Naeyufaq Oct-16

ایک سوسولہ چاند کی راتیں(قسط نمبر2)

عشنا کوثر سردار

عین النور بہت ناگواری اور غصے سے اسے دیکھ رہی تھی اور تیمور اتنے ہی پرسکون انداز میں مسکرا رہا تھا اور فتح النساء حیرت سے ان دونوں کو کھڑی دیکھ رہی تھی۔
’’یہ کیا ہورہا ہے؟آپ عین کو پہلے سے جانتے ہیں؟‘‘ فتح النساء نے پوچھا تھا۔ تیمور مسکرایا تھا۔
’’آپ نواب زادی سے پوچھئے۔ جن زاد سے کوئی رشتہ یا جان پہچان تو ہوگی ان کی؟ تبھی تو ان کو اس قدر الجھن ہو رہی ہے۔‘‘ وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر مسکرایا تھا۔
’’مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں نہ میں آپ کو جانتی ہوں۔‘‘ عین النور نے واضح طور پر نفی میں سر ہلایا تھا۔
’’عین ٹھیک کہتی ہیں۔ یہ آپ کو نہیں جانتی مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ جن زادہ ان نواب زادی کو کیسے جانتا ہے؟‘‘ فتح النساء مسکرائی تھیں۔
’’فتح النساء آپ ان کی باتوں میں آرہی ہیں؟ یہ ٹھیک نہیں۔‘‘عین النور نے اپنی خاص تمکنت سے فتح النساء کو گھورا تھا اور پلٹ کر آگے بڑھ گئی تھی۔
’’خفا کردیا آپ نے ہمار ی نواب زادی کو۔‘‘ فتح النساء نے تیمور بہادر یار جنگ کو خفگی سے دیکھا تھا۔
’’ویسے آپ ہیں کون؟ یہاں اس محل میں کیا کر رہے ہیں؟ کہیں آپ کو ہماری نواب زادی سے عشق تو نہیں ہوگیا جو اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے محل تک پہنچ گئے ؟‘‘ فتح النساء نے تیمور بہادر یار جنگ کو دیکھا تھا۔
وہ مسکرا دیا تھا۔
’’آپ کو لگتا ہے کہ کسی عقل مند انسان کو جو کہ فہم و فراست رکھتا ہو، اسے بھولے سے بھی آپ کی ان دوست سے کوئی لگاؤ ہو سکتا ہے؟ کٹ کھنی بلی ہیں۔ پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ جاتی ہیں۔ میں تو یہاں اپنے دوست سے ملنے آیا تھا۔ اندازہ نہیں تھا کہ ان نواب زادی کا ان سے کوئی واسطہ ہے۔‘‘ تیمور بہادر یار جنگ گویا ہوا تھا۔ فتح النساء چونکی تھی۔
’’کن کی بات کر رہے ہیں آپ؟ نواب جلال پٹوڈی کی بات تو نہیں کر رہے آپ؟‘‘ فتح النساء نے قیاس کیا تھا۔ تیمور بہادر یار جنگ نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور مسکرا دیا تھا۔ فتح النساء نے اسے حیرت سے دیکھا تھا۔
’’نواب جلال الدین پٹوڈی کے دوست ہیں آپ؟‘‘
’’اس میں کیا عجب ہے؟‘‘ تیمور نے اطمینان سے پوچھا تھا۔
’’نہیں عجب تو کچھ نہیں مگر ان کا مزاج اور آپ کا مزاج اگر یکساں ہے تو ضرور تشویش ہوگی ہمیں۔‘‘ فتح النساء مسکرائی تھی۔
’’چھوٹے نواب کے مزاج کے بارے میں اتنی خبر؟ کہیں عشق تو نہیں ہوگیا آپ کو چھوٹے نواب سے؟‘‘ تیمور مسکرایا تھا۔ فتح النساء بوکھلا کر نگاہ پھیر گئی تھی۔ ان آنکھوں میں کوئی راز تو تھاکہ تیمورنے اسے بغور دیکھا تھا۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ؟ سچ میں جن زادے معلوم ہوتے ہیں آپ۔ہماری نواب زادی کی قیاس آرائی بالکل بجا تھی۔‘‘ وہ بوکھلاہٹ میں الزام دیتی ہوئی پلٹنے لگی تھی جب تیمور نے اسے دیکھتے ہوئے پکارا تھا۔
’’سنئے۔‘‘ تیمور کے پکارنے پر وہ رک گئی تھی اور پلٹ کر حیرت سے بھری پھیلی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
’’نواب جلال الدین پٹوڈی کو اطلاع کردیں کہ ہم تیمور بہادر یار جنگ ان سے ملنے تشریف لائے ہیں۔ ویسے عشق پوچھ کر نہیں ہوتا مگر آپ جیسی سلجھی ہوئی لڑکی کو ایسے بندے سے عشق کا ہونا واقعی عجیب ہے۔ آپ جتنی سلجھی سلجھی ہیں نواب جلال اتنے ہی الجھے الجھے ہیں۔‘‘ تیمور مسکرایا تھا۔
فتح النساء حیرت سے اسے گھورنے لگی تھی مگر اس نے ہاتھ اٹھا کر آداب کیا تھا اور پلٹ کر آگے بڑھ گیا تھا۔ فتح النساء اسے بہت حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔
’’انہیں کیسے خبر ہوئی کہ ہم نواب ہیں…! واقعی عجیب ہیں یہ۔ کسی جن زادے کا مزاج رکھتے ہیں۔ نواب زادی پہچاننے میں غلطی نہیں کر سکتیں۔ ایسے تیکھے ہیں کہ نظر میں ہی پڑھ لیتے ہیں۔ تیمور بہادر یار جنگ … نام تو کہیں سنا لگتا ہے۔ شاید چھوٹے نواب نے ہی کبھی ذکر کیا ہوا۔ خیر ہمیں کیا، ہم اطلاع کردیتے ہیں۔ جن زادے ہیں تو کیا ہوا۔ہیں تو مہمان اور مہمان چاہے کوئی جن زادہ یا پری زاد ہی کیوں نہ ہو اس کا خیال کرنا پڑتا ہے۔‘‘ وہ پلٹ کر چھوٹے نواب کے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔
…٭٭٭…
چھوٹے نواب نیند میں کچھ بڑبڑا رہے تھے جب فتح النساء نے قدم رکھا تھا۔
’’آپ کے حسن کے تیور کمال ہیں خاتون حاکم۔ ایسا خوابیدہ حسن کبھی نہیں دیکھا۔ آپ نے تو دیکھتے ہی گرویدہ کردیا۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ نشہ کس شے کا زیادہ ہوا۔ آپ کے حسن کا یا…!‘‘
فتح النساء نے دو قدم کے فاصلے پر رکھ کر نواب جلال دین کو دیکھا تھا۔
’’نواب صاحب!‘‘ اس نے دھیمے سے آواز دی تھی۔
مگر وہ نیند میں بڑبڑاتے رہے تھے۔
’’سمجھ نہیں پائے ہم آپ کی آنکھیں وار زیادہ کرتی ہیں یا کاٹ آپ کی باتوں میں زیادہ ہے؟ مگر کچھ ہے جو کاٹتا ہے اور بہت سکون دیتا ہے۔‘‘
’’چھوٹے نواب؟‘‘ فتح النساء نے اس بڑبڑاہٹ کے معنی نا سمجھتے ہوئے حیرت سے انہیں پکارا تھا۔
’’چھوٹے نواب نے آنکھیں کھول کر بمشکل اسے دیکھا تھا۔
’’آ گئیں آپ خاتون حاکم…!‘‘
’’خاتون حاکم…؟‘‘ فتح النساء چونکی تھی۔’’یہ بیگم جان کون ہیں؟ آنکھیں کھول کر دیکھئے۔ یہ ہم ہیں فتح النساء۔ کیا عجیب باتیں کر رہے ہیں آپ چھوٹے نواب… کہیں آپ؟‘‘ اس نے بات مکمل کئے بنا چونکتے ہوئے کہا تھا اور چھوٹے نواب کو بغور دیکھا تھا۔
وہ اس سے عشق میں مبتلا تھی۔ جانے کب سے مگر اسے کس سے عشق تھا وہ بس جانتی تھی اور وہ کس کا نام لے رہے تھے؟
’’خاتون حاکم کون ہیں؟‘‘ فتح النساء چونکی تھی۔ تبھی اس کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے چھوٹے نواب نے آنکھیں بمشکل کھول کر اسے دیکھا تھا۔
’’فتح النساء؟ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ وہ حیرت سے اسے دیکھ کر بولا تھا اور اٹھ بیٹھا تھا۔ فتح النساء غیر ارادی طور پر دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔ دل میں جانے کس شے کا خوف آبیٹھا تھا۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔ شدید تکلیف کا احساس ایسے ہوا تھا جیسے کوئی انی سی کھب گئی ہو۔ وہ چھوٹے نواب کی بات کا جواب دئیے بنا پلٹی تھی اور چلتی ہوئی باہر نکل گئی تھی۔ چھوٹے نواب اسے دیکھتے ہوئے اٹھ بیٹھے تھے تبھی ایک ملازمہ نے آکر با ادب انداز میں بتایا تھا کہ تیمور بہادر یار جنگ تشریف لائے ہیں۔ تبھی اس نے سر کو ہلایا تھا۔
’’انہیں آپ احترام سے بٹھائیے اور مطلع کیجئے کہ ہم کچھ ہی دیر میں ان سے ملنے آرہے ہیں۔‘‘ چھوٹے نواب نے رکھ رکھاؤ کا پاس رکھتے ہوئے کہا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے بے ہوشی کی حالت میں کہے گئے الفاظ معصوم فتح النساء کے دل کو ایک دھچکا لگانے کا باعث بنے ہیں۔ملازمہ پلٹ کر جانے لگی تھی تبھی چھوٹے نواب نے اسے پکارا تھا۔
’’سنئے۔ آپ سے قبل یہاں میرے کمرے میں کون آیا تھا؟ یا ہمارا وہم تھا؟‘‘
ملازمہ نے انہیں حیرت سے دیکھا تھا۔
’’ہم نہیں جانتے نواب صاحب، ہم سے پہلے تو یہاں کوئی نہیں تھا۔‘‘ ملازمہ نے صاف انکار کردیا تھا۔ تبھی چھوٹے نواب نے انہیں جانے کا اشارہ کیا تھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔
…٭٭٭…
مرزا سراج الدولہ نے ایک سرور میں خاتون حاکم کا نام پکارا تھا۔ وہ ایک ادا سے مسکرائی تھیں۔
’’مرزا صاحب ہم جانتے ہیں آپ دل ہار بیٹھے ہیں۔ مگر آپ کو ایک بات سمجھ لینا چاہئے کہ یہ عشق آسان نہیں ہے۔ ہم چاہ کر بھی آپ سے عشق نہیں کر سکتے۔‘‘ خاتون حاکم کی نرم آواز سن کر وہ بے چین ہو اٹھے تھے۔
’’کیوں نہیں خاتون حاکم؟ کیا چاہئے آپ کو؟ ہمیں مطلع کریں۔ جان و دل نثار کردیں گے مگر خدارا یہ مت کہیں کہ آپ ہم سے عشق میں مبتلا ہونے سے قاصر ہیں۔ ہم آپ کی زلف کے اسیر ہو چلے ہیں۔ آپ کے چہرے کے علاوہ ہمیں کوئی چہرہ دکھائی نہیں دیتا اور آپ کے نام کے سوا کوئی نام نہیں پکارتے ہم اور آپ اس طرح دامن کھینچ رہی ہیں؟ اس کا باعث کیا ہے خاتون بیگم؟ خدارا ہمیں آگاہ کیجئے۔‘‘ مرزا سراج الدولہ تڑپ کر گویا ہوئے تھے اور خاتون حاکم مسکرا دی تھیں۔ پھر ادا سے پوچھنے لگی تھیں۔
’’عشق کیا ہے مرزا صاحب؟ براہِ کرم وضاحت کیجئے۔‘‘
’’عشق دل کی آواز ہے سوز ہے!‘‘ مرزا صاحب نے بغور اس خاتون حاکم کو دیکھا تھا۔اس کے حسن بے پایاں کے وہ گرویدہ ہوگئے تھے۔ جن کی آواز ان کا سینہ چیرتی تھی۔ وہ ایک ادا سے مسکرائی تھیں۔ تب مرزا صاحب نے تڑپ کر ان کی طرف دیکھا تھا۔
’’ہم نہیں جانتے خاتون حاکم مگر ایک تڑپ سی ہے جو ہم دل میں محسوس کرتے ہیں اور یہ تڑپ بہت بے بس کرتی ہے۔ کہئے ہم کیا کریں آپ کے لئے؟‘‘ وہ بے چین ہو کر بولے تھے اور خاتون حاکم مسکرا دی تھیں۔
’’مرزا صاحب… کاش ہم آپ سے عشق کرنے کے پابند ہوتے تو آپ کے علاوہ ہم کسی اور کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتے مگر یہ کم بخت دل کسی ایک کے لئے ہی دھڑک سکتا ہے اور وہی اس دل پر حکومت کرسکتا ہے سو ہم یہ مفتوح علاقہ آپ کے حوالے نہیں کر سکتے۔‘‘ خاتون بیگم بولی تھیں اور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی تھیں۔مرزا صاحب بے بسی سے انہیں دیکھتے رہ گئے تھے۔
…٭٭٭…
’’آپ اتنی بے چین کیوں ہو رہی ہیں فتح النساء؟ ہمیں بتائیے؟ ماجرا کیا ہے؟ صبح تو آپ کے مزاج کافی خوشگوار تھے۔ پھر اب یہ اچانک کیا ہوا؟ کسی سے خفا تھیںآپ؟‘‘ نواب زادی عین النور نے پوچھاتھا مگر فتح النساء نے نفی میں سر ہلادیا تھا۔
’’فی الحال ہم آپ کو کچھ نہیں بتا سکتے۔‘‘
’’بتا دیتیں تو اچھا تھا۔ ہم آپ کو تسلی تو دے سکتے ۔کیونکہ آپ ہماری پیاری سہیلی ہیں اور آپ کی پریشانی ہمیں بھی متواتر پریشان رکھے گی۔ بہرحال آپ سے ایک بات کہنا تھی گھر میں ہمارے بھائی چھوٹے نواب جلال الدین پٹوڈی کی رسم نکاح ہونے والی ہے کیونکہ سنا ہے ابا جان ان کے لئے اپنے دوست کی کسی بیٹی کے لئے پوچھ چکے ہیں۔‘‘ عین النور پٹوڈی نے بنا اس کے دل کی پروا کئے بتایا تھا اور فتح النساء چونکتے ہوئے اپنی سہیلی کو دیکھنے لگی تھیں۔
’’ہم یہ بات آپ کو بتاتے ہیں چھوٹی نواب زادی مگر یہ بات نہیں بتا سکتے۔‘‘ وہ کہہ کر چہرہ پھیر گئی تھیں۔ ان کی کالی سیاہ پھیلی ہوئی آنکھیں بہت بے چین اور دھواں دھواں سی لگی تھیں۔
’’آپ کی آنکھیں بہت عجیب ہو رہی ہیں فتح النساء۔ آپ اتنی بے چین کیوں لگ رہی ہیں؟‘‘ عین نے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا تھا۔
’’ہماری آنکھیں آپ کو عجیب کیوں لگ رہی ہیں عین النور؟‘‘ وہ چونکی تھیں۔
’’پتہ نہیں مگر عجیب بجھی بجھی سی ہیںجیسے کسی نے ان آنکھوں کی روشنیاں بجھا دی ہوں یا ساری روشنی چرا لی ہو۔‘‘ وہ بولی تھیں تو فتح النساء نے ان کی طرف سے نگاہ چرالی تھی اور پھر نفی میں سر ہلادیا تھا۔ عین النور انہیں دیکھ کر رہ گئی تھیں۔
…٭٭٭…
نواب سیف الدین پٹوڈی نے شطرنج کی چال چلتے ہوئے اپنے عزیز دوست حکمت بہادر یار جنگ کو دیکھا تھا۔
’’میاں آپ نے ذکر کیا تھا کہ ہمارے سمدھی مرزا نثار سراج الدولہ آجکل کانگریس میں شمولیت کے لئے پر تول رہے ہیں تو ہمیں یقین نہیں آیا تھا مگر کل ان سے بات ہوئی تو آپ کی بات کی صداقت کا یقین آگیا۔ ہمیں عجیب لگا۔ جب تحریک زور پکڑ چکی ہے اور قرارداد بھی منظور ہوچکی ہے تو پھر مرزا صاحب کا یہ اقدام کس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بہرحال ہمیں یہ بات مایوس کن لگی۔ اگر ہم ان کی جگہ ہوتے تو ہم مسلم لیگ میں شمولیت کے لئے بات کرتے۔ مسلمانوں کی اگر کوئی نمائندہ جماعت ہے تو وہ مسلم لیگ ہی ہے اور مسٹر جناح جس طرح اپنے مؤقف پر ڈٹے دکھائی دیتے ہیں ہم ان کا موازنہ اگر گاندھی کے مؤقف سے کرتے ہیں تو بات واضح محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے ایک بیان کا تذکرہ کیا تھا۔ نہرو صاحب کی حمایت میں انہوںنے ایک بیان دیا تھا کہ یہ حقیقت حیران کن نہ تھی انگریز حکومت نے یہ نظام ہم پر مسلط کیا تھا۔ حیران کن بات تو یہ تھی ہم یا ہماری اکثریت نے انگریزوں کے اس ڈھانچے کو قدرتی اور ناگزیر طورپر اپنی زندگی کا طریقہ اور قسمت تسلیم کرلیا تھا۔ ہندوستان میں برطانوی راج کی یہ نفسیاتی فتح دنیاکی کسی بھی فوج یا سفارتکاری کی کامیابی سے بڑھ کر تھی۔ نہرو کا یہ اعتراف بہت معنی رکھتا ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما بھی اسی نفسیاتی فتح کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کے ذہنوں پر یہ غلبہ طاری ہے کہ مسلم لیگ ایک اکثریتی جماعت ہے جو فتح مند نہیں ہو سکتی سو ہمارے سیاسی رہنما ایک بڑی سیاسی جماعت کانگریس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔‘‘نواب صاحب بہت افسوس سے بولے تھے۔
’’ہاں مگر وہ جماعت ہمارے خیالات کی ترجمان نہیں۔ ویسے کیا سوچا ہے آپ نے نواب صاحب اگر ہماری مسلم لیگ کو کامیابی ملتی ہے تو آپ یہیں رہنا پسند کریں گے یا یہاں سے کوچ کرکے اس دیس کوچ کرنا چاہیں گے جہاں مسلمانوں کی نو آبادیات بنائی جائیں گی؟‘‘ حکمت بہادر یار جنگ نے دریافت کیا تھا۔ نواب سیف الدین پٹوڈی نے کچھ لمحے کو سوچا تھا۔ وہ فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کر پائے تھے اور پھر شانے اچکا دئیے تھے۔
’’نہیں معلوم بھیا ابھی تو اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ ہی پتہ نہیں۔ انگریزوں کے منہ سے نوالہ چھیننا آسان نہیں ہے۔ برطانوی راج نے جو نفسیاتی فتح حاصل کی ہے وہ اسے برقرار رکھنا چاہیں گے۔ مجھے نئے ملک کا وجود فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔‘‘ نواب صاحب یقین سے خالی تھے۔ سیف صاحب مسکرائے تھے۔
’’نواب صاحب کیسی باتیں کرتے ہیں آپ۔ نئے ملک کی داغ بیل رکھی جا رہی ہے۔ قرار داد پاس ہوگئی ہے اور نئے ملک کا تصور واضح ہوگیا ہے۔ پھر بھی اس نا امیدی کی باتیں؟ آپ تو بہت پرجوش ہوا کرتے تھے۔ اب اتنے متفکر اور ناامید کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟‘‘ سیف صاحب کی فکرمندی دیکھ کر حکمت صاحب بولے تھے۔ نواب سیف الدین مسکرادئیے تھے۔
’’میاں کیا کہہ سکتے ہیں۔ برطانوی راج بہت فریبی ہے۔ ان کے اور زبان کا اعتبار نہیں۔ ان کی نفسیاتی فتح کا زوال بہرحال آسان دکھائی نہیں دیتا۔ ہم پر مسلط کیا گیا نظام وہ اتنے آرام اور سکون سے تو ختم نہیں کرنا چاہیں گے۔ جب کہ دوسری طرف کانگریس بھی اپنے داؤ پیچ لڑا رہی ہے۔ وہ نہیں چاہیں گے ان کی اکثریت ہوتے ہوئے ایک اقلیت پر مبنی جماعت فتح حاصل کرلے اور اس برتری کی نفسیاتی جنگ پر غلبہ پا لے۔‘‘ نواب صاحب صاف گوئی سے بولے تھے۔
’’آپ برطانوی راج کی نفسیاتی طاقت پر متفکر دکھائی دیتے ہیں نواب صاحب۔ مگر آپ کا خدشہ کسی قدر حقیقت پر مبنی ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے کہ کانگریس برطانوی راج کو اپنی طرف کرلے اور وہ نئی ریاست کا وجود ہی نقشہ پر ابھرنے سے قبل ہی مٹا ڈالیں۔ یہاں خدشہ یہ بھی ہے کہ کانگریس ایک مضبوط جماعت ہے اور ہندوؤں کے ساتھ ان کے مؤقف کی برطانوی حکومت زیادہ قائل دکھائی دیتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ کانگریس فتح یاب ہونے کے لئے کئی سیاسی داؤ پیچ بھی لگا سکتی ہے اور کئی فیصلوں پر اثر انداز بھی ہو سکتی ہے۔‘‘ حکمت بہادر یار جنگ گویا ہوئے تھے اور سیف صاحب نے متفق ہو کر اثبات میں سر ہلایا تھا۔
’’ہونے کو تو 23مارچ والی قرارداد بھی منظور ہو چکی ہے اور تحریک کی شدت بھی بہت عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ اس کو دیکھو اور دیگر حقائق پر غور نہ کرو تو لگتا یہی ہے کہ ہماری نئی ریاست اب بنی یا تب بنی۔ مگر میاں پتہ بھی تو تبھی چلے گا جب برطانوی حکومت کا واضح مؤقف سامنے آئے گا۔ بھی انگریز راج کا کچھ اعتبار نہیں۔ بہت چالاک قوم ہے ۔ ان کو وہاں بھی کاٹنا آتا ہے جہاں انہوں نے بویا نہیں ہوتا۔ وہ فصل کاٹنے کو اس نگری بھی جا دھمکتے ہیں جہاں انہوں نے نہ بیج بویا ہوتا ہے نا پانی ڈالا ہوتا ہے۔‘‘ نواب صاحب مسکرائے تھے اور حکمت صاحب نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
’’بہرحال برطانوی راج کادماغ سیاسی داؤ پیچ آزمانے میں مہارت رکھتا ہے مگر ہمارے مسٹر جناح بھی خاصے ڈٹے دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ حکمت صاحب بولے تھے۔ نواب صاحب نے تب سر ہلایا تھا۔
’’ہندوؤں کے دماغ اڑے ہوئے ہیں میاں۔ ان کے خیال کی روسے مسلمان وہ قوم ہے جو حکمرانی کا مزا پہلے ہی چکھ چکی ہے۔برصغیر پاک و ہند پر مسلمانوں کا حکمران رہنا ان کے دلوں میں زہر کے بیج بوتا رہا ہے سو اب ان کو لگتا ہے باری ان کی ہے اور وہ برطانوی راج کو ہر صورت قائل کرنے کی کوشش میں سرگرداں رہیں گے کہ مسلمان اب یہ فتح نہ لے جا سکیں کیونکہ وہ مسلمانوں کو دوبارہ حکومت بنانے پر قائل دکھائی نہیں دیتے اور کجا ان کی حکومت دوبارہ قائم ہوتے دیکھنا، ان سے برداشت نہیں ہوگا۔ ان کے دلوں میں نفرت کا وہ بیج جو اگا تھا وہ تناور درخت بن چکا ہے۔‘‘ نواب صاحب مدلل لہجے میں بولے تھے۔
“A key reason is that the Muslims enjoyed sovereignty in pre-British India and this was in the form of large dynastical kingdom, monarchies, and smaller principalities.”
نواب سیف الدین کے کہنے پر حکمت یار بہادر جنگ نے سر اثبات میں ہلایا تھا۔
“I agree, therefore Muslims were use being the sovereign power although they were a numerical minority in pre-British India.”
حکمت صاحب نے سر ہلایا تھا تبھی سیف الدین نے سر ہلایا تھا اور بولے تھے۔
“Under the British, the Muslim minority did struggle for a while, but eventually they got organized. And the All-India Muslim League became the political vehicle for the Muslims of British India. That is being the cause of fear for other political parties.”
’’یہی خدشہ مجھے بھی ہے سیف صاحب۔ مگر ہم خدا سے دعا کریں گے کہ ہمارے خدشات فقط خدشات ہی رہیں اور حقیقت میں ان کی کوئی وقعت نہ رہے۔‘‘ حکمت صاحب نے کہا تھا تو نواب صاحب نے سر ہلایا تھا۔
…٭٭٭…
نواب صاحب کی طرف سے دی جانے والی ضیافت میں بہت سے مہمان مدعو کئے گئے تھے۔ پنک غرارے میں بڑی سج دھج سے چلتی ہوئی فتح النساء محل کے اندر بڑھی تھی جب کسی پر نگاہ نہ پڑنے کے نتیجے میں بے طرح ٹکرائی تھی۔ سنبھل کر دیکھا تھا تو مرزا حیدر سراج الدولہ کی خشمگیں آنکھیں انہیں گھور رہی تھیں۔
’’خاتون سنبھل کر نہیں چل سکتیں آپ؟‘‘ بے طرح ڈپٹتے ہوئے کہا تھا۔ مگر ان کی سیاہ پھیلی ہوئی آنکھیں اور ان پر لرزتی جھکی دراز پلکوں پر نگاہ پڑی تھی تو وہ ان کے چہرے پر سے نگاہ ہٹائے بنا نہیں رہے تھے۔ فتح النساء سنبھل کر کھڑی ہوئی تھیں اور ان کی آنکھوں میں پھوٹتی روشنی سے خوفزدہ ہو کر کچھ قدم دور جا ہٹی تھیں مگر مرزا حیدر سراج الدولہ کی نگاہ ایسی تھی کہ ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔ فتح النساء کو عجیب محسوس ہوا تھا۔ وہ کسی قدر بے باکی سے انہیں دیکھتے رہے تھے۔ وہ انہیں کچھ کہنا چاہتی تھیں۔ دوسرے معنوں میں کھری کھری سنانا چاہتی تھیں مگر پھر ارادہ ترک کرکے آگے بڑھ گئی تھیں۔
اسے یقین نہ ہوا تھا یہ مرزا حیدر سراج الدولہ تھے۔ اس کی سب سے خاص سہیلی کے منگیتر خاص۔ نظروں میں ایسی کاٹ اور چھیڑ چھاڑ کرنے کی صلاحیت تھی کہ انہیں بہت عجیب محسوس ہوا تھا۔ وہ چلتی ہوئی چھوٹے نواب کے قریب آن رکی تھیں۔
’’مزاج بخیر ہیں فتح النساء صاحبہ؟‘‘ چھوٹے نواب جلال الدین پٹوڈی ملائمت سے مسکرائے تھے۔ فتح النساء بچپن سے اس گھر میں آجا رہی تھیں۔ ان کی دوستی اگر عین النور سے تھی تو ان کے بھائی نواب جلال الدین پٹوڈی سے بھی تھی۔
’’جی بالکل۔ آپ کے مزاجِ گرمی کیسے ہیں؟ سنا ہے آج کل آپ سوتے جاگتے میں عجیب و غریب خواب دیکھتے ہیں۔‘‘ اس نے طنز فرمایا تھا۔ نواب جلال نے اسے چونک کر دیکھا تھا۔
’’اوہ اب ہماری سمجھ میں آیا اس صبح آپ درحقیقت اس کمرے میں ہمیں جگانے آئی تھیں۔ ہمیں لگا تھا وہ ہمارا وہم تھا۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
’’چار جماعتیں ولایت سے کیا پڑھ کر آگئے آپ تو نظریں ہی پھرنے لگے نواب جلال الدین پٹوڈی۔ اپنی اقدار کی بھی نفی کرنے لگے۔‘‘ وہ طنز کرنے لگی تھیں۔ وہ ان کا مزاج جانتے تھے تبھی برا مانے بنا مسکرا دئیے تھے۔
’’اگر اقدار بھولے ہوتے تو گوری میم کو بیاہ کر ساتھ نہ لے آتے۔ ایسانہیں ہے فتح النساء بی بی ۔ ہم ولایت جا کر اپنی اقدار بھولنے والے نہیں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے نرمی سے بولا تھا۔
’’ہاں جانتی ہوں۔ نواب کے قول و فعل میں جو تضاد ہوتا ہے وہی بس آپ کے مزاج میں ہے۔‘‘وہ جل کر بولی تھی۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں ایک واضح کاٹ تھی۔ ان آنکھوں میں کیا شکوہ تیر رہا تھا کہ نواب جلال اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ وہ چلتے ہوئے آگے بڑھنے لگی تھی جب جلال نے ان کا ہاتھ تھام کر اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ فتح النساء کا سر ان کے فراخ سینے سے آن ٹکرایا تھا اور وہ کئی لمحوں تک ان کے سینے پر سر رکھے اسی طرح کھڑی سانس اور اوسان بحال کرنے میں لگی رہی تھیں۔
’’فتح النساء…!‘‘ نواب جلال الدین نے نرم لہجے میں پکارا تھا۔ تب فتح النساء نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا۔ اس کی سیاہ آنکھیں بے طرح بھیگی ہوئی تھیں اور لانبی پلکوں پر کئی شکوے موتیوں کی مانند اٹکے ہوئے تھے۔ اس چہرے میں کچھ تھا یا آنکھیں اس قدر سحر رکھتی تھیں کہ نواب جلال الدین پٹوڈی انہیں ساکت سے دم بخود تکنے لگے تھے۔
وہ آنکھیں کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں اور اس چہرے پر ایک داستان درج تھی۔ جلال بغور دیکھتے گئے تھے۔
’’آپ کی آنکھیں فتح النساء؟ فتح النساء۔ آپ اتنی افسردہ کیوں ہیں؟ کیا ہوا؟‘‘ وہ مدھم لہجے میں کچھ جاننے کا ارادہ باندھ کر اس کی طرف دیکھنے لگے تھے۔ فتح النساء نے خاموشی سے ان کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کوئی شکوہ کرنا نہیں چاہتی تھیں تبھی پلٹ کر خاموشی سے آگے بڑھ جانا چاہا تھا مگر ان کا بھاری کام والا دوپٹہ جو دبکے کا مہین کام رکھتا تھا وہ نواب جلال الدین پٹوڈی کے کوٹ کے کسی بٹن سے ہی الجھ کر رہ گیا تھا۔ فتح النساء بے چین ہو کر مڑی تھی۔ بے بسی سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
جلال نے ان کے آنچل کے سرے کو آہستگی سے تھاما تھا اور اپنے کف کے بٹن سے ان کا آنچل آزاد کرتے دکھائی دئیے تھے مگر اس کوشش میں کئی ثانیے گزر جانے کے بعد بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی تھی تو الجھ کر فتح النساء کی طرف دیکھتے گئے تھے۔ تب فتح النساء چلتی ہوئی ان کے قریب آئی تھیں۔ ان کی طرف ہاتھ بڑھا کر ان کے ہاتھ سے اپنے آنچل کا سرا لیا تھا۔ اس کوشش میں ان کے ہاتھ کا لمس واضح طور پر محسوس ہوا تھا۔ فتح النساء اپنے دل کو نواب جلال الدین پٹوڈی کے لئے دھڑکنے سے باز نہیں رکھ سکی تھیں اور سر جھکا کر ان کے بٹن سے اپنے آنچل کے سرے کو آزاد کرانے کے لئے تگ و دو کرنے لگی تھیں۔ جلال نے اس صبیح چہرے کو واضح طور پر دیکھا تھا۔ اس چہرے میں ایک عجیب کشش تھی۔ وہ شاید اس سے پہلے اس طرح اور اس قدر غور سے اس چہرے کو دیکھ نہیں پائے تھے۔ فتح النساء کے چہرے پر خفگی تھی۔ آنکھوں میں ان گنت شکایتیں تھیں۔ وہ اسی طور چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی اور جلال اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔
…٭٭٭…
عین النور تقریب کے لئے تیار ہو رہی تھی جب فتح النساء اس کے کمرے میں آئی تھی اور اسے تیار ہوتے ہوئے بغور دیکھا تھا۔
’’کیا ہوا؟ آپ کا چہرہ کیوں پھولا ہوا ہے فتح النساء؟ خیریت؟ کسی نے کچھ کہہ دیا کیا؟ عین النور نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ نفی میں سر ہلایا تھا اور چلتی ہوئی آگے بڑھ آئی تھی۔
’’بہت اچھی لگ رہی ہیں آپ عین النور۔ آپ کے مرزا صاحب کی خیر نہیں مگر…!‘‘
’’مگر کیا؟‘‘ اس کے رک جانے پر عین النورنے اسے دیکھا تھا۔ جانے وہ کیا کہتے کہتے رک گئی تھی۔ عین کو اس کی فکر ہوئی تھی۔ تبھی بال پیچھے کی طرف ڈال کر شانے پر رکھا فیروزی آنچل اوڑھ کر وہ اس کی سمت آئی تھی۔
’’کیا ہوا؟ آپ کے چہرے پر یہ ناگواری کے تاثرات کیوں؟ کسی نے کچھ کہہ دیا کیا؟‘‘ عین نے پوچھا تھا۔ فتح النساء جانتی تھی کہ عین النور مرزا حیدر سراج الدولہ کے لئے کیسے جذبات رکھتی تھی اور کتنی لگاوٹ اس کے دل میں تھی سو اس نے کچھ بتانا مناسب خیال نہیں کیا تھا اور مرزا کی بے باکی اور نظروں کی ان کیفیات کو اپنا وہم جانتے ہوئے سر جھٹکا تھا۔
’’نہیں کچھ نہیں۔ ‘‘ اس نے کہہ کر نگاہ پھیری تھی۔ عین نے اس کا چہرہ اپنی طرف پھیرا تھا۔
’’بتائیے ہمیں… کیا ہوا؟ آپ اس طرح پریشان اور ہراساں کیوں لگ رہی ہیں اور یہ آپ کی پلکیں کیوں بھیگی ہوئی ہیں۔ فتح النساء کس نے رلایا آپ کو؟ آپ کا دل کس نے دکھایا؟‘‘ عین النور نے پوچھا تھا۔ فتح النساء نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’ہم اتنے نازک نہیں کہ کوئی ہمیں زک پہنچا سکے عین النور پٹوڈی۔ ہم بہت مضبوط اور بہادر ہیں۔ فولاد کا دل ہے ہمارا۔ ہمیں نہیں فرق پڑتا کسی کے کچھ کہنے سے۔ ہمیں کمزور ہونا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ وہ تن کر بولی تھی۔ عین اس کا چہرہ تھام کر مسکرائی تھی اور اسے بغور دیکھتے ہوئے بولی تھی۔
’’آپ بہت بہادر لڑکی ہیں فتح النساء۔ ہمیں آپ کی یہی بات پسند ہے۔ ہمیں بھی لڑکی کا اس قدر نازک اور کمزور ہونا پسند نہیں۔ ویسے بھی اب زمانہ بدل چکا ہے۔ تحریک کا زور بڑھ چکا ہے۔ عزت دار مسلمان گھرانوں کی بیٹیاں اور دیگر خواتین جب گھروں سے نکل کر سیاست میں حصہ لے سکتی ہیں تو پھر انہیں کمزور کہنا حماقت ہی ہوگی۔‘‘عین النور نے کہا تھا اور فتح النساء نے سرہلایا تھا۔
’’عین آپ مرزا سراج الدولہ سے کس قدر محبت کرتی ہیں؟‘‘ فتح النساء نے اچانک پوچھا تھا۔ عین النور چونکتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھیں۔
’’ایسا کیوں کہہ رہی ہیں آپ؟ اس کے پوچھنے کا جواز کیا ہے؟‘‘ عین النور نے اسے جانچتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’آپ بتائیے تو؟‘‘ فتح النساء بولی تھیں۔ عین النور مسکرا دی تھیں۔
’’ہم نہیں جانتے فتح النساء۔ محبت کس ساز و آہنگ کا نام ہے۔ ہمارا نام ان کے نام سے وابستہ ہے۔ ایسا ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں اور ہمارے لئے یہ بات اہم ہے۔ ان کا نام سنتے ہیں تو دل کو دھڑکنے سے باز نہیں رکھ سکتے۔ اب آپ اسے محبت کا نام دیں یا جو بھی کہیں مگر ایسی لگاوٹ ہونا فطری ہے۔ ہم اس رشتے کے پابند ہیں اور اس رشتے کے دفا دار بھی۔‘‘ عین النور نے کہا تھا اور فتح النساء نے سرہلایا تھا۔
’’ہاں جانتے ہیں ہم لیکن اس قدر محبت بھی ہے تو آپ کو اپنی آنکھیں مرزا صاحب کی طرف سے کھلی رکھنا چاہئیں۔‘‘ فتح النساء نے جتایا تھا اور عین النور مسکرا دی تھیں۔
’’آپ کا ذہن ابھی تک وہیں اٹکا ہوا ہے۔ ان کے مشاعرے میں غزل پڑھنے والی بات پر؟‘‘ عین النور فتح النساء کو دیکھ کر مسکرائی تھیں۔
’’اچھا سنیںفتح النساء… مشاعرے میں غزل پڑھ دینے سے کوئی بے وفا نہیں ہو جاتا۔ لکھ دی ہوگی انہوں نے غزل۔ جوان دل ہیں۔ آپ تو جانتی ہیں رؤسا اور امراء کی اولادیں کیسے تیور رکھتی ہیں۔ ہمارے اپنے بھائی نواب جلال الدین پٹوڈی کو ہی دیکھ لیں۔ کیا کیا نہیں کرتے۔ باہر سے تعلیم حاصل کرکے آگئے پھر بھی مزاج بدلا نہیں۔ ابا جان کا خوب نام روشن کر رہے ہیں۔ سو آپ ان باتوں کو جانے دیں۔ رؤسا اور امراء کی عمارتوں میں کئی راز دفن ہوتے ہیں۔ ہم گھر میں رہنے والی مائیں بیٹیاں ان کی تربیت اپنے ڈھنگ سے کرتو دیتی ہیں مگر پھر بھی ان کے مزاج کی رنگینی کو ان کی ذات سے نکال نہیں پاتیں۔ تبھی ہم آپ سے کہتے ہیں۔ جلال بھائی سے محبت کا سلسلہ موقوف کردینا چاہئے آپ کو۔ آپ کی اس پاکیزہ محبت کی کوئی وقعت نہیں ہوگی ان کی نظر میں۔ وہ اس محبت سے کہیں آگے کی باتوں کو دیکھنے اور جاننے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ امراء اور رؤسا کی بیٹیاں بہت سی باتوں پر اپنے کان اور آنکھیں بند رکھتی ہیں فتح النساء۔‘‘ عین النور نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا اور فتح النساء اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔
’’آپ کو مرزا سے محبت نہیں؟ یہ سچ ہے نا؟‘‘ فتح النساء نے پوچھنا ضروری خیال کیا تھا۔ عین النور مسکرا دی تھی۔
’’اس سے فرق نہیں پڑتا فتح النساء۔ ہم نواب خاندان کی بیٹی ہیں اور ہمیں صرف فیصلوں پر سر جھکانا آتا ہے۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ بہرحال چلئے آپ۔ ہمارے ساتھ باہر تقریب میں چلئے۔ سب پوچھ رہے ہونگے۔ ویسے بھی اماں یا دادی اماں آگئیں تو فضول میں ایک لمبی چوڑی تقریر سننے کو مل جائے گی۔‘‘ عین نے اس کا ہاتھ تھاما تھا اور اسے لے کر چلتی ہوئی باہر کی تقریب میں آگئی تھی۔فتح النساء اسے حیرت سے دیکھتی ہوئی اس کے ساتھ چلتی چلی گئی تھی۔
…٭٭٭…
’’یہ جو ابا جان کے داہنے طرف کھڑی ہیں نا۔ یہ جنت الفردوس ہیں۔ ابا ان کا ہاتھ تمہارے لئے مانگنا چاہ رہے ہیں۔‘‘ عین النور پٹوڈی نے مدھم آواز میں اپنے بھائی کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی۔ جلال نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
’’ابا نے ہم سے ایسا کوئی ذکر نہیں کیا عین۔ اس سے اچھا تھا ہم انگلینڈ سے اپنے ساتھ کوئی فرنگی میم لے آتے۔ ابا جان کو ہمارے لئے یہ چپٹے ناک والی ، جاپانی آنکھوں والی جنت الفردوس ہی دکھائی دی ہیں؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی نشاندہی کیسے کریں گے؟ کیونکہ اس جاپانی آنکھوں چپٹے ناک والی حسینہ سے شادی کے بعد ہماری اولاد بھی ایسی ہی جاپانی آنکھوں والی پیدا ہوگی۔‘‘ جلال مسکرایا تھا۔ عین نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’ایسی بات ہے تو آپ کو اپنی پسند ابا جان کو بتا دینا چاہئے۔‘‘ عین نے بھائی کو نادر و نایاب مشورے سے نوازا تھا۔ جلال الدین مسکرا دیا تھا۔
’’ابان جان کو قائل کرنا مشکل ہے۔ وہ اس دنیا کی نہیں ہیں اور ابا ان کے لئے مانیں گے نہیں۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔ عین نے بھائی کو گھورا تھا۔
’’بات سنئے نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی۔ آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کافی آؤٹ آف ٹریک چل رہے ہیں اور آپ کی سوچ خاصی باغیانہ ہے۔ اس سوچ کو ہمارے محترم ابا جان اس زمانے میں اور اس وقت میں تو نہیں مان سکتے۔ شاید کسی اور زمانے کا انتظار آپ نہ کرپائیں۔‘‘ عین مسکرائی تھی۔
’’وہ بہت خوبصورت ہیں عین۔ ہم محبت کرنے سے باز نہیں رہ سکے۔ آپ ابا جان کو قائل کرنے میں ہماری مدد کریں گی نا۔‘‘ جلال نے بہن کی مدد لینا چاہی تھی۔ عین النور نے اسے گھورا تھا۔
’’اپنے ساتھ ساتھ آپ ہمیں بھی گھر سے باہر کروائیں گے جلال بھائی۔ چپکے سے جہاں ابا جان کہتے ہیں وہیں شادی کرلیں۔ یہی مناسب ہوگا۔ آپ کو محبت بہت غلط جگہ پر ہوئی ہے۔ ایسی محبت کو ابا جان تو قبول کریں گے نہیں۔‘‘ اس نے خدشہ بیان کیا تھا تب جلال نے اپنی فیملی کے ساتھ کھڑی جنت الفردوس کو دیکھا تھا۔
’’سوچ لیں آپ۔ پھر آپ کے بھتیجے بھی چپٹی ناک والے ہونگے۔ ہم سے شکوہ مت کیجئے گا۔‘‘ جلال برا سا منہ بنا کر بولا تھا اور عین مسکرا دی تھی۔
’’میرے بھتیجے کھڑی ستواں ناک والے بھی ہو سکتے ہیں اگر آپ اباجان کے بائیں طرف کھڑی فیملی کے ساتھ موجود لڑکی پر نگاہ ڈال لیں۔‘‘ عین النور نے موقع دیکھ کر فتح النساء کی طرف اشارہ کیا تھا۔ جس کا دل جلال کے لئے دھڑکتا تھا۔ مگر اس بات کی خبر اس نے کبھی جلال کو نہیں ہونے دی تھی۔
’’وہ یہ بھوری آنکھوں والی بلی۔ ہاں یہ اچھی ہیں مگر مزاج کی تیز ہیں اور ہمیں ان سے محبت بھی نہیں ہے۔‘‘ جلال نے ایسے برا منہ بنایا تھا جیسے کسی نے کونین کی گولی کھلا دی ہو۔ عین مسکرائی تھی۔
’’ہم نے فتح النساء کا نام لیا ہے۔ آپ کو کونین کی گولی نہیں کھلا دی ۔ اچھی خاصی لڑکی ہے جلال بھائی۔ محبت بھی ہو سکتی ہے اگر آپ ان کو غور سے دیکھیں تو اچھی خاصی خوبصورت ہیں۔‘‘ عین نے بھائی کو قائل کرنا چاہا تھا۔
’’محبت ایسے نہیں ہوتی عین۔ محبت ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ ہم لائحہ عمل بنا کر نیت باندھ کر محبت نہیں کر سکتے۔ محبت کی ایک بات بری ہے کہ بلا ارادہ ہوتی ہے۔ کسی بھی فرد سے جس سے چاہے ملنا ممکن ہوتا نہیں۔‘‘ جلال الدین گویا ہوا تھا جب عین النور پٹوڈی کی نظر اپنی طرف دیکھتے ہوئے تیمور بہادر یار جنگ کی طرف پڑی تھی۔ وہ جانے کب سے اس کی سمت بغور دیکھ رہے تھے۔ اسے جب نظروں کا احساس ہوا تھا تو تیمور بہادر یار جنگ نے نظروں کا زاویہ بدل لیا تھا۔
’’یہ یہاں تقریب میں بھی؟ یہ کون ہے؟ کوئی ابا کے جاننے والے؟‘‘وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی۔ جلال نے اس کی طرف دیکھا تھا۔
’’کیا ہوا؟ کچھ کہا آپ نے؟‘‘ جلال اور اس کی عمر میں زیادہ گیپ نہیں تھا سو وہ جلال سے بچپن سے ہی فرینک تھی۔ تبھی بولی تھی۔
’’یہ سامنے سیاہ سوٹ میں کون بندہ ہے جلال؟ کیا ابا نے اسے بھی انوائیٹ کیا ہے یا کہیں بن بلائے تو ہمارے گھر کی ضیافت میں نہیں گھس گیا؟‘‘ اس نے پوچھا تھا جب جلال اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا۔
’’آپ نے تیمور بہادر یار جنگ کو نہیں پہچانا عین النور؟ کمال کرتی ہیں آپ۔ یہ انکل حکمت یار بہادر جنگ کے بیٹے ہیں۔ ہمارے ساتھ انگلینڈ میں اسٹڈی کرتے رہے ہیں اور ہم سے ملنے ہی اس روز محل میں تشریف لائے تھے۔ آپ ان کو نہیں پہچان سکیں؟ یہ تو اکثر بچپن میں بھی ہمارے گھر تشریف لاتے رہے ہیں۔ ہم ان سے بہت قریب تھے سو یہ کھیلنے کے لئے ضد کرکے ہمارے یہاں آجاتے تھے۔ حکمت انکل بھی تردد نہیں کرتے تھے کیونکہ ابا اور ان کی گہری دوستی تھی۔‘‘ جلال نے مطلع کیا تھا تو عین النور کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا۔
’’اف…! تو تبھی وہ اس درجہ بے تکلف ہو رہے تھے اور تبھی بلاتردد مدد کرکے گھر تک بھی چھوڑ گئے تھے۔‘‘ عین النور نے صرف سوچا تھا۔ کہا نہیں تھا۔ اسے افسوس ہوا تھا اس نے تیمور بہادر یار جنگ کو پہچانا نہیں تھا اور اس سے سختی سے بھی پیش آئی تھی۔
تیمور دور کھڑا اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ عین کی نگاہ پڑی تھی تو وہ فوراً رخ بدل گئی تھی۔ تبھی وہ اپنے پیچھے کھڑے مرزا حیدر سراج الدولہ سے بری طرح ٹکرا گئی تھی۔ مرزا نے ان کو تھامنے کی کوشش نہیں کی تھی اور وہ زمین پر آرہی تھیں۔ تبھی ایک لمحے میں جلال نے جھک کر بہن کو اٹھایا تھا۔
’’اتنی لمبی ہیل پہننے کی کیا تک ہے جب آپ ڈھنگ سے چل بھی نہیں سکتیں؟‘‘ جلال نے بہن کو گھورا تھا۔
’’آپ نے ہی انگلینڈ سے یہ ہیلز لا کر دئیے تھے۔ پھر نہ لا کر دیتے تو ہم آج اس عشائیے میں یہ نہ پہنتے نا۔‘‘ اس نے شکوہ کرتی نظروں سے بھائی کو دیکھا تھا۔ جلا ل اسے گھورتے ہوئے اس کا پاؤں دیکھنے لگا تھا۔
’’موچ آگئی ہے۔ ویسے یہ آپ کے منگیتر صاحب مرزا حیدر سراج الدولہ خاصے ان مینرڈ ہیں۔ آپ کے پاس سے گزر گئے آپ کو سنبھالا تک نہیں حالانکہ جس طرح وہ آپ سے ٹکرائے تھے اگر آپ کو تھام لیتے تو آپ گرنے سے بچ بھی سکتی تھیں۔‘‘ جلال کو اچھا نہیں لگا تھا۔ عین النور پٹوڈی مسکرا دی تھی۔
’’ہمیں ہمارے اتنے مضبوط بھائی نے جو سنبھال لیا۔ اللہ ہمارے پیارے جلال کو لمبی عمر عطا کرے۔ اتنے مضبوط خوبرو لگتے ہیں آپ کہ ڈر لگتا ہے کہیں نظر ہی نہ لگ جائے۔ابھی اماں سے کہہ کر آپ کی نظر تو ضرور اتروائیں گے ہم۔‘‘ عین نے بھائی کو دیکھا تھا۔
’’ویسے بھی ہم ابھی تک تو اپنے ابا اور اپنے بھائی کی ہی ذمے داری ہیں نا۔ ہمیں کسی سے کوئی شکوہ نہیں نا ہم کسی سے کچھ توقع رکھتے ہیں۔‘‘ جلال اسے تھام کرکھڑا ہوا تھا جب اس نے کہا تھا۔
’’بات توقع یا ذمے داری کی نہیں ہے عین۔ آپ کی منگنی ان سے طے ہے۔ یہ کافی عجیب لگا وہ آپ کے قریب سے ایسے گزر گئے جیسے دیکھا تک نہیں۔ ایک رشتے کا احترام اور تقدس ہی بحال رکھیں یہی بہت ہوگا ۔ بہرحال ہمیں حیدر کا یہ اقدام پسند نہیں آیا۔ ہمیں نہیں لگتا وہ اچھے شوہر ثابت ہو سکیں گے۔‘‘ جلال نے فتویٰ دے دیا تھا۔ عین نے نرمی سے مسکراتے ہوئے بھائی کو دیکھا تھا۔
’’جانے دیں نا۔ معمولی بات ہے۔ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لینے سے رشتوں کی خوبصورتی چلی جاتی ہے۔‘‘ عین نے جلال کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
’’مگر اس طرح احساس نہ کرنے سے رشوتں کا احساس مر جاتا ہے اور وقعت جاتی رہتی ہے۔ بہرحال ہمیں اچھانہیں لگا۔‘‘ وہ ناگواری سے مرزا حیدر کو دیکھنے لگا تھا جو کچھ فاصلے پر کھڑے کسی سے باتیں کرتے ہوئے یکدم پلٹے تھے اور ان کے پاس آن رکے تھے۔
’’آئی ایم سوری۔ میںنے آپ کو دیکھا تک نہیں تھا۔ آپ کو زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘ وہ جلال سے ہاتھ ملاتے ہوئے عین النور سے پوچھنے لگا تھا۔ عین نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سر انکار میں ہلایا تھا اور ساتھ ہی جلال کا ہاتھ دبا کر اسے کچھ کہنے سے باز رکھا تھا۔ جلال اسے ناگواری سے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
تبھی فتح النساء وہاں آئی تھی۔
’’کیا ہوا عین؟ ہم نے سنا آپ اچانک گر گئیں؟ کہیں چوٹ تو نہیں آئی؟‘‘ فتح النساء نے پوچھا تھا۔ تبھی نگاہ مرزا حیدر سراج الدولہ سے ٹکرائی تھی۔ ان کی نگاہوں میں انہیں بہت بے باکی اور عجیب ایک احساس دکھا ئی دیا تھا جو انہیں معیوب لگا تھا۔تبھی وہ حیدر کو نظر انداز کرکے جلال کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
’’جلال آپ پریشان نہ ہوں میں عین کو سنبھالتی ہوں اور ان کے پاؤں کا مساج بھی کردیتی ہوں۔ معمولی موچ آئی ہوگی۔ آپ جائیے آپ کو چچا جان ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘ اس نے جلال کو پیغا م دیا تھا اور حیدر کی سمت دیکھا تھا۔ جلال سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ گیا تھا۔
وہ فتح النساء کی طرف دیکھ کر مسکرائے تھے۔
’’آپ کو کسی طرح کی مدد چاہئے تو میں موجود ہوں۔‘‘ کسی قدر معنی خیز لہجے میں بولا تھا وہ جب فتح النساء نے انہیں گھورا تھا۔
’’جب آپ کی مدد کی ضرورت تھی تب تو آپ نے نگاہ تک نہیں کی عین النور پر اور دوسروں کو اب کس مدد کی پیشکش کر رہے ہیں آپ؟‘‘ فتح النساء بہت بہادر اور نڈر لڑکی تھی۔ صاف منہ پر کہنے کی ہمت وہ رکھتی تھیں۔ انہیں اس درجہ بے باکی سے دیکھا جانا اچھا نہیں لگا تھا۔ دوسرے انہوںنے دور کھڑے دیکھا تھا جس طرح حیدر عین سے ٹکرا کر بنا انہیں سنبھالے گزرے گئے تھے۔
وہ عین کو لے کر ایک سمت آگئی تھیں اور انہیں کرسی پر بیٹھنے میں مدد دیتے ہوئے ملازمہ کے ہاتھ سے تیل لے کر جھک کر عین کے پاؤں کا مساج کرنے لگی تھیں۔ عین انہیں دیکھنے لگی تھی۔
’’آپ کو حیدر اچھے نہیں لگتے؟‘‘ جانے کیا سوچ کر عین نے پوچھا تھا۔
’’بات اچھا لگنے کی نہیں ہے عین۔ مگر وہ ایک رشتے میں ہیں اور ان کو اس رشتے سے وابستہ ذمے داریوں کا احساس ہونا چاہئے اور یہ تو انسانیت بھی ہے۔ وہ تو تھوڑی بہت انسانیت تو دکھا سکتے تھے۔ کیا جاتا اگر آپ کو تھام کر گرنے سے بچا لیتے۔ آپ کو یہ چوٹ تو نہیں آتی نا۔‘‘ فتح النساء نے کہا تھا۔ عین مسکرا دی تھی۔
’’شکوے شکایتیں کرنے سے رشتوں کا حسن اور خوبصورتی زائل ہو جاتی ہے فتح النساء اور احساس دلایا نہیں جاتا۔ شاید مرزا صاحب نے ہمیں دیکھا نہیں تھا۔اگر وہ دیکھتے تو ضرور گرنے سے بچا لیتے۔‘‘ اس نے مرزا کی طرف داری کی تھی شاید وہ مصلحتاً اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھیں۔
فتح النساء نے انہیں دیکھا تھا۔ ان کی آنکھوں میں کئی باتیں تھیںجن کا ارادہ انہوںنے ملتوی کردیا تھا اور عین انہیں دیکھ کر مسکرائی تھیں۔
’’فتح النساء ہم آپ جیسا نڈر اور بہادر ہونا چاہتے ہیں مگر ہم میں ہمت نہیں۔ آپ بہت بڑی خصوصیت سے نوازی گئی ہیں۔ ایٹ لیسٹ آپ اپنی ناپسندیدگی کا اظہار واضح انداز میں کسی کے منہ پر کر سکتی ہیں۔ ہمیں تو یہ وصف بھی نہیں آتا۔‘‘ عین نرمی سے مسکرائی تھیں۔ فتح النساء ان کو دیکھنے لگی تھیں۔
’’Exactly۔ یہی کہنا چاہتے تھے ہم۔ آپ لوگوں کو خاص رعایت دینے کی عادی ہیں جو کہ غلط ہے۔ بہرحال ہمیں آج آپ کے مرزا صاحب ایک آنکھ نہیں بھائے۔ اس حرکت کو دیکھ کر آپ کے دل پر کیا گزری ہم نہیں جانتے ۔ ہم ہوتے تو فوراً جا کر شادی سے انکار کردیتے۔ ایسے بندے سے کون شادی کرنا چاہے گا جو آنکھ میں شرم…!‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی تھیں۔ عین نے انہیں بغور دیکھا تھا۔ تبھی تیمور بہادر یار جنگ وہاں تشریف لائے تھے۔
’’سنا ہے کوئی اچانک گر گیا۔ ہم خیریت معلوم کرنے آئے تھے کہیں زیادہ چوٹ تو نہیں آئی؟‘‘ تیمورنے سینے پر ہاتھ باندھ کر پوچھا تھا۔ فتح النساء انہیں دیکھ کر مسکرائی تھیں۔ عین نگاہ پھیر کر اجنبی بن گئی تھی۔
’’جن زادے آپ یہاں اس عشائیے میں کہاں؟ آپ کو اپنی دینا کے مسائل کی کوئی پروا نہیں جو یہاں وہاں گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں آپ؟‘‘ فتح النساء نے کہا تھا۔ وہ مسکرا دیا تھا۔
’’ہمار ی دنیا کے مسائل آپ کی اس دنیا سے کچھ کم ہیں فتح النساء بی بی۔ اس لئے ہم زمین پر نظر بھی کرلیتے ہیں۔ جن زادوں میں انسانیت کچھ باقی ہے ابھی۔‘‘ تیمور کے کہنے پر فتح النساء مسکرائی تھی۔ تیمور عین النور کو بغور دیکھنے لگا تھا۔
’’کسی طرح کی مدد کی ضرورت ہو تو بتا دیں۔ ہم زمین کے سفر پر ہیں۔ کہکشاؤں کو اٹھا کر زمین پر لا دینے کا وعدہ تو نہیں کرتے مگر اگر آپ حکم دیں تو آپ کی خوشی کے لئے زمین کا ذرہ ضرور بن سکتے ہیں۔ پھر چاہے آپ خالی اڑادیں اور مٹی میں ملا دیں اور چاہیں تو ستارہ بنا کر آسمان پر سجادیں۔ یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہوگا۔‘‘ وہ فتح النساء سے بولا تھا مگر نظریں غیر ارادی طور پر عین النور کے چہرے کا طواف کرتی رہی تھیں۔ عین اس کی سمت متوجہ دکھائی نہیں دی تھی۔ فتح النساء مسکرا دی تھی۔
’’جن زادے آپ کے تیور کمال کے ہیں۔ لگتا ہے ارادہ باندھ کر آئے ہیں کہ دل جیت کر جائیں گے۔ ویسے سنیں۔ کیا جن زادے واقعی اس قدر خوبرو ہوتے ہیں؟ ہمیں اگر جلال سے محبت نہ ہوتی تو سچ میں آج دل ہار جاتے مگر یہ دل کم بخت اس کے لئے دھڑکتا ہے جن کو ہماری دھڑکنوں سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔‘‘ فتح النساء مسکرائی تھیں اور تیل کی شیشی ملازمہ کو تھما کر جانے کا اشارہ کیا تھا اور عین کا پاؤں زمین پر رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔ تیمور عین النور کی سمت دیکھ کر مسکرایا تھا۔ عین اس کی سمت بنا کسی تاثر کے دیکھ رہی تھی۔
’’یہ جن زادے نہیں ہیں۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا یہ چاچا حکمت بہادر یار جنگ کے سپوت ہیں۔ ہمیں مشکل میں دیکھ کر یہ فقط ہماری مدد کو آئے تھے مگر اس ویرانے میں اگر آپ مل ہی گئے تھے تو اپنے بارے میں بتا دینے میں کیا قباحت تھی؟‘‘ عین نے اسے گھورا تھا۔ وہ مسکرا دیا تھا۔
’’اگر آپ کو بتا دیتے تو آپ جن زادے کا خطاب کیسے دیتیں؟ ہمیں یہ اعزاز ملنا ضروری تھا۔ بہرحال آپ کے پاؤں کا درد کیسا ہے اب؟ اتنی بہادر خاتون نے آپ کے پاؤں کی مالش کردی۔ اب تو موچ بھی ڈر کر بھاگ گئی ہوگی۔‘‘ وہ فتح النساء کی سمت دیکھ کر مسکرایا تھا۔ فتح مسکرا دی تھی۔
’’شکریہ۔ نوازش ہے۔ لیکن آپ کو خبر کیسے ہوئی کہ ہم بہادر ہیں؟‘‘ فتح نے پوچھا تھا۔ تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’مت بھولئے ہم بچپن سے اس گھر میں آتے جاتے رہے ہیں۔ آپ سے واقف ہیں۔‘‘
’’اوہ …! مگر عین آپ ان کے بارے میں کیسے بھو ل گئیں؟ آ پ کی یاد داشت تو خاصی اچھی ہے نا۔‘‘ فتح النساء مسکرائی تھی۔ عین تیمور کی طرف دیکھنے لگی تھیں۔
’’تب یہ سوکھے سڑے سے کھمبا سے تھے۔ ہمیں کیا خبر تھی۔ چند برسوں میں اتنا بدلاؤ آجائے گا۔ تب تو اتنا شرمائے گھبرائے رہتے تھے کہ ہمارے سامنے ان کی آواز بھی نہیں نکلتی تھی۔ آپ کو یاد ہے فتح ہم نے والی بال کا میچ ہارنے پر ان کے لئے جب سزا تجویز کی تھی تو ان کی کیسی گھگھی سی بندھ گئی تھی؟ تھر تھر کانپنے لگے تھے موصوف۔‘‘ عین کے کہنے پر تیمور مسکرا دیا تھا۔ تبھی فتح النساء بولی تھیں۔
’’تب کی بات اور تھی عین۔ تیمور محض بارہ تیرہ برس کے تھے۔ گھبرا گئے تھے۔ تب آپ کا مزاج بھی تو ہلڑ والا تھا نا۔ آپ خاص رعایتوں کا حقدار کچھ خاص لوگوں کو ہی سمجھتی تھیں۔ بہرحال آپ کی نوعمری میں آپ پر ہونے والے ان ظلم کے خلا ف میں آواز اٹھانے کو تیار ہوں تیمور بہادر یار جنگ۔ عین نے اس وقت آپ کو کئی کڑی سزائیں دی تھیں جو کہ جائز بھی نہیں تھیں۔‘‘ فتح النساء مسکرائیں تھیں۔
تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’شکریہ فتح النساء۔ آپ انسان دوست لگتی ہیں۔‘‘ تیمور نے کہہ کر عین النور کا ہاتھ یکدم تھاما تھا اور اسے کھڑا کرکے قدم قدم چلاتا ہوا چھت کے کنارے تک لے گیا تھا۔ جہاں تاروں سے بھرا چمکتا آسمان ان دونوں کے سروں پر کسی تھال کی طرح سجا تھا۔عین اسے حیرتوں سے بھری نظروں سے دیکھنے لگی تھی جب وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
’’رات میں جب کہکشاؤں سے آتی ایک روشنی جلتی بجھتی روشنیوں میں اضافہ کرتی ہوئی چمکتی ہے تو سنا ہے پلکیں جھپکتے ہوئے ہزاروں جگنوں یکدم ٹھٹک جاتے ہیں کیونکہ آپ کی آنکھو ں میں حیرتوں کا جو بہاؤ ہوتا ہے اس کا شمار ممکن نہیں ہوتا۔‘‘ اس کا نازک سا ہاتھ اس کے ہاتھ کی مضبوط گرفت میں تھا جب وہ مدھم لہجے میں اسے بغور دیکھتے ہوئے بولا تھا اور عین نے اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’کیا ہم آپ کے ساتھ کافی کا ایک کپ پینے کا شرف حاصل کر سکتے ہیں؟‘‘ وہ بولا تھا جب عین نے سر انکار میں ہلایا تھا اور اس کی سمت سے نگاہ چرا لے گئی تھی۔
’’عجیب کشش تھی اس بندے میں اور وہ اس کی سمت دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
’’بچپن کے دوست ہیں ہم آپ کے، جیسے فراموش کر گئی آپ۔ یاد رکھئے بہت فراخ دلی سے آپ کی ساری سزاؤں کو سہا ہے۔ یقین نہیں ہوتا آج اتنا نرم دل رکھنے والی لڑکی وہی ہے جو ہمیں ہمارے وزن کے مطابق پتھر اٹھا کر پورے میدان کا چکر لگانے پر مسکرا کر دیکھا کرتی تھیں۔ کتنی ظالم تھیں آپ عین النور پٹوڈی۔‘‘ وہ شکوہ کرتے ہوئے بولا تھا اور ایک لطیف سی مسکراہٹ خود بخود اس کے لبوں پر حصار کر گئی تھی۔
’’ہم نے تب ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔ آپ ہر بار ہار جاتے تھے اور ہمیں آپ پر غصہ آتا تھا۔‘‘ عین بولی تھی۔ وہ حیرت سے دیکھنے لگا تھا۔
’’آپ کو غصہ آتا تھا کہ میں ہار کیوں جاتا تھا؟‘‘
’’نہیں عین کو غصہ اس لئے آتا تھا کہ آپ جان بوجھ کر کیوں ہارجاتے تھے۔‘‘ عقب میں کھڑی فتح النساء نے کہا تھا تب تیمور اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تھا۔
’’ہار کبھی کبھی بہت لطیف احساس رکھتی ہے فتح النساء۔ آپ کو تو اس بات کا احساس بخوبی ہوگا نا؟‘‘ تیمور کے جتانے پر فتح النساء مسکرائی تھی۔
’’ہمیں احساس ہے تیمور بہادر یار جنگ مگر کاش اس کا احساس اس دوسرے فریق کو بھی ہوتا۔‘‘ فتح کے لبوں پر بجھی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ پلٹی تھی اور وہاں سے چلی گئی تھیں۔
’’ہمیں بھی جانا ہے۔‘‘ عین تنہا اس کے ساتھ ہونے کے خیال سے سہم کر بولی تھیں اور تیمور ان کا چہرہ دیکھنے لگا تھا۔
’’آپ کی آنکھوں میں یہ ڈر کیسا ہے عین النور؟ آپ چاہیں تو ہم آپ کو تقریب میں واپس چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ تیمور نے اس کے چہرے کو بغور پڑھتے ہوئے کہا تھا۔عین نے اس کی سمت دیکھے بنا سر انکار میں ہلایا تھا اور ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑا کر پلٹی تھی مگر مڑ کر ایک ہی قدم چلی تھی جب پاؤں میں درد کی ٹیس دوبارہ اٹھی اور وہ سسک کر رہ گئی تھی۔ تب تیمور نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا تھا اور اسے گرنے سے بچایا تھا۔ ایک عجیب سے احساس کے ساتھ عین النور اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’میں نے اپنے بچپن کی دوست کو مدد دی ہے اور یہ کچھ اتنا عجب بھی نہیں ہے۔ پھر آپ اس درجہ حیرت سے میری طرف کیوں دیکھ رہی ہیں؟‘‘تیمور نے اسے جانچا تھا۔ وہ نگاہ پھیر گئی تھی۔
’’اس دوستی کے کوئی معنی نہیں رہے تیمور بہادر یار جنگ۔ وہ بچپن کا ایک قصہ تھا۔ ہم بچے تھے۔ ہم نے جو سزائیں آپ کو دیں وہ نا سمجھی میں دیں۔ اگر ہم آپ سے اب ملتے تو ہم آپ کے ساتھ بہت اچھے سے پیش آتے۔‘‘ وہ وضاحت دیتی ہوئی بولی تھی۔ تیمور مسکرا دیا تھا۔
’’میں آپ سے ان سزاؤں کے لئے کوئی شکوہ شکایت نہیں کررہا عین النور پٹوڈی۔ میں آپ کو صرف اس دوستی کی نوعیت اور معنی یاد دلا رہا ہوں کہ وہ دوست کتنی بے ریا اور کس قدر معصوم تھی۔ آپ اب بھی مجھے ویسی سزاؤں سے نواز سکتی ہیں اور مجھے کوئی قباحت نہیں ہوگی۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔ عین اس سے ایک قدم دور ہٹی تھی۔ نگاہ اس کی طرف سے پھیر لی تھی۔ تبھی پاؤں لڑکھڑائے تھے۔ قریب تھا کہ وہ گرتی کہ تیمور نے ہاتھ بڑھا کر اسے یکدم تھام کر اپنی طرف کھینچا تھا اور اسے گرنے سے بچایا تھا مگر اس کوشش میں اس کا سر تیمور کے سینے سے آن ٹکرایا تھا اور وہ بوکھلا کر رہ گئی تھی۔
’’رشتوں کو زمین پر ڈھونڈنا عبث ہے عین النور پٹوڈی کیونکہ رشتے زمین پر نہیں بنتے بلکہ آسمان پر جڑتے ہیں۔ آپ جن رشتوں کا خوف اپنے اندر اپنی دھڑکنوں میں محسوس کرتی ہیں ان کی وقعت اسی ڈر کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے کیونکہ رشتے ڈر نہیں دیتے۔ تحفظ دیتے ہیں۔ جو رشتہ نظروں میں خوف بھرے اور دھڑکنوں کو بے ربط کردے وہ وہیں دم توڑ رہا ہوتا ہے۔ اسے ختم کرنا یا مارنا نہیں پڑتا۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں درج خوف کو جیسے سطر سطر پڑھ رہا تھا۔
عین اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔ پھر اس کا ہاتھ چھوڑ کر ریلنگ کو تھام کر کھڑی ہوئی تھی۔
’’رشتوں کی وقعت انہیں ماننے سے ہوتی ہے تیمور بہادر یار جنگ اور جن رشتوں کو ہم مان لیں ان کی وقعت بھی جانے نہیں دیتے۔‘‘ اس نے مضبوط لہجے میں جتایا تھا۔ اسے تیمور بہادر یار جنگ کے انداز میں اور آنکھوں میں ایک خاص احساس صاف دکھائی دے رہا تھا اور وہ اس احساس کو نظر انداز کردینا چاہتی تھی۔
وہ اسے واضح کردینا چاہتی تھی کہ وہ کسی سے منسوب ہے اور اس رشتے کے ساتھ خوش ہے۔
’’جانے آپ کیا سوچ رہے ہیں تیمور بہادر یار جنگ۔ ہم آپ کو جتانا چاہتے ہیں کہ ہم کسی کے نام سے منسوب ہیں اور ہم اس احساس کو اپنے اندر مکمل گہرائی تک محسوس کرتے ہیں۔‘‘ وہ باور کرانے لگی تھی ۔
’’اور یہ محبت ہے؟‘‘ تیمور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تھا۔ وہ کوئی جواب نہیں دے پائی تھی۔ تبھی وہ بولا تھا۔
’’جب آپ مرزا حیدر سراج الدین سے ٹکرائی تھیں میں وہیں قریب تھا۔ چاہتا تو آپ کو تھام کر گرنے سے بچا سکتا تھا مگر میں نے آپ کو اس رشتے کو آزمانے کے لئے سہارا نہیں دیا تھا۔ کیونکہ میں چاہتا تھا آپ خود اس رشتے کے معنی سمجھیں۔‘‘ تیمور نے جتایا تھا۔
’’ہمارے بھائی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے ہمیں سنبھال لیا تھا۔ ہمیں کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے لئے ہمارے بھائی کا مضبوط سہارا کافی تھا۔‘‘ عین النور گردن اکڑا کر مضبوط لہجے میں بولی تھی۔ تیمور اسے دیکھ کر مسکرایا تھا گویا اس کی نادانی پر افسوس کیا تھا۔
’’بھائی کا رشتہ ایسا ہے جو ہمیشہ آپ کے ارد گرد نہیں رہے گا عین۔ آپ جس سلسلے سے منسلک ہیں آپ کو عمر اسی کے ساتھ گزارنا ہے۔ آپ کسی رشتے پر اس طرح اندھا یقین نہیں کر سکتیں جب کہ وہ رشتہ اس قابل نہ ہو۔ اگر آپ کو محبت ہے تو ٹھیک ہے لیکن محبت بھی اس درجہ رعایت نہیں دیتی۔‘‘ وہ اسے کیا جتا رہا تھا۔ وہ سمجھنے کی کوشش میں اسے حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔
’’بہتر ہوگا۔ آپ ہمارے نجی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ہم اس کی اجازت کسی کو نہیں دیتے۔ ہمارے ابا جان نے جو رشتہ طے کیا ہے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ محبت ساتھ رہنے سے ہوتی ہے۔ ابھی ہم کسی کے ساتھ نہیں تو کسی کی ذمے داری بھی نہیں۔ سو کسی کو اس ذمے داری کا کوئی احساس بھی نہیں۔ جب ہم ان کے ساتھ ہونگے تو تب ان کو اپنی ذمے داریوں کا احساس بھی بھرپور طور پر ہوگا۔ ہم اپنے ابا جان کے انتخاب پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں اور ان کے خلاف نہیں جا سکتے۔ آپ ہمیں باغی ہونے کا احساس کرانا بند کریں۔‘‘ وہ تنک کر بولی تھی مگر اس کی تمکنت اور غصے کے باوجود وہ نرمی سے مسکرا دیا تھا۔
’’محبت ساتھ رہنے سے نہیں ہوتی عین النور پٹوڈی نہ دور جانے سے ہوتی ہے۔ محبت ہوتی ہے اور بس ہوتی ہے۔ اگر ہوتی ہے تو تا ابد قائم رہتی ہے۔ اگر نہیں ہوتی تو تا ابد اس کا احساس محسوس نہیں ہوتا۔ آپ کو اپنے اندر دبی ان غلط فہمیوں کا اپنے طور پر تدارک کرنا چاہئے۔ کسی پر اس درجہ بھروسہ اور اعتقاد زندگی میں کئی پچھتاوؤں کا سبب بنتا ہے اور میں آپ کو بغاوت پر نہیں اکسا رہا۔ ایک رشتے کی حقیقت سمجھا رہا ہوں جس پر آپ حد درجہ یقین کر رہی ہیں۔‘‘ تیمور نے جتایا تھا۔
وہ خاموش ہو کر چہرہ پھیر گئی تھی۔ تب تیموراسے خاموشی سے دیکھنے لگا تھا۔وہ اس کی سمت سے نگاہ پھیرے جانے کیا تلاش رہی تھی اور تیمور اس کی خاموشی پر یکدم مسکرایا تھا۔
’’اور خاموشی میں اس کو سنتے ہوئے اندازہ نہیں ہوپاتا کہ لفظ کہاں آکر رکتے ہیں اور کہاں سے پھر آغاز کرتے ہیں۔ لا بیان تذکرے کرتے ہوئے کہاں اپنا تسلسل جاری رکھتے ہیں۔ ‘‘ وہ مدھم لہجے میں بولا تھا اور میں اسے حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔
عجب سحر باندھ رکھا تھا اس نے اس کے ارد گرد جیسے ایک جادو حصار باندھے ساکت کھڑا تھا اور وہ جوحد درجہ محتاط تھی اور خود کو ایک رشتے کا پابند ظاہر کرے خود کو ثابت قدم رہنے کا یقین دلاتے رہنا چاہتی تھی جانے کیوں ایک انچ بھی اپنی جگہ سے سرک نہ پائی تھی ۔ اسرار ان لمحوں میں تھا یا اس شخص کی موجودگی میں؟ وہ سمجھ نہیں پائی تھی مگر وہ اس شخص یا اس کی موجودگی کو کوئی اہمیت دینا نہیں چاہتی تھی مگر وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی۔ ستاروں بھرا آسمان اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ تیز ہوا کا شور اس کی خاموشی پر حیران تھا۔ ہوا اس کی لٹوں سے الجھتے ہوئے جانے کونسی سرگوشیاں کرکے اسے جتانے کی لگن میں تھی جب اس نے خاموشی سے تیمور بہادر یار جنگ کو دیکھا تھا۔وہ اس کی خاموشی پر جانے کیوں مسکرایا تھا۔
’’میں نہیں جانتا کہ جہاں ربط نہیں ہوتا وہاں کوئی رشتہ کیسے جڑتا ہے۔ میں غیب کے کلیوں اور مفروضوں کے اعداد و شمار کو سمجھنے کی سعی نہیں کر سکتا مگر مجھے ایک الہام ہوتا ہے۔ جیسے آپ کا ہاتھ تھامنا اور قدم قدم آپ کے ساتھ چلنا اور اس سفر میں آپ کو محفوظ کرنا جیسے میرا حق ہے اور اولین فرض بھی۔ سو آپ چاہیں بھی تو اس سفر میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر چلنے سے مجھے نہیں روک سکتیں۔‘‘ وہ مدھم لہجے میں کہتے ہوئے مسکرایا تھا۔ عین النور اس کی سمت دیکھ نہیں پائی تھی اور چہرہ پھیر کر لنگڑاتے قدموں سے چلتی ہوئی اس سے دور نکلنے لگی تھی۔ موچ کے باعث اس سے چلنا بھی دشوار تھا سو تیمور نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر چلنے میں مدد دی تھی۔
عین النور اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔ مگر اس کو چلنے میں مسئلہ تھا سو وہ اس کے ہاتھ کو فوری طور پر جھٹک نہیں سکی تھی۔ تیمور اس کی سمت خاموشی سے دیکھنے لگا تھا اور جانے کیوں عین کو وہ نظریں شکوہ کرتی دکھائی دی تھیں۔ وہ آنکھیں کیا کہہ رہی تھیں؟
’’جانتا ہوں امانتوں کو سنبھال کر رکھنا شرط ہے مگر عقل و خرد کو جب یہ باتیں سمجھ میں نہ آرہی ہوں تو دل کو بات کرنے دینا چاہئے۔ جو اعداد و شمار عقل کے دائروں میں ناممکنات میں شمار ہوتا ہے۔ دل کے لئے ممکن ہے بشرطیکہ کوئی تمام شرائط و ضوابط کو کالعدم قرار دے دے۔‘‘
ان لفظوں میں کیا بھید تھے وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔ مگر وہ ہاتھ جو اس کے ہاتھ میں تھا اس میں ایک خاص حدت تھی۔ اگر اس کا ہاتھ تھام کر چلنا اس وقت عین النور کی مجبوری نہ ہوتی تو وہ پل میں اس کا ہاتھ چھڑا کر آگے بڑھ چکی ہوتی۔ وہ اس کی باتوں کے اسرار نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ بھید اسے سنائی نہیں دے رہے تھے۔ مگر وہ ایک خاص حصار اپنے گرد محسوس کر رہی تھی۔
یہ حصار کس بات کی طرف نشاندہی کر رہا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔
مگر ان لمحوں میں کوئی خاص بات تھی جسے وہ سمجھتے ہوئے بھی نظر انداز کردینا چاہتی تھی۔ تیمور بہادر یار جنگ اس کا ہاتھ تھامے قدم قدم اس کے ساتھ چل رہا تھا۔وہ رشتوں کے ان احساسات سے جیسے قطعی نا بلد تھی مگر سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
…٭٭٭…
’’کیسی ہیں آپ عین النور پٹوڈی؟ ہمیں افسوس ہے آپ کو ہماری وجہ سے یہ چوٹ لگی۔‘‘ مرزا حید ر سراج الدولہ جیسے ایک رکھ رکھاؤ کے تحت اس کے سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا۔وہ سر اٹھا کر خاموشی سے اس کی سمت دیکھنے لگی تھی۔
’’مرزا حیدر سراج الدولہ ہم مروت کے تحت جن کاموں کو انجام دیتے ہیں ان میں کوئی واضح دلیل نہیں ہوتی۔ نہ احساس کی کوئی رمق باقی ہوتی ہے۔ آپ جیسے ہیں ویسے رہیے۔ یہ مروت کچھ عجیب لگتی ہے۔‘‘ عین النور پٹوڈی نے صاف گوئی سے کہا تھا اور مرزا حیدر اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
وہ اپنی جگہ کسی قدر شرمندہ دکھائی دیا تھا مگر فوری طور پر کچھ بولا نہیں تھا۔ پھر مروت کے ہی تحت غالباً کچھ کہنے کو منہ کھولا تھا جب وہ بولی تھی۔
’’ہم بچپن سے ایک رشتے میں منسوب ہیں حیدر… جو فکرمندی آپ نے تب سے نہیں دکھائی اس کا اب احساس جتانا عجیب ہی تو ہے۔‘‘ وہ مسکرائی تھی۔ وہ شرمندہ ہوا تھا۔ عین کی طرف دیکھ نہیں پایا تھا۔ بس مدھم لہجے میں بولا تھا۔
’’ہم ایسے ہی ہیں عین۔ آپ ہمیں اچھے سے سمجھتی ہیں۔ پھر آج شکوہ کیوں؟‘‘ وہ اس کے شکوہ کرنے پر گویا حیران ہوا تھا۔ عین مسکرا دی تھی۔
’’نہیں ہم شکوہ نہیں کررہے حیدر۔ ہم آپ کو جتا رہے ہیں کہ آپ مروت کا سہارا نہ لیں۔‘‘ وہ بولی تھی تو حیدر اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
’’ہم جس رشتے میں ہیں وہاں توقعات اور شکوؤں کا وجود ہونا عبث نہیں عین۔ مگر ہم وہ لگاؤ محسوس نہیں کرتے یہ درست ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آپ کو ناپسند کرتے ہیں۔ ہماری رضا اس رشتے میں ہے۔ شاید ہم رشتوں کو لے کر کچھ سرد ہیں۔ اماں بھی یہی کہتی ہیں کہ ہم رشتوں سے اس درجہ قریب نہیں۔ ہم اپنے سے وابستہ رشتوں کو وہ لگاوٹ دکھا نہیں پاتے شاید مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان رشتوں کی قدر نہیں کرتے۔ ان رشتوں کا کوئی احساس نہیں۔‘‘ حیدر نے وضاحت دی تھی۔ اس کی سردمہری میں کیسا اسرار تھا۔ یہ تو عین سمجھ نہیں پائی تھی مگر وہ اس کے لفظوں پر غور کر رہی تھی۔
’’آپ نے کبھی اس رشتے اور ہمارے بارے میں وضاحت سے سوچا؟‘‘ عین نے جانے کیا سوچ کر کہا تھا۔ مرزا حیدر انہیں خاموشی سے دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلانے لگے تھے۔ عین کی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی تھی۔
’’اگر آپ ہمارے بارے میں سوچتے ہیں ۔ ہم سے کوئی لگاؤ نہیں تو پھر یہ رشتہ کس کام کا ہے؟‘‘ عین اس رشتے کی الجھنوں کے سرے ڈھونڈنے میں لگی تھیں اور مرزا حیدر انہیں خاموشی سے دیکھنے لگے تھے۔ ان کی سماعتوں میں اباجان کے الفاظ گونجے تھے جہاںوہ مرزا حیدر سے حد درجہ خائف تھے۔
’’مرزا حیدر اگر آپ نے اپنے تیور نہ بدلے تو ہم آپ کو اپنی جائیداد سے عاق کردیں گے۔ بہت شکایتیں سن رہے ہیں آپ کی۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ بات نواب صاحب کے کانوں تک نہ پہنچ جائے اور کہیں وہ رشتہ ختم نہ کردیں۔ سوچ لیں آپ۔ نواب صاحب سے رشتے کے ختم ہونے کے بارے میں ہم سوچ نہیں سکتے۔ سو آپ شرافت سے اپنے تیور بدل لیجئے۔ ورنہ انجام سے آپ خود نقصان اٹھائیں گے۔ آپ کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے کوئی رشتہ نہیں دے گا۔ شکر کرو ابھی تک نواب صاحب کو آپ کی حرکتوں کی خبر نہیں پہنچی۔ ان کی اکلوتی بیٹی کی زندگی تم سے جڑی ہے۔ کوئی بھی قدم اٹھائیں تو سوچ سمجھ کر اٹھائیں۔‘‘ ابا جان نے سمجھایا تھا اور وہ سر جھکائے سنتا رہا تھا۔ وہ عین کو اپنے ارادوں کے بارے میں نہیں بتا سکتا تھا کہ وہ ان میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
ان کا حسن… ان کی دلکشی… کسی میں دلچسپی نہیں تھی انہیں۔ اگر وہ اس رشتے کو نبھانے پر مجبور تھا تو صرف اس لئے کہ اسے ابا جان کی دھمکی کا ڈر تھا۔ اگر عاق کئے جانے کا خوف نہ ہوتا تو وہ رشتے کو ختم کر چکا ہوتا۔ وہ اپنی سوچوں میں الجھا ہوا تھا جب عین بولی تھی۔
’’آپ کو یاد ہے بچپن میں ایک بار آپ ہمارے گھر آئے تھے۔ بارش ہو رہی تھی اور ہم آپ کو ملنے کے لئے بے اختیار باہر آ ئے تھے۔‘‘ عین بولی تھی جب اس نے سر اٹھایا تھا۔
’’ہاں ہمیں یاد ہے۔ آپ کو بخار تھا اور آپ بارش کی پروا کئے بنا باہر آگئی تھیں ہم سے ملنے۔ ہمیں تب افسوس ہوا تھا ہم آپ کو اس بارش میں بھیگنے سے روکنا چاہتا تھا مگر تب تک آپ مکمل طور پر بھیگ چکی تھیں۔ ہمیں افسوس ہوا تھا کہ آپ بھیگ کر بیمار پڑ گئی تھیں اور اگلا پورا ہفتہ آپ بستر سے اٹھ نہیں سکی تھیں اور ہمیں آپ کی فکر ہوتی رہی تھی۔‘‘ مرزا حیدر سراج الدولہ نے اس سے لگاوٹ جتانا ضروری خیال کیا تھا اور عین النور آسودہ سی مسکراہٹ کے ساتھ حیدر کو دیکھنے لگی تھی۔
’’ہم جانتے ہیں آپ کو ہمارا خیال رہتا ہے چاہے آپ اس کا اظہار کریں یا نہ کریں۔ ہم جانتے ہیں کچھ لوگ کسی رشتے سے محبت یا لگاوٹ کااظہار نہیں جانتے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ربط جڑا ہوا نہیں۔‘‘ وہ ملائمت سے مسکرائی اور حیدر نے اس کی طرف دیکھا تھا پھر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’آپ اپنا خیال رکھئے گا۔ ہم پھر بات کریں گے آپ سے۔‘‘ کہہ کر وہ پلٹا تھا اور چلتا ہوا باہر نکل گیا تھا اور عین اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔
…٭٭٭…
فتح النساء کسی کام سے باہر آئی تھی جب حیدر چلتا ہوا اس کے سامنے آن رکا تھا۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی مگر سیڑھی کے آخری قدم پر جا کر اس کا پاؤں غرارے کے الجھاؤ میں بے طرح الجھا تھا اور وہ دھڑم سے زمین پر جا پڑی تھی۔ سراج حیدر اس کے قریب آیا تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرایا تھا اور پھر سہارا دے کر اسے کھڑا ہونے میں مدد دی تھی۔ فتح النساء کو اس کی آنکھیں نظروں کی بے باکی بہت بری لگی تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ جھٹک کر سیدھے کھڑے ہوتے ہوئے اسے ناگواری سے دیکھا تھا۔
’’مرزا حیدر سراج الدولہ بہت بری نظر ہے آپ کی۔‘‘ وہ تنک کر بولی تھی مگر حیدر مسکرا دیا تھا۔
’’نظر تو انتخاب کی بہت خاص ہے فتح النساء۔ دیکھیں کہاں جا کر رکتی ہے۔ آپ کا حسن لا جواب ہے۔ اب بندہ کیا کرے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کو چھونے لگا تھا۔ جب فتح النساء نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔
’’بہت عجیب آدمی ہیں آپ۔ رشتوں کی پہچان نہیں آپ کو۔ عین اتنی تعریف اور اتنا تذکرہ کرتی ہے ہر گھڑی آپ کا۔ ہمیں لگا آپ اچھے آدمی ہیں مگر آپ تو…!‘‘ وہ سخت بولتے بولتے رہ گئی تھی۔ اس کے غصے کے باوجود مرزا حیدر مسکرا دیا تھا اور پھر آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھنے لگا تھا۔
’’چاند کی ضیاء اور آپ کے چہرے سے پھوٹتی روشنی میں کوئی خاص فرض نہیں ہے۔ ہم چھو کر یقین کرنا چاہتے تھے کہ یہ ہوش اڑاتا چاند ہمارا خواب و خیال تو نہیں؟‘‘ حیدر نے اس کے چہرے کو بغور دیکھا تھا۔ فتح النساء اس کی نظروں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی تبھی پلٹ کر دوبارہ محل کے اندر جانا چاہا تھا مگر حیدر نے بہت سرعت سے ان کی کلائی کو تھام لیا تھا۔ فتح النساء ان کی اس درجہ بے باکی اور گستاخی پر انہیں حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔
’’ہمارا ہاتھ چھوڑئیے۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ ہمارا ہاتھ تھامیں؟ چھوڑئیے؟‘‘ وہ غصے سے گویا ہوئی تھی مگر حیدر اس کی سمت دیکھتے ہوئے مسکرا دیا تھا۔
’’چاند کا ہاتھ تھامنے کا تصور کیا تھا آج چاند زمین پر آگیا ہے تو پھر تردد کیسا؟ آپ کا چہرہ… آپ کی آنکھیں… ہمیں بے خود کر رہی ہیں فتح النساء۔ ہمیں خبر نہیں تھی کہ عین النور کی سہیلی اتنی خوبصورت ہونگی ۔ تذکرہ بہت سنا تھا مگر آج اس ضیافت میں دیکھ کر ہم اپنے ہوش گنوا بیٹھے۔ ایسا بے مثل حسن ہے کہ ہوش گنوا دے۔ آپ عین النور سے قبل کیوں نہیں ملیں ہمیں؟‘‘ وہ اس کے چہرے کو بے باک نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔ جب فتح النساء نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اسے ناگواری سے دیکھا تھا اور ان کی اس درجہ بے باکی پر ایک تھپڑ انہیں رسید کردیا تھا۔
وہ جس قدر قریب آرہے تھے۔ اس کے لئے یہ ضروری تھا۔
وہ اپنی حدود نہیں رکھتے تھے مگر فتح النساء اپنی حدود جانتی تھی تبھی انہیں غصے سے دیکھتی ہوئی گویا ہوئی تھی۔
’’ہمیں افسوس ہے ہماری اتنی پیار ی دوست آپ سے جڑی ہیں۔ آپ ان کے لائق نہیں ہیں مگر!‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی تھی۔
مرزا حیدر الدولہ ڈھٹائی سے مسکرا دئیے تھے۔
’’آپ چاہتے ہوئے بھی اس ملاقات کا ذکر عین النور سے نہیں کر سکتیں۔ انہیں آگاہ نہیں کر سکتیں اور اگر کر بھی دیں گی تو عین النور آپ کی بات کا یقین نہیں کریں گی کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتی ہیں اور ہمارا یقین کرتی ہیں۔‘‘ فتح النساء کو حیرت ہوئی تھی۔ ان کی پیاری سہیلی کا منگیتر ایک گرا ہوا انسان تھا۔ جس کی حقیقت عین النور نہیں جانتی تھیں۔ فتح النساء کو افسوس ہوا تھا۔
’’شعلوں سے بھری کوئی آگ ہیں آپ مگر آپ کی سختی کے باوجود ہم آپ پر فریفتہ ہو رہے ہیں۔ اپنا ہوش کھو رہے ہیں۔ ہماری مانئے۔ عین کو بتانے سے بہتر ہم سے تعاون کریں۔ ہم آپ کو خوش کردیں گے۔ جتنا مال و دولت آپ چاہیں گی آپ کو ملے گا اور …!‘‘ حیدر سراج الدولہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا جب وہ بولی تھی۔
’’اپنی گندی زبان بند رکھئے آپ۔ عزت کرنے کے قابل نہیں ہیں آپ۔ مجھے عین کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ آپ جیسوں کا دماغ ٹھکانے لگانے کے لئے فتح النساء خود آپ کافی ہے۔ بزدل انسان ہیں آپ جو مرد رات کی تاریکی میں ایک لڑکی کے سامنے کھڑا ہو کر کمزور لہجے میں بات کرے وہ مرد کسی طور پر بھی مرد کہلائے جانے کے قابل نہیں۔ عین کی قسمت پھوٹنے والی ہے اور وہ بے خبر ہیں۔ جس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔ ہم بکاؤ مال نہیں ہیں۔ آپ نے ہماری توہین کی ہے۔ ہم نواب زادی نہ سہی مگر رؤسا کی اولاد میں شمار ہوتے ہیں اور…!‘‘ وہ بولی تھی جب وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے ہنسنے لگا تھا اور پھر اسے کلائی سے تھام کر جھٹکے سے قریب کرلیا تھا۔
’’رؤسا کی اولاد، جن کا تذکرہ وہ کسی سے برملا کرنا گوارہ نہیں کرتے؟ امراء اور روؤسا کی ایسی کئی اولادیں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہیں ۔ فتح النساء ہم آپ کو عزت دے رہے تھے۔ آپ کے خاندان کا اعد و شمار جانتے ہیں۔ آپ تو واقف بھی نہیں آپ کے باپ کا نام کیا ہے اور ماں کا نام کیا۔ مگر ہم جانتے ہیں۔ ہم آپ کو عزت دینے چلے تھے مگر آپ کو منظور نہیں تو نہ سہی۔ گمنامی میں بہت کچھ دفن ہے فتح النساء اور اس میں سے ایک آپ کا نام بھی ہے۔ پاکر تو ہم آپ کو رہیں گے کہ مرزا حیدر نے آج تک جس شے کی خواہش کی ہے اسے پا ضرور لیا ہے۔مگر آپ نے ہمیں تھپڑ رسید کرکے اچھا نہیں کیا۔ ہم آپ کو معاف نہیں کریں گے۔ آپ کو آپ کے حسن کا گمان ہے اور نواب زادی پٹوڈی کے قریب ہونے کا مگر ایک دن وہ ہی آپ کو دھتکار دیں گی اور تب آپ کو آپ کی اصلیت اور مقام دونوں پتہ چلیں گے۔ آج جو ہمیں سر اٹھا کر گھور رہی ہیں آپ اس دن نگاہ اٹھا کر ہم سے نظر ملانے کے قابل بھی نہیں رہیں گی آپ اور اس حسن کا گمان زیادہ مت کیجئے۔ یہی حسن آپ کی بدنامی کا باعث بنے گا اور آپ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گی۔ مرزا حیدر سراج الدولہ آپ کو سبق سکھا کررہے گا۔‘‘ اس کی کلائی پر اس کی گرفت بہت سخت تھی کہ کئی چوڑیاں ٹوٹ کر کلائی میں پیوست ہوتی چلی گئی تھیں۔ اس کی نگاہیں ساکت تھیں اور وہ حیرت سے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔ جب حیدر سراج الدولہ نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا۔ فتح النساء یکدم مڑی تھیں اور چلتی ہوئی تیزی سے محل کے اندر داخل ہوگئی تھیں۔
اندر آکر ان کا دل بہت دیر تک معمول پر نہ آسکا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھیں مرزا حیدر سراج الدولہ ان کے بارے میں اتنا کچھ کیسے جان پائے تھے؟ جب کہ وہ خود بھی اپنے بارے میں اتنا نہیں جانتی تھیں۔
ان کی رشتے کی ایک بوا نے انہیں پالا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھیں دراصل ان کا ان سے رشتہ کیا تھا مگر وہ بہت ضعیف تھیں اور فتح النساء انہیں احترام سے بوا کہہ کر پکارتی تھیں۔ اس ایک رشتے کے علاوہ انہوں نے اپنے گرد کسی اور رشتے کو نہیں دیکھا تھا ۔ بوا نے بتایا تھا کہ ان کے والدین ان کے بچپن میں ہی گزر گئے تھے۔
’’کیسے؟ ‘‘ جب فتح النساء نے پوچھا تھا تو بوا نے بتایا تھا کہ وہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ تھا۔ وہ نواب صاحب کے اچھے دوست تھے اور وہ نواب صاحب کی طرف ایک دعوت میں شرکت کے لئے جا رہے تھے جب ان کی کار کو یہ حادثہ پیش آگیاتھا اور دونوں میاں بیوی موقع پر ہی اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ تب سے نواب سیف الدین پٹوڈی نے فتح النساء کی تمام ذمے داری اٹھا لی تھی ۔ ان کی پڑھائی کے اخراجات سے ان کی گزر اوقات کی تمام ذمہ داری نواب صاحب پوری کرتے تھے۔ اس عمل میں اسے ایک بیٹی کا درجہ دیا جاتا تھا۔ ایک بیٹی کی طرح عزت اور مان دیا جا تا تھا۔ سارے ملازمین اور افراد اسے گھر کی ایک بیٹی کی طرح محبت کرتے تھے اور وہی مقام دیتے تھے جو عین النور پٹوڈی کو حاصل تھا۔ وہ عین النور کی بچپن کی دوست تھیں۔ بچپن سے اس گھر میں آنا جانا تھا۔ مگر ان کی رہائش کا انتظام وہیں تھا جہاں نواب صاحب کی ایک پرانی عمارت تھی۔ بتایا گیا تھا کہ فتح النساء کے والدین کے گزر جانے کے بعدان کے رشتے داروں نے ان کی جائیداد کے حصے بانٹ لئے تھے اور تب ان کے پاس جب رہنے کو بھی کوئی جگہ نہیں بچی تھی تو نواب صاحب نے اپنی جگہ کی پیشکش کردی تھی۔ تب سے وہ نواب صاحب کی ایک پرانی حویلی میں ہی قیام پذیر تھیں۔
زندگی پرسکون انداز میں گزر رہی تھی اور ان کو کبھی کسی شے کے بارے میں سوال اٹھانے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ سو انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا مگر آج مرزا حیدر کی باتوں نے ان کے اندر کئی سوال اٹھا دئیے تھے۔ سب مہمان دی جانے والی ضیافت میں ایک دوسرے کے ساتھ مصروف تھے۔ رؤسا اور امراء اپنے اپنے مطلب کی باتیں کرتے ہوئے کئی اہم امور پر تبادلۂ خیال کر تے ہوئے کئی باتوں کی گتھیاں سلجھا رہے تھے جب فتح النساء کی نظر سامنے کھڑے نواب سیف الدین پٹوڈی پر پڑی تھی۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گھرے کھڑے تھے۔ اس لمحے وہ ان کے قریب جا کر کچھ دریافت نہیں کر سکتی تھیں۔ مگر ان کے ذہن میں کئی سوال بھرے تھے جب وہ پلٹی تھیں اور جلال الدین سے ٹکرائی تھیں۔ وہ ایسی کھوئی سی تھیں کہ ان کی قربت ان کے ٹکرانے کا انہوں نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا تھا۔ ورنہ تو جلال کا نام سن کر ہی ان کی دھڑکنیں تیز ہو جایا کرتی تھیں۔ کہاں وہ اس وقت قریب کھڑے تھے تو وہ ان کی طرف ڈھنگ سے متوجہ بھی نہیں تھیں۔ انہیں گرنے سے بچانے کے لئے جلال نے اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا تھا اور اس بات کا انہیں احساس بھی نہ تھا۔
’’کیا ہوا فتح النساء؟ آپ اتنی سہمی اور پریشان دکھائی کیوں دے رہی ہیں؟ خیریت ہے؟‘‘ نواب زادہ جلال الدین پٹوڈی نے پوچھا تھا۔ جب وہ اجنبی نظروں سے انہیں دیکھنے لگی تھی تب جلال اسے دیکھ کر مسکرائے تھے۔
’’لگتا ہے آج کی اس دعوت سے آپ کو کوئی خاص سروکار نہیں۔ جانے کہاں کی فکریں لئے آپ اپنی سوچوں میں بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ مگر اس طرح ایک عجیب کھوئی ہوئی سی روح لگ رہی ہیں آپ۔‘‘ جلال نے اسے چھیڑا تھا مگر وہ تب بھی اسی طور کھڑی ہوئی اس کی سمت کھوئے کھوئے سے انداز میں دیکھتی رہی تھی ۔ تب وہ سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھتا ہوا بولا تھا۔
’’آپ ٹھیک ہیں فتح النساء؟‘‘ جلال الدین نے پوچھا تھا۔ تب اس نے سر ہلا دیا تھا۔
’’کسی نے کچھ کہا ہے؟ آپ ہمیں بتائیے۔‘‘ جلال کو اس کی فکر ہوئی تھی۔ فتح النساء نے سر انکار میں ہلا دیا تھا۔
’’ہم چچا سیف سے بات کرنا چاہتے تھے مگر وہ مصروف ہیں۔ کیا ہمیں گھر چھوڑ آئیں گے؟ ڈرائیور جانے کب گاڑی لے کر آئیں۔ہمیں گھر واپس جانا ہے۔‘‘ وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں بولی تھی۔ جلال اسے دیکھ کر چونکا تھا۔
’’طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی؟ کیا ہوا؟ ابا جان سے کیا بات کرنا تھی آپ کو؟ لگتا ہے عین کے پاؤں کی موچ کے ساتھ آپ کی دلچسپی اس دعوت سے رخصت ہوگئی ہے۔ آئیے میں آپ کو عین کے کمرے تک چھوڑ دوں تاکہ آپ دونوں سہلیاں مل کر خوب اوٹ پٹانگ باتیں کرلیں اور آپ کا موڈ بحال ہو جائے۔‘‘ جلال نے کہا تھا۔ مگر اس نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’نہیں۔ ہمیں گھر جانا ہے۔ اگر آپ ہمیں چھوڑ آئیں تو؟‘‘ فتح النساء نے درخواست کی تھی۔ دور کھڑے نواب صاحب نے ان دونوں کو بغور دیکھا تھا اور ملازم کو بھیج کر کہلوایا تھا۔
’’چھوٹے نواب صاحب، نواب صاحب فرمارہے ہیں اس وقت کہیں مت جائیے گا۔ وہ آپ کا تعارف کسی خاص مہمان سے کروانا چاہ رہے ہیں۔‘‘ ملازم نے ادب سے کہا تھا۔ تبھی وہ بولا تھا۔
’’ابا جان سے کہہ دیں کچھ دیر کی بات ہے ہم فتح النساء کو ان کے گھر چھوڑ کر جلد لوٹ آئیں گے۔ سو پھر آکر ان مہمان سے مل لیں گے۔ یوں بھی دعوت ابھی تو عروج پر ہے۔‘‘ جلال نے مسکراتے ہوئے پیغام دیا تھا مگر تب ملازم اس کا پیغام لے کر نواب صاحب کے پاس لے کر گیا تھا اور جواب کے ساتھ فوراً پلٹا تھا۔
’’نواب صاحب نے فرمایا ہے فتح النساء صاحبہ کو ہمارے ملازم خاص رستم چھوڑ آتے ہیں۔ آپ دعوت میں رہیں۔‘‘ ابا جان کے پیغام کو پا کر وہ الجھتے ہوئے فتح النساء کو دیکھنے لگا تھا۔
’’معذرت چاہتے ہیں فتح النساء۔ ہم آپ کو چھوڑ کر نہیں آسکیں گے۔ آپ حمایت کے ساتھ جائیں وہاں رستم آپ کے منتظر ہوں گے۔ وہ آپ کو بہت احترام کے ساتھ گھر پہنچا دیں گے۔ ہماری تو خواہش تھی آپ دعوت ختم ہونے تک یہاں رکیں مگر خیر اب آپ کی مرضی آپ کو جانا ہے تو ہم روک نہیں سکتے۔‘‘ جلال نے مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا تھا۔
کوئی اور موقع ہوتا اور جلال ایسے الفاظ کہتے تو فتح النساء دل و جان سے فدا ہو جاتیں مگر اب اس لمحے جیسے انہوں نے کوئی نوٹس بھی نہیں لیا تھال اور حمایت کی ہمراہی میں باہر نکل گئی تھیں۔ جلال ان کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔ انہیں فتح النساء بہت عجیب لگی تھیں۔ مگر اس وقت وہ اس بارے میں زیادہ سوچ نہیں سکے تھے کیونکہ ابا جان نے انہیں کسی خاص دوست سے ملنے کے لئے بلوا لیا تھا۔
اور پھر وہاں انہیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا تھا۔
…٭٭٭…
’’کیا ہوا بھائی؟ فتح النساء اتنی جلدی کیسے چلی گئی؟‘‘ عین نے باہر آکر فتح النساء کو نہ پا کر پوچھا تھا۔ جلال نے سر انکار میں ہلایا تھا۔
’’میں نہیں جانتا مگر وہ کچھ پریشان لگ رہی تھی۔ مجھے کہہ رہی تھی گھر چھوڑ دو مگر مجھے ابا جان نے روک لیا وہ جنت الفردوس کی فیملی سے مجھے ملوانا چاہتے تھے۔‘‘ جلال نے کہہ کر بہن کی طرف دیکھا تھا۔
’’اوہ… ایک تو ابا جان بھی نا۔ آپ کی شادی جنت الفردوس سے کروا کر دم لیں گے۔ سو مل لئے آپ جنت الفردوس اور ان کی فیملی سے؟ ہم آپ سے پوچھنا چاہتے تھے کیا واقعی آپ جنت سے شادی کرنا چاہتے تھے؟ کیا یہی وہ ایک لڑکی ہے جس کے لئے آپ نے سوچا تھا؟‘‘ عین نے بھائی کو کریدا تھا۔وہ مسکرا دیا تھا۔
’’تم جانتی ہو ابا جان ٹھان لیں تو کرکے چھوڑتے ہیں اور میں ان کوخفا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ وہ مصلحت بھرے لہجے میں گویا ہوا تھا۔ عین نے بھائی کو دیکھا تھا۔
’’مگر بھائی ہمیں فتح النساء آپ کے لئے بہت پسند ہیں۔ فتح النساء کے دل میں بھی آپ کے لئے خاص گنجائش ہے اور …!‘‘ وہ فتح النساء کا ذکر کر رہی تھیں جب وہ بولا تھا۔
’’عین اگر ہمیں اپنی من مانی کرنی ہوتی تو ہم باہر سے میم بیاہ کر لے آتے۔ مگر ابا جان کے خلا ف نہیں جانا۔ ابا جان جو کر رہے ہیں انہیں کرنے دو۔‘‘ وہ مسکرا کر پرسکون لہجے میں بولے تھے اور عین انہیں دیکھ کر رہ گئی تھی۔ تب جلال نے اسے دیکھا تھا اور شانوں سے تھاما تھا۔
’’عین فتح النساء اچھی لڑکی ہیں مگر سچ مانو ہم نے کبھی ان کے لئے دل سے کچھ محسوس ہی نہیں کیا ۔ اگر وہ ہمارے بارے میں اچھے جذبات رکھتی ہیں تو ہم اس کی قدر کرتے ہیں مگر اس سے زیادہ ہم ان کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمیں ان سے دوستی اسی حد تک قبول ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی کا پیغام دے سکیں۔ مگر اس سے زیادہ کچھ اور نہیں۔‘‘ جلال نے واضح طور پر انکار کیا تھا۔
’’فتح النساء بہت اچھی ہے بھائی ان کا دل اچھا ہے۔ ہماری بچپن کی سہیلی ہیں اور …!‘‘ عین نے اسے از سرِ نو قائل کرنا چاہتا تھا۔ وہ مسکرا دیا تھا۔
’’آپ ابا جان سے بات کرلیں اگر آپ میں ہمت ہے تو۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن ایک بات ہم جانتے ہیں۔ ابا اپنے دوست کی ان بیٹی کے لئے کچھ ٹھان چکے ہیں۔ سو اب وہ ہماری منگنی ان سے کروا کر دم لیں گے۔ آپ کو معلوم ہے ہم فتح النساء کو چھوڑنے کے لئے وقت لینا چاہتے تھے اور ابا جان کو ہمیں جنت سے ملوانے کی اتنی جلدی تھی کہ انہوں نے ہمیں جانے ہی نہیں دیا۔‘‘ جلال مسکرایا تھا۔ عین نے سر ہلا دیا تھا۔
’’ہم جانتے ہیں ابا جو ٹھا ن لیتے ہیں سو کرتے ہیں مگر ہمیں وہ چپٹے ناک والی جنت نہیں پسند تو بس نہیں پسند۔ اب ہم بہن ہیں۔ کچھ ارمان بہن کے دل کے بھی ہوتے ہیں اپنی اکلوتی بھابھی کو چننے کے لئے اور فتح النساء ہمیں اس کے عین مطابق لگتی ہیں۔بہرحال آپ خاموش ہی رہئے۔ ہم ابا جان سے خود بات کرلیں گے۔ آپ صرف اتنا بتا دیں کہ اگر ہم بات کرلیں گے تو پھر تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا نا؟ یہ نہ ہو کہ ہم ادھر اباجان سے بات کریں اور ادھر آپ اعتراضات اٹھا کر مخالفت کردیں۔ آپ کا ارادہ بھی تو بدلتے دیرنہیں لگتی نا۔‘‘ وہ بولی تھی تو جلال مسکرا دیا تھا۔
’’ہماری مرضی پوچھی جاتی تو ہم تو ایک ہی نام لیں۔ ایسا حسن کہ کبھی دیکھا نا سنا۔ پورا ولایت گھوم لیا مگر ان جیسا چہرہ کبھی نہیں پڑھا۔ عجیب لفظوں سے بھرا ہے کہ پڑھتے جاؤ اور نظر تھکے نہ۔‘‘ وہ مسکرایا تھا اور عین انہیںحیرت سے دیکھنے لگی تھی۔
’’یہ کون ہیں؟‘‘
’’ہیں کوئی…!‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
’’ان کا ذکر ابا سے نہیں کر سکتے آپ؟‘‘ وہ قائل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
’’ابا جان دو کانوں میں سر کردیں گے۔ آپ چاہتی ہیں ابا آپ کے پیارے جلال بھائی کو گھر سے نکال دیں؟‘‘ جلال مسکرایا تھا اور اس کی ناک کو دبا دیا تھا۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا تھا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا تھا۔
’’ابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آپ کو گھر سے نکال دیں مگر… یہ ہیں کون؟ کچھ ہمیں بھی بتائیے۔‘‘
’’اس دنیا کی نہیں ہیں سو ان کا نام بھی نہیں لے سکتے ہم۔‘‘
’’اف… بھائی حد کرتے ہیں آپ۔ کس دنیا کی ہیں اگر اس دنیا کی نہیں تو؟‘‘ عین نے الجھن سے بھائی کو دیکھا تھا۔
’’اب آپ سے کیا کہیں ۔ پھر کبھی بتا دیں گے۔ فی الحال آپ آئیے آپ کی ساس صاحبہ کئی بار آپ کا پوچھ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو دیکھے بنا ان کو دعوت کا کھانا بھی ہضم نہیں ہونے والا۔ اتنی محبت؟ یہ واقعی محبت ہے یا محبت کا کوئی جال؟‘‘ جلال مسکرایا تھا اور سہارا دے کر اسے لے کر چلتا ہوا باہر آیا تھا جہاں تمام مہمان دعوت کے لئے موجود تھے۔
’’آپ کو زیادہ درد ہو رہا ہے تو اٹھا لیتے ہیں ہم؟‘‘ جلال نے آفر دی تھی۔ عین نے سر انکار میں ہلا دیا تھا اور چلتی ہوئی آگے بڑھی تھی۔
نواب صاحب کھڑے ہوئے تھے اور مسکراتے ہوئے اہم اعلان کرنے کا ارادہ کیا تھا۔
’’ہم ایک اہم اعلان کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ایک اہم اعلان ہم بھی کرنا چاہتے ہیں چا چاجان۔‘‘ مرزاحیدر مسکرائے تھے۔ سب نے انہیں حیر ت سے دیکھا تھا۔
’’بیٹا آپ اہم اعلان پہلے کرلیں۔ ہم اپنا اعلان بعد کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔‘‘ نواب سیف الدین مسکرائے تھے۔ سب ہنسنے لگے تھے۔ تبھی حیدر کچھ خجل سے ہوگئے تھے۔ تبھی حکمت صاحب مسکرائے تھے۔
’’آپ اعلان کریں نواب صاحب بہت زوروں کی بھوک لگ رہی ہے۔ اعلان کے بعد ڈنر بھی کرنا ہے۔‘‘ ان کے کہنے پر سب مسکرائے تھے اور تائید کی تھی۔ تبھی نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنے پیارے بیٹے کو دیکھا تھا مگر عین نے تبھی انہیں ہاتھ ہلا کر روک دیا تھا۔
’’ابان جان پلیز فی الحال کوئی اعلان مت کریں۔ ہمیں آپ سے بہت ضروری بات کرنا ہے۔‘‘ عین نے ابا کو فتح النساء کے بارے میں قائل کرنا چاہا تھا تبھی وہ ان کو جنت کے بارے میں کوئی بھی باقاعدہ اعلان کرنے سے روکنا چاہتی تھی۔ نواب صاحب نے بیٹی کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔
’’بیٹا ہم اہم اعلان یہ کرنا چاہتے تھے کہ آج رات کا ڈنر کچھ ہی دیر میں کھلنے والا ہے سو شائستگی کا مظاہرہ کریں۔‘‘ وہ کہتے ہوئے مسکرائے تھے اور تمام مہمان مسکرا دئیے تھے۔
’’کیا یار نواب صاحب۔ ہمیں لگا آپ کوئی اہم سیاسی اعلان کریں گے۔ کہیں مسلم لیگ سے تو نہیں جڑ گئے آپ؟‘‘ حکمت کے مسکرانے پر نواب صاحب نے سر تائید میں ہلایا تھا۔
’’حکمت صاحب ہم تو دل سے مسلم لیگی ہیں اور مسٹر جناح کے ساتھ ان کی مکمل حمایت میں کھڑے ہیں۔ اس کے لئے جتانا ضروری نہیں۔‘‘ نواب صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ تبھی مرزا سراج الدولہ نے کہا تھا۔
’’کہیں یہ ہم پر کوئی طنز تو نہیں نواب صاحب؟ سننے میں آیا تھا کہ آپ کو ہمارا کانگریس کا حصہ بننا پسند نہیں آیا۔‘‘ مرزا صاحب مسکرائے تھے۔
’’ارے میاں ہمیں نا پسندیدگی ظاہر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے بہت اچھا کیا جو کانگریس سے جڑ گئے۔ سیاسی گٹھ جوڑ تو ایسے ہی ہوتی آئی ہے اور ہوتی رہے گی۔ اس کے لئے کوئی قید نہیں۔ آپ کو جو مناسب لگا آپ نے وہ کیا اور ہم اس کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ سمدھی ہونے کا مطلب مخالفت برائے مخالفت کرنا نہیں ہے۔‘‘ نواب صاحب مدلل انداز میں بولے تھے تو سب کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی تھی۔ نواب صاحب بلا کا حسِ مزاح رکھتے تھے اور یہ بات سب جانتے تھے۔ سو ان کی گفتگو کو سب انجوائے کر رہے تھے۔
مرزا صاحب مسکرا دئیے تھے۔
’’بہرحال ہماری طرف سے اہم اعلان یہ ہے کہ ہم یہیں قیام کرنا چاہیں گے اور پاکستان جانا نہیں چاہیں گے۔ آپ کو اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے سرحد پار آنا ہوگا۔‘‘ مرزا صاحب مسکرائے تھے۔
’’جیسے آپ کی رضا مرزا صاحب ہم تو آپ کی رضا میں خوش ہیں۔ بیٹی تو اب آپ کی ہے۔ ہم تو زبان دے چکے ہیں۔ چاہے یہاں رہے یا پاکستان ہم اپنی بیٹی سے واسطہ اور تعلق تو ہمیشہ رکھیں گے۔ چاہے سرحد پار کرکے یہاں آنا پڑے۔ لیکن اچھا ہوا مرزا صاحب آپ نے یہ طے کرلیا۔ یہ فیصلہ بھی ضروری تھا۔ ہم تو پاکستان جانا چاہیں گے جس ریاست کے لئے اتنی جدوجہد ہو رہی ہے۔ اس کے بنانے کا کیا فائدہ اگر ہم سب اس زمین کے ہو کر رہ گئے تو۔ ہم تو اس نئی ریاست میں قدم ضرور رکھیں گے اور پہلے پہل جھک کر سجدہ کریں گے اور اس سرزمین کو چوم لیں گے۔ اس زمین پر ہمارا پورا حق ہوگا۔ اس زمین کا اس زمین سے مقابلہ ممکن نہیں مرزا صاحب۔‘‘ نواب صاحب مسکرائے تھے۔
’’ارے نواب صاحب زمینیں سبھی ایک سی ہیں۔ اس زمین میں کچھ خاص نہیں ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد کی قبریں اور نشانیاں اس ملک میں ہیں سو ہماری مانئے۔ یہیں کے ہو رہئے۔ جانے دیجئے اس نئی زمین اور اس کے خواب کو۔‘‘ مرزا صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اور نواب صاحب نے تحمل سے سر انکار میں ہلا یا تھا اور مسکرا دئیے تھے۔
’’غلامی غلامی ہے مرزا صاحب۔ انگریزوں کی ہو یا ہندوؤں کی اور ہم فرنگیوں کی اس غلامی کے ساتھ ہندوؤں کی نفسیاتی فتح کے خلاف ہیں۔ ہم اس قوم کی غلامی نہیں کر سکیں گے۔ ہم سے یہ نہیں ہوگا۔ سو جیسے ہی پاکستان بننے کا اعلان ہوتا ہے ہم وہ پہلے فرد ہونگے جو اپنی جائیدادیں چھوڑ کر اس سر زمین کی سمت روانہ ہوں گے۔‘‘ نواب صاحب مسکرائے تھے۔
’’اباجان ٹھیک کہتے ہیں چچا مرزا صاحب۔ ہم بھی ابا کے ساتھ اس نئی زمین کی طرف روانہ ہونا چاہیں گے۔‘‘ جلال مسکرایا تھا۔
’’اس معاملے میں ہم بھی آپ کے ہم خیال ہیں جلال، ہمیں بھی پاکستان میں رہنے کا شوق ہے۔ سو ری ابا جان ہم آپ کی مخالفت میں بول رہے ہیں مگر ہمیں بھی پاکستان جانا ہوگا۔‘‘ حیدر نے کہا تھا تو مرزا صاحب نے بیٹے کو حیرت سے دیکھا تھا۔
حیدر عین النور کی طرف دیکھ کر مسکرائے تھے۔
’’ہم اتنے ظالم نہیں ابا جان کہ رشتوں کو بانٹ دیں۔ ہم چاہیں گے عین النور اپنے ابا جان کے قریب رہیں۔ دوسرا ہم خود بھی اس سر زمین کے لئے دل میں کچھ اہمیت اور قدر رکھتے ہیں۔ وہ زمین مسلمانوں کے لئے بنائی گئی ہے اور اس ریاست میں کچھ تو خاص ہوگا ۔ ہم اس کے باسی ضروربننا چاہیں گے۔‘‘ مرزا حیدر کے کہنے پر عین نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا جبکہ مرزا سراج الدولہ نے بیٹے کو ناگواری سے قدرے غصے سے دیکھا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close