Naeyufaq Oct-16

بے خودی

حسیب جواد

مبین میاں ایک بار پھر واپس آگئے لیکن اس بار اکیلے نہیں بلکہ پورے کنبے کے ساتھ یعنی ایک عدد بیوی اور تین گورے چٹے نیلی آنکھوں والے بچے۔ کسی افغان شہید کی بیوہ سے ان کی شادی کردی گئی تھی یا انہوں نے خود ہی کرلی اپنے چچا زاد بھائی کے گھر ملنے آئے پتا چلا کہ وہ عورت ایک شہید کی بیٹی ایک شہید کی بہن اور ایک شہید کی بیوہ ہے پوچھا گیا کہ تمہارا یہ شوہر بھی تو جہاد پر جاتا ہے اگر یہ بھی شہید ہوگیا تو کہنے لگی بے شک شہید ہوجائے۔ میرے یہ تینوں بچے بھی جہاد کریں گے بڑے ہو کر شہید کی ماں بھی تو بننا ہے مجھے۔‘‘ مبین میاں کے بھائی منہ دیکھتے رہ گئے اور بس کیا کہتے۔
یہ ساری بات ہم تک پہنچی تو ہم تو سوچ کے اس مرحلے پر ہی تھے کہ جہاد دراصل ہے کیا؟ اور جو کچھ ہو رہا ہے یہ جہاد ہے بھی یا نہیں؟ کیا جہاد کا اعلان حاکم وقت کرے تو ہی جہاد کے لیے نکلنا چاہیے یا حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں کسی بھی صورت میں ہم اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھیں اس لت سے مبین میاں ایک اور کہانی ایک اور موضوع یہاں والوں کی نذر کر کے خاندان سمیت چمن روانہ ہوگئے چند ہفتوں کے بعد خبر آئی وہ شہید ہوگئے۔ افغانستان میں ایک جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے اور بالآخر وہ منزل پا گئے جس کی تلاش اور جستجو میں چند سال پہلے انہوں نے یہ سفر شروع کیا تھا یعنی شہیدوں کی فہرست میں جگہ پا گئے۔
…٭٭٭…
کراچی کے دور افتادہ نئے آباد شدہ علاقے میں جہاں آس پاس کے ماحول سے غربت اور پسماندگی عیاں ہو اگر کسی گھر کے مکینوں کے پاس آج کے دور کی تمام آسائشیں موجود ہوں اور صاحب خانہ اپنی علمیت اور استطاعت سے کہیں زیادہ کمائی کر رہے ہوں تو آس پاس کے لوگوں میں وہ لوگ یقیناً عزت اور توقیر کی نظروں سے دیکھتے جاتے ہوں گے اور اگر کہیں بڑا بیٹا پڑھنے لکھنے والا ہو خوش ذوق اور خوش لباس بھی ہو تو ایسے گھر کو ایک اچھا گھر اور مکینوں کو خوش قسمت و قابل رشک ہی کہا جائے گا ہاشم بھائی کا گھرانہ کچھ ایسا ہی تھا لیکن ایسے میں وہ خوش ذوق اور خوش لباس بیٹا مستقبل کی امید اور بھائی بہنوں کا سہارا اگر یونیورسٹی کی تعلیم ترک کر کے جہاد پر جانے کا اعلان کردے تو بات عجیب سی لگتی ہے۔ اس بستی میں جانے کون سا مدرسہ تھا جہاں کے مولوی صاحب نے مبین میاں کے کان میں کیا کچھ ڈال دیا کہ وہ بالکل ہی بدل گئے اور یہ انتہائی قدم اٹھانے پر آمادہ ہوگئے عزیزوں، رشتہ داروں میں چہ مگوئیاں ہوئیں بحث مباحثے چلے کہ افغان جنگ کو جہاد کہا جائے یا قتدار کی جنگ یا افغان کی محض عادت جنگ مگر کبھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کچھ لوگ اس خوف میں بھی مبتلا ہوگئے تھے کہ کہیں مبین میاں کی دیکھا دیکھی خود ان کے سپوت بھی نہ نکل پڑیں اس راہ پر۔ کوئی کچھ کر نہیں کرسکتا۔ ماں باپ کو جو اعتراض نہیں تھا سنا ہے کہ روانگی کے وقت مبین میاں کی تو گل پوشی ہوئی ہی تھی ساتھ میں ماں باپ نے بھی خوب مبارک باد اور ہار پھول وصول کیے اور مٹھائی کی ریل پیل الگ اچھی خاصی سمجھ دار بہنیں اور بے وقوفی کی حد تک سیدھا چھوٹا بھائی سب اس طرح خوش رہے تھے کہ جیسے بھائی خطرناک سفر پر نہیں بلکہ دلہن رخصت کرانے جا رہے ہوں۔
چھ مہینے بعد خیر سے مبین میاں کی واپسی ہوئی اس بار بھی خوشیاں منائی گئیں ان کو رشتہ داروں کے سامنے فخر سے پیش کیا گیا۔ وہاں کی روداد سنی گئی، داستان اتنی بار دہرائی گئی کہ زبان زد عام ہوگئی۔ آخر مجاہد و غازی بن کے واپسی ہوئی تھی۔ البتہ ایک تبدیلی جس کا احساس گھر والوں کو بہت جلد ہوگیا نہ صرف احساس بلکہ یہ تبدیلی گھر والوں اور قریبی عزیزوں پر براہ راست اثر انداز ہوئی وہ تھی مبین میاں کے مزاج اور سوچ کی تبدیلی، عقائد اور رویے میں سختی جنوں کی حد تک بڑھی ہوئی داڑھی اونچی شلوار شمالی علاقوں والی ٹوپی ہر وقت سر پر مڈھی ہوئی موسموں سے بے نیاز بد رنگ سی جیکٹ ہر وقت بدن پر موجود۔ پھر ٹی وی اور موسیقی سے بے زاری، ایک خطیر رقم روانگی سے پہلے وہ ابا کے اکائونٹ سے نکال کر اپنی پسندیدہ جہادی تنظیم کی نذر کر چکے تھے۔ یہ بات بعد میں پتا چلی تھی اور ابو کے لیے اچھا خاصہ جھٹکا ثابت ہوئی تھی اور گھر والوں کے لیے بھی۔ ایک دن انہوں نے ٹی وی زمین پر پٹخ دیا۔ ابا تو شہر سے باہر تھے اماں نے سنبھال لیا معاملے کو لیکن بہنوں کے دل میں گرہ ڈال گئی یہ بات وہ گھر بھی بھلا کوئی گھر ہے جس میں ٹی وی تک نہ ہو، مجموعی طور پر ان کی آمد اور قیام کچھ ایسا تھا جیسے بیرون ملک امریکا، امارات اور سعودی عرب سے لوگ چھٹی پر آتے ہیں تو اپنی مالی مضبوطی کا بھرپور اظہار کرتے کھاتے پیتے کھلاتے پلاتے ہیں اور ایک دن پھر روانہ ہوجاتے ہیں اپنی ڈیوٹی پر۔ مبین میاں نے اپنی دولت ایمانی کا بے مہا اظہار کیا سب کو روزے نماز کا پابند کرا کر آلات موسیقی اور ٹی وی توڑ کے ایک دن پھر روانہ ہوگئے مگر اس بار وہ جوش و ولولہ تھا اور نہ خوشی و فخر کا وہ اظہار جس کے مزے عزیزوں رشتہ داروں نے پہلی بار لوٹے تھے اور پھر وہ تین بار گئے اور آئے۔
جہادی جاتے افغانستان ہی ہیں چاہے وہ جس راستے سے جائیں براستہ چمن یا براستہ پشاور پھر افغانستان میں چاہے جہاں چلے جائیں وہاں لڑتے رہیں اور شہید ہوجائیں یا واپس آجائیں ہاں ایک منزل اور ہے وہ ہے قید خانہ وہ افغانستان کا کوئی بے ترتیب بد وضع اور انتظامات سے عاری قید خانہ بھی ہوسکتا ہے اور امریکا کا بدنام زمانہ لیکن جدید نوعیت کا یعنی گوانتانا موبے کا قید خانہ بھی مبین میاں کدھر سے گئے اور کہاں پہنچے کسی کو پتا نہیں تھا۔
لیکن تھوڑے ہی دن میں کچھ ایسی خبریں آئیں کہ شاید وہ گرفتار ہوگئے اور اپنے چند ساتھیوں سمیت، ہر اطلاع کے بعد نئی اطلاع آتی رہی پتا چلا کہ کابل کے کہیں قریب سے گرفتار ہوئے کچھ دن دیسی قسم کی جگہوں اور جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں اور تشدد برداشت کرنے کے بعد ان کو امریکہ کے اسی بدنام زمانہ قید خانے کی طرف روانہ کردیا گیا جہاں کی ہولناک داستانیں اخبارات اور ابلاغ عامہ کے ذریعے بہت دن سے لوگوں تک پہنچ رہی تھیں پیلے پیلے کپڑوں میں ملبوس لاغر بے بس قیدیوں کی کہیں دور فاصلے سے لی گئی کلپس ٹی وی میں دکھائی جاتی رہی تھیں، قیدیوں کے ساتھ ظلم اور ذلت آمیز رویہ اور پھر ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے واقعات بھی سب نے سن اور دیکھ لیے تھے۔ لہٰذا یہ قیدی بن جانے والی اطلاعات خاصی تشویش ناک اور مایوس کن تھیں لیکن امید کی کرن کہیں سے در آتی تھی شاید یہ سب غلط ہو اخبار میں تو نام آیا نہیں ٹی وی پر بھی کچھ دیکھایا نہیں، شاید یہ محض افواہ ہو امید و بیم کی کی کیفیت بھی اپنے انجام کو پہنچی جب مبین میاں کے ایک ساتھی جو محلہ دار بھی تھے اور ہم مسلک و ہم خیال بھی کسی طرح بچ بچا کے واپس آگئے انہوں نے مبین میاں کی گرفتاری کی تصدیق کردی وہ جب ملنے آئے تو سب ان کو خوں خوار نظروں سے گھور رہے تھے اور وہ سب سے نظریں چرا رہے تھے اس بار کچھ ایسے حالات سے دو چار ہوئے تھے کہ آئندہ کے لیے تائب ہو کر گھر بیٹھے رہے۔
اس امریکی قید خانے بلکہ عقوبت خانے کے باسیوں کا رابطہ گھر والوں سے ریڈ کراس کے ذریعے ہوتا ہے۔ سنسر شدہ خط وہاں سے امریکا کے ریڈ کراس کے دفتر اور اس دفتر سے ایک عدد سادہ صفحے کے ساتھ لواحقین کو پوسٹ کردیا جاتا ہے واپسی میں جواب اسی اضافی صفحے پر ہی لکھا جاتا ہے قیدی کے نام کی جگہ ایک مقررہ کوڈ اعداد اور حروف کا مرکب استعمال ہوتا ہے اس تیز رفتار زمانے میں اس خط و کتابت کی رفتار ایک صدی پرانی بات لگتی ہے کہ خط اور اس کے جواب کے درمیان ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں پر محیط انتظار ہوتا ہے تجسس ہوتا ہے تشویش ہوتی ہے اس ایک خط اور اس کے جواب کے دوران کئی لوگ جان سے گزر جاتے ہیں اور کئی ذی روح دنیا میں وارد ہوجاتے ہیں۔ اب ادھر کچھ ہوجائے یا ادھر امریکا والوں کی بلا سے۔
جوان اولاد کی دوری اپنا اثر دکھانا شروع کرچکی تھی نیا علاقہ ہونے کی وجہ سے ڈاک کے نظام پر اعتبار نہیں تھا لہٰذا خط و کتابت کے لیے ایک رشتہ دار کا پتا استعمال کیا جا رہا تھا لیکن وہ خط پہنچانا تو کجا خط کی اطلاع دینے میں بھی دیر کرتے تھے جب ہاشم بھائی نے کسی اور رشتہ دار کا پتا استعمال کرنے کی بات کی وہ کنی کترا گئے طالبان جو کبھی دوست تھے اب دشمن ٹھہرائے گئے تھے ان بدلے ہوئے حالات میں کون ایجنسیوں کے چکر میں پڑے ہاشم بھائی کے لیے یہ بھی ایک دھچکا تھا۔
ادھر مبین میاں قید میں اور وہ بھی دیار غیر میں، نہ کوئی عدالت نہ وکیل نہ پیشی اور نہ قید کی مدت کا پتا۔ سب کچھ اندازوں اور دعائوں پر چل رہا تھا۔ ماں باپ گھلتے رہے پگھلتے رہے مگر خاموش نہ الفاظ میں نہ حرکات میں کس طرح کا اظہار کرتے جو خوشیاں منالی گئیں جو فخریہ بیانات دیے گئے ان کا بھی تو بھرم رکھنا تھا اور بھرم رکھنے کے چکر میں بہت تکلیف ہوتی ہے ذہنی بھی اور روحانی بھی۔ ذہنی خلفشار اور نا امیدی اور اولاد کی دوری کا دکھ زندہ ہے پر کہیں دور بہت دور، کس حال میں کچھ خبر نہیں، ایسے میں جو نہ ہوجائے کم ہے۔ بنیادی کھوکھلی ہوتے ہوئے اچھی خاصی نظر آنے والی عمارت اچانک ڈھے پڑتی ہے۔ ہاشم بھائی کی اچانک موت کی خبر ملی تو پہنچنے والے بھاگم بھاگ پہنچے۔ عجب ویرانی کا عالم تھا اس بستی پر رات کے پہلے پہر سے پہلے ہی بہت سی دکانیں بند ہوگئی تھیں، کفن دفن سے متعلق کچھ سامان دستیاب نہیں ہوسکا، سب کچھ اگلے روز ہی ممکن ہوسکا۔ مبین میاں کو یہ خبر چالیسیویں کے بعد ہی ملی ہوگی۔
ہاشم بھائی تو غموں سے آزاد ہوئے اب ان کی بیوی مبین میاں کی اماں اولاد کا غم برداشت کرتے کرتے اور ذیابیطس کی مار سہتے سہتے ڈھے جانے کی حد پر آگئی تھیں مبین میاں کو گئے ہوئے کوئی چار برس ہونے کو آئے تو اچانک اطلاع ملی کہ چند لوگ وہاں سے رہا کردیے گئے ہیں اخبار میں نام بھی آئے تھے جو پاکستانی تھے رہا ہو کر پاکستان آ بھی گئے تھے لیکن وہ کہاں تھے اور گھر کیوں نہیں آرہے تھے؟ ان سوالوں کے جوابات ملنے میں کچھ دن لگ گئے اور ایک فون پر گھر والوں کو تنبیہہ کی گئی کہ زیادہ بھاگ دوڑ اور شور مچانے کی ضرورت نہیں، تمہارا بندہ یہاں ماہرین نفسیات کے زیر علاج ہے ان کی برین واشنگ کر کے بہتر انسان بنا کے اس معاشرے میں رہنے کے قابل بنایا جا رہا ہے جب اس کی جہادی سوچ بدل جائے گی وہ تمہارے پاس آجائے گا مگر سوچ اگر جبلت بن جائے تو شاید جبلت بدلنے کا بھی کوئی طریقہ ایجاد ہوگیا ہو وہ جو کہتے ہیں کہ بہت دیر کی مہربان آتے آتے۔ مبین میاں تو بالآخر گھر پہنچ گئے لیکن اس چار سال کے عرصے میں ان کی اماں تھک چکی تھیں بیماری اور انتظار کے ہاتھوں بہت دیر خوشی نہ منا سکیں بیٹے سے ملنے کی اور ایک دن اللہ کو پیاری ہوگئیں تدفین میں بہت رشتہ دار موجود تھے لیکن ایسے کہ جیسے صرف کاندھا دینے آئے ہوں صرف تماشائی لا تعلق سے دراصل تدفین کے انتظامات چند انجان سخت اور جذبات سے عاری نوجوانوں نے سنبھالے ہوئے تھے ان میں سے کچھ روانی سے انگریزی بول رہے تھے امریکن لہجے میں مبین میاں کے وہاں کے ساتھی ہوں گے پتا نہیں وہاں چار پانچ سال کے قیام کے دوران انہوں نے کتنے امریکیوں کے دل میں ایمان کی شمع روشن کی ان کا لہجہ اور ان کی زبان ضرور لے آئے تھے اور اپنے ساتھ بہت کم وقت میں تدفین ہوگئی ذرا غیر روایتی سے انداز میں اور سب عزیزوں اور رشتہ داروں کو بہت جلد فرصت مل گئی اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگنے کی۔
مبین میاں جب تک رہے قریبی رشتہ داروں سے ملتے رہے معلوم ہوا کہ مسئلہ نوکری کا تھا اگر مل جاتی تھی تو زیادہ دیر چلتی نہیں تھی ان کی کمپیوٹر کی تعلیمی قابلیت اور انگریزی کا لہجہ ان کے مزاج اور رویوں سے قطعی میل نہیں کھاتے تھے لوگ ان کو شک کی نظروں سے دیکھتے تھے انہوں نے بتایا کہ ان کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے کسی بے راہ روی پر ٹوک دیں تو لوگ برا مانتے ہیں بات دل میں رکھ لیتے ہیں ایک جگہ سے نوکری چھوڑ کر دوسری جگہ گئے تو ان کے بارے میں اطلاعات پہلے ہی پہنچ چکی تھیں لہٰذا نوکری نہ چل سکی ایک بار مجھے ملے تو میں نے کہا بھی ان سے کہ کیا عجیب سا حلیہ بنایا ہوا ہے۔ ایک وحشت سی طاری کی ہوئی ہے اپنے چہرے پہ اپنی عادات اور لباس میں کچھ تبدیلی لائو اپنا رویہ بدلو تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ایک سیکنڈ کے دسویں حصے کے برابر مدت کی مسکراہٹ ان کے لبوں پر آئی اور کوئی جواب دیے بغیر وہ سلام کر کے رخصت ہوگئے۔
ادھر گھر میں بہنوں کے پردے لباس اور ٹی وی دیکھنے کی عادت وغیرہ جیسے مسائل تھے بجائے اس کے کہ وہ اپنے طور طریقے بدلتیں انہوں نے اپنا رویہ بدل لیا مبین میاں کے تعلق سے بات چیت بند کردی کھانے پینے کا خیال رکھنا چھوڑ دیا باہر اور اندر دونوں طرف کے حالات اس قدر خراب ہوئے کہ وہ بے زار ہو کر دوبارہ اپنے اسی مخصوص سفر پر روانہ ہوگئے یعنی افغانستان براستہ پشاور یا براستہ چمن۔
شاید میرا اندازہ غلط ہو، شاید ان کے چلے جانے میں ان عوامل کا بالکل ہی کوئی حصہ نہ ہو شاید ان کو جانا ہی تھا چاہے یہاں ان کی راہ میں پھول ہی کیوں نہ بچھائے جاتے۔ چاہے تمام لوگ اپنی تمام تر چاہت اور محبت ان کے دامن میں کیوں نہ ڈال دیتے۔ ایک مقناطیسی طاقت کوئی نادیدہ قوت کوئی پراسرار سی ان کو کھینچ رہی تھی اور وہ کھنچے چلے گئے یہ تو ہم لوگ اپنی طرف سے اسباب ڈھونڈ رہے ہیں کہ کسی کو تو قصور وار ٹھہرا سکیں دراصل یہ جذبہ ہماری عقل سے ماورا تھا۔
ان کی بہنوں کا جو ذریعہ آمدنی ہے ایک چھوٹا سا کاروبار ان کی دو وقت کی روٹی مہیا کرنے کے لیے بھی کم ہے۔
عزیزوں رشتہ داروں کی طرف سے تھوڑا بہت آنے لگا‘ مہینے کے مہینے لیکن اس مہنگائی میں کوئی زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتا ہے سنا ہے کسی تعویذ گنڈے والے بابا نے ان دونوں کو قریبی رشتہ داروں سے بدظن کردیا تھا کہ ان کی پریشانیوں کا سبب دراصل وہی رشتہ دار ہیں لہٰذا ان سے دوری اختیار کریں، نتیجتاً باری باری انہوں نے سب کو ناراض کردیا ہے لیکن لوگ اپنی استعداد بھر مدد پھر بھی کرتے ہی رہتے ہیں چند ماہ قبل مبین میاں کی جو آمد ہوئی بمع افغانی بیوی اور تین بچوں کے اور پھر روانگی تو وہ ان کی آخری روانگی تھی پھر تو ان کی شہادت کی اطلاع آئی۔ ان کے بیوی بچے کس حال میں ہیں کسی کو نہیں معلوم البتہ ان کی بہنوں کا حال سب کو معلوم ہے۔ ان کو اپنی منزل مل گئی۔ وہاں شاید ان کی بیوی کے تینوں بچے جہاد کے لیے تیار ہو رہے ہوں گے کہ اس عورت کو ابھی شہیدوں کی ماں کہلوانے کا مرحلہ طے کرنا ہے یہاں مبین میاں کی دو بہنیں جوان لیکن بے سہارا لڑکیاں، ظالموں اور بے رحموں کی آبادی میں بے مہار گھومتے دو پیروں والے درندوں کے درمیان ایک جہد مسلسل میں مصروف ہیںِ یہ ایک اور جہاد ہے جو ان باقی ماندہ افراد کو کرنا ہے یہ غازی بنیں گی یا شہید یا صرف ہلاکت ان کا مقدر ہے کون جانے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close