Naeyufaq May-16

لیپ کا سال

ناصر ملک

ہر کتاب کا ٹائٹل کھلی دعوت بن کر آنکھوں میں کُھب جاتا ہے۔ کتاب کے وسط میں جا کر تحریر جوان ہوجاتی ہے جو ہر قاری کو اپنے سحر میں الجھا کر بے خود کردیتی ہے۔ آخری سطروں پر جاکر قاری کی سانسیں بڑھاپا اوڑھ لیتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ کتاب عقب سے بوڑھی اور سامنے سے جوان نظر آتی ہے۔
ہر عورت کی زندگی بھی غزل کی کتاب ہوتی ہے۔وہ الگ تھی۔ ٹائٹل سے بوڑھی دکھائی دیتی تھی مگر کھڑکی میں کھڑی عقب سے جوان دکھائی دے رہی تھی۔ کھلی ہوئی کھڑکی کے پار ڈوبنے والے سورج کی تیرگی دکھائی دے رہی تھی۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے کھڑکی کے پٹ سہارا لینے کے سے انداز میں تھام رکھے تھے۔ ہاتھوں کی گرفت مضبوط نہ بھی ہوتی تب بھی منظر اُس کی نگاہوں سے وقت کی طرح سرکنے والا نہیں تھا۔
طویل سانس لے کر وہ کھڑکی بند کرنے ہی لگی تھی کہ باہر سے اُڑتی ہوئی ٹینس بال کھڑکی عبور کرکے اُس کے سینے سے آن ٹکرائی۔ اُس کے گرنے میں شدت نہیں تھی۔ زیادہ چوٹ نہیں آئی۔ گیند قالین پر گری اور ٹپا کھاتی ہوئی صوفے کے نیچے لڑھک گئی۔ جاتے ہوئے اُسے سمجھا گئی کہ وہ عمر کا وہ حصہ بہت پیچھے چھوڑ آئی ہے جہاں جوانی کو پتھر پڑتے ہیں۔ پتھروں کے ساتھ کوئی پرچی، کوئی دل یا کوئی سندیسہ آیا کرتا ہے۔ اَب بچوں کی شرارت کی زد پر اچھلتی گیند ہی اُس کے کورٹ میں گر سکتی تھی۔
پلٹی اور صوفے کے نیچے پڑی ہوئی گیند کو دیکھتے ہوئے بیڈ پر آگئی۔ طویل سانس حلق سے خارج ہوگیا۔ اُس نے دونوںہاتھوں کی ہتھیلیوں کو باری باری دیکھا، خالی پا کر سوچنے لگی۔ ’’محبت ریت کی مانند ہوتی ہے، جوانی پانی کی طرح اندھی ہوتی ہے۔ جونہی مٹھی کھلتی ہے، دونوں ہی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔میری بند مٹھیوں سے ریت اور پانی سرک چکے ہیں۔ جاتے جاتے میری ہتھیلیوں پر چند لکیروں کا اضافہ کر کے مجھے بتلا گئے ہیں کہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں۔ میری جوانی کی کتاب میں غزلیں ختم ہوچکی ہیں۔ پڑھنے والے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے۔‘‘
وہ اپنی گرے کلر کی گداز امپورٹڈ چادر کو شانے پر خاص ترتیب سے ڈالتے ہوئے قدآدم آئینے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
آئینے میں ایک اجنبی چہرہ اُس کی نگاہوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوگیا۔ اُس نے غور سے دیکھا۔ اپنا جائزہ لینے کی مہلت آج ہی ملی تھی۔ تھر کے ٹیلے جیسے گداز گال عمر کی آندھی کی زد میں آکر لکیر زدہ ہوگئے تھے۔ آنکھوں کے گرد ہلکی ہلکی سلوٹیں پڑ گئی تھیں جو آج سے بارہ سال پہلے دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ ٹھیک بارہ سال پہلے والی شمائلہ اپنے خوبصورت ہاتھ سے آئینے پر ثبت بوڑھے چہرے کو حرفِ غلط کی طرح مٹا کر مسکرانے لگی۔ اُس کی مسکراہٹ بڑی معنی خیز تھی۔ اُسے قیامت انگیز شمائلہ کی طنزیہ آواز سنائی دی۔ ’’اے بوڑھی گھوڑی! لال لگام کبھی جوانی کی طرح انگڑائیوں کے بل پر اٹھلاتی نہیں ہیں۔ تم لاکھ چہرے کو میک اَپ کی شوخیوں میں چھپائو، کہیں نہ کہیں سے بڑھاپا چھلک کر تمہارا بھید کھول دیتا ہے۔ کتاب کی جلد ہی بتلا دیتی ہے کہ اِس میں چھپی ہوئی غزلوں کو کئی مرتبہ پڑھا جاچکا ہے۔‘‘
وہ ناراض ہو کر کھڑی ہوگئی۔ ’’تم جھوٹ بولتی ہو۔ میں اتنی بھی بوڑھی نہیں ہوئی ہوں۔ چھتیس سال عورت کی جوانی کی عمر ہوتی ہے۔ تم نے جوانی اوڑھ کر امریکا کا سفر کیا تھا۔ تم نے کہا تھا کہ وہاں قدم قدم پر میرے پیروں تلے ہتھیلیاں بچھائی جائیں گی۔ اُن ہتھیلیوں نے تمہارے پیروں کو تحفظ کیا دیا؟ تمہارے سر پر کڑکتی دھوپ کو روکنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔میں ابھی جوان ہوں۔ مجھے دیکھ کر ابھی بھی ندیم ٹھہر کر دیکھنے پر مجبور ہوجائے گا۔‘‘
آئینہ ہمیشہ عورت سے جھوٹ بولتا ہے۔ دل میں ہنستا ہے، عورت کو خوشامد کی گدگدی کرکے ہنسنے پر مجبور کردیتا ہے۔ آئینے نے جوانی میں ملبوس شمائلہ کو چھپا لیا۔ ادھیڑ عمری کے زینے پر بیٹھی شمائلہ کو گلے لگا لیا۔ تعریف کے بل پر دل سے اٹھکیلیاں کرنے لگا۔ ’’وہ واقعی جھوٹ بولتی ہے۔ تم سچ کہتی ہو۔ میں تم دونوں کے بیچ میں انصاف کرتا ہوں۔ وہ نادان تھی، جسے حسن سمجھتی تھی، وہ فقط ایک دھوکا تھا۔ تم سمجھدار ہو۔ جانتی ہو کہ حقیقی حسن کیا ہوتا ہے۔ کیا ہوا کہ رنگ و نور کی دھوپ نے شام اوڑھ لی ہے، حقیقت کبھی چھپانے سے چھپتی نہیں۔ تمہارا وجود اَب بھی قیامت بپا کرسکتا ہے۔ اِن چند ایک جھریوں کا کیا ہے، میک اَپ کی گہری تہہ بچھانے سے چھپ جائیں گی۔‘‘
وہ لہرا سی گئی۔ تعریف نے اُس کی گزری ہوئی جوانی کو بلا کر اُس کی گود میں ڈال دیا تھا۔ وہ اپنے بائیں ہاتھ کو سہلاتے ہوئے احتیاط سے اپنا جائزہ لینے لگی۔ ایسے ہی وقت میں کھڑکی کے پار کچھ ہل چل کا احساس ہوا۔ جلدی سے کھڑکی کو کھول کر باہر دیکھنے لگی۔ فرسٹ فلور پر واقع آراستہ بیڈ روم کی اِس کھڑکی سے عین سامنے والی پرانی عمارت کا صحن دکھائی دیتا تھا۔ اُس کی سانس کی رفتار تیز ہوگئی۔ اُسے پہچاننے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ صحن میں لکڑی کے بڑے دروازے سے داخل ہوکر مرکزی عمارت تک جانے والا ندیم ہی تھا۔ وہ آہستہ قدموں سے ایک شاپنگ بیگ اٹھائے سیڑھیوں تک پہنچا۔ ٹھٹک کر مڑا اور فرسٹ فلور کی اُس اَدھ کھلی کھڑکی کی طرف دیکھنے لگا جہاں شمائلہ کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔ اُس نے شاید عادتاً ہی کھڑکی کی طرف دیکھا تھا۔ ہمیشہ بند رہنے والی کھڑکی آج کھلی ہوئی تھی۔ وہ چونک کر غور سے دیکھنے لگا۔ کھڑکی کے اندر سے عورت کا رنگ برنگ وجود جھانک رہا تھا۔
کچھ نہ سمجھتے ہوئے وہ پلٹ کر اندر چلا گیا۔ وہ نظروں سے اوجھل ہوا تو اُس کو سانس لینا یاد آیا۔ کم بخت آج اتنے برسوں کے بعد دکھائی دیا تھا، آج بھی سانس کے راستے میں تن کر کھڑا ہوگیا تھا۔ اُس نے غور سے ادھر ادھر نظریں جما کر اُس پرانی عمارت کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ سب کچھ ویسے کا ویسا ہی تھا، جیسا وہ چھوڑ کر امریکا چلی گئی تھی۔ وقت کی گرد بہت گہری تھی مگر نقوش پہچاننے میں کوئی مشکل پیش نہ آرہی تھی۔ اُس کی کھڑکی کے نیچے بنے ہوئے لان میں پودوں کی ترتیب، تین قدمچوں والی سیڑھی، غیر تراشیدہ گھاس اور سیمنٹ کے بنے ہوئے دوبنچ… یہی تو وہ لان تھا جہاں وہ بیٹھ کر ندیم سے گھنٹوں پڑھا کرتی تھی۔ بڑے صحن کے وسط میں پانچ کمروں والی عمارت واقع تھی۔ وہی پیلا رنگ… پہلے نظر کو لبھاتا تھا، آج اپنی یرقان زدہ زندگی پر نوحہ خواں دکھائی دیتا تھا۔ عمارت پر منڈیروں تک چڑھی بیلیں سوکھ کر یوں لگ رہی تھی جیسے ناراض بہو سے ملنے کے لیے میلوں کا سفر یاپیادہ کرنے والے بوڑھی عورت کے دامن سے سوکھے کیکر یا سوکھی بیر کی ٹہنیاں چمٹ جاتی ہیں۔
بارہ سال پہلے یہ گھر پوری کالونی میں خوبصورت مانا جاتا تھا۔ اَب غریب دادا کی طرح اپنے جوان پوتے پوتیوں میں بیٹھا دکھائی دے رہا تھا۔ اطراف میں کئی نئے گھر تعمیر ہوچکے تھے۔ ہر بننے والے نئے گھر کا قد بلند رکھا گیا تھا۔ بڑی قامت کے ہمسائیوں نے اُس کے قد کو گھٹا کرسطح زمین کے برابر کردیا تھا۔ اُسے دکھ کا احساس ہوا۔ پھر دکھ نے بے کراں خوشی کا لبادہ اوڑھ کر اُس کے وجود میں غرور کا نشہ بھر دیا۔ دونوں بازو پوری وسعت میں کھول کر وہ ایڑیوں کے بل گھوم کر لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پر اوندھے منہ آن گری۔ لبوں سے بے ساختہ نکلا۔ ’’ہائے ندیم! زمانہ بدل گیا، تم نہیں بدلے۔ تمہارا گھر نہیں بدلا۔ تم نے کہا تھا کہ تمہاری محبت سچی ہے۔ مجھے لوٹ کر تمہاری دنیا میں آنا پڑے گا۔ دیکھ لو! بارہ سال تمہاری جدائی میں گزار کر تمہاری جانب لوٹ آئی ہوں۔ مجھ سے محبت کی جائے، یہ میری منہ زور جوانی کا حق ہے۔ تم حُسن کی آگ پر پسینے پسینے ہو کر بھی بیٹھے رہو اور تپش کو تاپتے رہو، یہ تم پر فرض ہے۔ تم نے اپنا فرض نبھادیا ہے۔ اَب میں تمہارے لئے آدھی دنیا کا چکر کاٹ کر آچکی ہوں۔‘‘
اَچانک زوردار آواز کے ساتھ بیڈ روم کا درواز ہ کھول کر اُس کا چھ سالہ گول مٹول سا بیٹا اندر داخل ہوا۔ ماں کو بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا دیکھ کر چھلانگ لگا کر اوپر چڑھ بیٹھا۔ وہ کراہی۔ ’’یہ کیا بچپنا ہے؟ اُترو نیچے۔ میرا سانس رکنے لگا ہے۔‘‘
وہ ہنسا۔ ’’عجیب ماما ہو۔ مجھے اپنی جان کہتی ہو۔ میں قریب آتا ہوں تو سانس رکنے کوآجاتی ہے۔ میں نیچے نہیں اُتروں گا۔‘‘
وہ کروٹ لینا چاہتی تھی۔ کروٹ نہ لے پائی تو اُس کے بدن نے اُسے سمجھایا۔ ’’نادان! اب تم بارہ سال پہلے والی الہڑ نہیں رہی ہو۔ شعیب ٹھیک کہتا ہے۔ ہار مان کر جان چھڑا لیا کرو۔‘‘
وہ بولی۔ ’’اوکے مائی سن! تم ٹھیک کہتے ہو۔ میری جان اب بڑی ہوگئی ہے۔‘‘
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا اور اُتر کر ماں کے برابر لیٹتے ہوئے بولا۔ ’’ماما! بہت جلد ہار مان لیتی ہو۔ ایسے تو مزہ نہیں آتا ناں۔ کبھی پاپا کی طرح ضد کر کے ٹکر لیا کرو۔‘‘
وہ ٹھیک کہتا تھا۔ وہ سوچ میں پڑ گئی۔ شکیل اُس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا۔ دولت کے بل پر اُڑتا ہوا آیا تھا اور نظر کی کھڑکی سے گھس کر سیدھا دل میں اُتر گیا تھا۔ باپ بیٹا کھیلا کرتے تو وہ اپنے بیٹے کے بچپنے کے مقابل میں اپنا بچپنا تان کر کھڑا ہوجایا کرتا تھا۔ ہار نہیں مانتا تھا بلکہ شعیب کو تھکا کر اپنی گود میں بھر لیتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ بچوں کو حوصلہ مند انسان بنانے کے لیے اُن کے ساتھ برابر کی فائٹ کرنا چاہئے تاکہ وہ بڑے ہوکر کسی بھی مسئلے میں جلد فتحیابی کی توقع نہ کریں۔ لڑتے رہیں تاوقتیکہ منزل کو قدموں تلے جھکا نہ لیں۔ مرد فولاد کی سلاخ ہوتا ہے۔ عورت توت کی ڈالی ہوتی ہے۔ مرد ٹکرا کر فتح کرتا ہے۔ عورت جھک کر دل میں جگہ بناتے ہوئے روح میں اُتر جاتی ہے۔ وہ شعیب میں شکیل کی مردانگی دیکھا کرتی تھی۔ شکیل کی طرح اُسے جھکانے کی کوشش نہیں کرتی تھی، خود جھک جایا کرتی تھی۔
ماں کو سوچ میں پڑا دیکھ کر اُس کی ناک سے اپنی ناک رگڑتے ہوئے انگلش میں بولا۔ ’’ماما! سوچتے ہوئے بالکل اولڈ ویمن دکھائی دینے لگتی ہو۔ میک اپ کرکے چہرہ چھپالیتی ہو، بات کرتے ہوئے لہجے کی تھکاوٹ پر بھی شگفتگی کا پردہ ڈال لیا کرو تو پھر اچھی لگنے لگو گی۔‘‘
وہ مسکرانے لگی۔ بچپنے نے بڑھاپے کو چھپنے کا پکا اصول سمجھا دیا تھا۔ ماں کے گالوں کا بوسہ لے کر وہ اُٹھا۔ ادھر ادھر دیکھا۔ گیند کہیں نظر نہ آئی۔ ماما سے مخاطب ہوا۔ ’’میری بال کمرے میں آئی تھی۔ نظر نہیں آرہی۔‘‘
اُس نے صوفے کے نیچے اشارہ کیا۔ وہ گھٹنوں کے بل قالین پر بیٹھ کر بال نکالنے لگا۔ تھوڑی مشکل پیش آئی مگر اُس نے کسی نہ کسی طرح ہاتھ ڈال کر گیند نکال ہی لی۔ وہ دیکھ کر سوچنے لگی۔ ’’شکیل کا بیٹا ہے، باپ کی طرح راستہ نکال ہی لیتا ہے۔ مجھے بھی خود میں اِسی طرح کی لچک پیدا کرکے راستہ نکالنا ہوگا۔‘‘
وہ بھاگتا ہوا باہر نکل گیا۔ جاتے ہوئے ماما کو کھڑکی میں کھڑے ہو کر کراچی کا نظارہ کرنے کا اشارہ کر گیا۔ وہ پھر کھڑکی میں آگئی۔ پیلی بوڑھی عمارت کو دیکھا۔ کوئی ذی نفس دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ندیم اپنے کمرے میں گھس کر بیٹھ گیا تھا۔ وہ سوچنے لگی۔ ’’اُس نے مجھے کھڑکی میں کھڑے ہوکر دیکھا۔ ہوسکتا ہے پہچانا نہ ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھا ہو کہ میری بھابی کھڑی ہوگی۔‘‘
دل نے پہلو میں کچوکا لگایا۔ ’’اُسے تمہارا انتظار نہیں ہے۔ وہ اپنی دنیا میں مگن ہے۔ تم نے اُسے اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی۔ خوابوں کی عمر گزر چکی ہے، اُسے خوابوں میں تمہارے آنے کی اطلاع نہیں ملی ہوگی۔‘‘
بات ٹھیک ہی تھی۔
وہ اٹھی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ پرانی عمارت کو نئے سرے سے رنگ کرنے لگی۔ چند منٹوں میں ہی دیواریں نیا رنگ پکڑ کر خوبصورت دکھائی دینے لگیں اور ڈھلتی عمر کی دراڑوں میں رنگ چونا بھر گیا۔ اپنے بہت ہی مہنگے لباس کا جائزہ لیتے ہوئے نیچے اُتر آئی اور ندیم کے گھر کی طرف جانے لگی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ اُس کا آبائی گھر پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوچکا تھا۔ اُس کے بھائی اور بھابھی نے اپنے ذوق کے مطابق اُسے سنوار لیا تھا۔ وسط سفر میں پہنچی۔ سامنے دیکھا۔ تھکی ہوئی عمارت لاٹھی پر ٹکے ہوئے بڑھاپے کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سامنے والے گھر کا ہم عمر مکان لیپا پوتی اورنگہداشت کے بل پر زمین پر فخر سے چھاتی پھلائے ہوئے کھڑا تھا۔
زندگی کا چلن یہی ہے۔ وہ اپنے ڈھلتے حسن کو ہر روز امپورٹڈ لباس اور مہنگے میک اپ میں لپیٹ کر جوان بنا لیتی تھی۔ ندیم کو پہلی مرتبہ دیکھ کر وہ فخر سے سوچنے لگی۔ ’’تم اپنے گھر کی طرح جوانی میں بڑھاپا اوڑھے بیٹھے ہو۔ دنیا ایسی نہیں ہے۔ وقت کو چھین کر اپنے پرس میں ڈالنا پڑتا ہے۔‘‘
لکڑی کا بنا ہوا مین گیٹ بارہ سال پہلے خوبصورت دکھائی دیتا تھا۔ آج ویران شمشان گھاٹ کا سالخورہ دروازہ گزرے وقت پر نوحہ خواں تھا۔ اُس نے گرد سے اپنا آپ بچاتے ہوئے اندر قدم رکھا۔ انگلیوں پر گرد چپک گئی۔ وہ چلتے چلتے انگلیوں کو دیکھنے لگی۔ لوشن اور ٹالکم پائوڈر کی تہہ جلد کو نفیس بناتی ہے، بارہ سال پرانی گرد اُس کی نفاست پر داغ کی طرح دکھائی دی۔پھونک مار کر گرد اُڑا دی۔ دل کو بہلانے والی بات ہے۔ گرد انگلیوں سے اُڑ کر دامن سے چپک گئی۔ مغرور حُسن جھک کر دیکھنے کا عادی نہیں تھا۔ گرد کو نہ دیکھ پایا۔
ارد گرد دیکھتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ جہاں بھی پیر رکھتی، نشان پڑ جاتا۔ مسکر ا کر فرش پر لگنے والے ندیم کے نقش پا کو دیکھتی ہوئی چلتی گئی۔ بند دروازے تک قدموں کے نشان اُس کی رہنمائی کرتے رہے، پھر چھپ گئے۔ اُس نے دروازے کے ہینڈل کو آہستگی سے دھکیلا۔ دروازہ کھل گیا۔ گرد سے بچ کر اندر داخل ہوئی۔ سامنے صوفے پر بے ڈھنگے انداز میں ندیم لیٹا ہوا تھا۔ اُس نے اپنی آنکھیں میچ رکھی تھیں۔ اُس کی آمد پر چونکا نہیں تھا۔ وہ اُسے متوجہ کرنے کے لیے ہولے سے بولی۔ ’’ندیم! میرے ندیم! کیا سورہے ہو؟‘‘
اُس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ سامنے شمائلہ قیامت بنی کھڑی تھی۔ وہ شاید پہچانا نہیں۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگا۔ اُٹھ کر اُس کے سامنے آگیا۔ ’’تم شمائلہ ہی ہوناں؟‘‘
وہ اُس کے ردعمل سے دل ہی دل میں طمانیت محسوس کرنے لگی۔ رگ و پے میں خوشی سرایت کرگئی۔ دل میں غروربھر گیا۔اِٹھلا کر بولا۔’’دیکھا! میں نہ کہتا تھا کہ وہ تمہیں کبھی بھی بھولنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ محبت کوئی ایک دن، ایک پل یا ایک لمحے کے لیے تھوڑی ہوتی ہے، یہ تو نسلوں میں جینز کی طرح سرایت کرنے والا جذبہ ہوتا ہے۔‘‘
بارہ برسوں کی تشنگی ایک پل میں سیراب نہیں ہوسکتی۔ دونوں محبت کرنے والے وجود یہی چاہتے تھے۔ کئی منٹ گزر گئے۔ وہ طویل سانس حلق میں اتار کر بولی۔ ’’ندیم! تم نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟‘‘
وہ سنبھل چکا تھا۔ بولا۔ ’’اور تم نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟‘‘
دونوں کے لبوں سے ایک ہی بات نکلی تھی۔ مگر دونوں باتوں میں دھڑکنے والے احساس کی نوعیت قطعی جداگانہ تھی۔ وہ بولی۔ ’’گھر کباڑخانہ دکھائی دیتا ہے اور لان بھی اجڑ چکا ہے۔ تم نے خود پر توجہ دینا بھی چھوڑ دیا ہے۔‘‘
وہ بولا۔ ’’گھر اور مکان میں فرق ہوتا ہے۔ یہ مکان تھا، مکان ہے اور لامحالہ بات ہے کہ ہمیشہ مکان ہی دکھائی دیتا رہے گا۔ تم سنائو۔ کیسی ہو؟ کب آئی ہو اور تمہارے شکیل صاحب کیسے ہیں؟‘‘
ایک ہی سانس میں اُس نے تین کہانیاں دریافت کرلی تھیں۔ وہ ہولے سے بولی۔ ’’شکیل کو میں نے چھوڑ دیا ہے۔ اُس نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے کہ شعیب کو میرے حوالے کردیا ہے۔ شعیب میرا بیٹا ہے۔‘‘
وہ حیران ہوکر بولا۔ ’’بڑا ہی کچار نگ تھا۔ بارہ برسوں میں اُتر گیا۔ ‘‘
وہ کچھ نہ بولی۔ یہ شخصیت کا کمزور پہلو تھا۔ جھانکنے والے نے اُس کی ذات کے احاطے کا آغاز یہیں سے کردیا تھا۔ وہ بولا۔ ’’شمل! مجھے اِس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے کہ اُس نے تمہیں کیوں چھوڑ دیا۔ یہ ضرور کہوں گا کہ اُس سے محبت تو نبھا دیتیں۔ کیا شجر سے پھل جھڑ چکے تھے؟‘‘
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔ ’’نہیں ندیم! ابھی رُت گدرائی نہ تھی کہ اُس نے چلن بدل لیا۔ ہم دونوں کے تعلق کے بیچ مجھ سے کوئی کوتاہی سرزد نہیں ہوئی تھی۔‘‘
وہ سر ہلا کر بیٹھ گیا۔ مہمان کا خیال آنے پر اُٹھا اور سنگل صوفے پر ایک جھاڑن سے گرد جھاڑ کر بولا۔ ’’ادھر آئو شمل! یہاں بیٹھ کر باتیں کرو۔‘‘
وہ بیٹھ کر دیکھنے لگی۔ ہر چیز گرد میں بری طرح اَٹی ہوئی تھی۔ خود ندیم بھی اپنی چمک اور تاب کھو چکا تھا۔ اُس کی جوانی کنپٹیوں پر سفیدی کا لحاف اوڑھ کر سونے کی تیاریاں کررہی تھی۔مونچھوں کے گھنیرے پن میں کافی کمی آگئی تھی۔ وہ اب لڑکا نہیں، بھرا پُرا مرد دکھائی دیتا تھا۔ اُسے انہماک سے اپنے چہرے بشرے کو دیکھتا پا کر مسکرایا۔ ’’اپنے اُس بے وقوف ندیم کو تلاش کررہی ہو؟‘‘
وہ جھینپ گئی۔ جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی۔ اُس نے ٹوک کر شرمندہ کردیا تھا۔ کمرے میں رکھی اشیاء کو دیکھنے لگی۔ ہر چیزویسے کی ویسی پڑی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے اُس کے جانے کے بعد انہیں استعمال ہی نہیں کیا تھا۔ وہ بولا۔ ’’شمل! کمرے کی ترتیب دیکھ کر حیران ہورہی ہو۔ تمہارے جانے کے بعد یہاں کوئی رہا ہی نہیں۔ کوئی آیا ہی نہیں۔ میں اکیلا ہی رہتا رہا ہوں۔ میں نے تمہارے ہاتھ کی رکھی ہوئی چیزوں کو چھیڑا تک نہیں۔ چھیڑ کر کرتا بھی کیا؟‘‘
دل میں ہلکا سا دکھ جاگا۔ اُس کا چاہنے والا ابھی تک زمانے کو وہیں پر روکے بیٹھا تھا جہاں پر وہ پلٹی تھی۔ اُس نے پوچھا۔ ’’میں تین دنوں سے کھڑکی سے جھانک کر دیکھ رہی ہوں۔ تم آج نظر آئے ہو۔ کیا یہاں نہیں رہتے ہو؟‘‘
وہ بولا۔ ’’تبادلہ ہونے پر میں حیدر آباد چلا گیا تھا۔ اَب تک وہیں ہوں۔ کبھی کبھار یہاں آجاتا ہوں اور تمہاری یاد سے دل بہلا کر چلا جاتا ہوں۔ اِس محل کو تاج محل بننا تھا۔ ایک کردار کے غائب ہونے سے یہ ادھورا رہ گیا۔ ادھوری عمارتوں کی کوئی دیکھ بھال نہیں کرتا۔‘‘
وہ بولی۔ ’’ابھی تک وہی ملازمت چل رہی ہے؟‘‘
اُس نے بے دلی سے مسکرا کر کہا۔ ’’ہاں! پڑھانے والا اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ کالج ہے… میتھ کی کلاس ہے… اور میں۔ بس یہی دنیا ہے۔ یہی معمول ہے۔‘‘
وہ خاموش رہی۔ کچھ توقف کے بعد ندیم کی بھاری آواز اُبھری۔ ’’کچن ویران ہے۔ تمہارے آنے کا پتہ نہیں تھا ورنہ تمہاری تواضع کے لیے کچھ بازار سے لے آتا۔‘‘
وہ بولی۔ ’’نہیں ندیم! کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔‘‘ کمرے کی سیلن ناگوار گزر رہی تھی۔ اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ ’’کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ ہم لان میں جا کر بیٹھیں۔ یہاں میرا دم گُھٹ رہا ہے۔‘‘
وہ کندھے اُچکا کر کھڑا ہوگیا۔ آگے پیچھے چلتے ہوئے دونوں لان میں آئے۔ ندیم نے ہاتھ میں پکڑی جھاڑن سے دونوں بنچوں سے گرد جھاڑی اور آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ وہ بولی۔ ’’تم کافی بدل گئے ہو۔‘‘
وہ مسکرا کر بولا۔ ’’خیر ایسی بھی بات نہیں۔ بارہ سالوں کے سفر میں اتنی تھکاوٹ تو ہو ہی جاتی ہے۔ تم البتہ تازہ دم لگتی ہو۔‘‘
اُسے دل ہی دل میں تسلی ہوئی۔ میک اَپ نے اُس کا مان رکھ لیا تھا۔ ’’آدمی کو خود پر توجہ دیتے رہنا چاہئے۔‘‘
وہ معنی خیز انداز میں بولا۔ ’’خود پر توجہ دیتے ہوئے دوسروں سے بے پروا بھی نہیں ہونا چاہئے۔‘‘
دل میں چبھن کا احساس ہوا۔ وہ سماعت سے اُتر کر دل سے مخاطب ہوا تھا۔ تھکے تھکے لہجے میں بولی۔ ’’بعض اوقات انسان بہت بڑی غلطی کرتے ہوئے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ میں بھی ایسی ہی بن گئی تھی۔‘‘
ابھی بہت سی باتیں کرنا باقی تھیں۔ سلسلہ جہاں سے منقطع ہوا تھا، وہاں سے جوڑنا تھا۔ ایسے کاموں میں بہت سا وقت صرف ہوتاہے۔ گھنٹوں بیٹھنا چاہتی تھی مگر بھول گئی کہ وہ محبت کرنے والے کے پہلو میں ایک لڑکی نہیں، ایک بچے کی ماں بیٹھی ہے جس کی ڈوری پیچھے سے کھینچی جاسکتی ہے۔ کھڑکی میں اُس کا نیلی آنکھوں والا بچہ ہاتھ لہرا لہرا کر اُسے پکارنے لگا تھا۔ اُس نے پوچھا۔ ’’کیا ہے؟‘‘
وہ بولا۔ ’’ماما! بہت دیر ہوچکی ہے۔ مجھے بھوک لگی ہے۔‘‘
وہ کچھ کہنے کاارادہ رکھتی تھی مگر ندیم نے کہا۔ ’’تم جائو۔ اپنے بیٹے کی بھوک مٹائو۔ ہم کل مل لیں گے۔‘‘
وہ کہنا تو چاہتی تھی کہ آج ملنے کے بعد کیا کل ملنا باقی رہ جائے گا؟ مگر خاموش رہی۔ایک نظر اُس پر ڈالتے ہوئے اپنے گھر کی طرف چل دی۔
کھانا کھانے کے بعد شعیب اُس کے پاس ہی لیٹ کر سوگیا۔ اُس نے بال کھولے اور لیٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ فون کی بیل بج اُٹھی۔ سیلولر فون سیٹ آن کرنے سے پہلے اسکرین پر دیکھا۔ اُس کا چھوٹا بھائی لائن پر منتظر تھا۔ بٹن پش کرکے بولی۔ ’’امجد! تم نے اچھا نہیں کیا۔ میں پاکستان میں آئی ہوں، تم سیاحت پر نکل گئے ہو۔‘‘
وہ ہنس کر بولا۔ ’’باجی! تم کون سا دو چار دنوں کے لیے آئی ہو۔ اَب یہاں ہی رہو گی۔ ہم مہینہ بھر کے بعد واپس آجائیں گے اور خوب انجوائے کریں گے۔‘‘
اُس نے دل ہی دل میں کہا۔ ’’مہینہ بھر کے بعد…‘‘ تضحیک کا احساس ہوا تو خفگی سے بولی۔ ’’میرا آنا اتنا ہی ناگوار گزرا ہے تو میں واپس چلی جاتی ہوں۔‘‘
اُس نے جھوٹ کہا تھا۔ وہ کبھی نہ جانے کے لیے آئی تھی۔ امجد نے کہا۔ ’’باجی! ناراض کیوں ہوتی ہو۔ تمہاری آمد کا سننے سے بہت پہلے ہم نے پروگرام بنایا تھا۔ ہم آکر آپ کو منا لیں گے۔ تب تک آپ اپنے گھر کا جائزہ لیتی رہیں۔‘‘
اُسے یہ سمجھ آیا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ دیوانوں کی طرح ادھر اُدھر بھاگتی رہو اور بنجر دیواروں سے سر پھوڑتی رہو۔ وہ بولی۔ ’’کیسے بھائی ہو۔ بہن اپنا گھر اجاڑ کرتمہاری دہلیز پر پہنچی ہے تو تم اُسے رونے کے لیے کندھا دینے پر بھی تیار نہیں ہو۔‘‘
طعنہ دے کر رونے لگی۔ وہ سسکنے کی آواز سن کر گھبرا گیا۔ تفکر آمیز لہجے میں بولا۔ ’’آئی ایم ویری ساری بہنا! میں تمہارے دُکھ کو سمجھتا ہوں۔ آکر تمہارے آنسو پونچھ لوں گا۔ لو اَب اپنی بھابھی سے بات کرو۔‘‘
وہ اُس سے پہلو بچا کر نکل گیا تھا اور اُسے پُرسہ دینے کے لیے تعینات کرگیا تھا جس سے شمائلہ کا خون کا رشتہ ہی نہیں تھا۔جِسے اُس نے آج تک دیکھا ہی نہیں تھا۔ اُس کی بھابھی نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔ ’’باجی! یہ تمہارا اپنا گھر ہی تو ہے۔ آرام سے رہو۔ چاچا حسین علی تمہارا ہر طرح سے خیال رکھے گا۔ اُس کمینے شکیل کے لیے زیادہ نہ سوچا کرو۔ ایسے لوگوں سے جان چھوٹی کو بھلا جاننا چاہئے۔‘‘
وہ روتے روتے چُپ ہوگئی۔ جس کے لیے اُس نے پورے زمانے کو اپنا دشمن بنایا تھا، اُسی کا نام اَب گالی کی طرح سماعت میں اُترتا تھا۔ لٹے لٹے سے لہجے میں بولی۔ ’’بھابھی! جو نہیں ہونا چاہئے تھا، وہ ہوچکا ہے۔ شعیب میرے پاس ہے۔ مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں ہے۔‘‘
شعیب کو پیار کا سندیسہ دے کر بھابھی نے فون بند کردیا۔ وہ فون کو بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر سوچنے لگی۔ شکیل اُس کی نظروں کے سامنے لہرا گیا۔ پاس رہ کر دور ہونے والا اُس کی آنکھوں میں شیشے کی کرچیاں بھرنے لگا تھا۔ اُس نے آنکھوں میں آئے آنسوئوں کو ہتھیلی کی پشت سے صاف کیا۔ ایک نظر شعیب پر ڈالتے ہوئے بڑبڑائی۔ ’’کیسے اچانک ظالم بن گئے ہو کہ محبت کی اِس سانجھی یادگار کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے مجھے طلاق لینے پر مجبور کردیا۔ رفاقت میں گزرے اتنے برسوں میں ایک رات بھی تو ایسی نہیں آئی تھی جس نے مجھے تم سے دور رکھا ہو۔ پھر کیا ہوا؟‘‘
دل غبار سے بوجھل ہوگیا۔ دیوانوں کی طرح سوئے ہوئے شعیب کو چومنے لگی۔ دل نے طعنہ دیا۔ ’’تم اپنے بچھڑے ہوئے شوہر کے چہرے کو آنکھوں میں رکھ کر بیٹے کو چوم رہی ہو۔ کیا یہ خیانت نہیں ہے؟‘‘
وہ گھبرا کر کھڑکی میں آن کھڑی ہوئی۔ طاق کھولے تو نیم خنک ہوا نے اُس کو اپنی بانہوں میں لیتے ہوئے لمحاتی آسودگی سے نوازا۔ بال لہرا کر کمر کے رُخ ہوگئے۔ چند لٹیں ماتھے پر سے جھول کر ہونٹوں تک آگئیں۔ اُس نے انگلیوں کی پوروں سے انہیں کانوں کے پیچھے دھکیل دیا۔ جوانی کے گزرنے کے ساتھ ہی اُس کی زلفوں کو سمیٹنے والا بھی رخصت ہوگیا تھا۔ وہ سوچنے لگی۔ ’’زلفوں کی الجھی لٹوں کو سلجھانے والے ایک غریب لیکچرار کومیں نے خود دھکا دے دیا تھا۔ ایک امیر گرین کارڈ ہولڈر تاجر نے جوانی کی دکان کے خالی ہونے پر رخ پھیر لیا تھا۔ اب کون ہے جو انہیں سلجھانے کے لیے آئے، کون ہے جسے میں کہوں … شتاب آ! آ کر میری الجھی ہوئی خود سر لٹ کو سلجھاورنہ میں انہیں مرتے دم تک ہاتھ نہ لگائوں گی۔‘‘
حُسن عشق کی سیڑھی چڑھ کر ہی مغرور ہوتا ہے۔ ٹوٹے غرور والا دِل دھڑکن کو اپنے آپ پر مسلط سمجھتے ہوئے دھڑکتا رہتا ہے۔ اُس دھڑکن میں کوئی ترنگ نہیں ہوتی۔ کوئی مستی نہیں ہوتی۔ شمائلہ کا دل بھی کسی لگن کے بغیر بس دھڑکے جارہا تھا۔ اُسے سمجھا رہا تھا۔ ’’میری دنیا اجاڑنے والی نادان لڑکی! لاش پر زندگی کا رقص نہیں کیا جاسکتا۔ تم نے ایک کوشش کرکے دیکھ لی ہے۔ اَب اور کیا چاہتی ہو؟‘‘
ایک طویل آہ سینے سے خارج کرتے ہوئے اُس نے ملجگے اندھیرے میں پیلی بوڑھی عمارت کی طرف دیکھا۔روشنیوں کا شہر اِس آبادی کی طرف پیٹھ کئے کھڑا تھا۔ ندیم کے کمرے کے ایگزاسٹ فین والے سوراخ سے روشنی جھانک رہی تھی۔ اُس نے سوچا۔ ’’وہ بھی میری طرح بے چین پڑا ہوگا۔‘‘
ندیم کی بکھری ہوئی شخصیت آنکھوں کے سامنے لہرا گئی۔ اُس کا غیر معمولی سفید رنگ سنولا گیا تھا۔ چمکدار آنکھوں کی تاب میں کافی کمی واقع ہوگئی تھی۔ لہجے میں تھکن عود کر آئی تھی۔ دل کی کالونی کے اجڑنے کا پتہ سڑک پر کھڑے ہونے سے ہی لگ جاتا ہے۔ وہ بھی دیکھ رہی تھی۔ پیلے مکان کی طرح عاشق کے دل نے بھی یرقان پکڑ لیا تھا۔ ندیم کی بدلی ہوئی شخصیت کے بارے میں سوچتے سوچتے اُس کی توجہ اپنے بدن پر مرکوز ہوگئی۔ وہ خود بھی کافی بدل چکی تھی۔ دور کھڑے انسان کو اپنی طرف بے ساختگی سے کھینچ لینے والے وجود کو تصنع کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔ وہ دن نہیں رہے تھے جب وہ سوکر اٹھتی تھی تو بدن کی سستی بھی دیکھنے والوں کی آنکھوں کو بھلی لگتی تھی۔ سستایا ہوا حسن آنکھوں کو خیرہ کرتا تھا۔ اَب صبح اٹھتے ہی اُسے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر جوانی کی چادر پر پڑی ہوئی شکنوں کو برابر کرنا پڑتا تھا۔ بیٹا بھی آنکھیں مل کر اُسے تعجب سے دیکھ کر پوچھنے لگتا تھا۔ ’’ماما! صبح صبح آپ بالکل اچھی نہیں لگتیں ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے رات ہی رات میں اسٹیل کے چمکتے ہوئے برتن پر سے قلعی اتر گئی ہو۔‘‘
وہ جھینپ کر تیز تیز ہاتھوں سے برش چلانے لگ جاتی تھی۔ کل جھاڑو کے تنکے چہرے پر لکیریں ڈال کر اُسے دو آتشہ حسن بنا دیتے تھے، آج برش اپنے پیروں تلے لتاڑ کر اُس کی جلد پر تہہ بٹھاتے بٹھاتے تھک جاتا تھا۔ وہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی کہ زمانہ آگے بڑھ چکا تھا۔
کافی دیر گزر گئی۔ کھڑکی کے راستے سمندری ہوا آنے لگی تھی۔ کبھی گرم جھونکا، کبھی معتدل جھونکا۔ زندگی ایسے ہی ساحل پر کھڑے کھڑے گزرنے لگتی ہے تو انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اُسے تخلیق کرنے والے کو اُس کی کیا ضرورت رہی ہوگی؟ وہ بھی سوچنے لگی۔ پسلیوں میں چھپے ہوئے گھر کو آن کی آن میں آگ لگادینے کی طاقت رکھنے والے حسن کوتخلیق کارنے ڈھلنے والی دوپہربنا کر اُس پر طاری کیوں کیا تھا؟ کیا صرف شکیل کے لیے ؟… شکیل کے جانے کے ساتھ ہی دوپہر ڈھل کر پیلی سہ پہر بن چلی تھی۔ جو کل تک نکھرا نکھرا دکھائی دیتا تھا، آج پیلے سورج تلے پیلا ہٹ میں لتھڑا ہوا دکھائی دینے لگا تھا۔وہ تھک کر بیڈ پر جانے کے ارادے سے پلٹی تو کھڑکی کے طاق سے ٹکرا گئی۔طاق بے جان تھا ورنہ گستاخی کی سزا فوری طور پر پالیتا۔
جسم کی مضروبہ جگہ کو سہلاتے ہوئے بیڈ پر آکر دراز ہوگئی۔ ایک نظر شعیب کودیکھا۔ اُس کا بازو سیدھا کیا اور پانی پی کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ آنکھیں بند کیں تو ندیم چشم تصور کے پردے پر آکر براجمان ہوگیا۔ وہ چونک گئی۔ یہ وہ ندیم نہیں تھا جسے آج مل کر آئی تھی۔ یہ بارہ برس پہلے والا شوخ و شریر ندیم تھا جس کے پاس اُس کی ہر الجھن کا حل ہر وقت موجود ہوا کرتا تھا۔ اُس نے مزاحمت ختم کردی اور اپنے ماضی میں کھو گئی۔
…٭٭٭…
اُس کے باپ پر دھن کی دیوی راتوں رات امیر ہوئی تھی۔ جیولروں سے رابطے میں رہ کر پالش کا کام کرنے والا شہباز علی ایک دو سال کے اندر اندر سیٹھ شہباز بن کر ہر نودولتیے کی طرح غرور سے چھاتی پھلائے گھر سے جیولری کی دکان پر جانے کے لیے ہر صبح نکلنے لگا۔ بیٹا امجد پڑھائی میں بس گزارے لائق ہی تھا۔ بیٹی شمائلہ پڑھنے میں اچھی تھی مگر پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی عادت اُسے باپ کی طرف سے ورثے میں ملی تھی۔ حسن ماں پر گیا تھا۔ دولت باپ نے قدموں میں ڈھیر کردی تھی۔ ایسے میں نخرہ اوپر سے اتر کر بندے کے رَگ و پے میں سرائت کرجاتا ہے۔
اُس نے کالج میں پہنچ کر میتھ کا انتخاب کیا تھا۔ وہ شروع سے ہی اِس سبجیکٹ میں دلچسپی لیتی آرہی تھی۔ ایک دن اُس نے اپنے باپ کے گلے میں بانہیں ڈال کر فرمائش کی۔ ’’پاپا! فائنل ائر کے امتحانات قریب ہیں۔ میں میتھ کی ٹیوشن لینا چاہتی ہوں۔‘‘
شہباز علی، جو سیٹھ بننے سے پہلے ابا جی کہلواتا تھا، اَب پاپا کہلوانے میں فخر محسوس کرنے لگا تھا، جھٹ سے بولا۔ ’’تو بیٹا جی ! لے لو نا ں ٹیوشن۔ کوئی لاکھوں روپے کی بات تھوڑی ہے۔‘‘
وہ بولی۔ ’’ہماری لیکچرر یہاں سے بہت دور رہتی ہیں۔ میں ہر روز وہاں کیسے جاسکتی ہوں؟‘‘
پاپا نے پیار کرتے ہوئے کہا۔ ’’تو یوں کہو… ایسا کرو کہ ہوم ٹیوشن کے لیے کسی لیکچرر کو جائن کرلو۔ وہ گھر آکر پڑھا جایا کرے گا۔‘‘
اُس نے لاچارگی سے کہا۔ ’’میں ایسے کسی شخص کو نہیں جانتی۔‘‘
پاپا نے اُس کا یہ کام اپنے ذمہ لے لیا۔ کئی دن گزر گئے۔ کوئی ٹیوشن پڑھانے والا نہ ملا۔ اُس نے اپنی اِس پرابلم کا ذکر اپنی ایک کلاس فیلو سے کیا۔ وہ بھی اِسی کالونی میں رہتی تھی۔ وہ بولی۔ ’’تو اِس میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہارے پڑوس میں ندیم صدیقی صاحب رہتے ہیں۔ وہ بھی میتھ کے لیکچرار ہیں۔ اُن سے جا کر پڑھ لیا کرو۔‘‘
وہ اچنبھے سے بولی۔ ’’میرے پڑوس میں؟‘‘
دونوں اِس وقت شمائلہ کے کمرے میں ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ اُس کی سہیلی فرزانہ نے اُسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور کھڑکی کے سامنے لے آئی۔ ہاتھ سے نیچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ ’’ندیم صاحب اِس مکان میں رہتے ہیں۔ حیرت ہے کہ تم انہیں نہیں جانتی ہو۔‘‘
وہ واقعی نہیں جانتی تھی۔ کبھی نیچے دیکھ کر چلنے کی عادت نہیں تھی۔ ہمیشہ نگاہیں اوپر جمی رہتی تھی۔ وہ قدموں میں پڑا اِسی وجہ سے آج تک اُسے دکھائی نہیں دیا تھا۔ فرزانہ اُسے سنگل فلور پر مشتمل چھوٹی سی عمارت دکھا رہی تھی اور بتلا رہی تھی کہ ندیم صاحب نے حال ہی میں یہ مکان خریدا ہے۔ بالکل ینگ ہیں۔ حاضر جواب ہیں وغیرہ وغیرہ۔
وہ دماغ دوڑانے لگی۔ یاد آگیا۔ اِس گھر سے کئی بار ایک جوان العمر شخص کو نکلتے دیکھا تھا۔ وہ استعجاب آمیز لہجے میں بولی۔ ’’میں تو سمجھی تھی کہ وہ کالج یا یونیورسٹی کااسٹوڈنٹ ہے۔ تم کہہ رہی ہو کہ وہ لیکچرر ہے۔‘‘
فرزانہ ہنسنے لگی۔ ’’بچہ بغل میں اور ڈھنڈورا شہر میں۔ ندیم صاحب بہت اچھے انسان ہیں۔ میں نے ایک مرتبہ اُن سے انگلش کی ٹیوشن لینا چاہی تو بڑے ہی معصوم انداز سے بولے کہ انہیں انگلش آتی ہی نہیں ہے۔‘‘
اُس کا ایک مسئلہ حل ہوگیا تھا۔ رات کو باپ گھر میں داخل ہوا تو وہ لپک کر اُن کے سامنے آگئی۔ ’’پاپا! میں نے ٹیوٹر تلاش کر لیا ہے۔ آپ ابھی جاکر اُس سے بات کرلیں۔‘‘
اُس نے ندیم صدیقی کے بارے میں جو پتہ چلا تھا، باپ کے گوش گزار دیا۔ اُس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے شہباز علی الٹے پیروں مڑ کر ندیم صدیقی کے گھر روانہ ہوگیا۔ وہ بھاگ کر کھڑکی میں آئی۔ باپ کو اندر جاتے ہوئے دیکھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد باپ کو منہ لٹکائے آتے دیکھ کر مایوس ہوگئی۔ استفہامیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’پاپا! کیا رہا؟‘‘
پاپا نے کہا۔ ’’بیٹا جی! وہ کوئی اتنا معقول انسان نہیں ہے۔ میں نے اُسے روپے پیسے کی کھلی آفر کی مگر وہ نہیں مانا۔‘‘
وہ حیرت سے بولی۔ ’’کیوں؟ کیا کہتا تھا وہ؟‘‘
وہ نخوت سے بولا۔ ’’کہہ رہا تھا کہ وہ کسی کے گھر میں جا کر پڑھانے کا قائل نہیں ہے اور نہ ہی اُسے پیسوں کی اتنی ضرورت ہے کہ اپنی لیاقت کو چھابڑی میں ڈال کر گلی گلی پھرتا رہے۔ وہ کنگلا لیکچرر کہہ رہا تھا کہ جسے علم کی طلب ہوتی ہے، چل کر آتا ہے۔ کبھی کنواں پیاسے کی تشنگی مٹانے کے لیے چل کر نہیں گیا۔‘‘
اُس نے نخوت سے ہنکارا بھرا۔ اُس کا باپ دولت کے بل پر اُس کا ٹیوٹر لانے میں ناکام رہا تھا۔ وہ بولی۔ ’’تو کیا ہوا پاپا! اُس سے بات کرلیجئے گا۔ میں پڑھنے کے لیے اُس کے گھر چلی جایا کروں گی۔‘‘
شہباز علی نے کہا۔ ’’یہی تو عذاب ہے۔ وہ گھر میں اکیلا رہتا ہے۔ اکیلے گھر میں مرد کے پاس جوان جہان لڑکی کا جانا مناسب نہیں ہوتا۔‘‘
وہ لاڈ سے باپ سے لپٹ گئی۔ ’’پاپا! آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ میں کوئی بچی تھوڑی ہوں۔‘‘
وہ بولا۔ ’’میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ تم بچی نہیں رہی ہو۔‘‘
ماں نے بیچ میں ٹپک کر بات اچکی۔ ’’باپ بیٹی میں کیا بحث چھڑی ہوئی ہے؟‘‘
شہباز علی نے اپنی بیوی کوبتلایا۔ وہ بولی۔ ’’تو کیا ہوا شہباز جی! ہائی سوسائٹی میں ایسی فرسودگیاں نہیں چلتیں۔ بیٹی نے پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل روشن کرنا ہے۔ روشنی کی جاگ لینے کے لیے اُسے باہر تو جانا پڑے گا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ ہمسائے میں اچھا ٹیوٹر مل گیا ہے۔ میں اپنی بچی کو لے کر خود جایا کروں گی اور ساتھ لایا کروں گی۔‘‘
باپ نے ماں بیٹی کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اگلے دن کالج سے واپسی پر دونوں ماں بیٹی ندیم صدیقی کے لکڑی کے گیٹ سے داخل ہوکر اُس کے پاس پہنچ گئیں۔ اُس نے حیرانی سے انہیں دیکھا اور پوچھا۔ ’’جی فرمائیے! میں آپ کی کیا خدمت کرسکتاہوں؟‘‘
ماں سونے میں لپٹی ہوئی تھی۔ بیٹی جوانی کے چولہے پر چڑھی ہوئی نویں نکور کیتلی تھی۔ ماں نے نخوت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’میری بیٹی نے میتھ کی ٹیوشن پڑھنی ہے۔ اِس کا باپ کل تمہارے پاس آیا تھا۔ تم نے جواب دے دیا۔ مجبوری ہماری ہے، ہمیں ہی جھکنا پڑے گا۔ آج سے شمائلہ تمہارے پاس پڑھنے کے لیے آیا کرے گی۔ تمہاری جو فیس ہوگی، ہم دیتے رہیں گے۔‘‘
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔ ’’پہلے باپ نے آکر مجھے دولت کے بل پر خریدنے کی کوشش کی۔ اب ماں اپنی بیٹی کو میرے سر پر مسلط کرنے آگئی ہے۔ ٹھیک ہے۔ اگر اِسے پڑھنے کا شوق ہے تو میں اِس کی مددکروں گا۔‘‘
اُسے ندیم کا لہجہ پسند نہیں آیا۔ کوئی اُس کے سامنے بلند آواز میں بات کرتا تو وہ کاٹ کھانے کو آیا کرتی تھی۔ یہاں خاموشی سے کڑوے گھونٹ پینے لگی۔ تینوں برآمدے سے نکل کر سلیقے سے بنے ہوئے لان میں آگئے۔ ایک بنچ پر ندیم بیٹھ گیا اور دوسرے پر ماں بیٹی براجمان ہوگئیں۔ کتابیں کھل گئیں، وہ پڑھنے والی کو پڑھانے لگا۔ ماں نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی تو اُس نے جھڑک دیا۔ ’’بی بی! آپ پڑھنے نہیں آئیں۔ جب تک سبق چلتا ہے، آپ کی زبان کو نہیں چلنا چاہئے۔‘‘
وہ شرمسار ہوکر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر میں ہی بوریت محسوس کرنے لگی۔ اُٹھ کر لان کے پودوں کا جائزہ لینے لگی۔ بیٹی نے سکھ کا سانس لیا اور بولی۔ ’’سرجی! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میں بہ آسانی پاس ہوجائوں گی؟‘‘
وہ بولا۔ ’’میرا خیال ہے کہ تمہیں کافی محنت کی ضرورت ہے۔‘‘
ماں کے کان کھڑے ہوگئے۔ گلاب کے ایک پھول کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے سوچنے لگی۔ پڑھانے والا پڑھا لکھا ہے۔ میری بیٹی کو لفظوں کے ہیر پھیر میں ڈال کر اپنی جیب میں ڈال لے گا۔
دماغ نے کہا۔ ’’تمہیں اپنی بیٹی پر اعتماد کرنا پڑے گا۔ دو برتن اکٹھے رکھے جائیں تو کھنکتے ضرور ہیں۔ وہ بھی انسان ہیں۔ کتابوں سے سر اٹھا کر کبھی کبھی باتیں تو کریں گے ہی۔‘‘
پھول پر جھکے جھکے پیچھے مڑ کر اپنی بیٹی کو دیکھا۔ بیٹی کتاب سے نظریں ہٹا کر پڑھانے والے کے چہرے کو کتاب بنائے بیٹھی تھی۔ دل میں فکر جاگ پڑا۔ ایک ہی بیٹی تھی۔ ہاتھ سے چلی نہ جائے، اندیشہ دل کو دہلانے لگا۔ پھر سوچنے لگی۔ ’’میں سارا دن اِس کا پہرہ تھوڑا دیتی ہوں۔ آدھا دن باہر گزارتی ہے۔ جانے کس سے ملتی ہے۔ ہوسکتا ہے کسی کو دل دے بیٹھی ہو۔ مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
وہ پھول توڑ کر اُن کے قریب آتے ہوئے بولی۔ ’’میرا خیال ہے کہ میں تم دونوں کی پڑھائی میں ڈسٹربنس پیدا کررہی ہوں۔ مجھے چلنا چاہیے۔‘‘ پھر اپنی بیٹی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’شمائلہ! فارغ ہوکر سیدھی گھر آنا۔ میں جارہی ہوں۔‘‘
ماں چلی گئی۔ جاتے ہوئے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے سمجھا گئی کہ لان میں بیٹھ کر ہی پڑھنا۔ اندر جاکر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد ماں کھڑکی میں کھڑی ہوکر بیٹی کا پہرہ دے رہی تھی۔ ایک بار ندیم صدیقی نے آنکھ اُٹھا کر کھڑکی کی طرف دیکھا۔ اُسے دیکھتے پا کر مسکرانے لگا۔ شمائلہ نے پوچھا۔ ’’کیا میں نے غلط پڑھ دیا ہے؟‘‘
وہ بولا۔ ’’نہیں… بلکہ تمہاری ماں ہم دونوں کو غلط نگاہوں سے پڑھ رہی ہے۔‘‘
بیٹی کو اندازہ تھا کہ اُس کی ماں یہاں سے جاتے ہی کھڑکی میں کھڑی ہوجائے گی۔ خفت سے مسکرا کر بولی۔ ’’میں جانتی ہوں۔ ماما مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتی ہیں۔‘‘
وہ بچہ نہیں تھا۔ سمجھتا تھا کہ ماں کس لئے جوان بیٹی کی راکھی کرتی ہے۔ دل سے متفق بھی تھا کہ ایسا ہونا چاہئے۔ پہرے کی تلوار آدمی کو چاک و چوبند رکھتی ہے۔ اُس کے قدم بھٹک کر پستی کی طرف عازمِ سفر نہیں ہوتے۔
ایک گھنٹہ لان میں بیٹھنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی۔ ہاتھ پر عجیب سی گدگدی محسوس ہورہی تھی۔ صوفے میں بیٹھ کر دائیں ہاتھ کو گود میں رکھ کر بڑے انہماک سے دیکھنے لگی۔ ہاتھ کو کیا ہوا تھا؟ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کتاب پکڑتے ہوئے صرف ایک بار ہی تو ندیم صدیقی کے ہاتھ سے ٹکرایا تھا۔ ٹکرانے سے کیا ہوتا ہے؟ یہی بات سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ مسکرانے لگی۔ دل نے اُسے مخاطب کرکے کہا۔ ’’مجھ تک پہنچنے والے نے تمہارے ہاتھ پر دستک دی ہے۔ دستک کو سمجھ کر دروازے کھول دو گی تو گدگدی ہاتھ سے قدم بڑھا کر میرے پاس آجائے گی۔‘‘
ندیم صدیقی نے ہاتھ کو چھو کر سونا کردیا تھا۔ وہ پارس پتھر کے بارے میں سوچنے لگی۔ پہلی بار سمجھ میں آیا تھا کہ پارس پتھر کیسا ہوتا ہے جس کے چھونے سے لوہا سونے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ سنارے کی بیٹی تھی، بخوبی جانتی تھی کہ سونے کی مارکیٹ میں کیا ویلیو ہوتی ہے۔ سونا مارکیٹ میں تھرتھلی پیدا کردیتا تھا، وہ پارس کا لمس پا کردل کے بازار میں ہل چل مچانے والی تھی۔ اُس نے بے خود ہوکر دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پشت کو ہونٹوں سے لگالیا۔آج پہلا سبق پڑھا تھا۔ پہلے سبق نے عشق کے پہلے زینے پر لا بیٹھایا تھا۔
دوسرے دن جب وہ مقررہ وقت پر لکڑی کے گیٹ سے گزر کر لان میں پہنچی تو وہ آستینیں چڑھائے پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھا۔ اُس نے اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف دیکھا۔ ماما دکھائی دی۔ وہ ایک نظر ماما پر ڈال کر ندیم کی طرف متوجہ ہوئی۔ ’’سرجی! میں آگئی ہوں۔‘‘
وہ بالٹی رکھتے ہوئے بولا۔ ’’ویل کم ینگ لیڈی! بنچ پر بیٹھو۔ میں ابھی آتا ہوں۔‘‘
وہ گھر میں داخل ہوگیا۔ وہ بیٹھ کر اُس کے بارے میں سوچنے لگی۔ وہ خوبصورت اورپرکشش تھا۔ بات کرتا تھا تو سیدھا دل میں اُتر جاتا تھا۔ کوشش کے باوجود اُس سے نظریں چار کرنے کا حوصلہ نہ پاتی تھی۔ کتابیں بنچ پر رکھ کر ایک گلاب کے پھول کے قریب آگئی۔ پھول پر پانی کے قطرے دکھائی دے رہے تھے۔ سورج کی کرنیں ان قطروں سے منعکس ہوکر بڑا روح پرور نظارہ پیش کررہی تھیں۔ اُس کے انہماک کو دیکھ کر پھول جھوم گیا۔ بولا۔ ’’اے لڑکی! مجھے ایسے دیکھ کر نظر لگانے کا ارادہ رکھتی ہو تو سن لو۔ دیکھے جانے کے لائق آج کے دن میں نہیں، تم ہو۔ مجھے کسی نے ینگ لیڈی کہہ کر جوانی کی مسند پر نہیں بٹھایا۔ تمہیں بیٹھایا گیا ہے۔ جائو! اِس مسند کے مزے لوٹو۔‘‘
وہ ایک ادا سے جھکی اور گلاب کے پھول کو ہاتھوں میں بھر کر بنچ پر آگئی۔ دیکھا، جانے والا ابھی نہیں پلٹا تھا۔ پھول کو ہونٹوں اور گالوں پر پھیرنے لگی۔ پھول کی پتیاں اُس کو گدگدانے لگیں تو بے خود سی ہوگئی۔ تب چونکی جب ندیم نے کہا۔ ’’لگتا ہے پھول کو اُس کی اوقات دکھائی جارہی ہے۔‘‘
وہ جھینپ کر سیدھی ہوبیٹھی۔ کتابیں الٹنے پلٹنے لگی۔ نظریں لفظوں پر تھیں مگر کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سماعت جیسے۔ ’’ینگ لیڈی‘‘ پر آکر رک گئی تھی۔ ایک ہی لفظ نے اُس کے بدن سے تمام تر بچپنے کو نوچ کر پرے پھینک دیا تھا۔ بدن کے روم روم میں مستی بھرنے لگی۔ وہ کیا پڑھ رہا تھا، سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ جو پڑھ رہی تھی، پڑھانے والے کو اُس سے آگہی نہیں تھی۔ ایسے میں سبق یاد نہیں ہوتا۔ اُسے بھی سبق یاد نہیں ہوا۔ وقت ختم ہونے پر بادلِ نخواستہ اٹھی اور کھڑکی پر اچٹتی نگاہ ڈال کر پیلے گھر سے نکل آئی۔ کمرے میں پہنچی تو ماما کچن میں جا چکی تھی۔ وہ ماں کی جگہ پر آ کر کھڑی ہوکر لان کو دیکھنے لگی۔ یہاں سے لان کے پودوں کے سر دکھائی دیتے تھے جو لان میں بیٹھ کر دیکھنے سے نظر نہیں آتے تھے۔ بلندی پر کھڑے ہونے کا اپنا ہی لطف ہوتا ہے۔ ماما اُس کے لیے چائے بنا کر دینے کے لیے آئی تو اُسے کھڑکی سے لگ کر دیکھتے پایا۔ حیران ہو کر بولی۔ ’’میں تو یہاں کھڑی ہو کر تمہیں دیکھتی ہوں، تم کسے دیکھ رہی ہو؟‘‘
وہ چونک کر پلٹ آئی اور چائے کا کپ تھام کر بولی۔ ’’سورج کے ڈوبنے کا منظر مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ وہی دیکھ رہی تھی۔‘‘
حالانکہ اُسے یہ کہنا چاہیے تھا کہ جس کی وجہ سے تم مجھے دیکھتی رہتی ہو، میں اُسے دیکھنے کے لیے یہاں کھڑی ہوتی ہوں۔ ماما سے کہہ نہ سکی۔ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے سوچنے لگی۔ ’’لیکن میں اُس کو کیوں دیکھنا چاہتی ہوں؟ دو دِن کی ملاقاتوں کے نتیجے میں کیا محبت ہوگئی تھی؟ ‘‘
الجھ گئی۔ نادان عمر تھی۔ یہ سمجھ میں نہیں آسکتا تھا کہ محبت راگ ہوتی ہے یاروگ ہوتی ہے۔ راگ اور روگ کبھی بتلا کر نہیں آتے۔ دبے پائوں روح کے اندر تک گھس جاتے ہیں۔ کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی۔ جب پتہ چلتا ہے تب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ کروٹوں کے بل پر رات گزری۔ صبح تک جسم دکھنے لگا۔ سر بھاری بھاری محسوس ہونے لگا۔ تب سمجھ میں آئی کہ وہ پڑھنے کے لیے ندیم کے پاس گئی تھی مگر خود کتاب بن کر اُس کی نظروں میں کھل چکی تھی۔ غرور ٹوٹتے ٹوٹتے بھی اکڑ گیا۔ اُس نے سوچا۔ ’’ایسے تو میں بے وزن ہوجائوں گی۔ مجھے اُس کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ اُسے طلب ہوگی تو وہ کچے دھاگے سے بندھ کر میرے پاس آئے گا۔‘‘
غرور اور محبت کی جنگ میں ہمیشہ غرور کو مات ہوتی ہے۔ وہ ایک دن کی بجائے کئی دن تک اکڑی رہی۔ یہی چاہتی رہی کہ وہ آگے بڑھے اور ایڑیاں اٹھا کر اُسے پکڑ لے۔ خود کسی مغرور شاخ کی طرح جھکنے پر تیار نہیں تھی۔ چند دنوں میں ہی اُس کے غرور نے اپنی اوقات دیکھ لی۔ توت کی شاخ کی طرح ندامت سے جھک کر سوچنے لگی۔ ’’کوئی لازم تو نہیں کہ دو ملاقاتوں میں وہ ٹوٹ کر میرے جانب بڑھنے پر مجبور ہوجائے۔ مجھے اُس سے زیادہ سے زیادہ مل کر اُس پر اپنی اہمیت ثابت کرنا پڑے گی۔‘‘
پش و پش میں ایک ہفتہ گزر گیا۔ جب وہ ہار کر لان میں پہنچی تو وہ کسی ناول کی ورق گردانی میں مشغول تھا۔ اُسے دیکھ کر عام سے لہجے میں بولا۔ ’’بڑے دنوں کے بعد آئی ہو ینگ لیڈی! کیا بیمار رہی ہو؟‘‘
وہ خفگی سے اُسے دیکھنے لگی۔ وہ انجان تھا یا انجان بن رہا تھا۔ دونوں صورتوں میں ہی اُس کے لیے تضحیک کا پہلوموجود تھا۔ وہ بولی۔ ’’آپ کو میری پروا ہی کب ہے؟ میں بیمار رہی ہوں۔ اتنا ہی کرلیتے کہ جھوٹے منہ پتہ ہی کر لیتے۔‘‘
کھلے ورق کو تہہ کرکے ناول کو بند کرتے ہوئے مسکرا کر بولا۔ ’’تمہاری بیماری کی خبر مجھ تک پہنچی نہیں۔ پہنچی ہوتی تو عیادت کرنے ضرور آتا۔‘‘
وہ سر جھٹک کر پڑھنے بیٹھ گئی۔ وہ پڑھانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اُس نے بھانپ لیا کہ وہ سبق میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ بولا۔ ’’کوئی پریشانی ہے؟‘‘
وہ چونک کر بولی۔ ’’نہیں تو…‘‘
۔ ’’تو پھر تمہیں دلجمعی سے پڑھنا چاہئے۔ تمہارا باپ رتیاں ماشے تولنے والا شخص ہے۔ تمہارے فیل ہونے پر ایک ایک تولے کا حساب لینے کے لیے میرے سر پر سوار ہوجائے گا۔‘‘
اُسے یہ ریمارکس پسند نہیں آئے۔ خفگی سے بولی۔ ’’سر! پاپا بہت اچھے ہیں۔ وہ ایسے نہیں ہیں کہ آپ اُن پر طنز کرنے لگیں۔ پوری دنیا میں ایسا چلتا ہے کہ ٹیوٹر پڑھانے کے لیے گھروں میں آجاتے ہیں۔ آپ اُن سے مختلف ہیں تو اِس میں پاپا کا کیا قصور؟ انہوں نے آپ کی ضد مان تو لی ہے۔‘‘
وہ مسکرا کر بولا۔ ’’شمائلہ! ٹیچر بہت محبت کرنے والا وجود ہوتا ہے۔ اُس کی ایسی باتوں کا برا نہیں منایا کرتے۔‘‘
وہ دل میں سوچنے لگی۔ ’’یہ اظہارِ محبت تو نہیں ہے۔ محبت کا اظہار صرف زبان سے نہیں، آنکھوں سمیت پورے کے پورے وجود سے پھوٹنے لگتا ہے۔‘‘
وہ کچھ نہیں بولی۔ اُس پر نگاہِ غلط ڈال کر کتاب سے الجھنے لگی۔ ہر لفظ مذاق اڑانے کے موڈ میںتھا۔ ہر لائن کے وسط میں سامنے بیٹھے ٹیچر کا چہرہ دکھائی دینے لگا۔ اُس نے آنکھیں جھپک کر دیکھا۔ منظر وہی تھا۔ زِچ ہوکر بولی۔ ’’سر! مجھ سے پڑھا نہیں جارہا۔ میرا سر چکرا رہا ہے۔‘‘
وہ فکر مند ہوکر بولا۔ ’’کتاب بند کرکے گھر چلی جائو۔ ڈاکٹر سے رابطہ کرو یا آرام کرو۔ تم غالباً بے آرامی اور رت جگوں کا شکار ہوگئی ہو۔‘‘
وہ کتابیں اور شال سمیٹ کر کھڑی ہوگئی۔ شکوہ کناں نگاہوں سے اُسے دیکھ کر گھر آگئی۔ کمرے میں پہنچ کر بڑبڑائی۔ ’’بے آرامی اور رت جگوں کا شکار ہوگئی ہوں… ہونہہ… عجیب ٹیوٹر ہے۔ ذمیہ کام چیک ہی نہیں کرتا۔ دکھاتی ہوں تو بے آرامی کا فتویٰ جڑ دیتا ہے۔‘‘
کتابیں پٹخ کر آئینے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ چہرے پر طیش کے آثار دیکھ کر آئینہ بھی لرز کر رہ گیا۔ حُسن غصے میں تھا۔ خوشامد کرنے لگا۔ ’’تم اِس لباس میں بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔ تمہارا پرکشش وجود ہر برف کو آگ لگانے کی قدرت رکھتا ہے۔ میں لوگوں سے جھوٹ بول کر انہیں زندہ رہنے کی جہت دیتا رہتا ہوں۔ تم سے جھوٹ نہیں بولتا کیونکہ تمہیں دیکھ کر مجھے بقاء کی خواہش ملتی ہے۔ تم عام نہیں ہو… خاص ہو۔‘‘
اُس کا غصہ جاتا رہا۔ خوشامد نے دیاسلائی جلا کر اُس موم بتی کی موم پگھلا دی تھی۔ اٹھلا کر بولی۔ ’’تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ میں نے لباس کو پہن کر خوبصورت بنا دیا ہے۔ میرے بدن کے مقابلے میں اِس بے جان کپڑے کی قیمت ہی کیا ہے؟‘‘
آئینہ خوشامد میں بولنے لگا۔ تعریف سے روٹھی ہوئی کو منانے لگا۔ وہ سوچنے لگی۔ ’’جب میں اتنی بھرپور ہوں کہ ہر کلاس کی ہر لڑکی مجھے دیکھ کر لڑکا بننے کی خواہش کرنے لگتی ہے تو وہ … لڑکا ہوکر بھی… مجھے اہمیت کیوں نہیں دیتا؟ کیا سب لوگ میرا بس دل رکھنے کو مجھے اپسرا قرار دیتے رہتے ہیں؟‘‘
جس کو دیکھنے کی طلب ہو، اُس کے بارے میں تجسس کا ہونا قدرتی بات ہوتی ہے۔ وہ بھی اُس کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔ ایک دن کتاب سے نظریں ہٹا کر پوچھ ہی بیٹھی۔ ’’سر! آپ کے گھر والے کہاں رہتے ہیں؟‘‘
وہ مسکرا کر بولا۔ ’’کیا یہ سوال بھی کورس کا حصہ ہے؟‘‘
وہ جھینپ کر بولی۔ ’’نہیں سر! میں تو تجسس کے مارے دریافت کر بیٹھی تھی۔‘‘
وہ خاموش رہا۔ اُسے پڑھاتا رہا۔ جب وہ سبق لے کر جانے لگی تو ہاتھ کے اشارے سے روک کر بولا۔ ’’ینگ لیڈی! تم نے مجھ سے میرے گھر والوں کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ اب فری ٹائم ہے۔ میں تمہارا پڑھنے کا وقت ضائع کئے بغیر بتلا سکتا ہوں۔ سنو… میرے گھر والے حیدر آباد میں رہتے ہیں۔ تمہارے باپ کی طرح میرا باپ بھی صبح سے شام تک روپے پیسے گنتا رہتا ہے۔ میرے بھائی بھی اُسی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کاروبار میں اُس کی مدد کرتے ہیں۔ میں اُن سب میں مِس فٹ انسان تھا۔ پڑھ لکھ کر نوکری کی طرف نکل آیا۔ باپ نے مجھ پر خصوصی کرم کرتے ہوئے نہ صرف نوکری کی اجازت دے دی بلکہ مجھے یہ گھر خرید کر بھی دے دیا۔ مہینے میں ایک آدھ بار حیدر آباد سے ہوآتا ہوں۔ بہنیں اور بھائی شادی شدہ ہیں۔ گھر میں میری ماں اور باپ دونوں ہی میرے منتظر ہوتے ہیں۔ اور کچھ…‘‘
وہ سرجھکا کر بولی۔ ’’آپ کی شادی نہیں ہوئی ہے ؟‘‘
وہ غیر ارادی طور پر جو سننا چاہتی تھی، وہی ندیم صدیقی کے لبوں سے پھوٹا۔ ’’نہیں بھئی! ابھی کہاں؟ ابھی تو نوکری شروع ہوئی ہے۔ کچھ کمانے لگوں گا تو اباجی کو خیال آئے گا۔‘‘
وہ دل ہی دل میں طمانیت محسوس کرتے ہوئے گھر چلی آئی۔ سوچنے لگی کہ اُس نے کتنی بڑی کہانی ایک پیرائے میں کہہ سنائی تھی۔سوچ کر مسکرانے لگی۔ مرد ہوتے ہی ایسے ہیں۔ اُس سے اگر کوئی اُس کی کہانی سننا چاہے تو کوئی خاص واقعہ نہ ہونے کے باوجود وہ گھنٹوں سناتی رہتی۔ کچن سے لے کر معدے تک کی کہانی سنانے میں وہ ایک گھنٹہ گزار سکتی تھی۔ پورا مہینہ بیت گیا۔ ماما کو گھٹنوں میں تکلیف رہنے لگی۔ وہ ہنس کر بولی۔ ’’ماما! جوانی پر پہرہ جوانی میں ہی دیا جاسکتا ہے۔ بڑھاپے میں اس کوشش میں گھٹنے جواب دینے لگتے ہیں۔‘‘
بیٹی نے بہت گہرا طنز کیا تھا۔ منہ پھیر کر بولی۔ ’’چار حرف پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم اپنے ماما پاپا سے گستاخی کرنے لگ جائو۔ ویسے بھی میں تمہارے فائدے کے لیے ہی کھڑکی میں کھڑی ہوتی ہوں۔‘‘
وہ ہنستے ہوئے ماں کے گلے لگ گئی۔ پیار سے چوم کر بولی۔ ’’ماما! ناراض تو نہیں ہوتے ناں۔ میں تو مذاق کررہی تھی۔‘‘
مذاق میں سمجھائی ہوئی بات ماما کی سمجھ میں آگئی۔ وہ اگلے دن کھڑکی میں کھڑی نہیں ہوئی تھی۔ بند کھڑکی دیکھ کر شمائلہ مسکرا دی۔ وہ بولا۔ ’’تم آپوں آپ ہی مسکرانے لگی ہو۔ ایسا یا تو غائب دماغ لوگ کرتے ہیں، یا بہت بڑی دماغی طاقت والے لوگ کرتے ہیں۔ تم کیا ہو؟‘‘
وہ سوچنے لگی۔ کیا جواب دے؟ سمجھ میں نہ آیا تو ٹالنے کے سے اندازمیں بولی۔ ’’بس ایک خیال آگیا تھا۔‘‘
وہ مسکرا کر بولا۔ ’’پہرے والی کھڑکی بند دیکھ کر میرا بھی مسکرانے کو جی چاہتا ہے۔ کیا مسکرا سکتا ہوں؟‘‘
وہ چونک کر اُسے دیکھنے لگی۔ وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرانے لگا۔ دل نے جھٹ سے کہا۔ ’’اِسے کہتے ہیں اظہارِ محبت!‘‘
وہ شرما گئی۔ آنکھیں جھکا کر بولی۔ ’’بہت گہرے ہیں آپ!‘‘
وہ گہرا نہیں تھا۔ گہرا بنا رہتا تھا۔ کوئی اپنے خوبصورت وجود کو لے کر اُس کی گہرائی ناپنے آیا تھا تو وہ لپک کر اوپر اُٹھ آیا تھا۔ بولا۔ ’’کہتے ہیں کہ لڑکیاں بہت گہری ہوتی ہیں۔تمہاری شخصیت کی گہرائی میں اترنے کے چکر میں خود بھی گہرا ہوگیا ہوں۔‘‘
وہ اُسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اُسے مجبور کررہا تھا کہ وہ اوپر دیکھے۔ کشمکش میں کئی ساعتیں گزر گئیں۔ وہ بولا۔ ’’محبت دلیری سکھلاتی ہے۔ تم بزدلوں کی طرح نظریں جھکا کر مجھے سمجھا رہی ہو کہ تمہارے دل میں محبت نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں؟‘‘
وہ وقت کو مٹھی میں بند کرنا چاہتی تھی۔ وقت مٹھی میں بڑی مشکل سے قید ہوا تھا۔ دیرکرنے سے بہت دیر ہوجانے کا خدشہ تھا۔ فوراً سر اُٹھا کر دل کے کھلے دروازے پر دستک دینے والے کو دیکھنے لگی۔ چند لمحے بعد آنکھیں آپوں آپ جھک گئیں۔ وہ ہولے سے بولی۔ ’’محبت کے بغیر دل ، دل تو نہیں ہوتا۔ بس خون پمپ کرنے والی مشین ہی ہوتا ہے۔‘‘
ندیم روح کی گہرائی تک خوشی کے جھرنوں میں نہا گیا۔ کھڑکی کی جانب دیکھ کر مطمئن انداز میں اُس کے قریب آگیا۔ اُس کا ہاتھ تھام کر بولا۔ ’’کچھ مت بولو۔ بولنے سے لفظ نامعتبر ہوجاتے ہیں۔‘‘
وہ کچھ نہ بولی۔ ایک ٹک اپنے ننھے سے جکڑے ہوئے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔ پھر وارفتگی سے اُس نے اپنا دوسرا ہاتھ ندیم کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ وہ بولا۔ ’’تم بہت خوبصورت ہو۔ پڑھنے اورپڑھانے والے اکثر ٹرانسفیریشن کے عمل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مجھے خوف لاحق تھا کہ کہیں تم بھی اِس جذبے کی بھینٹ نہ چڑھ جائو۔ آج دیکھ کر دل صدقے جارہا ہے کہ تم اِس سے اتنا آگے بڑھ گئی ہو کہ مجھے تمہارے نقشِ پا پر چلنا پڑا ہے۔‘‘
وہ نادان ہوتے ہوئے بھی اتنی نادان نہیں تھی۔ کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی۔ بند کھڑکی نے اُسے سمجھا دیا کہ دل میں چور بیٹھ جائے تو ہوا کا جھونکا بھی خون نچوڑ لیتا ہے۔ ہر روز دیکھنے والی کا ڈر دل میں بیٹھ گیا۔ کہیں وہ کھڑکی کھول کر اُس کی زندگی کو گلاب بنتا دیکھ نہ لے۔ وہ کچھ پوچھ رہا تھا۔ وہ سن ہی نہیں رہی تھی، جواب کیا دیتی۔ پھر جسم نے ساتھ چھوڑ دیا۔ سُن وجود لئے بنچ پر گر سی گئی۔ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ ندیم نے محبت کی صراحی اُس کی ہتھیلیوں کے راستے سے اُس کی روح میں انڈیل دی تھی۔ وہ شریر نگاہوں سے اُسے بیٹھ کر دیکھنے لگا۔ حسن کی لو پر نظریں تاپنے لگا۔
کافی دیر گزر گئی۔ روز یاد نہ ہونے والا سبق آج ازبر ہوگیا تھا۔ پہلی مرتبہ اجازت لئے بغیر تیز تیز چلتے ہوئے لکڑی کے گیٹ سے نکل گئی۔ آج بدن سے ٹکرانے والی ہوا بھی اُس پر قہقہے لگاتی محسوس ہورہی تھی۔ ’’اے ینگ لیڈی! تمہارا چاہنے والا روز تمہیں ینگ لیڈی کہتا تھا۔ کہہ کہہ کر اُس نے تمہارے بچپنے کو جوان کر ہی لیا ناں!‘‘
کمرے میں پہنچی تو ماما کو منتظر پایا۔ وہ عجیب سی نظروں سے بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔ بولی۔ ’’شمائلہ! طبیعت تو ٹھیک ہے ناں تمہاری؟‘‘
پردے میں رکھ کر دراصل وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ۔ ’’جوانی پہرے کے بغیر آج دو گھنٹے ایک آنکھوں والے کے پاس گزار کر آئی تھی۔ کیا خیریت سے واپس آئی ہو؟‘‘
شمائلہ نے نظریں چرا کر کہا۔ ’’سر میں ہلکا ہلکا درد ہے۔ لگتا ہے فلو ہونے والا ہے۔ راستے میں دوتین چھینکیں بھی آئی ہیں۔‘‘
ماما اُس پر معنی خیز نگاہ ڈال کر حسبِ معمول کچن کی طرف بڑھ گئی۔ وہ سوچنے لگی۔ ’’کیا آج میں بہت بدل گئی ہوں؟ ماما نے کچھ دیکھے بغیر میرے دل کا چور کیسے پکڑ لیا۔‘‘
چور نے راستہ سجھایا۔ دروازے سے جھانک کر ریلنگ کے پار گرائونڈ فلور پر واقع کچن میں جھانکنے لگی۔ ماما شیلف پر چولہے کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ پلٹ کر کھڑکی میں آئی۔ جلدی سے اپنے محبوب کو دیکھنے لگی۔ وہ برآمدے کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر داخل ہورہا تھا۔ دل نے خوہش کی کہ و ہ رُک کر اُس کی سمت دیکھے۔ کبھی کبھی قسمت بھی چاہنے والے کا ساتھ دے جاتی ہے۔ جانے والا رُک کر کھڑکی کی سمت دیکھنے لگا تھا۔ اُس کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ ہاتھ لہرا کر وِش کرنے لگی۔ وہ بھی ہنسنے لگا۔ ہاتھ کے اشارے سے اُسے کچھ کہنے لگا۔ ایسی باتیں سمجھنے کے لیے نہیں، دیکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ دیکھتی رہی۔ وہ پڑھاتا گیا، وہ پڑھتی گئی۔
اُسے وقت کے گزرنے کا تب پتہ چلا جب اُس کے عقب سے ماما نے جھانک کر باہر دیکھا۔ بیٹی کو پورے تن سے چرانے والا نگاہوں کے سامنے کھڑا تھا۔ بیٹی کو اپنی چوری پکڑے جانے کا پتہ چلا تو وہ ڈھے سی گئی۔ آج ہی دل میں چور نے مچان باندھی تھی، آج ہی چوری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی۔ ماما نے کھڑکی بند کی۔ اُسے بازو سے پکڑ کر بیڈ پر دھکیلتے ہوئے کہا۔ ’’جو بیٹیاں اپنے ماں باپ کے اعتماد کو دھوکا دیتی ہیں، وہ کبھی سکھ کا سانس نہیں لے سکتیں۔‘‘
وہ ڈر کر ماما کو دیکھنے لگی۔ ماما کا ہاتھ نہیں اُٹھا مگر زبان سے کوڑے برسنے لگے۔ ’’کیا اِس لئے تمہیں ٹیوٹر کے پاس جانے کی اجازت دی تھی میں نے؟ کیا اِس لئے میں نے پہرے والی کھڑکی بند کرکے تم پر اعتماد کیا تھا؟ کتنی بے حس اور بے غیرت اولاد ہو… ایک دن بھی پہرے کے بغیر نہ نکال سکیں۔زندگی بھر کا اعتماد کیسے دو گی؟‘‘
اُس کا جی چاہا کہ زمین شق ہوجائے اوروہ ماما کی نظروں سے گرنے کی بجائے زمین میں دھنس جائے۔ فرسٹ فلور کے لنٹل پر کھڑی تھی۔ زمین پر کھڑی ہوتی تو شاید اُس کی آرزو پوری ہوجاتی۔ ماما اُسے جھنجوڑ جھنجوڑ کر لعن طعن کرتی رہی۔ وہ سنتے ہوئے بھی اَن سنا کرتی رہی۔ جس سوال کا جواب نہ ہو، اُسے ان سنا کرنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔ ماما کمرے سے نکلنے لگی تو وہ گڑگڑا کر بولی۔ ’’ماما! آپ جیسا کہیں گی، میں ویسا ہی کروں گی مگر خدارا پاپا اور بھائی کو مت بتلائیے گا۔‘‘
ماما دروازے میں رُ ک کر زہر آلود نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔ بے بسی سے بولی۔ ’’اپنے بَل پر تمہیں پڑھانے چلی تھی۔ اپنی ضد پر تمہیں ٹیوٹر کے پاس بھیجنے کا جرم کر بیٹھی ہوں۔ بولوں گی تو اپنی ناک کٹوائوں گی۔ خاموش رہوں گی تو پورے خاندان کی عزت پر بٹہ لگا بیٹھوں گی۔ تم نے مجھے کس امتحان میں ڈال دیا ہے۔‘‘
وہ اُٹھی اور ماں کے قدموں سے لپٹ گئی۔ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔ ’’ماما! زندگی میں پہلی غلطی کی ہے۔ دہرانے کی غلطی نہیں کروں گی۔‘‘
ماں نے آہستگی سے پائوں چھڑالئے۔ تنبیہی انداز میں اُسے دیکھتے ہوئے چولہے کی آگ پر ذہن کو دہکانے کے لیے چلی گئی۔ ماں اور بیٹی دونوں کے گرد آگ کا ہالہ بن چکا تھا۔ وہ بیڈ پر آڑے رخ اوندھی لیٹ کر سسکنے لگی۔ وہ مغرور ضرور تھی مگر بے حیا نہیں تھی۔ آج ماما کی نظروں میں بے حیا بن چکی تھی۔ خود کوکوسنے لگی۔ محبت پر الزام دھرنے لگی۔ ماما چائے لے کر آئی تو بیٹی کو بے طرح روتے دیکھ کر سائیڈ ٹیبل پر پیالی رکھ کر اُس کے قریب بیٹھ گئی۔ اُس کا چہرہ سہلاتے ہوئے بولی۔ ’’تم میری اکلوتی بیٹی ہو۔ تمہیں پھولوں سے بچا کر رکھتی آئی ہوں۔اس ڈر سے کہ کہیں کوئی پھول تمہارے لباس سے رگڑ کھاکر اپنے رنگ سے تمہارے اجلے لباس کو داغدار نہ کردے۔ تم خود لباس پر دھبے سجانے کے لیے نکل کھڑی ہوئی ہو۔‘‘
وہ ماما سے لپٹ گئی۔ ندامت کے آنسوئوں سے ماما کا چہرہ بھگوتے ہوئے بولی۔ ’’مجھے معاف کردیں ماما… کہاناں! پہلی غلطی سمجھ کر معاف کردیں۔‘‘
مامتا نے معاف کرکے تنبیہہ کردی کہ دوبارہ شکایت کا موقع نہ دے۔ ماما کے جانے کے بعد وہ سوچنے لگی۔ آسمان پر براجمان تھی۔ کیسے زمین پر کمزور لمحوں کی زد پر آن گری تھی۔ ندیم کے بارے میں سوچنے لگی۔ وہ قصور وار نہیں تھا۔ اُس نے اُس کی ماہ بھر سے جلتی ہوئی آگ سے اپنا دامن بچائے رکھا تھا۔ آگ نے خود بڑھ کر اُس کے وجود کا احاطہ کیا تھا۔ اپنے آپ کو قصور وار گردانتے ہوئے سوچنے لگی کہ بڑھے ہوئے قدموں کو پیچھے کیسے رکھا جاسکتا ہے؟ …کیسے اپنے چاہنے والے سے جا کر کہہ دے کہ وہ وہ بزدل ہے جو عشق میں لوٹ جانے کا راستہ رکھ کر اُس کے سامنے پیش ہوئی تھی۔ غرور سر میں سمانے لگا۔ دل نے اکھڑ کر کہا۔ ’’تم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ میری دنیا بسانے کے لیے اگر تم نے بھری دنیا میں اپنے لئے ایک مرد چن ہی لیا ہے تو کیا قباحت ہے۔ تم نے کوئی غیر شرعی کام نہیں کیا جو تمہیں یوں لعن طعن کے ڈونگروں کی زد میں دے دیا جائے۔‘‘
اُس نے سر جھٹک کر اِس مغرور سوچ سے چھٹکارا پانا چاہا۔ ناکام ہوئی تو رونے بیٹھ گئی۔ خاموش ہوئی تو سوچنے لگی۔
ماما نے اُس کے دل پر بیتنے والی واردات کو اپنے تک ہی محدود رکھتے ہوئے اُسے پھر اعتماد کی زنجیر سے باندھ دیا۔ وہ آزا د ہونا چاہتی تھی مگر قدموں سے بندھی ہوئی زنجیر اُسے کھینچ کر واپس کھونٹے پر لے آتی تھی۔ چند دن وہ نہ تو کالج گئی اور نہ ہی اپنے ٹیوٹر کے پاس گئی۔ ماما نے اُسے حوصلہ دینے کے لیے کہا۔ ’’بزدلوں کی طرح کب تک بل میں پڑی رہو گی۔ باہر نکل کر اپنے مسائل کو فیس کرتے ہوئے مجھ پر ثابت کرو کہ میں نے تم پر اعتماد کرکے کوئی غلطی نہیں کی۔ جائو … اپنے ٹیوٹر کے پاس جائو اور اُسے کہو کہ جہاں تک نادانی نے تمہارے قدم اکھیڑے ہیں، وہیں سے واپس لوٹ جائے۔‘‘
وہ کراہی۔ ’’نہیں ماما! میں اتنی مضبوط نہیں ہوں۔‘‘
ماما کے دل پر چوٹ لگی۔ بیٹی محبت کے سامنے خود کو کمزور پارہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ایسی لڑکیاں ہار جاتی ہیں۔ وہ بولی۔ ’’نہیں میری جان! میں تمہیں حوصلہ دیتی ہوں۔ جائو !‘‘
وہ نہیں اُٹھی تو ماما نے اُسے تنہا چھوڑ تے ہوئے کسی رشتہ دار کے ہاں منگنی کی تقریب میں جانے کی تیاری شروع کردی۔ شمائلہ کو ساتھ چلنے کا کہا تو اُس نے بھیگے ہوئے لہجے میں معذرت کرلی۔ وہ تنہائی چاہتی تھی۔ ماما اُسے سوچنے اورفیس کرنے کا موقع دیتے ہوئے اکیلے چلی گئی۔امجد حسبِ معمول کرکٹ گرائونڈ میں تھا جہاں سے اُس کی واپسی سات آٹھ بجے سے پہلے نہیں ہوا کرتی تھی۔ پاپا دکان پر مصروف تھے۔ کبھی گیارہ سے پہلے نہیں لوٹے تھے۔
اکیلے گھر کے سوگوار کمرے میں چکراتی پھرتی رہی۔ کھڑکی کے پاس جاتی، کھولنے سے پہلے ہی ماما کی باتیں یاد آجاتیں اور بغیر کھولے پلٹ آتی۔ وہ ماما کے اعتماد کو دھوکا دینا نہیں چاہتی تھی۔ کل سوچتی تھی کہ وہ ایڑیاں اُٹھا کر اُسے اپنی گرفت میں کیوں نہیں لیتا۔ آج سوچتی تھی کہ وہ اُس کی دسترس سے اتنی بلند ہوجائے کہ وہ اُسے چھونے کا خیال ہی دل سے نکال دے۔ محبت کرنے والوں سے اکثر ایسی غلطیاں ہوہی جاتی ہیں۔ اُس کا چاہنے والا آج ایڑیاں اُٹھا کر اُس تک پہنچ آیا تھا۔
دروازے پر دستک سن کر پلٹی تو دم بخود رہ گئی۔ اُس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے والا نیچے رہ گیا۔ پڑھانے والا عشق کا قاعدہ اُٹھائے خود پڑھانے کے لیے چلا آیا تھا۔ وہ گھبرا کر بولی۔ ’’ہائے آپ!‘‘
اُس نے ایک ہی لفظ کے ذریعے ندیم پر آشکار کردیا کہ وہ اُس کے آنے پر خوش نہیں ہوئی بلکہ بہت سے اندیشوں اور واہموں کا شکار ہوگئی تھی۔ ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔
وہ قریب آکر بولا۔ ’’کیا میرے اِس طرح آنے پر خوش نہیں ہوئی ہو؟‘‘
اُس کی آواز حلق میں ہی پھنس گئی۔ بیٹھی بیٹھی آواز میں بولی۔ ’’کوئی آجائے تو کیا سوچے گا؟ آپ کو اِس طرح یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘‘
وہ بڑے گہرے انداز میں مسکرا کر بولا۔ ’’تم روز میرے خرمن میں آگ دکھانے آتی ہو، کسی نے کچھ نہیں کہا۔ آج میں اپنی پیاس سے مجبور ہو کر دیدار کا گھونٹ پینے چلا آیا تو تم ڈرگئی ہو۔ کیوں؟‘‘
اُس کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ تھا مگر وقت نہیں تھا۔ ڈرے ڈرے انداز میں ادھر ادھر دیکھ کر بولی۔ ’’سر! میں کل آئوں گی۔ وہیں بیٹھ کر باتیں ہوں گی۔‘‘
وہ پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے بڑھا۔ اُس کے ہاتھ کو پکڑ کر چومتے ہوئے بولا۔ ’’ایز یووِش… میں نے یہاں آکر اپنی محبت کی پختگی ظاہر کردی ہے۔ تم آکر اپنا حق ادا کردینا۔ نہیں آئو گی تب بھی مجھے کوئی گلہ نہیں ہوگا۔ آجائو گی تو احسان سمجھ کر تمہیں قبول کرلوں گا۔ خداحافظ!‘‘
ہاتھ ماتھے پر رکھ کر مسکراتا ہوا جدھر سے آیا تھا، ادھر چلا گیا۔ جب تک اپنے لان میں نہیں پہنچا، وہ گھبرائے ہوئے انداز میں دل تھام کر کھڑی رہی۔ کھڑکی کے راستے لان میں نظر آیا تو بے دم سی ہوکر بیڈ پر گر گئی۔ ماما کے پڑھائے ہوئے سبق کو ذہن کی تختی سے پونچھ کر محبت کے طاقتور شبد لکھنے والا نگاہوں سے اوجھل ہو کر دل میں پَرا لگا کر بیٹھ گیا۔ جیسے کہہ رہا ہو۔ ’’نکال سکتی ہو ینگ لیڈی! تو مجھے نکال کر دکھائو۔ میں محبت کا زینہ چڑھ کر یہاں آیا ہوں، کوئی چور راستے سے یہاں تک نہیں پہنچا ہوں۔‘‘
اگلے دن پہلی مرتبہ کتابوں کے بغیر ندیم کے گھر میں اُتری۔ ماما کا دیا ہوا حوصلہ اُس کے ساتھ تھا۔ ماما نے اُسے باور کرا دیا تھا کہ ایک غریب لیکچرر اُس کے شایان شان نہیں تھا۔ اُسے اُس کی اوقات کا آئینہ دکھانے کے لیے وہ بڑی شان سے یہاں آئی تھی۔ برآمدے سے گزر کر بڑے کمرے میں آگئی۔ وہ کتابوں کے شیلف کے سامنے کھڑا کوئی کتاب تلاش کررہا تھا۔ اُس کے قدموں کی چاپ سن کر پلٹا۔ سوگوار حُسن سامنے پا کر دم بخود رہ گیا۔ روزانہ آنے والی آج نئے انداز سے اُس کے سامنے تھی۔ دبے پائوں چلتا اُس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔
’’شمل! میں جانتا تھا کہ تم ضرور آئو گی۔ جس محبت کا تم نے آغاز کیا تھا، میں اُس کے انجام کے سپنوں میں کھو چکا ہوں۔ واپسی کا راستہ نہ پا کر تمہارے پیچھے چوروں کی طرح پہنچا تھا۔ شکر ہے کہ تم نے میری گستاخی کو بھی قبول کرلیا ہے۔‘‘
وہ کہنا چاہتی تھی کہ میں ادھوری محبت کا گلا گھونٹنے آئی ہوں۔ غرور سے اُس کا بانکپن توڑنا چاہتی تھی۔ دیکھا تو خود لُٹ گئی۔ وہ پوری قامت سے اُس کے سامنے کھڑا بڑی وارفتگی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
’’کچھ کہنے کے لیے آئی ہو، کہو گی تو میرا دل دھڑکنا شروع ہوگا ورنہ تمہیں سننے کے لیے رُکے رُکے ہی جان تمہارے قدموں میں دھر دے گا۔‘‘
اُس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ زندگی میں پہلی بار کسی مرد نے اِس طرح اُس کے دل پر ہاتھ ڈالا تھا۔ کہنا کچھ چاہتی تھی، منہ سے کچھ نکل گیا۔ بولی۔ ’’سر! آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘
وہ بولا۔ ’’یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔‘‘
وہ کچھ نہیں بولی۔ منہ سے نکلے ہوئے اپنے الفاظ کو کوسنے لگی۔ پھر غلط کہہ بیٹھی۔ ’’آپ نے بلایا تھا، میں آگئی۔ کہیں کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘
وہ اُسے دونوں بازوئوں سے پکڑ کر صوفے تک لے گیا۔ آہستگی سے باٹھاتے ہوئے بولا۔ ’’روز تمہیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آج پتہ چلا کہ ابھی مجھے خود بھی بہت کچھ پڑھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘
وہ ایسے بیٹھ گئی جیسے اُس کی کوئی مرضی ہی نہ ہو۔ چابی والے کھلونے کی طرح جب چلا دیا، چل پڑا۔ جب روک دیا، تب رک گیا۔ وہ اُس کے قدموں کے قریب فرش پر بیٹھ گیا۔ اُس کے گھٹنوں پر سر رکھ کر بولا۔ ’’شمل! میں لڑکیوں کو دیکھ کر بائولا ہوجانے والا انسان نہیں ہوں۔ ایسے پیشے سے وابستہ ہوں جہاں پر اِن باتوں کو بہت غلط قرار دیا جاتا ہے۔ تمہیں دیکھ کر یوں لگا جیسے میں اپنے پیشے سے خیانت کا ارتکاب کر بیٹھوں گا۔ پھر ایسے ہی ہوگیا۔ اب سوچتا ہوں کہ مجھے سروس سے ریزائن کردینا چاہیے اور تمہارا ہاتھ تھام لینا چاہیے۔‘‘
وہ گنگ بیٹھی اُسے سنتی رہی۔ وہ کہہ رہا تھا۔ ’’محبت انسانی طلب کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ یہاں سے آگے جانے کا راستہ دکھائی دیتا ہے۔ پیچھے جانے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ میں بھی خود کو ایسے ہی موڑ پر کھڑا دیکھ رہا ہوں۔‘‘
اُس کا ہاتھ غیر ارادی طور پر بڑھا اور گھٹنوں پر پڑے ندیم کے سر کے بالوں میں لڑکھڑانے لگا۔ اُس نے چونک کر اُسے دیکھا۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ ’’تم لڑکی ہو۔ لڑکیوں کی زندگی خودمختاری کی نائو میں سفر نہیں کرتی۔ اگر کل کسی مجبوری کے زیر اثر آکر لوٹنے کا ارادہ رکھتی ہو تو میری طرف سے کھلی اجازت ہے، لوٹ جائو۔ میں خود کو سنبھال لوں گا۔‘‘
وہ ہولے سے بولی۔ ’’نہیں ندیم! میں بھی آپ سے محبت کرتی ہوں۔‘‘
۔ ’’پھر مجھے آپ کہنا چھوڑ دو۔‘‘وہ بولا۔ ’’تم مجھے آپ کہہ کر اتالیق کے مقام پر براجمان کردیتی ہو۔ مجھے وہ مقام نہیں چاہیے۔ میں اُس کے اہل نہیں ہوں۔‘‘
وہ تھکے تھکے سے انداز میں مسکرائی۔ ’’اوکے! میں تمہیں آپ نہیں کہا کروں گی۔‘‘
ندیم نے مسکرا کر اپنا گال اُس کے گھٹنے پر ٹیک دیا۔ دل چاہتا تھا کہ وہ بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہے اور وہ نرم پوروں سے نکلتے زندگی کے سوتوں کو اپنی روح میں جذب کرتا رہے۔ شاید وہ بھی یہی چاہتی تھی۔ کافی دیر گزر گئی۔ چاہنے والوں کو وقت کے گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔ جب ہوتا ہے تب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ دونوں کو اِس وقت پتہ چلا جب شمائلہ کی ماما کھلے دروازے میں کولہوں پر ہاتھ رکھے غیض و غضب کی تصویر بنی کھڑی ہوچکی تھی۔ شمائلہ نے ماما کو دیکھا تو آنکھیں جھکا لیں۔ ماما نے کہا۔
’’تم نے غلطی کو نہ دہرانے کا وعدہ کیا تھا۔ میں نے آزمانے کے لیے تمہیں یہاں بھیج دیا۔ تم دوسری مرتبہ بھی اپنی مضبوطی کو ثابت کرنے میں ناکام ہوئی ہو۔‘‘
وہ خاموش رہی۔ ندیم ایک جھٹکے سے کھڑا ہوگیا۔ ندامت بھری نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگا۔ وہ بولی۔ ’’تم ٹیوٹر ہو۔ پڑھانے والے کو دنیا نے بلند مقام دے رکھا ہے۔ اُس مقام سے گرنے والا نالی کا کیڑا بن کر گندگی کے ڈھیر پر رینگتا ہوا مر جاتا ہے۔ اپنی موت مرنے والے!تم اپنے ساتھ میری معصوم بچی کو بھی لے ڈوبو گے۔‘‘
وہ زمین میں گڑ سا گیا۔ ماما کو لفظوں کے کوڑنے مارنے کا ہنر آتا تھا۔ وہ پیٹھ پھیر کر کھڑا ہوگیا۔ بولا۔ ’’ماما! آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ میں اپنے مقام سے گر چکا ہوں مگر کیا مجھے یہ بتا سکتی ہیں کہ محبت گندگی کے ڈھیر یا نالی کا نام ہے ؟ میں اتالیق کے مقام سے محبت کی پاداش میں کیسے گر کر نالی کا کیڑا بن گیا ہوں؟ میں اپنی شخصیت کے تمام تر معیار کو برقرار رکھتے ہوئے آپ کی بیٹی سے محبت کرتا ہوں۔ مرتے دم تک کرتا ہوں گا۔ آپ کی بیٹی مجھے یہی کہنے کے لیے آئی تھی ناں کہ وہ واپسی کے راستے پر چلنا چاہتی ہے۔ پوچھ لیں… میں نے کوئی واسطہ نہیں دیا۔ کوئی وعدہ نہیں کیا۔ اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ محبت زبردستی کا سودانہیں ہوتا۔ اگر آپ کی بیٹی کو میرا بڑھا ہوا ہاتھ پسند نہیں ہے تو مجھے اِس ملاقات کو آخری قرار دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘وہ آنکھیں ملا کر یہ باتیں نہیں کرسکتا تھا۔ بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ ’’دنیا کے ہر آدمی کو محبت کرنے کا حق حاصل ہے۔ کیا پڑھانے والے کا سینہ دل سے عاری ہوتا ہے؟‘‘
ماما نے خفگی سے شمائلہ کو اٹھایا اور کھینچتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔ وہ کمرے کے دروازے تک اُن کے پیچھے آیا۔ پھر رُک گیا۔ جاتے ہوئوں کو مخاطب کرتے ہوئے بولا۔
’’ماما! میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔ شمل کو یہاں آپ پورے اعتمادسے کسی وقت بھی بھیج سکتی ہیں۔ میں آپ کی عزت کو آنکھوں کی طرح عزیز رکھوں گا۔ اپنی آنکھیں میرے حوالے کرکے اطمینان سے سوسکتی ہیں۔ آپ کی مرضی کے بغیر میں سرمہ تک نہیں چرائوں گا۔‘‘
ماما نے غصے سے بڑبولے عاشق کو دیکھا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہوئے منہ پھیر کر چلی گئی۔
شمائلہ کی ماں بہت ذہین اور سمجھدار عورت تھی۔ رات کو اپنے شوہر کے پہلو میں بیٹھ کر بتلانے لگی۔ ایسے میں اُسے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اُس کی بیٹی پردے کی اوٹ میں کھڑی اُن کی گفتگو چُرا رہی ہے۔ پوری بات سن کر سیٹھ شہباز تلملا اٹھا۔ زہر خند لہجے میں بولا۔ ’’شمائلہ نے میری بے جا محبت اور لاڈ پیار کا بہت غلط نتیجہ نکالا ہے۔‘‘
وہ زخم لگا کر مرہم رکھنے لگی۔ پیار سے بولی۔ ’’ایسے سوچنے سے ہم اپنی عزت کا دفاع نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ایسی کون سی صورت ہو کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی ٹوٹنے سے بچ جائے۔‘‘
شہباز نے غربت سے چھلانگ لگا کر دولت مندوں کی دنیا میں پائوں رکھا تھا۔ تھوڑے عرصے میں ہی بڑی سوسائٹی کا چال چلن سیکھ گیا تھا۔ آوازنیچی رکھ کر بولا۔ ’’تم نے کیا سوچا ہے اِس بارے میں؟‘‘
’’میں نے ندیم کو دیکھا ہے۔ خوبرو لڑکا ہے۔ شکل سے کسی بڑے گھر کا لگتا ہے۔ اگر بیٹی نے اپنے لئے اُسے چن لیا ہے تو اُس کے گھر بار کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ہمیں لائحہ عمل تیار کرنا پڑے گا۔ اگر بیٹی پر ہاتھ اٹھایا یا پابندیاں لگائیں تو خاندان میں بدنامی سر اٹھانے لگے گی۔ رشتہ لینے والے ٹھٹک کر پیچھے ہٹ جائیں گے۔‘‘
وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ بیٹی کا معاملہ تھا۔ دونوں کافی دیر تک سر جوڑ کر بیٹھے رہے۔ آخر اِس نتیجے پر پہنچے کہ ندیم کے خاندان کے بارے میں پوچھ تاچھ کرکے دونوں کی شادی کے بارے میںحتمی فیصلہ کریں گے۔ سرِدست انہوں نے عقلمندی سے معاملے کو پابندیوں سے دبانے اور الجھانے سے اجتناب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ آہستگی سے پردے کے پیچھے سے نکل کر اپنے کمرے میں آگئی۔ اُس کے ذہن پر لدا ہوا بار اُتر گیا تھا۔ طمانیت سے لیٹ کر وہ اپنے ندیم کے بارے سوچنے لگی۔ ماما اور پاپا پر ٹوٹ کر پیار آرہا تھا۔ انہوں نے اُس کی زندگی کا فیصلہ اُس کے انتخاب پر چھوڑ کر اُسے احسان کے بار تلے چھپا دیا تھا۔
اگلے دن جب وہ کالج سے لوٹی تو ماما نے اُسے اپنے کمرے میں لے جاکر کہا۔ ’’بیٹی! ماں باپ کی عزت بیٹی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تم نے دو مواقع گنوا کر اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے سمجھا دیا ہے کہ تم ماں باپ کی عزت کو سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتی ہو۔ میں نے تمہارے پاپا سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ابھی تمہاری شادی کی عمر نہیں ہے۔ جسے پسند کرتی ہو، کرتی رہو مگر اُس حد میں داخل نہ ہونا کہ خاندان بھر میں ہماری رسوائی کا موجب بن جائو۔سمجھ رہی ہو نا میری بات؟‘‘
اُس نے اثبات میں سر ہلا کر نظریں جھکا لیں۔
ماما نے کہا۔ ’’تمہیں اپنی پسند پر مکمل اختیار سونپتے ہوئے میں صرف اتنا کہوں گی کہ کتابیں لے کر ندیم کے لان تک جاسکتی ہو۔ اِس سے آگے جائو گی تو پھر پڑھائی چھڑا کر گھر میں گرائونڈ فلور تک محدود کردوں گی۔میرے اعتماد کو بحال رکھو گی تو تمہیں ندیم سے ملنے کے مواقع دیتی رہوں گی۔‘‘
وہ تشکر بھری نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی۔ اُس کی ماما واقعی اُس سے پیار کرتی تھی۔ وہ جھک کر ماما کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ آنسوئوں سے اُس کے پیر دھونے لگی۔ ’’ماما! میں بہت بری ہوں۔ آپ کو دکھ پر دکھ دیتی رہتی ہوں۔ مجھے معاف کردیں۔ میں آپ کے کہنے پر ندیم کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے کے لیے گئی تھی مگر وہاں جا کر میرا دل بغاوت پر اُتر آیا۔ جو کہنا تھا وہ نہیں کہا، جو نہیں کہنا تھا وہ کہہ کر خود کو احمق ثابت کر چکی ہوں۔ پَر ماما! مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ مجھے خود پر اختیار کیوں نہیں رہا۔ میں کبھی بھی ایسی نہیں رہی۔ میرا غرور کیوں خاک میں مل گیا ہے؟‘‘
ماما جانتی تھی۔ محبت میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ برسوں پہلے ایسے ہی کمزور لمحوں کی زد پر آکر وہ شہباز علی کے آگے ہار مان گئی تھی۔ آج اُس کی بیٹی نے پڑھانے والے کی دہلیز پر اپنا دل رکھ دیا تھا۔ محبت میں خود پر اختیار نہیں رہتا۔ تبھی تو کہا جاتا ہے کہ محبت ذات، اونچ نیچ اور موت کو خاطر میں نہیں لاتی۔ محبت اندھی ہوتی ہے اور آنکھوں والوں کو اپنے پیچھے اندھیرے راستوں میں چلانے کی قدرت رکھتی ہے۔
اُسے ندیم سے ملنے کی آزادی کا پروانہ مل چکا تھا۔ اُسے اپنی حدود کا بھی علم تھا۔ ماما اُسے گائیڈ کرتی رہتی تھی۔ اُسے بڑے پیار سے بتلاتی رہتی تھی کہ مرد کی خلوت میں کہاں تک جانا عورت کے لیے مفید ہوتا ہے۔ کہاں جا کر وہ پستی میں گر کر ہمیشہ کے لیے نظروں سے گرجاتی ہے۔ وہ اپنی ماں کی بات مان کر اُس پر جی جان سے عمل کرتی گئی۔ امتحان کے ایک ماہ بعد ندیم کے گھر والے حیدرآباد سے قافلے کی شکل میں آئے اور جھولی پھیلا کر سیٹھ شہباز کے سامنے بیٹھ گئے۔ سیٹھ شہباز نے اُن کے آنے سے پہلے ہی اپنے طور پر پُن چھان کرکے ندیم کے حق میں فیصلہ کررکھا تھا۔ رسمی کارروائی کے بعد اُس نے بیٹی کی خوشی پر پدرانہ مہر لگاتے ہوئے کہا۔ ’’میری بیٹی میری جان ہے۔ ہر باپ یہی کہتا ہے۔ میں بھی یہی کہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ندیم جیسا پڑھا لکھا اور سمجھدار انسان میری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے گا اور ہمیں شکایت کا موقع نہیں دے گا۔ یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ میری بیٹی میرے نازونعم کے باعث بہت مغرور اور خود سرہو گئی ہے۔ اِس کا سر جھکانے کی نیت سے کہیں توڑ نہ دیا جائے۔‘‘
ندیم کا باپ بولا۔ ’’تمہیں گلے لگا کر بھائی کہا ہے۔ اپنی بہو کو بیٹی بنا کر رکھنے کا ہمارے خاندان میں رواج ہے۔ یہ میری چھوٹی بہو ہوگی۔ آپ لوگوں کے سایہ میں رہے گی۔ عملی طور پر میں بہو لینے نہیں، بیٹے کو آپ کے حوالے کرنے آیا ہوں۔‘‘
ندیم اور شمائلہ نے ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنا کر انگلیوں کی نوک سے خود کو ایک دوسرے کے حوالے کردیا۔ دونوں گھرانے جدا ہو کر اپنے اپنے طور پر انہیں ہمیشہ کے لیے ایک کرنے کا منصوبہ ترتیب دینے لگے۔ سب کچھ بہت اچھے انداز میں آپوں آپ ہی ہوتا چلا جارہا تھا۔
ماضی کی راکھ میں انگلیاں ڈالے وہ بہت کچھ کھوج چکی تھی، بہت کچھ ابھی باقی تھا مگر پہلو میں لیٹے ہوئے شعیب نے اُس کے انہماک کو توڑ دیا۔ وہ خواب میں اپنی گرل فرینڈ ثانی کو پکارنے لگا تھا۔ پکارتے پکارتے رونے لگا۔ وہ اُٹھ کر اُس کے ساتھ لگ کر لیٹ گئی۔ بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ شعیب ثانی کو پاکستان آکر بہت مس کرنے لگا تھا۔ دور ہونے سے ہی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ امریکا میں اُس سے لڑا جھگڑا کرتا تھا، جدا ہوا تو خوابوں میں اُسے صدائیں دینے لگا تھا۔ اُس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے اُس نے سوچا۔ ’’بالکل اپنے باپ پر گیا ہے۔ عادتیں بھی اُس کے جیسی ہیں۔‘‘
خیالات کا سلسلہ ٹوٹ چکا تھا۔ شعیب نے اُس کا بازو کھینچ کر اپنے سر کے نیچے رکھ لیا اور لپٹ کر ننھے ننھے خراٹے لینے لگا۔ اُسے بھی جماہیاں آنے لگی تھی۔
…٭٭٭…
اُسے امریکا سے آئے ہفتہ ہونے کو آگیا تھا۔ امجد اُس کے آنے سے پہلے ہی بیوی بچوں کو لے کر شمالی علاقوں کی سیر کو نکل گیا تھا۔ اُسے ذہنی طور پر اُس کی یہ حرکت بہت گراں گزری تھی۔ سوچ رہی تھی کہ وہ جب واپس آئے گا تو اُس کی اچھی طرح خبر لے گی۔ فون پر وہ ابھی مہینہ کے غیاب کی خبر دینے لگا تھا۔
صبح اُٹھ کر اُس نے پہلے سے بنائے ہوئے پروگرام پر عمل کرتے ہوئے علاقے کے اسکولوں کا جائزہ لینے پر نکلنے کی تیاری کرلی۔ وہ شعیب کو بہت اچھے سکول میں داخل کرانا چاہتی تھی۔ یہ تو اچھا ہوا تھا کہ امریکا میں رہنے کے باوجود اُس نے اپنے بیٹے کو انگلش کے ساتھ ساتھ اُردو بھی سکھلا رکھی تھی ورنہ یہاں بڑی مشکل پیش آتی۔ گھر سے نکلی تو خیال آیا کہ اگر ندیم اُس کے ساتھ چلنے پر رضامند ہوجائے تو وہ بڑی آسانی میں رہے گی۔ اُس نے بیل دی۔ گھنٹی کی آواز سنائی نہ دینے پر اُس نے اندر جانے کا فیصلہ کیا۔ شعیب اُس کی انگلی تھامے اُس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ ندیم کو وہ جہاں چھوڑ کر گئی تھی، وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ اُسے دیکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ ’’کیسی ہو شمل!‘‘
پھر اُس کی نظر شعیب پر پڑی۔ مسکرا کر بولا۔ ’’بہت پیارا بچہ ہے۔ زبردست پرسنالٹی کا مالک بنے گا۔‘‘
وہ فخر سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھنے لگی۔ ندیم نے کہا۔ ’’خاصے اہتمام سے نکلی ہو۔ کہیں جارہی ہو کیا؟‘‘
’’شعیب کے لیے کسی اچھے اسکول کا انتخاب کرنا ہے۔ جانے لگی تو سوچا کہ تعلیم تمہارا شعبہ ہے۔ تم اِس بارے میں مجھ سے بہتر جانتے ہو گے۔ پلیز! میری ہیلپ کرنے کے لیے میرے ساتھ چلو۔‘‘
وہ اپنی دنیا سے نکلنا نہیں چاہتا تھا۔ انکار کرنا بھی نامناسب تھا۔ تیاری کا کہہ کر باتھ روم میں گھس گیا۔ چند منٹوں کے بعد تینوں گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ وہ ندیم کودیکھ کر ستائشی انداز میں بولی۔ ’’اگر تم خود پر توجہ دیا کرو تو اَب بھی پرکشش دکھائی دو گے۔‘‘
وہ کچھ نہیں بولا۔ تینوں نے کئی اسکول چھانے پھر ایک اسکول پر نظرِ انتخاب آن ٹھہری۔ یہ شہر کا بہت مہنگا سکول تھا۔ طرزِ تدریس انگلش میڈیم تھا۔ ندیم نے پرنسپل آفس سے نکلتے ہوئے رائے دی۔ ’’شمل! میرا خیال ہے کہ اِس اسکول میں شعیب خود کو بہتر محسوس کرے گا۔ یہاں کے اکثر اساتذہ انگلش لینگوئج کورس کے بعد یہاں تعینات ہوئے ہیں۔‘‘
دوپہر تک فارغ ہوئے۔ شمائلہ نے ندیم کو کھانے کی آفر کی۔ وہ بولا۔ ’’شیمل! میں ابھی تک لیکچررہوں۔ پڑھانے والے کو اتنے پیسے نہیں دیے جاتے کہ وہ کسی بڑے ہوٹل میں کھانا کھلا سکے۔ میں معذرت چاہوں گا۔‘‘
وہ بولی۔ ’’پلیز! کھانے کی دعوت میں دے رہی ہوں۔تمہیں اِس کے بل کے بارے میں سوچ کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
وہ اُس کے طنز کو سمجھی نہیں تھی۔ وہ اتنا بھی کسمپرسی کا شکار نہیں تھا۔ لیکچرر شپ کے علاوہ اُس کے باپ کا اچھا خاصا کاروبار تھا۔ شمائلہ کے ہم پلہ تو نہیں تھا مگر کسی سے کم بھی نہیں تھا۔ تینوں نے کھانا کھایا۔ ٹیکسی سے اتر کر تینوں اپنے اپنے گھروں میں داخل ہوگئے۔ شمائلہ نے کمرے میں پہنچ کر سستانے کا ارادہ کیا مگر شعیب کی شرارتوں کے باعث آرام نہ کرسکی۔ جب وہ تھک کر سوگیا تو اُس کی آرام کرنے کی خواہش دم سادھ چکی تھی۔ برسوں پرانی عادت کے مطابق کھڑکی میں آکر کھڑی ہوگئی۔ اُسے بڑا عجیب لگا کہ لان میں ٹہلنے، ایکسرسائز کرنے اور خود کو ہمہ وقت مصروف رکھنے والا ندیم اب بہت کم دکھائی دیتا تھا۔ اُس کے معمولات یکسر بدل گئے تھے۔ شاید عمر نے اُس کی ترجیحات کو بدل ڈالا تھا۔
وہ سوچنے لگی۔ ڈوبتے سورج کی یرقان زدہ کرنیں، ندیم کا بوڑھا مکان اور اُس کی تھکی ماندی سوچیں اُسے مضمحل کر رہی تھیں۔ اپنے حال سے فرار حاصل کرکے ماضی کے چمکتے ماہ و سال میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ کچن میں جا کر چائے بنا کر لے آئی اور کھڑکی میں کھڑے ہو کر ڈوبتے سورج کی تھکی ماندی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہوگئی۔
…٭٭٭…
بارہ سال پہلے ندیم ایسا نہیں تھا۔ منگنی کے بعد خاصا دلیر ہوگیا تھا۔ وہ بلا روک ٹوک اُس کے کمرے میں اُسے ستانے کے لیے پہنچ جایا کرتا تھا۔ اُس کے پاپا اور ماما کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کیا کرتا۔ کچھ ہی عرصے میں اُس نے ماما اور پاپا پر ثابت کردیا تھا کہ وہ نہ صرف اُن کی بیٹی کی پسند بننے کے لائق تھا بلکہ وہ ایسا انسان تھا جسے دنیا کے ہر انسان پر ترجیح دی جاسکتی تھی۔ اپنی غیر سنجیدہ حرکات کے باوجود اُس نے کبھی بھی ایسی حرکت نہیں کی تھی جس سے چھچھورا پن ظاہر ہوتا ہو۔ وہ خود کو اپنے قابو میں رکھنے کا ہنر جانتا تھا۔ اُس کے کمرے کی تنہائی میں شامل ہوکر اُس سے کوسوں دور رہا کرتا تھا۔ وہ کبھی کبھار اُسے ٹوک دیا کرتی۔ ’’تم جب یہاں تک آہی جاتے ہو تو پھر مجھ سے اتنا دور کیوں رہتے ہو؟ کیا کھا جائوں گی؟‘‘
وہ مسکرا کر کہتا۔ ’’تم مجھے نہیں، ہماری محبت ہم دونوں کو نگل سکتی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ جب ہماری شادی ہو، ہمارے پاس ایک دوسرے کو تحفہ دینے کے لیے کچھ بھی باقی نہ رہے۔‘‘
وہ ٹھیک کہتا تھا۔ ماما بھی اُسے ایسے ہی مشوروں سے نوازا کرتی تھی۔ ہر آنے والے دن میں ندیم کی قدر و منزلت اُس کی نگاہوں میں زیادہ ہوتی گئی۔ سب کچھ اِسی نہج پر گامزن رہتا تو ٹھیک تھا۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ محبت کا دم بھرنے والی امتحان میں پڑ گئی۔
فرزانہ کی شادی طے ہوگئی تھی۔ وہ نہ صرف اُس کی دوست تھی بلکہ کلاس فیلو اور محلہ دار بھی تھی۔ اُس نے شمائلہ سمیت اپنی تمام سہیلیوں کو مہندی سے لے کر رخصتی تک ہر پروگرام میں انوائٹ کررکھا تھا۔ شمائلہ جب تیاری کرکے مہندی میں شمولیت کے لیے اُس کے گھر میں پہنچی تو اپنی سہیلیوں کو اپنا منتظر پایا۔ وہ سب ایک علیحدہ کمرے میں ڈیرہ جمائے بیٹھی تھیں۔ پھر شور اُٹھا کہ لڑکے والے مہندی لے آئے ہیں۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ صحن میں آگئی جہاں فرزانہ کے ہاتھوں پر حنائی رنگوں سے دیس نکالے کا حکم نامہ پرنٹ کیا جارہا تھا۔
مہندی کا ہنگامہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ کسی نے شمائلہ کے ساتھ کھڑی صدف کو بتلایا۔ ’’صدف! تمہارا کزن تمہیں لینے کے لیے پہنچ گیا ہے۔ وہ باہر گاڑی میں تمہارا منتظر ہے۔‘‘
وہ باہر گئی۔ اپنے کزن کو کچھ دیر اور رکنے کا حکم صادر کرکے واپس آگئی۔ شمائلہ نے پوچھا۔ ’’عمرا ن ہے؟‘‘
وہ بولی۔ ’’نہیں… شکیل بھائی ہیں۔ چند دن قبل ہی امریکا سے لوٹے ہیں۔ وہاں وہ کسی کنسٹرکشن کمپنی میں انجینئر ہیں۔ یہاں تو بس گزارے لائق تھے، امریکا سیٹل ہوکر بہت بڑے آدمی بن گئے ہیں۔‘‘
اُس نے سن کر بھلا دیا۔ مہندی کا ہنگامہ ٹھنڈا پڑ گیا تو سبھی سہیلیاں صدف کو اُس کے کزن کی گاڑی تک چھوڑنے آئیں۔ شکیل گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑا صدف کا انتظار کررہا تھا۔اُسے دیکھ کربولا۔ ’’بہت دیر کردی۔ میں کھڑے کھڑے بو ر ہوگیا ہوں۔‘‘
وہ ہنسنے لگی۔ اچانک ہی شکیل کی نظر شمائلہ پر پڑ گئی۔ کہتے ہیں کہ ایک ہی نظر میں ہونے والی محبت آندھی کی طرح اٹھتی ہے اور آن کی آن میں سب کچھ تہس نہس کرتی جاتی ہے۔ وہ بھی پہلی نظر کا شکار ہوگیا۔ آنکھیں جھپک کر اورزیادہ محویت سے دیکھنے لگا۔ صدف نے ٹہوکہ لگایا۔ ’’کیا پہلی مرتبہ کسی لڑکی کو دیکھ رہے ہو؟‘‘
وہ جھینپ کر بولا۔ ’’لگتا تو ایسے ہی ہے۔‘‘
دونوں نے ایک دوسرے کے کان میں کچھ کھسر پھسر کی۔ پھر صدف اپنی سہیلیوں کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔ ’’میرا کزن بہت کنجوس ہے۔ بڑی مشکل سے مجھے آئس کریم کھلانے پر رضامند ہوا ہے۔ کیا خیال ہے؟ اِس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اِس کی جیب کو خاصا ڈھیلا نہ کردیا جائے۔‘‘
شمائلہ ماما کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاتی تھی۔ اَب بھی نہیں جانا چاہتی تھی مگر اپنی دوستوں کے آگے ہار گئی۔ سب شکیل کی بڑی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر ہوٹل میں پہنچ گئیں۔ آئس کریم کا آرڈر دینے، سرو ہونے اور کھانے تک شکیل کی نگاہیں شمائلہ پر مرکوز رہیں۔ وہ اُس کی نظروں کی تاب نہ لا کر آنکھیں جھکائے آئس کریم کھانے میں مصروف رہی۔ شکیل شرارت آمیز لہجے میں بولا۔ ’’میرا خیال ہے کہ آئس کریم پیٹ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ کمپنی انجوائے کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ مس شمائلہ کسی پریشانی کا شکار ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو ہمیں جلد از جلد اپنی پارٹی سمیٹ کر اِسے گھر پہنچانا چاہیے۔‘‘
سبھی اُس کی طرف دیکھنے لگیں۔ وہ پہلے کٹ کر بیٹھی تھی، اَب سب کی توجہ کا مرکز بننے کے بعد خاصی نروس ہوگئی۔ بے ترتیب لہجے میں بولی۔ ’’نن… نہیں… ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ بس میں ذرا جلد گھر جانا چاہتی ہوں۔‘‘
اُس کی سہیلیاں اِس پارٹی سے ابھی لطف کشید کرنے کے چکر میں تھیں۔ وہ گھر جانا چاہتی تھی۔ صدف نے کہا۔ ’’شکیل! تم اِس طرح کرو کہ گاڑی میں میری پیاری شمائلہ کو اُس کے گھر چھوڑ آئو۔ اس کی ماما بہت پریشان ہورہی ہوں گی۔‘‘
وہ چابی اٹھا کر کھڑا ہوگیا۔ وہ اپنی بے وقوفی سے بہت بڑی مصیبت میں پھنس چکی تھی۔ اُس کی نظروں سے بچنے کے لیے نروس ہونے کا ڈرامہ رچا رہی تھی، وہ ڈرامے میں رنگ بھر کر اُس کی تنہائی چُرانے کے لیے چھاتی پھلا کر سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔ وہ مزید نروس ہوگئی۔ اُس کی سہیلیوں نے اُسے جانے کا مشورہ دیا۔ صدف نے اُسے بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’فرینڈز! میں شمائلہ کو گاڑی میں بیٹھا کر آتی ہوں۔ آپ شغل جاری رکھیں۔‘‘
وہ طوعاً و کرہاً شکیل اورصدف کے ساتھ گاڑی تک آئی۔ شکیل نے فرنٹ گیٹ کھول کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ کر سراسیمہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ صدف کو ساتھ لے جانا چاہتی تھی مگر وہ قلانچیں بھرتی ہوئی ہوٹل میں داخل ہوگئی۔ گاڑی بڑھاتے ہوئے شکیل نے کہا۔ ’’بعض اوقات جان چھڑانے کی کوشش میں بندہ اپنی جان پھنسا بیٹھتا ہے۔ تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔‘‘
وہ کچھ نہ بولی۔ وہ بولا۔ ’’مس شمائلہ! میں نے پاکستان سے امریکا تک بہت سی لڑکیاں دیکھی ہیں۔ وہاں جس کمپنی میں کام کررہا ہوں، اُس میں بھی دنیا جہان کا حسن بھرا ہوا ہے مگر آج تک میری نظر میں کوئی لڑکی جچی نہیں ہے۔ تم جچی ہو۔ مجھ سے دور رہنے کی کوشش کرو گی تو میں اور زیادہ قریب آجائوں گا۔‘‘
اُس کا اوپر کاسانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔ اُس نے زندگی میں ایک بار کسی مرد کی محبت کا دم بھرا تھا۔ اُس پر کھلنے میں بھی اُس نے کئی ماہ بِتا دیے تھے۔ یہ عجیب انسان تھا جو آدھے گھنٹے کے ساتھ میں ہی اتنا قریب آگیا تھا کہ سانس ہی رکنے لگی تھی۔ ’’گاڑی جلدی چلائیں۔ مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘
اُس نے گاڑی تیز کرنے کی بجائے مزید سست کردی۔ وہ شاکی نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’میں ایسی لڑکی نہیں ہوں اور نہ ہی یہ امریکی ریاست ہے۔ یہ پاکستان ہے۔‘‘
وہ ہنسا۔ ’’اطلاع کا شکریہ! میں تمہاری معلومات سے قطعی متفق ہوں۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے سڑک کے بیچوں بیچ گاڑی روک دی۔ ہاتھ اُس کی سمت بڑھاتے ہوئے بولا۔ ’’میرے بڑھے ہوئے ہاتھ کو محبت سے قبول کرکے مجھے نئی زندگی دے سکتی ہو۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں، تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور ہمیشہ تمہیں اپنے دل کی رانی بنائے رکھوں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے…‘‘
وہ بھونچکی رہ گئی۔ کوئی ایسے بھی زندگی میں آتا ہے کیا؟ اُس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو ایک نظر دیکھنے کے بعد شیشے کے باہر متحرک روشنیاں دیکھنے لگ گئی۔ ہونٹ بھینچ کر بولی۔ ’’میں نے کہا ہے کہ مجھے گھر جانے کی جلدی ہے۔‘‘
وہ بولا۔ ’’مجھے اپنی زندگی پانے کی جلدی ہے۔‘‘
گاڑی سے اتر کر اُس کے قریب آکر گیٹ کھول کر کھڑاہوگیا۔ ہاتھ کااشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’وہ اسٹریٹ لائٹ پول کے نیچے کھڑے ہوکر باتیں کرتے ہیں۔ امریکا میں ایسی ملاقاتیں بہت رومانٹک کہلاتی ہیں۔‘‘
وہ اترنا نہیں چاہتی تھی۔ اُس نے اُس کا ہاتھ تھام کر نیچے اتار لیا۔ وہ دل ہی دل میں اُس وقت کو کوسنے لگی جب اپنی سہیلیوں کی ضد پر اُس کے ساتھ آئس کریم کھانے کے لیے ہوٹل میں جانے پر رضامند ہوئی تھی۔ وہ اُسے پول کے نیچے لے آیا۔ دونوں مقابل کھڑے تھے۔ اُس نے غور سے شکیل کو دیکھا۔ نیلی آنکھیں، لانبا قد، سرخ و سپید رنگت… اُس کی پرسنالٹی ایسی تھی کہ کوئی لڑکی بھی جی جان سے واری جانے پر تیار ہوسکتی تھی۔ وہ چند لمحے دیکھتی رہی۔ نظریں دل کی دنیا اجاڑنے پر تیار تھیں۔ وہ اُسے جھٹکنا چاہتی تھی، وہ اُس پر حاوی ہونا چاہتا تھا۔ دونوں اپنی اپنی جنگ لڑنے لگے۔ پھر اچانک شکیل نے اُس کے لرزاں وجود کو اپنی بانہوں میں بھر کر دیوانہ وار پیار کر ڈالا۔ وہ کچھ بھی نہ کہہ سکی۔ اُس کے ہاتھوں میں بے خود سی ہوکر جھول گئی۔
شخصیت کو کمزور کرکے ہرانے والا لمحہ شکیل کی دسترس میں آچکا تھا۔ جب وہ اُس کے سہارے پر چلتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی تو اُس کا سانس بری طرح بے قابو ہورہا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور ہولے سے بولا۔ ’’آئی لو یو شمائلہ! آئی لو یو… میری ماں دو ماہ سے اپنے لئے بہو تلاش کررہی ہے۔ ناکام ہو کر جھنجلانے لگی ہے۔ اُسے جا کر کہوں گا کہ میں نے ایک ہی رات میں اُس کے لیے بہو تلاش کر لی ہے۔ میں اُسے جا کر آج رات ہی سرپرائز دوں گا۔‘‘
وہ کچھ نہ بولی۔ اُسے یاد ہی نہ رہا تھا کہ اُس پر پہلے سے ہی ریزرویشن کا کارڈ لگا ہوا تھا۔ عجیب بے خودی کی کیفیت میں وہ اپنے گھر پہنچی۔ کمرے میں پہنچ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ دوپٹے کے کونے کو پکڑ کر کولمبس امریکا فتح کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ وہ سوچنے لگی۔ اپنے آپ سے نفرت محسوس ہونے لگی۔ اُس نے ندیم کی محبت میں خیانت کا ارتکاب کیا تھا۔ اُسے ندامت ہوئی۔ پھر یہ ندامت نئی الوہی محبت کے وجود کے پیچھے کہیں چھپ گئی۔ شکیل… آیا، ملا اور دل کی نگری کو فتح کرتے ہوئے چلا گیا۔ وہ سوچ میں پڑ گئی۔ ندیم نے برسوں سے اُس پر محبت کے ڈونگرے برسا کر اتنی ہلچل نہیں مچائی تھی جتنی وہ چند پل کی ملاقات میں مچا گیا تھا۔ دل کی دنیا کو تہہ و بالا کرتے ہوئے اُس کی تمام تر محبتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
ابھی فرزانہ کی رخصتی بھی نہ ہوئی تھی کہ شکیل کی ماں دولت کے جلو میں اپنے وجیہہ بیٹے کا رشتہ لے کر اُن کے گھر پہنچ گئی۔ ماما نے حیرت سے اُسے دیکھا اور رَسان سے کہا۔ ’’بہن! کسی نے غلط خبر دی ہے تمہیں۔ میری بیٹی کی تو منگنی ہوچکی ہے۔‘‘
وہ بولی۔ ’’مجھے اِس بات کا بھی پتہ ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ بیٹی شمائلہ کا پلو تم نے ایک لیکچرر سے باندھ دیا ہے۔ بہن! کہا ںتمہاری لاکھوں میں ایک شمائلہ اور کہاں وہ چند ہزار روپے کا تنخواہ دار۔ تم سوچ کر جواب دینا۔ میں دو دن بعد پھر آئوں گی۔‘‘
پاپا کو پتہ چلا۔ ماما اور پاپا دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ایک طرف بیٹی کا شاندار مستقبل تھا۔ دوسری طرف بیٹی کا پیار تھا۔ فیصلہ نہ کر پائے تو ماما اٹھ کر بیٹی کے کمرے میں آگئی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے نقوش پر لکھی نادیدہ تحریر پڑھنے میں مصروف تھی۔ ماما کو دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ بولی۔ ’’بیٹا! صدف کے کزن شکیل کا پرپوزل تمہارے لئے آیا تھا۔ وہ کہہ رہی تھی کہ تم اُس کے بیٹے شکیل کو پسند کرتی ہو۔ میں نے اُسے کہا بھی کہ میری بیٹی کی منگنی ندیم صدیقی سے ہوچکی ہے اور دونوں ہی اِس منگنی پر مطمئن ہیں۔ تم کیا کہتی ہو؟‘‘
ماما کو توقع تھی کہ بیٹی جھٹ سے شکیل کو رَد کردے گی۔ عملاً ایسا نہیں ہوا۔ بیٹی کوسوچ میں پڑتے دیکھ کر ٹھٹک گئی۔بولی۔ ’’بیٹا! کیا بات ہے؟ کس سوچ میں گم ہوگئی ہو؟‘‘
وہ بولی۔ ’’ماما! ندیم صدیقی بہت اچھا انسان ہے۔ میں سوچ رہی ہوں کہ ایک لیکچرر کا مستقبل کیا ہوتا ہے۔ ترقی کرکے پروفیسر بن جائے گا۔ لگی بندھی تنخواہ میں عمر گزرے گی۔ نہ کوئی رنگینی، نہ سیاحت، نہ روپے پیسے کی ریل پیل۔ شکیل کی پرسنالٹی، دولت، گرین کارڈ… اُس کی ہر چیز بہترین مستقبل کی نوید دیتی ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں؟‘‘
ماما کے پاس کچھ کہنے کے لیے باقی نہیں بچا تھا۔ اُسے سوچنے کے لیے دو دن کا وقت دیتے ہوئے بولی۔ ’’مجھے تم سے یہ امید بہرحال نہیں تھی۔ تمہارے پاپا تمہاری ہر ضد کے آگے ہتھیار ڈال کر مجھے بے توقیر کردیتے ہیں اِس لئے میں نے آج تک تم دونوں باپ بیٹی کے بیچ میں آنے کی کوشش نہیں کی۔‘‘
پاپا نے ندیم صدیقی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سمجھایا۔ ’’بیٹا! تمہاری بات مان کر میں نے ندیم صدیقی کو اپنا بیٹا بنانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے اچھا نہیں لگا تھا، جب میل جول بڑھا تب پتہ چلا کہ وہ بہت اچھا انسان ہے اور پھر میں تمہارے فیصلے کو سراہنے لگا۔ آج تم مجھے امتحان میں ڈال کر غیر حل شدہ پرچہ شکیل کے ہاتھ میں تھمانا چاہتی ہو۔ کیوں؟‘‘
اُس نے سر جھکا کر وہی باتیں کی جو اُس نے اپنی ماما کے سامنے کی تھیں۔ باپ جہاندیدہ شخص تھا۔ سوچنے لگا۔ ’’بیٹی کو دولت کی چکاچوند نے اندھا کردیا ہے۔ ایسے میں پڑھانے والے کی محبت کہیں دور جا کر سسک رہی ہوگی۔‘‘
ماما اور پاپا کے نرم رویے سے شہہ پا کر وہ حسبِ عادت ضد کرنے لگی۔ ماما نے ندیم صدیقی کا پتہ کیا۔ وہ حیدرآباد گیا ہوا تھا۔ اُس نے حیدرآباد فون کرکے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اندرون سندھ شکار پر نکلا ہوا ہے۔ اُس نے اُس کی والدہ کو فوری طور پر رابطہ کرانے کی استدعا کی۔ بیٹی کو سمجھایا کہ تمہیں ندیم سے اچھا کوئی انسان زندگی میں نہیں مل سکتا۔ وہ بولی۔ ’’ماما! سنگل سٹوری مکان کے علاوہ اُس کے پاس کیا ہے؟ میری غلطی سے استاد اور شاگرد کے درمیان پیدا ہونے والا ٹرانسفیریشن کا جذبہ محبت کا روپ اختیار کر گیا تھا۔ ورنہ یہ حقیقت ہے کہ وہ میرے شایانِ شان ہرگز نہیں ہے۔ میں نے شکیل سے مل کر فیصلہ کیا ہے مجھے اپنے بہتر مستقبل کے لیے ندیم کو چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘
ماما نے غصے سے کہا۔ ’’دنیا خوب سے خوب تر سے بھری پڑی ہے۔ شکیل کے بعد کوئی اُس سے اچھا دکھائی دیا تو ادھر لپکنے لگو گی۔ زندگی کا چلن ایسا نہیں ہوتا۔سمجھنے کی کوشش کرو بیٹا!‘‘
وہ نہیں سمجھی۔
ندیم کے لوٹنے سے قبل ہی اُس کی تقدیر کا فیصلہ کردیا گیا۔شکیل کے گھر والے منگنی وغیرہ کے تکلفات کے حق میں نہیں تھے۔ ویسے بھی شکیل کے پاس تھوڑا وقت باقی تھا۔ وہ امریکا جانا چاہتا تھا۔ جاتے ہوئے اُسے بھی اپنے لاکٹ میں تصویر کی طرح فٹ کر کے لے جانا چاہتا تھا۔ دس دن بعد شادی کرنے کا جب فیصلہ ہوگیا تو وہ تتلیوں کی طرح ادھر ادھر اُڑ کر اپنی خوشی کا اظہار کرنے لگی۔ پورے گھر میں اُس کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ امجد، ماما اور پاپا… تینوں کو اُس کا فیصلہ سخت ناپسند گزرا تھا۔
ندیم کو جب صورتِ حال کا پتہ چلا تو اُس کا مکان اُس پر مزید تنگ پڑگیا۔ وہ بھاگا بھاگا شمائلہ کے کمرے میں پہنچا۔ اُسے دیکھ کر بولا۔ ’’شمل! یہ میں نے کیا سنا ہے؟‘‘
ندیم سامنے نہیں تھا تو ہر فیصلہ شکیل کے حق میں آپوں آپ ہی چلا جاتا تھا۔ ندیم سامنے آیا تو اُس پر ندامت اور شرمندگی سوار ہوگئی۔ وہ ہولے سے بولی۔ ’’میں بہت شرمندہ ہوں ندیم!‘‘
وہ تلخی سے بولا۔ ’’کیا تمہاری شرمندگی کا تذکرہ سن کر میں واپس چلا جائوں؟‘‘
۔ ’’میں نے کہا ناں کہ میں بہت شرمندہ ہوں۔‘‘وہ بولی۔ ’’میں نے تمہیں دُکھ دیا۔ مگر اپنے سکھ کی خاطر انسان کو کچھ نہ کچھ قربان کرنا ہی پڑتا ہے۔ مجھے تا عمر افسوس رہے گا کہ میں نے اچھے مستقبل کی خاطر تمہارے جیسے مخلص انسان کی قربانی دی۔‘‘
وہ حیرانی سے اُسے دیکھنے لگا۔ وہ ایسی تو نہیں تھی۔ چند لمحے اُسے دیکھنے کے بعد بولا۔ ’’اوکے! محبت میں پیچھے کی طرف قدم رکھنا کوئی بری بات نہیں۔ اکثر لوگ ڈر جاتے ہیں۔ کچھ بک جاتے ہیں۔ کچھ بدل جاتے ہیں۔ تمہارا شمار جن لوگوں میں بھی کیا جائے، مجھے اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جگنو میری مٹھیوں سے نکل کر کہاں جاتا ہے، کسے روشنی دیتا ہے یا اپنی روشنی گنوا بیٹھتا ہے… مجھے اِس سے بھی کچھ لینا دینا نہیں ہے۔‘‘
وہ اُس کے کمرے سے نکل کر ماما کے پاس آ بیٹھا۔ ماما نے اُسے شکیل کے متعلق تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وہ آزردہ لہجے میں بولا۔ ’’ماما! نئی بات نہیں۔ دولت ہمیشہ سے ہی غریبوں کے حق پر ڈالتی آئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ میں اپنے باپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا تو شکیل سے کہیں زیادہ دولت مند ہوتا۔ میرے بھائیوں کے پاس روپے پیسے کی کمی نہیں۔ وہ آج بھی بضد ہیں کہ میں نوکری چھوڑ کر کوئی بزنس سنبھال لوں۔ میں مہینے بھر کے بعد جتنی تنخواہ پاتا ہوں، میری بھابھیاں اتنے پیسوں کی ایک دن میں شاپنگ کرکے آجاتی ہیں۔‘‘
ماما نے اُس کی بھیگی ہوئی آنکھوں کو پیار سے پونچھتے ہوئے کہا۔ ’’ندیم! تمہیں اپنا بیٹا سمجھتی ہوں۔ آنکھوں والی ہوں، برے بھلے کی پہچان رکھتی ہوں۔ وہ نادان ہے۔ اُسے سمجھائو اور شکیل کے ساتھ سات سمندر پار جانے سے روکو۔‘‘
وہ کچھ دیر بیٹھا رہا۔ پھر اپنے حوصلے مجتمع کرنے کے لیے اپنے گھر چلا گیا۔ دو دنوں کے بعد اُس نے شمائلہ کو اپنے گھر میں بلوایا۔ وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر ماما نے ضد کرکے بھیج دیا۔ کمرے میں پہنچی تو ندیم اُسے بازو سے پکڑ کر صوفے پر بیٹھاتے ہوئے بولا۔ ’’شمل! ہر انسان اپنی آئیڈیالوجی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ میں بھی، تم بھی، ہر کوئی۔ مگر کمٹ منٹ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ تم نے میرے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا وعدہ کررکھا ہے۔ اس وعدے بھری انگوٹھی کو انگلیوں پر سے نوچ کر پھینک دینے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔ تم میری تھیں، میری ہو اور میری ہی رہوگی۔‘‘
وہ ایک ٹک اُسے دیکھے جارہی تھی۔ وہ بولا۔ ’’کبھی کوئی غلطی نہیں کی۔ مجھ پر ایسی غربت کی چادر بھی پڑی ہوئی نہیں ہے کہ تم ڈر کر مجھے چھوڑ جائو۔ اگر تم ایک لیکچرر کی معمولی تنخواہ سے ڈرتی ہو تو میں یہ نوکری چھوڑ کر کوئی بزنس کرلیتا ہوں۔ تمہیں جتنی دولت کی تمنا ہوگی، اتنی کما کر تمہارے قدموں میں ڈھیر کردوں گا۔ مجھے موقع دو۔‘‘
وہ نفی میں سر ہلا کر بولی۔ ’’نہیں ندیم! تم بہت اچھے ہو۔ تمہیں نوکری چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے شکیل کے ساتھ شادی کا فیصلہ بالکل اُسی طرح کیا ہے جیسے تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تب بھی مجھے کوئی روک نہیں پایا تھا، اب بھی کوئی روک نہیں سکتا۔ روائتی عاشقوں کی طرح اِس واقعے کو دل پر لے کر اپنا قد چھوٹا نہ کرو بلکہ براڈ مائنڈڈ بن کر میری خوشی کو سیلیبریٹ کرو۔ دیکھو کہ تمہاری میتھ کی سٹوڈنٹ کو رنگین زندگی گزارنے کا کتنا سنہری موقع ملا ہے۔‘‘
وہ سٹ پٹا کر بولا۔ ’’شمل! عشق کوئی روایت نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو گزرے ہزاروں سالوں میں بہت سی رواتیں بدلی ہیں۔ یہ بھی بدل چکا ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہ تو انسانی بقاء کا اصل اور مکمل بہائو ہے۔ تم مجھے غربت کا طعنہ دے چکی ہو، اب فرسودگی اور روایت پسندی کا لیبل مت لگائو اور مثبت انداز میں سوچو۔‘‘
وہ بڑی دلیری سے مسکرانے لگی۔ اُس کی حالت زار پر طنز کرتے ہوئے بولی۔ ’’تعلیم اور روایات یہ سبق تو نہیں دیتیں کہ بندہ ایک عورت کی طلب میں دنیا جہان کو ٹھکرانے پر آمادہ ہوجائے۔ میرے بعد آنے والی لڑکی بھی بعینہٖ ایسی ہی ہوگی جیسی میں ہوں۔تمہارے سانچے میں شکیل کو ڈھالتی ہوں تو مجھے کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ تمہیں بھی کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔‘‘
وہ سوچ میں پڑ گیا۔ شمل ایسی نہیں تھی۔ اگر ایسی ہوتی تو وہ کبھی اُس کے نزدیک نہ جاتا۔ آخری کوشش کے طور پر وہ اُس کے پہلو میں آن بیٹھا۔ سمجھاتے ہوئے بولا۔ ’’ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ تم نے شکیل کے ساتھ شادی کا فیصلہ بہت عجلت میں کیا ہے۔ جتنا وقت مجھے دیا، اتنا ہی وقت اُسے دو۔ پھر فیصلہ کرنا کہ کس کا وزن زیادہ ہے۔ دیکھو! مجھے شکیل سے کوئی عداوت نہیں ہے۔ میں نے اُسے دیکھا نہیں، جانتا نہیں اور کوئی بغض نہیں رکھتا۔ تمہیں چاہتا ہوں، تمہیں آنے والی پریشانیوں سے آگاہ کرتے ہوئے باز رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
و ہ بولی۔ ’’کیا یہ ضروری ہے؟‘‘
۔ ’’ہاں! بہت ضروری ہے۔‘‘ وہ اُس کا بازو سہلاتے ہوئے بولا۔ ’’میں انسان ہوں۔ ہر انسان کی طرح میں نے بھی دنیا میں سب سے بہتر لڑکی کو تلاش کرکے اپنے نام کا لیبل لگایا جسے تم نے نوچ پھینکا۔ ہر دھتکارے جانے والے کی طرح تضحیک کا احساس مجھے پریشان کررہا ہے۔ کیا تمہیں احساس ہے کہ مجھے یوں رَد کرنے کے بعد کتنا پیچھے دھکیل بیٹھو گی؟‘‘
وہ کچھ نہ بولی۔ وہ بولتا رہا۔ ’’میں جانتا ہوں کہ ہر پڑھنے والی اپنے اتالیق کو سامنے رکھ کر اپنا آئیڈیل تراشتی ہے۔ وہ اپنے عاشق میں بھی انہی خوبیوں کو تلاش کرتی رہتی ہے جو اُس نے اپنے ٹیچر میں دیکھ رکھی ہوتی ہیں۔ اسے ٹرانسفیریشن کہتے ہیں۔ یہ محبت کی ایک جداگانہ قسم ہے۔ پڑھانے والا اپنے قدم نیچے رکھ کر اُس کی سطح پر اترتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ بچوں کی طرح اُس کی انگلی تھامے زندگی کی نہج پر آنکھیں بند کرکے چلتی رہے۔ میں بھی انہی احساسات کا شکار ہوچکا ہوں۔ ہر عورت میں تمہیں تلاش کرتا رہوں گا۔ میری شخصیت مسخ ہوکر رہ جائے گی۔ تمہیں کیا ملے گا؟‘‘
وہ بولی۔ ’’مجھے نہیں پتہ کہ تمہیں دل آزاری کے مقدمے سے نکالنے کے لیے مجھے کیا کہنا چاہیے۔ میں تو فقط اتنا ہی جانتی ہوں کہ میں نے محبت کے آگے سر جھکا لیا ہے۔ تمہیں دیکھ کر اپنانے کو جی چاہا تھا، تب تمہیں بر ا نہیں لگا۔ مجھے حوصلہ افزائی کے جھولے پر جھلارے دیتے ہوئے تمہیں احساس نہیں ہوا تھا کہ تم میری محبت کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا کر مجھے نامکمل کررہے ہو۔ اَب بھی میں اُنہی احساسات کے تابع ہوکر شکیل کے پیچھے بھاگ رہی ہوں۔ اَب میری حوصلہ افزائی کیوں نہیں کرتے؟ کیوں مجھے دوپٹے سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچ رہے ہو؟‘‘
مَے کا ایک گھونٹ پینے والا دوسرا ضرور پیتا ہے۔ دوسرے کے بعد تیسرے کے پیچھے لپکنے لگتا ہے۔ ہوس کبھی مٹتی نہیں۔ وہ اپنی ہوس کو روک کر کھڑا تھا، زمانے کو روکنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ ہتھیار ڈالتے ہوئے بولا۔ ’’اوکے ینگ لیڈی! میں اپنی بازی ہار چکا ہوں۔ تجھے کھونے کا احساس تمام عمر مجھے ماضی میں گھسیٹ کر لے جاتا رہے گا۔‘‘ آنکھوں سے دو آنسو رِس آئے۔ انگلیوں کی پوروں سے جھٹک کر بولا۔ ’’میں نے اِس چھوٹے سے گھر کو تاج محل بنانے کے بارے میں بارہا سوچا۔ خواہش بھی کی۔ یہ بھول گیا کہ ہر مکان تاج محل نہیں بن سکتا۔ ہر چاہنے والا شہنشاہ نہیں ہوتا۔میں بھی نہیں ہوں۔کسی محبت کے لیے ، کسی عشق کے لیے یا کسی کاز کے لیے مجھے جھٹلاتیں تو مجھے زیادہ دکھ نہ ہوتا۔ ڈھلتی بڑھتی دھوپ کی طرح آنے والے پیسے کے لیے چھوڑ رہی ہو، زندگی بھر اِس دکھ کی کسک محسوس کرتا رہوں گا۔ ‘‘
وہ خاموش ہو گیا۔ بولتے وجود میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ جانے والی کو روک لیتا، موت کی طرح خاموش وجود نے کیا روک لینا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دوپٹے کے پلو سے کھیلتے ہوئے بولی۔ ’’تم بہت اچھے ہو۔ میں دل سے تمہیں چاہتی ہوں۔ جانتی ہوں کہ تم بھی مجھے چاہتے ہو۔ چاہنے والوں کی دعائوں میں بڑا اثر ہوتا ہے۔میرے لئے دعا کرنا۔‘‘
اُس نے سچے دل سے دعا کی۔ ’’شمل! تم مجھے بہت پیاری ہو، رہو گی۔ خدا تجھے اپنی امان میں رکھے!‘‘
وہ صوفے پر بیٹھا رہا۔ وہ آنچل لہراتی ہوئی اُس کے کمرے سے نکل کر زندگی سے ہی نکل گئی۔ چند دنوں کے بعد شکیل اُس کی انگلی تھامے امریکا سدھار گیا جہاں ایک تابناک مستقبل اُس کا منتظر تھا۔ ایک مصروف اور رنگین زندگی ارتقاء پا چکی تھی۔
کھڑکی کے باہر اندھیرا پھیل چکا تھا۔ ندیم کے کمرے کا بلب جل رہا تھا۔ وہ کھڑکی بند کرکے پلٹی اور سوئے ہوئے شعیب پر ایک نگاہ ڈال کر گرائونڈ فلور پر آگئی۔ کئی منزلوں والے گھروں میں زندگی اوپر نیچے آتی رہتی ہے۔
ٹی وی لائونج میں پہنچ کر ٹی وی آن کرکے پروگرام دیکھنے لگی۔ کیبل نے ٹی وی اسکرین کو بہت ساری جدتیں دے رکھی تھیں۔ اُسے خوشی ہوئی کہ اُس کا ملک بھی ترقی کرتا ہوا دنیا کو اپنی دہلیز پر لے آنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ وہ ریموٹ کنٹرول سے چینل پر چینل بدلنے لگی۔ کبھی صرف پی ٹی وی کی نشریات چلا کرتی تھیں۔ تب ریموٹ کا کام صرف اور صرف آواز بڑھانا اور گھٹانا ہوا کرتا تھا۔ تب ایک چینل ہی اپنی جانب کھینچ لیا کرتا تھا۔ اب چینلوں کی بھرمار میں کوئی چینل اپنی گرہ سے باندھ کر رکھنے میں کامیاب نہیں ہوتا تھا۔ وہ چند لمحے ایک منظر دیکھتی، بور ہوکر چینل بدل دیتی۔ کہیں لوگ کھیلتے دکھائی دے رہے تھے، کہیں معاشرتی مسائل میں گھرے محبت اوررفاقت کا رونا روتے دکھائی دے رہے تھے۔ کسی چینل پر مرنے والوں کی گنتی زور و شور سے کی جارہی تھی۔ کہیں پر لائیو ٹاک شو چل رہے تھے۔ وہ اپنے اندر کے ہیجان پر قابو پانے کے لیے ٹی وی دیکھنا چاہتی تھی۔ ہیجان چینل بدلنے کے ساتھ ساتھ پروان چڑھنے لگا تھا۔
وہ دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھ رہی تھی۔ شعیب کی آنکھ کھل چکی تھی۔ خالی معدے کو بھرنے کے لیے اُس کو تلاش کرتا ہوا لائونج میں آگیا۔ اُسے بیٹھے دیکھ کر بولا۔ ’’ماما! کتنی بے وفا ہو۔ سوتا ہوں تو چھوڑ جاتی ہو۔ جاگتا ہوں تو جھوٹ موٹ کی محبت کے دعوے کرنے لگتی ہو۔‘‘
وہ اوپرے دل سے مسکرائی۔ ’’میری جان! تم بھی تو بے وفا ہو۔ جاگتے ہو تو مجھ سے چپکنے لگتے ہو، سوتے ہو ئے ثانی کو یاد کرنے لگتے ہو۔‘‘
وہ جھینپ کر بولا۔ ’’پھر میں نے خواب میں اُسے بلایا ہے؟‘‘
وہ ہنسنے لگی۔ اُٹھ کر اُس کے لیے کھانا تیار کرنے لگی۔ کھانا کھا کر دونوں واک کرنے کے لیے باہر نکلے۔ امریکا اور یہاں کے ماحول میں بڑا فرق تھا۔ وہاں زندگی نسبتاً محفوظ تھی۔ وہ سوچنے لگی۔ اُسے غلطی کا احساس ہوا۔ امریکا کو چھوڑ کر پاکستان میں نہیں آنا چاہیے تھا۔ وہاں وہ پرسکون تھی، شعیب کا مستقبل محفوظ تھا اور سب سے بڑی بات یہ تھی وہ وہاں کسی کی مرہون منت نہیں تھی۔ ایک دفتر میں کام کرتی تھی جہاں سے اتنا کچھ مل جاتا تھا کہ دونوں ماں بیٹا ٹھاٹھ سے بسر کیا کرتے۔ اُس نے سیونگ کرکے دریائی مچھلی کے ایک چلتے کاروبارکے شیئرز خرید رکھے تھے۔ وہاں سے بھی خاصی آمدنی ہو جایا کرتی تھی۔ کیا ہوا جو شکیل اُسے چھوڑ چکا تھا، وہ مزے سے رہ تو رہی تھی۔
ٹہلتے ٹہلتے کافی دور نکل آئی۔ قطار در قطار بنی کوٹھیوں کو دیکھ کر سوچنے لگی۔ ’’بارہ سال پہلے یہاں خالی پلاٹ تھے۔ اب یہاں کوٹھیاں تیار ہوچکی ہیں۔‘‘ چند قدم چل کر رُک گئی۔ فرزانہ کا گھر دکھائی دے رہا تھا۔ وہ غیر ارادی طور پر گیٹ پر آئی۔ بیل دی۔ فرزانہ کی ماں باہر نکلی۔ اُسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ بولی۔ ’’آنٹی! میں شمائلہ ہوں۔ فرزانہ کی دوست۔‘‘
وہ بڑے تپاک سے ملی۔ چائے پلا کر پوچھنے لگی۔ ’’تم تو امریکا گئیں تھی۔ کیا ملنے کے لیے آئی ہو؟‘‘
وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ فرزانہ کی ماں خود ہی بول پڑی۔ ’’میکے میں بھائی اور بھابھی کے سوا رہا ہی کون ہے۔ ماں باپ تو کار کے حادثے میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔‘‘
وہ دکھی سی ہوگئی۔ ماما اور پاپا کی کمی کو اُس نے گزرے چند دنوںمیں بڑا محسوس کیا تھا۔ بولی۔ ’’اُن کے بغیر گھر اُجڑا اُجڑا دکھائی دیتا ہے آنٹی!‘‘
وہ آہ بھر کر بولی۔ ’’امریکا کی سنائو۔تمہارے میاں کیسے ہیں؟‘‘
وہ جھوٹ بول کر ٹال گئی۔ ’’بہت اچھے ہیں۔‘‘ بات کے رُخ کو بدلنے کے لیے بولی۔ ’’فرزانہ کیسی ہے؟‘‘
وہ بولی۔ ’’فرزانہ کے میاں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔ دونوں ٹانگوں سے معذور ہوکر گھر میں بیٹھ گیا۔ بے چاری فرزانہ کی زندگی بھی عذر کا شکار ہوگئی۔ بہر حال وہ اپنے گھر میں راضی ہے۔ بچے بہت پیار ے ہیں۔ دل لگائے رکھتے ہیں۔‘‘
اُسے افسوس ہوا۔ بولی۔ ’’اُس کا گھر کہاں ہے؟‘‘
۔ ’’اُس کا گھر میرپور خاص میں ہے۔ وہیں بیاہی تھی۔‘‘
کچھ دیر بیٹھ کر واپس آگئی۔ شعیب بڑاعجیب سا ہورہا تھا۔ انگلی کو جھٹکا دے کر بولا۔ ’’ماما! یہاں ہر کوئی پاپا کے بارے میں پوچھتا ہے، وہاں یو ایس اے میں تو کوئی نہیں پوچھتا تھا۔‘‘
وہ بولی۔ ’’بیٹا! وہاں کی فیملیوں میں اتنی ایسوسی ایشن نہیں ہے جتنی کہ پاکستان میں ہے۔ یہاں عورت اپنے شوہر کے نام پر ، بیٹی بیٹا اپنے باپ کے نام پر پہچان پاتا ہے۔‘‘
وہ معصومیت سے بولا۔ ’’تو اِس کا مطلب ہے کہ میں اور آپ دونوں یہاں اپنی پہچان نہیں رکھتے؟‘‘
بیٹے نے بہت گہری بات کردی تھی۔ اُس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اُسے کسی اور دھیان میں لگانے لگی۔ خاصی چہل قدمی کے بعد جب دونوں اپنے کمرے میں پہنچے تو شعیب کے لیے نینداپنی بانہیں کھولے اور شمائلہ کے لیے کھڑکی اپنے طاق وَا کئے منتظر تھی۔ وہ سوگیا تو وہ اُٹھ کر کھڑکی میں آن کھڑی ہوئی۔ اندھیرے میں سوائے ٹمٹماتے بلبوں اور لائٹوں کے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ندیم کے کمرے کا بلب ہنوز روشن تھا۔ ایک آہ اُس کے لبوں پر آ کر مچل گئی۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ شکیل کو جیسا پاکستان میں پایا تھا، وہ درحقیقت ویسا ہی نکلتا۔
شکیل نے پانچ چھ ماہ اُسے بے پناہ محبت دی تھی۔ وہ ندیم کو بھولنے میں کامیاب رہی تھی۔ اُسے سیر و تفریح کرانے کے ساتھ لاکھوں روپوں کی شاپنگ بھی کروا ڈالی تھی۔ وہ اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب ترین انسان سمجھتے ہوئے چاہنے والے کی سجائی ہوئی سیج پر بیٹھ کر سہانے سپنے بننے میں مگن رہی۔ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ سال ختم نہیں ہوا تھا کہ شکیل کی محبت کے سوتے خشک ہونے لگ گئے تھے۔ اُسے عجیب لگتا تھا کہ شکیل دس پندرہ دنوں کے لیے غائب ہوجاتا تھا۔ وہ دریافت کرتی تو وہ جاب کی مجبوری قرار دے کر اُسے ٹرخا دیتا۔ آنے والے سال میں اُس کے غیاب نے مہینوں کی عدم موجودگی کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اُس نے گلہ کیا کہ وہ اتنے ماہ کیسے اکیلے رہ سکتی ہے۔ شکیل نے بے پروائی سے مشورہ دے دیا کہ وہ کسی آفس میں جاب کرلے۔ مصروف ہوکر وہ اُس کی کمی محسوس نہیں کرے گی۔ اُس نے مشورہ مانتے ہوئے ایک شاپنگ سنٹر میں ملازمت اختیار کر لی۔ پھر اُس کی جاب صورت بدل بدل کر اسٹینو کے عہدے پر پہنچ گئی۔ چھ سال بعد جب شعیب پیدا ہوا تو اُسے امید بندھ گئی کہ شکیل راہ راست پر آجائے گا۔ انہی دنوں جب وہ ہسپتال میں تھی، اُسے ماما پاپا کے ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں فوتیدگی کی اطلاع ملی۔ وہ پاکستان نہ جاسکی۔ شکیل کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اسے لے کر پاکستان جاتا۔
پھر اُسے امجد کی شادی کی اطلاع ملی۔ تب بھی وہ پاکستان نہ جاسکی۔ شعیب کی پیدائش شکیل کے لیے اتنا بڑا واقعہ ثابت نہ ہوسکی کہ وہ اپنی روش کو بدل لیتا۔ کوئی پرسان حال نہ پا کر شمائلہ نے چپ کی چادر اوڑھ کر خود کو جاب اور شعیب کی پرورش میں الجھا لیا۔
آٹھ سال جیسے تیسے گزر گئے۔ شکیل کی بے وفائی اور اجتناب نے جہاں اُس کی شخصیت کو پارہ پارہ کردیا تھا وہاں اُس کے اندر ندیم کو چھوڑنے کے پچھتاوؤں کو بھی بری طرح ہوا دے دی تھی۔ اُسے ندیم کو چھوڑنے اور شکیل کے پیچھے امریکا آنے پر گہرا تأسف رہنے لگا تھا۔ تنگ آکر اُس نے شکیل سے فیصلہ کن بات کرنے کی ٹھان لی۔ جب پانچ ماہ غائب رہنے کے بعد وہ چھ دنوں کے لیے اُس کے پاس آیا تو کافی بجھا بجھا سا تھا۔ اُس نے حوصلہ کر کے کہہ ہی دیا۔ ’’شکیل! میں یہاں نوکری کرنے اور بچہ پالنے کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر نہیں آئی۔ تمہیں میرا خیال نہیں ہے تو مجھے پاکستان بھیج کیوں نہیں دیتے۔‘‘
وہ حیرانی سے بولا۔ ’’تمہیں یہاں کیا تکلیف ہے؟ ہر ماہ تمہیں اتنے ڈالر دیتا ہوںکہ جیسے بھی خرچ کرو، ختم نہیں ہوسکتے۔ پھر ؟‘‘
وہ اُسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پھٹ پڑی۔ ’’تم کیا سمجھتے ہو کہ عورت کو روپوں کی ضرورت ہوتی ہے؟ اِس کے علاوہ اُس کی کوئی زندگی نہیں ہے۔ میں تنہا ہوتی ہوں۔ میری جوانی کو تم نے تنہائی کی بھٹی میں لا پھینکا ہے۔ تمہیں میرا ذرا بھر بھی خیال نہیں ہے۔‘‘
وہ ہنسنے لگا۔ ہنستے ہنستے بے ربط الفاظ ادا کرنے لگا۔ ’’تم عورت ہو۔ مرد کے بغیر نہیں رہ سکتی ہو۔ میری اپنی کچھ مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے میں چوبیس گھنٹے تمہارے گھٹنے سے جڑ کر بیٹھا نہیں رہ سکتا۔ یہاں کا چلن سیکھ لو، کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ یہاں کی لاکھوں عورتوں کو بوائے فرینڈ مل جاتے ہیں، تمہیں کیوں نہیں ملتا؟‘‘
وہ دیدے پھاڑکر اُسے دیکھنے لگی۔ کتنا بے غیرت بن کر سوچنے لگا تھا۔ اُسے خیال آیا کہ کہیں شکیل نے وہ نہ کہا ہو جو اُس نے سنا تھا۔ بولی۔ ’’تم کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘
وہ بے نیازی سے بولا۔ ’’پاکستان میں اور یہاں کے ماحول میں بہت فرق ہے۔ یہاں زندگی خاصی متحرک ہے۔ میں تمہارے پاس سے اُٹھ کر کسی اور خوبصورت بدن کے لمس کی تپش محسوس کرتا ہوں۔ تم میرے جانے کے بعد، میرے آنے تک، خواہ مخواہ اکیلی رہ کر میرا انتظار کرتی رہتی ہو۔ محبت کسی ایک شخص پر نچھاور کرنے والا جذبہ نہیں ہے بلکہ سورج کی کرنوں کی طرح خرچ کرنے سے نہ ختم ہونے والا جذبہ ہے۔ اپنی تنہائی دور کرنے کے لیے تم بھی دوستیاں رکھنے میں آزاد ہو۔‘‘
وہ سر تھام کر بیٹھ گئی۔ اپنے شوہر کی طرح بے حیانہیں تھی۔ دماغ پھٹنے لگا تو وہ بھی پھٹ پڑی۔ ’’میں تمہاری طرح بے غیر ت نہیں ہوں۔ تم مجھ پر احسان کرو اور مجھے طلاق دے کر اپنی زندگی سے جدا کردو۔‘‘
وہ ڈھٹائی سے ہنسنے لگا۔ ’’کم آن شمائلہ! ایسے کریزی انداز میں مت سوچا کرو۔ زندگی کو انجوائے کرو نہ کہ رونے دھونے میں تباہ و برباد کردو۔‘‘
اُس نے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا۔ اُس کے جانے پر اُس نے کورٹ کے ذریعے اُس سے طلاق لے لی۔ اپارٹمنٹ اس کے نام تھا۔ اکائونٹ میں خاصی رقم موجود تھی۔جاب کے ذریعے ہر ماہ کافی رقم کما لیتی تھی۔ شکیل سے جان چھوٹی تو اُس نے سکھ کا سانس لیا۔ شعیب اور وہ اپنی دنیا میں بہت مگن تھے مگر اُس سے پھر ایک غلطی ہوگئی۔ اُس نے سمجھا تھا کہ وہ مرد کے بغیر رہنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ مگر ایسا ثابت نہ کرسکی۔ دوتین سالوں میں وہ بری طرح ٹوٹ کر رہ گئی۔ چونکہ سراہے جانے اور پکارے جانے کی عمر کو عبور کرچکی تھی مگر عورت پن کے اس روپ سے چھٹکارا پانے میں بری طرح ناکام ہوگئی جو ہر دم اپنی تعریف چاہتا ہے۔ خود کو پہلو کی طاقت تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ ایسے میں اُسے ندیم کی بے پایاں چاہت کی کمی کا شدت سے احساس ہونے لگا۔ اُس نے خود کو روکنے میں پھر سال بھر کا عرصہ بِتا لیا۔ جب حوصلہ بالکل ہی ٹوٹ گیا تو اپنے بیٹے کو لے کر، اپنا اپارٹمنٹ بیچ کر سرمایہ سمیٹتے ہوئے پاکستان پہنچ گئی۔ اُسے امجد کے ذریعے فون پر پتہ چلا تھا کہ ماما اور پاپا نے آبائی مکان اُس کے نام کر رکھا تھا۔ کاروبار اور دو کمرشل پلاٹس امجد کے حصہ میں آئے تھے۔
امریکا سے چلتے ہوئے اُس نے امجد کو اپنے مستقل طور پر آنے کی اطلاع دے دی تھی۔ جب یہاں پہنچی تو نوکر کے ذریعے پتہ چلا کہ امجد اپنے اہل و عیال سمیت ڈیڑھ ماہ کے سیاحتی دورے پر شمالی علاقہ جات کی طرف نکل گیا ہے۔ اُسے دُکھ ہوا کہ اُس کا بھائی چند دن یہاں رہ کر اُسے مل کر بھی جاسکتا تھا، مگر بغیر ملے چلاگیا۔
دس فروری کو پاکستا ن کی سرزمین پر قدم رکھتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ اُس کا یہاں غیر معمولی استقبال کیا جائے گا۔ گھر آکر اپنے بے وقعت ہونے کا احساس ہوا۔ جانے والے کو کوئی یاد نہیں رکھتا۔ چند دن بعد ندیم کی شکل دیکھی۔ اُس کا رویہ دیکھ کر دل میں جلترنگ سی بج اٹھی تھی کہ وہ ابھی تک اُس کی محبت میں جل رہا تھا۔ برسوں کی تشنگی کی سیرابی کا وقت اُس نے بڑی مشکل سے قریب کیا تھا۔ بارہ برس پہلے وہ کہتا تھا کہ محبت راگ ہوتی ہے… محبت روگ ہوتی ہے… زندگی کا احاطہ کرنے والا لمبا سبق ہوتی ہے۔ تب اُس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی تھی۔ آج وہ سمجھ کر محبت کا راگ سننے کے لیے ہمہ تن گوش تھی۔ کان ترسے ہوئے تھے۔
ایک سرد آہ بھر کر اُس نے کھڑکی بند کردی۔ دل کی کھڑکیاں کبھی بند نہیں ہوتیں۔ انہیں جتنا بند کرنے کی کوشش کی جائے،اتنا ہی کھل کر ہوا دینے لگتی ہیں۔
…٭٭…
شعیب کو اسکول میں پہلا دن گزارنے کے لیے چھوڑ کر آئی تو ندیم کے پاس پہنچ گئی۔ ندیم کچھ کھویا کھویا دکھائی دیا۔ چائے کی فرمائش کرتے ہوئے بولی۔ ’’کافی عرصہ ہوگیا ہے آپ کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے پئے ہوئے۔ آج جی چاہ رہا ہے۔‘‘
وہ پھیکے رُو مسکرا کر بولا۔ ’’میرے گھر میں چائے بنانے کا سسٹم موجود نہیں ہے۔‘‘
وہ کندھے اُچکا کر رہ گئی۔ دونوں اُجڑے ہوئے لان میں آ بیٹھے۔ وہ بولی۔ ’’اگر لان کے پودوں کی حفاظت کرتے تو یہ پہلے کی طرح سرسبز و شاداب رہتے۔‘‘
وہ کہنا چاہتا تھا کہ۔ ’’اگر تم پاکستان سے نہ جاتیں تو یہاں ہر چیز شاداب رہتی۔ تمہارے جانے پر ہر چیز نے پیلی چادر اوڑھ لی تھی۔‘‘ منہ سے کچھ نہ بولا۔ آنکھوں کی زبانی دیا گیا طعنہ بھانپ کر شرمندہ سی ہوگئی۔ وہ بولا۔ ’’شمل! ہر جذبے کو پانے کی ایک عمر، ایک گھڑی ہوتی ہے۔ ہم دونوں اپنی بے وقوفی کے باعث وہ گھڑی گنوا بیٹھے ہیں۔ تمہارے دل کی دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، اپنے بارے میں جانتا ہوں کہ میں نے وقت کو اُسی لمحے پر ساکت کردیا تھا، جس لمحے نے تمہیں مجھ سے چھینا تھا۔‘‘
وہ استفہامیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ نہ روکی جاسکنے والی چیز کو اُس کے چاہنے والے نے کیسے روک رکھا تھا۔ بولی۔ ’’کیسے؟‘‘
وہ سر جھکا کر بولا۔ ’’تمہاری حیرانی بجا ہے۔ وقت کبھی ہتھیلیوں کے بند باندھنے سے نہیں رُکتا۔ وقت کو روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو روک دے۔ میں نے بھی دوسرا طریقہ اپنایا تھا۔‘‘
احساسِ تفاخر سے اُس کی گردن تن گئی۔ اُس سے پیار کرنے والا ابھی تک وہیں کھڑا تھا، جہاں اُسے چھوڑ کر اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے امریکا سدھاری تھی۔ ہولے سے بولی۔ ’’مجھے سمجھنے میں غلطی ہوگئی تھی۔ غلطی کو دہرانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ پلیز! مجھے معاف کردو۔‘‘
وہ مسکرانے لگا۔ اُس کی مسکراہٹ سے کوئی معانی اخذ نہ کر سکی تو بولی۔ ’’میرے لوٹ کر آنے پر تمہیں خوشی ہوئی؟‘‘
وہ بولا۔ ’’یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے؟ جس کے بارے میں بارہ برسوں کے ہر پل میں سوچتا رہا ہوں، اُس سے مل کر کتنا خوش ہوا ہوں، یہ تم سمجھ نہیں سکتی ہو۔‘‘
وہ سمجھنا چاہتی تھی۔ باتوں میں کچھ دیر گزر گئی تو دھوپ بدن میں چبھنے لگی۔ اندیشہ سر اٹھانے لگا۔ پسینہ اُس کے جھوٹے حسن کو خراب کرسکتا تھا۔ دوپٹے کا پنکھا بنا کر جھلنے لگی۔ وہ بولا۔ ’’گرمی لگ رہی ہے تو اندر چلتے ہیں۔‘‘
دونوں اندر آ بیٹھے۔ موسم گرمی کا نہیں تھا مگر اُنہیں گرمی لگنے لگ گئی تھی۔ وہ بولی۔ ’’ندیم! بارہ سال پلک جھپکنے میں گزر گئے۔ لگتا ہے کہ کل میں یہاں سے گئی تھی، آج آگئی ہوں۔‘‘
وہ سوچنے لگ گیا۔ اُس کی کم عقلی پر رونا آیا۔ جس عرصے کو وہ پلک جھپکا کر گزار چکی تھی، اُس پر وہ عرصہ ایک ایک پل گنتے گزرا تھا۔ اُسے شکیل سے حسد ہونے لگا۔ اُس کی شمل کی زندگی سے بارہ سال چرا کر فاتح رہا تھا۔ اُس کی معیت میں گزرے ہوئے ماہ وسال کو شمائلہ ایک دن سے تشبیہہ دے کر اُس کی توہین کررہی تھی۔ کڑوا گھونٹ پی گیا۔ حلق تک کڑواہٹ اتر گئی۔ وہ بولی۔ ’’ندیم! تم نے زندگی کے بارے میں کیا سوچ رکھا ہے؟‘‘
وہ بولا۔ ’’کچھ بھی نہیں۔ جس راستے سے ٹھوکر کھاچکا ہوں، اُس سے ہمیشہ اجتناب کرنے کا عہد باندھے بیٹھا ہوں۔‘‘
وہ د ل ہی دل میں مسکرائی۔ جیسے کہہ رہی ہو۔ ’’میں نہیں تھی تو یہ عہد چل رہا تھا، آگئی ہوں تو چند دنوں میں ہی اِس عہد کو توڑ کے رکھ دوں گی۔ کوئی توڑنے والا ہو تو صبر کے بند ٹوٹنے کو بے تاب ہوجاتے ہیں۔‘‘
وہ ایک ٹک اُسے دیکھنے لگی۔ وہ کافی بدل گیا تھا۔ جوانی بڑھاپے میں داخل ہوچکی تھی۔ بالوں میں سفید جھلکنے لگی تھی۔ بولی۔ ’’تم ہیئر ڈائی کر لیا کرو تو پرسنالٹی اچھی لگنے لگے گی۔‘‘
وہ ہنسا۔ دونوں بازو کھول کر زورزور سے قہقہے لگانے لگا۔ وہ ہونقوں کی طرح اُسے دیکھنے لگی۔ کہیں پاگل تو نہیں ہوگیا تھا۔ وہ اُس کی نظروں میں جھانک کر بولا۔ ’’میرے ہنسنے پر حیران ہورہی ہو؟ ہیں… ایسا ہی ہے ناں! جب تمہیں میرا فکر کرنا چاہیے تھا، تب تم نے مجھے مار دیا۔ جب تم خود لُٹ کر آئی ہو تو مشورہ لینے کی بجائے دینے لگی ہو۔‘‘
وہ سچ کہہ رہا تھا۔ دریا میں بہتی ہوئی عورت کسی کو کیا نصیحت کرسکتی ہے۔ وہ خفت سے مسکرائی۔ ’’تم ابھی تک نہیں بدلے۔‘‘
وہ ہنسا۔ ’’کبھی کہتی ہو کہ نہیں بدلا، کبھی بدل ڈالتی ہو۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔ وہی مشورہ دیتا ہوں کہ جائو جا کر آرام کرو۔ بے آرامی اور رت جگے نے تمہیں پریشان کر رکھا ہے۔‘‘
وہ ہنسنے لگا۔ ایسے میں یوں لگا جیسے پرانا ندیم نئے کپڑے پہن کر اُس کی زندگی میں داخل ہوگیا ہو۔ وہ ارد گرد دیکھتے ہوئے بولی۔ ’’کبھی صفائی تو کروا لیا کرو۔ کھڑکیوں سے ہوا اندر داخل ہوتی ہے تو گرد اُڑ کر گھٹن پیدا کردیتی ہے۔‘‘
وہ کندھے اچکا کر بولا۔ ’’میں نے چند دن اور یہاں پر گزارنا ہیں۔ چنددنوں کے لیے اِن تکلفات کو ضروری نہیں سمجھتا۔‘‘
وہ چونکی۔ ’’چند دن؟ پھر کہاں چلے جائو گے؟‘‘
وہ نیم بے نیازی سے بولا۔ ’’حیدر آباد! اپنی ڈیوٹی پر۔‘‘
وہ بھول بیٹھی تھی کہ ندیم حیدر آباد کے کالج میں پڑھارہا ہے۔ جب یہاں سے گئی تھی تو وہ مقامی کالج میں پڑھاتا تھا۔ دل میں خیال آیا تو شرارت آمیز لہجے میں بولی۔ ’’میرے بعد کوئی میتھ پڑھنے کے لیے تمہاری زندگی میں نہیں آئی؟‘‘
یوں لگا جیسے اُس نے بچھو کی دُم پر پائوں رکھ دیا ہو۔ وہ تلملا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس کی طرف پیٹھ کرکے کھڑا ہوگیا۔ ’’شمل! میں نے وہ دروازہ ہی بند کردیا تھا جس میں سے گزر کر کوئی لڑکی کتابیں اٹھائے میرے لان میں داخل ہوسکتی ہو۔میں ایک کے بعد دوسرے کھیل کا حصہ بننے والا انسان نہیں ہوں۔‘‘
وہ اُس کے قریب آگئی۔ شانے پر ہاتھ رکھ کر بولی۔ ’’ویری ساری ندیم! میں نے یونہی مذاق کیا تھا۔‘‘
وہ خاموش کھڑا رہا۔ وہ توقع کررہی تھی کہ شانے پر لمس محسوس کرکے پلٹے گا۔ وہ پلٹا نہیں تو وہ سامنے آن کھڑی ہوئی۔ وہ بہت سنجیدگی سے آنکھیں بند کئے کھڑا تھا۔ وہ اُس کے ہاتھ تھام کر بولی۔ ’’پلیز! آنکھیں کھولو۔‘‘
وہ بے جنبش کھڑا رہا۔ اُسے ندامت ہوئی۔ اُس کے ہاتھوں کے لمس میں بھی جان نہیں رہی تھی۔ ہاتھ چھوڑ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ احساس ہوا کہ وہ اپنے تمام تر گداز کو امریکا کے سرسبز ماحول میں کہیں بھول آئی ہے۔ کراچی کی خشک زمین پر اُس کے پیار کا بادل بن برسے گزرتا جارہا تھا۔ سر تھام کر بیٹھ گئی۔ سوچنے لگی۔ معاً شعیب کو اسکول سے لینے کا خیال آیا۔ ندیم کو بتلا کر باہر نکل آئی۔ باہر آکر دھوپ میں کھڑی ہوکر سانس برابر کرنے لگی۔ اَب اُسے پسینے سے میک اَپ کے اترنے کا کوئی ڈر نہیں تھا۔ جسے اپنا آپ شگفتہ دکھانا تھا، دکھا چکی تھی۔
جب شعیب کو لے کر واپس آئی تو ندیم کا گھر خالی خالی محسوس ہوا۔ دیکھا تو تمام کمرے خالی پڑے تھے۔ اُس نے سوچا۔ ’’کہیں گھومنے نکل گیا ہوگا۔ مسلسل گھر میں رہنا بھی تو بہت مشکل کام ہوتا ہے۔‘‘
شعیب سے تمام دن کی رپورٹ لے کر وہ قدرے مطمئن ہوگئی۔ شعیب کو اسکول پسند آیا تھا۔ سستانے کے بعد نوکر کے ہاتھ ٹیکسی منگوا کر بازارکی طرف نکل گئی۔ شعیب اور اپنے لئے کچھ چیزیں خریدنا تھیں۔ شاپنگ میں توقع سے زیادہ وقت صرف ہوگیا۔
آنے والے دنوں میں اُس نے ہر پہلو سے ٹٹول کر ندیم کو بولنے پر مجبور کرنے کی بھرپور کوششیں کر ڈالیں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ اُسے سراہتاتھا۔ پیار بھری نگاہوں سے دیکھتاتھا مگر اُس محبت کی کوئی ایسی سرگرمی ظاہر نہیں ہوئی تھی جو شمائلہ کو گرین سگنل دیتی۔ ہر کوشش کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچی کہ اُس کے ہاتھوں کے لمس میں گداز نہیں رہا تھا۔ اُس کے بدن میں کوئی دعوت نہیں رہی تھی۔
فون پر امجد سے رابطہ ہوا۔ وہ چند دن بعد پہنچنے کی اطلاع دیتے ہوئے کافی پرجوش تھا۔ بولا۔ ’’باجی! کراچی میں بیٹھ کر کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ شمالی علاقوں میں کس قدر حسن قدرت نے سمیٹ رکھا ہے۔ یہاں آکر پتہ چلا۔‘‘
وہ نیم دلی سے بولی۔ ’’مجھے یہاں آکر پتہ چلا ہے کہ کراچی پہلے سے بھی کہیں زیادہ خشک ہوگیا ہے۔‘‘
وہ ہنس کر بولا۔ ’’نہیں باجی! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم چنددنوں میں پہنچ رہے ہیں۔ پھر آپ کو یہ گلہ نہیں رہے گا۔‘‘
اُس نے فون بند کیا ہی تھا کہ شعیب نے پوچھ ہی لیا۔ ’’ماما! تم کہتی تھیں کہ پاکستان میں ہمیں پیار کرنے والے بہت لوگ ہیں۔ میں نے تو ابھی تک انکل ندیم کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔ ایسے ہی اگر رہنا تھا تو یو ایس اے کیا برا تھا؟ وہاں کم ازکم اتنی گھٹن اور گندگی تو نہیں تھی۔‘‘
وہ اُسے سمجھانے لگی۔ ماں دھرتی کا درس دیتے ہوئے اُسے اپنے لہجے کے کھوکھلے پن کا پتہ چلا۔ یوں لگا جیسے وہ سچ کے لحاف میں جیتے جاگتے جھوٹ کو سُلانے کے لیے تھپکیاں دے رہی ہے۔ وہ بولا۔ ’’ماما! آج مہینہ ہونے کو آگیا ہے۔ اکیلے گھر میں رہتے رہتے بور ہوگیا ہوں۔ پتہ نہیں کب انکل امجد اور آنٹی آئیں گے۔ پتہ نہیں وہ مجھے پسند بھی کریں گے یا نہیں… امید پر میرے یقین کو تباہ کردیا ہے تم نے ماما!‘‘
وہ سچ کہتا تھا۔ وہ نظریں چرا کر سونے کی اداکاری کرنے لگی۔ شعیب نے غور سے دیکھ کر ماما کی نیت بھانپتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ ’’ماما! جھوٹ چہرے پر سے پڑھا جاتا ہے۔ تمہیں نیند نہیں آرہی، میرے سوالوں سے بچنے کے لیے چھپنا چاہتی ہو۔‘‘
وہ اُس کے گالوں کو دیوانہ وار چومتے ہوئے بولی۔ ’’جب جھوٹ پڑھ ہی لیتے ہو تو کیا ضروری ہوتا ہے کہ شرمندہ بھی کرنے لگو۔ چلو سوجائو۔ صبح سکول بھی جانا ہے۔‘‘
…٭٭٭…
شعیب کو اسکول پہنچا کر واپس آئی تو سوچنے لگ گئی۔ وہ پاکستان میں کیا کرنے آئی تھی؟… یاد آیا کہ وہ ایک موہوم امید کے کچے دھاگے سے بندھ کر یہاں آئی تھی۔ اُس نے یہ خیال کیا تھا کہ ممکن ہے ندیم اُس کا منتظر ہو۔ اُس کا انتظار ختم کرنے کے ارادے سے یہاں آگئی تھی۔ یہاں آکر اُسے پتہ چلا کہ وہ واقعی اُس کا منتظر تھا۔ کراچی سے حیدر آباد شفٹ ہونے کے باوجود اُس نے اپنا مکان بیچا نہیں تھا۔ اُس نے گزرے ماہ میں کئی بار اعادہ کیا تھا کہ وہ وقت کو وہیں روکے بیٹھا ہے جہاں اُسے شمل سے جدائی کا داغ ملا تھا۔ کیسے؟ یہ سمجھ میں نہ آنے والا نکتہ تھا۔
کھڑکی کھول کر پیلی سالخورہ عمارت کو دیکھنے لگی جس پر اُس کے خوابوں کا سنہرا رنگ چڑھنے والا تھا۔ ندیم نے محبت میں کسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ کھڑکی سے ہٹ کر آئینے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ اپنے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے سوچنے لگی۔ کیا اُس کا حسن ماند پڑ گیا ہے؟ کیا چاند گہنا گیا ہے؟ … بظاہر ایسا نہیں لگتا تھا۔ چہرے نے جتنی جھریاں پکڑی تھیں، اتنا ہی وقت نے ندیم کی نظر کو دھندلا دیا تھا۔ اگر وہ جوان نہیں رہی تھی تو ندیم کی نظریں بھی جوانی طلب نہیں رہی تھیں۔
خود پر اعتماد کا احساس ہوا۔ دل میں تہیہ کرکے ندیم کی طرف چل دی۔ وہ چاہتی تھی کہ آج فیصلہ کن انداز میں اُس سے بات کرے اور شادی کی آفر کردے۔ اُسے بخوبی احساس ہوگیا تھا کہ ندیم اُن لوگوں میں سے نہیں تھا جو پکے ہوئے پھل کو دیکھ کر ایڑیاں اٹھااٹھا کر دیوانوں کی طرح لپکنے لگتے ہیں۔ وہ ڈالی کو جھولی میں جھک کر گرنے پر مجبور کرنے والوں میں سے تھا۔
پہلے بھی جھک کر اُس سے ملی تھی، آج بھی جھک کر ملنے کے لیے اُس کے کمرے میں پہنچ گئی۔ وہ حسب معمول دنیا و مافیہا سے کٹ کر سوگوار انداز میں بیٹھا تھا۔ اُسے دیکھ کر مسکرانے لگا۔ چہرے پر زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ بولا۔ ’’شمل! بہت اچھا کیا تم نے۔ آج یہاں آکر میرا انتظار ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔‘‘
وہ دل ہی دل میں خوش ہو کر بولی۔ ’’کیوں؟ کیا ہوا آج؟‘‘
وہ کھڑا ہوگیا۔ اُس کے قریب آگیا۔ اتنا کہ اُس کے نتھنوں سے خارج ہونے والی سانسیں اُس کے چہرے پراپنا گرم احساس چھوڑنے لگیں۔ وہ سُن رہ گئی۔ یہ ماننا پڑا کہ ندیم میں اب بھی کوئی غیر معمولی کشش موجود تھی جو اُسے اپنی جانب کھینچے جاتی تھی۔ وہ اُس کے دونوں بازو پکڑ کر بولا۔ ’’شمل! وقت کو اپنی انگلیوں میں سختی سے دباتے ہوئے مجھے بارہ سال گزر گئے ہیں۔ اب انگلیاں تھکنے والی ہیں۔ کسی پل گرفت ٹوٹ سکتی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ ایسا ہونے سے پہلے تم آکر میری اُجڑی ہوئی دنیا کا تماشا دیکھ لو۔ پھر وقت مہلت دے، نہ دے…‘‘
وہ حیرانی سے اُسے دیکھنے لگی۔ وہ بہت مایوس دکھائی دیا تو سوچنے لگی۔ ’’میں جس کام کے لیے آئی ہوں، مجھے کردینا چاہیے۔ ہوسکتا ہے مایوسی میں یہ کوئی غلط قدم نہ اُٹھا لے۔جب جھکنا ہی ہے تو پھر اب کیوں نہیں؟‘‘
وہ جھک گئی۔ نظریں جھکا کر بولی۔ ’’ندیم! میں نے گزشتہ سالوں میں تمہیں بہت مس کیا ہے۔ میں شادی کے نام پر تنہائی کا شکار ہوکر راتوں اور دنوں کا شمار کرنے پر مامور کردی گئی تھی۔ ہر گنتی کے مایوس کن نتیجے پر مجھے تم یاد آیا کرتے تھے۔ تب مجھے پتہ چلا تھا کہ میں کتنی بڑی غلطی کرچکی ہوں۔ مجھے اَپنا کر میری سزا ختم کردو۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں تمہارے وجود کے تمام تر خلا کو پُر کردوں گی۔‘‘
وہ عجیب سی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔ اُس کی نگاہوں سے فتح مندی، غلبے یا تفاخر کا تاثر نہیں جھلکتا تھا۔ عجیب اداس، مضمحل اور مایوس نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔ وہ بولی۔ ’’تم شاید میری بات کو سمجھ نہیں پائے۔ میں مانتی ہوں کہ بہت سارا وقت ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔ مگر پھر بھی ابھی زندگی باقی ہے۔ مجھے اور شعیب کو تمہارے سہارے کی ضرورت ہے۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
وہ اچانک قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ کبھی ہنستے ہوئے اِس دیوار تک جاتا کبھی پلٹ کر دوسری دیوار کی طرف چلا جاتا۔ وہ بالکل پاگل دکھائی دے رہا تھا۔ شمائلہ کے رَگ و پَے میں احساسِ تفاخر رَچ گیا۔ ندیم اب بھی اُس کا دیوانہ تھا۔ اُس کے ملن کی خوشی کو برداشت نہ کرپاتے ہوئے دیوانوں کی طرح ہنسنے لگا تھا۔ وہ بولی۔ ’’ندیم! میں سچ کہہ رہی ہوں!‘‘
وہ اُس کی طرف پلٹ آیا۔ اُسے دائیں بازو سے پکڑ کر گھسیٹنے کے سے انداز میں دوسرے کمرے کی طرف لے جانے لگا۔ وہ سہم سی گئی۔ وہ کیا چاہتا تھا؟ نہ سمجھ میں آیا۔ طوعاً و کرہاً اُس کے ساتھ کمرے تک گئی۔ اُس نے پرانا سا تالا کھول کر دروازے کو اندر کی طرف دھکیلا۔ کمرہ سیلن زدہ تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے صدیوں سے بند رہا ہو۔ اُسے لے کر اندر داخل ہوا تو سانس رکنے لگا۔ شمائلہ کا ہاتھ چھوڑ کر جلدی سے کھڑکیاں کھولنے لگا۔ جدھر بھی ہاتھ لگاتا، گرد کا بھبکا اڑ کر منہ سر ایک کردیتا۔ یوں لگتا تھا جیسے اُسے کسی بات کی پروا نہیں رہی تھی۔
وہ سہمے ہوئے انداز میں اُس کی حرکات کا جائزہ لے رہی تھی۔ اُس نے ادھر ادھر جھانک کر کپڑا تلاش کرنے کی کوشش کی۔ نہیں ملا تو اپنی قمیص اتار کر اُس کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ آج تک ندیم نے ایسی بدتمیزی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ وہ مزاحمتی انداز میں بولی۔ ’’ندیم! تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ میں نے کہا ناں میں ہمیشہ کے لیے تمہارے پاس آگئی ہوں۔‘‘
اُس کی بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے اُسے بازو سے پکڑ کر شمالی دیوار کے پاس لے گیا۔ لٹکے ہوئے ایک گرد آلود فریم کو اپنی قمیص سے صاف کرنے لگا۔ گرداُترنے پر پتہ چلا کہ وہ فریم نہیں، وال کلاک تھا۔ اُس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’شمل! اِسے دیکھو۔ یہاں دس بج کر اٹھارہ منٹ ہوئے ہیں۔ یہ گھڑی آج کا وقت نہیں دکھا رہی بلکہ آج سے بارہ سال قبل اسی وقت پر میں نے اِس کا بیٹری سیل نکال دیا تھا۔ ‘‘
وہ حیرانی سے اُسے دیکھنے لگی۔ یاد آگیا کہ لگ بھگ یہی وقت تھا جب وہ آخری بار ندیم کے گھر آئی تھی اور اُسے مایوس کرکے چلی گئی تھی۔
ندیم اُس کی نگاہوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔ ’’شکر ہے تمہیں کچھ یاد تو آیا۔ ہاں ! دس بج کر اٹھارہ منٹ پر تم نے مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ ادھر آئو اور آگے دیکھو۔‘‘
ایک اور فریم کو قمیص سے صاف کرتے ہوئے وہ بہت عجیب لگ رہا تھا۔ گرد کے نیچے سے ایک کیلنڈر نکل کر اُس کی نگاہوں کے سامنے آگیا تھا۔ وہ بولا۔ ’’شمل! میری شمل! دیکھو۔ یہ کیلنڈر ہے۔ یہاں پر انتیس فروری کا ہندسہ ہمیشہ کے لیے ٹھہرا ہوا ہے۔ تم نے آج سے بارہ سال پہلے مجھے انتیس فروری کو موت سے زندگی کی طرف دھکیل دیا تھا۔ تب تم نے یہ بھی نہیں سوچا ہوگا کہ مجھے تمہاری برسی منانے کے لیے چار سال انتظار کرنا پڑے گا۔ جاتے ہوئے تم نے مجھ پر یہ ظلم بھی رَوا رکھا تھا۔ مرنے والوں کی لوگ ہر سال برسی منا کر دل کو تسلی دے لیتے ہیں۔ مجھے اِس سولی پر لٹکنے کے لیے بھی ہر بار چار سال انتظار کرنا پڑتا تھا۔ دو بار میرا انتظار خالی گیا، آج انتیس فروری نے میری جھولی میں تمہیں ڈال دیا ہے۔‘‘
اُس کا سانس رکنے کو آگیا۔ کچھ کمرے کی فضا گھٹن زدہ تھی، کچھ ندیم کا رویہ اُس کا خون نچوڑ رہا تھا۔ اُسے بازو سے پکڑ کر کمرے کے وسط میں آگیا۔ میز پر ایک چوکور ڈبہ پڑا دکھائی دیا۔ اُس نے پہلے کی طرح گرد صاف کی۔ وہ شفاف شیشے کا ایک خوبصورت ڈبہ تھا۔ گرد پوری طرح صاف نہیں ہوئی تھی مگر اِس کے باوجود ڈبے میں پڑی عورت کی ایک مورتی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اُس کا سر کٹا ہوا تھا۔ وہ فاتحانہ انداز میں اُسے دیکھتے ہوئے بولا۔ ’’شمل! میں نے اپنی محبت کی یادگار یہاں بنا دی تھی۔ بارہ سال پہلے انتیس فروری کو۔ میں نے ہی اِس خوبصورت مورتی کا گلا کاٹا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے اِسے مارڈالا تھا۔ جانتی ہو یہ کون ہے؟… تم کیا جانو گی۔ یہ میری شمل ہے۔ یہ تم سے کہیں اچھی ہے۔ اِس نے گزشتہ بارہ سالوں میں کبھی بھی مجھے لیکچرر ہونے کا طعنہ نہیں دیا اور نہ ہی کسی امیرزادے خریدار کی خاطر مجھے چھوڑدینے کی کوشش کی ہے۔‘‘
وہ گھبرا گئی۔ ہر آنے والے پل میں ندیم کا رویہ اُس کی سمجھ سے بالاتر ہونے لگا تھا۔ اَب وہ اپنی حرکات و گفتگو سے کسی طور پر بھی نارمل انسان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔ ’’پلیز ندیم!اَب بس کرو۔ بہت ہوچکا ہے۔ میں نے معافی مانگ لی ہے اور آئندہ غلطی کو نہ دہرانے کا وعدہ…‘‘
اُس نے جیسے اُس کی بات کو سنا ہی نہیں تھا۔ اچانک اُسے لے کر وارڈ روب کے سامنے پہنچ گیا۔ الماری کے دونوں پٹ کھول دیے۔ گرد اُڑ کر چھت تک چلی گئی۔ اندر ایک سوٹ لٹکا ہوا تھا۔ ہینگر سے پکڑ کر باہر نکالتے ہوئے بولا۔ ’’تمہیں یاد ہوگا شمل! یہ سوٹ تم نے مجھے عید پر تحفے میں دیا تھا۔ تم نے کہا تھا کہ شلوار قمیص میں میں قطعاً اچھا نہیں لگتا۔ تھری پیس سوٹ پہن کر میری پرسنالٹی مزید دلکش ہوجائے گی۔ یاد ہے ناں؟‘‘ اُس نے ہاتھ کی گرفت قدرے سخت کرکے پوچھا۔ وہ اثبات میں سر ہلانے لگی۔ وہ بولا۔ ’’یہ بھولنے والی بات بھی نہیں تھی کیونکہ میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں دقیانوسی اور روایت پسند انسان ہوں۔ اس لباس کو پسند نہیں کرتا مگر تمہارے تحفے کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ ہمیشہ اِسے سنبھال کر رکھوں گا۔‘‘
وہ یاد کرنے لگی۔ وہ سچ کہہ رہا تھا۔ وہ پہننا نہیں چاہتا تھا۔ اُس کی ناراضی کے احتمال سے اُس نے صرف ایک بارپہنا تھا۔ پہن کر بڑا شرمسار سا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ بولی۔ ’’پلیز! ندیم تم…‘‘
اُس نے الماری میں سے ایک ڈائری نکالی۔ اُس کو احتیاط سے کھول کر دیکھنے لگا۔ شمائلہ نے دیکھا کہ اُس کے ہاتھ واضح طور پر کانپ رہے تھے۔ چند لمحوں کے بعد ایک سوکھا ہوا گلاب ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوگیا۔ اُسے مٹھی میں جکڑ کر پیس دیا۔ باریک باریک ٹکڑے اُس کے چہرے پر وارنے کے سے انداز میں پھینکنے لگا۔ ’’یہ تمہاری محبت کا اظہار تھا جسے میں نے تیرہ سالوں سے سنبھال رکھا ہے۔ یاد ہے ناں! جانے سے ایک سال قبل تم نے مجھے لان میں کھڑے ہوکر دیا تھا۔ یہ امانت واپس لے لو۔‘‘
شمائلہ کی ہمت جواب دینے لگی۔ سر تھام کر لہرانے لگی۔ندیم نے اُسے گرد آلود کرسی پر بیٹھا دیا۔ وہ خشک زبان ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے بولی۔ ’’پپ… پانی پلا دو۔‘‘
وہ تیزتیز قدموں سے چلتے ہوئے دوسرے کمرے سے پانی کا گلاس بھر لایا۔ اُس کے ہونٹوں پر لگاتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی آدھا گھنٹہ گزرا ہے۔ مجھے دیکھو بارہ سالوں سے پیاس ہونٹوں پر لئے بیٹھا ہوں۔ تمہارے انتظار میں اتنی بھی کوتاہی نہیں کی کہ دوسرے کمرے میں جا کر پانی ہی پی لیتا۔‘‘
وہ ایک ہی سانس میں گلاس چڑھا گئی۔ وہ اُسے اُس کی یادگاریں دکھانے لگا۔ کچھ سنبھلی تو دیکھا کہ ندیم کا پورا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ اُسے اپنے کئے پر ندامت ہونے لگی۔ بولی۔ ’’میرے پاس کہنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ معافی مانگنے کے لیے آئی ہوں، معاف کردو گے تو محبت پر احسان کرو گے۔‘‘
وہ بولا۔ ’’نہیں شمل! اتنی جلد بازی کیا ہے۔ تم نے مجھے شادی کی پیش کش کی ہے۔ تمہیں ابھی میں نے بہت کچھ دکھانا ہے۔‘‘
چند لمحے جیسے تھک کر سستانے بیٹھ گیا ہو۔ توقف کے بعد سائیڈ پاکٹ سے سیلولر فون نکال کر میموری میں فیڈ نمبر نکال کر رابطہ کرنے لگا۔ رابطہ ہوگیا تو بولا۔ ’’ہاں… ندیم بول رہا ہوں… تم لوگ کہاں پہنچے ہو؟‘‘
دوسری طرف سے سنتا رہا۔ پھر بولا۔ ’’ایڈریس تمہارے پاس موجود ہے۔ ٹیکسی والے کو دے دینا۔ وہ تمہیں یہاں پہنچا دے گا۔ یاد رکھنا کہ گھر پر بارہ سال پرانا پیلا رنگ کیا ہوا ہے۔ گیٹ لکڑی کا بنا ہوا ہے۔ پورے علاقے میں صرف یہی گیٹ لکڑی کا ہے۔ تم سیدھا اندر چلے آنا۔ دستک دینے کی کوئی ضرورت نہیں… ‘‘
پھر کچھ سن کر بولا۔ ’’کہہ دیا ناں… یہاں کوئی دروازہ کھولنے والا نہیں ہے۔‘‘
رابطہ منقطع کرتے ہوئے بولا۔ ’’ابھی کچھ مہمان یہاں آنے والے ہیں۔ وہ سات سالوں سے تمہیں دیکھنے کے مشتاق ہیں۔ اُن کی آمد پر میں یہ خوش خبری سنائوں گا کہ تم نے… میری شمل نے… مدت کے بعد پلٹ کر مجھے شادی کی دعوت دی ہے۔ ہائے ! کتنا روح پرور نظارہ ہوگا جب وہ لوگ سنیں گے۔‘‘
وہ چونک کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ بولی۔ ’’کیا تم میری محبت کو تماشہ بنانے جارہے ہو؟‘‘
وہ بولا۔ ’’نہیں شمل! غلط نہ سوچو۔ جو محبت کرتے ہیں وہ خود تماشا بن جاتے ہیں، دوسروں کا تماشا نہیں دیکھتے۔‘‘
وہ جانا چاہتی تھی۔ وہ اُس کے راستے میں حائل ہوکر بولا۔ ’’ابھی نہیں جاسکتی ہو۔ رُکو۔ بس آدھے گھنٹے میں مہمان پہنچنے والے ہیں۔‘‘
وہ پھر بھی جانا چاہتی تھی۔ اُس کے پہلو سے نکلنے لگی تو اُس نے بازو سے پکڑ لیا۔ درشتی سے بولا۔ ’’میں نے کہا ناں کہ مہمانوں کے آنے تک تم کہیں نہیں جاسکتی ہو۔‘‘
وہ چیخی۔ ’’کیوں مجھے یہاں روکنا چاہتے ہو؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ تم ہوش میں نہیں ہو۔ مجھے جانے دو۔‘‘
وہ جوابا چیخا۔ ’’بکواس مت کرو۔ میں پاگل ہوں، مگر اتنا بھی نہیں کہ تمہیں نقصان پہنچائو ں گا۔ صرف یہ دیکھ لو کہ بارہ سالوں سے کس آگ میں جھلس رہا ہوں۔ تم نے اپنا نخلستان سجاتے ہوئے یہ نہیں سوچا تھا کہ میں نے تمہارے علاوہ دنیا میں کسی سے محبت نہیں کی تھی۔‘‘
وہ لاچارگی سے اُسے دیکھنے لگی۔ اُس کی حالت ڈرائے دے رہی تھی۔ وہ دھکیلتا ہوا اُسے کرسی تک لایا۔ بے جان وجود کے ساتھ کرسی میں ڈھے گئی۔ وہ لپک لپک کر اُسے ننھی ننھی سی منقش چادریں دکھانے لگا۔ ’’یہ پہلی برسی پر چڑھائی تھی تمہاری مورتی پر۔ یہ دوسری پر۔ یہ تیسری برسی پر تمہاری قبر پر چڑھانے کے لیے سلوا کر لایا تھا۔ تم نے میری بنائی ہوئی قبر ہی اجاڑ دی۔ ‘‘
جیبی رومالوں جتنی ننھی ننھی چادریں ادھر ادھر پھینکتے ہوئے وہ بالکل پاگل دکھائی دے رہا تھا۔ چیخ کر بولا۔ ’’میں لیکچرر تھا۔ پڑھانے والا تھا۔ تمہاری ماما نے کہا پڑھانے والوں کو ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتیں۔ تم نے کہا پڑھانے والے کو اتنی تنخواہ ملتی ہے جتنی میں ایک دن میں شاپنگ پر خرچ کرنا چاہتی ہوں۔ بتائو… پڑھانے والا ہاتھ میں تھاما قلم پھینک کر بندوق اٹھا لے۔ بچوں کو علم کی روشنی دینے کی بجائے موت کا اندھیرا گھروں پر مسلط کردے… کیا کرے؟ ‘‘
وہ کمرے کے آخری سرے پر پہنچ گیا۔ وہاں سے ایک ننھی سی مخملی ڈبی اٹھائے واپس آیا۔ اُس کے سر پرکھڑا ہوکر بولا۔ ’’یہی تمہاری انگلی میں ڈالی تھی میں نے۔ تم نے جاتے ہوئے واپس کردی۔ یوں جیسے تمہاری کمی یہ انگوٹھی پوری کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ یہی خیال تھا ناں تمہارا؟‘‘
وہ پھر واپس اُسی نکڑ کی طرف گیا۔ واپسی پر اُس جیسی دوسری ڈبیا اُٹھا لایا۔ ’’یہ وہ انگوٹھی ہے جو تم نے مجھے پہنائی تھی۔ یہ میرے وجود کی کمی پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پکڑو، پہنو اور میری جان چھوڑ دو۔ یہ ندیم ہے… جیسے وہ شمل ہے… ویسے ہی یہ ندیم ہے… اِسے سینے سے لگا کر وہ گرمائش حاصل کرو جو ایک انسان کے وجود کے لمس سے ملتی ہے۔‘‘
شمائلہ آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے؟ کیا کرے؟… وہ کوئی وقفہ دیے بغیر بول رہا تھا۔ ’’شمل! تم نے کہا تھا کہ دولت سے ہر سہولت خریدی جاسکتی ہے۔ لاکھوں ڈالر کما کر لائی ہو۔ ایک شکیل بھی خریدلاتیں۔ کنگلے لیکچرر کے پاس کیا لینے آئی ہو؟ جواب دو… مت جواب دو… سنو! تم وہ چیز لینے کے لیے یہاں آئی ہو جو دنیا بھر کی دولت لٹا کر بھی حاصل نہیں ہوتی۔‘‘
ایک پرانی سی بنیان پہنے وہ وحشی دکھائی دے رہا تھا۔ قمیص شیشے کے مورتی والے ڈبے پر دھری پڑی تھی۔ اِسی وقت باہر کسی کے قدموں کی آہٹ ہوئی۔ دونوں نے چونک کر دروازے پر نظریں جما دیں۔ ایک تین سالہ بچہ دروازے میں کھڑا استعجاب بھری نظروں سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ پھر اُس کے پاس آکر ایک خوبصورت عورت آکر کھڑی ہوگئی۔ دونوں نوواردپلکیں جھپکائے بغیر اندر کے ماحول کو بہ احتیاط دیکھ لینے کے بعد سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔
وہ بڑی تیزی سے اُٹھا۔ شمائلہ کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا عورت اور بچے کے پاس لے آیا۔ درشتی سے بولا۔ ’’دیکھ شمل! یہ صباحت ندیم ہے۔ مجھ سے شادی ہونے سے پہلے صباحت آراء تھی۔ یہ بچہ دیکھ رہی ہوناں! یہ میرا بچہ ہے جو مجھے صباحت نے تحفے میں دیا ہے۔ اِن دونوں نے کبھی بھی مجھے لیکچرر ہونے کا طعنہ نہیں دیا۔ جتنا راتب اِن کے حلق میں ڈالتا ہوں ، اتنا ہی چبا کر مزے کی نیند سوجاتے ہیں۔ جب بھی محبت کے لمحات میں تمہارا نام سسکی بن کر میرے ہونٹوں پر مچل جاتا تھا تو یہ عورت اپنی آنکھوں میں ان گنت شکوے بھر کر مجھے دیکھنے لگ جاتی تھی۔ اِس نے اپنے ہونٹوں سے کبھی بھی تمہیں دیکھنے کی خواہش نہیں کی تھی۔تمہارے بارے میں آج تک کوئی سوال نہیں کیا۔ مگر مجھے علم تھا کہ اِس کے اندر بھی اپنی ان دیکھی سوتن کا تجسس ٹھاٹھیں ماررہا ہے۔‘‘
سانس لینے کے لیے رُکا تو دونوں عورتوں نے اُسے دیکھا۔ اُس کا سانس اکھڑرہا تھا۔ سانس لے کر بولا۔ ’’شمل! تم بھی عورت تھیں، یہ بھی عورت ہے۔ تم نے مجھ سے زندہ رہنے کا حوصلہ چھینا، اس نے آب حیات کے چھینٹوں سے مجھے زندہ کئے رکھا۔ یہ میرا بیٹا… سلیم… میری محبت کا تاج محل ہے۔ اور صباحت! اِسے دیکھو۔ یہ شمل ہے۔ سی شمل جس کے بارے میںتم بہت کچھ جانتی ہو۔ اِس نے مجھے غریب لیکچرر ہونے کا طعنہ دے کر بیچ بازار میں ننگا کردیا تھا اور ایک امریکا پلٹ انجینئر کی ڈولی میں بیٹھ گئی تھی۔ اِس نے دولت کے لیے مجھے چھوڑا تھا۔ مجھے چند ٹکوں کے لیے کتا سمجھ کر ٹھوکر ماردی تھی۔ میں اِس کی سطح پر اترنے کی غلطی نہیں کروں گا۔ اِس انتظار میں تھا کہ یہ کب مجھے شادی کی آفر کرے اور میں اِس کی محبت کو دو انسانوں کی محبت پر وار کر پرے پھینک دوں… آج میری خواہش پوری ہوگئی ہے۔ شمل! مجھے تمہاری ضرورت نہیں رہی۔ مجھے دو چاہنے والے مل گئے ہیں جنہیں تم پر فوقیت دے کر ہمیشہ کے لیے جارہا ہوں۔ یہ تاج محل گرارہا ہوں۔‘‘
وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگا۔ صباحت نے عجیب سی نگاہ شمائلہ پر ڈالی اور اپنے محبوب کو سمیٹ کر جانے لگی۔ بیٹا اپنے باپ سے لپٹ کر بوسوں سے دلاسہ دینے لگا۔ وہ لہرا کر کرسی میں ڈھے گئی۔ باہر جاتے ہوئے ندیم پلٹ کر اُس کے پاس آگیا۔ بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بولا۔ ’’شمل! لیپ کا سال ختم ہوگیا ہے۔ اپنی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھو۔ دیوار پر لگے وال کلاک میں بارہ سالوں سے ٹھہرے ہوئے وقت کو پڑھو۔ سب کچھ ویسا ہی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کل تم اِس دروازے سے باہر نکلی تھیں، آج میں نکل رہا ہوں۔ چابیاں میرے پاس ہیں۔ جب ہمت پا کر اٹھو تو دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر جانا… بائی بائی!‘‘
اُس میں اٹھنے کی ہمت نہیں تھی۔ چند لمحوں کے بعد لکڑی کے بنے ہوئے مین گیٹ کی چرچراہٹ نے اُسے خبرکر دی تھی کہ جانے والا ہمیشہ کے لیے اُس کی دنیا سے چلا گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close