Naeyufaq Dec-16

ونجلی والا

ریاض بٹ

میں انسپکٹر خالد ریٹائرڈ آج آپ کو پچاسویں تفتیشی کہانی سنا رہا ہوں۔ میں نے تین چار دنوں میں اس کہانی کے چیدہ چیدہ واقعات اپنی ڈائری سے ذہن میں فیڈ کئے ہیں ۔میں ہمیشہ اس طرح کرتا ہوں اس طرح میرے ذہن میں بیٹھا تھانیدار جاگ اٹھتا ہے اور کہانی سنانے لگتا ہے۔
جیسا کہ پچھلی کہانی میں ذکر آچکا ہے کہ ایک زیر تفتیش کیس مجھے نئے تھانے میں آتے ہی مل گیاتھا۔ جانے والے تھانیدار نے زیادہ تفتیش نہیںکی تھی وہ کر بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے ٹرانسفر کے آرڈر آگئے تھے۔ ویسے اس نے کیس کی فائل میرے حوالے کرتے ہوئے تمام باتیں میرے گوش گزار کردی تھیں۔میں پہلے آپ کو بتا دیتا ہوں کہ کیس کیاتھا۔
یہ سب آپ پہلے والے تھانیدار چوہدری شفقت کی زبانی سنیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ ایک صبح میں جب تھانے آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تو سپاہی منظور نے مجھے اطلاع دی۔
’’سر قاسم آباد کے قبرستان میں کسی جوان کی لاش پڑی ہے چوہدری قاسم نے ایک بندہ بھیجا ہے جو یہ اطلاع لے کر آیا ہے۔‘‘
میں نے پہلے بندہ کو بلا کر اس سے معلومات حاصل کیں بندے کا نام عنایت تھا۔ رنگ سانولا‘ قد تقریباً پانچ فٹ ہوگا وہ ایسا ہی تھا جیسے اکثر روایتی چوہدریوں کے رکھے ہوئے ڈشکرے ہوتے ہیں۔ میں نے اسے یہ کہہ کر رخصت کردیا کہ وہ جائے ہم تھوڑی دیر میں پہنچ رہے ہیں۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد میں اور کانسٹیبل خورشید قبرستان میں موجود تھے۔ لاش ایک جوان العمر آدمی کی تھی۔ یہ گائوں زیادہ بڑا نہیں تھا۔ سو کے قریب گھر ہوں گے۔ چھوٹا سا ڈسپنسری نما اسپتال تھا اسکول صرف مڈل تک تھا۔ ڈاک خانے اور پکی سڑک سے محروم تھا۔ لاش دو ساتھ ساتھ بنی قبروں کے پاس پڑی تھی۔ بہرحال ضروری کاغذی کارروائی کے بعد میں نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بڑی مشکل سے شہر میں واقع سول اسپتال بھیجی مشکل سے اس لیے کہ چوہدری قاسم نے کافی واویلا کیا تھا بقول اس کے جوان کو شیریں یا وقار کی روح نے مارا تھا۔
میں نے کہا۔’’چوہدری صاحب یہ کہانی میں سن لوں گا۔آپ ابھی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جانے دیں۔ ورنہ مجھے اپنے سرکاری اختیارات استعمال کرنا پڑیں گے۔‘‘میں نے انتہائی خشک لہجے میں کہا۔
میرے لہجے سے چوہدری کا واویلا دم توڑ گیا۔ لیکن بات رسی والی تھی کہ رسی تو جل گئی تھی لیکن بل نہ گیا تھا۔وہ بولا۔
’’ٹھیک ہے آپ اپنی مرضی کرلیں لیکن آپ نقصان میں رہیں گے۔‘‘میں نے اس سے فضول بحث میں وقت َضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور اس کے ساتھ اس کی حویلی میں آگیا۔ اس کی حویلی گائوں کے وسط میں کھڑی اپنی شان و شوکت کا اظہار کررہی تھی اور مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے اس کی ایک ایک اینٹ کئی کہانیاں سنا رہی ہو۔ ان میں ایک کہانی چوہدری نے بھی مجھے سنائی تھی۔
جن قبروں کے پاس جوان کی لاش ملی تھی، وہ اسی گائوں کے دو دیوانوں کی تھیں جو ایک دوسرے سے اتنی ہی محبت کرتے تھے جتنی اپنے دور میں شاید شیریں اور فرہاد نے کی ہوگی۔بعض لوگوں کے بقول دونوں پیار کی حدیں پھلانگ کر عشق کی معراج تک پہنچ چکے تھے۔
نام ان کا شیریں اور وقار تھے جس طرح کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ اسی طرح ان دیوانوں کی محبت بھی دنیا والوں کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکی۔ وہ قبرستان میں ہی ملتے تھے۔ ایک دن شیریں کے بھائی نے رات کے اندھیرے میں انہیں ایک دوسرے کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھ لیا۔ اسے کچھ دن پہلے یہ سن گن ملی تھی کہ اس کی بہن شیریں گائوں کے مچھیرے کے بیٹے وقار سے ملتی ہے اور کہنے والوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وقار نے تمہاری عزت اور وقار کو اپنے پیروں تلے روند دیا ہے حالانکہ وہ رات کے درمیانی پہر میں ملتے تھے جب گائوں کے لوگ دن بھر کے تھکے ہارے گہری نیند کے مزے لوٹ رہے ہوتے تھے لیکن پھر بھی ایک آدمی نے جسے بے خوابی کی شکایت تھی انہیں دیکھ لیا۔ شیریں کا کمرہ عقبی طرف تھا اور کمرے کا عقبی دروازہ قبرستان کی طرف کھلتا تھا شیریں کے بھائی نے بہن پر نظر رکھنا شروع کردی۔ ایک رات وہ اپنے محبوب سے ملنے قبرستان میں پہنچی تو اچانک طوفان آگیا۔ اتنی تیز ہواتھی کہ کئی کمزور درخت زمین بوس ہوگئے باقی درخت بھی اسی طرح ہل رہے تھے جیسے ابھی گر پڑیں گے شیریں کے دل میں کوئی خوف نہیں تھا وہ اپنے محبوب کی بانہوں میں تھی دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ موت ان کے سر پر آپہنچی ہے۔
اگلی صبح بوہڑ کے پچاس سالہ درخت کے نیچے دونوں کی کٹی پھٹی لاشیں پڑی تھیں اور شیریں کا بھائی انار گل کلہاڑی سمیت تھانے میں بیٹھا اپنے جرم کا اقرار کررہا تھا۔ یہ تقریباً پانچ سال پہلے کی بات تھی۔ قبرستان میں موجود بوہڑ کا درخت اس بات کا گواہ تھا کہ دونوں اسی جگہ اس کے تنے کے ساتھ بیٹھتے تھے یہیں انہوں نے اپنے خون سے اپنی محبت کو امر اور عشق کو معراج تک پہنچایا تھا اور اس درخت کے نیچے ان کی قبریں تھیں اور گائوں کے لوگوں نے انہیں شیریں اور فرہاد کا لقب دے دیا تھا بقول شاعر۔
زندہ ہے تو جینے کی سزا دیتی ہے دنیا
وقار بانسری بہت اچھی بجاتا تھا۔ وہ جب بھی اپنے دوستوں میں بیٹھتا تھا اس سے بانسری بجانے کی فرمائش ضرور ہوتی تھی لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ شیریں اس کی بانسری کی آواز پر مر مٹی تھی لاشوں کے پاس ہی خون آلود بانسری پڑی اپنی کہانی سنا رہی تھی لیکن جو کہانی بعد میں مشہور ہوئی تھی وہ بھی کچھ دلچسپ اور پراسرار نہیں تھی ویسی ہی طوفانی اور تیز جھکڑوں والی رات اس واقعے کے تقریباً دو ماہ بعد پھر آئی تھی اور لوگوں نے درد میں ڈوبی ہوئی بانسری کی آواز قبرستان میں سنی تھی جو بوہڑ کے درخت کے اوپر سے آرہی تھی سب سے پہلے گورکن نے یہ آواز سنی تھی۔
پھر چار سو اس آواز کے چرچے ہوگئے تھے اور یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ جب بھی طوفان آتا ہے چاہے وہ رات کو آئے یا دن کے اجالے میں ۔بانسری کی درد میں ڈوبی آواز ضرور سنائی دیتی تھی جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن اپنے پیچھے ان گنت کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں ہیر رانجھا ‘سسی پنوں ‘ سوہنی مہنیوال‘ شیریں فرہاد وغیرہ تو مشہور لوک داستانیں ہیں لیکن اس کے علاوہ ان گنت کہانیاں ایسی ہیں جو ابھی تک عام آدمی کے کانوں تک نہیں پہنچیں کیونکہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور کہانیوں کو جنم دیتا رہے گا۔
چوہدری شفقت صاحب کو اس کیس پر کام کرنے کا موقع نہ مل سکا تھا اور اب یہ پراسرار کیس میرے پاس تھا۔لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی تھی اور میرے سامنے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ تھی جو کیس کی فائل کے اوپر ہی لگی ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بڑے بڑے ہاتھوں نے لاش کا گلاگھونٹا تھا۔ڈاکٹر نے حیرت کا اظہارکیا تھا کہ کیا کسی انسان کے اتنے بڑے ہاتھ بھی ہوسکتے ہیں؟موت کا وقت رات بارہ بجے اور ایک بجے کے درمیان کا لکھا تھا۔
پھر وہی آدھی رات… لیکن بقول تھانے کے عملے کے وہ طوفانی رات نہیں تھی لیکن میرے من میں ایک طوفان برپا تھا۔ جب تک میں اس کیس کو حل نہیں کرلیتا مجھے سکون ملنا محال تھا۔ یہاں یہ بات بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ مرنے والا جوان ماچھی نزاکت کا بھانجا تھا۔
قاسم آباد اور محبت آباد کے درمیان ایک چھوٹا سا دریا بہتا تھا تین کشتیاں سارا دن اس دریا کے اس پار سے اس پار تک چلتی تھیں جو دونوں گائوں کے مکینوں کے درمیان رابطے کا کام کرتی تھیں۔ ان کشتیوں کے مالکوں کا یہی ذریعہ معاش تھا اور اس دریا کی شمالی سمت پانی ذرا گہرا تھا۔اس لیے جن کو تیراکی نہیں آتی تھی وہ اس طرف جانے کی حماقت نہیں کرتے تھے وہاں دریا 30فٹ گہرا تھا لیکن دریا کے اسی حصے سے نزاکت اپنی روٹی روزی حاصل کرتا تھا۔ درمیان میں گہرائی بیس فٹ سے زیادہ تھی۔
قارئین یہ سب تفصیل اس لیے آپ کے گوش گزار کی ہے تاکہ آپ کہانی پڑھتے ہوئے کسی الجھن کا شکار نہ ہوں بہرحال میں نے پہلے ماچھی نزاکت سے ہی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ نزاکت جب اپنے بھانجے وقار کی لاش لینے چوہدری شفقت کے پاس آیا تھا تو اس نے درخواست کی تھی کہ معاملے کی تفتیش ضرور کی جائے۔ چوہدری شفقت نے اسے قانون کی مجبوری سے آگاہ کرتے ہوئے باقاعدہ رپورٹ درج کروانے کے لیے محرر کے پاس بھیج دیا تھا۔ ایک دن ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان کے ہمراہ سرکاری جیب میں قاسم آباد پہنچ گیا۔ وہ گلابی جاڑے کے دن تھے میرے کہنے پر نزاکت نے ہمارے بیٹھنے کا بندوبست چھوٹے دریا کے کنارے ہی کردیا۔ سورج کی کرنیں دریا کے پانی پربڑا سندر منظر پیش کررہی تھیں۔ اس کا دوسرا کنارا تقریباً تین میل دور تھا اس وقت پانی بڑی سبک رفتاری سے بہہ رہا تھا جیسے کچھ سوچتے ہوئے بہہ رہا ہو میں نے نزاکت کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نزاکت بھائی یہ تمہارے لیے دوسرا صدمہ ہے۔ ‘‘وہ ایک دھان پان سا بندہ تھا وہ عمر کی پچپن بہاریں دیکھ چکا تھا رنگ گورا اور نین نقش پرکشش تھے اور اس عمر میں بھی اس کی صحت اچھی تھی۔
’’تھانیدار صاحب آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں…دراصل ہمارے خون میں ہی محبت کے جراثیم ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘میں نے حیران نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں نے محبت کی شادی کی تھی۔ میرے بھائی شرافت نے بھی اسی عمل کو دھرایا تھا میرے بیٹے کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے۔‘‘
’’تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کا بھانجا بھی؟‘‘میں نے دانستہ فقرے کو ادھورا چھوڑتے ہوئے کہا۔
’’میں نے یہ تو نہیں کہا۔ اللہ کی اللہ ہی جانے… ویسے ایک بات میں آپ کو بتا دوں کہ میرا بھانجا شادی شدہ تھا۔ شادی کو دوسال ہوگئے تھے لیکن ابھی تک ان کے آنگن میں کسی بچے کی کلکاریاں نہیں گونجیں تھیں۔‘‘
’’اچھا ۔‘‘میں نے ہنکارا بھرا… تھوڑی دیر دریا کے نیلگوں پانی پر نظریں جمائے رہا۔ پھر نزاکت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔
’’ذرا اپنے ذہن کو پانچ سال پیچھے لے جائو کیا تمہیں یہ پتہ لگ گیا تھا کہ تمہارا بیٹا انار گل کی بہن شیریں سے محبت کرتا تھا۔‘‘
’’تھانیدار صاحب مجھے یہ کہانی اس کے قتل سے چند دن پہلے پتہ چلی تھی ابھی میں اس کے رشتے کی بات چلانے ہی لگا تھا کہ یہ وار دات ہوگئی۔‘‘
میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں۔ میں اس کے ماضی کو ایک خاص مقصد حاصل کرنے کے لیے کرید رہا تھا۔
’’اب ایک بات کا جواب ذرا سوچ کردینا۔کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ جس طرح تمہیں پہلے اپنے بیٹے وقار کی محبت کا پتہ نہیں تھا اسی طرح بھانجے کی محبت بھی تم سے اوجھل رہی ہو۔‘‘اس نے اپنی انگلیوں سے آنسو پونچھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
’’دیکھیں جی‘ ہونے کو تو سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن میرا بھانجا تو شادی شدہ تھا۔‘‘
’’یہ کوئی دلیل نہیں ہے کیا شادی شدہ بندہ محبت نہیں کرسکتا۔میں ایسی بہت سی مثالیں دے سکتا ہوں۔‘‘
’’بہرحال آپ تھانیدار ہیں۔ انسان کی نفسیات سے آگاہ ہوں گے اور آپ کے پاس ایسے کئی کیس آئے ہوں گے ویسے یہ بات تو آپ کے علم میں آہی گئی ہوگی کہ میرا بیٹا اور بھانجا مردانہ وجاہت کے شاہکار تھے۔ اس نے یہ بات کرکے ثابت کردیا تھا کہ وہ ذہن بھی ہے۔
’’بات توآپ نے عقل مندوں والی کی ہے۔ لیکن کان کو ادھر سے پکڑوایا ادھر سے بات تو ایک ہی ہے نا۔‘‘
’’بالکل جناب آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’نزاکت تمہارے کتنے بچے ہیں؟‘‘
’’اب تو جناب دو ہی رہ گئے ہیں ایک بیٹی نازو اور بیٹا صداقت۔‘‘
’’آپ کی بیٹی اور بیٹے کی کیا عمر ہوگی؟‘‘
’’بیٹی تو ماشاء اللہ ستائیس سال کی ہے جب کہ بیٹے کی عمر بیس سال ہے۔‘‘
ان سوالوں وجواب سے میں اس کو جس طرف لانا چاہتا تھا وہ اس طرف آچکا تھا۔
’’دیکھو سوال تو ذاتی نوعیت کا ہے لیکن یہ موجودہ حالات میں ایک ضروری سوال ہے۔‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ میرے آگے بولنے سے پہلے ہی وہ بول پڑا۔
’’تھانیدار صاحب یہ آپ کی مہربانی ہے کہ آپ خود چل کر میرے پاس آگئے ہیں ورنہ تفتیش کے لیے مجھے تھانے میں بلا سکتے تھے آپ جو سوال کرنا چاہیں میں جواب دینے کے لیے حاضر ہوں۔‘‘
’’آپ کی بیٹی کی شادی ہوگئی ہے؟‘‘
’’نہیں ابھی تک نہیں ہوئی؟‘‘
’’کوئی خاص وجہ؟‘‘
’’سب سے بڑی وجہ غریبی ۔ ‘‘تھانیدار صاحب ہمارے خاندان میں صرف میری بہن فضیلت بیگم زندہ ہے یعنی اختر کی ماں لیکن وہ اپنے آپ کو فضیلت بیگم کی بجائے ٹھیکیدار عثمان کی بیگم مسز عثمان کہلانا پسند کرتی ہے۔
اس کا ذہن آسما ن پر ہے۔ جب ہی تو نازو کو نظر انداز کرکے عثمان کے دوست شیخ وحید کی بیٹی مہہ جبیں سے اپنے بیٹے کی شادی کردی تھی اور میں آپ کو یہ بھی بتادوں کہ میرا بھائی شرافت دو بیٹیاں چھوڑ کر مرا ہے۔ اس کی چھوٹی بیٹی صاعقہ میرے چھوٹے بیٹے کی منگیتر ہے۔ فضیلت بیگم یا مسز عثمان شہر میں رہتی تھی۔
میں نے جب نزاکت سے اس کا پتہ پوچھا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ شہر کا وہی حصہ ہے جو ہمارے تھانے کی حدود میں آتا تھا۔
’’اچھا …نزاکت بھائی… آپ یہ بات بالکل نہ سوچیں۔ کہ میں خود چل کر آپ کے پاس آیا ہوں ۔ آپ میرے لیے قابل احترام ہیں اب ہم چلتے ہیں۔ اگر کوئی بات معلوم ہو تو مجھے اطلاع دینا۔‘‘
’’دیکھیں جی…میں خود حاضر ہوںگا۔ ویسے بھی سردیاں شروع ہوگئی ہیں۔ تازہ مچھلی میں آپ کے لیے ضرور لاؤ نگا۔‘‘
میں نے اسے نرمی سے منع کرتے ہوئے ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان کے ساتھ جیپ میں بیٹھ گیا۔
نزاکت سے مجھے جو معلومات حاصل ہوئی تھیں وہ میرے لیے آئندہ لائحہ عمل بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی تھی۔ ویسے میرے ذہن میں ابھی کچھ سوال تھے ۔ ان سوالوں کے ٹھیک جوابات مجھے نزاکت سے نہیں مل سکتے تھے۔ اس لیے میں نے انہیں لبوں تک نہیں آنے دیا تھا۔ ان کا ذکر آگے آئے گا۔ چوہدری قاسم کا رویہ بھی میرے لیے ایک معمہ تھا۔
اس نے چوہدری شفقت سے یہ کیوں کہا تھا کہ وہ لاش کا پوسٹ مارٹم نہ کروائے۔ ورنہ وہ نقصان میں رہے گا۔ میں ابھی اسے چھیڑنا نہیں چاہتا تھا۔ ورنہ اس جیسے فرعون چوہدری تو میری جیب میں پڑے رہتے تھے۔
اگلی صبح میں نے اس پھانس کو ذہن سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا جو میرے دماغ میں ہلچل مچائے ہوئے تھی۔
میں نے دس بجے کے قریب ایس پی صاحب کو فون کیا۔
دوسری ہی گھنٹی پر انہوںنے فون اٹینڈ کرلیا۔ میری آواز سن کر بولے ۔
’’ہاں…بھئی خالد کیا بات ہے؟‘‘
پہلے میں نے انہیں کیس کے متعلق بتایا کہ اب تک کیا کارروائی ہوئی ہے پھر مودبانہ لہجے میں کہا۔
’’سر …اگر آپ کی اجازت ہو تو میں ایک سوال کروں؟‘‘
’’بالکل بھئی اجازت ہے۔‘‘
’’سر …چوہدری شفقت صاحب کی ٹرانسفر عام روٹین کی بات تھی یا…؟‘‘
’’عام روٹین کی بات تھی…لیکن تمہارے ذہن میں کیا ہے؟ کھل کر بات کرو۔‘‘
’’سر …چوہدری قاسم نے شفقت صاحب کو کہا تھا کہ وہ لاش کا پوسٹ مارٹم نہ کروائیں ورنہ خسارے میں رہیں گے ۔‘‘ میں نے جان بوجھ کر نقصان کو خسارے میں تبدیل کردیا تھا۔
’’اوہ …میں سمجھ گیا…تمہاے ذہن میں جو بات ہلچل مچائے ہوئے ہے۔ اسے نکال دو…تم کھل کر تفتیش کرو میرا تعاون تمہارے ساتھ ہوگا۔‘‘
’’تھینک یو سر… ‘‘ میں نے سلسلہ منقطع کردیا۔ اس کے بعد میں نے اے ایس پی آفاق کو اپنے کمرے میں طلب کرلیا۔ جب وہ بیٹھ چکا تو میں نے تمام صورت حال اس کے سامنے رکھ دی۔
’’سر …اگر آپ اجازت دیں تو چوہدری کو ٹٹولیں۔‘‘
’’کیسے ٹٹولو گے؟‘‘
’’سر میرے خیال سے مخبر عورت مناسب رہے گی۔‘‘
’’بات تو واقعی معقول ہے لیکن …‘‘ انہوں نے چند لمحے توقف کیا پھر گویا ہوئے۔ ’’معاملہ چوہدری قاسم کا ہے اور میرے خیال میں تم چوہدری کو مجھ سے بہتر جانتے ہو۔‘‘
’’سر آپ فکر ہی نہ کریں۔ سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے مجھے فی الحال اس بات کا جواب چائیے کہ اس نے قاسم کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کیوں کی تھی؟‘‘
اے ایس آئی کے جانے کے بعد میں نے ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان کو اپنے کمرے میں طلب کرلیا۔
’’اکبر خان…‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تیاری کرو ٹھیکے دار عثمان کے گھر جانا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر…لیکن؟‘‘
’’لیکن …کیا؟‘‘
’’سر … وہ تو زیادہ تر باہر ہی رہتا ہے۔ دولت کمانے کی دھن اس پر سوار ہے۔ جیسے وہ اس دنیا میں صرف پیسہ کمانے کے لیے آیا ہو۔ ‘‘ اکبر خان کی معلومات میرے لیے کسی خزانے سے کم نہیں تھی۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’لگتا ہے تم اس کے متعلق بہت کچھ جانتے ہو؟‘‘
’’سر …میرا گھر اس کی کوٹھی سے زیادہ دور نہیں ہے۔‘‘
’’ اوہ…پھر تو تم اس کے گھریلو حالات سے واقف ہوگے؟‘‘
’’سر…اس کی بیوی بہت گہری اور مغرور ہے پڑوسیوں سے ملنا اپنی شان کے خلاف سمجھتی ہے۔‘‘
’’خیر تم تیاری مکمل کرو… مجھے فی الحال عثمان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی بیوی اور بہو سے کچھ باتیں کرنی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر… آدھے گھنٹے میں آپ کو بالکل تیار ملونگا۔‘‘
’’لیکن…‘‘
ابھی اکبر خان کو گئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ سپاہی منظور نے آکر اطلاع دی۔
’’سر…چوہدری قاسم آئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’اس کے ساتھ کون کون ہے؟‘‘ مجھے تجربہ تھا کہ چوہدری قاسم جیسے بندے اکیلے کہیں نہیں جاتے۔
’’دو گن مین ہیں سر اور ایک مسکین سا جوان۔‘‘
’’گن مینوں کو تھانے سے باہر نکال دو او رچوہدری اور جوان کو آنے دو۔‘‘
کچھ دیر کے بعد چوہدری گردن اکڑائے میرے دفتر میں داخل ہوا۔ اس نے ایک جوان کا بازو پکڑا ہوا تھا ۔ جوان سہما ہوا تھا اس کے چہرے کے تاثرات اس کبوتر جیسے تھے جو کسی باز کے شکنجے میں پھنس گیا ہو۔
لیکن جوان کو دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا۔ وہ نزاکت ماچھی کا بیٹا صداقت تھا۔
چوہدری نے یوں مجھ سے ہاتھ ملایا جیسے میری سات پشتوں پر احسان کیا ہو۔
’’چوہدری صاحب خیر تو ہے اس غریب کو کیوں پکڑ کر لے آئے۔‘‘
’’جناب …یہ تو ابھی بتاتا ہوں پہلے یہ بتائیں کہ آپ کے بندوں نے میرے گارڈز کو باہر کیوں نکال دیا؟‘‘
’’اس لیے کہ یہ آپ کی حویلی نہیں میرا تھانہ ہے اور یہاں کی حفاظت آپ کے گارڈز کی نہیں میرے اہلکاروں کی ذمہ داری ہے آپ تشریف تو رکھیں۔‘‘
وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا لیکن تشریف اس نے رکھ دی اور بولا۔
’’اس کو تو آپ جانتے ہی ہونگے۔‘‘
’’بالکل یہ ماچھی نزاکت کا بیٹا ہے لیکن آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ آپ اس کو کیوں پکڑ کر لے آئے ہیں؟‘‘
’’تھانے دار صاحب میں نے موروں کا جوڑا منگوایا ہے ۔ یہ کافی دنوں سے اس کی تاک میں ہے۔ آج میرے گارڈز نے اسے حویلی کے آس پاس منڈلاتے دیکھ لیا ۔ اس لیے گارڈز کو میں ساتھ لے آیا ہوں۔‘‘
میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے کے تاثرات اس کی زبان کا ساتھ نہیں دے رہے اور یہ بات کسی طرح بھی حلق سے اترنے والی نہیں تھی کہ وہ گارڈز کے بغیر (اگر درمیان میں صداقت کا معاملہ نہ ہوتا ) تھانے میں نہ آتا۔ اگر وہ یہ حماقت والی بات نہ کرتا تو پھر کچھ بات بن جاتی۔ لیکن کہتے ہیں نہ کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور اس لیے وہ ایسی دلدل میں دھنس جاتا ہے جو اس کا بھانڈہ پھوڑ دیتی ہے لیکن یہ سب جو میرے تھانے دار انہ تجربے نے مجھے سکھایا تھا ۔ چوہدری پر آشکار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے نرم لہجے میں کہا۔
’’چوہدری صاحب آپ اسے میرے پاس چھوڑ جائیں اگر آپ کے باڈی گارڈز کی ضرورت ہوئی تو انہیں بھی زحمت دی جائے گی۔‘‘چوہدری صاحب کو رخصت کرنے کے بعد میں نے جوان سے کہا۔
’’بیٹھ جاؤ۔‘‘
وہ حیران نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بیٹھ گیا۔
’’کیا تمہارے والد صاحب کو پتہ ہے کہ چوہدری تمہیں یہاں لے کر آیا ہے؟‘‘
’’نہیں جناب …وہ پریشان ہورہے ہونگے۔‘‘ جوان بہت زیادہ خوف زدہ تھا۔ گھڑی گھڑی تھوک نگل رہا تھا۔
’’اب سچ سچ بتادو کہ اصل معاملہ کیا ہے؟‘‘ میںنے نرم لہجے میں کہا۔
’’تھانے دار صاحب۔ میں بالکل بے گناہ ہوں ۔ چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں بڑے خوب صورت موروں کا جوڑا پھرتا رہتا ہے۔ میں اکثر انہیں دیکھنے جاتا ہوں آج بھی میں چند لمحے کھڑا ہو کر انہیں دیکھ رہا تھا کہ اچانک چوہدری صاحب کہیں سے آکر گرجے۔
’’اوئے…مچھیرے کی اولاد … لگتا ہے تم میرے موروں پر عاشق ہوگئے ہو اور آج انہیں چرانے آئے ہو۔‘‘
میں نے جلدی سے کہا ۔ چوہدری صاحب ۔ ’’ایسی کوئی بات نہیں میں تو انہیں صرف دیکھ رہا تھا۔ چوہدری صاحب کے ساتھ باڈی گارڈز بھی تھے اور اس طرح یہ مجھے تھانے میں لے آئے۔‘‘
’’اچھا…چلو …یہ بات مان لی۔ چوہدری صاحب نے رائی کا پہاڑ بنا دیا لیکن تم نے رائی تو مہیا کی نہ ۔ یعنی تم اس کے موروں کو دیکھ تو رہے تھے نا۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’کیا یہ جرم ہے؟ تھانے دار صاحب۔‘‘ اس نے بھول پن سے کہا۔
’’ہماری نظر میں نہیں…‘‘
بہرحال میں نے اسے کانسٹیبل کی بیرک میں بھیج دیا اور عملے کو تاکید کردی کہ اس کے کھانے پینے کا معقول بندوبست کیا جائے اور اگر اس کا باپ آئے تو اسے عزت و احترام سے بٹھایا جائے اور اسے بھی چائے پانی پلایا جائے۔‘‘ ابھی میںیہ سب جھنجٹ نمٹا کر فارغ ہوا ہی تھا کہ اکبر خان نے آکر اطلاع دی ۔
’’سر تیاری مکمل ہے‘‘
کچھ دیر کے بعد میں اور اکبر خان سرکاری جیپ میں بیٹھے ٹھیکے دار عثمان کی کوٹھی کی طرف جارہے تھے۔ ہم باقاعدہ وردی میں تھے۔
کوٹھی کے باہر ایک چھوٹا سا میدا ن تھا … ہم نے جیپ وہاں کھڑی کی اور کانسٹیبل اکبر خان نے کوٹھی کے مین گیٹ کے باہر لگی برقی گھنٹی پر انگلی رکھ دی اندر کہیں دور گھنٹی بجنے کی آواز آئی۔پھر کوٹھی کا ذیلی چھوٹا سا گیٹ کھلا اور ایک چھوٹے سے قد کے بندے کی شکل نظر آئی۔اس کا سر بالکل صاف تھا اور آنکھیں تیز ی سے گردش کر رہی تھیں۔وہ ہماری وردی دیکھ کر باہر نکل آیا اور حیران نگاہوں سے ہماری طرف دیکھنے لگا۔
بہرحال کچھ دیر کی مغز کھپائی کے بعد ہم کوٹھی کی سجی سجائی بیٹھک میں بیٹھے مسز عثمان کا جائزہ لے رہے تھے۔ وہ اپنے بھائی کی طرح دھان پان سی تھی۔ عمر پچاس کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔رنگ گورا اور نین نقش اب بھی پرکشش تھے ویسے گزرے سالوں نے اس کے حسن کو کافی ماند کردیا تھا۔
’’بی بی…تمہارا بیٹا اس دنیا میں نہیں رہا۔‘‘ میں نے نپے تلے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا۔
’’اس کا نام نہ لیں…ہم نے اسے بھلادیا ہے ۔ دیکھیں ہم اس کی لاش لینے بھی نہیں گئے۔ میں اس کے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ۔‘‘
’’دیکھیں …خاتون سیانے کہتے ہیں ہاتھی پھرلے گاؤں گاؤں جس کا ہاتھی اس کا ناؤں ۔ پھر میں ایک واقعے کی تحقیقات کر رہا ہوں۔ میں نے عورت ہونے کے ناتے آپ کی عزت کا خیال کیا ہے…‘‘ میں نے چند لمحے توقف کیا پھر خشک لہجے میں کہا۔
’’میں خود چل کر آگیا ہوں…ورنہ آپ اس وقت تھانے میں بیٹھی ہوتیں۔‘‘
’’وہ تو سب ٹھیک ہے ۔ مجھے اختر کے متعلق باتیں کرتے ہوئے دکھ ہوتا ہے۔‘‘ وہ ایک دم جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔
’’مجھے آپ کے دکھ کا احساس ہے…‘‘ میں نے بھی ایک دم لہجے کو نرم کرتے ہوئے کہا ۔ آپ کو اختر سے کیا شکایت تھی۔‘‘
’’میں نے اس کی شادی ایک اچھے اور معزز خاندان میں کی۔ لیکن وہ تو گاؤں کا دلدادہ تھا۔ دو مہینے بعد ہی اس نے اپنی بیوی سے لڑائی جھگڑا شروع کردیا اور ناراض ہو کر گاؤں چلا گیا۔ ویسے مجھے تو ایک اور شک ہے۔ اس نے راز دارانہ لہجے میں کہا۔
میرے کان کھڑے ہوگئے اور میں نے بھی لہجے کو دھیما کرتے ہوئے کہا۔
’’کیسا شک؟‘‘
’’نازو نے اسے اپنے جال میں پھانس لیا تھا۔‘‘
’’کیا…‘‘میں نے حیران نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یعنی آپ کی بھتیجی نے؟‘‘
’’جی ہاں…تبھی تو اس نے اپنی بیوی کے ساتھ نباہ نہیں کیا اور گاؤں چلا گیا۔‘‘
’’کیا آپ کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے؟‘‘
’’ان باتوں کاکوئی ثبوت ہوتا ہے؟‘‘ اس نے منہ ٹیڑھا کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا کبھی اختر نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ نازو سے شادی کرنا چاہتا ہے؟‘‘
’’نہیں…کبھی نہیں… اگر کرتا بھی تو میں کب اسے اپنی بہو بناکے لے آتی؟‘‘
’’کیوں…وہ آپ کے بھائی کی بیٹی ہے…؟‘‘
’’تھانے دار صاحب یہ ہمارے خاندانی معاملات ہیں۔ اس لیے اس موضوع کو آپ نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے۔‘‘
’’اچھا…یہ بتائیں…کیا آپ بھی گاؤں والوں کے اس خیال سے متفق ہیں کہ آپ کے بیٹے کو شیریں فرہاد کی روحوں نے مارا ہے‘‘
’’مجھے ایسی باتوں پر یقین نہیں…‘‘
’’پھر آپ کے خیال میں کیا بات ہوسکتی ہے۔؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اس کے متعلق میں کیا کہہ سکتی ہوں؟‘‘
’’اچھا…اپنی بہو کو ذرا اس بیٹھک میں بھیج دیں اور خود باہر ہی بیٹھیں۔‘‘
’’وہ تو کافی عرصے سے اپنے ماں باپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہے۔جب بیٹا ہی گھر میں نہیں تھاتو…‘‘
اس کے بعد ہم نے اس کی بہو کا پتہ لے کر وہاں سے واپسی کا رخت سفر باندھ لیا تھا۔’’عجیب گورکھ دھندا تھا۔
ویسے ایک الجھن تو دور ہوگئی تھی کہ لاش لینے اختر کے والدین تھانے میں کیوں نہیں آئے تھے۔ میرے علم میں یہ بات آئی تھی کہ نزاکت لاش تھانے سے لے کر گیا تھا اور اسے گاؤں میں ہی دفن کیا تھا۔ اسی قبرستان میں جہاں اس کے بیٹے اور اس کی محبوبہ کی قبر تھی۔
’’یہ بات بظاہر حیرانگی والی تھی کہ کوئی والدین اتنے پتھر دل بھی ہوسکتے ہیں ویسے مجھے فضیلت بیگم عرف مسز عثمان لالچی اور خودغرض لگی تھی۔ ایسی ماں اپنی اولاد کو بھی اپنی جھوٹی انا اور ضد پر قربان کرسکتی تھی۔خیر مجھے اب امید پیدا ہوچکی تھی کہ یہ کیس جلد کسی ٹھکانے لگنے والا تھا۔
جب میں تھانے پہنچا تو میری توقع کے عین مطابق مجھے پتہ چلا کہ نزاکت کافی دیر سے آیا بیٹھا ہے۔
کچھ دیر کے بعد میں نے اسے اپنے کمرے میں بلالیا۔ میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ پریشان اور مضطرب لگتا تھا ۔ یہ تو ایک فطری بات تھی اس کا بیٹا تھانے میں بیٹھا تھا۔
’’تھانے دار صاحب آپ نے صداقت کو کیوں بٹھایا ہوا ہے؟‘‘
’’تمہارا لخت جگر چوہدری قاسم کے مور وں کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔‘‘
’’جناب یہ بالکل جھوٹ ہے۔‘‘
’’پھر سچ کیاہے۔ نزاکت علی۔‘‘ میں ہنس پڑا تاکہ اس کی پریشانی رفع ہو۔
’’یہ تو مجھے پتہ نہیں ہے البتہ ایک بات میرے ذہن میں آرہی ہے۔‘‘
’’کیا بات…کھل کر بات کرو میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں۔ کسی سے ڈرنے کی جھجکتے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘ میں نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔
’’چوہدری قاسم …کوئی خطرناک کھیل ‘ کھیل رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ میں یہ لکھ کر دے دوں کہ …‘‘
’’ہاں …ہاں کہو۔‘‘ میرا تجسس ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔
’’چونکہ اختر نے شیریں فرہاد کی قبروں کی بے حرمتی کی تھی اس لیے ان کی روحوں نے اسے مارد یا ہے۔‘‘
’’چوہدری نے یہ بات کب تمہیں کہی تھی؟‘‘
’’جناب آج ہی اس کا ایک بندہ یہ پیغام پہنچا کر گیا ہے اور ساتھ ہی یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں اگر یہ کام کردوں تو اس کا بیٹا گھر آسکتا ہے۔‘‘
’’اوہ…‘‘ میں یہ بات سن کر ذرا حیران نہیں ہوا۔ کیونکہ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ چوہدری نزاکت کے بیٹے کو تھانے میں پہنچا کر کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ موروں کو چوری کرنے والی بات بچکانہ لگتی ہے۔ میں نے صداقت کو صرف اس لیے تھانے میں بٹھالیا کہ مقصد معلوم ہوسکے۔
’’تم بالکل بے فکر ہوجاؤ ابھی اپنے بیٹے کو ادھر ہی رہنے دو میں نے اسے ملزموں کی طرح نہیں بلکہ مہمانوں کی طرح رکھا ہوا ہے اس میں تمہاری بہتری ہے۔‘‘
بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولا ۔
’’تھانے دار صاحب…اب ہمارا کیا ہوگا…ہم چوہدری کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔‘‘
’’تم اس کی بالکل فکر نہ کرو…اب یہ میری درد سری ہے کہ چوہدری کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ میں جلد ہی انشاء اﷲ اس کیس کو حل کرلوں گا لیکن…‘‘ میں نے چند لمحے اس کے چہرے کی طرف بغور دیکھا۔پھر بولا۔ ’’تمہارے تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘
’’میرے تعاون کی …؟ ‘‘ اس نے زیر لب دہرایا۔ پھر گویا ہوا۔
’’کس قسم کا تعاون؟‘‘
’’اختر کے متعلق۔‘‘ پھر میں نے اسے وہ باتیں بتائیں جو اس کی بہن اور میرے درمیان ہوئی تھیں۔
’’تھانے دار صاحب …اب اختر اس دنیا میں نہیں رہا۔ اس لیے آپ شاید میری باتوں کا یقین نہ کریں۔ لیکن جو حقیقت ہے وہ میں آپ کے گوش گزار کردیتا ہوں۔‘‘
’’اختر نازو کو اپنی کزن سے زیادہ بہن سمجھتا تھا…بات دراصل اتنی سی ہے کہ اسے اپنے گھر کا ماحول پسند نہیں تھا۔ وہ گاؤں کے ماحول میںپلا بڑھا تھا ۔ اسے اس دریا سے عشق تھا ۔ یقین کریں …جب اسے بتایا گیا کہ اس کی شادی اونچی سوسائٹی کی روح رواں مہہ جبین سے ہورہی ہے تو اس نے مجھے کہا۔‘‘
’’ماموں میں یہ شادی نہیں کروں گا۔‘‘
میں نے اسے سمجھایا ۔
’’بے وقوفی نہ کرو…شادی کرلو …ورنہ تمہاری ماں نازو کو بدنام کردے گی۔‘‘اس نے کہا تھا ۔
’’ماموں جان …میں نازو کو اپنی سگی بہن کی طرح سمجھتا ہوں۔ میں اس پر کوئی الزام نہیںآ نے دینا چاہتا ۔ اس لیے میں یہ سولی چڑھ جاؤنگا۔ ‘‘
میں نے سوچا یہ سب جذباتی باتیں ہیں۔ دھیرے دھیرے سب ٹھیک ہوجائے گا اور واقعی ہوا بھی ایسے ہی وہ اسے لے کر یہاں بھی کئی دفعہ آیا تھا۔ آپ کو یہ بات بھی بتادوں کہ میرے پاس دو کشتیاں ہیں۔ کشتی رانی اختر کا محبوب مشغلہ تھا وہ نازو اور مہہ جبین کو کئی دفعہ کشتی میں بٹھا کر دریا کی سیر کو لے کر گیا تھا۔ لیکن کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ وہ پریشان رہنے لگا ۔‘‘ میں نے کئی بار پوچھا بھی لیکن وہ ہنس کر ٹال جاتا تھا۔‘‘آخر ایک دن نازو نے اسے پوچھا۔
’’اختر بھائی کیا بات ہے…؟ آج کل آپ بہت پریشان رہتے ہیں۔ کہیں بھابھی سے کوئی جھگڑا تو نہیں ہوگیا؟‘‘ وہ نازو کے سامنے رو پڑا اور بولا۔
’’میں ایک بند گلی میں آگیا ہوں نہ آگے جاسکتا ہوں اور نہ ہی پیچھے آسکتا ہوں۔ مجھے مہہ جبین سے محبت ہوگئی ہے۔ لیکن وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔ وہ اپنے کزن کے ساتھ شاپنگ کے لیے چلی جاتی ہے۔ ایسی بولڈ محفلوں میں جاتی ہے جو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ عورت گھر کی چار دیواری کے اندر ہی محفوظ رہتی ہے اس کی عزت اور توقیر گھر کے اندر ہی محفوظ رہتی ہے ۔ لیکن وہ میری باتوں سے مشتعل ہوجاتی ہے اور پتہ ہے نازو بہن ایک دن مجھے یہاں تک کہہ دیا کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم اتنے دقیانوسی خیالات کے مالک ہو۔ میں گھر کی چار دیواری کے اندر گھٹ گھٹ کر نہیں جی سکتی۔ تم مجھے اپنے پیروں کی دھول بنانا چاہتے ہو۔‘‘
’’میں نے اسے پیار سے سمجھایا کہ میں اس سے بے انتہا محبت کرتا ہوں وہ میرے دل کی ملکہ ہے لیکن اب میں کیا کروں وہ اپنی ڈگر سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ میں مرجاؤنگا اس کے بغیر زندگی محال ہے۔‘‘
نازو نے اسے سمجھایا ۔
’’اختر بھائی آپ کچھ عرصے ادھر ہی رہ جائیں ۔ بھابھی کو آپ کی قدر آجائے گی اور وہ آپ کو خود آکر لے جائے گی۔‘‘
’’مجھے امید نہیں…خیر فی الحال تو میرا وہاں جانے کو دل نہیں کر رہا۔‘‘
اور…جب بات مجھ تک پہنچی تو میں نے بھی اسے تسلی دلاسہ دیا اور ایک کشتی اس کے حوالے دی کہ وہ مسافروں کو ادھر سے ادھر پہنچاتا رہے۔ اس طرح اس کا دل بھی بہلا رہے گا اور جو آمدنی ہو اس سے اپنا خرچ چلاتا رہے۔
’’یہ کتنے افسوس کی بات ہے تھانے دار صاحب لاکھوں کا ملک اور تہی دست۔‘‘
’’ہم نے اس کی ذہنی حالت کے پیش نظراسے اپنے پاس رہنے کے لیے کہا تھا۔ ہم اسے سہارا نہ دیتے تو وہ یاتو پاگل ہوجاتا یا دریا میں چھلانگ لگا دیتا۔ ‘‘ وہ خاموش ہوگیا اور یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی سانس رک گئی ہو۔
اس دوران میں یہ بھول ہی گیا تھا کہ ہم تھانے میں بیٹھے ہیں ۔ میں نے سکوت کو توڑتے ہوئے کہا۔
’’نزاکت علی …تم بے فکر ہوکر جاؤ…میں ساری بات سمجھ گیا ہوں اور تمہاری بات پر یقین بھی آگیا ہے۔ اب صرف ایک آخری بات بتاؤ۔ جس صبح اختر کی لاش قبرستان سے ملی تھی وہ رات کو کس وقت گھر سے نکلا تھا اور کیا بتا کر گیا تھا؟‘‘
’’وہ رات کو روز ہی باہر جاتا تھا اور جب جی چاہتا تھا واپس اکر سوجاتا تھا۔ یہاں تھانے دار صاحب چوری چکاری کا تو بالکل دھڑکا یا ڈر نہیں ہے ۔ اس لیے دروازہ کھلا رہتا ہے۔ ‘‘
’’عجیب بات ہے ۔بہرحال آخر صبح تو آپ کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ وہ اپنے کمرے میں نہیں ہے۔‘‘
’’وہ ذرا دیر سے اٹھتا تھا اس سے پہلے کہ ہمیں کوئی شک ہوتا یہ ہولناک اطلاع ہم تک پہنچی کہ قبرستان میں اس کی لاش پڑی ہے۔‘‘
بات وہی آپہنچیں جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ بہرحال نزاکت علی کے جانے کے کچھ دیر بعد اے ایس آفاق کی شکل نظر آئی۔ اس کی شکل نظر آئی تو مجھے یہ بھی یاد آگیا کہ میںنے اسے کوئی کام کرنے کے لیے کہا تھا اور جب میں نے اس سے کام کے متعلق استفسار کیا تو اس کے جواب سے میرے اندر باہر روشنی ہوگئی۔ منجر عورت نے اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیا تھا ۔ مجھے مہہ جبین سے بھی ایک چھوٹا سا انٹرویو کرنا تھا یہ اسی شام کی بات ہے ۔ میں سپاہی خورشید کو لے کر مہہ جبین کی رہائش گاہ پر پہنچ گیا۔
یہ بھی ایک بڑی کوٹھی تھی۔ اس کی بناوٹ بتارہی تھی کہ مکینوں نے کھلا پیسہ لگایا تھا۔ ویسے ہمیں اس سے کیا غرض ہوسکتی تھی ہم جس مقصد کے لیے آئے تھے وہ حاصل کرنا تھا۔ ہم سادہ کپڑوں میں تھے۔
یہاں میں بات کو ذرا مختصر کرونگا۔ کچھ دیر کے بعد میں اور مہہ جبین ایک علیحدہ کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سپاہی کو میں نے ڈرائیور کے پاس جیپ میں چھوڑ دیا تھا۔ ظاہر ہے مجھے تعارف تو کروانا پڑا تھا۔ میں نے مہہ جبین کا بغور جائزہ لیا ۔ وہ گورے چٹے رنگ کی ایک خوب صورت اور سیکس اپیل رکھنے والی عورت تھی۔
اس وقت اس نے اچھی طرح اپنے آپ کو چادر میں لپیٹا ہوا تھا اور کسی طرح بھی الٹرا ماڈرن نہیں لگتی تھی۔
’’بی بی مجھے افسوس ہے کہ تم اس عمر میں بیوہ ہوگئی ہو۔‘‘ میں نے گفتگو کا آغاز کیا۔
’’تھانے دار صاحب میں نے اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی ماری ہے لیکن…‘‘ اس نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسوؤں کو چارد کے پلو سے خشک کرتے ہوئے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’جو کچھ میں بتاؤنگی آپ نے اپنے تک محدود رکھیے گا اب ان باتوں کو دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ میری آپ سے درخواست ہے۔‘‘
’’تم بلا جھجک سب کچھ کہہ دو۔‘‘
’’تھانے دار صاحب جب میری اختر سے شادی ہوئی تو میری ماں اور ساس نے میرے کان میں یہ بات ڈال دی کہ اختر کو اپنے قابو میں رکھنا۔ یہ اس جاہل گنوار نازو پر مرتا ہے اس لیے میں چاہتے ہوئے بھی اختر کے قریب نہ ہوسکی۔ وہ مجھے والہانہ چاہتا تھا۔ دوسرے ہمارے گھر کا ماحول اور سسرال کا ماحول ایک جیسا تھا اختر کو یہ آزادی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اس لیے ہمارے درمیان کچھاؤ کی کیفیت رہتی تھی۔ پھر آخر وہ یہاں سے چلا گیا…اور میری ساس کو یہ بولنے کا موقع مل گیا کہ دیکھو میرا کہنا پتھر پر لکیر ثا بت ہوا۔‘‘ یہاں پہنچ کر وہ چند لمحے کے لیے رکی۔ پانی کا گلاس پیا۔ پھر اس کی آواز دوبارہ میرے کانوں سے ٹکرائی۔
’’میں غلط تھی۔ میںنے نازو سے مل کر یہ اندازہ لگایا کہ وہاں ایسی کوئی بات نہیں تھی پھر ایک دن وہ آیا۔ جب میں اپنے کزن کے ساتھ ڈرائنگ روم میں تنہا بیٹھی ہوئی تھی۔ کہ اختر آگیا۔ وہ ہمیں بیٹھا دیکھ کر چپ چاپ الٹے قدموں سے واپس چلا گیا۔ اس کے بعد وہ اس گھر میں نہیں آیا۔ کچھ دنوں بعد مجھے احساس ہوا کہ مں نے اپنی نادانی میں یہ دن دیکھا ہے ۔ اب میں یہ چاہتی تھی کہ اختر میرے پاس آجائے ۔ میں اسے دنیا بھلا دونگی یہ خواہش بھی تھی کہ میں اس سے یہ کہہ کر منا کر لے آؤں کہ اب میں بدل گئی ہوں…میں تمہارے رنگ میں رنگ گئی ہوں۔ مگر اف یہ انا کی دیوار ۔‘‘
میری ساس نے کہا۔ وہاں ان جاہل گنوار لوگوں کے پاس جانے کی قطعی ضرورت نہیں وہ خود گھر چھوڑ کر گیا ہے۔ خود ہی آئے گا ۔میں سوچنے لگی کہ یہ کیسی پتھر دل ماں ہے مگر مجھے چین کہاں تھا؟ غلطی میری تھی آخر میں یہاں آگئی…یہ کہہ کر آگئی کہ جب اختر آئے گا میں بھی آجاؤنگی معافی مانگ لوں گی ۔ آخر ایک دن اپنی ایک سہیلی کے تعاون سے میں اختر کے پاس پہنچ گئی۔ لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔اختر نے یہ بتا کر میرے سر پر گویا بم پھاڑ دیا کہ اسے ایک لڑکی مل گئی ہے جو اس سے محبت کرتی ہے۔ اب ہمارے راستے جدا ہوگئے ہیں۔ ‘‘
میں رو پڑی ۔ ندامت پانی بن کر میری آنکھوں سے بہنے لگا۔ میں نے اختر کے پاؤں پکڑ لیے۔ وہ جوان مرد تھا۔ میں اس کی بیوی تھی ۔ وہ پگھل گیا اور کہنے لگا۔
’’یہ لڑکی خود میری طرف بڑھی تھی ایک دن کشتی میں بیٹھ کر گئی تھی ۔ اس کے بعد اس نے اکیلی کشتی بک کروائی تھی ۔ دھیرے دھیرے میں بھی اس میں دلچسپی لینے لگا۔ اب بات کافی آگے بڑھ گئی ہے۔ اس کے پاس چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈ ہے۔ جو کیسٹ چلاتا بھی ہے اس نے کیسٹ پر صرف ایک گانا بھرا ہوا ہے…‘‘
’’وگدی ندی دا پانی رانج جا کے مٹرنئی آندا جاکے جیویں جوانی ۔ (بہتی ندی کا پانی اس طرح جا کے واپس نہیں آتا۔جیسے جوانی جا کے واپس نہیں آتی۔) لیکن مہہ جبین اب تم نئے روپ ( جو روپ مجھے پسند ہے ) میرے سامنے آئی ہو تو مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میں اپنے آپ کو دھوکا دیتا رہا ہوں۔ مجھے محبت تو صرف تم سے ہے میں اس لڑکی کو بھی دھوکا دیتا رہا ہوں۔‘‘
میں واپس آگئی …میں اب مطمئن تھی لیکن میرا یہ اطمینان چھ دن سے زیادہ برقران نہ رہ سکا۔ وہ خود تو نہ آیا اس کے مرنے کی خبر مجھ تک پہنچ گئی میں بہت روئی اور روتے روتے بے ہوش ہوگئی۔
’’تھانے دار صاحب مجھے بہت دیر ہوچکی تھی …میرے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔ میں اس کا آخری دیدار کرنے گئی تو وہاں میں روتے روتے ایک بار پھر بے ہوش ہوگئی اور مجھے ڈاکٹر کی تگ ودو کے بعد دو گھنٹے بعد ہوش آیا۔جب میں نے اس سے لڑکی کے متعلق استفسار کیا تو مخبرعورت کی باتوں کی تصدیق ہوگئی۔
میں بوجھل دل کے ساتھ واپس آیا ۔ راستے بھر میں سوچتا رہا کہ ہم اپنی غلطی کا ازالہ کرنے میں اتنا وقت کیوں ضائع کردیتے ہیں کہ وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ اب میں دیر نہیں کر سکتا تھا ۔ میں نے سپاہی عظمت ہیڈ کانسٹیبل رؤف روشن کو ساتھ لیا۔ اور منزل مقصود پر پہنچ گیا۔ ہر بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی تھی۔
ہمارے منزل چوہدری کی حویلی تھی۔ کیونکہ لڑکی چوہدری قاسم کی جوان سال بہن زیبا تھی۔
چوہدری مجھے سپاہی عظمت اور ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ دیکھ کر پریشان ہوگیا اور جب میں نے اس سے کہا کہ میں اس کی بہن زیبا سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں تو وہ مجھے الگ کمرے میں لے گیا اور ایک معقول رقم کی پیش کش کی۔ پھر ہاتھ جوڑ کر بولا۔
’’اب میری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
میں نے کہا۔
’’چوہدری صاحب مجھے شرمندہ نہ کریں۔ عزت اور ذلت اس باری تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔ اب بات آگے بڑھ چکی ہے۔ آپ اپنی بہن کو بھیج دیں۔‘‘
’’دیکھیں…اس نے ساری بات مجھے بعد میں بتائی تھی ۔ جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ آپ رپورٹ میں یہ لکھ دیں کہ اختر کا گلا شیریں فرہاد کی روحوں نے گھونٹا تھا اور پھر وہ بانسری کی آواز۔‘‘
’’دیکھیں …چوہدری صاحب …مجھے سختی پر مجبور نہ کریں…بانسری کی آواز کا راز بھی میں پا کر رہونگا۔ آپ زیبا کو لے کر آئیں۔ ‘‘
چوہدری بوجھل قدموں سے اٹھ کر چلا گیا پانچ منٹ بعد آکر بتایا کہ زیبا حویلی میں نہیں ہے۔
مجھے غصہ آگیا اور میں جو منہ میں آیا کہنے لگا لیکن چوہدری پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ گم صم تھا پریشانی اس کے چہرے پر نقش تھی ۔ آخر میں نے کہا۔
’’چوہدری صاحب میں حویلی کی تلاشی لینا چاہتا ہوں۔ ‘‘
’’سرچ وارنٹ کے بغیر آپ یہ کام نہیں کرسکتے۔‘‘ چوہدری نے غصے میں کانپتے ہوئے کہا۔
میںنے جیب سے وارنٹ نکال کر اس کے سامنے کردئیے۔
وہ بھونچکا رہ گیا۔ دراصل مجھے پتہ تھا کہ چوہدری ٹیڑھی کھیر ثابت ہوگا۔ اس لیے مہہ جبین کی طرف جانے سے پہلے میں نے اے ایس آئی آفاق کو کہا تھا کہ وہ چوہدری کی حویلی کا سرچ وارنٹ لے آئے اور میر ے واپس آنے سے پہلے پہلے اس نے یہ کام کردیا تھا۔ اس کے علاوہ چونکہ معاملہ چوہدری قاسم کا تھا اس لیے میںنے یہاں آنے سے پہلے ایس پی صاحب کو فون کرکے بتادیا تھا ۔
بہرحال ہم حویلی سے بے نیل و مرام واپس آئے۔ زیبا ہمیں کہیں نہیں ملی تھی۔ اب چوہدری نے اسے کہیں بھیج دیا تھا یا وہ پولیس کو دیکھ کر خود ہی ادھر ادھر ہوگئی تھی ۔ ویسے چوہدری کی اکڑ فوں اب ہوا ہوگئی تھی اور اس نے مجھے اس دلیل سے یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ اگر اس نے زیبا کو غائب کیا ہوتا تو حویلی کی تلاشی میں اتنی رکاوٹ نہ بنتا۔
دلیل کافی وزنی تھی …لیکن ابھی میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتا تھا۔ ہوسکتا تھا اس نے اپنے کسی گرگے سے اسے قتل کروا کے لاش کہیں دفن کروادی ہو… عزت اور غیرت میں یہ تو ہوتا ہے اگلی صبح وہ ہوگیا جس کی بہرحال مجھے توقع نہیں تھی۔
نزاکت علی نے اطلاع بھجوائی کہ زیبا کی لاش اس کے جال میں پھنس گئی ہے۔ وہ مچھلیوں کے لیے رات کو جال لگا دیتا تھا۔
میں نے ضروری تیاری کے بعد دو سپاہیوں کو ساتھ لیا اور دریا پر پہنچ گیا ۔ وہاں بیس پچیس لوگ جمع تھے۔ جن میں چوہدری اور اس کے چار گارڈ ز بھی شامل تھے۔ نزاکت کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ میں نے لاش باہر نکلوا کر چارپائی پر ڈلوادی بہر حال ہم نے ضروری کارروائی کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کردی۔
چوہدری کے شانے جھکے ہوئے تھے۔ اس نے اس بار پوسٹ مارٹم کروانے کے راستے میں رخنہ اندازی نہیں کی۔ کبھی کبھی حالات ایسے آجاتے ہیں کہ اچھا بھلا آدمی ڈھے جاتا ہے۔ بہرحال چوہدری قاسم جیسے فرعونوں کے لیے ایسے مکافات عمل آئے ہیں۔
اب سوال یہ تھا کہ آیا زیبا کو دریا میں دھکا دیا گیا تھا یا اس نے خود چھلانگ لگائی تھی۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے سے پہلے یہ عقدہ بھی حل ہوگیا ۔ مجھے تھانے کے پتے پر ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط میں نے اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا تھا۔ لیجئے آپ بھی پڑھ لیجئے۔
’’میں زیبا ہمشیرہ چوہدری قاسم باہوش و حواس یہ اقرار کرتی ہوں کہ میں دریا میں کود کر خودکشی کر رہی ہوں۔ آپ کو میری لاش مل جائے گی ۔ آپ اسے ہتھکڑیاں لگا کر اپنی خواہش پوری کرلیجئے گا…میں عرصہ دو سال سے بیوگی کی زندگی بسر کر رہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں اختر مجھے پسند آگیا۔ اس کے دل میں کیا تھا اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتی تھی لیکن میں تو اس کی دیوانی ہوگئی تھی۔ میں کافی عرصے سے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی سعی کر رہی تھی۔ لیکن وہ پتھر بنا ہوا تھا ۔آخر کچھ عرصہ پہلے یہ پتھر موم ہوگیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی بیوی کے ساتھ نہیں بنی۔ اس لیے وہ ادھر ہی آگیا ہے…عجیب دھوپ چھاؤں کی کیفیت تھی۔ کبھی مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مجھے چاہنے لگ گیا ہے۔ کبھی اس کی آنکھوں میں عجیب سی ویرانی اور بیگانگی ہلکورے لے رہی ہوتی تھی۔
پھر ایک دن اس نے یہ کہہ کر مجھے آسمان سے زمین پر پھینک دیا کہ وہ مجھ سے دل لگی کر رہا تھا ۔ میں اسے بھول جاؤں۔ میںنے اسے کہا۔
’’اختر میں بہت آگے نکل گئی ہوں۔ اب واپسی ناممکن ہے ۔ اگر اس نے دامن چھڑانے کی کوشش کی تو میں اسے ماردونگی یا خود دریا میں کود جاؤنگی۔ ‘‘
اس نے کہا۔
’’لوٹ جاؤ میں اپنی بیوی کے پاس واپس جارہا ہوں۔ وہ بدل گئی ہے اور مشرقی عورت کے روپ میں واپس آگئی ہے۔‘‘
میں دن رات انگاروں پر لوٹنے لگی۔ میں نے اسے پیغام بھجوایا کہ وہ آخری بار مجھے قبرستان میں ملے۔ میری شادی ناکام ہوگئی تھی پہلے ایک مرد نے مجھے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا تھا۔ اب یہ دوسرا مرد میرے ساتھ بے وفائی کر رہا تھا۔ میں نے اختر کو مارنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ میں نے سوچا اگر وہ میرا نہیں بن سکتا تو کسی کا بھی نہیں بننے دونگی۔ میں اسے اس طرح مارنا چاہتی تھی کہ یہ کسی جن بھوت کا کارنامہ لگے۔ میں نے بڑے بڑے دستانے حاصل کیے اور آخر ی ملاقات پر اس کا گلہ گھونٹ دیا۔ میں خود حیران ہوں کہ اس رات میرے اندر اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی۔ میں اختر کو مار کر بھی سکون میں نہیں تھی۔ لیکن یہ سوچ کر کہ خودکشی کرنے سے میرے بھائی کی عزت بالکل ہی تار تار ہوجائے گی ۔ چپ ہو کر بیٹھ گئی۔ میں اس خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ شاید اس کیس کو داخل دفتر کردیا جائے…دراصل میں نے اسی رات کو ہی بھائی جان کو سب کچھ بتادیا تھا۔
پھر اس دن میری ساری خوش فہمی ہوا ہوگئی جب آپ پوری تیار ی کے ساتھ حویلی میں آئے۔ میں پچھلے دروازے سے نکل کر اپنی سہیلی کے گھر آگئی۔ یہیں بیٹھ کر میں یہ خط لکھ رہی ہوں۔ میں نے سہیلی کو سب کچھ بتادیا ہے اور یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اب میرے لیے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ گیا۔
وہ گم صم ہے ۔ میں اس سے درخواست کرونگی کہ یہ خط صبح جا کر ضرور پوسٹ کردے۔ اس بات کی وضاحت ایک بار پھر کردوں کہ مجھے بھائی جان نے نہیں بھگایا تھا بلکہ میں خود نکل گئی تھی۔ میں حویلی سے گرفتار نہیں ہونا چاہتی تھی۔
قارئین …یہ تو زیبا کا خط تھا جو اس نے خودکشی کرنے سے پہلے لکھا تھا ۔ اب مسئلہ رہ جاتا ہے بانسری کی آواز کا۔ یہ دو دن بعد کی رات کا ذکر ہے۔ اچانک طوفان کے آثار نمودار ہوگئے۔ میں نے کانسٹیبل اکبر خان کو اور سپاہی خورشید کو ساتھ لیا۔ اور قبرستان میں پہنچ گیا ۔ اس وقت تک میں تیز ہواؤںکے جھکڑ چلنے شروع ہوگئے تھے ۔
آہستہ آہستہ طوفان میں شدت آنے لگی۔ درخت لرزنے لگے۔ ہم قبروں کے اوپر پچاس سالہ بوہڑ کے درخت کے نیچے کھڑے تھے۔ اچانک ایسی آواز آنے لگی جیسے کوئی نزاع کی حالت میں بانسری بجانے کی کوشش کر رہا ہو۔ آواز واضح نہیں تھی کبھی یہ آواز بانسری کی لگتی اور کبھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہوا ئیں رو رہی ہوں۔
ہم پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ جس میں درخت پر چڑھنے کا سامان بھی تھا۔ ہیڈ کانسٹیبل اکبر خان اس کام کا ماہر تھا اور دلیر بھی تھا۔ اس نے وردی کے اوپر ایک ایسی بلٹ بھی باند ھی ہوئی تھی جیسی آپ نے اکثر بجلی ٹھیک کرنے والوں کے لباس کے اوپر دیکھی ہوگی۔ اس میں صرف ایک چیز کا اضافہ تھا کہ اس میں ایک ایسا خانہ بنا ہوا تھا جس میں ٹارچ جلا کر رکھی جاسکتی تھی۔
ہمارے ساتھ گورکن بھی تھا۔ ہم نے اسے ساری بات بتادی تھی اور یہ بھی بتادیا تھا کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ تقریباً پانچ سالوں سے لوگوں کے لیے معمہ بنی ہوئی تھی بانسری کی غیر واضح آواز کا راز معلوم کرنے کے لیے اس طوفانی رات میں پہاڑوں کا باسی اکبر خان درخت پر چڑھ رہا تھا۔ بڑا پراسرار اور رونگٹے کھڑا کردینے والا ماحول تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہزاروں روحیں بین کر رہی ہوں۔ اور اس میں بانسری کی درد میں ڈوبی ہوئی آواز ( جو مجھے تو غیر واضح ہی لگ رہی تھی) مزید دہشت زدہ کر رہی تھی۔ ہم پولیس والے تو ایسے ماحول کے عادی تھے۔
ہمارے پاس بڑی بڑی ٹارچیں تھیں جو ہم نے جلا رکھی تھیں۔ البتہ گورکن مجنوں کی طرح کانپ رہا تھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد اکبر خان نیچے اتر آیا…وہ ہنس رہا تھا پہلے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس ماحول سے اس کا دماغ الٹ گیا ہو۔ لیکن ایسی کوئی بات نہیں تھی۔
’’سر …کسی ماہر کاریگر نے اس بانسری کو بڑی مضبوطی سے لوہے کے تاروں کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ میں نے جو اندازہ لگا یا ہے وہ یہ ہے کہ بانسری کے سامنے لوہے کی ایک پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ جو ہوا کو آگے جانے سے روکتی تھی۔ اس رکاوٹ سے ایسی آواز پیدا ہوتی تھی۔جیسے کوئی نزاع کے عالم میں بانسری بجارہا ہو۔ باقی اﷲ کی اﷲ ہی جانے۔ پھر اس نے لوہے کی پلیٹ بھی مجھے دکھائی تھی جو وہ اتار لایا تھا۔
طوفان اب بھی جاری تھا البتہ اس کی شدت میںکمی آگئی تھی۔ میں نے غور سے سنا۔ اب صرف ہوائیں شور مچاتی ہوئی گزر رہی تھیں۔بانسری کی کسی قسم کی آواز نہیں تھی۔ آخر میں یہ بات بتاتا چلوں کہ ہمیں وہ بند ہ نہیں مل سکا تھا جس نے بانسری باندھی تھی۔ بہرحال ایک بات طے تھی کہ یہ انسانی ہاتھوں کا کارنامہ تھا ظاہر ہے ہم نے نزاکت کے بیٹے صداقت کو چھوڑ دیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close