Naeyufaq Dec-16

دستک

مشتاق احمد قریشی

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے…!
گزشتہ دنوں سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوچکا ہے انگریزی کے ایک موقر اخبار کے رپورٹر کے ذریعے ایک ایسی خبر جو ملکی سالمیت اور حفاظت سے متعلق تھی شائع کرا کے ملکی حفاظت اور سالمیت کو بیچ چوراہے پر لا کر رکھ دیا ہے۔ دراصل یہ کوئی گہری سازش معلوم ہوتی ہے کسی ایسے گھر کے بھیدی نے جو موجودہ حکمرانوں سے بغض رکھتا ہے ان کے اپنے قریبی ساتھیوں میں سے کوئی نادان دوست یا کوئی آستین کا سانپ ہے جو نہیں چاہتا کہ میاں صاحب اب مزید مسند اقتدار پر براجمان رہیں اس نے بہت سوچ سمجھ کر منصوبہ بندی کے ساتھ ایک راز کو جو ملکی سالمیت اور حفاظت سے متعلق تھا افشا کیا تاکہ افواج پاکستان کو برہم کر کے حکمرانوں کے سامنے لا کھڑا کرے اور ایسا ہی ہوا افواج پاکستان اس خبر کی اشاعت سے ہکا بکا رہ گئی اور جنرل راحیل شریف کو فوری رد عمل کے طور پر کور کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کرنا پڑا اور ایک سخت بیان اہل سیاست کو اور عوام کو سننا پڑا خبر لیک کرنے والوں یا والے کا اندازہ ایسا ہی ہوگا اسے امید ہوگی کہ جنرل راحیل شریف اس خبر کے لیک ہونے سے ایک دم بھڑک کر وہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے جس سے میاں صاحب کا تختہ پہلے کی طرح الٹ جائے گا میاں صاحب آسمان سے ایک دم پہلے کی طرح زمین پر آجائیں گے اور انہیں دن میں تارے نظر آنے لگیں گے پہلے تو جنرل مشرف نے جو اور جیسا سلوک ان کے ساتھ کیا اس کے باوجود وہ عالمی دبائو برداشت نہ کرسکا اور میاں صاحب کو سعودی عرب جانے کی اجازت مجبوراً دینا پڑی تھی لیکن جنرل راحیل عالمی سطح پر پہلے ہی بہت مقبول اور پسندیدہ ہیں یورپ، امریکا اور اسلامی ممالک سب کے سب جنرل راحیل شریف کی حمایت اور انہیں پسند کرتے ہیں یہ بات غالباً میاں صاحب کو پسند نہیں۔
جس ذریعے نے بھی وہ خبر رپورٹر تک پہنچائی اس نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں موقر انگریزی اخبار سے کوئی پرخاش ہو اس طرح انہوں نے اخبار سے اپنا بدلہ لیا ہو دوسرے میاں صاحب کو افواج پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی مذموم کوشش ان کا مقصد ہو اور تیسرے افواج پاکستان کو میاں صاحب کے سامنے لا کھڑا کرنا ہو۔ میاں نواز شریف اور ان کی حکومت میں شامل تمام ہی ارکان کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں میں جو لاوا پک رہا ہے وہ بھی سامنے کی بات ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ تحریک انصاف جو دھرنے کی سیاست کر رہی ہے اس کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی میدان میں اتر رہی ہے پہلا قدم اتوار کی ریلی کے ذریعے سامنے آچکا ہے اور دھرنا جو کہ اپنے شہداء کی برسی کے موقع پر کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی مخالفین اب تک فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ دیتے رہے ہیں۔ برقی ذرائع ابلاغ کے اینکرز کا اپنا انداز گفتگو ہے کئی اینکرز نے تو اس خبر کے حوالے سے بڑی بڑی پیش گوئیاں کرنا شروع کردی ہیں جنرل راحیل نے کبھی بھی آئین اور قانون کے خلاف کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا اور انہوں نے کئی بار واضح الفاظ میں ایسے خیالات کی مذمت کی ہے۔ ایک چینل کے اینکر محترم کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر کمیٹی کی میٹنگ میں بہت سخت فیصلے کیے گئے ہیں وہاں شریک جرنلز کے چہروں کا تنائو بتا رہا تھا کہ وہ بڑی مشکل سے اپنے غصہ اور جذبات پر قابو پا رہے ہیں یقیناً کوئی مشکل فیصلہ کرلیا گیا ہے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تمام ہی برقی ذرائع ابلاغ نے پیش گوئیاں کرنے کی فیکٹریاں لگا رکھی ہیں وہ پر سے کوّا بنانے کی ماہر ہیں۔ سب سے پہلے خبر نشر کر کے نمبر بنانا اب ٹیلی ویژن نشریات کا معمول بن گیا ہے اور تجزیے تبصرے کی آڑ میں وہ کچھ کہہ دیا جاتا ہے جس کا دیکھنے والے سننے والوں کو گمان تک نہیں ہوتا بال کی کھال نکالنا ٹی وی والوں کا فن ہے وہ اس میں بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں تمام ہی ٹی وی چینلز طرح طرح کے پروگرام تجزیوں، تبصروں کے نام پر طوفان برپا کرتے ہیں حالانکہ وہ خبر جس کے رد عمل کے طور پر حکومت کو اور افواج پاکستان کو خفت اٹھانا پڑی ہے وہ کسی ایسے ہی گھر کے بھیدی نے باہر نکالی ہے جو میاں صاحب کی لنکا ڈھانا چاہتا ہے اور فوج کو اکسا کر اس سے اچھا بننا چاہتا ہے لیکن فی الحال تو الٹی آنتیں گلے پڑتی نظر آرہی ہیں افواج پاکستان کا غصہ اپنی جگہ درست ہے کیونکہ ملکی اور قومی سلامتی چاہے وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت سے متعلق ہو یا نظریاتی سرحدوں سے متعلق وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ایسا ہے بھی جس کا ثبوت ضرب عضب کے نام سے ملک کے اندر نظریاتی مخالفین کا مقابلہ کر کے ان کا صفایا کرنا اور پڑوسی ممالک کی ملکی سرحدوں پر در اندازی کو ہر قیمت پر روکنا اور انہیں منہ توڑ جواب دینا جس میں بلا شبہ اب تک کوئی کسی طرح کی کمی نہیں دیکھی گئی ملک کے اندر دہشت گردی پر قابو پانے اور بڑے شہروں کے امن و امان کو بحال کرنا یہ سیاست دانوں کا نہیں افواج کا ہی کارنامہ ہے حکمرانوں کی بے حسی اور عوام سے لا تعلقی کو دیکھتے محسوس کرتے ہوئے ہی شاید چیف جسٹس آف پاکستان کو یہ کہنا پڑا کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت ہو رہی ہے۔ واقعی ایسا ہی ہے چیف جسٹس آف پاکستان نے غالباً مجبور ہو کر ہی یوں کہا ہے کیونکہ تمام ہی سیاسی جماعتوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ میاں نواز شریف پانامہ لیکس سے متعلق اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کردیں یا اقتدار چھوڑ دیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے سانپ کے منہ میں چھچھوندر پھنس کر رہ گئی ہے۔ میاں صاحب سے نہ نگلتے بن رہی ہے نہ اگلتے بن رہی ہے۔ وہ اقتدار کے نشے میں ایسے دھت ہیں کہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال رہے ہیں۔
عوام بے چارے نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے وہ بے بسی سے افواج کی طرف دیکھ رہے ہیں کیونکہ جمہوریت کے نام پر حکومت کرنے والوں نے عوام کو لوٹ کر اس کا بھرکس نکال دیا ہے عوام میں اب وہ قوت وہ احساس ہی ختم کردیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی نا انصافی زیادتیوں اور لوٹ مار کے خلاف کسی طرح کے رد عمل کا اظہار کرسکے شاید عوام کی اس بے بسی اور بے حسی کی نمائندگی جناب چیف جسٹس صاحب نے یہ کہہ کر کہ عوام سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں ایک عمدہ اور صائب مشورہ دیا ہے۔ عوام کی بے بسی اپنے عروج پر ہے مہنگائی کے طوفان کے باوجود سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں عوام کی خاموشی اور برداشت سے حکمران اور اہل سیاست ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں عوامی نمائندے جو عوام کے ووٹ سے ان کے نمائندوں کے طور پر قانون ساز اسمبلیوں میں براجمان ہیں انہیں بھی اس سے قطعی دلچسپی نہیں ہے کہ عوام کا ان کے اپنے ووٹر کا کیا برا حال ہو رہا ہے انہیں بھی اپنا الو سیدھا کرنے سے مطلب ہے عوام جائیں بھاڑ میں جب الیکشن ہوگا تب کی تب دیکھی جائے گی۔
افواج پاکستان کے سربراہ کو چاہیے کہ اس خبر کے اثرات کی تفتیش وہ خود کریں ان کے ساتھ اس خبر سے متعلق میٹنگ میں شریک ان کے چند معتبر ساتھی ہی ہوں گے جنرل صاحب اپنے گھر سے شروع کریں اس طرح اس میٹنگ کا ایک حصہ کلیئر ہوجائے گا باقی رہ گئے میاں صاحب کی بچھائی شطرنج کی بساط کے مہرے تو بھی چند ہی افراد ہوں گے درجن دو درجن یا سیکڑوں میں نہیں ہوں گے پھر انہیں چیک کرلیا جائے ساتھ ہی اس ایوان میں موجود خدمت گاروں کو بھی چیک کرلیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو کر سامنے آجائے گا اور یہ معلوم ہوجائے گا کہ غلطی کہاں ہوئی اور کس نے کی۔ رہی اخبار کی یا اس کے نمائندے کی بات تو یہ ان کی مجبوری ہوتی ہے وہ ایسے افراد کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے مددگار ثابت ہوسکیں وہ ان کی خدمت بھی کرتے ہیں اور ان سے کام بھی نکال لیتے ہیں کوئی تو ہے جس نے گھر کا بھید افشاں کیا ہے۔
اللہ اہل وطن کی وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور عقل سلیم عطا فرمائے، آمین

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close