Naeyufaq Dec-16

انٹریو(اشفاق احمد)

صبا ایشل

اشفاق احمد خان
ننکانہ صاحب میں پیدا ہونے والے اشفاق احمد خان کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ جانباز’ ہادی اور سرفروش جیسے ناولوں کے خالق جن کی تحریروں نے ایک نسل کی نظریاتی تربیت کی ہے۔
نامورادیب پروفیسر محمد یونس حسرت کے بیٹے ہیں۔ جنہوں نے سو سے زائد کتابیں لکھیں اور اپنی نوعیت کا منفرد ڈرامہ ’’بھوت بنگلہ‘‘ لکھا یہ وہ و احد ڈرامہ ہے جس کے کرداروں میں کوئی عورت شامل نہ تھی۔ تیرہ اقساط پر مشتمل یہ ڈرامہ سیریل تین مرتبہ نشر کیا گیا۔ اشفاق احمد خان 1989 میں معروف ڈائجسٹ پیغام کے لئے لکھنا شروع کیا۔
1991 میں معروف ادارے فیروز سنز کے رسالے تعلیم و تربیت سے بطور ایڈیٹر وابستہ ہوئے۔
1992 میں پیغام ڈائجسٹ کو بطور مدیر جوائن کیا۔ اشفاق احمد خان کی ادارت کے دوران پیغام ڈائجسٹ نے ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا اور چار مرتبہ بچوں کے بہترین رسالے کا ایوارڈ حاصل کیا۔
بچوںکے لئے ان کی لکھی گئی کتابوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ ان کی کتابوں میں سے “خادم خاص” کو بہترین کتاب کا ایوارڈ مل چکا ہے۔
بیسٹ رائٹر ایوارڈ جیت چکے ہیں۔
معروف رسالے آنکھ مچولی سے بطور ایڈیٹر وابستہ رہے۔
نمل (numl) سے ایم۔ اے اردو اور اسلامیات یونیورسٹی بہاولپور سے ایم۔ اے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری حاصل کی۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (Lums) سے کی اسٹڈی میتھڈ کورس کیا۔
بہت سے سمعی اور بصری ڈراموں کے اسکرپٹ لکھ چکے ہیں۔
آج کل آفاق کے پروجیکٹ آفاق انسائیکلو پیڈیا کے مدیر کی ذمہ داری انجام دے ر ہے ہیں۔ (یہ انسائیکلو پیڈیا بیک و قت چار زبانوں میںپبلش ہوتاہے)
اشفاق احمد خان کے چاہنے والوں نے ان سے کچھ سوالات کیے جو قارئین کیلئے من و عن پیش کئے جارہے ہیں۔
افشاں شاہد (لکھاری)
بچوں کے لیے لکھتے وقت کن چیزوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اشفاق احمد خان: بچوں کے لیے لکھنا آسان نہیںکا فی مشکل ہے، اسی لیے بڑوں کے لکھنے وا لے بچوں کے لیے لکھنے کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ بچوں کے لیے لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی قوت مشاہدہ اچھی ہو، آ پ بچے کی نفسیات سے آ گاہ ہوں، بچوں کے مسائل او ر ان کے علاج پر آپ کی نگاہ ہو، دور جدید میں بچوں پر ہونے والی تحقیق سے بے بہرہ نہ ہوں۔ آپ وسیع المطالعہ ہوں، زبان و بیان پر عبور ہو، بچوں کے قومی اور بین الاقوامی ادب پر آپ کی نگاہ ہو۔ تب آپ اچھا ادب تخلیق کر پائیںگے۔
شہباز اکبر الفت (لکھاری و شاعر)
آپ کی تحریرو ں میں اسلاف کے کارناموں کی جھلک، اصلاحی و اخلاقی تربیت کے پہلو اور ہلکے پھلکے مزاح کا جو واضح رنگ نظر آتا ہے وہ آپ کا فطری انداز تحریر ہے یا اپنے عظیم والد بزرگوار کے ادبی ذخیرہ سے مستعار ہے؟
اشفاق احمد خان: اس رنگ کی کئی وجوہات ہیں۔ والد صاحب کی تربیت کا تو جو اثر ہے وہ تو مسلمہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ادب کی کچھ نابغہ روزگار ہستیوں کا بھی اہم کردار ہے۔ ان میں تعلیم و تربیت کے ایڈیٹر جناب سعید لخت مرحوم جناب اسحاق جلال پوری (جن کی تدریسی کتب ہر ٹیکسٹ بک بورڈ میں شامل رہی ہیں) جناب حفیظ الرحمن احسن ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ارشاد صدیقی اور جناب سید سلیم شامل ہیں۔ اتنے باکمال لوگوں کا فیض ہے کہ میرے قلم سے بھلائی، اچھائی اور تربیت کے سوا اور کچھ نکلتا ہی نہیں اور میری زندگی کا مقصد بھی یہی ہے، میں بچوںکے لکھاری کے طور پر پہچانے جانے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔
بلاشبہ آپ نے ادب اور ادارت کے شعبہ میں کڑی محنت اور ریاضت کے بعد اپنی ایک منفرد اور الگ تھلگ پہچان بنائی، دو عشروں سے زائد عرصہ پر محیط یہ سفر کیسا رہا؟
اشفاق احمد خان: یہ سفر بہت کٹھن رہا، ادارتی امورکی انجام دہی میں لوگوں کی، خاص طور پر نامور ادیبوںکی تحریروں کی ایڈیٹنگ ایک چیلنج ہوتا تھا، اور ان کی ناراضی کا اندیشہ بھی. لیکن الحمدللہ ایک وقت آیا کہ ان کا اعتماد حاصل ہو گیا انہیں میری ادارت اور میرے کام کی کاملیت پر یقین آ گیا اس کے بعد پھر مڑ کے نہیں دیکھا۔
سنبل بٹ
سر آپ کے نزدیک ایک اچھا رائٹرکیسا ہوتا ہے؟
اشفاق احمد خان: اچھا رائٹر وہ ہے جو کہانی لکھتے ہوئے زمینی حقائق سامنے ر کھے، حا لات کو معروضی انداز میں پیش کرنے کا ہنر جانتا ہو۔ اس کے اندر الفاظ کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا ایک سمندر ہی کیوں نہ ہو، وہ اپنی علمیت کے ا ظہار کے بجا ئے اپنے قارئین کی ذہنی سطح کو سامنے رکھے، سادہ، آسان اور دلکش لہجے میں لکھے اور رہوار ِقلم پر اپنی گرفت قائم رکھے، اسے بیمار نہ ہونے دے۔ بیجا تکرار سے گریز کرے، اسے جامع اور مختصر لکھنے کا فن آتا ہو اور جو بھی لکھے، اس کا کچھ نہ کچھ مقصد بھی ہو۔ بڑے بڑے ادیبوں کی تحریریں اٹھا کے دیکھ لیں، آپ کو ان میں یہ خوبیاں جا بجا نظر آئیںگی۔
آپ کی کوئی فیورٹ کتاب اور آپ رات کو مطالعہ کرکے سوتے ہیں؟
اشفاق احمد خان: پسندیدہ کتاب ایک نہیںبہت ہیں۔ لیکن مختار مسعود کی آواز ِدوست، قدرت اللہ شہاب کی شہاب نامہ، ممتاز مفتی کی لبیک، کرنل محمد خان کی بزم آرائیاں، مشتاق یوسفی کی چراغ تلے اور سب کے پڑھنے کے لیے ایک اہم کتاب: مولانا وحید الدین کی کتاب : راز حیات رات کو پڑھ کر سونے کی عادت نہیں، اب کبھی کبھار پڑھ پاتا ہوں رات کو۔ دن میں پڑھتا رہتا ہوں۔
راؤ رفاقت علی
سرجی آپ کا تعلق کس کاسٹ سے ہے؟
اشفاق احمد خان :راؤ صاحب آپ کی ہی برادری سے تعلق ہے۔
سب سے پہلے آپ کو کس ادارے میں جاب کرنے کا موقعہ ملا؟
اشفاق احمد خان: سب سے پہلے میں نے دوستوںکے ساتھ مل کر ایک اسکول بنایا تھا راولپنڈی میں۔ وہ تین سال تک چلایا۔ پھر واپس لاہور آگیا۔ اس کے بعد حرا سکول سسٹمز کے ایجوکیشنل پراجیکٹ میں ریسرچ اسکالر کے طور پر کام کیا۔ وہاں سے تعلیم و تربیت میںگیا۔ پھر اس کے بعد ایک طویل سلسلہ ہے۔
بچوںکا ادب جو اب تخلیق ہو رہا ہے اس میں اور آج کے تخلیقی ادب میں آپ کیا سمجھتے ہیںکیا فرق ہے؟ کیاآپ آج کے ادب سے مطمئن ہیں یا اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے؟
اشفاق احمد خان: بچوںکا ادب جو اب تخلیق ہو رہا ہے، اس میں اور پہلے کے ادب میں بہت زیادہ فرق ہے۔ پہلے تخلیق ادب کا مقصد بچے کی کردار سازی تھی اس کے لکھنے والے بڑے منجھے ہوئے معروف مصنفین تھے۔ وہ لوگ اپنے اندر لائبریریاں ہضم کیے ہوئے تھے۔ ہر موضوع پر ہرفن مولا تھے وہ لوگ۔ ابھی زیادہ تر روایتی ادب لکھا جا رہا ہے۔ ایسا ادب جس میں اثر آفرینی کچھ زیادہ نہیں ہے۔ ابھی ہمارے لکھنے والے کے پاس پڑھنے کا وقت نہیں، پڑھے بغیر، دنیا میں شائع ہونے والے ادب کو جانے بغیر، اچھی کہانی کیسے لکھی جا سکتی ہے۔ مصنف کو خود کو زرخیز بنانے کے لیے، اپنے اندر مطالعے کی کھاد ڈالتے رہنا چاہیے۔ آج کے ادب میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ موضوعات کا تنوع، بلند تخیل پرواز، زبان و بیان میں بہتری، تحریر بلحاظ عمر، یہ چیزیں درکار ہیں آج کے مصنفین میں بہت کم لوگ ان چیزوں کا خیال رکھ پا رہے ہیں۔
آپ کی تحریروںکی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ لیکن آپ کی وہ کون سی ایسی تحریر ہے جو آپ کے دل کے سب سے زیادہ قریب ہے؟
اشفاق احمد خان: تعلیم و تربیت میں ایک کہانی شائع ہوئی تھی۔ ایسا مت کرنا۔ وہ مجھے وہ بہت پسند ہے، کیونکہ اسے لکھتے ہوئے ایک مرحلے پر خود میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
سر ایک پرسنل سوال غصہ کم آتا ہے زیادہ؟ غصہ آجائے تو کیسے کنٹرول کرتے ہیں؟
اشفاق احمد خان: غصہ کم آتا ہے۔ اگر آتا ہے تو توجہ، مقام، یا بات تبدیل کرکے اسے کم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ویسے لاحول ولا قوۃالا باللہ العلی العظیم سے بھی مدد ملتی ہے۔
کہکشاں صابر (لکھاری)
سرآپ جو لکھتے ہیں اس میں آپ کے جذبات بھی شامل ہوتے ہی ہوں گے۔مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کتنا فیصد آپ کی تحریر میں آپ کی دیکھی ہوئی حقیقت ہوتی ہیں اور کتنا فیصدآپ اپنے جذبات، اپنی سوچ اپنی تحریر میں قلمبندکرتے ہیں؟
اشفاق احمد خان: محترمہ کہکشاں، لکھنے کا کمال یہ ہے کہ آپ کہانی لکھتے ہوئے اس میں ڈوب جائیں، اس کہانی کا ایک کردار بن جائیں، لکھتے ہوئے ایسا لگے جیسے وہ واردات، وہ واقعہ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ مشکلات، وہ کٹھنائیاں آپ کے اوپر وارد ہورہی ہیں۔ کہانی آتی کہاںسے ہے؟ ہمارے ارد گرد کے ماحول سے، خبروں سے، واقعات سے۔ سینہ گزٹ سے بہت سے واقعات حقیقی ہوتے ہیں بس نیت خود اپنی ہوتی ہے۔
صباء عیشل
اپنے ناولز جانباز، ہادی اورسرفروش کے بارے میں کچھ بتائیں۔ ان کو لکھنے کاخیال کیسے آیا؟ اور ان کو لکھنے کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
اشفاق احمد خان: مدیر کے طور پر میری خواہش تھی کہ رسالے میںکوئی ایسا ناول شائع ہو جو ہمارے بچوںمیںجذبہ حب الوطنی پیدا کرے۔ اس خواہش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ملت اسلامیہ کا سرخیل ہے،اس کی بنیاد جس کلمے پر پڑی، اس کلمے کے ماننے والے دنیا کے ہر خطے میںموجود ہیں اور ان سب کی امیدیں پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر بری طرح سے گھرا ہوا ہے۔ اپنوں اور غیروں کی کوشش ہے کہ اسے کمزور تر بنا دیا جائے یہاں تک کہ اس کا وجود مٹ جائے۔ اس تکلیف دہ امرکی اذیت نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔
میرے ناول اسی احساس کے تحت لکھے گئے اور ان کا مقصد نوجوانوں کو ان قومی و بین الاقوامی سازشوںکی تصویر دکھانا ہے۔ خود لکھنے سے قبل، میں نے مختلف مصنفین سے ناول لکھنے کے لیے رابطہ کیا کچھ اقساط موصول ہوئیں تو اندازہ ہوا کہ میرے وہ معاصر دوست بہت منجھے ہوئے قلمکار ہیں۔ لیکن جو ہماری خواہش ہے، شاید وہ اس کے تقاضے سمجھ نہیں پائے۔ تین صاحب طرز دوستوںسے مایوس ہو کر خود ہی قدم اور قلم اٹھا لیا۔ یہاں میں ایک چیز پوری یکسوئی کے ساتھ کہنا چاہوںگا۔ ملک کے حالات جیسے بھی ہوں، تکلیفیں ہوں، سیلاب، زلزلے ہوں یا مہنگائی کا طوفان۔
یہ سب اس ملک میں رہنے والوں کی وطن سے محبت میں ذرہ برابر کمی نہیں لاسکتے۔ میری تقریباً سب کہانیوں اور ناولوں کا خمیر اسلام اور وطن کی مٹی سے اٹھا ہے۔
اسکول کالج میں کیسے طالب علم رہے؟ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے؟
اشفاق احمد خان :اسکول اور کالج میں میں، اوسط درجے کا طالب علم تھا، کچھ خاص کار ہائے نمایاںنہیںکیے۔شاید اس کی وجہ اوائل عمری میں اس شعبے میں قدم رکھنا تھا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ چل رہا تھا سو اسی جانب توجہ رہی۔ بی اے کے بعد تعلیم و تربیت سے بحیثیت مدیر وابستہ ہوا۔ اردو اور پولی ٹیکل سائنس میں ایم اے بعد میںکیے۔غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتا رہا، کالج کی فٹ بال ٹیم کا کپتان تھا۔ اسکائوٹ بھی رہا، کالج کی اسکائوٹ ٹیم کا انچارج تھا۔ اس کے علاوہ یوم اقبال پر مصوری کے مقابلے میں پہلا انعام جیتا، خطاطی میں بھی پہلا انعام لیا۔ کالج کی سائنٹیفک سوسائٹی کا بھی صدر رہا۔
آپ کیا سمجھتے ہیں ایک طالب علم کے لئے غیر نصابی سرگرمیاں کتنا ضروری ہیں؟
اشفاق احمد خان:غیر نصابی سرگرمیوں کی مثال تازہ ہوا کی طرح ہے، جیسے صحت کے لیے تازہ ہوا اورآکسیجن ضروری ہے۔ ایسے ہی غیر نصابی سرگرمیاں ضروری ہیں۔ یہ سرگرمیاں آدمی کے دل و دماغ کو ترو تازہ رکھتی ہیں۔ ہمیں بچوں کو غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف مائل کرنا چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
پہلی کہانی کس عمر میں تخلیق کی؟ اور کس سے متاثر ہو کر لکھنا شروع کیا؟
اشفاق احمد خان: جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، میری پہلی کہانی پیغام ڈائجسٹ میں 1986ء میںشائع ہوئی تھی۔
اس کی اشاعت کے پیچھے بھی ایک دل چسپ کہانی ہے۔
آپ اپنے احباب میں انتہائی متحمل مزاج مشہور ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں یہ خوبی فطرتا ہے یا اس کے لئے کو شش کرنی پڑتی ہے؟
اشفاق احمد خان: تحمل اور برد باری کے اوصاف فطری بھی ہوتے ہیں اور کسی بھی۔ فطرت مہربان ہوجائے تو یہ کمال زندگی کو ستاروں کی بلندی تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ زمانے کی تلاطم خیز موجیں، حوادث زمانہ و حوادث فسانہ دونوںہی آدمی میں یہ ہنر پیدا کردیتے ہیں۔اس ہنر کو پیدا کرنے میں آنکھوں اور جذبوں کی تپش کو راکھ کرنا پڑتا ہے خونِ جگر برفاب کرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر یہ عکس بنتا ہے۔
لکھنا ایک فن ہے۔ جو لوگ یہ فن سیکھنا چاہتے ہیں یا اپنے اس فن میں مزید بہتری لانا چاہتے ہیں ان کیلئے آپ کا پیغام؟
اشفاق احمد خان: ان لوگوں کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ جو وقت آپ کے ہاتھ میں ہے اس سے ان مولچیز اور کوئی نہیں، اس کی قیمت کو پہچانیے اور خود کو اس کی مدد سے مزید قیمتی بنائیے۔
فن کوئی بھی سیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس فن کے تقا
ضے پورے کرنے پڑتے ہیں تب ہی کاملیت کا درجہ ملتا ہے۔ ڈاکٹر، وکیل یا انجینئر پورا نصاب پڑھ کے کامیاب ہوتے ہیں، درزی، لوہار یاجفت ساز اس شعبے کے سارے اسرار و رموز سیکھ کر کام کا آغاز کرتے ہیں، تو لکھنے کا شعبہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ ہم لکھنے کا فن سیکھیں پھر لکھنے کا آغاز کریں۔لکھنے سے پہلے پڑھنا ضروری ہے، خوب پڑھیے بہترین نثر نگاروں کی شاہکار تحریریں،ناول، شعرا کی کلیات، سب پڑھ ڈالیں اور پڑھنا بھی ایک خاص طریقے سے ہے۔ جو لفظ یا جملہ دل کو اچھا لگے،ندرت خیال کا مظہر ہو، اسے اپنی ڈائری میں لکھ لیں۔
اس کے بعد بار بار ان کو پڑھتے، دہراتے اپنے اندر جذب کر لیں۔ صرف ایک سال یہ عمل کر کے دیکھ لیں۔ ان پٹ ایسی ہو گی تو آئوٹ پٹ کتنی ہوگی آپ کی تحریر منہ سے بولے گی کہ وہ کسی منجھے ہوئے قلم کار کے قلم سے نکلی ہے۔بین الاقوامی ادب کا مطالعہ کریں۔ ترجمہ کرنے کا فن سیکھیں۔ زبان و بیان پر عبور حاصل کریں۔ ان شاء اللّہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close