہ چلا گیا اور ہیرے بھی ساتھ لے گیا اور اب اطلاعات آئی ہیں کہ وہ واپس پاکستان آچکاہے لیکن دادا جی اس سارے معاملے میں ہم دونوں کہاں فٹ ہوتے ہیں؟ ‘‘ٹونی نے بے چینی سے پوچھا۔دادا جی مسکرائے اور کہا۔
’’ہاں بیٹا اب تم لائن پر آئے ہو‘ تم دونوں نکمے …وہ ہیرے اس نواب سے واپس لائو گے۔ ‘‘
’’ہم دونوں لائیں گے؟‘‘ٹونی نے گھبرا کر پوچھا۔
’’ہاں تم دونوں میں فرشتوں کے اجلاس سے خطاب نہیں کررہا‘ تم سے ہی مخاطب ہوں۔‘‘ دادا جی نے غصے سے کہا۔
’’مگر دادا جی ہم…!‘‘ داداجی نے لاٹھی گھماتے ہوئے ٹونی کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی ۔
’’اور اگر مگر کی گنجائش نہیں ہے‘ تم لوگوں کو میں پورا سپورٹ کروں گا۔ جس قسم کا سامان لے جانا چاہو‘ جیسی گاڑی پسند کرو جتنا خرچہ طلب کرو سب ملے گا لیکن اس حویلی میں واپسی کے لیے تمہارے پاس ہیرے ہونا ضروری ہیںورنہ تم میرے پوتے نہیں اور میں تمہارا دادا نہیں۔ ‘‘
’’کاش سچ مچ ایسا ہی ہوتا ۔‘‘ٹونی نے آہ بھر کے سرگوشی کی۔
’’کیا کہا تم نے؟‘‘دادا جی چلائے۔
’’کک کچھ نہیں میرا مطلب کب جانا ہے؟‘‘ٹونی پھرتی کے ساتھ بیان بدل گیا۔
’’تم کل صبح روانہ ہوجائو گے یعنی کہ ناشتے کی میز پر مجھے تمہاری منحوس شکلیں نظر نہ آئیں۔ ‘‘دادا جی نے حتمی لہجے میں کہا۔
’’او کے دادا حضور ۔‘‘ٹونی اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اس خصوصی پنگے میں ڈالنے کے لیے شکریہ قبول فرمائیں۔ چل بھائی تو بھی دادا حضور کا شکریہ ادا کر۔‘‘ اس نے مجھے ٹہوکا دے کر کہا۔ دادا جی نے لاٹھی کو حرکت دی۔
’’دفع ہوتے ہو یہاں سے یا میں تمہارا شکریہ دوسری طرح قبول کروں۔‘‘
’’ یار ایک تو یہ لاٹھی ہر معاملے میں انٹر فیئر کرتی ہے۔‘‘ ٹونی نے کہا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ میں نے بھی اس کی تقلید کی۔
/…/…/…/
رات کے گیارہ بجے تک ہم نے ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اپنی تیاری کو حتمی شکل دے دی تھی کیونکہ دادا جی ٹس سے مس نہیں ہوئے تھے ٹونی نے سفر کے لیے نئے ماڈل کی پوٹھوہار پسند کی تھی یہ اس کی فیورٹ گاڑی تھی۔ جسے ہم دونوں آسانی سے ڈرائیو بھی کرلیتے تھے دیگر ضروری کاموں سے فراغت کے بعد ہم نے دوبارہ دادا جی سے ایک طویل ملاقات کی اور ان سے مطلوبہ نواب صاحب کے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرلیں۔ صبح ابھی منہ اندھیرا ہی تھا کہ ہم نے دادا جی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے گاڑی میں سامان رکھنا شروع کردیا۔ کھانے پینے کی چیزوں کی ڈبے اور دوسری ضروریات کی اشیا۔ ہم نے ڈگی میں رکھیں۔ ہم نے حتی الامکان کوشش کی تھی کہ ہمیں راستے میں کسی طرح کی کوئی چیز خریدنا نہ پڑے۔ ناشتہ ہم نے اپنے کمرے میں ہی کیا کیونکہ دادا جی نے ناشتے کی میز سے دور رہنے کے آرڈر جاری کئے تھے۔ٹونی گاڑی کی ونڈ اسکرین صاف کررہا تھا جب دعا نمودار ہوئی۔
’’ ویری گڈ ٹونی بھائی‘ یہ کام آپ کو خوب جچتا ہے۔‘‘ اس نے ٹونی کو چھیڑا۔
’’ دعا تم نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘ میں نے دھیرسے سے کہا۔
’’ارے۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔ ’’میں نے ایسا کیا کردیا۔تمہیں تو میرا شکر گزار ہونا چاہئے کہ وادی خواب نگر کی سیر کا موقع مل رہا ہے اور وہ بھی بالکل مفت۔ ‘‘
’’سیر کی بچی‘ تمہیں پتہ ہے کہ ناکامی کی صورت میں ہمارے مرڈر آرڈرپاس ہوچکے ہیں ۔‘‘میں نے غصے سے کہا۔
’’ویری سیڈ‘ ‘اس نے افسوس بھری ادا کاری کی۔
’’مجھے یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ میرے پیارے بھائیو میں دکھ کی اس گھڑی میں قدم قدم تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔ ٹونی اندر ہی اندر سلگ رہا تھا۔ آخر اس سے رہا نہیں گیا ۔
’’یار فضلو اس چڑیل سے کہہ دو یہاں سے چلتی پھرتی نظر آئے۔‘‘دعا نے جواباً ٹونی کو انگوٹھا دکھایا۔
’’میری جوتی جاتی ہے یہاں سے‘ تم گاڑی اسٹارٹ کرو اور کھسک جائو خواب نگر کی طرف۔‘‘میں نے دعا کے سرپر ہاتھ رکھا۔
’’ چلو غصہ تھوک دو‘ بس ہمارے لیے دعا کرنا کہ کامیاب و کامران ہو کر واپس آئیں۔‘‘ اس نے مسکرا کے سر ہلایا اور چلی گئی۔ ہم دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ٹونی نے حویلی پر الوداعی نظر ڈالی۔
’’ فضلو یار اس حویلی کو جی بھر کے دیکھ لو‘ شاید ہیروں والے نواب صاحب کے ہاتھوں فوت ہونا پڑے۔‘‘
’’ نواب کی ایسی کی تیسی ہیرے تو اسے دینے ہی پڑیں گے ۔‘‘میں نے دانت پیس کر کہا۔
ٹونی نے غور سے مجھے دیکھا۔
’’ سچ کہہ رہے ہو؟ ‘‘
’’بالکل سچ۔‘‘ میں نے وکٹری کا نشان بنایا۔
’’ چل پھر دیکھتے ہیں۔‘‘ ٹونی نے گاڑی آگے بڑھادی۔
/…/…/…/
شام کے سائے پھیلنا شروع ہوچکے تھے جب ہم وادی خواب نگر کی حدود میں داخل ہوئے۔ دن بھر کا سفر تقریباً ٹھیک رہا تھا سوائے ایک دو دفعہ کے‘ جب ٹونی نے نیند کے ہاتھوں مجبور ہو کر اونگھتے ہوئے ڈرائیونگ کی کوشش کی مگر میری بروقت کی مداخلت نے کسی قسم کا ایڈونچر نہیں ہونے دیا۔
خواب نگر حقیقتاً خوابوں کی وادی تھی ہم تقریباً پون گھنٹہ کی تلاش کے بعد ایک ہوٹل منتخب کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کی وجہ ٹونی کا یہ اصرار تھا کہ دادا حضور کے مال مفت پرکھل کر عیش کرنی چاہئے اور اس کے لیے ہوٹل اعلیٰ قسم کا ہونا ضروری ہے تاکہ ہم اطمینان بخش طریقے سے اس خطرناک مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔ ہوٹل کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکنے کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم وادی خواب نگر کے محل وقوع سے اچھی طرح واقف ہوگئے۔ یہ خوبصورت وادی دو حصوں میں تقسیم تھی۔ ایک طرف رہائشی مکانات کا طویل سلسلہ تھا درمیان میں ایک خوبصورت سی سڑ ک کے بعد وسیع و عریض جنگل تھا اور اس جنگل میں کافی رقبے کو کاٹ کر سیاحوں کے لیے ہوٹل اور ریسٹورنٹس وغیرہ بنے ہوئے تھے انہی میں سے ایک ہوٹل ہمیں پسند آیا۔ ٹونی ریسیپشنسٹ پر لٹو ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ بیچاری اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے مجبور مسکرا مسکرا کر باتیں کررہی تھی جب کہ ٹونی اسی خیال سے مرے جارہا تھا کہ شاید یہ جلوے اس کے لیے بطور خاص ہیں۔میں نے اسے کہنی ماری ۔
’’ٹونی صاحب ہم کمرہ بک کروانا چاہتے ہیں یہ کام پھر کسی وقت کے لیے چھوڑ دیں۔‘‘ ریسیپشنسٹ نے شکر گزار نظروں سے مجھے دیکھا ٹونی بری طرح کھسیا گیا۔
’’اوہ یس میڈم ہمیں دو وی آئی پی روم درکار ہیں کم از کم ایک ہفتے کے لیے۔‘‘ میں چونکا ۔
’’ابے دو روم کس لیے؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’مسٹر فضلو الگ الگ کمرے ہوں گے تو ہم زیادہ غوروخوض کے ساتھ اپنا کام کرسکیں گے ورنہ تم میرے خشوع وخضوع کو قتل کرتے رہوگے۔ ‘‘میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
’’حضور والا میری ناقص عقل کے مطابق مشترکہ کمرہ ہمارے لیے زیادہ سود مند ثابت ہوسکتا ہے ۔‘‘ٹونی نے غو ر سے مجھے دیکھا۔
’’فضلو جی میں اس مہم کا معزز رکن ہوں بلکہ قائدانہ کردار اداکررہا ہوں سو اس طرح میری ماہرانہ رائے کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے ۔‘‘وہ ریسیپشنسٹ کی طرف گھوما ۔
’’میڈم پلیز دو وی آئی پی روم عنایت کردیں۔ ‘‘میں دانت پیس کررہ گیا۔ ریسیپشسٹ کمپیوٹر پر تیزی سے انگلیاں چلانے لگی پھر اس کے چہرے پر معذرت خواہانہ تاثرات ابھرے۔
’’سوری سر‘بات دراصل یہ ہے کہ فی الوقت ایک ہی روم دستیاب ہے کل تک دوسرا روم مل جائے گا۔‘‘ٹونی کا منہ بگڑگیا ۔
’’کل پھر میری لاش ادھر رکھوا دینا ‘سٹوپڈ مینجمنٹ…نان سنس پروگرامنگ۔‘‘
میں نے آہستہ سے پوچھا۔
’’ٹونی یار یہ انگلش کہاں سے آگئی؟‘‘اس نے آنکھ ماری۔
’’میں پوری تیاری سے آیا ہوں بیٹا‘ دعا سے دو چار لفظ سیکھے ہیں۔‘‘ ریسیپشنسٹ گھبرا گئی تھی میں نے مسکراکر کہا۔
’’کوئی بات نہیں سسٹر ہم گزارا کرلیں گے۔‘‘ میری بات سن کر اس نے سکون کا سانس لیا ۔
’’ تھینکس سر روم نمبر 22 یہ لیں چابی۔‘‘ میں نے چابی پکڑلی ٹونی مجھے کھاجانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
’’فضلو بے وقوفوں کا کوئی آسکر ایوارڈ ہے کیا؟اگر ہے تو تجھے ملنا چاہئے میں ریسیپشنسٹ کو متاثر کرنے کے لیے مرا جارہا ہوں اور تو نے اسے بھی بہن کے رتبے پر فائز کردیا۔‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا۔
’’ٹونی بھیا اس دنیامیں سب بہن بھائی ہیں ۔‘‘اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا ۔
/…/…/…/
میں ایک گھنٹے سے دادا جی کے دیئے گئے نقشے کے ساتھ سر کھپا رہا تھا اس نقشے میں مطلوبہ نواب صاحب کی حویلی کے بارے میں مکمل رہنمائی موجود تھی میں یہ چاہتا تھا کہ ہمیں ہوٹل سے نکل کر نواب کی حویلی تک جانے کے لیے کسی مقامی بندے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ یہ بعد میں نقصان دہ ثابت ہوسکتا تھا نقشے کے مطابق نواب کی حویلی خواب نگر کے شمال میں واقع تھی حویلی سے ایک کلو میٹر پیچھے مین روڈ ختم ہوجاتا تھا اور اس سے آگے نواب کا ذاتی جنگل تھا جس کے اندر سے ایک پگڈنڈی حویلی تک جاتی تھی البتہ وہاں کچھ دوسرے عام لوگوں کے گھر بھی تھے زیادہ تر لوگوں کے پاس اپنی بگھیاں تھیں اور یہی ان کا ذریعہ آمدورفت تھا جدید ٹرانسپورٹ کا یہاں مجھے نام و نشان بھی نہیں ملا تھا ٹونی نے بیڈ پر اوندھے لیٹے ہوئے آواز لگائی۔
’’ابے فضلو واش روم کے لیے کیا نیچے جانا پڑے گا‘ سیکنڈ فلور سے نیچے جاتے ہوئے اگر راستے میں ہی حادثہ ہوگیا تو بچپن کی یاد تازہ ہوجائے گی۔ ‘‘
’’ٹونی ادھر آکے میری بات سن۔‘‘میں نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ اچھل کر میرے پاس آیا۔
’’فضلو میری جان تو اتنا سیریس کیوں ہوگیا ہے؟‘‘
’’سیریس ہونے پڑے گا بھائی‘ ہم جس کام کے لیے آئے ہیں اس کی طر ف تم دھیان نہیں دے رہے‘ تمہیں اپنی عیاشی کی پڑی ہوئی ہے۔‘‘ ٹونی کی پیشانی پر بل پڑگئے۔
’’فضلو کے بچے‘ میں نے تجھ سے واش روم کا محل وقوع پوچھا ہے‘ کسی میخانے کا نہیں پوچھ لیا جو تو عیاشی کا ملبہ میرے سر پر ڈال رہا ہے۔ ابھی چائے تک نہیں منگوائی تم نے اور بات عیاشی کی کرتے ہوالو کے پٹھے۔‘‘
’’چائے کو چھوڑ ٹونی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تجھے الائچی والا ٹھنڈا دودھ پلائوں گا۔ مگر کام کی طرف توجہ بھی دے ۔یہ نقشہ دیکھ اور اس کو سمجھنے کی کوشش کر۔ ‘‘ٹونی نے نقشے پر نظر ڈالی۔
’’یہ جو سرخ رنگ کا نقطہ ہے‘ بندہ ناچیز کے خیال میں یہ نواب کی حویلی ہے ۔‘‘
میں نے سر پکڑلیا۔
’’یار یہ حویلی نہیں ہے‘ سرخ نشان خطرے کی علامت ہوتا ہے یہ پولیس اسٹیشن ہے جو حویلی کی پچھلی سائیڈ پر ایک گلی چھوڑ کر واقع ہے۔‘‘ ٹونی کے دیدے پھیل گئے۔
’’فضلو میرے بھائی مجھے گاڑی کی چابی دے دو ‘ میں دادا حضور کے ہاتھوں شہید ہونا چاہتا ہوں‘ پولیس کی چھترول افورڈ نہیں کرسکتا۔‘‘
میں نے نقشہ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’ اس لیے میں کہہ رہا ہوں ٹونی کہ کام کی پلاننگ پوری محنت اور حاضر دماغی سے کرلیں۔ داداجی نے نقشہ اسی مقصد کے لیے دیا ہے کہ ہم اس کام کے متعلق ہر قسم کے خطرات سے آگاہ ہوجائیں اور بعد میں یہ بہانہ مت ہوکہ ہم بے خبری میں مارے گئے۔ اس نقشے کے مطابق اگر ہم منصوبہ بندی کریںگے تو کامیابی کے ننانوے فیصد چانس روشن ہیں۔‘‘ ٹونی نے بغور مجھے دیکھا۔
’’یعنی کہ ایک فیصد چانس پولیس کی چھترول کے بھی ہیں فضلو یار پلیز کچھ ایسا کر کہ کامیابی کے چانسز سو فیصد ہوں۔‘‘
’’بالکل کرسکتا ہوں۔‘‘میں نے کہا
’’مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ تم میرا ساتھ دو۔‘‘
’’ٹھیک ہے یار۔‘‘وہ بولا۔
’’اب سے میں تمہارے ساتھ نیک نیتی سے کام کروں گا۔ پکی بات ہے نا؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’بالکل پکی سمجھو ایلفی لگ گئی ہے بات پر۔ بلکہ فضلو میرا خیال ہے کہ ہم آج ہی کوئی کارروائی شروع کریں زیادہ دیر کرنا مناسب نہیں ہوگا میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ ‘‘میں نے کہا۔
’’میرا پروگرام رات کو موو کرنے کا ہے ابھی تین سے چار گھنٹے ہمارے پاس ہیں۔ ہم آرام سے کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ زبردست ۔‘‘ٹونی بولا۔
’’فضلو مجھے یہ نقشہ سمجھا دے پھر کچھ سوچتے ہیں۔ ویسے یہ نقشے مجھے آج تک جغرافیہ کے بڑے بڑے پروفیسر نہیں سمجھا سکے مگر اس وقت زندگی کا سوال ہے شاید بھیجے میں کچھ داخل ہوجائے۔‘‘
’’یار یہ اتنا مشکل نہیں ہے میں نے نقشہ ٹیبل پر پھیلا دیا۔نواب کی حویلی تک ہمارے اس ہوٹل سے دو کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ پولیس اسٹیشن کے متعلق میں تمہیں بتا چکا ہوں‘ حویلی کے آس پاس تقریباً پانچ سے دس گھر مزید ہیں اور وہ سب سفید پوش طبقے کے لوگ ہیں جو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ حویلی کے مین گیٹ کے ساتھ پندرہ فٹ اونچی چوکی ہے جہاں پر رات کے وقت ایک چوکیدار موجود ہوتا ہے اور وہ مسلح نہیں ہوتا۔ اس کا اصل کام یہ ہے کہ رات کے وقت آوارہ جانور فالسے کے باغ کو نقصان نہ پہنچائیں کیونکہ حویلی کے ساتھ ہی نواب صاحب نے اپنے شوق کے لیے فالسے کے کافی پودے لگا رکھے ہیں جو کہ ایک چھوٹے سے باغ کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حویلی میں کوئی سیکورٹی نہیں ہے کیونکہ یہاں چوری چکاری اور ڈکیتی کا تصور نہیں ہے اور…‘‘ٹونی نے میری بات کاٹی۔
’’تجھے یہ معلومات کس نے دیں؟‘‘
’’مجھے دادا جی نے بریف کیا ہے۔‘‘میں نے جواب دیا۔ٹونی مسکرایا۔
’’مسٹر فضلو اگر دادا حضور کے بقول یہاں امن وامان ہے اور ان لوگوں کا اپنا ایک بھائی چارے کا سسٹم موجود ہے تو پھر پولیس اسٹیشن کی موجودگی کا کیا جواز پیش کیا جائے؟‘‘
’’پولیس اسٹیشن خانہ پری کے لیے ہے۔‘‘میں نے کہا۔
’’اور وہاں صرف دو اہلکار موجود ہوتے ہیں جن کاروٹی پانی بھی خواب نگر کے لوگ دیتے ہیں۔‘‘ٹونی نے سر ہلایا۔
’’ٹھیک ہے تم اپنی بات جاری رکھو۔ میں نے نقشے پر ایک جگہ انگلی رکھی وہ حویلی تین حصوں میں تقسیم ہے۔ عقب سے ہم داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ وہاں رسک ہے۔‘‘
’’رسک کیوں ہے؟‘‘ٹونی بولا۔
’’تمہارے مطابق پولیس اسٹیشن میں صرف دو پولیس والے موجود ہوتے ہیں۔
رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے ایک پولیس والا ہی کافی ہوتا ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’اور حاصل شدہ معلومات کے مطابق یہ فرض شناس پولیس والے ہیں اپنے تھانے والی پولیس نہ سمجھو۔ ہم حویلی کی دائیں سائیڈ سے اندر کودیں گے فرنٹ پر جو حصہ ہے وہاں پانچ کمرے ہیںاور وہ ملازمین کی رہائش گاہ ہے۔ اس سے ذرا آگے نواب صاحب کی رہائش گاہ اور زنان خانہ وغیرہ ہے سب سے آخر میں عقبی جانب گودام وغیرہ ہیں جہاں مختلف انواع اقسام کی اشیا اور اناج وغیرہ محفوظ کیا جاتا ہے اور ہماری مطلوبہ اشیاء بھی وہیں ہیں۔ ‘‘ٹونی نے ہاتھ مسلے ۔
’’پولیس اسٹیشن بھی عقبی جانب ہی ہے ہم سائیڈ سے کود کر بھی عقبی طرف ہی پہنچ جائیں گے۔‘‘
یار پولیس اسٹیشن حویلی سے باہر ایک گلی چھوڑ کرہے حویلی کے اندر نہیں ہے۔‘‘میں نے تپ کر کہا۔
ٹونی نے ذرا جھک کر نقشے کو دیکھا ۔’’اور یہ سبز رنگ کا جو بڑا سانشان ہے یہ تو حویلی کے اندر دکھائی پڑرہا ہے اس سے دادا حضور نے کچھ ثابت کیا ہے یا نہیں؟‘‘میں بے ساختہ مسکرا دیا۔
’’یہ برگد کا بہت بڑا درخت ہے ۔‘‘ٹونی نے سرد آہ بھری۔
’’ٹھیک ہے بھائی مگر میرے خیال میں پلان ابھی ادھورا ہے‘ ہیرے کہاں پڑے ہوں گے کس چیز میں محفوظ ہوں گے اس کا کچھ پتہ ہے کہ نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر واپس نکلنے کا تو تم نے کچھ بتایا نہیں؟‘‘
’’یہی ضروری چیز ہوتی ہے میں نے سب کچھ طے کرلیا ہے یا۔‘‘میں نے کہا۔
’’ہیرے کہاں ہوں گے اس کا کچھ کنفرم دادا جی نے نہیں بتایا نقشے کے مطابق عقبی حصے میں تین کمرے ہیں جن میں سے دو اجناس وغیرہ کے لیے مخصوص ہیں جب کہ ایک میں نواب صاحب نے اپنا جنون جمع کر رکھا ہے۔‘‘ٹونی چونکا۔
’’جنون کا کیامطلب؟‘‘
’’جنون سے مراد نواب صاحب کی وہ چیزیں ہیں جو انہوں نے دنیا کے کو نے کونے سے بڑی محنت و ریاضت کے بعد اکٹھی کی ہیں۔‘‘میں نے کہا۔
’’انہیں ہم نوادرات بھی کہہ سکتے ہیں اور انہی میں ہمارے ہیرے بھی موجود ہیں ہم رات گیارہ بجے کے بعد حویلی کے اندر انٹری ماریں گے جب کہ ہوٹل سے ہم نو بجے روانہ ہوں گے کیونکہ اس وادی میں لوگ نو بجے کے بعد گھروں میں بند ہوجاتے ہیں اگر اس کے بعد ہم یہاں سے نکلے تو لامحالہ مشکوک ہوجائیں گے کیونکہ ہمیں وہاں تک جانے کے لیے بگھی کی ضرورت ہوگی۔‘‘ٹونی نے تیوری چڑھائی ۔
’’بگھی میں کیوں؟ اپنی گاڑی کیا عمران خان کے دھرنے میں چلی گئی ہے۔ ٹونی صاحب۔‘‘
’’یہاں کار اورموٹر سائیکل وغیرہ کا کوئی چکرنہیں ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’بڑے بڑے لوگ بگھیاں استعمال کرتے ہیں ہم کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو معمول سے ہٹ کر ہو اور اس کی وجہ سے ہم یہاں کے لوگوں کی نظروں میں دنیا کا آٹھواں عجوبہ بن جائیں یہ چیز آگے چل کر ہمارے مقصد میں روڑے اٹکا سکتی ہے جہاں تک واپس نکلنے کا سوال ہے تو اس کے لیے بھی میں نے نقشے کے مطابق ہی منصوبہ بندی کی ہے۔‘‘ٹونی نے جمائی لی۔
’’یار فضلو تو نے نقشے کو زیادہ ہی کولمبس کا درجہ دے دیا ہے کہیں یہ نقشہ ہماری ٹانگیں تڑوانے کا سبب نہ بن جائے۔‘‘میں ہنس پڑا۔
’’نہیں یار جیسا کہ تمہیں پتہ ہے جہاں سائیڈ والی دیوار سے ہم نے اندر کودنا ہے وہاں ایک برگد کا بہت بڑا درخت ہے اسی کو ہم واپسی کے لیے استعمال کریں گے۔‘‘
‘‘اوکے۔‘ پھر کب نکلنے کا ارادہ ہے۔‘‘ٹونی نے کہا۔
’’ارادہ تو آج کا تھا مگر اب میں سوچ رہا ہوں کہ کل پر رکھ لیں کیونکہ آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ پوری وادی گھوم لیں تاکہ کبھی بھاگنا دوڑنا پڑے تو مشکل پیش نہ آئے زبردست آئیڈیا ہے ۔‘‘ٹونی نے واپس بیڈ پر چھلانگ لگاتے ہوئے کہا۔
’’مگر فضلو صاحب یہاں واش روم کا پتہ نہیں چل رہا اور جارہے ہیں نواب صاحب سے ہیرے واپس لینے۔‘‘
’’ابے کھوتے واش روم اٹیجڈ ہے ۔‘‘میں نے چلا کر کہا۔ٹونی نے بیڈ پر دوسری قلابازی لگائی۔
’’فضلو جگر اب تولگتا ہے واش روم پولیس اسٹیشن کا ہی نصیب ہوگا۔‘‘
/…/…/…/
یہ دوسرے روز کا قصہ ہے وال کلاک نے جیسے ہی نو بجنے کی اطلا ع دی ہم ہوٹل سے نکل پڑے وادی خواب نگر کی سڑکوں پر ابھی قدرے چہل قدمی تھی دو رتک سڑک پر پیلے رنگ کی لائٹس نے عجب سا نظارہ قائم رکھا تھا لوگ بگھیوں پر آجارہے تھے فضا میں ہلکی سی خنکی تھی ۔ ٹونی نے رومال سے ناک صاف کی۔
’’فضلو یار اک آئیڈیا باہر آنے کو بے چین ہورہاہے اگر تیری اجازت ہوتو؟‘‘
’’ہاں بول۔‘‘میں نے کہا۔
’’وہ بات دراصل یہ ہے کہ …‘‘اس نے ایک بار پھر ناک کو رگڑا۔
’’میں چاہتا ہوں کہ ہم دادا حضور کی فراہم کردہ گاڑی فروخت کرکے یہاں ایک ہلکا پھلکا ساگھر لے لیں یہ اس سڑک کے پار درختوں میں گھرا ہوا ہو اورپھر تو اپنے ہاتھوں سے میری شادی کردے زندگی اپنی آرام سے گزر جائے گی۔‘‘
’’ ٹھیک ہے محترم۔‘‘میں نے کہا۔
’’مگر پھر ذرا سائیڈ پر اپنی قبریں بھی کھدوانا ضروری ہے دادا حضورچھوڑنے والے نہیں۔‘‘ٹونی نے شرمندہ ہوتے ہوئے سر میں کھجلی کی۔
’’یار اس شرلاک ہومز والی مہم سے جان چھڑانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے؟ ‘‘
’’یہ تیری بھول ہے کہ اس معرکے سے ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ شہید ہونے یا غازی بننے کے علاوہ ہمارے پاس تیسرا کوئی آپشن موجود ہی نہیں۔‘‘میں نے ایک بگھی کو رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
بگھی ہمارے پاس آکے رک گئی‘ ٹونی اسے حیرت سے دیکھے جارہا تھا۔
’’فضلو بابا اس پر بیٹھنا کیسے ہے یہ تو ٹیڑھی ہے کوئی صحیح والی بگھی ڈھونڈ۔‘‘
’’یہ ساری ایسے ہی ہوتی ہیں چل بیٹھ۔‘‘میں نے اسے آگے دھکیلا۔
’’صاحب جی کہاں جانا ہے کوچوان نے گھوڑے کو چابک رسید کرتے ہوئے پوچھا۔
’’روشن بازار اتار دینا۔‘‘آخری نکڑ پر میں نے کہا۔یہ تھوڑا فاصلہ ثابت ہوا ہم پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں وہاں پہنچ گئے۔ٹونی نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا۔
’’ابھی سوانو ہوئے ہیں دو گھنٹے کہاں گزاریں گے۔‘‘
’’اس کا بھی انتظام ہے۔‘‘میں نے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔
’’وہ ڈھابا دیکھ رہے ہو وہاں ہم وقت گزاریں گے اور اس کے ساتھ تیرے پیٹ کا دوزخ بھی بھر جائے گا۔‘‘
’’خدا تجھے خوش رکھے۔ ‘‘اس نے پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
’’تیرے سوا اور میرا کون ہے اس دنیا میں؟‘‘
’’بس اب زیادہ مسکے نہ لگائو‘۔‘‘میں نے اسے ڈانٹا۔
ہم نے ایک کونے والی ٹیبل منتخب کی۔ وہاں روشنی کم تھی اور آس پاس لوگ بھی زیادہ نہیں تھے ۔’’یہاں سے نواب کی حویلی کتنی دور ہے؟‘‘ٹونی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’تقریباً تین منٹ کا پیدل سفرہے ۔‘‘میں نے جواب دیا۔
’’پھر تو پریشانی والی بات نہیں ہے‘ یہاں سے دس منٹ پہلے نکل جائیں گے ۔‘‘وہ کرسی پر پھیل گیا۔ اگلا ڈیڑھ گھنٹہ ہم نے خواب نگر کا قہوہ پیتے ہوئے گزارا۔ اس دوران ہوٹل نما ڈھابے میں لوگوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ اکا دکا افراد بیٹھے باتوں میں مشغول تھے۔
’’میرا خیال ہے اب ہمیں حرکت میں آجانا چاہئے۔ ‘‘میں نے ٹونی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔وہ کچھ دلبرداشتہ ہورہا تھا۔
’’فضلو میرے بھائی‘ تیرا کوئی بڑھئی وغیرہ دوست ہے؟‘‘میں حیران ہوا۔
’’بڑھئی دوست کیا مطلب؟‘‘
’’مطلب سیدھا سادا ہے۔‘‘وہ رازدارانہ انداز میں بولا۔ ’’اس بڑھئی دوست سے لکڑی کے تین خوبصورت سے ہیرے تیار کرواتے ہیں اور ایک مخملی ڈبیا میں بند کرکے دادا جی کے پاس لے جاتے ہیں اگر ڈبیا پر سونے کے ورق سے کڑھائی وغیرہ ہوجائے تو زیادہ متاثرکن کام بن جائے گا۔‘‘
’’یار ٹونی پلیز فضول باتیں مت …‘‘اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’میری سن تو لے۔داداجی کو بول دیں گے کہ نواب صاحب نے اصل ہیرے کسی بینک میں رکھے ہوں اور حویلی میں یہ نقلی رکھے ہیں۔ دادا جی رو دھو کے چپ ہوجائیں گے اللہ اللہ خیر سلا۔‘‘میں نے دانت پیسے۔
’’دیکھ ٹونی اگر صدمے سے تمہارا دماغ چل گیا ہے تو براہ کرم واپس ہوٹل میں چلے جاؤ۔ مگر اس طرح کے بھونڈے منصوبے بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
ٹونی نے بے چارگی سے مجھے دیکھا۔
’’فضلو کیا تجھے لگتا ہے ہم یہ سب کرلیں گے؟‘‘
’’ہمیں کرنا پڑے گا ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’یہ صرف دادا جی کا کام نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ماضی کے سارے پاپ دھونے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ٹونی ذرا تصور کرو اگر ہم کامیاب ہو کے واپس جاتے ہیں تو اس کا سب سے بڑافائدہ تمہیں ہوگا۔‘‘
ٹونی حیرا ن ہوا ’’مگر کیسے؟‘‘
میں مسکرایا ۔
’’تمہارا بہت اہم فائدہ یہ ہے کہ تمہیں دعا کی باتوں سے نجات مل جائے گی۔ اس کا منہ تو سمجھو تو ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔ تم ایک ہیرو کی مانند یوں گھر میں گھوما کرو گے دعا چائے کا کپ اور کھانے کی چنگیر اٹھا کر تمہارے پیچھے رہا کرے گی کیونکہ یہ دادا جی کا حکم ہوگا کہ ہمارے ہیرو کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ ٹونی کا منہ کھل گیا۔
’’فضلو میری جان ‘ یہ خواب حقیقت میں بدل جائے گا نا؟‘‘
میں نے اس کے سر پر چپت رسید کی۔ ’’ضرور حقیقت میں بدلے گا مگر اس کے لیے تمہیں اپنی بزدلی کو بہادری میں بدلنا ہوگا۔‘‘
’’فضلو اگر یہ بات ہے تو سمجھ لے کہ ہلاکو خان کی روح مجھ میں حلول کر گئی ہے۔ آج کے بعد بزدلی کی چڑیا میرے پاس نہیں پھٹکے گی۔ ‘‘
’’بہت اچھے اب ان نیک ارادوں پر قائم رہنا۔ ‘‘میں نے ہینڈ بیگ اٹھاتے ہوئے کہا۔
ہم نے چہل قدمی کے انداز میں سڑک پر چلنا شروع کردیا۔ یہ ایک سادہ سی سڑک تھی جو تھوڑا آگے جا کے تین حصوں میں تقسیم ہوجاتی تھی۔ ان تین سڑکوں میں سیدھی نکلنے والی سڑک پر کچھ دیر پاؤں گھسیٹنے کے بعد ہم نواب صاحب کی حویلی کے عین سامنے کھڑے تھے۔ یہ لوکیشن بالکل دادا جی کے فراہم کردہ نقشے کے مطابق تھی۔ ٹونی نے گہری نظروں سے جائزہ لیا۔
’’ یار اسے حویلی کا نام دینا زیادتی ہے۔ ہم اسے بڑا گھر کہہ سکتے ہیں ۔‘‘
’’ اس میں نواب صاحب رہتے ہیں اس لیے یہ حویلی ہی کہلائے گی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اوہو‘ نواب صاحب مغلیہ دور میں جی رہے ہیں ۔‘‘ وہ بولا۔
میں نے ہینڈ بیگ سے ایک چاقو نکال کر ٹونی کو پکڑایا۔
’’اسے سنبھال لو‘ بوقت ضرورت کام آئے گا۔ ‘‘ اس نے چاقو پکڑ لیا۔
اب ہمیں گھوم کر دائیں طرف والی دیوار تک جانا ہوگا۔ وہاں سے ہمیں اندر جانا ہے۔‘‘
ٹونی نے اثبات میں سر ہلادیا۔ حویلی کے مین گیٹ پر بنی ہوئی چوکی مکمل اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ فالسے کے پودے تاریکی میں اپنا ہلکا سا ہیولا دکھارہے تھے۔ ہم عین اس مقام پر آکے رک گئے۔ جہاں اندر کی طرف برگد کا درخت تھا۔ ٹونی نے دیوار کو دیکھا۔
’’یار اس کی بلندی زیادہ ہے۔ اندر جانے کا کیا منصوبہ ہے؟‘‘
’’منصوبہ ہے بس تم دیکھتے جاؤ۔‘‘ میں نے پرسوچ انداز میں نظریں دیوار پر جمادیں۔ پہلے جانے والا آسانی میں رہے گا ۔تم میرے کندھے پر سوار ہو کر اندر چھلانگ لگاؤ گے۔ اس کے بعد میں ایک کھونٹی لگا کر رسا اندر پھینکوں گا۔ جسے تم نے برگد کے درخت میں کسی جگہ اچھی طرح پھنسادینا ۔ میں اس کے ذریعے اندر آجاؤں گا۔ ‘‘
’’یعنی کہ قربانی کا پہلا بکرا میں بنوں گا؟‘‘ ٹونی نے پوچھا۔ اس کے لہجے میں واضح سرزنش تھی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔
’’ٹونی صاحب‘ ہلاکو خان کی روح کدھر گئی؟‘‘
وہ بڑبڑایا۔
’’آج شاید پہلی بار ہلاکو خان بے چارہ ذلیل ہوجائے گا۔ ‘‘ میں نے اس کا کندھا تھپکا ۔
’’اوئے یار میں ڈر نہیں رہا بس ذرا سا نروس ہوں ۔‘‘ میں گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
’’آجاؤ ٹونی‘ میں تمہیں ذرا سا اوپر اٹھاؤں گا‘ تم پہلے اندر کا جائزہ لو گے ‘ تمہاری طرف سے گرین سگنل ملتے ہی میں پورا اوپر آؤں گا۔‘‘
’’ ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے کہا اور میرے کندھے پر بیٹھ گیا۔ میں آہستہ سے کھڑا ہوا ۔ ٹونی کا سر دیوار تک پہنچ گیا تھا۔ اس نے اندر دیکھا اور بولا ۔
’’اندر گھپ اندھیرا ہے۔‘‘
’’میں چھلانگ لگا رہا ہوں۔ٹھیک ہے۔‘‘میں نے کہا اور اوپر آگیا۔
’’دیر مت کرو ۔ ‘‘ وہ اندر کی طرف کود گیا۔ ایک لمحے کے لیے اس کی طرف سے خاموشی رہی ۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔ ٹونی کی ہلکی سی آواز آئی ۔
’’فضلو رسا پھینک ۔‘‘ میں نے ہینڈ بیگ سے رسا نکالا اور اس کی کھونٹی والا سرا دیوار کے پار پھینک دیا۔ ٹونی نے ذرا دیر بعد آواز دی ۔
’’فضلو یہ برگد کے درخت میں کہیں بھی فٹ نہیں آرہا اس کی شاخیں بہت بڑی ہیں ۔‘‘ میں پریشان ہوا۔ میں نے کچھ دیر سوچا اور ایک نتیجے پر پہنچ گیا۔ میں نے دیوار کے ساتھ منہ لگا کر کہا۔
’’ٹونی میں یہ ہینڈ بیگ تیری طرف پھینک رہا ہوں۔ اس میں ڈیڑھ سے دو فٹ کی ایک خاصی تگڑی کیل ہے ۔ اسے دیوار کے بالکل ساتھ زمین میں گاڑدو۔‘‘
’’یہ ٹھیک رہے گا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’اس طرف پھولوں کی کیاریاں ہیں ‘ زمین بھی کچھ نرم ہے مگر کیل ٹھونسنے کے لیے کوئی چیز ہونا بھی ضروری ہے ۔ بیگ اندر اچھالتے ہوئے کہا۔
ٹونی کو اس کی طرف سے کھٹ پٹ کی آواز یں سنائی دیں اور پھر اس کی سرگوشی نما آواز ابھری ۔
’’فضلو آجا ‘ سب ریڈی ہے۔‘‘ میں نے رسے کو کھینچ کر مضبوطی کا اندازہ کیا اور چند لمحوں کی جدوجہد کے بعد دوسری طرف پہنچ گیا۔ ٹونی نے کیل اکھاڑ کر واپس بیگ میں رکھی۔
’’کیوں بھئی ہیرو‘ کیسا رہا میرا کام؟‘‘
’’ابھی تک تو بہت عمدہ رہا‘ آگے دیکھو کیا ہوتا ہے میں نے بیگ اس سے لیتے ہوئے کہا۔
’’میرا خیال ہے ہم عقبی حصے کے عین سامنے کھڑے ہیں۔‘‘ میں مسکرایا۔
’’اور ٹونی صاحب ! یہاں سے ہی میرا قائدانہ کردار شروع ہوا چاہتا ہے۔ تم میرے پیچھے چلو گے۔‘‘
’’اوکے باس ۔‘‘ اس نے کندھے اچکائے۔
’’ضرورت کے وقت تو گدھا بھی باپ ہوتا ہے۔ میں نے قہقہہ لگایا۔
’’یار تم نے بیک وقت مجھے گدھے او ر باپ کے رتبے پر فائز کرکے اپنا ہی نقصان کیا ہے۔‘‘ ٹونی نے جواباً مجھے ایک فربہ انداز کی گالی سے نوازا۔ میں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔
’’ٹونی ہمیں برگد کے درخت کے دائیں جانب پندرہ قدم چلنا ہے وہاں تین کمرے ایک قطار میں بنے ہوں گے۔ درمیانی کمرہ ہمارا مطلوبہ کمرہ ہے۔ ‘‘ میں دروازے کا قفل توڑ کر اندر جاؤں گا۔ جب کہ تم باہر رہ کر مجھے کور کرو گے۔‘‘
’’صحیح ہے ۔‘‘ ٹونی نے ہنکارا بھرا۔
میں دھیرے قدموں سے آگے بڑھا اور ٹونی مجھ سے چند قدم پیچھے تھا۔ میں نے ہینڈ بیگ سے اسمارٹ ٹارچ نکال کر ہاتھ میں پکڑلی تاکہ اچانک ضرورت پڑنے پر استعمال کی جاسکے۔
یہ حویلی کا سب سے آخری حصہ تھا۔ کافی فاصلے پر حویلی کے فرنٹ والے رہائشی حصے کی روشنیاں ستاروں کی مانند دکھائی پڑرہی تھیں۔ ہم کمرے کے سامنے جا کر رک گئے۔ تین کمرے بالترتیب ہمارے سامنے تھے۔ میں نے ٹونی کو ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہونے کا اشارہ کیا اور خود درمیانی کمرے کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ ایک سادہ سا کمرہ تھا جس میں پرانی طرز کا دروازہ لگا ہوا تھا۔ البتہ تالہ کافی بڑا اور مضبوط لگ رہا تھا۔
میں نے بیگ سے ہتھوڑی اور تانبے کا تار نکال کر تالے سے زور آزمائی میں مصروف ہوگیا۔ یہ کام میری توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ چند منٹ کی کوششوں کے بعد میرے دانتوں میں پسینہ آگیا۔ میں نے ٹونی کو پاس بلایا۔
’’یار یہ تالا نہیں کھل رہا۔‘‘
اس نے بے چینی سے دروازے پر ہاتھ مارا۔
’’دادا جی نے نقشے میں قفل سازی کا کوئی فارمولا نہیں لکھا؟‘‘ ٹونی کے انداز پر مجھے غصہ آیا مگر میں نے خود پر قابو رکھا۔یہ وقت لڑنے کا نہیں تھا۔ میں نے نرمی سے کہا۔
’’یار بات سمجھنے کی کوشش کرو‘ دادا جی نے بتایا تھا کہ پرانے قفل ایک ضرب سے ٹوٹ جائیں گے۔ مگر یہاں کا سناٹا دیکھ کر میں نے پلان تبدیل کیا ہے۔ کیونکہ تالے پر چوٹ لگانے سے کافی شور ہوگا۔‘‘
’’ اب تو چوٹ لگانی پڑے گی۔‘‘ وہ بولا۔ ’’ورنہ ہم چوہے دان میں پھنس کر رہ جائیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں‘ تم ذرا چوکنے رہو۔‘‘ میں نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ میں دروازے کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اچانک برگد کے درخت کی طرف سے دھپ کی آواز آئی۔ جیسے کوئی اندر کودا ہو۔ اس کے فوراً بعد مسلسل تین چار آوازیں مزید سنائی دیں۔ میں واپس ٹونی کی طرف پلٹا۔ وہ بھی دہشت زدہ سا کھڑا تھا۔
’’فضلو لگتا ہے کچھ لوگ اس طرف سے اندر داخل ہوئے ہیں۔‘‘
’’ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔‘‘ میں نے اسے ایک بڑے سے پودے کی آڑ میں کھینچتے ہوئے کہا۔ہم سانس روکے وہاں دبک گئے۔ چند لمحوں کے سناٹے کے بعد یوں محسوس ہوا جیسے کوئی محتاط قدموں سے کمروں کی طرف آرہا ہو۔ ٹونی نے سرگوشی کی۔
’’فضلو ‘ یہ ایک سے زیادہ لوگ لگتے ہیں۔ کہیں حویلی کے محافظ نہ ہوں۔‘‘
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میری پوری توجہ قدموں کی آواز پر تھی۔ کمروں کے پاس پہنچ کر آوازیں تھم گئیں۔ ایک رعب دار آواز گونجی۔
’’یہ وہ تین کمرے ہیں ‘ درمیانی کمرے کا تالا توڑ دو۔ ‘‘ پھر ایک زور دار آواز کے ساتھ تالا ٹوٹنے کی مخصوص آواز آئی۔
’’لو جناب حضرت فضلو صاحب ‘ تالا ٹوٹ گیا ہے۔ ‘‘ ٹونی نے طنزیہ سرگوشی کی۔ میرا ذہن کچھ سوچ رہا تھا۔ یہ حویلی کے لوگ تو ہرگز نہیں تھے کسی مکان کے مکین اپنے ہی گھر میں اس طرح داخل نہیں ہوا کرتے۔ تو پھر یہ کون لوگ تھے کیا یہ بھی ہماری طرح ہی نیک ارادوں کے ساتھ آئے تھے۔ میں نے پودے کی اوٹ سے ذرا سا سر نکال کر دیکھا۔ غالباً وہ سب کمروں کے اندر جاچکے تھے۔ ٹونی نے مجھے گردن سے پکڑ کر واپس کھینچا ۔
’’اپنا تھوبڑا اندر ہی رکھو۔‘‘
’’یار مجھے بے چینی ہورہی ہے۔ یہ سب چل کیا رہا ہے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’تجھے بے چینی نہیں کھجلی ہورہی ہے ‘ تیری یہ کھجلی پستول کی ایک گولی ہی دور کرسکتی ہے۔‘‘ ٹونی نے غراہٹ آمیز لہجے میں جواب دیا۔ میں نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’ٹونی کیا ہم ناکام ہوگئے ہیں؟‘‘
وہ چپ رہا۔
میں نے ایک بار پھر باہر جھانکا اور چونک گیا۔ دو آدمی ایک سرخ رنگ کا صندوق اٹھائے کمرے سے باہر نکل رہے تھے۔ جب کہ ان کے عقب میں ایک آدمی اور تھا جس کے کندھے پر رائفل جھول رہی تھی۔ انہوں نے صندوق زمین پر پٹخ دیا ۔ رائفل والا بولا۔
’’ اس کے تالے توڑ کر دیکھو۔ اس میں وہ ڈیڑھ فٹ کا مجسمہ ہے شاباش۔‘‘
’’جلدی کرو ‘ ہمارے پاس ٹائم بالکل نہیں ہے ۔‘‘
میری اور ٹونی کی آنکھیں چار ہوئیں ۔
’’اوہو‘ یہ سارے کارٹون کسی مجسمے کو ڈھونڈنے یہاں آئے ہیں۔ ہمارے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ ‘‘ ٹونی نے غصیلی سرگوشی کی۔
’’جناب مجسمہ مل گیا۔‘‘ کوئی خوش بھری آواز میں بولا۔
’’ویری گڈ ۔‘‘ رائفل والا ستائشی انداز میں بولا۔
’’اس صندوق میں اور کیا کچھ ہے ۔ کوئی کام کی چیز ہے تو وہ بھی نکال لو۔‘‘
’’جناب یہ سارا صندوق اسی طرح کی پرانی اشیاء سے بھرا ہوا ہے ۔‘‘ پہلے والے شخص نے جواب دیا ۔
’’ٹھیک ہے اسے لے چلو‘ یہ چیزیں بھی نیلامی میں رکھ دیں گے۔ وہاں کام آئیں گی۔‘‘ پھر اس نے موبائل فون پر کسی کو اپنی کامیابی کی اطلاع دی۔
’’سر ہم مجسمہ لے کر آرہے ہیں ۔ صبح دس بجے تک پہنچ جائیں گے ۔ آپ انتظامات پورے رکھیں۔ ‘‘ وہ دوسری طرف سے بات سننے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’مگر سر …آپ مجھے ایڈریس نوٹ کروائیں ‘ خان ہاؤس ‘ واسا کالونی ڈی بلاک لاہور۔اس کا مطلب ہے سر ‘ نیلامی پرسوں کے بجائے کل ہوگی۔ شام چھ بجے اوکے سر ‘ بائے ۔‘‘ اس نے فون بند کرکے جیب میں رکھا۔
’’ہری اپ دوستو! ‘‘ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ۔
’’اب لاہور جانا پڑے گا۔ بس نکلنے کی کرو ۔‘‘ وہ جیسے آئے تھے ویسے ہی اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ ہم جیسے خواب سے بیدار ہوئے۔ ٹونی نے اپنی آنکھیں مسلیں۔‘‘
’’فضلو جلدی کرو ‘ ہم بھی اپنا کام کریں‘ میدان صاف ہے ۔‘‘ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’ٹونی میدان کے علاوہ بھی سب کچھ صاف ہے ‘ وہ صندوق لے گئے ہیں اس میں اپنے خاندانی ہیرے تھے۔‘‘ٹونی صدمے کی کیفیت میں آگیا ۔
’’یہ بات تو کس بنیاد پر کہہ رہا ہے فضلو ؟ ‘‘
’’دادا جی کے فرمودات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’نقشے میں بھی اس بات کی نشاندہی تھی درمیان والے کمرے میں سرخ رنگ کا ایک ہی صندوق ہوگا جس میں ہیروں کے علاوہ بھی کئی قیمتی نوادرات ہوں گے اور دادا جی نے ہدایت کی تھی کہ اپنے ہیروں کے علاوہ کسی چیز کو ہاتھ نہ لگانا۔‘‘ میں ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا۔
ٹونی اندھیرے میں گھورتے ہوئے بڑبڑایا ۔
’’قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند۔‘‘
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا‘ اس کی غائب دماغی والی بڑبڑاہٹ جاری رہی۔
’’دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گئے۔‘‘ میں نے زور سے اسے ہلایا۔
’’ابے کیا ہوگیا ہے تجھے؟‘‘
’’ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔‘‘ اس نے ایک اور بڑبڑاہٹ چھوڑی۔
’’یار ٹونی ہوش کر۔‘‘ میں نے اسے جھنجوڑا ۔
’’بہت نکلے میرے ارماں مگر پھر بھی کم نکلے۔‘‘ وہ مصرعہ پورا کرکے ہی رہا۔
’’پریشان مت ہو یار ‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ میں نے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔
’’یہاں رکنا بے وقوفی ہے ہمیں جلد از جلد نکلنا ہوگا ۔‘‘
اس نے نیم باز آنکھوں سے مجھے دیکھا۔
’’پتھروں پر چل کے آسکو تو آجاؤ ۔ میرے گھر کے سامنے کوئی ۔‘‘ میں نے اس کے منہ پر ہاتھ جمادیا۔
’’ٹونی خدا کے لیے مجھے ٹینشن مت دو۔ ہمیں ہوٹل پہنچنا ہے ۔‘‘
’’فضلو میں پاگل ہورہا ہوں ۔‘‘ وہ بولا۔
’’مجھے لگ رہا ہے کہ میری کھوپڑی کے انفراسٹرکچر میں کچھ ردو بدل ہورہا ہے جیسے کہ…‘‘
’’اس کیفیت کو آسان لفظوں میں ذہنی توازن کی خرابی کہتے ہیں۔ ‘‘ میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا اور دادا جی کے پاس اس کا ایک سے بڑھ کر ایک انجکشن موجود ہے۔‘‘
’’خدا تجھے غارت کرے۔‘‘ وہ بولا ۔
’’اس انجکشن سے تو موت کا انجکشن بہتر ہے۔‘‘
ء…ء…ء…ء
اگلے دن کی صبح خاصی نکھری تھی۔ رات کے آخری پہر بارش ذرا جم کر ہوئی تھی۔ اس لیے وادی خواب نگر کے درودیوار اور درخت صاف شفاف دکھائی پڑ رہے تھے۔ ہم نے ڈائننگ ہال میں جانے کے بجائے ناشتہ اپنے روم میں منگوالیا تھا۔ ٹونی نے نیپکن سے ہاتھ پونچھے۔
’’فضلو واپسی کا پروگرام کب ہے کیونکہ اب دیر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ‘‘ میں نے غور طلب نظروں سے اسے دیکھا۔
’’ٹونی اگر میںکہوں کہ وہ ہیرے ابھی بھی ہمیں مل سکتے ہیں تو پھر تیرا کیا خیا ل ہوگا؟‘‘
’’تیرا دماغ چل گیا ہے ۔‘‘ وہ بولا۔
’’یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے۔‘‘
’’ٹونی تم ضرورت سے زیادہ مایوس ہورہے ہو۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ہم نے صرف ایک موقع گنوایا ہے ہیرے نہیں گنوائے۔ اور وہ کھویا ہوا موقع ہمیں دوبارہ مل سکتا ہے لیکن ذرا محنت کرنا ہوگی۔ ‘‘
اس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔
’’فضلو میں اب مزید کسی ایڈونچر کے موڈ میں نہیں اور دادا جی کے سامنے جا کر اعتراف کرنے والا ہوں کہ ہم ناکام ہوگئے ہیں ۔ جو سزادی جائے وہ منظور ہے ۔‘‘
’’ہم نہیں صرف تم ناکام ہوئے ہو۔‘‘ میں نے دہاڑ کر کہا۔
’’کیونکہ ٹونی تم ایک کم ہمت اور بزدل انسان ہو۔ میری طرف سے تمہیں اجازت ہے کہ واپس دفع ہوجاؤ ‘ میں ناکام جانے والا نہیں ہوں۔‘‘
ٹونی کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’فضلو یہ تم ہو؟ میرے بھائی تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟‘‘
’’مجھے بھائی مت کہو۔‘‘ میں ایک بار پھر چلایا۔
’’اپنا سامان اٹھاؤ او ر چلے جاؤ۔‘‘
وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا اور پھر بولا۔
’’یعنی کے ایموشنل بلیک میلنگ ہورہی ہے۔ ٹھیک ہے جلدی بتا کرنا کیا ہے؟‘‘
میں نے اسے سینے سے لگالیا۔
’’شکر ہے یار میری ایکٹنگ ضائع نہیں ہوئی۔‘‘ وہ مجھ سے علیحدہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’ڈرامے بازی بند کرو اور بتاؤ پلان کیا ہے؟‘‘
’’پلان بتانے کا وقت نہیں ہے ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’دو لفظی بات یہ ہے کہ ہمیںلاہور جانا ہے…‘‘
اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’کار پر؟‘‘
’’نہیں پیرا شوٹ سے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’ٹونی سوال و جواب بالکل نہیں ‘ سامان باندھو اور نکلنے کی تیاری پکڑو۔‘‘ ٹونی اپنے بیگ کی طرف بڑھا ۔
’’حد ہوگئی ہے یار ‘ زندگی میں آرام نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہم سے اچھا تو کولمبس تھا جس نے بیڈ روم میں بیٹھ کر امریکا دریافت کرلیا۔ ‘‘
’’تجھے یہ مفاد عامہ کی معلومات کہاں سے ملی؟‘‘میں نے پوچھا۔ اس نے قہقہہ لگایا ۔
’’مجھے دادا جی نے بتایا تھا جب ایک دن وہ خود کو کولمبس کا کلاس فیلو ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔‘‘ ہم نے اپنا سامان اٹھایا۔ ہوٹل کے ریسپشن پر بل پے کیا اور لاہور کی راہ لی۔ البتہ ٹونی جاتے ہوئے بھی استقبالیہ کلرک پر لائن مارنا نہیں بھولا تھا مگر شومئی قسمت کہ شاید اس لائن میں مستقل بنیاد پر کوئی تیکنیکی خرابی چل رہی تھی۔
ء…ء…ء…ء
دوپہر ڈھلنے لگی تھی جب ہم لاہور کی حدود میں داخل ہوئے‘ ٹونی نے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نیلامی کا وقت کب ہے۔‘‘
’’چھ بجے۔‘‘ میں نے جواب دیا ۔
’’اور شاید رات گئے تک جاری رہے۔‘‘
’’ میرا خیال ہے کسی ریسٹورنٹ میں کچھ کھا پی لیا جائے۔‘‘ وہ بولا۔
’’نہیں تم کسی بوتیک کے سامنے گاڑی روکو۔‘‘ میں نے کہا۔
اس نے بیک مرر سے مجھے دیکھا۔
’’بوتیک پر کیوں…؟‘‘
’’جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو۔‘‘ میں نے سنجیدگی سے کہا۔
اس نے ایک بڑے سے شاپنگ مال کے سامنے بریک لگائے۔
’’میرا خیال ہے اس میں تمہارا بوتیک ہوگا۔ میرے لیے بھی وہاں سے ایک برگر لیتے آنا۔ ‘‘
’’تم میرے ساتھ تشریف لاؤ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’پھر بتاتا ہوں کہ بوتیک سے کیا ملتا ہے ۔‘‘
شاپنگ پلازہ کافی بڑا اور شاندار تھا ۔ میں نے گارمنٹس کی ایک شاپ منتخب کی‘ سیلز مین کاروباری خوش اخلاقی سے مسکراتا ہوا لپکا۔
’’جی سر کیا دکھائیں آپ کو۔‘‘
’’ہمیں ایسا ڈریس چاہیے کہ جسے پہن کر ہم نوادرات کے تاجر دکھائی دیں۔‘‘ میں نے کہا۔
اس کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
’’سر میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘
میں نے ٹونی کی طرف دیکھا۔
’’یار لگتا ہے ہم غلط جگہ پر آگئے ہیں۔‘‘
سیلز مین گڑبڑا گیا۔
’’آپ پلیز ایک منٹ کے لیے رکیے۔ ‘‘ وہ جلدی سے شاپ کے عقبی حصے میں چلا گیا اور کچھ دیر بعد ادھیڑ عمر آدمی کے ساتھ واپس آیا۔
’’یہ آپ کی مدد کر سکتے ہیں ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ٹونی نے فوراً جوابی مسکراہٹ ارسال کی ۔
’’زیادہ باچھیں پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔‘‘ میں نے کہا اور سیلز مین کی طرف متوجہ ہوگیا۔ادھیڑ عمر آدمی واقعی اپنے کام کا ماسٹر تھا۔
اسے مطمئن کرنے کے لیے میں نے یہ توجیہہ پیش کی کہ’’ ہم یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ ہیں سالانہ فیسٹیول کے موقع پر ہمیں ایک ڈرامے کے لیے اس گیٹ اپ کی ضرورت ہے۔‘‘
اگلے آدھے گھنٹے کے بعد ٹرائی روم کے قد آدم آئینے میں ہم نے اپنا جائزہ لیا تو دل خوش ہوگیا۔ ہماری شخصیت کا کھلنڈر اپن کہیں غائب ہوگیا تھا اس کی جگہ خوش گوار سی سنجیدگی نے لے لی تھی۔
’’ اس ماسٹر نے تو ہمیں بند ہ بنادیا ہے۔‘‘ ٹونی نے کوٹ کا بٹن درست کرتے ہوئے کہا۔
’’میں پہلے ہی بندہ تھا تیرے بارے میں کچھ کنفرم نہیں ہے ۔‘‘ میں نے کہا اور کاؤنٹر پر ادائیگی کے لیے بڑھ گیا۔
ء…ء…ء…ء
پنجاب کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے لیے لاہور کی شامیں بڑی سہانی اور حسین ہوتی ہیں۔ چوڑی اور چکنی سڑکوں پر گاڑی بھگانے کا اپنا ہی ایک مزہ ہے۔ گاڑیوں کا جم غفیر ‘ اندر بیٹھے حسین چہرے ‘ ایسے ہی نظاروں سے آنکھیں سینکتے ہوئے ہم واسا کالونی میں انٹر ہوئے۔جابجا ہونے والی نمائش کے متعلق اطلاعی بینرز اور شرکاء کو ویلکم کہنے کے لیے بورڈز آویزاں تھے ۔ ہم نے کالونی کے مین گیٹ پر مستعد کھڑے سیکورٹی گارڈ سے نمائش کا پتہ پوچھنا ضروری سمجھا۔ اس نے پیچھے سے آنے والی چند گاڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ اسی نمائش میں جارہے ہیں۔
ہم نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گاڑی آگے بڑھادی ۔ کچھ آگے جا کر ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ سوسائٹی اپر کلاس کے لیے مخصوص ہے۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ ہم پاکستان سے باہر پیرس کے کسی ٹاؤن میں گھومنے پھرنے آئے ہیں۔ اتنے میں ہمارے آگے والی گاڑیاں ایک بڑی سی کوٹھی کے سامنے پہنچ کے رک گئی جس کا گیٹ کھلا ہوا تھا اور کافی گہماگہمی تھی۔ وہ گاڑیاں ریورس ہو کر پارکنگ میں چلی گئیں ۔ٹونی نے بھی گاڑی ان کے پیچھے گھسادی۔
’’لو بھئی پہنچ گئے اب اپنے اندر غیرمتزلزل قسم کا اعتماد پیدا کرلو۔ میں نے دروازہ کھولتے ہوئے ٹونی سے کہا۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہا۔
’’ غیر متزلزل میرے خیال میں زلزلے کی آخری قسم ہے ۔ ‘‘
’’پتہ نہیں‘ چلو اندر چلیں۔‘‘ میں نے کہا۔
ہم گارڈ ز کے سیلوٹ کا سر ہلا کر جواب دیتے ہوئے تھوڑا آگے بڑھے تو ایک نفیس سا آدمی ہاتھ میں رجسٹر پکڑے اچانک نازل ہوگیا۔
Good evening sir “
your good name please?”
ایک لمحے کے لیے ہم بوکھلا گئے۔ نظریں چار ہوئیں۔ اسی وقت ٹونی کے موبائل کی بیل بج اٹھی۔ اس نے جھپٹ کر فون ریسیو کیا اور ہیلو کہتا ہوا ایک طرف کھسک گیا۔ اب مجھے ہی سنبھالنا تھا۔ میں نے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات سجالیے۔
’’سور ی وہ دراصل ان کو ضروری فون آگیا ہے۔‘‘
’’اٹس اوکے سر ‘ آپ تو ہیں نا۔‘‘ اس نے اپنائیت سے کہا۔
مجھے اتنا ہی موقع چائیے تھا ۔ دو دھانسو سے نام چھپاک سے میرے ذہن میں آگئے میں طفیل شیراز نیازی ہوں ‘ میں نے ذرا جھکتے ہوئے کہا اور وہ میرے دوست۔‘‘ میں نے ٹونی کی طرف اشارہ کیا ۔
’’انہیں ملک عصمت رانا کہتے ہیں۔‘‘ رجسٹر والے صاحب نے حیرانی سے نظریں اوپر اٹھائیں۔
’’ملک عصمت رانا؟ ‘‘
میں گڑبڑا گیا ۔ ٹونی تیزی سے قریب آیا ۔
’’کوئی مسئلہ ہے ؟ ‘‘ میں نے کہا۔
’’نہیں جناب ! ‘‘ فلک عصمت رانا‘ آپ خود سوچئے جب ملک صاحب آگئے تو پھر رانا صاحب کی گنجائش کہاں رہے گی۔ یہ میرے محترم دوست ہیں اکثرفلک کو ملک میں بدل جاتے ہیں۔ ‘‘ وہ رجسٹر بند کرتے ہوئے زور سے ہنسا۔
’’بہت خوب ‘ نائس ٹو میٹ یو سر…پلیز آگے ٹرن میں تشریف لے جائیں نمائش شروع ہوئی جاتی ہے۔‘‘ وہ کسی نئے آنے والے مہمان کی طرف بڑھ گیا۔
ٹونی نے میری گدی پر ہاتھ جمایا ۔
’’ابے بونگے‘ ملک اور رانا میں سے کسی ایک کے ساتھ تیرا گزارا نہیں ہوتا؟‘‘
’’غلطی ہوگئی یار ۔‘‘ میں کھسیا گیا۔
ہم لان میں پہنچ چکے تھے۔ چونکہ اندھیرا پھیل چکا تھا اس لیے خوب صورت لائئٹس کی روشنی میں لان کسی دلہن کی طرح لگ رہا تھا۔ یہ خاصا وسیع و عریضَ لان تھا جسے اس طرح سجایا گیا تھا کہ پہلی نظر میں ہی معلوم پڑتا تھا کہ یہ سارا انتظام کسی خاص موقع کے لیے کیا گیا ہے۔ دس سے بارہ قطاروں میں کرسیاں تھیں اور ایک طرف کافی لمبی ٹیبل رکھی گئی تھی۔ آدھے سے زیادہ کرسیاں پر تھیں۔ ہم نے بھی ایک ایک کرسی سنبھال لی۔ وہاں موجود سبھی بڑے لوگ تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
’’یار ہمیں بھی کسی سے سلام دعا کرنی چائیے۔ ‘‘ ٹونی نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سلام دعا بھی ہوجائے گی پہلے اپنے نام ذرا دوبارہ یاد کرلیں۔ ‘‘ میں نے کہا۔
’’مجھے فلک عصمت رانا کہتے ہیں۔‘‘ وہ بولا۔
’’اور تیرا مجھے پتہ نہیں۔‘‘
’’میں طفیل شیراز نیازی ہوں۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ ٹونی نے جواب دیا۔
’’اب میں ذرا اگلی لائن میں براجمان اس طبلہ نما شخص سے تعارف کرلوں! مجھے یہی سب سے زیادہ مسکین لگ رہا ہے۔‘‘
’’وہ کوئی معزز شخصیت بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ میں نے اظہار خیا ل کیا۔
’’تیرے نزدیک کیا طبلہ بجانے والے معزز نہیں ہوتے؟ وہ مجھے گھور کر بولا۔
’’لگتا ہے تم نے کبھی قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی براہ راست نہیں دیکھی۔ میں چپ ہوگیا ۔ اس نے آگے بڑھ کر آواز لگائی۔
’’ہائے سر! “how are you?
اس شخص نے اپنے دائیں بائیں دیکھا۔
’’ادھر سر ‘ اس طرف ۔‘‘ ٹونی بولا۔ وہ ہماری طرف گھوما۔
’’یس…؟‘‘
’’سر کیسے ہیں آپ؟ ‘‘ اب کی بار میں نے پہل کی۔
’’وہ ذرا حیران ہوا۔
’’سوری‘ آپ کو پہچانا نہیں؟‘‘
’’سر ہم بھی آپ کی طرح نمائش دیکھنے آئے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ وہ مسکرایا۔
’’اچھی بات ہے مگر یہ پتہ نہیں کب شروع کریں گے ‘ اب تو بوریت ہورہی ہے۔‘‘
’’ہم بھی بور ہورہے ہیں سر۔‘‘ ٹونی نے فوراً ہی لمبی سی جماہی برآمد کرلی۔
’’ویسے آپ کیا خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟‘‘
’’یہ تو دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔‘‘ وہ بولا۔
اسی اثناء میں کچھ ملازم نمودار ہوئے انہوں نے مشروب کے گلاس حاضرین میں تقسیم کرنا شروع کردیئے۔ یہ ایک طرح سے ریفریش منٹ تھی جو طویل انتظار کے بدلے میں دی گئی تھی۔
’’سر آپ کا نام کیا ہے؟‘‘ ٹونی نے مشروب کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’سیٹھ صلاح الدین۔‘‘ اس نے مختصر سا جواب دے کر ایک ہی سانس میں اپنا گلاس خالی کردیا اور ہماری طرف دیکھ کر ذرا جھینپ گیا ۔
’’اور دراصل مجھے کافی پیاس لگ رہی تھی۔‘‘
’’کوئی بات نہیں سر ‘ سب چلتا ہے۔‘‘ ٹونی نے بھی اپنا گلاس غٹاغٹ خالی کرنا فرض سمجھا۔
’’بائی دا وے ‘ یہ نمائش کب سے ہوتی آرہی ہے اور اسے آرگنائز کون کرتا ہے ۔‘‘ میں نے پوچھا۔
سیٹھ نے میری طرف دیکھا۔
’’آپ کو نہیں معلوم؟ ‘‘
’’ہم پہلی بار آئے ہیں اور وہ بھی بائے چانس…‘‘ میں نے متانت سے کہا۔
’’یہ سال میں دو بار منعقد کی جاتی ہے اور ہر دفعہ مقام مختلف ہوتا ہے۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’سنگاپور سے آئے دو پاکستانی نژاد بھائی اسے آرگنائز کرتے ہیں۔ اس بار یہ چغتائی صاحب کی کوٹھی پر ہے۔ پچھلی دفعہ کا میزبان بندہ ناچیز تھا۔ ‘‘
’’ویری نائس ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ویسے یہ نمائش ہے یا نیلامی؟‘‘
’’یہ نیلامی نما نمائش ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’ہنس گیا تو پھنس گیا۔‘‘ ٹونی نے سرگوشی کی۔
’’یہ سیٹھ اپنے کام آئے گا۔ ‘‘ ہم باتوں میں مصروف تھے کہ مائیک پر اعلان کیا گیا کہ نمائش کا باقاعدہ آغاز کیا جارہا ہے۔ ‘‘ لمبی میز پر شیشے کے باکس سجادیئے گئے تھے اس کے علاوہ شیشے کی بنی ہوئی خوب صورت الماریاں بھی رکھ دی گئی تھیں۔ ہم سیٹھ صلاح الدین کے ہمراہ اس طرف بڑھ گئے ۔
’’ ان باکسز میں نہایت ہی قیمتی زیورات ہیں۔‘‘ سیٹھ نے پرجوش انداز میں اشارے سے بتایا۔
’’اس کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے ۔ ہر باکس کے اوپر اندر موجود اشیاء کے متعلق پوری معلومات درج ہیں۔‘‘
’’واؤ بہت خوب۔‘‘ ٹونی نے منہ سے سیٹی بجائی۔
ہم مختلف چیزوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھے ۔ سیٹھ صلاح الدین الماریوں والی طرف نکل گیا تھا۔ اچانک حیرت سے ہماری آنکھیں پھٹ گئیں۔ شیشے کے ایک بڑے باکس میں سرخ رنگ کا صندوق بڑی نفاست سے رکھا ہوا تھا ۔ ہم بے تابی سے ادھر لپکے۔ اس پر ایک کاغذ چسپا ں تھا ۔
’’825 قبل مسیح ‘ فرعون مصر بنام جپقلاشیان۔‘‘
ٹونی نے قہقہہ لگایا ۔
’’دیکھ یار ‘ خواب نگر والے بے چارے نواب کا صندوق فرعون کے نام ہوگیا ہے اور فرعون کا نام بھی دیکھ کیسا اعلیٰ رکھا ہے۔‘‘
’’مگر اس میں جو نوادرات تھے وہ کدھر گئے؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ صرف خالی صندوق کیش کروانے کے لیے رکھا گیا ہے۔ باقی چیزیں الگ رکھی ہوں گی۔ ان لٹیروں کا شارپ ذہن قابل دید ہے۔ ہم ذرا آگے بڑھے۔ کچھ باکسز میں مورتیاں وغیرہ تھیں جو یقینا اس صندوق سے ہی نکالی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی دیگر بہت ساری اشیاء تھیں جو پہلی نظر میں ہی قیمتی آثار قدیمہ معلوم پڑتی تھیں۔ ہمیں ہیرے کہیں نظر نہیں آئے۔
’’ٹونی ہیرے یہاں نہیں ہیں۔‘‘ مجھے اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔
’’ٹونی نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔
’’ہاں مگر ہم نے شیشے کی الماریوں کو نہیں دیکھا۔‘‘ ہم تیزی سے الماریوں کی طرف گئے ۔ یہاں بھی کافی لوگ اندر رکھی اشیاء کا معائنہ کر نے میںمصروف تھے اور ساتھ میں مختلف قسم کے تبصرے کر رہے تھے۔ یہاں مغلیہ دور سے منسوب تلواریں اور آہنی زر ہیں تھیں۔ پیتل کا ایک لوٹا بھی تھا جسے اکبر بادشاہ سے منسوب کیا گیا تھا اور پھر ہمیں ایک الماری کے نچلے خانے میں ریشم کے کپڑے میں سجائے گئے ہیرے نظر آگئے۔ ہم نے باہر لگا ہوا لیبل پڑھا۔
’’سبحان اﷲ ۔‘‘ ٹونی بے اختیار بول اٹھا۔
’’دادا حضور کے ہیرے غوری خاندان کی کسی گمنام ملکہ کے سر منڈھ دیئے گئے ہیں۔ ‘‘ اس نے چارو ں طرف نظریں دوڑائی۔ خوش قسمتی سے یہ الماری نسبتاً دوسری الماریوں کے آخر میں تھی۔ ٹونی نے جیب سے بال پین نکالا اور غیر محسوس انداز میں الماری پر لگے ہوئے لیبل کے ساتھ جڑ کر کھڑا ہوگیا۔
’’تم کیا کرنے جارہے ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’فضلو یہ سارے لیبل ہاتھ سے لکھ کر چسپاں کئے گئے ہیں۔ میں کچھ ایسا کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اپنا کام کرنے کے لیے ٹائم مل جائے۔ کیونکہ نیلامی شروع ہوچکی ہے ۔ ایسا نہ ہو ہیرے ہاتھ سے نکل جائیں‘ کوئی سرپھر ا امیر زادہ خرید سکتا ہے۔‘‘
میں نے کن انکھیوں سے اردگرد کا جائزہ لیا۔ لوگوں کی زیادہ دلچسپی مورتیوں والے باکسز کی طرف تھی اور وہاں ہجوم لگا ہوا تھا۔
’’فضلو تو مجھے ذرا کور دے‘ میرے سامنے اس طرح کھڑا ہوکہ مجھے تیری اوٹ ہوجائے۔ ‘‘ ٹونی نے آہستگی سے کہا۔
میں نے اس کی بات پر عمل کیا اور اگلے ہی لمحے اس کی پھرتی پر حیران رہ گیا۔ وہ اب الماری سے دور بھی ہٹ چکا تھا ۔ دو آدمی ہماری طرف آرہے تھے۔
’’کام ہوگیا ہے۔‘‘ اس نے سرگوشی کی۔
’’چلو سامنے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔ ‘‘ ہم ایک طرف بیٹھ گئے۔
’’اب تیرا کام شروع ہوگا۔ ‘‘ ٹونی نے کہا۔
’’تم نے بجلی کا کنکشن کاٹنا ہے جیسے ہی اندھیرا ہوگا میں کارروائی ڈال دوں گا ۔‘‘
’’یہ ہوجائے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’مگر تم نے بال پین سے الماری پر کیا حرکت کی ہے؟‘‘ میں نے کہا۔
وہ مسکرایا۔
’’یہ حرکت بہت ضروری تھی…میں نے لیبل کے دونوں طرف بریکٹ ڈال کر ایک عبارت لکھ دی ہے۔ (مصنوعی ہیرے ہیں‘ ان کی اصل نئی دہلی کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔ منجانب انتظامیہ)۔‘‘
مجھے ٹونی پر رشک آیا ۔
’’بہت ہی ا علیٰ اس طرح ہیروں کے نیلام ہونے کا خدشہ کم ہے۔ تب تک ہم اڑالیں گے۔ اﷲ تیری زبان مبارک کرے۔ ‘‘ اس نے کہا۔
اب ہمیں سیٹھ صلاح الدین کو ڈھونڈنا ہے‘ میں اس سے باتیں کروں گا وہ تیرے کام کی ہوں گی‘ ان باتوں کو نوٹ کرکے کسی بہانے سے الگ ہوجانا۔‘‘
’’ٹھیک ہے بھائی۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
سیٹھ صلاح الدین ہمیں راجہ رنجیت سنگھ کی نام نہاد تلوار والے باکس کے پاس ملا۔ وہ اسے خرید نے کا پروگرام بنا رہا تھا۔ ٹونی نے بے تکلفی سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
’’کہیے سیٹھ صاحب‘ کس کی گردن اڑانے کے ارادے ہیں جو تلوار پر لٹو ہوئے جارہے ہیں۔‘‘
سیٹھ نے دانت نکالے۔
’’ارے نہیں‘ میں تو شغلاً سودا مار رہا تھا۔ لینی کہاں ہے بھلا۔ ‘‘
’’سیٹھ صاحب نمائش بڑی عمدہ ہے۔ انتظامیہ بھی خوب ہے ۔‘‘ ٹونی نے کہا۔
’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘ سیٹھ نے سگار نکال کر سلگالیا۔
’’لائٹنگ بھی کمال کی ہے۔ ‘‘ ٹونی باکس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
’’مگر سیٹھ صاحب اگر خدا نہ کرے یہاں شارٹ سرکٹ وغیرہ جیسا معاملہ ہوجائے تو سمجھو سب جل کر خاک۔‘‘
سیٹھ نے اس کی طرف یوں دیکھا جیسے اس کی عقل پر ماتم کر رہا ہو۔
’’نہیں یار! ایسا نہیں ہوسکتا ۔‘‘ وہ بے زاری سے بولا۔
’’جہاں سے ہم انٹر ہوئے ہیں وہاں ٹرانس فارمر سسٹم ہے۔ ‘‘
’’اوہ اچھا ‘ زبردست۔‘‘ ٹونی نے ہونٹ سکیڑے۔
’’سیٹھ صاحب آئیے کوئی مورتی دیکھتے ہیں۔‘‘ میرے لیے اشارہ کافی تھا۔
میں غیر محسوس انداز میں پیچھے ہٹا اور ان سے الگ ہوگیا۔ جہاں الماریاں ختم ہوتی تھیں وہاں ٹینٹ لگا کر عقبی حصہ کو علیحدہ کیا گیا تھا اور یہاں سے ایک چھوٹی سی راہداری مین گیٹ کی طرف جاتی تھی۔ اسی راستے سے گزر کر ہم نمائش والی جگہ پہنچے تھے۔ میں چہل قدمی کے انداز میں چلتا ہوا لان سے باہر نکل گیا۔ یہاں پریشانی یہ تھی کہ مین گیٹ پر اچھی خاصی سیکورٹی موجود تھی اور بجلی کا کنٹرول سسٹم بھی گیٹ کے ساتھ ایک چھوٹے سے کیبن میں تھا۔ اگر وہاں گارڈز موجود ہوتے تو سارا منصوبہ کھٹائی میں پڑسکتا تھا۔ مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ سیکورٹی گارڈز کی چوکی گیٹ کے باہر والی سائیڈ پر تھی اور گیٹ بند تھا اندر کی طرف کوئی نہیں تھا البتہ چند مالی نما آدمی وہاں گھومتے پھر رہے تھے۔ وہ کبھی گیٹ کی طرف آجاتے اور کبھی لان کو نکل جاتے۔ وہ غالباً کچھ نئے پودے لگانے کے متعلق اندازہ لگا رہے تھے۔ میں موبائل پر مصروف ہونے کا تاثر دیتا ہوا دیوار کے ساتھ چلنے لگا۔ وہاں نیم اندھیرا تھا۔ جیسے ہی وہ لوگ لان کی طرف گئے میں جلدی سے کیبن کے اندر داخل ہوگیا۔ اندر زیرو واٹ کا بلب روشن تھا جس کی مدھم روشنی میں مجھے کافی مشینری پڑی دکھائی دی۔
ایک بڑا سا جنریٹر تھا۔ اس کے علاوہ دیگر آلات تھے۔ دیوار کے ساتھ قد آدم بورڈ نصب تھا۔ میں نے اسے کھولا تو وہاں بے شمار سوئچ دکھائی دیئے ۔ یہیں سے پوری کوٹھی میں بجلی سپلائی کی جاتی تھی۔ درمیان میں سرخ رنگ کا ایک بڑا سا سوئچ تھا جس پر جلی حروف میں ایمرجنسی درج تھا۔ میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر اسے آف کردیا۔ کیبن میں ایک دم گھپ اندھیراچھا گیا۔ میں جلدی سے باہر نکلا ۔ پوری کوٹھی اندھیرے میں ڈوب چکی تھی ۔ میں تقریباً دوڑتا ہوا لان کی طرف بڑھا۔ وہاں ایک شور مچ گیا تھا۔ کوئی چلایا۔
’’ حرام خوروں کو دو لاکھ دیئے بھی تھے کہ نمائش کے دوران لائٹ بند نہ کرنا…‘‘ یہ شاید نمائش کی انتظامیہ میں سے کوئی تھا۔
’’ جنریٹر چالو کرو یار جلدی ۔‘‘ ایک اور آواز آئی۔
پھر کوئی تیزی سے مین گیٹ کی طرف گیا۔ تھوڑی دیر بعد لان سمیت کوٹھی کی لائٹس روشن ہوگئیں۔ کیبن کی طرف جانے والے شخص نے واپس آکر اعلان کردیا کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے مین سوئچ ٹرپ کر گیا تھا ۔ میں نے سکون کی ایک طویل سانس خارج کی۔ خوش قسمتی سے ان لوگوں کا خیال کسی اور طرف نہیں گیا ورنہ مسئلہ پیدا ہوسکتا تھا ۔ میں نے ٹونی کو تلاش کرنا شروع کیا۔ تب ہی میرے موبائل پر بپ ہوئی۔ اسکرین پر ٹونی کا نمبر تھا۔ میں نے فوراً ریسیو کیا۔
’’کہا ں ہو تم؟‘‘ اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
’’میں لان میں ہوں تم کدھر ہو ؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میں بڑی ٹیبل کے آخری کونے پر ہوں ۔ اس طرف آجاؤ۔‘‘ اس نے جواب دے کر فو ن بند کردیا۔
میں وہاں پہنچا تو ٹونی ایک مورتی کے سامنے کھڑا بڑے انہماک سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔ وہاں کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔ یقینا وہ جان بوجھ کر اس جگہ کھڑا تھا۔
’’کیسا رہا؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔
’’سب اچھا ہے۔‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔
’’نکلیں پھر؟‘‘ میں نے کہا۔
’’بے وقوف مت بنو۔ سب کے ساتھ نکلیں گے اس طرح گئے تو گیٹ پر تلاشی ہوگی۔ ‘‘ اسی وقت ایک چینچ نما آواز گونجی ۔
’’چوری ہوگئی ہے۔ ہیرے غائب ہیں ۔‘‘
میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
’’لعنت ہو۔‘‘ ٹونی نے دانت پیسے ۔ وہاں موجود لوگوں میں کھلبلی مچ گئی۔ مائیک پر اعلان ہونے لگا۔
’’معزز مہمانوں کو مطلع کیا جاتا ہی کہ نمائش میں چوری ہوچکی ہی‘ ہماری سیکورٹی سب کی تلاشی لینے کی مجاز ہے۔ براہ مہربانی تعاون کیجئے۔‘‘ ٹونی برق رفتاری سے ایک طرف بڑھا۔ میں بھی اس کے پیچھے لپکا۔ اس نے مجھے دیکھا ۔
’’تم ادھر جاؤ جہاں لوگ جارہے ہیں میں ابھی آتا ہوں۔‘‘
میں ہیروں کی الماری کی طرف جانے کے لیے مڑا تو راستے میں سیٹھ صلاح الدین نظر آیا۔
’’سیٹھ صاحب یہ کیا ہوا ہے ؟‘‘ میں نے اسے پکارا۔
’’چوری ہوگئی ہے بھائی‘ آؤ دیکھتے ہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
ہم دونوں ہیروں والی الماری کے پاس پہنچے تو وہاں ایک ہجوم تھا میں لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا سامنے جا پہنچا ۔ ٹونی نے واقعی بڑی مہارت سے نقب لگائی تھی۔ بمشکل دو انچ شیشے کا ٹکڑا نکال کر ہیرے اڑائے گئے تھے۔
’’یہ پیشہ ور چور کا کام ہے یہاں سب معزز لوگ ہیں ان میں سے کوئی یہ نہیں کرسکتا۔ ‘‘ کسی نے تبصرہ کیا۔
’’لگتا ہے ایسا ہی ہے۔ مگر تلاشی اب سب کو دینا ہوگی‘ یہ نمائش کے اصول و ضوابط میں شامل ہے۔ ‘‘ کوئی دوسرا بولا۔
اتنے میں انتظامیہ نے ٹینٹ لگا کر عارضی طور پر ایک خیمہ سا لگادیا اور مائیک کے ذریعے سب کو بتادیا کہ ہر شخص فردا ً فرداً اندر جا کر تلاشی دے گا تاکہ اس کا وقار مجروح نہ ہو۔ ‘‘ اس کے بعد اطلاع دینے والے نے سب مہمانوں سے پیشگی کی معذرت کی۔ اور تلاشی کے لیے پہلا نام پکارا گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لسٹ تھی جس میںکوٹھی کے اندر داخلے کے وقت نام درج کئے جارہے تھے اور اس میں ہم نے بھی اپنے فرضی نام لکھوائے تھے۔ جس کا نام پکارا گیا تھا وہ شخص اپنے حلیے سے ہی شرافت و نفاست کا پیکر نظر آتا تھا۔ وہ جھجکتا ہو ا خیمے میں داخل ہوا اور کچھ دیر بعد باہر آگیا۔
وقفے وقفے سے سب کا نام پکارا جارہا تھا۔ میری نظر ٹونی کی متلاشی تھیں مگر وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تو وہ پسینے میں تر ہوگیا۔ یہ میرے نروس ہونے کی واضح نشانی تھی۔میںنے رومال سے پسینہ صاف کیا اور خود کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب مائیک پر مسٹر طفیل شیراز نیازی کا نام پکارا گیا۔
میں پروقار انداز میںچلتا ہوا خیمہ نما کمرے میں داخل ہوگیا۔ وہاں سیکورٹی کی وردی میں کچھ لوگ موجود تھے ۔ یقینا وہ نفسیاتی طور پر بھی اندازے لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مختلف آلات کے ساتھ میری تلاشی لی گئی اور اس کے بعد ایک آدمی نے ہر جگہ کو ہاتھ سے ٹٹول کر چیک کیا جہاں تک ممکن تھا ۔ جس طرح میری تلاشی لی گئی تھی مجھے بالکل بھی امید نہ رہی تھی کہ ٹونی بچ پائے گا۔
میں واپس نکلنے کے لیے دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ سیٹھ صلاح الدین کا نام پکارا گیا۔ میں باہر نکلا تو وہ اندر آرہا تھا۔ ہم نے مسکراہٹ کا تبادلہ کیا۔
باہر آکے میں نے ایک بار پھر ٹونی کو دیکھنے کی کوشش کی او رکامیاب رہا۔ وہ خیمے سے کچھ فاصلے پر کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی۔ اس نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی تھی۔ اتنے میں اس نے بھی مجھے دیکھ لیا اور ہاتھ کے اشارے سے خود سے دور رہنے کو کہا۔ میں وہیں ایک کرسی ڈھونڈ کر بیٹھ گیا۔ میرے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور میں نے خود کو خاموش تماشائی کے طور پر قبول کرلیا تھا۔ پریشان کن خیالات کی یلغار ذہن پر اس قدر تھی کہ مجھے اپنی ٹانگیں بے جان محسوس ہورہی تھیں ۔ جب کہ اس کے برعکس ٹونی خاصی بے پروائی سے ایکٹ کر رہا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ وہ دھیرے دھیرے چیکنگ والے خیمے کے پاس آگیا تھا۔ پھر ایک ساتھ کچھ عجیب اتفاقات ہوئے۔
مائیک میںفلک عصمت رانا کا نام پکارا گیا۔ میں سانس روکے ٹونی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ عجلت بھرے انداز میںخیمے کے اندر داخل ہوا اور عین اسی وقت سیٹھ صلاح الدین باہر آیا۔ ٹونی اس سے ٹکرایا اور اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا سگار سیٹھ کی شیروانی سے رگڑ کھاگیا۔ ٹونی نے اس کو تھام لیا اور شاید معذرت کی۔ سیٹھ کے چہرے پر بے تکلفی کے تاثرات تھے ۔ اس نے قہقہہ لگا کر کچھ کہا اور ٹونی کے کندھے پر تھپکی دیتا ہوا باہر آگیا۔ ٹونی اندر جاچکا تھا ۔ سیٹھ سیدھا میری طرف آیا۔
’’عجیب فضول سا ڈرامہ ہے ۔‘‘ وہ بولا۔
’’یہ لوگ ہماری انسلٹ کر رہے ہیں ۔ میں اس کلب کا رکن اور سابق میزبان ہوں۔ اندر دل کی بھڑاس نکال کر آیا ہوں۔ ‘‘
میں نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی ۔
’’آپ پریشان لگ رہے ہیں ‘‘ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ارے نہیں سیٹھ صاحب میںکیوں پریشان ہوں گا۔‘‘ میں نے قہقہہ لگایا ۔
’’اگر کوئی پریشانی ہے تو وہ باہر جا کر بھاگ جائے گی۔‘‘ وہ بولا۔ میں چونکا۔
’’کیا مطلب سیٹھ صاحب؟‘‘
’’مطلب یہ کہ ہم فلک صاحب کو شام کے کھانے پر انوائٹ کرچکے ہیں ۔یہاں سے نکل کر ہم ریسٹورنٹ جائیں گے۔‘‘
’’آپ کی نوازش ہے سیٹھ صاحب۔‘‘ میں نے کہا۔ اتنے میں ٹونی خیمے سے باہر آگیا۔ اس نے ہمیں دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔
’’سیٹھ صاحب یہ تو بہت بے عزتی کر رہے ہیں۔ ‘‘ وہ پاس آکر بولا۔
سیٹھ صاحب نے منہ بنایا۔
’’بس بھائی صاحب مجبوری ہے ۔‘‘ میں نے سنا ہے کہ گیٹ پر بھی چیکنگ ہوگی؟‘‘ ٹونی نے پوچھا۔
’’سنا تو میں نے بھی ہے ۔‘‘ سیٹھ نے جواب دیا۔
’’مگر میں وی آئی پی گیٹ سے واپس جاؤں گا جو صرف سابق میزبانوں کے لیے مخصوص ہے ۔‘‘
’’یہ تو اچھا ہوا ورنہ آپ کو بھی تلاشی دینا پڑتی۔ ہماری تو خیر ہے۔‘‘ ٹونی نے آہستہ سے کہا۔
’’آپ طنز تو نہیں کر رہے ۔‘‘ سیٹھ نے اسے دیکھا۔
’’یقین کریں بھائی صاحب اگر اجازت ہوتی تو میں آپ کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا مگر یہ ہو نہیں سکتا۔ ‘‘
ٹونی ہنسا۔
’’سیٹھ صاحب آپ غلط سمجھے ۔ میرا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا۔ میرا خیال ہے اب چلنا چاہیے۔ ہم نے آپ کے پلے سے ڈنر بھی تو کرنا ہے‘‘
سیٹھ نے زور دار قہقہہ لگایا۔
’’ضرور بھائی صاحب ۔ گیٹ کے باہر ملتے ہیں۔ آپ جلدی پہنچو میں بھی آیا۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ کوٹھی کے اندرونی حصے کی طرف چلا گیا جہاں غالباً کوئی وی آئی پی دروازہ تھا۔ ہم گیٹ کی طرف بڑھے۔
تقریباً سب ہی لوگ وہاں سے نکلنے کی جلدی میں تھے کیونکہ نمائش بدمزگی کا شکار ہوچکی تھی۔ ٹونی نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میںلیا۔
’’فضلو جگر مجھے پتہ ہے کہ تیرے پیٹ میں بے چینی کے مروڑ اٹھ رہے ہیں مگر ابھی کوئی بات نہیں ہوگی۔ ہم پبلک پلیس پر ہیں۔‘‘ میں نے چپ رہنا مناسب سمجھا۔
گیٹ پر واقعی مخصوص آلات سے چیکنگ کی جارہی تھی جب تک گارڈ ہماری تلاشی لیتا رہا ٹونی اس کے لتے لینے میں مصروف رہا۔ گارڈ بے چارہ سوری سر سوری سر کی گردان کرتے ہوئے پاگل ہوا جارہا تھا۔
یقینا دیگر لوگ بھی اسے صلواتیں سنا کر گئے تھے۔ ہم باہر نکل کر پارکنگ میںپہنچے تو سیٹھ وہاں پہلے سے موجود تھا۔ وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے آواز لگائی ۔
’’فلک صاحب‘ آپ میرے پیچھے آئیے گا۔‘‘
اچانک مجھے ٹونی کے سسکنے کی آواز سنائی دی۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں مسل رہا تھا۔ میں گھبرا گیا۔ سیٹھ گاڑی سے باہر نکل آیا۔
’’فلک صاحب ! سب خیریت تو ہے؟‘‘ ٹونی کی سسکیاں بلند ہوگئیں۔ میرے ہاتھ پاؤں صحیح معنوں میں پھول گئے ۔ میں نے بے بسی سے سیٹھ کی طرف دیکھا۔ اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے تسلی دی او ر ٹونی کو شانوں سے تھام لیا۔
’’بھائی خدا کے لیے کچھ تو بتائیے ۔ آپ نے ہمیں پریشان کردیا ہے۔ ‘‘
ٹونی نے ناک کو رومال سے رگڑا ۔
’’سیٹھ صاحب آپ پریشان مت ہوں بس میرا دادا جی سے پیار ہی بہت تھا اس لیے صدمہ سہا نہیں جارہا۔ ‘‘
میں چونکا اور پھر سمجھ گیا ٹونی کسی لمبے چکر میں تھا ۔
’’کیا ہوا آپ کے دادا جی کو؟ ‘‘ سیٹھ نے ہمدردی سے پوچھا۔
’’وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے سیٹھ صاحب ۔‘‘ ٹونی نے ایک ایسی درد ناک دھاڑ بلند کی میں سچ مچ دہل کر رہ گیا۔ سیٹھ بے چارہ ہونقوں کی طرح اسے دلاسہ دیئے جارہا تھا۔ ٹونی نے آنکھیں صاف کیں۔
’’ٹھیک ہے سیٹھ صاحب آپ کے ساتھ کھانا ہماری قسمت میں نہیں تھا۔ زندگی رہی تو پھر کبھی سہی۔ سیٹھ خاصا جذباتی ہورہا تھا۔ وہ بولا۔
’’بھائی صاحب! اگر آپ کہیں تو میں آپ کو چھوڑ آؤں۔ ‘‘
’’آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔‘‘
’’سیٹھ صاحب آپ کا بہت شکریہ بس دعاؤں میں یاد رکھیے گا ۔‘‘ ٹونی نے کہا اور پھر ڈرامائی انداز میں اپنی گھڑی اتار کر سیٹھ کی طرف بڑھائی۔
’’یہ رکھ لیجیے آپ کو میری یاد دلائے گی۔‘‘
سیٹھ کو اتنی جذباتیت کی توقع نہیں تھی۔ اس نے الجھن سے میری طرف دیکھا۔
’’رکھ لیں سیٹھ صاحب ۔‘‘ میں نے بھیگی سی آواز نکالی۔ کیونکہ ٹونی دادا جی کو عالم بالا میںپہنچا چکا تھا۔ اس لیے غم ناک ہونا ضروری تھا۔ سیٹھ نے گھڑی تھام لی۔
ٹونی نے سیٹھ کو سینے سے لگایا۔
’’ خداحافظ سیٹھ صاحب ذرا ہمیں گارمنٹس کی اچھی سی شاپ کا پتہ بتادیں۔ میں آتے ہوئے اپنی شیروانی ہوٹل میں ہی بھول آیا تھا اور اس کے بغیر میں خود کو ادھورا سمجھتا ہوں۔‘‘
سیٹھ ایک لمحے کو چپ رہا اور پھر ٹونی کو زور سے دبایا۔
’’کمال کرتے ہیں بھائی صاحب مجھے نشانی دے دی۔ اب میرا بھی تو کوئی فرض بنتا ہے ناں۔ لیجئے میری طرف سے نشانی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ شیروانی اتارنے لگا۔ ٹونی گڑبڑا گیا ۔
’’ ارے سیٹھ صاحب ‘ بالکل نہیں یہ غلط بات ہے۔‘‘مگر سیٹھ نے شیروانی ٹونی کو پہنا کر دم لیا۔
مجھے لگ رہا تھا ٹونی میں دلیپ کمار کی روح حلول کر گئی ہے لیکن میں اس کی اداکاری کا مقصد سمجھنے سے قاصر تھا اور الجھنوں کے پہاڑ بلند و بالا ہوتے جارہے تھے ۔ اس کے بعد مزید ایک ایک جھپی ڈال کر سیٹھ رخصت ہوا تو میں پھٹ پڑا۔
’’یہ سب کیا چل رہا ہے۔ مجھے تیری بے تکی باتوں کی سمجھ نہیں آرہی۔‘‘
ٹونی نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ۔
’’فضلو جگر‘ سب کچھ بتاتا ہوں ‘ پہلے یہ بتا کہ میری ایکٹنگ کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟‘‘
’’بہت ہی بکواس ہے۔ تو مجھے بتارہا ہے کہ نہیں؟‘‘
’’مجھے بے اختیار رونا آگیا۔‘‘
’’اوہ تیری خیر‘ خوشی کے موقعوں پر روتے ہی ہیں۔ ہیرے اس شیروانی میں ہیں۔‘‘ اس نے شیروانی کو چوم کر کہا۔
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا اور پھر سب کچھ یاد آگیا۔ ٹونی کا سگریٹ سمیت سیٹھ سے ٹکرانا اور پھر گلے لگا کر معذرت کرنا۔ دادا جی کا کریا کرم کرکے جذباتی ماحول بنا کر شیروانی اتروانا۔ ٹونی میرے چہرے کے اتار چڑھاؤ نوٹ کر رہا تھا۔ میں نے ایک گہری سانس لی۔
’’لگتا ہے فضلو سب کچھ سمجھ گیا۔ ‘‘ اس نے ہنس کر کہا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ خوشی کا اظہار کیسے کروں۔ ٹونی نے واقعی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا تھا۔ میں نے کہا۔
’’ٹونی تم نے بہت بڑا رسک لیا تھا۔ اگر سیٹھ اپنی شیروانی کو چیک کرلیتا؟ ‘‘ وہ دھیرے سے مسکرایا۔
’’یہ معلومات میں نے سیٹھ صاحب سے اگلوالی تھی وہ تو سگار کی ڈبیا بھی شلوار کی جیب میں رکھتا ہے۔ اور پھر میں نے ہیرے شیروانی کی اندرونی جیب میں ڈالے تھے وہاں کسی کا ہاتھ جلدی نہیں جاتا ۔ ‘‘
میری الجھن برقرار تھی ۔ میں نے پوچھا۔
’’اگر تلاشی کی باری سیٹھ کے بعد نہ آتی تو پھر؟‘‘
ٹونی نے سر میں کھجلی کی ۔
’’ہاں یہ میں نے جوا کھیلا تھا اور قسمت ساتھ دے گئی۔ ورنہ پھر کوئی اور راہ نکالنی پڑتی۔‘‘
’’بہت خوب ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اور دادا جی کے بجائے کسی دوسرے کو ماردیا ہوتا؟ ان کی قربانی کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ ٹونی نے آنکھ ماری ۔
’’یار یہ کام میں نے اپنے احساسات کی تسکین کے لیے کیا تھا ‘ ویسے تو یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونہیں سکتا ۔ تصوراتی مزہ لینے میں کیا حرج ہے۔‘‘
’’چلو اب ہیرے تو دکھادو۔‘‘ میں نے کہا۔
اس نے مجھے انگوٹھا دکھایا۔
’’بیٹا جی! ہیرے اب حویلی میں جا کر دیکھیں گے۔ ابھی میں نے نہیں دیکھے۔ صرف اٹھا کر جیب میں ڈالے تھے۔ بس تم دعا کرو کہ ہم دونوں غلام بحفاظت بادشاہ سلامت تک پہنچ جائیں۔
ء…ء…ء…ء
کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی حالانکہ وہاں تقریباً حویلی کے سبھی چھوٹے بڑے موجود تھے۔ دادا جی نے لرزتے ہاتھوں سے ریشم کی پوٹلی کھولی تو ہیرے پھسل کر ان کی ہتھیلی پر آن گرے۔ وہ دیوانگی کے عالم میں ہیروں کو دیکھ رہے تھے اور پھر انہوں نے اپنے ہونٹ ہیروں پر رکھ دیئے۔ چند لمحوں بعد دادا جی نے سر اوپر اٹھایا اور حاضرین پر نظر ڈالی۔
انہوں نے ہمیں اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔
’’دادا جی کا شاید ذہنی توازن خوشی سے بگڑ گیا ہے۔‘‘ ٹونی نے اٹھتے ہوئے سرگوشی کی۔ ہم دونوں ان کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے پہلے میرا چہرہ ہاتھوں میں لیا اور پیشانی پر بوسہ دیا ۔ دوسری باری ٹونی کی تھی۔ انہوں نے اس کا سر اور ماتھا چوما اور پھر ہمارے ہاتھ پکڑ کر اوپر لہرائے۔
’’میرے دونوں پوتے آئندہ سے اس حویلی کے سب سے اول درجے کے پوتے ہیں۔ سب بچے ان کا حکم ماننے کے پابند ہوں گے۔‘‘
’’ٹونی بولا‘ دادا جی ذرا یہ فرمان دوبارہ صادر فرما دیجئے میرا خیال ہے کہ کچھ لوگوں نے سنا نہیں۔‘‘
’’میں نے سن لیا ہے۔ بے فکر رہو حیوان نما انسان۔ ‘‘ دادا جی کے بولنے سے پہلے دعا نے آواز لگائی۔
’’لڑکی اپنی زبان بند رکھو۔‘‘ دادا جی دہاڑے۔ میں سہم گیا ٹونی نے میرا ہاتھ دبایا۔
’’ایزی ہوجا کاکے…آج یہ دہاڑ ہمارے لیے نہیں ہے۔‘‘
دعا نے برا سا منہ بنایا۔
’’دادا جی آپ ان کو سر پر چڑھارہے ہیں۔یہ غلط ہے۔‘‘
دادا جی نے قہر بھری نگاہ اس پر ڈالی ۔
’’لڑکی تم میرے کاموں میں دخل مت دو اور ہاں گوداموں کی چابیاں ان کے حوالے کردو۔ اب سے یہ دونوں گودام کے نگران ہوں گے۔‘‘
دعا غصے سے اٹھی اور پاؤں پٹختی ہوئی باہر چلی گئی۔
’’دادا حضور ہم بھی جائیں ۔ تھکاوٹ ہورہی ہے۔‘‘ ٹونی نے کہا۔
انہوں نے ہمیں پچکارا ۔
’’ضرو ر میرے بچوں ۔ تم جا کر آرام کرو شام کو ملتے ہیں ۔‘‘
ہم کمرے سے باہر نکلے ۔ ٹونی نے بازو پھیلا کر آسمان کی طرف دیکھا۔
’’ہائے فضلو سب کچھ کتنا حسین ہوگیا ہے۔ گوداموں کی چابیاں …آہا۔‘‘
پھر اس نے اپنا موبائل فون نکال کر کسی کا نمبر ڈائل کیا۔
’’کسے فون کر رہے ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اس نے فون کان سے ہٹا کر مجھے دیکھا۔
’’گندم اور چاول کے ڈیلر کو فون کر رہا ہوں۔ داداجی نے صرف ماتھا چوم کر ٹرخا دیا ہے۔ ابھی دعا سے چابیاں ملیں گی تو دس پندرہ بوریاں ایمان داری کے ساتھ بیچتے ہیں۔‘‘
’’یہ زیادتی ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ابے زیادہ حاجی نہ بن۔‘‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’ٹونی یہ زیادتی ہے۔‘‘ میں نے زور دے کر کہا۔
’’دس پندرہ سے کیا بنے گا کم از کم پچاس بوریاں تو ہونی چاہیں۔‘‘
ٹونی کے دیدے پھیل گئے۔
’’دھت تیرے کی ۔اس طرح کا فضلو چائیے مجھے۔ اس سے پہلے کہ ہمارا امیج پہلے والا بن جائے ہمیں اچھا خاصا مال پانی جمع کرلینا چائیے۔‘‘
’’صحیح کہہ رہے ہو تم۔‘‘ میں نے کہا۔
’’دادا جی کے بقول چور چوری سے جائے مگر…ٹونی نے لقمہ دیا ۔
’’ہیرا پھیری سے نہ جائے…‘‘ ہمارا قہقہہ دور تک گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close