Naeyufaq Dec-16

محبت سے نفرت

امین صدرالدین بھایانی

ہوائی جہاز کے پبلک ایڈرس سسٹم پر ہلکی سی گھنٹی کے ساتھ ایک مترنم آواز گونجی۔
’’خواتین و حضرات توجہ فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔!۔ ہم پی آئی اے کی پرواز ’’پی کے-786، میں انتہائی مسرت کے ساتھ آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ جہاز کراچی کے جناح بین اقوامی ہوائی مستقر سے ممبئی کے چترا پتی شیوا جی بین اقوامی ہوائی مستقر کی جانب پرواز کا آغاز کر چکا ہے۔ تیس سے چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے تقریباً آٹھ سو تیراسی کلومیڑ کا سفر تیس منٹ میں طے کر کے ان شاء اللہ، یکم جنوری 2025ء کو ٹھیک بارہ بجے سالِ نو کے آغاز پر ممبئی لینڈ کرے گا۔ پاک وہند کی اٹہتر سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ دونوں ممالک نے باہمی آمدورفت پر ویزا کی پابندی ختم کرتے ہوئے انٹری ویزا سروس کا آغاز کردیا ہے۔ پرواز پاکستان کے اْن چنیدہ ادباء اور صحافیوں پر مشتمل ہے جو بھارت کی دعوت پر اس سہولت کا ممبئی میں باقاعدہ آغاز کریں گے۔ پاکستان کی دعوت پر انڈین ائیرلائنز کا جہاز ’’آئی اے-1125، سواگتم‘‘ ممبئی سے اہم ترین بھارتی ادباء اور صحافیوں جبکہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے مابین دو جہاز اعلیٰ سطحی سرکاری عہدیداران کو لے کر پرواز کر چکے ہیں۔ ان شاء اللہ، اب سے کوئی تیس منٹ بعد دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار باہمی تعلقات کے ایک نئے تاریخی باب کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ اب آپ اپنے حفاظتی بندھ کھول سکتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں جہاز کا عملہ مشروبات سے معزز مہمانوں کی تواضح کرے گا، شکریہ‘‘۔
میں نے ایک گہری سانس لے کر اپنا سر نشست سے ٹکا دیا۔ مجھے محض تیس منٹوں پر محیط یہ سفر بھی کِھل رہا تھا۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ پلک جھپکتے ممبئی پہنچ جاؤں۔ ایک خوشگوار بے چینی میرے قلب و ذہن کو کچھ یوں گھیرے ہوئے تھی جیسے کوئی بچہ اپنے پسندیدہ تفریحی مقام کی طرف محوِ سفر ہو اور راستہ کٹ کے نہ دے رہا ہو۔ بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا۔۔۔۔! اِس دن کو دیکھنے کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے گئے، تب کہیں جا کر یہ یادگار دن دیکھنا نصیب ہوا تھا۔۔۔!!!.
اِس کہانی کا آغاز آج سے ٹھیک پچیس برس قبل سال 2010ء میں ہوا۔
اْس روز میں اخبار کے دفتر اپنی ڈیوٹی پر پہنچا ہی تھا کہ متعلقہ ایڈیٹر نے طلب کرلیا۔ فوری طور پر سندھ سے ملحقہ بھارتی سرحد پر بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والے بھارتی فوج کے سپاہی کے بارے میں مزید معلومات اکٹھا کرنے کے لیے روانہ ہونے کی ہدایت جاری کی۔ میں جائے وقوع سے کچھ فاصلے پر مامور یونٹ پہنچا تو میری ملاقات وہاں متعین افسر سے ہوئی۔ اْس نے بھی مجھے وہی معلومات فراہم کیں جو کہ آئی ایس پی آر کی جاری کردہ پریس ریلیز کے توسط سے خود اخبار کے دفتر میں موصول ہوئی تھیں۔ افسرانِ بالا کی جانب سے آنے والے صحافیوں سے تعاون کی ہدایت کے موجب میری درخواست پر مجھے وقوع پر لے جایا گیا۔
عموماً سرحد پر آہنی خاردار حفاظتی باڑ لگا دی جاتی ہے۔ سرحد کے اْس مخصوص حصہ پر دونوں اطراف کوئی باڑ موجود نہ تھی۔ ویسے بھی وہ جگہ اونچی نیچی، آڑی ترچھی اور کٹی پھٹی پیچیدہ پہاڑیوں پر مشتمل تھی جہاں باڑ کا لگایا جانا کم وبیش ناممکن تھا۔ اِسی سبب بارودی سرنگیں نصب کردی گئی تھیں۔ وہ بدنصیب سپاہی یا جو بھی اْس کا عہدہ رہا ہوگا نہ معلوم کیوں اور کیسے وہاں تک آن پہنچا اور بدنصیبی سے بارودی سرنگ کا شکار ہو گیا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اْس کا جسم چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں بہت دور دور تک بکھر گیا۔ اْس کے نام، عہدے سمیت کسی بھی نوعیت کی کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکی۔ میں کافی دیر اِدھر اْدھر گھومتا رہا۔ ایک جگہ مجھے جھاڑیوں کے جھنڈ کے اندر مٹیالی رنگت کا چھوٹا سا گتے کا جلد پوش نظر آیا۔ جو گھنی جھاڑیوں کے اندر مٹی میں پڑے ہونے کے سبب غالباً کسی کو نظر نہ آ سکا تھا۔ عین جھاڑیوں کے ساتھ نیچے بیٹھ کر اپنے جوتے کے تسمے درست کرنے کے بہانے اْسے اٹھا کر اپنی پتلون کی جیب میں منتقل کردیا۔ کچھ دیر یہاں وہاں، اِدھر اْدھر گھوم پھر کر خوامخواہ اپنی ڈائری میں نوٹس لیتا رہا۔
وہاں سے نکلنے کے بعد میں نے اْس کا جائزہ لیا تو یہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی کہ وہ محض پھٹا ہوا موٹے گتے کا جلد پوش تھا جو دھماکے کے سبب ڈائری سے علیحدہ ہو گیا ہوگا۔ اْلٹ پلٹ کر دیکھا تو محض خون کے چند دھبوں کے علاوہ کچھ اور نظر نہ آ سکا۔ سونگھنے پر اس میں سے بارود کی بو آ رہی تھی۔ اْسے سفر کی یادگار کے طور پر اپنے پاس رکھ کر لیپ ٹاپ سے ایک مفصل رپورٹ ای میل کر کے واپس کراچی روانہ ہوگیا۔ کچھ دن تو مجھ پر اْس واقعے کا اثر رہا۔ مگر جلد ہی صحافتی زندگی کے معمولات میں ایسا اْلجھا کہ وہ واقعہ میرے ذہن سے یکسر محو ہو کر رہ گیا۔
یہ سال 2016ء کے اواخر کی بات ہے۔
بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے کشمیری شہریوں پر تواتر کے ساتھ ہونے والے اندھا دھند مظالم کے واقعات کے سبب کشمیر میں حالات بے حد مخدوش ہو چکے تھے۔ اِسی دوران ایک بھارتی سرحدی چوکی پر متعدد فوجیوں کی بظاہر دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکت ہو گئی۔ بھارت نے اِس کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ چند دنوں بعد بھارت نے پاکستانی علاقے میں بھارتی فوج کی جانب سے جوابی حملے کا دعویٰ کردیا جسے ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا نام دیا گیا۔ مگر کوئی بھی ٹھوس ثبوت سامنے نہ آیا۔ پاکستان نے اِسے بین الاقوامی برادری کی توجہ کشمیر میں ہونے والی انگنت بے گناہ ہلاکتوں اور غیر انسانی مظالم سے ہٹانے کے ساتھ بھارتی عوام اور بین الاقوامی میڈیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کارروائی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ان تمام تر واقعات کے سبب شدید کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔ ممکنہ جنگ کے نتیجے میں پاک و ہند کے بیگناہ و معصوم عوام کی جان ومال داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ دو اٹیمی طاقتوں کے آپسی ٹکراؤ سے کیا صورت حال پیدا ہوسکتی تھی اْس کا اندازہ کوئی بھی باشعور انسان بخوبی لگا سکتا ہے۔ اْسی سبب سرحد کے دونوں اطراف ادباء، دانشور، صحافی اور دیگر صاحبِ الرائے افراد معاملے کو اس حد تک جانے سے پہلے ہی باہمی گفت وشْنید سے طے کرنے پر زور دے رہے تھے۔ دونوں جانب ایسے لوگوں کی بھی کمی نہ تھی جو جنگ اور اٹیمی ہتھیاروں کے استعمال ہی کو حتمی چارہ کار کے طور پر پیش کررہے تھے۔
گذشتہ چھے سال کے دوران میں اخباری رپورٹر سے کہیں آگے بڑھ کر ایک نامور کالم نویس کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ میرے کالم نہ صرف ملک بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کر چکے تھے بلکہ دنیا بھر کے اہم ترین اخبارات میں بھی شائع ہو رہے تھے۔ کم و بیش روزانہ ہی کی بنیاد پر شائع ہونے والے بلاگ میں موجود کشیدہ صورت حال پر اپنا نقطہِ نظر بھی پیش کر رہا تھا جسے پڑھنے والوں کی تعداد سرحد کے دونوں اطراف بلامبالغہ لاکھوں میں پہنچ چکی تھی۔ نئی دہلی کا اہم ترین اخبار روزنامہ ’’نئی صبح‘‘ ہندوستان بھر میں پاک بھارت جنگ مخالف حلقوں کی ایک موثر ترین آواز سمجھا جاتا تھا۔ اْس باہمی کشیدہ صورت حال پر پاکستانی صحافت اور سول سوسائٹی کے جنگ مخالف حلقوں کی آواز خبروں اور کالموں کے ذریعہ بھارت بھر میں پہنچا رہا تھا۔ مذکورہ اخبار میرا کالم ہفتے میں دو سے تین بار بڑے ہی اہتمام کے ساتھ شائع کر رہا تھا۔ میں تواتر کے ساتھ دو اٹیمی طاقتوں کے آپسی ٹکراؤ سے خطے میں ہونے والی متوقع تباہی کے انتہائی خطرناک اثرات سے عام عوام کو آگاہ کر کے اْنہیں اپنی اپنی حکومتوں کو ہر صورت اس خوفناک صورت حال سے بچنے پر مجبور کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی بن پڑی کوشش کررہا تھا۔ کسی متوقع اٹیمی تصادم کو روکنے کے لیے روزنامہ ’’نئی صبح‘‘، نئی دہلی میں ایک عدد امن کانفرنس کا بھی اہتمام کر رہا تھا اور مجھے اْس کا باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوچکا تھا۔
اِسی دوران خبر آئی کہ مظفر آباد پر لائن آف کنٹرول پر 37 راشٹریہ رائفلزکے بابو لال چوہان نامی بھارتی فوجی کو گرفتار کرلیا گیا۔ بھارتی فوجی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ غلطی سے سرحد پار گیا اور گرفتار ہوگیا۔ اِس واقعے سے مجھے چھے برس قبل سندھ کی سرحد پر بارودی سرنگ سے ہلاک ہونے والا نا معلوم بھارتی فوجی یاد آ گیا۔
اْس روز میں رات بہت دیر گئے گھر پہنچا اور اْس دراز کو کھول کر بیٹھ گیا جہاں میں اپنی اہم ترین چیزیں سنبھال کر رکھتا ہوں۔ وہاں پڑے گتے کے جلد پوش کو نکالا اور اْلٹ پلٹ کر غور سے دیکھنا شروع کر دیا۔ سواء چار انچ کی لمبائی اور پونے تین انچ چوڑائی والی گتے کی جلد اْن چھے سالوں میں کراچی کی سمندری ہوا سے پھول سی گئی تھی۔ اْس کی پشت پر چسپاں موٹے کاغذ کا ایک سرا گتے سے اْکھڑ رہا تھا۔ میں نے بے خیالی میں سرے کو دو انگلیوں میں پکڑ کر ذرا سا کھینچا تو وہ پورا ہی اکھڑ کر میرے ہاتھ میں آ گیا۔ کاغذ کے اْکھڑتے ہی ایک چھوٹی سی چار چھے تہوں میں لپٹی چھٹی جو کاغذ اور گتے کے درمیان پھنسی ہوئی تھی، نیچے گر پڑی۔ میں نے جھک کر فرش سے چھٹی اْٹھالی۔ وہ ڈاک کے مخصوص لفافے سے کاٹا گیا چھوٹا سا ٹکڑا تھا جہاں نامہ نویس اپنا پتہ درج کرتا ہے۔ ٹکڑے پر ہندی میں نیلے بال پوائنٹ سے کچھ الفاظ اور ہندسے لکھے ہوئے تھے۔ میں نے اپنے موبائل فون سے تصویر بنا کر ایک صحافی دوست کو بذریعہ ٹیکسٹ روانہ کر دیا۔ چند ہی منٹوں بعد جوابی ٹیکسٹ موصول ہوا جو کہ اْس ہندی عبارت کا اْردو ترجمہ تھا۔
رنبیر کمار چاولہ
فلیٹ نمبر 75، سروجنی اپارٹمنٹس
بلاک 6، گیتا کالونی، لنک روڈ،
نئی دہلی پن کوڈ-110031۔
کیا اْس بھارتی فوجی کا نام رنبیر کمار چاولہ تھا اور یہ اْس کے گھر کا پتہ ہے؟۔
مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک فوجی اپنا نام اور پتہ ڈائری کی جلد میں چھپا کر رکھے۔
اب اس راز پر سے پردہ صرف ایک ہی شخص اْٹھا سکتا تھا اور وہ تھا روزنامہ ’’نئی صبح‘‘ کا کرائم رپورٹر انعام الدین افلاکی۔ پچیس چھبیس سالہ اِس نوجوان کو اپنے کام سے جنون کی حد تک عشق تھا۔ چونکہ میرے کالم مستقل طور پر اخبار میں شائع ہورہے تھے، وہ نہ صرف مجھ سے بخوبی واقف تھا بلکہ فیس بک کے توسط سے گذشتہ دو تین برس سے ہماری اچھی خاصی دوستی بھی تھی۔ ہم واٹس ایپ سے بھی باہمی طور پر منسلک تھے۔ میں نے اْسے واٹس ایپ پر پیغام بھیجا اور تھوڑی ہی دیر میں اْس کی کال موصول ہوئی۔ ’’جی جمیل بھائی، خیر تو ہے نا، اتنی رات گئے یاد کیا؟‘‘۔
’’ہاں یار افلاکی۔۔۔۔۔ ، ایک بہت ضروری کام آن پڑا ہے‘‘۔
’’جی حکم کریں؟‘‘۔
’’یار افلاکی۔۔۔۔۔ ، نئی دہلی میں لنک روڈ پر کسی گیتا کالونی سے واقف ہو؟‘‘۔
’’گیتا کالونی۔۔۔۔؟ ہاں جمیل بھائی، یہ تو بڑی مشہور جگہ ہے‘‘۔
’’ویری گڈ۔۔۔۔۔ !‘‘۔ میری آواز میں جوش تھا۔ ’’وہاں بلاک نمبر 6 میں سروجنی اپارٹمنٹس کے فلیٹ نمبر75 میں کوئی رنبیر کمار چاولہ نامی شخص رہتا تھا یا شاید اب بھی رہتا ہو، کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنی ہیں‘‘۔
’’کس نوعیت کی معلومات۔۔۔۔۔؟‘‘۔ افلاکی کی آواز میں قدرے حیرت نمایاں تھی۔ ’’اگر وہ وہاں رہتا ہے تو کیا کرتا ہے اور اگر پہلے کبھی رہا کرتا تھا تو اب کہاں ہے اور کیا کرتا ہے؟‘‘۔
’’مگر یہ شخص آخر ہے کون؟ اور آپ کیوں اْس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں؟‘‘۔ اب کی بار افلاکی کے لہجے میں ہلکی سی پریشانی مترشح تھی۔ ’’یہ میں تمھیں بعد میں بتاؤں گا۔ سرِدست جیسے ہی ساری باتیں معلوم ہوجائیں تو بناء کسی توقف کے فوری طور پر فون پر اطلاع دو‘‘۔
اگلے روز کوئی شام سات بجے کے قریب افلاکی کی کال موصول ہوئی اْس نے مجھے جو کچھ بتایا اس بناء پر میں نے نئی دہلی جانے کا فیصلہ کرلیا۔ کشیدگی کے سبب ویزا کا اجراء کم و بیش بند ہی تھا۔ مگرمیرے مصدقہ ذرائع کی اطلاعات کے مطابق بہت ہی کم تعداد میں ویزا جاری کیے جا رہے تھے۔ بحرحال میں نے پاکستان بھر میں موجود اپنے حکومتی اور صحافتی ذرائع کو فون کرنا شروع کر دیئے۔ میرے پاس امن کانفرنس کا دعوت نامہ بھی تھا۔ میری کوششیں رنگ لائیں اور بھرپور تگ و دو کے بعد مجھے پندرہ روز کے لیے نئی دہلی تک محدود آمدورفت کا ویزا جاری کر دیا گیا۔ میرے لیے پندرہ روز بھی بہت تھے۔ ویزا ملتے ہی روزنامہ ’’نئی صبح‘‘ کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی۔ افلاکی کو بھی اپنے دورے کے حوالے سے چند ضروری انتظامات اور سارے معاملے کو محض خود تک ہی محدود رکھنے کی درخواست کی۔
جس روز میں کراچی سے براستہ دبئی، نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی مستقر پہنچا، وہاں شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ ائرپورت پر افلاکی میرا منتظر تھا۔ وہ اپنے کسی دوست کی گاڑی لے آیا تھا۔ سامان گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے میں نے افلاکی سے کہا۔ ’’ہاں بھیاء افلاکی۔۔۔۔۔ ، بس اب پروگرام کے مطابق فوری طور پر گیتا کالونی چلو‘‘۔ افلاکی کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ آ گئی۔ کوئی بائیس تئیس کلومیڑ کا سفر کر کے جھیل پارک، نہرو پلینیٹیریم، تین مورتی، انڈیا گیٹ، کرانتی میدان، سپریم کورٹ آف انڈیا، یمنا دریا کے پل اور بلا آخر گیتا کالونی روڈ سے ہوتے ہوئے لگ بھگ پینتالیس منٹ میں گیتا کالونی پہنچ گئے۔ دو چار گلیوں سے گزر کر افلاکی نے مطلوبہ مقام پر گاڑی کھڑی کردی۔
چند ہی لمحات کے اندر ہم فلیٹ نمبر 75 کے سامنے کھڑے تھے۔ افلاکی نے دستک دی۔ دروازہ کھولنے والا چالیس بیالیس سال کی عمر کا اچھی صحت، مناسب قد و کاٹھ اور صاف رنگت کا حامل شخص تھا۔ اْسے دیکھتے ہی افلاکی نے نمشکار کہا۔ اْس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک نظر آئی۔ ’’افلاکی جی۔۔۔۔ آ گئے آپ لوگ۔۔۔۔۔پدھاریئے‘‘۔ اْس نے مدھم سی مسکراہٹ اپنے سنجیدہ چہرے پر سجاتے ہوئے ہمیں اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’دھنیواد رنبیر جی۔۔۔۔۔ ، ہمیں آنے میں کچھ دیر تو نہیں ہوئی۔ یہی ہیں وہ پاکستانی پترکار جمیل احمد خان صاحب، جن کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا‘‘۔ افلاکی مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’آپ لوگ ٹھیک سمے پر پہنچ گئے ہیں۔ بس وہ ماتا جی بہت بیاکل ہو کر آپ کی باٹ نہار رہی تھیں‘‘۔ اتنا کہہ کر وہ ہمیں اندر سادگی سے سجائے گئے بیٹھک نما کمرے میں لے جا کر صوفوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’آپ یہاں براجمان ہوئیے۔ میں آپ کے لیے جل پان کا کہہ کر ابھی آیا‘‘۔
کمرے کی دیوار پر بڑی عمر کے شخص جس کا چہرہ رنبیر کمار چاولہ سے کافی مشابہت رکھتا تھا کی تصویر پھولوں کی مالا ٹنگی فریم میں لگی ہوئی تھی۔ غالباً ربنیر کمار کے سورگباشی پتا جی کی تصویر تھی۔ دوسری دیوار پر ایک بائیس پچیس سال کے نوجوان کی تصویر آویزاں تھی۔ اْس کی آنکھوں کی چمک اور ہونٹوں پر پھیلی بھرپور مسکراہٹ دیکھ کر نہ جانے کیا ہوا کہ میں بھی بے اختیار مسکرا دیا۔
تھوڑی دیر بعد ہمارے سامنے مختصر سی کافی ٹیبل پر گرما گرم چائے کی بھاپ اْڑاتی پیالیاں دھری تھیں۔ کافی ٹیبل کی دوسری جانب رنبیر کمار چاولہ، اْن کی ماتا جی اور بیگم بھی اپنی اپنی نشستیں سنبھالے بیٹھے تھے۔ کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جسے ہر کوئی اِس انتظار میں ہے کہ فریقِ مخالف گفتگو کا آغاز کرے۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں بات کہاں سے شروع کروں۔ مجھے کچھ بولتے نہ دیکھ آخر رنبیر کمار چاولہ ہی نے پہل کردی۔
’’افلاکی جی نے بتایا تھا کہ آپ کے پاس میرے چھوٹے بھائی سْکھبیر کمار چاولہ جو کہ کوئی چھے برس پہلے پاکستانی سیما پر لاپتہ ہوگیا تھا کے بارے میں کچھ خاص جانکاری ہے‘‘۔
میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیسے بتاوں کہ وہ اب اِس دنیا میں نہیں۔ میں نے ایک گہری سانس لی اور اپنی نظریں کچھ لمحے فرش پر لگی خوبصورت ٹائلوں اور اْن پر بنی آڑی ترچھی لکیروں پر مرکوز کیں۔ ’’دیکھیے۔۔۔۔! میں جو کہنے جا رہا ہوں وہ سْننے کے لیے آپ سب کو بہت ہمت جْٹانا ہوگی‘‘۔ یہ بات سْن کر رنبیر کی ماتا جی کے چہرے کا تو جیسے رنگ ہی اْڑ گیا۔ وہ لاٹھی کی مدد سے لڑکھڑاتے ہوئے اپنی نشست سے اْٹھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ اْنہیں لڑکھراتے دیکھ میں اْٹھ کر اْن کی طرف بڑھا۔ مگر انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر نفی میں ہلایا جیسے کہہ رہی ہوں کہ مجھے تمھاری مدد کی ضرورت نہیں۔ پھر روہانسی آواز میں بولیں۔ ’’کرپا کر کے مجھے صرف یہ بتادو کہ میرا سْکھبیر کہاں اور کیسا ہے؟‘‘۔
پائے رفتن نہ جائے ماندن کا عالم تھا۔ جی چاہتا تھا کہ اْسی وقت وہاں سے دوڑ جاؤں اور کسی ویرانے میں جا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑوں۔ مگر نہ تو میں وہاں سے دوڑ ہی سکتا تھا اور نہ ہی رو سکتا تھا۔ میں نے اپنی پوری ہمت مجتمع کر کے پتلون کی عقبی جیب سے بٹوا نکل کر اْس میں سے وہی ٹکڑا نکالا۔ اْس کی تہیں کھول کر رنبیر کمار چاولہ کی طرف بڑھا دیا۔ اْسے دیکھتے ہی وہ چونک پڑا۔ سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھتا ہوا بولا۔ ’’یہ تو۔۔۔۔۔۔ ، مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب سْکھبیر کو یہاں دہلی سے پتر لکھتا تھا تو چٹھی پر اپنا نام اور سرنامہ بھی ضرور لکھتا۔ شاید سْکھبیر نشانی کے طور پر کاٹ کر اپنے پاس رکھ۔۔۔۔۔! مگر۔۔۔۔ یہ آپ کو کہاں سے ملا؟۔۔۔۔۔ !!!‘‘۔
’’سْکھبیر کے بارے میں جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ وہ لاپتہ یا مسنگ ان ایکشن ہوگیا تھا۔۔۔۔! سچ نہیں۔۔۔۔۔!!!‘‘۔
’’تو۔۔۔۔! تو پھر۔۔۔۔۔! ستیہ کیا ہے؟۔۔۔۔!!!‘‘۔ ماتا جی کی آنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں۔ جیسے ہی میرے منہ سے سچ نکلا، ماتا جی جو اب تک اپنی لاٹھی کو دنوں ہاتھوں سے تھامے کھڑی تھیں، لڑکھڑانے لگیں۔ میں تیزی کے ساتھ اْنہیں تھامنے آگے بڑھا مگر اْس وقت تک وہ سنبھل چْکی تھیں۔ میرے نزدیک آتے ہی انہوں نے اپنے ایک ہاتھ سے لاٹھی کے دستے کو مضبوطی کے ساتھ تھام کر دوسرے ہاتھ سے پوری طاقت کے ساتھ ایک زناٹے دار تھپڑ میرے چہرے پر جڑ دیا۔ ’’تم پاکستانی راکششوں نے میرے سْکھبیر کو مار ڈالا‘‘۔
ماتا جی کے گوشت پوست سے عاری بوڑھے استخوانی ہاتھ کی بھرپور چوٹ سے ایک لمحے کے لیے میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ رنبیر تیزی سے آگے آیا اور مجھے تھام کر زور سے بولا۔ ’’ماتا جی یہ کیا کیا آپ نے؟۔۔۔!!!‘‘۔
میں نے ہاتھ کے اشارے سے روکا کہ وہ اْنہیں کچھ نہ کہے۔ پھر میں ماتا جی کی جانب بڑھا۔ اْن کی نیر بہاتی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔ “ماتا جی۔۔۔۔ ، سْکھبیر کو ہم پاکستانیوں نے نہیں پاکستان اور بھارت کے بیچ آزادی سے لے کر اب تک جاری اِس بن کارن یودھ نے مار ڈالا۔ نہ جانے بناء کارن کا یہ یودھ کب تک پاکستان اور بھارت کی انگنت ماتاؤں کے معصوم اور نردوش سْکھبیروں کی بِلی لیتا رہے گا۔ وہ ماتائیں یونہی ایک دوجے کو راکشش کہتیں اپنے جوان بیٹوں کی رودالیاں بن کر سدا بین کرتی رہیں گی‘‘۔
ماتا جی اپنی نیر بہاتی آنکھوں پر تو ضبط کا بند باندھنے میں قاصر رہیں۔ البتہ اپنے ہونٹوں کو مضبوطی کے ساتھ بھینچ رکھا تھا۔ جس کی شدت سے اْن کے جْھریوں بھرے بوڑھے چہرے پر اْتنی زیادہ جھریوں نے اپنا جال بْن دیا تھا کہ اب وہاں مزید کسی ایک اور جھری کی بھی گنجائش باقی نہ رہ گئی تھی۔ نہ معلوم میرے منہ سے نکلے لفظوں نے ماتا جی پر کیا اثر کیا ہونٹوں پر باندھا ضبط کا بندھن بھی ٹوٹ گیا۔ شدتِ جذبات سے وہ آگے بڑھیں اور میرے سینے سے لگ کر پھْوٹ پھْوٹ کر رونے لگیں۔ افلاکی سمیت کمرے میں موجود دیگر تمام نفوس کا چہرہ کورے لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا۔ مانو جیسے کاٹو تو قطرہ بھر لہو نہ نکلے۔ میں نے دھیرے دھیرے ماتا جی کو دلاسہ دیتے ہوئے صوفے پر بیٹھا کر خْود اْن کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ کافی دیر تک سب خاموش گم صم بیٹھے رہے۔ اچانک ماتا جی نے خموشی کا حصار توڑا۔ ’’مجھے معاف کردینا بیٹا۔۔۔۔۔ ، میں مانسیک تناؤ میں تھی اور میرا ہاتھ تم پر اْٹھ گیا‘‘۔
’’نہیں نہیں ماتا جی، ایسی کوئی بات نہیں۔ میں بھی تو آپ کے سْکھبیر ہی کی طرح ہوں۔ اگر آپ سکھبیر کی کسی بات سے ناراض ہو کر اْس پر ہاتھ اْٹھاتیں تو کیا اْس سے بھی معافی مانگتیں‘‘۔ یہ کہہ کر میں نے اْن کے ہاتھوں کو چْوم لیا۔ کچھ دیر مزید گہرا سناٹا چھایا رہا۔ ایک گہری سانس لیتے ہوئے ہمت مجتمع کی اور رنبیر اور ماتا جی کی جانب باری باری دیکھتا ہوا بولا۔ ’’دیکھیں میں یہاں پاکستان سے آپ کو یہ بْری خبر سنانے کے لیے ہرگز نہیں آیا۔ یہ کام تو میں وہاں سے فون پر بھی کرسکتا تھا یا افلاکی ہی آپ کو بتا دیتا۔ میں یہ کہانی اپنے اخباری کالم اور بلاگ میں شائع کردیتا تب بھی کسی نہ کسی طرح سے آپ تک اِسے پہنچ ہی جانا تھا۔ مگر میں یہاں ایک بہت خاص مدعا لے کر آیا ہوں‘‘۔
’’خاص مدعا؟۔۔۔۔۔۔!!!‘‘۔ رنبیر کے منہ سے نکلا۔
’’جی ہاں۔۔۔۔۔۔! ایک بہت ہی اہم ترین مدعا۔۔۔۔۔۔!!!‘‘۔ اتنا کہہ کر میں ایک بار رْکا اور اْن سب کی آنکھوں میں غور سے جھانک کر دیکھتا ہوا بولا۔ ’’میں یہاں اس ہمیشہ کی یودھ کو کسی نہ کسی طور ختم کرنے کی ایک مہم کا آغاز کرنے کی نیت لے کر آیا ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ کام کسی طور بھی ان نیتاؤں کے بس کی بات نہیں۔ نہ ہی یہ اْن کے مفاد میں ہے کہ یہ جنگ ختم ہو۔ یہ کام اب ہم جیسے سادھارن ناگریکوں ہی کو کرنا ہوگا۔ کیوںکہ یہ یودھ ہمارے ہی کے لیے ادھیک ہانی کارک ہے‘‘۔
’’بات تو جمیل بھائی آپ کی بالکل درست ہے مگر ایک عام شہری کر بھی کیا سکتا ہے؟‘‘۔ افلاکی جو اتنی دیر سے خاموش تھا اچانک بول پڑا۔
’’بھائی افلاکی۔۔۔۔ ، ایک عام شہری بھلے کچھ اور نہ کر سکے مگر اپنی اپنی حکومتوں کے غلط اقدامات کے خلاف آواز اْٹھا کر اسے غلط کام سے روک تو سکتا ہے‘‘۔
’’کونسا غلط کام؟‘‘۔ اب کی بار رنبیر بولا۔ ’’سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان اِس ویوادھ کا اصل کارن کیا ہے؟‘‘۔ میں نے وہاں موجود تمام لوگوں کی جانب باری باری دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کشمیر۔۔۔۔۔ !!!‘‘۔ سب کے سب ایک ساتھ بول اْٹھے۔ ’’مگر کشمیر تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘۔ فوراً ہی رنبیر کی بیوی بولی۔
وہ سب میری جانب گھورنے لگے۔ ایک لمحے کے لیے تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کہوں اور کیا نہ کہوں۔ اپنی بھوؤں کے درمیان انگْشتِ شہادت سے کْھجاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا۔ پھر خلاء میں گھورتے ہوئے بولا۔ ’’میں ابھی یہاں آ رہا تھا تو راستے میں میری نظر جواہر لال نہرو کے نام سے وابستہ نہرو پلینٹیریم پر پڑی۔ آج سے کوئی ستر سال قبل پنڈت نہرو جی کا وہ ٹیلی گرام یاد آ گیا جو کہ انہوں 1947ء میں ہمارے پردھان منتری شہیدِ ملت ان لیاقت علی خان کو روانہ کیا تھا۔ جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ کشمیر سے بھارتی افواج کو نکال لیں گے۔ وہاں کے عوام کو اْن کی مرضی کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کرنے کا مکمل حق بھی دیا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ میرا یہ وعدہ نہ صرف آپ سے بلکہ کشمیر ی عوام اور دنیا بھر سے ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہوتا تو نہرو جی کبھی وہ کچھ نہ کہتے۔ یہی وعدہ بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادوں میں بھی موجود ہے‘‘۔
’’جمیل جی آپ بھارت میں براجمان ہو کر ہمارے ہی دیش کے ورودھ کی بات کر رہے ہیں‘‘۔ اب کی بار رنبیر کا لہجہ قدرے تلخ تھا۔
’’دیکھیں رنبیر جی، ایسی بات نہیں۔ میں تو وہ بات دہرا رہا ہوں جو سچ ہے اور خود پنڈت نہرو جی نے کہی تھی۔ یہی وہ بات ہے جس کے سبب پاکستان و بھارت میں پچھلے ستر برس کے بعد بھی حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں جیسے تقسیم کے وقت تھے۔ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو یہ حالات آنے والے ستر سال بعد بھی ویسے ہی رہیں گے‘‘۔
’’تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ بھارت کشمیر پلیٹ میں رکھ کر پاکستان کو پیش کردے‘‘۔ اب کی بار بولنے والا کوئی اور نہیں افلاکی تھا۔
’’نہیں بھائی افلاکی، میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا۔ میرا کہنا تو یہ ہے کہ بھارت نے کشمیری عوام اور اقوامِ عالم سے جو وعدہ کیا تھا اْسے وفا کرے۔ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق فراہم کرے۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں بھارت اور پاکستان کو اْس کا احترام کرنا چاہیے۔ دیکھیں اگر کوئی ہمارے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتا تو ہم اْسے زبردستی، گولیوں، چھروں، غیر انسانی مظالم اور طاقت کے بے دریغ استعمال سے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ اْنہیں اْن کا حق دے دیا جائے تاکہ وہ جیسے چاہیں اپنی مرضی کے ساتھ خْوشی سے رہیں‘‘۔
’’تو کیا پاکستان بھی بلوچستان کو اپنی مرضی سے الگ ہونے کا حق دینے کو تیار ہے؟‘‘۔ اب کی بار رنبیر کی آواز میں بھرپور طنز کی کاٹ تھی۔
’’نہ تو بلوچستان میں کشمیر جیسے حالات ہیں اور نہ ہی کشمیر جیسی خونی تحریک چل رہی ہے۔ بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ کا منصوبہ جس کی مکمل تکمیل پاکستان کی معاشی صورت حال کے لیے بہت ہی سودمند ثابت ہوگی کو برباد کرنے کے لیے وہاں چند مٹھی بھر لوگوں کو خرید کر استعمال کیا جارہا ہے۔ کون استعمال کررہا ہے آپ سب بخوبی اْس سے واقف ہیں۔ بلوچستان کشمیر کی طرح سے نو گو ایریا نہیں۔ وہاں خْون میں ڈوبی وادیِ کشمیر کی طرح سے گذشتہ دو دھائیوں میں ڈھائی لاکھ بے گناہوں کو مارا نہیں گیا۔ نہ ہی یہ معاملہ اقوامِ متحدہ میں مسئلہِ کشمیر کی طرح سے گذشتہ ستر سال سے تصفیہ طلب ہے‘‘۔ میں کچھ دیر سانس لینے کو رْکا اور سب کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔ ’’جب تک بھارت کشمیریوں کو خود اپنے کیے وعدے کے مطابق اْن کا حق نہیں دے گا، کشمیر سمیت سرحد کی دونوں اطراف انگنت ماؤں کے نردوش سْکھبیر یونہی مرتے رہیں گے‘‘۔
’’مگر ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘‘۔ ماتا جی جو کہ اتنی دیر سے خاموش تھیں بول پڑیں۔
’’ماتاجی۔۔۔۔۔ ، اگر کوئی کچھ کر سکتا ہے تو وہ آپ ہی ہیں‘‘۔ میں نے اْن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ ’’جو وسائل عوام کی فلاح وبہبود میں استعمال ہونے چاہیں غیر ضروری جنگ اور اْس غیر ضروری جنگ میں جھونکنے کے لیے اربوں روپوں کے اسلحہ کی خریداری میں پھونک دیئے جاتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ ختم ہوگیا تو دونوں دیشوں کی غربت ختم اور جنتا خوشحال ہو سکتی ہے‘‘۔
’’ستیہ وچن‘‘۔ ماتا جی کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’اب تو کالج کے یووان شیکشک بھی کشمیریوں کے حق میں بولتے نظر آتے ہیں۔ آپ کو یاد نہیں ماتا جی ایک بار ہم ائیرپورٹ پر فلائیٹ کا انتظار کر رہے تھے ایک بڑے نیتا کو دیکھ کر وہاں موجود چند کشمیریوں نے پولیس اور سیکورٹی کی پروا کیے بناء ہی نعرے لگانا شروع کردیئے تھے، ہم کیا چاہتے ہیں؟ آزادی…!‘‘ ماتا جی کی دیکھا دیکھی ربنیر بھی بول پڑا۔
’’میرے ذہن میں اِس حوالے سے ایک پلان ہے‘‘۔ میں نے ہمت کر کے وہ سب کچھ کہہ دیا جو میں کہنا چاہ رہا تھا۔ گو کہ کام اتنا مشکل بھی نہ تھا مگر آسان بھی نہ تھا۔ اس سارے کھیل میں اصل کردار ماتا جی کا تھا اور مجھے توقع تھی کہ ماتا جی یہ سب سْن کر شاید گھبرا جائیں اور انکار کر دیں۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے میرے بتائے ہوئے طریقے پر عمل پیرا ہونے کی ہامی بھر لی۔
ہم وہاں سے نکلے تو میں ذہنی و جسمانی طور بہت تھک چکا تھا۔ فلائیٹ کی تکان بھی عود آئی تھی۔ افلاکی نے مجھے ہوٹل چھوڑا اور میں اپنے کمرے میں پہنچتے ہی سو گیا۔
اگلا روز امن کانفرنس کی تیاریوں ہی میں گزر گیا۔ دوسرے دن صبح نو بجے ایک مقامی آڈئٹوریم میں اْس تین روزہ امن کانفرنس کا افتتاحی دن تھا۔ مجھے پاکستان و بھارت کے درمیان روزافزوں بگڑتی صورت حال کی وجوہات اور اْس کے تدارک کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کرنا تھا۔ کانفرنس کا دن تو مکمل طور پر میرے پلان کے عین مطابق خیر و خوبی سے گزر گیا۔ البتہ رات لگ بھگ آٹھ بجے کے قریب جب میں سارے دن کی طوفانی مصروفیات کے بعد تھکا ہارا ہوٹل پہنچا تو کچھ ہی دیر بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سے مجھے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر فوری طور پر ملک چھوڑنے کا نوٹس سرو کروانے کے لیے مقامی پولیس آن پہنچی۔ جس کے تحت مجھے فوری طور پر بھارت سے نکل جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ پولیس کو ہدایت تھی وہ مجھے اپنی نگرانی میں اگلی دستیاب فلائیٹ سے ملک بدر کردیں۔
مجھے کسی حد تک خدشہ تو تھا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے ضرور کوئی سخت قدم اْٹھایا جائے گا۔ البتہ اس قدر جلد اور سخت قدم کی ہرگز توقع نہ تھی۔ ائیرپورٹ کے سارے راستے مجھے ماتا جی اور انعام الدین افلاکی کا خیال ستاتا رہا۔ یہ تو مجھے ائیرپورٹ پہنچ کر پتہ چلا کہ اْسی وقت جب پولیس میرے ہوٹل پہنچی۔ ماتا جی کو دیش کے دشمنوں کا ساتھ دینے اور انعام الدین افلاکی کو ایک بھارتی کو دیش کے خلاف ورغلانے والے غیرملکی کے سہولت کار بننے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں خود کو ملامت کیا کہ میری وجہ سے وہ دونوں بھی ایک بہت بڑی مشکل میں پھنس گئے۔ میں چاہتے ہوئے بھی اْن کے لیے کچھ کرنے سے قاصر تھا۔ کوئی تین گھنٹے بعد امیگریشن حکام نے پاسپورٹ پر ویزا کی منسوخی کے ساتھ ملک بدری اور آئندہ دس برس تک بھارت میں داخلے کی پابندی کی مہریں ثبت کر کے جہاز میں سوار کروا دیا۔ مجھے یہ سوچ سوچ کر ہول آتا رہا کہ نہ معلوم ماتا جی اور افلاکی کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہوگا۔
ماتا جی نے بھی کمال جرات کا مظاہرہ کیا تھا۔ میں نے افلاکی کی ڈیوٹی لگائی تھی وہ ماتا جی کو کانفرنس میں لے آئے۔ میں نے اپنے مقالے کو کم و بیش اْنہی نکات کے گرد رکھا جن کا تذکرہ میں اْس روز سْکھبیر کے گھر کر چکا تھا۔ اختتام پر کاغذات کا پلندہ ایک جانب سرکاتے ہوئے عینک اْتار کر ڈائس پر رکھی اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک مدعوبین سے کھچا کھچ بھرے ہال پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
’’بفضلِ خدا! پاکستان کو قائم ہوئے ستر سال ہونے کو آ رہے ہیں پاکستان ایک حقیقت ہے۔ اب ستر سال بعد اس حقیقت کو کھلے دل سے قبول کرلیا جانا چاہیے۔‘‘
پھر میں نے سْکھبیر اور اْس سے اپنے تعلق کا مختصراً ذکر کیا۔ میرے اعلان پر افلاکی ہاتھ تھام کر ماتا جی کو ڈائس پر لے آیا۔ ماتا جی نے اپنے تھیلے میں سے سْکھبیر کی تصویر نکال کر اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لی اور گلوگیر انداز میں یوں سْکھبیر کا ذکر کیا اْس نے وہاں موجود لوگوں کی آنکھیں نم کردیں۔ پھر بڑے ہی جوشیلے انداز میں اس آپسی دشمنی کو ختم کرنے اور کشمیریوں کو اْن کا حقِ خْود ارادیت دیئے جانے کے حق میں بھرپور بھاشن دے ڈالا۔ یہ سْن کر وہاں موجود لوگوں کو کچھ دیرکے لیے تو سانپ سونگھ گیا۔ مگر پھر تھوڑی دیر بعد جب سب کو ہوش آیا تو افلاکی اور میں نے بڑی مشکلوں سے ماتا جی کو وہاں سے بخیریت نکال کر گھر روانہ کیا۔
کراچی پہنچتے ہی تمام تر صورت حال کو اخباری کالم اور بلاگ پر اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کردیا اور ماتا جی کے جراتمندانہ کردار کی بھرپور تعریف کی۔ اس دوران امن کانفرنس میں جو کچھ ہوا، دونوں ممالک کے ٹی وی چینلوں نے اْسے پہلے ہی بریکنگ نیوز کے طور پر پیش کردیا تھا۔ ماتا جی اور افلاکی کی گرفتاری کے علاوہ میری ہندوستان بدری کو بھی خبروں میں نمایاں طور پر شامل کیا گیا۔ اب یہ اور بات ہے کہ متعدد بھارتی نیوز چنیلوں نے مجھ پر پاکستانی جاسوس اور بھارتی شہریوں کو ورغلانے کے الزامات عائد کرتے ہوئے نیوز ٹاک شوز کے اینکروں نے حسبِ عادت نہایت ہی گھن گھرج کے ساتھ پاکستان اور میری ذات کو نشانہ بنایا.
البتہ اِس دوران اچھی بات یہ ہوئی کہ “نئی روشنی” اور اْس جیسے دیگر روشن خیال اخبارات و نیوز چینلز کی درست رپورٹنگ کے سبب بھارت بھر میں بلعموم اور نئی دہلی میں بلخصوص سول سوسائٹی نے ماتا جی کی باتوں کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے اْنہیں فوری طور پر رہا کرنے کے لیے مظاہروں کا آغاز کر دیا۔ چند ہی دنوں بعد حکومت کو نہ چاہتے ہوئے بھی ماتا جی اور افلاکی کو رہا کرنے پڑا۔
ماتا جی جیل سے رہا ہو کر کیا آئیں۔ اْنہیں بھارت بھر کی اْن تمام ماؤں نے جن کے جوان سپوت جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے اپنا لیڈر تسلیم کر کے ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی جسے ’’ماتا موومنٹ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ بھارت بھر کی ماتائیں اس تحریک کے جھنڈے تلے متحد ہونا شروع ہوگئیں۔ کشمیریوں پر جاری جبر و مظالم کے خاتمے کے ساتھ اْنہیں اپنے حق کا فیصلے کرنے کا اختیار دیئے جانے کا مطالبہ اس زور و شور سے کرنا شروع کیا حکومت کو اْسے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ کئی بار تحریک کے جلسوں اور ریلیوں پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوں کی برسات بھی ہوئی۔
میرا رابطہ ماتا جی اور افلاکی سے شوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے توسط سے جاری تھا۔ بھارت میں شائع ہونے والے میرے کالم پر پابندی عائد ہو چکی تھی۔ البتہ میرا انٹرنیٹ بلاگ دونوں جانب بہت بڑی تعداد میں پڑھا جا رہا تھا۔ بھارت پر بین الاقوامی طور پر کشمیر کے حوالے سے دباؤ دن بدن بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ سرکار کسی طور پر جھکنے کو تیار نہ تھی۔ سو لاٹھی، گولی اور آنسو گیس کی سیاست پورے زور و شور سے جاری رہی۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھر میں مسلمانوں پر بھی کبھی گئو ماتا کی بے حرمتی کے نام پر ظلم و ستم توڑتے جاتے۔ تو کبھی مسلم پرسنل لاء کے ذریعہ اْنہیں نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کوئی دن نہ جاتا تھا جب گائے کے حوالے سے کسی مسلمان پر تشدد کی خبر نہ آتی ہو۔ بات صرف تشدد تک ہی محدود نہ رہ گئی تھی۔ دن دھاڑے گائے ذبح کرنے کے الزام میں بے گناہ مسلمانوں کو قتل تک کر دیا جاتا۔
اگلے تین برس تک یہ سلسلہ یونہی جاری رہا۔
یہ جنوری 2019ء کی بات ہے۔
’’ماتا موومنٹ‘‘ کے ایک جلسے میں گولی چلی اور ماتا جی کے سورگباشی ہونے کا سبب ٹہری۔ یہ ایک بہت ہی افسوسناک واقعہ تھا۔ سارے بھارت میں کھلبلی مچ گئی۔ بلا تخصیص ہر کسی کی جانب سے اِسے سرکاری جماعت کی کارستانی قراد دیا جانے لگا۔ ماتا جی کی شخصیت اِس دوران بین الاقوامی شہرت اختیار کر چکی تھی۔ کشمیر میں امن اور کشمیریوں کو اْن کا حقِ خود ارادیت دلوانے کی اْن کی جدوجہد میں بلا آخر اپنی جان کا بلیدان دے کر اْنہوں نے تحریک کو ایک اہم ترین موڑ دے دیا تھا۔ دنیا بھر کے اخباری و برقی میڈیا نے اس خبر کو بہت زیادہ اہمیت دی۔ بین الاقوامی امن تنظیموں کی جانب سے اْن کے لیے بعد از مرگ امن ایوارڈ کے اعلانات آنے شروع ہو گئے۔ وہ لوک سبھا کے انتخابات کا سال تھا۔ ماتا جی کا بلیدان رنگ لایا اور لوک سبھا کے انتخابات میں برسرِ اقتدار جماعت کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک بھر میں لوگوں نے “عام آدمی پارٹی” پر اپنے ووٹوں کی بارش کردی اور حکومت میں لے آئے۔ بین الاقوامی طور پر بھارتپر کشمیر کے معاملے میں بہت زیادہ دباؤ بڑھ چکا تھا۔ نومنتخب جماعت نے اگلے سال کے وسط میں اقوامِ متحدہ کے زیرِنگرانی اور عالمی مبصرین کی موجودگی میں کشمیر میں استصوابِ رائے کروانے کا اعلان کردیا۔ پچپن فیصد کشمیری عوام نے ایک خْود مختارریاست بن کر رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ صرف پانچ فیصد ووٹ ہندوستان کے ساتھ اور چالیس فیصد ووٹ پاکستان کے حق میں پڑے۔
جیسے ہی اقوامِ متحدہ کے متعین کردہ نگران کمیشن نے نتائج کا اعلان کیا۔ پاکستان نے سب سے پہلے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے نتائج کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کردیا۔ ہندوستان کی جانب سے بھی اْسے کھلے دل سے تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا گیا۔
اگلے تین چار برس میں ہی اس اہم ترین واقعے کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے۔ آزاد ریاستِ جموں و کشمیر میں قائم کشمیریوں کی نمائندہ حکومت کے اقدامات کے سبب خطہِ کشمیر جو کہ پہلے ہی جنت نظیر کہلاتا تھا اب دنیا بھر کے سیاحوں کی جنت قرار پایا۔ اس قلیل عرصے کے اندر سیاحت کا شعبہ کشمیر کی اہم ترین صنعت بن گیا۔ دنیا بھر اور بطورِ خاص امریکا، کینیڈا اور پورپ سے کثیر تعداد میں آنے والے سیاحوں کو کشمیر اپنے بے پناہ قدرتی حسن کے سبب بے حد پْرکشش دکھائی دیا۔ دنیا کے دیگر مقامات کے مقابلے میں قیمتوں کے حساب سے بھی بے حد ارزاں محسوس ہوا۔ ساتھ ہی کشمیری قالین بافی اور دیگر گھریلو نوعیت کی صعنتوں نے دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرنا شروع کردی۔ روزگار کی فراوانی کے سبب کشمیری عوام کا معیارِ زندگی بلند ہوا اور تیزی کے ساتھ خوشحالی کے اثرات نمایاں طور پر نظر آنے لگے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بھی جھاگ کی طرح سے بیٹھتی چلی گئی۔ جنگی کشیدگی سے فراغت ملی تو دونوں ممالک نے اپنے فوجی بجٹ کو پچھتر فیصد تک گھٹا کر وہ رقم اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا شروع کر دی۔ صرف تین برسوں ہی میں دونوں ممالک نے ترقی کے وہ ثمرات ملاحظہ کیے جو کہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران بھی دیکھنے میں نہ آئے تھے۔ تعلیم کے شبعے کے لیے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ مختص ہو چکا تھا۔ صحت کے شعبے میں بھی کماحقہ طور پر کام ہونا شروع ہو گیا۔ سڑکوں، پلوں اور ڈیموں کے منصوبے نہ صرف بنائے گئے بلکہ اْن پر تسلی بخش رفتار کے ساتھ کام شروع ہو چکا تھا۔ دونوں ممالک میں روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراوانی ہوئی اور اْس کا ثمرعام آدمی تک پہنچا۔
دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ ادبی، تقافتی، صحافتی، تجارتی، صنعتی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر وفود کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر نہ صرف کام شروع ہوا بلکہ کئی اہم ترین پروجیکٹ پایہِ تکمیل کو پہنچے۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب یہ خوش آئند مشترکہ فیصلہ کیا گیا کہ باہمی آمدروفت میں بیجا پابندیوں سے اجتناب برتتے ہوئے دونوں اطراف کے عوام کو متعلقہ سرحدوں پر ہی انٹری ویزا جاری کیا جائے۔ جس کے لیے یکم جنوری 2025ء کی تاریخ کا تعین کیا گیا۔
’’خواتین و حضرات توجہ فرمائیں۔ جہاز کچھ ہی دیر میں ممبئی کے چترا پتی ہوائی مستقر پر اْترنے والا ہے۔ تمام مسافروں سے درخواست ہے کہ حفاظتی بندھ باندھ لیں‘‘۔
فضائی میزبان کی نرم و شائستہ آواز نے مجھے چونکا دیا اور میں کھڑکی سے نیچے جھانک کر ممبئی شہر کی روشنیوں کو پْرشوق نگاہوں سے دیکھنے لگا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close