Naeyufaq Dec-16

ایک سوسولہ چاند کی راتیں(قسط نمبر4)

عشنا کوثر سردار

تیمور بہادر یار جنگ مسکرایا تھا اس کی آنکھوں میں چمک تھی عین النور اس کی طرف سے نگاہ ہٹا گئی تھی۔
خاموشی میں سوال اور سوالوں کے اطراف بہت سے حاشیے اور دائرے اور دائروں میں دبی سرگوشیوں میں چلتی پھرتی خاموشی مجھے اندازہ نہیں ہو پاتا خاموشی زیادہ بولتی ہے یا آنکھیں اور ان خاموشیوں میں سوال دب کیوں نہیں جاتے؟
تیمور بہادر یار جنگ نے دھیمے لہجے میں کہا تھا۔ عین فوری طور پر نفی میں سرہلانے لگی تھی اگر چہ وہ اس کے مد مقابل نہیں تھا اور فون پر تھا مگر وہ جتاتے ہوئے بولی تھی۔
’’زندگی خاموشی میں چھپے لفظوں کو سمجھنا اور ان کہے معنی ڈھونڈنا ہے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ لفظوں کے معنی کتنے الجھے ہوئے ہیں خاموشی کے راز جان لینے سے تمام الجھنیں سلجھنے لگتی ہیں بشرطیکہ آپ کو سننے سمجھنے کی عادت اور صلاحیت ہو۔‘‘ اس کا انداز جتانے والا تھا۔
’’آپ کی بات سے اتفاق کر بھی لوں تو عین النور پٹودی محبت دور ستاروں کہکشائوں پر بنا کوئی گھر لگتا ہے جس کے بارے میں سوچنا خواب لگتا ہے اور وہاں جا کر رہنا نا ممکن مگر پھر بھی ان کہکشائوں کی دنیا کے بارے میں جاننے کا تجسس کہیں بڑھتا جاتا ہے اور اگر چہ عقل جانتی ہے سب نا ممکن ہے مگر ان ستاروں سے نگاہ ہٹتی نہیں۔‘‘ تیمور دوسری طرف اسے لا جواب کرتا ہوا مسکرایا تھا۔
عین لمحہ بھر کو خاموش رہ گئی تھی پھر کچھ یاد آنے پر یکدم بولی تھی۔
’’ہم آپ سے بعد میں بات کریں گے تیمور فی الحال دادی جان کی بات سننا ضروری ہے شاید وہ ہمیںبلا رہی ہیں مگر وہ پر سکون لہجے میں گویا ہوا تھا۔
’’عین النور پٹوڈی میں نہیں جانتا کہ جہاں ربط نہیں ہوتا وہاںکوئی رشتہ کیسے جڑتا ہے میں غیب کے کلیوں اور مفروضوں کے اعداد و شمار کو سمجھنے کی سعی نہیں کرسکتا مگر مجھے ایک الہام ہوتا ہے جیسے آپ کا ہاتھ تھامنا اور قدم قدم آپ کے ساتھ چلنا اور اس سفر میں آپ کو محظوظ کرنا جیسے میرا حق ہے اور اولین فرض بھی سو آپ چاہیں بھی تو اس سفر میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر چلنے سے مجھے نہیں روک سکتیں۔‘‘ تیمور کا لہجہ جیسے بہت سے راز اپنے اندر رکھتا تھا عین چونک گئی تھی۔
’’ہم ایسے کلیوں اور مفروضوں پر یقین نہیں رکھتے تیمور بہادر یار جنگ ان کی حقیقت کچھ نہیں کیونکہ یہ حقیقت کی نفی کرتے ہیں اور حقیقت کو یہ قبول نہیں۔‘‘ عین کی آواز پر اعتماد تھی اور وہ دوسری طرف مسکرا دیا تھا۔
’’میں ابھی تک اندازہ نہیں کر پایا، سوال آنکھوں میں زیادہ ہیں یا باتوں میں، باتیں مختصر ہوتی ہیں کبھی طویل، سمجھنے میں الجھنیں سر اٹھانے لگتی ہیں مگر آنکھوں کے الجھاوے لا محدود سوالوں میں قید کرنے والے ہیں، ایسے میں تالوں کی چابیاں ڈھونڈنے کی سعی کون کرے گا جبکہ دیکھنے والی نگاہ کو تالے بھی دکھائی دے رہے ہوں سود و زیاں کا شمار کرنا کسے یاد رہے گا۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ کا لہجہ جیسے اسے حیران کن لگا تھا وہ لمحہ بھر کو کچھ بول نہیں پائی تھی اور وہ بات جاری رکھتے ہوئے گویا ہوا تھا۔
’’وہ حیران کن حد تک حیران کن ہے اور میں حیرتوں کا شمار کرتے جیسے کسی گہرے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا ابھرتا رہتا ہوں۔ میں عقل کا سہارا لینا چاہتا ہوں مگر پھر یہ سوچتا ہوں عقل کے کلیے اور مفروضات کی حدود اپنا تعین خود آپ کرتے ہیں اور میں جز و کل کا شمار عقل و فہم سے نہیں، دل سے کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ کس کا ذکر کر رہا تھا کیا اس کھو جانے والی محبت کا، یا کسی اور کا؟تبھی وہ الجھ کر بولی تھی۔
’’کس کا ذکر کر رہے ہیں آپ۔‘‘
’’میری کھوئی ہوئی محبت جو آس پاس نہیں مگر ہر طرف ہے اور ہر گھڑی آس پاس ہے۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
’’یہ کیسی محبت ہے؟‘ وہ چونکی تھی۔
’’میں محدود عقل کے ساتھ کھڑا اسے حیرت سے تکتا سوچتا ہوں اور مجھے مان لینا پڑتا ہے کہ محبت ہر بار، ہر سوال کا جواب دے محبت کے لیے یہ ضروری نہیں، شاید کبھی کبھی کچھ چیزوں کے معنی ہمیں خود تلاش کرنا پڑتے ہیں۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ کیا جتانا چاہتا تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی اور عین الجھتے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔
’’ہم سمجھ نہیں پا رہے تیمور بہادر یار جنگ آپ کی باتوں کے رخ کس سمت جاتے ہیں۔ ہم راستوں میں کھونے لگے ہیں جب کبھی آپ مد مقابل آکر بیٹھیں گے تو یا نہیں واضح ہوسکیں گی۔‘‘ وہ بات کو ٹالتا ہوئی مسکرائی تھی۔
’’نواب زادی عین النور پٹوڈی لفظ کھونے لگتے ہیں صرف اس گمان میں کہ آپ مقابل ہیں میں کہنے کی جسارت نہیں کر پاتا اور لفظوں کے تعاقب میں دوڑنے لگتا ہوں۔ آپ کے روبرو کہنے کی ہمت کہاں سے لائوں گا۔‘‘ وہ مسکرایا تھا عین مسکرا دی تھی۔
’’لفظوں سے کھیلنے کا ہنر سیکھ گئے ہیں آپ تیمور بہادر یار جنگ ہم آپ کے اسلوب پر حیران رہ جاتے ہیں۔ زمانہ کتنا کچھ بدل دیتا ہے تغیر وقت سے کیسے کیسے لوگ بدل جاتے ہیں۔‘‘ وہ دوستانہ انداز میں بولی تھی۔
’’ہاں میں بھی اکثر ہی سوچتا ہوں عین النور پٹوڈی، مگر اس ضمن میں مجھے مان لیتا پڑتا ہے کہ تغیرات کے ساتھ آنے والے زمانے صدیوں تک جگنوئوں کے تعاقب میں رہے ہیں اور جگنو جیسے زمانوں سے آپ کے تعاقب میں رہے ہیں حرف حرف سے روشنی پھوٹتی ہے جب آپ بات کرتی ہیں بہرحال آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا آپ جا کر دادی جان کی بات سن لیں اور ان کو میرا آداب کہیے گا اور جلال کو میرا پیغام دے دیں شام کو ان سے ملنے آئوں گا۔‘‘ تیمور نے گفتگو کا اختتام دیتے ہوئے کہا تھا عین نے سر ہلایا تھا۔
’’بہتر ہے ہم آپ کا پیغام دیں گے۔‘‘ اس نے کہہ کر فون رکھ دیا تھا اور جانے کیوں کئی لمحوں تک معمول کے کام نمٹاتے ہوئے وہی لب و لہجہ اور آواز سماعتوں میں گونجتے رہے تھے۔
خ…خ…خ
’’کیا ہوا تمہیں فتح النساء بیٹا اتنی چپ چاپ کیوں بیٹھی ہیں آپ۔‘‘ بوا نے اس کا من پسند گاجر کا حلوہ اس کے سامنے رکھا تھا فتح النساء چونکتے ہوئے بوا کو دیکھنے لگی تھی۔
’’بوا ہمارا من نہیں ہے آپ ایسا کریں ساتھ والی نمو کو بجھوا دیں کل بھی آپ کے حلوے کی بہت تعریف کر رہی تھیں۔‘‘ فتح النساء کے کہنے پر بوا نے اسے بغور دیکھا تھا۔
’’معاملہ کیا ہے، ہمیں بھی تو پتا چلے ایسے تیور کیوں بنا رکھے ہیں ایسے سر جھاڑ منہ پھاڑ پڑی ہیں جیسے اللہ نہ کرے کوئی سانحہ گزر گیا ہو، ہم سے تو آپ کا ایسا اترا ہوا چہرہ دیکھا نہیں جاتا، صاف بتائیے مدعا کیا ہے کس بات کا قلق ہے یہ ہر شے میسر ہے کسی بات کا کوئی کمی نہیں ہونے دی کبھی ہم نے تو جان وار دی آپ پر آپ کو کسی بات کا کوئی احساس ہی نہیں، ماں نہیں ہیں مگر ہم ماں جیسے تو بنے ہیں کہیے اگر ہم سے کوئی بھول چوک کبھی سر زد ہوئی ہو تو آپ کو کوئی کمی محسوس ہونے دی ہو تو۔‘‘ بوا اس کی افسردگی پر مدہم لہجے میں بولی تھیں۔ ان کا انداز ان کے اندر کے اس دکھ کا غماز تھا جو وہ فتح النساء کے لیے محسوس کر رہی تھیں۔ فتح النساء نے ان کے ہاتھ تھام لیے تھے۔
’’بوا آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں آپ کے احسانات تو ہم کبھی چکا ہی نہیں سکتے ماں اور باپ دونوں کی محبت دی ہے آپ نے ہمیں ہم آپ سے شکایت کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے۔‘‘ وہ جتاتے ہوئے بولی تھی اور بوا نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’ہمارا مدعا یہ ہے کہ ہم کوئی احسان نہیں جتانا چاہتے ہمیں آپ کی خوشی درکار ہے بس ایک ہنسی آپ کے چہرے پر اور ہم اس پر خوش ہوجائیں گے ماں بچے کی خوشی کو مقدم جانتی ہے۔‘‘ ہمیں بس اس سے غرض ہے کہ آپ خوش رہیں آپ افسردہ ہوں گی تو ماں کیسے مسکرائے گی۔ ہم تو چلتے پھرتے آپ کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ہی سانس لے رہے ہیں جانے یہ سانس کب رک جائے اور…!‘‘
’’بوا برائے مہربانی آپ ایسی باتیں کرنے کا عمل ترک کردیں ہم ایسی کوئی بات آپ کے منہ سے دوبارہ سننا گوارا نہیں کریں گے۔‘‘ عین نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا تھا بوا اس کا چہرہ محبت سے تھام کر اس کی پیشانی پر پیار کرتے ہوئے مسکرائی تھیں۔
’’آپ کی خوشی ہمارے سانس لینے کا باعث ہے۔ فتح النساء آپ چاہتی ہیں کہ ہم خوش رہیں تو اس بوڑھی بوا پر ایک احسان فرما دیں۔ آپ خوش رہیں آپ کی خوشی ہمیں خوش کرتی ہے۔‘‘ بوا نے کہا تھا اور فتح النساء نے ان کو خاموشی سے دیکھا تھا۔
’’اب آپ ایسے کیا دیکھ رہی ہیں کوئی نیا سوال آپ کے دماغ میں کھد بھد تو نہیں مچانے لگا۔‘‘ بوا نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے قیاس آرائی کی تھی وہ بوا کی سمت سے نگاہ پھیر گئی تھی اور مدہم لہجے میں بولی تھی۔
’’نواب سیف الدین پٹوڈی چاچا نے ہماری کفالت کا ذمہ کیونکر لیا، یہ حویلی ہمیں دان کیوں کردی جب اپنوں نے سب چھین لیا تھا تو انہوں نے یہ کرم کیوں کیا، ہمارے ابا جان کی وفات کے بعد جب زمانے نے ان کی جائیداد پر قرعہ فال ڈال کر بانٹ لیا تو سیف چاچا نے نیکی کرنے کی کیوں ٹھانی؟‘‘ اس نے مدہم لہجے میں پوچھا تھا اس کی آنکھوں میں کئی سوال مزید تیر رہے تھے اور بوا اسے دیکھ کر رہ گئی تھیں پھر گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولی تھیں۔
’’نواب صاحب خدا ترس آدمی ہیں پھر وہ آپ کے ابا جان کے قریبی دوستوں میں سے ہیں جب دوست کو اتنا عزیز جانتے تھے تو اس کی اولاد کا خیال کیسے نہ کرتے آپ کے ذہن میں دراصل کس بات کا خناس سما گیا ہے یکدم سے کس نے کیا کہا۔‘‘ بوا نے اسے گھورا تھا۔
’’کیا ہم اپنے چچائوں اور پھوپھیوں سے مل سکتے ہیں۔‘‘
’’اب یہ کیا سوال ہوا آپ کو یکدم سے تجسس میں گھر گئیں فتح النساء یہ تو کوئی بات نہ ہوئی اکیس برس تک تو آپ نے کچھ نہ پوچھا، نہ جاننے کی کوئی لگن سامنے آئی پھر آج اچانک کیسے؟‘‘ بوا کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔
’’بس ہم جاننا چاہتے ہیں ہمارا حق ہے ہمارے ابا جان کے رشتوں سے ملنا کیا نہیں مل سکتے ہم۔‘‘ فتح النساء سوالیہ نظروں سے بوا کو دیکھنے لگی تھی۔
’’کیا کریں گی آپ ان سے مل کر، خون سفید ہوگیا ہے آپ کے ان رشتوں کا، چند ماہ کی تھیں آپ جب آپ کو گود میں لیا تھا ان کو اتنا خیال ہوتا تو کیا وہ تب آپ کی پروا نہ کرتے۔‘‘ بوا نے جتایا تھا۔
’’بے شک وہ ہماری پروا نہ کرتے ہوں، مگر ہم ان سے ایک بار ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ ارادہ باندھ کر مضبوط لہجے میں بولی تھی۔
’’جانے کیا ٹھانے بیٹھی ہیں آپ مگر جان لیجیے ان سے مل کر بھی تشفی نہیں ہوگی آپ کی فتح النساء ایسے رشتے دار ملنے کے لائق نہیں ہیں درانتی کی طرح جڑیں کاٹتے ہیں اور دیمک کی طرح کھوکھلا کرتے ہیں ہم نہیں چاہیں گے کہ ان میں سے کسی کا سایہ بھی آپ پر پڑے اور اب اس گفتگو کا سلسلہ یہیں برخاست کردیں تو مناسب ہوگا ہم اس معاملے میں مزید کوئی بات چیت نہیں چاہتے۔‘‘ بوا حتمی انداز میں کہتے ہوئے اٹھ گئی تھیں اور فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔
خ…خ…خ
’’اف اماں اتنے دلکش و دلفریب زیورات، آپ کی شادی کے ہیں چمک سے آنکھیں خیرہ ہو رہی ہیں۔‘‘ عین النور نے ماں کے قیمتی زیورات کو حیرت سے دیکھا تھا۔
’’آپ کی پڑ دادی اماں نے ہمیںیہ زیورات تحفے میں دیے تھے۔‘‘
’’اف اتنے نادر و نایاب نمونے اس سے قبل ہم نے نہیں دیکھے کم کی مہارت کا جواب نہیں کیا ہم یہ زیورات پہننے کی غرض سے لے سکتے ہیں۔‘‘ عین نے زیورات کو اٹھا کر ہاتھ میں لے کر دیکھا تھا اماں مسکرائی تھیں۔ ؎
’’یہ سارے زیورات آپ کے لیے ہی سنبھال رکھے ہیں۔‘‘
’’ہمارے لیے۔‘‘ عین حیرت سے آنکھیں کھولتے ہوئے مسکرائی تھیں۔ اماں نے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا تھا۔
’’لیکن اتنے سارے زیورات کا کیا کریں گے ہم کچھ جلال کی دلہن کے لیے بھی چھوڑ دیں ہماری بھابی بھی اہمیت کی حامل ہیں۔‘‘ عین نے زیورات کو اشتیاق سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
دادی جان تخت پر بیٹھی اسے دیکھ کر مسکرائی تھیں۔
’’عین کا دل ہمیشہ کسی اور کے لیے پہلے سوچتا ہے اپنے لیے بعد میں اپنی پڑ دادی پر چلی گئی ہے رحم دل اور ایثار پرست مگر آپ جلال کی دلہن کی فکر مت کریں اس کے لیے زیورات ہیں ہمارے پاس ہم دے دیں گے اس سے بھی نادر و نایاب نمونے ہیں آپ اس بارے میں فکر نہ کریں۔‘‘ دادی جان مسکرائی تھیں عین مسکرا دی تھی۔
’’ہمیں تو فکر ہونے لگی تھی بہرحال اماں اگر آپ چاہیں تو ہمارے کچھ زیورات محدود کر کے ہماری بھابی جان کے لیے بھی کچھ بچا رکھیں۔‘‘ عین نے مشورہ دیا تھا دادی پان پر چونا لگاتے ہوئے مسکرائی تھیں۔
’’چاند سی دلہن لائیں گے ہم اپنے جلال کی لکھنو کے نواب زادہ ہیں کوئی عام لڑکی تو نہیں ڈھونڈیں گے ان کے لیے۔‘‘ دادی جان کے کہنے پر عین مسکرائی تھی۔
’’دادی اماں، فتح النساء کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے آپ لوگ کتنی پیاری سلجھی ہوئی لڑکی ہیں وہ ہماری سہیلی ہیں اور ہمیں تو بہت عزیز ہیں۔‘‘ عین نے فتح النساء کا تذکرہ کیا تھا اماں خاموشی سے زیورات سنبھال کر دوبارہ صندوق میںر کھنے لگی تھیں اور دادی جان نے بھی جیسے کان لپیٹ لیے تھے اور تذکرہ ہی بدل دیا تھا۔
’’حمیدن باورچی خانے سے نکل کر کبھی باہر بھی جھانک لیا کریں آپ بارش کا موسم ہو رہا ہے بادل گھر گھر آرہے ہیں جائیے آپ فوراً چھت سے کپڑے اتار لائیں۔‘‘ دادی جان حمیدن سے مخاطب ہوئی تھیں۔
’’دادی جان ابھی تو دور دور تک بارش کا کوئی پتا نہیں میں آپ کی کھیر کے لیے بادام کتر رہی تھی آپ اجازت دیں تو میں واپس جا کر کام جاری رکھوں میں زہرہ بی بی سے کہہ دیتی ہوں وہ پکڑے اتار لائیں گی یوں بھی سجنے سنورنے کے علاوہ وہ اور کسی کام کو تو ہاتھ لگاتی نہیں بہت سر چڑھا رکھا ہے آپ نے انہیں۔‘‘ حمیدن بوا نے شکایت کی تھی۔
’’آئے ہائے بے چاری بن ماں باپ کی بچی ہے خدا ترسی بھی کوئی چیز ہے حمیدن ایسے مت کہا کریں آپ کو ایسی باتیںزیب نہیں دیتیں ہم نے ملازمین اور گھر کے افراد میں کبھی تفریق نہیں جانی اور زہرہ بی بی تو آپ کے بھیا کی اکلوتی اولاد ہیں بتائو کبھی اگر ہم نے عید یا شب برات پر کبھی زہرہ بی بی کو دینے میں کوئی بھول چوک کی ہو، ہم اسے گھر کی بچی ہی سمجھتے ہیں اور آپ بھی تو اس کی بوا ہیں نا کچھ حقوق تو آپ پر بھی واجب ہوتے ہیں۔‘‘ دادی جان نے حمیدن بوا کو لتاڑا تھا وہ دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
’’اچھا جا ادیب کو بھیج اپنے نام کے بالکل الٹ ہیں موصوف اس محل کے ملازمین کی فوج میں کیسے کیسے نمونے بھرے ہیں اس کی خبر ہمیں ہوتی رہتی ہے۔ اکثر مگر اب کیا کریں برخاست بھی نہیں کرسکتے اللہ کو ناراض نہیں کرنا نا کسی کا رزق روٹی محل میں لکھا ہے تو اس سے یہ حق کیسے چھینیں خدا ترسی بھی اللہ نے ہمیں ہی نوازنی تھی۔‘‘ دادی جان جان نے کہا تھا حمیدن مسکرا دی تھیں۔
’’اماں آپ کا دل بڑا ہے اور بڑے دل والوں کو اللہ اور کرم سے نوازتا ہے جب وہ زمین پر کرم کرتے ہیں۔‘‘ حمیدن بوا کے کہنے پر دادی اماں نے سر ہلا دیا تھا۔
’’دیکھ لے جو پسند ہے وہ اٹھا لے جو نہیں پسند میں واپس صندوق میں رکھوا کر تجوری میں واپس رکھوا دیتی ہوں۔‘‘ اماں نے عین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا عین مسکرا دی تھی۔
’’اماں ایسے کیسے بتا دیں ہم فتح النساء آئے گی تو اس سے پوچھ کر مطلع کردیں گے آپ کو ہم سے اکیلے کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔‘‘ عین النور نے کہا تھا تو اماں نے اسے گھورا تھا۔
’’فتح النساء کے بنا کچھ نہیں کرسکتی آپ کیا دم چھلا بنا رکھا ہے آپ نے اسے اپنی برابری پر لا کر کھڑ کرلیا ہے اب کیا فتح النساء نواب زادی عین النور کو بتائیں گی کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا؟‘‘ اماں نے ناگواری سے کہا تھا۔ دور بیٹھی دادی جان نے انہیں چشمے کے پیچھے سے دیکھا تھا۔
’’ارے بہو بیگم کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ فتح النساء نواب زادی عین النور کی سہیلی ہیں اور اس گھر میں انہیں وہی عزت و مقام دیا جاتا ہے جو ہماری نواب زادی عین النور کو ہے اب آپ برابری کی باتیں تو جانے ہی دیں آئندہ ایسی چھوٹی باتیں مت کیجیے گا ہمارے سامنے ۔‘‘ دادی جان نے تنبیہ کی تھی اماں کان لپیٹ کر بنا کچھ کہے زیورات سمیٹنے لگی تھیں اور تب عین بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
خ…خ…خ
’’لیجیے میاں بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی آپ کے عشائیے کی باتیں تو اب بھی زیر بحث بنی ہوئی ہیں عجیب بات ہے کہ کانگریس والوں میں آپ کی اس بیان بازی کو تنقیدی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔‘‘ حکمت بہادر یار خان نے کہا تھا اور نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’کرتے رہیں تنقید ہم ایسی باتوں کی پروا نہیں کرتے یوں بھی جس طور تحریک کا عمل تیز ہو رہا ہے اور فرنگیوں کی حمایت مسلم لیگ کو حاصل ہو رہی ہے اور جو امپورٹنس مسلم لیگیوں کو مل رہی ہے اس پر کانگریس بپھر رہی ہے وہ سمجھ رہے تھے ان کے موقف کی حمایت ہوگی اور ان کی سنی جائے گی اور مسلمان ہاتھ ملتے رہ جائیں گے مگر ایسا ہوا نہیں اور یہی بات ان کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہی ہے۔ دراصل ان سے مسلمانوں کی نفسیاتی فتح ہضم نہیں ہو رہی۔‘‘ نواب صاحب پر سکون انداز میںمسکراتے ہوئے شطرنج کی چال چلنے لگے تھے۔
’’یہ بات تو صاف سمجھ میں آتی ہے نواب صاحب کہ اب یہ تحریک بے کار جانے والی نہیں جو خواب ہندو دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے انگریزوں نے جس طور راج چھین لیا تو اب اس پر بندر بانٹ والا کھیل کھیلا جائے گا تو وہ خود ہی اپنی سوچ پر شرمندہ ہو کر رہ گئے ہیں ان کے راج کرنے کی تمنا اب پوری ہونے والی نہیں، ان کے ہاتھ وہ راج کبھی نہیں آئے گا مسلم لیگ ایسا ہونے نہیں دے گی۔‘‘ حکمت بہادر یار جنگ مسکرائے تھے۔
نواب صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’کل کی مسلم لیگ کی بیٹھک میں آپ کے سپوت بھی براجمان تھے حکمت صاحب ان سے گفتگو کا شرف حاصل ہوا ماشاء اللہ کیا مدبر گفتگو کرتے ہیں کس قدر دلائل کے ساتھ اس دن عشائیے پر دیکھا تھا بہت چپ چاپ سے لگے تھے دیکھ کر اندازہ نہ تھا کہ وہ بچہ جس کا بچپن ہمارے گھر کھیلتے گزرا ہے وہ ایسا ہونہار نکلے گا۔‘‘ نواب سیف الدین نے تیمور بہادر یار جنگ کی تعریف کی تھی حکمت صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’نوازش ہے سیف صاحب جب آپ اپنے سپوت کو پڑھنے کے لیے انگلستان بجھوا رہے تھے تو مجھے بھی ہمت ہوئی تھی، جلال اور تیمور بچپن کے دوست ہیں سو مجھے لگا دونوں کو ایک دوسرے کی رفاقت میسر رہے گی تو تعلیمی مدارج طے کرنے میں آسانی رہے گی بہرحال دونوں بچے ہونہار ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ دونوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے اپنے نئے جوش اور ولولے کی ضرورت اس تحریک کو تھی اب وقت آگیا ہے جب نیا اور پرانا خون مل کر اس تحریک کو آگے بڑھا رہا ہے اور خواتین بھی اس میں معاونت کر رہی تھیں۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا اور سیف صاحب نے سر ہلایا تھا گویا وہ اتفاق کر رہے تھے۔
خ…خ…خ
فتح النساء عین النور پٹوڈی کو ڈھونڈتے ہوئے ٹیرس پر آئی تھی جب سامنا جلال الدین پٹوڈی سے ہوگیا تھا وہ فوراً مڑ کر وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی جب اس کی بھاری آواز نے قدم روک لیے تھے۔
’’فتح النساء۔‘‘ جلال نے پکارا تھا اور فتح النساء کے قدم وہیں تھم گئے تھے مگر اس نے فوری طور پر مڑ کر نہیں دیکھا تھا اس دن کے واقعے کے بعد وہ دانستہ جلال کا سامنا کرنے سے گریز کر رہی تھی اور جلال جیسے اس بات کو بھانپ گیا تھا سو چلتے ہوئے سامنے آن رکا تھا اور فتح النساء کے لیے جیسے فرار کے تمام راستے مسدود ہوگئے تھے وہ اسے سامنے دیکھ کر لمحہ بھر کو بھونچکی رہ گئی تھی کچھ بولنے کا یارا ہی نہیں رہا تھا زبان گنگ رہ گئی تھی اور وہ اس کی سمت دیکھ بھی نہ رہی تھی۔ پہلی نگاہ جو دانستہ پڑی تھی تو وہ فوراً ہی چہرے کا رخ پھیر گئی تھی۔ جلال نے اسے بغور دیکھا تھا اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کی رفتار بڑھنے لگی تھی لانبی پلکوں پر جیسے کوئی بوجھ آن پڑا تھا وہ اس کی سمت دیکھنے کی ہمت نہیں کرسکتی تھی۔
’’آپ ہمارا سامنا کرنے سے کنی کیوں کترانے لگی تھیں۔‘‘ جلال الدین پٹوڈی نے پوچھا تھا۔
’’نن… نہیں ایسی بات نہیں نوابزادہ جلال الدین پٹوڈی ہم آپ سے کنی کیوں کترانے لگے۔‘‘ اس نے جلال کی سمت دیکھنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے کہا تھا اور تب جلال نے انہیں بغور دیکھا تھا اور آہستگی سے گویا ہوئے تھے۔
’’جلال… جلال نام ہے ہمارا آپ ہمیں جلال کہہ کر بھی بلا سکتی ہیں فتح النساء۔‘‘ اس کے جتانے پر اسے اندازہ ہوا تھا کہ وہ کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار تھی۔
’’ہاں ہم جانتے ہیں۔‘‘ اس نے اپنی بوکھلاہٹ پر قدرے قابو پانے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی تھی اور تب جلال نے اس کی سمت دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’آپ ہم سے خوفزدہ ہیں یہ ڈر ہم سے ہے تو اس کا باعث کیا ہے کوئی جواز تو ضرور ہوگا نا۔‘‘ جلال نے اس کا چہرہ بغور دیکھا تھا مگر تب اس نے ہمت کر کے اس کی سمت دیکھا تھا اور سر ہولے سے انکار میں ہلا کر نگاہ کا رخ پھیر گئی تھی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے جلال، ہم آپ سے خوفزدہ بالکل نہیں ہیں اور خوفزدہ ہوں گے بھی کیونکر آپ کو ایسا وہم کیوں ہوا؟‘‘ وہ کوشش کر کے خود کا اعتماد بحال کرنے لگی تھی۔ جلال نے خاموشی سے دیکھا تھا جب وہ جتاتے ہوئے بولی تھی۔
’’نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ بچپن کے دوست ہیں اور ہم آپ سے خوفزدہ ہرگز نہیں ہیں۔‘‘ اسے بھرپور یقین دلانے کی سعی کی تھی۔
’’ہم جانتے ہیں فتح النساء کوئی بات ہے جو آپ کو پریشان کر رہی ہے اگر چہ آپ بتانے پر مائل نہیں ہیں اور ہم جاننے کے لیے اتنے متجسس بھی نہیں ہیں مگر کہہ دینے سے دلوں پر آیا ایک غبار چھٹ جاتا ہے سو کیا مضائقہ ہے جو اگر آپ کہہ کر اس بوجھ کو دل سے اتار پھینکیں۔‘‘ جلال نے بغور دیکھتے ہوئے جتایا تھا تب اس کو متفق ہو کر سر اثبات میں ہلانا پڑا تھا۔
’’آپ بجا فرماتے ہیں جلال مگر ایسی کوئی بات نہیں ہے جو تمہیں پریشان کر رہی ہو۔‘‘ اس نے سچ بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا تھا تب جلال نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
’’جانتا ہوں آپ بتانا نہیں چاہتیں مگر اتنا دبائو دل پر لینا ٹھیک نہیں ہے فتح النساء، مانا اس عمر میں دل مضبوط ہوتا ہے اور اسے خطرات کم ہوتے ہیں مگر دل پر بوجھ مسلسل پڑا رہتا ہے وہ کہیں نہ کہیں دل کو کسی قدر کمزور کر رہا ہوتا ہے۔ میں چاہوں گا اگر آپ سمجھتی ہیں کہ ہم اچھے دوست ہیں یا کبھی رہے ہیں تو آپ دل کا یہ بوجھ اتار کر ہم سے بانٹ سکتی ہیں ہمیں دوست کے دل کا یہ بوجھ لینے میں کوئی قباحت نہیں ہوگی۔‘‘ جلال نے کہا تھا اور اس کے انداز پر وہ آہستگی سے مسکرا دی تھی۔
’’بہت نوازش ہے جلال آپ ہمیں دوست سمجھتے ہیں ہم تو سمجھے تھے اس دوستی کا کوئی وجود باقی نہیں رہا بہرحال آپ کا اس قدر خیال کرنا اچھا لگا دوست ہونے کے ناتے آپ نے جس قدر پذیرائی بخشی اس پر ہم ممنون ہیں۔‘‘ فتح النساء مشکور دکھائی دی تھی۔
’’اتنی مروت کی ضرورت نہیں ہے فتح اچھا یہ بتائیے کسی نے آپ کا دل دکھایا۔ یا کچھ کہا کیا وہ آپ کی دوست عین النور ہیں۔‘‘ جلال نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا تھا اور فتح النساء نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’نہیں، آپ نے سوچا بھی کیسے کہ عین ہمارا دل دکھا سکتی ہیں، عین ہمیں بہت عزیز ہیں اور جو لوگ اس قدر عزیز ہوں وہ تکلیف پہنچانے کا باعث نہیں بنتے۔‘‘ اس نے وضاحت دی تھی اور وہ مسکرایا تھا۔
’’ایسا واجب اور درست نہیں بھی ہوتا فتح النسا بعض اوقات جو لوگ عزیز ہوں وہ دل دکھانے کا باعث بھی بن جاتے ہیں بہرحال ہم اپنی گفتگو میں واپس آتے ہیں اس شام عشائیے میں کچھ تو ہوا تھا جو آپ واپس بھی جلد لوٹ گئی تھیں۔‘‘ جلال بات کی تہہ تک پہنچنے کا جیسے قصد کر رہا تھا اور فتح النساء اس کی تحقیق پر کسی قدر الجھ گئی تھیں۔
’’ہم نے کہا نا ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جلال اور ہوتی بھی تو ہم کہہ دیتے نا۔‘‘ فتح النساء نے انکاری ہوتے ہوئے کہا تھا جب وہ تیزی سے اس کے لبوں پر شہادت کی انگلی رکھتے ہوئے گویا ہوا تھا۔
آپ انکار نہیں کر پائیں گی فتح النساء اگر ہم کہیں کہ ہم نے آپ کو عشائیے کی شام حیدر سراج الدولہ کے ساتھ دیکھا تھا۔‘‘ جلال بولے تھے اور وہ ساکت سی رہ گئی تھی نظریں حیرت سے پھیل گئی تھیں۔ اس کی سانسوں کی رفتار یکدم مدہم ہوئی تھی فقط یہ جان کر کہ جلال نے اسے حیدر کے ساتھ دیکھا تھا اور اگر چہ وہ مدعا نہیں جانتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ بات کیا ہوئی مگر اگر وہ قیاس آرائی پر اتر آتے تو صورت حال فتح النساء کے خلاف جا سکتی تھی تبھی اس نے ہمت کر کے جلال کا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹایا تھا اور اس کی سمت دیکھتی ہوئی مدہم لہجے میں بولی تھی۔
’’جانے آپ کیا قیاس کرنے جا رہے ہیں مگر مدعا یہ ہے کہ ہم وہاں اچانک حویلی کے احاطے میں نکلے تھے جب حیدر میاں سے ہمارا سامنا ہوگیا تھا ہمیں خبر نہیں تھی کہ وہ وہاں موجود ہوں گے اگر خبر ہوتی تو ہم وہاں کا رخ بھی نہ کرتے۔‘‘ وہ جیسے اپنا دفاع کرتے ہوئے بولی تھیں اور جلال نے انہیں خاموشی سے دیکھا تھا اور پھر نرمی سے گویا ہوئے تھے۔
’’ہم آپ سے یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ وہاں حیدر سراج الدولہ کے لیے گئی تھیں یا آپ کا مقصد ان سے ملاقات تھا مگر…!‘‘ جلال بولتے بولتے رکے تھے اور فتح النساء کی جان پر بن آئی تھی۔
’’مگر…!‘‘ اس نے جیسے بہت مشکل سے سانس لی تھی اور جلال نے اس کو بغور جانچتی نظروں سے دیکھا تھا اور مدہم لہجے میں گویا ہوا تھا۔
’’ریلیکس ہم آپ پر کوئی الزام فی الحال نہیں لگا رہے فتح النساء آپ عین کی سہیلی ہیں اور ہم آپ کو اتنا تو جانتے ہیں کہ آپ کا مزاج جان سکیں بہرحال آپ کے لیے پریشان کن بات کوئی نہیں ہے تاہم کوئی تحقیقاتی کمیٹی اس ضمن میں بٹھا رہے ہیں ہم حسرت سے قیاس آرائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صورت حال کیا رہی ہوگی۔‘‘ جلال اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے تھے یہ ابھی فتح النساء کی سمجھ میں نہیں آیا تھا وہ انہیں حیدر کے ساتھ دیکھ چکے تھے اور وہ یقیناً نہیں جانتے تھے کہ ان کے درمیان کیا بات چیت ہوئی تھی مگر وہ یقیناً اپنی ہمیشرہ کے مستقبل کو لے کر کسی قدر متفکر دکھائی دیے تھے ایسا تھا کہ صرف فتح النساء کا کوئی قیاس تھا وہ نہیں جانتی تھی مگر موجودہ صورت حال اس کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن گئی تھی وہ کچھ بولنے کا قصد کر رہی تھی جب جلال مڑا تھا اور چلتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا اور فتح النساء اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
خ…خ…خ
’’عجیب انسان ہیں آپ شعر و شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں آپ کو اس دور میں جب شاعرات اور مشاعروں کا دور ہے اور غزلیات اور نظمیں لکھی کہی جا رہی ہیں اس دور میں آپ سیاست میں کود گئے چلیے ابا جان کی تقلید کرتے ہوئے جلال بھائی تو اس میدان میں اترنے کے لیے پر تول ہی رہے تھے آپ کو کیا سوجھی کہ آپ بھی یکدم سے مسلم لیگ کا حصہ بن گئے۔‘‘ چائے کا سپ لیتے ہوئے عین النور نے تیمور بہادر یار جنگ کو کسی قدر حیرت سے دیکھا تھا وہ مسکرا دیا تھا۔
’’اس میں حیرت کی بات کیا ہے ہم سیاست میں نہیں کودے ہم نے ایک تحریک کا حصہ بننے کی ٹھانی ہے اور ہمارے نزدیک ہم پر واجب اور درست ہے۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ نے کہا تھا اور عین مسکرا دی تھیں۔
’’جانے دیجیے تیمور بہادر یار جنگ ہم نے تو سنا تھا آپ یہاں واپس لوٹنے کی بجائے وہیں فرنگیوں کے دیس قیام کرنے کے لیے پرتول رہے تھے اور یہ تک سنا گیا کہ آپ کو اس غلامی کی زندگی میں واپس لوٹنے سے زیادہ وہاں کی غلامی زیادہ قابل قبول لگ رہی تھی۔‘‘ عین النور پٹوڈی نے مسکراتے ہوئے طنز کیا تھا وہ مسکرا دیا تھا اور چائے کے سپ لیتے ہوئے کسی قدر پر سکون انداز سے عین النور پٹوڈی کو دیکھا تھا۔
’’ایسی کوئی بات کبھی نہیں رہی عین النور پٹوڈی ہم نے ایسا کبھی نہیں کہا کہ ہمیں غلامی قبول ہے ہمارے تایا جان اور چاچا جان فریڈم فائٹرز رہے ہیں جنہوں نے اس سر زمین کے لیے اور آزادی کے لیے لڑتے ہوئے اپنی جانیں دیں۔ انہوں نے جو مظالم سہے ہیں اس کے لیے ہم اپنا سر فرنگیوں کے سامنے جھکا کر ان قربانیوں کو رائیگاں کرنے کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے؟‘‘ تیمور نے کہا تھا اور عین مسکرا دی تھی۔
’’خیر تو ہم نہیں جانتے کہ معاملات کیا ہیں مگر یہ بات تو ہے کہ آپ کو سر جھکا کر اتنی بزدلی کا مظاہرہ کرنا نہیں چاہیے تھا اگر آپ ایسا کرتے تو آپ ہمارے دل سے تو اتر جاتے۔‘‘ اس نے برملا کہا تھا اور تیمور نے اسے بغور مسکراتے ہوئے دیکھا تھا وہ نظریں جیسے بہت کچھ کہہ رہی تھیں اور عین جانے کس بات کی پاسداری کرنے کو اس کی سمت سے اپنا رخ پھیر گئی تھی تبھی وہ مدہم لہجے میں گویا ہوا تھا۔
’’ہم آپ کے دل سے اترنا چاہیں گے یہ آپ نے کیسے سوچ لیا نواب زادی عین النور پٹوڈی۔ لکھنو کی نواب زادی کا دل خالی کرنے اور اپنی نشست ختم کرنے کے بارے میں ہم بھلا کیسے سوچ سکتے ہیں۔‘‘ وہ ذو معنیت سے مسکرایا تھا تبھی عین فوراً بولی تھیں۔
’’بات کا رخ کسی ریل گاڑی کی طرح ایک پٹری سے دوسری پٹری پر جا رہا ہے تیمور بہادر یار جنگ ہمارا مقصد وہ نہیں تھا ہم نے تو بات کی تھی آپ تو کھال نکالنے لگے۔‘‘ عین نے اس کی کلاس لی تھی وہ مسکرا دیے تھے۔
’’جن زادہ ہوں نا انسانوں کی دنیا سے ربط جوڑنے کے چکر میں عجیب بے ربط ہو رہا ہوں۔‘‘ تیمور مسکرایا تھا۔ عین النور اسے دیکھتے ہوئے نگاہ پھیر گئی تھی۔
’’آپ باتوں کو یاد رکھتے ہیں بھولتے نہیں۔‘‘
’’باتیں بھولنے کے لیے نہیں ہوتیں عین النور پٹوڈی باتیں بھول جائیں تو حوالے بھی ذہن سے محو ہونے لگتے ہیں ایسے میں عجیب کشمکش والی صورت حال سے سابقہ پڑ جاتا ہے۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا وہ خاموشی سے دیکھنے لگی تھی۔
’’آپ خوش نہیں ہیں۔‘‘ اس کے دیکھنے پر جانے کیوں تیمور نے پوچھا تھا۔
’’یہاں اس سوال کی کیا وجہ بنتی ہے۔‘‘ عین نے ان کی سمت دیکھے بنا کہا تھا تیمور نے اس کی سمت بغور دیکھا تھا پھر شانے اچکا دیے تھے۔
’’میں نہیں جانتا نواب زادی عین النور میں نے کبھی اس درجہ ناپ تول کر گفتگو نہیں کی میں آپ کی دنیا کے راہ و رسم اور طور طریقے قبول کرنے سے قاصر ہوں۔‘‘ اس کی دھیمی مسکراہٹ اور آنکھوں کی چمک جیسے اس بات کی غماز تھی کہ وہ صورت حال سے بھرپور طور پر محظوظ ہو رہا تھا۔
’’اگر ہمیں خبر ہوتی کہ آپ ایسی طبیعت کے ہوں گے تو میں۔‘‘ اس نے سلگ کر کہا تھا اور ان کی سرخ ناک اور آنکھیں دیکھ کر تیمور مسکرا دیے تھے۔
’’کہکشائوں کو آنکھوں میں چمکتے دیکھنے کا تجربہ یقیناً حیران کن ہے میں نہیں جانتا تھا کہ تاروں کو دوڑتے بھاگنے دیکھنے کے اس عمل میں محبت کس طرح وقوع پزیر ہوتی ہے اور دل کیسے بازی ہارتا ہے مگر میں ان آنکھوں میں رنگوں کے شمار کو دیکھتے رہنا چاہتا ہوں کیونکہ ان شفاف آئینوں میں تارے چمکنے اور ٹوٹتے کا یہ عمل یقیناً دلچسپی لیے ہوئے ہے جو نگاہ اور دل کو باندھ دیتا ہے۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ کا لہجہ مدہم تھا اور عین اس کی سمت سے نگاہ ہٹا گئی تھی اور مدہم لہجے میں بولی تھی۔
’’ہم خوش ہیں خوشی دکھائی دینے والی شے ہوتی تو بھرپور دکھائی دیتی مگر دل میں خوشی کا احساس فقط چہرے یا آنکھوں سے ممکن نہیں ہے تیمور بہادر یار جنگ۔‘‘ اس نے گویا جتایا تھا جب تیمور بہادر یار جنگ نے اس کی سمت کسی قدر حیرت سے دیکھا تھا۔
’’اور یہ واقعی محبت ہے، اگر یہ محبت ہے تو کیا یہ عمر بھر کے لیے کافی ہے۔‘‘ اس کا سوال عین کو ساکت کر گیا تھا وہ فوری طور پر کچھ نہیں بول سکی تھی اور تیمور اسے جتاتے ہوئے گویا ہوا تھا۔
’’محبت ہو تو اس کے لیے یقین لفظ کو ڈھونڈنے کی اس درجہ ضرورت نہیں پڑتی عین النور پٹوڈی محبت کا احساس اور دل میں یقین کو مکمل کرتا ہے دل کو وسوسوں میں مبتلا نہیں کرتا۔‘‘ وہ جانے کس ضمن میں کہہ رہا تھا اور وہ سر جھکا کر بولی تھی۔
’’حیدر ہمارے ساتھ ہیں ہم بس یہ جانتے ہیں کہ یہ ساتھ زندگی بھر کے لیے ہے یہ رشتہ بچپن سے ہمارے ساتھ ہے اور سچ جانیے تو اب ہم اس رشتے کے عادی ہو چکے ہیں۔‘‘ وہ ہر طرح کے تاثر کو زائل کرنے کے لیے مسکرائی تھی دوسرے معنوں میں وہ مسکرا کر صورت حال کو معمول پر ظاہر کرنا چاہ رہی تھی مگر اس کی آنکھوں کی بے چینی بڑھتی چلی گئی تھی۔
’’ان آنکھوں کی بے چینی کا کیا مفہوم ہے اگر آپ کے دل میں خوشی ہے تو۔‘‘ وہ جانے کیوں پوچھنے لگا تھا اور عین کے پاس اس سوال کا سر ے سے کوئی جواب نہیں تھا۔
’’خاموشیوں کو لفظ سونپ دینے سے یا وضاحتیں دینے سے مفہوم بدل نہیں جاتا عین کیونکہ بعض اوقات آپ جتنا شور مچانے کی سعی کرتے ہیں وہ شور آپ کے اندر دوڑتے بھاگتے سوالوں کی اس قدر نفی کر رہا ہوتا ہے۔‘‘ تیمور کی نظروں میں نرمی تھی اور لہجہ مدہم وہ بغور اس چہرے کو دیکھ رہا تھا اور وہ اسے چڑ کر دیکھنے لگی تھی۔
’’آپ کو لگتاہے کہ حیدر کو ہم سے محبت نہیں یا جو احساس ہمارے دل میں ان کے لیے ہے وہ محبت نہیں۔‘‘ عین کا لہجہ خفگی لیے ہوئے تھا اور تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’معاف کیجیے جن زادے کی دنیا کا آپ کی انسانی دنیا سے کوئی تال میل بظاہر دکھائی نہیں دیتا آپ انسان بہت سی باتوں کے مفہوم دانستاً بدلتے ہیں اور سیدھی سیدھی باتوں کے مفہوم بھی بدل جاتے ہیں ہمیں اس سے غرض نہیں کہ آپ کو حیدر صاحب سے محبت ہے کہ نہیں یا حیدر صاحب آپ سے محبت میں مبتلا ہیں کہ نہیں ہم یہ جاننے کے لیے بے تاب نہیں ہیں مگر خیر جانے دیجیے۔ ہم اس موضوع کو زیر بحث لانا نہیں چاہتے۔‘‘ وہ اٹھا تھا اور چلتے ہوئے وہاں سے نکل گیا تھا انداز خفگی اور غصے سے بھرپور تھا ان قدموں میں زمین کا سینہ چیر دینے کی صلاحیت تھی جیسے یا عین کو لگ رہا تھا کہ اس کے قدم دل پر ہیں وہ اپنے اندر در آنے والے اس نامعلوم سے محسوسات کو فوری طور پر کوئی نام نہیں دے پائی تھی مگر اس کی طرف سے فوری طور پر چہرہ پھیر گئی تھی اور بڑبڑاتے ہوئے بولی تھی۔
’’یہ کیا بات ہوئی کسی کی زندگی میں جب چاہو منہ اٹھا کر گھستے چلے جائو اور جب بات خود پر آئے تو ناراضگی دکھانے بیٹھ جائو خیر ہمیں بھی پروا نہیں، ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں خفا ہم کیوں پروا کرنے لگے بھلا۔‘‘ اس نے ایک خاص تمکنت سے شانے اچکائے تھے اور تبھی نگاہ دانستہ طور پر بھٹکتی ہوئی جانے کیوں اس شخص کی جانب اٹھ گئی تھی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا گیٹ کی سمت بڑھ رہا تھا جانے کیوں عین اس سمت دیکھے گئی تھی۔ تیمور نے پلٹ کر یا رک کر نہیں دیکھا تھا اور گیٹ کراس کر گیا تھا۔
خ…خ…خ
’’حاکم خاتون کی محبت ہمیں فنا کرنے کے در پے ہے اور وہ یقین کرنے کو تیار نہیں۔‘‘ حیدر نے سرد آہ بھر کر کہا تھا اور دوست ان کی بے چینی دیکھ کر رہ گیا تھا پھر گہری سانس خارج کر کے بولا تھا۔
’’آپ کی بے چینی بے من ہے حیدر سراج الدولہ حاکم خاتون آپ سے محبت میں مبتلا نہیں ہیں شاید ان کا دل کسی اور سمت مائل ہے۔‘‘ دوست کے قیاس کرنے پر حیدر بے طرح چونکے تھے۔
’’آپ کا اشارہ کس طرف ہے ہمایوں کھل کر بات کریں جہاں تک ہمیں معلوم ہے حاکم خاتون ہم میں دلچسپی رکھتی ہیں اگر وہ دلچسپی نہیں رکھتیں تو ہم سے تحفہ قبول نہیں کر تیں۔‘‘ حیدر نے کہا تھا تو ہمایوں نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’آپ غلط فہمی کا شکار ہو رہے ہیں حیدر یہ محبت نہیں ہے اگر حاکم خاتون کو محبت ہوتی تو وہ آپ کی دعوت قبول کرتیں مگر انہوں نے آپ کی دعوت پر کوئی جواب نہیں دیا اگر انہیں آپ سے محبت ہوتی تو ان کی نگاہیں اتنی بے قراری سے کسی اور کی متلاشی نہ ہوتیں۔‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا ہمایوں حاکم خاتون کی نگاہیں کس کی متلاشی تھیں۔‘‘ حیدر نے ناگواری سے پوچھا تھا ان کی پیشانی کی رگیں تن گئی تھیں اور آنکھوں میں غصے کی آگ بھڑکنے لگی تھی ہمایوں نے ڈرتے ڈرتے ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’آپ نہیں جانتے کیا۔‘‘ ہمایوں نے جیسے تصدیق کرنا ضروری خیال کیا تھا۔
’’آپ بتاتے ہیں یا آپ کو کتوں کے ساتھ باندھ دیا جائے۔‘‘ حیدر سراج الدولہ نے بھڑکتے ہوئے الائو جیسے لہجے میں کہتے ہوئے ہمایوں کو گھورا تھا ہمایوں لمحہ بھر کو خاموش ہوا تھا اور پھر اس کے لب آہستگی سے ہلے تھے۔
’’نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی۔‘‘
’’کیا…!‘‘ حیدر بے طرح چونکے تھے۔
’’یہ درست ہے حیدر میاں آپ کی حاکم خاتون جو آپ پر التفات اور نظر کرم کرنے کو تیار نہیں وہ در حقیقت بے نیازی نہیں برت رہیں بلکہ ان کا دل اور نگاہ کہیں اور مائل بہ کرم ہے آپ کو یقین نہ آئے تو آپ حاکم خاتون سے پوچھ لیجیے۔‘‘ بابر نے ڈر کر ہمایوں کا دفاع کرتے ہوئے حیدر کو مطلع کیا تھا، حیدر کی آنکھیں غصے سے سرخ ہوگئی تھیں۔ وہ کانچ کا قیمتی گلدان اٹھا کر ایک طرف پھینکتے ہوئے باہر نکل گیا تھا حویلی کے باہر سے موٹر گاڑی کے ٹائر چرچرانے کی آواز آئی تھی اور ہمایوں نے سہم کر باہر کی سمت دیکھا تھا۔
خ…خ…خ
’’محبت کیا ہے اور کیسی ہوتی ہے ہم اس کا ذکر خود سے بھی کرتے ڈرتے ہیں نواب زادے ہمیں محبت راس نہیں مگر اندر کہیں خواہشوں کا تسلسل دھڑکنوں کے ساتھ بڑھتا ہے تو ہم سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ محبت کا وجود اس قدر ضروری کیوں ہے اور محبت ابد تک قائم رہنے والی ہے تو دل میں ہر گھڑی فنا کیوں ہوتی جاتی ہے۔‘‘ حاکم خاتون کا لہجہ مدہم تھا اور آواز میں افسردگی صاف محسوس کی جاسکتی تھی نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی نے انہیں بغور دیکھا تھا پھر ان کی آنکھوں کے کناروں کی نمی کو لمحہ بھر میں ہاتھ بڑھا کر صاف کیا تھا اور مدہم لہجے میں گویا ہوئے تھے۔
’’محبت فنا ہونے والا عمل نہیں ہے خوشنما ہم محبت کو فنا ہوتے نہیں دیکھ پائیں گے آپ کے وسوسے گٹھری میں باندھ کر کہیں دور چھوڑ آئیں گے اتنی دور کہ پھر یہ خدشے کبھی آپ کی زندگی میں دوبارہ واپس نہیں آپائیں گے۔‘‘ وہ جذبات سے بوجھل لہجے میں بولا تھا اور حاکم خاتون انہیں دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
’’آپ ہمیں خوشنما کیوں پکارتے ہیں اوروں کی طرح ہمیں حاکم خاتون کیونکر نہیں کہتے ہم دنیا کے لیے خوشنما نہیں ہیں۔‘‘ حاکم خاتون نے کہا تھا اور جلال مسکرا دیا تھا۔
’’آپ نے خود کہہ دیا کہ آپ دنیا کے لیے خوش نما ہیں اور ہم دنیا اور دنیا داری پر یقین نہیں رکھتے ہم انسان کی برابری اور عزت دینے پر یقین رکھتے ہیں آپ ہمارے لیے اس قدر مقدم ہیں جس قدر کوئی کوئی خاتون ہونا چاہیے چاہے آپ کہیں بھی بیٹھی ہوں اور کسی بھی حیثیت سے موجود ہوں عورت کو خدا نے ایک عورت بنایا ہے وہ بازار میں بٹھانے لائق نہیں جو اسے بازار کا راستہ دکھاتے ہیں وہ خود خاک ہوجاتے ہیں۔‘‘ جلال نے مضبوط لہجے میں کہا تھا حاکم خاتون انہیں دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
’’آپ پڑھے لکھے ہیں نواب زادے، دنیا دیکھی ہے آپ نے ہم آپ کی عزت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ اس دنیا سے لوٹ جائیے اور پھر کبھی اس طرف کا رخ بھی مت کیجیے۔‘‘ وہ حتمی لہجے میں گویا ہوئی تھیں جلال انہیں خاموشی سے دیکھنے لگے تھے۔
’’ایسا ممکن ہوا تو ہم ایسا ضرور کرنا چاہیں گے خوشنما۔‘‘
’’کیوں کرتے ہیں آپ ایسا، ہماری بات کیوں نہیں مانتے آپ؟‘‘
’’معلوم نہیں ہم نہیں جانتے۔‘‘ وہ شانے اچکا کر بولے تھے۔
’’آپ ایسے بے تاثر نہیں بن سکتے نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی آپ کے خاندان کی عزت آپ کیسے دائو پر لگانا چاہیں گے کیا ہے یہ تعلق، بس نہ سمجھ میں آنے والی بات ہی تو ہے نا سچ بتائیں ہمیں بھی یہ تعلق سمجھ نہیں آتا ہم آپ کے رویوں میں ایک خیال اور پروا صاف محسوس کرتے ہیں مگر یہ محبت سے کئی گناہ زیادہ ہمدردی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ حاکم خاتون مدہم لہجے میں بنا ان کی سمت دیکھتے گویا ہوئی تھیں اور وہ انہیں دیکھ کر رہ گئے تھے۔
’’محبت ہماری بھی سمجھ میں فی الحال نہیں آتی خوشنما مگر ہم آپ کو یہاں بیٹھا نہیں دیکھنا چاہتے آپ ایک باوقار خاتون ہیں اور ہم آپ کی دل سے عزت کرتے ہیں آپ عزت کرنے کے قابل ہیں۔‘‘ وہ مدہم لہجے میں بولا تھا اور حاکم خاتون انہیں دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
خ…خ…خ
کتنی بے چینی وجود کے اندر بڑھ گئی تھی جیسے کوئی بہت خاص شے یکدم سے کھو گئی تھی یا نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی عین نے دسویں بارچھت پر یہاں سے وہاں چکر لگایا تھا اور جب اپنے اندر کے اس احساس کو نہ سمجھ پائی تھیں تو چلتے ہوئے ٹیرس پر رکھے میز کرسی کی طرف آگئی تھیں اور دھم سے بیٹھ گئی تھیں نگاہ دانستہ آسمان کی سمت اٹھی تھی چمکتے تاروں کی ضیا نے نگاہ باندھ لی تھی۔
’’محبت کیا واقعی بند مٹھی میں چھپی ہوئی بات ہے۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے یکدم چونکی تھیں پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے گویا خود کی سوچ کو رد کیا تھا۔
’’محبت بس وہ ہے جو ہم کو حیدر میاں سے ہے اور ان کی ہم سے محبت ایسی ہی ہوتی ہے اس میں کسی بند مٹھی کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔‘‘ انہوں نے خود کو جیسے یقین دلانا چاہا تھا۔
’’ہاں بس یہی حقیقت ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسری حقیقت نہیں ہے محبت کوئی شے نہیں جو کھو جائے اور اسے ڈھونڈ کر پھر مٹھی میں دبوچ لیا جائے اور ڈر کے تحت پھر مٹھی کھولی ہی نہ جائے، ہمیں ایسی کسی محبت کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہوگی ایسی محبت دوسروں نے کی ہوگی ہم کو اس سے کچھ واسطہ نہیں اور یہی بات اس وقت کی سچائی ہے اور ہماری زندگی اسی سچائی پر کھڑی ہے۔‘‘ وہ خود کو باور کراتے ہوئے تاروں سے نگاہ ہٹا کر اڑتے ہوئے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے بے خبری سے اور کسی قدر بے نیازی سے شانے اچکا کر بے نیاز بن جانے کی کوشش کرنے لگی تھیں مگر تبھی یکدم غیر ارادی طور پر ان کی مٹھی سختی سے بند ہوتی چلی گئی تھی اور انہوں نے چونکتے ہوئے اس مٹھی کو دیکھا تھا اور آہستگی سے کھولا تھا وہاں کسی شے کی موجودگی واقعی تھی یا پھر اس کا وہم تھا ہتھیلی جانے کیوں جلتی ہوئی سی محسوس ہوئی تھی یہ کیسا احساس اس ہتھیلی پر تھا کسی کا لمس آج بھی اس ہتھیلی پر جلتا ہوا سا کیوں محسوس ہوا تھا؟‘‘ عین النور پٹوڈی اس احساس اور کیفیت پر حیران رہ گئی تھی۔
’’میں نہیں جانتا راستوں کو کہاں اور کیسے بانٹنا ہے آغاز سفر کرتے ہوئے اس اعداد و شمار پر نگاہ نہیں تھی اور سفر کے اختتام کی اگر چہ خبر نہیں مگر محبت کہیں دور کھڑی چپ چاپ تکتی ہے تو الہام یہ بھی ہوتا ہے کہ اختتام چاہے کچھ بھی ہو، مگر یہ سفر بہت دلچسپ ہوگا۔‘‘ کوئی آواز اس کے ارد گرد پھیلی تھی تو وہ چونکتے ہوئے اپنے اطراف دیکھنے لگی تھی۔
وہاں کوئی نہیں تھا ارد گرد کسی کی موجودگی دور دور تک نہیں تھی، مگر فضا میں ایک احساس پھیلا تھا کسی کی آواز بکھر رہی تھی اسے اپنے حصار میں لے رہی تھی۔
’’دل کو بولتے ہوئے کبھی نہیں سنا کیونکہ شاید آس پاس شور بہت زیادہ ہوتا ہے اتنا کہ بہت قریب کی آواز سنائی نہیں دیتی نا آنکھ کو اتنے قریب کے منظر دیکھنے کے لیے اور دور کی آوازیں سننے کے لیے کہیں دور جانا نہیں پڑتا اس کے لیے اپنے اندر مکمل خاموشی کی ضرورت ہوتی ہے اس خاموشی میں جو سنائی دیتا ہے اس کے معنی بہت واضح ہوتے ہیں کہ پھر کوئی اور شواہد ڈھونڈنا نہیں پڑتے۔‘‘ کوئی لہجہ خوش بو بنا اس کے تعاقب میں تھا جسے وہ اس کیفیت پر حیران رہ گئی تھی اور سر جھٹکتے ہوئے اس احساس سے بچنے کی سعی کرنے لگی تھی۔
’’محبت دور ستاروں کی کہکشائوں پر بنا کوئی گھر لگتا ہے جس کے بارے میں سوچنا خواب لگتا ہے اور وہاں جا کر رہنا نا ممکن مگر پھر بھی ان کہکشائوں کی دنیائوں کے بارے میں جاننے کا تجسس کہیں بڑھتا جاتا ہے اور اگر چہ عقل جانتی ہے سب نا ممکن ہے مگر ان ستاروں سے نگاہ ہٹتی نہیں۔‘‘ کوئی بے پروائی سے کہہ رہا تھا اور عین نے ان آوازوں سے بچنے کی سعی کرتے ہوئے زور سے آنکھیں میچ لی تھیں تبھی کسی آواز نے گرفت میں لیا تھا۔
’’رشتوں کو زمین پر ڈھونڈنا عبث ہے عین النور پٹودی کیونکہ رشتے زمین پر نہیں بنتے بلکہ آسمان پر جڑتے ہیں آپ جن رشتوں کا خون اپنے اندر اپنی دھڑکنوں میں محسوس کرتی ہیں ان کی وقعت اسی ڈر کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے کیونکہ رشتے ڈر نہیں دیتے، تحفظ دیتے ہیں جو رشتہ نظروں سے خوف بھرے اور دھڑکنوں کو بے ربط کردے وہ وہیں دم توڑ رہا ہوتا ہے اسے ختم کرنا یا مارنا نہیں پڑتا۔‘‘ اس نے آنکھیں کھولی تھیں اور کوئی سامنے کھڑا دکھائی دیا تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ یہ اس کا وہم تھا یا واقعی کوئی حقیقت تھی مگر کس کا خیالوں سے نکال سے سامنے آتا کھڑا ہوتا اسے شدید حیرت میں مبتلا کر گیا تھا اور اگر وہ خیال تھا تو وہ اسے رد کرتے ہوئے آواز بلند جتاتے ہوئے بولی۔
’’رشتوں کی وقعت انہیں ماننے سے ہوتی ہے تیمور بہادر یار جنگ اور جن رشتوں کو ہم مان لیں ان کی وقعت بھی جانے نہیں دیتے۔‘‘ عین النور نے بھرپور نفی کرنے کی کوشش کی تھی اور تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’رشتوں کی نفی کرنا نہیں پڑتی عین النور رشتے اپنی وقعت خود سمجھاتے ہیں چاہے کوئی کتنا بھی انکار کرے اگر کوئی تعلق بہم دل سے جڑا ہے تو اس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا محبت بند صندوق میں چھپایا گیا کوئی راز نہیں ہے کہ اس صندوق کو کھول کر ہر بار تسلی کرنا پڑے کہ محبت یہاں مقیم ہے محبت کا احساس تالوں چابیوں سے قید ہونے والا نہیں محبت ان پرانے بند صندوقوں سے نکل کر باہر آنے کی صلاحیت رکھتی ہے یقین نہ ہو تو آزمالیں۔‘‘ تیمور کا لہجہ بہت مضبوط تھا اور نواب زادی عین النور اسے خاموشی سے دیکھنے لگی تھی اسے اب بھی یقین نہیں تھا کہ وہ وہم تھا یا کوئی خیال یا صرف احساس تبھی سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی تھی ۔
’’میں خیالی باتوں کے واقع ہونے پر یقین نہیں رکھتی تیمور بہادر یار جنگ آپ خیالی دنیا آباد کرنے میں ماہر ہیں اگر آپ ہمارے بچپن کے دوست نہ ہوتے تو ہم آپ کو واقعی کوئی جادوئی کردار سمجھ لیتے یا جن زادہ تصور کرلیتے آپ کی دنیا کا جیسے حقیقت کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہے آپ حقائق نظر انداز کرتے ہیں اور یہ حماقت ہے۔‘‘ وہ کہہ کر چلتی ہوئی اس کے پاس سے گزرنے لگی تھی جب کلائی تیمور بہادر یار جنگ کے ہاتھ کی گرفت میں آگئی تھی اور وہ چونکتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی گویاوہ خواب و خیال یا کوئی وہم یا گمان نہیں تھا وہ حقیقت میں اس کے سامنے رکا کھڑا تھا۔ نواب زادی عین النور حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی اور جیسے اس کی کیفیت سے محظوظ ہوتے ہوئے مسکرا دیا تھا۔
’’محبت خوابوں خیالوں کی بات نہیں ہے نواب زادی آپ اپنی سوچوں سے خود الجھ رہی ہیں ہم کوئی جن زادے ہوتے تو بھی حقیقت بن کر آپ سے ملنے چلے آتے کیونکہ جذبہ صادق ہو تو خیالوں کو حقیقت بنا لینا کوئی نا ممکن بات نہیں۔‘‘ تیمور مدہم لہجہ میں گویا ہوا تھا۔
’’آپ کیا باتیں کرنے ہیں ہماری سمجھ میںنہیں آتیں بہرحال ہم کل دعوت پر اپنے سسرال جا رہے ہیں ہماری ساس صاحبہ نے خود ہمیں فون پر بات کر کے اس دعوت کے لیے خود دعوت دی ہے اور حیدر میاں بھی اصرار کر رہے تھے۔‘‘ وہ جیسے دانستہ اس تعلق کا ذکر کرنے لگی تھی مقصد شاید اسے جتانا مقصود تھا کہ وہ اس کے لیے پرائی ہے اور وہ اس کی آرزو نہ کرے اور تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’نواب زادی عین النور آپ محسوسات پر قدغن لگا رہی ہیں اور رشتوں کو پابند کرنا چاہ رہی ہیں اور آپ سے کہنا صرف یہ تھا کہ آپ غلطی کر رہی ہیں کیونکہ محبت کو اس سے سروکار نہیں ہے کہ بہائو کس سمت ہے اور راہ کس سمت بنا رہی ہے اگر محبت آنکھیں اور چہرہ نہیں رکھتی تب بھی محبت اپنے بہائو میں ہی بہتی ہے اور راستوں کی پہچان رکھتی ہے محبت کو پابند کرنا حماقت ہوسکتی ہے۔‘‘ وہ مکمل یقین سے مسکرایا تھا اور عین اسے دیکھ کر رہ گئی تھی پھر کوشش کر کے اپنی کلائی کو اس کی گرفت سے چھڑایا تھا اور مدہم لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
’’کیسے دوست ہیں آپ آپ کو ہماری خوشی سے کوئی واسطہ ہی نہیں ۔‘‘ وہ اسے دوسرے لفظوں میں جتانے لگی تھی اور وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا مسکرایا تھا
’’میں آپ کی خوشی سے خوش ہوں آپ توقعات کو بڑھا رہی ہیں اور مجھے ڈر ہے ان توقعات کا نہ پورا ہونا آپ کو کسی دکھ سے دوچار نہ کردے۔‘‘ وہ چونکی تھی۔
’’کیا مطلب۔‘‘
’’مطلب یہ کہ محبت کرتی ہیں تو توقعات کو ایک طرف رکھ دیں جہاں توقعات ہوں گی وہاں محبت خدشات کی بات کرنا ضروری خیال کرے گی اور خدشات اگر پورے ہوجاتے ہیں تو افسوس آپ کو ہوگا۔‘‘ وہ سمجھانے لگا تھا۔
’’ہم سمجھے نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ۔‘‘ وہ بے سمجھی سے ایک الجھن میں گرفتار سی اسے دیکھنے لگی تھی اور وہ مسکرا دیا تھا۔
’’آپ اپنے فیانسی سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ کر رہی ہیں۔‘‘
’’وہ ہم سے اس طور وابستہ ہیں کہ توقعات کا آجانا کوئی عبث نہیں ہے۔ آپ کیوں ہمیں خبردار کر رہے ہیں کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ توقعات پوری نہیں ہوں گی۔‘‘ وہ الجھ کر اسے دیکھنے لگی تھی اور تیمور نے خاموشی سے آسمان کو سر اٹھا کر دیکھا تھا اس کی نظریں تاروں سے الجھنے لگی تھیں اور عین اسے خاموشی سے دیکھنے لگی تھی جب وہ اس کی سمت دیکھے بنا گویا ہوا تھا۔
’’میں آپ کو آپ کی توقعات میں ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا مگر اگر آپ واقعی حیدر سے محبت کرتی ہیں تو آپ کا یقین قائم رہنا چاہیے پھر چاہے کوئی کچھ بھی کہے مگر آپ کا حقیقت کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔‘‘ تیمور نے سمجھایا تھا وہ الجھتی ہوئی نظروں سے خاموشی سے اسے دیکھنے لگی تھی، جب تیمور نے اس کا ہاتھ خاموشی سے تھاما تھا اور اس کی ہتھیلی کو چھوا تھا اس لمس میں کیسا احساس تھا کہ جیسے اس کی روح میں کوئی بہت زور آور شے سرایت کرنے لگی تھی۔
’’محبت واسطوں کا ذکر نہیں کرتی محبت کو راستوں کی بھی پروا نہیں اور محبت خدشوں کو بھی بے پروائی سے ایک طرف رکھ دیتی ہے۔ محبت کو ان سب سے کوئی سروکار نہیں مگر اس تمام عمل میں محبت یقین سے خالی نہیں ہوتی محبت امید کے ساتھ سفر کرتی ہے عین النور پھر چاہے سفر آسمانوں پر ہو یا زمینوں پر محبت اپنے شواہد کے ساتھ یقین سے اپنی منزل کی سمت بڑھنے کا عمل ترک نہیں کرتی آپ اگر کسی سے محبت رکھتی ہیں تو اس کا یقین کریں وہ یقین آپ کے دل میں ہوگا تو محبت ہارے گی نہیں۔‘‘ وہ جانے اسے کیا سمجھانا چاہ رہا تھا کہاں کیا غلط تھا؟ وہ جان نہیں پائی تھی مگر اس نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تھا اور وہ جانے کے لیے مڑی تھی جب تیمور نے پکار لیا تھا۔
’’عین۔‘‘
اور وہ وہیں تھم گئی تھی قدم تھے کہ آگے بڑھنا بھول گئے تھے وہ ایسے ساکت کھڑی تھی جیسے کسی نے اسے اپنا معمول بنا لیا ہو اس لمحے میں کیسا سحر تھا وہ جان نہیں پائی تھی مگر وہ ساکت سی کھڑی تھی اور ایک قدم بھی اس شخص کے مخالف سمت نہیں اٹھا سکی تھی یہ کیسا بھید تھا اس لمحے میں کیسا جادو تھا کہ وہ اس کے مکمل زیر آچکی تھی یا پھر یہ سب اس کا وہم تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی مگر اسے اپنی وہ ہتھیلی جلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی جس ہتھیلی پر اپنی کچھ دیر پہلے تیمور بہادر یار جنگ نے چھوا تھا اس نے اس طرح کھڑے ہاتھ پھیلا کر اپنی اس ہتھیلی کو دیکھا تھا اور وہاں اگر چہ کچھ نہیں تھا مگر کوئی احساس اتنا بھرپور زندہ تھا کہ وہ حیران رہ گئی تھی۔
’’آپ اس احساس کو جھٹک نہیں سکتیں عین النور، بظاہر جہاں کچھ نہیں ہے وہاں بھی بہت کچھ ہے مگر یہ آپ کو ان ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دے گا، نہ ظاہری نظر کبھی اسے ڈھونڈ پائے گی محبت دکھائی دینے والی شے نہیں ہے اور محبت کو اس طرح شواہدات کی ضرورت بھی نہیں پڑتی آپ حوالے دینا چاہتی ہیں تو آپ کے تمام دلائل بے اثر رہیں گے۔‘‘ وہ اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے مکمل یقین سے کہہ رہا تھا۔ وہ پکٹ کر غصے سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’ہم نہیں جانتے آپ کیا کہنا چاہتے ہیں مگر یہ باتیں ہماری عقل سے باہر ہیں اور ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ ہم حیدر میاں سے بہت محبت کرتے ہیں اتنی محبت کہ ہم اپنی زندگی ان کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں محبت کہتی ہے کہ اگر میں موجود ہوں تو آنکھیں بند کر کے میرا اعتبار کرو سو ہم حیدر سراج الدولہ سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ ہم ان کا مکمل اعتبار کرتے ہیں چاہے لوگ کچھ بھی کہیں مگر ہمیں ان کا مکمل اعتبار ہے۔‘‘ عین النور پر یقین لہجے میں بولی تھی۔
تیمور بہادر یار جنگ مسکرایا تھا جیسے وہ اس کی نفی کر رہا تھا۔
’’معاملات محبت اثر پذیر ہیں، ان کی بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک اندھیری تنگ راہ سے گزر رہے ہوں بعض اوقات بہت سی باتوں کی سمجھ نہیں آتی تاریکی کے باعث نگاہ کو وہ سب دکھائی نہیں دیتا جو در حقیقت ہوتا ہے مگر محبت دیکھتی ہے اور جانتی ہے سو آپ اگر محبت کا انتظار کرتے ہیں اور محبت کا یقین کرتے ہیں تو پھر آپ کے اندر شکوک جنم نہیں لیتے۔‘‘
تیمور بہادر یار جنگ کیا ثابت کرنا چاہتا تھا وہ اس لمحے جیسے جان نہیں پائی تھی مگر وہ اس کی باتوں پر جیسے کان دھرنا نہیں چاہتی تھی تبھی نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی تھی۔
’’ہم ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتے اور ایسی بے سر و پا باتوں پر تو بالکل نہیں آپ جو کہتے ہیں ضروری نہیں سب ویسا ہی ہو، آپ کے دیکھنے کا نظریہ ہمارے نظریہ سے مختلف ہوسکتا ہے اور ضروری نہیں کہ ہم آپ کے نظریات سے اتفاق کریں۔‘‘ وہ ایک خاص انداز سے تنی ہوئی گردن کے ساتھ غرور سے بولی تھی تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’محبت کو کسی بھی اینگل سے دیکھا جائے اس کی ہئیت وہی رہتی ہے نواب زادی عین النور آپ محبت کی ہئیت اور حجم کو نہیں بدل سکتیں نا محبت آپ کے کہنے پر اپنا نظریہ بدل سکتی ہے آپ آزما کر دیکھ سکتی ہیں محبت آپ کی بتائی گئی راہوں پر چلنا ضروری خیال نہیں کرے گی اور نا آپ کے نظریات کی پیروی کرے گی، آپ مجھ سے اختلاف رکھ سکتی ہیں مگر محبت سے نہیں۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ نے کہہ کر خاموشی سے اسے دیکھا تھا اور پلٹ کر آگے بڑھنے لگا تھا عین النور اسے دیکھتی رہی تھی تا دیر جانے کیوں نگاہ اس سمت سے ہٹی ہی نہیں تھی اور تب بہادر یار جنگ نے چلتے چلتے مڑ کر اس کی سمت دیکھا تھا اور جانے کیوں وہ چور بننے لگی تھی تیمور بہادر یار جنگ اس کی سمت دیکھ کر مسکرایا تھا اور اس مسکراہٹ میں بہت کچھ باور کرانے کے لائق تھا وہ اس کی سمت سے نگاہ پھیر گئی تھی اور تب وہ چلتے ہوئے آگے بڑھنے لگا تھا۔
تیمور اسے کیا جتانے کو رکا تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی مگر وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر جیسے خجل سی ہوگئی تھی اور مڑ کر چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔
خ…خ…خ
’’آج کی میٹنگ میں کوئی خاص پہلو زیر بحث آئے۔‘‘ نواب صاحب نے بیٹے سے پوچھا تھا اور جلال نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
’’ابا جان آپ جانتے ہیں فرنگیوں کے دماغ ہماری تحریک کو سمجھنے کے لیے نہیں کھلتے ہمیںلگا تھا ہم وائسرائے کو اپنا موقف بیان کرسکیں گے مگر ان کا انداز ٹالنے والا تھا ہم مسلم لیگیوں کی باتوں پر وہ یوں بھی کان لپیٹ لیتے ہیں اور ہندوئوں کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں بہرحال وہ میٹنگ بس ایک میٹنگ ہی رہی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہم بھی کچھ بہت زیادہ توقع نہیں کر رہے تھے سو ہمیں اس کا کوئی زیادہ افسوس نہیں ہے قطرہ قطرہ پتھر پر گرتا رہے تو اپنی اہمیت جتا لیتا ہے ہمیں امید ہے اس برس میں کچھ تو اہم رونما ہوگا ہی پھر چاہے ہندو کتنی بھی کوشش کرلیں۔‘‘ جلال بولا تھا اور ابا نے ڈنر کرتے ہوئے سر ہلایا تھا۔
’’یہ کیا تم باپ بیٹا کھانے کی میز پر بھی سیاسی گفتگو اٹھا لائے؟‘‘ دادی جان نے انہیں گھورا تھا اور ساتھ ہی بہو کو دیکھا تھا۔
’’اے بٹیا اپنے خاوند اور اپنے بیٹے کو کچھ سمجھا دیا کرو اتنی سیاست تو گویا ایوانوں میں بھی نہیں ہوتی ہوگی جتنی ہمارے گھر کے دستر خوان پر ہوتی ہے حد ہوگئی۔‘‘ دادی جان خفا دکھائی دی تھیں اور عین النور مسکرا دی تھی۔
’’دادی جان آپ جانتی ہیں نا جلال بھائی نے مسلم لیگ جوائن کرلی ہے سو اب تو یہ سلسلہ لگا رہے گا۔ ویسے آپ بھی کچھ با خبر رہا کریں ہمارا ملک آزاد ہونے والا ہے آپ ہی کو گلا رہتا ہے نا کہ فرنگی موئے کب اس سر زمین کو اپنے ناپاک وجود سے خالی کریں گے تو سمجھیں اب وقت آن پہنچا ہے یہی نیا جوش اور نیا ولولہ ہے اس نئے خون میں جو تحریک کو تیز ترین بنا رہا ہے ہمیں تو یہ ایک اچھا شگون لگتا ہے آپ کو کیا لگتا ہے ابا جان۔‘‘ عین نے مسکراتے ہوئے ابا کو دیکھا تھا دادی جان چشمے کو پیچھے سے گھورنے لگی تھیں۔
’’اے لو، دیکھو ذرا ان دختر صاحبہ کو بھی پر لگ گئے باپ اور سپوت تو اس سیاسی گفتگو میں آگے تھے ہی اب ما شاء اللہ سے دختر صاحبہ بھی حصہ بٹانے آگئیں ارے بہو بیگم آپ کیوں چپ ہیں آپ بھی اس سیاسی عمل میں حصہ لیجیے گا یوں بھی فاطمہ جناح اور بی اماں نے خواتین کو ایک تحریک دے ہی ڈالی ہے اس سیاسی فضا میں حصہ بٹانے کی تو آپ کیوں پیچھے رہیں۔‘‘ دادی جان نے گھورا تھا۔ سب مسکرا دیے تھے۔
’’ارے ہماری پیاری دادی جان یہ تو اچھی بات ہے نا کہ اب ہماری قوم بیدار ہو رہی ہے اور خواتین بھی فعال ہو رہی ہیں اسی تحریک کی تو ضرورت تھی ہمیں اگر یہ عمل پہلے شروع ہوجاتا تو فرنگی اس زمین سے دم دبا کر بھاگ جاتے نا، پہلے پہل تو ہم انگریزی بولنے کو ہی گناہ عظیم تصور کرتے رہے تھے انگریزی نہ بولنے کے باعث ہم ہندوئوں سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ہمارے انگریزی بول چال کے عادی نہ ہونے کا تمام فائدہ ہندوئوں نے اٹھایا اور اپنا موقف بہترین انداز میں فرنگیوں کے سامنے رکھا تو اچھا ہوا ہماری قوم کو عقل آئی اور انگریزی پڑھنے لگے اس سے فائدہ کس کو ہوا؟‘‘ جلال مسکرایا تھا دادی جان نے چمچ پلیٹ میں رکھ کر ہاتھ سے انہیں مزید بولنے سے روکا تھا۔
’’ارے بس بیٹا اب انگریزی میں گٹ پٹ گٹ پٹ شروع مت کردینا ہمیں تو اپنی مادری زبان ہی بھلی ہم رہے بولنے سے ان فرنگیوں کی زبان، غلامی میں تو جی ہی رہے ہیں اب کیا بول چال سے بھی غلام بن جائیں تم لوگ بولو یہ فرنگیوں کی زبان، انہیں سمجھائو اپنا موقف ہم تو بنا انگریزی کے ہی بھلے کافر تو ہونے سے رہے اب اس عمر میں ہم اپنے ایمان سے بھی جائیں گے کیا ہمیں تو بخش ہی دو۔‘‘ دادی اماں بولی تھیں تو جلال مسکرا دیا تھا۔
’’چلیں ٹھیک ہے دادی جان آپ کی خوشی زیادہ اہم ہے یہ زمین ان فرنگیوں سے آزاد ہوجائے گی تو ہم دوبارہ کلمہ پڑھ لیں گے آپ اس کی فکر نہ کریں مگر کافروں کو مدعا سمجھانے کے لیے ہمیں ان کی زبان کو تو اپنانا ہی تھا اس زبان کے بنا ترقی اور کامیابی ممکن نہیں تھی بہرحال آپ لوگ ڈنر کریں ہم کچھ ضروری پیپرز تیار کر کے دے کر آتے ہیں۔‘‘ جلال میز سے اٹھ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’لو یہ تحریک تو جان کو آگئی بچہ کھانا کھائے بنا اٹھ گیا حد ہو گئی اب ان باتوں کے بعد تو ہمیں بھی بھوک نہیں رہی، صبح ناشتے پر ملیں گے امید کرتے ہیں تب ناشتہ فرنگیوں کے ذکر کے بنا ہوگا۔‘‘ دادی جان اٹھ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی تھیں۔
’’کیا کرتے ہیں خود تو بگڑے تھے ساتھ بیٹے کو بھی لگا لیا، دیکھیں اماں کھانا کھائے بنا اٹھ گئیں۔‘‘ ظہوری بیگم نے نواب صاحب کو دیکھا تھا نواب صاحب مسکرا دیے تھے۔
’’اماں جان آزاد سوچ کی مالک ہیں مگر فرنگیوں کے معاملے میں کبھی کبھی قنوطی ہوجاتی ہیں دراصل وہ اس جدوجہد سے اکتا جاتی ہیں۔ آپ تو جانتی ہیں بزرگوں کو کبھی کبھی بچوں جیسے ہوجاتے ہیں اماں جان کو بس یہ ہے کہ اب فرنگی یہاں سے دم دبا کر بھاگ جائیں مگر یہ کام چھڑی گھما کر ہونے لائق نہیں اس میں وقت تو لگے گا نا بہرحال ہم کوشش کریں گے کہ کھانے کی میز پر ایسی باتیں ڈسکس نہ ہوں۔‘‘
نواب صاحب بولے تھے اور ظہوری بیگم نے سر ہلایا تھا۔
’’ابا جان آپ کی اجازت ہو تو ہم بھی اس تحریک کا حصہ بننا چاہیں گے۔‘‘ عین نے دبے دبے لہجے میں خواہش کا اظہار کیا تھا ابا انہیں دیکھنے لگے تھے۔
’’آپ کی سسرال کو یہ قبول نہیں ہوگا عین النور یوں بھی آپ کے محترم سسر صاحب تو کانگریس کے ساتھ منسلک ہیں کہیں آپ کا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنا انہیں خفا نہ کردے۔‘‘ ابا نے بہت نرمی سے سمجھایا تھا ظہوری بیگم نے بھی بیٹی کو دیکھا تھا۔
’’آپ کے ابا جان درست فرما رہے ہیں ایک گھر سے پہلے ہی دو افراد اس تحریک کا حصہ ہیں ضروری نہیں کہ آپ باقاعدہ شمولیت اختیار کریں آپ اس تحریک کو کئی طرح سے تعاون فراہم کرسکتی ہیں۔‘‘ ظہوری بیگم نے بیٹی کو سمجھایا تھا اور نواب صاحب نے سر ہلایا تھا۔
’’آپ کی اماں جان درست فرما رہی ہیں جلال اور ہم اس تحریک کا با ضابطہ حصہ ہیں یہ کافی ہے آپ اپنے سسرال کی مخالفت بھول جانے کا نہ سوچیں کل کو آپ کو انہی کے ساتھ آئندہ کی زندگی بسر کرنا ہے۔‘‘ ابا نے پر سکون لہجے میں سمجھایا تھا۔
’’آپ اپنے سسرال کی دعوت میں جانے کی تیاری کریں اور سیاست کو بھول جائیں۔‘‘ ظہوری بیگم نواب صاحب کو شامی حلوہ کے تھال سے حلوہ نکال کر دیتے ہوئے مسکرائی تھیں عین نے چونکتے ہوئے ان کو دیکھا تھا۔
’’آپ میں سے کوئی اس دعوت میں نہیں جائے گا۔‘‘
’’ارے بھئی آپ کی سسرال نے آپ کو دعوت دی ہے آپ کو جانا چاہیے آپ کی ساس صاحبہ نے تلقین کی تھی کہ اس تقریب میں آپ کی شرکت یقینی ہونا چاہیے۔‘‘ ظہوری بیگم مسکرائی تھیں عین نے شاکی نظروں سے ماں کو دیکھا تھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی ایسی باتیں ہماری عقل سے تو باہر ہیں آپ لوگوں کے بنا ہم دعوت میں جا کر کیا کریں گے ہمیں نہیں جانا اس دعوت میں پھر۔‘‘ وہ روٹھ کر بولی تھیں ظہوری بیگم نے مسکراتے ہوئے بیٹی کو دیکھا تھا۔
’’بڑی ہوجائیں اب آپ نواب زادی ابھی تک بچوں والی حرکتیں اور ضد یہ ان کی نجی دعوت ہے اور ان کے قریبی عزیز مدعو ہیں اگر چہ ہمیں بھی دعوت نامہ موصول ہوا ہے مگر ہم نے ہی نواب صاحب سے کہا کہ اچھا نہیں لگتا ان کے قریبی رشتے داروں میں ہمارا کیا کام آپ کو اس لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ غالباً وہ آپ کو اپنے کچھ قریبی رشتے داروں سے ملوانا چاہتے ہیں۔‘‘ ظہوری بیگم نے کہا تھا۔
’’ہم تو اس لیے بھی اس دعوت میں شرکت نہیں کر پائیں گے کہ ہمیں ایک اہم کانفرنس کا حصہ بننا ہے اور آپ کی اماں کی ایک عزیزہ کو ان سے ملنے آنا ہے آپ تو جانتی ہیں میکے سے آئے مہمان کتنے عزیز ہوتے ہیں سو ہماری بیگم صاحب نے ہمیں صاف بتا دیا ہے کہ کہیں مت جایا جائے بہرحال آپ اگر چاہیں تو آپ بھی کوئی بہانہ بنا کر منع کرسکتی ہیں کوئی ایسا ضروری بھی نہیں سسرالی دعوتوں میں شرکت کرنا۔‘‘ ابا نے بیٹی کو اداس دیکھ کر ان کی حمایت کی تھی، عین انہیں دیکھنے لگی تھیں فوری طور پر کچھ نہیں بولی تھیں۔
خ…خ…خ
’’اور پھر ماجرا کیا تھا؟‘‘ جلال نے فتح النساء کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے بغور دیکھا تھا فتح النساء حویلی سے قریبی عزیز کی طرف جانے کو نکلی تھیں جب حویلی کے باہر ہی جلال نے ان کے سامنے اپنی موٹر کار روک دی تھی اور تب فتح النساء کو اس موٹر کار میں بیٹھنا پڑا تھا۔
’’کچھ نہیں آپ کو بتایا تو تھا کہ ایسا کچھ خاص نہیں تھا۔‘‘ فتح النساء نے انہیں ٹالا تھا تب جلال نے انہیں بغور دیکھا تھا اور گویا ہوئے تھے۔
’’دیکھیے محترمہ فتح النساء ہم اتنے بھولے نہیں ہیں اور آپ بھی جانتی ہیں کہ اس طرح کچھ چھپانا جائز نہیں سو ہمیں بتا دیجیے کہ معاملہ کیا تھا ورنہ ہمارے پاس جاننے کے ہزاروں اور بھی راستے ہیں پٹوڈی محل میں واقع ہونے والی کوئی بات چھپی تو رہ نہیں سکتی ہزار ملازموں کی فوج ہے کسی نہ کسی نے کچھ نہ کچھ تو ضرور دیکھا ہوگا اس کا یقین تو ہمیں ہے ہم آپ کی زبانی سننا چاہ رہے ہیں سو کیا آپ اب مدعا بیان کرنا چاہیں گی۔‘‘
جلال نے نرمی سے پوچھا تھا۔ فتح النساء کچھ ثانیوں کو خاموش رہی تھیں پھر گویا ہوئی تھیں۔
’’حیدر سراج الدولہ نے ہم سے بد تمیزی کرنے کی کوشش کی ہمیں بری نیت سے دیکھا اور…!‘‘ وہ دانستہ ان کی سمت دیکھتے ہوئے بولتے بولتے رک گئی تھیں۔
’’اور…!‘‘ جلال نے ایک اچٹتی نظر ان پر ڈالی تھی۔
’’اور ہمیں بہت بری نیت سے دیکھا اور اپنے گھٹیا عزائم کے لیے ہمیں استعمال کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ اگر ہم نہیں مانتے تو ان کے پاس کئی راستے اور بھی ہیں… اور…!‘‘ وہ اچانک بولتے ہوئے رکی تھیں۔ تب جلال نے ونڈ اسکرین سے نگاہ ہٹا کر ایک نظر انہیں دیکھا تھا۔
’’اور کیا آپ نے ان چھوٹی چھوٹی بریکس کے لیے بنا پوری بات ہمیں بتا سکتی ہیں۔ ہم مدعا سننا چاہتے ہیں ہمیں یقین تھا کہ ایسی کوئی بات ہوئی ہے مگر ہم اندازہ نہیں کرپائے تھے کہ وہ اس درجہ گرنے کا تصور کریں گے وہ بھی ہمارے گھر کی خواتین کے ساتھ ابا آپ کو اپنی بیٹی سمجھتے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں اس کے باوجود انہوں نے اتنی گھٹیا حرکت کی۔‘‘ جلال کی رگیں تن گئی تھیں وہ شدید غصے میں آگئے تھے اور فتح النساء کو ان کی فکر ہونے لگی تھی۔ وہ اس وقت موٹر کار چلا رہے تھے اور اسے ڈر تھا ان کا غصے میں آنا ان کی جان کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے یا ان سے گاڑی بے قابو نہ ہوجائے تبھی ان کی سمت دیکھتی ہوئی گویا ہوئی تھیں۔
’’آپ اگر کچھ سننا چاہتے ہیں تو آپ اتنا زیادہ غصہ کرنا بند کیجیے ورنہ ہم آپ کو کچھ مزید نہیں بتائیں گے۔‘‘ فتح النساء نے دھمکی دی تھی جس پر جلال اگلے چند لمحوں تک بنا ان کی طرف دیکھے خاموشی سے ڈرائیونگ کرتے رہے تھے اور پھر گہری سانس خارج کرتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہم خواتین کی عزت کرتے ہیں فتح النساء ہم سے ایسا نا زیبا سلوک برداشت نہیں ہوتا حیدر میاں کی ہمت بھی کیسے ہوئی آپ سے اس طرح پیش آنے کی ہمیں تو سوچ کر ہی حیرت ہو رہی ہے کہ ہماری بہن ایسے شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنے جا رہی ہیں جن کو خواتین کی عزت بھی کرنا نہیں آتی آپ نے یہ بات اپنی عزیزہ سہیلی عین النور کو کیوں نہیں بتائی۔ اگر آپ کو وہ عزیز ہیں اور آپ نہیں چاہتیں کہ ان کے ساتھ کچھ غلط ہو تو پھر یہ خاموشی بھی کیوں، آپ تو ان کی عزیز سہیلی ہیں نا۔‘‘ وہ عجیب شکی نظروں سے اسے دیکھنے لگا تھا وہ افسوس سے ان کی سمت دیکھتی ہوئی نگاہ ہٹا گئی تھی۔
’’ہمیں یہی گمان تھا کہ آپ اس طور پیش آئیں گے اور کوئی نہ کوئی بات اپنی طرف سے اخذ کرلیں گے تبھی ہم آپ کو کچھ بتانے سے گریز کر رہے تھے کہ آپ الٹا ہم پر ہی شک کریں گے جب آپ جانتے ہیں کہ ہم عین کی اتنی اچھی سہیلی ہیں تو آپ نے ایسا سوچا بھی کیوں ہم عین کے خیر خواہ نہیں مگر ہمیں لگ رہا تھا اگرعین نے ہمارا یقین نہ کیا تو اور ایسا ہونا عین ممکن بھی تھا کہ نواب زادی ہمارا یقین نہیں کرتیں کیونکہ وہ حیدر میاں سے اپنے رشتے کو لے کر کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوجاتی ہیں سو ہمیں یہی گمان تھا کہ کہیں وہ ہمارے خلاف کھڑی نہ ہوجائیں اور وہ دوستی اس طور اختتام پذیر نہ ہوجائے ہم عین کے خیر خواہ ہوتے ہوئے بھی چپ رہے کہ شاید وہ ہماری بات کا یقین ہی نہ کریں تو پھر جب آپ اس طرح بھڑک اٹھے اور ہمارا یقین نہیں کر رہے تو ایسا نواب زادی کے ساتھ بھی تو ممکن تھا نا یہی بات تھی جو ہمیں کچھ کہنے سے روک رہی تھی۔ بہرحال ہم عین سے بہت مخلص ہیں ان کو زک نہیں پہنچا سکتے۔‘‘ فتح النساء کہہ کر خاموش ہوئی تھیں تب جلال نے ان کی سمت ایک نگاہ ڈالی تھی ان کا چہرہ سپاٹ تھا۔ فتح النساء سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ ان کا یقین کر رہے تھے یا گویا اب بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، تبھی وہ ان کی سمت سے نگاہ پھیر گئی تھی جلال نے تبھی انہیں مخاطب کیا تھا اور مدہم لہجے میں بولے تھے۔
’’اور دوسرا معاملہ کیا تھا آپ وہ بتانا گوارا کریں گی یا ہم آپ سے پوچھنے کی جسارت نہیں کرسکتے۔‘‘ اور آپ بتانے کا کوئی حق واجب نہیں رکھتیں۔‘‘ عجیب لہجے میں جلال الدین پٹوڈی کی طرف سے سوال آیا تھا وہ لمحہ بھرکو انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔
کیا وہ اس پر شک کر رہے تھے ان کا انداز کس بات کا غماز تھا وہ سمجھ نہیں پائی تھی مگر وہ ان کو سمجھانا چاہتی تھی کہ ان کا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا سو ہوا وہی تھا جس کا انہیں شک تھا اسی باعث اس نے نواب زادی کو کچھ نہیں بتایا تھا اور اب معاملہ وہی ہوا تھا اسے شک کے کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا تھا گویا جلال ان کی نیت پر شک کر رہے تھے اور حیدر میاں صاحب بچ نکلے تھے۔
’’آپ اپنی باقی ماندہ سوچوں کو فی الحال ایک طرف رکھ دیں ابھی ان کی گنجائش نہیں نکلتی ہم نے جو آپ سے پوچھا ہے فی الحال اس کا ایک واضح سا جواب دے دیجیے۔‘‘ جلال نے گاڑی کی ونڈ اسکرین سے نگاہ ہٹا کر انہیں اچٹتی نظروں سے دیکھا تھا۔
’’کیا وہ بات بتانا اس قدر ضروری ہے۔‘‘ فتح النساء تعرض برتتی ہوئی بولی تھیں، تب جلال الدین پٹوڈی خاموش ہوگئے تھے اور فتح النساء کو صاف لگا تھا وہ مزید قائل کیوں نہیں کرنا چاہتے انہیں برا لگ گیا تھا تبھی وہ ان کی سمت سے نگاہ ہٹا کر آہستگی سے بولی تھیں۔
’’حیدر میاں نے ہم پر انگلی اٹھائی ہماری شناخت پر سوال اٹھایا جب ہم نے کہا کہ ہم روسا کی اولاد ہیں ہم پر بری نظر رکھنا آپ کو زیب نہیں دیتا تو وہ تمسخر اڑانے لگے کہ ہم جہاں پیدا ہوئے ہیں وہاں ماں باپ کا نام درج نہیں ہوتا یہ سوال ہمارے لیے تازیانہ تھا ہم اسی دن سے الجھے ہوئے ہیں اور اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ ہم کون ہیں اور اسی لیے ہم اس مدعے کو آپ کے سامنے کھولنے سے اور بات کرنے سے گریز کر رہے تھے کیونکہ یہ ہمارا نجی معاملہ ہے اور ہم کسی کے سامنے اس کی تشہیر نہیں چاہتے تھے۔‘‘ فتح النساء کھڑکی کی طرف گردن پھیرے بولی تھیں ان کا لہجہ بہت خالی پن لیے ہوئے تھا اور مدہم آواز کسی قدر بوجھل تھی جلال نے ان کی سمت ایک نگاہ دیکھا تھا۔
’’آپ ابا جان کے دوست کی بیٹی ہیں اور یہ حوالہ کافی تھا ان کو بتانے کو۔‘‘ جلال سرسری لہجے میں بولے تھے۔
’’ویسے انہیں کیوں لگا کہ آپ پٹوڈی خاندان کے قریبی دوست کی بیٹی نہیں۔‘‘ جلال نے نقطہ اٹھایا تھا وہ خاموشی سے دیکھ کر رہ گئی تھی تبھی وہ بولا تھا۔
’’آپ خود اپنے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں تو آپ دوسروں کے سامنے خود کا دفاع کیسے کرسکتی ہیں پہلے خود ڈٹ کر کھڑا رہنا سیکھیے جب آپ خود مضبوطی سے کھڑا ہونا سیکھ لیں گی تو یہ تمام سوال بے معنی ہوجائیں گے۔‘‘ وہ جتانے والے انداز میں گویا تھے۔
’’یہ بات ہماری نہیں ہے آخر حیدر سراج الدولہ نے ایسا کہا بھی کیوں ان کے ذہن میں کوئی بات تو چل رہی ہوگی نا۔‘‘ وہ سوچتی ہوئی بولی تھی۔
’’اور آپ کو لگتا ہے کہ ان کے کہہ دینے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔‘‘
’’اور کیا آپ ان کے اتنا کہہ دینے سے خود کے بارے میں بے یقین ہو جائیں گی۔‘‘ وہ الٹا سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ وہ الجھ کر خاموش ہوگئی تھی جب جلال گویا ہوئے تھے۔
’’دیکھیے فتح النساء ہم آپ کے خیر خواہ ہیں سو آپ کو ایک بات جتانا چاہتے ہیں جو نہیں ہیں ان کی فکر میں گھلنا ٹھیک نہیں آپ کی اپنی ایک ذات ہے ایک پہچان ہے آپ کے والدین کا وجود تھا ابا کے اچھے دوستوں میں سے تھے آپ کے ابا جان اور اکثر ابا ان کا ذکر بھی کرتے ہیں ہم نہیں جانتے آپ ایسے شکوک و شبہات میں کیوں پڑ رہی ہیں، اکیس برس تک آپ اسی سوچ اور اعتماد کے ساتھ جیتی رہی ہیں نا کہ آپ کے والدین سلامت تھے اور آپ کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے تو اب کیا آفت آگئی ہے۔ دیکھیے حیدر کی باتوں میں نہ آئیں وہ انسان ٹھیک نہیں ہے اور اب ہم گھر میں مدعا اٹھائیں گے ہم ابا جان سے خود بات کریں گے کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل کچھ سوچ لیں یہ نواب زادی کی زندگی کا معاملہ ہے۔‘‘ وہ اپنی بہن کے لیے بہت متفکر دکھائی دیے تھے۔
’’کیا آپ ایک کام کرسکتی ہیں ہمارے لیے۔‘‘ وہ اس فکر میں بولے تھے۔
’’کیا۔‘‘ فتح النساء چونکی تھیں۔
’’کیا آپ یہ سب اپنی سہیلی کے گوش گزار کرسکتی ہیں ہم چاہتے ہیں آپ ان سے اس سلسلہ میں بات کریں۔‘‘ جلال بولے تھے اور وہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی تھی۔
’’آپ جانتے ہیں جلال آپ ہم سے کیا کہہ رہے ہیں، نواب زادی نے اگر ہمارا یقین نہ کیا تو ہماری دوستی جاتی رہے گی آپ جانتے ہیں وہ اپنے اور حیدر میاں کے تعلق کو لے کر کس قدر شدت پسند ہوجاتی ہیں اور ہمیں ڈر ہے ہم ان کو کھو نہ دیں۔‘‘ وہ خوف کے باعث بولی تھیں تبھی وہ ایک نگاہ انہیں دیکھتے ہوئے بولے تھے۔
’’ہم آپ سے جو کہہ رہے ہیں آپ وہ کیجیے یہ درخواست ہے آپ سے۔‘‘ وہ قطعی لہجے میں گویا تھے اور فتح النساء انہیں دیکھ کر رہ گئی تھی تبھی وہ مدہم لہجے میں گویا ہوا تھا۔
’’اسی باعث ہم آپ کو لینے آئے تھے ہمیں علم ہوگیا تھا کہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے اور یہ معاملہ اگر نواب زادی کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لانے کا باعث بن سکتا ہے تو آپ کو ان کی سہیلی ہونے کے ناتے اتنا رسک تو لینا چاہیے کیا آپ چاہیں گی کہ نواب زادی زندگی میں ایک غلط فیصلہ لیں اور ایک غلط انسان کے ساتھ اپنی باقی ماندہ زندگی بسر کردیں۔‘‘ وہ ایک نظر اس پر ڈال کر بولے تھے اور فتح النساء ان کو دیکھ کر رہ گئی تھی۔
خ…خ…خ
’’ما شاء اللہ آپ کے سپوت بہت فعال کردار ادا کر رہے ہیں مسلم لیگ میں فرنگی بھی ان کے خیالوں سے خوب متاثر دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ فریدہ بیگم نے اپنے شوہر حکمت بہادر یار جنگ کی طرف دیکھا تھا وہ دھیمے سے مسکرائے تھے اور اپنے ہونہار سپوت کو دیکھا تھا وہ سیڑھیاں اترتے دکھائی دیے تھے۔
’’بیٹا جوان ہوجائے تو باپ کی توانائی دوگنی ہوجاتی ہے فریدہ بیگم ہم خوش ہیں کہ جس خاندان کا بہت نام تھا اس خاندان سے ایک اور سورما نکل رہا ہے آزادی کی جنگ میں ہمارا خاندان پیش پیش رہا ہے۔
ہمارے بڑے بھائی فریڈم فائٹر تھے چچا جان بھی فریڈم فائٹرز میں سے تھے اور اب ہمارا بیٹا بھی اس تحریک میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے چلو پڑھائی کا ایک فائدہ تو ہوا کہ لڑائی لڑنے کا طریقہ بدل گیا ایک پڑھا لکھا دماغ دماغ سے لڑائی لڑتا ہے اور ان پڑھ ہتھیار سے دیکھیے بیرون ملک جا کر پڑھنے سے جو آپ کو قلق تھا کہ آپ کا بیٹا آپ سے دور کردیا تو اب یہ قلق ختم ہوجانا چاہیے کیونکہ آپ کے سپوت کی تعلیم و تربیت نے انہیں اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ اپنے مسلمانوں کے حقوق کی جنگ میں بڑے بڑے لیڈران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں آج نیا جوش اور نیا ولولہ تحریک کا حصہ بن رہا ہے اب تو بس فرنگیوں کے قدم اکھڑے ہی سمجھیے۔‘‘ حکمت بہادر یار جنگ مسکرائے تھے اور فریدہ بھی مسکرا دی تھیں۔
’’لیجیے آپ نے تو اپنے سپوت کی قصیدہ خوانی شروع کردی ہم تو آپ سے یہ کہنے والے تھے کہ بیٹا جوان ہوگیا ہے اب آپ ان کی شادی کی فکر کریں کوئی اچھی لڑکی دیکھ کر نکاح کریں اور بہو گھر لائیے بیٹے کا اس طرح لور لور پھرنا مناسب نہیں۔‘‘ فریدہ مسکرائی تھیں اور حکمت بھی مسکرا دیے تھے۔
’’ہم نے تو اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا فریدہ بیگم کوئی لڑکی ہے آپ کی نظر میں۔‘‘ ویسے آپ کے سپوت بیرون ملک پڑھائی مکمل کر کے لوٹے ہیں ذرا ان سے بھی پوچھ لیجیے انہیں کوئی وہاں نہ بھا گئی ہو آپ تو جانتی ہیں کہ بچے بیرون ملک پڑھنے جاتے ہیں تو اکثر وہیں کسی کو پسند کرلیتے ہیں۔‘‘ حکمت صاحب نے چھیڑا تھا فریدہ مسکرا دی تھیں۔
’’چلیں اگر پسند کر بھی لیا ہے کسی کو تو کیا حرج ہے ہمارے بیٹے کی پسند کوئی خاص ہی ہوگی ہم ان مائوں میں سے نہیں جو اپنے بچوں کو پسند کا حق بھی دینا نہیں چاہتیں ہمارے لیے یہ تو وہ جو کوئی بھی ہوگی بہت اہم ہوگی ویسے ہم بات کریں گے تیمور سے۔‘‘ فریدہ نے شوہر کے سامنے چائے کے لوازمات رکھے تھے اور ان کو مٹھائی سرو کرنے لگی تھیں۔
’’یہ کیا آپ نے مٹھائی کی ڈلی اٹھا کر منہ میں رکھی تھی۔
’’جانے بھی دیں حکمت صاحب یہ مٹھائی تو ہم نے آپ کے لیے بنوائی تھی آپ کو میٹھا کھانے کا بہت شوق ہے نا اور تیمور کی دلہن کو منتخب کرنے پر ایسی مٹھائی تھوڑا نا کھلائیں گے آپ کو پھر تو مٹھائی بھی کچھ اور خاص ہوگی۔‘‘ فریدہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا تو حکمت صاحب نے مسکراتے ہوئے سرہلایا تھا تبھی تیمور وہاں آئے تھے۔
’’آداب امی جان، آداب ڈیڈ۔‘‘
’’تسلیمات یہ کیا بیٹا آداب بھی اور ڈیڈ بھی ارے موئے فرنگی الفاظ گھر کی چار دیواری میں پکار کر گھر کی فضا کو تو ناپاک نہ کریں آپ۔‘‘ فریدہ نے جواب دیتے ہوئے بیٹے کو گھورا تھا تیمور مسکرا دیا تھا اور حکمت کو دیکھا تھا۔
’’ڈیڈ سوچ لیں اماں کو فرنگی پسند نہیں اور آپ تو کل مادام مارگریٹ سے ملنے والے تھے نا۔‘‘ تیمور نے چھیڑا تھا حکمت نے مسکراتے ہوئے بیٹے کو دیکھا تھا تیمور نے جھک کر مٹھائی کی ڈلی اٹھا کر کھائی تھی اور دوسری اٹھا لی تھی فریدہ نے بیٹے کو گھورا تھا۔
’’یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ، یہ آپ دونوں باپ بیٹا کون سی کھچڑی پکارہے ہیں کہہ رہے ہیں ہم آپ سے اب سدھر جائیں یہ کسی فرنگن سے مل رہے ہیں آپ؟‘‘ فریدہ نے شوہر کو گھورا تھا حکمت بہادر یار جنگ مسکرائے تھے اور بیوی کو دیکھا تھا۔
’’اب اس عمر میں ہم کیا کریں گے محترمہ مارگریٹ مادام وائسرائے کی ما تحت ہیں ایک گزارشات ان کو دینا تھی اسی لیے ان سے ملنے کا وقت مقرر ہوا تھا۔‘‘ حکمت صاحب نے سمجھایا تھا اور بیٹے کو دیکھا تھا۔
’’تمہارے چاچا نواب پٹوڈی بہت تعریف کر رہے تھے تمہاری بہت تعریف کر رہے تھے وائسرائے سے ہونے والی میٹنگ میں تم نے اور جلال نے متاثر کن نمائندگی کی ہمیں خوشی ہے تم دونوں اس تحریک کا حصہ بنے۔‘‘ حکمت نے بیٹے کو بھرپور سراہا تھا تبھی فریدہ بیگم گویا ہوئی تھیں۔
’’اچھا اب یہ سیاسی باتیں گھر میں کرنا منع ہے اگر ایسی سیاسی گفتگو فرمانے کا ایسا ہی شوق ہو رہا ہو تو چلتے ہوئے گھر کی حدود سے باہر نکل جائیے آپ دونوں باپ بیٹا ورنہ ہم تو کان لپیٹنے سے رہے۔‘‘
فریدہ کے ڈپٹنے پر تیمور مسکرایا تھا اور والد کی طرف دیکھا تھا۔
’’ڈیڈ مم کو مادام مارگریٹ کا ذکر کچھ پسند نہیں آیا بہرحال ہم تو باہر جا رہے ہیں آپ اماں حضور کی ڈانٹ سنتے رہیے۔‘‘ تیمور نے مسکراتے ہوئے مٹھائی اٹھا کر منہ میں رکھی تھی جب فریدہ نے ان کا کان پکڑ لیا تھا اور ڈپٹتے ہوئے بولی تھیں۔
’’بیٹھ جائیے خاموشی سے کہیں نہیں جا رہے آپ بھی ہمیں آپ سے بہت ضروری بات کرنا ہے سو آج آپ کا باہر جانا منسوخ سمجھیے۔‘‘ فریدہ نے انہیں پکڑ کر بٹھا دیا تھا اور تیمور ماں سے کچھ نہیں کہہ سکا تھا۔
خ…خ…خ
نواب زادی عین النور اس تقریب میں آ تو گئی تھیں مگر اکیلے وہ بہت عجیب محسوس کر رہی تھیں اتنے سارے سسرالی رشتے داروں سے ملنے کا تجربہ نیا تھا اور بیشتر کو تو وہ جانتی بھی نہیں تھیں۔
’’کیا ہوا آپ اتنا گھبرائی ہوئی کیوں لگ رہی ہیں آپ کی تو اپنی سسرال ہے غالباً آپ اس گھر میں اجنبی تو نہیں۔‘‘
کسی بہت دلکش لڑکی نے ان کی سمت دیکھتے ہوئے کہا تھا اور عین نے چونکتے ہوئے انہیں دیکھا تھا حسن بہت دلفریب تھا وہ جو کوئی بھی تھیں بہت زیادہ حسین اور دلکش تھیں ان کی تو آواز میں بھی اتنی نغمگی تھی کہ عین حیران رہ گئی تھی۔
’’آپ ہمیں کیسے جانتی ہیں۔‘‘ عین النور نے حیرت سے پوچھا تھا وہ مسکرا دی تھیں اور نرمی سے ان کی طرف دیکھتی ہوئی گویا ہوئی تھیں۔
’’نواب زادی عین النور پٹوڈی کو کون نہیں جانتا ہوگا حیدر سراج الدولہ کی منگیتر اور نواب سیف الدین کی بیٹی کو لکھنئو میں کون نہیں جانتا۔‘‘ وہ مسکرائی تھیں۔
’’اور آپ کون ہیں۔‘‘ عین نے انہیں حیرت سے دیکھا تھا۔
’’ہم خوشنما ہیں۔‘‘ وہ بہت دلکشی سے مسکرائی تھیں اور اس سے قبل کہ عین ان سے کچھ اور پوچھتی وہ چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھیں۔
عین النور کو مان لینا پڑا تھا کہ اس نے آج سے قبل ایسا اچھوتا حسن نہیں دیکھا تھا۔
’’یہ کون تھیں۔‘‘ عین نے الجھ کر سوچا تھا پھر شانے اچکاتی ہوئی آگے بڑھ آئی تھیں گھر کے اس احاطے میں ویرانہ سا تھا۔ تقریب دوسرے حصے میں منعقد کی گئی تھی اور گھر کا یہ حصہ نسبتا گھر سے مخالف سمت تھا عین النور نے کبھی اس گھر کو اس درجہ غور سے نہیں دیکھا اور اس حصے کو قطعا نہیں دیکھا تھا۔
وہ حیرت سے اس حصے کو دیکھ رہی تھی جب اسے یکدم اپنے پیچھے کسی کھٹکے کی آواز سنائی دی تھی وہ چونکتے ہوئے مڑی تھیں وہ آواز ایک نسوانی چیخ کی تھی وہ سمجھ نہیں پائی تھیں کہ آواز کس سمت سے آئی تھی گھر اتنا بڑا تھا کہ سمت کا تعین کرنا مشکل لگ رہا تھا عین النور ہراساں سی مڑی تھی جب ان کی نظریں ساکت رہ گئی تھیں تبھی کسی نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور ان کی چیخ نکل گئی تھی تبھی کسی نے ان کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا اور ان کے بولنے کی سکت نہیں رہی تھی، وہ کسی مصیبت میں پھنس رہی تھیں وہ سمجھ نہیں پائی تھیں مگر ان کا دل خوف سے بہت بھر گیا تھا اتنا خوف تھا کہ لگتا تھا دل بند ہوجائے گا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close