Naeyufaq Sep-16

غریب شہر فغاں

زرین قمر

ہلکے سرمئی رنگ کا ڈھیلا ڈھالا ٹرائوزر برائون ٹی شرٹ جس کی پشت پر VICTORYکے لفظ کے ساتھ ساتھ Vکا سائن بھی بنا ہوا تھا اس کے جسم پر بہت جچ رہی تھیں۔ اس کے سیاہ بال کسی قدر گھنگھریالے اور لمبے تھے جنہیں اس نے ایک بینڈ کی مدد سے پونی ٹیل کی شکل دی ہوئی تھی وہ بیس بائیس سال کا گلابی رنگت ولا خوبرو جوان تھا اس کی آنکھوں میں چیتے جیسی چمک تھی اورہر ہر انداز سے پھرتیلا پن نمایاں تھا وہ ایک مکان کی دوسری منزل پر موجود تھا اور بڑی احتیاط سے اطراف کا جائزہ لے رہا تھا۔
اچانک کسی ہیوی ڈیوٹی وہیکل کی آواز سنائی دی اور کہیں قریب ہی اس کا انجن بند ہونے کی آواز بھی سنائی دی تھی اسی لمحے نیچے گلی میں سے کسی آسٹریلوی طوطے کے چہچہانے کی سریلی سی آواز محسوس ہوئی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ عمرسیف نے خود کو پوشیدہ رکھتے ہوئے بڑی احتیاط سے کھڑکی سے نیچے جھانکا جہاں اس کا دوست خالد قصام موجود تھا اس کا سر نیچے جھکا ہوا تھا اور وہ ایک دکان کے سامنے کھڑا تھا اور اپنے بائیں ہاتھ سے اپنا سر سہلا رہا تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ اسرائیلی فوجی وہاں پہنچ چکے تھے وہ گلی میں بائیں جانب موجود تھے اور تعداد میں دو تھے اس کا اندازہ عمرسیف نے اس طرح لگایا تھا کہ اس کے دوست خالد نے اپنا سر دوبار سہلایا تھا جو اسرائیلی فوجیوں کی تعداد کو ظاہر کررہا تھا اور بائیں ہاتھ سے سہلایا تھا جس کا مطلب تھا کہ فوجی بائیں جانب موجود ہیں۔
یہ عمر اور اس کے ساتھیوں کے خفیہ اشارے تھے جن سے وہ خود کو دشمن سے مقابلے کے لیے تیار رکھتے تھے عمر سیف کا تعلق غزہ کی ایک جہادی تنظیم سے تھا جو اپنی جدوجہد آزادی کی جنگ لڑرہی تھی۔ چند روز پہلے مقابلے میں اس تنظیم کے ہاتھوں دو اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے جن میں سے ایک کے قتل کا الزام عمرسیف پر تھا اور اب اسرائیلی فوجی بھوکے بھیڑیوں کی طرح اسے ڈھونڈتے پھر رہے تھے لیکن کئی روز کی آنکھ مچولی کے کھیل کے باوجود وہ اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہے تھے اس کے ساتھی اسے کسی نہ کسی طرح اسرائیلی فوجیوں کی آمد کی اطلاع دے دیتے تھے اور وہ ٹھکانہ بدل لیتا تھا۔
اب بھی یہی ہوا تھا خطرے کا سگنل پاتے ہی عمر تیزی سے کمرے سے نکل کر عمارت کے برآمدے میں آیا تھا اس نے برآمدے کی چھت پر لگا لوہے کا جنگلہ پکڑ کر الٹی قلا بازی کھاتے ہوئے اوپر کی طرف چھلانگ لگائی تھی اور ایک ہی کوشش میں چھت پر پہنچ گیا تھا۔ اسی وقت اسرائیلی فوجی گیٹ سے عمارت میں داخل ہوئے تھے اور اتنی دیر میں عمر چھلانگیں مارتا کئی عمارتیں پارکرتا چلا گیا تھا جب اسرائیلی فوجی چھت پر پہنچے تو وہ ان کی گرفت سے کافی دور تقریباً پانچویں عمارت کی چھت پر موجود تھا اور وہاں سے بھی اگلی عمارت کی چھت پر چھلانگ لگانے کی تیاری کررہا تھا۔
’’وہ …وہ ہے …وہ دیکھو۔‘‘ایک اسرائیلی فوجی چیخا دوسرا اس سے تھوڑے فاصلے پر تھا۔
’’یہ جائو نیچے جائو…اس کا پیچھا کرو…بھاگنے نہ پائے۔اسے زندہ پکڑنا ہے۔‘‘ پہلے فوجی نے کہا اور خود بھی نیچے کی طرف بھاگا۔ عمر سیف اب اس عمارت سے بھی غائب ہوچکا تھا شاید اس نے نیچے چھلانگ لگا دی تھی۔
تھوڑی ہی دیر بعد غزہ کی گلیوں میں وہی آنکھ مچولی کا کھیل ہورہا تھا جو عمر اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان کئی روز سے جاری تھا عمر آگے آگے چھلانگیں لگاتا بھاگ رہا تھا اور اسرائیلی فوجی اس کے پیچھے پیچھے تعاقب کررہے تھے وہ باربار انہیں دھوکا دینے میں کامیاب ہوجاتا تھا اور فوجی مزید طیش میں آکر زیادہ مستعدی سے اس کا پیچھا کرنے لگتے تھے وہ اس پر فائر بھی کرتے جارہے تھے لیکن ابھی تک اسے کوئی گولی نہیں لگی تھی شاید وہ جان کر اس طرح فائر کررہے تھے کیونکہ وہ اسے زندہ گرفتا رکرنا چاہتے تھے۔
’’کم بخت چھلاوہ ہے۔‘‘ایک مقام پر ایک فوجی نے دیوار کا سہارا لے کر سانسیں درست کرتے ہوئے کہا اس کا سانس پھول گیاتھا اور چہرے سے تھکن نمایاں تھیں جبکہ عمر اسی طرح لنگوروں کے سے انداز میں چھلانگیں مارتا بھاگا جارہا تھا۔
’’ہیلو۔‘‘دوسرے فوجی نے اپنی کمر کے گرد لگی بیلٹ سے وائر لیس سیٹ نکال کر دوسری طرف کسی کو مخاطب کیا۔
’’وہ اگلی گلی کے موڑ سے گاڑی کی طرف آرہا ہے اسے وہیں پکڑلو ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔‘‘فوجی نے مائوتھ پیس میں کہا۔
’’گاڑی کے پاس کوئی ہے؟‘‘ پہلے فوجی نے پوچھا۔
’’ہمارے دو ساتھی ہیں وہ اس کے ہی منتظر ہیں۔‘‘ دوسرے فوجی نے جواب دیا اس نے وائرلیس سیٹ واپس بیلٹ میں لگالیا تھا اور پھر اپنے ساتھی کے ساتھ اس سمت روانہ ہوگیا تھا جدھرعمر گیا تھا۔ خالد قصام کچھ فاصلے پر کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا یہ اس کی ذمہ داری میں شامل تھا کہ وہ عمرسیف کی حفاظت کرے‘ اس کا ساتھ دے اور اس کی صورت حا ل سے باخبر رہے تاکہ موقع ملنے پر اس کی حفاظت کی جاسکے۔
عمرسیف چھلانگیں مارتا گلیوں کے موڑ مڑتا چھپتا چھپاتا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک گلی کے سرے پر اسے اسرائیلی بکتر بند نظر آئی اس نے خود کو چھپانے کی کوشش میں چند قدم پیچھے کھسکائے کہ اس کی پشت سے ایک گن کی نال آلگی۔
’’جہاں ہو وہیں رک جائو ورنہ گولی چلا دیں گے۔‘‘ایک اسرائیلی فوجی کی کرخت آواز سنائی دی اور عمر اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔
’’چلو !آگے بڑھو۔‘‘پیچھے سے اس کی کمر میں لگی بندوق کی نال پر دبائو ڈالا گیا اور اس کے ساتھ ہی ایک اور اسرائیلی فوجی اس کے عقب سے نکل کر سامنے آگیا پھر وہ اسے گلی سے باہر کھلے علاقے میں لے آئے تھے جہاں اسرائیلی بکتر بند موجود تھی۔ دور جگہ جگہ مقامی لوگ کھڑے تھے اوران کی طرف دیکھ کر کچھ اشارہ کررہے تھے ساتھ ہی باتیں بھی کرتے جارہے تھے عمر نے دیکھا انہی لوگوں کے درمیان خالد قصام بھی موجود تھا جو باربار سیدھے ہاتھ کی انگلیوں سے Vکا نشان بنا رہا تھا جس کا مطلب ایک تو یہ تھا کہ فتح ہماری ہوگی اور دوسرا خفیہ مطلب یہ تھا کہ اس کی گرفتاری کی اطلاع جہادی تنظیم کو دے دی جائے گی۔
اسرائیلی فوجیوں نے دھکے دیتے ہوئے عمرسیف کو گاڑی میں سوار کرادیاتھا اور اسے لے کر گاڑی وہاں سے روانہ ہوگئی تھی۔ عمرسیف زید کی گرفتاری کے بعد کارروائی بہت مختصر سی تھی اسے ایک اسرائیلی کورٹ میں پیش کیا گیا تھاجہاں اس پر لگایا جانے والا الزام پڑھ کر سنایا گیا تھا جو ایک اسرائیلی فوجی کا قتل تھا لیکن اسے عمرسیف نے نہیں مارا تھا مگر اسرائیلی کورٹ نے اسے کسی صفائی کا موقع نہیں دیا تھا اور الزام سنانے کے بعد سزا سنا دی گئی تھی جو چودہ سال قید تھی ۔
اسے 1986ء میں گرفتار کیا گیاتھا اس کی گرفتاری کے ایک ماہ بعد اس کی بیوی رانیہ کی رسائی اس تک ہوسکی تھی اسرائیلی انتظامیہ تو اس کے شوہر سے ملوانے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی اسے یہ تک بتایا نہیں جارہا تھا کہ عمرسیف کس جیل میں ہے جب رانیہ عمرسیف سے ملی تو اس کے جسم پر زخموں کے بے شمار نشانات تھے جو اسے جیل میں ہی لگے تھے ۔
’’اوہ عمر !یہ کیا ؟یہ کیاہوا؟‘‘رانیہ نے اس کے زخم دیکھ کر پوچھا۔
’’اسے چھوڑو…تم میری بات غور سے سنو۔‘‘ عمر نے کہا۔
’’نہیں عمر ‘ میں نے ایک بہت اچھے وکیل سے بات کی ہے اس نے کہا ہے …‘‘
’’میری بات سنو رانیہ۔‘‘ عمر نے اسے سختی سے ٹوکا تو وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگی تھی۔
’’جتنی جلدی ہوسکے تم بچوں کو لے کربلغاریہ چلی جائو وہاں تمہارا میکہ ہے تم وہاں محفوظ رہوگی۔‘‘
’’میں یہاں ہی ٹھیک ہوں…تمہارے پاس…جب تم رہا ہو کر آئوگے تب ہم سب ساتھ ہی بلغاریہ جائیں گے۔‘‘رانیہ نے کہا۔
’’میری بات دھیان سے سنو۔رانیہ یہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے…زیادہ باتوں کا وقت نہیں ہے تمہیں اپنی اور بچوں کی حفاظت خود کرنا ہے۔ اگر حمزہ تیار ہوجائے تو تم اسے اپنے ساتھ بلغاریہ لے جاسکتی ہو۔‘‘عمر نے اپنے چھوٹے بھائی حمزہ زید کا ذکرکیا اس کے علاوہ ان کی فیملی کا کوئی شخص غزہ میں نہیں تھا۔
’’لیکن تمہیں اس حال میں؟‘‘
’’میری فکر مت کرو میں اپنی حفاظت کرسکتاہوں۔ مجھے بس تم لوگوں کی فکر ہے۔‘‘ عمرسیف نے کہا اور اسی وقت اسرائیلی فوجی جیلر نے وقت ملاقات ختم ہونے کا اعلان کردیا۔
’’جائو جتنی جلدی ہوسکے یہ کام کرلو…خد اتمہارا حامی وناصر ہو۔‘‘عمر سیف نے کہا اور دوسرے ہی لمحے اسے ایک اسرائیلی فوجی نے کھینچ کرجیل کی سلاخوں سے پیچھے ہٹالیا۔ رانیہ حسرت سے کھڑی اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی تھی ۔فوجی عمر کو کھینچتا ہوا اندر جیل کی تاریک کوٹھڑیوں کی طرف لے گیا تھا اوررانیہ کچھ دیر وہاں اداس کھڑی رہنے کے بعدبوجھل قدموں سے واپس آگئی تھی گھر پہنچنے کے بعد اس نے عمرسیف کے چھوٹے بھائی حمزہ کو ساری بات بتائی تھی تو حمزہ پریشان ہوگیا تھا۔
’’اگر بھائی نے یہ کہا ہے تو یہ کرنا ضروری ہے۔ اس نے یقیناً کسی وجہ سے کہا ہوگا۔‘‘حمزہ نے کہا۔
’’ہاں اس نے دوسری کوئی بات ہی نہیں کی۔ بس بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ تم بچوں کو اور حمزہ کو لے کر بلغاریہ چلی جائو…اس کے جسم پر زخموں کے بہت نشان تھے…خدا جانے جیل میں اس کے ساتھ کیا سلوک ہورہاہے اور اب کیا ہونے والاہے۔‘‘رانیہ نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’ٹھیک ہے تم بچوں کو کچھ مت بتانا ہم یہاں کسی پر ظاہر نہیں کریں گے کہ ہم بلغاریہ جارہے ہیں۔ اگر اسرائیلیوں کو ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو وہ ہمارے پیچھے وہاں بھی پہنچ جائیں گے ۔ہم خاموشی سے یہاں جائیں گے پہلے میں خفیہ طورپر یہاں سے جانے کے انتظامات کرلوں اور بلغاریہ میں تمہارے گھروالوں سے بھی بات کرلوں۔‘‘حمزہ زید نے کہا تورانیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
چند روز بعد موقع نکال کر حمزہ نے عمر کے دوست خالد قصام سے بات کی تو خالد نے اس کی ہمت بندھائی۔
’’تم فکر مت کرو حمزہ…ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ہے عمرسیف پر جو قتل کا الزام لگا ہے وہ جھوٹ ہے ہم اس کی حالت سے باخبر ہیں اور کوشش میں ہیں کہ موقع ملتے ہی اسے کسی نہ کسی طرح جیل سے نکال لیں لیکن اسرائیلی جیل کا پہرہ بہت سخت ہے اور یہ کام آسان نہیں اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے اور عمر سے ہمارا رابطہ نہیں ہورہا لیکن اتنا جانتے ہیں کہ جیل میں اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہورہا اس پر اسرائیلی قیدی ایجنٹوں کے ذریعے حملے کروائے جاتے ہیں اور بھی مختلف طریقوں سے اسے ٹارچر کیا جاتاہے تاکہ وہ ہر کسی کو اپنی بے گناہی کی داستانیں نہ سنائے اور خود پر لگے ہوئے الزام کو قبول کرلے۔‘‘خالد اسے تفصیل سے بتا رہا تھا اور حمزہ حیرت سے سن رہا تھا۔
’’تم سے عمر نے جو کہاہے اس پر عمل کرو اس سلسلے میں اگر کوئی مدد چاہئے تو مجھے بتا دینا تم لوگوں کے بلغاریہ جانے کا انتظام ہوجائے گا۔‘‘ خالد نے اسے تسلی دلائی۔
پھر خالد قصام سے ملاقات کے پندرہ دن بعد حمزہ اپنی بھابھی رانیہ اور تین بچوں طلحہ زید‘ سعدزید‘ اور ہانیہ زید کے ساتھ غزہ سے نکل گیا اور ااس کے لیے ایک مشکل سفر کا آغاز ہوا تھا۔
/ …/ …/ …/
1986ء میں گرفتاری کے بعد عمر سیف زید نے اسرائیلی جیل میں 1990تک کا عرصہ بہت تکلیف و پریشانی میں گزارا ۔اسے اکثر مختلف سازشوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اسے قیدیوں سے پٹوایا جاتا تھا اورا س کے ساتھ ساتھ دوسرے مسلمان قیدی بھی اسی صورت حال سے دو چار تھے۔ عمرسیف نے بہت بار درخواستیں دیں‘ احتجاج کیا کہ اسے ایک جھوٹے الزام میں سزا دی گئی ہے اسے رہا کیاجائے لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی آخرکار اس نے 1990میں احتجاجی طورپر بھوک ہڑتال کردی۔
’’عمر تم نے بھوک ہڑتال کرکے اچھا نہیں کیا تم کیا سمجھتے ہو یہ لوگ تمہاری خوشامد کرکے تمہیں کھانا کھلائیں گے؟‘‘ اس کے ایک ساتھی مسلمان قیدی نے کہا جس کی عمر تقریباً پچپن سال تھی۔
’’نہیں طارق کریمی میں جانتا ہوں میری بھوک ہڑتال سے ان پر کوئی اثرنہیں ہوگا لیکن میں اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہوں۔‘‘عمر نے بوڑھے کریمی سے کہا۔
’’تم جو بھی ملتا ہے وہ کھائو یہ بہت ضروری ہے کہ تم جسمانی طورپر مضبوط رہو تاکہ ان کے ظلم کا مقابلہ کرسکو اگر تم کمزور ہوگئے تو ان کا مقابلہ کیسے کرو گے؟‘‘طارق کریمی نے اسے سمجھایا۔
’’اللہ بہت بڑا ہے وہ مجھے ان کے مقابلے کی طاقت دے گا وہ مظلوم کا ساتھ دے گا ہمیں صرف اللہ ہی کا تو آسرا ہے۔‘‘عمر نے کہا۔
’’ہاں وہ تو ٹھیک ہے پھر بھی احتیاط ضروری ہے اور اپنے مقصد پر ثابت قدمی سے قائم رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تم جسمانی اور ذہنی طور پر ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہو۔‘‘ کریمی نے سمجھایا وہ دونوں جیل میں کام کے وقفے کے دوران باتیں کررہے تھے اچانک نگران فوجی کی نظر ان پر پڑی اور وہ تیزی سے ان کی طرف آیا پھر اس نے چمڑے کی بیلٹ سے طارق کریمی کی پشت پر دو تین ضربیں لگائی تھیں اور وہ تڑپ کر رہ گیا تھا۔
’’کیابات ہے؟اسے کیوں ماررہے ہو؟‘‘عمر نے چیخ کر کہا اور وہ فوجی اس پر پل پڑا وہ تیزی سے چمڑے کی بیلٹ سے اس کی پٹائی کررہا تھا اور عمرسیف درد سے کرا رہا تھا۔
’’اوہ…ظالم بس کرو…میرا کیاقصور ہے؟‘‘عمر نے کراہتے ہوئے کہا۔
’’ہمارے اسرائیلی فوجی کو مارتے ہو اورہم سے رحم کی امید رکھتے ہو۔ ہم بھی تمہیں مارمار کر اس کے پاس بھیج دیں گے۔ اسرائیلی فوجی نے حقارت سے کہا۔
’’وہ جہنم میں گیا ہے ہمارا ٹھکانہ بے شک جہنم نہیں ہے…خدا مظلوموں کے ساتھ ہے۔‘‘عمر سیف نے کہا۔ اس نے سسکتے ہوئے طارق کریمی کو سہارا دے کر اٹھایا تھا اور اسرائیلی فوجی پیٹ کر ایک طرف چلا گیا تھا اسی وقت عمر سیف کی نظر جیل کے احاطے میں دوسری منزل پر بنے کمروں کی طرف اٹھ گئی جہاں اسرائیلی جیل کا جیلر کھڑا تھا وہ حقارت سے گرائونڈ میں کھڑے فوجیوں کو دیکھ رہا تھا اس کی نظرمیں ایک تندرست وتوانا اسرائیلی قیدی پر لگی تھی جسے اس نے ایک مخصوص اشارہ کیاتھا اور وہ قیدی عمرسیف کی طرف بڑھنے لگا تھا اس کے ہاتھ میں چھپے تیز دھار خنجرپر عمر سیف کی نظر پڑی تھی اوروہ اس کا ارادہ بھانپ گیا تھا۔ اس نے بھی طارق کریمی کو چھوڑ دیا تھا اور خود اس قیدی کے حملے سے بچنے کے لیے مستعد ہوگیا تھا ۔لیکن وہ کئی دن کا بھوکا تھا اور اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ قیدی نے اس پر چھلانگ لگائی تھی اوروہ تیزی سے ایک سمت ہٹ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ گرائونڈمیں موجود قیدی آہستہ آہستہ ایک دائرے کی شکل میں جمع ہوگئے تھے اور بہت دلچسپی سے اس لڑائی کو دیکھنے لگے تھے۔
قیدی نے دوبارہ اس پر چھلانگ لگائی تھی اس بار اس نے خنجر سے وار کیا تھا جس کی نوک عمر کے ایک بازو کو چھوتی ہوئی گزر گئی تھی اور اس کی آستین کو کاٹ دیا تھا جس میں سے اس کابازو نظر آرہا تھا جس پر لگے زخم کے نشان سے خون رس رہا تھا اس بار عمر سیف نے بھی اس کی کمر پر اپنی کہنی سے وار کیاتھا اور قیدی اپنا تو ازن برقرار نہیں رکھ سکا تھا وہ گرگیا تھا اس کے ساتھ ہی عمر نے اس پر چھلانگ لگائی تھی اور اس کو دبوچ لیا تھا پھر اس نے قیدی پر مکوں کی بارش کردی تھی اس کے ساتھ ہی دواسرائیلی پہرہ دار آگے بڑھے اور انہوں نے عمر کو پکڑ کر اس قیدی سے دور کردیا تھا۔ جیل کے احاطے میں سائرن بجنے لگا تھا اور سارے قیدی لائنیں بناکر اپنی اپنی بیرک میں چلے گئے تھے عمر اور اسرائیلی قیدی کو جیلر کے سامنے پیش کردیا گیاتھا ۔
’’ تمہارے اندر بہت طاقت ہے کتے۔‘‘اسرائیلی فوجی نے عمر کو مخاطب کرکے حقارت سے کہا۔
’’اس نے مجھ پر حملہ کیا تھا۔‘‘ عمرنے غصے سے جواب دیا اور اسی وقت پہرہ دار نے بندوق کا بٹ اس کے کاندھے پر زور سے مارا۔
’’آرام سے بات کرو تم ہمارے افسر سے بات کررہے ہو۔‘‘
’’اس نے اشارہ کرکے قیدی کو مجھ پر حملہ کرنے کے لیے کہا تھا۔‘‘عمرسیف نے سچ بول دیا۔
’’تم جھوٹ بولتے ہو۔‘‘پہرہ دار نے کہا اور جیلر مذاق اڑانے والے انداز میں ہنسنے لگا پھر اس نے ہاتھ سے اشارہ کیاتھا اور پہرہ دار عمر اور قیدی کو لے کر اس کے کمرے سے باہر آگیا تھا قیدی اپنی بیرک میں چلا گیا تھا لیکن عمر کو وہ پہرہ دار ایک اور کمرے میں لے گیا تھا جہاں اس کے ہاتھ اوپر کرکے زنجیروں سے باندھ دیئے گئے تھے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی اور اسے مارا جانے لگا تھا عمر کو یاد نہیں کہ اس کے ساتھ یہ سب کتنی دیر ہوتا رہا تھا اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ تکلیف کی شدت سے چیختا رہا تھا اور چیختے چیختے بے ہوش ہوگیا تھا۔
پھر جب اس کی آنکھ کھلی تھی تو وہ اپنی کوٹھڑی میں پڑا تھا اس میں حرکت کرنے کی ہمت نہیں تھی وہ کئی گھنٹے اسی طرح پڑا رہا تھا اس کے جسم سے جگہ جگہ سے خون بہہ رہا تھا اور دوسری بیرکوں کے قیدی جھانک جھانک کر اسے دیکھ رہے تھے پھر شاید وہ دو بارہ بے ہوش ہوگیا تھا۔ اس کے بعد اس کی آنکھ ایک اسپتال میں کھلی تھی جہاں اسے اسرائیلی جیل سے دوفوجیوں کی نگرانی میں علاج کے لیے لایاگیا تھا۔ یہ بیت اللحم کے علاقے کا ایک اسپتال تھا وہ ہوش اور بے ہوشی کی کیفیت میں کئی روز اپنے بیڈ پر پڑا رہا تھا اس کے جسم پر جگہ جگہ پٹیاں بندھی ہوئی تھی وہ اپنا ہاتھ بھی بمشکل اٹھا سکتاتھا سسٹر سہارا دے کر اسے بٹھاتی تھی اور سوپ وغیرہ دیتی تھی۔
تقریباً پندرہ دن بعد اس کی کئی پٹیاں ہٹا دی گئی تھیں اس کے جسم پر جگہ جگہ گہرے زخموں کے نشان تھے وہ حیران تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اسے کس چیز سے مارا تھا کہ اتنے گہرے زخم آئے تھے۔
پھر اچانک ایک رات شاید قدرت اس پر مہربان ہوگئی یا یہ محض کوئی اتفاق تھا وہ اسرائیل کی طرف سے ہونے والی ایک معمول کی کارروائی تھی۔ انہوں نے اسرائیلی سرحدی علاقے سے بیت الحم کے علاقے کی طرف راکٹ فائر کئے تھے جن میں سے دو راکٹ اس اسپتال کی بلڈنگ پر بھی لگے تھے جہاں عمرسیف زیر علاج تھا۔ وہ رات دو بجے کا وقت تھا زیادہ تر مریض اور اسپتال کا عملہ سو رہا تھا۔ اچانک ہی دھماکوں کی آوازوں سے سارا علاقہ گونج اٹھا تھا فضا میں مٹی ریت اور بارد کی بو پھیل گئی تھی اور انسانوں کی چیخیںدور دور تک سنی جاسکتی تھیں۔
’’اوہ خدایا اللہ رحم اللہ اکبر۔‘‘ مختلف لوگوں کی آوازیں تھیں لوگ تیزی سے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے بموں کے حملے اور عمارت کی تباہی کے بعد بجلی فیل ہوگئی تھی ہر طرف اندھیرا تھا اور افراتفری کا عالم تھا کسی کو کسی کا ہوش نہیں تھا۔ اسی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر عمرسیف نے اطراف کا جائزہ لیا وہ اپنے بیڈ سے نیچے پڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ڈرپ لگی تھی جسے اس نے نوچ کر پھینک دیا تھا اسے اپنے قریب کوئی اسرائیلی پہرہ دار نظرنہیں آرہے تھے۔ خدا معلوم انہیں زمین کھا گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا اس نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ جس کا جواب اسے دور سے کئی آوازوں نے دیا تھا ۔وہ تیزی سے اٹھا اور اسپتال کی ٹوٹی ہوئی دیوار سے باہر نکل گیا باہر بھی ہر طرف لوگ ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھے وہ تیزی سے لڑکھڑاتا ہوا ایک گلی میں روپوش ہوگیا تھا۔
اس کی جدوجہد آزادی کی تنظیم کے لوگ اس سے بے خبر نہیں تھے تیسرے دن اس کی ملاقات خالد قصام سے ہوگئی تھی اور خالد اسے بیت الحم میں واقع تنظیم کے دفتر لے گیا تھا جہاں اس کی ملاقات تنظیم کے علاقائی سربراہ اسامہ خلیل سے کروائی گئی تھی۔
’’عمرسیف!تم نے بھی بچوں والا کام کیا ہے۔‘‘اسامہ نے قدرے ناراضگی سے کہا عمر اس کے سامنے سرجھکائے کھڑا تھا۔
’’مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ تم اتنی آسانی سے پکڑ لیے جائو گے۔‘‘اسامہ نے پھرکہا عمر کے پاس الفاظ نہیں تھے کہ اس کاجواب دے سکے۔
’’تم ہمارے بہترین مجاہدوں میں سے ایک ہو اب تک کتنے ہی کارنامے کرچکے ہو مجھے حیرت ہوئی جب مجھے پتہ چلا کہ دو اسرائیلی فوجی تمہیں گرفتارکرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں؟‘‘
’’انہوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیرلیا تھا۔‘‘عمر نے آہستہ سے کہا۔
’’قید میں ظاہر ہے تمہارے ساتھ اچھاسلوک نہیں کیا گیاہوگا۔‘‘اسامہ نے بات بدلتے ہوئے کہا۔
’’اسی لیے شاید تمہیں اسپتال لایا گیا ہم موقع کی تلاش میں تھے تمہیں کسی نہ کسی طرح وہاں سے نکال لیتے لیکن خود اسرائیلیوں نے ہماری مشکل آسان کردی۔ اس حملے میںمعصوم مریض اور اسپتال کا عملہ بھی مارا گیا ہے۔ اسرائیل بالکل اندھا ہوگیا ہے وہ مسلمانوں پر اندھا دھند حملے کررہا ہے وہ نہیں جانتا اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔‘‘
’’بے شک وہ بہت بڑاہے…وہ نامساعد حالات میں بھی مسلمانوں کے لیے کوئی نہ کوئی مدد کا سبب پیدا کردیتاہے ہمارا ایمان ہے اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ہم انشاء اللہ تعالیٰ ان یہودیو ںکو شکست دے دیں گے۔‘‘عمر سیف نے پرجوش انداز میں کہا۔
’’میں امید کرتاہوں کہ آئندہ تم کوئی بے وقوفی نہیں کروگے اور اگلے احکامات کا انتظار کروگے۔ اسامہ خلیل نے سمجھانے والے اندازمیں کہا۔
’’تمہاری ذرا سی بھی عجلت تمہارے لیے اور دوسروں کے لیے بھی مصیبت کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔
’’جی میں سمجھ گیا۔‘‘عمر نے مختصراً جواب دیا اسامہ نے ہاتھ کی جنبش سے اسے چلے جانے کو کہا اور وہ خالد قصام کے ساتھ وہاں سے ہٹ گیاتھا۔
’’ابھی کچھ دن تک تمہارے باہر جانے پر پابندی ہے۔‘‘خالد قصام نے اسے بتایا۔
’’تمہارے اسپتال سے غائب ہوجانے پر وہ پاگل کتوں کی طرح تمہاری تلاش شروع کردیں گے ہوسکتا ہے کہ انہیںکسی ڈیڈ باڈی پر تمہارا شک ہو اور وہ سمجھ لیں کہ تم اس حملے میں مارے گئے ہو لیکن اس کا امکان بہت کم ہے تمہیں پتہ ہے یہ اسرائیلی اپنے دشمن کو قبر سے بھی نکال لاتے ہیں۔‘‘خالد نے کہا۔
’’ہاں میں جانتا ہوں یہ بتائو میرے بیوی بچے؟‘‘
’’وہ خیریت سے ہیں انہیں بلغاریہ پہنچا دیا گیا تھا تمہارا بھائی حمزہ بھی وہاں بچوں کے ساتھ موجود ہے۔‘‘خالد نے اسے بتایا تو اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نظر آئی۔
’’اب میں زیادہ سکون سے کام کرسکوں گا۔‘‘عمر نے کہا۔
’’ہاں اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے اور ہمیںاپنے ملک کو دشمنوں سے آزاد کروانے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘خالد نے کہا۔
’’بے شک وہ ہماری مدد کرے گا…اتنے مسلمانوں کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔‘‘
’’لیکن ہم کیا کریں ہمارے سربراہ ہی ہمارا ساتھ نہیں دے رہے ہیں انہیں عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔‘‘خالد نے کہا۔
’’اللہ بہت بڑاہے…وہ ناممکن سے ممکن اور نامعلوم سے معلوم پیدا کردیتا ہے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے مایوسی کفر ہے۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’کیا رانیہ کی کوئی خیر خبر آئی ہے۔‘‘اس نے خالد سے پوچھا۔
’’ہاں اس نے بلغاریہ کے ایک اسکول میں ملازمت کرلی ہے بچوں کو اسی اسکول میں داخلہ دلوادیا ہے اور حمزہ نے بھی ایک بک اسٹال پر سیلزمین کی ملازمت کرلی ہے۔‘‘
’’شکر ہے میرے مالک اور رانیہ کے والدین؟‘‘
’’وہ بھی خیریت سے ہیں انہوں نے ہی ان سب کاموں میںرانیہ کی مدد کی ہے۔‘‘خالد نے بتایا۔
’’میں اگر باہر نہیں نکلوں گاتو پاگل ہوجائوں گا میں چوروں کی طرح چھپ کر نہیں رہ سکتا۔‘‘عمرسیف نے خالد سے کہا۔
’’ابھی فی الحال تو تم باہر جانے کا ارادہ ترک کردو کیونکہ اسامہ خلیل اس کی اجازت نہیں دے گا ایک دو روز حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘
پھر عمرسیف کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا دوسرے ہی دن خالد دوڑتا ہوا اس کے پاس آیا تھا۔ابھی عمر صبح کے ناشتے کے بعد چائے ہی پی رہاتھا اور تنظیم کے دفتر میں تھا۔
’’عمر…عمر دیکھو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔‘‘خالد نے اسے بتایا اس کا سانس پھولا ہوا تھا شاید وہ کافی دور سے بھاگتا ہوا آیا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’اسرائیلی فوجی دیواروں پر جگہ جگہ پوسٹرلگا رہے ہیں۔ جس میں تمہاری تصویر بنی ہے اور تمہارے سر کی قیمت دو لاکھ پونڈ لگائی گئی ہے اس پوسٹر میں لکھا ہے کہ تم قتل کی متعدد وارداتوں میں مطلوب ہو اور تمہیں زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں پیش کرنے پر دو لاکھ پونڈ دیئے جائیں گے۔‘‘
’’سب جھوٹ ہے تم جانتے ہو۔‘‘عمر نے خالد سے کہا۔
’’ہاں میں جانتاہوں لیکن یہ معاملہ ہمارے جاننے یا نہ جاننے کا نہیں وہ تو اسی طرح کے الزامات لگائیں گے تاکہ کسی بھی بہانے تمہیں پکڑ سکیں وہ پہلے بھی ایسا کرتے رہے ہیں انہیں کس نے روکا ہے؟‘‘خالد نے عمر کو سمجھانے والے اندازمیں بتایا۔
’’اب اس کا کیا حل ہوگا؟‘‘
’’میرا خیال ہے اسامہ خلیل اس پر کوئی ایکشن ضرور لے گا وہ جو فیصلہ کرے گا وہی مانا جائے گا۔‘‘
’’اس نے تو مجھے روپوش رہنے کے لیے کہا ہے۔‘‘عمر نے کہا۔
’’ہاں دیکھتے ہیں اس کا اگلا فیصلہ کیا ہوگا۔ یقیناً جو تمہارے حق میں بہتر ہوگا وہی فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘
’’میں کسی طرح بھی جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہتا۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’ہم میں سے کوئی بھی اس جہاد سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں لیکن جوش سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ہم جوش میں آکر کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھے تو ہماری جدوجہد آزادی پر اثر پڑ سکتا ہے ہمیں بہت احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا ہوگا۔‘‘
’’تم ٹھیک کہتے ہو۔‘‘عمر نے کہا۔
پھر اسی شام اسامہ خلیل نے عمرسیف کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا تھا ۔وہ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا کمرے میں اس کے اور اسامہ کے علاوہ خالد قصام تھا یہ بات ابھی تنظیم کے لوگوں سے بھی چھپائی جارہی تھی کہ عمرسیف اسامہ کے پاس موجود ہے۔
’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تم بھی بلغاریہ چلے جائو اپنے بچوں کے پاس ۔‘‘اسامہ نے کہا۔
’’لیکن اس طرح تو میں جہاد میں حصہ نہیں لے سکوں گا۔‘‘
’’یہاں ہم موجود ہیں لیکن تمہاری موجودگی ہمیں بھی مشکوک بنا دے گی اور اگر ایک بار ہم لوگوں پر شک ہوگیا تو ہمارے لیے یہ جدوجہد جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔‘‘اسامہ نے سمجھانے والے اندازمیں کہا۔
’’لیکن میرا بلغاریہ جانا میرے بچوں کے لیے خطرہ بن سکتاہے۔‘‘
’’نہیں ہم تمہیں ڈائریکٹ بلغاریہ نہیں بھیجیں گے تم مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے کافی عرصے میں وہاں پہنچو گے اور خود کوخفیہ رکھو گے بلکہ اپنا حلیہ بدل کر رہو گے تمہارے لیے بہتر ہوگا۔
’’میں سوچ کر جواب دوں گا۔‘‘ عمرسیف نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
’’نہیں سوچنے کا کام تمہارا نہیں… ہمارا ہے اور ہم نے سوچ لیا ہے کہ تمہیں یہاں سے جانا ہی ہوگا چاہیں تو تمہیں دنیا کے کسی اور حصے میں بھی بھیج سکتے ہیں لیکن ہائی کمان نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے اس طرح تم اپنے بیوی بچوں کے قریب رہ سکو گے۔‘‘
’’جی بہتر ۔‘‘ عمر سیف نے مجبوراً ہامی بھری اس کے سامنے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
’’تمہیں کل ہی روانہ کردیا جائے گا۔‘‘ اسامہ نے کہا اور عمر اسے حیرت سے دیکھنے لگا پھر خالد کے ساتھ وہ واپس اپنے کمرے میں آگیا تھا۔
’’خالد ! ان لوگوں نے اتنی جلدی…یہ فیصلہ کرلیا…مجھ سے پوچھا بھی نہیں؟‘‘
’’تم سے کیا پوچھیں گے جو حالات کے مطابق بہتر فیصلہ ہے وہی کیا گیا ہے اور اس میں تمہارے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھلائی بھی مدنظر رکھی جارہی ہے۔‘‘ خالد نے سمجھایا۔
’’دیکھیں کہ اب قسمت میں کیا لکھا ہے؟‘‘ عمر سیف نے مایوسی سے کہا۔
دوسرے ہی روز عمر کا حلیہ تبدیل کردیا گیا تھا اور اسے ایک ماڈرن سیاح بنانے کے لیے خالد قصام نے خاصی محنت کی تھی پھرمختلف مراحل سے گزرنے کے بعد خالد نے اسے غزہ کی پٹی پار کروادی تھی اور آگے احتیاط سے سفر کرنے کی ہدایت کردی تھی۔
عمر سیف مشرق وسطی ٰ کے مختلف ممالک میں سفر کرتا ہوا اور جگہ جگہ اپنے حلیے بدلتا ہوا بالاآخر بلغار یہ پہنچ گیا تھا اس عمل میں اسے کئی ماہ کا عرصہ لگا تھا جب وہ بلغاریہ میں رانیہ کے گھر پہنچا تھا تو اسے کوئی بھی پہچان نہیں سکا تھا۔
’’مجھے حمزہ زید سے ملنا ہے۔‘‘ اس نے دروازہ کھولنے والی اپنی بچی سے کہا جو اسے بالکل پہچان نہیں سکی تھی اور حمزہ کا کوئی مقامی دوست سمجھ رہی تھی۔
’’وہ گھر پر نہیں ہیں۔‘‘ بچی نے معصومیت سے کہا اور عمر کا جی چاہا کہ اسے اٹھا کر گلے سے لگالے۔ وہ کافی عرصے بعد حانیہ کو دیکھ رہا تھا اور اس سے بے پناہ محبت بھی کرتا تھا۔
’’گھر میں کوئی اور ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’آپ کو کس سے ملنا ہے ؟‘‘ بچی نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے خود سوال کردیا۔
’’کوئی بڑا ہے؟‘‘
’’سعد بھائی ہے۔‘‘ حانیہ نے معصومیت سے کہا سعد کی عمر با مشکل بارہ سال تھی لیکن بہرحال وہ حانیہ سے تو بڑا تھا۔
’’میرا مطلب ہے تمہاری …امی وغیرہ۔‘‘
’’نہیں وہ اسکول گئی ہیں۔‘‘ حانیہ نے سادگی سے کہا۔
’’اچھا…میں تھوڑی دیر میں آؤں گا۔‘‘ اس نے کہا اور واپسی کے لیے مڑ گیا ۔ ٹھیک اسی لمحے گلی کے کونے سے رانیہ عبایہ میں ملبوس آتی نظر آئی اسے وہ سیکڑوں میںپہچان سکتا تھا۔
’’رانیہ !‘‘ اس نے قریب آنے پررانیہ سے سرگوشی میں کہا اور وہ ایک دم ٹھٹک گئی وہ اسے حلیے سے تو نہیں پہچانی تھی لیکن اس کے مخصوص انداز میں ’’رانیہ‘‘ کہنے پر وہ ہزاروں آوازوں میں بھی یہ آواز پہچان سکتی تھی وہ مسکرا کر اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’میں گھر گیا تھا بچے نہیں پہچانے۔‘‘ عمر سیف نے رانیہ سے کہا اوررانیہ نے احتیاط سے اطراف کا جائزہ لیا اور اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرکے آگے بڑھ گئی۔
پھر عمر سیف رانیہ کے ساتھ ہی گھر میں داخل ہوا تھا ۔ بچے اپنی ماں کے ساتھ ایک اجنبی کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے ۔رانیہ اسے ڈرائنگ روم میں لے گئی تھی۔
’’اوہ! عمر کیسے ہو… تم نے اپنے آنے کی اطلاع بھی نہیں دی؟‘‘رانیہ نے والہانہ انداز میں اس کے سینے سے لگتے ہوئے کہا۔
’’میں ٹھیک ہوں رانیہ…تمہیں اطلاع دینے کا موقع ہی نہیں ملا…میں بہت احتیاط سے سفر کرتا ہوا تم تک پہنچا ہوں ۔ تم سے کوئی contact نہیں کرسکتا تھا کیونکہ شک ہے کہ میری نگرانی کی گئی ہوگی لیکن ابھی تک تو مجھے یقین ہے کہ کوئی میرے تعاقب میں نہیں ہے۔‘‘ عمر نے کہا۔
’’بیٹھو! میں تمہارے لیے کچھ لاتی ہوں پھر باتیں کریں گے۔‘‘ رانیہ نے کہا۔
’’پہلے مجھے بچوں سے ملوادو۔‘‘ عمر نے بے چینی سے کہا۔
’’اچھا…تم بیٹھو میں انہیں لاتی ہوں۔‘‘رانیہ نے کہا تو عمر صوفے پر بیٹھ گیا کچھ ہی دیر بعد رانیہ اپنے تینوں بچوں کو لے کر کمرے میں داخل ہوئی تھی اور تینوں بچے اسے دیکھ کر اس سے چمٹ گئے تھے۔
’’آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ آپ ابو ہیں میں آپ کو گھر میں بلالیتی؟‘‘ حانیہ نے قدرے ناراضگی سے کہا جس کی عمر چار سال تھی۔
’’میں آپ کا امتحان لے رہا تھا کہ آپ اپنے ابو کو پہچانتی ہیں یا نہیں؟‘‘ عمر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ابو میں نے آپ کو بہت یاد کیا۔‘‘ طلحہ نے آگے بڑھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’بس اب میں تم لوگوں کے پاس ہی رہوں گا۔‘‘ عمر نے بچوں کو تسلی دی اور سعد جو صرف دس سال کا تھا اس سے چمٹ گیا۔
’’ہاں ابو! اب ہم آپ کو کہیں نہیں جانے دیں گے۔‘‘ اس نے پیار سے کہا۔
رانیہ بچوں کو عمر کے پاس چھوڑ کر کچن میں چلی گئی تھی اور جلدی جلدی عمر کی پسند کا کھانا تیار کرنے لگی تھی وہ چاہتی تھی کہ اتنے عرصے بعد اس کے آنے پر وہ کوئی کمی نہ ہونے دے اور عمر کی پسند کے مطابق اسے کھانا بنا کر جب کھانا میز پر لگ گیا تو حمزہ بھی آگیا تھا اور ایک عرصے بعد پوری فیملی کھانے کی میز پر جمع ہوئی تھی ۔ بچے بہت خوش تھے۔ حمزہ بھی عمر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا۔
’’حمزہ ! میںتمہارا مشکور ہوں کہ تم نے اتنے عرصے ان لوگوں کی دیکھ بھال کی۔‘‘ عمر نے کہا تو حمزہ ناراضگی سے اسے دیکھنے لگا۔
’’بھائی یوں نہ کہیں آپ کی اس بات سے ایسا لگتا ہے جیسے میں کوئی غیر ہوں اور میں نے آپ پر کوئی احسان کیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے مجھے تو بہت خوشی ہوتی ہے کہ میں بھی کچھ کرسکتا ہوں۔ یہ میری ہی فیملی ہے میں آپ کا بھائی ہوں۔‘‘ حمزہ نے کہا تو عمر نے اس کا کاندھا تھپتھپایا۔
’’ہاں ! مجھے احساس ہے… لیکن اتنی کم عمری میں تم نے بڑوں کی طرح ذمہ داری نبھائی ہے۔‘‘ عمر نے تعریفی اندا ز میں کہا۔
’’کوئی مسئلہ نہیں بھائی جان آپ بھی تو اپنے ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اس میں تو یہ میرا بہت ہی تھوڑا سا حصہ ہے۔‘‘ حمزہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’دعا کرو اﷲ تعالیٰ ہمیں ہمارے مقصد میں کامیاب کرے۔‘‘ عمر نے کہا۔
’’آمین۔‘‘ حمزہ اوررانیہ نے ایک ساتھ کہا۔
’’حمزہ! تم کافی عرصے سے یہاں ہو اب میرے لیے بھی کوئی کام ڈھونڈنا میں فارغ رہ کر کیا کروں گا۔ پتہ نہیں کتنے عرصے یہاں رہنا پڑے۔‘‘ عمر سیف نے کھانے کے دوران کہا۔
’’ابھی تو آپ آئے ہیں جلد ہی کچھ کرلیں گے۔ فی الحال آپ آرام کریںاور میرا خیال ہے کہ زیادہ باہر نکلنے سے احتیاط برتیں۔‘‘ حمزہ نے کہا۔
’’لیکن یہاں مجھے کوئی ٖ نہیں پہچانتا میں آزادی سے رہ سکتا ہوں۔‘‘
’’پھر بھی احتیاط ضروری ہے عمر۔‘‘رانیہ نے درمیان میں مداخلت کی ۔
’’ابھی میں اور حمزہ ملازمت کر تو رہے ہیں ابھی تمہاری ملازمت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’تمہیں پتا ہے میری فارغ بیٹھنے کی عادت نہیں ہے۔‘‘
’’ہاں میں جانتی ہوں کچھ دن کی بات ہے پھر کوئی مناسب موقع دیکھ کر کہیں ملازمت بھی کرلینا۔‘‘رانیہ نے اسے تسلی دی۔
دوچار دن تو عمر سیف کے ایسے مصروفیت میں گزرے کہ اسے احساس ہی نہ ہوا ۔ اس کے سسرال والوں نے ایک کے بعد ایک کئی دعوتیں کردیں ۔ وہ روز کسی سسرالی رشتہ دار کے گھر دعوت میں جاتا اس کے ساس سسر بہت خوش تھے کہ وہ زندہ سلامت غزہ سے نکل آیا ہے۔
پھر ایک روز جب رانیہ کے اسکول کی چھٹی تھی وہ عمر کو اپنے ساتھ شاپنگ کے لیے سپر مارکیٹ لے گئی جہاں انہوں نے ڈھیر ساری خریداری کی۔ اس روز عمر نے محسوس کیا جیسے کوئی ان کے اردگرد موجود ہو اور ان پر نظر رکھے ہوئے ہو۔ لیکن اس نے جب بھی اطراف کا جائزہ لیا تو اسے کوئی ایسا مشکوک شخص نظر نہیں آیا جو اس کی نگرانی کر رہا ہو۔ اس نے اپنے خیال کو ذہن سے جھٹک دیا اور شاپنگ کرکے رانیہ کے ساتھ واپس گھر آگیا۔
پھر کئی روز تک وہ مختلف کاموں سے گھر سے باہر جاتا رہا وہ ہر بار کافی احتیاط برتتا تھا۔ اس کا حلیہ کافی حد تک تبدیل ہوچکا تھا۔ اس کے نوجوان کلین شیو چہرے پر اب سیاہ رنگ کی گھنی داڑھی تھی۔ بال چھوٹے تھے اور پیٹ کسی حد تک باہر آگیا تھا۔ اسے غزہ سے بلغاریہ آئے ہوئے پانچ سال بیت گئے تھے اور خاصا مطمئن ہوچکا تھا کہ اب اسرائیلی اسے بھول چکے ہیں۔ وہ آزادی سے گھر سے باہر جانے لگا تھا پھر ایک دن جب وہ اکیلا ہی شاپنگ کے لیے مارکیٹ گیا ہوا تھا وہ بہت گھبرایا ہوا واپس آیا تھا۔ اس نے سودے کے شاپرز میز پر ڈال دیئے تھے اور اندر آنے پر باہر کا دروازہ بھی لاک کردیا تھا اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے۔
’’بچے کہاں ہیں؟‘‘ عمر نے پریشانی سے پوچھا۔
’’وہ باہر کھیلنے گئے ہیں۔‘‘
’’انہیں باہر مت جانے دیا کرو…وہ ناسمجھ ہیں اگر ان سے کوئی میرے بارے میں پوچھے گا تو وہ جھوٹ نہیں بول سکیں گے۔‘‘ عمر نے کہا۔
’’آخر ہوا کیا ہے؟ کیا بات ہے؟‘‘رانیہ نے پھر پوچھا۔
’’مجھے کافی دن سے محسوس ہورہا ہے کہ کوئی میرا پیچھا کر رہا ہے۔‘‘
’’نہیں عمر…یہ تمہارا وہم ہوگا۔ تمہیں یہاں آئے پانچ سال ہوگئے ہیں۔‘‘
’’کچھ بھی سہی لیکن یہ اسرائیلی یہودی…یہ ہمارا پیچھا ہماری قبر تک کرتے ہیں۔‘‘ عمر کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
’’آخر ہوا کیا ہے تم مجھے تفصیل سے بتاؤ…ٹھہرو میں تمہارے لیے پانی لاتی ہوں۔‘‘رانیہ نے کہا اور کچن کی طرف دوڑ گئی ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک گلاس میں پانی لے آئی تھی اور عمر کو تھمادیا تھا جس سے عمر نے چند گھونٹ لیے تھے۔
’’میں مارکیٹ میں شاپنگ کر رہا تھا میں نے نوٹ کیا ایک ادھیڑ عمر شخص بار بار میرے قریب سے گزر رہا تھا وہ کبھی کبھی مارکیٹ کے کسی کونے میں کھڑا ہو کر مجھے گھور بھی رہا تھا۔ پھر جب میں اس کی طرف دیکھتا تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ میرے پیچھے ہی تھا۔‘‘ عمر نے خالی گلا س رانیہ کو دیتے ہوئے کہا۔
’’ارے نہیں عمر یہ تمہارا وہم ہوگا…بھلا وہ تمہیں کیوں گھورے گا؟ ہوسکتا ہے کہ اسے تم میں کسی کی جھلک نظر آرہی ہو اور وہ تمہیں پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔‘‘
’’نہیں…اس نے مارکیٹ سے نکلنے کے بعد بھی میرا پیچھا کیا تھا۔‘‘
’’یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ کیا تم نے اسے پیچھے آتے ہوئے دیکھا تھا؟‘‘
’’ہاں…وہ کافی دور تک میری ٹیکسی کا تعاقب کر تا رہا تھا آخر میں نے ڈرائیور کو مختلف گلیوں میں گھمانا شروع کردیا تھا اور ایک موقع پر اس کی گاڑی میری نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی ۔پھر جب کئی گلیوں کے چکر کاٹنے کے بعد مجھے اس کی سیاہ گاڑی نظر نہیں آئی تو میں گھر کی طرف آیا ہوں۔‘‘ عمر نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان بتایا اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑگیا تھا۔
’’بچوں کو اس بارے میں کچھ مت بتانا وہ خواہ مخواہ پریشان ہوں گے۔‘‘ عمر نے کہا۔
’’ہاں ! ہاں میں سمجھتی ہوں تم فکر مت کرو… میں حمزہ سے کہوں گی وہ اطراف پر نظر رکھے گا پھر بھی میرا خیال ہے کہ وہ تمہارا وہم ہے پانچ سال بعد…کون یاد رکھتا ہے؟‘‘
’’کاش ایسا ہی ہو…‘‘ عمر سیف نے کہا لیکن پھر یہ سلسلہ رکا نہیں تھا اب اکثر ایسا ہوتا کہ عمر سیف باہر جاتا تو اسے محسوس ہوتا جیسے اس کی نگرانی کی جارہی ہے۔اسے کبھی کبھی کوئی اجنبی گلی کے کونے میں بازار‘ مارکیٹ میں چلتے ہوئے‘ کہیں چوراہوں تک پر بھی لوگ کھڑے محسوس ہوتے جو اسے گھور رہے ہوتے تھے لیکن کبھی کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ایک دو بار گھر کے دروازے پر دستک بھی ہوئی ۔ جب جا کر دیکھا تو کوئی اجنبی ہوتا اور وہ کسی کا پتہ ڈھونڈ رہا ہوتا تھا۔ رانیہ کا یہی خیال تھا کہ یہ سب عمر کا واہمہ ہے کیونکہ وہ غزہ سے چھپ کر یہاں آگیا ہے۔ اس لیے اسے یہ شک رہتا ہے جیسے کوئی اس کے پیچھے ہے اس نے کئی بار عمر سیف کو سمجھانے کی کوشش بھی کی تھی۔
’’عمر یہ تمہارا وہم ہے…تم بچوں کے سامنے ایسی باتیں مت کیا کرو۔ وہ بھی ڈرنے لگیں گے۔‘‘ ایک روز رانیہ نے اسے سمجھایا۔
’’میں جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کرتا یہ سب میرے ساتھ ہورہا ہے تو میں کہتا ہوں۔‘‘ عمر سیف نے وضاحت کی۔
’’میں جانتی ہوں لیکن بچوں کے سامنے ذرا احتیاط کیا کرو… کچھ ہی دنوں کی بات ہے جلد ہی تمہارا وہم ختم ہوجائے گا۔ پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘رانیہ نے سمجھایا۔
’’ہاں ! شاید تم ٹھیک کہتی ہو۔‘‘
کچھ دن اسی طرح گزر گئے پھر اچانک بلغاریہ میں موجود فلسطین کے اٹارنی کی طرف سے ایک خط رانیہ کو موصول ہوا اور خط نے رانیہ کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ عمر سیف کا شک درست ہے اس نے وہ خط عمر سیف کو دکھایا۔
’’تم ٹھیک کہتے تھے انہیں پتہ چل گیا ہے کہ تم بلغاریہ میں موجود ہو۔ دیکھو یہ خط ایمبیسی کی طرف سے آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ان سے درخواست کی ہے کہ تمہیں ان کے حوالے کیا جائے ۔ آخر انہیں یہاں تمہاری موجودگی کا علم کیسے ہوا؟‘‘رانیہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔
’’یہی تو میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’ اب کیا کرنا چائیے۔‘‘رانیہ نے پوچھا۔
’’اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ میں ایمبیسی جاؤں اور ان لوگوں سے خود بات کروں۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’لیکن ایسا کرنے میں تمہارے لیے خطرہ ہے وہ تمہیں پکڑ کر اسرائیلیوں کے حوالے کردیں گے۔‘‘
’’ایسا بھی ہوسکتا ہے لیکن ممکن ہے کہ وہ میرا ساتھ دیں ۔ ویسے بھی یہاں ہمیں بلغاریہ کی ایمبیسی کے علاوہ اور کسی کا بھی سہارا نہیں ہے۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’پھر ؟‘‘رانیہ کے لہجے سے پریشانی عیاں تھی۔
’’پھر کیا میں کل جاؤں گا ایمبسی ۔وہاں میرا ایک دوست ہے اس سے ملوں گا۔ دیکھتا ہوں کہ وہ کیا مشورہ دیتا ہے۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’اور اگر راستے میں انہوں نے تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو؟‘‘
’’نہیں …ایسا نہیں ہوگا… یہ اسرائیل نہیں ہے یہاں بلغاریہ کے قوانین ہیں اگر انہوں نے اپنے طور پر کوئی کارروائی کی تو انہیں بھی اس کے لیے جواب دہ ہونا ہوگا۔ اگر وہ خود کارروائی کرسکتے تو ایمبیسی والوں سے درخواست نہ کرتے۔
’’ہوں…ممکن ہے تمہارا خیال درست ہو لیکن اسرائیلیوں سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے۔ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔‘‘
’’اﷲ مالک ہے…میں نے کوئی جرم نہیں کیا ۔ میرے اوپر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’چلو دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘رانیہ نے کہا۔
دوسرے روز ناشتے سے فارغ ہو کر عمر سیف حمزہ کے ساتھ بلغاریہ ایمبیسی پہنچ گیا تھا۔ جہاں اس نے فلسطین اتھارٹی ایمبیسٹرز احمد المعروف سے ملاقات کی جس نے اسے اسرائیل سفارت خانے کی طرف سے موصول ہونے والا خط بھی دکھایا اور اسے بتایا کہ اسرائیلی سفارت خانے نے بلغاریہ کے سفارت خانے سے درخواست کی ہے کہ وہ اس کے مجرم عمر سیف کو جو اس کے ملک میں موجود ہیں گرفتار کرکے اسرائیلی سفارت خانے کے حوالے کردے۔ اس کام کے لیے انہیں تقریباً بہتر گھنٹے دیئے گئے ہیں۔
’’لیکن یہ ناممکن ہے…میں خود کو گرفتار ی کے لیے پیش نہیں کرسکتا میں آپ کا مجرم نہیں ہوں اور اسرائیل نے بھی مجھ پر جھوٹے الزامات لگائے ہیں۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’میں جانتا ہوں لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت دنیا بھر میں فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ جنگ اب فلسطین کی سرحدوں سے نکل گئی ہے اب دنیا میںجہاں جہاں فلسطینی موجود ہیں ان میں سے مختلف لوگوں کو اغوا کیا جارہا ہے اور انہیں قتل کردیا جاتا ہے۔‘‘
’’ تو پھر دنیا کی عدالتیں ؟ وہ کیا کر رہی ہیں؟ اقوام متحدہ؟ جسے مظلوموں کی حمایت اور انصاف کے لیے قائم کیا گیا تھا وہ کیا کر رہی ہے…انسانی تحفظ کی دوسری تنظیمیں‘ہم کہاں جائیں‘ ہمیں کہاں انصاف ملے گا؟‘‘ عمر سیف نے کہا ۔ حمزہ اس کے برابر خاموشی سے بیٹھا تھا اور احمد المعروف بغور اس کی بات سن رہا تھا ۔
’’تمہارا کہنا درست ہے لیکن تم نے سنا تو ہوگا ۱۹۷۲ء میں لبنان میں فلسطینی لیڈر غصام کو بھی کار بم بلاسٹ میں مار دیا گیا تھا۔ وہ جن فلسطینیوں کو مار رہا ہے ان میں اسکالرز‘ کارکن‘ ناول نگار‘ استاد‘ ڈاکٹر‘ انجینئر ہر شعبے سے متعلق لوگ شامل ہیں۔‘‘
’’ہاں میں جانتا ہوں غزہ کے واحد پاور پلانٹ کے ڈپٹی انجینئر درا رابو سیسی کو بھی مدسانہ سے اغوا کروایا تھا جو ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ یہ ۲۰۱۱ء کی بات ہے انہیں رات کے وقت ٹرین میں ہی ہتھکڑیاں لگا کر پکڑ ا گیا ۔ وہ کوئی مجرم نہیں تھے ایک انجینئر تھے اور اپنی ڈیوٹی کرکے واپس جارہے تھے ۔ ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں زبردستی زندہ ایک تابوت میں ڈالا گیا اور جہاز کے ذریعے اسرائیل بھیج دیا گیا جہاں وہ اب تک قید ہیں۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’تو پھر؟ تم تو سب کچھ جانتے ہو۔‘‘
’’میں سب کچھ جانتا ہوں…میں کئی سال ا ن کی قید میں بھی رہ چکا ہوں۔ وہاں فلسطینیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ دیکھ اور سہہ چکا ہوں اس لیے میں گرفتاری دینانہیں چاہتا جب کہ میں بے قصور ہوں۔‘‘
’’کیا تم میرے پاس صرف یہ بتانے آئے ہو کہ تم گرفتاری دینا نہیں چاہتے؟‘‘ احمد المعروف نے کہا۔
’’ہاں! کیا بلغاریہ کی حکومت ایک بے قصور مظلوم کا ساتھ نہیں دے گی؟‘‘ عمر نے پوچھا۔
’’بلغاریہ کی حکومت کیا کرسکتی ہے؟ وہ تمہاری خاطر اسرائیل سے تعلقات خراب نہیں کرسکتی۔‘‘ احمد المعروف نے کہا۔
’’پھر کم ا ز کم مجھے تحفظ فراہم کیا جائے میری جان کو خطرہ ہے۔جیسا کے آپ بتارہے ہیں کہ اسرائیلی کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔وہ اغوا بھی کرسکتے ہیں ‘ قتل بھی کرسکتے ہیں اور زبردستی گرفتار کرکے اسرائیل بھی لے جاسکتے ہیں تو میرے لیے بلغاریہ کی حکومت سے پناہ مانگیں ۔ یہاں کی حکومت سے درخواست کریں کہ وہ سیکیورٹی فراہم کرے جب تک کہ میرا کوئی مناسب فیصلہ نہیں ہوجاتا۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’حکومت سے تو بات کرلیں گے لیکن تمہیں پتہ ہے کہ حکومتی کام میں وقت لگتا ہے فی الحال تم مجھ سے کیا چاہتے ہو وہ بتاؤ؟‘‘ احمد المعروف نے کہا۔
’’اگر ممکن ہو تو مجھے یہاں سفارت خانے کی عمارت ہی میں کہیں چھپالو… میں واپس جا کر اپنے بیوی بچوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔‘‘
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ تم یہاں محفوظ رہ سکو گے؟‘‘
’’ہاں یہ بلغاریہ کا سفارت خانہ ہے یہاں اسرائیلی درخواست بھیج سکتے ہیں لیکن یہاں آکر مداخلت نہیں کر سکتے ۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شاید تم یہاں بھی محفوظ نہ رہو۔‘‘
’’نہیں ایسا نہیں ہے میرا دل کہتا ہے کہ میں اپنے گھر سے زیادہ یہاں محفوظ رہ سکتا ہوں۔‘‘
’’سوچ لو عمر…بعد میںکوئی مسئلہ نہ ہو۔‘‘
’’نہیں کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ عمر نے بے پروائی سے کہا۔
’’لیکن پہلے ہمیں رانیہ بھابھی سے بھی پوچھ لینا چائیے۔‘‘ حمزہ نے پہلی بار منہ کھولا۔
’’اس کا کوئی فائدہ نہیں اگر اس نے انکار بھی کیا تو میں اس کی بات نہیںمانوں گا۔میں نے اب فیصلہ کرلیا ہے میں یہاں ہی پناہ حاصل کروں گا۔جب تک اسرائیل کے ساتھ کوئی معقول سمجھوتہ نہیں ہوجاتا یہی رہوں گا۔‘‘ عمر سیف نے اٹل لہجے میں کہا۔
’’ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں میں کیا کرسکتا ہوں تم کل آکر مل لینا میں بتادوں گا کہ کیا فیصلہ ہوا ۔‘‘ احمد المعروف نے کہا۔
اس روز عمر اور حمزہ واپس گھر آگئے تھے جب رانیہ کو اس معاملے کی اطلاع ملی تو اس نے شدید مخالفت کی۔
’’ نہیں عمر میں تمہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ تم وہاں محفوظ نہیں رہو گے۔رانیہ نے اسے سمجھایا۔
’’یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟ وہ بلغاریہ کا سفارت خانہ ہے وہاں اسرائیل مداخلت نہیں کرسکتا۔‘‘
’’جو کسی قانون کو نہ مانے جو خدا سے نہ ڈرے جو اس کے بندوں پر ناحق ظلم کرے وہ بھلا کسی اور سے کیا ڈرے گا۔‘‘ رانیہ نے حقارت سے کہا۔
’’اب اتنا بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔رانیہ میری سمجھ میں اس مصیبت سے نکلنے کی ایک ترکیب آئی ہے تو مجھے اسے آزمانے دو۔‘‘ عمر نے غصے سے کہا اوررانیہ خاموش ہوگئی ۔
اس رات اس نے عمر کو سمجھانے کی بار بار کوشش کی لیکن عمر اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھا ۔پھر دوسرے دن وہ اپنے بیگ میں چند جوڑے کپڑے ڈال کر حمزہ کے ساتھ پھر بلغاریہ کے سفارت خانے پہنچ گیا تھا۔
’’ تو تم نے فیصلہ کرہی لیا ہے کہ تم یہاں پناہ حاصل کرکے رہو گے؟‘‘ احمد المعروف نے اسے دیکھتے ہی کہا۔
’’ہاں! میں ایک فیصلہ کرنے سے پہلے اسے ہر پہلو سے دیکھتا ہوں اس پر سوچتا ہوں اس پر وقت لگاتا ہوں۔ لیکن جب ایک بار فیصلہ کرلیتا ہوں تو پھر اس پر قائم رہتا ہوں۔‘‘ عمر نے جواب دیا اور احمد المعروف کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اس نے اپنا بیگ بھی ایک طرف رکھ دیا تھا۔
’’ہم لوگوں نے بھی کافی سمجھایا لیکن بھائی اپنی ضد پر قائم ہے۔‘‘حمزہ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں نے اتھارٹی سے بات کی ہے وہ کچھ روز تک پناہ دینے پر راضی ہوگئے ہیں ۔ میں نے خاص طور سے عمر کے لیے سیکیورٹی دینے کی بات کی ہے۔‘‘ احمد المعروف نے بتایا۔
’’ٹھیک ہے ‘ میں دو تین روز بعد آکر بھائی کی خیر یت لے جایا کروں گا۔‘‘ حمزہ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے …آؤ میں تمہیں عمر کی رہائشی جگہ دکھادیتا ہوں۔‘‘ احمد المعروف نے کہا۔ پھر وہ عمر اور حمزہ کے ساتھ سفارت خانے کے پچھلے حصے میں چلاگیا تھا جہاں ایک گراؤنڈ تھا۔ جس کے دوسرے سرے پر چند بلاک بنے ہوئے تھے جو تین اور چار منزلہ تھے ان کے ایک طرف ایک اونچی دیوار تھی اور دو طرف خوب صورت لان بنے تھے اور سامنے سفارت خانے کے دفاتر تھے ۔ جگہ جگہ سیکیورٹی گارڈ موجود تھے۔ گیٹ پر بھی سیکیورٹی سخت تھی ۔ سی سی کیمرے لگے تھے اور بڑے بڑے آہنی دروازے نصب تھے۔
حمزہ ‘ عمر کو چھوڑ کر واپس چلا گیا تھا اور عمر نے اپنے کمرے میں بیگ رکھ دیا تھا پھر وہ کمرے میں پڑے بیڈ پر لیٹ گیا تھا اس کمرے میں ایک فرد کے رہنے کے انتظامات تھے ایک الماری تھی ‘ رائٹنگ ٹیبل اور دو کرسیاں تھیں ۔ ساتھ ہی باتھ روم تھا اس نے اندازہ لگایا کہ وہ وہاں کئی ماہ تک رہ سکتا تھا۔ عمارت میں جگہ جگہ سیکیورٹی کا بہترین انتظام موجود تھا۔
دوسری شام کو احمد المعروف عمر سے ملنے اس کے کمرے میں آیا تھا۔ اس وقت عمر ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔
’’کیسے ہو عمر؟‘‘ احمد نے پوچھا۔
’’ٹھیک ہوں…آئیں بیٹھیں۔‘‘
’’کیا یہاں تم خوش ہو؟‘‘
’’ہاںمیں سمجھتا ہوں کہ یہاں میں محفوظ ہوں۔‘‘ عمر نے جواب دیا۔
’’کھانا وغیرہ پسند آیا؟‘‘
’’آپ کا بہت شکریہ آپ نے میرا بہت خیال رکھا ہے۔‘‘
’’نہیں کوئی بات نہیں عمر لیکن میں تمہارے لیے اس سے زیادہ کرنا چاہتا تھا لیکن میرے بس سے باہر ہے۔‘‘
’’کوئی بات نہیں احمد بھائی آپ نے جتنا کردیا وہ بہت ہے۔‘‘ عمر سیف نے کہا۔
’’لیکن عمر میں تم کو تنبیہ کر رہاہوں ہوشیار رہنا۔یہ اپنا وطن نہیں ہے اور کسی کے چہرے پر اس کے دل کا حال نہیں لکھا ہوتا۔ کسی پر بھروسہ نہ کرنا اگر وقتی طور پر اسرائیلی ناکام ہوبھی گئے تب بھی وہ تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ اب دیکھ لو کہ کتنے سال بعد انہوں نے تمہیں بلغاریہ میں ڈھونڈ لیا ہے۔‘‘
’’ہاں میں جانتا ہوں۔‘‘
’’ایک بات اور بتادوں کھانا وغیرہ ہوشیاری سے کھانا۔ کسی طرح چیک کرلیا کرو۔ مجھے شک ہے کہ خفیہ طور پر زہر بھی دیا جاسکتا ہے۔‘‘ احمد المعروف نے کہا۔
’’ارے احمد بھائی اب آپ مجھے ڈرا رہے ہو۔‘‘ عمر نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’نہیں عمر آنکھیں اور کان ہر وقت کھلے رکھنا۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ عمر نے کہا۔
’’انہیں علم ہے کہ تمہیں یہاں پناہ دے دی گئی ہے۔ اس کا مطلب جانتے ہو؟‘‘ احمد المعروف نے کہا۔
’’کیا مطلب ہے؟‘‘
’’مطلب یہ ہے کہ ہم نے اسرائیل کا ساتھ دینے کے بجائے تمہارا ساتھ دیا ہے اور ہم تمہارے دوست ہیں۔ چنانچہ اب ہمیں بھی اسرائیل کی مخالفت کے لیے تیار رہنا چائیے۔ وہ ہمیں بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
’’اوہ احمد بھائی میرا ایسا کوئی مقصد نہیں میں تو صرف…‘‘
’’میں جانتا ہوں لیکن تمہارے لیے میرامشورہ یہی ہے کہ جتنی جلدی ہو اس قصے کو نمٹادو اپنے ساتھ دوسروں کو مصیبت میں نہ ڈالو۔‘‘ احمد المعروف نے سمجھایا۔
’’ٹھیک ہے… میں دیکھتا ہوں کہ کیا کرسکتا ہوں۔‘‘ عمر سیف نے آہستگی سے کہا۔
اسی شام حمزہ اس سے ملنے سفارت خانے آیا تو اس نے حمزہ کو بھی احمد المعروف کی بات بتائی اور کہا کہ’’ اس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مجھے کھانے میں زہر دیا جاسکتا ہے اور یہاں بھی میرے خلاف سازش ہوسکتی ہے۔‘‘
’’میں تو آپ کے یہاں رہنے ہی کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘ حمزہ نے کہا۔
’’تم ٹھیک کہتے ہو لیکن اسرائیلیوں نے ہم پر زمین تنگ کردی ہے۔ہمیں ہمارے وطن میں بھی سکون سے نہیں رہنے دیتے اور کہیں اور بھی سر چھپانے نہیں دیتے ۔ اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرو تو ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔‘‘
’’ہماری پہچان ہمارے وطن ہی سے ہے اور وطن چھوڑ کر کہیں اور پناہ لے کر ہم بچ نہیں سکتے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ ہمیں وہی کرنا چاہئے جو اب تک غزہ میں دوسرے مسلمان کر رہے ہیں ۔ یا تو لڑتے ہوئے شہید ہوجائیں یا اپنے وطن کو آزاد کروالیں۔‘‘ حمزہ نے کہا۔
’’میں بھی تو یہی کر رہا ہوں ۔ میرے لیے تو حالات اتنے برے کردیئے گئے ہیں کہ میں وہاں بھی محفوظ نہیں تھا اور میں ہی کیا اسرائیل کی جیلوں میں مجھ جیسے بہت سے لوگ ہیں جو بغیر قصور کے سزائیں بھگت رہے ہیں۔‘‘
’’ میں ایک دو روز میں فیصلہ کروں گا ۔ بظاہر تو کوئی بہتر صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ تم رانیہ کا خیال رکھنا اور بچوں کو بھی سمجھاتے رہنا۔‘‘ عمر سیف نے حمزہ کو ہدایت دی۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ حمزہ نے کہا۔
حمزہ کے جانے کے بعد عمر سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔ پھر رات کے شاید بارہ بجے ہوں گے کہ اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو اس کے سامنے دو افراد سیاہ لباس میں ملبوس کھڑے تھے ان کے چہروں پر سیاہ نقاب تھے اور ہاتھوں میں گنیں تھیں۔
’’کون؟…کون ہو تم؟‘‘ عمر نے بوکھلاکر پوچھا وہ سوتے سے اٹھا تھا اچانک اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا جب تک وہ صورت حال کو سمجھتا وہ دونوں اسے دھکا دے کر اندر داخل ہوگئے تھے اور ان کے پیچھے مزید اور لوگ بھی تھے۔ وہ بھی اسی حلیے میں تھے انہوں نے کمرے کا جائزہ لیا تھا۔
’’ہوں…یوں چھپنے سے تم بچ نہیں سکتے ۔‘‘ ان میں سے ایک نقاب پوش نے کہا۔
’’تم کون ہو؟…میں نے کیا کیا ہے؟‘‘
’’یہ تو پتہ چل ہی جائے گا جب تم اسرائیل پہنچو گے۔‘‘ ایک اور نقاب پوش نے جواب دیا۔
’’میں کہیں نہیں جاؤں گا۔‘‘ عمر سیف نے غصے سے کہا۔
’’تم جانتے ہو ہم جو چاہیں وہ تمہیں کرنا پڑے گا۔‘‘
’’ہر گز نہیں…یہ اسرائیل نہیں…یہاں کا بھی ایک قانون ہے۔‘‘
’’ہمارا قانون ہر جگہ چلتا ہے ہم کسی اور قانون کو نہیں مانتے۔‘‘ ان میں سے ایک نے کہا۔
اتنی دیر میں آنے والوں میں سے ایک نے عمر سیف کے ہاتھ اس کی پشت پر باندھ دیئے تھے اور اسے دروازے کی جانب دھکا دیا تھا۔ عمر لڑکھڑاتا ہوا دروازے سے باہر نکلا تھا۔ اور اس نے بغیر سوچے سمجھے سامنے بنے زینے سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل کی طرف دوڑ لگادی تھی۔ دو سیاہ پوش اس کے پیچھے تھے جنہوں نے اسے راستے میں دبوچ لیا تھا۔
’’یہاں سے فرار کا کوئی راستہ نہیں چھت پر ہمارا ہیلی کاپٹر موجود ہے۔‘‘ ایک نے کہا۔
’’مجھے چھوڑ دو…میں نے کچھ نہیںکیا…میں بے قصور ہوں۔‘‘ عمر سیف نے کہا وہ حیران تھا کہ یہ آنے والے لوگ کون تھے؟ انہیں اندر تک کیسے رسائی مل گئی؟ راستے میں کسی نے ان کے خلاف کوئی مزاحمت کیوں نہیں کی اور اتنے شور شرابے کے باوجود کوئی اس کی مدد کو کیوں نہیں آیا؟عمارت کے اس حصے سے سیکیورٹی گارڈز بھی غائب تھے وہ اس نئی صورت حال کو سمجھ نہیں سکا تھا کہ کسی نے پیچھے سے اس کے سر پر گن کا بٹ مارا اور وہ اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا۔
ا س کے بعد عمر سیف کے ساتھ کیا ہوا یہ کہانی سنانے والا کوئی نہیں تھا۔ دوسرے دن یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے علاقے میں پھیل گئی تھی کہ بلغاریہ کے سفارت خانے کے لان میں عمر سیف کی لاش ملی ہے جو خون میں نہائی ہوئی ہے اور اس کی موت کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں سننے میں آرہی تھیں۔
حمزہ بڑی عجلت میں بلغاریہ کے سفارت خانے پہنچا تھا اور احمد المعروف سے ملا تھا۔
’’کیا ہوا؟…سب کیسے ہوا؟‘‘ اس نے پوچھا ۔ احمد بھی پریشان نظر آرہا تھا۔
’’کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا ہوا ہے مجھے یہاں کے سیکیورٹی گارڈ نے صبح خبر دی ۔ میں اسی وقت یہاں آگیا تھا۔ عمر سیف کی لاش میرے سامنے ہی ایک ایمبولینس میں مقامی اسپتال بھیجی گئی ہے۔‘‘ احمد نے حمزہ کو بتایا۔
’’اس کے ساتھ کیا ہوا؟ میں شام کو تو اس سے مل کر گیا تھا وہ بالکل ٹھیک تھا اس نے بتایا تھا کہ آپ نے اسے کہا تھا کہ اس کی جان یہاں محفوظ نہیں ہے اور اسے کھانے میں زہر بھی دیا جاسکتا ہے۔‘‘
’’ہاں میں نے کہا تھا لیکن یہ سب وہ باتیں ہیں جو ہم سب ہی جانتے ہیں اسرائیلی ایسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔‘‘
’’لیکن اس کی موت زہر دینے سے تو نہیں ہوئی ۔ سب کا کہنا ہے کہ وہ خون میں لت پت تھا اس پر تشدد کیا گیا ہے اور پھر چوتھی منزل سے دھکا دے دیا گیا تو وہ لان میں آکر گرا ہوگا۔‘‘ حمزہ نے کہا۔
’’ضابطے کی کارروائی ہورہی ہے تحقیقات کے بعد سب صورت حال واضح ہوگی ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ‘‘ احمد نے کہا۔
’’لیکن کسی پر تو شک کیا جارہا ہوگا…کوئی تو نشانات ملے ہوں گے…کسی نے تو کچھ دیکھا ہوگا۔‘‘
’’ہاں! فی الحال میںاتنا ہی جانتا ہوں کہ فلسطینی قیدیوں کے معاملات کے چیف عیسیٰ قراقی کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ یہ اسرائیلی ایجنسی کی کارروائی ہے۔‘‘
’’اب جو بھی ہو لیکن میرا بھائی تو اپنی جان سے گیا اسے تو کوئی بچا نہیں سکا۔ ‘‘ حمزہ نے کہا اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔
’’تم جانتے ہو مجھ سے جو ہو سکا میں نے کیا۔‘‘
’’ہاں! میں تمہار ا شکر گزار ہوں…تم نے واقعی جو ممکن تھا کیا۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میرا بھائی بے قصور تھا۔ ان بہت سے مسلمانوں کی طرح جو اب بھی اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں اور وہاں روزانہ نت نئے مظالم کا شکار ہورہے ہیں۔پھر چاہے کسی کو بھی قصور وار کہیں۔ چاہے سفارت خانے کے عملے کی بے پروائی کہیں۔چاہے بلغاریہ کی حکومت کی کمزوری کہیں کہ اس کے ملک میں اس کے سفارت خانے میں اس کو اختیار نہیں اور وہ میرے بھائی کو سیکیورٹی فراہم نہیںکرسکی لیکن دنیا میں ہر جگہ یہی ہورہا ہے۔ ظالم کے ہاتھ مضبوط اور لمبے ہیں ان کی پہنچ مسلمانوں پر ہر جگہ ہے اور پھر برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی آزادی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ ہماری جدوجہد کتنی طویل ہے ہم نہیں جانتے اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ ابھی اس راہ میں عمر سیف جیسے کتنے غریب الوطن ہے۔ ہم نہیں جانتے اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ ابھی اس راہ میں عمر سیف جیسے کتنے غریب الوطن کو اپنی زندگیوں کی قربانی دینا پڑے گی۔ ‘‘ حمزہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس کے گالوں تک آگئے تھے۔
’’میں تمہارے غم میں برابر کا شریک ہوں میرے دوست اور دعا گو ہوں کہ عمر جیسے غریب شہر مکان کو اﷲ تعالیٰ جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور مسلمانوں پر رحم فرمائے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close