Naeyufaq Nov-16

دیول(قسط نمبر2)

’’بیٹھو ! تم سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔‘‘ خلیل کامران نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔
’’سمیر ! تمہارے اندر دوسروں کا ذہن پڑھنے کی صلاحیت موجود ہے یہ بات تمہارے والد نے مجھے بتائی تھی جب تم دوسروں کے ذہن پڑھتے ہو تو تمہیں کیسا لگتا ہے؟‘‘
’’بس دوسرے شخص کے خیالات میرے ذہن میں آجاتے ہیں… خود بخود… اور وہ ہمیشہ درست ہوتے ہیں۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’اس کے علاوہ کوئی غیر معمولی بات؟‘‘
’’مجھے آنے والے خطرات کا پہلے سے اندازہ ہوجاتا ہے… میری چھٹی حس مجھے بتادیتی ہے کہ کچھ ہونے والا ہے جیسے کہ اس روز میرے ساتھ ہوا تھا۔ جب میں گھر کے قریب جنگل میں اپنی کتاب لینے کے لیے نہیں جارہا تھا اور مجھے خوف محسوس ہورہا تھا کہ کچھ ہوجائے گا۔ میرے والد زبردستی مجھے وہاں لے گئے تھے اور پھر واقعی وہ ناخوش گوار واقعہ پیش آگیا تھا۔‘‘
’’سمیر! ویسے تو میں ٹیلی پیتھی کا علم سیکھنے والوں کو باقاعدہ تربیت دینے کے لیے ان کی کلاس لیتا ہوں لیکن تمہارا معاملہ مختلف ہے۔دوسرے لوگ اس کے قاعدے قانون سیکھ کر اس کی مشقیں کرتے ہیں لیکن تمہیں اﷲ کی طرف سے یہ خداداد صلاحیت ملی ہوئی ہے بس اسے نکھارنے کی ضرورت ہے تمہارے لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں تمہیں سب سے الگ رکھوں اور اگر کچھ بتانا ہو تو سب سے الگ ہی بتاؤں ۔ تم اپنے خواب اپنے خیالات کے بارے میں جب چاہو مجھ سے مشورہ کرسکتے ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’دیکھو سمیر یوں سمجھ لو کہ ہماری ذہنی صلاحیتوں کا باقاعدہ ایک کشادہ نیٹ ورک ہے جو ساری سوچیں جمع کرتا ہے اور ان جمع شدہ سوچوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ کہیں بھیجا جاسکتا ہے یہ بہت مضبوط ہوتی ہیں بالکل حقیقت کی طرح یہ عمل ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کیمرے سے کسی چیز کا عکس کھینچا جائے اور وہ ایک کیمیائی عمل سے گزر کر تصویر کی شکل اختیار کرلے اس طرح جو سوچیں ہم جمع کرتے ہیں وہ بھی ذہن کے گوشوں سے گزر کر ایک مکمل حقیقت میں تبدیل ہوسکتی ہیں اور اس کی طاقت اور حقیقت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ جو ان کو کنٹرول کررہا ہے وہ کتنا مضبوط ہے۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں اس تجربے سے دوچار ہوتا رہتا ہوں۔‘‘ سمیر نے کہا پھر زیادہ دیر سمیر وہاں نہیں رکا تھا اور اپنے کمرے میں آگیا تھا اسے بار بار رات نظر آنے والا خواب یاد آرہا تھا اور اس نے کسی سے اس کا تذکرہ نہیں کیا تھا وہ حیران تھا کہ اسے وہ خواب کیوں نظر آرہا تھا کیا اس کی والدہ اس سے کچھ کہنا چاہتی ہیں، اسے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتانا چاہتی ہیں یا یہ محض اس کے ذہن کا اختراع تھی۔
دوسرے روز وہ نہ چاہنے کے باوجود پھر زرتاشے کے گھر پہنچ گیا تھا زرتاشے کی ماں نے بہت خوش دلی سے اس کا استقبال کیا تھا پھر وہاں اس کی ملاقات ایک ادھیڑ عمر شخص سے بھی ہوئی تھی جس کا تعارف زرتاشے کی والدہ نے سمیر سے کروایا تھا۔
’’یہ صمصا م گل ہیں اس بستی کے اہم لوگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے میرے شوہر امتیاز خان کے بہت اچھے دوست اور پارٹنر ہیں۔‘‘ زرتاشے کی ماں نے کہا۔
’’آپ سے مل کر خوشی ہوئی مجھے سمیر کہتے ہیں اور میں ڈریم سینٹر میں رہتا ہوں جہاں اپنی تعلیم مکمل کر رہا ہوں۔‘‘
’’بہت خوب!‘‘ صمصام گل نے کہا۔ وہ زرتاشے کے قریب ہی بیٹھا تھا اور سمیر نے محسوس کیا تھا کہ زرتاشے کو اس کا اس طرح بیٹھنا پسند نہیں آرہا تھا پھر وہ اپنی جگہ پر کھڑی ہوگئی تھی۔
’’کہاں جارہی ہو؟‘‘ صمصام گل نے بے چینی سے پوچھا۔
’’میں ذرا باہر جارہی ہوں کچھ کام ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا اور گھر سے نکل گئی سمیر بھی اس کے پیچھے باہر آگیا تھا ۔ اس نے زرتاشے کے ذہن کو پڑھنے کی کوشش کی وہ خاصی پریشان تھی اس کی سوچیں منتشر تھیں۔
’’کیا بات ہے زرتاشے؟‘‘ اس نے قریب جاتے ہوئے پوچھا۔
’’یوں لگتا ہے کہ جیسے تم اس شخص کو پسند نہیں کرتی؟‘‘
’’ہاں! میں اسے پسند نہیں کرتی۔‘‘ زرتاشے نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔
’’میں…میں بہت دن سے ماں کو سمجھارہی ہوں کہ اسے گھر میں نہ بلایا کریں لیکن وہ میری بات سنتی نہیں ۔ انہیں پتہ نہیں اس شخص میں کیا خوبی نظر آتی ہے۔‘‘ زرتاشے غصے میں تھی۔
’’اگر تم اسے پسند نہیں کرتیں تو اپنے والد سے بات کرو۔ وہ یقینا تمہاری بات سمجھیں گے۔ اور تمہاری مدد کریں گے۔‘‘ سمیر نے مشورہ دیا۔
’’انہیں ہر بات کا علم ہے لیکن وہ خاموش ہیں۔‘‘ زرتاشے کے لہجے میں مایوسی تھی۔
’’تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ سمیر نے نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھا نہ جانے کیوں اسے اس معصوم لڑکی سے ہمدردی محسوس ہورہی تھی وہ اس کی مدد کرنا چاہتا تھا لیکن وہ اس فیملی کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں رکھتا تھا۔
’’میں اپنی زندگی جینا چاہتی ہوں۔‘‘ زرتاشے نے کہا۔
’’تم یہاں خوش نہیں ہو؟‘‘ سمیر نے اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔ ’’اتنا پر فضا مقام ‘ سرسبز وادیاں ‘ برف سے ڈھکی پہاڑیوں کی چوٹیاں اتنی خوب صورت جگہ تمہارا گھر ہے تمہیں پتہ ہے ہمارے جیسے لوگ تو ایسی جگہوں میںرہنے کے خواب ہی دیکھتے ہیں۔‘‘ سمیر نے کہا تو زرتاشے اسے حیرت سے دیکھنے لگی۔
’’کیا تم بھی یہی خواہش رکھتے ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں!…یہ بہت اچھی جگہ ہے۔‘‘
’’تم یہاں کے نہیں، وہ اس لیے یہ بات کہہ رہے ہو ۔ دراصل کتنا بھی اچھا ماحول ہو لیکن طویل عرصے وہاں رہنے سے انسان اُکتا جاتا ہے اور وہاں سے فرار چاہتا ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا لیکن سمیر محسوس کر رہا تھا کہ زرتاشے جو کچھ کہہ رہی ہے صرف وہی وجہ نہیں ہے اور بھی کچھ ہے جو وہ سمیر سے چھپا رہی ہے۔
’’تم پریشان مت ہو زرتاشے میں تمہارے والدین سے بات کروں گا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’نہیں میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دے سکتی وہ تو تمہیں جانتے بھی نہیں ہیں ممکن ہے ہمارے گھریلو معاملے میں انہیں تمہاری مداخلت پسند نہ آئے۔‘‘
’’ٹھیک ہے تمہاری مرضی۔‘‘ سمیر نے کہا وہ حیران تھا کہ زرتاشے پریشان ہونے کے باوجود کیوں نہیں چاہتی کہ کوئی اس کے والدین سے اس سلسلے میں بات کرے۔
’’اچھا! میں چلتا ہوں …کافی دیر ہوگئی ہے۔‘‘ سمیر نے کہا ۔ زرتاشے نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ سمیر واپس ڈریم سینٹر کی طرف روانہ ہوگیا تھا وہ چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں پر لگی جھاڑیوں کے درمیان راستہ بناتا آگے بڑھ رہا تھا ۔ اونچے اونچے درختوں کے گھنے پتوں سے سورج کی روشنی چھن چھن کر نیچے آرہی تھی جس نے ماحول کو پوری طرح تاریک ہونے سے بچایا ہوا تھا دن کے وقت بھی درختوں کی گھنی چھاؤں کی وجہ سے نیچے کا منظر کافی دھندلا تھا جہاں سورج کی روشنی پڑ رہی تھی۔ وہاں جھٹ پٹے کا سماں تھا۔
چلتے چلتے سمیر کو احساس ہوا کہ جیسے وہ وہاں اکیلا نہیں ہے کوئی اور بھی ہے اس کے اردگرد موجود ہے پھر کہیں دور سے سوکھے پتوں کے چرمرانے کی آواز سنائی دی اور اسے یقین ہوگیا کہ اس کے علاوہ بھی وہاں کوئی ہے وہ تیزی سے قدم بڑھانے لگا لیکن دوسرے ہی لمحے ڈھیلا ڈھالا چوغہ پہنے ایک نقاب پوش نے اس پر حملہ کردیا تھا اچانک حملے سے وہ لڑکھڑا گیا لیکن گرنے سے پہلے اس نے ایک درخت کا سہارا لے لیا تھا ۔ نقاب پوش نے پھر اس پر چھلانگ لگائی تھی لیکن اس بار سمیر ہوشیاری سے ایک سمت جھک گیا تھا اور اس کی چھلانگ سے بچ کر نکل گیا تھا۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ نقاب پوش سنبھل کر دوبارہ حملہ آور ہوتا سمیر نے اسے دبوچ لیا۔ اس شخص نے سمیر کی گرفت سے نکلنے کے لیے اس کے پیٹ پر ایک کک ماری تھی اور سمیر پیٹ پکڑ کر دہرا ہوگیا وہ شخص اس کی گرفت سے نکل کر تیزی سے بھاگتا ہوا دائیں جانب درختوںمیں گم ہوگیا تھا۔ سمیر بھی تیزی سے اس کی طرف لپکا تھا۔ چند قدم آگے جانے پر وہ شخص نظر آیا تھا وہ تیزی سے بھاگ رہا تھا اور درختوں اور جھاڑیوں کی آڑ میں رہ کر بھاگنے کی کوشش کررہا تھا ۔ لیکن اب سمیر اپنی آنکھوں ‘ کانوں کے ساتھ ساتھ اپنے ذہنوں کی صلاحیتوں سے بھی کام لے رہا تھا جب وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوتا تو اس کے کان اس کی آہٹ محسوس کرتے اور جب اس کی آہٹیں بھی سنائی نہ دیتیں تو سمیر کو اپنے ذہن کے گوشوں میں اس کے دل کی دھڑکنیں اور اس کی سانس سنائی دیتیں اور وہ اسی سمت دوڑ لگادیتا۔
بھاگتے بھاگتے وہ جنگل سے نکل کر میدان میں آگیا تھا ۔ میدان چھوٹا سا تھا اس کے فوراً بعد پہاڑ شروع ہوگئے تھے ۔ اسی لمحے سمیر نے رک کر اندازہ لگایا کہ اسے کس سمت جانا چائیے۔ اس کا ذہن اس کی رہنمائی کررہا تھا اس نے اس راستے سے ذرا ہٹ کر دوسری سمت دوڑنا شروع کردیا جس پر وہ اب تک دوڑ رہا تھا پھر وہ سامنے آنے والی پہاڑیوں میں داخل ہوگیا تھا۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی تھیں جن کے درمیان میں تنگ راستے تھے ۔ جو ناہموار تھے اچانک قریب ہی کہیں ایک پتھر لڑھک کر نیچے کی جانب گرا اور سمیر چھپتا ہوا اس سمت بڑھا ۔ نقاب پوش سامنے ہی ایک دراڑ سے اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ سمیر نے پیچھے سے چھلانگ لگا کر اسے دبوچ لیا اور اس بار پھر وہ اس کا وزن سہار نہیں سکا تھا اور اس کو ساتھ لیے ہوئے زمین پر گرگیا تھا۔
نقاب پوش پھر اٹھا اور بھاگا تھا لیکن سمیر نے اپنی ٹانگ اس کی ٹانگ میں اڑا دی تھی اور وہ گر گیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے سمیر اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا تھا ۔ اس نے نقاب پوش کے دونوں ہاتھ بھی اپنے پیروں کے نیچے دبالیے تھے اور نقاب پوش اس کی گرفت سے نہیںنکل سکا تھا۔
’’کون ہو!…کون ہو تم؟‘‘ سمیر نے غرا کر پوچھا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ سمیر نے اس کے چہرے سے نقاب کھینچ لیا وہ بیس سال کا نوجوان تھا سرخ و سفید رنگت اور توانا جسم کا مالک گھنے سیاہ بال اس کے ماتھے پر بکھر گئے تھے۔
’’کیا چاہتے ہو؟…تم کون ہو؟‘‘ سمیر نے پوچھا لیکن اس بار اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا لیکن نوجوان کی طرف سے مزاحمت ختم ہوگئی تھی۔ سمیر نے گریبان سے پکڑ کر سیدھا کرکے بٹھادیا او ر خود اس کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گیا۔
’’مجھے کیوں مارنا چاہتے تھے؟‘‘ اس کی آواز میں غصہ تھا۔
’’میں تمہیں مارنا نہیں چاہتا تھا ۔‘‘ اس نوجوان نے جلدی سے کہا وہ سمیر سے خاصا مرعوب نظر آرہا تھا۔
’’پھر؟…پھر مجھ پر حملہ کرنے کی وجہ؟‘‘ سمیر نے اسی لہجے میں پوچھا۔
’’تم ‘ زرتاشے کے گھر کیوں جاتے ہو؟‘‘ اس نوجوان نے کہا سمیر کو اس کے سوال پر حیرت ہوئی اس نے کبھی اس نوجوان کو کبھی زرتاشے کے گھر یا اس کے قریب نہیں دیکھا تھا۔
’’تم کون ہو…؟ زرتاشے سے تمہارا کیا تعلق ہے۔‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’مم…میں…اسے چاہتا ہوں ۔‘‘ نوجوان نے کہا اور سمیر حیران رہ گیا ۔ زرتاشے نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی تھی جس سے یہ اندازہ ہو کہ وہ کسی کو چاہتی ہے وہ تو بس یہاں کے ماحول سے اکتاگئی تھی اور یہاں سے دور جانا چاہتی تھی جس کے لیے اس کے والدین اس کی مدد نہیں کر رہے تھے۔
’’میں قریبی بستی میںرہتاہوں …میرا نام گلفراز خان ہے۔‘‘
’’تم زرتاشے کو کیسے جانتے ہو؟‘‘
’’میرا کبھی کبھی ادھر سے گزر ہوتا ہے تو اسے اکثر ندی کے قریب ‘ کبھی پہاڑیوں کی طرف جاتے ہوئے اور کبھی گھاس کے میدانوں میں بھیڑ بکریوں کے ساتھ کھیلتے دیکھتا ہو ۔ میں اسے پسند کرتا ہوں۔‘‘ گلفراز نے کہا اور سمیر اس کے ہاتھ چھوڑ کر اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔
’’کیا زرتاشے یہ بات جانتی ہے؟‘‘ سمیر نے پوچھا ۔ اس نے اتنی دیر میں گلفراز کے ذہن کو پڑھ لیا تھا اور یہ جان گیا تھا کہ گلفراز سچ بول رہا ہے۔
’’وہ مجھے تو جانتی ہے کیوں کہ راہ میں ملتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں خیریت پوچھتے ہیں لیکن وہ یہ نہیںجانتی کہ میں اسے پسند کرتا ہوں۔‘‘
’’کیا کبھی اس کے والدین سے ملے ہو؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’صرف والدہ سے ملا ہوں وہ بہت لالچی عورت ہے۔‘‘ گلفراز نے کہا اور سمیر کو ایک بار پھر حیرت ہوئی۔ کیونکہ ا س نے زرتاشے کی ماں میں ابھی تک ایسی کوئی بات محسوس نہیںکی تھی۔
’’یہ بات تم کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘
’’یہ ایک لمبی کہانی ہے پھر کبھی بتائوں گا…تم یہ بتائو کہ تم کون ہو…مقامی تو نہیں ہو…یہاں کیا کررہے ہو اور زر تاشے سے قریب ہونے کی کوشش کیوں کررہے ہو؟‘‘گلفراز نے پوچھا۔
’’یہ تم نے صحیح کہا کہ میں مقامی نہیں ہوں یہاں ڈریم سینٹر میں رہتا ہوں اور اپنی تعلیم مکمل کررہا ہوں لیکن یہ تم نے غلط کہا کہ میں زرتاشے سے قریب ہونے کی کوشش کررہاہوں ایسا نہیں ہے۔‘‘
’’پھر تم بار بار اس کے گھر کیوں جاتے ہو؟‘‘
’’دراصل میں اس علاقے میں نیا ہوں اور یہاں کسی کو نہیں جانتا۔ اتفاقاً میری ملاقات زرتاشے سے ہوگئی تو اس کی والدہ نے مجھے گھر میں بلالیا اور یوں میرا آنا جانا شروع ہوگیا۔‘‘
’’اس عورت سے بچ کر رہنا…وہ بہت چالاک ہے۔‘‘گلفراز نے کہا۔
’’کون عورت؟‘‘
’’زرتاشے کی ماں!اس نے زرتاشے کا جینا بھی حرام کیاہوا ہے۔‘‘ گلفراز نے غصے سے کہا۔
’’کیا کہہ رہے ہو؟ یہ بات غلط ہے وہ توزرتاشے کا بہت خیال رکھتی ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ہاں ایسا لگتا ہے کہ وہ اس کا خیال رکھتی ہے لیکن دراصل وہ اس کی سخت نگرانی کرتی ہے۔‘‘
’’نگرانی؟کیوں؟‘‘
’’یہ ایک راز ہے میں تم پر بھروسہ نہیں کرسکتا تو تمہیں کیسے بتائوں۔‘‘ گلفراز نے کہا۔
’’بھروسہ نہ کرنے کی وجہ؟‘‘
’’سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تم اجنبی ہو اور میں تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے مت بتائو۔‘‘ سمیر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’جب تم محسوس کرو کہ تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے تو بتا دینا۔‘‘
’’مجھے تمہاری مدد کی ضرورت بھلا کیوں ہوگی؟‘‘
’’یہ تو وقت بتائے گا اگر تم واقعی زرتاشے کے سچے عاشق ہو اور اسے حاصل کرنا چاہتے ہو اور تمہارے کہنے کے مطابق وہ کسی مشکل میں ہے تو کیا تم اسے اکیلے اس مشکل سے نکال سکتے ہو؟‘‘سمیر نے کہا اور گلفراز لاجواب ہوگیا۔
’’ابھی میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘گلفراز نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’چلو دوست! ایک دوسرے پر اعتماد ہونے تک ہم انتظار کریں گے۔‘‘ سمیر نے دوستانہ مصافحے کے لیے گلفراز کی طرف اپنا دائیاں ہاتھ بڑھایا جسے گلفراز نے گرم جوشی سے پکڑ لیا تھا۔
’’ٹھیک ہے ممکن ہے مستقبل میں ہم ایک دوسرے کے بہترین دوست ثابت ہوں یا حریف؟‘‘گلفراز نے کہا۔
’’اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔‘‘سمیر نے جواب دیا پھر وہ باتیں کرتے ہوئے پہاڑیوں سے نیچے آگئے تھے اور جنگل شروع ہونے سے پہلے گلفراز اس سے جدا ہوگیاتھا۔
’’وہ راستہ میری بستی کو جاتا ہے…یہاں سے تمہاری اور میری راہیں جدا ہیں۔‘‘ گلفراز نے کہا۔
’’لیکن مستقبل میں شاید ہمیں کچھ وقت ساتھ ہی گزارنا ہو میری چھٹی حس کہتی ہے۔‘‘ سمیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پھر وہ اپنی اپنی راہوں پر چل پڑے تھے کچھ دور جانے کے بعد گلفراز نیچے اترتے ہوئے سمیر کی نظروں سے اوجھل ہوگیا تھا۔
سمیر جب ڈریم سینٹر پہنچا تو ناصر محمود اس کا منتظر تھا۔
’’سمیر تم کہاں چلے جاتے ہو؟خلیل کامران تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔‘‘ناصر محمود نے کہا۔
’’میں صبح ناشتہ کرکے ٹہلنے باہر چلا گیاتھا یہاں کا علاقہ بہت پر فضا ہے بہت لطف آتا ہے۔‘‘سمیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے مجھے بھی ساتھ لے چلتے۔‘‘ناصر محمود نے کہا۔
’’دراصل خلیل کامران کا خیال ہے کہ تمہیں تنہا باہر نہیں جانا چاہئے کیونکہ ان کے خیال میں شاید تم محفوظ نہیں ہو۔‘‘
’’میں ان کا بہت شکرگزار ہوں ناصر صاحب لیکن یوں ڈر ڈر کر میں کب تک زندگی گزار سکتاہوں۔ یہاں آنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ میں اس قابل ہوجائوں کہ خطرات کا خود مقابلہ کرسکوں اب تک ڈرڈ ر کر زندگی گزاری تو کیا حاصل ہوا۔‘‘
’’تمہارا کہنا بھی درست ہے لیکن اگر تم اپنے ساتھ مجھے ہی لے جائو تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے آئندہ خیال رکھوں گا۔‘‘سمیر نے بات کو مختصرکرنے کے لیے کہا۔
’’خلیل کامران میرے بارے میں کیا پوچھ رہے تھے؟‘‘
’’تمہاری آنٹی سارہ کا فون آیاتھا ان کے پاس شاید اسی سلسلے میں کچھ بات کرناچاہتے ہیں۔‘‘
’’اچھا اس وقت وہ کہاں ہیں؟‘‘
’’ابھی تو کچھ مہمان آئے ہوئے ہیں ان سے مل رہے ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر دوپہر کے کھانے پر بات ہوگی۔‘‘سمیر نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا کمرے میں جاکر اس نے دروازہ بند کرلیا تھا اور بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کرلی تھیں وہ زرتاشے کے ذہن میں جانا چاہتاتھا تاکہ جان سکے کہ اس کی پریشانی کا راز کیا ہے پھر اسے زرتاشے کے ذہن میں جانے میںکوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی وہ خوفزدہ تھی اور کسی بات پر اپنی ماں سے الجھ رہی تھی۔
’’میں کسی قیمت پر بھی صمصام گل سے شادی نہیں کرسکتی۔‘‘زرتاشے رو رو کر کہہ رہی تھی۔
’’تمہیں یہ کرنا ہوگا۔ زرتاشے تمہیں پتہ ہے کہ صمصام تمہارے والد کا کاروباری پارٹنر ہے اور میں یہ نہیں چاہتی کہ ہماری کانوں سے حاصل ہونے والی آدھی دولت ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے۔‘‘زرتاشے کی ماں نے کہا پھر وہ وہاں سے چلی گئی تھی اور زرتاشے بے تحاشا رو رہی تھی وہ سوچ رہی تھی کہ اگر آج اس کی ماں زندہ ہوتی تو شاید اس کے ساتھ یہ سب نہ ہوتا۔ جب سمیر کو یہ پتہ چلا کہ زرتاشے کی ماں دراصل اس کی سگی ماں نہیں ہے تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ اس کے رویے سے سمیر کو کوئی ایسی بات محسوس نہیں ہوئی تھی جس سے اسے اندازہ ہو کہ وہ زرتاشے کی سگی ماں نہیں ہے ۔
زرتاشے کے ذہن میں پہلی بار جانے پر سمیر کو پتہ چلا کہ زرتاشے بھی اس کی طرح خاص صلاحیت رکھتی ہے اور زرتاشے کی ماں اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتی ہے سمیر نے ذہن میں موجود رہتے ہوئے زرتاشے کی اس بارے میں مزید سوچنے پر مجبور کیا اور اس پرکئی راز کھلتے چلے گئے زرتاشے کی ماں اسے صمصام کے لیے ایک معمول کی طرح استعمال کرتی تھی اور صمصام اس کے ذریعے اپنی بیوی کی روح سے رابطہ کرتا تھا ایسا مہینے میں ایک دو بار ضرورہوتا تھا اور زرتاشے اس کو پسند نہیں کرتی تھی لیکن اس کی ماں ہر بار اسے ٹرانس میں لاکر ایسا کرنے پر مجبور کردیتی تھی۔
اچانک سمیر کو خیال آیا کہ گلفراز بھی کسی ایسی ہی بات کا اظہار کرنا چاہتا تھا لیکن چھپا گیا تھا اس نے زرتاشے کی ماں کے بارے میں اسے خبردار کیا تھا پھر سمیر نے زر تاشے کو مزید ٹٹولا وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا وہ کسی اور کو چاہتی ہے جو صمصام سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہے اس نے جیسے ہی زرتاشے کے محبوب کے بارے میں خیال اس کے ذہن میں ڈالا اسے اپنی ہی صورت نظر آئی وہ حیران رہ گیا کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ زرتاشے صرف چند ملاقاتوں میں اسے پسند کرنے لگی ہو مگر کبھی اس نے اس کا اظہار تو نہیں کیا تھا اور پھر ابھی وہ کم عمر تھا پھر اچانک زرتاشے کی ماں دوبارہ اندر آگئی تھی لیکن اب وہ زرتاشے سے مخاطب نہیں تھی سمیر زرتاشے کے ذہن سے نکل آیا تھا۔
وہ سوچ رہا تھاکہ زرتاشے کی ماں صمصام میں اتنی دلچسپی صرف دولت کی وجہ سے رکھتی ہے کہ اس کی زرتاشے سے شادی کروا کر اس کی دولت بھی اپنے شوہر کی دولت کے ساتھ شامل کرنے یا کوئی اور وجہ بھی ہوسکتی ہے پھر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ باری باری اس کی کہانی کے ہر کردار کے ذہن کو پڑھے گا اور اسے اندازہ ہوجائے گا کہ زرتاشے کے ساتھ کیا کھیل کھیلاجارہا ہے ۔اس نے دل ہی دل میں اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیاتھا۔
شام کو اس کی ملاقات خلیل کامران سے ہوئی تھی اس وقت ان کے کمرے میں ناصر محمود اور ان کے دو اور ساتھی توقیر جان اور صابر حسین بھی موجود تھے اور وہ بھی ان کی آرگنائزیشن کا حصہ تھے۔
’’میں نے تمہیں اس وقت اس لیے بلایا ہے سمیر کہ ہم لوگ تمہارا ایک چھوٹا سا امتحان لینا چاہتے ہیں تاکہ اندازہ کرسکیں کہ تمہارے والدین نے تمہارے بارے میں جو کچھ بتایا تھا وہ درست ہے یا نہیں اگر درست ہے تو کس حد تک۔‘‘خلیل کامران نے اس کے کرسی پر بیٹھنے کے بعد کہا۔
’’کس قسم کا امتحان؟‘‘
’’تمہاری ذہنی صلاحیتوں کے بارے میں جن سے تمہارا دشمن خوفزدہ ہے اور تمہیں مارنا چاہتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ویسے توکسی نے اب تک میرا ایسا کوئی امتحان نہیں لیا لیکن میں کوشش کروں گا۔‘‘
’’میں چاہتا ہوں پہلے تم سے یہاں موجود لوگوں کا تعارف کروادوں۔‘‘خلیل کامران نے کہا۔
’’نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے جب امتحان دینا ہی ٹھہرا تو آپ کچھ نہ بتائیں میں آپ کو خود بتائوں گالیکن میری ایک درخواست ہے کہ میرے لیے اپنے ذہنوں کو آزاد چھوڑ دیں اپنی تو جہ صرف میری طرف رکھیں اور کسی اور چیز کے بارے میں مت سوچیں صرف اپنے بارے میں سوچیں میں بتا دوں گا کہ آپ میں سے کون کیا ہے۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’ٹھیک ہے… ہمیں منظور ہے ۔‘‘خلیل کامران نے اپنے ساتھیوں کی رضا مندی دیکھتے ہوئے کہا ان سب نے باری باری اثبات میں سرہلا کر رضا مندی کا اظہار کردیا تھا۔
’’میں سب سے پہلے آپ سے شروع کرتا ہوں۔‘‘سمیر نے خلیل کامران سے کہا۔
’’مجھ سے؟ لیکن میرے بارے میں تو تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔‘‘ خلیل کامران نے ہنستے ہوئے کہا ۔
’’جی اور وہ بھی جانتا ہوں جو آپ نے مجھے نہیں بتایا۔‘‘
’’مثلاً کیا؟‘‘
’’مثلاً یہ کہ آپ کی پہلی بیوی کینسر کا شکار ہو کر مر گئی تھی اس کی موت کے دو سال بعد آپ نے دوسری شادی کرلی تھی پہلی بیوی سے آپ کے دو بچے ہیں جو اس وقت ملک سے باہر تعلیم حاصل کررہے ہیں اور دوسری بیوی سے آپ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔ خلیل کامران کا منہ حیرت سے کھل گیا تھا اس نے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کبھی کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔
’’اور میں یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ آپ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں؟‘‘ سمیر نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔کمرے میں موجود افراد حیرت سے ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے چند لمحوں بعد سمیرنے اپنی آنکھیں کھول دیں۔
’’آپ کو میری صلاحیت پر یقین کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہے اور آپ سوچ رہے ہیں کہ میری صلاحیتوں سے کس طرح بھرپور فائدہ اٹھایاسکتا ہے۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’حیرت انگیز تم بالکل درست کہہ رہے ہو سمیر۔‘‘خلیل کامران نے کہا۔ اس کے بعد سمیر ناصر محمود کی طرف مڑ گیا۔
’’اپنا ذہن آزاد چھوڑ دیں ناصر صاحب میں کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا۔‘‘سمیر نے مسکراتے ہوئے کہاکیونکہ اس نے محسوس کرلیا تھاکہ ناصر محمود کوشش کررہاتھا کہ اسے اپنی سوچوں سے دور رکھے۔ سمیر نے پھر آنکھیں بند کرلیں۔
’’مزاحمت مت کریں پلیز۔‘‘ سمیر نے پھرکہا اورچند لمحوں بعد پرسکون ہوگیا۔
’’میرے ذہن میں اب تک کچھ نہیں تھا لیکن میں اب سو فیصدی یقین سے کہہ سکتاہوں کہ آپ پر میری چوبیس گھنٹے نگرانی کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے اور آپ میری پل پل کی حرکت سے واقف ہیں اس کے علاوہ ایک اہم بات آپ کے بارے میں بتاتا چلوں کہ آپ کے دل میں شدید خواہش ہے کہ آپ بہت جلد ایک بڑے اوراہم عہدے پر فائز ہوجائیں۔‘‘سمیر نے کہااور ناصر محمود نے اس کی طرف یوں دیکھا جیسے اس کے دل کی چوری پکڑی گئی ہو۔
’’کیا میں اس عہدے اور ادارے کا نام بھی بتائوں؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’نہیں اس کی ضرورت نہیں لیکن اپنی پروفیشنل لائف میں آگے سے آگے بڑھنے کا حق تو سب کا ہے۔‘‘ ناصر محمود نے کہا۔
’’لیکن عہدے اور ادارے کا نام بتانے میں کیا ہرج ہے؟‘‘ خلیل کامران نے کہا۔
’’میں جس کا ذہن پڑھتا ہوں اس کی معلومات میرے پاس ایک امانت یا راز ہوتی ہے میں انہیں اس شخص کی اجازت کے بغیر افشا نہیں کرسکتا یا پھر کچھ غیرمعمولی صورتوں میں جب میں ایسا کرنے پر مجبور کردیا جائوں۔‘‘سمیر نے کہا پھر وہ اپنے دائیں جانب بیٹھے توقیر جان کی طرف مڑ گیا تھا جس کی عمر پچپن سال کے قریب رہی ہوگی سمیر نے پھر آنکھیں بند کرلی تھیں۔
’’آپ اپنے پیشے کے لحاظ سے سوفٹ ویئر انجینئر ہیں اپنے کام سے مخلص ہیں لیکن آپ کے دل میں جوان رہنے کی شدید خواہش موجود ہے۔‘‘ سمیر نے کچھ دیر بعد آنکھیں کھولتے ہوئے کہا۔
’’یہ غلط ہے میرا مطلب ہے پیشے کے بارے میں تو تم نے ٹھیک کہا لیکن یہ جوان رہنے والی بات اس سے مجھے اختلاف ہے۔‘‘توقیر جان نے کہا اس کے چہرے پر خفگی کے آثار نظر آرہے تھے اور دوسرے لوگ بھی سمیر کی طرف غیر یقینی انداز میں دیکھ رہے تھے۔
’’اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے تو ان کی دائیں جیب میں دیکھیں اس میں ایک معجون موجود ہے جو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہ استعمال کرتے ہیں۔‘‘ سمیر نے کہا اورتوقیر جان کا دایاں ہاتھ بے ساختہ اپنی قمیص کی دائیں جیب کی طرف اٹھ گیا۔
’’توقیر یار ذرا دکھائو کیا واقعی یہ صحیح کہہ رہا ہے۔‘‘خلیل کامران نے کہا اور توقیر جان میں اپنے ہیڈ کا حکم ٹالنے کی جرات نہیں تھی اس نے بادل ناخواستہ اپنی جیب سے معجون کی شیشی نکال کر میز پر رکھی دی جس پر لکھا تھا معجون شباب۔‘‘
’’ہاہاہا… جوان رہنے کی خواہش تو ہر ڈھلتی عمر والے کے دل میں موجود ہوسکتی ہے لیکن جیب سے معجون برآمد ہونے پر حیرت ہے واقعی سمیر کمال ہے۔‘‘خلیل کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اب آپ کی باری ہے۔‘‘سمیر نے صابر حسین کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔
’’اجازت ہے؟‘‘ سمیر نے پوچھا تو صابر حسین نے اثبات میں سر ہلایا اور سمیر نے آنکھیں بند کرلیں۔
’’آپ کو تقریباً چار سال پہلے چھ ماہ کی جیل ہوئی تھی جو آپ کے کسی عزیز نے ہی آ پ کو کروائی تھی۔‘‘سمیر نے کہا اور صابر کے چہرے پر حیرت کے آثار نظر آئے۔
’’اوربعد میں آپ کو اس ادارے میں ملازمت بھی اسی عزیز نے دلوائی۔‘‘
’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص آپ کو جیل کروائے وہی پھر آپ کو ملازمت بھی دلوائے؟‘‘ خلیل کامران نے کہا۔
’’دراصل وہ جیل ایک جھوٹے کیس میں دلوائی گئی تھی میں نے اس کے خلاف بیان نہیں دیا اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جب باہر آیا تو میرا وہ عزیز بہت شرمندہ تھا اور کسی بھی طرح اپنے اس جرم کا خمیازہ ادا کرنا چاہتا تھا اس جیل کی وجہ سے میری ملازمت چلی گئی تھی چنانچہ اس نے دوبارہ سے ملازمت دلوانے میں میری مدد کی تھی۔‘‘صابر حسین نے بتایا۔
’’ٹھیک ہے اب آپ لوگ جاسکتے ہیں میں اکیلے میں سمیر سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ خلیل کامران نے کہا۔ اس کے بعد سب لوگ باہر چلے گئے تھے اور کمرے میں خلیل کامران کے ساتھ صرف سمیر رہ گیا تھا۔
’’سمیر میں نے جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا لیکن یاد رکھو اپنی ان صلاحیتوں کو کبھی قدرت کے قانون کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا… جو صلاحیتیں تمہیں خدانے دی ہیں انہیں انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا تمہارے نیک ارادوں میں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ میں کچھ مشقوں کی ذریعے ان صلاحیتوں کو مزید جلا دینے کی کوشش کروں گا اس کے لیے تمہیں میرے ساتھ کچھ میٹنگز کرنا ہوں گی جن کا وقت میں تمہیں بعد میں بتا دوں گا۔‘‘
’’اس کے علاوہ تمہیں یہ بھی بتانا تھا کہ تمہاری آنٹی سارہ کا فون آیا تھا وہ تمہاری خیریت کے بارے میں پوچھ رہی تھیں انہیں فون کرلینا۔‘‘ خلیل کامران نے کہا اس کے بعد سمیر ان کے کمرے سے نکل گیا تھا۔اپنے کمرے میں جاتے ہوئے سمیر جب نیم روشن راہ داری سے گزر رہا تھا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی سیاہ سایہ سا اس کے قریب سے تیزی سے گزر گیا ہے اس نے پلٹ کر دیکھا لیکن پوری راہ داری میں کوئی موجود نہیں تھا اس نے اپنے کمرے میں جاکر دروازہ اندر سے بندکرلیاتھا۔
’’کب تک بچوگے سمیر…! میں تمہارے ساتھ ساتھ ہوں اور موقع ملتے ہی تمہیں ختم کروں گا۔‘‘سمیر کو اپنے ذہن کے گوشے میں وہی خوفزدہ کردینے والی سرگوشی سنائی دی جو شاپنگ سینٹر میں سنائی دی تھی اور سیاہ پوش اجنبی اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔
’’اوہ خدایا…کہیں وہ میرا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک نہ آگیا ہو۔‘‘سمیر نے سوچا۔
’’ہاہاہاپیچھا… میں تم سے جدا ہی کب ہوا تھا… میں تو موقع کی تلاش میں ہوں جو ہر بار میرے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ بھول گئے قہوہ خانے کی رات تم مجھے چور سمجھ رہے تھے؟ہاہاہاقہوہ خانے والے پہنچ گئے تو تم بچ گئے۔‘‘
’’تم میرا کچھ نہیں کرسکتے میں تمہیں مار ڈالوں گا۔‘‘سمیر نے کہا وہ بستر پر بیٹھ گیاتھا اور اسی وقت اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تھی اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا اور اس نے اٹھ کر کمرے کے دروازے میں بنے سوراخ سے باہر جھانکا تھا باہر ناصرمحمود کھڑا تھا۔ سمیرنے دروازہ کھول دیا تھا اور ناصر محمود تیزی سے اندر آگیا تھا اندر آنے کے بعد اس نے کمرے کا دروازہ پھر بند کردیا تھا۔
’’کیا بات ہے اس وقت اتنی عجلت میں کیوں آئے ہو؟‘‘ سمیرنے پوچھا۔
’’بیٹھو!مجھے تم سے بات کرنا ہے۔‘‘ ناصر محمود نے اسے بیڈ پربٹھاتے ہوئے کہا اور خود سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’تم نے میرے بارے میں جو بات کی وہ درست تھی لیکن میں جس عہدے پر ہوں اس عہدے پر ہونے والے کسی بھی شخص کے بارے میں یہ سوچا جاسکتا ہے جو تم نے میرے بارے میں بتایا اس میں ایسی کیا خاص بات تھی؟‘‘
’’اگر خاص بات نہیں تھی تو تم نے مجھے عہدے اور ادارے کا نام لینے سے کیوں روکا؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’میں نہیں چاہتا کہ خلیل کامران میرے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا ہو اگر ایسا ہوا تو وہ مجھے اس عہدے سے بھی ہٹا دے گا۔‘‘ناصر محمود نے کہا۔
’’تو پھر اپنے دل کی خواہشوں پر قابو رکھو خلیل کامران کے لیے تمہارا وفا دار ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘
’’میں جانتا ہوں لیکن میں اسے کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔‘‘
’’میں جانتا ہوں لیکن دل تو پاگل ہوتا ہے وہ کسی وقت بھی بہک سکتا ہے دماغ سے سوچا کرو اور دماغ ہی سے فیصلہ کیا کرو اگر وفا داری سے کام کروگے توخلیل کامران کے بعد تم ہی ہو۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘
’’میں نے تمہیں اس کے کمرے میں اس کی کرسی پر بیٹھے دیکھا ہے یہ بات اپنے تک ہی رکھنا۔‘‘ سمیرنے کہا۔
’’کیا؟واقعی؟‘‘ ناصر محمود کے لہجے میں حیرت تھی۔
’’ہاں!…تم اس کے نائب بھی اور دست راست بھی … اور وفا دار بھی بس لالچ کے چکر میں اپنے قدم لڑکھڑانے مت دینا ورنہ نقصان اٹھائو گے۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’اوہ ٹھیک ہے۔‘‘ناصر محمود نے کہا پھر وہ کافی دیر تک سمیر کے ساتھ بیٹھا اس سے باتیں کرتا رہا تھا۔
’’اچھا تمہیں بہت شکوہ ہے اس لیے تمہیں بتا رہا ہوں کہ صبح ناشتے کے بعد میں چہل قدمی کے لیے جائوں گا تم بھی میرے ساتھ چلنا چاہو تو چل سکتے ہو۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں بھی فجر کی نماز کے بعد ناشتے سے فارغ ہوجاتا ہوں دونوں ساتھ ہی چلیں گے تم ناشتہ کرکے نماز کے بعد نیچے ہال میں آجانا۔‘‘سمیرنے اس بات پر اثبات میں گردن ہلا دی تھی اور پھر ناصر محمود رخصت ہوگیا تھا۔
رات کافی دیر تک سمیر جاگتا رہا تھا پھر اسے نیند آگئی تھی گہری نیند ہونے سے پہلے آج پھر اس کی مرحوم والدہ اس کے تصور میں آئی تھیں انہوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا وہ اس پر جھکی ہوئی تھیں شاید سوتے میں اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھیں۔
پھر اچانک کہیں دور سے کوئی آواز آئی تھی جیسے کہیں فائر ہوا ہو وہ اس سے دور ہو گئی تھیں اور باہر کی طرف بھاگی تھیں وہ بھاگتی ہوئی جنگل کی طرف جارہی تھیں۔ سمیر سب کچھ یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ کیمرے کی آنکھ ہو اور اس کے سامنے کوئی منظر چل رہاہو وہ بھاگتی ہوئی جنگل میں داخل ہوگئی تھیں جہاں اس کے والد ایک سیاہ لبادے میں ملبوس شخص سے لڑ رہے تھے وہ زخمی تھے پھر اس سائے نے پیچھے مڑ کر اس کی والدہ پر فائر کیا تھا اور وہ نیچے گر گئی تھیں پھر وہ سایہ بھاگتا ہوا جنگل میں گم ہوگیا تھا سمیر کچھ دور تک اس کے پیچھے بھاگاتھا لیکن وہ غائب ہوچکا تھا پھر آہستہ آہستہ سمیر پر غنودگی چھاتی چلی گئی تھی اور وہ گہری نیند میں چلا گیاتھا۔
صبح فجر کے وقت اس کی آنکھ کھلی تھی تو وہ وضو کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوگیا تھا اور نماز سے فارغ ہو کر نیچے ہال میں آگیا تھا جہاں کھانے کی میز پر ناصر محمد اس کا منتظر تھا ناصر کا رویہ اب کافی دوستانہ ہوگیا تھا اور وہ سمیر کی صلاحیتوں کا معترف نظر آرہا تھا۔
’’میں بھی ابھی آیا ہو بس ناشتہ آنے ہی والا ہے میں نے کچن میں کہہ دیا ہے۔‘‘ناصر نے کہا کچھ ہی دیر میں ملازم ناشتے کی ٹرے کے ساتھ پہنچ گیا تھا اور میز پر ناشتہ لگا دیاتھا۔
’’میرا خیال ہے سمیر ہماری دوستی بہترین رہے گی۔‘‘ناصر محمود نے کہا۔
’’ہاں کیوں نہیں جب ہمیں ساتھ رہنا ہے ساتھ کام کرنا ہے تو دوستی تو بہت ضروری ہے۔‘‘سمیر نے کہا۔ناشتے سے فارغ ہوکر وہ دونوں ڈریم سینٹر سے نکل گئے تھے۔
’’یہ مقام بہت پرفضا ہے۔‘‘ناصر محمود نے کہا۔
’’یہاں اپنے شروع کے دنوں میں ‘ میں بھی روز چہل قدمی کے لیے آتا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ کاہل ہوگیا اب ناشتے سے فارغ ہوکر اپنے کاموں میں لگ جاتا ہوں۔‘‘
’’کون سے کام؟‘‘
’’وہی یہاں موجود لوگوں کا ریکارڈ ترتیب دینا۔ان کے کام چیک کرنا ان کی رپورٹیں بنا کر جمع کروانا جو ہر ہفتے خلیل کامران چیک کرتے ہیں اور فائلوں پر دستخط کرتے ہیں۔‘‘
’’ہاں! میں نے نوٹ کیا ہے یہاں ہر شخص اپنا کام بہت محنت اور باقاعدگی سے کرتا ہے اور انہیں یہاں ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’ہاں!دراصل یہاں رہنے والے اس جگہ کو اپنا گھر سمجھتے ہیں وہ یہاں سے روز نہیں آتے جاتے بلکہ کئی کئی سال کے کنٹریکٹ پر ہوتے ہیں ایک بار آجاتے ہیں تو اپنے ذمہ لیا ہوا پروجیکٹ مکمل کرکے ہی جاتے ہیں۔‘‘ناصر نے کہا۔
’’یہ اچھی بات ہے اسی لیے توکام میں ان کی لگن بے مثال ہے۔‘‘ سمیر نے کہا وہ آہستہ آہستہ چہل قدمی کے انداز میں چل رہے تھے اور باتیں کرتے جارہے تھے اچانک ان کے عقب سے تیز سرسراہٹ کی آواز آئی تھی سمیر نے پلٹ کر دیکھا تھا ایک سیاہ ہیولا سا درختوں کے درمیان اڑتا ہوا ان کے بائیں جانب سے تیزی سے گزرا تھا رفتار ایسی ہی تھی جیسے پستول سے گولی نکلی ہوئی ناصر محمود نے بھی اسے دیکھا تھا سمیر توفوراً چوکنا ہوگیا تھا وہ سیاہ ہیولافضا ہی میں پلٹا تھا اور دوبارہ بڑی سرعت سے سمیر کے اتنے قریب سے گزرا تھا کہ اس کی تیز ہوا سمیرکو اپنے گالوں پر محسوس ہوئی تھی اس لمحے ناصر محمود نے اس ہیولے پرچھلانگ لگا کر اسے دبوچنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس کی گرفت میں نہیں آسکا تھا۔ ہیولا پھر ایک درخت کا چکر کاٹنے کے بعد سمیر کی طرف لپکا تھا اس بار سمیر نے محسوس کیا تھا جیسے اس کے ہاتھ میں کوئی چمکدار چیز ہو لیکن درختوں کے جھٹپٹے ماحول میں اس ہیولے کے خدوخال دیکھنے سے قاصر تھا بس یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کسی نے سیاہ چادر اوڑھ رکھی ہے اس کا چہرہ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
سمیر درختوں کے درمیان کراس بنانے والے انداز میں بھاگ رہاتھا اور ناصر محمود ہیولے کا تعاقب کررہا تھا ایک بار پھر تیزسرسراہٹ کی آواز کے ساتھ ہیولا سمیر کے بہت قریب سے گزرا تھا اور اسے اپنے دائیں بازو پر تیز چبھن کا احساس ہوا تھا شاید ہیولے نے اس پر خنجر کا وار کیا تھا۔ ناصر محمود نے اس عرصے میں کئی بار اس ہیولے کو گرفت میں لینے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی تیزی پھرتی اور برق رفتاری کی وجہ سے اسے گرفت میں نہیں لے سکا تھا وہ ہیولا زمین پر پائوں ہی نہیں رکھ رہا تھا بس ایک درخت سے دوسرے درخت اور دوسرے سے تیسرے درخت کی طرف جارہا تھا وہ جب چاہتاتھا فضا ہی میں پلٹ کر سمت بدل لیتا تھا ناصر محمود کو اپنا آپ بچلا ناممکن نظر آرہا تھا اور اس نے دیکھ لیاتھا کہ اس ہیولے نے سمیر کو زخمی کردیا تھا سمیر بھاگتاہوا جنگل کے بیرونی سرے تک آگیا تھا جہاں سے کٹیلی پہاڑیاں شروع ہوگئی تھیں بھاگتے بھاگتے سامنے سے پہاڑی ختم ہوگئی تھی اور نیچے گہری کھائی تھی جہاں اور بھی نیچے سنگلاخ چٹانیں منہ اٹھائے کھڑی تھیں سمیر کے لیے اب آگے جانے کا راستہ نہیں تھا۔ ہیولے نے اس کی طرف آخری چھلانگ لگائی تھی خنجر کی نوک سیدھی سمیرکے دل کی طرف اٹھی ہوئی تھی سمیر کو موت سامنے نظر آرہی تھی اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں اور پھر وہ ہیولا اتنا قریب آگیا کہ سمیرکو اپنے چہرے پر اس کی ہواکی تپیش محسوس ہوئی اور سمیر فوراً ہی دائیں جانب جھک کر زمین پرلیٹ گیا اور وہ ہیولا اپنے ہی زور میں نیچے کھائی میں گرتا چلا گیا یہ سب سمیرنے اتنی پھرتی سے کیا تھا کہ ہیولے کوفضا میں پلٹنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا اور جب تک وہ اس صورت حال کو سمجھتا دیر ہوچکی تھی۔ سمیر اپنی جگہ سے اٹھا اس نے نیچے جھانک کر دیکھا وہ جو بھی کوئی تھا نیچے اوندھے منہ پڑا تھا ناصر بھی دوڑتا ہوا سمیر کے پیچھے آگیا تھا اور وہ بھی نیچے جھانک رہا تھا۔
’’آئو نیچے چل کر دیکھتے ہیں کون ہے؟‘‘ ناصر نے کہا۔
’’ہاں چلو۔‘‘ سمیر بھی اس کے ساتھ قدم ملاتاہوا پہاڑی سے نیچے اترنے لگا۔پھر وہ اونچی نیچی ڈھلان پر قدم جماتے نیچے آئے تھے وہ ہیولا سیکڑوں فٹ کی بلندی سے نیچے گرا تھا اور بے حس و حرکت تھا ناصر کا اندازہ تھا کہ وہ مرچکا ہوگا وہ دونوں اس کے قریب پہنچے تھے سمیر چند قدم دورہی رک گیاتھا اورناصر نے آگے بڑھ کر اس کو سیدھاکیا تھا وہ نہایت خوبصورت ایک نوجوان لڑکی تھی اس کے سنہرے بال بکھرے ہوئے تھے سرپھٹ چکا تھا ناصر نے چیک کیا وہ مرچکی تھی۔
’’اس کو جانتے ہو یہ کون ہے؟‘‘ ناصر محمود نے سمیر سے پوچھا۔
’’نہیں میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ سمیرنے کہا۔
’’لیکن اس نے تو ہم پر خنجر سے وار بھی کیا ہے دیکھو تم زخمی ہو تمہارے بازو سے خون بہہ رہا ہے۔‘‘ ناصر محمود نے اس کا دایاں بازو پکڑتے ہوئے کہا تب سمیر کی توجہ بھی اس طرف ہوئی اس کے ہاتھ سے خون کی ایک لکیر نکل کر اس کی آستین بھگوتی ہوئی نیچے گررہی تھی آستین بھی زخم کی جگہ سے پھٹ چکی تھی ناصرمحمود نے جلدی سے اپنی جیب سے رومال نکال کر سمیر کے بازو پرزخم کی جگہ پر باندھ دیا تھا اور اسے واپس چلنے کا مشورہ دیا تھا۔
’’لیکن یہ پتہ کئے بغیر ہم کیسے جاسکتے ہیں کہ یہ کون ہے؟‘‘سمیر نے کہا۔
’’ابھی تمہارے ہاتھ کی پٹی ہونا ضروری ہے زخم شاید گہرا ہے جو اتنی تیزی سے خون بہہ رہا ہے۔‘‘ناصر محمود نے کہا اور واپسی کے لیے مڑ گیا سمیر بھی اس کے پیچھے چل پڑاتھا لیکن چند قدم اٹھانے کے بعد ہی لڑکھڑاکر گر گیا تھا ناصر نے پلٹ کر دیکھا تو لپک کر اسے سنبھالا سمیر بے ہوش ہوچکا تھا۔
سمیر کی آنکھ کھلی تو وہ ڈریم سینٹر میں اپنے کمرے میں تھا اور اس کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی وہ بستر پراٹھ کر بیٹھ گیا تو اس کے کمرے میں موجود ناصر لپک کر اس کے قریب آگیا۔
’’لیٹے رہو سمیر… تمہارے ڈرپ لگی ہے ہل جائے گی۔‘‘ ناصر نے اسے آگاہ کیا اور سمیر کی نظر اپنے دوسرے ہاتھ پر پڑی جہاں ڈرپ کی سوئی اس کی کلائی میں لگی تھی اور ڈرپ ایک اسٹینڈ میں اس کے سرہانے لگی تھی۔ ناصر نے اسے دوبارہ لٹا دیا۔
’’تمہیں پتہ ہے تمہیں جس خنجر سے وار کرکے زخمی کیا گیا وہ زہریلا تھا جائے وار دات سے وہ خنجر مل گیا ہے اور ہمارے پاس لیبارٹری میں ہے اس کی نوک پر لگایا گیا زہربہت خطرناک تھا اس کی وجہ سے تم بے ہوش ہوگئے تھے حالانکہ وار بہت گہرا نہیں تھا لیکن اگر کچھ دیر اور تمہیں طبی امداد نہ ملتی تو شاید تم دنیا سے رخصت ہی ہوجاتے۔‘‘ناصر محمود نے بتایا۔
’’اور وہ حملہ آور لڑکی؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’حملہ آور لڑکی نہیں حملہ آور دوشیزہ… وہ نہایت خوبصورت تھی۔‘‘ناصر محمود نے کہا۔
’’خوبصورت تھی؟ کیا مطلب ۔‘‘سمیر نے پوچھا۔
’’جب ہماری ٹیم جائے حادثہ پر پہنچی جسے خلیل کامران نے لاش لینے وہاں بھیجا تھا تو لاش غائب تھی۔‘‘
’’کیا؟لاش کیسے غائب ہوسکتی ہے… تم نے چیک کیاتھا وہ مرچکی تھی؟‘‘ سمیر نے حیرت سے کہا۔
’’ہاں! اس پر مجھے بھی حیرت ہے… لیکن تمہارا ایسا کون سا دشمن ہوسکتا ہے جس نے تم پر یہ حملہ کروایا ہو؟‘‘ناصر محمود نے پوچھا۔
’’صرف اورصرف ایک شخص جو پہلے بھی مجھے مارنے کی کوشش کرچکا ہے لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’وہ کون ہے؟‘‘ ناصر محمود نے اس سے پوچھا۔
’’کیا خلیل کامران نے تمہیں میرے بارے میں کچھ نہیں بتایا؟‘‘ سمیرنے پوچھا ساتھ ہی اس نے ناصر کا ذہن بھی پڑھا تھا وہ واقعی سمیر کے دشمن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔
’’نہیں صرف اتنا جانتا ہوں کہ مجھے ہر پل تمہاری حفاظت کرناہے اورکوئی تمہیں مارنا چاہتا ہے لیکن وہ کون ہے اور کیوں مارنا چاہتا ہے اس بارے میں مجھے کچھ نہیں بتایا گیا۔ ‘‘ناصر محمودنے کہا۔
’’تو پھر ابھی اس پر پردہ ہی رہنے دو کیونکہ میں بھی زیادہ نہیں جانتا۔‘‘ سمیر نے جواب دیا وہ ابھی ناصر سے کھل کر اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
’’ٹھیک ہے لیکن اگر مجھے تمہاری حفاظت کرنا ہے تو میرا تمہارے دشمن کے بارے میں تمام تفصیل جاننا بہت ضروری ہے جب تم مناسب سمجھو مجھے آگاہ ضرورکرنا۔‘‘ ناصر محمود نے کہا۔
پھر کئی روز سمیر کو ڈریم سینٹر سے نکلنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس کے بازو کے زخم کی دیکھ بھال بہت احتیاط سے کی جارہی تھی اور اس کے کئی ٹیسٹ بھی کئے گئے تھے یہ جاننے کے لیے کہ زخم یا جسم میں زہریلے اثرات رہ تو نہیں گئے دسویں روز اس کا زخم خاصا بھر گیا تھا اور اسے آستینوں والی شرٹ پہننے کی اجازت مل گئی تھی۔
’’سمیر! ایک بات پوچھوں؟‘‘ ناصر محمود نے اس کی حالت بہتر ہونے کے بعد ایک روز اس سے پوچھا وہ اس وقت ڈریم سینٹر کے ایک حصے میں بیٹھے تھے جہاں خوبصورت درختوں کے بیچ میں ایک باغ لگا ہوا تھا اور سنگ مرمر کی بینچیں لگی تھیں پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے اور سمیر اس ماحول سے اپنے اندر خوشگوار تبدیلی محسوس کررہاتھا۔
’’کیا بات؟میرا خیال ہے اب تک تم میرے بارے میں تقریباً سب کچھ ہی جان چکے ہو۔‘‘سمیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہاں لیکن یہ زرتاشے والی کہانی کیا ہے؟‘‘ ناصر محمود نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کچھ نہیں کوئی خاص کہانی نہیں۔‘‘سمیر نے اپنا چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ناصر محمود اس کے چہرے کے تاثرات پڑھے۔
’’تمہیں پتہ ہے جب تم بے ہوش تھے تو بار بار زرتاشے کا نام لے رہے تھے اور میں اس ڈریم سینٹر میں نیا نہیں ہوں میں بھی اس کے اطراف میں رہنے والے لوگوں سے کسی حد تک واقف ہوں جہاں تک میرا علم ہے زرتاشے یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی والدہ اور والد کے ساتھ رہتی ہے نوجوان ہے اور بہت خوبصورت بھی اسے دیکھ کر کوئی اس کے چہرے سے نظریں نہیں ہٹا سکتا وہ بہت کم بات کرتی ہے اور زیادہ تر اداس رہتی ہے ۔میں نے اسے بہت بار ندی کے کنارے اداس بیٹھے دیکھا ہے وہ اکیلی ہی ہوتی ہے یا کبھی کبھی اس کے مویشی اس کے گرد جمع ہوتے ہیں جس روز تم میرے ساتھ گھوڑے پر یہاں آئے تھے تب بھی وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھی تم وہاں کچھ دیر کے لیے رک گئے تھے میں تمہارے پیچھے چند قدم کے فاصلے پر تھا میں نے تمہاری آنکھوں میں اس کے لیے پسندیدگی دیکھی تھی اچانک اس کی ماں اسے بلاتی ہوئی وہاں آگئی تھی اور ہم آگے روانہ ہوگئے تھے۔
’’بڑی زبردست آبزرویشن ہے تمہاری۔‘‘ ہنستے ہوئے سمیر نے کہا۔
’’لیکن جیسا تم سوچ رہے ہو ویسا نہیں ہے میں اس سے متاثر ضرور ہوں لیکن جس انداز میں تم سوچ رہے ہو ایسا نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر …پھر کیسا ہے؟‘‘
’’زرتاشے کے بارے میں جتنا میں جانتا ہوں وہ بہت مظلوم ہے ابھی مجھے پوری معلومات نہیں لیکن امید ہے جلد ہی اس کے بارے میں مجھے سب کچھ پتہ چل جائے گا اور اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے اگر مجھے تمہاری مدد لینی پڑی تو میں تمہیں ضرور بتائوں گا۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’آخر کچھ توپتہ چلے کہ اس پر کیا ظلم ہوا ہے؟‘‘
’’بس یوں سمجھو کہ کوئی غیر نہیں بلکہ اس کی ماں ہی اس کی پریشانی کا سبب ہے۔‘‘
’’اوہ اللہ رحم کرے تو تم بے ہوشی میں اس کا نام کیوں بار بار لے رہے تھے؟‘‘
’’میں صرف نام نہیں لے رہا تھا میں اس کے ذہن میں تھا اس سے باتیں کررہا تھا اس کے بارے میں اس سے ہی بہت کچھ جاننا چاہتا تھا۔‘‘
’’ہوں میری دعا ہے کہ تم کامیاب ہوجائو شاید کسی مشن کے لیے یہ تمہاری پہلی کامیابی ہوگی۔‘‘ناصر نے کہا۔
’’میں اسے مشن تو نہیں سمجھتا بس اس کی تھوڑی سی مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن تمام حقائق جاننے کے بعد۔‘‘
’’ٹھیک ہے میری مدد کی ضرورت ہوتو ضرور بتانا۔‘‘ناصر محمود نے کہا۔
چند روز بعد جب سمیر زرتاشے کے گھر پہنچا تھا تو اس کی ماں زرتاشے سے ضد کررہی تھی کہ وہ کچھ سامان اپنے والد کو دے آئے جو اوپر پہاڑیوں میں کانوں میں کام کروا رہے ہیں۔
’’ماں تم لے جائو یہ سامان میرا دل نہیں چاہ رہا ہے جانے کو۔‘‘زرتاشے نے ناگواری سے کہا۔
’’زرتاشے تمہیں کیا ہوتا جارہاہے تم ہر کام کے لیے بحث کرتی ہو؟‘‘
’’بس کہہ دیا نا میرا دل نہیں چاہ رہا۔‘‘زرتاشے نے پھر اپنا جواب دہرا دیا اسی وقت سمیر گھرمیں داخل ہوا زرتاشے کی ماں کا موڈ اسے دیکھتے ہی تبدیل ہوگیاتھا۔
’’ارے زرتاشے بیٹا کئی روز سے تمہارے ابو نے تمہیں دیکھا بھی نہیں۔ چلی جائو گی تو وہ بھی تمہیں دیکھ لیں گے تمہیں پتہ ہے نہ کہ اگر وہ تمہیں چند دن نہ دیکھیں توانہیں چین نہیں آتا۔‘‘اس کی ماں نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہوگیا؟ آپ زرتاشے کو کہاں جانے کے لیے کہہ رہی ہیں؟‘‘سمیر نے پوچھا۔
’’اوپر کانوں میں اس کے والد کو کچھ سامان چاہئے میں کہہ رہی ہوں کہ انہیں دے آئے۔‘‘
’’ہاں ٹھیک تو ہے زرتاشے تم دے آئو سامان اپنے والد کو۔ چلو میں تمہارے ساتھ چلتاہوں اس بہانے میں بھی تمہارے والد کی زمرد کی کانیں دیکھ لوں گا۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’اچھاچلیں ٹھیک ہے ۔‘‘زرتاشے نے کہا اور فوراً ہی جانے کے لیے کھڑی ہوگئی تھی اس کی ماں نے ایک بیگ اس کے حوالے کیا تھا۔
’’یہ لو احتیاط سے لے جانا اس میں سامان کے ساتھ ساتھ کچھ کھانا بھی ہے… وہ لوگ خود ہی وہاں پکاتے رہتے ہیں آج میرے ہاتھ کا کھانا کھالیں گے۔‘‘
’’لائیں یہ میں پکڑ لیتاہوں۔‘‘سمیر نے بیگ لے کر اپنے کاندھے پر ڈالتے ہوئے کہا زرتاشے ہمیشہ کی طرح اپنا مقامی لباس پہنے ہوئے تھی جو اس پر بہت سجتا تھا وہ جلدی سے سمیر کے ساتھ جانے کے لیے کھڑی ہوگئی زرتاشے کی ماں حیران تھی کہ اچانک زرتاشے کا ارادہ کیسے بدل گیا تھا۔
گھر سے کچھ دور آنے کے بعد پہاڑی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ زرتاشے اور سمیر دونوں گھوڑوں پر سوار تھے یہاں کے لوگ پہاڑیوں میں سفر کے لیے پیدل یا گھوڑوں پر سفر کرتے تھے کانوں تک پہنچنے کا راستہ خاصا لمبا تھا چنانچہ زرتاشے نے اپنے دو بہترین گھوڑوں کا انتخاب کیا تھا۔
’’زرتاشے ! تمہاری والدہ تمہاری سگی ماں بہنیں ہیں نا؟‘‘سمیر نے پوچھا تو زرتاشے نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
’’کک کیا؟ تمہیں کس نے بتایا؟‘‘ بے ساختہ زرتاشے کے منہ سے نکلا۔
’’مجھے پتہ ہے۔‘‘سمیر نے جواب دیا۔
’’وہ چاہتی ہے کہ تم صمصام گل سے شادی کرلو جو تمہارے والد کا پارٹنر ہے۔‘‘سمیر نے اسے مزید حیرت زدہ کیا۔
’’کیا تمہیں یہ سب کیسے پتہ ہے؟‘‘
’’میں جانتاہوں کہ تم تنہا ہو تمہارے والدین تمہاری مددنہیں کریں گے تمہیں ان کے ساتھ اسی طرح زندگی گزارنا ہوگی جس طرح ابھی گزار رہی ہو اور اس زندگی کو تم پسند نہیں کرتیں۔‘‘
’’میں جاننا چاہتی ہوں کہ تمہیں یہ باتیں کیسے پتہ چلیں؟‘‘زرتاشے نے اپنا گھوڑا ایک جگہ پر روک دیا اور کود کرگھوڑے سے نیچے اتر گئی سمیر نے بھی اس کی تقلید کی تھی۔
’’میں نے تمہیں ایسی کوئی بات نہیں بتائی۔‘‘زرتاشے نے ایک پہاڑی کے نیچے سایہ دار حصے میں بیٹھتے ہوئے کہا۔ سمیر بھی اس کے قریب بیٹھ گیا تھا۔
’’زرتاشے میں تمہارے ذہن میں گیا تھا تمہاری حقیقت جاننے کے لیے میں یہ صلاحیت رکھتا ہوں کہ کسی کو بتائے بغیر اس کے بارے میں تمام معلومات اس سے ہی حاصل کرلیتا ہوں۔‘‘
’’جھوٹ ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا۔
’’میں یقین نہیں کرتی۔‘‘
’’اچھا میری طرف دیکھو۔‘‘ اس نے کہا اور زرتاشے اسے دیکھنے لگی اس کے ہونٹ بند تھے اور آنکھیں بھی ‘چند لمحوں بعد اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔
’’بتائو تمہیں کیامحسوس ہوا؟‘‘
’’تم نے کہا کہ میری ماں اکثر مجھے اپنا معمول بناتی ہے۔‘‘
’’لیکن میں تو بولا نہیں۔‘‘
’’ہاں لیکن میں نے اپنے ذہن میں ان الفاظ کو محسوس کیا۔‘‘
’’بس یوں سمجھ لو کہ یہ اور اس کے علاوہ کئی صلاحیتیں مجھ میں ہیں… میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں تمہاری ماں کے خیالات بدل سکتا ہوں …صمصام کو مجبور کرسکتا ہوں کہ وہ تمہارا پیچھا چھوڑ دے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سمیر پھر تم مجھے اس عذاب سے نجات دلوائو۔‘‘
’’یہ میرے لیے ایک معمولی بات ہوگی بس تمہارا تعاون چاہئے۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’میرا تعاون کیا مطلب؟‘‘
’’جب بھی تمہاری والدہ تمہیں ٹرانس میں لا کر اپنا معمول بنانا چاہیں تم آنکھیں بند کرکے میرا تصور کرنا اور اپنی سوچوں میں مجھے پیغام بھیجنا میں سب سنبھال لوں گا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں کوشش کروں گی۔‘‘ زرتاشے نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
’’چلو! ہمیں دیر ہورہی ہے والد میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ زرتاشے نے گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے کہا اور سمیر بھی اس کی تقلید میں گھوڑے پر سوار ہوا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ گیا تھا۔
وہاں سے آدھے گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ کانوں کے علاقے میں داخل ہوگئے تھے۔
’’وہ دیکھو…وہ سامنے جو غارسا ہے وہاں میرے والد رہتے ہیں اپنے کارکنوں کے ساتھ اور وہیں اندر کی طرف ہماری زمرد کی کان ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا ۔ چند ہی لمحوں بعد وہ کان میں داخل ہوگئے تھے۔
’’ابو…میں آپ کا سامان لے آئی ہوں۔‘‘ زرتاشے نے غار میں ایک بینچ پر بیٹھے ادھیڑ عمر شخص سے کہا اور سمیر سمجھ گیا کہ وہی چوہدری امتیاز خان ہے جو ان کانوں کا مالک بھی ہے۔ زرتاشے کی بات کا جواب دینے کے بجائے چوہدری امتیاز خان نے سوالیہ نظروں سے سمیر کی طرف دیکھا۔
’’ابو! یہ سمیر ہے‘ سمیر احمد فاروقی…یہ یہاں ڈریم سینٹر میں اپنی تعلیم مکمل کرنے آیا ہے ۔ آپ کی زمرد کی کانیں دیکھنا چاہتا تھا ۔ اس لیے میں ساتھ لے آئی۔‘‘ زرتاشے نے اس کا تعارف کراتے ہوئے کہا۔
’’ہوں…اچھا تو تم لائی ہو ۔‘‘چوہدری امتیاز خان نے پوچھا۔
’’ماں نے آپ کے لیے کھانا بھیجا ہے اور آپ کا کچھ سامان ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا۔
’’ٹھیک ہے اندر کچن میں چلی جاؤ اور کھانا گرم کرکے لے آؤ۔ پھر ہمیں چائے بھی بنا دینا۔ وہ صمصام بھی آیا ہوا ہے۔ اندر کانوں میں ہے پھر ہم چاروں کھانا کھائیں گے میں اسے بلوالیتا ہوں۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا اور بیگ اٹھا کر کچن میں چلی گئی۔
’’آؤ سمیر!…میں تمہیں کانیں دکھاتا ہوں۔‘‘ چوہدری امتیاز خان نے اٹھتے ہوئے کہا پھر اس نے سمیر کو پہننے کے لیے ایک سیفٹی جیکٹ اور ہیلمٹ دیا تھا۔
’’احتیاطً یہ پہن لو…یہ یہاں کا قاعدہ ہے جسے ہر کسی کو ماننا پڑتا ہے۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے ۔‘‘ سمیر نے کہا پھر اس نے پہلے سیفٹی جیکٹ پہن لی تھی اور ہیلمٹ بھی سر پر رکھ لیا تھا۔
کانیں بہت اندر تک چلی گئی تھیں جن میں سفر کرنے کے لیے باقاعدہ پٹر ی بچھی ہوئی تھی۔جن پر ٹرالیاں چلتی تھی وہ دونوں ایک ٹرالی میں سوار ہوگئے تھے اور ایک ماتحت نے دیوار میں لگے بورڈ کا بٹن دبا دیا تھا اور ٹرالی حرکت میں آگئی تھی۔کان کی کچھ دیواروں میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بلب لگے ہوئے تھے جن سے کان میں روشنی ہورہی تھی۔ کافی اندر جانے کے بعد سمیر کو دیواروں میں لگے سبز پتھر کثرت سے نظر آنے لگے تھے۔ کان کے اندرونی حصے سے ٹرالیاں ایسے سبز اور سیاہ پتھروں سے بھری ہوئی باہر کی طرف جارہی تھیں کان میں کام کرنے والوں نے سمیر کی طرح زرد رنگ کی جیکٹیں ‘ ہیلمٹ اور دستانے پہنے ہوئے تھے۔
’’یہ تو بہت بڑی اور پرانی کان ہے۔‘‘ سمیر نے چوہدری امتیاز خان سے کہا۔
’’ہاں! یہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے سے چلی آرہی ہے اور ان کی پیداوار میں کوئی کمی نہیں آئی۔‘‘ چوہدری امتیاز خان کے لہجے میں تمکنت اور غرور صاف محسوس کیا جاسکتا تھا۔ سمیر فوراً اس کے ذہن میں پہنچ گیا اور اس پر یہ بھید کھلا کہ چوہدری نثار بھی اپنی بیوی کی طرح یہی چاہتا ہے کہ زرتاشے صمصام گل سے شادی کرلے اور کانوں کی آدھی دولت جس کا مالک صمصام ہے وہ بھی اسے مل جائے۔ جب کہ زرتاشے سمجھتی تھی کہ صرف اس کی ماں ہی یہ خواب دیکھ رہی ہے۔
سمیر کو امتیاز کے دماغ میں گھس بیٹھنے سے ایک اور فائدہ بھی ہوا اسے پتہ چل گیا کہ آج رات اس کا ارادہ نیچے وادی میں اپنے گھر جانے کا ہے جہاں وہ صمصام کی موجودگی میں زرتاے کو مجبور کرے گا کہ وہ صمصام سے شادی کرلے اور آج رات اس مسئلے کی آخری رات ہوگی۔ سمیر نے اپنے طور پر فیصلہ کیا کہ وہ بے خبر نہیں رہے گا اور زرتاشے کے معاملے کو آج رات ہی نمٹادے گا یہ اس کے لیے کوئی بڑی بات نہیں تھی وہ موقع واردات پر موجود لوگوں کے دماغوں میں پہنچ کر ان کے فیصلے بھی تبدیل کرواسکتا تھا اور زرتاشے کے دل کا حال بھی جان سکتا تھا کہ وہ کس کو چاہتی ہے اس نے اب تک زرتاشے کے ذہن میں پہنچ کر یہ جاننے کی کوشش خود ہی نہیں کی تھی۔
امتیاز خان زمرد سے بھری ٹرالیوں کو کان سے باہر جاتے ہوئے بڑے فخر سے دیکھ رہا تھا اور اس ساری دولت کو اپنا اور صرف اپنا ہی تصور کررہا تھا۔ سمیر خاموشی سے اس کے ذہن سے نکل آیا ۔ اب تک وہ یہ بھی جان گیا تھا کہ امتیاز خان اس جگہ سمیر کی موجودگی پسند نہیں کر رہا تھا۔
’’ اس کان سے اندازاً کتنی رقم کا زمرد نکلتا ہوگا؟ ‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا کبھی کم اور کبھی زیادہ اور کبھی کچھ بھی نہیں۔ زمین کے راز زمین ہی جانتی ہے کبھی کبھی کھدائی میں اسی کان سے کروڑوں کا مال ملتا ہے اور کبھی کھدائی کی لاگت بھی نہیںنکلتی۔‘‘امتیاز خان نے بتایا لیکن سمیر کو اندازہ تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ اسے کان سے ہمیشہ ہی فائدہ حاصل ہوا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی زندگی بھی داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ اور ایک نوجوان ‘ خوب صورت لڑکی کی شادی زبردستی ایک ادھیڑ عمر شخص سے کروانے پر تلا ہوا تھا۔
کچھ دیر بعد دونوں واپس غار کے بیرونی حصے میں آگئے تھے جہاں زرتاشے نے کھانا گرم کرکے میز پر لگادیا تھااور صمصام بھی وہاں موجود تھا جسے دیکھ کر سمیر حیران ہوا تھا۔
’’آپ نے کہا تھا کہ یہ کان کے اندرونی حصے میں ہیں لیکن میں نے تو انہیں باہر آتے نہیں دیکھا۔‘‘ سمیر نے امتیاز خان سے کہا۔
’’اس کان کے کئی دروازے ہیں سمیر…یہ بہت بڑی کان ہے اور یہ دروازے ان پہاڑیوں میں مختلف جگہوں پر کھلتے ہیں۔‘‘ امتیاز نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’آؤ تم کھانا کھاؤ۔‘‘ انہوں نے میز پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’آؤ زرتاشے تم بھی آجاؤ۔‘‘ صمصام نے زرتاشے سے کہا جو ایک کونے میں پریشان سی کھڑی تھی۔
’’نہیں! یہ چائے بنائے گی۔‘‘ امتیاز نے جلدی سے کہا اور زرتاشے واپس کچن کی طرف چلی گئی۔
اسی رات سمیر ڈریم سینٹر سے ناصر محمود کے ساتھ نکلا تھا اس نے زرتاشے کے بارے میں اسے سب کچھ بتادیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ وہ آج رات زرتاشے کے قصے کو انجام تک پہنچانا چاہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے ناصر محمود کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا…جب وہ زرتاشے کے گھر کے باہر پہنچے تو اندر سے انہیں باتوں کی آوازیں آتی سنائی دیں۔
سمیر نے ناصر کو ہوشیار رہنے کا اشارہ کیا اور ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے اور کوئی آواز پیدا نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے دبے قدموں مکان میں باہر کھلنے والی کھڑکی کے نیچے پہنچ گیا وہ نیچے بیٹھ گیا تھا یہ کھڑکی مکان کے پچھلے حصے میں تھی اور اس وقت کھلی ہوئی تھی۔ اس سے ہی اندر موجود لوگوںکی آوازیں باہر آرہی تھیں ۔ ناصر محمود بھی سمیر کے قریب ہی دبک گیا تھا۔
’’زرتاشے …چلو لیٹ جاؤ!‘‘ زرتاشے کی ماں کی آواز سنائی دی۔
’’نن …نہیں…میں یہ نہیں کرسکتی ۔‘‘ زرتاشے کی سہمی ہوئی آوازآئی۔
’’تم جانتی ہو…تمہیں یہ کرنا ہے اور تم پہلے بھی کرتی رہی ہو۔‘‘ اس کے والد کی آواز آئی۔
’’نہیں ! ابو مجھے یہ سب پسند نہیں…مجھے مجبور مت کریں۔‘‘ زرتاشے روہانسی آواز میں بولی۔
’’زرتاشہ ضد مت کرو…اور لیٹ جاؤ…تم جانتی ہو کہ صمصام کی مردہ بیوی سے رابطے کا تم واحد زریعہ ہو ۔‘‘
’’میں نہیں کرسکتی…آخر ہر بار مجھے کیوں مجبور کیا جاتا ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا۔
’’میں اس کا معقول معاوضہ دیتا ہوں اور آج بھی دونگا۔‘‘ صمصام کی آواز سنائی دی۔
’’خدا تمہیں غارت کرے…تم کیوں میرے پیچھے پڑگئے ہو۔‘‘ زرتاشے نے چیخ کر کہا اور وہ ڈھٹائی سے ہنسنے لگا پھر زرتاشے کی ماں نے اسے زبردستی لیٹنے پر مجبور کردیا تھا اور اس پر تنویمی عمل کرنے لگی تھی۔ اس عمل کا اثر ہوتے ہی زرتاشے کی آواز آنا بند ہوگئی تھی اور خاموشی چھاگئی تھی۔
’’زلیخا !…آؤ ہمارے سوال کے جواب دو…زلیخا …تمہارا شوہر تم سے بات کرنا چاہتا ہے۔‘‘ زرتاشے کی ماں صمصام کی بیوی کو بلارہی تھی جس کے لیے زرتاشے کے جسم کو معمول بنالیا گیا تھا۔ سمیر چاہتا تو اسی وقت ان کا سارا کھیل بگاڑ سکتا تھا لیکن وہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ زرتاشے کی ماں اس کے ساتھ کیا کرتی ہے اور اس میں کتنی پراسرار صلاحیتیں ہیں۔
’’کیا بات ہے…مجھے کیوں بلایا ہے۔‘‘ اچانک ایک بھرائی ہوئی مدھم آواز سنائی دی۔ وہ یقینا صمصام کی بیوی کی تھی کیونکہ وہ آواز کمرے میں اس سے پہلے نہیں سنائی دی تھی۔
’’تمہارا شوہر تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے۔‘‘ زرتاشے کی ماں نے کہا۔
’’بولو…کیا بات ہے صمصام؟‘‘
’’میں تم سے محبت کرتا ہوں پیاری بیوی…لیکن تمہارے بغیر بہت اکیلا ہوگیا ہوں…میں زرتاشے سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’ہاہاہا…بہت اچھے ۔‘‘ بھرائی ہوئی آواز نے کہا۔
’’تو کرلو شادی مجھ سے کیوں پوچھتے ہو۔‘‘
’’اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ تم میرے اردگرد موجود رہتی ہو تم زرتاشے کو تنگ کرو گی تمہیں شاید میرا شادی کرنا پسند نہ آئے۔‘‘ صمصام کی آواز آئی۔
’’وہ تو ہے…لالچی انسان…تو نے میری کانوں پر قبضہ کرنے کے لیے مجھے مار دیا اور اب تو زرتاشے کو حاصل کرکے اس کے باپ کی کانوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے…ہاہاہا۔‘‘ بھرائی ہوئی آواز پھر سنائی دی ۔
’’یہ غلط ہے…تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ صمصام نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں…میں تمہیں کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دوں گی… میں تم سے اپنی موت کا انتقام لوں گی۔‘‘ بھرائی ہوئی آواز میں کہا گیا پھر دوسرے ہی لمحے صمصام نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا تھا۔ اور کمرے میںچکر کاٹنے لگا تھا پھر وہ بھاگتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا تھا اس کے پیچھے امتیاز اور اس کی بیوی بھی باہر آگئے تھے سمیر اور ناصر محمود ابھی تک گھر کے پیچھے چھپے ہوئے تھے انہیں کسی نے نہیں دیکھا تھا کیونکہ امتیاز اور اس کی بیوی صمصام کے پیچھے بھاگتے ہوئے گھر سے کافی دور چلے گئے تھے ۔ سمیر نے ناصر کو وہیں رکنے کااشارہ کیا اور خود دبے قدموں گھر میں داخل ہوگیا تھا پھر وہ اس کمرے میں پہنچا تھا جہاں زرتاشے ایک پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی اس نے اسے جگایا تھا اور اسے اپنے گھر دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی۔
’’تم! اس وقت یہاں؟‘‘ اس نے حیرت سے کہا۔
’’ہاں ! میں جب تمہارے ساتھ کانوں پر گیا تھا تو میں نے تمہارے والد کا ذہن پڑھ لیا تھا وہ آج رات ہونے والی اس میٹنگ کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اس موقع پر تمہیں اس مصیبت سے آزاد کروادوں گا لیکن میں نے تم سے اس کا تذکرہ نہیںکیا تھا کہ کہیں تمہارے منہ سے کسی کے سامنے کوئی بات نکل نہ جائے اور وہ لوگ ہوشیار نہ ہوجائیں۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ہاں! وہ سب کہاں ہیں…میری ماں مجھ پر تنویمی عمل کر رہی تھی…وہ میرے ذریعے پہلے بھی کئی بار صمصام کی بیوی زلیخا سے بات کرچکی ہے۔‘‘ زرتاشے نے بتایا۔
’’میں جانتا ہوں‘ میں نے تمہیں اس مصیبت سے آزادی دلوادی ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’وہ کیسے؟‘‘
’’جب تمہاری ماں تم پر تنویمی عمل کر رہی تھی تو میں نے زلیخا سے رابطہ قائم ہونے کے لیے تمہارے ذہن کو بند کردیا تھا اور خود تمہارے ذہن میں آگیا تھا اور پھر زلیخا بن کر میں نے ان لوگوں سے باتیں کرتا رہا اور میں نے تمہارے والدین کو یقین دلادیا کہ جیسے وہ صمصام کی آدھی دولت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں تم سے اس کی شادی کروا کر۔ اسی طرح صمصام بھی تم سے اس لیے شادی کرنا چاہتا ہے کہ وہ تمہارے والد کی دولت بھی ہتھیا نا چاہتا ہے اور پھر میں صمصام کے دماغ میں گھس گیا اب وہ پاگلوں کی طرح حرکتیں کر رہا ہے وہ بھاگتا ہوا پہاڑی ڈھلانوں کی طرف چلا گیا ہے جہاں وہ نیچے کھائی میں چھلانگ لگادے گا اور اس کا قصہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ میں ابھی اس کے ذہن پر قابض ہوں۔‘‘
’’اوہ سمیر ! تم پہلے میری زندگی میں کیوں نہیں آگئے…میں نے اتنے عرصے پریشانی اٹھائی ۔ ‘‘ زرتاشے نے کہا وہ اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہی تھی۔
’’تمہاری ز ندگی میں تمہارے خوابوں کا کوئی شہزادہ آئے گا تم خوش گوار زندگی گزارو گی۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’میں تم سے صبح ملوں گا ندی کے کنارے جہاں ہم پہلے ملے تھے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’نہیں تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے میرے ماں باپ واپس آئیں گے تو پھر میرے ساتھ تشدد کریں گے۔‘‘
’’میں نے تمہیں بتایا ہے نا! اب تمہارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا… ابھی کچھ ہی دیر میں تمہیں اس کا ثبوت مل جائے گا۔‘‘ سمیر نے کہا ۔
’’اب میںچلتا ہوں انشاء اﷲ صبح ملاقات ہوگی۔‘‘ سمیر نے کہا اور فوراً کمرے سے نکل گیا اسے اندازہ ہوگیا تھ کہ زرتاشے کے والدین واپسی کے لیے مڑگئے تھے اور کسی بھی لمحے اپنے گھر پہنچنے والے تھے وہ ان کی آمد سے پہلے ہی وہاں سے روانہ ہوجانا چاہتا تھا ۔ باہر آکر اس نے ناصر کو ساتھ لیا تھا اور جنگل میں اسی سمت روانہ ہوگیا تھا جہاں سے صمصام بھاگتا ہوا گیا تھا لیکن اس کا راستہ مختلف تھا۔ پہاڑیوں والا راستہ اس نے اختیار نہیں کیا تھا کیونکہ اس راستے سے زرتاشے کے والدین واپس آرہے تھے جو نہایت گھبرائے ہوئے خوف زدہ تھے۔
’’آخر اچانک کیاہوا کچھ سمجھ میں نہیں آیا؟‘‘ امتیاز نے اپنی بیوی سے کہا جو تیز تیز قدم بڑھارہی تھی۔
’’میں نے زرتاشے کو مکمل تنویمی عمل کے ذریعے قابو میں کرلیا تھا اس کی بیوی کی روح بھی آ گئی تھی دونوں میں باتیں شروع ہوگئی تھیں پھر اچانک کیا ہوا کچھ سمجھ میں نہیں آیا…صمصام بالکل پاگل ہوگیا تھا۔‘‘ زرتاشے کی ماں نے کہا۔
’’مجھے تو لگتا ہے اس کی بیوی نے اسے دھمکی دی تھی کہ وہ اس سے انتقام لے گی کہیں وہ ہی اس کے ذہن میں نا گھس گئی ہو اور اسے پاگل کردیا ہو۔‘‘ امتیاز نے کہا۔
’’ہاں ایسا ہی لگتا ہے…مجھے خوف آرہا ہے اس نے کتنی اونچی پہاڑی سے نیچے کھائی میں چھلانگ لگادی کوئی بھی باہوش وحواس ایسا نہیں کرسکتا وہ اپنے آپے میں نہیں تھا۔ ‘‘ زرتاشے کی ماں نے کہا ۔
’’اس کی بیوی کی روح کہیں ہمیں انتقام کا نشانہ نہ بنائے ہم بھی تو صمصام کی سازش میں شریک تھے اور وہ ہماری بیٹی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔‘‘ امتیاز نے کہا۔
’’ہاں! لیکن ہمیں تو یہ بات پتہ نہیں تھی کہ اس نے اپنی بیوی کو دولت کے لیے قتل کردیا تھا ہمیں تو یہی معلوم تھا کہ وہ کسی پہاڑی سے پاؤں پھسل کر نیچے گری تھی اور ہلاک ہوگئی تھی صمصام نے بھی تو کتنے برس تک اس کے مرنے کا سوگ منایا تھا۔‘‘ زرتاشے کی ماں نے کہا۔
’’ہاں! میں نے بھی کبھی یہ نہ سوچا تھا کہ صمصام اپنی بیوی کو قتل بھی کرسکتا ہے۔‘‘
’’چلو چلو جلدی کرو…زرتاشے اکیلی ہے…ہم نے دوسروں کے چکر میں اپنی بیٹی کو نظر انداز کردیا تھا اور پھر وقتی طور پر دولت کے لالچ میں اندھے ہوگئے تھے۔ ‘‘ زرتاشے کی ماں نے کہا اور امتیاز تیز تیز قدموں سے اس کا ساتھ دینے لگا۔
اس رات سمیر نے ناصر محمود کے ساتھ مل کر صمصام کی لاش کو ٹھکانے لگادیا تھا ۔ ناصر محمود حیران تھا کہ وہ سمیر کی صلاحیت کا چشم دید گواہ تھا۔ اس نے کتنی مہارت سے ذرا سی دیر میں دشمن کو ڈھیر کردیا تھا لیکن ناصر نے اس وقت سمیر سے کوئی بات نہیں کی تھی وہ لاش کو ٹھکانے لگوانے کے بعد اس کے ساتھ ڈریم سینٹر واپس آگیا تھا۔
’’صبح مجھے زرتاشے سے ملنے جانا ہے میرے ساتھ نہیں جاؤ گے۔‘‘ سمیر نے اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے ناصر سے کہا۔
’’لیکن سمیر! تمہاری جان کو خطرہ ہوسکتا ہے بھول گئے اس سیاہ سائے کو جس نے چند روز پہلے ہی تمہیں زخمی کیا ہے اور پھر وہ غائب بھی ہوگیا وہ تمہیں پھر نقصان پہنچاسکتا ہے۔ ‘‘
’’پریشان مت ہونا مجھے زیر کرنا اتنا آسان نہیںہے تم نے دیکھ لیا نہ کہ میں نے اسے کیسے پہاڑی سے نیچے گرادیا تھا۔ ‘‘ سمیر نے کہا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے خلیل کامران کی ہدایت ہے کہ…‘‘
’’میں جانتا ہوں…لیکن میں اس بار اکیلا ہی جانا چاہتا ہوں کیونکہ زرتاشے سے کچھ ایسی باتیں کرنا ہیں جو شاید وہ تمہارے سامنے کرنا پسند نہ کرے۔‘‘ سمیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے ۔‘‘ ناصر نے اور اپنے کمرے کی طرف چلاگیا سمیر بھی اپنے کمرے میں آگیا تھا۔
بستر پر لیٹ کر زرتاشے کے ذہن میں پہنچ گیا تھا وہ بستر پر لیٹی بے چینی سے کروٹیں بدل رہی تھی۔
’’تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟‘‘ سمیر نے پوچھا
’’اوہ سمیر! تم کتنے اچھے ہو…میرے ذہن میں تمہارا خیال نکلتا ہی نہیں۔‘‘ زرتاشے نے خواب ناک آواز میں کہا۔
’’ایسا اس لیے ہے کہ میں نے تمہیں ایک مصیبت سے نجات دلائی ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’انہیں ایسی بات نہیں۔‘‘
’’تو پھر کیا بات ہے؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’مجھے اب اندازہ ہوا کہ میں پہلے دن سے تمہیں پسند کرتی ہوں۔‘‘
’’پسند کرنے اور محبت کرنے میں بہت فرق ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’کیا؟‘‘
’’یہ تمہیں صبح پتہ چلے گا تمہیں معلوم ہے یہاں ایک تم سے والہانہ محبت کرنے والا بھی ہے۔‘‘ سمیر نے بتایا تو وہ حیران رہ گئی۔
’’کیا…یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔ میں نے تو کبھی کسی کو اپنے آس پاس نہیں دیکھا۔‘‘
’’وہ تمہارے آس پاس ہی ہے…میں نے تو کبھی کسی کو اپنے آس پاس نہیں دیکھا۔‘‘
’’وہ تمہارے آس پاس ہی ہے…اتنا قریب کہ تمہارے ساتھ ہونے والی ہر بات اسے پتا ہوتی ہے وہ تمہارے لیے پریشان ہوتا ہے…سوچتا ہے…تم پر نظر رکھتا ہے…تمہاری حفاظت کرتا ہے۔‘‘
’’کیا بولے جارہے ہو…مجھے یقین نہیں …میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتی ۔‘‘ زرتاشے نے کہا۔
’’میں جانتا ہوں وہ کوئی شخص نہیں ایک خوب صورت ‘ خوبرو‘ توانا جوان ہے تمہاری اور اس کی جوڑی لاجواب ہوگی۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ایسا مت کہو سمیر… میں تو تمہیں…‘‘
’’نہیں زرتاشے …تمہارے لیے وہی نوجوان مناسب ہے اور میں ابھی آزاد رہنا چاہتا ہوں میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں اور تمہارے والدین تمہاری شادی جلدی کریں گے کیونکہ ان کی کوئی اولاد اور نہیں جو ان کی دولت کی حفاظت کرسکے انہیں ایک بہادر اور وفادار گھر داماد چائیے جو آگے چل کر تمہارے والد کے کاروبار کو سنبھال سکے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘
’’خدا کو دیکھا نہیں لیکن عقل سے تو پہچانا ہے اپنے حالات کا جائزہ لو سب تمہاری سمجھ میں آجائے گا۔‘‘
’’لیکن میرے والدین کسی اجنبی کے لیے کیسے راضی ہوجائیں گے۔‘‘
’’یہ تم مجھ پر چھو ڑدو۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’کیا مطلب؟ اب تم کیا کرنے والے ہو؟‘‘ زرتاشے نے حیرت سے پوچھا۔
’’یہ تمہیں کل صبح پتہ چل جائے تا۔ تم ندی پر آنا مت بھولنا میرے ساتھ وہ نوجوان بھی ہوگا۔‘‘ سمیر نے کہا اور پھر وہ زرتاشے کے ذہن سے نکل کر گلفراز کے ذہن میں پہنچ گیا۔
’’گلفراز کیا جاگ رہے ہو؟‘‘ سمیر کو پتہ تھا کہ وہ جاگ رہا ہے لیکن اس نے گلفراز کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے اس سے پوچھا تھا۔
’’ہاں…تم …سمیر…؟‘‘ گلفراز نے کہا۔
’’ہاں ! میں …سمیر جو تمہیں پہاڑیوں پر ملا تھا اور تم نے اس پر حملہ کردیا تھا۔‘‘ سمیر نے اسے یاد دلایا۔
’’ہاں مجھے یاد ہے میں تمہیں زرتاشے کا محبوب سمجھ بیٹھا تھا۔‘‘
’’جو کہ تم ہو۔‘‘
’’ہاں ! لیکن وہ تو میرے دل کی کیفیت سے بے خبر ہے…آج بھی تم وہاں تھے… کیا کر رہے تھے؟‘‘
’’تمہارا کام کر رہا تھا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’تمہارے راستے کے پتھر صمصام کو ہٹانا تھا اور تمہارے بارے میں بتانا تھا کہ تم اس کے سچے عاشق ہو۔‘‘
’’اوہ! کیا تم نے اسے بتادیا کہ میں کہاں رہتا ہوں؟‘‘
’’نہیں یہ تم اسے خود بتانا… میں نے صرف تمہاری دیوانگی کے بارے میں اسے بتایا ہے وہ بہت حیران ہورہی تھی۔‘‘
’’اوہ! کیا اسے یقین آگیا؟‘‘
’’یہ تو صبح پتہ چلے گا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’صبح تمہیں اس ندی کے پاس پہنچنا ہے جہاں تم اسے اکثر دیکھتے ہو میں بھی وہیں پہنچ جاؤں گا وہ ہمیں وہیں ملے گی ٹھیک صبح سات بجے وہاں پہنچنا میں تمہیں وہیں ملوں گا اور جب زرتاشے آئے گی تو میں تمہارا تعارف کرواؤں گا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’مگر تم میرے ذہن میں کیسے آئے ؟ یہ میرا پہلا تجربہ ہے کہیں…یہ میرا وہم ہی نہ ہو۔‘‘
’’یہ تمہارا وہم نہیں ہے اس کا اندازہ تمہیں صبح ہوجائے گا۔‘‘سمیر نے کہا۔
’’اچھا اب سو جاؤ رات بہت ہوگئی ہے اور صبح جلدی اٹھ کر تمہیں بتائی ہوئی جگہ پر پہنچنا ہے۔‘‘ سمیر نے کہا اور اس کے ذہن سے نکل گیا۔
کچھ دیر بعد وہ بھی سوگیا تھا ڈریم سینٹر میں مکمل خاموشی کا راج تھا بس لیبارٹریز میں کچھ سائنس دان اور انجینئرز جاگ رہے تھے جو کچھ نئے تجربات میںمصروف تھے اور ناصر محمود اپنے ہیڈ کے کمرے میں انہیں سمیر کی آج کی مصروفیات کے بارے میں بتارہا تھا جسے وہ بہت دلچسپی اور توجہ سے سن رہے تھے اور ان کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے۔
اگلی صبح سمیر ساڑھے چھ بجے کے قریب ہی ڈریم سینٹر سے نکل گیا تھا وہ صبْح کی پر لطف فضا سے لطف اندوز ہوتا اور قدرت کے حسن کو دیکھتا ندی تک پہنچ گیا تھا اور پھر وہیں ٹہلنے لگا تھا کچھ دیر بعد اسے دور سے گلفراز اپنی جانب آتا دکھائی دیا تھا ۔ اس کے چہرے پر خوشی اور حیرت کے آثار تھے۔
’’میں حیران ہوں کہ کیا یہ سب کچھ سچ بھی ہوسکتا ہے؟ مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے میںکوئی خوب صورت خواب دیکھ رہا ہوں۔‘‘ گلفراز نے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
’’یہ سب حقیقت ہے گلزار۔‘‘
’’رات تمہارا میرے ذہن میں آنا…مجھ سے باتیں کرنا… مجھے زرتاشہ کے بارے میں بتانا۔‘‘ گلفراز حیران تھا۔
’’کیا اب تمہیں یقین آگیا کہ میں تمہارے راستے کا پتھر نہیں تھا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ہاں ! مجھے یقین ہے اگر ایسا ہوتا تو تم مجھے یہاں نہ بلاتے۔‘‘ گلزار نے کہا۔
’’جو تمہاری راہ کا پتھر تھا میں نے اسے ہٹادیا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’کل امتیاز خان کا پارٹنر صمصام گل اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے زرتاشے اس کے چنگل سے آزاد ہوچکی ہے اور تمہارے بارے میں میں نے اسے بتادیا ہے کہ تم اس کے سچے عاشق ہو اب اس کے دل میں جگہ بنانا تمہارا کام ہے اور تمہارا امتحان بھی۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم ایسی صلاحیتوں کے مالک ہو ورنہ میں پہلی ہی ملاقات میں تم سے دشمنی مول نہ لیتا۔‘‘ گلفراز نے کہا۔
’’ارے دوست! محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔‘‘ سمیر نے کہا تب ہی اسے سامنے سے زرتاشے آتی نظر آئی۔
’’یہ لو …تمہاری محبت آپہنچی۔‘‘ اس نے گلفراز سے کہا تو گلفراز نے پلٹ کر دیکھا وہ زرتاشے کو اپنے سامنے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سمیر اتنی جلدی اسے اس کی محبت سے ملوادے گا اور اس کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور کردے گا جن کو دور کرنے کی طاقت خود اس میں نہیں تھی۔
’’میں ٹھیک وقت پر آئی ہوں نا؟‘‘ زرتاشے نے قریب آکر سمیر سے پوچھا۔
’’ہاں زرتاشے ! تم ٹھیک وقت پر آئی ہو…یہ گلفراز ہے تمہارا سچا اور نادیدہ عاشق۔‘‘
’’نادیدہ؟‘‘ گلفراز نے حیران ہو کر کہا۔
’’ہاں! نادیدہ ہی کہا جائے گا نا جب تم دونوں نے ایک دوسرے کو اب تک نہیں دیکھا تھا۔‘‘ سمیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’زرتاشے! میں نے اسی گلفراز کے بارے میں تمہیں بتایا تھا اور اب یہ بھی بتادو کے تمہاے ان عاشق صاحب نے غلط فہمی کا شکا ر ہو کر مجھ پر حملہ بھی کردیا تھا۔‘‘
’’کیا؟…کیسی غلط فہمی؟’’ زرتاشے نے پہلے گلفراز کو اور پھر سمیر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بھئی جب میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو میں تمہارے گھر سے واپس آرہا تھا ۔ یہ کئی روز سے مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھا اور سمجھ رہے تھے کہ میں تمہارے چکر میں تمہارے گھر جاتا ہوں چنانچہ انہوں نے میری لاعلمی میں راستے میں مجھ پر حملہ کردیا تھا ۔ یہ باقاعدہ نقاب پہنے ہوئے تھے تاکہ انہیں پہچانا نہ جاسکے لیکن نقاب اتارنے پر یہ میرے لیے اجنبی ہی تھے کیونکہ میں ان سے پہلے کبھی نہیںملا تھا۔‘‘
’’اوہ! تم نے ان پر حملہ کیا؟‘‘ زرتاشے نے حیرت سے گلفراز کو دیکھتے ہوئے کہا جس کے چہرے پر شرمندگی تھی۔
’’میرا مقصد تمہیں شرمندہ کرنا نہیں گلفراز بلکہ زرتاشے کو یہ بتانا ہے کہ یہ تمہار ا سچا عاشق ہے اور تمہارے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’لیکن زرتاشے تمہارا یقین کیوں کرے گی؟‘‘ گلفراز نے کہا۔
’’میں اس لیے یقین کروں گی کہ گلفرازکہ سمیر نے مجھے بہت بڑی مصیبت سے نجات دلائی ہے میں سمیر سے اپنی چاہت کا اظہار کر رہی تھی کہ اس نے مجھے روک دیا اور تمہارے بارے میں بتایا اس نے کہا کہ یہ مجھے نہیں چاہتا بلکہ میرے سچے عاشق تم ہو اور سمیر ہی نے مجھے تم سے ملوانے کا انتظام کیا ہے چنانچہ مجھے سمیر پر بھروسہ ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا گلفراز حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’اور اب میرا مشورہ ہے کہ تم دونوں وقت ضائع کیے بغیر اپنے والدین کوایک دوسرے سے ملوادو اس سے پہلے کہ کوئی اور صمصام گل تمہارے درمیان آجائے۔‘‘ سمیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’زرتاشے!…زرتاشے!۔‘‘ دور سے زرتاشے کی ماں کی آواز سنائی دی اور سمیر ہنس پڑا۔
’’لو! تمہاری امی تمہیں ڈھونڈتی ہوئی آگئی ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’میری امی کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور رات سے ان کا رویہ بہت بدل گیا ہے وہ سمجھتی ہے کہ صمصام ایک پاگل دیوانہ شخص تھا اور قدرت نے بال بال مجھے اس سے بچالیا ہے۔‘‘ زرتاشے نے کہا۔
’’ارے سمیر! اتنی صبح صبح یہاں کیسے؟ اور یہ کون نوجوان ہے؟‘‘ زرتاشے کی ماں نے پوچھا۔
’’میں تو چہل قدمی کے لیے نکلا تھا اور یہ گلفراز ہے اسی وادی میں آگے رہتا ہے یہ بھی اکثر یہاں آتا ہے میرا دوست بن گیا ہے۔‘‘ سمیر نے گلفراز کا تعارف کروایا۔
’’آؤ…آجاؤ ناشتہ تیار ہے تم لوگ بھی ناشتہ کرلو… میں زرتاشے کو اسی لیے ڈھونڈ نے آئی تھی کہ اس کا ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘
’’میں تو ناشتہ نہیں کروں گا کرکے آیا ہوں۔‘‘ سمیر نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’تو پھر قہوہ پی لینا۔‘‘ زرتاشے کی ماں نے کہا۔
’’اچھا چلیں ٹھیک ہے ۔‘‘ سمیر نے کہا پھر وہ گلفراز اور زرتاشے کے ساتھ اس کی ماں کے پیچھے چل پڑا تھا۔
ناشتے کے دوران زرتاشے کی ماں گلفراز سے اس کے بارے میں پوچھتی رہی تھی کیونکہ سمیرنے اس کے ذہن میں یہ خیال ڈال دیا تھا کہ گلفراز زرتاشہ کے لیے بالکل مناسب ہے ۔ اسے ہاتھ سے نکلنے نہیں دینا چائیے۔ پھر باتوں باتوں میں زرتاشے کی ماں نے گلفراز سے اپنے والدین کو لانے کی بات بھی کی تھی۔
’’گلفراز تم اچھے لڑکے ہو میں تمہارے والدین سے ملنا چاہتی ہو۔‘‘
’’جی! میں کسی روز انہیں آپ سے ملوانے لے آؤں گا۔‘‘ گلفراز نے کہا۔
’’جی! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرے والدین اگر یہاں آئیں گے تو زرتاشے کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟‘‘ گلفراز نے دبی زبان سے کہا اور زرتاشے کی ماں اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’بھلا مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔‘‘ زرتاشے نے اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ سمیر سمجھ گیا تھا کہ زرتاشے کو یہ رشتہ پسند ہے تبھی وہ شرما کر وہاں سے ہٹ گئی ہے۔ سمیر فوراً زرتاشے کے ذہن میں پہنچ گیا۔
’’میں تمہاری مشکور ہوں سمیر تم نے مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔‘‘ زرتاشے نے سمیر کو اپنے ذہن میں محسوس کرکے کہا۔ اس کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔
’’میں نے وہی کیا جو ایک رحم دل انسان کو کرنا چائیے مجھے تمہارے بارے میں جان کر دکھ ہوا تھا اور میں تمہاری مدد کرسکتا تھا چنانچہ یہ میرا فرض بن گیا تھا۔ اچھا اب اجازت دو مجھے بہت ضروری کام ہے میں پھر حاضر ہوں گا۔‘‘ سمیر نے کہا اور اس کے ذہن سے نکل گیا پھر وہ ناشتے کی ٹیبل سے بھی اٹھ گیا تھا اور گلفراز اور زرتاشے کی ماں سے رخصت لے کر واپس ڈریم سینٹر کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔
سمیر جیسے ہی ڈریم سینٹر پہنچا تھا ناصر محمود اسے گیٹ کے قریب ہی مل گیا تھا انداز سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ اس کا انتظار کر رہا ہو۔
’’مبارک ہو سمیر! تم نے دو محبت کرنے والوں کو آخر کار ملوادیا ۔‘‘ ناصر محمود نے تعریفی انداز میں کہا۔
’’اچھا! تو تم مجھ پر نظر رکھی ہوئے تھے؟‘‘ سمیرنے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہاں! دوستوں کے لیے یہ تو کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ معلوم ہے کہ دشمن تمہاری بھی تاک میںلگا ہوا ہے۔‘‘ ناصر محمود نے کہا۔
’’تم میری زیادہ فکر مت کرو…میں اپنی حفاظت کرسکتا ہوں۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’میں دیکھ رہا ہوں سمیر جب سے تم یہاں آئے ہو تم میں خود اعتمادی بڑھتی جارہی ہے۔‘‘ ناصر محمود نے کہا۔
’’اور یہ ا چھی بات ہے پہلے تم اپنی صلاحیتوں کو زیادہ استعمال نہیں کرتے تھے شاید ڈرتے تھے لیکن اب تم ان سے بھرپور فائدہ لے رہے ہو۔‘‘
’’اور انشاء اﷲ مستقبل میں میں ان صلاحیتوں کو اوربھی مثبت اور بڑے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’میں تمہارا انتظار اسی لیے کر رہا تھا کہ خلیل کامران اپنے آفس میں تم سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ ناصر نے کہا ۔ پھر وہ اس کے ساتھ خلیل کامران کے آفس میں آگیا تھا۔
’’بیٹھو سمیر اور ناصر…مجھے کچھ اہم بات کرنا ہے۔‘‘ خلیل کامران نے کہا۔
’’سمیر! تم سے تو مجھے یہ کہنا ہے کہ اب تمہیں یہاں آئے ہوئے کافی دن ہوگئے ہیں تم میں اعتماد بھی بڑھ گیا ہے…میں چاہتا ہوں کہ زرتاشے کا مسئلہ حل ہوجانے کے بعد تم اپنی مصروفیات کچھ بدل لو۔‘‘
خلیل کامران کی اس بات پر سمیر کے چہرے پر حیرت کے آثار نظر آئے اور وہ ناصر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو کہ زر تاشے کے بارے میں خلیل کامران کو کس نے بتایا۔
’’اسے اس طرح مت دیکھو…اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا…تم کیا سمجھتے ہو…میں اتنے بڑے تحقیقاتی ادارے کا سربراہ ہوتے ہوئے کچھ نہیں جانتا؟ مجھے یہاں کام کرنے والے ایک ایک شخص کے بارے میں پوری معلومات رہتی ہیں۔ یہ معلومات بعض اوقات میرے کارکن مجھے بتاتے ہیں لیکن زیادہ تر میں خود اپنی ذہنی صلاحیتوں سے ان کے بارے میں باخبر رہتا ہوں ۔ اب زرتاشے کا معاملہ انجام کو پہنچ گیا ہے چنانچہ میں تمہیں ایک اہم ذمہ داری سونپنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’جی! پہلے تو یہ بات ذہن میں بٹھالو کہ اس ادارے میں آنے اور جانے کے لیے ہر کوئی آزاد نہیں ہے یہاں رہنے والے لوگ جب تک میں چاہوں اپنی مرضی سے آ اور جا سکتے ہیں اور جب میں نہ چاہوں تو اس کی حدود سے باہر تقریباً دو دو میل تک کوئی نہیں جاسکتا ہے اور نہ ان حدود کو پار کرکے کوئی ادارے میں داخل ہوسکتا ہے اس کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے تم بھی اب تک آزادی سے آتے اور جاتے رہے ہو تو میری مرضی سے ہی ایسا کرتے رہے ہو۔‘‘ خلیل کامران نے کہا۔ سمیر نے ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
’’میں تمہیں جو کام دینے جارہا ہوں ناصر محمود تمہارے ساتھ رہے گا تم دونوں کی حیثیت برابر کی ہوگی اب تمہاری کارکردگی بتائے گی کہ تم میں سے بہتر کون ہے؟‘‘ اس بات پر دونوں نے چونک کر خلیل کامران کی طرف دیکھا تھا۔
’’ہاں ! مجھے امید ہے اس نئی گتھی کو سلجھانے کے لیے تم دونوں اپنی اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں بھرپور طریقے سے استعمال کرو گے اور کامیابی حاصل کرو گے تم انفرادی طور پر بھی کام کرسکتے ہو اور ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ بھی جیسے تمہیں پسند ہو۔‘‘ خلیل کامران نے کہا۔
’’ہم وہ کام جاننا چاہتے ہیں؟‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ہم کا مطلب تم دونوں۔ یا صرف تم؟‘‘
’’میں بھی اس کے لیے تیار ہوں۔‘‘ ناصر نے کہا۔
’’ٹھیک ہے …تمہیں اس معاملے کی فائل کل دے دی جائے گی اور کل ہی میں اس بارے میں تمہیں آگاہ کروں گا اور چاہوں گا کہ کل ہی تم اپنے مشن پر روانہ ہوجاؤ۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ دونوں نے ایک ساتھ کہا سمیر کوشش کر رہا تھا خلیل کامران کا ذہن پڑھ کر کچھ اندازہ لگا سکے کہ کام کی نوعیت کیاہے۔
’’تمہیں اس بارے میں کل تفصیل پتہ لگ جائے گی سمیر ابھی کوشش فضول ہے میں بھی گرگ باراں دید ہ ہوں۔میرے ذہن سے کچھ نہیں نکال سکو گے۔‘‘ خلیل کامران نے ہنستے ہوئے کہا اور سمیر کھسیانی ہنسی ہنس پڑا۔
’’اب تم دونوں جاؤ باقی بات کل ہوگی۔‘‘ خلیل کامران نے کہا تو وہ دونوں اس کمرے سے نکل کر باہر آگئے تھے اور آنے والے دن کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ انہیں کس مشن پر بھیجا جانے والا تھا۔ اس پر ان کے ذہنوں میں بس ایک سوالیہ نشان بنا ہوا تھا۔
اس رات سمیر کی والدہ تیسری بار اس کے خواب میں آئیں وہ بہت اداس نظر آرہی تھی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بار بار سمیر کو اپنے پاس بلارہی تھیں۔
’’میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں جس روز آپ کا قتل ہوا میرے لیے سالگرہ کا گفٹ کون لایا تھا؟‘‘ سمیر نے پوچھا تو والدہ کے چہرے پر اداس سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’وہی سیاہ پوش اجنبی جو تمہیں مارنا چاہتا تھا اس روز وہ حلیہ بدل کر آیا تھا مہمان بن کر لیکن پھر…‘‘ وہ خاموش ہوگئیں اور سمیر کو دوبارہ اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا سمیر ان کے پیچھے چل دیا وہ جنگل کے اس حصے میں آگئے تھے جہاں ایک بار پہلے بھی اس سیاہ پوش اجنبی نے سمیر پر حملہ کیا تھا لیکن اس بار سمیر نے عجیب منظر دیکھا اس کے والد زمین پر بے جان پڑے تھے اور کچھ فاصلے پر اس کی والدہ بھی بے حس و حرکت پڑی تھیں اس نے پلٹ کر اپنی والدہ کے اس ہیولے کی طرف دیکھا جس کا تعاقب کرتا ہوا وہ وہاں تک آیا تھا لیکن وہ ہیولا آہستہ آہستہ ہوا میں تحلیل ہورہا تھا اور سمیر کو یہ راز پتہ چل گیا تھا کہ اس کے والدین کا قاتل وہی سیاہ پوش اجنبی تھا۔
…٭٭٭…
جان ساؤتھ کے ایک چھوٹے سے قحبہ خانے میں بیٹھا سمیر مشروب کی چسکیاں لے رہا تھا لیکن اس کی نظریں مسلسل اس سیاہ فام شخص کا جائزہ لے رہی تھیں جو اپنے دوساتھیوں سے باتیں کر رہا تھا۔ لیکن اس کی پوری توجہ اپنے قریب زمین پر رکھے ہوئے براؤن بیگ پر تھیں ۔ یوں لگ رہا تھا کہ اس میں کوئی اہم چیز ہے جس کی وجہ سے وہ بیگ اس سیاہ فام کا مرکز نگاہ ہے ۔پھر سمیر اس سیاہ فام سے نظریں ملتے ہی اس کے دماغ میں پہنچ گیا تھا اور یہ جان کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے کہ وہ شخص کچھ ہی دیر بعد اس براؤن بیگ کی مدد سے لندن میں ایک دھماکا کرنے والا تھا اور اس سلسلے میں اپنے دوستوں سے باتیں کر رہا تھا۔
اس سیاہ فام کا نام مائیکل تھا اس کے دوست اسے اس نام سے پکار رہے تھے۔ مائیکل کے دماغ میں موجود ہونے کے باعث سمیر اس کی ساری گفتگو سن رہا تھا۔
’’بڈی یہ بیگ اب تمہاری ذمہ داری ہے۔‘‘مائیکل کے سامنے بیٹھے شخص نے اس سے کہا۔
’’میرا کام اسے تم تک پہنچانا تھا میں نے اپنا کام کردیا میں بگ باس کو بتا دوں گا آگے تمہارا کام شروع ہوتا ہے پتہ ہے نا تمہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے؟‘‘
’’ہاں…جانتا ہوں دوست کسی کو مجھ پر شک نہیں ہونا چاہئے میں یہ بیگ ریلوے ٹریک پر رکھ دوں گا اور شام چار بجے کی ٹرین جب اس پر سے گزرے گی تو میں اسے ریموٹ سے اڑادوں گا۔‘‘مائیکل نے طریقہ کار بیان کرتے ہوئے کہا۔
’’بس ٹھیک ہے ابھی صبح کے گیارہ بجے ہیںشام چار بجے کی بی بی سی نیوز میں جان سائوتھ کے علاقے میں شام چار بجے کی ٹرین تباہ ہوجانا چاہئے۔‘‘ اس شخص نے کہا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔
مائیکل اسی طرح بیٹھا ہوا اپنا کھانا ختم کررہا تھا لیکن اس کا دماغ بار بار اسی منصوبے کے بارے میں سوچ رہا تھا سمیر نے کئی بار اس کا دماغ ٹٹولنے کی کوشش کی کہ اس ٹرین کو کیوں اڑایا جارہاہے لیکن مائیکل اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا اس کا پلان تو یہ تھا کہ یہاں سے فارغ ہو کر وہ اسی علاقے میں واقع اپنے فلیٹ جاتا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد پھر اپنے کام کو نمٹانے کے لیے نکلتا سمیر نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اس کا تعاقب کرے گا وہ اس کے دماغ سے نکل آیا اسے حیرت تھی کہ لندن میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو یہاں کے سکون کو برباد کرنا چاہتے تھے اور یہاں جگہ جگہ دھماکے کررہے تھے اس لیے کئی بار ایسی خبریں پڑھی تھیں وہ یہاں آیا بھی اسی سلسلے میں تھالیکن ابھی مطلوبہ شخص سے نہیں ملا تھا اس نے سوچا اپنے طورپر بھی اس راز تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہئے۔
کچھ دیربعد مائیکل اپنی سیٹ سے اٹھا تھا اس نے اپنے قریب رکھا برائون بیگ اٹھایا تھا اور کائونٹر کی طرف بڑھ گیا تھا چند لمحے کائونٹر کلرک سے باتیں کرنے اور اپنا بل ادا کرنے کے بعد وہ قحبہ خانے سے نکل گیا تھا اور سمیر بھی نہایت احتیاط سے اس کے پیچھے وہاں سے نکلا تھا وہ شخص باہر کھڑی سیاہ رنگ کی کار میں بیٹھ رہا تھا سمیر نے بھی قریب کھڑی اپنی بائیک اسٹارٹ کی تھی اور پھر اس سیاہ کار کے پیچھے روانہ ہوگیا تھا لیکن تعاقب کے دوران اس نے کار سے اپنا فاصلہ کافی رکھا تھا کار کے اور اس کے درمیان دو ایک دوسری گاڑیاں بھی موجود تھیں۔اسی طرح مائیکل کو اس پر شک نہیں ہوسکتا تھا پھر سیاہ کار ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے سامنے رک گئی تھی اور مائیکل برائون بیگ کے ساتھ اس سے باہر نکلاتھا اور بلڈنگ میں داخل ہوگیا تھا۔ سمیر ایک بار پھر اس کے دماغ میں موجود تھا مائیکل نے دوسری منزل پر جاکر اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تھا جس پر 205نمبر کی پلیٹ لگی تھی اور اندر داخل ہوگیا تھا اندر جاکر اس نے بیگ ایک سائیڈ میں رکھاتھا اور بیڈپر بیٹھ گیا تھا۔
اس کی ذہنی کیفیت سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ یہ کام نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن مجبور تھا وہ اس وقت اپنی بیوی مارتھا کے بارے میں سوچ رہا تھا جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا اس کی ایک سال پہلے ہی شادی ہوئی تھی لیکن ابھی کوئی اولاد نہیں تھی اس کی بیوی بگ باس کے قبضے میںتھی اور اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے کربگ باس اس سے یہ کام کرواتا تھا وہ اب تک دو کامیاب دھماکے کرچکا تھا جن میں بہت سے لوگوں کی جانیں جاچکی تھیں وہ اس عمل پر شرمندہ بھی تھالیکن وہ مجبور تھا اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اس کی بیوی کو جان سے مار دیا جاتا وہ کسی بھی طرح اس مصیبت سے نکلنا چاہتا تھا کیونکہ ہر بار اس سے بگ باس جھوٹے وعدے کرتا تھا کہ اس بار کام کی کامیابی پر اس کی بیوی کو آزاد کردے گالیکن ہر بار ہنس کر ٹال جاتا اورکہتا کہ اگلی بار میں تمہیں ایک بڑی رقم بھی دوں گا اور تمہاری بیوی کو بھی چھوڑ دوں گا لیکن پھر مکر جاتا تھا۔ سمیر کو مائیکل سے ہمدردی محسوس ہونے لگی حالانکہ کچھ دیر پہلے وہ اس سے نفرت محسوس کررہا تھا لیکن اب اس کی مجبوری جان لینے کے بعد سمیر نے فیصلہ کرلیاتھا کہ وہ اس دھماکے کو بھی نہیں ہونے دے گا اور مائیکل کی مدد کرے گا تاکہ اس کی بیوی کو آزاد کرواسکے یہ کام سمیر کے لیے بہت آسان تھا وہ خود کو روپوش رکھتے ہوئے یہ بہت خوبی سے کرسکتا تھا اور دھماکے کروانے والوں کے لیے ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑنا چاہتا تھا۔
کچھ دیر بعد مائیکل اٹھ کر غسل خانے میں نہانے چلا گیا اس نے فلیٹ کا دروازہ لاک نہیں کیا تھا۔ سمیر اس کے ذہن سے نکل گیا اور اپنی بائیک سے اتر کر اس بلڈنگ میں داخل ہوگیا اس نے کائونٹر پر جاکر کلرک کو 205نمبر کمرے میں جانے کی اطلاع دی تھی اور رجسٹر میں اپنا نام جانسن لکھوایا تھا پھر وہ لفٹ کے ذریعے اوپر چلا گیاتھا اس نے کائونٹرکلرک کو یہ بھی بتایا تھا کہ وہ مائیکل کا دوست ہے اور اس سے ملنے آیا ہے وہ چاہتا تھا کہ بعد میں اگر تحقیقات ہوتو مائیکل کی جان بچ جائے۔
اس نے آہستہ سے بغیر آواز کئے کمرے کا دروازہ کھولاتھا اور اندر داخل ہوگیا تھا پھر اس نے سائیڈ میں رکھا ہوا برائون بیگ اٹھایاتھا اور اسی خاموشی سے کمرے سے نکل گیا تھا لیکن واپسی کے لیے اس نے دوسری لفٹ کا انتخاب کیا تھا جو بلڈنگ کے ہال میں کھلنے کے بجائے بلڈنگ کے عقب میں کھلتی تھی وہ بلڈنگ کے پچھلے دروازے سے باہر آیا تھا اور تیزی سے اپنی بائیک پر آکربیٹھ گیا تھا پھر اس نے بائیک تیزی سے آگے بڑھا دی تھی وہ جلد از جلد اس بیگ سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا پھر اس نے ایک سنسان جگہ دیکھ کر سڑک کے کنارے بائیک روک دی تھی اور بیگ اٹھا کر سڑک کے کنارے لگے درختوں میں غائب ہوگیا تھا۔
کچھ دور جانے کے بعد وہ جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا تھا اور اس نے احتیاط سے بیگ کھولا تھااس بیگ میں بم موجود تھالیکن ابھی اس کا ٹائمر سیٹ نہیں کیاگیاتھا ریموٹ بھی ساتھ ہی رکھاتھا سمیر نے آنکھیں بند کرکے ایک گہری اور پرسکون سانس لی کیونکہ ابھی بم خطرناک نہیںتھا اگر اس کا ٹائمر سیٹ کیا جاچکا ہوتا تب بھی سمیر اسے ناکارہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اسے ڈریم سینٹر میں کئی طرح کی ٹریننگ دی گئی تھی جس سے وہ بہت سے ایسے کام کرنے کے قابل ہوچکا تھا اس نے بیگ کو بند کیا اورپھر بائیک پر آبیٹھا اب اس کا رخ اس علاقے کے دریاکی طرف تھا۔ تقریباً آدھا گھنٹے میں وہ وہاں پہنچ گیاتھا۔
دریا پل کے نیچے بہت نیچے تھا اور تیزی سے بہہ رہا تھا سمیر پل پر موجود تھا اور ریلنگ کے ساتھ لگا نیچے بہتے دریا کا جائزہ لے رہا تھا پل سے تھوڑی تھوڑی دیر میں کوئی گاڑی گزر جاتی تھی اور سمیر کو ایسے لمحے کا انتظار تھا جس وقت چند لمحوں کے لیے پل خالی ہواور وہ کسی کی نظر میں آئے بغیر وہ بیگ نیچے دریا میں ڈال دے پھر جلد ہی اسے موقع مل گیا تھا اور اس نے بیگ سے جان چھڑالی تھی۔ اب اسے مائیکل کی فکر تھی لیکن وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ دھماکانہ ہونے کی صورت میں مائیکل سے کون رابطہ کرتا ہے اور اسے کہاں لے جایا جاتا ہے سمیر کاکام اس کے بعد شروع ہونا تھا۔
بیگ سے جان چھڑانے کے بعد سمیر واپس اپنے فلیٹ میں آگیا تھا ۔ آج ناصر اس کے ساتھ موجود نہیںتھا وہ بھی اس کے ساتھ ہی لندن آیا تھا لیکن آج کچھ شاپنگ کرنے بازار گیا ہوا تھا سمیر نے فیصلہ کیا کہ ابھی وہ مائیکل والے واقعہ کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتائے گا ۔اس نے کچھ دیر بعد پھر مائیکل کے ذہن میں جھانک کر دیکھا وہ مطمئن تھا اسے ابھی تک بیگ کے غائب ہونے کا علم نہیں تھا وہ فریش ہونے کے بعد سونے کے لیے لیٹ گیا تھا سمیر اس کے ذہن سے واپس نکل گیا اسے اندازہ تھا کہ مائیکل سو کر اٹھے گا اور باہر جانے کے لیے بیگ ڈھونڈے گا تب اسے اس کی گمشدگی کا پتہ چلے گا ۔ ابھی شام کے چاربجنے میں دو گھنٹے تھے سمیر بھی آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔
ٹھیک چار بجے وہ اٹھا تھا اورلباس تبدیل کرکے باہر آگیا تھا پھر بائیک پر بیٹھ کر مائیکل کے فلیٹ کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔ فلیٹ کے سامنے موجود ایک ریستوان میں اس نے بیٹھنے کا فیصلہ کیاتاکہ اس بلڈنگ پر نظر رکھ سکے اسے یقین تھاکہ دھماکا نہ ہونے کی صورت میں بگ باس کے آدمی مائیکل سے ضرور رابطہ کریں گے اور اس موقع پر بھی اسے مائیکل کی مدد کرنا تھی اس نے بیٹھنے کے لیے ایک ایسی سیٹ کا انتخاب کیا تھا جس کے سامنے ایک بڑی کھڑکی موجود تھی اور وہاں سے بلڈنگ کا صدر دروازہ صاف نظر آرہا تھا اس نے اپنے لیے چائے اور اسنیکس کا آرڈر دیا تھا اور اطمینان سے بیٹھ گیا تھا اس کی نظریں کھڑکی سے باہر مائیکل کی بلڈنگ کا جائزہ لے رہی تھیں۔
ٹھیک ساڑھے چار بجے ایک سیاہ کار بلڈنگ کے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی اور اس میں سے دولحیم شمیم سیاہ فام برآمد ہوئے جنہوں نے سفید کوٹ پتلون پہنے ہوئے تھے اور آنکھوں پر سیاہ چشمے لگائے ہوئے تھے انہوں نے بڑی احتیاط سے اطراف کا جائزہ لیا اور بلڈنگ میں داخل ہوگئے سمیر بھی اپنی جگہ سے اٹھا تھا اور بلڈنگ کی طرف بڑھ گیا تھا اس بار اسے معلوم تھا کہ اسے سمیر کے کمرے میں کس راستے سے جانا ہے اس نے عقبی راستہ اختیار کیا تھا جب وہ دوسری منزل پرپہنچا تو مائیکل کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اندر سے تیزتیزباتوں کی آوازیں آرہی تھیں پھر دروازہ بند ہوگیا تھا۔سمیر ایک دیوار کی اوٹ میں چھپ کر کھڑا ہوگیا اور مائیکل کے ذہن میں پہنچ گیا۔
’’بتائو وہ بم کہاں ہے تم نے ہمارا کام کیوں نہیں کیا؟‘‘آنے والوں میں سے ایک نے غرانے والے انداز سے کہا۔
’’میں سچ کہہ رہا ہوں جارج میرا کوئی قصور نہیں ہے بم کا بیگ غائب ہوگیا تھا۔ میں نے بہت ڈھونڈا نہیں ملا۔‘‘مائیکل نے بے چارگی سے کہا اس کا سیدھا گال سوجا ہوا تھا اور منہ سے خون کی پتلی سی لکیر بہہ کر نیچے ٹھوڑی تک آگئی تھی جارج کے جارحانہ انداز سے لگ رہا تھا کہ اس نے ہی مائیکل کو مارا تھا دوسرا ساتھی دروازے کے قریب ہی کھڑا تھا۔
’’تم بکواس کررہے ہوبیگ میں خود تمہارے ہاتھ میں دے کر گیا تھا کہاں غائب ہوسکتا ہے؟‘‘جارج نے پھر غصے سے کہا وہ بار بار اپنی مٹھیاں بھینچ رہا تھا سمیر کے دماغ میں شرارت کی سوجھی اور اس نے مائیکل کے منہ سے مائیکل ہی کی آواز سے ایک جملہ ادا کردیا۔
’’تم سب حرام خور ہو جو بگ باس کے اشاروں پر چلتے ہو میں یہ نہیں کرسکتا۔‘‘مائیکل کے منہ سے یہ جملہ ادا ہونے پر مائیکل کو بھی حیرت تھی جارج غصے سے پاگل ہوگیاتھا۔ وہ مائیکل کو ٹکر مارنے کے ارادے سے دو قدم پیچھے ہٹا پھر تیزی سے اس کی طرف چھلانگ لگائی اور سمیر نے مائیکل کوپھر تی سے ایک سمت ہٹنے پر مجبور کردیا جارج کا سر سیدھا دیوارمیں جاکر لگا تھا اور ضرب اتنی شدیدتھی کہ وہ تڑپ کر رہ گیا تھا وہ فوراً ہی پلٹا تھا۔
’’تیری اتنی ہمت؟‘‘ اس نے غصے سے کہا۔
’’ضرور تیرے پیچھے کوئی ہے ورنہ…‘‘ابھی جارج اپنی بات پوری نہیں کرپایا تھا کہ دروازے کے قریب کھڑے اس کے ساتھی نے اپنی جیب سے سائیلنسر لگا پستول نکال کر اپنے ہی ساتھی پر گولی چلا دی تھی گولی ٹھیک اس کی کھوپڑی میں لگی تھی اور وہ ڈھیر ہوگیا تھا مائیکل حیرت سے منہ کھولے یہ منظر دیکھ رہا تھا کیونکہ سمیراب اس کے دماغ سے نکل کر جارج کے ساتھی کے دماغ میں پہنچ چکا تھا اور پستول سے فائر بھی اس نے ہی کروایا تھا۔
’’یہ تم نے کیاکیا؟‘‘ مائیکل نے سامنے کھڑے شخص سے کہا۔
’’تم نے جارج کو مار ڈالا۔ ہم دہری مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتا ہم تمہیں یہاں بگ باس کے پاس لے جانے آئے تھے یہ فضول باتوں میں وقت ضائع کررہا تھا چلو… سیدھی طرح میرے ساتھ چلو ورنہ تمہیں بھی ڈھیر کردوں گا۔‘‘سامنے کھڑے شخص نے مائیکل سے کہا جو یہ سب کچھ سمیر کی ہدایات پر کررہا تھا جو اس کے دماغ میں موجود تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کے ذریعے بگ باس تک پہنچ جائے اور مائیکل کی بیوی مارتھا کو رہائی دلوادے۔
چند ہی لمحوں بعد مائیکل کمرے سے باہر نکلا تھا اور دوسرا شخص پستول اپنے کوٹ کی جیب میں رکھے لیکن مائیکل کو نشانے پررکھے ہوئے تھا۔ مائیکل خاموشی سے آگے آگے چل رہا تھا پھر وہ دونوں لفٹ میں سوار ہوگئے تھے اور سمیر زینے اترتا ہوا نیچے آیا تھا۔ اس نے دونوں کے ذہن کو آزاد چھوڑ دیا تھا اور اپنی بائیک پر بیٹھ کر ان کی سیاہ کارکا تعاقب شروع کردیاتھا جس میں بیٹھ کر مائیکل اور اجنبی شخص روانہ ہوئے تھے اس وقت کار مائیکل ڈرائیوکررہا تھااور اجنبی پستول لیے برابرکی سیٹ پر موجود تھاساتھ ہی ساتھ وہ اسے ہدایات بھی دیتا جارہا تھا۔
’’دیکھو تمہارا اورمیرا کوئی جھگڑا نہیں ہے تم مجھے چھوڑدو…مجھے جانے دو…ورنہ بگ باس مجھے اورمارتھا کو جان سے مار دے گا۔‘‘مائیکل ایک بارپھرگڑگڑایا۔
’’مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں…تمہیں باس تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے۔‘‘اجنبی نے کہا دونوں باتوں میں اتنے منہمک تھے کہ انہیں ذرا بھی شک نہیں ہوا تھا کہ کوئی ان کا تعاقب کررہا ہے۔ یہ سفر تقریباً آدھا گھنٹہ جاری رہا تھا اور پھر سیاہ کار ایک بڑے قحبہ خانے کے سامنے رک گئی تھی مائیکل اور اجنبی شخص کار سے اتر کر اس قحبہ خانے میں داخل ہوگئے تھے سمیر نے بھی چند لمحوں کا وقفہ دے کر ان کی تقلید کی تھی قحبہ خانے میں رنگ برنگی لائٹوں کا راج تھا جو ہر طرف گھوم رہی تھیں میوزک کا شورتھا اوروہاں موجود جوڑے محو رقص تھے مائیکل اس اجنبی کے ساتھ ان کے درمیانی راستہ بناتا آگے بڑھ رہا تھا پھر وہ ایک بند دروازے کے سامنے جاکر رک گئے تھے اجنبی شخص نے مخصوص انداز میں دستک دی تھی تو چند لمحے بعد دروازہ کھلا تھا۔
“Three sparow” اجنبی نے دروازہ کھولنے والے کو کوڈ بتایا اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے اجنبی اور مائیکل کو اندر جانے کا راستہ دے دیا تھا اور اتنی دیر میں سمیر ہال میں موجود ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا تھا اور مائیکل کے ذہن میں پہنچ گیا تھا۔
جس کمرے میں وہ داخل ہوئے تھے وہاں سرخ رنگ کی روشنی ہورہی تھی کمرے میں چاروں طرف صوفے لگے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک پربگ باس براجمان تھا وہ تندرست جسم کا مالک ایک سیاہ فام شخص تھا چہرے پر کرختگی کے آثار تھے اور آنکھوں میں عیاری چمک رہی تھی اس کے دونوں جانب حسین و جمیل لڑکیاں موجودتھیں جو اپنی اداؤں سے اسے لبھا رہی تھیں ۔ مائیکل کو سامنے دیکھ کر بگ باس کے ہاتھ کے اشارے سے لڑکیوں کو وہاں سے جانے کے لیے کہا تھا اور خود سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
’’تمہیں جو کام دیا گیا تھا تم نے وہ کیوں نہیں کیا؟ تمہیں اس کی سزا معلوم ہے؟‘‘ بگ باس نے کہا۔
’’میرا کوئی قصور نہیں ہے بیگ کھوگیا تھا۔‘‘ مائیکل نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
’’کیا…؟ تم اتنے بے پروا کب سے ہوگئے ۔ اس کی حفاظت تو تمہیں جان سے زیادہ کرنی تھی۔‘‘
’’میں اسے اپنے ساتھ فلیٹ لے گیا تھا لیکن وہاں سے وہ غائب ہوگیا بس میں غسل کرنے باتھ روم میں گیا تھا واپس آیا تو وہ غائب تھا۔‘‘
’’اوہ! تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ تم نے کتنا بڑا نقصان کیا ہے…جارج کہاں ہے؟‘‘ اس نے مائیکل کے ساتھ کھڑے شخص سے پوچھا۔
’’اسے میں نے مار دیا ۔‘‘ اجنبی نے کہا۔
’’کیا…؟ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ یہ تو ہمارے پلان کا حصہ نہیں تھا۔ تم نے اسے کیوں مارا؟وہ میرا وفادار تھا۔‘‘ بگ باس دھاڑا۔
’’وہ بلاوجہ اس سے لڑائی میں الجھ گیا تھا اور وقت خراب کر رہا تھا۔‘‘
’’مائیکل تم تو اب بھول جاؤ کہ کبھی اپنی بیوی سے مل بھی سکو گے۔‘‘ بگ باس نے کہا اور اس کے ساتھ کھڑے اپنے ساتھی کو گولی ماردی وہ لڑکھڑا کر ینچے گر گیا تھا پھر اس نے کمرے میں موجود دوسرے شخص کو وہاں سے لاش اٹھانے کا اشارہ کیا تھا۔ مائیکل خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔
’’اب تم بھی میری قید میں رہو گے میں تم پر بھروسہ نہیں کرسکتا۔‘‘ بگ باس نے کہا۔
’’خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو…بیگ کے کھونے میں میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔ میں کئی بار تمھارا کام کرچکا ہوں اب مجھے میری بیوی کا پتہ بتادو؟‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’ہاہاہا…تمھاری بیوی…وہ تمھاری بلڈنگ میں سیکنڈ فلو ر پر ہی تمھاری ناک کے نیچے تھی اور تمہارے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں چلا۔‘‘ بگ باس نے اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا اور اسی لمحے سمیر مائیکل کے ذہن سے نکل کر بگ باس کے ذہن میں پہنچ گیا اور اس کے منہ سے سچائی باہر آنے لگی۔ مائیکل حیرت سے بگ باس کو دیکھ رہا تھا۔
’’وہ تمہارے کمرے والی برابر کی راہ داری میں کمرہ 201 میں ہے لیکن وہ کمرہ لاک رہتا ہے اور مارتھا مسلسل بے ہوش رہتی ہے اسے بے ہوشی کی دوا ایک خاص مقدار میں دی جاتی ہے اور یہ کام میرا خاص آدمی کرتا ہے۔‘‘ بگ باس نے کہا ۔ مائیکل اور اس کمرے میں موجود بگ باس کے دو آدمی حیران تھے کہ بگ باس کو اچانک کیسے مائیکل کو اس کی بیوی کا پتہ بتا رہا ہے پھر ان پر مزید حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جب بگ باس نے مائیکل سے وہاں سے جانے کو کہا۔
’’جاؤ تم نے سنا نہیں دفع ہوجاؤ تم میرے کسی کام کے نہیں ہو۔‘‘ بگ باس نے کہا اور مائیکل موقع غنیمت جان کر کمرے سے تیزی سے نکل گیا وہ سیدھا قحبہ خانے سے باہر آیا تھا جہاں سمیر بائیک کے ساتھ موجود تھا۔
’’بیٹھ جاؤ…جلدی کرو…اس سے پہلے کے تمہارے پیچھے کوئی آئے۔‘‘ سمیر نے مائیکل سے کہا او ر مائیکل حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ آج اس پر بار بار حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے پہلے بیگ غائب ہوا پھر بگ باس نے اپنی فطرت کے برخلاف اس کی جان چھوڑدی اور اب یہ اجنبی زبردستی اس کی مدد کر نے کو تیار تھا۔
’’تم کون ہو؟‘‘ مائیکل نے پوچھا۔
’’یہ ان باتوں کا وقت نہیں ہے تم فوراً بائیک پر بیٹھ جاؤ تمہارے پیچھے آہی رہے ہوں گے۔‘‘ سمیر نے کہا تو مائیکل بائیک پر اس کے پیچھے بیٹھ گیا اور سمیر نے بائیک سرپٹ دوڑادی۔ صرف دس منٹ میں ہی وہ مائیکل کے فلیٹ میں تھے۔
’’تم کون ہو؟‘‘ مائیکل نے پوچھا۔
’’تمہیں اپنی بیوی کو آزاد کروانا ہے ؟ تمہارے پاس صرف بیس منٹ ہیں۔‘‘ سمیر نے کہا تو مائیکل چونکا۔
’’ہاں! اس نے کہا تھا وہ اسی بلڈنگ میں کمرہ نمبر 201 میں ہے۔‘‘
’’چلو!‘‘ سمیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کہا پھر دس منٹ کے اندر انہوں نے کمرہ نمبر 201 کا تالا کھول لیا تھا۔ مائیکل اپنی بیوی مارتھا کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا لیکن اس پر غنودگی طاری تھی اور وہ چل نہیں سکتی تھی۔
’’تم اسے سہارا دے کر نیچے لاؤ ۔ میں کوئی ٹیکسی روکتا ہوں ۔ یہ تم سوچ لو کہ تمہیں کہاں جانا ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
پھر یہ کام چند ہی لمحوں میں ہوگیا تھا۔ مائیکل سہارا دے کر مارتھا کو نیچے لایا تھا اور سمیر نے ایک ٹیکسی روک کر انہیں ٹیکسی میں بیٹھا دیا تھا۔
’’تمہارے کمرے میں کوئی قیمتی چیز تو نہیں رہ گئی؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’مجھے کسی چیز کی پروا نہیں میری مارتھا مجھے مل گئی ہے اب مجھے اور کچھ نہیں چائیے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’بس اب تم نکلو وہ آہی رہے ہوگے۔‘‘سمیر نے کہا اور مائیکل کی ٹیکسی آگے بڑھ گئی ۔ مائیکل ہی نے ٹیکسی ڈرائیور کو بتادیا تھا کہ اسے کہاں جانا ہے ۔ سمیر نے اس کی مدد کردی تھی لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ مائیکل اب کہاں گیا ہوگا اور وہ زندگی میں کبھی اس سے مل بھی سکے گا یا نہیں۔ ٹیکسی کے وہاں سے روانہ ہوتے ہی وہی سیاہ کار وہاں آپہنچی تھی ۔ جس میں کچھ دیر پہلے مائیکل کو بگ باس کے پاس لے جایا گیا تھا اس میں دو آدمی اتر کر تیزی سے بلڈنگ میں داخل ہوئے تھے سمیر اطمینان سے اپنی بائیک کے قریب کھڑا ہو کر ان کا جائزہ لے رہا تھا پھر وہ یہ دیکھنے کے لیے بائیک پر ہی بیٹھ گیا تھا کہ ان کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔
وہ دونوں چند ہی لمحوں میں باہر آئے تھے اور اطراف کا جائزہ لے رہے تھے پھر ان میں سے ایک سڑک کے دوسری طرف واقع ریسٹورانٹ میں چلا گیا تھا شاید یہ چیک کرنے کے لیے کہ مائیکل اور اس کی بیوی وہاں تو نہیں چھپ گئے وہ یہ تو جان گئے تھے کہ ان کے باس نے مائیکل کو اس کی بیوی کا پتہ بتا کر غلطی کی تھی اور وہ اس کا کمرہ کھلا دیکھ کر سمجھ گئے ہونگے کہ مائیکل اسے آزاد کروا کر لے گیا ہے لیکن اب انہیں مائیکل کو ڈھونڈنا تھا ۔ بگ باس یقینا غصے سے پاگل ہورہا ہوگا اور حیران بھی کہ میں نے مائیکل کو ناصرف آزاد چھوڑدیا تھا بلکہ اسے اس کی بیوی کا پتہ بھی بتادیا تھا اب یہ مائیکل کی بے وقوفی ہی ہوتی جو وہ اتنے اچھے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔
سیاہ کار سے اترنے والادوسرا شخص آہستہ آہستہ سمیر کے پاس آگیا تھا اور اسے نیچے سے اوپر تک غور سے دیکھ رہا تھا۔
’’کیا بات ہے بھائی کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’تم نے اس بلڈنگ سے کسی کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا
ہے؟‘‘ اس شخص نے پوچھا۔
’’کئی لوگ اندر باہر آ اور جارہے ہیں تم کس کا پوچھ رہے ہو؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’ایک آدمی اور عورت۔‘‘ اس شخص نے کہا اور سمیر جواب دینے کے بجائے مائیکل کا حلیہ بتانے لگا۔
’’نہیں ایسا کوئی آدمی میں نے نہیں دیکھا میں تو ابھی آیا ہوں ریسٹورانٹ میں کھانا کھانے ۔‘‘ سمیر نے کہا اور بائیک سے اتر کر چابیاں لہراتا سڑک پار کرکے ریسٹورانٹ میں داخل ہوگیا جہاں کارسے اترنے والا شخص کاؤنٹر کلرک سے کچھ گفتگو کر رہا تھا۔ سمیر مسکراتا ہوا ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں شخص ناامید ہو کر واپس چلے گئے تھے اور سمیر کو ایک انجانی خوشی کا احساس ہورہا تھا کہ اس نے آج ایک کمزور اور مظلوم شخص کی مدد کی تھی اور اسے ایک گناہ کرنے سے بچالیا تھا۔ اس کے علاوہ بم کے دھماکے میں جو لوگ ہلاک یا زخمی ہوتے وہ بھی محفوظ رہے تھے۔
ؤ…ؤ…ؤ…ؤ
سمیر اور ناصر محمود کو لندن آئے ایک ہفتہ ہوچکا تھا اور وہ وہاں دسمبر کے مہینے کی شدید سردی اور بارشوں سے لطف اٹھارہے تھے لندن پہنچنے کے بعد انہوں نے جان ساؤتھ کنکشن کے چھوٹے سے قصبے تک پہنچنے کا سفر ٹرین پر کیا تھا جس نے چار گھنٹے میں انہیں اس قصبے میں پہنچایا تھا جہاں ایک چھوٹے سے ہوٹل میں ان کا قیام تھا انہوں نے اپنا زیادہ وقت لندن کے عجائب گھر دیکھنے میں گزرا تھا انہیں یہاں کیرین سے ملنا تھا جو ایک بہت مشہور اور امیر رائٹر کی سیکرٹری تھی۔ ڈریم سینٹر سے انہیں اسی رائٹر سے ملنے بھیجا گیا تھا جو ایک اہم مشن پر کام کر رہا تھا۔
سمیر کو لندن میں سائنس میوزیم بہت پسند آیا تھا جہاں سائنسی ایجادات کے بہترین نمونے رکھے تھے۔ لندن میں ان کی سرگرمیاں خاصی محدود تھیں کیونکہ دسمبر کے مہینے میں موسم بہت جلد ہوا دار اور بارش والا ہوجاتا تھا اور پھر سردی کے چھوٹے دنوں کی وجہ سے سورج صبح آٹھ بجے طلوع ہو کر چار بجے شام کو غروب ہوجاتا تھا لیکن جلدی شام ہونے کی وجہ سے لندن کی سڑکیں اور بازار خوب روشن ہوجاتے تھے جہاں کرسمس سے متعلق سجاوٹ کا سامان اور تحفے تحائف موجود ہوتے اور ملکی اور غیر ملکی لوگوں کا ہجوم ہوتا جو خریداری میں مصروف ہوتے تھے۔ سمیر کو سب سے پرسکون جگہ وہاں کے ریسٹورنٹ ہی لگتے تھے۔
اس وقت بھی وہ جان ساؤتھ کنکشن کے ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں ناصر محمود کے ساتھ بیٹھا تھا کچھ ہی دیر میں کیرین وہاں پہنچنے والی تھی۔
’’ہمیں یہاں آئے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا ہے لیکن بوریت کا احساس بالکل بھی نہیں ہوا۔ ‘‘ ناصر نے اپنے کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے کہا جو کچھ ہی دیر پہلے ویٹر نے وہاں لا کر رکھی تھی۔
’’ہاں ! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زیادہ وقت یہاں گھومنے پھرنے میں صرف کیا ہے۔‘‘
’’تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ ناصر نے کہا پھر دوسرے کپ میں سمیر کے لیے بھی چائے انڈیل دی تھی اور اسی وقت کیرین ریسٹورینٹ میں داخل ہوئی تھی اور کاؤنٹر کلرک سے کچھ پوچھا تھا جس نے اس میز کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں سمیر اور ناصر بیٹھے تھے۔
’’میرا خیال ہے کیرین پہنچ گئی ہے۔‘‘ ناصر نے سمیر سے کہا جو چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ دوسرے ہی لمحے کیرین ان کی میز کے قریب کھڑی تھی۔
’’کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’میں کیرین ہوں۔‘‘ ساتھ ہی اپنا مختصر سا تعارف کروایا۔
’’ہاں ہاں ضرور! میں سمیر اور یہ ناصر محمود۔‘‘ سمیر نے اپنا تعارف کروایا۔
’’ہم آپ ہی کے منتظر تھے۔‘‘
’’میں جانتی ہوں…دراصل کام کی وجہ سے مصروفیت زیادہ تھی اس لیے آپ کو ایک ہفتہ انتظار کرنا پڑا میں کل ہی جان ساؤتھ کنکشن سے واپس آئی ہوں اور آج کی ہماری یہ ملاقات تو پہلے ہی طے ہوچکی تھی۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں تم ہمیں sir fargus makannan سے ملواؤ گی یہ بات پہلے ہی طے ہے۔‘‘ ناصر محمود نے کہا۔
’’جی!اس سے پہلے میں اپنا اطمینان کرنا چاہوں گی ۔‘‘ کیرین نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’میں آپ لوگوں سے اپنے اطمینان کے لیے چند سوالات کروں گی ۔‘‘ کیرین نے کہا تو سمیر اور ناصر نے اثبات میں سر ہلایا لیکن پھر جیسے ہی کیرین نے بولنے کے لیے منہ کھولا تھا وہ ساکت سی بیٹھی رہ گئی تھی سمیر اس کے دماغ کے اندر پہنچ چکا تھا ۔ اس نے کیرین کے دماغ میں موجود وہ سارے سوالات پڑھ لیے تھے جو وہ ان دونوں سے کرنے والی تھی ۔ زیادہ سوالات ان کے بائیوڈیٹا ( جو پہلے سے کیرین کے پاس موجود تھا) اور ان کی صلاحیتوں کے بارے میں تھے سوالات۔ پڑھ لینے کے بعد سمیر نے کیرین کے دماغ کو آزاد چھوڑ دیا تھا اور وہ چونک سی گئی تھی۔
’’ہاں! میں کیا کہہ رہی تھی؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’آپ ہم سے کچھ سوالات کرنے والی تھیں۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ہاں تو آپ تیار ہیں ان کے جوابات دینے کے لیے؟‘‘ کیرین نے پوچھا۔
’’بالکل تیار ہیں لیکن کیا یہ اچھا ہو اگر آپ سوالات کرنے میں وقت ضائع نہ کریں اور ہم سے براہ راست جوابات سن لیں۔‘‘ سمیر نے کہا تو کیرین حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
’’آپ جوابات سن لیں…پھر بھی اگر کوئی بات رہ جائے تو پوچھ لیجئے گا۔ سمیر نے کہا اور پھر کیرین کے سوالات کا انتظار کیے بغیر وہ شروع ہوگیا تھا اس نے اپنے تعارف کے ساتھ ساتھ ناصر محمود کا تعارف بھی کروایا تھا۔ اس کے پوائنٹس کیرین اپنے پاس موجود دستاویز سے ملاتی جارہی تھی اس کے چہرے پر حیرت تھی پھر اس نے ناصر محمود کی غیر معمولی صلاحیتیوں کا ذکر کیا تھا وہ خامو ش ہوگیا تھا۔
’’آپ کچھ اپنی صلاحیتوں کے بارے میں بتائیں گے؟‘‘ کیرین نے پوچھا جسے حیرت تھی کہ اس کے ذہن میں موجود تمام سوالات کے جوابات سمیر نے بھرپور طریقے سے دیئے تھے۔
’’میری صلاحیتوں کے بارے میں کہنا قبل ازوقت ہوگا ایک نمونہ تو آپ دیکھ چکی ہیں میں نے آپ کے ذہن میں موجود تمام سوالات کے جوابات دے دیئے ہیں اور اب آپ کے ذہن میں کوئی اور سوال نہیں ہے۔‘‘ سمیر نے بڑے اعتماد سے کہا۔
’’ہاں! لیکن آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ میں آپ سے کیا سوالات کرنے والی ہوں؟‘‘
’’یہی میری خاص صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت ہے۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’میں اپنے سامنے موجود شخص کا ذہن پڑھ لیتا ہوں۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’حیرت انگیز۔‘‘ کیرین نے کہا اس کے چہرے پر بے یقینی کے آثار نظر آرہے تھے۔
’’ایسی اور بہت سی صلاحیتیں آپ پر مستقبل میں آشکار ہوتی رہیں گی ۔‘‘ سمیر نے مسکرا کر کہا۔
’’میر ا خیال ہے کہ کل ہم ’’میک ‘‘ سے ملنے اسکاٹ لینڈ روانہ ہوجائیں گے جہاں وہ اپنے عالیشان قلعے میں ہمارا استقبال کرے گا۔‘‘ کیرین نے کہا۔
’’میک؟‘‘ ناصر محمود نے سوالیہ انداز میںکہا۔
’’ہاں! سرفرگس میکنیٹن کو ہم سب ’’میک‘‘ کہتے ہیں وہ
اس نام سے پکارا جانا پسند کرتا ہے۔‘‘ کیرین نے کہا تو ناصر نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’رات تو ہونے والی ہے کیا ہم ساتھ کھانا کھاسکتے ہیں؟‘‘ سمیر نے کیرین سے پوچھا۔
’’ہاں! کیوں نہیں…میرا خیال ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘‘ کیرین نے چند لمحے سوچنے کے بعد جواب دیا تھا اور سمیر مسکرادیا تھا اور پھر اس نے ویٹر کو اشارہ کرکے بلایا تھا جو ان کے کھانے کا آرڈر نوٹ کرکے لے گیا تھا۔ وہ پھر باتوں میں مصروف ہوگئے تھے اب باری کیرین کی تھی اور وہ اپنے بارے میں ناصر اور سمیر کو بتارہی تھی۔
’’میرے والد بچپن میں ہی فوت ہوگئے تھے پھر میری والدہ نے مجھے پالا پوسا اور تعلیم دلوائی ۔ گریجویشن کے بعد ہی میں نے ’’میک‘‘ کی ملازمت اختیار کرلی تھی اور تقریباً دو سال سے اس کی خدمات انجام دے رہی ہوں۔‘‘ کیرین نے کہا۔
’’میک کیسا آدمی ہے؟‘‘ ناصر نے پوچھا۔
’’وہ بہت ملن سار ‘ دوسروں کی عزت کرنے والا اور ہمدرد انسان ہے۔ باقی تم اس سے ملنے کے بعد خود ہی جان جاؤ گے۔‘‘ کیرین نے کہا۔
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد طے پایا تھا کہ وہ دونوں کیرین کو اس کی رہائش گا ہ تک چھوڑ کر واپس ریسٹورنٹ آجائیں گے جہاں ان کا قیام تھا لیکن پھر ناصر نے ساتھ جانے سے معذرت کرلی تھی اور سمیر ہی کیرین کو چھوڑنے اس کے ساتھ گیا تھا جہاں گھر پہنچنے کے بعد کیرین نے اندر آنے کی دعوت دی تھی اور وہ اس کی دعوت پر اس کے گھر میں داخل ہوگیا تھا جہاں اس کی ملاقات کیرین کی والدہ سے ہوئی تھی جو ستر سال کی مضبوط اعصاب والی خاتون تھیں وہ سمیر سے مل کر بہت خوش ہوئی تھیں۔ کیرین نے اسے چائے کی دعوت دے ڈالی تھی جسے سمیر نے قبول کرلیا تھا۔
’’آؤ میرے ساتھ کچن میں آجاؤ۔‘‘ کیرین نے کہا تو سمیر اس کے ساتھ اس کے کچن میں چلاگیا تھا۔
’’تمہیں سیاست سے کوئی دلچسپی ہے؟‘‘ کیرین نے پوچھا۔
’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’کیوں تم نے یہ کیوں پوچھا؟‘‘
’’یونہی! دراصل آج کل تمہارے ملک کے حالات بہتر نہیں اس پر تم کیا کرسکتے ہو؟‘‘
’’میرے ملک کے حالات خدا کا شکر ہے کہ ٹھیک ہیں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’نہیں میرا مطلب ہے کہ جگہ جگہ دہشت گردی ہورہی ہے‘ دہشت گردوں کے خلاف ضرب غضب چل رہا ہے…یہ سب کیا ہے؟‘‘ کیرین نے پوچھا۔
’’کچھ تو ہوتا ہے اور کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’لیکن بڑھا چڑھا کر کون پیش کرتا ہے؟‘‘ کیرین نے فوراً دوسرا سوال کیا تو سمیر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اسے اپنے ملک کے حالات پر کیرین کے ایسے چبھتے ہوئے سوالات پسند نہیں آئے تھے۔
’’کیرین ! کیا ہم کسی اور موضوع پر بات نہیں کرسکتے؟‘‘ سمیر نے ناگواری سے کہا تو کیرین خاموش ہوگئی پھر چائے بنا کر وہ انٹری روم میں آگئی تھی سمیر بھی اس کے ساتھ ہی تھا۔
’’میرے سوالات کرنے کا مقصد تمہیں پریشان کرنا یا ناراض کرنا نہیں تھا سمیر۔‘‘ کیرین نے وضاحت کی ۔
’’دراصل اب تو ساری دنیا میں ہی یہ موضوع عام ہوچکا ہے۔‘‘
’’ہاں تم ٹھیک کہتی ہو لیکن اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔‘‘ سمیر نے اپنا چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا اور ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔
’’کیرین…تم نے بہت سے قلم کاروں کے ساتھ کام کیا ہوگا میک کی نگرانی میں؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’ہاں!میک ایک بہت بڑا پبلشر بھی ہے اور میں نے بہت سے لوگوں کے ساتھ اس کی نگرانی میں کام کیا ہے۔‘‘
’’تو تم نے بعض اوقات ایسے مسودات بھی دیکھے ہوں گے جو بہت اہم نوعیت کے ہوتے ہوں؟‘‘
’’ہاں! ایسا اکثر ہوتا ہے جب کوئی قلم کار کسی نئی کتاب پر کام کر رہا ہوتا ہے کسی نئے آئیڈیے پر تو ہم اکثر اس کو راز میں رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات میں اپنے لندن والے آفس کو بھی اس بار ے میں نہیں بتاتی کیونکہ جب کوئی نئی کتاب لکھی جارہی ہوتی ہے تو بہت سے موڑ آتے ہیں جن میں کچھ بے کار ہوتے ہیں کچھ کارآمد اور بہت زیادہ تراش خراش کے بعد کوئی معیاری کتاب سامنے آتی ہے۔‘‘ کیرین نے تفصیل سے بتایا۔
’’اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں ؟ یا دکھاؤں ؟ تو تم اسے راز رکھ سکوں گی؟ کسی کو بتاؤ گی تو نہیں؟‘‘
’’ہاں بالکل…تم مجھ پر اعتماد کرسکتے ہو۔‘‘ کیرین نے کہا لیکن وہ سوچ رہی تھی کہ بھلا ایسی کیا بات ہے جو سمیر اسے بتانا چاہتا ہے اور راز بھی رکھنا چاہتا ہے۔
’’اپنی کرسی میرے قریب لے آؤ۔‘‘ سمیر نے کہا اور کیرین اپنی کرسی بالکل اس کے سامنے لے آئی اب وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔
’’بس! اب میں چاہتا ہوں تم اپنی کرسی پر پرسکون بیٹھی رہو اور میری طرف دیکھو اور اپنے ذہن کو ہر قسم کی سوچ سے آزاد کردو میری طرف سے پریشان مت ہو میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا میں صرف چند منٹ لوں گا اگر تمہیں کچھ غنودگی محسوس ہو تو پریشان مت ہونا۔‘‘
’’اگر کچھ گڑبڑ ہوگئی تو کیا ہوگا؟‘‘ کیرین نے کہا۔
’’مجھ پر بھروسہ کرو کچھ غلط نہیں ہوگا۔‘‘ سمیر نے کہا اور کیرین نے اثبات میں سر ہلادیا اسے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ سمیر کیا کرنے والا تھا لیکن اسے تجربے سے گزرے بغیر وہ کچھ جان بھی نہیں سکتی تھی۔
وہ اپنی کرسی میں ٹیک لگا کر سکون سے بیٹھ گئی اور اس نے سمیر کی طرف دیکھنا شروع کردیا ۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی کشش تھی کچھ ہی دیر بعد کیرین پر غنودگی چھانے لگی اور وہ سوچنے لگی کہ کیا سمیر اسے ہپناٹائز کر رہا ہے وہ اپنی آنکھیں بند نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھلی رکھی تھی پھر اچانک ہی سمیر اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا کمرے میں موجود دوسری چیزیں بھی غائب ہوگئیں اب اس کے سامنے بہت سی کتابیں تھیں جو ہاتھ سے لکھی ہوئی تھیں وہ کرسی سے کھڑی ہوگئی اور کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا جہاں ایک ریلوے اسٹیشن کا منظر نظر آرہا تھا ایک ٹرین آکر رکی تھی۔
جس میں سے دو خواتین اتری تھیں جنہوں نے پرانے فیشن کے کپڑے پہنے ہوئے تھے کیرین کھلی ہوئی آنکھوں سے جیسے خواب دیکھ رہی تھی وہ خود اس منظر کا حصہ بن گئی تھی۔ اس نے ایک عورت کو مخاطب کرنے کی کوشش کی لیکن یوں لگا جیسے اس عورت نے اس کی آواز سنی ہی نہ ہو یا وہ وہاں کیرین کی موجودگی سے آگاہ ہی نہ ہو۔ کیرین نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور انہیں ہاتھوں سے ملنے لگی پھر اس نے اپنے اطراف کا جائزہ لیا اب وہ منظر غائب ہوچکا تھا سمیر اس کے سامنے موجود تھا۔
’’کیا خیا ل ہے؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’کیا مطلب؟ کیا تم نے مجھے ہپناٹائز کردیا تھا؟‘‘ کیرین نے پوچھا۔
’’کسی حد تک تم یہ کہہ سکتی ہو لیکن دراصل یہ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا کہلاتا ہے۔‘‘
’’اوہ تم یہ بھی کرسکتے ہو؟‘‘
’’ہاں ! اس کیفیت میں جانے ولا شخص اپنے ہی ماضی کی یادوں کو جاگتی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔‘‘
’’بہت خوب! میرا خیال ہے میک تم سے مل کر بہت خوش ہوگا اسے ایسے لوگوں سے ملنے کا بہت شوق ہے جو کچھ خداداد صلاحیتیں رکھتے ہیں۔‘‘
’’میں میک کے بارے میں مزید جاننا چاہتا ہوں تاکہ اس سے ملوں تو اس کی شخصیت میرے لیے اجنبی نہ ہو۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ضرور! اتفاق سے میرے پاس اس وقت اس کی ایک کتاب کا مسودہ موجود ہے وہ اپنے ہی بارے میں لکھ رہا ہے اس سے تمہیں بہت معلومات مل جائیں گی تم وہ اپنے ساتھ لے جاؤ پھر کل تو ہم ساتھ ہی اسکاٹ لینڈ کے لیے روانہ ہوں گے تم مجھے کل واپس کردینا۔‘‘ کیرین نے کہا اور اپنی الماری سے نکال کر ایک فائل اسے پکڑادی۔
’’ٹھیک ہے ‘ یہ بہت اچھا ہوگیا…میں تمہیں کل یہ مسودہ واپس کردوں گا۔‘‘ سمیر نے کہا پھر وہ کیرین سے رخصت ہو کر واپسی کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔
ریسٹورنٹ پہنچنے کے بعد ناصر نے اس سے کیرین کے بارے میں کوئی استفسار نہیں کیا تھا سمیر نے کل کی روانگی کے بارے میں تفصیلات بتائی تھیں اور سونے کے لیے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا پھر سونے سے پہلے اس نے میک کا مسودہ بھی پڑھا تھا اور اس پر میک کی شخصیت کے بہت پہلو آشکار ہوگئے تھے۔
میک حال میں آرمی سے ریٹائر ہوا تھا اور اسکاٹ لینڈ کے مغربی کنارے پرفورٹ ولیم کے قریب ایک قلعے میں رہتا تھا ۔ اس نے آرمی میں انٹیلی جنس کے شعبے میں کام کیا تھا بہت سے ملکوں کے دورے کئے تھے وہ اسپینی‘ پرتگالی‘ روسی‘ انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بھی مہارت سے بول سکتا تھا۔ اس نے دوسرے ملکوں کی ملٹری کے ساتھ بھی کام کیا تھا اور ریٹائر ہونے کے بعد اسے سیکورٹی سروس میں لے گیا تھا۔ جو سیکورٹی M-15 کے نام سے جانی جاتی تھی۔ یہ ایک اندرونی سیکورٹی سروس تھی اور یونائیٹڈ کنگ ڈم کے اندر سیکورٹی کو یقینی بناتی تھی اس کا مقصد ایسی قوتوں کو اپنے ملک میں تحفظ دینا تھا جو سیاسی اور معاشی طور پر ملک کو نقصان پہنچانا چاہتی ہوں۔
سمیر کو میک کے بارے میں اس مسودے سے کافی معلومات ملی تھیں اور جو سوال اس کے ذہن میں رہ گئے تھے انہیں اس نے میک سے ملاقات کے وقت تک کے لیے اٹھا رکھا تھا۔ دوسرے روز وہ ناصر اور کیرین کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کے لیے روانہ ہوگیا تھا انہوں نے یہ سفر ٹرین سے کیا تھا اور اسٹیشن پر میک خود اپنی عالی شان کار میں انہیں لینے آیا تھا۔
’’تم کیسی ہو کیرین سفر کیسا رہا؟‘‘ میک نے کیرین سے پوچھا۔
’’بہت اچھا ! ‘‘ کیرین نے جواب دیا۔
’’یہ سمیر اور ناصر ہیں جو پاکستان سے آئے ہیں۔‘‘ کیرین نے ان کا تعارف کروایا۔
’’میں تم دونوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔‘‘ میک نے خوش دلی سے کہا۔ پھر اس نے سمیر اور ناصر کی مدد سے ان کے سوٹ کیس اپنی کار میں رکھوائے تھے کیرین اگلی سیٹ پر اس کے ساتھ بیٹھی تھی اور سمیر ناصر کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا تھا اور میک نے کار اسٹارٹ کرکے آگے بڑھادی تھی۔
’’کیرین نے بتایا کہ تم دونوں جان ساؤتھ کنکشن میں ٹھہرے ہوئے تھے۔‘‘ میک نے پوچھا۔
’’ہاں ! وہ اچھی جگہ ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔ پھر راستے میں وہ ایک دوسرے سے باتیں کر تے رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں وہ میک کے قلعے میں پہنچ گئے تھے جسے بڑے قرینے سے سجایا گیا تھا ہر چیز قرینے سے سجی ہوئی تھی۔
’’آؤ میں تم لوگوں کو تمہارے کمرے دکھادوں۔‘‘ میک نے کہا۔
’’تم لوگ فریش ہوجاؤ تو میں گریٹ روم میں تمہارا انتظار کروں گا جہاں ہم ڈنر کریں گے اور چائے پئیں گے۔‘‘ میک نے کہا وہ انہیں اوپری منزل میں لے گیا تھا اور باری باری سب کو ان کے کمرے دکھائے تھے۔
ٹھیک آدھا گھنٹے بعد وہ لوگ گریٹ روم‘ میں جمع ہوگئے تھے کمرے کی دیواروں پر نامور فوجیوں کی تصویریں لگی تھیں اور جگہ جگہ شکار کئے گئے جانوروں کے سر آویزاں تھے کمرے کی مغربی دیوار میں ایک آتش دان موجود تھا جس میں آگ روشن تھی اور کمرے کے درمیان میں صوفے ارینج کیے گئے تھے جن کے بیچ میں ایک ٹیبل تھی ایک ریوالور کے ساتھ کئی شیلف رکھے تھے جن میں بہت سی کتابیں ترتیب سے سجی ہوئی تھیں اور ایک دیوار کے ساتھ بڑی سی ڈائننگ ٹیبل رکھی تھی جس کے گرد چار کرسیاں رکھی تھیں۔
’’یہ سب کتنا اچھا لگ رہا ہے۔‘‘ کیرین نے کہا۔
’’ہاں !یہ یہاں کے مالک کے ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’تم نے دیکھا میک کتنا دوست نواز ہے۔‘‘ کیرین نے سمیرسے کہا ۔ ناصر کتابوں کے شیلف میں کتابوں کا جائزہ لے رہا تھا اس وقت میک کمرے میں داخل ہوا۔
’’میرا خیال ہے آپ لوگ پہلے کوئی مشروب لینا پسند کریں گے۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کیوں نہیں ضرور!‘‘ کیرین نے کہا۔
’’اسی لمحے ایک ملازم ایک ٹرالی میں مختلف قسم کے مشروبات رکھے کمرے میں داخل ہوا۔
’’ویسے تو بہترین قسم کا روسٹ تیار ہے لیکن کیوں نہ ہم لوگ مشروبات لینے کے دوران کچھ خوش گپیاں کرلیں بعد میں کھانا تناول کریں گے؟‘‘ میک نے کہا۔
’’ہاں یہ آئیڈیا اچھا ہے۔‘‘ ناصر محمود نے کہا اور ایک صوفے پر بیٹھ گیا اس کی تقلید میں سمیر بھی اس کے برابر بیٹھ گیا تھا پھر ملازم نے سب کی پسند کے مطابق انہیں مشروبات پیش کیے تھے۔
’’مجھے تم سے کتاب کے بارے میں بات کرنا ہے کیرین۔ لیکن یہ ہم کل بھی تو کرسکتے ہیں سمیر کے بارے میں سب جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ میک نے کہا جس پر سمیر اور ناصر نے اپنے بارے میں مختصرسی معلومات دیں خود میک نے بھی اپنے بارے میں بتایا ۔ اس کے بعد ڈنر کا آغاز ہوگیا تھا۔ میک نے روسٹ بیف کے ساتھ ساتھ ویجی ٹیبل بھی رکھی تھی سب نے اپنی پلیٹوں میں کھانا لے لیا تھا اور باتوں کے دوران کھانا کھارہے تھے کھانے کے بعد کیرین نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔
’’بہت اچھاکھانا تھا۔‘‘ کیرین نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’سمیر ! میں کل صبح ناشتے سے پہلے واک پر جاؤں گا تو تم میرے ساتھ چلنا مجھے تم سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔‘‘ میک نے کیرین کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سمیر نے جواب دیا پھر وہ لوگ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے ۔ دوسری صبح سمیر اپنی عادت کے مطابق جلدی اٹھ گیا تھا اور فریش ہونے کے بعد گریٹ روم میں پہنچ گیا تھا جہاں میک اس کا منتظر تھا اس نے ٹریک سوٹ پہنا ہوا تھا۔
’’میں سمجھ رہا تھا کہ تمہارا انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘ میک نے کہا۔
’’میں بھی صبح جلدی اٹھنے کا عادی ہوں اور جاگنے کے بعد بستر پر لیٹا نہیں جاتا۔‘‘ سمیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’چلو…باقی باتیں پھر کریں گے۔‘‘ میک نے کہا اور سمیر کے ساتھ قلعے کے صدر دروازے کی سڑک کے کنارے کنارے گھنے درخت لگے ہوئے تھے جو آگے چل کر گھنے ہوگئے تھے پھر بھاگتے بھاگتے میک ایک جگہ رک گیا اور سائڈ میں لگی لکڑی کی بینچ پر بیٹھ گیا۔
’’آؤ سمیر! کل سے تم سے کوئی بات نہیں ہوسکی ہے اب کام کی بات کرلیں۔‘‘ میک نے کہا تو سمیر اس کے قریب بیٹھ گیا۔
’’میں جانتا ہوں کہ تمہارے اندر کیا غیر معمولی صلاحیتیں ہیں مجھے کامران خلیل کی کئی ہوئی باتوں پر پورا بھروسہ ہے اور اگر اس نے تمہیں میرے پاس بھیجا ہے تو کئی لوگوں میں سے منتخب کرکے بھیجا ہوگا۔ اس نے مجھے تمہارے اور ناصر کے بارے میں انفارم کردیا تھا۔‘‘
’’میں کام کی نوعیت جاننا چاہتا ہوں؟‘‘ سمیر نے کہا۔
’’بات دراصل یہ ہے سمیر میں برطانیہ کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہوں…میرا مطلب ہے کہ میں اسکاٹ لینڈ کے اس قلعے میں پرسکون اور تنہا زندگی گزار رہا ہوں اور ریاست کے معاملات سے بہت دور ہوں لیکن میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ برطانیہ میں ہمارا طرز زندگی بدلتا جارہا ہے اور یہ تبدیلی اچھی تبدیلی نہیں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اپنے معاملات پر کنٹرول نہیں رہا ہے۔‘‘ میک نے کہا۔
’’یہ کیسے کہاجاسکتا ہے؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’شاید میں ریٹائر ہونے کے بعد شکی مزاج ہوگیا ہوں اور ہر بات پر فکر کرنے لگتا ہو ں۔‘‘ میک نے کہا۔
’’نہیں…ایسا نہیں ہے… آپ اپنے ملک سے محبت کرتے ہو اور اس کی بہتری کے لیے سوچتے ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے آپ کا مسئلہ شاید یہ ہے کہ آپ خود کو اکیلے اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس سلسلے میں کچھ کرسکو۔‘‘
’’تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو…ایسا ہی ہے اور میں تقریباً ناامید ہوچکا ہوں۔‘‘ میک نے کہا۔
سمیر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کر رہا ہو۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میک کے دماغ میں کیا چل رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ میک خود ہی ساری بات بتادے۔
’’کیا تم ایک ایسی تنظیم کا حصہ بننا پسند کرو گے جس نے اس ملک کے حالات بدلنے کا ارادہ کرلیا ہے۔‘‘ میک نے کہا۔
’’کیسی تنظیم؟‘‘
’’تم نے میرے بارے میں کیرین سے ایک مسودہ لے کر پڑھا تھا میرے بارے میں جاننے کے لیے وہ مجھے بتارہی تھی۔‘‘
’’ہاں ! میں نے سفر کے دوران پڑھا تھا۔‘‘
’’تو پھر تمہیں میرے آرمی تعلق ‘ ڈپلومیٹک سروس اور انٹیلی جنس سروس کے بارے میں تو پتہ چل ہی گیا ہوگا۔‘‘
’’ہاں ! میں جانتا ہوں ۔ ایک دل چسپ کہانی ہے لیکن اس مسودے کو پڑھنے سے مجھے محسوس ہوا جیسے آپ کی ریٹایرمنٹ سے کوئی ناگوار یاد وابستہ ہے؟‘‘
’’بہت خوب! حالانکہ میں نے کہیں بھی کھل کر اس کا ذکر نہیں کیا لیکن پھر بھی تم نے محسوس کرلیا…بہت خوب۔‘‘ میک نے تعریفی انداز میں کہا۔
’’میرا زیادہ تر وقت MIS میں گزرا مجھے اپنے ملک کی خدمت پر ناز ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں ایک اچھا کام کررہا ہوں لیکن اب جب ہم انجام کی طرف جارہے ہیں تو چیزوں میں تبدیلی آتی جارہی ہے۔‘‘ میک اتنا کہہ کر کچھ دیر کے لیے رک کر سمیر کو دیکھنے لگا لیکن سمیر نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
’’کچھ دنوں سے میں محسوس کر رہا ہوں کہ ایک نمایا ں تبدیلی آرہی ہے۔ جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گورنمنٹ سیاسی دباؤ ڈال رہی ہے اور MIS کو پرائیویٹ آرمی کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے اس سلسلے میں کچھ قوانین کا بھی خیال نہیں کیا جارہا اور منسٹرز اور سیاست دانوں کے لیے حالات کو ناساز بنایا جارہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو سپورٹ کیا جارہا ہے۔‘‘
’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ سے آپ کی کیا مراد ہے؟‘‘
’’طاقت کا سرچشمہ وہ لوگ جو ملک کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اہم فیصلے کرتے ہیں۔‘‘
’’لیکن یہ ایک جمہوری ملک ہے۔‘‘
’’مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ ملک کبھی بھی خالصتاً ڈیموکریٹک رہا ہے اور خاص طور پر چند سالوں سے تو بالکل بھی نہیں۔‘‘
’’ تمہیں پتہ ہے ایک چوتھائی سے زیادہ لوگوں نے ایک سیاسی جماعت کو ووٹ دیئے ہیں۔جو اب گورنمنٹ بنا رہی ہے۔‘‘ میک نے کہا۔
’’اس میں ایسے لوگ شامل ہیں جو ہماری زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔‘‘
’’وہ کون لوگ ہیں؟‘‘
’’وہ لوگ جن کے پاس کافی پیسہ ہے اور وہ اثرانداز ی کا خرچ برداشت کرسکتے ہیں۔ فنانس سے تعلق رکھنے والے لوگ‘ بینکرز‘ بزنس مین‘ میڈیا جس کے بڑے حصے کو پیسے ہی کے زریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ کافی رقم باہر سے آتی ہے۔‘‘
’’میں تم سے اتفاق کرتاہوں…لیکن آپ کی طرح کھل کر بات نہیں کرنا چاہتا… آپ نے ایک تنظیم کا ذکر کیا تھا جو تبدیلی لانے کے لیے کام کر رہی ہے؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’میں اسی طرف آرہا ہوں۔‘‘ میک نے کہا۔
’’میں سمجھتا ہوں کہ MIS میں کچھ تبدیلیاں آرہی ہیں اور اس کا ایک حصہ اس کے مقاصد کے خلاف کام کر رہا ہے۔ اس لیے ہم نے MIS Black Operation کا نام دیا ہے۔‘‘
’’وہ کیا کام کر رہا ہے؟‘‘
’’وہ طاقت چند لوگوں کے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں اور انہیں اس سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ ان کی وجہ سے گورنمنٹ بدنام ہورہی ہے۔‘‘
’’وہ کس طرح کام کرتے ہیں؟‘‘
’’وہ لوگوں کو اغوا کرلیتے ہیں اور بعض کیسوں میں تو انہوں نے غیر ملکیوں کو غائب کرکے کہہ دیا ہے کہ وہ غیر ملکی جاسوس ہیں جو ہمارے ملک کے خلاف کام کر رہے تھے اور انہیں ان کی حکومتوں نے بھیجا تھا۔ اس سے ہمارے تعلقات دوسرے ملکوں سے خراب ہورہے ہیں۔‘‘ میک نے وضاحت کی۔
’’گندی سیاست۔‘‘ سمیر بڑبڑایا۔
’’کیا آپ بھی ایسے آپریشن میں شامل ہیں؟‘‘ سمیر نے پوچھا۔
’’نہیں جب مجھے احساس ہوا کہ یہ غلط کام ہورہا ہے تو میں نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ میں نے سوچا تھا کہ بعد میں یہ راز افشاں کردوں گا کہ یہاں کیسا گندہ کھیل کھیلا جارہا ہے لیکن پھر جب میں نے ان لوگوں کا انجام دیکھا جنہوں نے اس راز کو کھولنے کی کوشش کی تھی تو اپنا ارادہ بدل دیا اور ملازمت چھوڑنے کے بعد اب میں باہر رہ کر اس کی بہتری کے لیے کام کر نا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیا اب تک آپ نے کچھ کیا؟‘‘
’’نہیں‘ لیکن جو کچھ ہورہا ہے اس پر میں نے نگاہ رکھی ہوئی ہے میرے کچھ جاننے والے ہیں جو مجھے معلومات فراہم کرتے ہیں اور میرے ہم خیال ہیں۔‘‘
’’کیا آپ اب بھی اپنے ملازمت کے دنوں کے دوستوں سے رابطے میں ہو؟‘‘
’’ہاں…کچھ لوگوں سے‘ لیکن ہم احتیاط کرتے ہیں اور چھپ کر ملتے ہیں کیونکہ اگر کسی کو شک ہوگیا تو ان کی ملازمت ختم ہوسکتی ہے ہم پبلک مقامات پر کسی ریسٹورنٹ میں ملتے ہیں یا سفر کرتے ہوئے مسافروں کی طرح ٹرین‘ بس اسٹاپ پر ۔‘‘
’’MIS کی بلیک آپریشن برانچ کس طرح کام کرتی ہے؟‘‘
’’ان کے بہت سے ذرائع ہیں MISمیں بھی اور باہر بھی۔‘‘
’’باہر سے آپ کی مراد کیا ہے؟‘‘
’’ایسے لوگ جو کسی نہ کسی کام کے ماہر ہوتے ہیں اور پیسے دے کر کچھ بھی کرسکتے ہیں۔‘‘
’’یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ آپ پیسے دے کر اتنے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرلو اور ان سے کام بھی کرواؤ۔‘‘
’’آرمی یہ کام کافی عرصے سے کر رہی ہے وہ کسی بھی سیدھے سادے انسان کو سڑک سے اٹھا لیتے ہیں اور چند ہی مہینوں میں اسے ایک کلنگ مشین بنادیتی تھی… اس میں صرف ٹریننگ اور نفسیاتی سوچ بدلنا ہوتی ہے ۔MIS بلیک آپریشن یہی کام کررہی ہے وہ دہشت گرد پیدا کر رہی ہے ان سے کام کروا رہی ہے اور دوسرے ممالک پر الزام لگارہی ہے۔‘‘ میک نے کھل کر کہا۔
’’کیا اصلOfficial MIS کو اس کا علم ہے؟‘‘
’’شاید ‘ لیکن وہ اسے کچھ رقم دیتے ہیں اخراجات کے لیے لیکن اس کے کاموں میں مداخلت نہیں کرتے اور بلیک آپریشن کو تمام آپریشن contract level پر دیئے جاتے ہیں۔‘‘
’’مجھے حیرت ہورہی ہے کہ انہیں پیسہ کیوں فراہم کیا جاتا ہے؟‘‘ سمیر نے کہا۔
’’یہ ان کی official funding کا حصہ ہے انہیں additional activities کے لیے فنڈ دیا جاتا ہے۔‘‘
’’لیکن اس پر ایک سوالیہ نشان ہے؟‘‘ سمیر نے کہا۔
’’اسے مختلف شکلوں میں دیا جاتا …امدادی سامان ‘ پیسہ ‘ عطیات۔‘‘
’’عطیات؟‘‘
’’ہاں! یہاں بہت سے لوگ ہیں جو ایک تنظیم کو سپورٹ کرنا پسند کرتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی power کو بڑھاتی ہو۔‘‘
’’کیا آپ کوئی مثال بتاسکتے ہیں MIS بلیک آپریشن کے کام کی؟‘‘
’’ہاں تم نے GCHQ کے بارے میں سنا ہے؟‘‘ میک نے پوچھا۔
’’ہاں govt. communication head quarters” سمیر نے جواب دیا۔
’’دراصل وہ سیکورٹی سروس کا تیسرا ہاتھ ہے ان کا کام معلومات کمیونیکیٹس کے ذریعے جمع کی جائے۔ وہ اپنے کام کے لیے زیادہ تر ریڈیو استعمال کرتے ہیں لیکن آج کل انٹرنیٹ اور فون بھی استعمال ہوتے ہیں۔پچھلے دنوں ماسکو میں ایک ٹرانسیلیٹر برطانوی ایمبسی میں کام کرتا تھا جو KCB کے معاملات کو رد کرتا تھا وہ اپنا کام ختم کرکے یہاں آیا تو اسے envestigation کے لیے گرفتار کرلیا گیا۔‘‘
’’مجھے یاد نہیں کہ میں نے اخبارات میں اس بارے میں کچھ پڑھا ہو؟‘‘ سمیر نے کہا۔
’’نہیں…سیکورٹی سروس نے اسے خفیہ رکھا تھا…اس شخص نے انہیں بہت سے راز دیئے۔‘‘
’’پھر… پھر کیا ہوا؟‘‘
’’پھر ایک روز وہ جیل میں مردہ پایا گیا اسے دل کا دورہ پڑگیا تھا۔‘‘
’’کیا اس غیر قانونی کام کا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے۔جو ذمہ داروں کو دکھایا جاسکے؟‘‘
’’یہی تو مسئلہ ہے…ایسے آپریشن میں کوئی ثبوت نہیں چھوڑ کر جاتا۔ وہ سب نشانات مٹادیتے ہیں ۔‘‘
’’اگر آپ کچھ کرنا چاہو؟‘‘
’’ناممکن! اگر ان کو مجھ پر ذرا سا بھی شبہ ہوگیا تو وہ میرا کام تمام کردیں گے۔‘‘
’’میرا خیال ہے میںآپ کی بات سمجھ سکتا ہوں۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ میں اس ظلم کے خلاف لڑنا چاہتا ہوں اور مظلوم لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں لیکن خود کو بھی محفوظ رکھنا چاہتا ہوں میرے کچھ ہم خیال بھی میرے ساتھ ہیں ان میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے کہ اگر وہ چاہے تو ان میں سے بہترین عہدے داروں کو ملازمت سے نکال دے۔‘‘
’’وزیر اعظم کو بھی؟‘‘
’’ہاں! ‘‘ میک نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کیا کوئی شاہی خاندان کا فرد ہے؟‘‘
’’وزیر اعظم کو کن عہدہ سے برخاست کرسکتا ہے؟‘‘ میک پھر مسکرایا اور سمیر نے حیرت سے سیٹی بجائی۔
’’گویا آپ نے اس سسٹم سے لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے؟‘‘ سمیر نے کہا۔
’’ہاں…اور تمہاری مدد کے ساتھ…میرا خیال ہے کہ ہمارا کام بہت آسان ہوجائے گا۔‘‘
’’ہوں…سمیر نے بامعنی ہنکارا بھرا۔
’’ہم اسے آپریشن چیک میٹ کہیں گے۔‘‘ میک نے کہا۔
’’ہمارا کام ہوگا کہ ایسے لوگوں کو پہچانیں اور ان کے منصوبے ناکام بنائیں اور ان سے دور رہ کر یہ کام کریں اور ان سے زیادہ ذہانت اور طاقت کا مظاہرہ کریں۔
’’میرا خیال ہے کہ تمہاری خداداد صلاحیتیں ہمارے بہت کام آسکتی ہیں تم ہمیں MIS بلیک آپریشن کے رازوں سے آگاہ کرسکتے ہو میں تمہاری صلاحیتوں سے واقف ہوں مجھے کامران خلیل نے تمہاری بارے میں سب کچھ بتادیا تھا۔‘‘
’’مجھے آپ کی مدد کرکے خوشی ہوگی اور کوشش کروں گا کہ آپ کو مایوس نہ کروں۔‘‘
’’تم اور سوچ لو آج رات کھانے پر مجھے قطعی فیصلہ بتادینا۔‘‘ میک نے کہا۔
’’ٹھیک ہے…یہ ہمارے لیے ایک بڑاچیلنج ہوگا۔‘‘ سمیر نے کہا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں واپس قلعے میں پہنچ گئے تھے جہاں کیرین ان کی منتظر تھی پھر ان تینوں نے ناشتہ کیا تھا ۔ ناصر ابھی تک سورہا تھا ۔
’’تم لوگوں کی چہل قدمی کیسی رہی؟‘‘ کیرین نے پوچھا۔
’’بہت بہترین…موسم بہت خوش گوار تھا میں نے بہت انجوائے کیا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
میں نے میک کی باتوں کو بھی پسند کیا… وہ بہت اچھا کام کر رہا ہے۔‘‘ سمیر نے کہا۔
’’تو کیا تم ہمارے ساتھ کام کروگے؟‘‘
’’ میں سوچ رہا ہوںا بھی۔‘‘ سمیر نے جواب دیا۔
’’تو تم ابھی سوچ رہے ہو ؟ کہ تم مجھے اس کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گے؟‘‘
’’میرا خیال ہے کہ اگر میک مناسب سمجھے گا تو تمہیں خود بتادے گا۔‘‘ سمیر نے جواب دیا اور میک نے گردن گھما کر ان کی طرف دیکھا۔
’’وہ چاہتا ہے کہ میں گورنمنٹ کے سیاہ پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں اس کی مدد کروں۔‘‘ سمیر نے مزید کہا۔
’’یہ خطر ناک نہیں ہوگا؟‘‘ کیرین نے پوچھا ۔ اس وقت ناصر بھی ہال میں داخل ہوگیا وہ سمیر کے قریب ہی ایک صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔
’’میرا خیال ہے کہ میک مجھے سامنے رکھ کر کام کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔‘‘ سمیر نے میک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور میک نے اثبات میں سر ہلایا۔ ناصر سوالیہ نظروں سے سمیر کی طرف دیکھا جیسے معاملہ جاننا چاہتا ہو۔
’’میں چاہتا ہوں کہ یہ اپنی ذہنی صلاحیتیں میرے لیے معلومات اکھٹی کرنے میں استعمال کرے۔‘‘ میک نے کہا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ اس نے کیرین سے پوچھا۔
’’بڑا دلچسپ خیا ل ہے؟‘‘ کیرین نے کہا۔
’’اس طرح مجھے بھی ایک با مقصد کام کرنے کا موقع ملے گا اور ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ راستہ ہمیں کہاں تک لے جائے گا۔‘‘ سمیر نے کہا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close