Naeyufaq May-16

اہرمن گزیدہ

ساحر ابڑو

بنی اسرائیل میں برصیعا نامی ایک راہب تھا۔ اس وقت بنی اسرائیل میں اس جیسا کوئی عبادت گزار نہیں تھا۔ اس نے ایک عبادت خانہ بنایا ہواتھا‘ وہ اسی میں عبادت میں مست رہتاتھا‘ اسے لوگوں سے کوئی غرض نہیں تھی نہ تووہ کسی سے ملتاتھا اور نہ ہی کسی کے پاس آتا جاتاتھا۔ شیطان نے اسے گمراہ کرنے کاارادہ کیا‘ برصیعا اپنے کمرے سے باہرنکلتا ہی نہیں تھا۔ وہ ایسا عبادت گزار تھا کہ اپنا وقت ہرگز ضائع نہیں کرتاتھا۔ شیطان نے دیکھا کہ جب دن میں کچھ وقت یہ تھکتے ہیںتو کبھی کبھی اپنی کھڑکی سے جھانک کر دیکھ لیتے ہیں۔ ادھر کوئی آبادی نہیں تھی۔ اردگرد کھیت اور باغ تھے۔ جب شیطان نے دیکھا کہ وہ دن میں ایک یا دو مرتبہ کھڑکی سے دیکھتے ہیں تو اس نے انسانی شکل میں آکر اس کھڑکی کے سامنے نماز کی نیت باندھ لی… اس کونماز کیا پڑھنا تھی‘فقط شکل بنا کرکھڑا تھا۔ چنانچہ جب برصیا نے کھڑکی سے جھانکا تو ایک آدمی کو قیام کی حالت میں دیکھا وہ بڑا حیران ہوا‘ جب دن کے دوسرے حصے میں اس نے دوبارہ ارادتاً باہر دیکھا تووہ رکوع میں تھا۔ بڑا لمبا رکوع کیا۔ پھرتیسری مرتبہ سجدے کی حالت میں دیکھا‘ کئی دن اسی طرح ہوتا رہا۔ آہستہ آہستہ برصیعا کے دل میں یہ بات آنے لگی کہ یہ تو کوئی بڑا ہی بزرگ انسان ہے۔ جو دن رات عبادت میں مصروف رہتا یہاںتک کہ برصیعا کے دل میں یہ بات آنے لگی کہ میں اس سے پوچھوں تو سہی کہ یہ کون ہے‘ جب برصیعا کے دل میں یہ بات آنے لگی تو شیطان نے کھڑکی کے قریب مصلے بچھانا شروع کردیا۔ جب مصلا کھڑکی کے قریب آگیا اور برصیعا نے باہر جھانکا تو اس نے شیطان سے پوچھا۔
’’تم کون ہو؟‘‘
وہ کہنے لگا۔
’’آپ کومجھ سے کیا غرض ہے؟ میں اپنے کام میں لگا ہوا ہوں‘ کسی کی کوئی بات سننا گوارہ ہی نہیں کرتا۔‘‘
دوسرے دن برصیعا نے پوچھا کہ آپ اپنا تعارف تو کروائیں۔
وہ کہنے لگا۔’’ مجھے اپنا کام کرنے دو۔‘‘
اللہ کی شان کہ ایک دن بارش ہونے لگی۔ اس نے بارش کی بھی کوئی پروا نہیں کی برصیعا نے سوچا کیوں نہ میں ہی اچھے اخلاق کامظاہرہ کروں اور اس سے کہوں کہ میاں اندر آجائو‘ اس نے شیطان کو پیشکش کی کہ باہر بارش ہو رہی ہے تم اندر آجائو‘ وہ جواب میں کہنے لگا۔
ٹھیک ہے‘ مومن کو مومن کی دعوت قبول کرلینی چاہیے‘ میں آپ کی دعوت قبول کرلیتاہوں۔‘
وہ تو چاہتا ہی یہی تھا‘ اس نے کمرے میں آکر نماز کی نیت باندھ لی‘ وہ کئی مہینوں تک اس کمرے میں عبادت کی شکل میں بنارہا۔ وہ دراصل عبادت نہیں کررہاتھا‘ فقط نماز کی شکل بنارہاتھا‘ لیکن دوسرا یہی سمجھ رہاتھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے‘ اس کونماز سے کیاغرض تھی‘ وہ تو اپنے مشن پر تھا‘ جب کئی مہینے گزر گئے تو برصیعا نے اسے واقعی بہت بڑا بزرگ سمجھنا شروع کردیا او راس کے دل میں اس کی عقیدت پیدا ہونا شروع ہوگئی۔ اتنے میں شیطان برصیعا سے کہنے لگا۔
’’اب میرا سال پور اہوچکا ہے‘ میں یہاں سے جاتاہوں‘ میرا مقام کہیں اور ہے۔‘‘ روانہ ہوتے وقت ویسے ہی دل نرم ہوچکاہوتا ہے۔
’’اچھا میں آپ کو جاتے وقت ایک ایسا تحفہ دے جاتاہوں‘ جومجھے اپنے بڑوں سے ملا تھا۔ وہ تحفہ یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی بھی بیمار آئے تو اس پریہ پڑھ کر دم کردیا کرنا۔ وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ تم بھی کیا یاد کروگے کہ کوئی آیا تھا اور تحفہ دے گیا۔‘‘
برصیعا نے کہا۔ ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں۔‘‘
وہ کہنے لگا۔ ’’ ہمیں یہ نعمت طویل مدت کی محنت کے بعدملی ہے۔ میں وہ نعمت تمہیں تحفے میں دے رہاہوں اور تم انکار کررہے ہو‘ تم تو بڑے نالائق انسان ہو۔‘‘
یہ سن کر برصیعا کہنے لگا۔ ’’اچھا جی‘ مجھے بھی سکھاہی دیں۔‘‘
شیطان نے اسے ایک دم سکھادیا اور یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگیا کہ ’’اچھا پھر کبھی ملیں گے۔‘‘
وہ وہاں سے سیدھا بادشاہ کے گھر پہنچ گیا۔ بادشاہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ شیطان نے جاکر اس کی بیٹی پراثر ڈالا اور وہ مجنون سی بن گئی۔ وہ خوبصورت لڑکی تھی۔ لیکن شطان کے اثر سے اسے دورے پڑنا شروع ہوگئے۔ بادشاہ نے اس کے علاج کے لیے حکیم اور وید بلوائے ‘ کئی دنوں تک وہ اس کاعلاج کرتے رہے‘ لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا‘ جب کئی دنوں کے بعد بھی کچھ افاقہ نہ ہواتو شیطان نے بادشاہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ بڑے حکیموں اور ڈاکٹروں سے علاج تو کروالیاہے ‘ اب کسی دم والے ہی سے دم کروا کردیکھ لو۔ یہ خیال آتے ہی اس نے سوچا کہ ہاں کسی دم والے کوتلاش کرنا چاہیے۔ اس نے سرکاری اہلکار بھیجے تاکہ وہ پتہ کرکے آئیں کہ اس وقت سب سے زیادہ نیک بندہ کون ہے‘ سب نے کہا۔
’’اس وقت سب سے زیادہ نیک آدمی تو برصیعا ہے اور وہ تو کسی سے ملتاہی نہیں ہے۔‘‘
بادشاہ نے کہا کہ اگر وہ کسی سے نہیں ملتا تو ان کے پاس جاکر میری طرف سے درخواست کرو کہ ہم آپ کے پاس آجاتے ہیں۔ کچھ آدمی برصیعا کے پاس گئے۔ اس نے انہیں دیکھ کر کہا۔’’مجھے تنگ کرنے کیوں آئے ہیں۔‘‘
انہوںنے کہا۔ ’’کہ بادشاہ کی بیٹی بیمار ہے‘ حکیموں اور ویدوں سے بڑا علاج کروایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بادشاہ چاہتے ہیں کہ آپ بے شک یہاں نہ آئیں‘ تاکہ آپ کی عبادت میں خلل نہ آئے‘ ہم آپ کے پاس بچی کو لے کرآجاتے ہیں۔ آپ یہیں اس بچی کو دم کردینا۔ ہمیں امید ہے کہ آپ کے دم کرنے سے وہ ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘
اس کے دل میں خیال آیا کہ ہاں میں نے ایک دم سیکھا تو تھا‘ اس دم کو آزمانے کا یہ اچھا موقع ہے‘ چلو یہ توپتہ چل جائے گا کہ وہ دم ٹھیک ہے یانہیں۔‘‘
اس نے لوگوں کو بادشاہ کی بیٹی کو لانے کی اجاز ت دے دی ۔ بادشاہ اپنی بیٹی کوبرصیعا کے پاس لے کر آگیا۔ اس نے جیسے ہی دم کیا وہ فوراً ٹھیک ہوگئی۔ مرض بھی شیطان کا لگایاتھا اور دم بھی اس نے بتایا تھا۔ دم کرتے ہی شیطان اس کوچھوڑ کرچلاگیااور وہ بالکل ٹھیک ہوگئی۔ بادشاہ کویقین ہوگیا کہ میری بیٹی اس کے دم سے ٹھیک ہوئی ہے۔ ایک ڈیڑ ھ ماہ کے بعد اس نے پھر اسی طرح بچی پرحملہ کیا اور وہ پھر سے اسے برصیعا کے پاس لے آئے۔ اس نے دم کیا تووہ پھر اسے چھوڑ کر چلاگیا۔ حتیٰ کہ دوچار دن کے بعد بادشاہ کوپکایقین ہوگیا کہ میری بیٹی کا علاج اس کے دم میں ہے‘ اب برصیعا کی بڑی شہرت ہوئی کہ اس کے دم سے بادشاہ کی بیٹی ٹھیک ہوجاتی ہے۔
کچھ عرصہ کے بعد ملک پر کسی نے حملہ کیا۔ وہ اپنے شہزادوں کے ہمراہ دشمن کامقابلہ کرنے کے لیے تیار ہونے لگا۔ اب بادشاہ سوچ میں پڑگیا کہ اگر جنگ میں جائے تو اپنی بیٹی کو کس کے پاس چھوڑ کر جائے‘ کسی نے مشورہ دیا کہ کسی وزیر کے پاس چھوڑ جائیں اور کسی نے کوئی اور مشورہ دیا۔
بادشاہ کہنے لگا۔ ’’کہ اگر اس کودوبارہ بیماری لگ گئی تو پھر کیابنے گا؟ برصیعا تو کسی کی بات بھی نہیں سنے گا‘ بادشاہ نے کہا کہ میں خود برصیعا کے پاس اپنی بیٹی کو چھوڑ جاتا ہوں۔
بادشاہ اپنے تینوں بیٹوں اوربیٹی کو لے کربرصیعا کے پاس پہنچ گیااور کہنے لگا کہ ہم جنگ پرجارہے ہیں زندگی اور موت کاپتہ نہیں ہے‘ مجھے اس وقت سب سے زیادہ اعتماد تم ہی پرہے اور میری بیٹی کاعلاج بھی تمہارے ہی پاس ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ بچی تمہارے پاس ہی ٹھہرے۔‘‘
برصیعا کہنے لگا۔ ’’توبہ توبہ میں یہ کام کیسے کرسکتاہوں… کہ یہ اکیلی میرے پاس ٹھہرے۔‘‘
بادشاہ نے کہا۔ ’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے‘ بس آپ اجازت دے دیں۔ میں اس کے رہنے کے لیے آپ کے عبادت خانے کے سامنے گھر بنوادیتاہوں اور یہ اسی گھر میں ٹھہرے گی۔‘‘
برصیعا نے کہا۔ ’’چلو ٹھیک ہے۔‘‘
جب اس نے اجازت دی تو بادشاہ نے اس کے عبادت خانے کے سامنے گھر بنوادیااور بچی کووہاں چھوڑ کر جنگ پرروانہ ہوگئے۔ اب برصیعا کے دل میں بات آئی کہ میں اپنے لیے کھانا بناتاہی ہوں اگر بچی کاکھانا بھی میں ہی بنادیا کروں تو اس میں کیا حرج ہے۔ کیونکہ وہ اکیلی ہے پتہ نہیں کہ اپنے لیے کھانا پکاسکے گی یانہیں۔ وہ کھانا بناتا اور آدھا خود کھاکرباقی آدھاکھانا اپنے عبادت خانے کے دروازے کے باہر رکھ دیتا۔ اور اپنا دروازہ کھٹکھٹادیتا۔ یہ لڑکی کے لیے اشارہ ہوتا تھا کہ اپنا کھانااٹھالو۔ اس طرح وہ لڑکی کھانااٹھا کر لے جاتی اور کھالیتی کئی مہینوں تک یہی معمول رہا‘ اس کے بعد شیطان نے اس کے دل میں بات ڈالی۔ ’’کہ دیکھو وہ لڑکی اکیلی رہتی ہے‘ تم کھانا پکا کر اپنے دروازے کے باہر رکھ دیتے ہو اور لڑکی کو کھانا اٹھانے کے لیے باہر نکلناپڑتا ہے۔ اگر کبھی کسی مرد نے دیکھ لیا تو وہ اس کی عزت خراب کردے گا۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کھانا بنا کر اس کے دروازے کے اندر رکھ دیا کرو تاکہ اس کوباہر نہ نکلناپڑے۔‘‘
برصیعا نے کھانا بنا کراس کے دروازے کے اندر رکھنا شروع کردیا۔ وہ کھانا رکھ کر کنڈی کھٹکھٹا دیتااور وہ کھانا اٹھا لیتی۔ یہی سلسلہ چلتا رہا جب کچھ اور مہینے بھی گزر گئے تو شیطان نے اس کے دل میں ڈالا کہ تم خود تو عبادت میں لگے رہتے ہو‘ یہ لڑکی اکیلی ہوتی ہے‘ ایسا نہ ہو کہ تنہائی کی وجہ سے اور زیادہ بیمار ہوجائے‘ اس لیے بہتر ہے کہ اس کو کچھ نصیحت کردیا کرو تاکہ یہ بھی عبادت گزار بن جائے اور اس کاوقت ضائع نہ ہو۔یہ خیال دل میں آتے ہی اس نے کہا۔ ’’کہ ہاں یہ بات بہت اچھی ہے۔‘‘ لیکن اس کام کی کیا ترتیب ہونی چاہیے۔ شیطان نے اس بات کا جواب بھی اس کے دل میں ڈالا۔
’’کہ اس کو کہہ دو کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر آجایا کرے‘ اور تم بھی اپنے گھر کی چھت پر بیٹھ جایا کرو اور اسے وعظ ونصیحت کیا کرو۔‘‘
اس نے اسی ترتیب سے وعظ ونصیحت کرنا شروع کردی۔ اس کے وعظ کااس لڑکی پربڑااثر ہوا‘ اس نے نمازیں اور وظیفے شروع کردیئے ‘ اب شیطان نے اس کے دل میں یہ بات ڈالی کہ دیکھ‘ تیری نصیحت کااس پر کتنااثر ہوا ہے‘ ایسی نصیحت تو ہر روز ہونی چاہیے۔‘‘
اس نے روزانہ نصیحت کرنی شروع کردی۔ اسی طرح کرتے کرتے جب کچھ وقت گزر گیا‘ تو شیطان نے پھر اس کے دل میں یہ بات ڈالی۔’’کہ تم اپنے گھر کی چھت پر بیٹھتے ہو اور وہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھتی ہے‘ راستے میں سے گزرنے والے کیا سوچیں گے کہ یہ کیا باتیں کررہے ہیں‘ اس طرح تو بہت ہی غلط تاثر پیدا ہوجائے گا۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ چھت پر بیٹھ کراونچی آواز سے بات کرنے کی بجائے‘ تم دروازے سے باہر کھڑے ہو کر تقریر کرواور وہ دروازے کے اندر کھڑے ہو کر سن لے‘ پردہ تو ہوگا ہی۔
اب اسی ترتیب سے وعظ ونصیحت شروع ہوگئی‘ کچھ عرصہ تک اسی طرح معمول رہا‘ اس کے بعد شیطان نے پھر برصیعا کے دل میں خیال ڈالا۔ ’کہ تم باہر کھڑے رہ کر تقریر کرتے ہو‘ دیکھنے والے کیا کہیں گے کہ پاگلوں کی طرح ایسے ہی باتیں کررہا ہے‘ اس لیے اگر تقریر کرنی ہی ہے تو چلو کواڑ کے اندر کھڑے ہو کر کرلیا کرو‘ وہ دور کھڑی سن لیا کرے گی۔‘‘
اب اس نے دروازے کے اندر کھڑے ہو کر تقریر کرنا شروع کردی تو لڑکی نے اس کو بتایا۔
’’کہ میں اتنی نمازیں پڑھتی ہوں‘ اتنی عبادت کرتی ہوں۔‘‘ یہ سن کر اسے بڑی خوشی ہوئی کہ میری باتوں کااس پربڑاثر ہورہا ہے۔ اب میںاکیلا ہی عبادت نہیں کررہا بلکہ یہ بھی عبادت کررہی ہے‘ کئی دن تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ بالاخر شیطان نے لڑکی کے دل میں برصیعا کی محبت ڈالی اور برصیعا کے دل میں لڑکی کی محبت ڈالی۔
لڑکی نے کہا کہ آپ کھڑے کھڑے بیان کرتے ہیں‘ میں آپ کے لیے چارپائی ڈال دیا کروں گی‘ آپ اس پربیٹھ کر بیان کردیا کرنااور میں دور بیٹھ کر سن لیا کروں گی۔‘‘
اس نے کہا۔ ’’بہت اچھا۔‘‘لڑکی نے دروازے کے قریب چارپائی ڈال دی۔ برصیعا اس پربیٹھ کر نصیحت کرتا رہا اور لڑکی دور بیٹھ کر بات سنتی رہی۔ اس دوران شیطان نے برص کے دل میں لڑکی کے لیے بڑی شفت وہمدردی پیدا کردی۔کچھ دن گزرے تو شیطان نے عابد کے دل میں بات ڈالی کہ دور بیٹھنے کی وجہ سے اونچا بولنا پڑتا ہے‘ گلی سے گزرنے والے لوگ بھی سنتے ہیں‘ کتنااچھا ہوکہ چارپائی ذرا آگے کرکے رکھ لیا کریں اور پست آواز میں گفتگو کریں‘برصیعا کی چارپائی کے قریب تر ہوگئی اور وعظ ونصیحت کا سلسلہ جاری رہا کچھ عرصہ اسی طرح گزرا تو شیطان نے لڑکی کو مزین کرکے برصیعا کے سامنے پیش کرنا شروع کردیااور وہ یوں اس لڑکی کے حسن وجمال کاگرویدہ ہوتا گیا۔اب شیطان نے برصیعا کے دل میں جوانی کے خیالات ڈالنا شروع کردیئے۔ حتیٰ کہ برصیعا کا دل عبادت خانے سے اچاٹ ہوگیا اور اس کا زیادہ وقت لڑکی سے باتیں کرنے میں گزر جاتا۔
سال گزر چکاتھا‘ ایک دفعہ شہزادوں نے آکر شہزادی کی خبر گیری کی تو شہزادی کو خوش خرم پایااور راہب کے گن گاتے دیکھے۔ شہزادوں کو لڑائی کے لیے دوبارہ سفرپرجاناتھا۔ اس لیے وہ مطمئن ہو کر چلے گئے۔ اب شہزادوں کے جانے کے بعدشیطان نے اپنی کوششیں تیز کردیں۔ اس نے برصیعا کاعشق لڑکی کے دل میں بھر دیا اور لڑکی کاعشق برصیعا کے دل میں۔ حتیٰ کہ دونوں طرف برابر کی آگ سلگ اٹھی۔ اب جس وقت عابد نصیحت کرتاتو سارا وقت اس کی نگاہیں شہزادی کے چہرے پرجمی رہتیں۔ شیطان لڑکی کو نازو انداز سکھاتااور وہ سراپا نازنین رشک قمر اپنے انداز واطوار سے اس کا دل لبھاتی چنانچہ عابد نے علیحدہ چارپائی پربیٹھنے کی بجائے لڑکی کے ساتھ ایک ہی چارپائی پر بیٹھنا شروع کردیا۔ اب اس کی نگاہیں جب شہزادی کے چہرے پرپڑیں تو اس نے سراپا حسن و جمال اور جاذب نظر پایا عابد اپنے شہوانی جذبات پرقابو نہ رکھ سکااور اس شہزادی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ شہزادی نے مسکرا کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔ یہاں تک کہ برصیعا زنا کامرتکب ہوگیا۔ جب دونوں کے درمیان سے حیا کی دیوار ہٹ گئی تووہ آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنے لگے۔ اسی دوران شہزادی حاملہ ہوگئی۔
اب برصیعا کافکر لاحق ہوئی کہ اگر کسی کوپتہ چل گیا تو کیابنے گا‘ مگر شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہ کوئی فکر کی بات نہیں‘ جب وضع حمل ہوگا تو نومولود کوزندہ درگور کردینااور لڑکی کو سمجھادینا۔ وہ اپنا بھی عیب چھپائے گی۔‘‘
اس خیال کے آتے ہی ڈر اورخوف کے تمام حجاب دور ہوگئے اور برصیعا بلاخوف وخطر ہوس پرستی اور نفس پرستی میں مشغول رہا۔ ایک دن وہ بھی آیا جب اس شہزادی نے بچے کو جنم دیا۔ جب بچے کو وہ دودھ پلانے لگی تو شیطان نے برص کے دل میں ڈالا کہ اب تو ڈیڑھ دو سال گزر گئے ہیں اور بادشاہ اور دیگر لوگ جنگ سے واپس آنے والے ہیں‘ شہزادی ان کو سارا ماجرہ سنادے گی۔ اس لیے تم اس کابیٹا کسی بہانے سے قتل کردو تاکہ گناہ کاثبوت نہ رہے۔‘‘
ایک دفعہ شہزادی سوئی ہوئی تھی‘ اس نے بچے کو اٹھایا اور قتل کرکے صحن میں دبادیا۔ اب ماں تو ماں ہی ہوتی ہے جب وہ اٹھی تو اس نے کہا۔
’’میرا بیٹا کہاں ہے ؟‘‘
اس نے کہا۔ ’’مجھے تو کوئی خبر نہیں۔‘‘
ماں نے ادھر ادھردیکھا تو نچے کاکہیں سراغ نہ ملا چنانچہ وہ اس سے خفا خفا ہونے لگی تو شیطان نے برص کے دل میں بات ڈالی۔
’’ کہ دیکھو یہ ماں ہے‘ یہ اپنے بچے کوہرگز نہیں بھولے گی۔ پہلے تو نہ معلوم یہ بتاتی یانہ بتاتی‘ اب تو یہ ضرور بتائے گی۔ اب ایک ہی علاج باقی ہے‘ لڑکی کو بھی قتل کردو۔ تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
جب بادشاہ آکر پوچھے گاتو بتادینا کہ وہ بیمار ہوئی تھی اور مرگئی تھی۔‘‘
جیسے ہی اس کے دل میں بات آئی تو کہنے لگا۔ ’’بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
اس نے لڑکی کو بھی قتل کردیا اور بچے کے ساتھ ہی صحن میں دفن کردیا۔ اس کے بعد وہ اپنی عبادت میں لگ گیا۔
کچھ مہینوں کے بعد بادشاہ سلامت واپس آگئے۔ اس نے بیٹوں کوبھیجا کہ جائو اپنی بہن کو لے آئو۔ وہ برصیعا کے پاس آئے اور کہنے لگے۔
’’جی ہماری بہن آپ کے پاس تھی‘ ہم اسے لینے آئے ہیں۔‘‘
برصیعا ان کی بات سن کر روپڑااور کہنے لگا۔
’’کہ آپ کی بہن بہت اچھی تھی‘ بڑی نیک تھی اور ایسے ایسے عبادت کرتی تھی لیکن وہ اللہ کوپیاری ہوگئی‘ یہ صحن میں اس کی قبر ہے۔‘‘
بھائیوں نے جب سناتو وہ اودھو کر واپس چلے گئے‘ گھرجاکر جب وہ رات کوسوئے تو شیطان خواب میں بڑے بھائی کے پاس گیا اور اس سے پوچھنے لگا۔ ’’بتائو تمہاری بہن کاکیابنا؟‘‘
وہ کہنے لگا۔’’ہم جنگ کے لیے گئے ہوئے تھے‘ اسے برصیعا کے پاس چھوڑ گئے تھے وہ اب فوت ہوچکی ہے۔‘‘
شیطان کہنے لگا۔ ’’وہ تو فوت نہیں ہوئی۔‘‘
اس نے پوچھا اگر فوت نہیں ہوئی تو پھر کیا ہوا؟‘‘
وہ کہنے لگا۔ ’’برصیعا نے خود یہ کرتوت کیا ہے اور اس نے خود اسے قتل کیا ہے‘ اور فلاں جگہ اسے دفن کیا‘ اور بچے کو اس نے اسی کے ساتھ دفن کردیا ہے۔‘‘
اس کے بعد وہ خواب میں ہی اس کے درمیانے بھائی کے پاس گیااور اس کوبھی یہی کچھ کہا اور پھراس کے چھوٹے بھائی کے پاس جاکر بھی یہی کچھ کہا۔ تینوں بھائی جب صبح اٹھے تو ایک نے کہا۔ ’’میںنے ایک خواب دیکھا ہے۔‘‘ دوسرے نے کہا میںنے یہی خواب دیکھا ہے اور تیسرے نے کہا۔ میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ سب کوایک جیسا خواب آیا ہے‘ سب سے چھوٹے بھائی نے کہا۔
’’یہ اتفاق کی بات نہیں ہے بلکہ میں تو جاکر تحقیق کروں گا۔‘‘
دوسرے نے کہا۔ ’’چھوڑوبھائی یہ کون سی بات ہے۔ جانے دو۔‘‘ وہ کہنے لگا۔ ’’نہیں میں تو ضرور تفتیش کروں گا۔‘‘
چھوٹا بھائی غصہ میں آکر چل پڑا‘ اسے دیکھ کر باقی بھائی بھی اس کے ساتھ ہولیے۔ انہوںنے جب جاکر زمین کوکھودا تو انہیں اس میں بہن کی ہڈیاں بھی مل گئیں اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے سے بچے کی ہڈیوں کاڈھانچہ بھی مل گیا۔ جب ثبوت مل گیاتو انہوں نے برصیعا کوگرفتار کرلیا ۔اسے جب قاصی کے پاس لے جایا گیا‘ تو اس نے قاضی کے روبرو اپنے اس گھنائونے مکروہ فعل کااقرار کرلیا اور قاضی نے برصیعا کو پھانسی دینے کاحکم دے دیا۔
جب برص کو پھانسی کے تختے پرلایاگیا اوراس کے گلے میں پھندا ڈالا گیا اور پھر پھندا کھینچنے کاوقت آیا تو پھندا کھینچنے سے عین دو چار لمحے پہلے شیطان اس کے پاس وہی عبادت گزار کی شکل میں آیا ‘وہ اس سے کہنے لگا۔
’’کیامجھے پہچانتے ہو کہ میں کون ہوں ؟‘‘
برصیعا نے کہا۔ ’’ہاں میں تمہیں پہچانتا ہوں کہ تم وہی عبادت گزار ہو جس نے مجھے وہ دم بتایاتھا۔‘‘
شیطان نے کہا۔ ’’وہ دم بھی آپ کومیں نے بتایاتھا‘ لڑکی کوبھی میں نے اپنااثر ڈال کربیمار کیاتھا۔ اسے قتل بھی میں نے تجھ سے کروایا تھا اور اگر اب تو بچنا چاہتا ہے تو میں ہی تجھے بچاسکتاہوں۔‘‘ برصیعا نے کہا۔
’’اب تم مجھے کیسے بچا سکتے ہو؟‘‘
وہ کہنے لگا۔ ’’تم میری بات ایک مان لو‘ میں تمہارا یہ کام کردیتاہوں۔‘‘
اس نے پوچھا۔ ’’کہ میں آپ کی کون سی بات مانوں؟‘‘
اس شیطان مردود نے کہا۔ ’’کہ بس یہ کہہ دو کہ خدا نہیں ہے۔‘‘
برصیعا کے تو حواس باختہ ہوچکے تھے‘ اس نے سوچا کہ چلو میں ایک دفعہ کہہ دیتا ہوں‘ پھر پھانسی سے بچنے کے بعد دوبارہ اقرار کرلوں گا۔ چنانچہ اس نے کہہ دیا۔ ’’خدا موجود نہیں ہے۔‘‘
عین اس لمحے میں کھینچنے والے نے پھندا کھینچ دیا اور یوں اس عبادت گزار کی کفر پر موت آگئی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close