Naeyufaq Oct-16

احمقوں کا ٹولہ

ریاض بٹ

کہتے ہیں میاں بیوی گاڑی کے دوپہیے ہیں۔ ازدواجی زندگی کی گاڑی اسی وقت صحیح معنوں میںچلتی ہے جب دونوں میں مکمل ذہنی ہم آہنگی ہو ورنہ… یہ ایک کہانی کی ابتدا تھی اور یہ سب میں ایک کتاب میں پڑھ رہاتھا۔ ابھی میں یہاں تک ہی پہنچا تھا کہ اچانک کانسٹیبل وزیر کی شکل داخلی دروازے میں نظر آئی۔
’’سر… میں اندر آسکتاہوں؟‘‘
’’آجائو‘ بھئی ۔‘‘میں نے کتاب کو ایک طرف میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
’’سر میں ذرا گھر جانے کی اجازت چاہتاہوں‘ ڈیڑھ دو گھنٹوںمیں آجائوں گا۔‘‘
میں نے دیکھا کہ اس نے ہاتھ میں کپڑے کاایک چھوٹا سا تھیلا پکڑا ہواہے۔
میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سب خیریت ہے نہ… اور بھئی اس تھیلے میں کیاہے؟‘‘
’’سر کیابتائوں ان اشتہاروں نے شوہروں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔‘‘
’’کیامطلب؟‘‘ میں نے حیران نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’سراس تھیلے میں تین چار قسم کی کریمیں ہیں۔‘‘
پھراس نے تھیلے میں سے چار قسم کی کریمیں نکال کر میز پرکھ دیں۔
’’یہ کریمیں کیوں اٹھائے اٹھائے پھررہے ہو؟‘‘ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔
’’یہ بیگم کی فرمائش ہے‘ کہتیہ ے ان سب کو خوبصورتی کے لیے ضروری دکھایا گیا ہے۔ اشتہاروں میں۔‘‘
سپاہی قدیر بازار جارہاتھا‘ میں نے اس سے منگوائی ہیں اوراب گھر دینے جارہاہوں۔‘‘
میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
وہ کریمیں دوبارہ تھیلے میں ڈال کرچلاگیا۔ ان دنوں میرے پاس کوئی کیس نہیں تھا۔ راوی چین ہی چین لکھ رہاتھا۔میں نے کانسٹبل وزیر سے کہا تھا۔ کہ وہ سپاہی قدیر کوبھیج دے۔
چند لمحوں بعد وہ میرے سامنے موجود تھا۔ میں اس وقت ہنسی مذاق کے موڈ میں تھا۔
’’قدیر سنا ہے آج کل تم بیوٹی کریمیں سپلائی کررہے ہو؟‘‘
’’سروہ تو میں وزیر صاحب کے کہنے پر لایا تھا۔ ویسے ایک بات ہے‘ سراگر آپ جان کی امان دیں تو چھوٹے منہ سے بڑی بات نکال دوں۔‘‘
میری ہنسی نکل گئی۔ میں نے دیکھا اس نے چہرہ ایسے بنایاہواتھا‘ جیسے کوئی خادم کسی بادشاہ کے روبرو حاضر ہو۔
’’بھئی‘اجازت ہے۔‘‘
’’سر‘ یہ جوزیر صاحب ہیں نہ‘ بس نام کے ویزر ہیں‘ لگتا ہے بیگم سے ڈرتے ہیں۔‘‘
’’وہ تو ہر شریف آدمی ڈرتا ہے۔دوسرے تمہیںپتا نہیں ہے کہ وزیر کی بیگم پوری ملکہ ہیں اور اس تھانے کے لیے مخبری اور تفتیش کرتی ہے۔ یعنی ہماری تفتیش میں ہاتھ بٹاتی ہے۔خیر یہ بات تو برسبیل تذکرہ نکل آئی تم بتائو یہ عورتیں خوبصورت ہونے کے باوجود بیوٹی کریموں کاسہارا کیوں لیتی ہیں؟‘‘
’’دراصل یہ چاہتی ہیں کہ ان کے میاں صرف ان کے ہی ہو کر رہیں اور وہ دنیا کی سب سے خوبصورت عورت نظر آئیں۔ابھی ہماری یہ گپ شپ جاری ہی تھی کہ سپاہی انور نے آکر اطلاع دی۔
’’سر‘ مین بازار میں واقع ایک پرائیویٹ بینک میں ڈکیتی اور قتل کی واردات ہوگئی ہے۔ بینک سے دوبندے اطلاع لے کر آئے ہیں۔‘‘
میں نے انہیںاپنے کمرے میں بلالیا۔ یہ دونوں بینک میں ملازم تھے۔
ایک کی عمر تیس سال کے اریب قریب ہوگی‘ اس نے بالوں کوخوب تیل لگا کر گویا اپنے سر پرچپکایا ہواتھا‘ رنگ اس کاگندمی تھا۔ دوسرابندہ ادھیڑعمر تھا۔ صحت اچھی تھی‘ ہاتھ پیر مضبوط تھے۔
دونوں شکل سے گھبرائے ہوئے لگتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک گھنٹہ پہلے دوڈاکو‘ جن کو پہلے پہچانا نہیں گیا‘ کیونکہ انہوں نے موسم کے لحاظ سے گرم چادریں اوڑھی ہوئی تھیں۔ بینک میں داخل ہوئے‘ اچانک انہوں نے کیشیئر کے پاس پہنچ کر چادروں سے ہاتھ نکالے ان میں ریوالور دبے ہوئے تھے۔ایک نے کیشیئر سے کہا سار ے پیسے نکال کرمیز پررکھ دو‘دوسرے نے باقی لوگوں کی طرف ریوالور تانتے ہوئے کہا۔
اگر کسی نے کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو…
پھراس نے ایک ہوائی فائر کیاتھا۔ ریوالور میں سائیلنسر لگاہواتھا‘ کیشیئر‘ جس کانام طارق تھا نے سارا کیش نکال کر میز پررکھ دی۔ ڈاکو نے پتہ نہیں کہاں سے ایک تھیلا نکالا اور سارا کیش اس میں ڈال لی۔
پھر اس نے اچانک کیشیئر کے سینے میں گولی اتار دی۔ ڈاکوبینک کاعقبی دروازہ کھول کر فرار ہوگئے۔ یہ دروازہ ایک گلی میں کھلتاتھا۔ جہاں شاذونادر ہی کوئی بندہ نظر آتاتھا۔
لگتاتھا‘ ڈاکو پوری پلاننگ کے ساتھ آئے تھے۔ ان میں سے کچھ باتیں ہمیں بینک میں جاکرتفتیش کرنے پر پتہ چلی تھیں۔
جہاں میں اور سپاہی انور گئے تھے۔
ایک سوال کا جواب کوئی بھی نہ دے سکا‘ کہ جب کیشیئر (طارق) نے سارا کیش ڈاکوئوں کے حوالے کردیا تھا تو پھرانہوں نے اسے گولی کیوں ماری؟
میں نے جب طارق کا(جو اس وقت تک ایک لاش میں تبدیل ہوچکاتھا) معائنہ کیا‘ تومجھے پتہ چلا کہ گولی اس کے دل میں لگی ہے جس نے آناً فاناً ا س کی زندگی کا چراغ گل کردیاتھا۔
بہرحال ضروری کاغذی کارروائی کے بعد میں نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی سرکاری اسپتال روانہ کردی تھی۔میں نے گارڈ کے متعلق استفسار کیا توپتہ چلا کہ گارڈ اس وقت اپنی گن رکھ کر ضرورت کے تحت واش روم میں گیا ہواتھا۔ایک ڈاکو نے سب سے پہلے اس کی گن پرقبضہ کیاتھا۔
اور کیشیئر کے پاس پہنچ کر اس نے گن اس کے سامنے پڑی ہوئی میز کے ساتھ ٹکادی تھی۔ یہ سب باتیں مجھے ایک ذرا دلیر قسم کے شخص نے بتائی تھیں۔ میں اسے ایک طرف لے گیاتھااور سوال وجواب کیے تھے۔
اس نے ایک بات یہ بھی کہی تھی کہ تھانے دار صاحب میرے دل نے کہاتھا کہ میں ڈاکوئوں کے ساتھ بھڑ جاوں لیکن پھر دماغ نے کہا کہ مفت میں جان گنوانے کا کیافائدہ؟ بہرحال کچھ تفصیلات لے کرمیں تھانے میں واپس آگیا۔
یہاں ایک بات کی وضاحت کردوں کہ گارڈ سے جب ہم نے سوال وجواب کیے تووہ اچانک بے ہوش ہوگیاتھا۔ میں نے انور کے ساتھ اسے قریبی سرکاری اسپتال بھیج دیاتھا۔ بات تو حیرانگی والی تھی… اگروہ اتنے ہی کمزور دل کا مالک تھا تو اسے گارڈ رکھناہی نہیں چاہیے تھا۔ اب اندرخانے کیامعاملہ تھا‘ کیاکہانی تھی۔ یہ تو فی الفور معلوم نہیں ہوسکتاتھا۔
میںنے اپنی سیٹ سنبھالتے ہی آفس بوائے کوبلا کر کانسٹیبل وزیر کے متعلق استفسار کیا۔
کچھ دیر کے بعد کانسٹیبل میرے سامنے تھا۔
میں نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا‘ تووہ جھینپ گیا اوراس کے ہونٹوں پر ایک خجل سی مسکراہٹ آگئی۔
’’کیوں بھئی اس قدر شرمندہ شرمندہ کیوں ہو؟‘‘
’’سر کیابتائوں میں نے بیوی سے کہا کہ تم پہلے ہی اتنی خوبصورت‘ حسین اور سندر ہو تمہیںان کریموں کی کیاضرورت ہے ‘کہنے لگی‘ تم ان باتوں کونہیں سمجھوگے۔‘‘ کانسٹیبل نے جواب دیا۔
’’چلو چھوڑو‘ اس موضوع پر پھر کبھی بات کریں گے۔‘‘ پھرمیں نے اسے بینک میں ڈکیتی کے متعلق سب کچھ بتایا تھا۔
’’سر… یہ بات واقعی حیرانگی والی ہے کہ جب ڈاکوئوں نے اپنامقصد حاصل کرلیاتھا تو پھر کیشیئر کوگولی مارنے کی کیاضرورت تھی اور گارڈ کے رویے پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے؟‘‘ کانسٹیبل وزیر نے سوچ میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہا۔
’’یہی سوال تومیرے ذہن میں بھی کھلبلی مچائے ہوئے ہے۔ میں نے اسی لیے تمہیں بلایا ہے۔‘‘
’’یس سر… حکم۔‘‘
’’ایک بات او ربھی ہے وزیر… ‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’وہ کونسی سر۔‘‘
’’کیشیئر کے گھروالوں کی طرف سے ابھی کوئی سامنے نہیں آیا۔‘‘
’’کیامطلب! ‘‘ اس نے حیران نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔
’’بالکل‘ بینک میں بھی کوئی نہیں تھا اور ابھی تک تھانے میں بھی کوئی نہیں آیا۔‘‘
’’سر یہ توواقعی اچنبھے والی بات ہے۔‘‘
’’تم سپاہی قدیر کوساتھ لے جائو اور اس کے گھر جاکر پتہ کرو کہ کیامعاملہ ہے۔‘‘
پھرمیں نے اسے کیشیئر طارق کاپتہ بتایاتھا اور وہ اپنے مشن پر چلاگیاتھا۔
یہاں ایک دوباتوں کی وضاحت کردوں‘ سپاہی انورتوگارڈ کے ساتھ اسپتال چلاگیاتھاکیونکہ یہ معاملہ اچانک ہواتھا۔ یہ بات توپہلے ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی۔
اس لیے مجھے بینک سے ٹیلی فون کرکے سپاہی نواز کوبلانا پڑاتھا۔ جو لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لے گیاتھا۔
ہمارے تھانے سے تقریباً دو کلومیٹر دور ایک فلور مل تھی وہاں نزدیک ہی فیملی کوارٹر اور اکیلے رہنے والے مردوں کے لیے ایک ایک کمرے کے کوارٹر تھے۔
طارق(مقتول) کاجوپتہ ہمیں بینک سے ملاتھا‘ وہ انہی کوارٹروں میں سے کسی ایک کاتھا۔
تین گھنٹے بعد کانسٹبل وزیر واپس آیا لیکن وہ اکیلا واپس نہیں آیا‘ بلکہ اس کے ساتھ ایک درمیانے جسم کا چوبیس سالہ جوان بھی تھا۔یہ مقتول کاروم میٹ تھا۔
جوان کی آنکھیں اسے ایک ذہین اور وفادار انسان کے روپ میں پیش کررہی تھیں۔
کانسٹیبل وزیر کو باہر بھیج کر میں نے اسے اپنے سامنے بٹھالیا۔میں نے اس کے ذہن سے تھانے کاخوف دور کرنے کے لیے ہلکی پھلکی گفتگو سے آغاز کیا۔
’’جوان تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’جناب‘ وکیل۔‘‘
’’اچھا‘تو تم وکیل ہو۔‘‘
’’بس تھانیدار صاحب نام کاوکیل ہوں۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئی۔
’’تمہیں پتہ تو چل چکاہوگا‘ کہ تمہارے روم میٹ کے ساتھ کیا حادثہ پیش آچکا ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘اچانک وہ اداس ہوگیا۔
’’تم طارق کے متعلق جوجانتے ہو وہ میرے علم میں لے آئو۔‘‘
’’تھانیدار صاحب‘ طارق نے مجھے جو کچھ بتایاتھا وہ میں آپ کے گوش گزار کردیتاہوں۔ چند لمحے وہ دیوار پر لگی بابائے قوم کی تصویر کو دیکھتا رہا‘ شاید ذہن میں الفاظ کوترتیب دے رہاتھا اور پھر جب وہ بولا تواس کی آواز غم میں ڈوبی ہوئی تھی۔
’’تھانیدار صاحب‘ طارق ایک شریف اور مظلوم انسان تھا۔ ہم دونوں کاتعلق ایک ہی گائوں سے ہے بلکہ آپ ہمیں پڑوسی سمجھ لیں۔ طارق کی ماں اسے دس سال کی عمر میں داغ مفارقت دے کر اپنے مالک حقیقی سے جاملی تھی۔ باپ نے اسے پالا پوسا‘ اعلیٰ تعلیم دلوائی… ایک دفعہ ماں نے اس کی کسی بات پر خوش ہو کر اسے دعا دی تھی‘ کہ جابچہ ہمیشہ دولت میں کھیلو… وہ واقعی دولت میں کھیل رہاتھا۔ میرا مطلب ہے‘لاکھوں روپے اس کے ہاتھوں سے گزر رہے تھے۔ تھانیدار صاحب دعائیں توایسے بھی قبو ل ہوتی ہیں‘ پھر ماں تو ماں ہی ہوتی ہے‘ باپ جتنا بھی خیال کرے‘ پیار کرے‘ ماں کی کمی تو پوری نہیں کرسکتا‘ بہرحال اس کے دل میں تشنگی توتھی‘ اگر اس کی اگلی زندگی ٹھیک گزر تی تو شاید وہ اتنا دکھی نہ ہوتا‘ ٹوٹ پھوٹ کاشکار نہ ہوتا۔‘‘
میں غور سے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہاتھا۔ وہ اپنی طرف سے آنسو چھپانے کی کوشش کررہاتھالیکن میں نے محسوس کرلیاتھا کہ اس کی پلکیں بھیگ چکی ہیں۔
اس کے بعد اس نے جو کچھ بتایاتھا وہ بتانا ابھی مناسب نہیں لیکن چند سوال وجواب آپ کی نذر کردیتاہوں۔
’’وکیل… تمہارے خیال میں ڈاکوئوں نے کیشیئر(طارق) کو گولی کیوں ماری؟ جبکہ بینک میں موجود گواہوں کے بیانات سے یہ بات میرے علم میں آئی تھی کہ اس نے سارا کیش ڈاکوئوں کے حوالے کردیاتھا۔
’’میں اس کے متعلق یہی کہہ سکتاہوں کہ ہوسکتا ہے طارق نے دونوں یا کسی ایک ڈاکو کو پہچان لیاہو…‘‘ وہ سوچ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’نقطہ تو تم نے وکیلوں والا نکالا ہے‘ بہرحال یہ بات بھی ہوسکتی ہے… اس کے علاوہ بھی کوئی بات تمہارے ذہن میں آرہی ہے۔‘‘
’’تھانیدار صاحب‘ آپ خود سمجھدار ہیں۔ میں اس معاملے میں کیا کہہ سکتاہوں۔‘‘
اب کہنے سننے کوکچھ نہیں رہاتھا۔ میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔ ایک بات کی وضاحت کردوں کہ وہ گائوں طارق کی بیوی کواطلاع دینے جارہاتھا۔
جی ہاں‘ طارق کی بیوی گائوں میں اپنے سسر کے ساتھ رہتی تھی۔
میں یہ چاہتاتھا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش آنے تک لاش لینے کوئی نہ کوئی آجائے۔
پھرہوا یہ کہ لاش‘ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مقتول کاباپ(کرامت) ایک ہی وقت آگئے اور میں کافی الجھنوں سے بچ گیا۔
میںنے ضروری کاغذی کارروائی کے بعد لاش کرامت کے حوالے کردی جودوبندوں کے ساتھ آیا تھا۔
گائوں کا پتہ تو میرے پاس آہی گیاتھا۔ میں نے کرامت سے کہا میں دو تین دنوں کے بعد تمہارے گائوں آئوں گا۔
میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں بہت سے سوال ہیں لیکن وہ خاموشی سے چلاگیا تھااور اپنی سوالیہ آنکھیں میرے ذہن میں نقش کرگئی تھیں۔
قارئین پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے میرے اندازے کی تصدیق کردی… گولی نے دل کے پرخچے اڑادئے تھے اور چند لمحوں میں ہی طارق اس دنیاسے اس دنیا میں پہنچ گیاتھا۔ جب اس قسم کی واردات ہوتی ہے تو لامحالہ ہمارے ذہن میں ایک تو…؟بدمعاشوں کا خیال آتا ہے‘ دوسرے پیشہ ور ڈاکوئوں کی طرف دھیان جاتا ہے۔
ان دنوں پیشہ ور ڈاکوئوں کا کوئی گروہ ہماری لسٹ پر نہیں تھا ‘پھرلے دے کے …؟ بدمعاش ہی رہ جاتے تھے۔ اس لیے میں نے انہیں ہی تختہ مشق بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ میں بے گناہوں پر تشدد کاقائل نہیں تھا۔
لیکن …!
یہ …؟ بہت ڈھیٹ‘ جھوٹے اور اپنی دھن کے پکے ہوتے تھے۔
سپاہی قدیر ان کے متعلق کہتاتھا کہ سر چور چوری سے جاسکتا ہے لیکن ہیراپھیری سے نہیں۔
شام تک تھانے میں کافی رونق ہوگئی۔
سپاہی انور اور قدیر نے آکر مجھے ان کے متعلق بتایا کہ کون کون آیا ہے‘ اور کون غیر حاضر ہے۔
ایسی واردات کے بعد ہمیں غیر حاضروں پر بڑا غصہ آتاتھا‘کیونکہ ہم نے ان کوپابند کیا ہوتاتھا کہ وہ تھانے میں بتائے بغیر کہیں نہ جائیں لیکن وہ کبھی کبھی ہیراپھیری کرجاتے تھے۔
بہرحال میں آرام کرنے اپنے کوارٹر میں چلاگیا اور رات بھر کے لیے …؟بدمعاشوں کو رات والے عملے کے حوالے کرگیااوران کو یہ تاکید کرگیا کہ ہتھ ذرا ہولا رکھیں۔
خیر یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ پولیس والوں کا ہتھ اتنا بھی ہولا نہیں ہوتا۔ اگلی صبح جب میں تیار ہو کر تھانے پہنچا تو رپورٹ دینے شبینہ ڈیوٹی والا اے ایس آئی شاہد آیا۔
یہاں یہ بات بھی بتاتاچلوں کہ اے ایس آئی ابرار آج کل کسی کیس کے سلسلے میں کورٹ میں مصروف تھا۔
’’شاہد کیانتیجہ نکلا۔ کیا کوئی پاس بھی ہوا‘ یاسارے نالائق ہی نکلے۔‘‘
’’سر‘ یہ اتنے بھی نالائق ثابت نہیں ہوئے …‘‘ وہ ذرا رکا تو میں ہمہ تن گوش ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
’’کیامطلب؟‘‘
’’سر‘ان میں سے تین نے چھوٹی موٹی وارداتوں کااقرار کرلیا۔‘‘
’’اچھا کون سی وارداتیں بھئی۔‘‘
’’سر!نادر یہ بات ماناکہ اس نے چاقو دکھا کر کچھ دن پہلے ایک سیٹھ کو لوٹ لیاتھا جبکہ شرافت اورساجد نے اقرار کیاکہ انہوں نے مارکٹائی میں دوبندوں کو زخمی کردیاتھا۔ قارئین‘ آپ حیران ہو رہے ہوں گے‘ کہ بات توبینک ڈکیتی اور کیشیئر کے قتل کی تھی یہ نیا چرخہ کیامعنی رکھتا ہے۔ تو جناب‘ آپ کی یہ حیرت رفع کردیتے ہیں۔
دراصل جب اس قسم کی واردات کی ہم بستہ ب بدمعاشوں سے تفتیش کرتے تھے تو ان کوبغیر تکلف رکھے یہی کہتے تھے کہ تم ہی اس واردات میں ملوث ہو‘ اس طرح وہ اگر واردات میں ملوث نہیں بھی ہوتے تھے تو اپنی چھوٹی موٹی وارداتوں کا اقرار کرلیاکرتے تھے۔
اگران کی رپورٹ درج نہیں ہوتی تھی توہم ان کوسخت سست کہہ کے چھوڑ دیتے تھے یہ ہماری مجبوری ہوتی تھی اور ہماری مجبوری کووہ سمجھتے تھے۔
لیکن ہم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتے تھے ہم کسی نہ کسی طرح ان کو استعمال کرہی لیتے تھے۔میں نے اپنے کمرے میں بلالیا اور ساتھ ہی کانسٹیبل وزر اورسپاہی قدیر کو بھی اس کے دائیں اور بائیں کھڑا کردیا۔
میرے سامنے کاغذ پر غیرحاضر بستہ ب بدمعاشوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔
یہ نصیر عرف نصیرو‘ لیاقت عرف چندہ‘ اور رفیق عرف فیکاتھے۔
میں نے نادر کی مکارانہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو‘ تم نے بہت بڑا کام کیاہے…؟‘‘
’’جناب‘ مائی باپ ان دنوں ذرا کڑکی تھی‘ اس لیے سیٹھ کو دوز دینی پڑی تھی۔ آئندہ آپ کوشکایت کاموقع نہیں دوں گا۔‘‘
’’او‘ جل ککڑی کی اولاد‘ تم کسی قابل رہوگے تو کچھ کروگے نہ‘ سپاہی قدیر نے اس کے کاندھے پر ایک دھول جماتے ہوئے ذرا سخت لہجے میں کہا۔
’’ہائے میں مرگیا۔ جناب آپ انہیں روکیں۔ ان کاہاتھ تو ان سے بھی بھاری ہے۔جنہوں نے رات…‘‘
’’تمہاری خاطر تواضع کی تھی۔‘‘ میں نے چبھتے ہوئے لہجے میں اس کاادھورا فقرہ پورا کردیا۔
وہ بھیگی بلی بنا کھڑا رہا۔ جانتاتھا کہ اگر اس نے زیادہ زبان کھولنے کی کوشش کی تو ہم اسے مرغابنا کر آٹھ دس اینٹیں اس کی پیٹھ پررکھ دیں گے۔
حالانکہ ہمارا ایساکوئی ارادہ نہیں تھا۔ ہم تو اسے تفتیش کی بھٹی میں ڈال کرنرم کرنا چاہتے تھے تاکہ جس طرف چاہیں موڑ سکیں اور اس وقت وہ ہماری حسب منشا نرم ہوچکاتھا۔
نادر‘تمہاری صرف ایک صورت میں جان چھوٹ سکتی ہے کہ تم ہمیں نصیرو‘ چندہ اور فیکا کا پتہ بتادو۔ ‘‘ میں نے اس کوخونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیامطلب جناب‘ آپ کے پاس ان کاپتہ نہیں ہے؟ اس نے معصومیت سے کہا۔
’’اوہ بے وقوف‘ اگر وہ اپنے موجودہ پتے پرہوتے تو رات کو تمہارے ساتھ نہ دعوت اڑا رہے ہوتے۔‘‘
’’جناب‘ آپ بالکل فکر فاقہ نہ کریں۔ میں بہت جلد آپ کو ان کے متعلق بتادوں گا۔ آپ صرف مجھے تین دن دے دیں۔‘‘ نادر نے التجا بھرے لہجے میں کہا۔
’’ٹھیک ہے…‘‘ میں نے اسے جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا۔
اب مجھے امید تھی کہ وہ اپنی سی پوری کوشش کرے گا۔ ویسے مجھے صرف شک تھا او ران پرغصہ بھی کیونکہ وہ تھانے میں بتائے بغیر غائب تھے۔
نادر نے تین دن مانگے تھے لیکن اس دوران ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے نہیں رہ سکتے تھے‘ ہر طرف تفتیش کے گھوڑے دوڑائے تھے۔ اگلے دن میں کانسٹیبل وزیر کولے کر مقتول کے گائوں کی طرف روانہ ہوگیا۔
وہاں کے تھانے میں بتانا ضروری تھا۔ وہاں کے تھانے دار چوہدری لہراسپ نے اپنا ایک کانسٹیبل بھی ہمارے ساتھ کردیاتھا۔ پتہ مجھے وکیل سمجھاگیاتھا۔
جوگھر ہماری منزل تھاوہ کھلا کھلا گھر تھا۔صحن میں جامن‘ آلو بخارے کے درخت لگے ہوئے تھے۔
حجرہ ٹائپ بیٹھک میں مقتول کے باپ نے ہمیں بٹھایا اور ہمارے منع کرنے کے باوجود چائے وغیرہ لے آیا۔ ہم چائے وغیرہ پینے کے بعد اصل موضوع کی طرف آگئے۔
’’ہاں تو کرامت صاحب‘ جس دن آپ میرے پاس تھانے میں اپنے بیٹے کی لاش لینے آئے تھے‘ اس دن میں نے آپ کی آنکھوں میں کچھ سوال پڑھ لیے تھے۔ اس وقت دیکھیں‘ میں خود چل کر آپ کے پاس آگیاہوں۔ آپ کھل کے میرے ساتھ بات کریں اور چھوٹی سے چھوٹی بات بھی میرے گوش گزار کردیں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب میں تو سراپا سوال ہوں۔ میں نے طارق کو ماں اور باپ کاپیار دینے کی کوشش کی تھی‘ اس کی خاطر میں نے دوسری شادی نہیں کی۔ وہ جس فیلڈ میں جانا چاہتاتھا‘ میں نے اسے وہاں پہنچادیا۔ اس کی خوشی میں‘ میں خوش تھا۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ طارق نے سب کچھ ڈاکوئوں کے حوالے کردیاتھا پھر انہوں نے اسے کیوں مارا۔ ظلم کی یہ داستان کیوں رقم کی۔ ان کوذرا ترس نہ آیا۔‘‘
وہ ایک دکھی باپ تھا اس کاجوان جہان بیٹا اس سے چھن گیاتھا۔
میں نے اسے بولنے دیا‘ دل کادکھ پانی بن کراس کی آنکھوں سے رواں دواں ہوگیا۔یہ پانی بھی عجیب شے ہے۔ اگر آنکھوں سے رواں نہ ہو تو انسان کا دل پھٹ جائے۔ جب اس کے دل کابوجھ ہلکا ہوگیا تو میں نے اس دکھی باپ کے زخمی اور غموں سے چور چور دل پر ہمدردی کے پھائے رکھتے ہوئے کہا۔
’’دیکھیں… کرامت صاحب‘ میں ایک تھانے دار ہونے کے علاوہ انسان بھی ہوں۔ مجھے آپ کے دکھ کاپورا پورا احساس ہے‘ میں آپ کے بیٹے کو تو واپس نہیں لاسکتا لیکن میں آپ کویقین دلاتاہوں کہ اس کے قاتلوں کو ضرور قانون کے کٹہرے میں لاکر دم لوں گا‘انشاء اللہ ۔
وہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جن میں دکھ‘ غم اور تشکر شامل تھا۔
چند لمحوں کے بعد وہ بوجھل دل سے بولا۔
’’تھانیدار صاحب‘ ڈاکو توبینک لوٹنے آئے تھے لیکن میں نے آپ کی باتوں سے اندازہ لگایاہے کہ آپ اس معاملے کو کسی اور رنگ میں دیکھ رہے ہیں۔‘‘
میںنے چونک کر اس کی طرف دیکھا پھربولا۔
’’آپ کے خیال میں وہ رنگ کونسا ہوسکتا ہے؟‘‘
’’یہ تومیں نہیں بتاسکتا۔ البتہ مجھے محسوس یہی ہورہا ہے کہ آپ ڈاکوئوں کے علاوہ بھی کچھ سوچ رہے ہیں۔‘‘
اس کی بات بالکل صحیح تھی لیکن میں خود کلیئر نہیں تھا۔ کوئی نہ کوئی بات تھی جو مجھے کھٹک رہی تھی۔
خیراسے آپ میری چھٹی حس کا کرشمہ کہہ لیں یا تھانیدارانہ حس کاکمال سمجھ لیں بہرحال جوبھی تھااسے ابھی کوئی معنی نہیں پہنائے جاسکتے تھے۔
میں نے اسے کہا کہ وہ اپنی بہو کو بھیج دے۔
’’جناب وہ تو سکتے کی حالت میں ہے اور اسپتال میں داخل ہے۔‘‘
’’کیامطلب؟‘‘ میں نے حیران نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ سچ ہے‘ تھانیدار صاحب جب سے اس کوپتہ چلا ہے کہ اس کے خاوند کو بینک ڈکیتی کے دوران ڈاکوئوں نے مار دیاہے اس وقت سے وہ سکتے کی حالت میں ہے۔‘‘
’’اوہ بڑا افسوس ہوا۔کرامت صاحب‘ دراصل میں نے اس سے چند باتیں کرنی تھیں۔‘‘
’’جناب فی الحال تو یہ ممکن نہیں رہا۔‘‘ کرامت نے زخمی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
بہرحال جو پلان ہم لے کر آئے تھے وہ فیل ہوگیا تھا۔
واپسی میں ہم نے طارق(مقتول) کی بیوہ فردوس کو اسپتال میں جاکر دیکھا تھا۔اس کا علاج کرنے والی لیڈی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ فردوس کی کیفیت کے متعلق کچھ نہیں جاکہاسکتا کہ کب تک ایسی رہے گی‘ ہم مختلف ٹیسٹ وغیرہ کررہے ہیں۔
وکیل نے جوباتیں بتائی تھیں ہم نے ان کی تصدیق فردوس سے کرنی تھی۔
لیکن!
یہاں تو حالات ہی اور تھے۔
تھانے واپس آکر میں نے سپاہی نواز سے کہا کہ وہ اسپتال جاکر گارڈ کودیکھ آئے‘ وہاں اس کی نگرانی کے لیے سپاہی انور موجود تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہاں سے سپاہی نواز کافون آیا کہ گارڈ کی حالت اب کافی حد تک ٹھیک ہے وہ بیان دینے کے قابل ہے۔
میں نے محرر کوساتھ لیا اور وہاں پہنچ گیا۔ گارڈ جس کانام عبدالقیوم معلوم ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی پریشان نظر آنے لگا۔
میں نے اسے جھوٹی تسلی دلاسے دیئے‘ کیونکہ اس کی بیماری کے پیش نظر وقت کایہی تقاضا تھا۔
اس نے اٹک اٹک کر جوبیان محرر کو لکھوایا‘ وہ اس کی زبانی سنیے۔
’’تھانیدار صاحب‘ایک دن ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔تم فلاں بینک میں سیکیورٹی گارڈ ہو‘ میں نے اثبات میں سرہلایا۔ تووہ چند لمحے سوچنے کے بعد بولاتم ہمار اایک کام کرو… میں حیران وپریشان تھا کہ میں اس بندے کو جانتا تک نہیں‘ یہ مجھ سے کون سا کام لینا چاہتا ہے؟
پھرجب اس نے مجھے کام بتایا تو میں پریشان ہوگیا… اور اس وقت تو میں تھرتھرکانپنے لگا جب اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔
ہم نے بینک میں ڈاکہ تو ہرصورت میں ڈالنا ہے‘ اگر تم نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیاتو سب سے پہلے ہم تمہیں شوٹ کریں گے اس کے بعد اپنا کام کریں گے… اور اگر تم نے کسی کو بتانے کی کوشش کی تو ہم تمہارے بچے کو اٹھا کر لے جائیں گے۔
اگرتم نے ہمارا کام کردیاتو تمہیں ہم پانچ ہزار روپے دیں گے بولومنظور ہے یا…؟‘‘
میںخوف اور لالچ کی وجہ سے مجبور ہوگیا تھا۔ انہوں نے مجھے ایک ٹائم بتایاتھا کہ اس وقت تم باتھ روم میں چلے جانا۔‘‘
قارئین آپ نے اندازہ لگالیاہوگا کہ واردات کرنے والے کتنے اناڑی تھے‘ اس قسم کی بچکانہ باتیں اور حرکتیں پیشہ ور ڈاکو کسی صورت میں نہیں کرتے۔ بہرحال میں نے عبدالقیوم کی نگرانی کرنے والے سپاہی کو ایک طرف لے جاکر خصوصی ہدایات دیں کہ کوئی شخص اسے ملنے نہ پائے۔ اس پرکڑی نظر رکھے‘ اس کے علاوہ میں نے سیکیورٹی گارڈ سے اس شخص کا حلیہ پوچھاتھا‘ جو اس کوملاتھا۔ محرر نے علیحدہ کاغذ پر حلیہ نوٹ کرلیاتھا۔
تھانے میں واپس آکر میں نے سپاہی قدیر کو اپنے کمرے میں بلالیا۔
’’یس سر اس نے مجھے سلیوٹ جھاڑتے ہوئے کہا۔
یہ کاغذ لے جائو‘ اور اس کے اوپر جو حلیہ لکھاہواہے‘ اس کاخاکہ بنواکر لے آئو‘ ویسے حلیے نے مجھے چونکادیاتھا۔
اسے پتہ تھا کہ اس نے کس سے خاکہ بنوانا ہے‘ اپنی کسی تفتیشی کہانی میں‘ میں نے اس شخص کاذکر کیاتھا۔ بہرطور شام کوسپاہی قدیر خاکہ بنوا کر لے آیا۔خاکہ دیکھ کر میں اچھل پڑا‘ اور مجھے پتہ چلا کہ میں چونکا کیوں تھا؟یہ خاکہ تو نادر کاتھا جی ہاں وہی نادر جس نے کسی سیٹھ کو لوٹنے کااعتراف کیاتھااور جس نے تین د ن میں مفرور بستہ ب بدمعاشوں کو ڈھونڈ کر لانے کاوعدہ کیا تھا۔ میرے ذہن میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔
یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا جتنا نظرآرہاتھا۔ یہ تو جلیبی کی طرح لگ رہاتھا‘ اور لگتاتھا اس نے مجھے ابھی جلیبی کی طرح بل دینے ہیں۔ میرے دماغ کی چولیں ہلانی ہیں‘ او رقارئین …!
میرے اندیشے‘ وسوسے‘ اور خیالات حقیقت کاروپ دھار کر اس وقت سامنے آگئے جب میں دوسری صبح تیار ہو کر تھانے پہنچا۔ مجھے اطلاع دی گئی کہ لاری اڈے کے پچھواڑے کسی شخص کی لاش پڑی ہے۔یہ لاش نادر کی تھی۔ میں نے موقع پر جاکر لاش کامعائنہ کیا تو پتہ چلا کہ اسے زہر دیاگیا ہے۔ میرے ساتھ کانسٹیبل وزیر اور سپاہی قدیر بھی تھے۔
ظاہر ہے میں نے ضروری کاغذی کارروائی کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی تھی۔
کانسٹیبل وزیر کو لاش کے ساتھ بھیج کر میں سپاہی قدیر کو لے کر لاری اڈ پر آکر لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے لگا۔ لیکن آدھے گھنٹے کی مغزکھپائی کے بعد بھی کوئی کام کی بات معلوم نہ ہوسکی۔
کوئی بھی نہ بتاسکا کہ نادر کی لاش کوئی کب‘ اور کس طرح لاری اڈے کے پچھواڑے پھینک گیا۔ البتہ ہمیں وہاں سے یعنی لاش کے نیچے سے چاندی کی ایک انگوٹھی ملی تھی جس میں کوئی قیمتی پتھر جڑا ہواتھا۔ پتھر کانام مجھے یاد نہیں رہا۔ بہرحال یہ ایک اہم سراغ تھا۔
زیادہ امکان یہی تھا کہ جس نے وہاں لاش پھینکی تھی۔ اس کی انگلی سے یہ انگوٹھی گری ہوگی۔
ابھی حتمی طور پر کوئی بات نہیں کہی جاسکتی تھی۔
جب میں تھانے میں واپس آیا‘ تو اے ایس آئی ابرار میرے کمرے میں بیٹھا ہواتھا… وہ کورٹ سے فارغ ہو کر آیاتھا۔
’’سر…مجھے پتہ چلا ہے کہ لاری اڈے کے پچھواڑے سے نادر کی لاش ملی ہے۔‘‘
’’تمہیں ٹھیک پتہ چلا ہے لیکن اب تمہیں پتہ یہ چلانا ہے کہ نادر کو کس نے مارا ہے ۔مخبروں کومتحرک کرنے کاوقت آگیا ہے۔ یہ کیس تو شیطان کی آنت کی طرح لمبا ہی ہوگیا ہے۔
پھر میںنے اسے اس کیس کی اب تک ہونے والی تفتیش سے آگاہ کرنے کے بعد نادر کی لاش کے نیچے سے ملنے والی انگوٹھی اس کے حوالے کی تھی۔
اس کے جانے کے بعد میں میز پررکھے ہوئے کاغذات کونمٹانے میں لگ گیاتھا۔
اس دن اس کیس کے سلسلے میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اگلے دن نادر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سنسنی خیز کہانی سنارہی تھی۔
رپورٹ کے مطابق نادر کی موت رات ایک اور دو بجے کے درمیان ہوئی تھی‘ اس کے معدے میں زہریلی شراب کی وافر مقدار پائی گئی تھی۔
نادر کومجرموں نے ایک مہرے کی طرح استعمال کرکے موت کے گھاٹ اتار دیاتھا۔
لیکن سوال یہ تھا کہ یہ سارا گورکھ دھندا کیاتھا؟ کیایہ صرف ڈاکہ زنی کی واردات تھی یا…؟ اس کے اندر کوئی اور کہانی پوشیدہ تھی۔
سب سے بڑا جو سوال بچھو کی طرح میرے دماغ پر ڈنگ ماررہاتھا۔ وہ یہ تھا کہ آخر ڈاکوئوں نے کیشیئر طارق کو کیوں مارا؟
کیاوہ مجرموں کو واقعی پہچان گیاتھا؟
یہ کیس صحیح معنوں میں میرے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوا تھا۔
ویسے میر اتجربہ یہ کہہ رہاتھا… کہ مجرم اناڑی ہیں۔ انہوں نے حماقتیں کرکے اپنا اناڑی پن ظاہر کیا تھا۔ ادھر میں طارق کی بیوہ کی پل پل کی رپورٹ لے رہاتھا۔ جس اسپتال میں اس کاعلاج ہو رہاتھاوہاں میر اٹیلیفونک رابطہ تھا۔
اس کاسکتہ تو ٹوٹ چکاتھا‘ لیکن وہ کسی کوپہچانتی نہیں تھی۔
میں نے اگلے دن سپاہی قدیر کو ساتھ لیا‘ اور اسپتال میں پہنچ گیا۔
میں اسے ایک علیحدہ کمرے میں لے گیا… سپاہی قدیر کو میں نے کمرے کے باہر ہی ٹھہرنے کے لیے کہا۔
میں نے اسے بیڈ پر بیٹھنے کااشارہ کیا۔
اور خود کرسی پر بیٹھ گیا۔
وہ ٹکرٹکر مجھے دیکھنے لگی… میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم کو ڈاکٹروں نے پاگل ڈیکلیئر کردیا ہے… اب تمہارا اگلا ٹھکانہ پاگل خانہ ہے… وہاں پاگلوں کو زنجیروں سے باندھ کررکھا جاتاہے۔‘‘
یہ مصلحت کے پردے میں لپٹا ہوا وہ جھوٹ تھا‘ جس سے میں اس کی موجودہ کیفیت سے آگاہی حاصل کرنا تھی۔
کبھی کبھی ایسے حربے ہمیں استعمال کرنے پڑتے تھے۔حالانکہ کسی ڈاکٹر نے مجھے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی۔
’’میں پاگل نہیں ہوں۔ ڈاکٹر جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘وہ چیخ اٹھی۔
’’اچھا…‘‘ میں ہنس پڑا…چند لمحے دزدیدہ نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتا رہا… پھراس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’پھر یہ ڈھونگ رچانے کی کیاضرورت تھی؟‘‘
’’دراصل تھانے دار صاحب‘ میں مجرم ہوں‘ لیکن آپ کے قانون میں میرے لیے کوئی سزا نہیں ہے‘ اگر آپ ایسی باتیں نہ کرتے تو… وہ خاموش ہوگئی۔
’’توتم’ پاگل بنی رہتیں۔‘‘ میں نے اس کاادھورا فقرہ پورا کردیا۔
’’پتہ نہیں‘ میں کیا چاہتی ہوں؟‘‘ وہ اپنے بال نوچنے لگی۔
میں نے اس کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
’’کم از کم میں تو نہیں چاہتا‘ کہ تم یہ سب کچھ کرو۔‘‘ اسے نارمل ہونے میں کچھ وقت لگا۔
پھر!
اس نے اپنی کہانی سنائی تھی۔ اس میں سے زیادہ تر کہانی مجھے مقتول کیشیئر کا دوست وکیل سناگیاتھا۔ باقی کہانی قیاس آرائیوں پرمشتمل تھی۔
لیکن قارئین یقین کریں‘ بعد کے حالات نے یہ ثابت کیاتھا کہ تقریباً اسی طرح ہواتھا۔
ساری کہانی تو آگے آئیگی‘ یہاں یہ بتادیتاہوں‘ کہ اس کے بعد میں نے ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ اسے اسپتال سے فارغ کردیں۔
یہ بھی حقیقت تھی… کہ میں اسے گرفتار نہیں کرسکتاتھا کیونکہ اس کا جرم قابل دست اندازی پولیس نہیں تھا۔ ادھرتھانے میں میرے لیے ایک اور خوشخبری منتظر تھی۔ ابھی مجھے اپنی سیٹ پر بیٹھے ہوئے چند ہی لمحے گزرے تھے کہ لیاقت عرف چندہ کومیرے سامنے پیش کیاگیا۔
وہ گھبرایاہواتھا…اسے کانسٹیبل وزیر لے کر آیا تھا۔ ساتھ اے ایس آئی‘ ابرار بھی تھا۔
’’سر… اس نے ایک بڑی حماقت کی… اور پکڑا گیا۔‘‘ اے ایس آئی نے لیاقت عرف چندہ کوگھورتے ہوئے کہا۔
’’حماقت…‘‘ میں نے اے ایس آئی کی طرف دیکھا۔
’’جی ہاں‘ سر… یہ اس جیولر کومنع کرنے آیا تھا کہ وہ ہمیں یہ نہ بتائے کہ اس نے یہ انگوٹھی اس سے بنوائی تھی۔یعنی نام ظاہر نہ کرے‘ اس راز کوچھپانے کے لیے پانچ ہزار دے رہاتھا۔
’’اوہ…کیااس نے بینک میں ڈکیتی کا اقرار کرلیاہے؟‘‘
’’بالکل… سر‘ اگر یہ اس حماقت کے بعدبھی اقرارنہ کرتا تو میں اس کی کھال اتروا کر اس میں بھس بھروادیتا۔‘‘
’’بہت خوب۔‘‘میں نے اے ایس آئی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔
’’اس کے ساتھی کون ہیں؟‘‘
’’سر… ان تینوں‘بلکہ نادر سمیت چاروں نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
’’اوہ… میں نے اپنے سامنے حاضر لیاقت عرف چندہ کو خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔
’’چندہ ماموں… تمہارے باقی دونوں بھانجے کہاں ہیں؟‘‘
اس نے میرے تیور دیکھ کر اپنے دونوں بستہ ب ساتھیوں کاٹھکانہ بتادیاتھا۔
جن کوہم نے چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار کرلیاتھا۔
لیجئے قارئین ذر ادل تھام کربیٹھ جائیں‘ اب پردے اٹھتے ہیں۔ دراصل مقتول طارق کی بیوی شوباز اور حدسے زیادہ فضول خرچ تھی۔ طارق اکثر اسے سمجھاتا رہتاتھا کہ چادر کے اندر پائوں رکھے‘ لیکن اس پر کسی بات کااثر نہیں ہوتاتھا‘ اس کاسسر بھی اسے اس بارے میں سخت سست کہتا رہتاتھا۔ لیکن کرتی وہ اپنی مرضی تھی‘ انجام سے بے خبر وہ آگے ہی بڑھتی گئی‘ دوسری طرف قرضوں کاایک پہاڑ کھڑا ہوگیا… اس بارے میں طارق حد سے زیادہ پریشان رہتاتھا۔ وہ اپنے دکھڑے اپنے گائوں کے پڑوسی وکیل سے کہتارہتاتھا۔ بقول وکیل وہ ذہنی اورنفسیاتی مریض بن گیاتھا۔ ایسے میں ازدواجی زندگی تلخ ہو کررہ جاتی ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ جب ڈھول گلے میں پڑجائے تو اسے بجاناپڑتا ہے۔ فردوس اس کی بیوی تھی۔ قرض خواہوں نے سخت لہجے میں طارق سے قرض مانگنا شروع کردیاتھا۔نادر طارق کادوست بناہواتھا۔ ایک دن طارق نے اسے کہا کہ میرے اوپر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا ہے(اس نے اسے یہ نہیں بتایا کہ بیوی کی وجہ سے قرض چڑھا ہے ) نادر جس ذہن او رفطرت کامالک تھا‘ اس کے متعلق آپ پڑھ چکے ہیں‘ اس نے تاڑ لیا کہ اس وقت طارق موم کی ناک بناہوا ہے اسے حسب منشاء موڑا جاسکتا ہے۔ اس کے شیطانی ذہن میں ایک منصوبہ آگیا… اس نے طارق سے کہا کہ وہ دو دن بعد اسے کوئی مشورہ دے سکے گا‘ دراصل وہ اپنے ساتھیوں نصیر عرف نصیرو ‘لیاقت عرف چندہ اور رفیق عرف فیکے سے مشورہ کرنا چاہتاتھا۔
دو دن بعد وہ طارق سے ملا او ر اسے کہا کہ اگر وہ راضی ہوجائے تو ہم بینک میں ڈاکے کاپروگرام بنالیتے ہیں۔ طارق کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں زنگ آلود ہوچکی تھیں اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی ‘ٹھیک ہے کہہ دیا… وہ اس سے بے خبر تھا کہ نادر اور اس کے ساتھیوں کے ذہن میں کیا منصوبہ ہے۔ ان کے ذہن میں یہ تھا کہ سارا کیش حاصل کرنے کے بعد طارق کو گولی مار دیں گے‘ اس طرح سارا پیسہ ان کاہوتا۔انہوں نے ایسے ہی کیا۔ جس طرح واردات ہوئی اس کے متعلق آپ پڑھ چکے ہیں۔ یہاں صرف اس بات کی وضاحت کردوں کہ بینک کے اندر لیاقت عرف چند ہ اور رفیق عرف فیکا گئے تھے۔نادر اور نصیربینک کے عقبی درواز ے کے باہر ان کی مدد کے لیے موجود تھے۔ اب بات رہ جاتی ہے‘ نادر کی‘ ایک تو نادر نے زیادہ چالاک بنتے ہوئے باقی تینوں کی طرح روپوشی اختیار نہیں کی تھی۔اس طرح وہ ہمارے جال میں آگیا‘ دوسرے اس نے باقی تینوں کے مشورے کے بغیر گارڈ سے ڈیل کی تھی… تیسرے باقی تینوں اس کاحصہ خود ہضم کرنا چاہتے تھے۔ اس طرح کے کاموں میں اسی طرح تو ہوتا ہے۔ انہوںنے ایک دن اپنے خفیہ ڈیرے پر نادر کو شراب میں زہرملا کر پلادیا اور لیاقت عرف چندہ نے راتوں رات اس کی لاش لاری اڈے کے پچھواڑے لاکر پھینک دی۔ وہ اس طرح اپنی انگوٹھی کی صورت میں ہمارے لیے ایک اہم سراغ بھی پھینک گیا۔ اس کے بعد جب اسے پتہ چلا کہ وہ لاش کے ساتھ اپنی انگوٹھی بھی پھینک آیا ہے‘ (یہ بات صبح اسے پتہ چلی ) تو اس نے اپنی دانست میں اپنے بچائو کے لیے وہ حماقت کرڈالی جس کاذکر آچکا ہے۔ جب ہم نے چاروں سے پوچھا کہ انہوں نے بستہ بدمعاش ہوتے ہوئے یہ منصوبہ کیوں بنایا… تو چاروں نے یک زبان ہو کر کہا۔جناب ہم نے یہ سوچا کہ آپ کا دھیان س طرف نہیں جائے گا۔
یہ بھی ایک احمقانہ بات تھی۔ دراصل وہ پولیس کو بے وقوف اور اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے تھے۔ میرے خیال میں وہ احمقوں کاٹولہ تھا۔ قارئین آپ کا کیا خیال ہے؟ ہاں ایک بات اور ہم نے گارڈ کو بھی حوالہ عدالت کردیاتھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close