Naeyufaq Dec-16

گفتگو

اقبال بھٹی

عزیزان محترم… سلامت باشد

دسمبر کا نئے افق حاضر مطالعہ ہے کوشش ہے کہ سیاسی، معاشی، نفسانفسی کے دور میں کسی حد تک نئے افق کے ذریعے آپ کو چند گھڑیاں سکون کی فراہم کرسکیں، ملک میں اک افراتفری سی مچی ہوئی ہے، کہیں قومی سلامتی کا مسئلہ ہے تو کہیں پانامہ لیکس کا شور ہے کبھی بھارتی جارحیت کا خطرہ نظر آتا ہے تو کہیں دہشت گردی کا عفریت بے گناہ جانیں لے رہا ہے۔ اس سے ذہن ہٹائو تو مہنگائی کا اژدھام عام آدمی کو نگلنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔ ہر شے کے دام آسمان پر نظر آتے ہیں ایسے میں ہماری کوشش ہے کہ عوام کو اب بھی پچاس روپے میں سستی اور اچھی تفریح فراہم کی جائے ہم اب تک تو اس میں کامیاب ہیں، کوشش ہے کہ آئندہ بھی اس میں کامیاب رہیں ہر پرچے کی کامیابی کے لیے اشتہارات اہم ہوتے ہیں لیکن بد قسمتی سے نئے افق اس معاملے میں کامیاب نہیں، اشتہارات کی کمی کے باعث ہم منافع تو دور کی بات خرچہ پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے، دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت دے۔
اس ماہ ہم پاک بھارت اختلافات کے پس منظر میں امین بھایانی کا ایک خوب صورت افسانہ دے رہے ہیں جو وقت کی ضرورت ہے امید ہے دونوں طرف کے ادیب اور دانشور اس پہلو پر ضرور سوچیں گے۔ عوام ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے بس ایک طبقہ ہے دونوں طرف جو جنگ کے شعلے بھڑکا رہا ہے جن کی سیاست اور زندگی کا مقصد ہی یہی ہے کہ عوام میں نفرتوں کو ہوا دو اور خوب کمائو، ہمیں مل کر اس سوچ کو ختم کرنا ہے۔ ان شاء اللہ آپ بہت جلد معروف مصنف، شاعر اور ڈرامہ نگار امجد بخاری کی پر اسرار سلسلے وار کہانی گورکھ دھندا نئے افق کے صفحات پر ملاحظہ کریں گے جو یقینا آپ کے مزاج پر پورا اترے گی۔
اب آئیے اپنے خطوط کی طرف پہلا خط ہے ایم اے راحیل کا لکھتے ہیں۔سلام مسنون!اُمید کرتا ہوں مزاج بخیرہوں گے ۔اللہ تعالیٰ شر پسندوں کے شر سے محفوظ رکھے اور دین اسلام کے اُصولوں پر زندگی بسر کرنے کی توفیق دیتا رہے آمین ثم آمین ۔نئے اُفق نومبر کا میرے ہاتھوں میں ہے اور آج یکم نومبر کی شام ہے صفر المظفر کا چاند نظر آگیا ہے اور اپنے لئے ،دوستوں کے لئے اور اہل اسلام کی کامیابی اور کامرانی کے لئے دُعائیں کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہماری دُعائوں میں اثر رکھ دے آمین !دستک میں جناب مشاق احمد قریشی صاحب خوبصورت الفاظ میں پاکستان اور پاکستان دُشمنوں کا نقشہ کھینچا ہے، میں آپ کے ساتھ مکمل اتفاق کرتا ہوں ،پاکستان کا چراغ دُشمنوں کی پھونکوں سے نہیں بجھے گا۔اللہ تعالیٰ اپنی آستین کے سانپوں سے بھی بچائے رکھے ۔ملک میں افراتفری کا عالم ہے ۔سیاستدانوں نے پاکستان کو اکھاڑا بنا دیا ہے اور روز نئی کُشتی ہو رہی ہوتی ہے ۔میں جناب مشتاق احمد قریشی سے درخواست کروں گا کہ اِن اپنوں کو بھی ذرا شرم دِلائیں کہ کُرسی کے چکر میں عوام کا کچومر نہ بنائیں اور عوامی لیڈر بن کر ملک و قوم کی خدمت کریں۔ امریکا جو کچھ بھی ہے لیکن وہاں کے الیکشن سب دیکھتے ہیں ،کیسے پُرامن ہوتے ہیں اور جیت ،ہار کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔اور یہاں۔۔۔۔۔؟گفتگو میں عمران احمد قریشی صاحب نے خوبصورت لہجے میں ہمارے سوئے ضمیروں کوجگایا ہے ۔احسن ابرار رضوی سرفہرست تھے ۔خط پیارا تھا ،دوسرا نمبر میرا تھا۔بہت سے دوستوں نے محبت سے بلایا تو ہم رہ نہ سکے ۔سو چلے آئے اور میرے دوبارہ آنے سے کئی میرے عزیز دوست پانی پانی ہو گئے ہوں گے ۔عبدالحمید ،مجیداحمد جائی ،صائمہ نور،ممتاز احمد ،ریاض بٹ،عمر فاروق ارشد،عبدالجبار رومی انصاری،شجاعت حسین شجاع،ریاض حسین قمر،حسین جاوید کے خطوط تبصرے سے بھر پور تھے ۔مسکان بھٹی اصل میں مسکا بھٹی ہیں ،موصوف چہرے پہ نقاب لگائے آن وارد ہوئے ہیں ۔چہرے پہ چہرہ سجالینے سے اصلیت نہیں چھپتی اور آپ کے الفاظ سے ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ صرف ایک ہی شخص کے پیچھے پڑئے ہوئے ہیں ۔آپ پہ یہ مثل صادق آتی ہے ،منہ مومنا اور کرتوت کافراں۔اقراء ضمیروں کو جگانے کے لئے کافی ہے ۔انٹرویو میں اچھے اچھے سوالات اور جوابات تھے ۔مرگ قبل از مرگ ،اچھی تحریر تھی ،ایسا ہمارے ملک میں نہیں ہوتا ورنہ کئی مرنے والے زندہ ہو جاتے ۔حسن دو آتشہ تاریخی کہانی اعلی رہی مگر تاریخی کہانیاں لکھتے ہوئے لکھاری تاریخوں کا ستیاناس کردیتے ہیں ،جیسے قلو پطرہ کی موت ،شوکت افضل کے مطابق اِس کو اُس کی باندی نے کوڑے مار مار کرتہہ خانے میں مار دیا تھا اور یہاں کچھ اور کہا جا رہا ہے ۔سزا ،راستہ ،خمیازہ بھی خوب تھیں ۔پس پردہ اور عذاب مسلسل ،سنہرے دن ،انتقام نے متاثر کیا،قسط وار کہانی اچھی جا رہی ہے اور ڈیول ،خدا گواہ بہت اعلی تحریریں ہیں ۔ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن خوب تر ہیں ۔
احسن ابرار رضوی…ساہیوال السلام علیکم !اِس دُعا کے ساتھ اپنے خط کا آغاز کرتا ہوں جہاں کہیں بھی ہوں گے خوشیاں بانٹنے میں مصروف ہوں گے ۔جد ید دور میں کسی کے چہرے پہ خوشی کے آثار پیدا کرنا بھی تو نیکی ہے ۔ہر طرف اُداسی ،مایوسی کے سخت پہرے ہیں ،خوف پھیلا ہوا ہے ۔ماہ نومبر کا نئے اُفق ملا،سرورق زبردست ہے ،اُڑتے بالوں کے ساتھ دوشیزہ حیرت میں ڈوبی ہوئی ہے اور آج کل لڑکیاں کچھ زیادہ ڈائٹنگ کرنے لگی ہیں ،تبھی تو سمارٹ اور جسم پہ گوشت نہ ہونے کے برابر ہے ۔یہی حال سرورق کی دوشیزہ کا بھی ہے ۔نئے اُفق میں گفتگو میں عمران احمد قریشی کی باتیں پڑھ رہا تھا کہ کوئٹہ میں دھماکا کی خبریں گردش کرنے لگیں۔اُف میرے اللہ!ہمیشہ کوئٹہ ہی کیوں جلتا ہے ،کبھی ائیر بیس پہ حملہ ،کبھی پولیس ٹریننگ سنٹر پہ حملہ ،کبھی پشاور اسکول کے بچوں پہ حملہ ۔۔کتنے بزدل ہیں یہ دہشت گرد۔پیٹھ پہ وار کرتے ہیں ،سینہ پہ وار کیوں نہیں کرتے ،شاید یہ خود ڈرتے ہیں ۔بچوں ،عورتوں ،بوڑھوں پہ حملہ کرتے ہیں ،کبھی مردوں کے سامنے آکر لڑیں تو ان کی جرات مانیں۔بزدل کہیں کے۔۔حکومت کو شاباش کہ شہیدہونے والوں کو فوراً رقم دینے کا اعلان کرتے ،کمیٹی تشکیل دیتے ہیں ،دہشت گردوں سے دو دو ہاتھ کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور پھر لمبی تان کر سو جاتے ہیں ۔ان کو مگر مچھ والے آنسو بھی بہانے نہیں آتے بیچارے۔۔منہ بسورتے ہیں اور اپنی اپنی کی فکر میں لگ جاتے ہیں ۔۔۔دو تین دن بعد پھر یہی عمل دہرا یا جاتا ہے ۔بوجھل دل کے ساتھ دستک پڑھی جہاں مشتاق احمد قریشی،وطن دُشمنوں کو چیلنج کر رہے تھے کہ یہ چراغ پھونکوں سے بُجھنے والا نہیں ہے ۔سچ ہی تو کہتے ہیں جس چراغ کی حفاظت اللہ تعالیٰ کرے اُس کو کوئی طوفان نہیں بُجھا سکتا۔گفتگو میں عمران احمد کی باتیں بہت پیاری تھیں اے کاش ہم اِن پہ عمل کر سکتے ۔۔پہلا خط میرا لگایا گیا ۔بہت شکریہ ۔۔۔ایم اے راحیل بھی کھری کھری باتوں کے ساتھ جلوہ افروز تھے ،عبدالحمید ،مجیداحمد جائی ،صائمہ نور،ریحانہ سعید،ممتا زاحمد،ریاض بٹ،عمر فاروق ارشد،عبدالجبار رومی انصاری،شجاعت حسین شجاع بخاری،ریاض حسین قمر،حسین جاوید،ایم حسن نظامی نے محبت بھرے پروانے لکھے ۔اقراء میں طاہر احمد قریشی نے اللہ تعالیٰ کے ناموں پہ لکھ کر دل کی کھڑکیاں کھولنے پہ مجبور کر دیا۔انٹرویو میں محمد یاسین صدیق نے فاروق انجم سے ملوایا۔ملاقات کرکے کے مزہ آگیا۔کہانیوں انتقام،سنہرے دن،مرگ قبل از مرگ،عذاب مسلسل،خمیازہ ،راستہ ،حسن دوآتشہ ،سزا،کرن بہت پیاری تحریریں تھیں،فن پارے بھی کمال کے تھے اور ڈیول ،خدا گواہ میں زریں قمر نے قلم کا حق ادا کر دیا۔ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن بھی کمال کے تھے۔
مجیداحمد جائی …ملتان شریف۔ مزاج گرامی !اُمید واثق ہے خیر بانٹتے ہوں گے ۔۔اللہ تعالیٰ عالم اسلام کا بول بالا اور دُشمنوں کی سازشوںسے محفوظ رکھے ۔آمین !اللہ تعالیٰ ہماری دُعائوں کو شرف مقبولیت بخشے اور ہمیں نیک اعمال کرنے اور صراط مستقیم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین !اللہ تعالیٰ سے ہر وقت خیر کی دُعا کرنی چاہیے اوردوسروں کی اصلاح کرنے سے پہلے خود کی اصلاح کرنی چاہیے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی خامیاں بھی دوسروں کے سر تھوپ دیتے ہیں اور دوسروں کی خوبیاں اپنے ذمہ لے لیتے ہیں ۔جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور دِلوں میں کدورتیں بڑھتی جاتی ہیں ۔کیا ہی اچھا ہو ہم دوسروں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے خود کو سیدھے راستے پہ گامزن کر لیں ۔۔۔ماہ نومبر کا اعزازی پرچہ ادارہ کی طرف سے موصول ہوا۔۔بہت بہت شکریہ ۔۔۔نوازش۔۔سرورق کسی انگریزی فلم کی کہانی سُنا رہا ہے ۔بنانے والے نے کیا خوب رنگ بھرے ہیں ۔دستک میں جناب محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے خوب پردے فاش کئے ہیں اور یہی حقیقت بھی ہے ۔لیکن امریکا ،بھارت ،افغانستان مل بھی جائیں تب بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔بھارت میں اندرونی توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور بھارت کی فوج خوف میں مبتلا ہو چکی ہے ۔مودی کی دہشت گردی کھل کر سامنے آ گئی ہے اور اب وہ گیڈر کی طرح منہ چھپانے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہے ۔پاکستان کو خطرہ ہے تو اپنے ہی حکمرانوں سے ،جو خود کبھی اپنے آپ سے مخلص نہیں رہے ۔۔۔آپ کی بات بالکل سچ ہے کہ ’’پاکستان تو اللہ کا انعام عظیم ہے اس کی حفاظت اللہ خود کر رہا ہے ‘‘گفتگو میں عمران احمد بھائی نے بڑی خوبصورت باتیں کی ہے ،میرے بھائی اسلامی اُمہ پیارے آقاﷺ کے اسوہ حسنہ پہ عمل پیرا ہو جائے تو تمام بُرائیاں ،تمام نفرتیں ختم ہو جائیں گی اور امن ،اخوت و بھائی چارہ کی فضا قائم ہو جائے گی ۔ہم دین اسلام کے احکامات کو پس پردہ ڈال چکے ہیں ۔ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے ،آپس میں اتحاد قائم کرنا ہو گا ۔۔۔آپس کے جھگڑے فساد ختم کرنا ہوں گے۔۔۔ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا شہری بننا ہو گا۔۔اس بار صدارت کی کرسی جناب محترم احسن ابرار رضوی کے حصے میں آئی ۔جناب آپ نے مجھے خطوط کا شہنشاہ کا خطاب دے ڈالا ،عرض کروں گا میرے بھائی ،میں تو کچھ بھی نہیں ،،،میں خاک ہوں۔۔۔میری اوقات کیا۔۔۔طفل مکتب ہوں۔۔۔سیکھ رہا ہوں اور آپ میرے اس عمل کو روکنا چاہتے ہیں ۔۔مہربانی کریں ۔۔۔۔ایم اے راحیل ،ہماری فرمائش پر لوٹ آئے ۔۔گفتگو میں نوک جھوک چلتی رہتی ہے ۔۔۔الزام لگتے ہیں ۔۔لیکن اِنسان کو اپنا کام کرنا چاہیے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کرنا چاہیے ۔۔چار دن کی زندگانی ہے ،ان خرافات میں گزار کر زندگی کو گرہن نہ لگائیے۔۔۔میری مانیے،محبت بانٹیے پھر دیکھنا ۔۔۔زندگی کیسے کیسے رنگ بدلتی ہے ۔۔عبدالحمید بھائی بہت شکریہ نوازش،آپ کو میرا خط پسند آیا اور میرا انداز ۔۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی ہے وگرنہ ،میں کیا میری بساط کیا۔آپ کا خط مدلل اور شاندار رہا ۔ریحانہ سعید کی مختصر حاضری اچھی رہی ۔ممتاز احمد کا خط وضاحت بھرا تھا۔ریاض بٹ صاحب میں بالکل بافضل رحمان خیریت سے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں ،رحمتوں سے لطف اندوز ہو رہا ہوں ۔عائشہ اے بی ،خوش آمدید ۔۔عمر فاروق ارشد بھائی ،لگتا ہے آپ خطوط بغورنہیں پڑھتے ورنہ یہ شکایات نہ ہوتیں۔۔بندہ ناچیز نے واضع طور پر آپ کی غیر حاضری کا حوالہ دیا تھا،لوٹ آنے کی درخواست بھی۔اسی طرح گل مہر صاحبہ،ناز ذشے،صاحبہ،منشی محمد عزیز مئے ،اور بہت سے ساتھی غائب ہیں ،اللہ کرے خیریت سے ہوں ۔عبدالجبار رومی انصاری بھائی ،آپ کی محبیتں ہیں کہ میرے دردولت پہ تشریف لائے ،،میں آپ کی خدمت نہ کر سکا ۔۔۔۔ریاض حسین قمر آپ دل میں بستے ہیں ،آپ کی غیر حاضری ہوتو دِل مچلتا ہے تڑپتا ہے ،دہائیاں دیتا ہے ۔۔گفتگو کے سبھی ساتھی عزیز ہیں اور اگر ان میں سے کوئی غیر حاضری ہو دِل پریشان سا ہو جاتا ہے اب دیکھیں ناں احسان سحر میانوالی چند ماہ سے غائب ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ یہ میرا آخری خط ہو کیونکہ مصروفیات کا سانپ پھن پھیلائے ہوئے ہے ،ایک ناول اور سفرنامہ پہ کام کر رہا ہوں اور اُدھر ایم فل کی تیاری بھی ہو رہی ہے ۔۔بحرحال کوشش تو یہی ہو گی کہ شامل گفتگو رہوں ۔حسین جاوید ،ایم حسن نظامی کی انٹری بھی خوب رہی ۔اقراء میں اسم ِاعظم ،طاہر بھائی نے صفاتی ناموں پہ لکھ کر احسان عظیم کر دیا۔۔اللہ تعالیٰ اجر سے نوازے ۔فاروق انجم کا انٹرویو یاسین صدیق بھائی لائے ،معیاری ،معلومات اور بہترین سوالات سے مزین انٹرویو رہا ۔کمی رہی تو صرف اتنی کہ فاروق انجم کی تصویر نہیں تھی۔محمد یاسین صدیق بھائی کی ’’خمیازہ ‘‘پڑھی ۔۔بظاہر آپ کی تحریر معاشرے کی عکاس ہے ۔آپ نے نازک مسائل پہ قلم اُٹھایا ہے لیکن میں اتفاق نہیں کرتا۔۔۔کیونکہ اسلامی معاشرے میں کوئی بھی عورت خود کو کسی مرد کے حوالے نہیں کرتی۔اس میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہوتے ہیں ۔۔۔ورنہ آپ راہ چلتی کسی لڑکی اور عورت کو ٹچ تک نہیں کر سکتے ۔خمیازہ میں صفدر کا بھی قصور تھا۔۔وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر گناہ کی طرف مائل ہوا۔۔رہا افضل کا سوال تو جس طرح غائب ہوا تھا ،قتل کا الزام اُسی پہ جاتا تھا کیونکہ مقتول بتا کر تو نہیں گیا کہ میں نے خود کشی کی ہے ۔آخری ہچکی کے وقت اُس کے لبوں پہ افضل کا نام تھا ۔۔۔بحرحال اچھی تحریر تھی۔’’پس پردہ‘‘ریاض بٹ نے اس بار نازک مسئلے پہ قلم کے نشتر چلائے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہی کچھ ہورہا ہے ۔غصے میں انسان ،شیطان بن جاتا ہے اور غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے بعد میں پچھتاتا ہے ۔اسی لئے تو فرمایا گیا ہے کہ غصہ حرام ہے ۔’’حسن دو آتشہ ‘‘محمد عرفان رامے صاحب کو پہلی دفعہ نئے اُفق کے پلیٹ فارم پہ دیکھا ہے اور تاریخی کہانی کے حوالے سے خوب شہرت رکھتے ہیں ۔جب سے ایڈیٹری سے ہٹے ہیں خوب لکھ رہے ہیں ۔’’کرن ‘‘مرگ قبل از مرگ‘‘،سنہرے دن۔خدا گواہ ،زبردست رہی۔ایک سو سولہ چاند کی راتیں خوب چل رہا ہے مگر اِس میں انگریزی کا ہونا ہضم نہیں ہو رہا کیونکہ نئے اُفق کو بہت سے قاری پڑھتے ہیں جن میں واجبی تعلیم والوں کی اکثریت زیادہ ہے ۔انگریزی کی جگہ ترجمہ دیا جائے تو بہتر ہوگا۔’’عذاب مسلسل‘‘سچے واقعے پر مبنی ہے جسے میں نے الفاظ کا روپ دے کر کہانی کی صورت میں آپ کو پیش کی تھی۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں ۔۔۔اللہ حافظ!
صائمہ نور…ملتان آداب! دُعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ امن کی زندگی بسر کرنے کی توفیق دے اور اِن خوشگوار لمحوں کی مسرتوں میں قید بھی ہوں کہ آپ حقیقی خوشیوں کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ پاک سر زمین کو امن کا گہوارہ بنائے اور دُشمنوں کو نیست و نابود کرے ۔یہ جو فضائیں دھواں دھواں سی ہیں ،مہکی مہکی خوشبوئوں سے معطر ہوں ۔یہ جوسڑکیں خون سے سُرخ ہو رہی ہیں ،اللہ کرے یہ سڑکیں زرمبادلہ کمانے میں کام آئیں اور خونی بادل چھٹ جائیں ۔۔کوئٹہ ایک بار پھر دھواں دھواں ،لہو لہو ہے ۔پولیس ٹریننگ سنٹر میں دھماکا ۔پھر بچے یتیم ہوئے ،سہاگ اُجڑ گئے ،مائیں لٹ گئیں ،جسموں کے اعضاء بکھرے گئے ،ہر طرف خون ہی خون ،خوف ہی خوف۔۔۔شہید ،زخمی، حکمرانوں کی عیادت۔۔۔آخر یہ کب تک چلے گا۔اُدھر دھماکہ کی خبر نشر ہوئی ،اِدھر شہید ہونے والوں کو دس دس لاکھ کی رقم دینے کا اعلان ۔ہمیں حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔۔اب یہ خولی کھیل بند کروانا ہو گا۔۔ہمیں متحد ہو جانا چاہیے اور اپنا تن من دھن وطن پہ قربان کرنے کے لئے میدان میں آنا چاہیے۔اب وعدوں کا وقت نہیں کچھ کرنے کا وقت ہے ۔دُشمنوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر واصل جہنم کرنا ہوگا ،تب ہی امن قائم ہو گا اور خوف و ہراس کی فضائیں ختم ہو ں گی۔ماہ نومبر کا نئے اُفق ملا ،سرورق بہت پیارا اور کشش بھرا تھا۔دستک میں انکل مشتا ق احمد قریشی ’’پھونکوں سے یہ چراغ بُجھایا نہ جائے گا‘‘کے پس منظر میں لکھ رہے تھے اور اب تو یہ چراغ پَلو سے بُجھائے جا رہے ہیں ،دُشمن اپنی چالیں چل رہا ہے اور ہم کان تک نہیں دھرتے ۔۔۔اِنسان مولی گاجر کی طرح کٹ رہے ہیں اور حکمران کُرسی کُرسی کی گردان میں غرق ہیں۔گفتگو میں عمران احمد قریشی احادیث کے حوالے دے رہے تھے مگر یہ قوم سُوئی ہوئی اور سُہانے دِنوں کے خواب دیکھ رہے ہیں ،اب سوچنے کا وقت نہیں ہے ،عمل کا وقت ہے ،ہمیں ایک دوسرے کے گریبانوں کو چھوڑ کر دُشمن کے گریبان پکڑنے ہوں گے اور اُن کو سزا دلوانی ہو گی ۔۔۔ورنہ ۔۔۔دُشمن اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا اور ہم غلامی در غلامی کی زنجیریں اپنے گلے میں ڈال لیں گے۔۔صدارت احسن ابرار رضوی کر رہے تھے ،بھائی قابل تحسین تو آپ خود ہیں ،ایم اے راحیل ناراضگی ختم کرکے لوٹ آئے۔دل خوش ہوا۔عبدالحمید بھیا اللہ تعالیٰ آپ کی زبان مبارک کرے ،آمین۔بہت شکریہ ۔۔مجیداحمد جائی کا طویل خط اچھا رہا۔انکل ممتاز احمد کے ایکسڈنٹ کا سُن کر شاک سا لگا۔۔ اللہ تعالیٰ صحت کاملہ عطا فرمائے ،آپ پھر سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کہانیاں لکھیں ۔۔اب طبیعت کیسی ہے ۔۔۔اپنا بہت سا خیال رکھئے گا۔ریاض بٹ آپ کی کہانی ’’پس پردہ‘‘شاندار تھی ،عمر فاروق ارشد کمال کرتے ہیں ،آپ بھلا بھولنے کی شئے ہیں ،بس آپ جلدی سے مزاحیہ کہانی دیں۔مسکان ظفر بھٹی ،آپ دوسروں میں کیڑے نکالنے سے بہتر ہوتا خود کا جائزہ لیتی ۔۔کہانیوں پر بغیر پڑھے تبصرے نہیں ہوا کرتے،اور ’’بکراکہاں ہے ‘‘عنبرین اخترکی نہیں تھی ،،کے ایم خالد کی تھی ،،،،اگر آپ بغور مطالعہ کرتیں تو اچھا ہوتا۔۔۔عبدالجبار رومی انصاری آپ ملتان آئے اور نو بہار نہر بھی دیکھ گئے ،،خوشی ہوئی ۔دُعا کریں یہ نہریں ہمیشہ چلتی رہیں تاکہ ہمارے کھیت ہرے بھرے سر سبز رہیں اور ہم زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کما سکیں آمین۔شجاعت حسین شجاع بخاری ،بہت شکریہ ۔۔۔ریاض حسین قمر بہت شکریہ آپ نے میرے خیالات کے ساتھ اتفاق کیا۔آپ بھی سچ کہتے ہیں ۔حسین جاوید اور ایم حسن نظامی نے بھی عمدہ لکھا۔اقراء پڑھ کر دل کو سرور ملا،انٹرویو بہت اعلی تھا۔محمد یاسین صدیق اور اُس کے پینل نے خوبصورت سوال کئے اور فاروق انجم صاحب نے بھی عمدہ جواب دئیے۔کہانیوںمیں پس پردہ جرم و سزا سے لبریز عمدہ اور پیاری کہانی تھی ،ایک تلخ حقیقت سے پردہ اُٹھایا گیا ہے ۔بہت خوب ریاض انکل،خمیازہ ،محمد یاسین صدیق نے عورت کو قصور وار ٹھہرایا ۔حالانکہ مرد حضرات اسی عورت کے بغیر ادھورے ہیں ۔مرد ہی عورت کو عزت دیتے ہیں اور ذلیل و خوار کرتے ہیں ۔کرن مہتاب خان عمدہ لکھتی ہیں ۔حسن دو آتشہ تاریخی کہانی اچھی رہی ،انتقام ،مرگ قبل از مرگ،سنہرے دن ،خدا گواہ ،ابدی حیات،سزا ،عذاب مسلسل پیاری کہانیاں تھیں۔اگر نئے اُفق میں سفر نامے شامل کئے جائیں تو سونے پہ سہاگہ ہو جائے گا۔ذوق آگہی ،خوش بوئے سُخن بھی زبردست تھے ۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ محترم ایڈیٹر صاحب السلام علیکم، امید ہے کہ آپ اور آپ کی ٹیم بخیریت ہوگی ماہ نومبر کا شمارہ اس وقت میرے ہاتھ میں ہے اور تقریباً کافی حد تک پڑھ بھی لیا ہے اس لیے تبصرہ لکھ رہا ہوں اچھی کہانیوں میں خدا گواہ، ابدی حیات، انتقام، سنہرے دن، قافلہ شہیدوں کا، مرگ قبل از مرگ، پس پردہ، عذاب مسلسل، خمیازہ، راستہ اور سزا سب ہی کہانیاں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں، میری طرف سے سب لکھنے والوں کو بہت بہت مبارک باد قبول رسالہ آج کل دیر سے ملتا ہے اور جس کی وجہ سے خط میں بھی دیر ہوجاتی ہے۔ میں نے ایک عدد کہانی روپ نام سے ارسال کی تھی کیا وہ کہانی چھپ جائے گی اور میری طرف سے آپ کو اور آپ کی تمام ٹیم کو بہت بہت دعا و سلام قبول ہو۔
مہتاب خان… کراچی۔ محترم مشتاق قریشی صاحب اقبال بھٹی صاحب اور دیگر اسٹاف کو اسلام علیکم اللہ تعالیٰ آپ سب کو صحت مند اور خوش رکھے اور تمام آفات سے محفوظ رکھے، آمین۔ اس بار پرچے کا ٹائٹل خوب صورت تھا دستک مشتاق قریشی صاحب کی بہترین قلمی کاوش ہے جو ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے اس میں اب کوئی شبہ نہیں کہ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر ہونے والا حالیہ واقعہ اس کا ثبوت ہے اس میں افغانستان اور بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے اور ایسے سازشی دشمن کو منہ کی کھانی پڑے۔ گفتگو کے سلسلے میں شامل ہونا میری دلی خواہش ہے مگر ہر ماہ خط لکھنے میں تاخیر ہوجاتی ہے بہرحال میں اسے بڑی دلچسپی سے پڑھتی ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہاں ہم سب ایک فیملی کا حصہ ہیں۔ فاروق انجم صاحب کا انٹرویو ان کی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے تھا یاسین صدیق مبارک باد کے مستحق ہیں خدا گواہ لکھ کر زرین قمر نے کشمیر سے محبت کا حق ادا کردیا، حساس موضوع پر ان کی تحریر لاجواب تھی، ابدی حیات سلیم اختر صاحب کی اچھی کہانی تھی۔ مگر ایک جملہ پسند نہیں آیا سہاگ کا سندور ہندو سہاگن کی نشانی ہوتا ہے مسلمانوں کی نہیں رائٹرز ایسے جملوں کا خیال رکھیں تو بہتر ہے، سنہرے دن میں دستگیر شہزاد صاحب نے ہمارے جاگیردارانہ معاشرے کی خوب صورت عکاسی کی ہے قافلہ شہیدوں کا مہر پرویز نے ایک اچھے موضوع کو چنا ہے مرگ قبل از مرگ حسیب جواد علی صاحب نے سچے واقعے کو دلچسپ پیرائے میں لکھ کر دل جیت لیا ریاض بٹ صاحب میرے پسندیدہ رائٹر ہیں کہانی پر ان کی گرفت بڑی مضبوط ہوتی ہے پس پردہ سسپنس سے بھرپور لا جواب کہانی ہے بہت پسندی محمد حنیف رامے ایک جانے مانے رائٹر ہیں قلو پطرہ جیسی ہستی کا بیان پھر رامے صاحب کا قلم واقعی حسن دو آتشہ تھا باقی کہانیوں میں انتقام، راستہ، سزا اچھی کہانیاں تھیں ذوق آگہی میں انتخاب اچھا تھا سلسلے وار کہانیاں ابھی زیر مطالعہ ہیں فن پارے کا سلسلہ اچھا ہے اسے جاری رکھیں اور ایک مشورہ ہے اس میں دیس بدیس کے ایوارڈ یافتہ کہانیاں شائع کریں اب اجازت دیجیے ان شاء اللہ آئندہ بھی تبصرے کے لیے حاضر ہوتی رہوں گی۔
ریاض بٹ … حسن ابدال۔ السلام علیکم ایک سندر اور منفرد سرورق لیے نومبر 2016ء کا شمارہ 26 اکتوبر کو پوسٹ مین کے توسط سے ملا تو انتظار کی جانگسل گھڑیاں اختتام پذیر ہوئیں، اشتہارات پر نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھے تو لسٹ میں اپنی کہانی دیکھ کر خوشی ہوئی، بہت شکریہ۔ گفتگو میں اقبال بھٹی صاحب نے جو حدیث نبوی لکھی ہے، وہ عمل کرنے کا تقاضہ کرتی ہے ان کی باقی باتیں جو انہوں نے خطوط سے پہلے لکھی ہیں وہ بھی موتیوں میں تولنے کے قابل ہیں ہم واقعی ایک دوسرے کو رنگ، نسل اور فرقہ کی بنیادوں پر قتل کر رہے ہیں اب بڑھتا ہوں خطوط کی طرف پہلا خط ہے احسن ابرار رضوی کا بھائی آپ نے واقعی ایک انمول بات کی طرف توجہ دلائی ہے ہم واقعی پہلا اسلامی مہینہ بھول جائے ہیں اور ہمیں انگریزی سال کا پہلا مہینہ یاد رہتا ہے۔ میرا خط اور کہانی پسند کرنے کا شکریہ۔ ایم اے راحیل آپ نے اچھا کیا کہ لوٹ آئے بھلا اپنوں سے بھی کوئی مستقل خفا ہوتا ہے، باقی گلے شکوے تو ساتھ ساتھ ہیں آپ کو بھی میری تحریر کردہ کہانی احمقوں کا ٹولہ پسند آئی جس کے لیے آپ کے اعلیٰ ذوق کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی عبدالحمید صاحب آپ نے جن الفاظ میں میرے خط کی تعریف کی ہے ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، بہرحال شکریہ اور میری کہانی کو بہت زیادہ پذیرائی دینے پر مہربانی، آپ نئے افق کے سالانہ خریدار بن جائیں تو ٹینشن سے بچ جائیں گے مجید احمد جائی بھائی ہمیشہ کی طرح آپ کا خط منفرد اور اپنے اندر سمندر کی گہرائی لیے ہوئے ہے آپ کیا خوب لکھتے ہیں اور آپ کو اپنا مدعا بیان کرنا خوب آتا ہے میرا خط اور کہانی پسند کرنے پر یہ بندہ نا چیز تہہ دل سے مشکور و ممنون ہے، صائمہ نور بہن کیسی ہو، بھائی کی طرف سے دعائیں قبول کرو، آپ نے بھارت کا اصلی چہرہ لفظوں کے آئینے سے دکھانے کی کوشش کی ہے جو قابل غور اور قابل تحسین ہے آپ کو بھی میرا خط اور کہانی اچھی لگی آپ کی عنایتوں کا بھی مقروض ہوں ریحانہ سعیدہ بہن لکھاری کو قابل تقلید کرداروں پر ہی لکھنا چاہیے روشنی دکھانی چاہیے بہرحال اچھے لوگ ہر دور میں رہے ہیں تبھی تو یہ دنیا چل رہی ہے۔ عائشہ خواجہ، عائشہ اے بی (بہن پورا نام لکھو) خوش آمدید، آپ کے لیے محفل کے دروازے کھلے ہیں مختیار احمد صاحب آپ کا تعلق شاہینوں کے شہر سے ہے اس لیے تبصرہ بھی بہت بلند اور اعلیٰ کرتے ہیں جو چیز تعریف کے قابل ہو اسے اچھا نہ کہنا حسد کرنے کے مترادف ہے آپ نے بھی میری کہانی اور خط پسند کیا بہت نوازش آپ لکھتے رہے تو ان شاء اللہ بہت جلد چھا جائیں گے عمر فاروق ارشد بھائی آپ کا تبصرہ بھی تعریف کے قابل ہے، مسکان ظفر بھٹی صاحب میری کہانی کی تعریف کرنا آپ کے اعلیٰ ذوق کی غمازی کرتا ہے۔ عبدالجبار رومی انصاری میرا تبصرہ آپ کو بھی اچھا لگا جس کے لیے مہربانی، شجاعت حسین بخاری، میری تفتیشی کہانیاں آپ کے معیار پر پوری اترتی ہیں یہ حوصلہ افزائی میرے لیے تقویت کا باعث ہے اللہ آپ کو خوش رکھے ریاض حسین قمر بھائی شکر ہے اس پاک ذات کا کے اب آپ مکمل روبصحت ہیں میری دعا ہے آپ ہمیشہ پھولوں کی طرح خوش و خرم رہیں، یعنی مہکتے رہیں بھارت کا اصل چہرہ آپ نے بھی دکھایا اور بڑے اچھے طریقے سے دکھایا لیکن آج کل کی جوان نسل کو کون سمجھائے جو بھارت کے ڈرامے اور فلمیں بہت شوق سے دیکھتے ہیں میری تفتیشی کہانیاں پسند کرنے کا بے حد شکریہ، حسین جاوید اور ایم حسن نظامی بھائی آپ کے تبصرے بھی خوب ہیں۔ میری تحریر کردہ کہانی احمقوں کا ٹولہ اور خط پسند کرنے کا بہت شکریہ۔ اب بڑھتے ہیں کہانیوں کی طرف مجید احمد جائی کی کہانی عذاب مسلسل ایک سبق آموز اور عبرت اثر تحریر ہے جب انسان حیوان بن جاتا ہے تو ایسے ہی انجام سے دوچار ہوتا ہے اور پھر کیے کی سزا تو دنیا میں بھی ملتی ہے ویل ڈن، مرگ قبل از مرگ حسیب جواد علی کی ایک منفرد کہانی ہے دنیا میں ایسا بھی ہوتا ہے پھر جب تک انسان کی زندگی کے دن پورے نہیں ہوتے وہ یہ دنیا چھوڑ نہیں سکتا جاوید احمد صدیقی نے انگریزی ادب سے ایک اچھی کہانی کا انتخاب کیا اور بڑے اچھے طریقے سے اسے احاطہ تحریر میں لائے انتقام ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو پاگل بنا دیتا ہے، صداقت حسین ساجد کی کہانی راستہ کا کیا کہنے بہت اچھی اور موثر تحریر ہے واقعی نیت اچھی ہو تو راستے خود بخود گلزار بن جاتے ہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر دور میں اچھے لوگ رہے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے عارف شیخ کی سزا بھی دل کو بھا گئی، غلط کاموں کی سزا تو ضرور ملتی ہے اور قدرت انسان سے اس کی پیاری چیز چھین لیتی ہے مہتاب خان نے کہانی کرن لکھ کر یہ ثابت کیا کہ وہ ایک اچھی لکھاری ہیں، انسان کی مجبوریوں کو بڑے اچھے طریقے سے اجاگر کیا اور مثبت کرداروں سے روشناس کرایا قافلہ شہیدوں کا (مہر پرویز احمد دولو) اور خدا گواہ (زرین قمر) کی لا زوال داستانیں ہیں بہت خوب، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ذوق آگہی اور خوش بو سخن کا سارا انتخاب بے مثال ہے اور پرچے میں موجود کترنیں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ محترم و مکرم جناب عمران احمد صاحب سلام مسنون رب ذوالجلال آپ کو اور آپ کے رفقا کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے، ماہ نومبر کا نئے افق ہاتھوں میں ہے ٹائٹل اس بار سادہ سا تھا لیکن اتنا بھی سادہ نہیں دوشیزہ اپنے بالوں میں سجائے ٹائٹل پر براجمان ہیں اس دفعہ فہرست کا انداز بہت اچھا لگا لائق صد احترام جناب مشتاق احمد قریشی صاحب کی دستک ہر ماہ ہی دل کو چھو لینے والی ہوتی ہے حسب سابق اس بار بھی دستک میں انہوں نے اپنے جن خیالات کا اظہار فرمایا ہے وہ ہمارے لیے چشم کشا ہیں امریکا ہمیشہ ہی اپنے قریبی دوستوں سے بے وفائی کرتا ہے یہ چیز اس کی گھٹی میں پڑی ہے بلکہ کسی نے فرمایا تھا کہ امریکا کی دوستی اس کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے رب العزت ہمیں امریکا کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رکھے، آمین۔ گفتگو میں اس بار خطوط کو جناب اقبال بھٹی صاحب نے ترتیب دیا بھٹی صاحب آپ کے مزاج کیسے ہیں گفتگو کے شروع میں آپ نے بھی بڑی پیاری حدیث بیان فرمائی ہے اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آمین۔ گفتگو کے آغاز میں جن پیارے جذبات کا اظہار فرمایا ہے وہ ناقابل تردید حقائق کی ترجمانی کر رہے ہیں خداوند قدوس آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے آمین، کرسی صدارت پر اس بار محترم احسن ابرار رضوی صاحب متمکن ہوئے رضوی بھائی مبارک ہو، آپ نے خوب صورت خیالات کا اظہار فرمایا تبصرہ بھی جاندار تھا آپ نے میرے خط کی پذیرائی فرمائی بے حد شکر گزار ہوں، ایم اے راحیل صاحب آپ محفل میںلوٹ آئے اس سے آپ نے ہم سب کا مان بڑھایا رب کریم آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے بھائی میاں کرامت حسین کے بارے میں آپ نے جو لکھا اس سے دل دکھی ہوا آپ کو ان کے بارے میں ایسے الفاظ نہیں لکھنے چاہیں تھے ہمیشہ با ادب با نصیب کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے محترم عبدالحمید صاحب ایک خوب صورت خط کے ساتھ شریک محفل ہوئے حمید بھائی کسی اچھی چیز کو نہ سراہنا بھی ایک اخلاقی جرم ہے بہرحال میرے تبصرے کو پسند فرمانے کا شکر گزار ہوں اس بار بھی آپ کا خط بڑا مدلل اور خوب صورت ہے، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ پیارے مجید احمد جائی بھائی آپ ایک خوب صورت بھرپور اور طویل تبصرے کے ساتھ تشریف لائے آپ نے اپنے خط میں بڑے اچھے اور خوب صورت خیالات کا اظہار فرمایاآپ کے خیالات کی سو فیصد تائید کرتا ہوں، کاش ہم کچھ سمجھ سکیں، تبصرہ پسند فرمانے کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، محترمہ صائمہ نور صاحبہ کا خط حسب سابق بہت ہی خوب صورت تھا پہلے کی طرح انہوں نے بہت خوب صورت خیالات کا اظہار فرمایا رب ذوالجلال انہیں حفظ و امان میں رکھے، آمین۔ آپ نے میرے خط کو اتنی پذیرائی بخشی میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، ریحانہ سعیدہ صاحبہ کا خط اور تبصرہ قابل تعریف ہے عائشہ خواجہ کا خط پڑھ کر تو لگا کہ خط لکھتے لکھتے انہیں ہانڈی جلنے کی خوش بو آگئی تو وہ اللہ حافظ کہتی ہوئی بھاگ گئیں، جناب ممتاز احمد صاحب کا خط بہت خوب صورت تھا انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال صاحب کے انٹرویوز کے بارے خوب وضاحت فرمائی امید ہے محترم کرامت حسین کی تشفی ہوگئی ہوگی، ممتاز بھائی آپ کو میرا خط اور تبصرہ پسند آئے شکریہ قبول فرمائیے۔ پیارے بھائی ریاض بٹ صاحب خط حسب سابق بہت خوب صورت ہے اور اس شمارے میں ان کی کہانی پس پردہ ان کے خط سے بھی زیادہ حسین ہے۔ خدا تعالیٰ ان کے قلم میں اور روانی عطا فرمائے آمین آپ نے جس طرح گفتگو میں چھپے میرے خط کو سراہا اور خوش بوئے سخن میں چھپی میری غزل کو پسندیدگی کی سند عطا فرمائی اور میرے لیے رب العزت سے جس طرح دعا فرمائی اس سب کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں، عائشہ اے بی پہلی بارگفتگو میں حاضر ہوئی ہیں موسٹ ویلکم اب باقاعدگی سے آتی رہیے گا، اس بار میرے بہت ہی عزیز دوست اور بھائی عمر فاروق ارشد صاحب کچھ نالاں نالاں سے نظر آئے بھائی آپ بھی کوئی بھولنے والی چیز ہیں یہ ہوجاتا ہے جیسے آپ اپنے خط میں اپنے قریبی دوست ریاض حسین قمر کے بارے میں ایک لفظ بھی لکھنا بھول گئے باقی بھائی محترم مشتاق احمد قریشی صاحب ہمیشہ دستک میں اس ملک کی غلیظ سیاست پر ہی تبصرہ فرماتے ہیں اور ان کے خیالات کی تائید میں قارئین کو کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا ہے وہ بھی یقیناً سیاسی ہوگا اور لکھنے والا جب من حیث القوم لکھتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے آپ کو اس میں شامل کرتا ہے اگر کوئی اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے اپنے کو فرشتہ تصور کرتا ہے تو اس سے بڑا کوئی خوش فہم نہیں ہوسکتا، محترمہ مسکان ظفر بھٹی کا مختصر تبصرہ پسند آیا، عبدالجبار رومی انصاری بھائی نے بہت اچھا تبصرہ کیا بھائی تبصرہ پسند فرمانے پر میری طرف سے دلی مبارک اور شکریہ قبول فرمائیے، شجاعت حسین شجاعت بخاری صاحب و علیکم السلام آپ کیسے ہیں آپ نے میرے خط اور تبصرے کو پسند فرمایا تھینک یو سو مچ حسین جاوید صاحب مختصر مگر اچھے تبصرے ساتھ تشریف لائے اور کلام پسند فرمانے پر شکریہ قبول فرمایے محترم ایم حسن نظامی صاحب آپ کے خط میں قارئین کیلئے محبت کی خوش بو رچی ہوئی تھی اللہ آپ کو خوش رکھے،محترم طاہر قریشی صاحب اقرا میں آپ نے جس طرح رب العزت کی سب سے عظیم ہستی کو پیش کیا ہے وہ آپ ہی کو زیبا ہے محترمہ زرین قمر صاحبہ اپنی قسط وار کہانی ڈیول کے علاوہ آزادی کشمیر کے پس منظر میں ایک بہت ہی اچھی کہانی خدا گواہ لائی ہیں انہوں نے اپنے قلم سے لکھنے کا حق ادا کردیا، ریاض بٹ صاحب کی تفتیشی کہانی پس پردہ بہت خوب صورت رہی باقی کہانیوں میں بھی لکھاریوں نے کہانی لکھنے کا حق ادا کردیا فن پارے میں سب آرٹیکل فردوس حزیں، دکھ کی فصیل، آنسو کی طاقت، دیر آید اور یقین کامل اپنی اپنی جگہ خوب رہیں فاروق انجم کا طویل انٹرویو بہت پسند آیا ذوق آگہی میں ہر آئٹم ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ خوش بوئے سخن میں نوشین اقبال نوشی نے اچھے کلام کا انتخاب کیا ہے مجموعی طور پر اس ماہ کا جریدہ بہت ہی قابل ستائش ہے۔
پرنس افضل شاہین… بہاولنگر۔ اس بار سرورق پر حسینہ اپنے بالوں پر پھول سجائے ہوئے تھی اس پر میں تو یہ کہوں گا
ہو میرا رفیق سفر مگر اتنا تو معتبر ہو
میں پھول مانگوں تو یہ نہ کہے کہ موسم گزر گیا
دستک میں آپ بھارت اور اس کے دم چھلے افغانستان کو لتاڑ رہے تھے یہ وہی افغانستان ہے جس کے ہم پاکستانیوں نے لاکھوں پناہ گزینوں کو جگہ دی پاک چین دوستی کے شاہ کار مشترکہ منصوبے سی پیک نے دشمن ملکوں کی نیندیں حرام کردی ہیں یہ منصوبہ ان شاء اللہ دشمن کے سینے پر مونگ دلتا رہے گا اور اس منصوبے کے مکمل ہونے پر پاکستان کی معیشت ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے گی۔ گفتگو میں پہنچے تو آپ فرقہ پرستوں کو کھری کھری سنا رہے تھے انسانیت کے ناتے ہمیں رنگ و نسل اور فرقہ پرستی میں نہیں پڑنا چاہیے ان ہی چیزوں سے بہت بڑی تباہی آتی ہے اور یہ تباہی ہمارے دشمن ملک مل کر ہم پاکستانیوں میں سے میر صادق میر جعفر کا چنائو کر کے ان کے ذریعے ہی لاتے ہیں میں اپنے خط کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تلاش کر رہا تھا کہ میری اکلوتی بیگم نے مجھے کہا کسی چڑیل کی تصویر دیکھ کر آنکھیں پھٹی پھٹی ہوگئی ہیں کیا میں نے جواب دیا تمہاری تصویر تھوڑی دیکھ لی ہے اس نے کہا کیا کہا آپ نے میںنے جواب دیا کچھ نہیں میں تمہاری شان میں گستاخی نہیں کرسکتا۔ احسن ابرار رضوی سب سے پہلے گفتگو میں شریک تھے میرے خط کو پسند فرمانے کا شکریہ، ایم اے راحیل میرے کہنے پر اپنا ایڈریس بھیجنے کا شکریہ امید ہے، اب آپ کو آپ کا حق آپ کا انعام مل چکا ہوگا، اب آپ نئے افق سے کبھی بھی نہ روٹھنا، عبدالحمید ہم تو ایسے ہی دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، مجید احمد جائی ایم حسن نظامی، شجاعت حسین، میرا خط پسند کرنے کا شکریہ۔ صائمہ نور میرے خط کو پسند کرنے کا شکریہ، آئی ڈی بھیجنے اور نکاح نامہ بھیجنے کی کیا ضرورت ہے ہم آپ کی زبان پر اعتبار کرتے ہیں عائشہ خواجہ پہلی انٹری دینے کا شکریہ ممتاز احمد خط پسند کرنے کا شکریہ اور پل صراط عشق واقعی زبردست کہانی تھی میں نے اپنے پچھلے خط میں اس پر بھرپور تبصرہ کیا تھا مگر وہ خط شائع نہیں ہوا ریاض حسین شاہد میرے بھی استادوں کی طرح ہیں میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے ریاض بٹ، ریاض حسین قمر آپ لوگوں کو میرے خطوط میں اشعار کا تڑکا پسند آتا ہے بہت شکریہ، عائشہ اے بی آپ تو مجھے ہی کیا میری اکلوتی بیگم کو بھی جانتی ہیں ظاہر ہے جو آنچل پڑھتی ہو وہ میری بیگم کو ضرور جانتی ہے عمر فاروق ارشد آپ نے حسینہ کے سیاہ دراز بالوں کو ساہیوال نسل کی بھینس کے بال قرار دے دیا کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے، مسکان ظفر آپ درست کہہ رہی ہیں کہ ایک رائٹر کو ایک ہی رسالے میں اپنی کہانی بھیجنی چاہیے عبدالجبار رومی آپ جب چاہیں بہاولنگر آئیں ہم آپ کو ویلکم کہیں گے۔ کہانیوں میں ابدی حیات، خدا گواہ، قافلہ شہیدوں کا، عذاب مسلسل، پس پردہ، حسن دو آتشہ، ڈیول پسند آئیں ذوق آگہی میں گل مہر، شازیہ اختر،عائشہ اے بی، ایم حسن نظامی، ریاض بٹ، عائشہ نور آشا، ریحانہ سعیدہ، عمر فاروق، عنبرین اختر، سباس گل، عائشہ اعوان اور عبدالجبار رومی چھائے رہے، میں اپنے پیارے استاد ریاض حسین شاہد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ پل صراط عشق جیسی شاہکار کہانی ہمارے سب کے اپنے نئے افق میں دوبارہ بھیجیں ہماری دعا ہے نئے افق ترقی پر ترقی کرے۔
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ السلام علیکم ماہ نومبر کا شمارہ کافی دیر سے موصول ہوا دعا ہے کہ تبصرہ بر وقت پہنچ جائے ورنہ آدھی رات کو لکھنے کی محنت کھوہ کھاتے چلی جائے گی ٹائٹل پر شاید نیپال سے درآمد شدہ حسینہ کو آویزاں کیا گیا تھا، اچھی بھلی سوہنی لڑکیاں بناتے بناتے مصور صاحب کو نا جانے یہ کہاں کی سوجھی ہے یار۔ اس سے تو بہتر تھا کہ ریگستان میں تنہا کھڑا کوئی ٹنڈ منڈ سا درخت ہی سرورق پر دے مارتے مولا خوش رکھے اپنے بڑے قریشی صاحب مایوسیوں میں امیدوں کے چراغ روشن کر رہے ہیں اللہ صحت و ہمت عطا فرمائے، بھارت امریکا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب کرنا، آج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، گفتگو کی طرف بڑھے تو حیرت کا جھٹکا لگا اقبال بھٹی صاحب براجمان تھے ارے عمران بھیا کو کدھر بھیج دیا ہے۔ ان کی طبیعت تو ٹھیک ہے ایم اے راحیل تمہاری مہربانی میرے بھائی پنگے لینا بند کردو، تم نے اس بار بھی گھما پھرا کر اپنے انعام کا ذکر ہی دیا۔ پیارے بھائی مجھے اپنا ایڈریس بتا دو، میں کوشش کروں گا کہ خود کچھ دن روکھی سوکھی کھا کر تمہار انعام ارسال کردوں باقی عمدہ لکھتے ہو خوش رہو، مجید جائی صاحب آپ سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہتے ہو ویسے ہی نئے افق میں بھی تند و تیزتبصرے کے ساتھ حاضر تھے بہت خوب مسکان ظفر بہنا میں پچھلے دنوں آپ کے گائوں شامکے بھٹیاں آیا تھا آپ کو بہت مس کیا وہاں کے ایک ڈاکٹر میرے دوست تھے ان کے ہاں میرا قیام تھا ڈبل سڑکوں پر صبح سویرے چہل قدمی بھی کی بس وہاں کتے کافی زیادہ ہیں اور غصے کے تیز ہیں ان کا کچھ بندوبست کردیں ریاض قمر بھائی مجھے بھول جانے کے لیے بہت شکریہ، آپ بھی یار بے وفا ہو، اب صحت کیسی ہے نئے افق کا مطلوبہ شمارہ میں آپ کو ارسال کردوںگا۔ ان شاء اللہ حسین جاوید نامی ایک صاحب ہر بار انتہائی بچکانہ باتیں کرتے ہیں ہر دفعہ اپنے خط کو آخری خط قرار دے کر بیچارے مدیر صاحب کے سر پر بم پھوڑنے میں شاید ان کو لطف آتا ہے۔ میرے بھائی ادب کی دنیا بہت وسیع ہے یہاں کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہاں اپنی انا کو ختم کرکے آنا پڑتا ہے آپ ابھی نئے ہو اس لیے سمجھ جائو تو بہتر ہے انجم فاروق صاحب کا انٹرویو عمدہ رہا، یقیناً انہوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر ادب کے میدان میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ سب سوالوں کے جوابات انہوں نے نہایت واضح انداز میں دیے ویسے میں یاسین صدیق بھائی سے کہنا چاہوں گا کہ وہ ہر انٹرویو میں سوالات کچھ بدل دیا کریںیکسانیت خود ایک قاتل ہے۔ بہرحال یہ ایک عمدہ کاوش ہے اسے جاری رہنا چاہیے بلکہ مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے دوسرے رسائل میں لکھنے والے بڑے نام بھی اس سلسلے کی زینت بن جائیں تو کیا ہی بات ہو، اب کچھ بات ہوجائے کہانیوں کی ابتدائی صفحات پر میرے ہیرو برہان وانی کے بارے میں ناول شامل تھا زرین قمر نے جس کشمیری لڑکی کے ساتھ وانی کے تعلقات بیان کیے یہ سب بھارت کا ایک ناکام پروپیگنڈہ تھا جسے ہماری قابل مصنفہ نے بڑے دھڑلے سے کامیاب بنانے کی کوشش کی ہے میں حلفاً کہتا ہوں کہ میرے کشمیر میں ذاتی تعلقات ہیں میں حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین سے رابطے میں رہتا ہوں میرے خاندان میں دس سے زیادہ نوجوان شہید ہیں میں مقبوضہ وادی میں وقت گزار کر بھی آیا ہوں برہان وانی کے اس نام کی یا کسی بھی لڑکی سے کسی قسم کے تعلقات نہیں تھے شخصیات پر ناول لکھنا بڑی ذمہ داری کا کام ہوتاہے اور شخصیت بھی ایسی کہ تحریک آزادی جس کے خون سے نیا ولولہ لے کر بیدار ہوئی ہے۔ کیا ضروری تھا کہ ناول میں گلیمر شامل کیا جاتا محترمہ اس کا جو بھی جواز پیش کریں گی وہ اس کردار کشی کا مداوا نہیں کرسکے گا جوا ان کے قلم سے سرزد ہوچکی ہے ابھی پچھلے دنوں بھارتی آرمی نے مقبوضہ وادی میں ایک کشمیری صحافی کو اس بات پر شہید کردیا کہ اس نے برہان وانی کی کسی لڑکی کے ساتھ تعلقات کی جھوٹی خبر بنانے سے انکار کیا تھا اور ہم کیا کر رہے ہیں، اس طرح کی باتوں سے بچنا بہت ضروری ہے، دیگر تمام کہانیاں عمدہ تھیں، اگلے ماہ تک کے لیے اجازت اللہ حافظ۔
عبدالجبار رومی انصاری… جھنگ۔
حسیں بیضوی سا چہرہ لیے
عیاں ہے زلفوں کے جال سے
نازک اندام سی صنف نازک میں
عیاں ہے سادگی بھی حسن و جمال سے
نئے افق کے سرورق کی زینت رومی
شاہکار ہے کسی مصور کے ہاتھوں کمال سے
خوب صورت ٹائٹل کو دیکھ کر فہرست پر نظر ڈالی اور پھر دستک پہ آن رکے، جہاں بھارت، افغانستان اور امریکا کی سازشیں ہی نظر آئیں اور پھر کوئٹہ کا سانحہ بھی انہی سازشوں کا شکار ہوا جس نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا مگر دشمن یاد رکھے یہ چراغ پھونکوں سے بجھایا نہ جائے گا، گفتگو میں احسن ابرار کا خط خوب صورت باتوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا اور بھائی میں تو عبدالجبار رومی ہوں عبدالغفار نہیں۔ ایم اے راحیل نے بھی غصہ ختم کر دیا بہت خوشی ہوئی مل جل کر ہی محفل سجتی ہے، عبدالحمید کا بھرپور تبصرہ عمدہ رہا، مجید احمد جائی کا خط سوچ و افکار کی جدت سے بھرپور ہوتا ہے آپ کی میزبانی بھی بہت عمدہ رہی بہت خوش ہوتی تھی مل کر صائمہ نور، ریحانہ سعیدہ اور عائشہ خواجہ نے بھی خوب لکھا۔ ممتاز احمد بھی اور ریاض بٹ خوب چھائے رہے، خیر مبارک عائشہ اے بی اللہ آپ کو خوش رکھے۔ باقی عمر فاروق ارشد مسکان ظفر بھٹی، شجاعت حسین، ریاض حسین قمر، شکریہ حوصلہ افزائی سے دل خوش ہوگیا حسین جاوید اور ایم حسن نظامی کے تبصرے بھی بہت اچھے رہے، اللہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے بے شک اقرا پر تحریر سے دل میں سکون آجاتا ہے خوب سے خوب تر کی جستجو میں ہوں، مزاج پڑھنا اور لکھنا پسند ہے فاروق انجم کا انٹرویو زبردست رہا اور بہت پسند آیا اور یاسین صدیق کے انٹرویو کرنے کا انداز بھی بہت اچھا لگا ایسے ’’محبت کو ہم نے اپنی مٹھی میں ڈھونڈ لیا ہے۔‘‘ تیمور نے عین کے دل کی گھنٹی بجا دی اب دیکھتے ہیں عین کیا جواب دے گی باقی عشنا کوثر سردار تو چاند کی ایک سو سولہ چاند کی راتیں کو خوب گرما رہی ہیں۔ مجید احمد جائی کی عذاب مسلسل نے دہلا دیا انسان ہوس ناک ہو کر ایسا درندہ بھی بن جاتا ہے تو یہ… مشکل وقت میں زندہ رہنا اور محبت کر کے منزل پاتا کامیابی کی ضمانت ہے اور یہ سب صداقت حسین ساجد کی کہانی راستہ بتا رہی ہے کہ تمہیں کیسے کامیاب ہونا ہے، تعلیم سب کے لیے اور جب اس کے لیے لگن اور شوق پیدا ہوجاتا ہے تو روشنی کی کرن جگمگا اٹھتی ہے مہتاب خان کی کہانی بھی اچھی رہی، زرین قمر کے ڈیول کی پہلی قسط زبردست رہی اور ٹیلی پیتھی کے کمالات کی وجہ سے دلچسپ بھی رہی ایک دماغ سے نکل کر دوسرے میں جاتا ٹیلی پیتھی کے زیر اثر سمیر کا کردار عمدہ رہا۔ یا اللہ میں وعدہ کرتی ہوں کسی مجاہد سے شادی کروں گی خدا گواہ وقت قریب کی پر اثر اور سچی کہانی بہت اچھی لگی برہان وانی تو شہادت کے مرتبے پر فائض ہوگیا اور اپنے پیچھے آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونک کیا اب انڈیا کی شکست اس کا مقدر بن چکی ہے اور کشمیر آزاد ہو کر رہے گا ان شاء اللہ حسین و جمیل اور پاکباز عذرا نے دوسرے شوہر کی مجبوری کو بھی سر آنکھوں پر لیا اور اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کیا اور صبر کا دامن تھام کر اللہ سے رجوع کرلیا جسے موت کے بعد بھی ابدی حیات ملی اور قبر بھی خوش بوئوں سے بس گئی سلیم اختر کی کہانی بھی بہت عمدہ رہی۔ زندگی کا حسن موت ہے اور ایک دن سب کو مرنا ہے فن پارے سے محمد ہاشم کی تحریر فردوس حزیں اچھی لگی روشن راہیں منتظر ہوتی ہیں کہ کب کو ہدایت لے کر ان کی طرف لوٹتا ہے سو ہادی بھی لڑکیوں کے چکر سے باز آیا اور ثانیہ کا معترف ہوگیا دیر آید بھی بہت عمدہ ہیں ذوق آگہی میں گل مہر، عائشہ اے بی اور آبروئے نبیلہ اقبال جبکہ خوش بو سخن سے شکیل احمد فریدہ جاوید فری، حمیرا قریشی اور غلام مجتبیٰ بہترین رہے، والسلام۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close