Naeyufaq Sep-16

انٹرویو(رزاق شاہد کوہلر)

یاسمین صدیق

ملک کے نامور ادیب،ڈرامہ نگار ،شاعر، رزاق شاہد کوہلر ادبی حوالے سے ایک معتبر نام ہے۔ان کی کہانیاں نئے افق سمیت ملک کے بڑے ڈائجسٹوں میں (سب میں ہی چند کے سوا ) تواتر کے ساتھ شائع ہوکر لاکھوں قارئین تک پہنچتی رہتی ہیں۔ آپ ایک روشن خیال ناول نگار،معروف ڈرامہ نگار تو ہیں ہی لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ منفرد لہجے کے شاعر بھی ہیںلیکن ادب کے ساتھ ساتھ اتھلیٹک ، سوئمنگ اور گائیکی پر بھی کمال کی دسترس رکھتے ہیں ۔
انہوں نے ہماری درخواست کو شرف قبولیت بخشا اور اپنی زندگی کا پہلا بھر پور انٹرویو نئے افق کو دینے پر رضا مند ہوئے۔ ہمارے انٹریوز پینل میں (شہباز اکبر الفت ،ظفر علی ،سرفراز قمر،عاصم سعید ،قاری ابو بکر ،نعمان عظیمی ،عدیل عادی، یاسین صدیق اور یاسین نوناری،صداقت ساجد وغیرہ شامل ہیں جنہوں نے ان سے ہر طرح کے ،ہر موضوع پر سوال کئے جن کے جناب رزاق شاہد کوہلر نے تسلی بخش جواب دئیے ۔
(س)آپ کا اصل نام کیا ہے؟ ۔آپ کا نام کس نے رکھا تھا؟ ۔قلمی نام کیا ہے ؟اور کب سے ہے ؟۔اپنی تاریخ پیدائش ،جائے پیدائش بتائیں؟ ۔کیا والدین حیات ہیں ؟آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں ؟ان میں آپ کا نمبر کون سا ہے ؟
(ج)میرا اصل نام عبدالرزاق کوہلر ہے۔ قلمی نام رزاق شاہد کوہلر ہے جو کہ پہلی بار 1999 میں پرنٹ میڈیا میں آیاتھا۔میری تاریخ پیدائش 10 جنوری1969 ہے اور جائے پیدائش یارک ڈیرہ اسماعیل خان۔میری ماں میرے ہوش سنبھالنے سے قبل اللہ کو پیاری ہوگئی تاہم والد بہت عظیم مہربان اور علم دوست انسان تھے ۔میرے تین بھائی تین بہنیں ہیں میرا نمبر پہلا ہے کیونکہ میری ماں کی وفات کے بعد والد صاحب نے دوسری شادی کی تھی۔
(س)اپنے آباو اجداد کے بارے میں تفصیل سے بتائیں؟
(ج)میرے جد امجد کا نام بخش تھا ۔جس کی منقولہ اراضی لگ بھگ دس ہزار کنال تھی۔ ہمارے بڑے انگریز کے دور سے گاوں کے ملک اور نمبردار چلے آرہے ہیں۔بہت جنگ جو اور سرکش تھے درجنوں کے حساب سے ان کے مزارعے ہوا کرتے تھے ۔ جن کے حقوق کا وہ بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ مگر جان بوجھ کر کی گئی غلطی پر انھیں سزا بھی دیتے تھے ۔ میرانانا انگریز کے دور کا پڑھا ہواتھا۔
(س)آپ نے ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی ؟بچپن کے پسندیدہ اساتذہ کے نام ؟آپ کی تعلیم کیا ہے ؟اپنے اساتذہ بارے میں بتائیں جن کی تربیت ،تعلیم ،محبت توجہ نے آپ کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا؟ ۔
(ج)میٹرک تک اپنے گاوں یارک سے تعلیم حاصل کی اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں پڑھتا رہا۔ بچپن کے اساتذہ میں سعداللہ جان ،خان حمیداللہ خان اور عبداللہ جان خان بہت شفیق اور عظیم لوگ تھے۔ پرائمری اور پھر ہائی اسکول میں اس بات سے بہت چڑتا تھا کہ مجھے اسکول کا اسمبلی کمانڈر کیوں بنادیا جاتا ہے۔ اصل میں میں ڈاکٹر بننا چاہتاتھا مگر مقدر میں جرنلزم کرنا لکھا تھا سو کرلیا۔سعداللہ جان اور حمیداللہ خان میرے ان اساتذہ میں سے ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے مجھ جیسے کنکر کو ہیرا بنانے میں اہم کردار ادا کیا.دعا ہے کہ خدا ان کی عمر دراز کرے ۔
(س)بچپن کا کوئی ایک ایسا واقعہ جسے یاد کریں تو آج بھی چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے؟
(ج)بہت سے واقعات ہیں۔ جو اب بھی یاد ہیں۔ تاہم بچپن میں جب میں اسکول جانے سے کنی کتراتا تھا تو مجھے بھیڑ بکریاں چرانے بھیج دیا جاتا تھا۔دو کزن بھی میرے ساتھ ہوتے تھے ۔ بہت اچھے دن گزر رہے تھے کہ ایک دن ریوڑ پر اچانک بھیڑیوں کی جوڑی نے حملہ کردیا۔اس واقعہ سے میں اس قدر خوفزدہ ہوا کہ دوسرے روز باقاعدگی سے اسکول جانے لگا۔
(س)آپ کی شخصیت سازی میں زیادہ کردار کس کا ہے والدہ یا والدکاـ؟آپ کی پٹائی کا فریضہ کون سر انجام دیتا رہا؟
(ج)والدہ کا زیادہ ہاتھ ہے اور پٹائی بھی وہی انجام دیتی رہیں۔
(س)ہر کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ آپ یہ کریڈٹ کس کو دیں گے ؟
(ج)اپنی دوسری ماں کو جس نے مجھے پالا پوسا اور پڑھنے پر مجبور کیا۔میری ماں میرے ہوش سنبھالنے سے قبل اللہ کو پیاری ہوگئی تھیں ۔
(س)آپ نے کتنی عمر سے ادب کا مطالعہ شروع کیا؟۔ سب سے پہلے کس بڑے ادیب کو پڑھا ۔اپنے چند پسندیدہ ناول اور کہانیوں کے اور چند پسندیدہ لکھاریوں کے نام بتائیں؟
(ج)تیسری یا چوتھی جماعت سے سسپنس وجاسوسی ڈائجسٹ پڑھنے لگ گیا تھا۔ جو میرا ایک کلاس فیلو جلال اسکول بیگ پھلانے کے لیے بیگ میں بھر لاتا تھا۔ ادبا ء میں سب سے پہلے نسیم حجازی اور نواب صاحب کو پڑھا۔رسائل میں جاسوسی سسپنس نئے افق اور اردو ڈائجسٹ کثرت سے پڑھے ہیں ۔پسندیدہ رائٹر ز میں نسیم حجازی ،نواب صاحب ،قدرت اللہ شہاب، طاہر جاوید مغل، کاشف زبیر ،ناصر ملک، علیم الحق حقی اور احمد اقبال صاحب شامل ہیں۔میرے پسندیدہ ناولز میں حج اکبر ، شب احتساب، نواب صاحب کے سبھی ناولز، نسیم حجازی کے بھی تمام ناولز، عمیرہ کا پیر کامل اور لا حاصل وغیرہ احمد اقبال کا بھورے ماموں کالے خاں وغیرہ شامل ہیں ۔
(س)سب سے پہلے آپ نے مکمل کون سا ناول یا کہانی پڑھی تھی جس نے بے حد متاثر کیا ہو؟۔
(ج)ابتدائی ناول نسیم حجازی کا مجاہد تھا۔بچپن میں اسے پڑھ کر میں بہت متاثر ہوا تھا۔
(س)دس کتابوں کے نام بتائیں جو آپ کو ترتیب سے پسند ہوں ان میں اسلامی بکس شامل نہیں ہیں؟آپ نے کون سی کتاب یا کہانی دوبار پڑھی ہو ؟
(ج)اجل نامہ،شہاب نامہ، حج اکبر، پیرکامل، عبداللہ، مصحف، طلسم زادی، قلمی محبت، منہ ول کعبے شریف، قیصروکسری۔میں نے نسیم حجازی کے ناول کئی بار پڑھے ہیں۔
(س)آپ کون کون سے میگزین ریگولر پڑھ رہے ہیں؟
(ج)خریدتا تقریباہر ماہ ہوں جاسوسی، سسپنس ، نئے افق اور حکایت وغیرہ مگر پڑھتا بہت کم ہوں۔دراصل میں کتابیں بہت شوق سے پڑھتا ہوں۔
(س)کس موضوع پر کہانیاں آپ کو پسند ہیں؟ کس موضوع پر آپ کے خیال میں زیادہ لکھا جا رہا ہے؟ ۔کس موضوع پر نہیں لکھاجا رہا اورکیسا ادب وقت کی ضرورت ہے؟
(ج)مجھے معاشرت سائنس فکشن اور ایڈونچر کہانیاں بہت پسند ہیں۔ اس وقت رشتوں ناتوں کی تنزلی اور اسلام سے دوری پر لکھنا بہت ضروری ہے ۔ ایک رائٹر سے لوگ بہت متاثر ہوتے ہیں سو وہ ان موضوعات پر لکھ کر معاشرے کو سدھارنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔انسانیت پر بہت کم لکھا گیا لہذا اس موضوع پر لکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے .اس کے علاوہ نچلے طبقے کے مسائل انھیں بھی ہائی لائیٹ کرنے کی ضرورت ہے ۔
(س)کیا چیز متاثر کرتی ہے ۔خوبصورتی یا ذہانت اور پہلی ملاقات میں کیا چیز نوٹ کرتے ہیں؟
(ج)خوب صورتی اور انداز گفتگو نوٹ کرتا ہوں۔
(س)آپ نے جس کو چاہا تھا کیا شادی بھی اسی کے ساتھ ہوئی؟
(ج)نہیں ہوئی تھی مگر مجھے اس کا کوئی غم نہیں ہے۔کیونکہ میری جس سے شادی ہوئی وہ اچھی شریک سفر ثابت ہوئی ۔
(س)صورت ِحال کچھ یوں ہے کہ ایک لڑکی آپ پر فدا ہوچکی ہے ۔ وہ آپ سے آپ کا فوٹو مانگ رہی ہے اور آپ دے نہیں رہے ۔ بلا آخر وہ اپنے والد کو فوٹو لینے کے لیے بھیجتی ہے ۔ کیا اپ اس کے والد کو فوٹو دیں گے یا انکار کر یں گے ؟
(ج)میں نے فوٹو دے دیا تھا اور غالباً ان معلومات کے پس پردہ میرا بھائی ہے ۔
(س)شادی اپنوں یا غیروں میں ہوئی ہے ۔؟
(ج)فرسٹ کزن ہے خالہ زاد اور چچازاد بھی۔
(س)آپ ایک ادیب ہیں گھر میں کتابیں ہی کتابیں ہوتی ہوں گئیں ۔بیگم تو پریشان ہوتی ہو گی ۔کرتی بھی ہوں گی؟
(ج)وہ کتابوں سے بالکل پریشان نہیں ہوتی البتہ لڑکیوں کی کالز وغیرہ کو ناپسند کرتی ہے ۔ایک بار میں نے اپنی کہانی میں ایک ایسی لڑکی کا ذکر کردیا جو رئیل لائف میں میرے ساتھ رہ چکی تھی۔بیگم کو یہ بات بہت بری لگی اور پھر پتا نہیں اس نے کیا پڑھ کر پھونکا کہ وہ کہانی تاحال غیرمطبوعہ ہے ۔
(س)آپ کے کتنے بچے ہیں نام اور عمرو کلاس بتائیں۔؟
(ج)دوبچے ہیں اوصاف شاہد عمر سات سال اور حورالعین شاہد عمر تین سال اوصاف اول اعلی میں پڑھتا ہے ۔
(س)آپ کے کامیاب ادیب بننے میں آپ کی شریک سفر کا کتنا ہاتھ ہے اپنی شریک زندگی کے بارے میں مختصر تعارف دیں ۔کیا آپ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ۔
(ج)میری شریک حیات ہی مجھے لکھنے پر اکساتی ہے ورنہ میں تو بہت تساہل پسند ہوں۔ازدواجی زندگی قابل رشک ہے ۔
(س)پہلی محبت کے بعد دوسری یا تیسری بھی ہو سکتی ہے کہ نہیں؟
(ج)ہوسکتی ہے جیسے پٹھان سگریٹ چھوڑنے کے لیے نسوار کا سہارا لیتے ہیں۔
(س)گھر میں نرم مزاج ہیں یا پھر غصے کے تیز ہیں؟
(ج)غصے کا تیز ہوں مگر جلد ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔ ویسے میں عملی زندگی میں مزاح پسند بھی بہت ہوں۔
(س)عشق تو کیا ہوگا؟ عشق کی تعریف کس طرح کریں گے ؟
(ج)چھے سات کیے ہیں سب ناکام ہوئے سو عشق سے اب نہیں بنتی۔
(س)عشق و محبت کی تعریف کیا یہ ایک ہی ہیں یا الگ الگ ؟
(ج)محبت کی دوسری سیڑھی ہے عشق۔
(س)محبت کرنا آسان ہے ۔نبھانا مشکل ۔میں بھی ناکام ہوا تھا ۔ایک بار میں نے محبت کی ناکامی کے اسباب لکھے تھے ۔آپ بھی اس ناکامی کا مزہ چکھ چکے ہیں ۔آپ سے ناکامی کے سات اسباب پوچھے جائیں تو کیا بتائیں گے ۔
(ج)ناکامی کے اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ جن میں رنگ، قبیلہ ،معاشرتی حیثیت ،ا نسان کا اپنا کردار، سماج کی رکاوٹیں، رقیبوں کا حسد اور انا پرستی یہ سب محبت میں ناکامی کے عوامل ہیں۔
(س)محبت کا انجام کیا ہونا چاہیے ؟
(ج)ٹریجڈی ورنہ محبت محبت نہیں رہتی۔
(س)آپ کا پہلا شعر کون سا تھا آپ کا اپنا شعر۔آپ کی اس وقت عمر کیا تھی؟
(ج)پہلا شعر آٹھویں کلاس میں کہا تھا لگ بھگ چودہ سال کی عمر میں اور شعر تھا۔
دور رہنے سے تو ہوتی نہیں الفت کم
فاصلے پیار کو اور بڑھا دیتے ہیں
(س)شاعری میں آپ کا استاد کون ہے اپنے استاد کے دو شعر سنائیں جو آپ کو پسند ہوں؟۔
(ج)کسی بھی صنف میں باقاعدہ استاد کوئی نہیں ہے بس خداداد صلاحیت ہے جسے جنون مطالعہ نے نکھار دیا۔تاہم شاعری میں روحانی طورپر محسن نقوی اور ساحر لدھیانوی کو استاد مانتا ہوں۔
دل وہ بازار ہے جان محسن جہاں
کھوٹے سکے بھی اکثر چلائے گئے
اور ساحر کا
ڈھونڈتی رہتی ہیں تخیل کی باہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سلگتی ہوئی تنہائی میں
(س)آپ کو سینکڑوں اشعار یاد ہوں گے کوئی ایسا شعر سنائیں جو ہر دور میں آپ کو پسند رہا ہو ۔
(ج)تجھ سے ملتا ہوں تو اس سوچ میں پڑ جاتا ہوں
وقت کے پاوں میں زنجیر میں ڈالوں کیسے
(س)آپ نے اب تک کتنی طبع زاد کہانیاں لکھی ہیں ؟
(ج)سو سے زائد ہوں گی صحیح تعداد یاد نہیں ہے ۔
(س)ہر کہانی کا ہر ہیرو کوہ قاف کا شہزادہ ہوتا ہے ۔عام سا مردجو زیادہ خوبصورت نہ ہو بہت کم کہانیوں میں ملتا ہے ۔آپ کی کہانیوں کے بھی ہیرو بڑے ہنڈ سم ہیںا یسا ہی کیوں ؟
(ج)ہم پڑھنے والوں کی نفسیات کے مطابق لکھتے ہیں۔ کالا کلوٹا بھدی ناک والا ہیرو کون پسند کرے گا۔ہم تجربہ کربھی لیں تو ناشر اور میگزین ایڈیٹر کو کون راضی کرے گا۔
(س)ہر کہانی میں ہوتا ہے کہ ہیروئن پریوں کے حسن کو مات دے رہی ہوتی ہے اس کی چال قیامت ہوتی ہے حسن ایسا کی ایمان ڈول جائیں سر ایسی لڑکیاں کہاں ہوتی ہیں؟ کیا یہ لکھاری کی مجبوری ہے کہ قاری ایسا پڑھنا چاہتا ہے یا سب لکھاری لکیر کے فقیر ہیں یا کچھ اور وجہ ہے ؟
(ج)قدرتی طور پر چونکہ ہر انسان خوبصورتی کا دلدادہ ہوتا ہے اس لیے ہمیں ایسی ہیروئن کا نقشہ کھینچنا پڑتا ہے جو قاری کے ذہن میں مجسم صورت اختیار کرلے .(خوبصورت لڑکیاں کہاں ہوتی ہیں؟ ۔یسین بھائی میرے خیال میں آپ شاید لڑکیوں کو غور سے نہیں دیکھتے )
(س)سر ہم دیکھتے ہیں کہ حقیقی زندگی میں ولن ہی ہیرو ہوتا ہے ۔وہ جو ظلم و ستم کرتا ہے ۔اس کا بدلہ نہیں ملتا ۔ہیرو یا جس کے ساتھ ظلم ہوا ہو وہ ایسے ہی دنیا سے سدھار جاتا ہے یہ تو زمینی حقیقت ہے ۔ لیکن ہر کہانی میںجتنی بھی مشہور ہوئیں ہیرو ولن کے چھکے چھڑا دیتا ہے ۔
(ج)قاری اور فلم بین حقائق سے فرار اختیار کرکے کتاب پڑھتے اور فلم دیکھتے ہیں اگر اس پلیٹ فارم پربھی ان کی محرومیوں کا ازالہ نہ ہو تو وہ جیتے جی مر جائے گا۔ کہانی اور فلم کا ہیرو دراصل قاری اور فلم بین کی محرومیوں کی جنگ لڑ رہا یوتا ہے جس میں ہیرو کی شکست ان سے برداشت نہیں ہوتی۔
(س)انداز بیاںمنفرد ہو تو ایک لکھاری اپنا مقام بناتا ہے ۔لیکن یہ انداز بیاں میں کسی کا رنگ تو جھلکتا ہو گا۔آپ کے انداز بیاں میں کس کا رنگ جھلکتا ہے ۔
(ج)ویسے تو یہ بات قارئین بتا سکتے ہیں تاہم مجھے لگتا ہے میں لاشعوری طور پر گاہے گاہے انکل نواب کے انداز میں جملے لکھ جاتا ہوں مگر وہ جملے ہوتے خالص میری تخلیق ہیں۔
(س)تحریر میں فحاشی کس لیے شامل کی جاتی ہے کیا یہ آج کی مانگ ہے یا پھر آپ اسے ایک طرح کا مسالہ سمجھتے ہیں؟بحیثیت مسلمان کیا آپ کا اس بات پر ایمان ہے کہ ایک ادیب جو کچھ لکھتا ہے ، اس کا جواب اسے اللہ تعالی کے حضور دینا ہوگا؟
(ج)میری تحریر میں سرے سے فحاشی ہوتی ہی نہیں۔حتی کہ ایک کہانی میں کسی عورت کا وجود ہی نہیں ہے ۔بالکل ہر اچھے اور برے عمل کا حساب کتاب ہوگا۔
(س)ہر کہانی یا ناول کے ہیرو کے کردار میں رائٹر اصل میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہے ، لیکن دیکھا گیا ہے کہ حقیقی زندگی میں وہ ایسا نہیں ہوتا ایسا کیوں؟
(ج)مگر میں نے یہ تصور غلط ثابت کردیا ہے ۔ مجھے سٹوڈنٹ لائف میں ساتھی کبھی وحیدمراد تو کبھی امیتابھ سے مماثل قرار دیتے تھے ۔
(س)اردو فکشن میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کیوں ضروری ہے ؟
(ج)اس لیے کہ چراغ تبھی جلتا ہے جب اس میں تیل پڑتا رہے نئے لکھنے والے بھی ادب کے چراغ میں تیل کے مانند ہیں۔
(س)نئے لکھاریوں اور پرانے قاریوں کو ایک ایک مشورہ جس پر عمل کر کے وہ اچھے لکھاری بن سکیں ؟۔
(ج)نئے لکھاری مطالعے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں کہ مطالعے کارآمد کوئی چیز نہیں ہے اور قاری کے لیے یہ مشورہ ہے کہ وہ ہر تحریر سے زندگی کا کوئی نہ کوئی سبق لے۔
(س)اردو فکشن کا کیا مستقبل نظر آ رہا ہے آپ کو جبکہ اردو فکشن کے بڑے بڑے نام نواب صاب کاشف زبیر اقبال کاظمی وغیرہ ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں؟
(ج)فکشن ان شاء اللہ یوں ہی چلتا رہے ۔ یہ دنیا ہے یہاں ہرکسی کو مخصوص وقت دیا گیا ہے بقول شیکسپئر یہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم سب اداکار ہر شخص اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کے بعد پس پردہ چلا جاتا ہے ۔نیا آ جاتا ہے ۔
(س)اردو ادب میں سرقہ پرانی روایت ہے ۔لوگ پہلے غزل کی زمین چرا لیتے تھے ۔خیال چرا لیتے تھے ۔آج کل پوری کی پوری غزل اڑا لیتے ہیں۔اسی طرح نثر میں بھی پہلے مرکزی خیال چرایا جاتا تھا۔ماحول چرایا جاتا تھا۔کچھ فقرے چرائے جاتے تھے ۔ آج کل بہت کچھ چرا لیا جاتا ہے ۔عموما ترجمہ کہانیوں کے حوالے سے یہ شکایات زیادہ ہیںکہ ہم معنی الفاظ بدل دئے جاتے ہیں۔اس ادبی سرقہ کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟نیز آپ پر بھی کبھی سرقہ کا الزام لگا؟
(ج)مجھ پر کبھی سرقہ کا الزام نہیں لگا۔تاہم میں سرقہ کا سخت مخالف ہوں ۔شاعری میں صرف توارد روا ہے ۔ جہاں تک انگریزی ادب کی بات ہے تو وہاں کسی کا ترجمہ چرالینا کچھ مشکل نہیں ہے ۔ بس تحریر کا متن بدل ڈالو۔گو کہ یہ آسان ہے مگر بددیانتی ہے ۔متن بدل لیں مگر انداز تحریر بدلنا بہت مشکل ہے ۔ہو سکتا ہے کچھ اس کام میں ماہر بھی ہوں۔
انداز بیاں انسپائریشن کے زمرے میں آتا ہے مگر ہے یہ کسی رائٹر کے لیے معیوب اور فقرے چرانا سرقہ ہے بے شک ان کا متن بدل دیا جائے . ماحول لکھنے میں البتہ ممانعت نہیں ہے جیسے جلیل سیریز میں کاشف مرحوم کرتے رہے ہیں جلیل سیریز دراصل احمد اقبال سر کی بھورے ماموں کالے خاں سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے . خود میں نے سر احمد اقبال سے متاثر ہوکر راجو اور علن سیریز لکھی تھی جو نئے افق میں شائع ہوتی رہی۔
(س)اردو ادب میں تنقید ایک اصطلاح ہے ۔جس میں کسی بھی تحریر کے محاسن و نقائص پر بحث کی جاتی ہے ۔بہت کم رائٹر دیکھے ہیں جو کھلے دل سے تنقید برداشت کرتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے ؟
(ج)تنقید کے لیے ضروری ہے کہ ناقد کا علم رائٹرسے زیادہ ہو اور ناقد کو الفاظ برتنے کا ہنر آتاہو۔ناقد اگر لٹھ مارنے والے انداز میں تنقید کرے گا تو کوئی رائٹر بھی برداشت نہیں کرے گا۔
(س)زندگی کا مقصد کیا ہے ؟
(ج)دنیا دراصل ایک امتحان گاہ ہے اور زندگی وہ پرچہ ہے جسے ہرانسان نے اپنے انداز میں حل کرنا ہے ۔جس کے مارکس مناسب آئیں گے وہ پاس جب کہ دوسرا فیل۔ میرے نزدیک زندگی دوسروں کے کام آنے کا نام ہے ورنہ عمر تو جانوروں کی بھی بسر ہو ہی جاتی ہے ۔
(س)سودا کا مشہور زمانہ شعر ہے ۔ سودا جو ترا حال ہے ایسا تو نہیں وہ کیا جانئے تو نے اسے کس آن میں دیکھا محبت کسی بھی رنگ روپ اور انداز میں ہو سکتی ہے مگر ہمارے ہاں محبت پر لکھنے والے محبت کو پاکیزگی سے مشروط کر دیتے ہیں۔جسم کی ہوس سے پاک محبت ہی سچی محبت
(ج)بہت اہم سوال ہے اس پر لکھنا چاہیے مگر وہی ازلی خوف آڑے آجاتا ہے کہ جنسیات کا ٹھپا لگ جا ئے گا اور لوگ کیا کہیں گے۔ منٹو کو بھی تو بہت کچھ کہا گیا ہے مگر اس سے منٹو کے قد میں کمی نہیں آئی
(س)کس سیاسی جماعت سے آپ کا تعلق ہے اور کیوں ہے؟
(ج)کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ،تعلق کیوں نہیں کا جواب بقول ڈاکٹر بشیربدر
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
(س)مسلمان دنیا میں تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہیں (دوسرے نمبر پرہیں تعداد کے لحاظ سے یہ پرانی بات ہے )لیکن زوال (یافتہ)ہیں سب سے اہم سبب زوال کا ۔
(ج)نااہل حکمران اور سہل پسند عوام
(س)کس چیز کو پسند نہیں کرتے ۔؟
(ج)درست کیفیت تو اللہ تعالی ہی کو معلوم ہوگی البتہ اس کی مخلوقات سے زیادتی ہوتے میں نہیں دیکھ سکتا۔
(س)رایٹر کیاآج واقعی اپنی ذمہ داریاں صحیح سے نبھارہے ہیں؟
(ج)یہاں کوئی بھی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نہیں نبھا رہا۔
(س)آپ کو اپنی نگارشات میں سے کون سی کہانی یا ناول سب سے زیادہ پسند ہے ؟
(ج)مٹی کا کھیل اور پریت کی ریت
ریڈیو سے کب سے لنک ہے ؟
نومبر 2006 سے
(س)آپ کے لکھے ہوئے کتنے ڈرامے اب تک آن ایئر ہوچکے ہیں؟
(ج)لگ بھگ پچاس ڈرامے ان میں سے بہت سے قومی نشریاتی رابطے سے بھی آن ائیر ہوئے ۔
(س)پہلی کہانی جو آپ نے لکھی اس کا نام ۔کہاں شائع ہوئی ۔کیا اعزازیہ ملا تھا اس کا۔
پہلی کہانی بڑوں کے لیے مسٹری میگزین میں نومبر 2001 میں لکھی تھی جس کا عنوان تھا ” وہ کون تھا” اور اعزازیہ میں نے لگ بھگ چھ سال کسی پرچے سے نہیں لیا۔
(س)سب سے زیادہ کس کہانی پر کس ڈائجسٹ کی طرف سے اعزازیہ ملا
(ج)جاسوسی سسپنس اور اردو ڈائجسٹ کی طرف سے سب سے زیادہ معاوضہ ملا اور مٹی کا کھیل کا بھی 50000 روپیا ملاتھا
(س)کوئی ایسا حادثہ جسے زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ؟
(ج)میرا آرمی میں چند سال جاب کرنا۔
(س)آپ خود ایک جاگیردار گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، جاگیرداری نظام کے خلاف کیسے لکھ لیتے ہیں؟ کیا یہ جرات مندی آپ کی اعلی تعلیم اور وسیع مطالعہ کی مرہون منت ہے ؟
(ج)تعلیم نے شعور کو بہت اجاگر کیا ہے اب باپ دادا کا زمانہ گیا ورنہ میرے نانا اوردادا جوکہ آپس میں بھائی بھی تھے گاوں میں کسی مرد کو ننگے سر نہیں پھرنے دیتے تھے ۔
(س) آپ کی کہانیوں کا کوئی ایسا کردار جس میں آپ کی شخصیت کا عکس جھلکتا ہو؟
(ج)ریت کی دیوار کا عدنان حیدر
(س)دنیا بھر میں بہت سے رائٹر اپنی فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کر چکے ، کیا ہم یہ توقع رکھیں کہ آپ کو بھی کسی ڈرامے میں اداکاری کرتے ہوئے دیکھ سکیں گے ؟
(ج)شاید دیکھ لیں ویسے بچپن میں مجھے اداکار بننے کا بہت شوق تھا۔
(س)کیا پاکستان میں فکشن رائٹرز کو اس کا جائز مقام حاصل ہے ؟ کیا پذیرائی اور معاوضہ سے مطمئن ہیں؟
(ج)غیر مطمئن ہوں یہاں فکشن رائٹرز کو ابھی تک جائز مقام نہیں ملا اور معاوضہ محدودے چند اداروں کے کوئی دیتا ہی نہیں۔
(س)سر ایک اہم سوال، آپ بہت صاف گو طبیعت کے مالک ہیں، لگی پٹی رکھے بغیر دو ٹوک بات کہنے کے عادی، اس صاف گوئی کی وجہ سے کبھی کوئی نقصان بھی اٹھانا پڑا؟
(ج)بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے اب بھی اٹھا رہا ہوں مگر میں لوگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایک اچھی عادت سے دستبردار نہیں ہوسکتا ۔ یہاں میں ایک مثال دوں گا کہ ایک شخص جو اپنے تئیں ادیب یا شاعرہے مگر اس کی تحریراور شاعری میں ہر قسم کی فنی خامیاں ہیں تو یہاں آپ کی تعریف اس سے دشمنی کے زمرے میں آئے گی
(س)بچوں کے ادب سے کوئی دلچسپی رہی؟ اگر کوئی پروڈکشن ہاؤس آپ سے بچوں کیلئے فلم یا ڈرامہ لکھوانے کا خواہش مند ہو تو آپ کا فیصلہ کیا ہوگا؟
(ج)تعاون کروں گا کیونکہ میری پہلی چند تحریریں بچوں کے لیے ہی تھیں۔
(س)کیا ایک مصروف فلمی مصنف اور ڈرامہ نگار بن جانا ہی کسی ادیب کی سب سے بڑی کامیابی ہے ؟ آپ کے خیال میں ناول نگار بننا زیادہ آسان ہے یا ڈرامہ نگار؟ کیا وجہ ہے کہ ڈرامہ نگار کے برعکس ناول نگار کو آج بھی زیادہ شہرت اور پذیرائی ملتی ہے ؟
(ج)دراصل فلم اور ڈرامے میں لوگ سارا کریڈٹ اداکاروں کو دے دیتے ہیں جب اسکرین پر ٹائٹل دکھایا جاتا ہے تو ناظرین مصنف کے نام پر کبھی توجہ نہیں دیتے ۔۔سو فلم اور ڈرامہ رائٹر پس پردہ ہی رہتا ہے ۔جب کہ کہانی یا ناول کی تخلیق میں چونکہ صرف مصنف ہی ہوتا ہے اس لیے قاری اس کی واہ واہ کرتے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک ناول نگار بننا زیادہ آسان ہے۔
(س)پہلا ڈرامہ آن ایئر جانے پر کیا؟
(ج)بہت خوشی ہوئی تھی ۔
(س)ڈرامہ کیلئے کردار تخلیق کرتے وقت ان کے حوالے سے اداکار آپ کے ذہن میں ابھر رہے ہوتے ہیں یا اداکار آپ کے اسکرپٹ کو اپنے انداز میں آگے بڑھاتے ہیں۔
(ج)اکثر مرکزی کردار کے لیے آرٹسٹ کو مدنظر رکھا جاتا ہے
(س)آپ نے اب تک کل کتنے ڈرامے لکھے ۔پہلا ڈرامہ کون ساتھا ۔آج کل کون سا لکھ رہے ہیں سب سے زیادہ پذیرائی کس ڈرامے کو ملی ۔
(ج)جیسا کہ پہلے بتایا پچاس کے لگ بھگ ڈرامے لکھے ہیں ۔پہلا ڈرامہ احتساب تھا۔ اور اب جو لکھ رہا ہوں اس کا نام جال ہے ۔ پذیرائی ویسے تو سبھی کو ملی مگر’’ تعبیر‘‘ اور ’’لہورنگ‘‘ کو بہت زیادہ ملی۔ تعبیر کو تو لڑکیوں کے کچھ اسکولوں میں چلایا بھی گیا تھا۔
(س)ڈرامہ لکھتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔آپ اپنے تجربہ کی روشنی میں بتائیں؟
(ج)ڈرامہ میں مکالمہ کی بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے ۔کرداروں میں ڈھل کر ڈرامہ اسکرپٹ لکھا جاتا ہے اور دوسرا اس میں احتیاط کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے یعنی ملک و قوم کے خلاف نہ ہو ۔میرے خیال میں یہ کہانی سے مشکل صنف ہے ۔
(س)گولی چلاتے وقت کیا احساسات ہو تے ہیں؟
(ج)گولی چلانا یہاں مشاغل میں شامل ہے لہذا احساسات کوئی خاص نہیں ہو
(س)کبھی قتل کیا؟ یا کرنے کا خیال آیا؟
(ج)شادی سے قبل ایسا سوچتا تھا مگر اب اپنے بچوں کا سوچتا ہوں۔
(س)جیل میں رہنے کے احساس کو کیسے بیان کرینگے ؟
(ج)جیل ایک الگ دنیا کا نام ہے جہاں یر سودا نقدونقدی ہوتا ہے اور پیسے کو خدا سمجھا جاتا ہے ۔ دولت مندوں کے لیے جیل عیاشی کا اڈہ اور مفلس کے لیے عقوبت خانہ ہے ۔
(س)رونے کو بزدلی خیال کرتے ہیں یا بہادری؟
(ج)رونا صورت حال پہ ڈیپنڈ کرتا ہے اپنے لیے رونا میرے نزدیک بزدلی ہے۔ تاہم کسی دوسرے کے دکھ پر رونا انسانیت کی معراج ہے ۔
(س)کوئی شخص جس کے خلوص پر آپ شک نہیں کرسکتے ؟
(ج)میری خالہ اماں جو کہ میری ساس بھی ہیں
(س)لڑکپن کی کوئی سہانی یاد؟
(ج)لڑکپن کی سہانی یادیں پریت کی ریت میں
(س)آپ کے خاندان میں اور کوئی ادیب ہے ۔اگر ہے تو ان کا تعارف ایک سطر میں؟
(ج)میرا چھوٹا بھائی ریاض عاقب کوہلر ایک اچھا شاعر اور ناول نگار ہے ۔ چار جلدوں میں دو ناول لکھ چکا ہے ۔
(س)آپ کے سب سے اچھے ۔جن پر آپ کو فخر ہو تین ناول بتائیں ۔کہاں سے مل سکتے ہیں اڈریس۔
(ج)مٹی کا کھیل ۔ در زنداں اور اجالوں کے نقیب یہ سب القریش پبلی کیشنز لاہور سے مل جائیں گے ۔
(س)آپ کے لکھنے کا کیا عالم ہے ؟
(ج)جب موڈ ہو تو تب لکھتا ہوں۔زود نویس نہیں ہوں ۔طبیعت مائل نہ ہو تو نہیں لکھ سکتا ۔
(س)کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کیوں لکھتے ہیں؟تخلیقی عمل کو آپ کس طرح بیان کرینگے ؟
(ج)میں قارئین کی محبت میں لکھتا ہوں۔اس لیے لکھنے کو کبھی کمائی کا ذریعہ نہیں سمجھا۔
تخلیق عمل نہیں ہے بلکہ ایک خداداد صلاحیت ہے جو اوپر والا چند مخصوص لوگوں کو ودیعت کرتا ہے ۔
(س)جرم اور گناہ میں کیا فرق ہے کیا یہ ایک ہی سکے کے دو رخ نہیں
(ج) جرم کبھی کبھار حالات سے مجبور ہوکر بھی کیا جاتا ہے مگر گناہ صرف لذت نفس کے لیے کیا جاتا ہے ۔
(س)اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک نماز روزے کے پابند بزرگ ٹریفک سگنل کو توڑ کر نکل جاتے ہیں آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہے
(ج)بحیثیت قوم ہم میں صبر کا بہت فقدان ہے سو جلدی پہنچنے کی دھن میں ہم یہ قانون شکنی کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔
(س)خرابی حالات میں کس ساتھی نے کبھی ساتھ نہیں چھوڑا؟
(ج)اللہ تعالی کا خصوصی کرم ہے کہ میں کبھی کرائسس کا شکار نہیں ہوا۔
(س)آپ کے نزدیک جمہوریت کیسا نظام ہے ؟ یہ اسلام سے متصادم ہے یا مماثل؟
(ج)اصل جمہوریت عین اسلام ہے مگر مغرب کی عطا کردہ جمہوریت غلامی کی ایک صورت ہے ۔
(س)تعلیم انسان کو سنوارتی ہے یا بگاڑ بھی دیتی ہے ؟
(ج)زیادہ کو سنوارتی ہے اکا دکا بگڑ بھی جاتے ہیں۔
(س)اسلام،تاریخ،معاشرہ،اخلاقی اوج پستی ،خفیہ اداروں کی کارروائیوں،جاسوسی وغیرہ میں کس موضوع پر لکھیں گے؟
(ج)یہ سب موضوعات وقت کی اہم ضرورت ہیں مگر میں معاشرت اور ہسٹری پر لکھنا پسند کروں گا۔
(س)ایسا لمحہ جو چاہتے ہیں واپس آ جائے؟
(ج)میرا بچپن کہ میں بہت ماضی پرست انسان ہوں
(س)کوئی ایسا لمحہ جب آپ نے خود کو بہت کمزور محسوس کیا ہو؟
(ج)اپنی بہن زیب النساء کی وفات کا لمحہ
(س)نواب محی الدین سے آپ مل چکے ہیں ان کی یادیں باتیں؟
(ج)انکل نواب واقعی گریٹ انسان تھے ان کے ساتھ میری ملاقات یادگار رہی میری ایک کہانی پڑھ کر فرمانے لگے واہ بہت خوب کیا انداز تحریر ہے وہ میرے ایکشن مناظر کی بہت تعریف کرتے رہے اللہ تعالی انہیں اپنے جوار رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے ۔
(س)کبھی ترجمہ کیا کسی ناول کا ۔اگر کرنا پڑے تو کس کا کریں گے؟۔
(ج)ویسے تو تراجم کے خلاف ہوں کیونکہ قاری فورا” چوری کا الزام لگا دیتے ہیں پشتو ادب سے ضرور کوئی ترجمہ کروں گا۔
(س)ابن صفی کیسا مصنف تھا؟ کبھی عمران سیریز پر لکھنے کا سوچا
(ج)سچ پوچھیں تو میں کبھی ابن صفی یا مظہرکلیم سے متاثر نہیں ہوا اور نہ ہی اس کردار پر لکھنے کا ارادہ ہے ۔ جب بھی لکھوں گا اپنے کردار تخلیق کروں گا۔
(س)گر آپ سے کوئی قرض مانگے تو اسے کیا جواب دیتے ھیں؟اگر کوء قرض واپس نا کر سکے تو کیا کرتے ھیں؟
(ج)اپنے علاقے کا ہو تو بخوشی دے دیتا ہوں مگر انجان لوگوں کو ٹال دیتا ہوں۔مزید مہلت دے دیتا ہوں ۔
(س)درزنداں ناول میں ہیرو اور ہیروین کے درمیان جو رابطہ ( خواب کے ذریعے ) دکھایا گیا ہے کیا یہ غیر حقیقی نہیں ہے
(ج)خوابوں کے بارے میں میں نے بہت پڑھا ہے آپ علامہ ابن سیرین کی تعبیرالرویا پڑھیں
(س)درزنداں میں ہیرو کا دوست بلکہ ہر ناول میں جیسا ہیروکا دوست ہوتا ہے ایسے دوست حقیقی زندگی میں کیوں نظر نہیں آتے۔
(ج)ہاں حقیقی زندگی میں ایسے دوست بہت کم ہوتے ہیں مگر اصلاح معاشرے کے پیش نظر ہمیں ایسے دوست تخلیق کرنا پڑھتے ہیں کہ شاید کوئی پڑھ کر دوستی کے مفہوم سے آگاہ ہوجائے۔
(س)مٹی کا کھیل کے موسیٰ خان جیسا ولن جو کئی مقامات پر ہیرو سے زیادہ اچھا لگا کیا حقیقی زندگی میں ایسا کوئی شخص آپ کو نظر آیا۔
(ج)حقیقی زندگی میں ہمارے ہاں ایسے ولن پائے جاتے ہیں دراصل پختون کلچر کچھ الگ سا ہے
(س)کیدو ہمارے نزدیک پوری برادری میں واحد غیرت مند شخص تھا آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں
(ج)بجا فرمایا ہے پختون کلچر میں تو ایسے لوگ ہیرو کہلاتے ہیں
(س)بعض لکھاری اپنے ناول میں رومانوی/پیار بھرے لمحات کے بیان میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ بس خدا کی پناہ(جناب ناصر ملک کے ناول مسافر میں میڈم شکیلہ کے پیار بھرے لمحات)جبکہ امجد جاوید صاحب کے ناول قلندر ذات کے شروع میں ایک میلے میں ناچنے والی کا آنکھوں دیکھا حال اس قدر صاف ستھرے انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ تمام لوازمات بھی پورے ہو گئے اور برا بھی نہ لگا۔
(س)ان دونوں صورت حال میں اپ کی رائے کیا ہے ؟
(ج)اتفاق سے یہ دونوں ناول میں نے نہیں پڑھے اس لیے کچھ کہنے سے قاصر ہوں تاہم ناصرملک کی کئی مکمل کہانیاں پڑھی ہیں جنہوں نے مجھے انسپائر کیا مثلا’’تماشائے عشق ‘‘ان کا ایک خوب صورت ناول ہے ۔
(س)ماشااللہ ایک گھر میں دودو لکھاری اور وہ بھی منجھے ہوئے ۔ لکھنے کے معاملے میں آپس میں کتنا کوارڈینیشن ہے ؟
(ج)بہت تعاون ہے ایک دوسرے کی تحریریں ڈسکس کرتے رہتے ہیں مشورے بھی دیتے ہیں ایک دوسرے کو۔
(س)آپ کا کوئی ایسا ناول یا ڈرامہ جو کسی نے چرایا ہو؟
(ج)جاسوسی کے رنگ سے میری ایک کہانی کا مکمل پلاٹ چوری کرکے ایک نجی چینل نے ڈرامہ چلایا۔ یہ بات مجھے ایک بہت بڑے ادیب نے بتائی تھی۔ ادیب اور چینل کا نام نہیں لوں گا
(س)جھوٹ کب بولتے ہیں؟
(ج)تب جب سچ بولنے میں فساد کا اندیشہ ہو۔
(س)کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک ادیب کو گروپنگ میں نہیں پڑنا چاہیے خصوصا فیس بک پر تو بالکل بھی نہیں آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
(ج)ٹھیک کہتے ہیں لوگ رائٹرز اپنے فینز کا دل رکھنے کے لیے ان سے گھل مل جاتے ہیں مگر بعد میں یہی فینز اس کے لیے سردرد بن جاتے ہیں۔
(س)کچھ لوگوں سے فیس بک پر آپ کی تلخ کلامی ہوئی۔کیا فیس بک پر کسی سے الجھنا کسی ادیب کو زیب دیتا ہے ؟
(ج)زیب تو نہیں دیتا مگر لوگ جب حد کراس کرنے لگیں تو پھر مجبوری کے عالم میں کچھ کرنا ہی پڑتا ہے ۔
(س)ادب کے ساتھ ساتھ اتھلیٹک ، سوئمنگ ، ہینڈ رائٹنگ اور گائیکی پر بھی کمال کی دسترس رکھتے ہیں۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
(ج)یہ سب اوپر والے کا خصوصی کرم ہے کہ میں بہت اچھا تیراک مصور گلوکار ایتھلیٹ اور خوب صورت ہینڈرائٹنگ کے ساتھ ساتھ بنٹے کھیلنے کا بھی ماہر ہوں۔
(س)گندم کٹائی سے کتنا ڈر لگتا ہے ؟
(ج)گندم کٹائی دنیا کا کٹھن ترین کام ہے ۔
(س)فیس بک کے درجنوں گروپس میں آپ ایڈ ہیں سب سے زیادہ کون سا گروپ پسند ہے ۔کسی کے ایڈمن ہیں؟
(ج)کسی بھی گروپ کا ایڈمن نہیں ہوں۔ ہروہ گروپ جہاں ممبرز ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوں مجھے پسند ہیں ۔ہر گروپ میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں ۔میں ہر اس گروپ کو پسند کرتا ہوں جس کے ممبرز باشعور اور بااخلاق ہوں۔
(س)فیس بک پر جے ڈی پی کے مختلف گروپ یا دھڑے بنے ہوئے ہیں۔ہر دھڑا خود کو صحیح سمجھتا ہے ۔آپ کے خیال میں اس دھڑے بندی کی وجہ کیا ہے اور اس دھڑے بندی کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟ یاد رہے سیاسی بیان نییں دینا۔اپنا مشاہدہ پوری ایمانداری اور بغیر لگی لپٹی بتانا ہے۔
(ج)جے ڈی پی کے ان گروپس کے بارے میں نہ ہی پوچھیں تو بہتر ہوگا۔یہ سب ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔یہ اگر ادارے کے وفادار ہوتے تو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوتے ۔ سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ ادارہ ان کی تعریف و تنقید سے نہیںبلکہ رائٹرز کی اہلیت کی وجہ سے چل رہا ہے ۔ یہ چند سو لوگ جن میں سے آدھے سے زیادہ لوگ ڈائجسٹ خریدتے ہی نہیں ادارہ کا کیا بھلا و برا کرسکتے ہیں? کاش یہ بات ادارے کی سمجھ میں آجائے تو ان گروپس کی چھٹی ہو جائے ۔
(س)آپ مستقبل میں سوشل میڈیا کو کہاں دیکھ رہے ییں
(ج)آئندہ سوشل میڈیا کھانے پینے سے بھی زیادہ اہمیت حاصل کر لے گا۔ شاید رسائل اور کتابیں بھی آن لائن شائع ہونے لگیں ۔یہ میڈیا کچھ بھی ہو کتاب کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ میرے نزدیک وہ قومیں برباد ہوجاتی ہیں جو کتابوں سے منہ موڑلیتی ہیں۔
(س)ہم فیس بک پر کوئی پوسٹ کیوں لگاتے ہیں۔
(ج)۔پذیرائی اور داد کے لالچ میں۔
(س)آپ کے حوالہ سے اس ناچیز کا کچھ مشاہدہ ہے ہو سکتا ہے کہ میں غلط بھی ہوں۔آپ کو اپنے فینز کا اس طرح سے خیال نہیں ہے جس طرح باقی ادیب کرتے ہیں۔
(ج)میں وہ واحد رائٹر ہوں جو ناصرف فینز کی ہرکال سنتا ہوں بلکہ انھیں خود فون بھی کرتا رہتا ہوں کئی فینز کی اصلاح بھی کی ہے ۔انھیں اپنی تصنیفات بھی بھیجی ہیں۔
(س)ڈائجسٹس کا وہ معیار جو آج سے دس سال پہلے ہوتا تھا آج کہیں بھی نظر نہیں آتا۔آپ کے مطابق اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟
(ج)اوریجنل رائٹرز کا فقدان۔دراصل اب گاڈ گفٹڈ رائٹر کم اور پیسے اور شہرت کے طالب نام نہاد رائٹرز زیادہ ہیں۔ سو معیاری تخلیق اب کم کم ہی نظر آتی ہے ۔
حساس نہ ہوں تو رائٹرز کیوں ہوں۔ یہی حساسیت تو انھیں عام لوگوں سے الگ کرتی ہے ۔ آپ کو پتا ہے شاعروں میں ایک حس زائد ہوتی ہے جسے ذوق جمالیات کہتے ہیں۔
(س)آپ ادب کی وضاحت کیسے کریں گے مطلب کیا ہے ادب آپکی نظر میں؟
(ج)ہر اچھی تحریر چاہے نثری ہو نظم یا غزل ہو میرے نزدیک ادب ہے مگر ہماری بدقسمتی کہ یہاں ادب کی درجہ بندی کردی گئی ہے ۔ نسیم حجازی سے لے کر نواب صاحب تک اس ملک میں کتنے ہی مایہ ناز لکھاری پیدا ہوئے جن میں سے بعض کی تحریریں غیرملکی زبانوں میں بھی ٹرانسلیٹ کی گئیں مگر یہاں انھیں ادیب نہیں مانا گیا اس کے برعکس جو ادیب بنے پھرتے ہیں ان میں سے اکثر کی کتابیں میں نے فٹ پاتھوں پر ردی کے مول بکتے ہوئے دیکھیں۔ یہاں ڈائجسٹ رائٹرز کو یہ نام نہاد ادیب تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر عوام میں ڈائجسٹ رائٹرز ان سے کہیں زیادہ مقبول ہیں اردو ناول آج اگر زندہ ہے تو محض ان ڈائجسٹوں کی وجہ سے ۔
(س)رائٹر کے فرائض ادا کرنے کہ علاوہ کیا مصروفیات ہیں
(ج)پراپرٹی ڈیلنگ کا کام کرتا ہوں۔
(س)سر اب تک آپ کی کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔پہلی کتاب کون سی شائع ہوئی تھی اور کب یعنی کس سال شائع ہوئی تھی ۔کیا آپ اپنی سبھی کتابوں کے نام اور سن اشاعت بتانا پسند فرمائیں گے ۔
(ج)نومبر 2006 میں میری پہلی دو کتابیں ایک ساتھ شائع ہوئی تھیں۔ اجل کاروپ۔ اپرادھی۔ پھر 2011 میں د و مٹی کا کھیل دوجلد ۔ اجالوں کے نقیب اور 2016 میں ایک در زنداں اور شعری مجموعہ اسیرزلف ۔ جب کہ تین زیر طبع ہیں
(س)آپ اپنی سب سے بہترین دس کہانیوں یا ناولز بارے بالترتیب بتائیں جو سب سے زیادہ پاپولر ہوئے
(ج)ناولز میں ’’مٹی کا کھیل‘‘’’در زنداں ‘‘اور’’ اجالوں کے نقیب ‘‘کو قارئین کی طرف سے پسندیدگی کی سند ملی تینوں ناول ماہنامہ حکایت میں قسط وار چلتے رہے ۔کہانیوں میں’’ بھرم ۔ نجات۔ ریت کی دیوار کو سراہا گیا یہ جاسوسی سسپنس میں لگی تھیں۔ نئے افق میں سنجیدہ موضوع پر آخری فیصلہ،ادھورا خواب، پورا سچ، سلسلہ گردش کی ابتدائی تین اقساط اور کامیڈی سیریز کی آخری درویش،ڈبل کراس اور آخری جوا وغیرہ کو بہت زیادہ پسند کیا گیا۔
(س)جے ڈی پی گروپ سے آپ کے اختلافات اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ان اختلافات کی وجہ؟ اور مستقبل قریب یا بعید میں جے ڈی پی میں دوبارہ لکھنے کا ارادہ ہے کہ نہیں؟
(ج)یہ اختلافات دراصل جان بوجھ کر پیدا کیے گئے ہیں۔ اور رہ گئی ان کے لیے لکھنے کی بات تو یہ ادارے کی مرضی پر منحصر ہے ۔وہ کو آپریٹ کریں گے تو ٹھیک ورنہ یہاں رسائل کی کمی تو نہیں ہے ۔
(س)کہانی لکھتے وقت آپ کن چیزوں کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔
(ج)تیز رفتاری، سنسنی اور جان دار مکالمہ کے ساتھ املا کی درستی اور جھول کا بہت زیادہ خیال رکھتا ہوں۔ میں تو کہانی کو اصلاح معاشرہ کا ایک کارآمد ذریعہ قرار دیتا ہوں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلی رونما ہوتی ہے ۔کبھی پڑھنے والے جنوں بھوتوں کی کہا نیاں پڑھتے تھے مگر اب ایسا نہیں وقت کے ساتھ تغیر قانون فطرت ہے اسی لیے تو کسی نے کہا ہے ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں اور دوسری بات یہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اب اس سے آگے کیا کرسکتا ہے ۔کتاب اور رسائل تو بدستور چھپ رہے ہیں۔
(س)معمولی سی بات پر آپ ناراض ہو جاتے ہیں۔تھوڑی سی کو شش سے مان جاتے ہیں جو بات جہاں کہنے کی ہوتی ہے وہاں نہیں کہتے ۔اور جس جگہ کہنے کی نہیں ہوتی وہاں کہتے ہیں ۔کہا جاتا ہے آپ جذباتی انسان ہیں ۔کیا یہ تجزیہ آپ کے بارے درست ہے اگر درست نہیں ہے تو درست کیا ہے
(ج)احساسات و جذبات کے بغیر انسان مٹی کا مادھو ہے ۔ مگر یہ بات درست نہیں ہے کہ میں ایک جذباتی انسان ہوں ۔ دراصل میں سچ کہنے اور سننے کا عادی ہوں ۔ دوستی اور دشمنی دونوں کھل کر کرتا ہوں ۔منافقت مجھے نہیں آتی۔
(س)آپ نے بہت سے رسائل میں لکھا۔مدیران سے واسطہ رہا ۔ہر ایک مدیر کے بارے میں بتائیں آپ نے انہیں کیسا پایا۔خیال رہے آپ نے ان سب ایڈیٹرز کے بارے میں بتانا ہے جن کے ساتھ آپ ملے ،کال کی ،یا کسی بھی طرح رابطہ ہوا۔ یا اس رسالہ میں آپ کی کہانی شائع ہوئی ہو۔
(ج)حکایت کے مدیر عارف محمود سے بہت بار ملاقات ہوئی ہے مہمان نواز اور یارباش آدمی ہیں بھیجی گئی کہانی میں قطع برید بھی پوچھ کر کرتے ہیں۔ جے ڈی پی گروپ کے اقلیم علیم صاحب اور پرویز بلگرامی صاحب مستند رائٹرز کی بہت قدر کرتے ہیں ان سے ملاقات تو نہیں ہوئی مگر ٹیلی فونک رابطہ بہت رہا جو کہ اب بھی بحال ہے ۔ اسی طرح نئے افق کے عمران قریشی صاحب اور طاہر قریشی صاحب سے ٹیلی فونک رابطہ رہا دونوں صاحبان رائٹرز کے قدردان ہیں۔ مسٹری میگزین و ایڈونچر کے ابراہیم غوری سے بھی رابطہ رہا ہے مگر میں نے ان کے لیے پانچ چھ کہانیاں ہی لکھی تھیں۔
(س)کہانی کو لکھتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اچھی کہانی کے ارکان کیا ہیں ۔کہانی میں سب سے اہم کیا ہے ۔کیا کہانی اپنے کتھارسس کے لیے لکھی جانی چاہئے یا ریڈر کی پسند کو دیکھنا چائیے ۔یا کسی مقصد کو سامنے رکھ کر لکھنا مناسب ہے ۔؟
(ج)سب سے پہلے تو انداز تحریر کی اہمیت ہے اس کے بعد کہانی میں اصلاح معاشرہ کے لیے کوئی سبق ہونا چاہیے ۔ قاری کی پسند کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے ۔ اچھی کہانی لکھنے کے لیے انداز تحریر عمدہ منظرنگاری اور کردار نگاری خوب صورت اور مکالمہ دل چسپ ہونا چاہیے ۔
(س)نئے افق میں آپ نے کتنی کہانیاں لکھیں ۔سب سے پہلی کب لکھی اور اس کا نام کیا تھا ۔اور اب تک آخری کب لکھی اور اس کا نام کیا تھا ۔اب کب کہانی نئے افق کو بھیج رہے ہیں ۔
(ج)نئے افق میں میری پہلی کہانی کامیڈی سیریز کی’’ آخری درویش‘‘ تھی جوغالبا”2004کے کسی مہینے میں لگی تھی۔ اس کے بعد نئے افق میں متواتر تین برس تک لکھتا رہا۔ سچ پوچھیں تو مجھے چمکانے میں نئے افق کا زیادہ ہاتھ ہے ۔ نئے افق کے لیے آخری تحریر گردش کی تیسری قسط تھی جو بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر میں جاری نہ رکھ سکا۔ اب نئی تحریروں میں پریت کی ریت اور پہچان ان کو بھجوانے کا ارادہ ہے ۔
(س)ماہ نامہ نئے افق کو کب سے پڑھنا شروع کیا۔ نئے افق میں سے سب پسندیدہ لکھاری کون ہے ۔نئے افق میں حال میں ہی تبدیلیاں کی گئی ہیں کیسی لگی آپ کو آنے والے دور میں نئے افق کو کس مقام پر دیکھ رہے ہیں ۔اس وقت آپ کے خیال میں نئے افق کا کیا معیار ہے ۔نئے افق ۔ادب کے افق پر چھا جائے مالکان و مدیر کوکیا کرنا چاہئے ۔
(ج)نئے افق کو اس دور سے پڑھنا شروع کیاتھا جب نیا رخ بھی اس کا ساتھی ہواکرتا تھا۔اس دور میں راحت صاحب اور بہت سے نامی گرامی رائٹرز ان رسائل میں لکھا کرتے تھے ۔بروقت پورے ملک میں سپلائی ہوتے تھے ۔ پھر نیارخ بند ہوگیا۔ آہستہ آہستہ نئے افق پہ بھی زوال آنے لگا اور یہ سب انٹرنیٹ کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا کچھ منتطمین نے بھی سستی کا مظاہرہ کیا۔مگر اب وہ دوبارہ سے کمر کس کر میدان میں آگئے ہیں اور پرچہ پھر سے ترقی کی طرف گامزن ہوچکا ہے ۔مالکان اس میں سچ بیانیوں کا چیپٹر بند کردیں دو بڑی کہانیاں ہرماہ ابتدائی و آخری صفحات پہ اور دو اچھے سلسلے رسالے کو دوبارہ عروج پر لے جائیں گے ۔۔ویسے تو اب بھی پہلے سے معیار بہتر ہوگیا ہے مگر ابھی مزید بہتری کی گنجائش ہے ۔ ان نئے لکھاریوں کو جگہ دیں جن میں لکھنے کی خداداد صلاحیت ہو محض فیس بک کے دانش ور نہ ہوں۔ مجھے یقین ہے اگر مالکان اس طرف متوجہ ہوئے تو بہت جلد پورے ملک میں نئے افق کا طوطی بولے گا۔
(س)آپ کا اس سے پہلے کوئی انٹرویو کہیں شائع ہوا ہو
(ج)بہت بار کہا گیا ریڈیو والے اب بھی مصر ہیں مگر میں ایسی باتوں کا قائل ہی نہیں ہوں۔ سو پہلی بار یاسین صدیق بھائی اور ان کے انٹرویو پینل کی چاہت دیکھ کر شائع ہونے کے لیے انٹرویو دیا ہے تاہم آن لائن متعدد بار ہوچکا ہے ۔
(س)میرے لکھاری بن جانے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
(ج)آپ محنت کریں تو اچھا لکھ سکتے ہیں مگر شرط ہے کہ مطالعہ بہت زیادہ کریں۔
(س)جناب رزاق شاہد کوہلر صاحب آپ کا شکریہ۔
(ج)آپ سب کا بھی شکریہ ۔جو مجھ ناچیز کو اس قابل سمجھا ۔اور اتنے علمی و ادبی سوال کیے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close