Naeyufaq Jul-16

چوری کی داڑھی

ریاض بٹ

ابھی چند دن پہلے اخبار میں ایک خبر پڑھ کر میرا ذہن اس دور میں چلا گیا جب میں تھانیدار ہوا کرتا تھا اور میری آنکھوں کے سامنے ایک فلم سی چلنی شروع ہوگئی۔ جرائم اب بھی اسی طرح ہورہے ہیں جیسے پہلے ہوتے تھے کیونکہ انسانی فطرت وہی ہے زن‘ زر اور زمین کی تکون سے سارے جرم پھوٹتے ہیں اور ان کی شاخیں ہیں‘ محبت‘ نفرت‘ عداوت‘ ہوس اور دشمنی۔
بہرحال اس دن صبح سے بارش ہورہی تھی اور یہ بارش ایک ہفتہ سخت حبس گرمی اور چہرے کو جھلسا دینے والی لو کے بعد ہورہی تھی۔ خیر موسم جیسا بھی ہوتھانے کے معاملات تو چلتے ہی رہتے ہیں۔
اس وقت مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے بارش کا زور ٹوٹ گیا ہے۔اچانک سپاہی نواز نے دفتر کے دروازے پر پڑی چک کوزرا سا اٹھا کر مجھ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔
’’آجائو۔‘‘ میں نے کہا۔اس نے جو اطلاع دی وہ سنسنی خیز تھی۔
’’سر! رات محلہ شفقت پورہ میں ڈکیتی کی ایک واردات ہوگئی اور دو بندے اطلاع لے کر آئے ہیں۔‘‘ اس وقت بارش رک چکی تھی میں نے وقت ضائع کیے بغیر انہیں کمرے میں بلالیا۔
ان میں ایک جوان آدمی تھا‘ عمر پچیس کے اریب قریب ہوگی۔ اس نے موسم کے لحاظ سے ململ کا کُرتا اور سفید لٹھے کی شلوار پہنی ہوئی تھی جو کافی حد تک بھیگ گئے تھے۔ دوسرا شخص ادھیڑ عمر تھا انہوں نے جو بات بتائی وہ میںاپنے الفاظ میں آپ کے گوش گزار کردیتا ہوں‘ جوان کا نام ملک ابرار تھا۔
رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی کہ ملک ابرار کے گھر دو ڈاکو جنہوں نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اپنے چہرے کالی ہی چادروںمیں چھپائے ہوئے تھے۔ دیوار پھاند کر اندر داخل ہوگئے‘ برآمدے کا دروازہ انہوں نے شیشہ توڑ کر کھولا۔ ملک ابرار اس کی بیوی طلعت اور بیٹی نورین برآمدے میں ہی سوئے ہوئے تھے۔
اس ساری کارروائی کے دوران بھی ان کی نیند اچاٹ نہیں ہوئی وہ تو اس وقت ہڑبڑا کر اٹھے۔ جب ایک ڈاکو نے ریوالور کی نال ملک ابرار کے سر کے ساتھ لگاکر کہا۔
’’اٹھو! پہلے ہمارا کام کردو پھر چاہے ساری عمر سوئے رہنا۔‘‘ ملک ابرار ظاہر ہے ہڑبڑا کر اٹھ گیا ہوگا۔
اس نے دیکھا کہ دوسرا ڈاکو اپنا ریوالور اس کی پانچ سالہ بیٹی کے گلے پر رکھے ہوئے ہے‘ وہ ابھی بے خبر سورہی تھی البتہ اس کی بیوی جاگ گئی تھی اور سہمی ہوئی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
جو ڈاکو اس کی بیٹی کے گلے پر ریوالور رکھے ہوئے تھا اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا‘ ڈاکو نے ملک ابرار سے کہا۔
’’زیادہ چالاک بننے کی کوشش نہ کرنا جو کچھ گھر میں ہے … میری مراد سونا‘ چاندی اور روپے پیسے سے ہے‘ ادھر لاکر ہمارے حوالے کردو ورنہ…‘‘ ڈاکو نے چند لمحے توقف کیا پھر خونخوار لہجے میں ریوالور کو جنبش دیتے ہوئے بولا۔
’’تم دونوں کی لاشیں یہاں پڑی ہوں گی اور تمہاری بیٹی کو ہم اٹھا کر لے جائیں اور ساتھ ہی مال و زر بھی۔‘‘
گویا یہ ایک نفسیاتی حربہ تھا‘ جس نے ملک ابرار کو توڑ کر رکھ دیا ورنہ اس کے سرہانے کے نیچے بھرا پستول موجود تھا لیکن بعض لمحے ایسے بے رحم اور سفاک ہوتے نہیں کہ انسان کا ذہن مائوف ہوجاتا ہے۔ وہ صرف اپنی اور اپنے بال بچوں کی زندگی بچانے کے چکر میں پڑجاتا ہے۔
بہرحال اس نے اندر رکھے پانچ لاکھ روپے اور تقریباً بارہ تولے سونا ڈاکوئوں کے حوالے کردیا۔ انہوں نے اس کے بعد ان پر کوئی اسپرے کیا اور نہایت اطمینان سے نکل گئے۔
قارئین یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ان میں سے کافی معلومات مجھے بعد میں حامل ہوئی تھیں جب میں اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر ملک ابرار کے گھر گئے تھے۔
یہ سب کچھ جب وہ بتا چکے تو میں نے جو سوال و جواب ان سے کیے ان کے متعلق بھی سن لیں
’’ملک صاحب! سب سے پہلے آپ یہ بتائیں کہ اتنے زیادہ پیسے آپ نے گھر میں کیوں رکھے ہوئے تھے؟‘‘
’’دراصل تھانیدار صاحب! میں نے گائوں میں موجود ساری زمینیں بیچ دی ہیں‘ میں یہاں اس پیسے سے کچھ بسیں خرید کر چلانا چاہتا تھا لیکن اب تو…‘‘ اس نے شکستہ لہجے میں کہا۔
’’آپ کو گائوں پسند نہیں ہے۔‘‘
’’یہ جو میری بیگم ہے‘ اس کا گائوں پسند نہیں تھا‘ اس لیے میں نے یہ مکان یہاں شہر میں آکر بنایا‘ تھانیدار صاحب! یہ شہر کے لوگ بہت خطرناک ہیں۔‘‘
’’ملک صاحب! اس کے لیے آپ شہر کو دوش نہیں دے سکتے۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔‘‘ میں نے چند لمحے اس اندر سے ٹوٹے پھوٹے شخص کو بغور دیکھا اور تفتیش کی اگلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ رقم اسی طرح آپ کو ملی تھی یا…‘‘
’’تھانیدار صاحب! میں نے گائوں کے جس چوہدری (ہاشم) کے ہاتھ زمین بیچی ہے اس سے کیش کا مطالبہ کیا تھا۔ شام کے وقت اس کا بندہ یہ پیسے دے کر گیا ہے‘ صبح بینک کھلتے تو…‘‘ وہ خاموش ہوگیا۔
ہمارے ساتھ اس کی بیگم طلعت اپنی پانچ سالہ بیٹی کو لیے بیٹھی تھی۔ طلعت پچیس چھبیس سالہ ایک گڑیا سی عورت تھی‘ رنگ گورا اور نقش و نگار تیکھے تھے۔ میں نے روئے سخن اس کی طرف موڑتے ہوئے کہا۔
’’بی بی! یہ جو رقم ڈاکو لے گئے ہیں‘ اس کے متعلق کس کس کو پتا تھا؟‘‘ یہ سوال میں ملک ابرار سے بھی کرسکتا تھا لیکن اس کی بیگم سے کرنے کا ایک خاص مقصد تھا۔
’’تھانیدار صاحب! صرف گائوں والوں کو پتا تھا کہ ہم نے زمینیں بیچ دی ہیں۔‘‘ اس نے سر پرچادر ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔ اچانک وہ اٹھی اور یہ کہہ کر اندر دوسرے کمرے میں جانے لگی کہ ’’میں بچی کو چارپائی پر ڈال کر آرہی ہوں۔‘‘ میں نے دیکھا کہ بچی اس کی گود میں سوچکی ہے بہرحال اس کی واپسی جلد ہی ہوگئی اس نے سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے کہا۔
’’بیگم اظہر میری پکی سہیلی ہے‘ ساتھ والے گھر میں رہتی ہیں۔ میں نے ان سے ذکر کیاتھا کہ میرے میاں زمینیں بیچ کر یہاں شہر میں ٹرانسپورٹر بننا چاہتے ہیں۔‘‘
’’بی بی! یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اس سے میرا مسئلہ حل نہیں ہورہا۔ تفتیش کے گھوڑے کو جس قسم کی گھاس یعنی سراغ کی ضرورت ہے وہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔‘‘ میں نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا مطلب‘ تھانیدارصاحب!‘‘
’’میرا مطلب ہے رقم گھر آنے کے بعد آپ نے کسی سے ذکر کیا تھا؟‘‘
’’بس باتوں باتوں میں رات کو میں نے بیگم اظہر سے ذکر کردیا تھا۔‘‘ وہ بھولپن سے بولی یہ بات وہ پہلے بھی کہہ چکی تھی۔
’’اوہ‘ یہ تم نے کیا کیا؟ ایک تو تم عورتوں کے دل میں کوئی بات ٹکتی ہی نہیں ہے۔‘‘ میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی ملک ابرار نے آڑے ہاتھوں اپنی بیوی کو لیتے ہوئے کہا وہ خاموش ہوگئی‘ کیا جواب دیتی؟
بہرحال میں نے جس مقصد کے لیے اس سے پوچھا تھا وہ پورا ہوگیا تھا۔ پھر میں نے دیوار کا معائنہ کیا تھا وہاں ایک جگہ رگڑ کے نشان تھے میں نے اور کانسٹیبل وزیر نے دیوار کے باہر اور اندر پھر کر کسی سراغ کی تلاش کی تھی لیکن ہمیں مایوسی ہوئی تھی بہرحال پھر ہم تھانے میں واپس آگئے تھے۔
راستے میں کانسٹیبل وزیر نے اپنی دانست میں ایک اہم سوال کیا تھا۔ قارئین یہ بات تو آپ کے ذہن میں بھی کھٹک رہی ہوگی۔
’’سر! ایک سوال تو آپ نے کیا نہیں۔‘‘
’’کون سا بھئی۔‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’پانچ لاکھ میں‘ ملک ابرار بسوں کی بات کررہا تھا۔‘‘ سوال سن کر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
’’بہت خوب‘ اچھا سوال ہے لیکن بھئی میں نے جان بوجھ کر یہ سوال نہیں کیا۔ ایک تو اب اس سوال کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی کیونکہ رقم تو ڈاکو لے جاچکے ہیں۔ دوسرے تمہیں پتا ہے کہ قسطوں کا کام بھی چلتا ہے۔‘‘ ویسے قارئین اس دور کے پانچ لاکھ بھی ایک بڑی رقم تھی۔
تھانے میں اے ایس آئی شاہد تھانے کا انتظام چلا رہا تھا چند لمحوں کے بعد میں اور شاہد اس کیس پر بات چیت کررہے تھے۔
’’سر! ا س طرف تفتیش کے گھوڑے دوڑانے ہیں۔‘‘
’’اب اس گھوڑے پر تم سواری کرو گے۔‘‘ میں نے مسکرا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں سمجھ گیا سر!‘‘ اس دوران آفس بوائے چائے رکھ کر چلا گیا۔
’’سر! میرے خیال میں ہمیں اظہر صاحب کی بیگم سے آغاز کرنا چاہیے۔‘‘ اے ایس آئی شاہد نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’بات تو معقول ہے لیکن یہ کام کانسٹیبل کی بیوی کے ذریعے ہونا چاہیے۔‘‘ میں نے بھی اپنا کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا۔
دو دن بعد میں سفید کپڑوں میں سپاہی انور کے ساتھ اظہر کے گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ اظہر ایک موٹر مکینک تھا دھان پان سا بندہ تھا بس اسٹینڈ کے پاس اس کی دکان تھی۔ اس کی بیوی ریشم ایک فربہ اندام عورت تھی‘ میرے خیال میں اگروہ اظہر پر بیٹھ جاتی تو اس کی پسلیوں کا اللہ ہی حافظ تھا۔ بہرحال جو بھی معاملہ تھا‘ ہمیں اس سے کیا غرض ہوسکتی تھی۔ ہم جس کام سے یہاں آئے تھے وہ کرنا تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کی وضاحت کردوں کہ کانسٹیبل وزیر کی بیوی نے جو معلومات حاصل کی تھیں‘ انہوں نے ہی ہمیں یہاں آنے پر مجبور کیا تھا اس نے کہا تھا کہ ریشم (جس کا نام پہاڑی ہونا چاہیے تھا) ایک کائیاں عورت ہے‘ لگتا ہے وہ کچھ چھپارہی ہے۔ میں نے زیادہ زور نہیں دیا کہ وہ کہیں وہ کھٹک نہ جائے۔
کانسٹیبل وزیر کی طرح اس کی بیوی بھی ذہین تھی اور اڑتی چڑیا کے پر ہی نہیں گنتی تھی بلکہ یہ بھی اندازہ لگالیتی تھی کہ اس نے آج کون سا دانہ چگا ہے۔
اس وقت شام ہوچکی تھی موٹر مکینک ابھی دکان پر ہی تھا ویسے یہاں آنے سے پہلے میں دکان پر جاکر اس کے درشن کرآیا تھا۔ وہ رات گیارہ سے پہلے گھر واپس نہیں آتا تھا ویسے ہمیں اس کی فی الحال ضرورت بھی نہیں تھی۔
ریشم نے ہمیں تعارف کے بعد ایک سادہ سی بیٹھک میں بٹھایا اور ہمارے منع کرنے کے باوجود شربت بناکر لے آئی۔ صندل کا شربت تھا اوپر برف کا ٹکڑا تیر رہا تھا۔ بہرحال ہم نے ایک ایک گلاس پیا اور گلاس ٹرے میں رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’بی بی! تمہیں کچھ احساس تو ہوگیا ہوگا کہ ہم کیوں آئے ہیں؟‘‘
’’بالکل تھانیدار صاحب! جب پڑوس میں ڈاکہ پڑجائے تو پڑوسیوںکو زحمت تو دینی ہی پڑتی ہے۔‘‘
’’بہت خوب‘ا چھا فقرہ ہے۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا اور دل میں سوچا کہ کانسٹیبل کی بیوی کا اندازہ بالکل صحیح ہے۔
’’بی بی…‘‘ میں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔ ’’دراصل ہم کسی سراغ کی تلاش میں آئے ہیں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب!میں ایک گھریلو عورت جسے خاوند اپنی مرضی اور اجازت کے بغیر کی دہلیز بھی پار نہیں کرنے دیتا۔ آپ کی اس سلسلے میں کیا مدد کرسکتی ہوں۔‘‘ اس نے اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پھنساتے ہوئے کہا۔
یہ شاید اس کی عادت تھی‘ میں نے اسے گھسنے کا فیصلہ کرلیا اور سپاہی انور کو ایک مخصوص اشارہ کیا۔ وہ میرا اشارہ سمجھ گیا‘ اٹھتے ہوئے بولا۔
’’سر! میرے سر میں ذرا درد شروع ہوگیا ہے تھوڑی دیر کے لیے صحن کی ہوا میں جاتا ہوں۔‘‘ میں نے موقع کی مناسبت سے سے فراخ دلی سے جانے کی اجازت دے دی۔میں نے دیکھا کہ خاتون کے چہرے پر اطمینان جھلکنے لگا ہے۔
’’ہاں بی بی! اب کھل کر بات کرو‘ تمہارے پڑوس میں جو کچھ ہوا اس پر روشی ڈالو۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! ویسے تو ڈاکو… ڈاکو ہی ہوتے ہیں ان کا کام تو لوٹنا ہی ہوتا ہے لیکن میں بات کی تہہ تک پہنچ گئی ہوں۔ آپ کے ذہن میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ آخر ڈاکوئوں کو یہ بات کیسی پتا چلی کہ آج رات گھر میں اتنی بڑی رقم موجود ہوگی۔‘‘
’’بالکل‘ تم بہت ذہین ہو۔‘‘ میں نے اسے مکھن لگاتے ہوئے کہا ۔ ’’کیا تمہیں اس بات کا پتا ہے؟‘‘
’’اوہ تھانیدار صاحب! کیا بتائوں‘ طلعت بڑی باتونی ہے ‘ اس کے پیٹ میں کوئی بات ٹھہرنا ناممکن ہے۔آپ اسے پیٹ کی ہلکی کہہ سکتے ہیں اس نے شام آکر یہ بات مجھے بتائی تھی۔‘‘
’’تمہارے خیال میں اس نے یہ بات کسی اور کو بھی بتائی ہوگی یا نہیں؟‘‘
’’اس کے متعلق میں کیا کہہ سکتی ہوں؟‘‘ وہ خاموش ہوگئی چند لمحوں کے لیے‘ میں بغوراس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا آخر وہ آواز دبا کر بولی۔
’’تھانیدار صاحب! اگر میں ایک بات آپ سے پوچھوں تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گے۔‘‘میرے کان کھڑے ہوگئے میری تمام تھانے داری حسیں بیدار ہوگئیں۔
’’تم بولو میں ناراض نہیں ہوں گا اور تم جو کچھ مجھے بتائو گی میں اپنے تک رکھوں گا۔‘‘ میں نے دیکھا اس کے چہرے پر اطمینان ہی اطمینان تھا۔
’’کیا طلعت نے ہمارے اوپر کسی قسم کا شک ظاہر کیا ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔ ’’لیکن تمہارے ذہن میں یہ سوال کیوں آیا؟‘‘
’’ویسے ہی۔‘‘
’’خیر۔‘‘ میں نے اس موضوع کو مصلحت کی چادر میں لپیٹتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔
’’ایک منٹ تم اس بات کو ذہن سے رکھ کر کہ یہ پیشہ ور ڈاکوئوں کا کارنامہ نہیں ہے پھر تمہارا ذہن کس طرف جائے گا۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! یہاں آکر میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں زنگ آلود ہوجاتی ہیں ویسے یہ بات عجیب ہی ہوگی۔‘‘ اس نے گویا صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
’’خیر‘ ہمارے لیے کوئی بات عجیب نہیں ہوتی۔ تمہارے ذہن میں اگر کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی ہے تو بتادو۔ ہوسکتا ہے یہی بات ہمارے لیے جگنو کا کام کرجائے۔‘‘ پھر اس نے ایک بات کی طرف اشارہ کیا تھا وہ بات میں نے ذہن میں بٹھالی۔
دراصل قارئین ان دنوں کوئی ڈاکوئوں کا گروہ میرے علم میں نہیں تھا اور نہ ہی کافی عرصے سے کوئی ایسی واردات ہوئی تھی۔ میں نے خاتون کا شکریہ ادا کیا اور سپاہی انور کو (جو صحن میں چہل قدمی کررہا تھا) ساتھ لے کر تھانے میں واپس آگیا۔
اس رات میں اپنے کوارٹر میں سونے سے پہلے اس واردات کے متعلق غور کرتا رہا اور ذہن کے گھوڑے دوڑاتے دوڑاتے نہ جانے کب نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
جس طرح اللہ کے فضل سے ہر رات کی سحر ہوتی ہے اسی طرح اس رات کی بھی سحر ہوئی اور میںتیار ہوکر تھانے پہنچ گیا۔
میں نے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر ایک پروگرام ترتیب دے لیا لیکن میرے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ طلعت موٹر مکینک اظہر کے ساتھ میرے پاس آئی اس وقت دن کے دس بجے تھے۔ گرمی جوبن پر تھی ان کے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے‘ طلعت چہرے سے پریشان لگتی تھی۔
میں نے انہیں عزت سے بٹھایا اور آنے کا سبب پوچھا مجھے محسوس ہوگیا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ طلعت کا اپنے شوہر ملک ابرار کی بجائے موٹر مکینک اظہر کے ساتھ تھانے میں آنا اس بات کا ثبوت تھا۔
’’تھانیدار صاحب! ملک صاحب گھر واپس نہیں آئے۔‘‘ طلعت نے لب کشائی کرتے ہوئے کہا۔
’’گھر واپس نہیں آئے…‘‘ میں نے حیران نگاہوں سے طلعت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کہاں سے واپس نہیں آئے؟‘‘
’’دراصل…‘‘ طلعت نے چند لمحے توقف کیا پھر بولی۔ ’’وہ کل صبح گائوں گئے تھے لیکن ابھی تک واپس نہیں آئے۔‘‘
’’وہ کیا بتاکر آپ کو گائوں گئے تھے؟‘‘ میں نے ایک اہم سوال کرتے ہوئے کہا۔
’’کہہ رہے تھے ذرا دل گھبرا رہا ہے اور گائوں جانے کو کررہا ہے‘ شام تک واپس آجائوں گا۔‘‘
’’تو خاتون… اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے‘ ہوسکتا ہے وہ وہاں رک گیا ہو۔‘‘
’’رکنا کس کے پاس تھا‘ گائوں میں اب ہمارا کوئی رہا ہی نہیں ۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے حیران نگاہوں سے خاتون کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میرے والدین اور ان کے والدین فوت ہوگئے ہیں‘ اب ہمارا وہاں کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
’’پھر آخر وہ کس کے پاس گیا تھا۔‘‘ میں نے کرید کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’کہہ رہے تھے‘ بس ویسے ہی گائوں کا چکر لگا کر آجائوں گا۔‘‘ اس دوران موٹر مکینک بالکل خاموش رہا تھا میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’اظہر صاحب! آپ بالکل خاموش ہیں‘ کیا وجہ ہے؟‘‘
’’تھانیدار صاحب! میں کیا بولوں؟ خاتون پریشان تھیں‘ میں ان کے ساتھ چلا آیا حالانکہ میں نے ان سے کہا تھا کہ شام تک انتظار کرلیں۔‘‘ اظہر نے لب کشائی کرتے ہوئے کہا۔
’’خاتون! آپ نے اپنے پڑوسی کی بات کو قابل غور کیوں نہیں سمجھا؟‘‘
’’تھانیدار صاحب! مجھے بڑا ڈر لگ رہا تھا‘ مجھے محسوس ہورہا ہے جیسے ان کے ساتھ کوئی گڑ بڑ ہوچکی ہے۔‘‘
’’گڑبڑ…‘‘ میں اچھل پڑا۔ ’’کیسی گڑ بڑ؟‘‘
’’میں وضاحت نہیں کرسکتی‘ کوئی دلیل نہیں دے سکتی بس…‘‘ وہ خاموش ہوگئی لیکن اس کا اضطراب مجھے بہت کچھ سمجھا گیا۔
بہرحال میں نے اسے یہ کہہ کر رخصت کردیا کہ وہ آج شام تک اپنے شوہر کا انتظار کرلے۔ رات بھی کسی طرح گزارلے‘ اگر اس کا شوہر نہ آیا تو کل صبح آکر گمشدگی کی رپورٹ درج کروادے۔
وہ خاموشی سے چلی گئی۔ اگلی صبح وہ اکیلی میرے سامنے موجود تھی۔
’’تھانیدار صاحب! میں نے آج گائوں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔
’’اب تم محرر کے پاس جاکر اپنے شوہر کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروادو اور مطمئن ہوکر اپنی بچی کے پاس رہو کہاں اسے لے کر خوار ہوتی پھروگی اب تمہارے شوہر کو ڈھونڈنا میری ڈیوٹی ہے۔‘‘ وہ منت بھری نظروں سے مجھے دیکھتی ہوئی چلی گئی۔
مجھے کسی گڑ بڑ کا احساس ہوگیا تھا۔ یہ گڑ بڑ کسی سنگین نوعیت کی بھی ہوسکتی تھی‘ میں نے طلعت سے گائوں کا پتا پوچھ لیا تھا۔ وہ ایک بڑا گائوں تھا‘ دریائے جہلم کے پاس واقع تھا۔ ان دنوں میرے پاس اس کیس کے علاوہ کوئی خاص کیس نہیں تھا اس لیے میں نے خود جانے کا فیصلہ کیا۔
دراصل اس طرح مجھے ذرا اپنے جسمانی اعضاکھولنے کا موقع مل رہا تھا۔ میں نے چند گھنٹوں کی تیاری کے بعد اے ایس آئی ابرار کے ذمہ تھانے کا انتظام و انصرام کیا اور سپاہی نواز اور انور کو ساتھ لے کر گائوں کی طرف روانہ ہوگیا۔
اے ایس آئی شاہد نے یہاں اس ڈاکے کے متعلق تفتیش کرنی تھی۔ ہم ذرا خفیہ طریقے سے تفتیش کرنا چاہتے تھے اس لیے ہم نے سارے انتظامات اسی سلسلے میں کیے۔ ہم ریل کے ذریعے وہاں پہنچے اس سے پہلے اس گائوں کے متعلقہ تھانے میں ہم نے فون کردیا تھا۔
وہاں کے تھانیدار نے ہمارے حسب منشا ایک پرائیوٹ کار بھیج دی تھی۔ان دنوں وہاں انسپکٹر سرفراز تعینات تھا۔ اس نے ہمارا خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور ہماری خوب آئو بھگت کی پھر وہ مجھے اپنے دفتر میں لے گیا۔
’’خالد بھائی! اب آپ کا کیا پروگرام ہے؟‘‘ وہ اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے بولا۔ میں نے اسے سارے حالات سے آگاہ کردیا۔
وہ چند لمحے کچھ سوچنے لگا پھر میز پر پڑی ہوئی سگریٹ کی ڈبی اٹھائی۔ اس میں سے ایک سگریٹ منتخب کیا اور اسے لائٹر کا شعلہ دکھاتے ہوئے بولا۔
’’یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملک ابرار گائوں کا بتاکر کہیں اور چلا گیا ہو۔‘‘
’’اس کا امکان تو ہے۔‘‘ میں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔یہاں رک کر میں نے چند لمحے توقف کیا پھر بولا۔
’’فی الحال ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہم کسی اور طرف تفتیش کے گھوڑے دوڑا سکیں اس پر کام کرتے ہیں‘ آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہے بھئی۔‘‘ اس نے گھنٹی بجاتے ہوئے کہا چند لمحوں بعد آفس بوائے حاضر ہوگیا۔
’’جی سر!‘‘
’’دیکھو‘ اے ایس آئی زمان کو بھیج دو۔‘‘ چند لمحوں بعد ایک دراز قد درمیانے جسم کا بندہ ہمارے سامنے تھا۔ اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنے صاحب کی طرف متوجہ ہوگیا جو کہہ رہا تھا۔
’’یہ انسپکٹر خالد ہیں‘ فلاں تھانے سے آئے ہیں…‘‘ پھر اس نے تفصیل سے سارے حالات بتائے تھے اور یہ بھی اس کے گوش گزار کیا تھا کہ اب میں کیا چاہتا ہوں۔
’’آپ… سر بالکل فکر نہ کریں‘ اگر ملک ابرار گائوں میں آیا ہوگا تو اس کے متعلق سب کچھ معلوم کرلیں گے۔‘‘ اس کے بعد میں نے اے ایس آئی زمان کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا۔
’’حالات ایسے ہیں زمان کہ ہم اپنے آپ کو ظاہر کیے بغیر تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
بہرحال یہاں میں بات کو ذرا مختصر کرتا ہوں اگلے ایک گھنٹے بعد میں اور اے ایس آئی زمان سفید کپڑوں میں گائوں کی طرف روانہ ہوگئے۔
جیسا کہ ذکر آچکا ہے یہ ایک بڑا گائوں تھا۔ سات آٹھ سو گھروں پر مشتمل ہوگا یہاں پر ڈاک خانہ اور سول اسپتال بھی تھا ۔ گائوں کی طرف جانے والے راستے تک ہمیں ایک پرائیوٹ کار پہنچا گئی تھی۔ آگے کا سفر ہم نے کسی ٹانگے میں طے کرنا تھا‘ اس کی ایک خاص وجہ تھی جو جلد ہی آپ پر آشکار ہوجائے گی ایک کچی پکی سڑک گائوں کی طرف جاتی تھی۔
تانگے بان کا نام علی شیر معلوم ہوا‘ اسے شیرا شیرا کہتے تھے ہم نے سالم تانگہ کروایا تھا۔ میں آگے کوچوان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔کوچوان کی عمر بیالیس سال ہوگی جبکہ اے ایس آئی زمان پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے ہلکے پھلکے انداز میں علی شیر سے بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
’’علی شیر! تمہیں کتنا عرصہ ہوگیا ہے۔‘‘ تانگہ چلاتے ہوئے کہا۔
’’جناب تقریباً بیس سال سے میں یہ ٹانگہ چلا رہا ہوں۔‘‘
’’اوہ کافی عمر گزر گئی ہے‘ اس دشت کی سیاحی میں۔‘‘میں نے اسے اپنے ساتھ بے تکلف کرنے کے لیے کہا۔
’’بس جی اللہ کا کرم ہے جو یہ دال روٹی چل رہی ہے۔‘‘ گھوڑ اپنی مخصوص رفتار سے چلا جارہا تھا‘ ادھر اُدھر لہلاتے کھیت دعوتِ نظارہ دے رہے تھے۔ جابجا درخت بھی موسم کی حدت کو کم کررہے تھے۔
آج کل افسوس کے ساتھ مجھے کہنا پڑرہا ہے کہ ہم نے اپنی اس دولت کو اپنے ہاتھوں سے ختم کرلیا ہے۔ اب گائوں دیہات میں بھی کم ہی درخت نظر آرہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف خوب صورتی میں کمی آئی ہے بلکہ موسم بھی اپنی پوری شدت سے ہمارے اوپر حملہ آور ہوگئے ہیں۔
’’شیر علی! تم خوش قسمت ہو جو یہ وسیلہ تمہیں میسر ہے بہرحال تم گائوں سے تو واقف ہوگے یعنی مکینوں کے متعلق جانتے ہوگے۔‘‘ میں نے اسے گائوں کا نام بتاتے ہوئے کہا۔ یہاں میں مصلحت کے تحت گائوں کا نام ظاہر نہیں کرسکتا۔
’’جناب! آپ یہاں نووارد ہیں‘ میں تو اسی گائوں میں پلا بڑھا ہوں۔‘‘
یہ جان کر قارئین مجھے بہت خوشی ہوئی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری لاٹری نکل آئی ہو۔
’’دراصل ہم ملک ابرار کے پاس آئے ہیں۔‘‘ میں نے کوچوان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ملک ابرار…‘‘ اس نے زیر لب دہرایا۔ چند لمحے سڑک پر نظریں جمائے رہا پھر گھوڑے کو ہلکا سا چابک رسید کرتے ہوئے بولا۔
’’آپ کتنے عرصے بعد گائوں جارہے ہیں؟‘‘
میرے کان کھڑے ہوگئے میں نے اے ایس آئی زمان کو دیکھتے ہوئے ایک اشارہ کیا وہ اب تک بڑی خاموشی سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا سگریٹ کے کش لے رہا تھا۔ اس نے پہلی بار لب کشائی رکتے ہوئے کہا۔
’’علی شیر! ہم تقریباً سات سال بعد گائوں جارہے ہیں۔‘‘
’’اوہ…‘‘ کوچوان نے گویا اطمینان کی سانس لیتے ہوئے کہا۔ ’’اسی لیے جناب آپ ملک ابرار کے حالات کے متعلق لاعلم ہیں کیا آپ ان کے رشتے دار ہیں یا قریبی دوست وغیرہ ہیں؟‘‘کوچوان نے ذہانت سے بھرپور سوال کیا تھا اور اب ہمیں بھی اس کا جواب بڑے محتاط انداز میں دینا تھا۔
’’بھئی ہم صرف دوست ہیں… ہم دونوں۔‘‘ میں نے اے ایس آئی زمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اصل میں ہم دونوں روزی روٹی کی تلاش میں باہر ملک چلے گئے تھے‘اب آئے ہیں ایک ماہ کی چھٹی پر‘ سوچا اپنے دوست ملک ابرار سے مل لیں۔
’’جناب! ملک ابرار تو چھ سال پہلے یہاں سے شہر میں چلے گئے تھے۔‘‘
’’اوہ! اس نے ہمیں تو کبھی خط میں نہیں لکھا۔‘‘ میں نے مصلحت آمیز جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔
’’جناب! یہ ایک لمبی داستان ہے‘ تانگے میں بیٹھ کر تو بیان نہیں کی جاسکتی۔‘‘ کوچوان نے گھوڑے کو تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ میں نے چند لمحے غور کیا‘ بات کرنے کے لیے لفظوں کو ذہن میں ترتیب دیا پھر بولا۔
’’بھائی یہاں ہم ملک ابرار کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے‘ ہمیں واپس تو جانا ہے۔ شہر میں اس کا کوئی اتا پتا؟‘‘
’’ جناب کسی کو واقف بنانے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا ہے۔‘‘میں نے اور اے ایس آئی نے بیک وقت حیران نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ کیا مطلب؟‘‘
’’میں ایک سیدھا سادہ بندہ ہوں‘ مجھے لفظوںکا ہیر پھیر نہیں آتا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے جناب! کہ آج رات ہمارے مہمان رہیں میں آپ کو ساری داستان سنادوں گا‘ صبح آپ چلے جائیں پتا میں آپ کو ابھی بتادیتا ہوں۔‘‘
’’بھئی ہم تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتے۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوئے کہا۔
ہمیں اگر دو دن بھی لگ جاتے تو ہمیں ملک ابرار کی داستان تو سننی ہی تھی‘ دوسرے اس کا سراغ بھی لگانا تھا۔ اگروہ یہاں آیا تھا تو اس وقت کہاں تھا؟ اور کس حال میں تھا؟
بہرحال قصہ مختصر ہم نے وہ رات کوچوان علی شیر کے گھر گزاری۔ اس نے جو داستان سنائی‘ وہ حیران کن تھی۔ اس داستان کا کچھ حصہ آپ پڑھ چکے ہیں‘ باقی حصہ بھی بتانا مناسب نہیں خیر آگے بڑھتے ہیں۔
ایک بات جو علی شیر نے ہمیں بتائی وہ میں آپ کو بتادیتا ہوں۔ دراصل کوچوان سے ہم نے باتوں باتوں میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ہوسکتا ہے ملک ابرار یہاں آیا ہو۔ یہ بات بھی اس کی زبانی پتا چل چکی تھی کہ چار تانگے گائوں کی طرف آتے ہیں اور جاتے ہیں ان میں سے ایک تانگے والے نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ملک ابرار یہاں آیا تھا لیکن واپس نہیں گیا۔
ہمارے لیے اتنا سراغ کافی تھا لیکن وہ گیاکہاں تھا یعنی کس کے گھر گیا تھا اس کا سراغ لگانا تھا۔ ہم نے علی شیر عرف شیرو کوچوان کو کچھ پیسے دینے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے لینے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا۔
’’جناب! یہ آپ میرے منہ پر جوتی ماررہے ہیں۔‘‘ ہم لاجواب ہوگئے بہرحال اس شخص نے ہمیں متاثر کیا تھا۔
ہم تھانے میں واپس آگئے یہاں سپاہی نواز اور سپاہی انور بوریت کا شکار نظر آئے جب انہوں نے میرے سامنے اس بات کا اظہار کیا تو میں نے ان سے کہا۔
’’بھئی حوصلہ رکھو‘ اب تمہارا کام شروع ہوتا ہے۔‘‘ پھر میں نے انہیں بتایا کہ ملک ابرار گائوں گیا تھا انہوں نے یہ سراغ لگانا ہے کہ وہ کس کے گھر گیا تھا اوراب کہاں ہے؟ زمان نے ان کے ساتھ اپنے تھانے کا ایک کانسٹیبل بھیج دیا میں واپس اپنے تھانے میں آگیا۔
وہاں کے حالات جوں کے توں تھے کوئی نئی اطلاع نہیں تھی۔ میں نے چند ضروری کاغذات نمٹائے اور آرام کرنے اپنے کوارٹر میں چلا گیا۔
شام کو میں ایک بار پھر تھانے میں تھا کیونکہ مجھے اطلاع مل چکی تھی کہ طلعت تھانے میں آئی بیٹھی ہے۔ میں نے اس کے چہرے کا جائزہ لیا خاصی پریشان لگتی تھی۔
’’تھانیدار صاحب! ملک صاحب کا کچھ پتا چلا؟‘‘
’’بی بی! تم نے بہت سی باتیں مجھ سے چھپالی تھیں۔‘‘
’’کون سی باتیں تھانیدار صاحب؟‘‘ وہ مجھ سے نظریں چراتے ہوئے بولی۔
کیسی معصوم بن رہی تھی مجھے اس پر غصہ تو بہت آیا لیکن میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’مجھے سب کچھ پتا چل گیا ہے کہ تمہاری شادی کن حالات میں ہوئی تھی۔‘‘ پھر میں نے کوچوان شیروں سے حاصل ہونے والی معلومات اس کی سامنے رکھ دیں۔ اس نے سر جھکالیا‘ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے تھے۔
’’بی بی! جو کچھ تم کرچکی ہو وہ بتاکر دل کا بوجھ ہلکا کرلو‘ اب تم شاید ہی اپنے خاوند کو پاسکو۔‘‘
’’نہیں تھانیدار صاحب! ایسا نہ کہیں‘میری غلطی اتنی بڑی نہیں کہ مجھے اتنی بڑی سزا ملے۔‘‘ پھر اس نے مجھے ساری بات بتادی تھی۔ میں نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
دو دن بعد سپاہی نواز اور انور آئے ان کے ساتھ تین بندے تھے جن میں دو بندوں کو باقاعدہ گرفتار کرکے لایا گیا تھا۔ ایک بندہ تھا ملک ابرار۔
یہ سب کچھ وہاں کی پولیس کی وجہ سے ممکن ہوا تھا‘ انسپکٹر سرفراز نے بہت تعاون کیا تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ہم نے ملک ابرار کی بیوی سے اس کی تصویر حاصل کرلی تھی۔ سپاہی نواز‘ سپاہی انور اور وہاں کے تھانے کے کانسٹیبل نے جب ملک ابرار کی تصویر دکھائی‘ گائوں میں جاکر تو ایک بندے نے اس بات کی نشاندہی کردی کہ ملک ابرار کو چوہدری شوکت (چھوٹے چوہدری) کے گھر میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ تینوں پولیس اہلکار سفید کپڑوں میں تھے۔ انہوں نے واپس وہاں کے تھانے میں آکر سب کچھ انسپکٹر سرفراز کو بتایا تھا اور اس نے شوکت کے گھر ایک چھاپہ مار پارٹی بھیجی وہاں شوکت کے علاوہ اس کا دست راست اور دوست تصور بھی تھا۔
وہاں ایک اسٹور نما کمرے سے فلک ابرار بھی برآمد ہوگیا۔ اسے حبس بے جا میں رکھا گیا تھا۔ آج وہ دونوں اس کے متعلق فیصلہ کرنے اکٹھے ہوئے تھے کہ گرفتار ہوگئے کیونکہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔
ہم نے ان سے ایک گھنٹے میں سب کچھ اگلوالیا۔ یہ کہانی شروع ہوئی تھی ملک ابرار کے گھر میں ڈاکے سے‘ جیسا کہ ذکر آچکا ہے ملک ابرار اور طلعت پہلے گائوں میں رہتے تھے۔ ملک ابرار سود کا کام کرتا تھا وہ لوگوں کو سونا‘ مکان اور زمین ‘ زر ضمانت رکھ کر قرض دیتا تھا۔ طلعت کے والدین نے بھی اپنا مکان زر ضمانت رکھوا کر قرض لیا تھا‘ دراصل طلعت کا بھائی ذوالقرنین باہر جانا چاہتاتھا۔ وہ ایسا باہر گیا کہ اس نے پیچھے والوں کی خیر خبر ہی نہیں لی۔
اس طرح دو سال کا عرصہ گزر گیا‘ ملک ابرار ایک لالچی شخص تھا۔ علاوہ ازیں کافی عرصہ سے اس کی نظر طلعت پر تھی لیکن طلعت نے اسے کبھی گھاس نہیں ڈالی تھی کیونکہ اس نے ساری گھاس شوکت کو ڈال دی تھی۔
شوکت گائوں کے چوہدری ہاشم کا بیٹا تھا‘ آوارہ تو نہیں تھا البتہ خود سر ضرور تھا۔ ادھر ملک ابرار نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا اس نے طلعت کے باپ کو کہا کہ اتنا پیسہ بن گیا ہے جتنی آپ کے مکان کی قیمت بھی نہیں ہے اس لیے آپ یہ مکان خالی کردیں یا طلعت کا رشتہ مجھے دے دیں۔
جب بات طلعت تک پہنچی تو اس نے قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ ماں باپ رو پڑے بے بسی کے آنسو۔ اس کی ماں نے کہا۔ ’’نہ جانے مائیں بیٹوں کے پیدا ہونے پر خوشیاں کیوں مناتی ہیں لڈو بانٹتی ہیں۔‘‘
ماں باپ پھر بھی راضی نہیں تھے وہ بیٹی کی پسند سے واقف تھے لیکن رو دھوکے منت سماجت کرکے طلعت نے انہیں راضی کرلیا اس نے کہا۔
’’جب میں یہ کڑوا گھونٹ پی رہی ہوں تو آپ بھی اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیں۔‘‘ لیکن طلعت نے ایک شرط رکھی کہ وہ یہاں نہیں رہے گی اگر ملک ابرار شہر میں جاکر مکان بنائے تو میں شادی کروں گی۔ ملک ابرار کے من کی تو مراد پوری ہونے لگی تھی اس نے سود کی وجہ سے بہت پیسہ جمع کرلیا تھا اس نے یہ شرط منظور کرلی۔
طلعت نے ایک اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیا لیکن اس کے دل میں انتقام کی آگ سلگ رہی تھی۔ وہ ملک ابرار کو کوئی نہ کوئی سزا یا اذیت لازمی دینا چاہتی تھی۔ اس کی بچی بھی ہوگئی تھی وہ یہ سائبان چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔
اتنا عرصہ وہ سوچتی رہی کوئی راستہ‘ کوئی اسکیم‘ اصل میں جیسا کہ میں کئی کہانیوں میں لکھ چکا ہوں جو بات جس وقت ہونی ہوتی ہے اس وقت ہی ہوتی ہے۔
جیسا کہ ذکر آچکا ہے ملک ابرار کی گائوں میں تھی‘ طلعت نے سے زمینوں سے محروم کر نے کا فیصلہ کرلیا اس نے پیار سے‘ جھوٹی موٹی روٹھ کر‘ منت سماجت کرکے ملک ابرار کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ گائوں کی زمینیں بیچ کر یہاں ایک دو بسیں لے لے‘ دراصل اس کا جو پلان تھا اس پر اس نے عمل کردیا۔ اس نے شوکت کو کچھ عرصہ پہلے سب کچھ بتادیا۔ شوکت نے شکر کیا کہ طلعت نے اسے کوئی کام بتایا تو لیکن اس نے کہا۔
’’کام خطرناک ہے تم وعدہ کرو کہ کبھی کبھی مجھے ملنے گائوں آئو گی۔‘‘ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ شادی کے بعد وہ شوکت سے کبھی نہیں ملی تھی۔ اس نے یہ سوچ کر وعدہ کرلیا کہ فی الحال اپنا الو سیدھا کرو بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ ویسے پانچ لاکھ تو شوکت کے ہونے ہی تھی طلعت نے ہی ملک ابرار کو کہا تھا کہ رقم کیش کی صورت میں ہونا چاہیے۔
اسکیم کے مطابق جان بوجھ کر رقم لیٹ ملک ابرار تک پہنچائی گئی اور اسی طرح شوکت کے بھیجے ہوئے دو ڈاکوئوں نے اسکیم پر عمل کرڈالا۔
یہ دونوں گائوں میں چھوٹی موٹی وارداتیں کرتے رہتے تھے اور انہیں شوکت یعنی چھوٹے چوہدری کی آشیرباد حاصل تھی بعد میں ہم نے انہیں بھی گرفتار کرلیا تھا اب ایک وضاحت رہ جاتی ہے کہ آخر ملک ابرار شوکت وغیرہ کے ہتھے کیسے چڑھ گیا تھا۔
دراصل ملک ابرار کو شک پڑگیا تھا کہ کہیں شوکت نے ہی یہ حرکت نہ کروائی ہو۔ ایک تو وہ اس کا رقیب تھا‘ دوسرے اسے پتا تھا کہ آج رات کیش اس کے یعنی ملک ابرار کے گھر میں ہوگا۔ وہ سیدھا شوکت کی حویلی جاپہنچا یہ چھوٹی حویلی کہلاتی تھی۔ ملک ابرار کا اس وقت دماغ مائوف ہوگیا تھا اس نے جاتے ہی اپنا شک شوکت پر ظاہر کردیا اور معاملہ چور کی داڑھی میں تنکے والا ہوگیا چونکہ شوکت اس واردات میں ملوث تھا۔ اس لیے اس نے مستقبل کی پروا کیے بغیر ملک ابرار کو قیدکر لیا وہاں شوکت کی اجازت کے بغیر کوئی بھی نہیں جاسکتا تھا لیکن پولیس کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
میں نے ایف آئی آر میں طلعت کا نام بھی ڈال دیا تھا۔ یہ میری مجبوری تھی کیونکہ جب عدالت میں وکیلوں کی جرح ہوتی ہے تو چھوٹی سے چھوٹی بات بھی نکل آتی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close