Naeyufaq Jun-16

بشکریہ

حسن اختر

بری گھڑی کہہ کر نہیں آتی۔
پیرس کی ایک بوسیدہ بلڈنگ کے تاریک کمرے میں میلی چادر اور پھٹے ہوئے گدے والے بستر پر بیٹھا ہوا جیول روبانڈ اپنے طویل ماضی اور انتہائی مختصر مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خاکی لفافہ تھا جس میں کسی سفید سے پائوڈر کی تھوڑی سی مقدار تھی اس کی نظر سامنے لگے ہوئے آئینے پر پڑی۔ اسے اپنا چہرہ اجنبی اجنبی سا لگا تھا۔ اس کی شکل پہلے تو ایسی نہیں تھی اس کے رخساروں پر زردی چھائی ہوئی تھی اور ہونٹوں کے گوشے لٹک گئے تھے اپنے وقت کا عظیم خانساماں انتہائی کسمپرسی کے عالم میں تھا۔
جیول نے لفافہ کھول کر اندر جھانکا بظاہر بے ضرر دکھائی دینے والا وہ پائوڈر انتہائی مہلک زہر تھا۔ اس چند گرام پائوڈر کو حاصل کرنے میں اسے کئی ہفتے لگے تھے وہ زہر بڑی تیزی سے اثر کرتا تھا جیول کی مشکل فوراً ہی آسان ہوجاتی۔
جیول نے جنت کے بارے میں سوچا یقیناً جنت کا باورچی خانہ بہت بڑا اور بہت ہی صاف ستھرا ہوگا۔ یہ بات تو طے تھی کہ اس باورچی خانے کا نگراں وہی ہوتا ظاہر ہے دنیا میں اس کے مقابلے کا دوسرا باورچی کہاں تھا اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ جنت اس خبیث انٹون وریمی سے پاک ہوگی۔ انٹون وریمی، اس مختصر سے نام میں بعض، عناد، کم ظفری اور خود غرضی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
جیول، مرا بیل ریستوران میں باورچی خانہ کا نگراں تھا جبکہ انتون کی حیثیت اس کے ما تحت کی سی تھی ایک عام معمولی سا ماتحت جس پر کسی خصوصی توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی جیول کے کھانے پیرس کے طبقہ امرا میں بے حد پسند کیے جاتے تھے مرابیل ریستوران صرف جیول کی وجہ سے امرا کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا تھا۔
انٹون خاصا محنت واقع ہوا تھا اور پھر اس کی محنت کار گر ہو ہی گئی اس نے ایک خصوصی ڈش تیار کی اور جیول کے پاس لے گیا جیول نے اسے چکھا اور چونک گیا وہ ڈش تقریباً ایسی ہی تھی جیسی جیول تیار کرتا تھا۔
جیول کی شخصیت خاصی متاثر کرنے والی تھی لمبا قد بھاری جسم با وقار جب کہ انٹون اپنے چھوٹے سے قد اور مخنی جسم کے سبب باورچی سے زیادہ نائی دکھائی دیتا تھا لیکن اس چھوٹے قد کے چھوٹے سے دماغ میں خاصی ذہانت تھی۔ انٹون بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔
پھر چھ مہینے بعد مصیبت کے دنوں کی ابتدا ہوگئی بیرا ایک ڈش اٹھا کر لایا اور جیول سے بولا۔ ’’اس میں مرچیں بہت تیز ہوگئی ہیں گاہک چلا رہا تھا۔‘‘
’’مرچیں۔‘‘ جیول کی پیشانی پر بل پڑ گئے تھے اس نے کھانے کا چمچ بھرا اور منہ میں رکھ لیا مگر منہ چلائے بغیر ہی تھوک دیا۔
’’گاہک ٹھیک کہہ رہا تھا واقعی مرچیں زیادہ ہیں اسے پھینک دو، میں دوسری بناتا ہوں۔‘‘
جیول کے لیے وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا لیکن وہ تو ابتدا تھی۔
شام کے وقت اس کے گاہک عام طور پر آملیٹ کھاتے تھے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں آملیٹ تیار کر چکا تھا۔
’’اس میں نمک بہت تیز ہے گاہک نے واپسی کر دیا ہے۔‘‘
ویٹر نے اس کے سامنے پلیٹ رکھتے ہوئے کہا۔
’’نمک تیز ہے؟‘‘ جیول اپنے اسٹول سے کھڑا ہوگیا۔ اس نے آملیٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھا اور فوراً تھوک دیا۔ ’’نا ممکن میں صرف اس ہوٹل میں دس ہزار سے زیادہ آملیٹ بنا چکا ہوں لیکن آج تک نمک تیز نہیں ہوا، پھر آج نمک کس طرح تیز ہوگیا۔‘‘
دو دن بعد اس کی ایک اور ڈش واپس آگئی جب اس کی مقبول ترین ڈش ’’سالمس ڈی بیکا سے‘‘ واپس آگئی گاہکوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا تھا ان کے خیال میں اس سے بد مزہ کھانا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
پھر تو یہ روز کا معمول ہوگیا کبھی کسی کھانے میں نمک زیادہ ہوجاتا کبھی شکر اور کبھی مرچ آخر ہوٹل کا مالک صبر نہ کرسکا۔
’’میری سمجھ میں بالکل نہیں آتا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے؟‘‘ فلپس نے الجھے ہوئے انداز میں کہا۔ ’’میرا خیال ہے جیول کہ تم تھک گئے ہو شاید تمہیں کچھ آرام کی ضرورت ہے۔‘‘
’’شاید۔‘‘ جیول کا لہجہ افسردہ تھا۔
’’ہاں، لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ تمہاری جگہ کون کام کرے گا، تمہارا متبادل کہاں سے آئے گا۔‘‘
’’اوہ، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ جیول نے ٹھنڈا سانس لیا۔
’’انٹون کام سنبھال لے گا وہ اب بہت کچھ سیکھ چکا ہے۔‘‘
جیول روبانڈ صرف دو ہفتے کی جبری چھٹی پر گیا تھا لیکن وہ اس کے لیے تین سو گھنٹے تھے اور اس نے وہ تین سو گھنٹے گن گن کر گزارے تھے۔
’’واپسی مبارک ہو۔‘‘ فلپس نے ریستوران پہنچنے پر اس سے کہا۔ ’’تمہیں یہ سن کر خوشی ہوگی کہ ان دو ہفتوں میں تمہارے شاگرد انٹون نے سارا کام نہایت ہی خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھا تھا۔‘‘
’’مجھے خوشی ہوئی ہے۔‘‘ جیول کے لہجے میں کوئی جذبہ نہیں تھا۔
’’چلو کام شروع کرو۔‘‘ فلپس نے اس کی پیٹھ پر تھپکی دی۔
لیکن پہلے ہی دن سے گڑ بڑ شروع ہوگئی جب لگاتار تین معزز گاہکوں نے کھانے واپس کیے تو ہوٹل کے مالک فلپس سے صبر نہ ہوسکا اور وہ جیول پر گرم ہوگیا۔
’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔‘‘ جیول نے جواب دیا۔
’’ان کی شکایت غلط نہیں ہے مگر ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر یہ گڑ بڑ ہوئی کیوں اس مرتبہ میں نے صرف خود پر ہی بھروسا نہیں کیا تھا۔ بلکہ ہر ڈش انٹون کو بھی چکھوائی تھی کیوں انٹون۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ انٹون نے سر ہلایا۔ ’’میں نے ہر ڈش چکھی تھی۔‘‘
’’اور تمہیں ان میں کوئی خرابی محسوس نہیں ہوئی؟‘‘ فلپس نے پوچھا۔
انٹون جواب دیتے ہوئے ہچکچایا پھر بولا۔ ’’مجھے کہنا تو نہیں چاہیے۔‘‘
’’تمہیں کیا نہیں کہنا چاہیے۔‘‘ جیول نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
انٹون و ریمی نے جیول سے نظر چرالی اور فلپس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
’’وہ ڈشز ذائقے میں کچھ ٹھیک نہیں تھیں۔‘‘ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔ ’’موسیو روبانڈ سے یہ بات کہتے ہوئے مجھے شرم سی محسوس ہوئی تھی آخر یہ میرے استاد ہیں اور پھر اس شہر کے کیا پورے ملک میں ان کا ہم پلہ کوئی اور نہیں تھا لیکن اب…!‘‘
’’انٹون۔‘‘ جیول کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی تھیں۔
’’مجھے یہ کہتے ہوئے بڑا دکھ ہو رہا ہے لیکن موسیو روبانڈ آپ کے ہاتھ کا ذائقہ ختم ہوچکا ہے۔‘‘ انٹون نے سنگ دلی سے کہا۔
’’یہ جھوت ہے۔‘‘ جیول چلایا۔ ’’مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔‘‘
’’کسی سے تو ہوئی ہے۔‘‘ فلپس نے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہا۔ ’’اس مسئلے پر ہم پھر کبھی بات کریں گے۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ جیول روبانڈ نے ایک ساس پین اٹھا کر زمین پر پٹختے ہوئے کہا ’’ہم ابھی بات کریں گے اگر تم مجھے نکالنا ہی چاہتے ہو تو نکال دو۔ ابھی نکال دو، سیکڑوں ریستوران مجھے یہاں سے دگنی تنخواہ پر ملازم رکھیں لیں گے۔‘‘
’’جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں جیول پھر کسی وقت بات کرنا۔‘‘ فلپس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’نہیں تم اسی وقت مجھے جواب دے دو۔‘‘ جیول کی آواز بھرا گئی تھی۔
’’اگر یہ تمہاری خواہش ہے تو ٹھیک ہے لیکن پھر سوچ لو۔‘‘ فلپس نے کہا۔
’’بہت خوب۔‘‘ اس نے ایک ہاتھ سے اپنی ٹوپی اتاری اور دوسرے ہاتھ سے ایپرن کھینچ کر فرش پر پھینک دیا۔ ’’میں استعفیٰ دے رہا ہوں اور اب اپنے میرے بدلے یہ چھوٹا دغا باز انٹون یہاں کام کرے گا پھر تمہارے گاہک بد ہضمی کی شکایت کریں گے۔‘‘
وہ کلوک روم میں پہنچا تو انٹون اس کے پیچھے پیچھے تھا اس کے ہونتوں میں فتح مندی کی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔
’’نمک زیادہ ہے۔‘‘ انٹون نے گردن مٹکاتے ہوئے کہا۔
’’مرچ زیادہ ہے یہ زیادہ ہوگیا۔ وہ زیادہ ہوگیا… واہ واہ ملک کا مشہور باورچی اور یہ انداز۔‘‘
جیول نے کوئی جواب نہیں دیا اس کا چہرہ ست گیا تھا اور آنکھیں بھر آئی تھیں۔
’’تم مجھے بچہ سمجھتے تھے اور کبھی کچھ نہیں بتاتے تھے میں نے جو کچھ سیکھا اپنی کوشش سے سیکھا اب دیکھا تم نے کہ کون زیادہ ذہین ثابت ہوا اب تم اس باورچی خانے میں کبھی داخل نہ ہوسکو گے۔‘‘ انٹون نے قہقہہ لگایا۔
’’تم… تم… مجھے معلوم ہے کہ یہ سب تمہاری سازش ہے میں… میں تمہیں…!‘‘ اور یہ کہہ کر جیول نے کلرک روم کا سامان اٹھا اٹھا کر انٹون پر پھینکنا شروع کردیا اور اسی وقت فلپس نے پولیس کو طلب کرلیا۔
اس طرح جیول کی تباہی مکمل ہوگئی مرابیل میں ان کی ناکامیوں کی داستان آخری روزکا ہنگامہ اور پھر اس کی گرفتاری سے متعلق تمام تفصیلات چند ہی گھنٹوں کے اندر پیرس میں پھیل گئی تھیں۔
وہ روز ہی کوئی نہ کوئی انٹرویو دینے جاتا اور اسے گول مول الفاظ میںجواب مل جاتا، شاید اس شہر کے ہر اچھے کچن کا دروازہ اس پر بند ہوگیا تھا کئی ماہ کی بے روزگاری کے بعد اس نے خود کو تیار کر ہی لیا کہ کسی نچلے درجے کے ریستوران میں ہی ملازم ہوجائے۔
اور پھر اسے دوسرے درجے کے ایک ریستوران کے مالک نے ترس کھا رکھ لیا لیکن اس کی غیر معمولی ملازمت زیادہ دن نہ چل سکی۔ ریستوران کا مالک اس کی غیر معمولی خریداری برداشت نہ کرسکا تھا ادھر جیول کو خوش ذائقہ کھانوں کے لیے معیاری اور اچھے مصالحے درکار تھے اور وہ کسی بھی قیمت پر اپنا معیار گھٹانے پر تیار نہ تھا۔
یوں اسے ایک کے بعد ایک ملازمتیں ملتی رہیں اور چھوٹتی رہیں ہر ملازمت میں تنخواہ پچھلی ملازمت سے کم ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ وہ خود سے مایوس ہوتا چلا گیا اس کی خود اعتمادی ختم ہوگئی تھی جب ایک انتہائی گھٹیا ریستوران کے مالک نے بھی اسے دھکے دے کر نکال دیا تو اس نے سمجھ لیا کہ کہانی ختم ہوگئی اور وہ مزید آگے نہ چل سکے گا۔
اس زہر کا نام اس نے لائبریری کی ایک کتاب سے معلوم کیا تھا وہ زہر بے ذائقہ تھا اور فوری اثر کرتا تھا اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ اپنے شایان شان طریقے سے جان دے گا جس طرح ایک عظیم خانساماں کو مرنا چاہیے وہ اس ظالم دنیا کو ایک وقار کے ساتھ چھوڑنا چاہتا تھا اس طرح کہ شہر کا سب سے لذیذ کھانا اس کے منہ میں ہو اور وہ جان دے دے۔
وہ اپنے بستر سے اٹھا اور اپنا بہترین لباس نکال کر انتہائی احتیاط سے پہنا کیونکہ وہ خاصہ بوسیدہ ہوچکا تھا پھر اس نے ٹیکسی کی اور مرابیل ریستوران کی طرف چل دیا۔
ریستوران میں حسب معمول خاصا ہجوم تھا اس کی نظر ہیڈ ویٹر کی نظر سے ٹکرائی اور اس کے دل میں درد کی لہر اٹھی۔ ہیڈ ویٹر اسے پہچان نہیں پایا تھا۔
’’مجھے افسوس ہے موسیو کہ میں آپ کے لیے کسی سیٹ کا بندوبست نہیں کرسکوں گا۔‘‘ ہیڈ ویٹر تیزی سے اس کے قریب آیا اور بولا مگر جیول نے فوراً ایک نوٹ اس کی مٹھی میں دبا دیا۔ ہیڈ ویٹر مسکرایا اور اسے سروس ڈور کے قریب چھوٹی سی میز کے قریب لے گیا۔
’’فرمائیے۔‘‘ ویٹر نے اس کے بیٹھنے کے بعد پوچھا۔
جیول نے تین چار مہنگے کھانوںکے نام لیے اور بولا
’’سالمس ڈی بیکا سے آخر میں لانا۔‘‘
جب اس کی مشہور زمانہ ڈش سالمس ڈی بیکا اس کے سامنے آئی تو اس نے باقی پلٹیں دور کھسکا دیں پلیٹ میں سے اشتہا انگیز خوشبو کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں جو تقریباً ویسی ہی تھیں جیسی جیول کے کھانوں میں سے اٹھتی تھیں۔
اس نے جیب سے خاکی لفافہ نکالا اور اس کا سارا پائوڈر کھانے پر چھڑک دیا۔ معاً اس نے چمچ اٹھایا اسے بھرا اور منہ تک لے گیا پھر واپس پلیٹ میں ڈال دیا اس نے پیگ اٹھا کر ایک گھونٹ لیا اس کی آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
’’ویٹر۔‘‘ اچانک وہ چلایا۔
’’جی موسیو۔‘‘ ویٹر قریب آکر بولا۔
’’یہ انتہائی واہیات ڈش ہے، اسے جانور بھی نہیں کھا سکتے۔‘‘
’’لیکن جناب یہ تو ہمارے ریستوران کی مشہور ترین ڈش ہے اور ہمارے باورچی خانے کا نگراں اسے خود تیار کرتا ہے۔‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتا لیکن یہ کھانے کے قابل نہیں ہے۔‘‘
’’اچھا جناب۔‘‘ ویٹر نے کہا اور پلیٹ اٹھا کر چلا گیا۔
جیول نے پیگ اٹھایا اور چھوٹے چھوٹے گھونٹ لینے لگا۔ وہ کسی بات کا منتظر تھا اور پھر اس کا انتظار ختم ہوگیا باورچی خانے سے ایک تیز چیخ بلند ہوئی جو یقیناً انٹون و ریمی کے حلق سے نکلی تھی ایسا محسوس ہوا تھا جیسے کسی نے اسے ذبح کردیا ہو۔
جیول اطمینان سے اٹھا اس نے جیب سے چند نوٹ نکال کر میز پر ڈالے دروازے سے باہر چلا گیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close