Naeyufaq Aug-16

میں نہیں جانتی

میاں صداقت حسین

آندھیاں غم کی یوں چلیں باغ اجڑ کر رہ گیا
سمجھے تھے آسرا جسے وہی بچھڑ کر رہ گیا
پوچھو نہ داستان ِ غم اجڑے ہیں کس طرح سے ہم
گھر کا چراغ کیا بجھا گھر ہی اجڑ کر رہ گیا
یہ اشعار اس کے منہ سے بے اختیار نکلے ۔ گم صم سی سکینہ بیٹھی خلا میں تک رہی تھی ۔ قریب ہی پڑے ریڈیو سے صدا کار کی آواز نے اعلان کیا ۔
’’ کل صبح آٹھ بجے ایوان ِ صدر میں صدر ِ مملکت یوم ِ آزادی کے سلسلے میں پرچم کشائی کی تقریب کی صدرات فرمائیں گے ۔ ‘‘
اس اعلان کے بعد اس نے کہا ۔
سو گیا قوم کی تقدیر جگانے والا
اب کہاں خواب کی تعبیر بتانے والا
خود حفاظت کرو دیس کی لوگو ! ورنہ
اب کوئی قائد ِ اعظم نہیں آنے والا
اور اب آپ ملی نغمہ سنیں ۔ ‘‘
اس کے ساتھ ہی مشہور ملی نغمہ ریڈیو پر نشر ہونے لگا ۔
جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان جیوے پاکستان
مہکی مہکی ، روشن روشن ، پیاری پیاری نیاری
رنگ برنگے پھولوں سے اک سجی ہوئی پھلواری
پاکستان
اسی ملی نغمے کو سن کر ہی تو اس کے منہ سے اشعار نکلے تھے۔ آخر وہ بھی تو ان لوگوں میں شامل تھی ، جنھوں نے پاکستان کو حاصل کرنے کے لیے قربانیاں دی تھیں ۔
’’ آہ … ! ! ! ‘‘
اس نے ایک طویل سرد آہ بھری ۔ اسے وہ دن یاد آنے لگا جب …
…٭٭٭…
اس دن سکینہ اپنے ساس سسر اور تین نندوں کے ساتھ گھر میں موجود تھی ۔ ان دنوں پاکستان بن چکا تھا اور مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے ۔ ہندو بلوائیوں نے سکھوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر حملے کر کے انھیں گاجر مولی کی طرح کاٹنا شروع کر دیا تھا ۔ سکینہ کے گھر والے اس لیے ابھی تک وہاں ٹکے ہوئے تھے کہ انھیں یقین تھا کہ یہاں کے ہندو انھیں کچھ نہیں کہیں گے ، لیکن یہ ان کی خام خیالی تھی ، جو جلد ہی دور ہو گئی ۔
اس دن ان کے گھر پر ان ہندوؤں نے دھاوا بولا تھا ، جن کے ساتھ ان کے بڑے اچھے تعلقات تھے اور یہ تعلقات ایک دو دن سے نہیں ، بلکہ کئی سالوں سے چلے آ رہے تھے ۔ ان ظالموں نے چند ہی لمحوں میں ان کا ہنستا بستا گھر اجاڑ کر رکھ دیا تھا ۔ اس کے سسر اور ساس کو ان ظالموں نے گولیوں سے چھلنی کر کے رکھ دیا تھا ۔ اس کا شوہر اور دیور کسی کام کی وجہ سے باہر گئے تھے ۔ سکینہ اور اس کی تین نندیں موجود تھیں ۔ سکینہ کی عمر اس وقت یہی کوئی اٹھارہ انیس برس تھی ۔ والدین نے کم عمری میں ہی اس کی شادی کر دی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک چاند سے بیٹے سے نواز رکھا تھا ۔
بلوائیوں نے گھر میں موجود ہر قیمتی چیز اپنے قبضے میں کر لی ۔ پھر چار نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر ان ظالموں میں شیطانیت جاگ اٹھی ۔ ان کی رال ٹپکنے لگی ۔ ان میں سے ایک بولا ۔
’’ مال زبردست ہے … ‘‘
یہ سن کر دوسرا بولا ۔
’’ کون سا مال ؟ ‘‘
’’ لگتا ہے ، تم اندھے ہو گئے ، اس لیے سامنے موجود مال دکھائی نہیں دے رہا ۔ ‘‘
یہ سن کر دونوں نے چونک کر سامنے دیکھا ۔
’’ اچھا ! اب سمجھ آئی ۔ ‘‘
’’ شکر ہے … سمجھ گئے ہو … کیوں ناں انھیں ساتھ لے جایا جائے ۔ ‘‘
’’ ہاں ، ہاں ! بالکل ! بھلا کبھی کسی نے مال ِ غنیمت بھی چھوڑا ہے ۔ ‘‘ دوسرا بولا ، تو باقی دو نے بھی اثبات میں سر ہلا دیے ۔
وہ چاروں شیطانی قہقہے لگاتے ہوئے اس کونے کی طرف بڑھے ، جہاں وہ لڑکیاں خوف کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھیں ۔ سکینہ نے اس وقت اپنے ڈیڑھ سالہ بیٹے کو اپنے سینے سے لگا رکھا تھا ۔ ان چار شیطانوں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ چلائیں ۔
’’ تمھیں خدا اور رسول ﷺ کا واسطہ ! ہمیں چھوڑ دو ۔ ‘‘
’’ ہمارا تو کوئی خدا ہے اور نہ رسول … وہ تو تم مسلوں کے ہیں ۔ ‘‘ ایک ظالم بولا ۔
’’ ہم نے تمھارا کیا بگاڑا ہے ، جو تم ہمارے پیچھے پڑ گئے ہو ؟ ‘‘
’’ تم نے ہماری بھارت ماتا کے ٹکڑے کیے ، اس کی سزا تو تمھیں ملے گی … اب زیادہ بک بک کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ‘‘
پھر ان چاروں نے لڑکیوں کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اور بندوق کی نوک پر بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہوئے اپنے ٹھکانے کی طرف روانہ ہوئے ۔ وہ چاروں رو رہی تھیں ۔ گڑ گڑا کر آہ و بکا کر رہی تھیں ، فریادیں کر رہی تھیں ۔
’’ او ظالمو ! ہمیں جانے دو ۔ ‘‘
’’ ہم نے تمھارا کیا بگاڑا ہے ؟ ‘‘
’’ کیا تمھاری مائیں بہنیں نہیں ہیں ؟ ‘‘
’’ ہمیں ستا کر تمھیں کیا ملے گا ؟ ‘‘
مگر ان ظالموں پر ان کے رونے ، گڑ گڑانے ، آہ و بکا اور فریادیں کرنے کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔ ان کی چیخیں ، ان کی آہ و بکا اور فریادیں سن کر وہ قہقہے لگاتے اور کہتے ۔
’’ ہا ہا ہا ہا … ہا ہا ہا ہا … ہم تمھیں کیوں جانے دیں ؟ تم لوگوں نے ہمارا ملک تقسیم کر دیا ہے … ہماری زمین ہم سے چھینی ہے اور پھر بھی کہتے ہو کہ ہم نے تمھارا کیا بگاڑا ہے ؟ تمھارے ساتھ تو ہم وہ سلوک کریں گے کہ دوسرے جنم میں بھی تمھاری آتما ( روح ) تڑپتی رہے گی ۔ ‘‘
سفر تھا کہ کٹ ہی نہیں رہا تھا ۔ چلتے چلتے راستے میں ایک نہر آ گئی ۔ نہر کو دیکھتے ہی سکینہ نے فوراً ہی ایک فیصلہ کر لیا ۔ عزت بچانے کا ایک ہی راستہ تھا ۔ ان ظالموں سے بچنے کے لیے سکینہ نے اپنے بیٹے سمیت آناً فاناً نہر میں چھلانگ لگا دی ۔ ایک چھپاکا ہوا ، تو ہندو چونک پڑے ۔
’’ ارے ! یہ کک … کک … کیا ہوا ؟ ‘‘ ایک ہندو بولا ۔
’’ اس عورت نے اپنے بچے سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی ہے ۔ ‘‘ دوسرے نے جواب دیا ۔
’’ لگتا ہے کہ اس کے پاس کوئی قیمتی چیز ، روپیا پیسا یا زیور تھا ، اس لیے تو وہ نہر میں کود گئی ہے ۔ ‘‘
’’ ہمیں بھی نہر میں کود کر اس سے وہ چیز حاصل کرنی چاہیے ۔ ‘‘ تیسرا بولا ، تو سبھی نے اس کی تائید کر دی ۔
پھر تین ہندو نہر میں چھلانگ لگانے کو تیار ہو گئے ، جب کہ چوتھا ان تین لڑکیوں کو قابو کر رہا تھا ۔ جب انھوں نے چھلانگیں لگائیں اور پہرہ دینے والے ہندو کا دھیان ادھر بٹا ، تو تینوں لڑکیوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارہ کیا اور بھاگ کھڑی ہوئیں ۔
بھاگتے قدموں کی آواز سن کر ان کی نگرانی کرنے والا ہندو چونک کر پلٹا ۔ ان تینوں کو بھاگتے دیکھ کر اس کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی ۔ وہ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکا ۔ بندوق سیدھی کر کے گولیاں داغنے لگا ۔ یکے بعد دیگرے تین چیخیں بلند ہوئیں اور وہ تینوں لڑکیاں لہراتی ہوئی زمین پر گر پڑیں اور پھر نہ اٹھ سکیں ۔ گرتے ساتھ ہی ان کی روحیں پرواز کر گئی تھیں ۔ اب ان کے چہروں پر تکلیف کے بجائے سکون ہی سکون تھا ۔ انھوں نے جو سوچا تھا ، وہی ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ہاتھوں ان کی عزت محفوظ رکھی تھی ۔
اتنے میں نہر میں کودنے والے تینوں ہندو سکینہ کو باہر نکال لائے ۔ انھوں نے دیکھا ، تو پتا چلا کہ وہ مر چکی ہے ۔ ظالموں نے اس کی اچھی طرح تلاشی لی ، لیکن کچھ بر آمد نہ ہو سکا ۔ مایوس ہو کر وہ چاروں ظالم آگے بڑھ گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر طرف سے ناکامی سے دو چار کر دیا تھا ۔
…٭٭٭…
جب سکینہ کا شوہر نعیم اور دیور عمیر واپس آئے ، تو اپنے محلے میں مسلمانوں کے گھروں کی حالت دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے گھر کی طرف بڑھے ، تو اس کی حالت بھی مختلف نہیں تھی ۔ ان پر تو قیامت ٹوٹ پڑی ، لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری ، کیوں کہ آزادی حاصل کرنے کے لیے تو جانے کتنی قربانیاں دینا پڑتی ہیں ۔ انھوں نے جلدی جلدی وہیں گڑھا کھود کر اپنے والدین کو دفن کر دیا ۔ پھر سکینہ اور اپنی تینوں بہنوں کی تلاش میں نکل گئے ۔ راستے میں ایک قافلہ مل گیا ۔ ایک بوڑھے کو جب ان کی کہانی معلوم ہوئی ، تو وہ کہنے لگا ۔
’’ بیٹا ! ان چاروں کو بھول جاؤ ، جو ہونا تھا ، وہ ہو چکا … ‘‘
’’ یہ … یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ ‘‘
’’ اب اگر تم ان کی تلاش میں نکلو گے ، تو اپنی جانیں بھی گنوا دو گے ، کیوں کہ نوزائیدہ ملک پاکستان کو اور جانے کتنی ماؤں بہنوں کو تمھاری ضرورت ہو گی ۔ ‘‘
یہ سن کر انھوں نے اپنے سینے پر پتھر کی سل رکھ لی ۔ حالات نے انھیں کیا سے کیا بنا دیا تھا ۔
رات ہو رہی تھی ۔ قافلے نے وہیں پڑاؤ ڈال دیا ۔ رات کو بلوائیوں کے حملے کے خوف سے نیند نہ آئی ، تو انھوں نے پھر چلنا شروع کر دیا ۔
چلتے چلتے راستے میں ایک نہر آ گئی ۔ اچانک ایک آدمی کی نظر ایک لاش پر پڑی ، تو وہ چلا اٹھا ۔
’’ وہ … وہ … وہ ایک لاش پڑی ہے ۔ ‘‘
’’ کدھر ؟ ‘‘ کوئی چلایا ۔
’’ وہ رہی ۔ ‘‘
اس نے ایک طرف اشارہ کیا ، تو کئی لوگ اس طرف لپکے ۔ یہ وہ لوگ تھے ، جن کے رشتے دار لا پتا ہو گئے ۔ انھوں نے سوچا کہ شاید یہ ان کا اپنا ہو ۔
نعیم اور عمیر بھی ایک موہوم سی امید کے سہارے اس طرف گئے ۔ نعیم جوں ہی قریب پہنچا ، وہ چلا اٹھا ۔
’’ یہ … یہ … یہ تو میری بیوی ہے ۔ ‘‘
وہ بھاگ کر اس کے قریب گیا ۔ نبض دیکھی ، تو وہ چل رہی تھی ۔ وہ رنج اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بولا ۔
’’ یہ … یہ … یہ تو زندہ ہے ۔ ‘‘
نعیم ایک ڈسپنسر تھا ۔ اس نے ابتدائی طبی امداد کے طریقہ کار کے مطابق اس کے پیٹ کو دبا کر اس کے جسم میں سے سارا پانی نکال دیا ، جو نہر میں کودنے سے اس کے جسم میں داخل ہو گیا تھا ۔ کچھ دیر کے بعد وہ ہوش میں آئی ، تو نعیم نے پوچھا ۔
’’ سکینہ ! میری بہنیں اور بیٹا کہاں ہے ؟ ‘‘
یہ سنتے ہی وہ پھر سے بے ہوش ہو گئی ۔ نعیم اور عمیر اسے اٹھا کر قافلے میں لائے اور ایک بیل گاڑی میں اسے لٹا دیا ۔ پھر وہ آس پاس اپنی بہنوں کو تلاش کرنے لگے ۔ جلد ہی انھیں ان تینوں کی لاشیں مل گئیں ۔ اپنے آشیانے کو یوں تباہ و برباد دیکھ کر ان کی چیخیں نکل گئیں ۔ قافلے میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا ، جس کی آنکھ نم نہ ہوئی ہو ۔
آخر کار ان تینوں کو وہیں گڑھا کھود کر دفنا دیا گیا ۔
اگلے روز سکینہ کی طبیعت کافی سنبھل چکی تھی ۔ نعیم نے اس سے اپنی بہنوں کے بارے میں کچھ نہ پوچھا ، کیوں کہ وہ ان کے بارے میں تو جان چکا تھا کہ وہ ظالموں کے ہاتھوں شہادت کا رتبہ پا چکی تھیں ۔ اس نے ہمت کر کے اس سے پوچھا ۔
’’ سکینہ ! ہمارا بیٹا کہاں ہے ؟ ‘‘
یہ سنتے ہی ایک بار پھر وہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔ تیسرے دن وہ تمام کہانی سنانے کے قابل ہوئی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟
’’ جب میں نہر میں کودی ، تو دو غوطوں تک تو بیٹا ساتھ تھا … پھر … پھر کیا ہوا ؟ … میں نہیں جانتی ۔ ‘‘
…٭٭٭…
اچانک وہ چونک پڑی اور اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا ۔ اسے کوئی پکار رہا تھا ۔
’’ دادی اماں … دادی اماں ! آ کر کھانا کھا لیں … کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔ ‘‘
اس نے دیکھا کہ اس کی پوتی اسے پکار رہی تھی ۔ وہ اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
آگے کی کہانی بس اتنی تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح گرتے پڑتے پاکستان پہنچ گئے ۔ جہاں نعیم کو ملازمت مل گئی ، جب کہ عمیر پڑھنے لگا ۔ سکینہ کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا ۔ وہ سبھی اپنے اپنے گھروں میں خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
اب جب بھی گست کا مہینہ آتا ہے ، سکینہ اداس ہو جاتی ہے ۔ اس کی اداسی کی وجہ پاکستان کے موجودہ حالات ہیں ۔ اس کے خیال میں …

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close