Naeyufaq Dec-16

جال

رزاق شاہد کوہلر

حالات نہایت ہی خراب تھے۔خاص کر امن و امان کی صورتِ حال تو ناقابلِ بیان تھی۔دن دیہاڑے اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بم بلاسٹ، اور خودکش حملوں کی وارداتیں ہورہی تھیں، جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی زندہ تصویربنے ہوئے تھے۔اخبارات کی سُرخیاں چیخ رہی تھیں۔الیکٹرانک میڈیاپر اینکرپرسن واویلا مچارہے تھے لیکن حکمران محض بیانات داغ رہے تھے۔وہ اب بھی اُن آہنی ہاتھوں کے حوالے دے رہے تھے جوآج تک کسی مجرم کے گریبان تک نہیں پہنچ سکے تھے اور نہ آئندہ پہنچنے والے تھے کہ انھیں عوام سے زیادہ اپنی تجوریاں عزیز تھیں۔
ایسے حالات عام پبلک کے لیے بلاشک وشبہ ناموافق ہوتے ہیں۔اُنھیں جان ومال کا خطرہ ہوتا ہے۔ وہ ڈرڈرکرجیتے ہیں توکبھی جیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔صبح سے لے کر شام اورشام سے لے کر صبح تک وہ اپنے چاروں طرف موت کی آہٹ محسوس کرتے رہتے ہیں۔مگرجرائم پیشہ لوگوں کے لیے یہ آئیڈیل صورت حال تھی اور اس آئیڈیل صورت حال سے وہ خوب فائدہ اُٹھا رہے تھے۔لوگ جب سہمے ہوئے ہوں توجُرم کرنا نہ صرف آسان ہوجاتا ہے بلکہ جُرم کرتے ہوئے مجرم کو لطف بھی آتا ہے۔سو اُن دنوں جرائم پیشہ گروہ خوب انجوائے کررہے تھے۔شہر کے حالات اس قدر مخدوش ہو چکے تھے کہ شہریوں کا زندگی پرسے اعتبار اُٹھ چکاتھا۔رات تو رات لوگوں نے دن کے وقت بھی گھروں سے نکلنا بہت کم کردیاتھالیکن بدن سے سانسوں کا رشتا بحال رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے اور کچھ کرنے کے لیے سرپر کفن باندھ کرگھر سے نکلنا پڑتا ہے۔ہر روز پندرہ بیس جنازے اُٹھنا معمول بن چکاتھا مگر لوگ تھے کہ ہرروز مرنے کے لیے باہر آجاتے تھے۔ شایداُنھیں بھوک سے مرنے کی بجائے گولی سے مرنا زیادہ آسان لگتا تھا۔بھوک سسکا سسکا کر مارتی ہے جب کہ گولی پل بھرمیں زندگی کے غموں سے آزادکردیتی ہے۔چنانچہ لوگ زندگی کے غموں سے نجات پانے کے لیے روز مررہے تھے۔
عامرشفیق عامی نے اپنی مجرمانہ زندگی کاآغاز اسٹریٹ کرائم سے کیا تھا۔لوگوں سے موبائل فون ، نقدی اورموٹربائیک وغیرہ چھین لینا اُس کا پیشہ تھا۔ آگے پیچھے کوئی تھا نہیں اس لیے اُس کے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے۔ویسے اُس نے میٹرک تک تعلیم بھی حاصل کی تھی۔اِس کے بعدجونہی والدین کاسایا اُس کے سر سے اُٹھا وہ شترِبے مہار کی طرح گائوں سے بھاگااورسیدھا کراچی جاکردم لیا۔کراچی میں پہلے پہل تو اُس نے عام لوگوں کی طرح محنت مزدوری کرکے رزقِ حلال کمانے کی کوشش کی مگرجلد ہی اُسے یہ احساس ہوگیا کہ ایک میٹرک پاس شخص کے لیے کراچی جیسے شہرمیں باعزت طریقے سے کمانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے اور دوسرا اُس پریہ عقدہ بھی کھل گیا کہ یہاں شرافت راس نہیں آتی۔ تب وہ متبادل راستا چُنتے ہوئے جُرم کی دنیامیں داخل ہوگیا۔چونکہ بندہ جی دارتھا اس لیے جلد ہی اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا۔شکل وصورت اورقد کاٹھ کابھی اچھا تھا۔ ہمیشہ کسی ایکشن فلم کے ہیرو کی طرح ایک مخصوص گیٹ اپ میں رہتاتھا۔دن دیہاڑے کسی بھی شخص کوبیچ چوراہے پر لُوٹ کر اپنی ہیوی موٹربائیک پر بیٹھ کرمنٹوں میں نکل جاتاتھا۔ قانون کے آہنی ہاتھ آج تک اُس کے گریبان تک نہیں پہنچ سکے تھے۔کراچی شہرمیں اُس جیسے ہزاروں تھے جو اسٹریٹ کرائم میں ملوث تھے اور پولیس کے لیے دردِ سربنے ہوئے تھے۔
پانچ چھہ ماہ تو وہ اکیلے ہی وارداتیں کرتارہا،پھربقول شاعرلوگ ملتے گئے اورکارواں بنتاگیاکے مصداق اُس نے اپنا گینگ بنالیا۔چھ افرادپرمشتمل اس گینگ کا لیڈر وہ خودتھا۔گینگ کے لوگ اُسے باس توکبھی عامی اُستاد کہتے تھے۔گینگ بنا تووہ اسٹریٹ کرائم کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس اورڈیپارٹمنٹل اسٹورز وغیرہ بھی لوٹنے لگے۔عامی اُستاد نے اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے چند پولیس افسروں کوبھی رام کرلیا تھا۔ان پولیس والوں کو ہرواردات کے بعد باقاعدہ نذرانہ پہنچایا جاتا تھا۔کراچی کے جس علاقے میں اُن کی رہائش تھی، وہاں کا پولیس اسٹیشن تو اُن کے لیے ایک پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا۔تھانہ انچارج انسپکٹر اسلم کرمانی اور عامی اُستادکے آپس میں گہرے تعلقات تھے۔انسپکٹر اسلم کرمانی اُس پر بے حدمہربان تھا۔عامی جب کبھی بھی فارغ ہوتا تھا تو گپ شپ لگانے کے لیے انسپکٹر اسلم کرمانی کے پاس چلاجاتا تھا۔
اُس روز عامی اپنے گینگ سمیت فلیٹ میں موجودتھا۔وہ سب بے حد خوش تھے اور پینے پلانے کا دور چل رہاتھا۔نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے وہ آپس میں نہایت ہی فحش گفت گو کررہے تھے۔ابھی دودن قبل ہی اُنھوں نے ایک پٹرول پمپ لُوٹا تھا۔اس ڈکیتی میں کافی تگڑامال اُن کے ہاتھ لگا تھا۔لہٰذا اسی خوشی میں وہ پی کر جشن منا رہے تھے۔ عامی اُستاد ایک پیگ چڑھانے کے بعد دوسرا پیگ سامنے لیے بیٹھا تھا کہ ایسے ہی وقت اُس کا سیل فون بجنے لگا۔اُس نے بُرا سا منہ بناکرکال کرنے والے کو ایک ناقابلِ اشاعت گالی دیتے ہوئے جیب سے سیل فون نکال کراسکرین پر نظرڈالی تو وہاں انسپکٹر اسلم کرمانی کانام جھلملا رہاتھا۔ شورمچاتے اور ایک دوسرے کو گالیاں دیتے اُس نے اپنے ساتھیوں کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کال ریسیوکی تو اسلم کرمانی نے بغیرعلیک سلیک کے پوچھا۔’’کہاں ہو یار تم سے ایک ضروری کام آپڑاہے۔‘‘
’’اپنے فلیٹ پرہوں۔‘‘ وہ قدرے حیران ہوگیا۔’’کیسا کام؟‘‘
’’تم بس فوراً پولیس اسٹیشن پہنچ جائو، میں شدت سے تمہارا منتظر ہوں۔‘‘ انسپکٹرنے حکمیہ اندازمیں جواب دیا۔
’’کچھ پتا تو چلے جناب! آخر بات۔‘‘
’’عامی ! تم میرا وقت ضائع کررہے ہو۔‘‘ انسپکٹرکرمانی نے جھنجلا کر قطع کلامی کی۔’’جو میں نے کہا ہے اُس پرعمل کرو، ہر بات فون پر بتانے والی نہیں ہوتی۔بس فوراً پولیس اسٹیشن پہنچنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’اوکے میں پہنچتا ہوں۔‘‘ کہہ کراُس نے رابطہ منقطع کیااور پھر اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوکربولا۔’’یہ کرمانی حرامی ہمیشہ رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے۔میں ذرا پولیس اسٹیشن تک جارہا ہوں، تم میں سے کوئی بھی فلیٹ سے باہر نہ نکلے۔‘‘
’’باس! کیا میں بھی ساتھ چلوں؟‘‘ صفدرنے سوال کیا،وہ عامی اُستاد کا رائیٹ ہینڈ تھا۔
’’نہیں یار! اُس نے صرف مجھے بلایا ہے۔‘‘ عامی اُستادنے نفی میں سرہلایا۔’’تم لوگ مزے کرو،میری قسمت میں توشاید بے آرامی ہی لکھی ہے۔‘‘
’’اوکے باس جیسے آپ کی مرضی،لیکن ذراسنبھل کررہنا پولیس والوں کی دوستی کبھی کسی مجرم کو راس نہیں آتی۔‘‘ صفدرنے مخدوش اندازمیں جواب دیا۔
عامی اُستاد کمرے سے باہر نکلااور سیدھا اپنی ہیوی موٹربائیک کی طرف بڑھ گیا۔چند لمحوں کے بعد اُس کی موٹربائیک پولیس اسٹیشن کی طرف اُڑی چلی جارہی تھی جب کہ وہ انسپکٹرکرمانی کے متعلق سوچ رہاتھا۔نجانے اُس پرکون سی افتاد ٹوٹ پڑی تھی۔صفدرکاخدشہ بھی اُس کے دماغ میں چکرا رہاتھا کہ پولیس والوں کی دوستی کبھی کسی مجرم کو راس نہیں آتی۔مگرعامی اُستاد کادل کہتا تھا کہ انسپکٹرکرمانی ایسا نہیں ہے۔وہ دوست بن کر دھوکا نہیں دے گا۔
٭٭٭
ظہیراحمد صدیقی نے اپنے سامنے ٹیبل پربکھری فائلیں سمیٹ کر ٹرے میں رکھتے ہوئے وال کلاک پر نظرڈالی توتین بجنے میں دس منٹ باقی تھے۔آفس کا سارا عملہ جا چکا تھا سوائے پیون شکور کے جو ایک چوبی اسٹول پربیٹھا اُس کے اُٹھنے کا شدت سے منتظرتھا۔شکورکی بے چینی اُس کے چہرے سے عیاں ہورہی تھی مگروہ آفس کے ہیڈ کلرک ظہیرصدیقی کو وقت پر چھٹی کرنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا تھا۔صدیقی نہایت ہی ایمان دار انسان تھا۔وہ ہمیشہ آفس کاکام نمٹاکرہی چھٹی کرتا تھا۔سو اکثر لیٹ ہوتا رہتا تھا۔ وہ پچپن کے پیٹے میں تھا اورکچھ عرصہ کے بعد ریٹائرہونے والاتھا۔
صدیقی صاحب نے وال کلاک سے نظر ہٹاکرشکور کی طرف دیکھا اورپھرمعذرت خواہانہ اندازمیں کہا۔’’بھئی شکور! میں آج پھرتم سے شرمندہ ہوں کہ کوشش کے باوجود وقت پرکام نہ نمٹا سکا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں سر! ایسا اکثر ہوتا رہتا ہے۔اب تو میں اس بات کا عادی ہو چکا ہوں۔‘‘ شکور نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے جواب دیااورپھردل ہی دل میں بولا۔’’سالا بڈھا کھوسٹ مرتا بھی نہیں، روزانہ کتنے لوگوں کے ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں۔نصف درجن بوری بند لاشیں بھی ملتی ہیں۔پتانہیں اس کا نمبرکب لگے گا؟‘‘
صدیقی صاحب نے کہا۔’’شکور !یہ تو تمہارا بڑاپن ہے۔ورنہ آج کل کون کسی کی سنتا ہے؟ سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے۔ایمان دارلوگ تو اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔چاروں طرف بے ایمان ہی بے ایمان ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ بندہ جائے تو جائے کہاں؟‘‘
’’آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں سر۔‘‘ شکور نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا البتہ دل میں بولا۔’’یااللہ! تُو اپنے اس ایمان دار بندے کو اپنے پاس بُلالے توبدلے میں تیرا یہ بے ایمان بندا داتا دربارپر بریانی کی دیگ چڑھائے گا اوروہ بھی بکرے کا گوشت ڈال کر۔‘‘
’’نہیں شکور۔‘‘ اُس نے نفی میں سرہلایا۔’’آئندہ اگر مجھے دیرہوجایاکرے توتم نکل جانا، میں خودہی آفس بند کرلیا کروں گا۔‘‘
شکورنے کہا۔’’جیسے آپ کاحکم سر۔‘‘ پھردل میں اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوا۔’’یااللہ! مجھے معاف کردینامیں یہ ڈیل کینسل کررہاہوں،تجھے تو معلوم ہی ہے کہ میری تنخواہ نہایت ہی قلیل ہے۔بریانی کی دیگ میں پوری تنخواہ نکل جائے گی۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ صدیقی صاحب نے سیٹ چھوڑتے ہوئے کہا۔’’میں اب چلوں گا۔تم تالے وغیرہ سنبھال کرآفس بند کرلو، کھڑکیاں ضرورچیک کرلینا۔‘‘
’’بے فکر رہیں سر! پہلے کبھی مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے کہ اب ہوگی؟‘‘ شکورنے عجلت میں کھڑکیوں کی طرف بڑھتے ہوئے جواب دیا۔
ظہیرصدیقی آفس سے باہرنکلا اورپارکنگ ایریا کی طرف بڑھ گیاجہاں اُس کی موٹر سائیکل کھڑی ہوئی تھی۔یہ موٹرسائیکل اُس نے پندرہ برس قبل خریدی تھی جوبڑی باقاعدگی کے ساتھ اب تک اُس کا ساتھ نبھا رہی تھی۔اُس نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور پارکنگ ایریا سے نکلتا ہوا کھلے روڈ پرپہنچ گیا۔اُس کا گھر آفس سے ایک گھنٹے کی مسافت پرشہرکی گنجان آبادی میں واقع تھا۔راستے میں ایک تندور سے اُس نے چھ گرم گرم روٹیاں خریدیں، اُنھیں موٹرسائیکل کے سیف گارڈ سے لٹکایااوردوبارہ روانہ ہوگیا۔گھرتک پہنچتے پہنچتے اُسے چاربج گئے۔دروازہ اُس کے اکلوتے بیٹے عماداحمدنے کھولا تھا۔اُس نے موٹرسائیکل برآمدے میں جاکرروک دی اورپھر بیٹے سے مخاطب ہوکر بولا۔’’سوری بیٹے! میں آج پھر لیٹ ہوگیا۔یقینا بھوک سے تمہارا بُرا حال ہوگا۔‘‘
عمادبولا۔’’بے شک بھوک توہے مگر مجھے آپ کے بغیر کھانا کھانے کا لطف نہیں آتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے تم یہ روٹیاں لے جاکر ٹیبل پرلگائو، میں ابھی سالن گرم کرکے لاتا ہوں۔‘‘ وہ کچن کی طرف بڑھ گیا۔
کچن میں ایک درمیانے سائز کا فریج موجود تھا۔اُس نے فریج کھول کرسالن نکالا اور چولھا جلاکر سالن گرم کرنے لگا۔جب سالن گرم ہوگیا تو اُس نے دوپلیٹوں میں سالن ڈالااور عجلت میں کمرے کی طرف چل دیا۔ تب تک عمادٹیبل پر روٹیاں اور پانی کا جگ لگا چکا تھا۔دونوں کھانا کھانے میں لگ گئے۔گذشتہ دس برسوں سے اُن دونوں کا یہی معمول تھا۔عماد کی امی کوفوت ہوئے دس برس بیت چکے تھے۔چنانچہ پچھلے دس برسوں سے ظہیرصدیقی نے کچن سنبھال رکھا تھا۔عماد نے ایم ایس سی تک تعلیم حاصل کی تھی مگر تاحال بے روزگار تھا۔وہ روزانہ دفاتر کے چکرکاٹتا رہتاتھا مگرقسمت کی دیوی اُس پر مہربان نہیں ہورہی تھی۔کھانے سے فراغت کے بعد ہمیشہ کی طرح ظہیرصدیقی نے اپنا من پسند ٹاپک چھیڑدیا۔’’عماد!تم اگر شادی کرلو تومیری اس کچن کے عذاب سے جان چھوٹ جائے گی۔میں اب تھک چکا ہوں بیٹے۔‘‘
عماد بولا۔’’ابو مجھے اس کا احساس ہے مگر میں کیاکروں‘آپ جانتے ہیں کہ میں فی الحال شادی افورڈ نہیں کرسکتا۔ابھی تو میں آپ کامحتاج ہوں، بیوی کی ذمہ داری کیسے اور کس طرح سنبھالوں گا؟‘‘
’’بیٹے! شادی کوروزگار کے ساتھ نتھی مت کرو، رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ کیاوہ بے روزگاروں کورزق نہیں دیتا۔کبھی کوئی بے روزگار بھوکا سویا ہے؟‘‘
’’نہیں ابو۔‘‘ اُس نے نفی میں سرہلایا۔’’جب تک میں اپنے قدموں پر کھڑانہیں ہوجاتا تب تک میں شادی نہیں کروں گا اوریہ میرا حتمی فیصلہ ہے۔‘‘
’’میراسب کچھ تمہارا ہی تو ہے۔پھرتجھے کس بات کی فکر ہے؟‘‘
’’بے شک آپ کا سب کچھ میراہی ہے مگرمیں پھربھی شادی نہیں کروں گا۔بہترہوگا کہ آپ اب اس موضوع کوچھیڑا ہی نہ کریں۔‘‘
’’کہیں تم کسی کوپسند تونہیں کرتے؟‘‘ اچانک اُس نے ایک غیرمتوقع سوال کردیا۔
’’نن۔۔۔۔۔۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ ایکدم بوکھلا یامگر پھرفوراً سنبھل گیا۔’’پسند ناپسند والی بات تو تب ہوگی جب میں اپنے قدموں پر کھڑا ہوجائوں گا۔‘‘
’’مجھے لگتاہے کہ تم کچھ چھپا رہے ہو؟‘‘ اُس نے مشکوک اندازمیں سوال کیا۔
’’یہ محض آپ کا وہم ہے۔میں بھلا کوئی بات آپ سے کس طرح چھپا سکتا ہوں؟ آپ کے علاوہ اورکون ہے میرا اپنا جس پرمیں اعتماد کرسکوں؟‘‘
’’گڈ مجھے تم سے یہی اُمید تھی بیٹے! کہ تم مجھ سے کبھی کوئی معاملہ مخفی نہیں رکھو گے۔‘‘
’’بے فکررہیں ابو! میں کبھی بھی آپ کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائوں گا۔‘‘
’’اوکے توپھر کیا خیال ہے ایک ایک کپ چائے کا ہوجائے؟‘‘ اُس نے موضوع بدل کرپوچھا۔
’’بالکل۔۔۔۔۔۔مگر آج چائے میں بنائوں گا ابو، آپ تھکے ہوئے ہوں گے۔ تھوڑی دیر ریسٹ کرلیں۔‘‘ وہ اُٹھ کرکچن کی طرف بڑھ گیا۔
عماد کے جانے کے بعد وہ اُٹھا اور بُک شیلف سے اپنی پسند کی ایک کتاب نکال کرپڑھنے لگا۔مطالعے کا اُسے اسکول کے زمانے ہی سے شوق تھاجو اَب تک باقاعدگی سے چلا آرہا تھا۔ہرمہینے تنخواہ لینے کے بعد وہ چند اچھی کتابیں خریدنا نہیں بھولتا تھا۔تاہم عماد کو کتابیں پڑھنے سے کوئی لگائو نہیں تھا۔وہ بھی نوجوان نسل کی طرح انٹرنیٹ کا دیوانہ تھا اوراکثرٹائم کمپیوٹرکے سامنے گزارتا تھا۔فیس بُک پر اُس کے بے شمار دوست تھے۔جن میں اکثریت لڑکیوں کی تھی۔وہ کئی کئی گھنٹے دوستوں سے چیٹنگ کرتارہتاتھا۔
٭٭٭
عامی اُستادنے موٹربائیک تھانے کے احاطے میں روکی اورپھرلمبے لمبے ڈگ بھرتاہواانسپکٹرکرمانی کے کوارٹر کی طرف چل دیا۔کوارٹر اُس کا دیکھا بھالا تھا۔اکثر وہیں اسلم کرمانی کے ساتھ اُس کی ملاقات ہوا کرتی تھی۔وہ بلاجھجک اُس کمرے میں داخل ہوگیاجسے انسپکٹر کرمانی نشست گاہ کے طورپر استعمال کرتا تھا۔کمرے کے اندر انسپکٹر کرمانی اکیلا نہیں تھا۔وہاں ایک اجنبی شخص بھی موجود تھا۔وہ دونوں باتوں میں مصروف تھے۔عامی اُستادپر نظرپڑتے ہی اجنبی کے چہرے پرشناسائی کی چمک اُبھرکرمعدوم ہوگئی جب کہ انسپکٹرکرمانی بولا۔’’آئو یار!ہم تمہارا ہی انتظارکر رہے تھے۔‘‘
’’میں اتنااہم کب سے ہوگیا ہوں کرمانی! کہ آپ جیسے افسرلوگ بھی میراانتظارکرنے لگے ہیں۔‘‘ وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا اورپھر اُن دونوں سے باری باری مصافحہ کرنے کے بعدایک سوفے پربیٹھ گیا۔
کرمانی بولا۔’’پہلے ان سے ملیے، یہ سلیمان پاشا صاحب ہیں اس شہرکے مشہورومعروف بزنس مین اورسیاست دان۔تم نے یقینا ان کا نام سُن رکھا ہو گا؟‘‘
وہ بولا۔’’نام توسناہے لیکن ملاقات کاشرف پہلی بارحاصل ہورہا ہے۔‘‘
کرمانی نے کہا۔’’تم خوش قسمت ہوکہ پاشا صاحب نے تمہیں نہ صرف ملاقات کاشرف بخشا ہے بلکہ تمہارے لیے ایک ایسا کام لے کر آئے ہیں کہ تم دنوں میں کروڑپتی ہوجائو گے۔توپھر کیا خیال ہے پاشا صاحب کا کام کروگے یانہیں؟‘‘
’’کرمانی صاحب! کام کی نوعیت جانے بغیرمیں بھلا کیسے فیصلہ کر سکتا ہوں؟‘‘
کرمانی نے کہا۔’’ڈونٹ وری کام تمہاری مرضی کا ہے اور کام کا معاوضہ تمہاری توقع سے بہت زیادہ ہے۔‘‘
’’پھربھی کچھ پتا تو چلے کہ کس طرح کا کام ہے؟‘‘ اُس نے اُلجھن آمیز اندازمیں پوچھا۔
’’بتاتا ہوں۔‘‘ کرمانی نے اثبات میں سرہلایااورسنٹرل ٹیبل پر پڑاہوابریف کیس کھول کرپانچ پانچ ہزارروپے والے نوٹوں کی دوعدد گڈیاں نکال کرٹیبل پررکھتے ہوئے کہا۔’’یہ پورے دس لاکھ روپے ہیں اوریہ اُس کام کامعاوضہ ہے جوتمہیں پاشا صاحب کے لیے کرنا ہے۔‘‘
’’لیکن کام تو آپ نے ابھی تک…‘‘
’’میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔‘‘ کرمانی نے قطع کلامی کی اوربریف کیس سے ایک تصویرنکال کراُس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔’’تمہیں اس شخص کو زندگی کی قیدسے آزاد کرنا ہے۔یہ شخص پاشا صاحب کاجانی دشمن ہے اورکبھی بھی موقع پاکرپاشاصاحب پرجان لیوا حملہ کر سکتا ہے اس کا مکمل ایڈریس تصویر کے پیچھے درج ہے۔‘‘
عامی اُستادنے اُس کے ہاتھ سے تصویرلے کربغوراُس کا جائزہ لیااورپھربولا۔’’شکل سے تو یہ ایک عام سا شریف انسان لگتا ہے۔آپ شاید مجھ سے کوئی بات چھپا رہے ہیں؟‘‘
’’کرمانی ٹھیک کہتا ہے۔‘‘ سلیمان پاشانے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔’’شکل سے یہ بے شک شریف لگتا ہے مگرحقیقت میں یہ ایک غنڈا ہے اورمجھے اس سے جان کا خطرہ ہے۔ایک باریہ مجھ پروار کرچکا ہے،وہ تو میری قسمت اچھی تھی کہ میں بال بال بچ گیاورنہ اس نے تو مجھے ہلاک کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی تھی۔‘‘
وہ بولا۔’’پاشا صاحب!یقینا آپ سچ کہہ رہے ہوں گے لیکن میں نے آج تک کسی انسان کی جان نہیں لی۔میں مانتاہوں کہ میں ایک بُرا انسان ہوں لیکن کسی انسان کو قتل کرنے کے متعلق میں نے کبھی نہیں سوچا۔‘‘
’’نہیں سوچا تو اب سوچ لو۔‘‘ پاشا کی بجائے کرمانی نے کہا۔’’تمہیں اس شخص کوجلدازجلد ٹھکانے لگانا ہے۔‘‘
’’نہیں کرمانی! مجھ سے یہ کام نہیں ہوگا۔‘‘ اُس نے نفی میں سرہلایا۔
’’بے وقوفی کی باتیں مت کرو۔‘‘ کرمانی سمجھانے والے اندازمیں بولا۔’’کب تک یہ چھوٹی موٹی ڈکیتیاں کرتے رہوگے؟ کسی دن کسی گارڈ کی گولی کانشانہ بننے سے بہتر ہے کوئی مردوں والاکام کرو۔دس لاکھ روپے بہت بڑی رقم ہے ورنہ اس شہرمیں تو بیس بیس ہزارروپے پربھی کلرز دستیاب ہیں۔پاشا صاحب تو کسی کوبھی ہائر کرسکتے ہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ کسی غیرمتعلق شخص کی بجائے میرے دوست کوفائدہ پہنچے۔‘‘
’’کرمانی! میں آپ کا بے حد ممنون ہوں لیکن قتل جیسی واردات کرنے سے میں قاصر ہوں۔‘‘ اُس نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
’’لیکن میں جوپاشا صاحب کوزبان دے چکا ہوں ،اُس کا کیا ہوگا؟ ان کے بہت احسان ہیں مجھ پر۔‘‘ کرمانی نے پہلی بارقدرے سختی کامظاہرہ کیا۔
’’میں مجبور ہوں کرمانی صاحب۔‘‘ اُس نے کمزور سا احتجاج کیا۔’’ورنہ پہلے کبھی آپ کو انکار کیا ہے؟‘‘
’’تمہاری طرح میں بھی مجبورہوں۔اب تیرکمان سے نکل چکا ہے۔اگرتم انکارکروگے توبات بگڑجائے گی اوربہت نقصان ہوگا۔‘‘ کرمانی نے ڈھکے چھپے اندازمیں دھمکی دی۔
وہ سوچ میں پڑگیا۔کرمانی کی ذات اُس کے لیے ناگزیرتھی۔وہ کرمانی سے تعلقات بگاڑکراپنا دھندا جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔کرمانی چاہتاتو اُسے اُس کے گینگ سمیت باآسانی گرفتارکرسکتا تھا۔گینگ سمیت اُس کا ان کائونٹر کرسکتا تھا۔شہرمیں غنڈاگردی کے ساتھ ساتھ پولیس گردی بھی عروج پرتھی۔عامی اُستاد تو اُس وقت ایک عام سا غنڈا تھا سو کوشش کے باوجود کرمانی کو انکارنہ کرسکا۔
’’ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں۔‘‘ وہ نیم رضامندی سے بولا۔’’کہ پاشا صاحب کے دشمن کو…‘‘
’’کوشش نہیں۔‘‘ کرمانی نے ہاتھ اُٹھاکر قطع کلامی کی۔’’بلکہ کام کرکے دکھانا ہے،مجھے لفظ کوشش سے نفرت ہے کیونکہ یہ لفظ اکثر جھوٹے لوگ استعمال کرتے ہیں۔‘‘
’’اوکے ہوجائے گا۔‘‘ اُس نے پہلی بارپُرعزم لہجے میں جواب دیااورنوٹوں کی گڈیاں اورتصویراُٹھاکرجیب میں رکھ لیں۔
’’ٹھیک ہے اب تم جاسکتے ہو۔‘‘ کرمانی نے مطمئن اندازمیں کہا۔’’میں بعدمیں تم سے فون پررابطہ کرلوں گا۔‘‘
اُس نے دونوں سے الوداعی مصافحہ کیااورپھرکمرے سے باہرنکل گیا۔
’’کرمانی! یہ تم نے کیا کیا؟‘‘ عامی اُستادکے نکلتے ہی پاشا نے سوال کیا۔’’میں نے تو اس کام کے بدلے میں بیس لاکھ روپے دیے ہیں۔‘‘
’’اُس کی جتنی اوقات تھی میں نے دے دیے۔‘‘ کرمانی نے قہقہہ لگایا۔’’بقیہ دس لاکھ روپیا میں نے بطورنذرانہ رکھ لیاہے۔‘‘
پاشا نے ہنس کرکہا۔’’تمہارانذرانہ تومیں نے ویسے بھی دیناہی تھا۔پھراس جلدبازی کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
’’بہت اشد ضرورت تھی پاشا صاحب! دراصل سی سائٹ پر میں نے دوکمروں کاایک بہت ہی عمدہ فلیٹ دیکھ رکھا ہے اورمالک پہلی فرصت میں ہی اُسے ٹھکانے لگانے کی سوچ رہا ہے۔فکرنہ کریں آپ کے نذرانے کی بھی ضرورت پڑے گی۔سی سائٹ پر آج کل بہت ہائی ریٹ چل رہا ہے۔‘‘ کرمانی نے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے تفصیلی جواب دیا۔
’’ڈونٹ وری وہ فلیٹ سمجھو آپ کا ہوگیا۔‘‘ پاشانے اُٹھتے ہوئے اجازت طلب اندازمیں کہاتوکرمانی بھی اُٹھ کرکھڑاہوگیا۔
’’اوکے تو اب اجازت دیجیے۔‘‘ پاشانے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
کرمانی نے اُس کاہاتھ تھام کرخداحافظ کہااورپاشالبوں پر مسکراہٹ سجائے رخصت ہوگیا۔
٭٭٭
زارا احمدسے اُس کی دوستی بذریعہ نیٹ ہوئی تھی۔دوماہ قبل جب اُس نے فیس بک پراپنی آئی ڈی بنائی تو اُسے پہلی فرینڈ ریکوئسٹ زارا احمد ہی کی موصول ہوئی تھی۔ جسے اُس نے بلاسوچے سمجھے ہی کنفرم کردیا تھا۔پھردیکھتے ہی دیکھتے فیس بک کی یہ دوستی بالمشافہ ملاقاتوں میں بدل گئی۔زارا احمد اُس کے تصورسے کہیں بڑھ کر حسین وجمیل نکلی تھی۔ چنانچہ وہ دونوں نہایت ہی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آتے چلے گئے۔دوستی محبت میں بدلی توملاقاتوں کادورانیہ بھی بڑھتاگیا۔اب وہ اکثر ایک دوسرے سے ملنے لگے تھے۔ کبھی کسی پارک میں توکبھی کسی ریسٹورنٹ میں۔گذشتہ ایک ماہ سے اُن کی یہ ملاقاتیں جاری تھیں۔کبھی دودن بعد توکبھی تین دن بعداُن کی ملاقات ضروری تھی۔
زارا نے اپنے متعلق اُسے جوکچھ بتایا تھا اُس کے مطابق اُس کاتعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا اوراُس کے والد ایک سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔جب کہ اُن کا خاندان پانچ افراد پرمشتمل تھا۔ماں باپ، ایک بھائی اور دوبہنیں، بہن زاراسے بڑی تھی جب کہ بھائی اُس سے چھوٹاتھا اوروہ کالج میں تھرڈ ایئر کا اسٹوڈنٹ تھا۔ عماد نے بھی اپنے متعلق اُسے سب کچھ سچ سچ بتادیاتھا کہ سوائے ایک باپ کے اُس کا بھری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔عماد نے اب تک یہ بات باپ سے چھپارکھی تھی تاہم وہ زارا سے شادی کرنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ تھا اور باپ سے بات کرنے کے لیے کسی مناسب موقع کا منتظر تھا۔
اُس دن بھی وہ زارا کے ساتھ سی سائٹ پر گھوم رہاتھاجب اچانک اُسے یہ احساس ہوا کہ کوئی اُن دونوں پرنظررکھے ہوئے ہے۔اُس نے زاراسے اپنے اس خدشے کا اظہار کیاتو وہ بے پروا سے انداز میں بولی۔’’عمو یار! تمہارا بھی جواب نہیں ہے۔یہاں کتنے ہی لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں۔ اب کیا پتا کہ وہ کون ہے؟‘‘
وہ بولا۔’’میں خطرہ محسوس کررہا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ کوئی ہمیں نقصان پہنچانے والا ہے۔‘‘
’’لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ محض تمہارا وہم ہے۔‘‘ زارانے مسکرا کر جواب دیا۔
’’تم میرے خدشے کومذاق میں مت ٹالو۔‘‘ وہ پُرزور اندازمیں بولا۔’’مجھے اس سے قبل کبھی اس طرح کا وہم نہیں ہوا۔کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرورہے۔‘‘
’’جوہوگا دیکھا جائے گا۔‘‘ زارانے سرجھٹکا۔’’ہمیں اپنی تفریح برباد نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
زارا کے تسلی دینے پروہ وقتی طورپرمطمئن ہوکرچپ ہوگیا۔تب زارانے موضوع بدل کرپوچھا۔’’تمہارے انٹرویوکا کیا بنا، کوئی اُمید ہے کہ نہیں؟‘‘
’’اُمیدتو تب ہوگی جب میرے پاس کسی تگڑی شخصیت کی سفارش یانذرانے کی صورت میں کرنسی نوٹوں کا بنڈل ہوگا۔آج کل ذہانت اور ٹیلنٹ کوکون دیکھتاہے؟ اس ملک میں صرف سکہ رائج الوقت اور سفارش چلتی ہے۔‘‘ اُس نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا۔
وہ بولی۔’’مجھے تو جاب وغیرہ میں بالکل انٹرسٹ نہیں ہے۔تم کوئی کاروبارکیوں نہیں کرتے‘جاب میں کیا رکھا ہے؟‘‘
’’کاروبار کے لیے بھی سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے ،جب کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ہماراگھرابوکی تنخواہ سے چلتا ہے۔یہ تو ہمارا کنبہ محدود ہے ورنہ ابو کی تنخواہ تو اس قدر قلیل ہے کہ چندافرادکاپیٹ مشکل سے پلتا۔‘‘
’’اگر میں سرمایے کا بندوبست کردوں توکیاتم کاروبارکروگے؟‘‘ زارانے سنجیدگی سے پوچھا۔
اُس نے چونک کرزاراکی طرف دیکھااورپھرہنس کرکہا۔’’تمہاری اتنی اوقات کہاں۔۔۔۔۔۔۔ کیوں مجھ سے مخول کرتی ہو؟‘‘
وہ بولی۔’’اوقات ہے یا نہیں اس بات کو چھوڑو تم اپنی ڈیمانڈ بتائو، کتنے سرمایے سے کام چل جائے گا؟‘‘
’’اوہ میڈم!‘‘ اُس نے قہقہہ لگایا۔’’میں نے کریانے کی دکان تو نہیں کھولنی، کاروبارکرنے کے لیے اور وہ بھی کراچی جیسے شہرمیں جانتی ہو کتنے سرمایے کی ضرورت پڑتی ہے؟ کروڑوں روپے کی۔ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی؟ تمہارے پاس تو ڈھنگ کا لباس بھی نہیں ہے، کروڑوں روپیا کہاں سے لائوگی؟‘‘
’’وہ میرامسئلہ ہے تم اپنی ڈیمانڈ بتائو؟‘‘ وہ بدستور سنجیدہ تھی۔
’’بس مذاق بہت ہوگیا، چلو کہیں سے کولڈڈرنک پیتے ہیں۔سرمایہ دینے کی بجائے بل چکادینا۔‘‘
’’تم میری توہین کررہے ہو۔‘‘ اُس نے پہلی بارغصے کااظہارکیا۔’’میں چاہوں تو ایک بزنس ایمپائر کھڑی کرسکتی ہوں۔‘‘
شاید یہ کسی نئی فلم کے ڈائیلاگ ہیں؟‘‘ عمادنے ایک اور قہقہہ لگایا۔’’بس اب خوابوں کی دنیا سے باہرآجائو میڈم‘بہت ہوگیا۔‘‘
اسی دوران وہ ایک سنسان مقام کے نزدیک پہنچ گئے۔قریب ہی ناریل کے درختوں کا ایک جھنڈ تھا۔معاً اُس جھنڈ سے چارآدمی نکلے اورتیزی سے اُن کی طرف بڑھے۔ وہ دونوں آپس میں اُلجھے ہوئے تھے۔اُنھیں خبرہی نہ ہوسکی کہ وہ خطرہ جوتھوڑی دیرقبل عمادنے محسوس کیا تھا اُن کے سرپر پہنچ چکا ہے۔وہ چار تھے اور چاروں ہٹے کٹے تھے۔ دو نے عمادکو چھاپ لیا جب کہ بقیہ دو نے زبردستی زارا کو اُٹھالیا اوربرق رفتاری سے دوبارہ درختوں کے جھنڈمیں غائب ہوگئے۔اُنھوں نے زارا کو چلانے کاموقع تک نہیں دیاتھا۔ دوسری طرف وہ دو جو عماد کے ساتھ اُلجھے ہوئے تھے۔اُنھوں نے پہلے تو عماد کی خوب دھلائی کی اورپھر تقریباً اُسے گھسیٹتے ہوئے جھنڈ کے اندر لے گئے۔عماد کی بُری حالت تھی اُس کی ناک اورباچھوں سے خون رس رہاتھا جب کہ شرٹ کا گریبان گلے میں جھول رہا تھا۔ جھنڈ میں تقریباً تین سو فٹ کے فاصلے پرایک وین کھڑی ہوئی تھی۔جوشاید حملہ آوروں ہی کی تھی۔پٹنے کے دوران عمادباربار اُن سے اپنی غلطی پوچھتا رہا تھا مگر اُنھوں نے کوئی جواب نہیں دیاتھا۔
جھنڈمیں لے جاکراُنھوں نے عماد کومزیدچند ٹھوکریں رسیدکردیں اور پھراُن میں سے ایک بولا۔’’آئندہ اگر تم زارا میم صاحب کے قریب بھی پھٹکے تو کاٹ کر پھینک دیں گے۔‘‘
’’وہ۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔‘‘ اُس نے کراہتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی توایک اور زوردار ٹھوکراُس کے پہلومیں پڑی۔درد کی شدت سے اُس نے چلانا شروع کر دیا۔تب ٹھوکرمارنے والا دھمکی آمیز اندازمیں بولا۔’’چِلانا بندکردو ورنہ ہمیشہ کے لیے زبان بندکردوں گا۔‘‘
وہ فوراً چپ ہوگیا۔ یوں جیسے کھلونے کی چابی ختم ہوجاتی ہے۔وہ بد حال سا ریتلی زمین پرپڑا ہواتھا۔گو کہ وہ جسمانی لحاظ سے اُن میں سے کسی سے بھی کم نہیں تھا۔مگر وہ دونوں مسلح تھے۔اُس کی مدافعت پر اُسے شوٹ بھی کرسکتے تھے۔وہ جوانی کی موت مرنا نہیں چاہتا تھا۔سو چپ چاپ پڑا رہا۔پورے بدن میں درد کی ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔ اُنھوں نے بہت ہی بے دردی کے ساتھ اُسے مارا تھا۔وہ دونوں چند لمحے اُس کی حالت سے محظوظ ہوتے رہے۔پھر ایک نے جیب سے والٹ نکال کرچندبڑے نوٹ نکالے اور اُس کے منہ پرمارتے ہوئے بولا۔’’ان پیسوں سے اپنا علاج کرالینااور خبردار آج کے بعد زارا بی بی سے ملنے کی کوشش مت کرنا ورنہ اگلی بار جان سے جائوگے۔‘‘ وہ دھمکی دے کر وین کی طرف بڑھ گئے جب کہ عماد وہیں پڑا رہ گیا۔
جب کافی دیر گزر گئی تو وہ کراہتے ہوئے اُٹھا اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے ایک طرف چل دیا،زمین پرپڑے ہوئے نوٹوں کی طرف اُس نے کوئی توجہ نہیں دی تھی۔اُس کا جوڑجوڑ دُکھ رہاتھامگر وہ ضبط سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھتا رہالیکن پھر اچانک ہی اُس کی ہمت جواب دے گئی۔آنکھوں کے سامنے تاریکی کی چادرتن گئی اور وہ لڑکھڑاتا ساحل کی ریت پر گر گیا۔ ٭٭٭
سلیمان پاشا نے گھورکر اکلوتی بیٹی کی طرف دیکھااورپھردرشت لہجے میں بولا۔’’میرے لاڈ پیار کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے تجھے شرم نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔ کم ازکم باپ کے مرتبے کاہی خیال کرلیاہوتا۔لوگ کیا کہیں گے کہ سلیمان پاشا کی بیٹی ایک تھرڈ کلاس نوجوان کے ساتھ گھومتی پھرتی ہے۔‘‘
’’سب انسان ایک جیسے ہوتے ہیں ڈیڈ۔‘‘ وہ بلاجھجک بولی۔’’یہ اپر مڈل اور لوئر کلاس تو آپ جیسے لوگوں نے بنائی ہے۔خدا نے تو تمام انسانوں کوایک جیسا ہی بنایا ہے۔ سبھی کے دو ہاتھ، دوپائوں اور دوآنکھیں ہوتی ہیں۔میں نے آج تک کسی اپرکلاس والے کے پاس کوئی اضافی عضو نہیں دیکھا۔‘‘
’’اپنی یہ گھٹیا فلاسفی اپنے پاس رکھو۔‘‘ پاشانے انگلی کھڑی کرتے ہوئے کہا۔’’تم زارا سلیمان احمد پاشا ہو،پہلے اُس کی اوراپنی اوقات دیکھوپھر…‘‘
’’میں اُس سے کسی پاشا کی بیٹی بن کرنہیں ملتی ڈیڈ۔‘‘ زارا نے قطع کلامی کی۔’’وہ میری حیثیت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔‘‘
’’وہاٹ نانسنس۔۔۔۔۔۔۔۔کیابکواس کررہی ہو؟‘‘
’’میں سچ کہہ رہی ہوں وہ مجھے ایک سرکاری اسکول کے ہیڈماسٹر کی بیٹی سمجھتا ہے۔میں نے اُسے یہی بتایا ہے۔‘‘
’’تم نے اُسے حقیقت کیوں نہیں بتائی؟ پاشانے پوچھا۔
’’بس ایسے ہی اُسے آزمانے کے لیے۔‘‘
’’کیوںاور کس لیے؟‘‘ وہ دوبارہ بپھرگیا۔’’کون لگتا ہے وہ تمہارا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تم یہ سمجھتی ہوکہ میں اُس دوٹکے کے آدمی کے ہاتھ میں تمہارا ہاتھ دینے کے لیے راضی ہو جائوں گا؟‘‘
’’مجھے اپنا جیون ساتھی منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔آپ رکاوٹ بنیں گے تو میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’بکواس بند کرو۔‘‘ وہ قطع کلامی کرتے ہوئے چلایا۔’’تم نے اگر اُس حرام زادے سے ملنانہ چھوڑاتومیں اُسے مٹی میں ملادوں گا۔‘‘
ایسے ہی وقت بیگم پاشا کمرے میں داخل ہوکربولی۔’’جوان بیٹی پرا س طرح چلائوگے تووہ بغاوت پر اُترآئے گی۔یہی بات آپ اسے پیارسے بھی سمجھا سکتے ہیں۔‘‘
’’یہ سب تمہارے بے جا لاڈ پیارکا نتیجہ ہے۔‘‘ وہ بیگم پرچڑھ دوڑا۔’’کہ آج یہ مجھے یعنی اپنے باپ کو آنکھیں دکھانے لگی ہے۔بڑے بڑے صاحبِ حیثیت لوگ مجھ سے نظریں جھکاکربات کرتے ہیں جب کہ یہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتی ہے۔اِسے سمجھائو ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
بیگم نے منہ بناکرکہا۔’’اپنی غلطیاں مجھ پرکیوں تھوپتے ہو؟ سرپر تو اسے آپ نے چڑھا رکھاہے۔میں تو اپنے بھائی کے بیٹے افضال سے اس کی شادی کرناچاہتی تھی، آپ ہی نہیں مان رہے تھے۔اب بھگتو۔‘‘
’’دفع کرو افضال کو۔‘‘ پاشانے چڑ کرکہا۔’’ایک نمبرکاآوارہ اورحرام خورہے۔اُسے تو میں اپنے جوتے بھی صاف کرنے کے لیے نہ دوں، تم بیٹی دینے کی بات کرتی ہو؟‘‘
بیگم نے ہاتھ نچایا۔’’میرا بھتیجا آوارہ ہے تو اب اس نے کون سا شہزادہ چُن لیا ہے؟‘‘
’’افضال کی طرح میٹرک فیل نہیں ہے وہ، ایم ایس سی کیا ہے اُس نے۔بہت جلداُسے کوئی اچھی جاب مل جائے گی۔‘‘ زارا نے عماد کا دفاع کرتے ہوئے جواب دیا۔
پاشا بولا۔’’تم ماں بیٹی فضول میں ایک دوسرے سے مت لڑو، زارا کی شادی جہاں میں چاہوں گا وہیں ہوگی۔‘‘
’’میں کوئی بھیڑ بکری نہیں ہوں کہ جس کھونٹی سے چاہوگے باندھ دوگے۔‘‘ وہ پائوں پٹختے ہوئے باہرنکل گئی۔
’’تم نے دیکھا یہ کس قدر بدتمیز ہوگئی ہے۔‘‘ وہ بیگم کی طرف متوجہ ہوگیا۔’’مجھے کچھ کرناپڑے گاورنہ یہ میری عزت کا جنازہ نکال دے گی۔‘‘
بیگم بولی۔’’اُسے پیارسے سمجھائو،سختی کروگے تو نقصان اُٹھائوگے۔میں نے اُس کی آنکھوں میں بغاوت دیکھی ہے۔‘‘
’’میں یہ نوبت ہی نہیں آنے دوں گا۔تم کیوں فکر کرتی ہو؟‘‘
وہ بولی۔’’افضال میں کوئی بُرائی نہیں ہے۔میں تو کہتی ہوں کہ آپ بھائی صاحب کوہاں کردیں۔اس طرح سانپ بھی مرجائے گا اورلاٹھی بھی ٹوٹنے سے محفوظ رہے گی۔اپنا اپنا ہوتا ہے جب کہ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’بس۔۔۔۔۔۔۔‘‘ پاشانے ہاتھ اُٹھاکرقطع کلامی کی۔’’میں اس وقت افضال کی تعریف سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔مجھے سوچنے دو کہ کیا کرناہے اور کیا نہیں کرنا؟‘‘
’’تم سوچتے رہوگے اوربیٹی ہاتھ سے نکل جائے گی۔‘‘
’’میں جو سوچتا ہوں وہ کرتا بھی ہوں۔۔۔۔۔جائو میرے لیے کافی بھجوا دو۔‘‘ پاشا نے حکمیہ اندازمیں کہا اوروہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
عمادکو ایک ہمدرد نوجوان نے ہاسپٹل پہنچادیاتھا۔چونکہ اُسے کوئی اندرونی چوٹ نہیں آئی تھی ،سو ڈاکٹر نے اُس کی مرہم پٹی وغیرہ کرنے کے بعداُسے گھرجانے کی اجازت دے دی تھی۔اُس روز سنڈے کی چھٹی تھی۔ اس لیے عماد جب مرہم پٹی کرواکر گھر پہنچاتوظہیراحمد اُس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا۔’’یہ تم نے کیا حالت بنارکھی ہے۔ کس سے جھگڑا کیا ہے؟ مجھے بتائو کون تھا وہ؟ میں اُسے چھوڑوں گا نہیں۔‘‘ اکلوتے بیٹے کو زخمی حالت میں دیکھ کراُس نے ایک ساتھ کئی سوال کردیے۔
’’میں ٹھیک ہوں۔معمولی سی چوٹیں ہیں یہ، آپ بلاوجہ پریشان ہورہے ہیں۔‘‘ عماد نے مطمئن اندازمیں جواب دیا۔
وہ بولا۔’’میں تمہاراباپ ہوں مجھ سے بات چھپائو گے تو نقصان اُٹھائوگے۔سچ بتائو کیا ہوا ہے؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں ہوا، وہ بس ایک غنڈہ۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے چُپ ہوگیا۔
’’عماد! تم کچھ چھپا رہے ہو۔۔۔۔مجھے بتائو کس سے لڑ کر آرہے ہو؟‘‘
’’ابو! آپ رہنے دیں ،یہ میراذاتی معاملہ ہے۔‘‘
’’میں کیسے یقین کرلوں کہ یہ تمہارا ذاتی معاملہ ہے؟ اور پھریہ بھی تو سوچو کہ تم میرے بڑھاپے کا واحد سہارا ہو اگرتمہیں کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گا؟ شہر کے حالات تو دیکھو روزانہ بیسیوں لاشیں گرجاتی ہیں مگرقاتلوں کا کوئی پتانہیں چلتا۔‘‘ اُس نے دل میں پنہاں خدشے کا اظہارکیا۔
وہ بولا۔’’میرے زخمی ہونے کا شہر کے حالات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔آپ خواہ مخواہ پریشان ہورہے ہیں۔‘‘
’’جب تک تم مجھے سچ نہیں بتائوگے میری پریشانی کم نہیں ہوگی۔‘‘
مرتاکیا نہ کرتا کے مصداق اُس نے پورا واقعہ باپ کے سامنے بیان کردیا۔ساری بات غور سے سننے کے بعدوہ بیٹے سے بولا۔’’یہ لڑکی زارا تم سے جھوٹ بولتی رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ کسی بڑے باپ کی بیٹی ہے۔میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ آئندہ تم اُس سے مت ملناورنہ اگلی بارجان سے جائوگے۔‘‘
’’مگرابو! میں اُس سے پیارکرتا ہوں اور اُس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔میں اُس سے ملنا کیسے چھوڑ سکتاہوں؟‘‘ اُس نے احتجاج کیا۔
’’زندگی ایک بارملتی ہے بیٹے! اس کی قدر کرو، کیا پتا وہ بڑے باپ کی بیٹی تجھے اُلو بنارہی ہو؟ مجھ سے وعدہ کرو کہ آئندہ تم اُس سے ملنے کی کوشش نہیں کروگے؟‘‘
’’آپ سمجھتے کیوں نہیں ابو، میں اُس کے بغیر نہیں جی سکتا۔‘‘
’’اور میں۔۔۔۔۔۔میرا کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔ یہ کبھی سوچا ہے تم نے؟‘‘ وہ ایک دم جذباتی ہوگیا۔’’اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا بنے گا؟ کیسے جیوں گا میں۔۔۔۔بولو۔۔۔۔۔جواب دو۔۔۔۔۔۔اب چُپ کیوں ہو؟‘‘
عمادنے سرجھکالیا۔تب باپ نے اُس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔’’یہ دیکھ اوربازآجا۔۔۔۔۔۔۔میں تمہاری جدائی سہہ نہیں پائوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھنے کی کوشش کربیٹے!بعض خواہشیں انسان کی جان لے لیتی ہیں مگرپھربھی تشنہ کام رہتی ہیں۔ایسے خواب دیکھنے کاکیا فائدہ جن کی تعبیرانگارے ہوں؟‘‘
’’ٹھیک ہے ابوجی۔‘‘ وہ غیرمتوقع طورپررضامند ہوگیا۔’’آئندہ آپ کوشکایت کاموقع نہیں ملے گا۔میں زارا سے نہیں ملوں گا۔‘‘
’’جیتے رہوبیٹا۔‘‘ اُس نے خوش ہوکردعادی۔’’تم نے میرامان رکھ لیاہے۔‘‘
عماد کے وعدہ کرنے سے اُس کے سر سے ایک بوجھ اُترگیا تھا اور وہ واقعی بے حد خوش نظر آرہا تھا لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ وعدے تو ہوتے ہی توڑنے کے لیے ہیں۔سو عمادبھی اپنے وعدے پرقائم نہ رہ سکا۔
دوسرے دن جب وہ گھرمیں اکیلاتھا تو اُسے زاراکا فون آگیا۔پہلے تو وہ نظراندازکرتا رہا لیکن جب زارا باربارکال کرنے لگی تو اُسے فون اٹینڈ کرنا ہی پڑا۔
’’میں جانتی ہوں کہ تم مجھ سے سخت ناراض ہو۔‘‘ رابطہ ہوتے ہی زارانے ندامت سے کہا۔’’مگریقین کرو میں نے تم سے جھوٹ کسی مصلحت کے تحت بولاتھا۔ میں تو اُسی روز تمہیں سچ بتانے والی ہی تھی کہ عین موقع پر ڈیڈی کے بھیجے ہوئے آدمی پہنچ گئے۔‘‘
’’آدمی یاغنڈے؟‘‘ اُس نے جل کرپوچھا۔
وہ بولی۔’’تم یہ کہنے میں حق بجانب ہولیکن ڈیڈی ایک بزنس مین ہیں اوربزنس مین غنڈے نہیں پالتے۔‘‘
’’مگراُنھوں نے مجھ سے سلوک تو غنڈوں والاکیاہے۔‘‘ وہ بدستور ناراضی کے عالم میںبول رہاتھا۔’’بہت مارا ہے اُن حرامیوں نے مجھے۔‘‘
’’مجھے بھی ڈیڈی نے بہت زیادہ بے عزت کیا ہے اورتم سے ملنے پرپابندی عائد کردی ہے۔‘‘ اُس نے اپنا دکھڑا بیان کیا۔
’’تونہ ملو‘کون کہتا ہے تم سے ملنے کو۔‘‘ اُس نے جل کرجواب دیا۔
وہ بولی۔’’میں نے یہ تو نہیں کہا کہ میں تم سے نہیں ملوں گی۔ڈیڈی مجھ پر پہرا تو نہیں بٹھا سکتے، میں تم سے ملوں گی اورضرورملوں گی۔‘‘
’’مگرمیں تم سے ملنانہیں چاہتا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ اُس نے طنزاً پوچھا۔’’ذراسی مار کھاکرکیا عشق کا بھوت اُتر گیا ہے؟‘‘
’’یہ بات نہیں ہے۔میں تمہارے باپ کے غنڈوں سے نہیں ڈرتابلکہ اپنے باپ سے کیاہوا وعدہ توڑنا نہیں چاہتا۔‘‘
’’کیسا وعدہ ؟‘‘ اُس نے متحیرہوکرپوچھا۔
’’میرے باپ نے مجھے قسم دی ہے کہ میں آئندہ تم سے نہ ملوں۔‘‘
’’تو کیااب تم مجھ سے نہیں ملوگے؟‘‘
میں باپ سے کیا ہوا وعدہ نہیں توڑسکتا زارا! ہمیں ایک دوسرے کوبھلانا ہوگا۔‘‘
وہ بولی۔’’میں مرتوسکتی ہوں مگرتجھے نہیں بھول سکتی۔یادرکھنااگرتم مجھے ملنے کے لیے نہ آئے تومیں زہر کھالوں گی۔کل دن کے تین بجے میں اُسی پارک میں تمہارا انتظار کروں گی جہاں ہم پہلی بارملے تھے۔ٹھیک تین بجے پہنچ جانادیرہوئی تو تمہیں وہاں میری لاش ملے گی۔‘‘
’’یہ ۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا بکواس کررہی ہو زارا!‘‘ وہ بوکھلاگیا۔’’بات سمجھنے کی کوشش کرو، میں مجبور ہوں تم سے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھے تم۔‘‘ اتنا کہہ کر اُس نے رابطہ منقطع کردیا۔
٭٭٭
عامی اُستاد کے لیے پہلا قتل ہی مشکل تھا۔ اس کے بعدتو اُس نے پیچھے مڑکرہی نہ دیکھابس قتل پر قتل کرتاچلا گیا۔اُس نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی کہ سلیمان پاشاآخرکیوں ایک خاص مکاتبِ فکرکے لوگوں کوہی قتل کرواتا ہے؟ حالانکہ یہ سوال غورطلب تھا۔پاشالسانی اورمسلکی تعصب کو ہوا دے رہاتھا۔ویسے بھی اُن دنوں شہر کے حالات لسانی اورمسلکی لحاظ سے نہایت ہی ابتر تھے۔لوگ مساجدمیں جاتے ہوئے بھی سوبارسوچتے تھے۔عامی کااپنا کوئی مسلک نہیں تھا۔اُسے بس کرنسی نوٹوں سے پیارتھا اور پاشا نے اُسے دیتے ہوئے کبھی بھی بخل کامظاہرہ نہیں کیا تھا۔ چنانچہ عامی اب پاشا کے لیے ایک روبوٹ کی مانند تھا۔پاشا جوحکم دیتا عامی بلاچوں چراں اُس پر عمل کرتا۔عامی کو انسپکٹر کرمانی کی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔وہ بیسیوں قتل کرنے کے بعد بھی آزادی سے گھوم رہاتھا۔
عامی کایہ ٹارگٹ کلنگ والاکام جاری تھاکہ ملک میں نئے جمہوری دورکا آغاز ہوگیا۔گذشتہ حکومت نے چونکہ شہرمیں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تھا اس لیے نئے حکم رانوں نے اقتدار سنبھالنے کے چندماہ بعد ہی شہرمیں آپریشن کرنے کے احکامات صادر کردیے تھے۔جونہی آپریشن شروع ہوا شہرمیں سکیورٹی فورسز اور جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان آئے ن فائرنگ کا تبادلہ ہونے لگا۔لوگ گھروں میں قید ہوکر رہ گئے۔کچھ علاقوں میں گینگ واربھی شروع ہوگئی، جودن میں کئی کئی گھنٹے جاری رہتی تھی۔ اُنہی دنوں عامی کو انسپکٹرکرمانی کی کال موصول ہوئی۔
’’عامی!‘‘ کرمانی نے بغیرکسی لگی لپٹی کے کہا۔’’تم کچھ ماہ کے لیے انڈرگرائونڈ چلے جائویاپھر اپنے گائوں بھاگ جائو، کیونکہ حالات بہت زیادہ خراب ہونے والے ہیں۔‘‘
’’نہیں میں نہیں بھاگوں گا۔‘‘ اُس نے زندگی میں پہلی مرتبہ کرمانی کو انکار کیا۔’’میں اپنی حفاظت کرناجانتا ہوں۔آپ فکرنہ کریں۔‘‘
’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟‘‘ کرمانی کوغصہ آگیا۔’’آپریشن پولیس کی بجائے ایف سی فورس کررہی ہے۔‘‘
’’ایف سی فورس کرے یا آرمی کرے میں نہیں بھاگوں گا۔‘‘
’’مطلب تم کتے کی موت مرنے کاارادہ کرچکے ہو؟‘‘ کرمانی نے طنزیہ اندازمیں پوچھا۔
وہ سارا احترام بالائے طاق رکھتے ہوئے بولا۔’’کرمانی! کتے کی موت میں اکیلانہیں مروں گا،میرے ساتھ تم اور پاشا صاحب بھی ایسی ہی موت مروگے۔‘‘
’’اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔تو اب چیونٹی کے بھی پرنکل آئے ہیں۔‘‘ کرمانی کااندازمذاق اُڑانے والاتھا۔’’تمہیں شایدمعلوم نہیں ہے کہ تم کس کودھمکی دے رہے ہو؟‘‘
’’ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اُس نے قہقہہ لگایا۔’’کرمانی! میں کوئی معمولی چوراچکا نہیں ہوں کہ تمہاری دھونس میں آجائوں گا۔ سنو! میرا اگر بال بھی بیکا ہواتو تم اور پاشا زندہ نہیں بچو گے۔تم دونوں کے
خلاف میرے پاس ایسے ایسے ثبوت موجود ہیں کہ دونوں عمربھر جیل میں چکی پیستے رہوگے۔‘‘
عامی کی یہ دھمکی کارگرثابت ہوئی اورکرمانی کاغصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔’’یار! میں تو تمہیں آزما رہا تھا۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا۔’’تم توخواہ مخواہ سیریس ہوگئے ہو۔‘‘
’’بس اسی طرح میں بھی تمہیں آزما رہاتھا۔چلو حساب برابر ہوگیا۔‘‘ اُس نے جواب دیا۔
’’مگرثبوتوں کی بات کرکے تم نے مجھے ڈرادیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیاسچ مچ تم نے میرے اورپاشا کے خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ڈونٹ وری کرمانی۔‘‘ اُس نے قطع کلامی کی۔’’ہم سب ایک ہی کشتی کے سوارہیں۔ایک ساتھ جئیں گے اورایک ساتھ ہی مریں گے۔ہم میںسے کوئی بھی دوسرے کو دھوکا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ہمارا اتحاد ہی ہمیں بچاسکتاہے۔‘‘
’’ہاں یہ بات تو ہے۔‘‘ کرمانی اُس کی تائید کرتے ہوئے بولا۔’’بہرکیف تم محتاط رہنا سکیورٹی فورسزکاکوئی پتانہیں ہے کسی وقت بھی دھاوا بول سکتی ہیں۔‘‘
’’اگر ایسی کوئی بات ہوئی تومیں فی الفور تمہارے پاس پہنچ جائوں گا۔تم کوئی بھی الزام لگاکرمجھے گرفتار کرلینا۔‘‘
’’گڈ یہ پلان ٹھیک رہے گا۔‘‘ کرمانی نے خوشی کا اظہارکیااورپھرخداحافظ کہتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا۔
دوسرے روز شام ڈھلنے کے بعدسکیورٹی فورس کے ایک دستے نے اُن کے فلیٹ پردھاوا بول دیا۔عامی نے اپنے گینگ کے ساتھ مل کرچند لمحے تو سکیورٹی فورس کا مقابلہ کیا مگرپھرموقع ملتے ہی اپنے ساتھیوں کوچھوڑکروہاں سے نکل گیا۔اُس کے فرارہونے کے فوراً بعدہی اُس کے تمام ساتھی سکیورٹی فورس کے ہاتھوں مارے گئے۔اُن میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہیں بچا تھا۔
٭٭٭
سہ پہرکے وقت انسپکٹرکرمانی آفس کی سیٹ پر بیٹھااونگھ رہاتھا کہ اچانک اُس کا سیل فون بجنے لگا۔اُس نے سستی کے عالم میں ٹیبل سے سیل فون اُٹھایااسکرین پرایک خمارآلود نگاہ ڈالی تو اُسے ایک جھٹکاسا لگا۔دوسرے ہی لمحے اُس کی نینداُڑگئی۔ سیل فون کی اسکرین پرپاشا کانام جھلملا رہاتھا۔اُس نے فوراً کال ریسیو کی۔’’ہیلو سر! انسپکٹر کرمانی بات کررہاہوں۔خیریت تو ہے جناب! اس وقت کیوں زحمت کی؟‘‘
دوسری جانب سے پاشابولا۔’’خیریت ہوتی تو تجھے فون کیوں کرتا؟‘‘
’’حکم کریں جناب۔‘‘ کرمانی نے فرماں برداری کا مظاہرہ کیا۔
پاشانے شہر کے ایک مشہورو معروف پارک کانام لیتے ہوئے کہا۔’’تم چندکانسٹیبل لے کرفوراًوہاں پہنچ جائو، میرا ایک آدمی وہاں موجود ہے جوتمہیں بتائے گا کہ تم نے کیا کرنا ہے؟ اورہاں اُس کی کسی بات سے انکار مت کرنا۔‘‘
’’مگرجناب ! کچھ پتاتوچلے کہ میں نے کرنا کیا ہے؟‘‘
پاشا بولا۔’’ایک نوجوان کوگرفتار کرناہے، مگر خیال رکھنا وہ عامی اُستاد کا ہم شکل ہے کہیں دھوکا نہ کھابیٹھنا۔دونوں کی شکل وصورت میں معمولی سافرق بھی نہیں ہے۔ اُس کے ساتھ ایک لڑکی بھی ہوگی، جسے تم نے ہاتھ بھی نہیں لگانا۔ سمجھ گئے؟‘‘
’’اچھی طرح سمجھ گیا لیکن وہ لڑکی کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’وہ لڑکی میری بیٹی ہے۔‘‘ اُس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی پاشا بول پڑا۔’’وہ ضرور ہنگامہ کرے گی مگرتم لوگوں نے اُس کی بات سننی ہے اورنہ ہی اُسے کچھ کہنا ہے۔یادرکھنا اگرمیری بیٹی کوخراش بھی آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘
’’پاشا صاحب! بے فکررہیں بے بی کی طرف کوئی دیکھے گا بھی نہیں۔آپ کی بیٹی توکرمانی کی بھی بیٹی۔‘‘
’’گڈ۔‘‘ پاشانے خوش ہوکرکہا۔’’مجھے تم سے یہی اُمید تھی اورہاں اُس نوجوان کانام عماد ہے اور اُس کا باپ ظہیراحمد صدیقی ایک سرکاری محکمے میں ہیڈکلرک ہے۔‘‘
’’میں ابھی نکلتا ہوں جناب! ایک گھنٹے کے اندر آپ کو خوش خبری مل جائے گی۔‘‘ اتنا کہہ کروہ سرعت سے اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
پاشا نے کہا۔’’اوکے خداحافظ۔‘‘ اورپھر کال ڈس کنکٹ کردی۔
دس منٹ کے بعد انسپکٹرکرمانی کی جیپ پولیس اسٹیشن سے نکلی اورمطلوبہ مقام کی طرف روانہ ہوگئی۔جیپ میں چار ہٹے کٹے کانسٹیبل بھی بیٹھے ہوئے تھے۔چاروں شکل سے ہی خون خوارنظرآرہے تھے۔وہ پولیس مین کم اورغنڈے زیادہ لگتے تھے البتہ یونی فارم نے اُن کا بھرم رکھا ہوا تھا۔ٹھیک نصف گھنٹے کے بعد جیپ شہر کے ایک مشہورومعروف پارک کے مین گیٹ سے گزرتی ہوئی اندرچلی گئی۔پارک میں بہت سے لوگ گھوم پھر رہے تھے۔کچھ جوڑے سنگی بنچوں پربیٹھے رازونیازمیں مصروف تھے۔انسپکٹرکرمانی نے پارک کے عین وسط میں جیپ روک دی۔جیپ کے رکتے ہی چاروں کانسٹیبل تیزی سے نیچے اُترے اوررائفلوں کو فائرنگ پوزیشن میں پکڑتے ہوئے انسپکٹرکرمانی کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگے۔کرمانی ایک شانِ بے نیازی کے ساتھ جیپ سے نیچے اُترا اور عقابی نگاہوں سے پارک کا جائزہ لینے لگا۔اُسے اُس بندے کی تلاش تھی جس کے بارے میں پاشا نے بتایا تھا۔
’’سرجی!حکم کریں؟‘‘ ایک تیزوطرارکانسٹیبل نے مستعدی کامظاہرہ کیا۔
’’صبرکروصبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی جلدی اچھی نہیں ہوتی۔‘‘ کرمانی نے جواب دیااورپھر ایک نوجوان کی طرف متوجہ ہوگیا، جوتیزی سے اُن کی طرف آرہاتھا۔
’’سرجی! میں آپ ہی کا منتظر تھا۔‘‘ نوجوان نے قریب پہنچتے ہی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔’’آپ کاشکار وہ سامنے والے بنچ پر بیٹھا ہے۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ کرمانی نے اُس سے ہاتھ ملانے کے بعدذومعنی اندازمیں سرہلایا۔’’تو یہ ہے وہ حرام زادہ جوپاشا صاحب کے لیے دردِسر بنا ہوا ہے؟‘‘
’’یہی ہے جناب۔‘‘ نوجوان نے اثبات میں سر ہلایا۔’’اس کے ساتھ جولڑکی بیٹھی ہوئی ہے وہ پاشا صاحب کی اکلوتی بیٹی زارا بی بی ہے۔‘‘
’’تم کسی طرح زارابی بی کو یہاں سے ہٹاسکتے ہو؟‘‘ کرمانی نے کچھ سوچ کر سوال کیا۔
’’بہت مشکل ہے جناب وہ مجھے نہیں پہچانتی۔۔۔۔۔۔۔میری بات کبھی نہیں مانے گی۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ کرمانی نے سرہلایا۔’’اس کامطلب ہے کہ مجھے ہی کچھ سوچنا پڑے گاورنہ یہ تو شور مچائے گی۔اپنے عاشق کو آسانی سے گرفتار نہیں ہونے دے گی۔‘‘
’’جناب! پاشا صاحب نے حکم دیا ہے کہ زارابی بی کو ہاتھ بھی نہیں لگانا۔اگر۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’مجھے پتا ہے۔‘‘ کرمانی نے اُس کی بات کاٹی۔’’چلو اب تم بھاگ جائو۔‘‘
نوجوان سلام کرتے ہوئے اُلٹے قدموں واپس ہوگیا۔
نوجوان کے جانے کے بعد کرمانی نے چندلمحوں کے لیے کچھ سوچااورپھرسپاہیوں سے مخاطب ہوکر بولا۔’’اسے پُرامن طریقے سے گرفتارکرنے کا پلان میں نے سوچ لیا ہے۔تم میں سے کسی نے بھی کوئی مداخلت نہیں کرنی، بس میری تائیدکرنی ہے۔ اب چلو۔‘‘
وہ سب کرمانی کی پیروی کرتے ہوئے اُس بنچ تک پہنچ گئے ، جہاں عماد اور زارا بیٹھے مستقبل کے منصوبے ترتیب دے رہے تھے۔پولیس کو اپنے سرپر دیکھ کر وہ دونوں ایک دم گھبرا گئے۔خاص کرعماد کے چہرے پرتو ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔دوسری طرف اُسے دیکھ کر کرمانی کوبھی حیرت کا ایک جھٹکا لگا تھا۔عمادنامی وہ نوجوان بالکل عامی اُستاد کا ہم شکل تھا۔دونوں کی شکل میں انیس بیس کا فرق بھی نہیں تھا۔اگر پاشا اُسے اس بات سے آگاہ نہ کرچکا ہوتاتو یقینا وہ عماد کو عامی اُستاد ہی سمجھتا۔
’’عماد! تمہارا ہی نام ہے ناں؟‘‘ کرمانی نے خلافِ توقع ملائم لہجے میں سوال کیا۔
’’جج۔۔۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔۔جناب۔۔۔۔۔۔۔میراہی نام ہے۔‘‘ عماد نے گھبراہٹ کے عالم میں جواب دیا۔
’’اور باپ کانام ظہیراحمدصدیقی ہے؟‘‘ کرمانی نے دوسرا سوال کیا۔
’’جی۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں۔‘‘ اُس نے اثبات میں سر ہلایا۔’’مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ یہ سب۔۔۔۔۔۔۔کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘
’’عماد! تمہیں ہمارے ساتھ چلنا پڑے گا۔مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے پاس کوئی اچھی خبرلے کر نہیں آیا۔دراصل تمہارے باپ کا بہت شدید ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور اس وقت وہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہاسپٹل میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
یہ دردناک خبرسن کرعماد کا رنگ یک دم فق ہوگیا۔زارا بھی گھبرا گئی تھی۔تاہم عماد نے انتہائی کرب کے عالم میں پوچھا۔’’انسپکٹرصاحب!ابو کی حالت کیسی ہے؟‘‘
’’یہ بات تو تمہیں ڈاکٹر ہی بتاسکتے ہیں۔اب چلو ہمیں دیرہورہی ہے۔‘‘ کرمانی نے عجلت میں جواب دیا۔
عماد خاموشی سے اُن کے ساتھ چل دیا۔اس دردناک خبر نے اُسے اتنا بھی سوچنے کی مہلت نہیں دی تھی کہ وہ پولیس والوں سے یہ پوچھتا کہ اُنھیں عماد کی یہاں موجودگی کاپتا کس طرح اور کیسے چلا؟بڑی آسانی سے وہ کرمانی کے جال میں پھنس گیا تھا۔
وہ جیپ تک پہنچے ہی تھے کہ زارابھی بھاگ کر وہاں پہنچ گئی اوربولی۔’’میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ چلتی ہوں۔‘‘
’’سوری۔‘‘ کرمانی نے تاسف کے اندازمیں سرہلایا۔’’ہم تمہیں ایک پولیس وین میں نہیں لے جاسکتے۔یہ قانون کے خلاف ہے۔‘‘
’’زارا! تم جائو اللہ بہتر کرے گا۔‘‘ عماد اُس سے زیادہ خود کوتسلی دیتے ہوئے بولا۔’’میں تجھے کال کرکے سب کچھ بتادوں گا۔‘‘زارا کو وہاں چھوڑ کرعماد انسپکٹر کرمانی کے ساتھ چل دیا۔
٭٭٭
کرمانی ورغلاکرعماد کو سیدھا تھانے لے آیا۔اُسے جیپ سے اُتارااور سپاہیوں سے تحکمانہ اندازمیں بولا۔’’اسے اچھی طرح سبق سکھاکرحوالات میں بند کردو۔‘‘
’’مم۔۔۔۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔۔۔جناب!میرا قصور کیا ہے؟‘‘
’’تمہارا قصور یہ ہے کہ تم نے سلیمان پاشا جیسے بڑے آدمی سے دشمنی مول لی ہے۔‘‘ کرمانی نے جواب دیا اور پھر سپاہیوں کواشارہ کرتے ہوئے آفس کی طرف بڑھ گیا۔
چاروں سپاہی آگے بڑھے اور بھوکوں گدوں کی طرح عماد پر ٹوٹ پڑے۔وہ چیختارہا،چِلاتارہا، اُن کی منتیں کرتا رہااورحتی المقدور خود کوبچانے کی کوشش کرتا رہا لیکن حکم کے وہ غلام سنی ان سنی کرتے ہوئے اُس کی پٹائی میں لگے رہے۔وہ انسان تھا کوئی پتھر تو تھا نہیں آخرکارمارکھاتے کھاتے بے ہوش ہوگیا۔تب سپاہیوں نے اُسے اُٹھا کرحوالات میں پھینک دیا۔اس دوران آفس کے اندرانسپکٹر کرمانی فون پرپاشا کو اپنی کامیابی کی خبر سنا رہاتھا۔’’پاشا صاحب!‘‘ وہ خوشامدی اندازمیں بولا۔’’ہم نے اُس کی خوب مرمت کی ہے اور اب حوالات میں پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔حکم کریں جناب! اُس کا کیاکرنا ہے؟‘‘
پاشا بولا۔’’کرمانی! اُسے ایک بار میرے آدمی سمجھا چکے ہیں لیکن وہ اُن لوگوں میں سے نہیں ہے جو اپنا بُرا بھلا سمجھتے ہیں۔ایسے لوگوں کا ایک ہی علاج ہوتا ہے کہ انھیں اللہ میاں کے پاس بھیج دیا جائے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔‘‘
کرمانی نے کہا۔’’پاشا صاحب! یہ کام توآپ عامی اُستاد سے بھی کراسکتے تھے۔ پھرمجھے۔۔۔۔۔‘‘
’’شہرکے حالات دیکھ رہے ہو کرمانی۔‘‘ اُس نے قطع کلامی کی۔’’تمام جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف آپریشن شروع ہوچکا ہے۔عامی جیسے غنڈے کسی بھی وقت ہمارے لیے مصیبت کھڑی کرسکتے ہیں۔تمہیں عمادکے ساتھ ساتھ عامی سے بھی دائمی چھٹکاراحاصل کرنا پڑے گا۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے مگریہ کام ہے بہت مشکل، میں اُوپروالوں کو کیا جواب دوں گا؟‘‘ اُس نے مکارانہ اندازمیں جواب دیا۔
’’تمہارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے اس لیے بہانے مت بنائو اور ہاں تمہارے اکائونٹ میں آج ہی ایک کروڑ روپیا ٹرانسفر ہو جائے گا۔‘‘ پاشا نے اُس کی چال سمجھتے ہوئے پتا پھینکا۔
’’بہت بہت شکریہ پاشا صاحب! میں اس معاملے کو جلدہی نمٹانے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘
’’اوکے میں خوش خبری سننے کامنتظر ہوں۔‘‘ پاشانے جواب دیتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا۔
کرمانی کی نگاہوں کے سامنے ایک کروڑروپے کے کرنسی نوٹ ناچنے لگے۔چنانچہ اُس کاعیار دماغ تیزی سے پلان ترتیب دینے لگامگر اُسے کوئی مناسب حل نہیں سوجھ رہاتھا۔اس دوران مغرب کی اذان ہونے لگی۔وہ آفس سے نکلااور اپنے کوارٹرکی طرف بڑھ گیا۔نماز اُس نے کبھی نہیں پڑھی تھی۔چنانچہ یونی فارم اُتارکراُس نے عام لباس پہنا اور آرام کرنے کی غرض سے بسترپر دراز ہوگیا۔اُس کا دماغ اب بھی عامی اُستاد اورعماد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے منصوبے سوچنے میں اُلجھا ہوا تھا۔عماد سے تو وہ باآسانی نمٹ سکتا مگر عامی اُستادجرم کی دنیا کا بندہ تھا وہ آسانی سے اُس کے ہاتھ لگنے والا نہیں تھا۔ویسے بھی دو دن قبل عامی اُستاد نے اُسے یہ دھمکی دی تھی کہ اُس کے پاس کرمانی کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔کرمانی نہیں جانتا تھا کہ وہ ثبوت عامی اُستاد نے کہاں چھپا کر رکھے ہوئے ہیں؟ان ثبوتوں کی موجودگی میں وہ عامی اُستادپر کسی طرح بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔وہ انھیں سوچوں میں غرق تھا کہ معاً اُس کا سیل فون بج اُٹھا۔اُس نے سیل فون اُٹھا کر دیکھا تو اسکرین پر عامی کا نام جھلملا رہاتھا۔
’’یس۔‘‘ اُس نے کال ریسیو کی۔’’بولو کیابات ہے؟‘‘
’’کرمانی! میرے سب ساتھی اب تک سکیورٹی فورس کے ریڈ میں مارے جاچکے ہوں گے۔میں بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا ہوں۔پلیز یار! مجھے بچالو۔‘‘ اُسے عامی اُستادکی پریشان کن آوازسنائی دی۔
’’تم فوراً میرے پاس پہنچ جائو، کوئی تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا۔‘‘ کرمانی نے ذومعنی اندازمیں جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے میں ابھی پہنچتا ہوں۔‘‘
’’تم نے وہاں اپنے فلیٹ پرکوئی ثبوت وغیرہ تو نہیں چھوڑے ناں؟‘‘ کرمانی نے کچھ سوچ کر پوچھا۔
’’نہیں میں سب کچھ نکال لایاہوں۔‘‘
’’گڈ۔۔۔۔۔۔۔یہ تم نے اچھا کیا۔بس اب فوراً پہنچنے کی کرو۔‘‘
’’اوکے میں آدھے گھنٹے تک پہنچ رہا ہوں۔‘‘ اُس نے جواب دیاتوکرمانی نے رابطہ منقطع کردیا۔
’’اب تم سے نمٹوں گا حرام زادے۔‘‘ کرمانی نے خودکلامی کے اندازمیں کہااورپھر اُٹھ کرکمرے سے باہر نکل گیا۔
٭٭٭
عامی اُستاد ایک کرسی پرمضبوطی کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔جب کہ کرمانی اوردوخون خوار قسم کے کانسٹیبل اُس کے اردگردکھڑے ہوئے تھے۔کرمانی کے ہاتھ میں سروس ریوالور بھی موجودتھا جس کا رخ عامی کی طرف تھا۔
’’شاباش اچھے بچوں کی طرح وہ ثبوت میرے حوالے کردو ورنہ مارے جائو گے۔‘‘ کرمانی نے اُس کی آنکھوں کے سامنے ریوالورلہرایا۔
’’کبھی نہیں۔‘‘ اُس نے بمشکل سرہلایا۔’’جب تک وہ ثبوت میرے پاس ہیں تم مجھے نہیں مارسکتے، البتہ چاہوتو جیل میں ڈال سکتے ہو۔‘‘
’’مارو اسے۔‘‘ کرمانی نے چلاکرکانسٹیبلوں کو حکم دیا۔
کرمانی کاحکم سن کر دونوں کانسٹیبل عامی پر ٹوٹ پڑے۔اُنھوں نے اُس کے چہرے پرگھونسوں اورتھپڑوں کی بارش کردی۔عامی کی ناک اور باچھوں سے لہو رسنے لگا مگروہ ضبط کامظاہرہ ہوئے دانت بھینچے بیٹھا رہا۔جب کہ کرمانی اُس کی چیخیں سننے کا منتظرتھا۔چنانچہ کانسٹیبلوں پر چِلانے لگا۔’’تم حرام خورہو تمہارے ہاتھوں میں جان ہی نہیں ہے ورنہ یہ گلا پھاڑ پھاڑ کرچیخ رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مارو اسے اور مارو میں اس کی چیخیں سننا چاہتا ہوں۔‘‘
عامی کے لبوں پرایک خون آلود مسکراہٹ نمودارہوئی۔’’کرمانی!تم میری چیخیں سننے کے لیے ترستے رہوگے۔جتنامارسکتے ہومارلو مگرمیں نہیں چیخوں گا۔‘‘
’’تمہارا تو باپ بھی چیخے گا۔‘‘ یہ کہہ کرکرمانی خوداُس پر ٹوٹ پڑا۔وہ کس کس کر اُس کے چہرے پر گھونسے ماررہاتھااورایسی ایسی نادرونایاب گالیاں دے رہاتھا جو عامی نے ایک غنڈہ ہوتے ہوئے بھی اس سے قبل نہیں سنی تھیں۔
دس منٹ کے بعد کرمانی کسی کتے کی مانند ہانپ رہاتھا جب کہ عامی پرنیم بے ہوشی کی کیفیت طاری تھی۔پٹتے ہوئے اُس کے منہ سے چند سسکیاں ضروربرآمد ہوئی تھیں لیکن وہ چلایا نہیں تھا۔
’’پانی لائو۔‘‘ کرمانی ایک کرسی پربیٹھتے ہوئے چِلایا۔
ایک کانسٹیبل بھاگ کرپانی سے بھرا ہواجگ لے آیا۔ٹیبل سے گلاس اُٹھاکراُس نے گلاس میں پانی ڈالااورکرمانی کوپیش کرتے ہوئے بولا۔’’لیجیے جناب۔‘‘
کرمانی نے گلاس لیا اور ایک ہی سانس میں چڑھاگیا۔’’اور ڈالو۔‘‘ اُس نے گلاس آگے بڑھایا۔یکے بعد دیگرے تین گلاس حلق میں انڈیلنے کے بعدجب قدرے اُس کی حالت سنبھل گئی تو وہ کرسی سے اُٹھ کرایک بارپھر عامی کے سامنے پہنچ گیا۔عامی بدستور نیم بے ہوشی کے عالم میں پڑا ہواتھا۔
’’پانی ڈالو اس کے چہرے پر۔‘‘ وہ پلٹ کرکانسٹیبل سے مخاطب ہوا۔’’اسے ہوش میں لائو۔۔۔۔۔۔۔۔فوراً۔‘‘
کانسٹیبل نے اُس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عامی کے چہرے پرپانی کے چند چھینٹے مارے تواُس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔کرمانی نے طنزیہ اندازمیں اُس کی طرف دیکھااور نخوت بھرے اندازمیں بولا۔’’انسپکٹرکرمانی سے دشمنی کروگے تو جان سے جائو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارے حق میں یہی بہترہے کہ میری بات مان کراپنی جان بچالو۔‘‘
وہ بولا۔’’کرمانی! میرے ساتھ ایک سودا کرلوفائدے میں رہوگے۔‘‘
’’کیسا سودا؟‘‘ کرمانی نے چونک کر پوچھا۔
’’ان کے سامنے نہیں بتا سکتا۔‘‘ اُس نے کانسٹیبلوں کی طرف دیکھا۔’’یہ سودا تیرے اور میرے بیچ ہوگا۔‘‘
کرمانی نے ہاتھ کے اشارے سے کانسٹیبلوں کوباہربھیج دیا۔’’ہاں اب بولو کیسا سودا؟‘‘ وہ عامی سے مخاطب ہوا۔
’’میرے اکائونٹ میں پانچ کروڑ روپے کی رقم موجود ہے۔میرے ایک سائن سے وہ رقم تمہارے اکائونٹ میں ٹرانسفرہوسکتی ہے اگرتم مجھ سے تعاون کروتو۔‘‘
پانچ کروڑ روپے کاسن کرکرمانی کی آنکھیں چمک اُٹھیں،تاہم وہ کچھ سوچ کربولا۔’’میرے لیے رقم سے زیادہ وہ ثبوت اہم ہیں۔‘‘
عامی نے کہا۔’’وہ ثبوت تم سے زیادہ میرے لیے اہم ہیں۔یوں سمجھوکہ وہ میری زندگی کی گارنٹی ہیں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگرتم مجھ سے وفادار رہے تو وہ ثبوت کبھی بھی منظرعام پرنہیں آئیں گے۔‘‘
’’میں تم پرکیسے اعتبارکرلوں؟‘‘ کرمانی نے سوال کیا۔’’تم کسی بھی وقت اُن ثبوتوں کو بنیاد بناکرمجھے بلیک میل کر سکتے ہو؟‘‘
’’اس کا میرے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ہمیں ایک دوسرے کی زبان پراعتبارکرناپڑے گا۔‘‘
’’اوکے مجھے سوچنے کے لیے وقت چاہیے۔‘‘ کرمانی نے جواب دیا۔
’’کتنا وقت؟‘‘ اُس نے استفسار کیا۔
’’صرف پندرہ بیس منٹ۔‘‘ اُس نے جواب دیااورپھرکانسٹیبلوں کو آواز دے کر دوبارہ اندر بلالیا۔’’میں ابھی چند لمحوں کے اندر واپس آتا ہوں۔تم لوگ اس کا خیال رکھنا۔بہت تیز اورعیار آدمی ہے۔‘‘ کانسٹیبلوں کو ہدایت دیتے ہوئے وہ باہرنکل گیا۔
دوسرے کمرے میں پہنچ کر اُس نے پاشا کا سیل فون نمبر ملایااور رابطہ ہوتے ہی بولا۔’’پاشاصاحب!عماد کے بعدوہ غنڈہ عامی بھی اس وقت میرے نرغے میں ہے مگر میں دونوں کو ایک ساتھ ٹھکانے نہیں لگا سکتا۔اُن میں سے ایک کوجیل بھیجنا پڑے گا۔لیکن۔۔۔۔۔ میں یہ فیصلہ نہیں کرپارہاہوںکہ کس کوٹھکانے لگایا جائے اور کس کوجیل بھیجا جائے؟‘‘
پاشا نے کہا۔’’کرمانی! تم بہت ہی کند ذہن انسان ہو،مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تمہیں کس اُلوکے پٹھے نے پولیس فورس میں بھرتی کرلیا؟‘‘
’’اسی لیے تو جناب آپ سے مشورہ مانگ رہا ہوں۔‘‘ اُس نے بُرامانے بغیرجواب دیا۔
’’بالکل گدھے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔احمق انسان!عماد کو پولیس مقابلے میں ہلاک کردواور عامی کو جیل بھیج دولیکن یہ خیال رہے کہ عماد کوتم نے مارنے کے بعدعامی ظاہر کرنا ہے جب کہ عامی کو عماد بناکرجیل بھیج دو۔باقی سب میں سنبھال لوں گا۔‘‘
وہ بولا۔’’جناب!آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر لیکن عامی کے پاس ہم دونوں کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔وہ جیل سے باہرآکرہمارے لیے مصیبت بن جائے گا۔ ہمیں خوب سوچ سمجھ کر قدم اُٹھاناہوگا۔‘‘
’’تو پھر اُسے ہی ٹھکانے لگا دو، عماد کا میں خود ہی کوئی بندوبست کرلوں گا۔‘‘
’’مسئلہ تو یہی ہے جناب! کہ میں اُسے ٹھکانے بھی نہیں لگاسکتا۔‘‘ کرمانی نے بے بسی کے عالم میں جواب دیا۔
’’یہ کیا بکواس ہے؟‘‘ پاشاجھنجلا گیا۔’’تم اُسے ٹھکانے کیوں نہیں لگاسکتے؟‘‘
’’اُس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اُسے کچھ ہوا توہمارے خلاف ثبوت کسی نامعلوم ذرائع سے میڈیا تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
’’ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ اُس غنڈے کو زندہ رکھنا ہماری مجبوری ہے؟‘‘
’’ہاں۔۔۔۔۔۔جب تک اُس کے پاس ہمارے خلاف ثبوت موجود ہیں ہم اُس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘
’’نہیں کرمانی!‘‘ پاشا بولا۔’’ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل موجود ہوتاہے۔یہ الگ بات ہے کہ وقتی طورپرانسان کو کوئی حل نہیں سوجھتا۔‘‘
’’میرا تو سوچ سوچ کر دماغ مائوف ہوگیاہے۔آپ ہی اس مسئلے کا کوئی مناسب حل نکالیں تاکہ میں چین کی نیند سو سکوں۔‘‘کرمانی نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا۔
پاشا چندلمحوں کے لیے چپ ہوگیا شاید وہ کچھ سوچ رہا تھاجب کہ کرمانی بے چینی سے اُس کے بولنے کامنتظر تھا۔
’’اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کرمانی۔‘‘ذرادیر کے بعدپاشا کی آوازسنائی دی۔’’تم اُسے عماد بناکر جیل بھیج دو، میں کچھ ایسا بندوبست کروں گا کہ وہ زندگی بھرجیل سے باہرنہیں آسکے گا۔جیل میں ہی مرکھپ جائے گا۔‘‘
’’میں۔۔۔۔۔۔۔۔میں سمجھا نہیں پاشاصاحب! آپ کیاکرنا چاہتے ہیں ؟‘‘ اُس نے متحیراندازمیں پوچھا۔
پاشا نے کہا۔’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ جیل میں بنداگر کسی قیدی کی فائل گم ہوجائے تواُس کا کیا بنتا ہے؟‘‘
’’اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویری گڈ پاشا صاحب! میں سمجھ گیا۔‘‘وہ پُرمسرت لہجے میں بولا۔’’اگر ایسا ہوجائے تو عامی کبھی بھی جیل سے باہرنہیں آسکے گا۔‘‘
’’سمجھو ایسا ہوگیا، تم بس اُسے جلد سے جلد جیل بھجوا دو۔باقی سب کچھ میں دیکھ لوں گا۔‘‘ پاشانے پُرتیقن اندازمیں جواب دیتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا۔
٭٭٭
عامی گزشتہ تین ماہ سے جیل میں بند تھامگر اُسے ایک باربھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیاتھا۔یہ تین ماہ اُس نے جیل کی حوالات میں کاٹے تھے۔حوالات میں اُن قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو پولیس کے ریمانڈ پر ہوتے ہیں یاپھر اُن کے کیس عدالتوں میں زیرسماعت ہوتے ہیں۔تین ماہ کے بعد عامی کوبغیرکسی عدالتی کارروائی کے حوالات سے نکال کرجیل کی ایک بارک میں شفٹ کردیا گیا۔اُنھیں دنوں ایک سینئر قیدی سے اُس کی دوستی ہوگئی جو دوہرے قتل کے جرم میں عمرقید کی سزا کاٹ رہاتھا۔قیدی کانام بہاول خان تھا اور وہ سہراب گوٹھ کا رہائشی تھا۔
’’عامی بیٹے! تمہیں کس جرم میں اورکتنی سزا ہوئی ہے؟‘‘ ایک دن بہاول خان نے اُس سے پوچھا۔
وہ بولا۔’’چاچا!جرم تومیں نے بہت بڑے بڑے کیے ہیں مگرسزا کا تاحال کوئی پتا نہیں ہے۔ابھی تک تو مجھے عدالت میں پیش ہی نہیں کیاگیا۔‘‘
’’یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ بہاول خان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔’’ؑعدالت جب تک کسی مجرم کو سزانہیں سنادیتی تب تک اُسے جیل کی حوالات میں ہی رہنا پڑتا ہے۔جب کہ تم یہاں سزایافتہ قیدیوں کی بارک میں رہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔پتا کرو بھئی! یہ کیا چکرہے؟‘‘
’’کیسے اورکس سے پتاکروں چاچا؟‘‘ اُس نے پریشان ہوکرسوال کیا۔
’’جیلر سے بھئی۔۔۔۔۔۔۔۔اور کس سے پتاکرو گے؟‘‘ بہاول خان نے جواب دیا۔
وہ بولا۔’’چاچا!میں پہلی بارجیل آیاہوں۔مجھے یہاں آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا۔ جیلرسے بھلا مجھے کون ملنے دے گا؟‘‘
’’کیوں نہیں ملنے دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ملائوں گا تجھے جیلرسے، جیل کے ریکارڈ روم میں ہرقیدی کی فائل ہوتی ہے، جس میں قیدی کی تصویر، جرم اوردیگرمعلومات ہوتی ہیں۔وہاں تمہاری بھی فائل موجود ہوگی۔‘‘
’’بہت بہت شکریہ چاچا میں آپ کایہ احسان ہمیشہ یاد رکھوں گا۔‘‘
’’کوئی بات نہیں تم میرے بیٹے جیسے ہو۔‘‘ بہاول خان نے اُس کی پیٹھ تھپکتے ہوئے جوا ب دیا۔
وعدے کے مطابق بہاول خان دوسرے دن اُسے جیل سپریٹنڈنٹ کے آفس میں لے گیااور سارا واقعہ جیل سپریٹنڈنٹ کو سنا دیا۔جیل سپریٹنڈنٹ نے سرتاپا عامی کا بغور جائزہ لیااورپھرافسرانہ شان سے سوال کیا۔’’اپناپورا نام اور جرم بتائو؟‘‘
’’عامرشفیق عرف عامی ولدمحمدشفیق، جرم تین سو دو۔‘‘ اُس نے بلاجھجک جواب دیا۔
’’تمہارا دماغ توٹھیک ہے؟‘‘ سپریٹنڈنٹ نے تمسخرانہ اندازمیں پوچھا۔’’عامرشفیق تو ایک مشہور ٹارگٹ کلرتھا۔جو تین ماہ قبل پولیس مقابلے میں انسپکٹر اسلم کرمانی کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوچکا ہے۔‘‘
یہ خبرعامی کے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔لمحہ بھرکے لیے تو اُس کے اعصاب ہی جواب دے گئے تاہم پھر وہ سنبھلتے ہوئے بولا۔’’یہ جھوٹ ہے۔میں زندہ ہوں۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے سامنے موجود ہوں۔‘‘
سپریٹنڈنٹ بولا۔’’مجھے تو تم پاگل لگتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے کہ تم عامرشفیق ہو؟‘‘
’’یہی سوال میں بھی آپ سے کرسکتا ہوں کہ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں عامرشفیق نہیں ہوں؟‘‘
’’ابھی دکھاتا ہوں۔‘‘ اُس نے سرہلایا اور پھر ایک چوبی الماری کی طرف بڑھ گیا۔الماری کے پٹ کھول کراُس نے ایک خانے سے پُرانے اخبارات کا بنڈل نکال کر ٹیبل پر رکھ دیااورپھر اُنھیں ایک ترتیب سے چیک کرنے لگا۔ ذرادیر کے بعد اُس نے تین مختلف اخبارات نکالے اورعامی کے سامنے ٹیبل پرپھینکتے ہوئے بولا۔’’یہ رہے ثبوت، اچھی طرح چیک کرلو۔ان اخبارات میں نہ صرف عامرشفیق کی تصویریں موجود ہیں بلکہ پولیس مقابلے کی تفصیل بھی درج ہے۔‘‘
عامی نے تینوں اخبارباری باری چیک کیے۔ اُن میں عامی کی ہلاکت کے بعدکی خون آلود تصویریں بھی موجود تھیں اورایک کونے میں اُس کی فائل فوٹوبھی لگی ہوئی تھی۔ بلاشک وشبہ وہ اُسی کی تصویریں تھیں۔لیکن اُس کادل یقین کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔کہیں کوئی گڑبڑ تھی جو اُس کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔اتنا تو وہ جانتا تھا کہ اس سازش کے پیچھے انسپکٹرکرمانی اورسلیمان پاشا کا ہاتھ ہے مگریہ اخبارات میں موجود اُس کی تصویریں اور ہلاکت کی خبریں اُس کے حلق سے نہیں اُتر رہی تھیں۔وہ بھلا اُس کی ایسی تصویریں کس طرح بنا سکتے تھے؟یقینا وہ کوئی اور تھا جسے اُس کی جگہ قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا۔شاید اُس کا جرم یہ تھا کہ وہ بچارا عامی کا ہم شکل تھا۔
تینوں اخبار اچھی طرح چیک کرنے کے بعد وہ بولا۔’’سر! میں قسم کھاکرکہتا ہوں کہ میں ہی عامرشفیق ہوں۔یہ شخص جسے انسپکٹرکرمانی نے پولیس مقابلے میں ہلاک کیا ہے یہ کوئی اور ہے۔پلیز میرا یقین کریں۔‘‘
’’نو۔۔۔۔۔۔۔میں نہیں مان سکتا۔‘‘سپریٹنڈنٹ نے نفی میں سرہلایا۔’’عامر شفیق مرچکا ہے۔‘‘
’’اوکے توپھرمیں کون ہوں؟‘‘ اُس نے سوال کیا۔
’’یہ تو تمہیں پتا ہوگا کہ تم کون ہو؟‘‘سپریٹنڈنٹ نے جواب دیا۔
’’میں نے تو بتادیا ہے کہ میں عامر شفیق ہوں۔آپ ہی نہیں مان رہے۔‘‘
’’ماننے والی بات ہوتو مانوناں؟‘‘
’’ٹھیک ہے توپھرجیل کے ریکارڈ روم سے میری فائل منگوائیں، مجھے پتاتوچلنا چاہیے کہ میں کون ہوں کس جرم میں جیل میں ہوں اورمجھے کتنی سزا ہوئی ہے؟‘‘
’’کیا تم واقعی اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتے؟‘‘ اُس نے تحیرآمیزلہجے میں پوچھا۔
عامی بولا۔’’جانتا ہوتا تو آپ سے کیوں پوچھتا؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اُس نے اثبات میں سرہلایا۔’’تم کل پتاکرناتب تک میں ریکارڈروم سے تمہاری فائل منگوا لوں گا لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’لیکن کیا سر؟‘‘ عامی نے بے چینی سے پوچھا۔
’’نام والا مسئلہ ہے۔ہرفائل پر قیدی کا نام وپتا درج ہوتا ہے۔تمہاری فائل ہم کس نام سے ڈھونڈیں گے؟‘‘
’’نام تومیراعامر شفیق ہی ہے سر! اب اگرآپ کویقین نہیں آرہا تو میں کیاکرسکتا ہوں؟‘‘
’’ایک نام کے ہزاروں آدمی ہوتے ہیں جناب! مجھے یقین ہے کہ اس کی فائل مل جائے گی۔‘‘ بہاول خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔’’آپ فائل تلاش کرنے کا حکم تو صادرفرمائیں، سب کچھ سامنے آجائے گا۔‘‘
’’اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی کرکے دیکھ لیتے ہیں۔‘‘ سپریٹنڈنٹ نے سرہلایااور وہ دونوں سلام کرتے ہوئے آفس سے باہرنکل گئے۔
وہ دوسرے دن جیل سپریٹنڈنٹ کے آفس میں پہنچے مگر وہ آفس میں موجودنہیں تھا۔سو ناکام لوٹ آئے۔لگ بھگ ایک ہفتے کے بعد اُنھیں سپریٹنڈنٹ تومل گیا مگر عامی کی فائل باوجود کوشش کے نہ مل سکی۔جیل سپریٹنڈنٹ کے کہنے کے مطابق ریکارڈ روم کے عملے نے سارا ریکارڈروم چھان مارا تھا مگر اُنھیں نہ توکسی فائل میں عامرشفیق کانام ملاتھااور نہ ہی کسی فائل میں اُس کی تصویرملی تھی۔تب عامی نے جیل سپریٹنڈنٹ سے اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی تو وہ معذرت کرتے ہوئے بولا۔’’میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔یہ میرانہیں بلکہ عدالت کا کام ہے۔‘‘
’’توپھر مجھے عدالت میں پیش کیجیے سر۔‘‘ وہ ملتمس ہوا۔’’یہ میری شناخت کا مسئلہ ہے۔‘‘
’’یہ بھی ممکن نہیں ہے۔‘‘ سپریٹنڈنٹ نے انکارمیں سرہلایا۔’’نہ تمہارے نام کاپتا ہے، نہ جرم کا۔ تم خود سوچو میں تمہیں کس طرح عدالت میں پیش کرسکتا ہوں؟‘‘
’’توپھرمجھے رہا کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب میرے متعلق یہاں کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے تو پھرمجھے قید میں رکھنے کا کیاجوازبنتا ہے؟‘‘
وہ بولا۔’’یہ بھی میرے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔میں نہ کسی کو قید میں رکھ سکتاہوں اور نہ سزا ختم ہونے سے قبل رہا کرسکتا ہوں۔‘‘
’’لیکن ہرقیدی کی سزا کاتعین بھی تو ہوتا ہے۔میں یہاں کب تک قید رہوں گا؟‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتا۔اس سلسلے میں تمہارے رشتادارہی کچھ کرسکتے ہیں۔‘‘
’’مگرمیراتو کوئی رشتادارنہیں ہے۔‘‘ اُس نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا۔’’توکیامیں مرتے دم تک جیل میں ہی رہوں گا؟‘‘
وہ بولا۔’’میں صرف وزیرِ جیل خانہ جات کو چٹھی بھیج سکتا ہوں۔اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘
وہ ناکام ونامراد واپس لوٹ آئے کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔
٭٭٭
بہت دنوں تک عامی وزیرجیل خانہ جات کی چٹھی کا منٹظررہا۔مگرچٹھی نے نہ آنا تھا نہ آئی۔اب وہ ہرطرف سے مایوس ہوچکا تھا۔لہٰذا فرار کے منصوبوں پر غور کرتا رہتا تھا۔اس دوران ایک سال کا عرصہ بیت گیالیکن وہ بے شناخت ہی رہا۔بارک کے قیدی اُسے عامی کے نام سے ہی جانتے تھے مگر خود وہ مشکوک ہو چکا تھا۔اُسے لگتاتھا جیسے وہ عامی نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہے۔ کوئی ایسا شخص جس کی یاداشت گم ہو چکی ہے۔وہ افسردہ اور بے زار سا رہنے لگاتھا۔بہاول خان خلوص دل کے ساتھ اُس کی دلجوئی میں لگا رہا اورپھر ایک دن بہاول خان کے اصرارپر اُس نے اُسے اپنی آپ بیتی من وعن سنا دی۔کوئی ایک واقعہ بھی اُس نے پوشیدہ نہیں رکھا تھا۔
اُس کی آپ بیتی سننے کے بعد بہاول خان بولا۔’’مجھے لگتا ہے تمہارے خلاف بہت بڑی سازش کی گئی ہے اوراس سازش میں انسپکٹرکرمانی اورسلیمان پاشاہی ملوث ہیں۔تمہیں باقاعدہ پلاننگ کے تحت اس جال میں پھنسایا گیا ہے۔‘‘
وہ بولا۔’’یہ تومیں جانتا ہوں چاچا لیکن مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ انھوں نے اتنی بڑی سازش رچائی کس طرح؟‘‘
’’تم سے ملتاجلتا کوئی قربانی کا بکرا اُنھوں نے ڈھونڈلیا ہوگا۔‘‘ بہاول خان نے جواب دیا۔
’’نہیں چاچا!‘‘ اُس نے نفی میں سرہلایا۔’’چکر کوئی اور ہے اخبارات میں جو تصویریں چھپی ہیں وہ سو فی صد میری ہی ہیں۔‘‘
’’ہوسکتا ہے وہ تمہاری ہی تصویریں ہوں۔پیسے کے دم پر اس ملک میں کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔خریدار کم ہیں جب کہ بکنے والے دکانیں سجائے بیٹھے ہیں۔پیسے کی خاطر ایماں تک بیچ دیتے ہیں لوگ۔‘‘
’’چاچا! مجھے لگتا ہے میں جیل سے زندگی بھرنہیں نکل پائوں گا۔دشمنوں نے بہت مضبوط جال بُنا ہے میرے گرد۔‘‘ اُس نے انتہائی مایوسی کے عالم میں کہا۔’’مرنے کے بعد یقینا مجھے لاوارث سمجھ کردفنا دیا جائے گا۔‘‘
’’میں تجھے ایک مشورہ دیتا ہوں، کیامانوگے؟ بہاول خان نے پوچھا۔
’’ضرور مانوں گا چاچا! آپ حکم کریں؟‘‘
’’عامی! تم پانچ وقت کی نماز پڑھا کرو اور ہر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگا کرو۔وہ بڑاغفورالرحیم ہے۔مجھے یقین ہے کہ تمہاری رہائی کا کوئی نہ کوئی راستا نکل آئے گا۔اُس کے ہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔وہ سب کی سنتا ہے چاہے کوئی نیک ہو یا گناہ گار، بس شرط یہ ہے کہ اُسے دل سے پکارے تب وہ ہرپکارنے والے کی پکارکا جواب دیتا ہے۔‘‘
’’ہاں چاچا۔‘‘ اُس نے اثبات میں سرہلایا۔’’اب تو بس اُسی کا آسرا ہے ورنہ تو ہرطرف تاریکی ہی تاریکی ہے۔‘‘
’’وہ بڑا کارساز ہے تاریکیوں کو اُجالوں میں بدل دیتا ہے۔تم اُسے پکارکرتودیکھو۔‘‘
بہاول خان کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اُس نے خودکو یکسر بدل ڈالا اور اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی۔نماز اورذکر میں اُسے وہ سکون ملاکہ اُس نے قید کے دن شمار کرناہی چھوڑ دیا۔اس دوران مزید چھ ماہ بیت گئے مگروہ خوش وخرم تھا۔اُسے اب اس لامتناہی قید کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
اُس کی روٹین تھی کہ وہ عشاء کی نمازپڑھتے ہی سوجایا کرتاتھا گوکہ اُس کے ساتھی قیدی شورمچائے رکھتے تھے لیکن وہ ذکرکرتے کرتے بڑے سکون کے ساتھ نیندکی آغوش میں چلاجاتاتھا۔ اُس رات بھی وہ حسبِ معمول عشاء کی نمازادا کرنے کے بعدفرشی بسترپر دراززیرِلب ذکرکرتے ہوئے ہوئے سونے کی کوشش کررہا تھا۔جب کہ دیگرقیدی شوروغل میں مصروف تھے۔کوئی اپنی بے سُری آوازمیں فحش گاناگارہاتھا تو کوئی چرس بھرے سگریٹ کے کش لے رہاتھا۔اُس کابستر بہاول خان کے ساتھ ہی لگا ہوا تھاتاہم بہاول خان دیر سے سونے کا عادی تھا۔عامی کی ابھی پوری طرح آنکھ نہیں لگی تھی کہ جیل میں جیسے زلزلہ سا آگیا۔چاروں طرف کھلبلی مچ گئی۔جیل کا عملہ حواس باختگی کے عالم میں اِدھرسے اُدھر دوڑتا پھر رہاتھا۔سائرن کی آوازبھی گونج رہی تھی۔بارک کے اس ہال نما کمرے میں جتنے بھی قیدی تھے وہ دوڑ کر بنددروازوں پرجا کھڑے ہوئے۔سب قیدی ناجرا جاننے کے لیے بے چین تھے۔
عامی بھی اپنے بستر سے اُٹھا اور قیدیوں کے ساتھ اُلجھتا ٹکراتا دروازے تک پہنچ گیا۔اسی دوران بارک کے کمروں کے دروازے کھلنے لگے اورقیدی بارک کے دالان میں اکٹھے ہونے لگے۔چند لمحوں کے اندر ہی اُن کے کمرے کا دروازہ بھی کھل گیا۔وہ بھاگتے ہوئے کمرے سے نکلے تو تب اُنھیں ایک بارک میں آگ کے شعلے اُٹھتے ہوئے دکھائی دیے۔یہ بارک اُن کی بارک سے کافی فاصلے پر واقع تھی۔جونہی تمام قیدی دالان میں اکٹھے ہوئے تو اُنھیں ایک انسپکٹرنے جیل سپریٹنڈنٹ کاحکم سنایا۔’’تمام قیدی بالٹیاں ، کنستریا جوبھی برتن اُنھیں میسر ہے۔فوراً اُٹھائیں اور پانی لے کرآگ بجھانے کی کوشش کریں۔یاد رکھنا اگر کسی قیدی نے اس موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرارہونے کی کوشش کی تو اُسے گولی ماردی جائے گی۔ جیل کو چاروں طرف سے مسلح فورس نے گھیررکھا ہے۔فائربریگیڈ کی گاڑیاں بھی ابھی پہنچ جائیں گی۔‘‘
سب قیدی حکم کی تعمیل میں دوبارہ بھاگتے ہوئے اپنے اپنے کمرے میں گھس گئے اور بالٹیاں اورخالی کنسترلے کرپانی لینے کے لیے واٹرٹینکی کی طرف دوڑپڑے جہاں ایک بڑے سائز کا تالاب بناہواتھا۔یہ تالاب قیدیوں کے نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے بنا یاگیاتھا۔عامی نے بھی ایک بالٹی اُٹھائی اورکمرے سے نکلنے ہی لگا تھا کہ معاًکسی نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔اُس نے پلٹ کردیکھاتووہ چاچا بہاول خان تھا، جس کے چہرے پرمعنی خیزمسکراہٹ طاری تھی۔
’’کیا بات ہے چاچا؟‘‘ اُس نے قدرے تحیرسے پوچھا۔’’کیابالٹی چاہیے؟‘‘
’’احمق انسان!بالٹی پھینک دو اور ادھر آئو، ایسا نادرموقعہ تمہیں دوبارہ نہیں ملے گا۔‘‘ بہاول خان نے پُرجوش لہجے میں جواب دیا۔
’’کک۔۔۔۔۔۔۔کیسا موقعہ چاچا؟‘‘ اُس نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ سوال کیا۔
’’یہاں سے نکلنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔اور ابھی زیادہ سوال جواب مت کرو، جو میں کہتا ہوں وہ کرو۔ تمہارے پاس ٹائم بہت کم ہے۔‘‘
عامی نے بالٹی پھینک دی بہاول خان کے ساتھ چل پڑا۔بہاول خان سیدھا اپنے لاکر کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔ جیل میں ہرقیدی کے پاس دیوار میں پیوستہ ایک الماری نما فولادی لاکرہوتا ہے جس میں قیدی اپناذاتی سامان اور نقدی وغیرہ رکھتا ہے۔بہاول خان نے لاکرکھولا اندرسے ایک شاپنگ بیگ نکالا اور عامی کے حوالے کرتے بولا۔ ’’اس میں پولیس کی وردی موجودہے۔باتھ روم میں جاکراسے پہن لو۔۔۔۔۔۔۔۔شاباش دیر مت کرو،رات کے وقت اس افراتفری کے عالم میں کوئی بھی تجھے نہیں پہچان سکے گا۔مجھے یقین ہے کہ جب فائربریگیڈ کی گاڑیاں اندر آئیں گی تو اُس وقت تمہیں باہر نکلنے کا موقع مل جائے گا۔‘‘
عامی کادل بے اختیاردھڑک اُٹھا۔اُس نے تیزی سے بہاول خان کے ہاتھ سے شاپنگ بیگ جھپٹا اور دوڑتا ہواباتھ روم میں گھس گیا۔پانچ منٹ کے اندر ہی جب وہ باتھ روم سے نکلاتوایک ہینڈسم پولیس مین نظر آرہا تھا۔بہاول خان نے اُس پر ایک ستائشی نظرڈالی اوربولا۔’’بہت خوب تم واقعی ایک سپاہی نظرآرہے ہو۔‘‘
’’ہاں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘‘ اُس نے ہنس کر جواب دیا۔
’’تم بس پُراعتماد رہنے کی کوشش کرنا کوئی تم پر شک نہیں کر سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو اب نکلو اورجیل کے صدردروازے کی طرف بڑھنا شروع کردو۔‘‘
وہ آگے بڑھ کربہاول خان سے لپٹ گیا۔’’مجھے معلوم ہے چاچا!یہ وردی آپ نے اپنے فرار ہونے کے لیے رکھی ہوئی تھی۔‘‘ وہ ممنون اندازمیں بولا۔’’میں آپ کا یہ احسان زندگی بھریادرکھوں گا۔‘‘
’’تم وقت ضائع کررہے ہوبیٹے!شاباش جلدی کرو۔‘‘ وہ اُس کی پشت تھپکتے ہوئے الگ ہوگیا۔
’’میرے لیے دعاکرنا چاچا۔‘‘ وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولااورپھرباہر نکل گیا۔
ایسے ہی وقت فائربریگیڈ کی گاڑیوں کے سائرن سنائی دینے لگے اورعامی اندھادھندجیل کے صدر دروازے کی طرف دوڑپڑا۔
٭٭٭
ظہیرصدیقی کونوجوان بیٹے کی موت نے وقت سے پہلے ہی بوڑھا کردیا تھا۔کچھ عرصہ تو اُس نے پولیس کے ساتھ عماد کی موت کے سلسلے میں قانونی جنگ لڑی تھی مگر عدالت کے سامنے اُس کے وکیل کے کم زوردلائل نہیں چل سکے تھے۔عماد کی شکل چونکہ سو فی صد عامی ٹارگٹ کلر سے ملتی تھی،اس لیے عدالت کے پاس کسی شک وشبے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔چنانچہ چند پیشیوں کے بعدوہ کیس ہار گیاتھا۔عدالت کے فیصلے کے مطابق پولیس مقابلے میں ماراجانے والاشخص عمادنہیںبلکہ مشہورٹارگٹ کلرعامرشفیق عرف عامی تھا۔جب کہ عمادکو عدالت نے گم شدہ قراردے دیاتھا۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کوشش کرنے کے باجود وہ عماد کو بھلا نہیں پایاتھا۔ اُسے یہ بھی معلوم تھا کہ عماد کی موت کے پیچھے سلیمان پاشا کا ہاتھ ہے لیکن وہ سلیمان پاشا کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا تھا۔وہ ایک کم زوراورعام سا شخص تھاجب کہ پاشا کراچی جیسے انڈسٹریل شہرمیں کئی فیکٹریوں کا بلاشراکتِ غیرے مالک تھا۔ اُس کی پہنچ اسلام آباد کے ایوانوں تک تھی۔چندوفاقی منسٹرزسے تو اُس کے گہرے تعلقات تھے کہ اُنھیں اقتدارکے ایوانوں تک پہنچانے میں اُس کی دولت کارفرماتھی۔سو ایسے طاقت ور شخص سے پنگا لینا ظہیرصدیقی کے بس کا روگ نہیں تھا۔چنانچہ اُس نے سب کچھ اللہ تعالیٰ پر چھوڑدیا تھا کہ اُس سے بڑامنصف کوئی نہیں تھا۔
اُس رات عشاء کی نمازاداکرنے کے بعدہی وہ سوگیاتھا۔چونکہ عماد کی موت کے بعد اُسے بے خوابی کی شکایت رہنے لگی تھی،اس لیے وہ خواب آورگولیاں استعمال کرتا رہتا تھا۔بغیرگولی لیے اُسے کبھی نیند نہیں آتی تھی۔رات کا نجانے کون سا پہرتھا کہ اچانک ہی اُس کی آنکھ کھل گئی۔کمرے میں نائٹ بلب کی مدہم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔چند لمحے تو وہ بے حس وحرکت بسترپرپڑاآنکھ کھلنے کے سبب پرغورکرتا رہا،پھرنظرکاچشمہ لگاتے ہوئے وہ اُٹھا اورٹیوب لائٹ آن کرنے کے بعدکمرے کا جائزہ لینے لگا۔ایسے ہی وقت اُسے کچن میں کسی برتن کے گرنے کی آواز سنائی دی۔وہ فوراً محتاط ہوگیا۔کچن کا دروازہ وہ ہمیشہ بندکرکے سوتا تھا۔برتن گرنے کا مطلب تھا کہ کچن میں کوئی موجود ہے۔عمادکی موت کے بعد اُسے ویسے ہی زندہ رہنے میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی تھی۔لہٰذا اُس نے موت سے ڈرناچھوڑدیاتھا۔اگر خودکشی حرام نہ ہوتی تو شاید وہ اب تک موت کو گلے لگا چکا ہوتا۔اُس نے ٹیبل کی دراز سے لوڈ ریوالور نکالا اور محتاط قدموں سے کچن کی طرف بڑھنے لگا۔کچن کی لایٹ جلتی دیکھ کراُس کایہ شبہ یقین میں بدل گیاکہ کچن میں کوئی موجود ہے۔
وہ بلی کی طرح دبے قدموں چلتا ہوا کچن میں داخل ہوگیا۔اندرایک شخص پولیس یونی فارم پہنے موجودتھا،اُس کی پشت دروازے کی طرف تھی اور وہ گیس کے چولھے پرکوئی چیز گرم کرنے میں مصروف تھا۔اُسے ظہیرصدیقی کی آمدکی خبر ہی نہیں ہوسکی تھی۔
’’کون ہوتم اور یہاں کیاکررہے ہو؟‘‘ ظہیرصدیقی نے ریوالور تانتے ہوئے درشت اندازمیں پوچھا۔
اجنبی اُس کی آوازسن کربوکھلا کرپلٹااور اُس کے ہاتھ میں ریوالوردیکھ کردونوں ہاتھ سر سے بلندکرلیے۔ظہیرصدیقی کی نظرجونہی اُس کے چہرے پر پڑی تواُسے ایک جھٹکا سا لگا۔اُس کے سامنے عماد پولیس کی وردی میں ملبوس کھڑا ہوا تھا،مگراُس کی آنکھوں میں شناسائی کی جگہ خوف تھا۔وہ اگر عماد ہوتاتواُسے دیکھ کریوں خوف زدہ کیوں ہوتا؟ ابو کہہ کر اب تک اُس سے لپٹ چکا ہوتا۔چند لمحے تو ظہیرصدیقی کسی ٹرانس کے زیر اثر اُسے دیکھتا رہا لیکن جلد ہی وہ حقائق کی تہہ تک پہنچ گیا۔اُس کے سامنے کھڑا یہ شخص سوفی صد وہی ٹارگٹ کلرتھا۔جسے کے حصے کی موت اُس کے بے گناہ بیٹے کا مقدربن گئی تھی۔
’’تم عامرشفیق عرف عامی ہی ہوناں؟‘‘ اس بارظہیرصدیقی نے سرد لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔عامی ہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔مگر آپ مجھے کیسے جانتے ہیں ؟‘‘ اُس نے حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں جواب دیا۔
’’بہت لمبی کہانی ہے۔‘‘ وہ ذومعنی اندازمیں بولا۔’’جب کہ تم بھوکے ہو پہلے کچھ کھا لو، پھرتجھے پوری کہانی سنائوں گا۔‘‘
’’سوری۔‘‘ اُس نے معذرت خواہانہ اندازمیں کہا۔’’میں انتہائی مجبوری کے عالم میں آپ کے گھرمیں داخل ہوا ہوں، دراصل۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میں نے کہاناں! کہ تم بھوکے ہو،پہلے کھانا کھالو۔اس کے بعد میں تمہاری کہانی بھی ضرور سنوں گا۔اتنی جلدی بھی کیاہے؟‘‘ ظہیرصدیقی نے طنزیہ اندازمیں اُس کی بات کاٹتے ہوئے جواب دیا۔
وہ شکریہ کہہ کردوبارہ چولھے کی طرف متوجہ ہوگیا ،جس پررکھا ہوا کھانا گرم ہوچکا تھا۔اُس نے کھانا نکالا اورپھروہیں ایک چوبی اسٹول پر بیٹھ کرکھانے لگا۔اس دوران ظہیرصدیقی اُسے بغور دیکھتا رہا۔ریوالور بدستور اُس کے ہاتھ میں تھا جس کا رخ عامی کی طرف تھا۔اُس کی کسی بھی غلط حرکت پروہ گولی چلانے کے لیے تیار تھا۔ذرادیر بعد جب وہ کھانے سے فارغ ہوگیاتو ظہیرصدیقی سے بولا۔’’آپ کو مجھ سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے آپ پلیز یہ ریوالور ہٹالیں۔‘‘
’’خطرہ مجھے نہیں تجھے ہے۔‘‘ ظہیرصدیقی نے اُسے گھورا۔’’تمہیں اس گھرمیں تمہاری شامتِ اعمال لے کرآئی ہے۔‘‘
’’مم۔۔۔۔۔۔۔میں سمجھانہیں۔۔۔۔۔۔۔آپ کہنا کیاچاہتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔دیکھیے! میں کوئی چور یا ڈاکو نہیں ہوں۔بلکہ میں تو کسی پناہ گاہ کی تلاش میں مارامارا پھر رہاہوں۔‘‘
ظفرصدیقی بولا۔’’جوشخص تمہارا نام جانتا ہے کیاوہ تمہارے ماضی سے آگاہ نہیں ہو گا؟‘‘
’’مگرمیں تواپنے ماضی کو کب کا دفن کرچکا ہوں۔اب تومیں ایک بے شناخت سا شخص ہوں جس کانہ کوئی نام ہے اورنہ ہی پہچان۔‘‘
’’اُٹھو۔‘‘ وہ اچانک گرجا اورپھر اُسے نشانے پر رکھتے ہوئے بولا۔’’میں تجھے ماروں گا اورضرور ماروں گا لیکن اس سے پہلے تجھے تیرا گناہ ضرور بتائوں گا۔‘‘
عامی چاروناچار اُٹھ کر کھڑاہوگیا۔تب وہ اُسے نشانے پر رکھتے ہوئے تحکمانہ اندازمیں بولا۔’’چلو میں تجھے تیرا گناہ بتاتا ہوں اور وہ بھی تمام ثبوتوں سمیت جنھیں تم چاہتے ہوئے بھی نہیں جھٹلا سکوگے۔‘‘
وہ اُسے نشانے پر رکھتے ہوئے اپنی خواب گاہ میں لے آیااورپھراُسے ایک کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا۔’’خبردار! اگر کوئی بھی غلط حرکت کی توکھوپڑی میں سوراخ کردوں گا۔چپ چاپ بیٹھے رہنا، ہلنے کی کوشش بھی مت کرنا۔‘‘
’’انکل! شاید آپ کوکوئی غلط فہمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’خاموش ہوجائو جلاد کہیں کے۔‘‘ صدیقی گلاپھاڑکرچلایاتو اُس کی بات ادھوری رہ گئی۔’’اپنی گندی زبان سے مجھے انکل مت کہو، میں تمہاری موت ہوں۔ سمجھے تم۔‘‘
عامی کوپہلی بارخطرے کا احساس ہوامگرایک مسلح شخص کے سامنے وہ کوئی بھی غلط حرکت کرنے سے قاصر تھا۔سو دم سادھ کر بیٹھارہا۔صدیقی نے آگے بڑھ کر دیوار سے ایک فریم شدہ تصویر اُتاری اور اُسے تھماتے ہوئے بولا۔’’اسے جانتے ہو؟
عامی نے ایک نظر تصویرپرڈالی اورمتحیر ہوکر کہا۔’’یہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔میری تصویر ہے آپ کے پاس کیسے پہنچی؟‘‘
’’یہ تمہاری تصویر نہیں ہے۔‘‘ وہ غرایا۔’’میرے اکلوتے بیٹے عمادصدیقی کی ہے جسے انسپکٹر اسلم کرمانی نے تمہارے شبے میں مارڈالا۔شایداُس نے ایسا تمہیں بچانے کی خاطر کیا تھا۔مگرآج تمہیں میرے ہاتھ سے کوئی بھی نہیں بچاسکے گا۔‘‘
وہ بولا۔’’انکل! میں مانتا ہوں کہ عماد کو میرا ہم شکل ہونے کی وجہ سے جھوٹے پولیس مقابلے میں ماردیا گیا ہے۔لیکن خداگواہ ہے کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ کیا آپ مجھے اپنی صفائی پیش کرنے ایک موقع نہیں دیں گے؟ اگرآپ کو میری کہانی جھوٹی لگے تو بے شک مجھے گولی ماردینا۔میں آپ سے رحم کی کوئی بھیک نہیں مانگوں گا۔‘‘
وہ چند لمحوں کے لیے کش مکش کاشکارہوگیا۔جیسے دل ہی دل میں کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کررہا ہو۔عامی اُمیدبھری نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا۔کمرے میں پل بھر کے لیے اعصاب شکن خاموشی چھاگئی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ بالآخر ظفر صدیقی خاموشی توڑتے ہو ئے بولا۔’’میں تجھے صفائی کا موقع دینے کے لیے تیارہوں۔بولو کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
وہ بولا۔’’یہ کھیل انسپکٹر کرمانی نے سلیمان پاشا کے ساتھ مل کر کھیلا ہے۔وہ دونوں آپ کے اورمیرے مشترکہ دشمن ہیں۔اُنہوں نے مجھے جال میں پھنساکرآپ کے بیٹے کومارڈالا۔‘‘ اتناکہہ کر اُس نے اپنی زندگی کی ساری روداد بغیرکسی قطع وبرید کے صدیقی کے سامنے بیان کردی۔
صدیقی نے کہاَ’’میں کیسے یقین کرلوں کہ تم نے سچ کہا ہے۔ تمہاری یہ داستان من گھڑت بھی تو ہوسکتی ہے؟‘‘
’’اگرکوئی تیسراشخص میری اس کہانی کی تصدیق کردے توکیا پھرآپ یقین کرلیں گے؟‘‘
’’تیسرا کون؟‘‘ اُس نے سوال کیا۔
’’انسپکٹرکرمانی۔‘‘
’’وہ بھلا تمہارے حق میں گواہی کیوں دے گا؟‘‘ اُس نے طنزیہ اندازمیں پوچھا۔
وہ بولا۔’’یہ آپ مجھ پرچھوڑ دیں کہ میں اُس سے کس طرح گواہی دلواتا ہوں؟‘‘
’’شاید تم فرار ہونے کے لیے یہ چکر چلا رہے ہو؟‘‘ اُس نے خدشہ ظاہرکیا۔
’’نہیں۔‘‘ عامی نے انکارمیں سرہلایا۔’’میں آپ سے چاہوں بھی تو دھوکانہیں کرسکتا۔‘‘
’’وہ بھلا کس طرح؟‘‘ اُس نے چونک کرپوچھا۔
’’مجھے شناخت چاہیے،جوصرف آپ ہی مجھے دے سکتے ہیں۔‘‘
’’کیامطلب۔۔۔۔۔۔۔۔میں سمجھا نہیں؟‘‘ اُس نے حیرت کا اظہارکیا۔
وہ بولا۔’’سیدھی سی بات ہے عامرشفیق عرف عامی مرچکا ہے جب کہ عمادصدیقی زندہ ہے۔مجھے عمادصدیقی کی شناخت چاہیے۔اگرآپ چاہیں تومجھے یہ شناخت باآسانی دے سکتے ہیں۔میں اُس گناہ کی تلافی کرنا چاہتا ہوں جومیں نے کیاہی نہیں ہے۔‘‘
’’میں اپنے بیٹے کے قاتل کواپنا بیٹاکس طرح بناسکتا ہوں؟‘‘ اُس نے نفی میں سرہلایا۔ ’’یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘
’’میں پہلے خودکو بے گناہ ثابت کروں گا۔تب آپ مجھے شناخت دینا۔اگرمیں خودکوبے گناہ ثابت نہ کرسکا توتب آپ مجازہوں گے کہ مجھے گولی ماردیں۔‘‘
وہ ایک بارپھرکش مکش کاشکارہوگیا۔اُس کی صورت دیکھ کردل مچلنے لگاتھا کہ اُسے عماد کانعم البدل تسلیم کرلیا جائے جب کہ دماغ دل کی مخالفت کرتے ہوئے سمجھا رہا تھا کہ یہ شخص تمہارے بیٹے کاہی نہیں اوربھی بہت سے معصوم اوربے گناہوں کاقاتل ہے،اسے بیٹابنانے کی بجائے گولی مارکراپنادل ٹھنڈاکرلو۔‘‘
اُسے سوچوں میں ڈوبادیکھ کرعامی بولا۔’’اگرآپ کومیری نیت پرشک ہے توپھرسوچنا کیا؟ چلائو گولی میرا سینہ حاضرہے۔‘‘ اتناکہہ کروہ اُس کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوگیا۔’’مارڈالو مجھے آپ پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔پولیس ریکارڈ میںتومجھے پہلے ہی مردہ قرار دیا جا چکا ہے۔‘‘
وہ ریوالور پھینک کربیڈپربیٹھ گیا۔‘‘ جائو تم آزادہو، مجھے تم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔‘‘ پھرایک دم اُس کی آنکھیں چھلکنے لگیں۔
عامی چندلمحے اُسے دیکھتا رہا،پھرجھجکتے ہوئے آگے بڑھااوراُس کے کندھے پرہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔’’انکل! خداگواہ ہے کہ عماد کے قتل میں میراکوئی ہاتھ نہیں ہے۔ تاہم یہ بات میں مانتا ہوں کہ اُسے میرا ہم شکل ہونے کی سزاملی ہے۔ لیکن آپ خود سوچیں کہ اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘
’’میں جانتا ہوں۔‘‘ وہ پہلی بارنرم اندازمیں بولا۔’’اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔عماداگر میری بات مان لیتا تو شاید ایسے انجام سے دوچار نہ ہوتا۔اُسے وعدہ خلافی کی سزا ملی ہے، باپ کی نصیحت نہ ماننے کی سزا ملی ہے۔میں نے اُسے بہت سمجھایا تھا کہ اُس لڑکی سے نہ ملے مگراُس نے میری ایک بھی نہ مانی۔خود تو مرگیالیکن مجھے مرمرکر جینے کے لیے چھوڑ گیا۔‘‘
’’یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔لڑکی کا کیا چکر ہے، کیاعماد کسی کو چاہتا تھا؟‘‘ عامی نے سوال کیا۔
’’ہاں۔‘‘ اُس نے اثبات میں سرہلایااورپھرجوکچھ بھی اُسے معلوم تھا اُس نے عامی کو بتا دیا۔
’’تولڑکی کانام زارا احمدہے اور وہ کسی امیرکبیر شخص کی بیٹی ہے۔آپ کے کہنے کے مطابق وہ امیرشخص سلیمان پاشا ہوسکتا ہے؟‘‘
’’سو فی صد وہی ہے۔‘‘ اُس نے پُراعتماد لہجے میں جواب دیا۔
عامی لمحہ بھرکے لیے سوچوں میں ڈوب گیا۔جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہاہو،پھرایک دم چونک کربولا۔’’آپ کا اندازہ بالکل درست ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی بار مجھے دیکھ کر وہ چونک اُٹھا تھا۔یقینا اُس نے پہلی نگاہ میں مجھے عماد سمجھا ہوگا۔‘‘
’’ہوسکتاہے۔۔۔۔۔۔۔میں بھی تو پہلی نگاہ میں تجھے عمادہی سمجھا تھا۔‘‘
’’آپ چاہیں تواب بھی مجھے عماد سمجھ سکتے ہیں۔بے شک میں عماد کی طرح پڑھا لکھا نہیں ہوں مگرآپ کی نافرمانی کبھی نہیں کروں گا۔‘‘
’’میں تمہارے اس جذبے کی قدر کرتا ہوں لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔‘‘
’’دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے انکل۔‘‘ وہ پہلی بارمسکرایااوراُس سے بغل گیرہوگیا۔
٭٭٭
انسپکٹر اسلم کرمانی سہ پہر تین بجے کے بعد اپنی ذاتی گاڑی میں پولیس اسٹیشن سے باہرنکلا اورگھر کی طرف روانہ ہوگیا۔اُس وقت وہ یونی فارم کی بجائے عام ڈریس میں تھا۔ اُس کاگھرشہرکی ایک نئی اورمشہورو معروف کالونی میں واقع تھا۔وہاں زیادہ تر امیرلوگوں کے بنگلے تھے۔وہ مختلف شاہراہوں اور چوراہوں سے گزرتا ہوا ایک مشہور چوراہے تک پہنچ گیا۔اکثر اُس چوراہے پر ٹریفک کا بہت زیادہ رش رہاکرتا تھا۔وہاں ہارن اورگاڑیوں کے شورمیں کان پڑی آوازبھی سنائی نہیں دیتی تھی۔وہ چوراہا کراس کرنے ہی لگا کہ اچانک سگنل کی بتی سرخ ہوگئی۔وہ بریک لگاکربتی کے سبز ہونے کا انتظارکرنے لگا۔چند لمحوں کے بعد جونہی سبزبتی جلی اُس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ٹریفک کے اژدہام سے نکل کروہ ایک کشادہ سڑک پرپہنچ گیا۔اسی روڈپرچند کلومیٹر کے فاصلے پراُس کا شان داربنگلا واقع تھا۔جہاں وہ اپنی خوب صورت بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔
وہ اپنے ہی خیالوں میں گنگناتاہواڈرائیونگ کررہاتھاکہ معاًاُسے اپنی پشت پر چبھن کا احساس ہوا۔اُس نے گردن گھماکرپیچھے دیکھاتوایک نقاب پوش ہاتھ میں خوف ناک قسم کاریوالورپکڑے اُسے گھوررہاتھا۔نقاب پوش کاتمام چہرہ نقاب میں چھپاہوا تھا۔صرف آنکھیں نظرآرہی تھیں، جوانگارے برسارہی تھیں۔ریوالورکا رخ انسپکٹرکرمانی کی طرف تھا۔وہ ایک لمحہ کرمانی کو گھورتارہاپھرسرد لہجے میں بولا۔’’اگرتم میری ہدایات پر عمل کرتے رہے تومحفوظ رہوگے ورنہ دوسری صورت میں مجھے تمہاری کھوپڑی اُڑاتے ہوئے ذرا سا افسوس بھی نہیں ہوگا۔‘‘
نقاب پوش کی آواز کرمانی کو جانی پہچانی لگی۔اُس نے دماغ پرزور دے کرکچھ یادکرنے کی کوشش کی مگراُسے کچھ بھی یادنہیں آیا کہ یہ آوازاُس نے کب اور کہاں سنی تھی؟ نقاب پوش کے لہجے میں چھپی دھمکی سے ظاہرہورہاتھا کہ وہ جوکچھ بھی کہہ رہاہے اُس پرعمل کرنے میں دیر نہیں لگائے گا۔سواُس نے کوئی بھی غلط حرکت کرنے کاخیال دل سے نکال دیاتھا کہ اسی میں اُس کی بھلائی تھی۔تاہم وہ ہمت کامظاہرہ کرتے ہوئے بولا۔
’’شاید تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں ایک۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’حرامی قسم کا پولیس انسپکٹراور دوست کُش انسان ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی کہنا چاہتے تھے ناں تم؟‘‘ نقاب پوش نے قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا۔
اُس کی بات سن کر کرمانی کے تن من میں آگ بھڑک اُٹھی۔’’میں تجھے اس بدتمیزی کامزا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’چوپ۔‘‘ نقاب پوش گرجااورکرمانی ایک دم خاموش ہوگیا۔’’اب اگرتم نے میری مرضی کے خلاف ایک لفظ بھی منہ سے نکالاتومیں تمہاری کھوپڑی میں سوراخ کردوں گا۔زندگی پیاری ہے تو چپ چاپ بیٹھے رہو۔‘‘
اب کرمانی کے لیے اُس کے حکم پرعمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔وہ اُس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ساحلِ سمندرکے قریب واقع ایک بنگلے تک پہنچ گیا۔ بنگلے کامین گیٹ بندتھا۔چنانچہ نقاب پوش کی ہدایت پرکرمانی نے گیٹ کے سامنے گاڑی روک دی۔ نقاب پوش نے گاڑی سے اُترے بغیرجیب سے سیل فون نکالا،کال ملائی اور رابطہ قائم ہوتے ہی بولا۔’’انکل! گیٹ کھول دیں، میں شکارلے کرپہنچ گیاہوں۔‘‘
چندثانیوں کے بعد گیٹ کھل گیا۔تب نقاب پوش نے کرمانی کو گاڑی اندرلے جانے کا حکم دیا تو اُس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔گاڑی کوبنگلے کے پورچ میں ٹھہرانے کے بعد نقاب پوش نے کرمانی کونشانے پررکھتے ہوئے نیچے اُترنے کاحکم دیا۔وہ بے چوں چراں نیچے اُترااور نقاب پوش کے آگے آگے چلنے لگا۔طویل کاریڈور سے گزرتے ہوئے وہ آخری کمرے میں پہنچ کر رک گئے۔اسی دوران ایک اورنقاب پوش کمرے میں داخل ہوا،اُس نے ایک نظر کرمانی پرڈالی اورمٹھیاں بھینچتا ہواکمرے کے ایک کونے کی طرف بڑھ گیا۔فرش پرجھک کراُس نے ایک چوبی تختہ اُٹھایاتونیچے بیسمنٹ کی سیڑھیاں نظرآنے لگیں۔وہ بلاتردد نیچے اُترگیا۔کرمانی خوف زدہ نگاہوں سے یہ منظردیکھتا رہا۔اُسے نقاب پوش سے کچھ پوچھنے کی ہمت ہی نہیں ہورہی تھی۔
’’چلو نیچے تہہ خانے میں چل کربات کرتے ہیں۔‘‘ نقاب پوش نے کرمانی کوحکم دیا۔
’’پپ۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے جانے دو۔‘‘ کرمانی نے لرزتی ہوئی آوازمیں التجا کی۔
’’شایدتم کتے کی موت مرناچاہتے ہو؟‘‘ نقاب پوش نے ریوالور سیدھا کیا۔’’چلو آگے بڑھو ورنہ میں گولی چلانے لگا ہوں۔‘‘
نقاب پوش کے لہجے میں قطعیت تھی۔کرمانی کانپتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ آگے بڑھااورتہہ خانے کی سیڑھیاں اُترتا چلا گیا۔جب کہ نقاب پوش بھی اُس کی تقلیدکرتا ہواپیچھے پیچھے تھا۔نیچے پہنچ کرنقاب پوش نے اُسے ایک کرسی پربٹھایا،رسی لی ا ور اُسے مضبوطی سے کرسی کے ساتھ باندھ دیا۔
’’تم۔۔۔۔۔۔۔۔لوگ۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔ایسا سلوک کیوں کررہے ہو؟‘‘ کرمانی نے فریادی اندازمیں پوچھا۔
’’تم ایک سانپ ہو کرمانی اور سانپ کا سر کچلناکوئی جرم یا گناہ نہیں ہے۔‘‘ اتنا کہہ کرنقاب پوش نے نقاب اُتاردیا۔
اُس کی شکل دیکھ کرحیرت سے کرمانی کی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوگئیں۔اُس کے سامنے مشہور ٹارگٹ کلرعامی کھڑا اُسے خون خوارنگاہوں سے گھور رہاتھا۔
’’یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا ہے عامی!۔۔۔۔۔۔۔۔کیامیں نے اس لیے تمہاری جان بچائی تھی کہ تم میرے ہی دشمن بن جائو؟‘‘
’’تم سچ مچ پاگل ہوگئے ہو کرمانی!‘‘ وہ طنزیہ اندازمیں بولا۔’’عامی کو توتم نے خود پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا۔کیا بھول گئے؟ میں تو عمادصدیقی ہوں۔‘‘
’’نن۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔مم ۔۔۔۔۔۔۔میں نے تو عمادکو۔۔۔۔۔۔۔پولیس مقابلے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہلاک کیا تھا۔‘‘ اُس نے لرزتی ہوئی آوازمیں جواب دیا۔
’’کیوں ماراتھا اُسے کمینے!‘‘دوسرا نقاب پوش بھوکے عقاب کی طرح اُس پرجھپٹااورتہہ خانہ تھپڑوں کی آوازسے گونجنے لگا۔’’میں۔۔۔۔۔۔تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔ مارڈالوں گاتجھے۔۔۔۔۔۔۔۔تیرے گندے اورناپاک جسم کوچیل کوئوں کی خوراک بنادوں گا۔‘‘اُس پرجیسے پاگل پن کادورہ پڑگیا۔اُس کے دونوں ہاتھ میکانکی اندازمیں چل رہے تھے ، جب کہ کرمانی بے تحاشاچِلارہاتھا۔بندھا ہواہونے کی وجہ سے وہ خودکو بچانے سے قاصرتھا۔
عامی چپ چاپ کھڑایہ تماشا دیکھتا رہا۔اُسے معلوم تھا کہ اُس کاساتھی جوکہ ظہیرصدیقی تھا، خود ہی تھک کر کرمانی کو چھوڑ دے گا۔ظہیر صدیقی چندلمحے تو کرمانی کے چہرے پرتھپڑاورگھونسے برساتا رہا،پھر عامی کی توقع کے عین مطابق وہ ہانپنے لگا۔تب عامی آگے بڑھا اورظہیرصدیقی کوسہارادیتے ہوئے بولا۔’’بس انکل!اس کے لیے اتناہی کافی ہے۔باقی میں سنبھال لوں گا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ ہانپتی ہوئی آوازمیں بولا۔’’میں۔۔۔۔۔۔۔اسے اپنے ہاتھوں سے گولی ماروں گا۔تب کہیں جاکر۔۔۔۔۔۔۔میرے سینے میں ٹھنڈپڑے گی۔‘‘
’’کبھی نہیں انکل!‘‘ اُس نے نفی میں سر ہلایا۔’’اس کے گندے خون سے میں آپ کوہاتھ نہیں رنگنے دوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے بیٹے! جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ وہ غیرمتوقع طورپر رضامند ہوگیا۔
’’ہاں تو مسٹرکرمانی!کیا خیال ہے؟‘‘ عامی‘ کرمانی کی طرف متوجہ ہوگیا۔’’کس قسم کی موت مرناپسندکروگے؟میں نے سارا بندوبست کیا ہوا ہے۔تمہیں بس انتخاب کی زحمت اُٹھانا پڑی گی باقی کام میرا ہے۔‘‘
’’کک۔۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔۔۔۔۔۔تت۔۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔۔مجھے مار ڈالوگے؟‘‘ خوف سے کرمانی کا رنگ زرد پڑگیااورزبان ہکلانے لگی تھی۔
’’ہاں۔۔۔۔۔۔۔میں چاہوں بھی توتجھے نہیں چھوڑسکتا۔‘‘ اُس نے جواب دیا۔
’’پلیزعامی پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ گڑگڑانے لگا۔’’تمہیں خداکا واسطہ مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمہارے پانچ کروڑ روپے بھی لوٹا دوں گا، بلکہ جتنا کچھ بھی میرے پاس ہے سب تجھے دے دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز مجھ پر رحم کروپلیز۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’انکل ظہیرکواُس کابیٹا لوٹادو، میں تجھے معاف کردوں گا۔‘‘
’’یہ۔۔۔۔۔۔۔یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟‘‘وہ پھرگڑگڑایا۔’’مم۔۔۔۔۔۔۔میں اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے واپس لا سکتاہوں؟‘‘
’’تمہاری چیک بک کہاں ہے؟‘‘ عامی نے ایک غیرمتعلق سوال کردیا۔
’’گاڑی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیش بورڈ کے اندر رکھی ہے۔‘‘ اُس نے فوراً جواب دیاشایددل ہی دل میں اُس نے کوئی اُمیدباندھ لی تھی۔
’’انکل! یہ ریوالور لو اور اس پر نظر رکھنا ،میں گاڑی سے چیک بک نکال کرلاتاہوں۔‘‘ عامی نے ظہیرصدیقی کی طرف ریوالوربڑھایا۔
’’نہیں چیک بک لے کر میں آتا ہوں۔‘‘ اتناکہہ کر وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
٭٭٭
کرمانی کا دایاں ہاتھ آزاد تھا اوروہ چیک فل کرنے کے بعد سائن کررہاتھا کہ اُسی وقت اُس کا سیل فون بجنے لگا۔اُس نے سائن کرنے کے بعد چیک عامی کی طرف بڑھا دیااورپھراُسے اُمیدبھری نظروں سے دیکھنے لگا۔عامی نے اُس کی جیب سے سیل فون نکال کر اسکرین پرنظرڈالی توکسی شبانہ کرمانی کا نام دکھائی دیا۔
’’شبانہ کرمانی کافون ہے۔کون ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیگم یا گرل فرینڈ؟‘‘اُس نے کرمانی کی طرف جواب طلب نظروں سے دیکھا۔اس دوران فون بجنا بھی بند ہوگیا۔
’’مم۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بیوی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے اسے بتادوکہ تم ایک دودن تک گھرنہیں پہنچ سکو گے،کسی سرکاری کام کے سلسلے میں شہرسے باہر گئے ہوئے ہو۔اس کے علاوہ تم نے مزید اُس سے کچھ بھی نہیں کہنا اورنہ ہی کسی قسم کی چالاکی دکھانی ہے ورنہ مجھے ایک سیکنڈ لگے گا اورتم لاش میں تبدیل ہوجائو گے۔‘‘
’’مم۔۔۔۔۔۔۔۔میں کوئی غلط حرکت نہیں کروں گا۔‘‘کرمانی نے میکانکی اندازمیں جواب دیا۔
عامی نے اثبات میں سرہلایا اورشبانہ کرمانی کوکال بیک کرنے لگا۔جونہی رابطہ ہوااُس نے اسپیکرآن کرتے ہوئے فون کرمانی کی طرف بڑھادیا۔
’’ہیلو۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اُس نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا۔’’کیابات ہے؟‘‘
’’کرمانی ! آپ کب تک پہنچ جائیں گے؟‘‘ بیگم نے سوال کیا۔
وہ بولا۔’’میں دودنوں تک گھرنہیں پہنچ سکوں گا۔شہرسے باہرگیا ہوا ہوں ایک سرکاری کام ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے توکیا میں امی کے ہاں چلی جائوں؟‘‘
’’چلی جائو، یہ بھی بھلا کوئی پوچھنے والی بات ہے؟‘‘ کرمانی نے جواب دیا۔
’’تھینکس کرمانی۔‘‘ بیگم نے پُرمسرت آوازمیں کہا اورپھرخداحافظ کہتے ہوئے رابطہ منقطع کردیا۔
اس کے بعد کرمانی نے عامی کی ہدایت پرعمل کرتے ہوئے اپنے ایک ماتحت آفیسرکوفون کرکے بتادیا کہ وہ دودنوں کے بعدپولیس اسٹیشن پہنچے گاکیونکہ اُسے کوئی گھریلو مسئلہ درپیش ہے۔
وہ ساری رات اُنھوں نے کرمانی کے ساتھ تہہ خانے میں گزار دی تھی۔کھانے پینے کابندوبست اُنھوں نے کرمانی کواغوا کرنے سے پہلے ہی کررکھا تھا۔چنانچہ تہہ خانے میں رہتے ہوئے اُنھیں کوئی مشکل درپیش نہیں آئی تھی۔صبح اُنھوں نے پہلے کرمانی کو ناشتا کرایا اور پھر خود کیا۔لگ بھگ صبح کے نوبجے اُنھوں نے کرمانی کوتہہ خانے میں چھوڑااورخود باہرچلے گئے۔تہہ خانے کا تختہ اپنی جگہ پر لگانے کے بعدعامی نے ظہیر صدیقی کو الرٹ رہنے کی تاکیدکرتے ہوئے ریوالور اُس کے حوالے کردیا۔
’’انکل! ہوشیار رہنا میں ایک گھنٹے کے اندر لوٹ آئوں گا۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ کمرے سے باہرنکل گیا۔
چند لمحوں کے بعدوہ گاڑی میں بیٹھااندرونِ شہرکی جانب گامزن تھا۔یہ ایک چھوٹی سی سوزوکی مہران کارتھی، جو اُسے ظہیرصدیقی نے خریدکردی تھی۔ایک بینک کے سامنے گاڑی روک کر اُس نے ایک درمیانے سائز کا بریف کیس اُٹھایااور گاڑی کولاک کرنے کے بعدبینک کے اندرداخل ہوگیا۔بینک میں اُسے تقریباً نصف گھنٹا لگ گیا مگر جب وہ باہرنکلاتو اُس کے بریف کیس میں پانچ کروڑ روپے کی رقم موجود تھی۔انسپکٹرکرمانی سے اُس نے اوپن چیک لیا تھا۔اُس نے گاڑی کوان لاک کیا بریف کیس ساتھ والی سیٹ پررکھااورگاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے بینک کی عمارت سے باہر آگیا۔اب اُس کا رخ شہرکی ایک معروف مارکیٹ طرف تھا۔مارکیٹ میں پہنچ کراُس نے ایک دکان سے ہینڈ کیری وڈیو کیمرا خریدااور واپس روانہ ہوگیا۔
جب وہ دوبارہ بنگلے میں داخل ہواتو اُس وقت ساڑھے دس بجنے والے تھے۔اُس نے پورچ میں جاکر گاڑی روکی، بریف کیس اُٹھایااور تیزی سے اُس کمرے کی جانب بڑھ گیا جس میں ظہیرصدیقی موجودتھا۔ظہیرصدیقی واقعی کسی فوجی جوان کی طرح الرٹ بیٹھا ہواتھا۔عامی کو دیکھتے ہی اُس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔
’’کام ہوگیا ہے انکل۔‘‘ اُس نے بریف کیس لہرایا۔’’اس میں پورے پانچ کروڑ روپے کی رقم موجود ہے۔ہم دونوں میرے گائوں چلے جائیں گے اور وہاں سکون سے زندگی گزاریں گے۔‘‘
وہ بولا۔’’ہاں بیٹے! عماد کے بعداب میرابھی دل اچاٹ ہوگیا ہے اس شہر سے۔ویسے بھی اب یہ شہردرندوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔روزانہ کتنی ہی مائوں کے لختِ جگر اور باپوں کے بڑھاپے کی لاٹھیاں چھین لیتا ہے۔اب یہاں چاروں طرف موت کابسیرا ہے۔‘‘
’’تو چلیے پھرعماد کے قاتل سے نمٹ لیتے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے تہہ خانے کا چوبی تختہ ہٹادیا۔
ایک بارپھروہ بندھے ہوئے کرمانی کے سرپر موجودتھے۔ایک ہی رات میں کرمانی کی بُری حالت ہوگئی تھی اوروہ برسوں کابیمارنظرآرہا تھا۔
’’کیاحال ہے مسٹراسلم کرمانی عرف اِن کائونٹر اسپیشیلسٹ!‘‘عامی نے ریوالور کے ذریعے اُس کی ٹھوڑی اُوپراُٹھاتے ہوئے طنزیہ اندازمیں پوچھا۔
’’خدا کے لیے۔۔۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔۔مجھے چھوڑدو۔‘‘ وہ روتی ہوئی آوازمیں بولا۔’’اب تومیں نے تمہارے پانچ کروڑروپے بھی لوٹادیے ہیں۔‘‘
’’چھوڑ دیں گے بھئی! اتنی بھی کیا جلدی ہے؟ پہلے ذرا اپنے دوست پاشا کوتو کال کرکے یہاں بلالو،اُس کے ذمے بھی اپنا بہت سا حساب کتاب باقی ہے۔ جومجھے بے باق کرنا ہے۔‘‘
’’وہ بھلا یہاں کیوں آئے گا؟‘‘ اُس نے اُلجھن آمیزاندازمیں پوچھا۔
’’یہ تجھے میں بتائوں گا کہ وہ کیسے آئے گا؟‘‘ عامی نے ذومعنی اندازمیں جواب دیا اورپھرکرمانی کا دایاں بازو رسیوں سے آزاد کرنے لگا۔
کرمانی کافون عامی کی جیب میں موجودتھا،جسے اُس نے آف کررکھا تھا۔اُس نے جیب سے فون نکال کر آن کیا اورپھرفون بک میں جاکرپاشاکا نمبرتلاش کرنے لگا۔
٭٭٭
سلیمان پاشا دیرسے جاگنے کا عادی تھا۔اُس وقت وہ ناشتے کی ٹیبل پرموجودتھاجب اچانک اُسے انسپکٹرکرمانی کی طرف سے کال آنے لگی۔پہلے تواُس نے بُرا سا منہ بنایااورپھرکال ریسیو کرتے ہوئے بولا۔’’ہاں کرمانی ! صبح صبح تم پر کون سی مصیبت نازل ہوگئی ہے؟‘‘
’’پاشاصاحب! کیا آپ اسی وقت اپنے ساحلِ سمندروالے بنگلے پرپہنچ سکتے ہیں؟‘‘ کرمانی نے استفسارکیا۔
’’تم۔۔۔۔۔۔۔۔تم وہاں کس طرح پہنچ گئے؟‘‘ پاشا کوحیرت کا ایک جھٹکا لگا۔’’وہ تو ایک عرصے سے بند پڑا ہے اوروہاں صرف ایک چوکیدار ہوتا ہے۔‘‘
’’دراصل میں عامی اُستاد کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہوں۔ وہ جیل سے فرار ہوکر آپ کے اس بنگلے میں روپوش تھا۔ اس وقت وہ میرے قبضے میں ہے۔مجھے لگتا ہے اُس نے ہم دونوں کے خلاف ثبوت اسی بنگلے میں کہیں چھپا رکھے ہیں۔ کیا اس بنگلے میں کوئی تہہ خانہ وغیرہ ہے؟‘‘
کرمانی نے تفصیل بتاتے ہوئے آخرمیں سوال کیا۔
’’ہاں ہاں۔۔۔۔۔۔بالکل ہے۔‘‘ وہ تقریباً اچھل پڑا۔’’میں بس ابھی پہنچتا ہوں، خیال رکھنا وہ نکلنے نہ پائے۔‘‘
’’ڈونٹ وری پاشا صاحب! اس وقت وہ کسی کتے کی طرح میرے پیروں میں بندھاپڑا ہے۔بنگلے کا مین گیٹ کھلاہوگا آپ بے دھڑک اندر چلے آیئے‘‘ کرمانی نے فخریہ اندازمیں بتاکررابطہ کاٹ دیا۔
پاشا نے جلدی جلدی ناشتا کیا اورپھربغیر ڈرائیورکے ساحلِ سمندر والے بنگلے کی طرف روانہ ہو گیا۔تقریباً پون گھنٹے کے بعد وہ بنگلے کے مین گیٹ سے گزرتا ہوا اندر داخل ہوگیا۔گاڑی روک کر وہ نیچے اترنے ہی لگا تھاکہ عامی کسی بلائے ناگہانی کی طرح اُس کے سر پر پہنچ گیا۔
’’ہاتھ اُوپر پاشا صاحب۔‘‘ وہ اُسے نشانے پررکھتے ہوئے غرایا۔’’ورنہ بھون ڈالوں گا۔‘‘
’’تت۔۔۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔کرمانی۔۔۔۔۔۔۔کہاں ہے؟‘‘ اُس نے اٹکتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
’’نیچے تہہ خانے میں پڑاہوا ہے اورکسی خارش زدہ کتے کی مانند چِلارہا ہے۔ چلو وہ تمہارامنتظر ہے۔‘‘
’’دیکھو! تم یہ ٹھیک نہیں کررہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں اس کاخمیازہ بھگتناپڑے گا۔‘‘ پاشا نے دھمکی دی۔
’’چلتے ہویاچلائوں گولی؟‘‘ عامی نے ریوالور کے ٹریگرپرانگلی رکھتے ہوئے سردلہجے میں پوچھا۔
اُس کا لہجہ اور چہرے کے تاثرات بتارہے تھے کہ اگر پاشا نے دوبارہ منہ کھولا توجواب میں گولی آئے گی۔سو وہ بلاچوں چراں عامی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے تہہ خانے کے اندر پہنچ گیا۔وہاں کرمانی ایک کرسی پر بندھابیٹھا تھا۔پاشا کوعامی نے دوسری کرسی پر بٹھادیااورپھراُس کی جیب سے سیل فون نکال کرآف کرنے کے بعدظہیرصدیقی کے حوالے کر دیا۔
’’پاشا!‘‘ عامی اُسے گھورتے ہوئے بولا۔’’تم نے عماد کوکیوں اورکیسے مروایاتھا؟ اگر تم نے ذراسابھی جھوٹ بولا تومیں بلاجھجک گولی چلادوں گا۔‘‘
پاشا گوکہ بہت بڑاآدمی تھامگرایسی صورتِ حال سے اُس کا واسطہ کبھی نہیں پڑا تھا۔چنانچہ ایک ٹارگٹ کلرکے سامنے جلد ہی اُس کے اعصاب جواب دے گئے اور اُس نے فرفرساری کہانی سنادی۔
بہت خوب پاشا!‘‘ عامی نے اسے داد دی۔’’اگرتم اسی طرح تعاون کرتے رہے تو شاید ایک بُری موت مرنے سے بچ جائو۔‘‘
’’مم۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے مت مارنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تعاون کروں گا۔‘‘ پاشانے فوراً جواب دیا۔
نصف گھنٹے کے اندرعامی ایک ایسی وڈیوفلم فلما چکا تھا کہ وہ اگر کسی چینل سے آن ایئر ہوجاتی توعوام پاشا کی بوٹی بوٹی کردیتے۔وہ بیک وقت انڈین ایجنسی را، اسرائیل کی موساد اورامریکا کی سی آئی اے کے لیے کام کرتا تھا۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سے لے کربلوچستان کی خون ریزی تک وہ ملوث تھا۔اُس کی ساری دولت انہی ایجنسیز کی عطاکردہ تھی۔ جب کہ انسپکٹر کرمانی بھی ان جرائم میں شامل رہاتھا۔
’’تم سوچ سکتے ہوپاشا!‘‘ وڈیو فلمانے کے بعد عامی نے کہا۔’’جب یہ وڈیو کل مختلف چینلز سے آن ایئرہوگی تو تب تمہارااور اس کرمانی کا کیا حشرہوگا؟‘‘
’’نن…نہیں۔۔۔۔۔۔‘‘ پاشااچانک ہذیانی اندازمیں چلایا۔’’تت…تم ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘
’’میں ایسا ہی کروں گا۔آج ہی یہ وڈیو مسٹر تک پہنچ جائے گی۔‘‘ عامی نے ملک کے ایک مشہورو معروف صحافی کانام لیتے ہوئے جواب دیا۔
’’میرا سب کچھ لے لو۔۔۔۔۔۔۔مگرایسامت کرو۔‘‘ پاشا نے اُسے پیش کش کی۔
’’مجھے تمہاری کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے پاشا۔‘‘ اُس نے انکارمیں سر ہلایا۔’’میں اب تائب ہوچکا ہوں۔مجھے نئی شناخت مل چکی ہے۔میں اب عامی نہیں ہوں عماد صدیقی ہوںاور۔۔۔۔۔۔۔‘‘
عامی کی بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ معاً پاشانے جیب سے ایک بڑے سائزکا کیپسول نکالااورپلک جھپکنے کی دیر میں نگل لیا۔چند سیکنڈ کے اندرہی اُس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگااورپھروہ دیکھتے ہی دیکھتے کرسی سے لڑھک کرنیچے پختہ فرش پر جاگرا۔
اس کے بعد کے واقعات نہایت تیزی سے وقوع پذیر ہوئے تھے۔کرمانی کوعامی کے منع کرنے کے باوجود ظہیرصدیقی نے گولی ماردی تھی۔اُس کا کہنا تھا کہ قاتل کو قتل کرناجرم ہے نہ گناہ اورکرمانی میرے بیٹے کاقاتل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سو میں نے جوبھی کیا ہے وہ درست ہے۔بنگلے سے نکلنے سے قبل عامی وہاں سے اپنی موجودگی کے آثار مٹانا نہیں بھولا تھا۔عامی نے اُسی دن کوریئر سروس کے ذریعے وہ وڈیو ایک مشہورو معروف چینل کو بھجوا دی تھی۔
ٹھیک ایک ہفتے کے بعد جب وہ دونوں عامی کے گائوں جانے کی تیاری کررہے تھے توعین اسی وقت دروازے کی کال بیل بج اُٹھی۔عامی نے جاکردروازہ کھولا تو سامنے ایک حسین وجمیل لڑکی موجود تھی۔’’جی کس سے ملنا ہے آپ کو؟‘‘ عامی نے تعجب سے پوچھا۔
’’عماد صدیقی سے۔‘‘ لڑکی نے مسکراکرکہا۔’’آپ کوکوئی اعتراض ہے؟‘‘
’’نن۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ سٹپٹا گیا۔
ایسے ہی وقت ظہیرصدیقی دروازے پرپہنچ کر بولا۔’’ارے زارا بیٹی تم۔۔۔۔۔۔۔۔چلو اندر آجائو۔‘‘
وہ بولی۔’’انکل! پہلے اس نقلی عماد صدیقی کوتو راستے سے ہٹایئے۔‘‘
ظہیرصدیقی نے ایک قہقہہ لگایا اورپھرعامی سے بولا۔’’راستے سے ہٹویار! یہ زارا احمد ہے جس کی کہانی میں نے تجھے سنائی تھی۔‘‘
ذرادیر کے بعدوہ تینوں ایک کمرے میں موجود ہنس ہنس کرباتیں کررہے تھے کہ معاً عامی نے زارا سے کہا۔’’مس زارا! گوکہ میں عماد صدیقی نہیں ہوں لیکن اگر آپ چاہیں تومیں آپ کو خوش رکھ سکتاہوں۔ویسے بھی انکل نے مجھے بطور عماد صدیقی قبول کر لیا ہے۔‘‘
’’تواور کیا میں یہاں تمہاری شکل دیکھنے کے لیے آئی ہوں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔اَن پڑھ گنوار کہیں کے۔‘‘زارا نے مسکرا کرجواب دیااورکمرا ظہیرصدیقی کے فلک شگاف قہقہے سے گونج اُٹھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close