Naeyufaq Dec-16

انصاف

سلیم اختر

سردار مراد علی حویلی کے آنگن میں بے قراری سے ٹہل رہا تھا۔ گائوں کی دائی فضلاں کو کمرے سے باہر آتے دیکھ کر وہ اس کی طرف بے تابی سے لپکا۔ ’’کیا بات ہے فضلاں! تم گھبرائی ہوئی لگ رہی ہو، خیریت تو ہے ناں؟‘‘
’’سردار جی! حالات میرے اختیار سے باہر ہیں۔ سردارنی کو شہر لے جانا پڑے گا۔‘‘ فضلاں گھبرا ئے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’تم ہی کچھ کرو فضلاں! تم جانتی ہو ، حویلی کی کوئی عورت اولاد کو جنم دینے اسپتال نہیں جاتی۔‘‘
’’جا نتی ہوں سردار جی! مگر یہ سردارنی کی زندگی کا معاملہ ہے ا س لئے دیر نہ کریں۔ اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر اور نرسیں بھی ہوتی ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے کہ ، میں گاڑی نکالتا ہوں۔ تم سردارنی کو گاڑی تک لے آئو۔‘‘ سردار مراد پریشان سا ہو کر گاڑی کی طرف بڑھا۔
’’یاپروردگار ! خیر کرنا۔ ‘‘یہ کہہ کر اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور چل پڑا۔ گاڑی کی رفتار تیز تھی۔ وہ جلد از جلد شہر کے سب سے بڑے اور مہنگے نرسنگ ہوم پہنچنا چاہتا تھا۔
سردار مراد علی نے سکینہ سے پسند کی شادی کی تھی۔ دونوں ایک جان دو قالب تھے، اس لئے سکینہ اسے جان سے بڑھ کر عزیز تھی۔ وہ بہت ہی خوش تھے کہ ان کی محبت کی تکمیل ہونے والی ہے ۔ حویلی کا وارث اس دنیا میں آنے والا ہے مگر انسان تو فقط ایک کھلونا ہے اس کی چابی قدرت کے پاس ہے ۔ شہر پہنچنے سے قبل ہی سکینہ ایک بیٹی کو جنم دے کر زندگی ہار گئی۔ سردار مراد اس روز دھاڑیں مار مار کر رویا تھا۔ اس کی تو دنیا ہی اُجڑ گئی تھی مگراس کے آنسو سردارنی کو واپس نہ لا سکے۔ سردار مراد نے سکینہ کی آخری نشانی کو گلے سے لگایا تو وہ ایک بار پھر بے قابو ہو گیا۔ وہ بچی کو بے تابانہ انداز میں چومتا بھی تھا اور روتا بھی تھا۔ بچی کا نام نرگس رکھا گیا۔
مراد علی پنڈ سرداراں کا سب سے بڑا زمین دار تھا جو اسے باپ دادا سے ورثہ میں ملی تھی۔ گائوں میں اس کی بڑی شاندار حویلی تھی۔ محبت ، امن ، انصاف اورانسانیت سے محبت اس حویلی کا ورثہ تھا۔ مراد علی اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر چل رہا تھا تبھی تو اس نے ایک معمولی زمیندار کی لڑکی سکینہ کو اپنی زندگی کا ہم سفر بنایا تھا۔ وہ ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے تھے۔ سکینہ اس حویلی کی بہو بننے سے ڈرتی تھی۔ وہ اکثر سردار مراد سے کہا کرتی تھی۔ ’’مجھے اونچی حویلیوں اور چوباروں سے ڈر لگتا ہے ۔ مجھ جیسے غریبوں کی تو آواز یں بھی اس کے درودیوار میں دب جاتی ہوں گی اس لئے مجھے ایسے خواب مت دکھائو۔ سردار مراد ! مجھے اپنی اوقات میں رہنے دو اور کسی سردارنی سے شادی کر لو۔‘‘
’’سردارنی تو میں تمہیں ہی بنائوں گا ۔ ہمارے مذہب کی رو سے سب انسان برابر ہیں اس لئے تم وسوسوں کو دل میں جگہ نہ دو ۔ میں ثابت کروں گا اونچی حویلیوں والے بھی با وفا، جاں ثار اور وعدے کے پکے ہوتے ہیں۔‘‘
سکینہ کی باتیں اسے یاد آتیں تو وہ بے خود سا ہو جاتا۔ زندگی اسے بوجھ لگنے لگتی ۔ ایسے ہی نرگس اس کے تمام غم اور دکھ بھلا دیتی تھی۔ اب نرگس ہی اس کے جینے کا آسرا تھی۔ اس کی جان نرگس میں تھی۔ اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جاگیر کا آدھا حصہ نرگس کے نام کر دیا۔ نرگس کی دیکھ بھال اور پرورش کے لئے کئی عورتیں ملازم رکھی گئیں۔ ایک استانی سکول کا سبق دینے اور ایک مولوی صاحب قرآن مجید پڑھانے حویلی آتے تھے۔ اسی عرصہ میں بہنوں اور عزیزوں کے اصرار پر سردار مراد علی نے دوسری شادی کر لی ۔ صفوراں اس کی برادری کی تھی۔ سکینہ کے ساتھ مراد علی کی شادی سے قبل وہ بھی مراد کو چاہتی تھی مگر مراد اس پر کم ہی توجہ دیتا تھا۔ اب تو صفوراں ہوائوں میں اڑتی تھی مگر حویلی میں ہر معاملہ میں فوقیت نرگس کو ہی حاصل تھی۔ مراد علی نے صفوراں پر واضح کر دیا تھا کہ نرگس کو اسے کسی بھی چیز کی کمی کا احساس نہیں ہونے دینا ہے۔ سوتیلے پن کے سائے سے اسے بچانا ہے۔ اسے اپنی سگی اولاد جان کر اس کی پرورش کرنی ہے۔
صفوراں نے مراد علی کی ہاں میں ہاں ملائی اور وہی کچھ کیا جس کا حکم سردار مراد نے دیا تھا۔ جب نرگس بھی اپنی سوتیلی ماں سے مطمئن اور مسرور نظر آتی تو سردار مراد کے دل میں صفوراں کے لئے بھی جگہ بن گئی ۔ وہ اس کا بھی خیال رکھتا مگر سکینہ کو وہ پھر بھی نہیں بھولا تھا۔ باتوں باتوں میں سکینہ کا ذکر آ ہی جاتاجو کہ صفوراں کو نا گوار گزرتا۔ صفوراں کو سکینہ کے نام چڑ تھی کیونکہ وہ اس دنیا میں نہ ہوتے ہوئے بھی اس کی سوکن تھی۔ وہ سکینہ اور نرگس دونوں سے نفرت کرتی تھی مگر مراد علی کے سامنے اپنے دل کی بات کہنے کی اس میں جرات نہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سکینہ مرنے کے باوجود مراد علی کے دل سے نہیں نکلی ہے ۔ جب صفوراں ایک بیٹے سلطان کی ماں بنی تو اس کی قدر و منزلت بڑھ گئی۔ سردار مراد علی کی خوشیوں کا ٹھکانا نہ تھا۔ اس نے جی بھر کہ خوشیاں منائیں۔ خیرات تقسیم کی گئی۔ صدقہ دیا گیا۔ غریبوں اور ناداروں کو اناج اور نقد رقم دی گئی۔ سلطان بھی مراد علی کی آنکھوں کا تارا تھا۔ اسے جائیداد کا وارث مل گیا تھا۔ نرگس اور سلطان دونوں مل کر کھیلتے ، لڑتے اور جھگڑتے تو حویلی کی رونق دوبالا ہو جاتی۔ سلطان کی پیدائش کے بعد صفوراں نرگس کی طرف سے بے پروا ہو گئی۔ اب اس کی تمام توجہ کا مرکز صرف اور صرف سلطان تھا کیونکہ وہ اس حویلی کا حقیقی وارث تھا۔ صفوراں کو معلوم تھا کہ سردار مراد اپنی آدھی جائیداد نرگس کے نام کر چکا ہے۔ سردار مراد کا یہ عمل صفوراں کو اچھا نہ لگا تھا مگر اب اس فیصلے میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش ہی نہ تھی۔ ایک روز حویلی میں صفوراں اور مراد علی اکیلے بیٹھے تھے۔ نرگس مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھ رہی تھی۔ سلطان ان کے پاس ہی پلاسٹک کے بنے ہوئے گھوڑے سے کھیل رہا تھا۔ مراد علی کا خوش گوار موڈ دیکھ کر صفوراں بولی۔
’’سردار جی! آپ نے آدھی جائیداد نرگس کے نام کر دی ہے حالانکہ بیٹیاں تو آٹھویں حصے کی مالک ہوتی ہیں۔ ‘‘
’’نرگس آٹھ بیٹوں بھی بھاری ہے‘‘ مراد علی نے دو ٹوک جواب دیا۔
’’باقی سب کچھ ۔ بشمول اس حویلی کا مالک سلطان کا ہی تو ہے۔ میرے بعد یہی ان کا وارث اور مالک ہو گا۔ ‘‘یہ کہہ کر مراد علی اٹھ کر باہر نکل گیا۔ صفوراں کی بات نے اس کے اندر ایک آگ سی لگا دی تھی۔ وہ جان گیا کہ صفوراں نرگس سے حسد کرتی ہے۔ اس کا سوتیلا پن سامنے آگیا ہے۔ سوتیلے پن کا جلاپا سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتا ہے مگر وہ نرگس کی اہمیت کو کم نہ ہونے دے گا۔ سکینہ کی نشانی کو وہ گرم ہوا بھی نہ لگنے دے گا۔ صفوراں کی اس بات نے مراد علی کے دل میں گرہ لگا دی۔ وہ صفوراں کی طرف سے چوکنا ہو گیا۔
سردار مراد علی کے ہاں مزید اولاد پیدا نہ ہوئی۔ وہ ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو پا کر بھی خوش تھا کہ ان کا خاندان مکمل ہو گیا ہے ۔ مراد علی کو اب کوئی دکھ اور پریشانی نہ تھی اگر پریشانی تھی بھی تو یہ کہ نرگس اب جوان ہوتی جا رہی تھی۔ سلطان نے بھی خوب قد کاٹھ نکالا تھا کہ وہ نرگس سے بھی بڑا لگتا تھا۔ سلطان، نرگس سے قطعی مختلف نکلا۔ نرگس کی دنیاوی تعلیم کم سہی مگر دینی تعلیم کے معاملہ میں وہ بہت آگے تھی۔ وہ نمازپابندی سے پڑھتی۔ صبح صبح قرآن مجید کی تلاوت کرتی جب کہ سلطان نے مشکل سے نزدیکی اسکول سے پانچ جماعتیں پاس کی تھیں۔ نماز وہ پڑھتا ہی نہ تھا۔ قرآن مجید بھی اس نے پورا نہ پڑھا تھا۔ اسے صرف گھوڑوں اور شکاری کتوں کا شوق تھا۔ اس نے حویلی میں کئی گھوڑے اور کتے پال رکھے تھے۔ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر شکاری کتوں کے ہمراہ جنگل کی طرف نکل جاتا اور اپنے شوق کی تکمیل کرتا۔ اس نے لڑائی والے کتے بھی پال رکھے تھے۔ نرگس کو بھائی کے یہ شوق ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔ انہی باتوں پر دونوں بہن بھائی میں تکرار ہوتی رہتی تھی۔ سلطان کا رویہ سخت ہو تا تھا جب کہ نرگس کے رویے میں لچک اور نرمی، نرگس سلطان کو سگا بھائی سمجھ کر بہت پیار کرتی تھی۔ اس کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھتی۔ راتوں کو جب وہ دیر سے گھر آتا تو اس کے لئے تازہ کھانا تیار کرتی۔ اس کے لئے دودھ گرم کرتی مگر اس کے برعکس سلطان کو بہن کی کوئی پروا نہ تھی۔ وہ اتنا اکھڑ اور بے مہار ہو گیا کہ بہن کے جذبات کا بھی خیال نہ کرتا۔ ہر بات پر اس کو تضحیک کا نشانہ بناتا۔ اس کے من میں بھی یہی خلش تھی کہ اس کے باپ نے نرگس کو آدھی جائداد کا مالک بنا کر اس کے ساتھ زیادتی کی ہے ۔ ماں بیٹا آپس میں اس معاملے پر بات کرتے رہتے اور اندر ہی اندر گھلتے اور کڑھتے تھے مگرنرگس یا مراد علی کے سامنے یہ مسئلہ چھیڑنے کی ہمت نہ پاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سردار مراد علی نرگس کوسب سے بڑھ کر عزیز ہے ۔ سلطان کا یارانہ پنڈ ٹھاکراں کے ٹھاکر میرو کے خاندان سے تھا۔ ٹھاکر میرو بھی بہت بڑی جاگیر کا مالک تھا مگر سردار مراد کی نسبت اس کی جائداد کم تھی۔ علاقے میں ٹھاکروں کی جائداد سیاست اور بدمعاشی کی دھوم تھی۔ لوگ اس خاندان کے نام ہی سے خوف کھاتے تھے۔ اپنی عزت اورجان مال کی حفاظت کی خاطر کوئی ان سے ٹکر ہی نہ لیتا تھا اس وجہ سے ان کے حوصلے بلند تھے۔ کوئی ان کے سامنے آنکھ اٹھا کر بات نہ کرتا۔ ٹھاکر میرو سردار مراد علی سے مختلف تھا۔ میرو اپنے علاقے کی یونین کونسل کا چیئر مین تھا اور یہ سب کچھ ان کی بدمعاشی کی بدولت تھا۔ میرو شراب اور عورتوں کا رسیا تھا۔ کسی کی عزت کی اسے پروا ہی نہ تھی۔ اس کے بیٹے بھی باپ کے نقش قدم پر چل رہے تھے جن میں سر فہرست ٹھاکر نواز تھا۔ نواز اور سلطان پانچویں کلاس تک اکٹھے پڑھے تھے۔ وہاں سے ہی ان کی دوستی شروع ہوئی تھی جو اب جو ان ہونے کے باوجود جاری تھی۔ دونوں کی طبیعتوں میں ہم آہنگی تھی۔ دونوں نے ہی پانچویں کے بعد اسکول چھوڑ دیا تھا۔ دونوں کے شوق بھی ایک جیسے تھے اس لئے ان کی دوستی بھی تھی۔ سلطان اکثر نواز کے گھر جاتا رہتا تھا مگر نواز کم ہی سلطان کے گھر آتا تھا۔ وہ آتا بھی تو اسے مہمان خانے کے علاوہ کہیں اور جانے کی اجازت نہ تھی۔
سردارمراد علی کو سلطان اور نواز کی دوستی پسند نہ تھی۔ اسے ٹھاکر خاندان کی عادات و اطوار سے نفرت تھی۔ وہ ان لوگوں کی ذہنیت کو جانتا تھا۔ اس کے برعکس میرو کی یہ خواہش تھی کہ سردار مراد علی سے اس کے خاندان کے تعلقات اچھے ہو جائیں۔ ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا ہو جائے۔ اس نے کئی بار سردار مراد علی کو دوستی کی دعوت دی مگر مراد علی اسے نزدیک نہ آنے دیتا تھا کیونکہ ان دونوں کے کردار اور طبیعتوں میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ ان دنوں پنڈ سرداراں اور پنڈ ٹھاکراں کا وارڈ ایک ہی تھا کہ بلدیاتی الیکشن کا موقع آگیا ۔ ٹھاکر میرو نے سردار مراد علی کی منتیں کیں کہ وہ اسے ووٹ دیں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پنڈ سرداراں کے تمام لوگ سردار مراد علی کے کہنے پر ہی ووٹ دیں گے۔ پنڈ سرداراں کے ووٹر بھی ہزار کے قریب تھے۔ ٹھاکر میرو اکیلا بھی آیا تھا اور جرگہ بھی لے کر آیا مگر سردار مراد علی نے ہامی نہ بھری۔ اس نے صاف کہہ دیا۔ ’’ٹھاکر میرو! تمہارا کردار اچھا نہیں ہے اس لئے میں تمہیں ووٹ نہیں دوں گا۔ ووٹ کی اصل روح ہی ووٹر کی مرضی ہے اس لئے اسے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ میں گائوں کے کسی فرد کو بھی منع نہیں کروں گا۔ جس کی مرضی ہے وہ تمہیں ووٹ دے یا کسی اور کو ، حتی کہ میں اپنی بیوی اور اولاد کو بھی مجبور نہیں کروں گا۔ ‘‘
میرو ناکام واپس چلا گیا۔ پنڈ سرداراں کے باسیوں نے سردار مراد علی کی پیروی کی۔ یوں پہلی بار ٹھاکر میرو کو شکست ہوئی۔ ٹھاکر میرو کو گہرا صدمہ پہنچا۔ وہ اندر ہی اندر بل کھانے لگا مگر اس میں مراد علی سے ٹکر لینے کی ہمت نہ تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سردار مراد ایک سچا اور کھرا انسان ہے جب کہ وہ خود منافق اور جھوٹا ہے، شکست ہمیشہ جھوٹ کو ہوتی ہے۔ میرو نے سردار مرادعلی کے دل میں جگہ بنانے کے لئے سوچ بچار شروع کر دی۔ جب کبھی بھی سردار سلطان کی حویلی میں آتا وہ اسے بہت احترام دیتا۔ اس کی خدمت کی جاتی۔ سردار مراد علی کی نرگس سے بے پناہ محبت اور پھر نصف جائداد کی مالکن ہونا انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ سردار کی یہ کمزوری میرو اور نواز کے ہاتھ میں آگئی تو انہوں نے سلطان کی اور بھی خاطر مدارت شروع کر دی۔ انہوں نے سلطان کو ایسا قابو کیا کہ وہ ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔ سلطان کو پنڈ ٹھاکراں کی ایک لڑکی پسند آگئی تھی۔ وہ اس کی شادی کرنا چاہتا تھا۔ میرو اور نواز نے اسے یقین دلایا کہ وہ اس سے شادی کرا دیں گے مگر سردار مراد کے سامنے بات کرنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ ایک دوبار سلطان اور صفوراں نے اس سلسلے میں سردار مراد سے بات کرنا چاہی تو اس نے دونوں کو جھڑک دیا۔
’’سردار مراد علی کے فیصلے کے آگے کسی کو بولنے کی جرات ہی نہ تھی لہذا ماں بیٹا خاموش ہو گئے۔
ایک روز سردار مراد علی کسی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا کہ نواز، سلطان سے ملنے اس کی حویلی میں آگیا۔ سلطان اسے مہمان خانے کی بجائے حویلی کے اندر لے آیاور اس کی ملاقات اپنی ماں سے کراد ی۔ صفوراں نے اپنے بیٹے کے یار کی عزت کی۔ وہیں نواز نے نرگس کو دیکھا تو وہ اس کے من کو بھاگئی۔ وہ گائوں واپس آیا تو اس نے نرگس کو حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنے باپ سے اس خواہش کا اظہار کیا۔
’’نواز! تونے فیصلہ بہت اچھا کیا ہے ۔ اگر تمہاری خواہش حقیقت میں بدل جائے تو ہماری پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں گی لیکن یہ بیل منڈھے چڑھنی مشکل ہے ۔ سردار مراد کے جیتے جی یہ نہ ہو گا۔‘‘؎
’’سلطان اور اس کی ماں تو مان جائیں گے۔‘‘ نواز بولا۔
’’تو پھر ان سے بات کرو۔ اگر وہ راضی ہوئے تو ہم ان کے کندھے پر بندو ق رکھ کر گولی چلائیں گے۔ ‘‘ٹھاکر میرو مکارانہ انداز میں بولا۔ ایک روز جب سلطان اور نواز شکار کھیلنے کے بعد واپس آرہے تھے تو نواز نے اپنے دل کی بات سلطان سے کہہ دی۔ اسے یہ ڈر تھا کہ کہیں سلطان برا نہ مان جائے مگر سلطان نے یہ کہہ کر نواز کی ڈھارس بند ھا دی۔ ’’نواز! تم نے میرے دل کی بات کہی ہے ۔ نرگس کی شادی تو ہم نے کرنی ہی ہے۔ وہ تمہاری حویلی میں آئے گی تو اس سے ہمارے وقار میں بھی اضافہ ہو گا ۔‘‘
مجھے تمہارے باپ سے ڈر لگتا ہے۔ ‘‘نواز نے خدشہ ظاہر کیا۔ ’’تم اپنے بابا کو میرے بابا کے پاس بھیجو۔ میں اور امی پوری کوشش کریں گے۔ ‘‘سلطان نے نواز کو خود ہی راہ دکھا دی۔ سلطان نے گھر آکر اپنی ماں سے اس سلسلے میں بات کی تو اس نے بیٹے کی ہاں میں ہاں میں ملائی۔ وہ دونوں نرگس کو اس حویلی سے جلد از جلد نکالنا چاہتے تھے۔ ٹھاکر میرو کی زبان سے اپنی بیٹی کا نام سن کر سردار مراد بھڑک اٹھا۔
’’میرو!آئندہ اپنی زبان پر میری بیٹی کا نام بھی لائے تو بہت برا ہو گا۔ میں تمہاری اور تمہارے بیٹے کی حیثیت اور حقیقت جانتا ہوں اور اس لئے خاموشی سے لوٹ جائو۔ میری بیٹی تم لوگوں کے قابل نہیں ہے۔ ‘‘ٹھاکر میرو نا کام لوٹ گیا مگر نواز پھر بھی باز نہ آیا۔ وہ سلطان کے کان بھرتا رہا۔ صفوراں اور سلطان نے سردار مراد کے انکار پر برا منایا اور اسے کہنے لگے۔
’’نرگس کے لئے تو اس جیسا لڑکا نہ ملے گا۔ وہ ہمارے پائے کے زمیندار ہیں۔ یوں ہماری پوزیشن علاقے میں اور بھی مضبوط ہو گی۔ نرگس بھی وہاں راج کرے گی۔‘‘
مگر سردار مراد نے ان کی رائے سے بھی اتفاق نہ کیا تھا مگر صفوراں اور سلطان کو کسی پل چین نہ تھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے سردار مراد کے ساتھ نرگس اور نواز کی شادی کی ہی بات کرتے جب کہ نرگس خاموش تھی۔ اس نے سب کچھ اپنے باپ پر چھوڑ رکھا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا باپ جو بھی قدم اٹھائے گا وہ اس کی بھلائی اور بہتری کے لئے ہی ہو گا۔ سردار مرا د علی نے ابھی تک نرگس کے مستقبل کا فیصلہ ہی نہ کیا تھا۔ اس کی نظر میں کوئی معقول رشتہ نہ تھا۔ پھر بھی اس نے یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ نرگس کی شادی کسی غریب اور شریف لڑکے ساتھ کرے گا۔ ٹھاکروں کے بارے میں تو وہ سوچنا بھی گناہ سمجھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ نواز کی والدہ سے نواز کے باپ کے نا جائز تعلقات شادی سے پہلے کے تھے۔ شادی کے پانچ ماہ بعد ہی نوازپیدا ہو گیا تھا۔ میرو نے یہ کہہ کر لوگوں اور مخالفین کے منہ بند کروانے کی کوشش کی کہ ہم نے چھ ماہ پہلے ہی خفیہ طور پر شادی کر لی تھی اور لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہو گئے۔ سردار مراد علی کو بھی اس حقیقت کا علم تھا کہ ان لوگوں کا کوئی دین مذہب نہیں ، ان کو حلال اور حرام کی تمیز بھی نہیں وہ ان لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا پسند نہ کرتا تھا۔ اس نے صفوراں اور سلطان کو بھی اس حقیقت سے آگاہ کیا تو انہوں نے اس طرف توجہ نہ د ی۔ اتنی اہم بات انہوں نے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی۔ ان کا اب بھی یہ موقف اور اصرار تھا کہ نواز جیسا بھی ہے علاقے کا با اثر اور بڑے زمیندار ہی ہے وہاں بھی وہ ایسے ہی عیش کرے گی بلکہ راج کرے گی۔ سردار مراد علی کا معمول تھا کہ وہ صبح کی نماز مسجد میں باجماعت پڑھنے کے بعد کھیتوں کی طرف نکل جاتا تھا۔ وہ صرف مزارعوں پر ہی بھروسا نہ کرتا بلکہ اپنے ہاتھوں سے بھی کام کرتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو مصروف رکھتا تھا، یہی وجہ تھی کہ اس کی صحت شاندار تھی۔ اس روز بھی وہ حسب معمول اندھیرے میں کھیتوں کی طرف نکل گیا ۔ اس رات سلطان اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں گیا تھااور رات کو گھر واپس نہ آیا تھا۔ صفوراں اور نرگس دونوں ہی پریشان تھیں۔ مراد علی کھیتوں میں زندہ سلامت گیا تھا مگر واپسی پر اس کی لاش حویلی میں لائی گئی تھی۔ کسی ظالم نے گولیوں سے اس کا سینہ چھلنی کر ڈالا تھا۔ پنڈ سرداراں میں کہرام بپا ہو گیا۔ وہاںکے ہر گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔ نرگس کی آہیں اور بین آسمان کو چھونے لگے ۔ اسے اپنی خبر ہی نہ رہی۔ وہ ہر سو د و زیاں سے بیگانی ہو گئی۔ کئی دن گزر گئے۔ اسے اپنا ہوش نہ تھا اس کا باپ اس کے لئے ایک سائبان تھا۔ اب وہ نہ رہا تھا تو لگتا تھا جیسے سب کچھ بدل گیا ہے ۔ اب وہ ہی حویلی تھی وہی گھر کے افراد تھے مگر وہ چاہت اور خلوص عنقا تھے جو سردار مراد علی کی زندگی کا خاصا تھا۔ وہ جو خون کے رشتے تھے وہ بھی بدل گئے تھے۔ اس کا باپ تو اس کے لئے ایک پہاڑ تھا، ایک مضبوط قلعہ تھا جس کے اندر وہ اپنے آپ کو ہر غم ، ہر دکھ اور سرد گرم ہوائوں سے محفوظ سمجھتی تھی۔ سردار مراد، علی نواز کے ساتھ شادی کے معاملہ میں ایک عبور نہ ہونے والی دیوار تھا مگر اب وہ دیوار گر گئی تھی۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔ قلعے کی دیواروں میں شگاف پڑ گیا تھا۔ اس کی سوتیلی ماں اور بھائی کو تو اب آزادی ، خود مختاری کے ساتھ حکومت بھی مل گئی تھی۔ انہوں نے سردار مراد علی کا چالیسواں ہونے کے دو دن بعد ہی نرگس کی شادی نواز سے کر دی۔ انہوں نے نرگس کے غموں کا احساس ہی نہ کیا۔ وہ تو ابھی باپ کی جدائی کے غم کو بھی نہ بھول پائی تھی کہ اسے دکھوں کی ایک اور بھٹی میں جھونک دیا گیا ۔ شادی بیاہ تو دل کی راحت اور ذہنی خوشی سے مربوط ہوتے ہیں۔ نرگس کا من تو حزن و ملال سے عبارت تھا۔ باپ کی بے وقت جدائی اس کے احساسات پر یوں محیط تھی کہ اس کی آشنائی ایک معمولی سی راحت تک بھی نہ تھی۔ کتنی بد قسمت تھی نرگس کہ اپنی حویلی میں راج کرتی تھی۔ اس کا باپ اس کے ناز اٹھاتا تھا۔ اس کی خواہش منٹوں میں پوری کرتا تھا۔ اس کی ذراسی تکلیف پر تڑپ اٹھتا مگر قسمت نے ایسا پلٹا کھلایا کہ اب وہ جیتے جی ایک جہنم میں آگئی تھی۔
سلطان نے اپنے باپ کے قتل کی رپورٹ تھانے میں درج کرائی تھی مگر اس نے کسی پر شک کا اظہار نہ کیا تھا۔ گائوں کے لوگ سردارمراد علی کے قتل کو معمولی بات نہ سمجھتے تھے۔ انہیں ٹھاکروں پر شک تھا کہ ایسا گھنائونا قدم وہی اٹھا سکتے ہیں۔ سردار مراد کی کسی کے ساتھ دشمنی نہ تھی۔ وہ تو امن اور نیکی کی علامت تھا۔ وہ ٹھاکروں کے غلط کاموں کی راہ میں ویوار تھا اس لئے شک کی تمام کڑیاں ان کی طرف جا کر ملتی تھی مگر سردار مراد کا اپنا بیٹا ٹھاکروں کا نام لینے کی بھی اجازت نہ دیتا تھا۔ یوں سلطان کی عدم دلچسپی کے باعث سردار مراد کے قتل کا کیس تھانے کی فائلوں میں دب کر رہ گیا مگر نرگس کو تو ایک پل بھی چین نہ تھا۔ تقدیر نے اس کے ساتھ بھیانک مذاق کیا تھا۔ باپ کی شفقت چھن جانے کے بعد وہ ان لوگوں میں آگئی تھی جن کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین تھی۔
وہ اس کی زندگی کی یاد گار سہاگ رات تھی۔ اس نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کی ٹھان لی تھی کیونکہ وہ مشرقی لڑکی تھی۔ وفاداری درس ورثے میں ملا تھا۔ اس نے عہد کرلیا کہ نواز جیسا بھی ہے اس کا مجازی خدا ہے۔ وہ اس کے ساتھ ہر حال میں نباہ اور وفا کرے گی۔ وہ اپنی محبت اور چاہت سے نواز کو راہ راست پر لے آئے گی۔ ادھر ٹھاکر میرو اور نواز کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ انہوں نے جو چاہا تھا وہ ہو گیا تھا۔ ان کے شملے اونچے ہو گئے تھے کہ وہ پنڈ سرداراں کے سردار کی بیٹی کو بہو بنا کے لے آئے ہیں۔ حویلی میں جشن کا سماں تھا۔ رات دیر گئے تک ناچنے اور گانے والے اپنے کرتب اور فن دکھا کر دولت بٹورتے رہے۔ نواز نے جب حجلہ عروسی میں قدم رکھا تو نرگس شرم سے سکڑ گئی ۔ نواز نے آگے بڑھ کر نرگس کا زرتار گھونگھٹ ایک جھٹکے سے اتار کر دور پھینک دیا۔ نرگس کو اس سے یہی امید تھی مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ اس کا شوہر اس کے ہوتے ہوئے بھی شراب کے نشے میںلڑکھڑاتا ہوا آئے گا۔ نرگس نے کوئی بھی مزاحمت نہ کی اور اپنے آپ کو تقدیر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔ شاید اس کے مقدر میں ہی یہی لکھا تھا۔
نواز جب بھی رات دیر گئے اس کے کمرے میں آتا وہ نشے میں لڑ کھڑاتا ہوا آتا۔ نرگس پھر بھی اس کی منتظرہوتی۔ یوں ہی دن ، ہفتے ، مہینے اور سال گزرنے لگے۔ وقت کا ایک ایک لمحہ نرگس کے لئے اذیت ناک بن گیا۔ نواز اور نرگس کی طبیعت میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ نواز نے تو شادی بھی محض جائداد کے لئے کی تھی اس کی بیوی کئی ایکڑ کی مالک تھی۔ نواز ایک جابر اور حکم دینے والا شوہر تھا۔ وہ معمولی بات بھی غصے بھرے لہجے میں کرتا۔ نرگس تو لمحہ لمحہ سہم اور ڈر کر گزارنے لگی۔ نرگس اس حویلی میں بھی نماز اور تلاوت کلام پاک کی پابندتھی۔ وہ پاک اور صاف رہتی تھی لیکن نواز تو غسل تک نہ کرتا تھا۔ منہ ہاتھ بھی طریقہ سے نہ دھوتا تھا۔ صبح صبح جب نرگس اکثر ان کے ساتھ ہی اٹھ بیٹھتی۔ وضو کے بعد نماز پڑھتی اور پھر تلاوت کلام پاک کرتی تو نواز کی گرج دار آواز اسے جھنجھوڑ ڈالتی۔
’’پہلے میرے لئے چائے لائو، ‘‘نرگس تلاوت ادھوری چھوڑ کر اس کے لئے چائے تیار کرتی اور چائے پینے کے بعد پھر سے جانوروں کی طرح خراٹے بھرنے لگتا۔ ایسے میں بھی نرگس سے چائے بنانے یا پیش کرنے میں دیر ہو جاتی تو وہ نرگس کو گندی گندی گالیاں دیتا بلکہ کئی دفعہ تو اس کا ہاتھ بھی اٹھ جاتا مگر نرگس پھر بھی اف نہ کرتی۔ چائے پیش کرنے کی ڈیوٹی صرف اور صرف نرگس کی تھی۔ اس کے علاوہ گھر کی کسی نوکرانی کو ایسا کرنے کی اجازت نہ تھی کیونکہ نواز کے نزدیک بیوی شوہر کی نوکرانی ہی ہوتی ہے۔ ایک صبح نرگس تلاوت کر رہی تھی کہ چائے بنانے میں دیر ہو گئی۔ نواز کو دیر ہو جانے پر غصہ آگیا وہ اٹھا اور نرگس کا ہاتھ پکڑ کر غصہ میں نرگس کی مرحومہ ماں کو گالی دیتے ہوئے کہنے لگا۔
’’مولانی جی! یہ نمازیں اور تلاوتیں مرنے کے بعد تمہارے کام نہیں آئیں گی۔ تم میری خدمت کرو گی، میری تابعداری کرو گی تو وہ کام آئیں گی۔ ‘‘
نرگس اندر ہی اندر رونے لگی کہ اس کے مقدر میں قدرت نے کیسا شوہر لکھا دیا ہے مگر اس نے زبان نہ کھولی ان دونوں میں کوئی میل نہ تھا۔ نرگس ہر معاملے میں نوازسے بڑھ کر تھی۔ نہایت ہی صابر ، سمجھدار اور فرمانبردار مگر نواز اس کے الٹ تھا۔نرگس نے ماں اور بھائی سے نواز کے وحشیانہ رویہ کا تذکرہ کیا تو انہوں نے الٹا نرگس کو ہی ڈانٹا کہ تمہیں ہر صورت میں نباہ کرتا ہو گا۔ اس حویلی پراب تمہارا کوئی حق نہیں رہا۔ تم ہر بات کو اپنی حویلی تک محدود رکھو۔ وہاں کی باتیں یہاں نہ سنائو۔ یوں صفوراں اور نواز نے اس کے تمام راستے بند کر دیئے اس لئے اس نے میکے جانا ہی چھوڑ دیا اور سسرال کو ہی اپنے لئے قبرستان بنا لیا۔ اس نے عہد کر لیا کہ اب اس حویلی سے اس کا جنازہ ہی نکلے گا۔ وہ تو پہلے ہی زندہ درگور ہو گئی تھی۔ اس کی خواہش اور خوشیاں اس کے سینے کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن ہو گئی تھیں۔ اس کے من میں اب کوئی خواہش ہی نہ رہی تھی۔ کوئی طلب نہ رہی تھی۔ پیٹ کا جہنم بھرنے کے لئے جو مل گیا کھا لیا۔ وہ صرف زندہ رہنے کے لئے زندگی گزار رہی تھی۔ اس کے اندر خزائوں نے ڈیرے ڈال لئے تھے۔ نواز کے رویہ میں ذرا بھر بھی فرق نہ آیا تھا۔
نرگس اس حویلی کے انداز اطور دیکھ کر دنگ تھی کہ یہ لوگ تو جاہلوں اور جانوروں کی مانند زندگی گزارتے ہیں۔ ان لوگوں میں انسانوں کی عادتیں ناپید تھیں۔ نواز، نرگس کے ہوتے ہوئے بھی ادھر ادھر منہ مارتا تھا۔ نرگس سب جانتی تھی مگر اندر ہی اندر کڑھنے کے سوا کچھ نہ کر سکتی تھی۔ اس نے ایک دوبار زبان کھولی اور شکوہ کرنا چاہا تو نواز نے اسے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دیا اور کہا کہ وہ صرف اپنے کام سے کام رکھے اور حویلی کے دوسرے معاملات میں دخل نہ دے۔ نرگس کی صرف ایک ہی نند تھی جو اس کی شادی سے قبل ہی ایک دوسرے گائوں میں بیاہ دی گئی تھی۔ نرگس کی اپنی نند زیبو سے صرف ایک ہی ملاقات ہوئی تھی۔ زیبو اسے بہت ہی اچھی اور ان سب سے مختلف لگی تھی مگر اس کے بعد وہ حویلی میں اسے ملنے یا کسی بھی اورکام کی غرض سے نہ آئی تھی۔ ٹھاکروں کی حویلی میں زیبو کا ذکر بھی نہ ہوتا تھا۔ نرگس کا بہت جی چاہتا تھا کہ وہ زیبو سے ملے اور اس کو اپنے دکھ اور درد سنائے مگر اس سے ملاقات مشکل کام تھا۔ اس نے کئی بار نواز کو بھی کہا کہ وہ زیبو سے ملنا چاہتی ہے یا وہ زیبو کو یہاں لے آئے یا اسے اس کے گائوں ہی لے جائے مگر نواز نے اس کی یہ خواہش پوری نہ کی۔ زیبو کا نام سن کر ہی نواز کو غصہ آجاتا اور اس کو بر ا بھلا کہہ کر نرگس کی بات سنی ان سنی کر دیتا۔
یوں ہی ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا۔ اس عرصے میں نرگس کے بھائی سلطان کی شادی ہو گئی۔ جس میں نواز پیش پیش تھا۔ شادی کا سارا انتظام نواز نے ہی کیا تھا۔ شاید اس نے سلطان کا وہ احسان چکایا تھا جو اس نے نرگس کی اس کے ساتھ شادی کر کے کیا تھا۔ نواز کا باپ میرو بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر چل بسا۔ اسے اپنے گناہوں کی سزا دنیا میں ہی مل گئی تھی۔ بیماری کے دنوں میں اس کی آہیں دور دور تک جاتی تھیں مگر نواز نے اس کا اثر نہ لیا، توبہ نہ کی بلکہ اسے تو اور بھی آزادی مل گئی۔ وہ انسان نہ رہا، درندہ بن گیا مگر کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہ تھا۔ ہر کوئی اس کا تابعدار تھا۔ وہ اپنے آپ کو علاقے کا خدا سمجھتا تھا۔ انسان اشرف المخلوقات ضرور ہے مگر اس سے بڑھ کر شاید ہی حیوان بھی کوئی ہو۔
ڈیڑھ سال بعد جب نرگس ایک بیٹی سعدیہ کی ماں بنی تو اس کے غموںمیں کچھ کمی آگئی۔ اب بچی کی خاطر اس میں جینے کی امنگ پیدا ہو گئی مگر نواز پر تو اس کا ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا۔ اس نے چند لمحوں کے لئے بیٹی پر نظر ڈالی اور پھر وہ بھلا بیٹی کی کیا پرواز کرتا۔ راتوں کو اگر سعدیہ جاگ جاتی ، رو پڑتی تو نواز کا غصہ آسمان کو چھونے لگتا ۔ وہ نرگس اور سعدیہ دونوں کو ہی برا بھلا کہتا۔ نرگس کے لئے یہ دکھ بھی جان لیوا تھا مگر اس نے زندگی سے سمجھوتہ کر لیا تھا۔ اسے بیٹی ،نماز اور کلام پاک کی تلاوت کے علاوہ کسی چیز میں دلچسپی ہی نہ رہی تھی۔ وہ گائوں کی ٹھاکرانی تھی۔ گائوں کی عورتوں کی نظروںمیں اس کا ایک مقام تھا۔ وہ اس کی قسمت پر رشک کرتی تھیں کہ وہ اپنے بڑے خاندان کی بہو بنی ہے لیکن اس کے اندر کے دکھ کو کوئی نہ جانتا تھا۔ وہ جوان اور حسین تھی، لاکھوں میں ایک تھی۔ شادی کے شروع کے چند دن ہی اس نے بنا ئو سنگھار کیا تھا لیکن اس کے بعد اس نے تو کبھی آئینے میں اپنی صورت نہ دیکھی تھی کیونکہ بنائو اور سنگھار تو وہ عورت کرتی ہے کہ جسے کوئی چاہنے والے ہو، ناز اٹھانے اور اس کے حسن کی تعریف کرنے والا ہو جب کہ نرگس کے اندر تو خزاں رت ہمیشہ کے لئے ڈیرہ لگا کر بیٹھ گئی تھی۔
سعدیہ دو سال کی ہوئی تو ٹھاکروں کی حویلی میں ، میں نے جنم لیا ۔ ان دنوں ٹھاکر نواز نے باپ کی وفات کے بعد پہلی بار کونسلر کا الیکشن دو دن قبل ہی جیتا تھا۔ اس کی خوشیاں آسمان کو چھو رہی تھیں کہ میں اس دنیا آگئی۔ میرے باپ نے الیکشن جیتنے کی خوشی میں مجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھایا،چوما اور میرا نام خوش بخت رکھا لیکن اس کے بعد وہ بھول گیا کہ میں ہی اس کی کامیابی کی پہلی نشانی تھی۔ اس خوشی کے موقع پر اس نے میری ماں کو نہ جانے کیا سبز باغ دکھائے، نہ جانے اسے کیسے رام کیا کہ میری ماں نے اپنی جائداد کا کافی حصہ میرے باپ اور ہم دونوں بہنوں کے نام کر دیا ۔ یہ جاگیر یں مانا کہ بہت سکھ دیتی ہیں مگر حقیقت میں جھگڑے ، لڑائیاں اور قتل و غارت یہ سب جائداد والوں کے بکھیڑے ہیں جن میں کھو کر خون ، خون اور بھائی بھائی کا دشمن ہو جاتا ہے۔
میرا باپ کونسلر کیا بنا کہ وہ سیاست کے نشے میں غرق ہو گیا۔ ہماری حویلی میں نت نئے سیاسی اور بد معاش قسم کے لوگ آنے لگے۔ اس کے علاقے میں اور بھی دہشت پھیل گئی۔ اب تو اس کا زیادہ وقت باہر ڈیرے پر ہی گزرنے لگا۔ میرا ماموں سلطان بھی اس کا ہم نوا بن گیا۔ وہ دونوں اب حویلی کے اندر کم ہی آتے تھے جب کبھی ہمارا باپ حویلی کے اندر آتا تو ماں سے تو وہ کوئی بات کم ہی کرتا۔ اسے وہ کوئی کام کرنے یا کھانے پکانے ، چائے، لسی بنانے کا ہی حکم دیتا تھا۔ اس کے انداز میں غصہ اور نفرت بھری ہوتی۔ میں نے کبھی ابا کو امی سے پیارے بھرے لہجے میں یا آرام اور سکون سے بات کرتے نہ دیکھا۔ ہم دونوں بہنوں کو تو ہمارا باپ فالتو اورناکارہ چیزیں سمجھتا۔ ہمیں اس نے کبھی پیار نہ کیا ، کبھی گود میں نہ اٹھایا، کبھی پیار سے نہ بلایا، کبھی کھلونے ، کپڑے اور جوتے تک خرید کر نہ دیئے۔ ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ڈاکٹر کو نہ دکھایا، دوا تک لا کر نہ دی۔ یہ دکھ امی کو اندر ہی آری کی مانند کاٹتا رہتا تھا۔ وہی ہماری ماں وہی ہمارا باپ تھی۔ ماں ہی ہمیں گود میں سلاتی، ماں ہی پیار کرتی، ماں ہی کھلونے، کپڑے اور جوتے خرید کر منگواتی، ہمارے ننھے سے ذہن تو کچھ سمجھنے سے قاصر تھے مگر ماں تو سب جانتی تھی۔ عورت تھی، وہ ہمیں اپنے دائیں بائیں سلاتی، لوریاں دیتی۔ ماں نے حویلی میں ہی ہماری تعلیم کا بندوبست بھی کر ڈالا۔ وہ ہی ہمیں اسکول کے کام کراتی، قرآن مجید کے قاعدے پڑھاتی ورنہ ہمارا باپ تو لڑکیوں کی پڑھائی کے ہی خلاف تھا ۔ ماں نے اپنی حویلی میں جو کچھ پڑھا اور سیکھا تھاو ہ ہم بہنوں کو منتقل کر رہی تھی۔ ماں خود بھی کہیں نہ جاتی تھی اور باپ کی طرف سے ہمیں کہیں آنے جانے کی اجازت نہ تھی۔ جوں جوں ہماری حویلی میں سیاسی لوگوں کی آمدورفت بڑھتی گئی تو ں توں ہمارے باپ کی عادتیں بگڑتی چلی گئیں جو پہلے ہی کچھ کم نفرت انگیز نہ تھیں۔ پھر جب وہ علاقے کی یونین کونسل کا چیئرمین بنا تواس کی عادتیں مکروہ سی ہو گئیں۔ نت نئی بازاری عورتیں حویلی میں آنے لگیں۔ اس پر ستم یہ کہ میری ماں سے ان کی خدمت کرائی جانے لگی۔
میری ماں نے شروع میں دبے دبے لفظوں میں احتجاج کیا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا۔ میری ماں پر تشدد تک کیا گیا۔ ایک دن ماموں سلطان حویلی میں آیا تو ماں نے اس سے ابا کے رویئے کی شکایت کی تو انہوں نے ہمدردی یا دلاسہ دینے کی بجائے الٹا میری ماں ہی کو ڈانٹا اور کہنے لگے۔
’’تم تو شروع ہی سے اس رشتے کے خلاف تھیں۔ تمہیں عزت راس نہیں آرہی کہ اب ایسی باتیں کر کے سرداروں کی ناک کٹوانا چاہتی ہو۔‘‘
ماں نے رو رو کر ماموں کو یقین دلانا چاہا مگر انہوں نے ماں کی ایک نہ سنی اور غصے میں حویلی سے نکل گئے۔ انہوں نے ماں کی کہی ہوئی باتیں ہمارے ابا سے کر دیں تو وہ غصہ سے آگ بگولہ ہو گیا۔ شام ڈھلے وہ حویلی میںآیا۔ پھر اس نے آئو دیکھا نہ تائو ماں پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ اس کے ساتھ اس کی زبان بھی چل رہی تھی۔ وہ ہم بہنوں کے سامنے ماں کو غلیظ اور مکروہ گالیاں بھی دینے لگا۔ ہم دونوں بہنیں ایک کونے میں دبکی ظلم و ستم کا یہ تماشا دیکھتی رہیں۔
ایسے ظلم اور ستم بھرے تماشے آئے دن کا معمول تھے۔ ہمارا باپ علاقے اور حکومت کی نظروں میں بڑے کام اور پائے کا آدمی تھا۔ اس کی شہرت ہر طرف تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری حویلی برائیوں کا گڑھ بن چکی تھی۔ ٹھاکر نواز کو کوئی روک ٹوک کرنے والا نہ تھا۔ ضلع کے بڑے بڑے افسر اب حویلی میں آتے۔ ان کی تواضع شراب اور کباب سے کی جاتی کیونکہ ہمارا باپ اوپر اور اوپر جانا چاہتا تھا۔ اب اس کی اگلی منزل ضلع کونسل کا الیکشن لڑنا تھا۔
یوں ہی دس بارہ سال کا عرصہ بیت گیا ہم دونوں بہنیں اب جوان ہو گئی تھیں۔ قدرت نے ہمیں بھی اچھی شکل صورت سے نوازا تھا۔ ہم ماں پر گئی تھیں۔ شکل و صورت کے لحاظ سے بھی اور سیرت کے لحاظ سے بھی، یہ انسان اور عورت کے لئے قدرت کی عطا ہوتی ہے۔ انسان اس کی ہی عطا پر بعض اوقات ناز کرتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے اور انسان سے شیطان بن کر انسا ن پر قیامتیں ڈھاتا ہے وہ انسانوں کو جیتے جی مار ڈالتی ہیں۔ لمحہ لمحہ عذاب میں مبتلا کئے رکھتی ہیں۔ ہر سانس کرب و آزار میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہ قدرت انسان ہی کو حاصل ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنی خواہشات کی تکمیل کی خاطر اچھے برے اور پرائے اپنے کی تمیز بھی بھلا دیتا ہے۔
کئی دنوں سے ضلع کونسل کے الیکشن کا شور تھا۔ ہمارا باپ بھی اس الیکشن میں امیدوار تھا۔ اب اس کا حلقہ بڑا تھا اور مقابلہ بھی ایک مضبوط امیدوار سے تھا۔ مخالف لوگ بھی بدمعاشی بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ پنڈ سرداراں کے لوگ ٹھاکر نواز کے خلاف تھے ۔ انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ پورا گائوں نواز کو ووٹ نہیں دے گا کیونکہ وہ سردار مراد علی ( میرے نانا) کی موت کا غم ابھی تک نہ بھولے تھے ۔ میرے باپ نے میری ماں کو یہ مشن سونپا کہ اس نے پنڈ سرداراں کے تمام ووٹ اسے لے کر دینے ہیں ماں نے ٹال مٹول کی تو اسے گالیوں سے نوازنے کے ساتھ یہ دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے اپنے باپ کے گائوں سے ووٹ نہ دلائے تو وہ اس کو طلاق دے کر حویلی سے نکال دے گا۔ ماں نے مجبورا ہامی بھر لی۔ جب میری ماں نے پنڈ سرداراں کے باسیوں سے ووٹ مانگے تو وہ انکار نہ کر سکے۔انہوں نے صاف صاف کہہ دیا۔ ’’سردار نیئے! ہم تمہارے منہ کی خاطر ووٹ دے رہے ہیں۔‘‘
میرے باپ کو فتح نصیب ہوئی۔ اس خوشی میں ہماری حویلی میں ایک بار پھر جشن کا سماں پیدا ہوا۔ بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے ساری رات رقص و سرود کی محفل جاری رہی ہم ماں بیٹیوں کو اس جیت کی کوئی خوشی نہ تھی۔ ہماری زندگیوں میں تو ایک ہی موسم آکر ٹھہر گیا تھا۔ خزاں کا موسم ، دکھ کے دن رات مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں سجدہ ریز تھیں اور دعائیں مانگتی تھیں کہ اے پروردگار! ٹھاکر نواز کو سیدھا رستا دکھادے، اسے موم کر دے۔ ہمارے باپ نے اس پر ہی اکتفا نہ کیا۔ وہ ضلع کونسل کے چیئرمین کا بھی امیدوار بن گیا۔ اب تو بڑے بڑے سیاسی لوگوں کی آمدورفت شروع ہو گئی۔ لین دین اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ہمارے باپ نے شہر میں بھی ایک خوبصورت کوٹھی تعمیر کروا دی۔ گاڑیوں کی تعداد دو سے بڑھ کر چار ہو گئی۔ اسے حکومت کی حمایت بھی حاصل تھی اس لئے وہ ضلع کونسل کا چیئرمین بھی بن گیا۔ قدرت نے اسے اور ڈھیل دے دی۔ اسے ایک اور آزمائش میں ڈال دیا۔ یہ کامیابیاں انسان کے لئے ایک آزمائش ہی تو ہوتی ہے مگر وہ طاقت اور اقتدار کے نشے میں یہ سب بھول جاتا ہے۔ اب اس نے ایم پی اے بننے کا خواب دیکھنا شروع کر دیا تھا۔
’’نرگس ، سعدیہ ، خوش بخت!‘‘ وہ ہم تینوں کو آوازیں دیتا ہوا حویلی کے اندر داخل ہوا تو ہم اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ ’’تم کو مبار ک ہو ، میں ضلع کونسل کا چیئرمین بن گیا ہوں۔‘‘ خوشیاں اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔
’’کل ہم سب شہر چلیں گے اور خوب شاپنگ کریں گے۔ ’’ہم تینوں کو باپ کی اس پیشکش کایقین نہ آیا کیونکہ سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو سکتا مگر یہ حقیقت تھی۔ ‘‘نرگس! تم اور بچیاں کل تیار رہنا۔‘‘ہمارے باپ نے دوبارہ یہ الفاظ کہے۔
’’میں تو نہیں جائوں گی، سعدیہ اور خوش بخت تیار رہنا۔ ‘‘باپ نے ماں کے جانے پر اصرار نہ کیا۔ اس رات مارے خوشی کے ہم دونوں بہنوں کو نیند ہی نہ آئی۔ باپ کے رویے کی تبدیلی نے ہمارے اندر سیروں خون بڑھا دیا ۔ ہم اپنی اپنی پسند کی چیزوں کی فہرست بناتی رہیں جس میں ماں کے استعمال کی چیزیں بھی تھیں۔
لینڈ کروزرمیں بیٹھ کر ہمیں بہت مزہ آرہا تھا تین گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم شہر پہنچ گئیں۔ ہم پہلے اپنی کوٹھی میں گئے۔ اتنی بڑی اور شانددار کوٹھی اور اس کے اندر کی سجاوٹ دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔ ہمارے لئے علیحدہ علیحدہ کمرے تھے۔ ہر کمرا ائیر کنڈیشنڈ تھا۔ صوفہ سیٹ، قالین سب کے سب قیمتی تھے۔ گرمیوں کے دن تھے اس لئے ائیر کنڈیشنڈ کی ٹھنڈک نے ہمیں اتنا سکون دیا کہ سعدیہ کہنے لگی۔
’’اب ہم یہاں ہی رہیں گے۔ ‘‘میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا ’’میں ابو سے کہوں گی کہ امی کو بھی یہاں ہی لے آئیں۔ اب ہم شہر میں ہی رہیں گے۔ ‘‘ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہی تھیں کہ ابو نے ہمیں بازار چلنے کو کہا۔ ہم تینوں کے علاوہ ایک ڈرائیور ہمارے ہمراہ تھا۔ ابو نے ہمیں جی بھر کر خریداری کرائی۔ ہم جو چیزیں بھی پسند کرتے ، ابو ہمیں خرید دیتے۔ امی کے لئے بھی وہ سب کچھ خریدا گیا جو انہوں نے کہا تھا۔ اس کے علاوہ سب کچھ بھی جو ہم نے اپنی مرضی سے پسند کیا، حتی کہ میک اپ کا سامان بھی خرید لیا گیا۔ کپڑوں سلے اور ان سلے سوٹ خریدے گئے۔ آخر میں ابو نے ہمیں اپنی مرضی سے عروسی ناپ کا ایک نہایت ہی قیمتی سوٹ خرید کر دیا۔ ہم شام ڈھلے بازار سے واپس آئے۔ ابا جان کے بے حد اصرار پر ہم نے وہ سوٹ پہن کر انہیں دکھائے انہوں نے اپنی مرضی سے خریدے تھے۔
’’میری بیٹیاں دلہنیں بن گئی ہیں۔ ’’ابا جان نے ہماری تعریف کی تو ہم شرما گئے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد ہم نے سونے کی تیاری کر لی۔ ابا جان کسی پارٹی ممبر سے ملنے چلے گئے تھے۔ کوٹھی پر ملازم موجود تھے اس لئے ہمیں کوئی ڈر اور خوف نہ تھا۔ سونے سے قبل ہم نے جوس کا ایک ایک گلاس پیا تھاجو ایک ملازم لے کر کمرے میں آیا تھا۔ جو س پینے کے تھوڑی ہی دیر بعد ہم نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا باپ کب واپس آیا تھا۔ کاش! ہماری زندگی میں وہ رات نہ آئی ہوتی یا پھر اس رات کے بعد صبح نہ ہوئی ہوتی۔ اس رات نہ زمین پھٹی ، نہ آسمان ٹوٹا، نہ قیامت آئی، صرف حوا کی بیٹیاں لٹ گئیں۔ اس جوس میں کوئی نشہ آور چیز ملائی گئی تھی۔ ہمارے باپ کا کمرہ ہمارا کمرے کے ساتھ ہی تھا۔ دونوں کے درمیان ایک دروازہ تھا جو کھلا ہوا تھا۔ ہمیں تو خبر نہیں کہ اس رات باپ کی بجائے ایک وزیر اس کمرے میں ٹھہرا تھا جس نے باری باری سے ہم دونوں کو برباد کر ڈالا۔ ہم دونوں بہنیں ایک دوسرے کے گلے مل کر دھاڑیں مار مار کر اپنی بربادی اور بدقسمتی کا ماتم کرنے لگیں تو وہ اندر آگیا۔ وہی جسے باپ کہتے ہوئے بھی شرمندگی ہوتی ہے۔
’’خاموش ہو جائو اگر تم میں سے کسی کی آوازبھی حلق سے باہر نکلی تو مار مار کر قیمہ بنا ڈالوں گا۔ ‘‘اس کے لہجے میں درندوں جیسی سفاکی تھی۔ لگتا تھا وہ ہمیں مار ڈالے گا۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کی شرمندگی اور ندامت نہ تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ہم گاڑی میں بیٹھے اپنے لاشے اٹھائے گائوں کی طرف جا رہے تھے ۔ ہمارے ہونٹوں پر چپ اور جبر کے تالے پڑے تھے۔ آنکھیں بے نور تھی۔ اس نے ہمیں حویلی کے گیٹ پر اتار اور گاڑی آگے ڈیرے کی طرف بڑھ گئی۔
دوڑتی اور روتی ہوئی ماں تک پہنچیں تو ماں نے ہمیں سینے سے لگالیا۔ ہم دونوں کی چیخیں حویلی میں گونجنے لگیں۔ ماں بھی اس اچانک افتاد سے گھبرا گئی۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہ آرہا تھا کہ ہم پر کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ’’کیوں کیا ہوا میری بچیو!تمہار ا باپ تو ٹھیک ہے ہیں!‘‘ ماں نے گھبراہٹ کے عالم میں پوچھا ۔ ہم نے اس قدر غم انگیز اور مجروح نظروں سے ماں کی طرف دیکھا کہ وہ لرزنے لگی۔ ’’ہاں ہاں کہو نا بیٹا۔‘‘ ماں نے ہمیں دلاسا دینا چاہا۔
’’ماں! سچ سچ بتانا‘‘ سعدیہ روتے ہوئے بولی ۔ ‘‘کیا نواز ہمارا سگا باپ ہے؟‘‘ سعدیہ کے لہجے کی شکستگی دیکھ کر ماں سانس تک لینا بھول گئی اور حیرانی سے ہمیں دیکھنے لگی۔
’’ہاں ہاں‘‘! ماں نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’نہیں! قطعا نہیں۔‘‘ میں بھی بول پڑی۔ ’’یہ شخص ہمارا باپ نہیں ہو سکتا کوئی شریف باپ اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹیوں کی آبرو پامال نہیں کر وا سکتا اس کے بعد ہم دونوں بہنوں کے صبر کی حد ختم ہو گئی۔ ہم دیواروں سے سر ٹکرانے لگے۔
سعدیہ نے تمام تفصیل روتے ہوئے ماں کو بتا دی۔ ماں نے یقین کر لیا کہ اس کا خون جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اس نے ہی تو ہماری تربیت کی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹیاں مریم کی طرح مقدس ہیں مگر اب تو ان کا تقدس پامال ہو گیا تھا اور یہ تقدس خود اس کے باپ نے برباد کر دیا تھا۔
’’اے خدا! اے خدا! ’ماں چیخ پڑی تھی۔ ‘‘تو قیامت کیوں بپا نہیں کرتا۔ تو کہاں ہے ؟ تیرے فرشتے سچے تھے کہ تیرا بنایا ہوا انسان زمین پر فساد پھیلائے گا مگر میرا خاوند تو انسان بھی نہیں ہے ۔ وہ شیطان سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ’’ماں نے ہم دونوں کو گود میں بھر لیا۔ آنسوئوں اور سسکیوں کی برسات ہونے لگی۔ ہماری آہ و زاری جاری تھی کہ وہ شیطان جسے باپ کہنا بھی گناہ ہے ، حویلی کے اندر داخل ہوا ۔ اس نے حویلی کے بڑے گیٹ کی کنڈی لگا کر اسے تالا لگا دیا اور بڑے فاتحانہ انداز سے ہماری طرف بڑھنے لگا۔ ہماری ماںکی برداشت کی حد ختم ہو گئی تھی اس لیے اس کے لبوں سے بدعائیں اور گالیاں ابلنے لگیں۔ ماں کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ ماںنے اسے دے مارا پھر ماں اس پر چیتے کی مانندلپکی اور اس کا گریبان پکڑ لیا مگر وہ تو ماں سے کئی گناہ طاقتور تھا۔ اس نے ماں کو ایک ہی جھٹکا دیا اور وہ دیواور سے جا لگی مگر پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ماں کواپنا ہوش ہی نہ رہا۔ ماں چیخے جارہی تھی۔ اسے برا بھلا کہے جا رہی تھی اور جو بھی چیز ہاتھ لگتی، دیوانہ وار اس کو مارے جا رہی تھی۔ اس نے کئی بار ہماری ماں کو زمین پر پٹخا مگر ماں پھر اٹھ جاتی۔ اسے اپنی چوٹوں اور زخموں کا احساس ہی نہ تھا۔ ہم ایک کونے میں ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے روئے جا رہی تھیں۔ اس نے ماں کو اتنے زور سے پٹخا کہ ماں کا سر برآمدے کے ستون سے ٹکرایا تو ماں بے ہوش ہو گئی پھر ہماری باری آگئی۔
’’تم نے اپنی ماں سے میری شکایت لگائی۔ میں تم دونوں کو زندہ نہ چھوڑوں گا۔‘‘ وہ یہ کہہ کر ہماری طرف بڑھا تو ہم رونے لگیںاور اس سے معافیاں مانگنے لگیں مگر اس درندے کو ہم پر بھی ترس نہ آیا اس نے ایک ایک زور دار تھپڑ ہم دونوں کو مارا اور کہنے لگا کہ اب اگر تم نے کسی سے اس بات کا ذکر کیا تو زبان کھینچ لوں گا۔ ’’یہ کہہ کر باہر نکلا اور ہماری ماں کو گھسیٹ کر کمرے میں لے آیا۔ پھر اس نے دروازے کی باہر سے کنڈی لگا دی اور خود نہ جانے کہاں چلا گیا۔ ہم دونوں ماں سے لپٹ گئے اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگیں۔ کافی دیر بعد ماں کو ہوش آیا تو وہ اپنا درد بھول کر ہم دونوں کو سینے سے لگا کر تقدیر کے ستم کا ماتم کرنے لگی۔ ماں ہمارے دکھ کو دیکھ کر اس قدر دکھی ہو گئی کہ آنسو اس کی پلکوں پر رکنے کا نام نہ لے رہے تھے۔ اس کے اندر آتش فشاں سا پھٹ پڑا تھا۔ رگوں میں خون کی بجائے پارہ دوڑنے لگا تھا۔ سانسوں میں تیزاب کی آمیزش تھی۔ ماں کے لئے تو ویسے بھی زندگی عذاب ہی رہی تھی۔اب ہم بھی اس عذاب کا شکار ہو گئے ہم ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے تھے لمحہ لمحہ پور پور اجڑ رہے تھے۔ مستقبل کے زہریلے ناگ ہمیں ڈس رہے تھے۔ اذیت ناک سوچیں ہمیں چین نہ لینے دے رہی تھیں۔ اب کیا ہو گا۔ کون ہمیں بیاہ کر لے جائے گا؟ شورمچایا تو اپنی ہی بد نامی ہو گی تو پھر ہم کیسے جئیں گے ؟ ہم نے احتجاج کیا بھی تو کوئی بات کا یقین نہ کرے گا۔ تو پھر کیا کریں، کس طرح اس بھیڑیئے سے اپنے آپ کو بچائیں؟ کس کو مدد کے لئے پکاریں۔ کون ہماری پکار سنے گا۔ کون ہمیں دلاسا دے گا کون ہماری حفاظت کرے گا؟ دنیا کی نظروں میں تو ہمارا باپ ہی ہمارا نگہبان تھا۔ وہی مالی اور وہی رکھوالا تھا مگر جب مالی ، رکھوالا اور نگہبان ہی لٹیرا بن جائے تو پھر دنیا کی کون سی معتبر ہستی ہو گی جس پر اعتماد کیا جائے دن اور راتیں ہمارے لیے عذاب بن گئیں۔ ہم اپنے ہی گھر میں محتاج ہو گئے۔ تین دن تک اس نے ہمیں کمرے میں بند رکھا کیونکہ اسے یہ خوف تھا کہ ہم اس کے کرتوت لوگوں کو نہ بتا دیں۔ ان تین دنوں میں حویلی کے اندر کسی کو بھی آنے کی اجازت نہ تھی۔ ہماری اپنی حویلی ہی ہمارئے لئے قید خانہ بن گئی تھی۔ کھانا وہ ڈیرے پر پکواتا اور صرف رات کا ہمارے لئے کھانا لے آتا۔ ہم مجبور اور بے بس اس کے رحم کرم پر سسک سسک کر زندگی گزار رہی تھیں۔ ایک روز وہ ہمارے ماموں کوہمارے خلاف بھڑکا کر حویلی لے آیا ۔ اسے دیکھ کر ماں کے اندر کا آتش فشاں پھٹ پڑا۔ اس نے ماموں کو کھری کھری سنا ڈالیں کہ اس نے نواز کے ساتھ اس کی شادی کر کے اس کی زندگی جہنم بنا ڈالی ہے۔ یہ انسان نہیں شیطان ہے۔ حیوانوں سے بھی بڑھ کر مگر ماموں نے ماں کی بات ان سنی کر دی۔ وہ الٹا ماں اور ہم پر برس پڑا۔ کہنے لگا۔
’’مجھے نواز نے سب کچھ بتا دیا ہے کہ تم طلاق لے کر کہیں اور شادی کرنا چاہتی ہو۔ تمہیں اس نے اس لئے بند رکھا ہے کہ تم گھر سے بھاگنے کا ارادہ کر چکی مگر یاد رکھو نرگس میرے جیتے جی ایسا ہرگز نہ ہو گا۔ کان کھول کر سن لو یہ حویلی تمہارا پہلا اورآخری ٹھکانا ہے۔ تم یہاں ڈولی میں بیٹھ کر آئی تھیں۔ اب یہاں سے تمہارا جنازہ ہی نکلنا چاہئے‘‘۔
ماموں ہمیں دھمکیاں دے کر چلا گیا کیونکہ وہ ابا کی ہاں میں ہاں ملاتا تھا۔ اس نے ہماری امیدوں کے دیئے بجھا دیئے ہمارے ماموں کو خود داری اور جھوٹی شان تو یاد رہی مگروہ یہ بھول گیا کہ بہنوں اور بھائیوں کے کچھ حقوق بھی ہوتے ہیں۔ ماموں چلا گیا تو ہم ایک دوسرے سے لپٹ کر سسکنے لگیں۔ تین دن بعد ہم کمرے سے باہر آگئیںمگر حویلی سے باہر جانے کی پھر بھی اجازت نہ تھی۔ اس ذلیل انسان میں تو شیطان حلول کر گیا تھا۔ وہ ہمارے طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتا تو ہماری جان نکل جاتی۔ ماں تو اس سے بات بھی نہ کرنا چاہتی تھی مگر وہ حویلی کا مالک تھا ۔ ’’اب اگر تم نے میری بچیوں کی طرف گندی نگاہ اٹھائی تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔ ‘‘امی غصہ اور نفرت سے اسے دیکھ کر کہتیں۔ ’’دیکھ لوں گا۔ ‘‘وہ ہماری طرف نگاہ اٹھا کر کہتا ہو ا حویلی سے باہر نکل جاتا تو ہم امی کی گود میں سر رکھ کر رونے لگتیں۔
’’حوصلہ رکھو! اللہ بہتر کرے گا۔ تم ہر وقت اللہ کو یاد کیا کرو۔ ‘‘ہمیں تسلی دیتے ہوئے کہا مگر مختلف وہموں کے کالے ناگ ہمیں مسلسل ڈس رہے تھے ہم سوچتی تھیں کہ ہمارا انجام کیا ہو گا۔ ہم تو اب اپنے مرنے کی دعائیں مانگنے لگی تھیں۔ کبھی میں سوچتی کہ کسی طریقے سے یہاں سے فرار ہو جائیں۔ تاکہ اس شیطان سے نجات مل جائے لیکن جائیں بھی تو کہاں اس شیطان کا تعلق تو بڑے بڑے افسروں سے تھا ۔ اس کے ہاتھ لمبے تھے۔ اگر بھاگنے کے بعداس نے ہمیں ڈھونڈ لیا تو پھر زندگی مستقل عذاب بن جائے گی۔ ہماری خاموشی اور ہمارے آنسو ہماری کمزور ی بن گئے۔ اس کمزوری کا اس شیطان نے فائدہ اٹھایا۔ اس نے کھانے میں کوئی بے ہوشی کی دوا ملا دی اور سعدیہ کے ساتھ پھر وہی شیطانی کھیل کھیلا۔ ہمیں صحیح پتا نہیں مگر اندازہ تھا کہ لاہور سے وہی وزیر ڈیرے پر آیا تھا جسے ابا حویلی میں چپکے سے لے آئے۔
ہماری حویلی میں پھر قیامت آگئی۔ ایک بار پھر ماں کی زبان حرکت میں آگئی اور اس کے بدلے میں اس کو اتنی مار کھانی پڑی کہ وہ چارپائی کی ہو گئی۔ میں نے اور سعدیہ نے دن رات ماںکی خدمت کی تو اس کی طبیعت سنبھل گئی مگر وہ شیطان اپنے مکروہ کھیل سے باز نہ آیا۔ جی چاہتا تھا ہم تینوں مل کر خود کشی کر لیں اور اس ذلت بھری زندگی سے نجات حاصل کر لیں مگر ماں کہتی تھی کہ خود کشی حرام ہے ، اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ۔ خود کشی کرنے والے کی بخشش ہرگز نہیں ہوتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی امانت میں خیانت کرتا ہے۔ وہ خبیث انسان خدا ، رسولﷺ اور اس کے احکام کو بھلا کر وحشی بن کر ہم پر ستم ڈھاتا رہا اور ہم روتے اور دیواروں کے ساتھ سر ٹکرانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہ کر سکیں۔
اس روز صبح صبح جب میں اور امی نماز کے لئے جاگ گئی تھیں۔ ہم وضو کر چکیں تو سعدیہ بھی اٹھ گئی۔ اس کی طبیعت خراب تھی۔ جوں ہی وہ اٹھی، اسے قے اور متلی شروع ہو گئی۔ امی فورا ہی سمجھ گئیں کہ معاملہ گڑ بڑ ہو گیا ہے انہوں نے نم آنکھوں کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر دعا مانگتے وقت ان کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ امی اتنی بے کسی سے روئیں کہ میری آنکھیں بھی بہنے لگیں۔ یقینا در و دیوار بھی امی کی آہ و زاری سن کر لرزا اٹھے ہوں گے۔ انہوں نے نواز نامی شیطان کو بد دعائیں بھی دیںمگر اس کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ سعدیہ بھی جان گئی ، سعدیہ کی حالت دیکھ کر میری حالت بھی غیر ہو گئی۔ اس رات وہ شیطان گھر پر نہ تھا۔ وہ کسی سرکاری میٹنگ کے سلسلہ میں شہر گیا ہوا تھا۔ دو دن بعد آنا تھا۔ اسے پروا ہی نہ تھی کہ اس نے ایک باپ ہو کر کیا ستم ڈھایا ہے۔ سارا دن بے تابی اور بے قراری سے گزارا اور پھر رات آگئی۔ سعدیہ جان گئی کہ اس کی رسوائی اس کی ماں اور بہن کو بھی بدنام کر ڈالے گی۔ زمانے کو حقیقت سے کوئی غرض نہ ہو گی۔ وہ تو ظاہری احوال دیکھیں گے۔ اس رات سعدیہ نے ماں کا کہنا نہ مانا۔ اس نے سنڈی مارنے والی دوا کھا کر زندگی سے ناتہ توڑ لیا۔ اس نے تمام دکھوں سے نجات پالی۔
حویلی میں کہرام مچ گیا۔ میرا اور امی کا رو رو کر برا حال تھا۔ وہ شیطان بھی لوٹ آیا تھا مگر اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی میری پھوپھی زیبو بھی سعدیہ کی وفات کا سن کر آگئی تھیں۔ وہ تین راتیں اور دن ہمارے گھر رہی ۔ وہ مجھے اور امی کو دلا سا دیتی مگر چین اور قرار کس کو تھا۔ پھوپھی نے جب امی سے سعدیہ کی موت کے بارے میں پوچھا کہ اسے کیا ہوا تھا ، کیا بیماری تھی تو امی سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے اپنے من کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اس شیطان کے مکروہ کرتوتوں سے پھوپھی کو آگاہ کر دیا۔
پھوپھی زیبو یہ سب کچھ جان کر ششدر رہ گئی ۔ کہنے لگیں۔ ’’وہ ذلیل اور کمینہ اتنا گر جائے گا کہ اپنی بیٹیوں کی عزت بھی پامال کر دے گا۔ وہ خود ہی حرام کی پیداوار ہے۔ اس میں شرم اور حیانام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ پھوپھی بھی رونے لگیں اور روتے روتے بتانے لگیں کہ اس نے میری عزت بھی پامال کرنا چاہی تھی۔ مگر میں اس کے ستم سے بچ گئی۔ اس کے اس دوست کی جم پٹائی کر دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس حویلی میں نہیں آتی۔ نہ ہی اس میں اس کی شکل دیکھنا چاہتی ہوں۔ نہ ہی اس سے کوئی بات کرتی ہوں۔ میں نے اس کا سماجی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ وہ میری نظروں میں مجرم ہے اس لئے مجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کرتا۔ میں یہ سمجھی تھی کہ اس کو پچھتاوے کا احساس مار ڈالے گا اور وہ سدھر جائے گا۔ لوگ تو شیطان سے پناہ مانگتے ہیں مگر میں تو اس جیسے انسان سے پناہ مانگنے لگی ہوں۔ خود باغبان ہی اپنا گلشن اجاڑ دے، سگا باپ سگی بیٹیوں کا یہ حشر کر دے ۔ الامان اے پروردگار! ہم خود کو مسلمان کہنے والے اس حد تک قصر ذلت میں ڈوب چکے ہیں کہ قیامت آجانی چاہیے ایسے انسانوں کی شکل بگڑ جانی چاہئے۔
’’بھابی!مجھے تمہاری اور تمہارے بیٹیوں کے مقدر پر رونا آرہا ہے کیونکہ یہ میرا بھی تو خون ہے مگر اب شرعی لحاظ سے تم آزاد ہو ۔ خوش بخت کی زندگی اور آبروکی خاطرتم دونوں اس حویلی سے فرار ہو جائو۔ ‘‘
’’مگر یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم کہاں جائیں؟‘‘ امی نے بے تابی سے پوچھا۔
’’اس کا سارا بندوبست میں کروں گی۔ ‘‘پھوپھی نے ہمیں تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ’’صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے الیکشن ہو رہے ہیں۔ اس دوران بڑے بڑے جلسے ہوں گے ۔ یہ راتیں بھی باہر گزارے گا۔ میں کسی رات تم دونوں کو فرار کر ا دوں گی۔ تم بے فکر ہو جائو اورانتظار کرو۔ پھوپھی زیبو ہمارے غم ہلکے کر کے چلی گئیں۔ سعدیہ کو ہم ایک پل کے لئے نہ بھول پائی تھی امی اور میں اس جدائی میں آنسو بہاتی رہیں۔ امی دعا مانگا کرتی تھی ’’اے پروردگار!تو سعدیہ کو بخش دے اور ایسی ذلت کسی دشمن کو بھی نہ دینا۔ ‘‘
وہ الیکشن کے دن تھے۔ وہ شیطان واقعی صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لے رہے تھا اسے ایک بڑی پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا اور اس کی حمایت بھی اسے حاصل تھی مگر مخالف جماعت کا امیدوار بھی کمزور نہ تھا۔ وہ اس سے قبل دوبار ایم پی اے رہ چکا تھا۔ نہایت کانٹے دار مقابلہ تھا جس نے اس شیطان کی نیندیںحرام کر ڈالی تھیں۔ وہ دن رات مصروف رہنے لگا۔ اسے ہماری یاد ہی نہ رہی تھی اور یہی موقع ہمارے لئے غنیمت تھا۔ پھوپھی زیبو اپنی ذمہ داری نبھا رہی تھیں۔ انہوں نے حالات کا جائزہ لے کر تمام معلومات حاصل کر لی تھی۔ وہ دس فروری کو حویلی آئیں ۔ انہوں نے ہم ماں بیٹی کو حوصلہ دیا اور کہنے لگیں۔ ’’کل رات شہرمیں پارٹی کا بڑا جلسہ ہے جس سے پارٹی کے بڑے بڑے لیڈرخطاب کر یں گے۔ وہ شیطان بھی وہیں ہو گا۔ رات کو بھی اس کی واپسی نہ ہو گی۔ اس لئے تم رات کو گیارہ بجے تیار رہنا۔ میں نے گاڑی اور ڈرائیور کا بندوبست کر لیا ہے، فکر نہ کرو۔ ڈرائیور اعتماد کا آدمی ہے۔ وہ رات کو تمہیںجی ٹی روڈ سے لاہور جانے والی بس میں بٹھا دے گا۔ تم صبح صبح لاہور پہنچ جائوں گی۔ وہاں سے رکشا یا ٹیکسی لے کر چونگی امر سدھو چلی جانا۔ میں تمہیں ایڈریس لکھ کر دے دوں گی اور سمجھا بھی دوں گی۔ وہ تمہیں پناہ بھی دے گا تمہاری مدد اور حفاظت بھی کرے گا ۔ ‘‘پھوپھی ہمیں سب کچھ بتا کر اور سمجھا کر چلی گئیں۔
اگلے روز ہم نے حویلی چھوڑنے کی مکمل تیاری کر لی ۔ ماں نے اپنا زیور اور کچھ رقم بھی اکٹھی کر لی۔ رات گیارہ بچے پھوپھی زیبو گاڑی اور ڈرائیور لے کر آگئیں۔ انہوں نے اپنا عہد نبھایا اور جو کہا تھا کر دکھایا۔ جب ماں اور میں پھوپھی کے گلے لگیں تو دونوں طرف سے آنسو بہہ نکلے۔ ’’خدا کرے ہماری پھر ملاقات ہو مگریہ نا ممکن ہے کیونکہ اس نیکی کی مجھے بڑی بھیانک سزا ملے گی‘‘۔ پھوپھی نے کہا اور رات کے اندھیرے میں پیدل ہی اپنے گائوں کی طرف چل پڑی۔ تین گھنٹے کے سفر کے بعد ڈرائیور نے ہمیں جی ٹی روڈ پر ایک چھوٹے سے قصبے میں پہنچا دیا۔ دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ہمیں لاہور جانے والی بس مل گئی صبح ہم لاہور پہنچ گئیں اور ٹیکسی میں بیٹھ کر قادر کے گھر پہنچ گئیں۔ پھوپھی زیبو کا نام سن کر اس نے ہمیں بہت ہی احترام دیا۔ماں نے اسے بتایا کہ وہ نواز کی بیوی اور میں اس کی بیٹی ہوں اور اس کے ظلم و ستم سے گھبرا کر بھاگ آئی ہوں۔ تو وہ بھی اس شیطان کو برا بھلا کہنے لگا۔ اس نے ہمیں تسلی دی کہ ہم جب تک چاہیں اس کے گھر میں رہ سکتی ہیں وہ ہمیں کسی قسم کی پریشانی اور تکلیف نہ ہونے دے گا قادر جوان تھا اور کسی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اس کا گائوں آنا جانا کم ہی ہوتا تھا کیونکہ گائوں میں اس کا کوئی عزیز زندہ نہ تھا۔ امی کے کہنے پر اس نے اسی محلہ میں ایک بڑا مکان لے لیا جس میں دو کمرے تھے اب ایک کمرہ میں قادر اور ایک کمرہ میں ، میں اور امی سونے لگی۔ امی نے گھر کے اخراجات کے لئے قادر کو زبر دستی رقم دی تاکہ ہم اس پر بوجھ نہ بنیں۔ ہمیں خطرہ تھا کہ کہیں وہ شیطان ہمیں ڈھونڈ نہ لے اگر اس نے ہمیں ڈھونڈ لیا تو زندگی ہمارے لئے جہنم بنادی جائے گی ۔ قادر ہمیں تسلی دیتا رہتا تھا وہ مجھ سے زیادہ بات نہ کرتا تھا۔ پھوپھی زیبو کی وہ بڑی تعریفیں کرتا اور میرے باپ کو گالیاں دیتا رہتا ۔ وہ بھی اس شیطان کا ستایا ہوا تھا۔ مگر ہمیں معلوم نہ تھا کہ اس شیطان نے اس کے ساتھ کیا زیادتی کی ہے۔ الیکشن ہو گئے اور وہ شیطان جیت گیا ۔ اس روز امی اور بھی بہت روئی تھیں۔ اپنی اور عوام کی بد قسمتی پر آنسو بہائے تھے کہ ہمارے عوام کس قدر جاہل ہیں کہ ایک شیطان کو اسمبلی کا ممبر بنا دیا ہے بھلا ایسے لوگ قوم اور ملک کی کیا خدمت کریں گے؟
امی اب بھی دن رات اپنی بد قسمتی اور سعدیہ کی بے حرمتی اور موت کا دکھ سینے سے لگائے رکھتی تھیں یہ دکھ اندر ہی اندر ان کو دیمک کی طرح چاٹنے لگا اور وہ بیمار رہنے لگیں۔ وہ گھر چھوڑ نے کے بعد صرف چھ ماہ ہی زندہ رہیں اور زندگی سے ناتہ توڑ گئیں۔ اس روز میں بہت روئی تھی کہ میں تنہا اور بے آسرا ہو گئی ہوں۔ اب کون میرے دکھ بانٹے گا؟ کون میرے آنسو پونچھے گا؟ کون میرا سر اپنی گود میں رکھ کر سہلائے گا۔ نہایت ہی خاموشی سے میری امی شہر خموشاں میں جا سوئی تھی۔
ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ایک روز اس شیطان کے قافلے پر بم حملہ ہوا اور اس کی گاڑی کے پرخچے اڑ گئے گاڑی کے ساتھ میرا ماموں بھی تھا اس خبر پر میری آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہ آیا بلکہ میں نے فوراً رب کے حضور سجدہ شکر بجا لائی تھی مگر اب میں دنیا میں تنہا تھی جلد ہی پھوپی نے میرا نکاح قاسم سے کردیا اب میں اس کے ہمراہ واپس اپنی جاگیر کا انتظام سنبھالنے اپنے گائوں جا رہی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close