Naeyufaq May-16

گفتگو

عمران احمد

عزیزان محترم… سلامت باشد۔

مئی 2016ء کا نئے افق حاضر مطالعہ ہے، جس وقت ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں اس وقت ملک بھر میںکہرام بپا ہے ایک بار پھر ملک دشمنوں نے لاہور میں بم دھماکا کر کے 70 سے زائد معصوم افراد کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں موت کی نیند سلا دیا اور سیکڑوں کو زخمی اور معذورکردیا ہے، ہمارا دل اس وقت خون کے آنسو رو رہا ہے یہ سانحہ نہیں بلکہ سوچا سمجھا ایجنڈا ہے کہ اس ملک و قوم کو کس طرح تباہ و برباد کرنا ہے افسوس اس سازش میں ہمارے اپنے بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقل سلیم دے کہ وہ اس شاخ کو کاٹنے سے گریز کریں جس پر وہ بیٹھے ہیں اللہ تعالیٰ سے درخواست بلکہ فریاد ہے کہ وہ لاہور دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور زخمیوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔
نئے افق کی روز اول سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے اور تنقید کو خوش دلی سے قبول کرے تاکہ ہمیں سیکھنے اور اپنے کام کو بہتر کرنے کا موقع ملے، ریکارڈ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ دیگر ہم عصر جرائد کے مقابلے میں تنقیدی خطوط کو قطع و برید کے بغیر شائع کیا، مگر کچھ ماہ سے چند قارئین کے گروہی اختلافات نے ہمیں دکھی کردیا ہے کہ یہ قارئین اپنے جھگڑے میں ہمیں بھی شریک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ہمارے نزدیک تمام قارئین برابر اور ہمیں پیارے ہیں۔ چند ماہ قبل ایک قاری مجید احمد جائی کی ایک تحریر نئے افق میں شائع ہوئی بعد ازاں وہی تحریر کراچی کے ایک اور جریدے میں بھی شائع ہوگئی جس کی نشاندہی متعلقہ ادارے کے مدیر اور قارئین نے کی۔ سرزنش پر جائی صاحب نے غلطی تسلیم کر کے معذرت کرلی۔ یہ معذرت ہم نے شائع کر کے معاملہ ختم کرا دیا، بعد ازاں چند افراد نے ایک اور لکھاری عامر زمان عامر کے بارے میں لکھا کہ ان کی ایک کہانی شائع شدہ ہے ہم نے نیک نیتی سے وہ خط بھی شائع کردیا۔ اب بھی ہم ثبوت کے منتظر ہیں لیکن افسوس ہمارے بعض قارئین جن میں ایم ریاض الحق رضوی میاں چنوں، عبدالغفار عابد چیچہ وطنی، مہر پرویز احمد دولو میاں چنوں، خواجہ حسین منچن آباد، حذیفہ چوہان منچن آباد، عامر زمان عامر بورے والا، رانا حبیب الرحمان ٹوبہ ٹیک سنگھ، محمد سبطین عاربی، تونسہ شریف، سیدہ عظمیٰ نورین بخاری، ڈیرہ اسماعیل خان نے ہمیں بھی فریق بنا کر بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنایا، ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارا ادیبوں کے کسی گروپ سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی ہم ان کے جھگڑے میں پڑنا چاہتے ہیں لہٰذا ادارے نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے خطوط شائع نہ کیے جائیں ہماری درخواست ہے کہ گفتگو کے صفحات کو تعمیری اور تفریحی گپ شپ تک محدود رکھا جائے اور اختلافات کو فراموش کر کے محبتوں کو فروغ دیا جائے۔ جن صاحبان نے عامر زمان عامر پر الزام لگایا ہے، ان کے پاس دعویٰ کے مطابق ثبوت ہے تو وہ ارسال کریں ورنہ ان کے خطوط بھی شائع نہیں ہوں گے۔
(اس ماہ کا انعام یافتہ خط)
جاوید احمد صدیقی… راولپنڈی۔ محترم مدیران، السلام علیکم۔ نیا پرچہ ملا پہلے سے بھی بھرپور نکھار کے ساتھ اور زبردست تبدیلیوں کے ساتھ گڈ آپ کلرز، لکھائی اور صفحات کی خوب صورتی جو لکھائی کے بہترین ہونے سے ابھرتی ہے، سب ہی پر کشش اور قابل تعریف ہیں مسلسل کئی ماہ کی محنت بار آور ہو رہی ہے جس کی مثال ہے بہترین لکھاری آپ کے لیے لکھ رہے ہیں اور ادب کے جانے مانے ادیب بھی میگزین کو سراہتے نظر آتے ہیں اور دوسرے ممالک سے لکھاری اپنی نگارشات بھیج رہے ہیں اور اس کو شائع کرانا ایک عزت کا مقام ہے جو بلا شبہ رائٹرز کی بڑی حوصلہ افزائی ہے۔ قصہ مختصر حالات سازگار ہیں قارئین سے التماس ہے کہ میگزین کی ریڈر شپ زور و شور سے بڑھائیں حلقہ احباب، دوستوں، ملنے والوں کے ساتھ میگزین کا تذکرہ کیا کریں کہ سرکولیشن بڑھا کر ہی ہم مدیران گرامی کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں شکریہ جی، تمام خطوط و تبصرے جو گفتگو میں شامل ہیں مختلف حالات زندگی اور ہمارے وطن میں لوگوں کی بے حسی اور انتہائی منافقت سب ہی صحیح طرح عیاں ہے۔ سدا سے پسماندہ، جہالت زدہ، تنگ نظر، اپنے علاقائی اور عالمی حالات سے بے خبر اپنے مسائل کی حقیقت سے بے خبر اپنی کوتاہیوں اور ذہنی پسماندگی سے بے بہرہ عوام پر جب ان جیسے ہی حکمران مسلط کردیے جاتے ہیں تو یہ عوام صدیوں کے لیے قہر ذلت میں ڈوبی رہتی ہے اور پھر وہی مزاج، خوبیاں عوام میں بھی دھیرے دھیرے سرائیت کرتی جاتی ہیں اور نیچے تک پہنچتے معاشرہ کا بگاڑ اس بلندی تک پہنچ جاتا ہے پھر یقیناً آپریشن تلوار کرنا پڑتا ہے مگر کب اور کتنے عرصہ کے بعد اور یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ہاں عوامی سطح تک بگاڑ اتنا شدت کا ہے اور اتنا مضبوط ہے کہ اس میں اچھائی کا سوراخ کون کرے گا پچھلے دنوں میرے دوست کا بیٹا جو فیملی کے ساتھ چھ سات سال کے بعد اٹلی سے لاہور آیا ایئر پورٹ پر دو گاڑیوں پر سوار یہ لوگ پھول نگر کے لیے روانہ ہوئے اور رائے ونڈ روڈ کراس کرتے ہی آگے چند لوگوں نے روکا اور پسٹل کے زور پر لوٹنے کی کوشش کی اتفاق سے دو رشتہ داروں کے پاس اسلحہ تھا فوراً ہی کائونٹر کر کے انہیں بھگا دیا وگرنہ لاکھوں کے زیور/ نقدی جو کئی سالوں کی محنت شاقہ کی تھی چلی جاتی وہ لوگ دو ماہ کا آپریشن بنا کر آئے تھے مگر دو ہفتوں میں ہی واپسی کے ٹکٹ کنفرم کر کے واپس ہوگئے۔ ویسے کون سا محکمہ ہے بزنس اور صنعت اور پرائیویٹ ادارے ہیں جو ایک فیصد بھی حلال کی کھاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک بہت بڑا گندا، تعفن و سرانڈ سے بھرپور تالاب ہے اور گندے گندے لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہیں۔ محترم کاشف زبیر کی وفات کا از حد افسوس ہوا بہترین رائٹر سے محروم ہو گئے اللہ کریم جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے، آمین۔ گفتگو اب طویل ہوتی ہے آسمان گفتگو پر بڑے اچھے اچھے ستاروں کو سجایا جاتا ہے ما شاء اللہ 26 چھوٹے بڑے محبت نامے بھی خوب تبصرے تھے شکوے شکایت بھی حوصلہ افزائی بھی اور حالات حاضرہ پر جذبات خوب صورت انداز میں اظہار خیال، بہت پسند آیا۔ چند ایک تبصروں میں کچھ جواب طلب باتیں معلوم ہوئیں اور اپنے طور ان کو جواب دے رہا ہوں اور لوگوں کے سامنے کچھ اور بھی یہ ہوسکتے ہیں انعام یافتہ تبصرہ ایم اے راحیل کا قرار پایا مبارک ہو، کہانی اپنے نام کرنے پر آپ نے نشان دہی کی ہے امید ہے کہ ایکسٹرا آرڈی نری کنرم ہو تو ہم بھی بات کرسکیں گے باقی یہ صحیح ہے کہ عورت کی کردار کشی کے علاوہ دنیا میں ہزاروں غم اور کام ہیں۔ ان مسائل میں جکڑی اس دنیا کو دوسری نگاہ سے بھی دیکھیں، بہرحال تبصرہ بے حد ٹھوس، سنجیدہ اور تنقید و تصیح سے بھرپور تھا مجید احمد جائی صاحب اب پھر نارمل حالات کے حوالے سے شامل ہونا شروع ہوگئے ہیں اچھے اور مثبت تبصرے کے ساتھ خوش آمدید، صائمہ نور آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ ان دونوں مشہور ادیبوں کو عوام کے ہاں زبردست پذیرائی ملی تھی باقی3 دن کے بعد بھی یاد رکھنے والے یاد رکھیں گے۔ خیر معاشرہ اتنا بھی بے حس نہیں ہے بشیر احمد بھٹی صاحب ہمارے میگزین کی قیمت ساٹھ روپے ہے (لکھا ہوا 50 روپے ہے) باقی میں سب سے آپ سے متفق ہوں بالکل صحیح تجزیہ ہے آپ کا جناب ریاض بٹ بہت بہترین کہانی ٹاپ آف دی لسٹ مبارک باد جناب آپ کی وضاحت بھی امید ہے لوگوں کو صحیح تشفی مل جائے گی، تبصرہ بہترین ہے مگر ہمارا ذکر ہی نہیں خیر آپ کی تفتیشی کہانیاں پڑھ کر صحیح معنوں میں جاسوسی کہانیاں پڑھنے والا چسکا پورا ہوتا ہے اس لیے کسی ماہ بھی غیر حاضری بھاری پڑے گی۔ بھائی علی اصغر خوش آمدید لیجیے آپ بھی با ذوق اور اہل علم کی محفل میں شریک ہو کر دانش ور بن گئے ہیں باقی منچن آباد سے پرانے سرور شاذ ایک دو اور بھی پرانے لکھاری آنے سے کیوں گریزاں ہیں ہمارے ریاض حسین قمر صاحب بھی بڑی سنجیدہ، گہرا اور تفصیلاً تبصرہ لے کر جلوہ گر ہیں میں تو آپ کی لکھی چیزوں کا پہلے ہی بڑا فین ہوں آپ کی شاعری بہت سی جگہوں پر پڑھتا رہتا ہوں زبردست جناب ۔ عمر فاروق ارشد زبردست بھئی آپ کی طرح مجھے بھی امجد جاوید کی عورت زاد کا انتظار تھا لیجیے یہ شروع ہوگئی ہے پڑھیے اور خاصے کی چیز ہے زبردست لیکن بھئی آزاد غزلیں تو رد نہیں کی جاسکتی نا۔عامر زمان عامر جی آپ کا تعارف بھی خوب تھا مگر ایم اے راحیل کے الزام پر آپ کی رائے تفصیلا چاہیے ویسے میرا دل اتنے اچھے لکھاری کے متعلق یہ سب الزام اور فراڈ ہی لگتا ہے۔ گل مہر جی آپ کی دونوں وضاحتوں سے اتفاق کرتا ہوں کہ صرف کہانیوں پر تبصرہ کیا جائے اور دوسرے سیاست کو ادب میں نہ گھسیٹا جائے۔‘‘ قارئین میں سے کوئی بھی دوسرا ان دونوں باتوں کی حمایت نہ کرے گا، تبصرہ بڑا اچھا جامع تھا مبارک، احسان سحر، ممتاز احمد، مہر پرویز دولو اور عبدالغفار عابد کے تبصرے صحیح معنوں میں قابل قدر تھے اور اسی لیے شامل گفتگو بھی ہوئے مبارک باد آئندہ آنے کا انتظار، عبدالمالک کیف بڑی مدت کے بعد حاضری دے رہے ہیں ایک اور بھی کیف صاحب تھے وہ کہاں ہیں بہرحال تبصرہ زبردست تھا تفصیلاً اور بھرپور۔ عبدالحمید ہری پور آپ نے قریشی صاحب کے متعلق اور ابن صفی کے متعلق جو کچھ لکھا یہ تو میرے بھی دل کی آواز ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے آمین انجم فاروق ساحلی صاحب آپ کی وضاحت بڑی حد تک لوگوں کو سمجھ آگئی ہو گی، خوب۔ باقی ترقی خوب ہو رہی ہے پچھلی دفعہ 21 تبصرے اور اب 26 تک گئے مدیران مبارک ہو باقی اس دفعہ آپ نے ناقابل اشاعت کی لسٹ دے کر ہمارے بہت سے لکھاریوں کا انتظار ختم کردیا ہے اچھا ہے کہ آپ کو اشاعت کے بارے میں بہت فون آتے ہوں گے جو یقیناً بہت دفعہ کام میں خلل ڈالتے ہیں آگے بھی یہ جاری رکھیے گا۔ دستک انمول تھی بھارت کا دوغلا کردارلعنت ہے ایسے لوگوں پر طاہر قریشی کا اسلامی صفحہ تو یقین کریں دل کے اندر جا بستا ہے اللہ ہو کتاب اگر شائع ہوگئی ہے تو براہ کرم اس کا ہدیہ اور ملنے کا پتا ضرور بتائیں، عمران صاحب نے حدیث شریف سنائی ہر مسلمان ذرا گریبان میں جھانک کر اندازہ کرلے تو نیکی اور گناہ کی اس سے زیادہ سادہ صاف اور گہری بات ہو ہی نہیں سکتی جزاک اللہ۔ آئیے مختصراً کہانیوں پر نظر ڈال لیں۔ دہری موت تو ڈاکٹر ایم اے قریشی اس دفعہ پھر ایک شاہکار لے کر آئی ہیں اور ایسا سائنس فکشن نہ صرف پڑھتے ہوئے تجسس کی انتہا ہوجاتی ہے تو دوسری طرف یہ مدتوں یاد رکھی جائے گی واہ ڈاکٹر صاحب آپ کی شمولیت تو میگزین کا جھومر ثابت ہوتی ہے۔ شبیر سومرو کی ڈاکو راج تو سندھ کی اندرونی کہانی تو ضرور پیش کرتی ہے اور پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ کیا سب کچھ ہمارے وطن میں ہو رہا ہے رشتے تفسیر عباس بابر کے مشاہدے کی صحیح ترین تصویر ہے اور سچ واقعات کو قلمبند کیا ہے بابر صاحب مبارک باد ہو روشنی میں تو قیصر عباس نے سرجن کی طرح معاشرہ کی سرجری کر کے رکھ دی ہے پہلے تو اندوہناک واقعات کا سرزد ہونا پھر روشنی کی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹرز کا نقاب اتار پھینکا اور ان میں سے سفاک ظالم ڈاکٹر جس طرح برتائو کرتے ہیں۔ احساس بھی ایک اچھی معاشرتی کہانی ہے اور تمام کہانی بڑے اچھے طریقے سے لکھی گئی ہے۔ دیوار ہمارے معاشرے کی ایک اور صحیح عکاس کرنے والی داستان کشاف اقبال کی زبانی پڑھ رہا ہوں اور آخر کار منت اور نیہاد کا ملاپ اور زیرج کا بھیانک انجام اللہ کی واحدانیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے تلاش بھی ہمارے معاشرے کی ایک دوسرے رخ کی تلخ حقیقت ہے بھائی بہنوں کا ایک دوسرے کا خیال نہ رکھنا اور پھر معاشرے میں بھنورے تو ہیں ہی بہت خوب لکھا ہے مبارک باد۔ اسی طرح انجم فاروق ساحلی کی کہانی ایک نئے طریقے سے گھومتی ہے اور یہ معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر ہے بہرحال خوب لکھی گئی ہے یہ کہانی۔ طرفہ تماشہ میں جناب مہتاب خان ایک نازک مگر سنجیدہ مسئلہ لائے ہیں۔ یہ احساس کمتری بھی کیا کیا گل کھلاتی ہے مگر ہمت اور جوش و جذبے نے بہترین نتائج لائے بلکہ بے پڑھی لکھی لڑکی بھی تعلیم کے آسمان پر پہنچ رہی ہے واہ زبردست خلیل جبار کی کاوش بھی قابل ستائش رہی معاشرے میں بھاگ کر جذباتی جوش و ہوش کے ساتھ انتہائی قدم اٹھانے والی لڑکی کس طرح ایک گھن چکر بن کر رہ گئی وہ تو اس کا ایمان پکا تھا وگرنہ ذلت کے قہر میں گرتے گرتے عمر گزار دیتی۔ ہمت، بہادری اچھے مستقبل کے زیر آخر کار ساحل پر آ ہی گئی بہت سی نئی پود صحیح سبق سیکھے گی۔ مجرم جتنا بھی چالاک اور زیرک ہو اپنے دام میں خود پھنس جاتا ہے اور لین کے ساتھ بھی یہی ہوا مروہ ایڈی کو کار میں ٹھونس کر پل کے اوپر سے پانی میں گرنا تو ایڈی کی تو ہڈی پسلی پہلے ہی توڑ دی گئی تھیں اور بے ہوش بھی سر کی چوٹ کے باعث ہوئی سراغ رساں تو باریک بینی سے گہرائی میں دیکھتے ہیں اور پھر تمام تر عرق ریزی کے نتیجے میں آکر کار لین جب تختہ دار پر پہنچ ہی گئے۔ اپنے دام میں مختصر خوب صورت سی جاسوسی کہانی شاہدہ صدیقی کی زبانی خوب رہی۔ فن پارے میں امین الدین صدر صاحب کی زبردست کہانی تھی دل میں اتر جانے والی۔ بھاٹی گیٹ کا روبن گھوش زبردست رہی، پڑھ کر یقین مزہ آگیا باقی دونوں کہانیاں بھی منفرد انداز لیے تھیں اور پڑھنے کے لائق محمد سلیم کرد اور سلیم اختر کو مبارک باد، انقلاب عراق کے پس منظر میں لکھی جانے والی کہانی قلعہ الحرمین زریں قمر صاحبہ کی بہترین کاوش کہی جاسکتی ہے جو دل میں اتر گئی اور دماغ بھی متاثر ہوا۔ ذوق آگہی بھی سباس گل صاحبہ بڑی محنت اور عرق ریزی سے سلیکشن کرتی ہیں اور اسی وجہ سے معیاری اور بہترین مواد پڑھنے لو مل رہا ہے فلسفہ زندگی بھی انمول انتخاب تھا باقی بھی بہترین تھے خوش بوئے سخن بھی پہلے ہی بڑی محنت اور احتیاط سے لکھا جاتا ہے اور محترمہ نوشین صاحبہ مبارک باد کی مستحق ہیں انعامی آزاد نظم اے پاگل واقعی اچھے بھلے انسان کو پاگل کرسکتی ہے کہ اب معلوم نہیں یہ پاگل ہے یا ہوش مند باقی بھی لائق مطالعہ تھیں ٹائٹل پر نئے افق کے حروف کے نیچے بھی برائے مہربانی ماہ اور سن ضرور دیا کریں۔ ہمارے پرانے لکھاری، تبصرہ نگار کہاں چلے گئے۔ میری طرف سے مجلس ادارت کی خدمت میں اتنی تیزی سے ترقی کرنے پر مبارکباد اور سب کو فرداً فرداً سلام و دعائیں۔
مجیداحمد جائی…ملتان شریف۔ محترم پیارے عمران احمد صاحب! مزاج گرامی! اُمید واثق ہے ٹھیک ٹھاک ،ہنستے مسکراتے اور خوشیاں بانٹتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی خوشیاں نصیب کرے ۔ صحت کی بادشاہی ،ایمان کی سلامتی کے ساتھ شاد اور آباد رکھے۔رزق میں برکت ،لبوں پہ مسکراہٹ اور آنگن میں خوشیوں کے میلے ہوں ۔۔۔کامیابیاں اور کامرانیاں قدم چومیں ۔راہیں گلزار، زندگی آسان اور رحمتوں کا نزول ہر دم ہو آمین ثم آمین۔ ماہ اپریل 2016کا نئے اُفق سترہ مارچ کو مل گیا۔۔۔سر ورق نے دل جیت لیا۔پہاڑوں کی شہزادی خاموشی کی بُکل مارے ساتھی کے چھوڑ جانے کے غم میں شاید نڈھال ہے ۔پیچھے قد آور سر سبز پہاڑ دِکھایا گیا ہے اور بہتی آبشاروں کی منظر کشی خوب کی گئی ہے ۔پتھروں سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کسی مغلیہ دُور کے بنے پارک میں شہزادی غم ناک بیٹھی ہے ۔۔۔۔مختصر یہ کہ سر ورق کشش بھرا ہے ۔نظریں جم سی جاتی ہیں ۔میں تو لمحوں نئے اُفق کھدرے ہاتھوں میں پکڑے تکتا رہا ہوں ۔۔۔سرروق بنانے والے نے خوب فن کاری سے کام کیا ہے ۔۔ویلڈن ۔۔بہت بہت مبارک۔نئے اُفق کا ہر آنے والا شمارہ ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا ہے اور نئی نئی تبدیلیاں اِس کے چرچے کر رہی ہیں ۔پوری ٹیم یقیناجی جان سے کا م کر رہی ہے اور یہ اُن کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ گفتگو میں خطوط کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور پڑھنے لکھنے والے بھی زیادہ ہو رہے ہیں ۔۔۔دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی نے اِس بار حقیقت سے پردہ اٹھاکر لرزا کر رکھ دیا ہے۔رواں رواں کانپ اُٹھا ہے۔۔۔۔واقعی بھارتی تاجر ماں جیسی مقدس گائے کو بھی نہیں بخشتے تو اُن سے کیسے خیر کی توقع کی جا سکتی ہے۔۔۔بھارت تو بھارت،مغرب بھی مسلمانوں کے علم سے ترقی کے مناظر طے کر رہا ہے۔۔۔۔اور مسلمانوں کو اپنے کلچر کا اسیر بنا کر خرافات میں مبتلا کر دیا ہے۔یقینا سعودی عرب میں بھارت سے جو گوشت جا رہا ہے حرام ہو گا۔۔۔اُف میرے اللہ!دولت انسان کو بے ضمیر بھی بنا دیتی ہے۔۔۔پاکستان میں بھی ضمیر فروش گدھوں ، کتوں اور مردہ جانوروں کا گوشت فروخت کرتے پکڑے بھی گئے ہیں۔۔۔۔یہودی کبھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔پھر بھی ہم اُن سے تعلقات کے خواہاں رہتے ہیں۔ گفتگو میں عمران احمد بھائی کاشف زبیر کے اِس دُنیا سے چلے جانے کا فرمار ہے تھے اور خطوط میں دوست احباب اُن کی صحت کے بارے میں دُعاکر رہے تھے۔ ہماری دُعائیں خالص نہیں رہیں یا پھر ہمیں مانگنا نہیں آتا ۔۔فروری کا مہینہ محبت کا پیغام دیتا ہے لیکن ادب پر قیامت سے کم نہیں گزرا۔۔۔۔نامور معتبر ہستیاں (ایک کے بعد دیگرے) چل بسیں اور یہ سطریں لکھ رہا تھا تو ڈاکٹر انور سدید کی وفات کی خبر آگئی ۔میرے اللہ رحم فرما!دل غمگین ،آنکھیں نم ہیں بس دُعا گوہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرماے بے شک صبر سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں۔۔۔ایم ۔ا ے راحیل صدارت کی کرسی پر فائز تھے ،بہت بہت مبارک باد ۔۔میرے خط کو پسندیدگی کی سند سے نوازا۔ مشکور ہوں۔۔۔آپ کا خط بھی باریک بینی کا آئینہ دار تھا۔۔۔احسن ابرار رضوی بہار رُت کے گیت گا رہے تھے ۔خط کو سراہنے کا شکریہ۔ ابھی میری کتاب ’’قفس میں رقص ‘‘مارکیٹ میں آئی ہے اور خوب پذیرائی بھی مل رہی ہے ۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ احسان اور کرم ہے کہ عزتوں ،رحمتوں سے نوازتاجا تا ہے ۔انسان سے کیا توقعات رکھنی۔۔۔۔پاکستان کی بیس کروڑ آبادی ہے ۔۔ہر کسی کے سوچ وافکار کے زاویے الگ ہیں۔ علی حسین تابش ،اِس بار حاضری مختصر کیوں۔۔۔بشیر احمد بھٹی صاحب کم کم آتے ہیں ۔۔۔ایسا نہ کریں ۔۔۔۔ریاض بٹ صاحب میرے تحفظات پر تفصیلاًجواب دینے کا شکریہ ۔۔۔اِس بار کہانی کہاں گئی ۔نظریں ڈھونڈتی رہ گئیں۔۔۔دوسرا معافی مانگ لینا اور درگزر کر دینا اعلی ظرفی ہے ۔۔۔۔علی اصغر ۔جزاک اللہ آپ نے علامہ محمد اقبال کا شعر میرے نام کیا لیکن کیا ہی اچھا ہوتا ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا نام پورا لکھتے۔ریاض حسین قمر صاحب آپ نے اور قارئین نے خوش آمدید کہا۔ محبتوں کا مقروض ہوں۔۔۔آپ کا خط بھی خوبصورت جملوں سے مزین تھا ۔۔۔کہانی کا انتظار ہے ۔۔۔عالیہ انعام الہیٰ کا خط زبر دست رہا۔۔۔عمر فاروق ارشد کا کھٹا میٹھا خط بہت پیارا تھا۔میں بھی آپ سے اتفا ق کرتا ہوں کہ کم از کم ایک دو تحریریں مزاح پر ہونی چاہیں۔بشری کنول کی آمد بھلی لگی۔۔خط کو سراہنے کا شکریہ۔پیاری آپی گل مہر صاحبہ آپ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ۔۔۔میں کم تر یہی کہہ سکتا ہوں کہ صبر وتحمل ہی زندگی سہل بنا دیتی ہے اور میری تحریر ادارہ کے پاس موجود ہے دیکھو کب کرم نوازی ہوتی ہے ۔۔۔اخبارات میں تو متواتر اِن ہوں۔آپ کا خط دلائل بھرا تھا اور غیر حاضری نہ کیا کریں۔۔۔صحت کے لئے اچھا نہیں ۔۔۔۔انعام یافتہ خط آپ کا ہونا چاہیے تھا لیکن ادارے کی پالیسی اور کسوٹی اپنی جگہ ۔۔۔ہم قدر کرتے ہیں۔محمد یاسر اعوان آپ نے ویلکم کیا ،نوازش ۔آپ کا خط بھی شاندار رہا۔پیارے احسان سحرآپ کا خط رُلا دینے والا تھا۔۔آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور میرے آنے سے خوشی ہوئی یقین کریں میرا بھی سیروں خون بڑھ گیا۔۔۔آپ کا خط خوبصورت جملوں سے مزین تھا ۔ہو سکے تو رابطے میں آئیں۔۔ممتاز احمدنے میرے فیصلے کو سراہا ۔۔۔ممنون ہوں ۔۔۔میری دوستی اللہ تعالیٰ سے ہے ۔اگر چار سال بستر مرگ کے بعد نئی زندگی بخش دی ہے تو میں زندگی جیسی نعمت کو خرافات میں برباد نہیں کرنا چاہتا ،محبتیں بانٹنے سے بڑھتی ہیں ۔۔۔میں تو محبتوں کا سفیر ہوں۔۔۔میر ا پیغام محبت ہے۔۔۔جاوید احمد صدیقی صاحب شکریہ ۔عبدالمالک کیف آپ نے ویل کم کیا نوازش ۔۔۔کوئی بھی اِنسان غلطی جان بوجھ کر نہیں کرتا۔کوئی نہ کوئی وجہ ضرور بن جاتی ہے اور اُس کے دلائل آپ خوبصورتی سے دے بھی رہے ہیں ۔میں آپ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔۔۔۔آپ نے مجھے اچھا کہا ۔۔۔۔اچھی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے ۔۔۔ہم تو زمین کی خاک ۔۔۔۔اور ان خاک کے پُتلوں میں جب غرور آجائے تو خاک ہی ہو جاتے ہیں۔۔۔عبدالحمید ہر ی پور ہرے ہرے خط کے ساتھ حاضر تھے۔۔۔انجم فاروق ساحلی کی انٹری بھی شاندار رہی ۔۔۔آخر میں ناقابل اشاعت کہانیوں کی فہر ست لگی ۔۔۔دلی خوشی ہوئی لیکن اگر زیادہ انتظا ر کی سولی پر نہ چڑھایا جائے کہانی کا جواب کم ازکم تین ماہ کے اندر اندر دیا جائے۔۔۔۔امید ہے غور فرمائیں گے۔ اب بات ہو جائے کہانیوں کی تو سب سے پہلے تلاش پڑھی۔جو کہانی کم افسانہ زیادہ لگا۔’’کرن ‘‘ انجم فاروق ساحلی شروع میں گھبراہٹ کا شکار نظر آئے لیکن آگے بہترین کہانی لکھی گئی ۔۔۔بڑی خوبصورتی سے اختتام کیا گیا۔۔ویلڈن۔۔کرم دین، کرن کے مرنے کے بعد اپنی بیٹیوں کو نصیحت کر رہا تھا لیکن اگر کرن پر شروع سے کنٹرول رکھتے تو یہ نوبت نہ آتی ۔۔۔والدین ہی پہلی درس گاہ ہوتے ہیں ۔۔جو گھر سے نہیں سیکھتا اُسے زمانہ سیکھا دیتا ہے۔۔۔بحرحال زبردست تحریر تھی ۔اَس ماہ کی سُپر ہٹ تحریر طرفہ تماشہ رہی ۔۔کیا کمال تحریر ہے ہنساتی مسکراہٹیں بکھیرتی تحریر تھی۔۔کئی جملوں پر لوٹ پھوٹ ہوتے رہے جیسے ’’اکلوتی اولاد وہ بھی ناہنجار ،نالائق ایک ہی انڈہ وہ بھی گندہ ‘‘ویلڈن مہتاب خان ویلڈن۔اپنے دام میں پُراسراریت بھری مختصر کہانی زبردست رہی۔’’روشنی ‘‘قیصر عباس نے پرانے زخم پھر سے تازہ کر دئیے۔ اسپتالوں میں کیا کیا ہوتا ہے ۔۔مریض کو کیسے کیسے ذلیل کرتے ہیں ۔۔۔۔ہم سے زیادہ شاید کوئی جانتا ہو۔۔۔کہانی زبردست تھی۔ مبارک باد قبول۔۔۔زریں قمر کاانٹرویواچھا رہا ۔فن پارے کی تینوں کہانیاں بھی زبردست تھیں۔ ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں اور قلعہ الحرمین کمال تحریر تھی ۔۔۔۔اِس کے ساتھ ہی اجازت چاہوں گا۔۔زندگی نے مہلت دی تو اگلے شمارے میں حاضر ی ہو گی وگرنہ سلام آخر ہے ۔اللہ تعالیٰ سلامتی کے ساتھ سبھی کو سلامت رکھے آمین ۔
صائمہ نور…بہاول پور روڈ ملتان۔ السلام علیکم! اُمید کرتی ہوں خوش باش زندگی گزارتے ہوں گے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ خوشیوں ،رحمتوں اورنعمتوں سے سرفراز فرمائے ۔دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہیں اور زنگ آلود دِلوں میں خوف خدا پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق اللہ تعالیٰ عطا فرمائے۔ ۔اللہ تبارک وتعالیٰ تمام بیماریوں سے دُور رکھے اور امن کی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ! فروری تو غمگین کرتا گزر ہی گیا لیکن اب مارچ نے بھی قربانی مانگ لی۔ڈاکٹرانور الدین المعروف ڈاکٹر انور سدید خالق حقیقی کے پا س چلے گئے اور ادب اُن سے محروم ہو گیا۔اُردو ادب میں ان کی خدمات بے بہا تھیں۔کاشف زبیر بھی چل بسے ،فاطمہ ثریا بجیا بھی لوٹ گئیں ۔نواب محی الدین بھی چلے گئے اور ہمیں افسردہ ،غمگین کر گئے۔اللہ تبارک وتعالیٰ تمام رحلت فرمانے والوں کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔یہ خلاء کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔۔۔ماہ اپریل کا نئے اُفق ہنستا ،ہنساتا مسکراتا جلد یعنی اپنے وعدہ کے مطابق بروقت مل گیا۔یہ نئے اُفق ہی ہے کہ بارش ہو ،طوفان ہو ،یہ کبھی بھی مشکلات سے نہیں گھبراتا اور بروقت آجا تا ہے۔اِس دفعہ ٹائٹل بہت پیارا ،اعلی بنا یا گیا۔۔۔اُداسیوں کا مجسمہ بنی حسینہ نم ناک تھی ۔ہاتھ میں اپنے پیارے کی نشانی تھامے بس رُو دینے کی قریب ہے اور پہاڑی سلسلہ دل موہ لینے والا ہے۔دستک میں محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے خوبصورتی کے ساتھ بھارت کو بے نقاب کیا ہے۔دولت کے نشے میں انسان کتنا کمینہ ہو جا تا ہے اور بھارتی تاجر انسانیت نام سے واقف ہی نہیں ۔کام اپنے گندے اور ملبہ مسلمانوں پر ۔۔۔لعنت ۔۔۔۔۔بہت اچھا کیا محترم مشتاق احمد نے ان کو بے نقاب کیا۔۔۔۔۔لیجئے من پسند محفل میں پہنچی تو محترم عمران احمد صاحب مرحومین کے لئے دُعا مغفرت کے لئے کہہ رہے تھے۔ہم تو پہلے دن ہی سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص پڑھ کر دُعا کر چکے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مغفر ت فرمائے۔آمین۔انعام یافتہ خط ایم اے راحیل کاتھا ۔تبصرہ خوبصورت تھا،الفاظو ں کے چنائو سے اُن کے مطالعہ کا پتا چلتا ہے ۔بہت سے پردے فاش کرتے نظر بھی آئے ۔واقعی عورت ذات پر لکھتے ہوئے چند لکھاری اخلاقیات کے دائرے سے بھی باہر نکل جاتے ہیں۔۔۔۔ٹھیک ہے معاشرے میں اِس طرح ہوتا ہے لیکن ڈھکے چھپے لفظوں میں بیان کیا جائے تو اچھا ہو۔۔۔ایم اے راحیل مبارک باد کے حق دار ہیں اور انعام تو وہ لے ہی اُڑے ہیں ۔۔۔۔ایم ۔اے راحیل صاحب آپ ثبوت پیش کریں کہ جو کہانی پہلے شائع ہو چکی ہے یا چوری کی گئی ہے ۔ایسے کسی کی دِل آزاری ٹھیک نہیں ۔ثبوت کے ساتھ آیا کریں۔تبصرہ بھی اچھا رہا۔۔۔احسن ابرا ر رضوی دیہاتی پس منظر پیش کرتے نظر آئے مختصر خط اچھا رہا اور میرے خط کو پسند کرنے کا شکریہ ۔مجیداحمد جائی بھی چھائے رہے ۔ان کی سچ گوئی بہت پسند آئی۔ اللہ تعالیٰ سلامت رکھے آمین۔علی حسنین تابش ،بشیر احمد بھٹی،عمر فاروق ارشد بھیا بھی کھری کھری سُنا رہے تھے۔ریاض بٹ بہت شکریہ ،علی اصغر،ریاض حسین قمر ،بہت شکریہ ۔خط پسند آیا۔عالیہ انعام الہی جامع تبصرے کے ساتھ حاضر تھیں۔ گل مہر ،غیر حاضری کے بعد خوبصورت تبصرے کے ساتھ حاضری دی۔مرحومین بھی ووٹ ڈالتے ہیں پڑھ کر ہنسی آئی ۔واقعی آپ سچ کہتی ہیں ۔۔۔کرسی کے نشے میں لوگ انسانیت سے بھی گِر جاتے ہیں۔محمد یا سر اعوان ،احسان سحر نے خوب لکھا ۔ممتاز احمد صاحب بھی جامع حروف کے ساتھ حاضر تھے۔جاوید احمد صدیقی،عبد المالک کیف،بھائی میں بہت کم لکھتی ہوں ۔آپ کی خواہش کی قد ر کرتی ہوں انشااللہ جلد کہانی روانہ کروں گی۔خط پسند آیا شکریہ۔آپ کا تفصیلی تبصرہ اچھا رہا۔عبد الحمید ،انجم فاروق ساحلی کی حاضری بھی خوب رہی۔ناقابل اشاعت کی لسٹ لگا کر اچھا کیا۔اقرا میں ہمیشہ کی طرح انکل طاہر قریشی صاحب نے خوبصورت لکھا۔ملاقات میں زریں قمر سے خاصی گپ شپ رہی۔طویل انٹرویو اچھا رہا۔کہانیوں میں اپنے دام میں ترجمہ شدہ تحریر اچھی تھی۔۔۔چھوٹی سی غلطی سے وہ پکڑا گیا۔تلاش،کرن ،عزت،بے وفا،دیوار،اچھی تحریریں تھیں۔طرفہ تماشہ ،روشنی ،رشتے سُپر ہٹ کہانیاں تھیں۔بہت بہت مبارک باد۔دہری موت ،ڈاکو راج ،احساس کے کیا کہنے۔عورت زاد کی پہلی قسط خوب رہی۔فن پارے کی تمام کہانیاں اچھی رہیں ۔ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن بہترین کلام ،انتخاب سے سجے تھے۔انعام یافتگان کو دلی مبارک باد۔’’قلعہ الحرمین ‘‘زرین قمر صاحبہ نے دل موہ لیا۔ ویلڈن آپی۔نئے اُفق کی تمام ٹیم ،قارئین اور لکھاریوں کے لئے دُعا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کامیابیاں ،کامرانیوں کے ساتھ پُرسکون زندگی عطا فرمائے آمین ۔
ایم ۔اے راحیل… ملتان۔ سلام محبت! محترم مشتاق احمد قریشی،عمران احمد،طاہر قریشی صاحب اور اقبال بھٹی صاحب اورتمام ٹیم کو دِل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام عرض کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ امن و سلامتی والی زندگی عطا فرمائے ،قلبی سُکون وراحت نصیب ہو۔دُشمنوں کی بد نظروں سے محفوظ اور پاک وطن کو امن کا گہوارہ بنائے ۔آمین ! ماہ اپریل کانئے اُفق ملا۔سرورق نے دل باغ باغ کر دیا۔گوری چٹی حسینہ غمزدہ ہے ۔جانے کتنے ارمان پالے بیٹھی ہے ۔کوئی ونجارہ دھوکا دے گیا ہے یا پھر۔۔۔۔؟۔ٹائٹل کا نظارہ کرتے دستک میں پہنچے تو محترم مشتاق احمد قریشی سے ملے جو بھارتی تاجروںکا پردہ فاش کر رہے تھے۔میں تو یوں کہوں گا کہ اُن کے منہ پہ تھپڑ مار رہے تھے۔بھارت کا دُہرا چہرہ دکھا دیا ۔۔۔بھارت کو شرم نہیں آتی ۔۔مسلمانوں کو دُشمن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے ناموں سے کاروبار بھی کر رہے ہیں۔اِن کالے ہتھکنڈے کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔آپ نے اچھا کیا کہ آواز بلند کی ۔گفتگو میں عمران احمد پیارے لکھاری کاشف زبیر کی مغفرت کے لئے دُعا کا کہہ رہے تھے۔اِدھر ڈاکٹرانوارالدین المعروف ڈاکٹر انورسدید کی رحلت کی خبر آگئی۔’’اناللہ واناعلیہ راجعون‘‘میں ان کے ادبی مجلہ ’’الحمرہ ‘‘میں مضمون پڑھتا رہا ہوں ۔۔۔کمال کے مضمون لکھتے تھے۔۔اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔انعام یافتہ خط میں اپنا نام دیکھ کر اُچھل پڑا۔۔۔بہت شکریہ جو اِس قابل سمجھا ۔میںاپنا موجودہ ایڈریس بھی بھیج چُکا ہوں اُمیدہے انعام بھیج دیا گیا ہو گا۔۔احسن ابرار رضوی کا خط خوب تھا۔مجیداحمد جائی نے واقعی اعلی ظرفی کا ثبوت دیا ہے ورنہ وہ تو قانونی چارہ گوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔مجیدا حمد جائی کا تفصیلی خط خاصے کا تھا۔بہت اعلی جائی صاحب۔صائمہ نور،علی حسنین تابش،بشیراحمد بھٹی کے مختصر تبصرے زبردست تھے۔ریاض بٹ ،علی اصغرریاض حسین قمر ،عالیہ انعام الہیٰ،عمر فاروق ارشد،بشری کنول ،گل مہر ،محمد یاسر اعوان،احسان سحر،ممتاز احمد،جاوید احمد صدیقی ،عبد المالک کیف،عبد الحمید ،انجم فاروق ساحلی تفصیلی تبصرے کر رہے تھے اور تقریباًًسبھی مجیداحمد جائی کے فعل کو سرا ہا رہے تھے۔میں بھی مجیداحمد جائی کو داد دیتا ہوں کہ اُنہوں نے معاملے کو طول نہیں دیا بلکہ بات کو ختم کر دیا ۔اُمید ہے جن لوگوں کو اُن سے گلے شکوے تھے دُور ہو گئے ہوں گے۔ ناقابل اشاعت کہانیوں کی لسٹ لگانا یقینا اچھا فعل ہے ۔ اقراء نے دل کی کھڑکیاں کھول دی۔ملاقات میں زریں قمر صاحبہ سے ملاقات خوب رہی ۔لیکن میں حیران ہوں ایک بندہ چار چار سوال کر رہا ہے اور زریں قمر کی ہمت ہے کہ سبھی کا جواب بھی د ے رہی ہیں۔۔۔کسی نے اُن کی نجی زندگی کے بارے میںپوچھا تک نہیں۔۔۔۔سبھی نے ایک ہی طرز کے سوال کیے ہیں۔کہانیوں میں ’’روشنی ‘‘سفید وردیوں میں مسیحا لوگوں کے کالے کرتوں کا پردا فاش کر رہی تھی ۔بہت خوب ۔۔یہی کچھ موجودہ دُور میں ہو رہا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں اِس تحریر کو ہر اسپتا ل میں جانا چاہیے تاکہ ان مسیحا مسیحا کی گردان کرنے والوں کے ذہن کی کھڑکیاں کھل سکیں۔ ’’رشتے‘‘بظاہر اچھی تحریر تھی ۔۔لیکن لکھاری کی کمزوری واضح ہے کہ وہ لکھتے ہوئے بہت بڑی غلطی کا مرتکب ہوا ہے ذرا اِس جملے پر غور کیجئے گا’’سب اچھا ہوگا۔اللہ اپنے بندے کے لئے بہتر (سوچتا )ہے‘‘میرا ایمان ہے بلکہ ہر مومن مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی کائنات کا مالک ہے وہ حکم دیتا ہے سوچتا نہیں ۔۔۔سوچتا تو اِنسان ہے ۔۔۔۔لکھاری کو اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا چاہیے۔ طرفہ تماشہ طنز و مزاح پر اچھوتی تحریر تھی ۔۔۔شائستہ جملوں کے ساتھ شگفتہ تحریر نے بہت متاثر کیا ۔۔۔ویلڈن مہتاب خان صاحبہ۔ ’’کرن ‘‘انجم فاروق ساحلی صاحب نے کہانی میں کوئی ایڈونچر نہیں دیا۔۔۔کرن کے والدین کے کردار کو سرد مہری کا شکار دکھایا گیا ۔۔۔کرن کے قول فعل پر کڑی نظر رکھی جاتی تو کرن آج زندہ ہوتی۔۔۔کرم دین کو یہ لمبی موٹر والے کی گاڑی میں نہ بیٹھنا والی نصیحت بہت پہلے کرنی تھی۔۔۔’’تلاش ‘‘اچھی کہانی تھی۔ڈاکو راج شبیر سو مرو نے بہت اعلی لکھی۔عزت ،بے وفا،دیوار ،احساس ،معیاری تحریریں تھیں۔اپنے دام میں ،ترجمہ شدہ کہانی نے دنگ کر دیا۔فن پارے کی تحریریں بھی متاثر کر گئیں ۔ذوق آگہی،خوش بوئے سخن میں کلام ،انتخاب اچھے تھے۔انعام پانے والوں کو مبار ک باد۔قلعہ الحرمین زرین قمر نے اعلی اور معتبر لکھاری ہونے کا ثبوت دے دیا۔۔۔قسط وار کہانیاں پڑھ کر تبصرہ کرتا تو طوالت ہو جاتی ۔۔۔تبصرہ حاضر ہے اورقسط وار تحریروں کا مطالعہ شروع کر دیا ہے۔۔۔۔باقی یاد دلا دُوں کہ میرا انعام میرے عارضی پتہ پر روانہ کریں جو کہ درج ذیل ہے۔ والسلام!
احسن ابرار رضوی… ساہیوال۔ سلام مسنون! اُمید کرتا ہوں خیر وعافیت سے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ خیر سے رکھے اور خوشیوں سے مالا مال رکھے ۔آمین بہار آئی مسکراہٹیں لائی ۔ہر چہر ہ کھل اُٹھا ہے اور کسانوں کی محنت رنگ لانے والی ہے ۔اللہ کرے اِس سال حکومت پاکستان کسانوں کو صیحح ریٹ دے تاکہ خوشحالی آسکے اور کسان دل جمعی سے مزید محنت کرکے پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔۔۔ ماہ اپریل کا نئے اُفق ملا ۔ٹائٹل حیران کن تھا۔۔۔کیا تعریف کروں اُن ہاتھوں کی جنہوں نے اُس میں رنگ بھرے ہوں گے۔۔۔دستک محترم مشتاق احمد قریشی بجا فر ما رہے ہیں۔بھارتی تاجروں کو شرم آنی چاہئے ۔جو اپنی ماں جیسی مقدس گائے کو نہیں بخشتے وہ کسی اور کے ساتھ کیا بھلائی کریں گے۔مشتاق احمد صاحب بہت عمدہ کالم لکھا۔اقوام متحدہ کے کان کھڑے ہوگئے ہوں گے اور آنکھیں بھی ضرور کھلی ہوں گی۔۔۔جہاں تک یہ الفاظ جائیں گے سبھی تھو تُھو کریں گے۔۔۔۔تُھو۔۔۔گفتگو میں ایم ۔اے راحیل کاانعام یافتہ خط بہت مدلل تھا۔مبارک باد قبول ہو۔عمران احمد بھائی ہر کسی نے یہ دُنیا چھوڑ جانی ہے ۔رہے نام اللہ کا۔آج ہم کسی کے لئے دُعا مغفرت کریں گے تو کل کوئی ہمارے لئے بھی کرے گا۔۔۔ایم اے راحیل صاحب شکریہ کہ ہماری آواز کے ساتھ لبیک کہہ رہے ہیں۔ صائمہ نور نے یاد رکھا شکریہ۔علی حسنین تابش،آئے اور چل دئیے کے مصدق ۔۔اپنی بات کہی اور وہ گئے۔بشیر احمد بھٹی غیر حاضری کے بعد جلوہ گر ہوئے۔ریاض بٹ خط بھی خوب تھا۔واقعی اِس حمام میں سب ننگے ہیں ۔علی اصغر ،ریاض حسین قمر ،عالیہ انعام الہیٰ،عمر فاروق ارشد،بشری کنول کے تبصرے بہترین تھے۔ایم ۔اے راحیل ،بشری کنول ،احسان سحر ،تینوں پائے کے لکھاری ہیں ۔اگر ثبوت کے ساتھ آتے تو عامر زمان عامر کی جعل سازی سامنے آتی ورنہ اِس طرح کسی کی دل آزاری نہیں کر نی چاہیے۔اُمید ہے جلد ثبوت پیش کریں گے۔ریحانہ عامر ان تینوں کے نام گنوائے جاتے تو بات سامنے آتی ،اُمید ہے ثبوت کے ساتھ آئیں گی،تاکہ ادارہ کارروائی تو کر سکے۔گل مہر کا خط بہت اعلی تھا ۔واضح اور دلائل سے بھرپور۔محمد یاسر اعوان ،احسان سحر،ممتاز احمد صاحب کے خط مدلل تھے۔ جاوید احمد صدیقی ،عبدالمالک کیف،عبدالحمید ،انجم فاروق ساحلی بہترین انٹری دے رہے تھے۔اقراء نے متاثر کیا،ملاقات میں زریں قمر سے محفل خوب سجی۔کہانیوں میں ’’طرفہ تماشہ‘‘بہترین کہانی تھی۔پسند آئی اور درس بھی خوب ملا۔اپنے دام میں ،ترجمہ شدہ کہانی نے اپنا رنگ جمایا۔’’روشنی ‘‘کاش مسیحا لوگوں کے دل روشن کر سکے۔دُہر ی موت ،ڈاکو راج پائے کی کہانیاں ہیں ۔پل صراط ،کے مصنف نے حال ہی میں آنکھوں کا آپریشن کروایا ہے ۔اب طبیعت کیسی ہے۔۔۔بے وفا متاثر کر گئی۔۔۔ذوق آگہی ،خوش بوئے سخن ،خوشبودار کالم ہیں۔۔۔فن پارے اچھے رہے۔۔۔قلعہ الحرمین ،بہتری لکھاری کی اعلی تحریر تھی۔کوئی نیا سلسلہ شروع کیا جائے۔جیسے سوال جواب کا ،انعامی سلسلہ ۔۔۔۔اِس کے ساتھ ہی اجازت بشر ط زندگی پھر ملاقات ہو گی۔
علی اصغر انصاری… منچن آباد۔ السلام علیکم عزیزم عمران احمد صاحب امید کرتا ہوں کہ تمام حلقہ احباب ادب خیریت سے ہوں گے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں کہ بندہ ناچیز کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو ماہ اپریل کے شمارے میں جگہ عنایت فرمائی یہ میرے لیے سعادت سے کم نہیں ہے میں ایک بار پھر آپ کا بے حد مشکور ہوں کہ میری گزارشات کو ادبی تحریر میں شامل کیا۔ اب مصنفین احباب کی طرف کہ ان کی تحریروں نے میرے دل میں گھر کر لیا ہے جن میں بھائی عامر زمان عامر کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگا میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں اور کامرانیوں سے نوازے آمین۔ تفسیر عباس بابر کی تحریر ’’رشتے‘‘ بہت اچھی تھی۔ ڈاکو راج بے شک ہمارے معاشرہ کی عکاس ہے اس کے علاوہ حلقہ احباب کی تعریف کے لیے بلکہ یوں کہیے کہ الفاظ کی کمی سے ان کی تعریف کرنے سے قاصر ہوں سب نے ماہ اپریل کے شمارہ کو چار چاند لگائے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ ان کی خدمات اسی طرح جاری و ساری رہیں گی۔
طاہرہ جبین تارا…ؔ لاہور۔ محترمی عمران صاحب ! آداب۔ آج ہی جب لیٹر لکھنے کا سوچا تو بہت کچھ ذہن کے نہاں خانوں میں تھا مگر اچانک پتا چلا چمن ِا قبال پھولوں کے خون سے رنگین ہو گیا آنکھوں کے سامنے ریس کورس میں سجی پھولوں کی نمائش اور کھانے پینے کے اسٹال گھوم گئے جہاں بچے خوشی سے امتحانوںکی تھکن اتارنے گئے ہوئے تھے اور دوسری طرف گلشن اقبال میں بھی پھول اور کلیاں جھولے جھول رہے تھے کہ کسی ظالم نے ان عورتوں اور معصوموں کی مسکانیں چھین کر ابدی نیند سلا دیا آج اقبال کی روح تڑپ رہی ہوگی کہ میرے وطن کی فضائیں اداس کیوں ہیں ہر طرف سسکیاں اور بین کیوں برپا ہیں یہ چمن اقبال کیوں اجاڑ دیا پتہ نہیں یہ کون ظالم ہیں جہنوں نے پہلے اسکولوں میں بچوں کو نشانہ بنایا اور اب باغوں میں اپنی بربریت دکھا دی پھولوں کو مسل دیا یہ کیسا دشمن ہے جس نے نہتے بچوں اور عورتوں پر ظلم کی انتہا کردی کہ طول وعرض میں انسانیت بھی اس گھناؤنے فعل پر شرما رہی ہے ۔اس سانحے کو دو دن ہو چکے ہیں مگر خیالات ابھی تک یکسو نہیں ہو سکے آنکھوں کے سامنے ایک ایک گھر کی دس دس لاشیں گھوم رہی ہیں کہنے والے کہتے ہیں ۷۲ نہیں بہت سے شہید ہوئے ہیں پورے پورے گھر اجڑے ہیں ریزلٹ نکلا ہے ہمارے نونہال نے پہلی پوزیشن لی ہے باپ تڑپ کر کہہ رہا ہے میرے جگر گوشے کو کون بتائے گا کہ میں وعدے کے مطابق اس کے لیے سائیکل لے آیا ہوں خیالات منتشر ہیں میں کیا کہانیوں پر تبصرہ کروں؟ آج چوتھا دن ہے اس سانحے کو بیتے قیامت تو گزر گئی مگر ہجر کی ایسی داستان رقم کر گئی کہ وقت ان زخموں کو مندمل نہیں کر سکے گا اپریل کا ٹائیٹل صرف لڑکی ہی زنجیر پا نہیں ہے بلکہ ہم سب اس آزاد وطن کے آزاد انسان آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں حکومت ہماری ہے مگر احکامات دوسروں کے ہیں جن پر ہم لبیک کہتے ہیں قائد اعظم اور اقبال نے تو ہمیںآزاد وطن دے دیا تھا مگر آج ہم خود غلام بن چکے ہیں بیرونی قوتوں کے۔ بزدل اورڈرپوک ایٹمی طاقت کے با وجود دستک مشاق انکل نے گاؤ ماتا کے بارے میں فکر انگیز انکشافات کیے ہیں ہندو بنیا پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے گفتگو میں بہت سارے نئے اور پرانے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی میرے افسانے کی پسندیدگی کا شکریہ آپ لوگوں کی تنقید اور تعریف ہی آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے بہت سے پرانے ساتھی کہاں ہیں کوئی تو ان کو ڈھونڈ کے لائے طا ہر صاحب کے دل افروز مضمون نے دل میں روشنی بھر دی زریں قمر صاحبہ سے ملاقات بہت دلچسپ رہی ’’دہری موت ‘‘ بہت اچھی رہی رشتے کا تھیم بہت اچھا تھا بہت حساس موضوع ہے مگر تھوڑی سی بے ربطی کا احساس ہوا ’’روشنی‘‘ آج کل اسپتالوں کے حالات بہت دیگرگوں ہیں کمرے کم ہیں مریض برآمدوں میں مسیحاؤں کی ایک نگاہ کے منتظر ہیں اور وہ چائے پینے میں مشغول ایک آرٹیکل کے سلسلے میں گورنمنٹ اسپتال جانے کا اتفاق ہوا تو ایسے ہی حالات نظر آئے ’’ احساس‘‘ سب سے بہترین کہانی رہی کاش ہر مسلمان اپنے حسن سلوک سے بیرونی قوتوں کے خیالات تبدیل کردے تاکہ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوں ’’ دیوار ‘‘میں نے حسد کے موضوع پر کچھ عرصہ پہلے نئے افق میں کہانی لکھی تھی ’’ عشق لاحاصل ‘‘یہ کہانی اس سے ملتی جلتی ہے قارئین کو یا دہوگا ’’ تلاش‘‘ عام طور پر جب انسان کو محبت گھر سے نہ ملے تو وہ غلط راستے اپناتا ہے اچھی تحریر تھی ’’کرن‘‘ ’’طرفہ تماشا‘‘ ’’عزت‘‘ ’’بے وفا‘‘ ’’اچھی تحریر تھی اگر تھوڑی سی اور محنت کی جاتی تو زیادہ امپریس ہوسکتی تھیں میری تنقید کو پلیز پوزیٹو لیں فن پاروں میں سب سے زیادہ بازگشت نے متاثر کیا خوبصورت تو بچوں والی کہانی تھی عورت زاد ایک ایسی تحریر ہے کہ جس نے پہلی قسط میں ہی گرفت میں لے لیا الفاظ نہیں کہ اس کی تعریف کی جاسکے دوسری قسط کا ابھی سے انتظار ہے پل صراط اچھی ہے لیکن اتنا متاثر نہیں کیا ابھی کرداروں کا تعارف ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا کیا تمام قارئین اور نئے افق کو سجانے والوں کی خدمت میں سلام عر ض کردیں خط لکھنے سے پہلے بہت سی تجاویز تھیں ذہن میں اب ذہن بالکل خالی ہے ایک افسانہ شروع کیا ہے جانے کب تکمیل کو پہنچے۔
بشریٰ کنول… جناح کالونی، فیصل آباد۔ سلام مسنون، اللہ آپ کو خوش رکھے، سب سے پہلے تو آپ کی دلی طور پر بہت ممنون و مشکور ہوں کہ آپ نے میرا خط شائع کیا تو اب دوبارہ حاضری دے رہی ہوں رسالہ تو بروقت مل گیا تھا مگر ابھی تک سارا پڑھ نہیں پائی وجہ یہ ہے کہ اسکول میں سالانہ امتحانات ہو رہے ہیں تو بہت مصروفیت ہے پیپر چیک کرنے، رزلٹ بنانا پھر گھر کے کام کاج تو فرصت نہیں نکال پائی سب سے پہلے ملاقات میں محترمہ زریں قمر صاحبہ کا انٹرویو پڑھا جو کہ بہت اچھا لگا یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ ایک باکمال شاعرہ، گلوکارہ اور آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ استاد بھی ہیں۔ ما شاء اللہ زریں قمر صاحبہ نے ادب کی دنیا میں بہت کام کیا ہے، ان کی اور ترقی کے لیے صدق دل سے دعا گو ہوں سحرش فاطمہ اور نادیہ احمد نے بہت اچھے سوالات ان سے کیے اور انہوں نے برجستہ بہت اچھے جوابات پڑھنے کو دیے ہیں محترمہ زریں قمر صاحبہ اور ان جیسی دیگر خواتین جو کہ ادب کی خدمت کر رہی ہیں خراج تحسین پیش کرتی ہوں، مردوں کے اس معاشرے میں ان کا کردار مثالی ہے وقت کی کمی کے باعث صرف چند ایک کہانیاں ہی پڑھ سکی ہوں، رشتے بہت زبردست تحریر تھی ہمارے معاشرے کا یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ زندوں کو عزت و احترام اور محبت نہیں دی جاتی جب انسان مرجاتا ہے تو پھر رونا دھونا اور چیخنا کس بات پر، کاش رشتوں کی قدر و قیمت کو ہر انسان سمجھ جائے، روشنی آج کل کے ان مسیحائوں جن کا ایمان صرف اور صرف دولت کمانا ہے جن کو انسانیت کی قدر کا ذرا بھی پاس نہیں اور نہ ہی مریض کا احساس ہے ان کے منہ پر ایک طمانچہ ہے، روزِ قیامت کس منہ سے یہ اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہوں گے، بھائی امجد جاوید صاحب کی قسط وار کہانی عورت زاد ابھی شروع نہیں کی، تلاش ایک اچھی کہانی تھی واقعی تنہائی ایک قسم کا عفریت ہے جو کسی بھی انسان کو نگل سکتا ہے۔ پل صراط بھی ابھی پڑھنا شروع نہیں کیا، بھائی خلیل جبار، اس بار عزت کے نام سے بہت سبق آموز اور عبرت انگیز کہانی لے کر آئے آج کل کی جوان لڑکیوں کو یہ کہانی پڑھ کر سبق سیکھنا چاہیے، ذوق آگہی میں شازیہ ہاشم کا اقتباس فلسفہ زندگی بہت اچھا تھا اور انعام کا حق دار تھا ریاض بٹ صاحب، ملک جواد نواز، قریشی صاحب، بہن مہوش اور بہن بتول زہرہ کا انتخاب بھی بہت اچھا تھا۔ چھوٹی بہن ناز سلوش ذشے کا کلام انعام یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھا تھا۔ ڈھیروں مبارکباد۔ اقرا سیف، حافظہ رضیہ رمضان اور ڈاکٹر علی حسنین تابش کا کلام بھی بہت اچھا تھا۔
ایم اشفاق بٹ… لالہ موسیٰ۔ محترم جناب مدیر اعلیٰ، مدیر، مدیر معاون، مدیر عمومی، تزئین، تمام لکھنے والوں اور نئے افق پڑھنے والوں کو میرا سلام اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش و خرم اور صحت و تندرستی عطا فرمائے، ماہ اپریل 2016ء کا نئے افق میرے ہاتھوں میں ہے اس کے تمام خطوط پڑھے اور پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ہر کوئی ٹوکے اور چھریاں لے کر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ مشتاق احمد قریشی دستک میں بھارت سرکار کے سیاسی مقاصد بتا رہے تھے کہ کس طرح وہ اپنی گائے ماتا کا گوشت ایکسپورٹ کرتے ہیں ہندو بڑی بہادر قوم ہے، 1947ء میں جس طرح انہوں نے سکھوں کے ذہن میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھردی تھی کہ سکھ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہوگئے 23 مارچ 1940ء کو پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو مارچ کے مہینے میں ہی ہندو سکھ مسلمانوں کے خلاف ہوگئے تھے۔ وہی سکھ جو مسلمانوں کے ساتھ بہن بھائیوں کی طرح رہتے تھے، وہی سکھ ہندوئوں کی باتوں میں آکر مسلمانوں کے خلاف ہوگئے۔ 1947ء میں مسلمانوں نے آزادی حاصل کرنے کے لیے جتنا خون دیا ہے شاید ہی کسی قوم نے آزادی کے لیے اتنی بڑی قیمت ادا کی ہو۔ پاکستان ایک بڑی ہی طویل داستان کا نام ہے، ایسی داستان جسے سننے سنانے کے لیے جگر چاہیے اگر پاکستان کی داستان سننے لگو تو انسانیت کا وجود کانپ اٹھے گا تہذیب شرما کے منہ چھپانے لگے گئی۔ یہ پاکستان شہیدوں کا تحفہ ہے پاکستان ان معصوم بچوں کا تحفہ ہے جنہیں ہندو، سکھوں نے تلواروں میں پرو کر قہقہے لگائے تھے پاکستان ہماری ان ایک لاکھ سے زیادہ بیٹیوں کا تحفہ ہے جن کی عزت اس آزادی کی بھینٹ چڑھ گئی پاکستان ان مائوں کا دیا ہوا ہی تحفہ ہے جن کے پیٹ ہندوئوں، سکھوں نے چاک کر کے بچے نکال کر مار ڈالے پاکستان تحفہ ہے ان قافلوں کا جو خالی ہاتھ اپنا سب کچھ لٹا کر پاکستان پہنچے اور راستے میں اپنے پیاروں کی لاشیں بکھیرتے اور لہو بہاتے آئے۔جس کے مزے آج سارا پاکستان لے رہا ہے کسی نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ پاکستان کیسے بنا آج ہمیں پاکستان کی قدر ہی نہیں کیوں کریں ہمیں تو یہ بنا بنایا مل گیا ہے قربانی دیے بغیر کیا ہم میں سے کسی نے 1947ء کے شہیدوں اور پامال عصمتوں کا قرض اتار دیا۔ شہیدوں کی روحیں ہم سے سوال کرتی ہیں، ہے کسی کے پاس اس کا جواب۔ گفتگو کی محفل میں تمام خطوط ہی اچھے تھے۔ سحر فاطمہ نے زریں قمر سے بہت اچھی ملاقات کرائی بہت اچھا انٹرویو تھا، فن پارے میں میرے قابل قدر محمد سلیم اختر کی کہانی آگ اور خون کے آنسو رلانے والی تحریر تھی بلا شک و شبہ بازگشت قدم قدم پر رلانے والی تحریر تھی فضل کے بارے میں پڑھ کر دلی طور پر رنج ہوا۔ ذوق آگہی میں سباس گل نے اچھی ترتیب دی ماہ اپریل کا انعام یافتہ اقتباس شازیہ ہاشم کے حصے میں آیا بہت بہت مبارک باد قبول کریں۔ ذوق آگہی میں گل مہر، عبدالجبار، مہوش، خالدہ حسین، بتول زہرہ، افضل انصاری ان سب کی تحریریں اچھی تھیں۔ خوش بوئے سخن میں اس دفعہ نوشین اقبال نے اپریل کا انعام ناز سلوش ذشے کو دے دیا اچھا لگا باقی کلام افشاں شاہد، شازیہ ستار، اقرا سیف، محمد یاسر اعوان، سارہ خان، صباحت رفیق، وجیہہ سحر ان کے کلام بھی اچھے تھے۔
خلیل جبار… حیدر آباد۔ محترم عمران احمد صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ امید ہے کہ مزاج گرامی بخیریت ہوں گے نئے افق میں قارئین جس محنت و خلوص سے طویل خطوط لکھ رہے ہیں انہیں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر طویل خطوط لکھ رہے ہیں۔ یہ بات کی غمازی کرتی ہے کہ انہیں نئے افق سے کتنی محبت ہے اور وہ تنقید بھی اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اسے خوب سے خوب تر دیکھنا چاہتے ہیں چند ماہ سے ایسے خطوط بھی شائع ہوئے ہیں جنہیں پڑھ کر میرا قلم خود بخود چلنے پر مجبور ہوگیا ہے اور ان خطوط میں اٹھنے والے سوالات بطور رائٹر وضاحت کرنا ضروری ہوگا۔ رائٹر کا کام معاشرے میں مسائل اور خامیوں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے اس کا کام معاشرے کو کپڑے پہنانا نہیں۔ کسی نے لکھا کہ عورتوں کے خلاف کہانیاں شائع ہو رہی ہیں پرچے میں دو تین کہانیاں ایسی شائع ہوجانا جس میں عورت کے بارے میں لکھا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملک کی ساری عورتیں خراب ہوگئی ہیں یا مرد کے بارے میں کہانیاں شائع ہوگئی ہیں تو سارے مرد خراب ہوگئے ہیں رائٹر کا مطلب کسی بھی شخص کی کردار کشی کرنا نہیں ہوتا۔ اس کا کام معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ ہر کہانی کسی نہ کسی کردار کے گرد گھومتی ہے کردار اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی ہوتے ہیں معاشرے میں بہت سارے مسئلے مسائل ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہین اگر کوئی شخص اس کو پڑھ کر خود پر طاری کرلے تو وہ اس کا ذاتی فعل ہے ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مسائل خواتین کے بھی ہیں تو مردوں کے بھی ہیں، رائٹرز کے ان مسائل کو قلم بند کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والے اور جو لوگ ان مسائل کا شکار ہیں ان کے حل اور برائیوں کا سدباب کے بارے میں غور کریں کہ ان مسائل سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے جو معاشرے میں برائیاں پھیل رہی ہیں ان کا سدباب کس طرح سے ہوتا ہے۔ ایک رائٹر کا ہر گز یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ اپنی تحریر سے کسی عورت، مرد، نوجوان یا لڑکی کی دل شکنی کرے اس کے قلم اٹھانے کا مقصد محض معاشرے کی اصلاح ہوتا ہے بہت سارے مسائل لڑائی جھگڑے سے نہیں بلکہ بات چیت کرنے سے حل ہوجاتے ہیں۔ ایک کرائم رپورٹر اگر کرائم پر مبنی کہانیاں لکھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ لوگ اس کی کہانیاں پڑھ کر کرائم کرنا شروع کردیں بلکہ اس کا مقصد عوام کو آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ لوگ اس طرح بھی کرائم کرسکتے ہیں اور ان سے کس طرح بچا جاسکتا ہے۔ دستگیر شہزاد کی کہانی بھوک کے بارے میں بڑی تنقید کی گئی ہے جو کہ فروری 2016ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی تنقید کرنے والوں نے رائٹر کے مقصد کو سمجھا ہی نہیں کہ اس نے کس قدر حساس موضوع پر قلم اٹھایا ہے بقول مجید احمد جائی ملتان کے پیٹ کی بھوک واقعی ظالم ہوتی ہے جب تک پیٹ نہیں بھرتا کسی اور بھوک کی طرف توجہ جاتی ہی نہیں صائمہ نور بھاول پور نے لکھا کہ پیٹ کی بھوک انسان کو پاگل کردیتی ہے اور بے غیرت بھی، ممتاز احمد سرگودھا سے لکھتے ہیں کہ دستگیر شہزاد نے بھوک کے عنوان سے بہت خوب صورت کہانی تخلیق کی جسم اور پیٹ کی بھوک کو بہترین انداز میں لکھا۔ میری قارئین سے یہی گزارش ہے کہ وہ اپنے ذہن کو آلودہ رکھنے کی بجائے صاف رکھیں، تعمیری سوچ رکھنا چاہیے، جب ذہن صاف ہوگا وہ رائٹر کی بات کو آسانی سے سمجھ لے گا اور اس مقصد کو بھی حاصل کرلے گا جو رائٹر اپنی کہانی سے دینا چاہتا ہے، رائٹرز حضرات وہی کچھ لکھتے ہیں جو معاشرے میں دیکھتے ہیں ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں ہوتا، وہ صرف اور صرف معاشرے میں جو بگاڑ ہے اس کی اصلاح چاہتے ہیں۔
محمد احمد رضا انصاری… کوٹ ادو۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ امید ہے کہ آپ اور نئے افق کی پوری ٹیم خیر خیریت سے ہوں گے میں نئے افق کا بہت پرانا قاری ہوں 2005ء سے باقاعدگی سے پڑھ رہا ہوں۔ نئے سلسلے شروع کرنے پر مبارک باد قبول کریں۔ ماشاء اللہ نئے افق دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے نئے افق پہلے سے بہت بہتر ہوگیا ہے پہلے گنتی کے چند ہی خطوط ہوتے تھے مگر اب پندرہ سے بیس خط شائع ہوتے ہیں ترجمہ شدہ کہانیاں زیادہ لگائیں سلسلے وار دو سے زائد نہ ہوں اور آخری صفحات پر ہر ماہ ایک مکمل ناول شائع کریں۔خط مختصر کر کے شائع کیا کریں۔ عبدالجبار انصاری آپ کو نئے افق میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔آپ بہت جامع اور بہترین تبصرے لکھتے ہیں۔ اگلے ماہ تک کے لیے خدا حافظ۔
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ، محترم مدیر صاحب ہم خیریت سے ہیں آپ کی خیریت نیک مطلوب ہے، اپریل کا نئے افق حیرت انگیز طور پر وقت سے قدرے پہلے موصول ہوگیا، ٹائٹل اس دفعہ گزارے لائق تھا، محترم قریشی صاحب نے ایک بار پھر بڑے احسن انداز میں بھارت کے خونخوار چہرے سے نام نہاد جمہوریت پسندی اور سیکولر ازم کا نقاب اتار کر رکھ دیا ویسے پون صدی گزر جانے کے بعد بھارت کے الٹے سیدھے روپ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے یہ الگ بات ہے عالمی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے بھارتی غنڈہ گردی اور بد معاشی سے چشم پوشی کرتی آئی ہیں۔ اقرا سے فیض یاب ہو کر گفتگو کی محفل میں داخل ہوئے ما شاء اللہ سے رونقیں لگی ہوئی ہیں صائمہ نور بہنا اس بار قدرے مختصر تبصرے کے ساتھ حاضر ہوئی ہیں، کیسی ہیں بہنا۔ ذرا بھرپور تبصرہ کرنے کی کوشش کیا کرو، ریاض حسین قمر حسب عادت فریش فریش موڈ کے ساتھ حاضر تھے۔ ایسے لوگوں سے مل کر محسوس ہوتا ہے کہ گویا دنیا میں غم ہیں ہی نہیں۔ پیاری بہنا عالیہ انعام ایک عرصے بعد تشریف لاتی ہیں اور کشتوں کے پشتے لگا کر رکھ دیتی ہیں۔ آپ نے میرے بارے میں جو احساسات بیان فرمائے واللہ میرا قربان ہونے کو دل چاہ رہا ہے۔ یہ وہی عالیہ ہیں جن کے طویل ترین تبصرے ماضی میں نئے افق کی زینت بنا کرتے تھے اور ان سے پسندیدگی کی سند ملنا میرے لیے کسی حیرت ناک انکشاف سے کم نہیں (سچی) رہی بات یاد رکھنے کی تو بہنا آپ بھولی ہی کب ہو، اللہ آپ کی زندگی میں آسانیاں پیدا فرمائے عبدالمالک بھائی خوش آمدید، آپ کی واپسی اچھی لگی، اب ناغہ مت کیجیے گا۔ دیگر ساتھیوں کے تبصرے اچھے تھے کچھ بات کہانیوں پر ہوجائے عورت زاد کی پہلی قسط سے تو یہی اندازہ ہو رہا ہے کہ وہی مار دھاڑ اور مولا جٹ ٹائپ اسٹوری ہے، مگر فی الحال کسی طرح کا تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ زندگی رہی تو کہانی کی آئندہ اٹھان دیکھ کر مفصل تبصرہ کروں گا۔ قریشی صاحب ناول کے ساتھ تشریف لائے اور ابتدائی صفحات کا حق ادا کردیا۔ زبردست ترجمہ تھا محترمہ زریں قمر آخری صفحات پر براجمان تھیں بہت ہی معلوماتی تحریر تھی اس طرح کی تحریروں کی آج کل اشد ضرورت ہے کیونکہ نئی نسل ماضی سے حد درجہ نابلد ہے، زریں صاحبہ کا تعارف پڑھ کر بہت بہت مزہ آیا اللہ کرے زورقلم اور زیادہ، خلیل جبار کی عزت نامی کہانی تجریدی آرٹ کی مانند سر پر سے گزر گئی، ان کی سب کہانیوں کا یہی گھسا پٹا موضوع ہوتا ہے اور پھر بغیر کسی عقلی توجیہ کے کہانی کا اختتام اتنی جلد بازی میں کردیتے ہیں کہ قاری بے چارہ منہ اٹھائے ادھر ادھر دیکھتا رہ جاتا ہے کہ یہ اس کے ساتھ لکھاری کیا ہاتھ کر گیا ہے۔ دیگر کہانیوں میں ڈاکو راج اور رشتے پسند آئیں۔ کچھ بات خوش بوئے سخن کی کرتے ہیں اس بار کافی اچھی شاعری شامل اشاعت تھی مگر آزاد نظموں والا معاملہ وہیں لٹکا ہوا ہے۔ سیف السلام اور ڈاکٹر تابش کی غزلیں عمدہ تھیں۔ یقیناً نوشین بہنا کافی بہتری لانے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہیں۔ خیر، چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ اس کے ساتھ ہی اجازت چاہتا ہوں، نئے افق کے تمام منتظمین کو سلام، والسلام۔
پرنس افضل شاہین… بہاولنگر۔ محترم مشتاق احمد قریشی صاحب، محترم عمران احمد السلام علیکم امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ اپریل کا نئے افق 24 تاریخ کو ملا ابھی پڑھنا شروع ہی کیا تھا کہ بروز اتوار 27 مارچ کو لاہور کے گلشن اقبال پارک میں خود کش دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 75 افراد شہید ہوگئے اور دو سو سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں تیس افراد شدید زخمی بھی شامل ہیں۔ خود کش دھماکا کرنے والوں کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا اور یہ ظالم لوگ بے بس بے کس اور بے قصور انسانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ سرورق کی حسینہ دیکھ کر یوں لگا کہ جیسے وہ تسبیح ہاتھوں میں پکڑے دعا کر رہی ہو کہ ابر رحمت تیری چوکھٹ پر برستی نظر آئے۔ آگے بڑھے تو آپ کی دستک پڑوسی ملک جسے لوگ سب سے بڑی جمہوریہ کہتے ہیں جہاں اگر کوئی مسلمان گائے ذبح کرلے تو اس کے لیے زندگی کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور یہ ملک خود گائے کے گوشت کو ایکسپورٹ کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔ واقعی آپ نے انڈیا کے خوب لتے لیے گفتگو میں ایم اے راحیل کی گفتگو واقعی انعام کی حقدار تھی۔ ان کے علاوہ صائمہ نور، مجید جائی، ریاض حسین قمر، ریحانہ عامر، عامر زمان عامر، گل مہر، احسان سحر، ممتاز احمد، مہر پرویز دولو، عبدالغفار عابد، عبدالمالک کیف کی گفتگو بھی قابل داد تھی۔ ہم نئے افق میں پہلی دستک پر بشریٰ کنول کو خوش آمدید کہتے ہیں عالیہ انعام الٰہی کا نام پڑھ کر عجیب سی خوشی محسوس ہوئی، واقعی کچھ عرصہ پہلے تک ادبی رسائل میں ان کے نام کا طوطی بولتا تھا۔ واقعی آج کل کے دور میں کسی کام کے لیے بھی وقت نکالنا بہت ہی مشکل ہے میں گل مہر کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ گفتگو میں ہر طرح کی ورائٹی ہونی چاہیے۔ امجد جاوید کی عورت زاد اور ہمارے سینئر رائٹر ریاض حسین شاہد کی پل صراط کی پہلی پہلی اقساط پڑھیں واقعی دونوں کہانیوں کا ذائقہ مختلف تھا مگر تھیں دونوں ہی لذیذ۔ باقی کہانیوں میں دہری موت، ڈاکو راج، روشنی، کرن، عزت اور اپنے دام میں پسند آئے۔ ذوق آگہی میں شازیہ ہاشم اور خوش بوئے سخن میں ناز سلوش ذشے کو انعامات کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سرورق پر رائٹرز سے اشعار کا سلسلہ شروع کرائیں۔ یعنی رائٹرز سے کہا جائے کہ سرورق دیکھ کر اس پر شعر کہیں پھر آپ ان میں سے منتخب اشعار اس سرورق کو چھوٹا کر کے اسی کے ساتھ یہ منتخب اشعار شائع فرمائیں۔ امید ہے میری یہ تجویز باقی رائٹرز کو بھی پسند آئے گی۔ دعا ہے نئے افق مزید ترقی کرے، آمین
علی اصغر انصاری… منچن آباد۔ عزیزم عمران احمد صاحب امید کرتا ہوں کہ تمام حلقہ احباب ادب خیریت سے ہوں گے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں کہ بندہ ناچیز کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو ماہ اپریل کے شمارہ میں جگہ عنایت فرمائی یہ میرے لیے سعادت سے کم نہ تھے میں ایک بار پھر آپ کا بے حد مشکور ہوں کہ میری گزارشات کو ادبی تحریر میں شامل کیا، اب مصنفین احباب کی طرف کہ ان کی تحریروں نے میرے دل میں گھر کرلیا ہے جن میں بھائی عامر زمان عامر کے بارے میں جان کر بہت اچھا لگا میں دعا گوں ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں اور کامرانیوں سے نوازے آمین، تفسیر عباس بابر کی تحریر ’’رشتے‘‘ بہت اچھی تھیں۔ ڈاکو راج بے شک ہمارے معاشرہ کی عکاسی ہے اس کے علاوہ حلقہ احباب کی تعریف کے لیے بلکہ یوں کہیے کہ الفاظ کی کمی سے ان تعریف کرنے سے قاصر ہوں سب نے ماہ اپریل کے شمارہ کو چار چاند لگائے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ ان کی خدمات اسی طرح جاری و ساری رہیں گی۔
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ السلام علیکم، ماہ اپریل 2016ء کا شمارہ اس وقت میری نگاہوں کے سامنے ہے سب سے پہلے مشتاق احمد قریشی صاحب کی دستک کی بات ہوجائے، انہوں نے بڑی مہارت چابکدستی اور ذہانت سے ہندوئوں کے اصل چہرے اور دوغلی پالیسی کے بارے میں لکھا ہے، آپ نے بلی چڑھانے والی بات بھی خوب لکھی ہے، اقرا پڑھ کر ایمان تازہ ہوگیا۔ واقعی اسلام ایک مکمل دین ہے ہمیں اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، بہن زریں قمر کا انٹرویو پسند آیا، ان کی ذات کا ہر پہلو اور خیالات ارفع ہیں ان کی یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا جہاد ہے کہ اگر میں محاذ پر جا کر غزہ کے لوگوں کے ساتھ دشمن سے لڑنے میں ان کی مدد نہیں کرسکتی تو ان کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اس کے بارے میں دنیا کو بتا تو سکتی ہوں۔ بہرحال ان کی تحریریں ایسی ہی ہوتی ہیں اب بڑھتے ہیں اپنی محفل گفتگو کی طرف۔ اس ماہ کا انعامی خط ایم اے راحیل بورے والا کا ہے۔ بھائی آپ نے خوب لکھا ہے۔ ایک بات کہ بھائی لکھاری کا مقصد عورت کی کردار کشی کرنا نہیں ہوتا بلکہ جو کچھ وہ دیکھتا ہے اسے احاطہ تحریر میں لاتا ہے نہ سارے مرد خراب ہوتے ہیں اور نہ ساری عورتیں کردار کی کچی ہوتی ہیں۔ احسن ابرار رضوی میرا خط پسند کرنے کا شکریہ میری کہانی میں لفظوں کے تسلسل ٹوٹنے کی میں وضاحت اوپر کر چکا ہوں صائمہ نور بہن معاشرے کے جن کرداروں کی میں کہانیاں لکھتا ہوں وہ کوئی عادی مجرم نہیں ہوتے کسی وقتی جذبے کے تحت جرم کر لیتے ہیں چونکہ ان کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اس لیے ان کا تھانے میں جا کر اعتراف جرم کرنے سے ہی دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے شمائلہ بھی پہلے منظر سے غائب ہوگئی تھی بہرحال مجھے خوشی ہے کہ آپ لوگ میری کہانیاں اتنی باریک بینی سے پڑھتے ہیں۔ علی حسنین تابش میری تفتیشی کہانی پسند کرنے کا شکریہ۔ علی اصغر صاحب آپ نے نئے افق میں خط لکھ کر بڑا اچھا فیصلہ کیا۔ بہت خوب۔ آئندہ بھی آتے رہیے گا۔ ریاض حسین قمر بھائی آپ نے کیسے یہ سمجھ لیا کہ میں آپ سے ناراض ہوں بھائی آپ تو میرے دل میں بستے ہیں اور جس طرح آپ میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اس بات کا قرض تو میں اتار ہی نہیں سکتا، اس ماہ کی کہانی عاقبت اندیش پسند کرنے کا شکریہ۔ آپ کا خط مدلل اورقابل تعریف ہے ارے عالیہ بہن بھی آئی ہوئی ہیں۔ بہن ہماری آنکھیں تو آپ کا خط نئے افق میں دیکھنے کو ترس گئی تھیں۔ آپ سے التماس ہے کہ نئے افق کے لیے اپنی مصروفیات سے ضرور وقت نکالا کریں۔ بہرحال اس بار بھی آپ کا خط خوب صورت لفظوں کی مالا سے بنا ہوا ہے، میری کہانی پسند کرنے کا شکریہ، عمر فاروق ارشد بھائی آپ کا تبصرہ پڑھ کر دل باغ باغ ہوجاتا ہے اچھے لفظوں کا تیر چلاتے ہیں، میری کہانی پسند کرنے کا شکریہ۔ بشریٰ کنول بہن خوش آمدید بہن یہ آپ نے کس طرح کہہ دیا کہ میں انگریزوں کے دور کی کہانیاں لکھتا ہوں آپ کو میری کس کہانی میں کس انگریز، سکھ یا ہندو کا نام نظر آیا میری کہانیاں ماضی قریب کی ہیں پھر بہن اچھے پولیس والے تو ہر دور میں رہے ہیں کیا آپ یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتی ہیں کہ آج کے دور میں سارے پولیس افسر خراب ہیں، آج کے دور کی کہانیاں الیکٹرانک میڈیا بڑے زورو شور سے دکھا رہا ہے لیکن آپ غور کریں ان سے کیا تاثر مل رہا ہے، جی ہاں ہم لکھاری تو یہ چاہتے ہیں کہ مثبت کرداروں کو سامنے لائیں تاکہ لوگ ان کو فالو کریں۔ اچھا تاثر قائم ہو، بہرحال آپ کے تبصرے کا شکریہ، یہ آپ کا حق ہے اور ہم اس حق کو تسلیم کرتے ہیں امید ہے آئندہ بھی آتی رہیں گی۔ ریحانہ عامر بہن میری کہانی کو پذیرائی بخشنے کا شکریہ۔ آپ کا خط اور شعر اچھا ہے، عامر زمان عامر جس بات کی طرف آپ نے توجہ دلائی ہے تو افشاں نام بہت پرانا ہے جھگیوں میں رہنے والیوں کے یہ نام ہونا زیادہ حیرانگی کی بات نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس کا کوئی اور نام ہو، اور اس نے افشاں بتایا ہو کچھ عورتوں میں یہ خبط ہوتا ہے کہ نام غفوراں ہوگا اور بتائیں گی عندلیب بہرحال آپ کی بات توجہ طلب ہے آئندہ خیال رکھوں گا۔ گل مہر کراچی آپ کا خط بھی خوب ہے شکریہ کا شکریہ میری تحریر عاقبت اندیش آپ کو بھی پسند آئی، مہربانی۔ احسان سحر آپ ایک اچھے تبصرہ نگار ہیں۔ سسپنس میں بھی آپ کے خطوط شائع ہوتے ہیں میری کہانی عاقبت اندیش پر آپ کا تبصرہ خوب ہے، جاوید احمد صدیقی بھائی کیسے ہو، آپ کا خط خوب صورت ہے، لفظوں کا استعمال خوب کرتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح میری تفتیشی کہانی عاقبت اندیش پسند کرنے کا شکریہ بھائی میرا ڈھیروں خون بڑھ جاتا ہے، خوش رہیں اور خوش رکھیں یہی زندگی کی معراج ہے عبدالمالک کیف بھائی آپ کا خط بھی بہترین ہے۔ میری کہانی پسند کرنے کا شکریہ انجم فاروق ساحلی آپ کا مختصر خط اپنے اندر بہت گہرائی لیے ہوئے ہے آپ جیسے اچھے اور کئی رسالوں میں لکھنے والے لکھاری کے علم سے اپنی کہانیوں کے متعلق پسندیدگی کے لفظ پڑھ کر بہت خوشی ہوتی ہے اور میرے اندر مزید لکھنے کی جستجو اجاگر ہوئی ہے ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن میں سار انتخاب اپنی مثال آپ ہے، پچھلے دو ماہ سے طبیعت ذرا ناساز تھی اس لیے کہانی نہیں لکھ سکا، باقی رسالہ کہانی لکھنے کے بعد پڑھوں گا، اس لیے مزید تبصرہ ادھار، اب اجازت۔
انجم فاروق ساحلی… علامہ اقبال ٹائون۔ آداب امید ہے آپ اور ادارہ کے دیگر احباب بخیر و عافیت ہوں گے ’’کرن‘‘ افسانہ شائع کرنے اور پرچہ ڈاک سے بھیجنے کا شکریہ، دستک میں بڑے قریشی صاحب نے ہندوئوں کے منافقانہ کردار کو بے نقاب کیا۔ گفتگو کی محفل طویل اور بھرپور تھی پرانے ساتھی اب پھر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس موسم سرمامیں بہت سے لکھاری ہم سے جدا ہوگئے اشتیاق احمد چلے گئے پھر انتظار حسین گزر گئے۔ محی الدین نواب، کاشف زبیر، ثریا فاطمہ بجیا اور اب حال ہی میں اردو کی آبرو ڈاکٹر انور سدید بھی عدم آباد جا چکے ہیں۔ علم و لٹریچر میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیاہے مرحومین کے لیے دعا گو ہوں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اشتیاق احمد کے متعلق مضمون ’’فیملی میگزین‘‘ اور ڈاکٹر انور سدید کے متعلق عزم پرچے کے ادبی صفحے پر تحریر کمپوز ہوچکی ہے، چند روز قبل لاہور گلشن اقبال پارک میں ہونے والے خوفناک دھماکے اور انسانی ہلاکتوں پر بے حد دکھ ہوا ہمارے ارد گرد نہ جانے کتنے دشمن منڈلا رہے ہیں۔ میں اس وقت گلشن کے مقابل کشمیر بلاک میں دودھ دہی کی ایک دکان پر دوست کے ہمراہ موجود تھا اپنے کانوں سے دھماکے کی آواز سنی۔ اب نئے افق کی طرف لوٹتا ہے اس ماہ خطوط کی محفل طویل اور بھرپور تھی۔ لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ عورت کے کردار کو تخلیق کرتے وقت مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کو مد نظر رکھیں، بھوک میں جنسی بھوک عریانیت پر وقار الرحمان کو بھی تشویش ہے۔ انہوں نے اس کا اظہار کیا کہانیوں میں دہری موت، رشتے، روشنیاں، احساس، دیدار، عزت، بے وفا، اپنے دام میں، بازگشت اچھی تھیں۔ باقی ابھی زیر مطالعہ ہیں ذوق آگہی میں فلسفہ زندگی اقتباس خوب تھا۔
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔ السلام علیکم، امید ہے تمام اسٹاف نئے افق بخیریت ہوں گے کئی سال سے میں نئے افق کا قاری ہوں۔ پہلی دفعہ آپ کی بزم میں شرکت کرنے کی جسارت کر رہا ہوں امید ہے شامل اشاعت کریں گے۔ گفتگو کی محفل خوب جمی ہوئی ہے۔ سب قارئین نے بہت اچھے اور خوب صورت تبصرے لکھے ہیں۔ میں نئے افق کی تمام کہانیاں بڑے شوق سے پڑھتا ہوں میرے پسندیدہ لکھاریوں میں محترمہ زریں قمر، امجد جاوید اور ریاض بٹ شامل ہیں۔ محترمہ زریں قمر صاحبہ جہاد اور جدوجہد آزادی پر بہت موثر کہانیاں لکھتی ہیں خدا بزرگ و برتر انہیں اور ہمت اور جرأت عطا فرمائے۔ ریاض بٹ صاحب تفتیشی کہانیاں لکھتے ہیں جو ان کا ہی خاصہ ہے ان کی کہانیوں میں سسپنس آخر تک ہوتا ہے اور وہ کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ میرے روحانی استاد ابن صفی مرحوم ہیں۔ اس بار ایک محترمہ نے یہ لکھا ہے کہ وہ احمدیار خان یعنی انگریز کے دور کی کہانیاں لکھتے ہیں جبکہ یہ بات میرے خیال میں حقیقت نہیں ہے لگتا ہے محترمہ نے نہ تو احمد یار خان کی کہانیاں باریک بینی سے پڑھی ہیں اور نہ ریاض بٹ صاحب کی کہانیوں کو غور اور دل جمعی سے پڑھا ہے احمد یار صاحب نے آدھی صدی سے بھی زیادہ پرانی کہانیاں لکھی تھیں اور ان کو ایک ایماندار اور فرض شناس افسر کے روپ میں پیش کیا گیا تھا ریاض بٹ صاحب کی کہانیوں کا تفتیشی افسر بھی ان ہی خصوصیات کا حامل ہے یہ ایک مثبت پہلو ہے یہ قابل تقلید ہے اور لکھاری یہ ہی سوچ کر لکھتا ہے کہ اس سے سبق حاصل کیا جائے پھر پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ہر دور میں اچھے پولیس افسر موجود رہے ہیں، اس کے علاوہ ریاض بٹ صاحب جس دور کی کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ اس کا فیصلہ آپ درج ذیل کہانیاں پڑھ کر کرلیں جو نئے افق میں ریاض بٹ کی شائع ہوچکی ہیں۔ کوہ نورچراغ، ملامت، حفظ ما تقدم، قربانی، الٹی آنتیں، کبوتر کی چوری وغیرہ اور یہ بات ممکن نہیں ہے کہ کہانی میں یہ لکھا جائے کہ یہ کہانی جنوری 2016کی ہے اس دفعہ اتنا ہی کافی ہے۔ اگلے ماہ تک کے لیے خدا حافظ۔
رمشا ملک… آزاد کشمیر۔ السلام علیکم، محترم انکل مشتاق احمد قریشی، عمران احمد، اقبال بھٹی، طاہر قریشی، نورالدین اور زریں قمر کے ساتھ ساتھ تمام قارئین نئے افق اور لکھاریوں کو خلوص بھرا سلام قبول ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے کرم، فضل اور رحمتوں کی بارش میں نہلائے رکھے۔ بیماری، تنگدستی، غربت سے بچائے، حسد، کینہ، لالچ، نفرت، رشوت خوری، غیبت سے بچائے آمین ثم آمین۔ ماہ اپریل کا نئے افق میرے سامنے ہے اور ما شاء اللہ مسکرا رہا ہے بہت خوب صورتی سے مزین ہے اور ہمارے کشمیر کا ہی کا منظر لیا گیا ہے لڑکی ذرا اداس سی لگ رہی ہے جانے کیوں؟ دستک میں انکل مشتاق احمد قریشی نے بھارتی سورمائوں کو خوب بے نقاب کیا ہے ان کی چربہ سازی سے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے اور کشمیر پر عرصہ سے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں بہت خوب، آپ نے پردہ اٹھا کر نیکی کا کام کیا ہے اللہ کرے ان کی سازشیں ناکام ہوں اور مسلمان سکھ کا سانس لے سکیں۔ گفتگو میں لکھاری کاشف زبیر کا سن کر افسوس ہوا اور ڈاکٹر انوار الدین کی وفات کی خبر اخبار میں پڑھ ہی رہی ہوں دلی افسوس ہے بلا شبہ یہ اردو ادب کا ناقابل تلافی نقصان ہے، ڈاکٹر انوارالدین المعروف ڈاکٹر انور سدید بھی چھوڑ گئے۔ ایم اے راحیل انعام پا کر خوش ہو رہے ہیں۔ کٹھا میٹھا تبصرہ پسند آیا۔ احسن ابرار رضوی نے مجھے یاد رکھا نوازش، مجید احمد جائی عمدہ، جامع خط کے ساتھ محفل لوٹ رہے تھے۔ صائمہ نور نے ہمیں یاد رکھا، علی حسنین تابش اور بشیر احمد بھٹی مختصر حاضری دے رہے تھے۔ ریاض بٹ بہن شکریہ بہن کہا بہن کا مان بھی رکھیے گا۔ عالیہ انعام، عمر فاروق ارشد، بشریٰ کنول نے خوب صورت خط لکھے۔ گل مہر بہن جامع تبصرے کے ساتھ زبردست باتیں کر رہی تھیں۔ ممتاز احمد، مہر پرویز دولو، عبدالغفار عابد، جاوید احمد صدیقی، عبدالمالک کیف، عبدالحمید، انجم فاروق ساحلی کے تبصرے پیارے تھے۔ناقابل اشاعت کی لسٹ لگا کر اچھا کیا اب کوئی انتظار نہیں کرے گا۔ اقرا پڑھ کر علم میں اضافہ ہوا، زریں قمر سے ملاقات اچھی رہی۔ کہانیوں میں ڈاکو راج زبردست رہی، دہری موت نے اپنے اثرات چھوڑے۔ احساس، دیوار، بے وفا، عزت اچھی لگی، روشنی تڑپا دینے والی تحریر ہے، رشتے زبردست لگی، پل صراط پڑھی نہیں، اپنے دام میں مغربی ادب کی تحریر لگی۔ طرفہ تماشا نے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دی، تلاش اوپر سے گزر گئی، فن پارے اچھوتی تحریروں سے مزین تھا۔ ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن نے اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ سبھی کی نگارشات اچھی لگی۔ قلعہ الحرمین زریں قمر نے کاغذ قلم کے ساتھ خوب انصاف کیا اس کے ساتھ ہی اجازت، اللہ نگہبان۔
محمد یاسر اعوان… رحیم یار خان۔ جناب ایڈیٹر اور مدیران نئے افق سدا خوش رہیں۔ نئے افق کی آمد ہر دفعہ بڑی جاں فزا ہوتی ہے بہت حسین ٹائٹل اور پھر اچھی تحریریں آپ لوگوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ دستک ایک بہترین سبق تمام امت مسلمہ کے لیے ہندو کبھی مسلمان کا خیر خواہ نہیں ہوگا، انصاف یہاں نہیں وہاں ہوگا جہاں سب سے بڑا عادل اللہ عزوجل جلوہ افروز ہے اور ساری کائنات کے ذرے ذرے کی خبر رکھتا ہے۔ خطوط کی محفل میں ہر طرح کے پھولوں کی مہک تھی۔ بشیر احمد بھٹی نے بہت اچھی باتیں کیں۔ ریاض بٹ صاحب کو بشری کنول جھاڑتی ہوئی نظر آئیں جناب آپ اپنی تفتیش کو ماڈرن بنائیں ورنہ ہماری بہن اور ناراض ہوجائیں گی۔ عامر زمان عامر، احسان سحر، مہر پرویز دولو، جاوید صدیقی، عبدالمالک کیف، انجم فاروق ساحلی اور عبدالحمید ہری پور کے منطقی تبصرے خوب رہے۔ ناقابل اشاعت کہانیوں کا سلسلہ پسند آیا، جاری رکھیے گا، اقرا ہمیشہ کی طرح اللہ کی بادشاہت اور نبی کریم ﷺ کی شان پر جامع مضمون دل پر گہرے نقوش چھوڑ گیا۔ زریں قمر صاحبہ کا انٹرویو ان کی زندگی کی کھلی کتاب تھا سلگتے چنار کے بعد قلعہ الحرمین بڑی ہی معلوماتی تحریر تھی بس افسوس تو یہ ہے کہ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے، ایک بہادر اور نڈر شیر کو یہودیوں نے تختہ دار پر لٹکا دیا اور کسی مسلم ملک نے احتجاج نہیں کیا… جانا تو سب کو ہے مگر… کچھ یادیں کچھ باتیں ضرور یاد رہ جاتی ہیں ہمارے بہترین رائٹر کاشف زبیر، نواب محی الدین، فاطمہ ثریا بجیا، انتظار حسین، محمد اعظم جیسے ادب کے مایہ ناز ستارے جہاں اپنی روشنی کو اندھیروں میں لے جا کر سو گئے وہاں اردو ادب کا ایک سنہرا باب بند ہوگیا نسیم حجازی مولانا روم، علامہ اقبال کی طرح یہ لوگ بھی اشاروں کنائیوں میں ہمیں مثبت زندگی گزارنے کے اصول بتاتے رہے مگر افسوس کہ انسان تمام عمر تجربات و مشاہدات کی بھٹی میں جل کر جب کندن بن جاتا ہے تو موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ مگر کچھ ستارے ایسے بھی ہوتے ہیں جو دن کو بجھ تو جاتے ہیں مگر رات کو قافلوں کو منزل کی نشاندہی بھی کرتے ہیں، اسی طرح ان لوگوں کا لکھا ہوا ہر ہر لفظ اور ہر ہر سطر معروف زمانہ، نفسانفسی کی پکار کو بلند کرنے والے انجام سے بے خبر لوگوں کو جھنجوڑتی رہے گی۔ میری رائٹرز حضرات سے گزارش ہے کہ صاف ستھرا ادب لکھیں اصلاح معاشرہ کے لیے نا کہ ریپ و زنا کی من گھڑت کہانیاں لکھی جائیں ہر تحریر قاری پر اپنا عکس چھوڑتی ہے۔ نئے افق دراصل اجڑے اور بکھرے حال لوگوں کے قصے، معاشرے کی الجھی سلجھی اور گھر میں اٹھنے والی فریادوں کا دوسرا نام ہے اس لیے جو بھی لکھا جائے سچ پر مبنی ہو۔ شراب، جوا، قتل و غارت، زنا، ڈکیتی جیسی تحریروں سے اجتناب کیا جائے ہماری نئی نسل جو پہلے ہی انٹرنیٹ، فیس بک، اسمارٹ فون جیسی ٹیکنالوجی کے منفی استعمال سے گناہوں کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔ اب آپ لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ اسے ڈوبنے سے بچایا جائے ادب صدقہ جاریہ ہے اور جھوٹ لکھنا، گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے، طاہر قریشی اقرا لکھ کر ثواب کما رہے ہیں اور ہم کہاں کھڑے ہیں باقی عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ عورت زاد اور پل صراط پہلی نظر میں ہی دل کے دریچوں کو کھول گئیں فن پاروں کی تینوں تحریریں لاجواب تھیں لیکن امین صدر الدین بھایانی نمبر لے گئے۔ ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن ایسے زبردست سلسلے ہیں کہ جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ شازیہ ہاشم کا وظیفے کے متعلق اقتباس شاندار تھا اللہ کی شان، اسلم حیات لاہور نے کمال لکھی، حسن کمال شیخ فیصل آباد کا حسن کے متعلق تجزیہ زبردست تھا۔ خوشبوئے سخن میں ناز سلوش ذشے نے اپنے دل کی کیفیت بیان کر کے سب کے دل جیت لیے مبارک ہو بہن۔ علی حسنین تابش کی غزل بہت پسند آئی، ان شاء اللہ ملاقات پھر سہی۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ محترم و مکرم جناب عمران احمد صاحب السلام و علیکم امید کرتا ہوں آپ نئے افق سے وابستہ سارے پیارے لوگ با خیریت ہوں گے۔ ٹائٹل حسب روایت بہت خوب صورت ہے بات کر رہا ہوں نئے افق کے اپریل کے شمارے کی دستک میں لائق صد احترام مشتاق احمد قریشی صاحب نے دنیا کی بدترین قوم ہندو کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ان کے قول و فعل میں جو تضاد ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کاش ہم ان کے کرتوتوں کو جان سکیں، ایک طرف وہ نام نہاد دوستی کا ہاتھ ہماری طرف بڑھ رہا ہے دوسری طرف را کے ایجنٹوں کے ذریعے ہماری یکجہتی اور ملکی سالمیت کے بدن میں چھرا گھونپ رہا ہے۔ جس کا ثبوت بلوچستان سے ان کے ایجنٹ کی گرفتاری ہے اور ہم ہیں کہ ان کے آگے بچھے جا رہے ہیں، اللہ کریم ہمیں سمجھ بوجھ اور ملی غیرت نصیب فرمائے، آمین۔ گفتگو کے آغاز میں آپ نے بہت پیاری حدیث مبارک ہمارے علم میں لائی ہے اور ساتھ ہی کاشف زبیر کے انتقال پر ملال کی روح فرسا خبر سنائی ہے ہماری دعا ہے کہ خداوند قدوس مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل اور اس پر اجر عظیم عطا فرمائے، آمین۔ محترم و مکرم جناب ایم اے راحیل صاحب ایک پر مغز خط کے ساتھ کرسی صدارت پر براجمان ہوئے اتنا جاندار تبصرہ کرنے اور انعام پانے پر دلی مبارک باد قبول ہو، میرا تبصرہ پسند فرمانے پر شکریہ۔ جناب ابرار رضوی کا خط بھی قابل تعریف ہے، مجید احمد جائی صاحب کا تبصرہ جاندار تھا۔محترم ریاض بٹ بھائی تبصرہ پسند فرمانے کا شکریہ آپ کی تحریر کردہ تفتیشی کہانیاں واقعی قابل تعریف ہوتی ہیں، ان کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہے۔ علی اصغر صاحب کا کسر نفسی لیے خط پسند آیا، محترمہ عالیہ انعام الٰہی آپ کا جامع تبصرہ خوب ہے، پیارے بھائی عمر فاروق ارشد بہت اچھے تبصرے کے ساتھ تشریف لائے آپ نے گفتگو میں اتنے خطوط شامل ہونے پر خوشی کا اظہار فرمایا مزید خوش آئند بات ہے کہ گزشتہ ماہ اکیس خطوط گفتگو کی زینت بنے اور اس ماہ پورے چھبیس خطوط شامل ہیں۔ محترمہ بشریٰ کنول صاحبہ پہلی بار محفل میں تشریف لائیں ’’جی آیا نوں‘‘ آپ نے بڑا کھرا تبصرہ کیا ہے اللہ کریم آپ کو مزید سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ میری پیاری بہنا کو میری شاعری پسند آئی میں اس کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ محترمہ ریحانہ عامر صاحبہ یہ ہماری بے حسی کی انتہا ہے کہ تھر میں معصوم بچوں کی اموات کی دو سنچریاں ہوچکی ہیں مگر وطن عزیز کے کسی شخص کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، بے شک موت برحق ہے لیکن کسی انسانی غفلت سے موت ہم جیسے حساس لوگوں کو عرصہ تک خون کے آنسو رلاتی ہے۔ عامر زمان بھائی ہر اچھی چیز کی پذیرائی ہمارا فرض اولین ہے محترمہ گل مہر صاحبہ کا خط جامع اور قابل غور ہے، قارئین کی انواع و اقسام کے خیال کا اظہار ہی گفتگو کا اصل حسن ہے۔ محترمہ آپ کے تبصرے واقعی لائق تعریف ہوتے ہیں ان کی پسندیدگی آپ کا جائز حق ہے۔ محمد یاسر اعوان کا تبصرہ بھرپور اور پسندیدہ ہے۔مہر پرویز دولو صاحب کا خط بھی بہت خوب صورت ہے جناب عبدالغفار عابد بھی اچھے تبصرے کے ساتھ تشریف لائے، محترم جناب جاوید احمد صدیقی صاحب بہت ہی خوب صورت خط کے ساتھ تشریف لائے ان کا خط اپنا ایک انوکھا انداز لیے ہوئے ہوتا ہے۔ جاوید بھائی یادوں میں اس ناچیز کو رکھنے کے لیے بے حد شکر گزار ہوں خداوند آپ کو صحت مند اور خوش و خرم رکھے، آمین۔ لائق صد احترام جناب عبدالمالک کیف کا تبصرہ خوب صورت اور جاندار تھا۔ پیارے بھائی آپ نے خوب صورت انداز میں میرے تبصرے کو پسند فرمایا اس کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں رب کریم آپ کو خوش و خرم رکھے، آمین۔ جناب عبدالحمید کا خط قابل غور ہے۔ ایم ریاض الحق رضوی کا مختصر اور اور محمد سانول کا مختصر ترین خط گفتگو کی زینت بنے گفتگو کا اختتام انجم فاروق ساحلی کے خط پر ہوا، اس کے آخر میں آپ نے ناقابل اشاعت کہانیوں کے بارے میں بتا کر آپ نے لکھاریوں کو انتظار کی سولی پر لٹکنے سے بچا لیا۔ اقرا میں رب العزت کی ذات اقدس کے بارے میں جس انداز سے بیان کیا جا رہا ہے۔ وہ لائق ستائش ہے اس کے لیے محترم طاہر قریشی صاحب بلا شبہ ستائش کے قابل ہیں، کہانیاں جتنی پڑھ سکا ہوں ساری بہت ہی اچھی ہیں۔ محترم عامر زمان عامر کا تعارف اور کلام پڑھ کر بہت محظوظ ہوا ہوں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ، ذوق آگہی کا سارا انتخاب ہی خاص کرانعام یافتہ اقتباس فلسفہ زندگی بہت خوب ہے۔ خوش بوئے سخن میں انعام یافتہ کلام بہت خوب ہے جس کے لیے ناز سلوش ذشے مبارک باد کے مستحق ہیں باقی منتخب کلام میں صرف دو غزلیں تھیں اور باقی آزاد نظمیں تھیں۔
شعبان کھوسہ… آئی جی آفس کوئٹہ۔ محترم عمران احمد اور نئے افق کی پوری ٹیم کو بندہ ناچیز کی طرف سے السلام علیکم۔ امید کرتا ہوں کہ سب خیریت سے ہوں گے دعا گو ہوں اللہ آپ کو لمبی زندگی ڈھیر ساری کامیابیاں اور خوشیاں دے۔ میرا نام شعبان کھوسہ ہے بلوچستان پولیس رپیڈ رسپانس گروپ (آر آر جی)کمانڈو میں اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔ نئے افق کے لیے نیا ہوں مگر اس سے پہلے مختلف ڈائجسٹ میں لکھتا رہا ہوں مجید احمد جائی، ساحل ابڑو بھائی نے نئے افق پڑھنے کی دعوت دی، اپریل کا نئے افق خرید کر پڑھا تو باقی ڈائجسٹوں سے نئے افق کے معیار کو بہتر پایا۔ مشتاق احمد قریشی نے دستک کے ذریعے بھارتیوں کی مکاریوں کو بے نقاب کیا تو گفتگو میں ایم اے راحیل، احسن ابرار رضوی، مجید احمد جائی، صائمہ نور، ریاض بٹ، ریاض حسین قمر، عالیہ انعام الٰہی، عمر فاروق ارشد، ریحانہ عامر، گل مہر، محمدیاسر اعوان، ممتاز احمد، مہر پرویز دولو دیگر کے تبصروں نے دل جیت لیے۔ زریں قمر کا انٹرویو خوب رہا، ڈاکو راج شبیر سومرو نے اپنے نوک دار قلم سے سندھ کی تاریخ کے سیاہ باب کو بے نقاب کیا ویلڈن جب اپنوں کا خون سفید ہوجائے اور موسموں کے رخ بدلیں تو ایسے ست رنگی رشتوں سے اللہ ہی بچائے، رشتے تفسیر عباس بابر زبردست تحریر لائے۔امجد جاوید کے ناول کی پہلی ہی قسط نے دل جیت لیا اور ایک ہی نشست میں پڑھ کر دم لیا۔ سید وجاہت علی کی احساس، کشاف اقبال کی دیوار، حسیب جواد کی تلاش، انجم فاروق کی کرن، مہتاب خان کی طرفہ تماشہ، خلیل جبار کی عزت، حسن اختر کی بے وفا، شاہدہ صدیقی کی اپنے دام میں لا جواب کہانیاں تھیں بہترین اسٹوری لکھنے پر رائٹرز کو مبارکباد اس کے ساتھ ہی اجازت چاہتا ہوں زندگی نے ساتھ دیا تو الگے ماہ بھرپور تبصرے کے ساتھ حاضری دوں گا۔
عبدالجبار رومی انصاری… لاہور۔ السلام علیکم! خوب صورت مناظر پربت کے دامن میں معصوم سی حسین ماہ جبین نے دل موہ لیا سرورق انتہائی خوب صورت تھا دستک میں بھارت کا مکروہ چہرہ دکھایا گیا جس کا ایک نہیں کئی چہرے ہیں جو بدل بدل کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہتا ہے اور اس کی پاکستان دشمنی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے پاکستان میں دہشت گردی کے سبھی تانے بانے بھارت سے جڑتے ہیں لیکن اس کے خلاف کبھی بھی موثر اقدامات نہیں کیے گئے ابھی حال ہی میں را کا آفیسر ایجنٹ پکڑا گیا ہے جس نے پاکستان میں دہشت گردی کے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں اوپر سے لاہور میں گلشن اقبال پارک میں ہونے والی دہشت گردی نے ہلا کر رکھ دیا جس میں ستر سے زائد شہری شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے اس واقعہ سے پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا۔ ہر آنکھ اشک بار ہے پلیز قارئین سانحہ لاہور کے شہدا اور پاکستان کی سلامتی کے لیے دعا ضرور کیجیے۔ شبیر سومرو کی ڈاکو راج بہترین کہانی تھی۔ ظلم و ستم اور بے روزگاری کی وجہ سے ڈاکو پیدا ہوجاتے ہیں، یہ بالکل ٹھیک ہے لیکن جو لوگ سیاست میں آکر پاکستان کو لوٹ چکے یا لوٹ رہے ہیں تو ان کے بارے میں کیا کہا جائے نینا بے حد خوب صورت اور بہت اچھی لڑکی تھی لیکن معاشرے کے ظلم و ستم اور گھریلو کمزوری نے اسے بے بس کردیا مگر وہ سر اٹھا کر چلنا چاہتی تھی اور جب نینا نے ہمت کی تو اس نے ظالموں اور ہوس کے پجاریوں کو بتا دیا کہ عورت زاد کا ایک روپ گولی بھی ہے گولی ان ایکشن عورت زاد کی پہلی قسط زبردست رہی امیر اور غریب کی زندگی کا احاطہ کرتی پل صراط نے بھی بہت محفوظ کیا، پیار و محبت میں کون کہاں تک جاتا ہے پتا چل جائے گا۔ کیونکہ یہ عشق نہیں آسان نایاب معیز اور مہک اور فریال دیکھو کہاں تک عشق میں ڈوبتے ہیں۔ دوسری طرف مجید اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے چادر دیکھ کر پائوں پھیلائو کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جو بہت اچھی بات ہے آگے چل کر دیکھیں گے پل صراط ان کے لیے کیا ثابت ہوتی ہے یہ کہانی بھی بہت عمدگی سے آگے بڑھ رہی، خلیل جبار کی کہانی عزت بہت اچھی لگی سلمیٰ نے سب کچھ چھوڑ کر اطہر کا ساتھ دیا مگر وہ سلمیٰ کے لائق تھا ہی نہیں سلمیٰ کی ہمت اور جان چھڑانے کی ترکیب بہترین رہی نہیں تو یہ بھی عام لڑکیوں کی طرف ظلم سہتی گھٹ گھٹ کے مرجاتی مختصر پیرائے میں شاہدہ صدیقی کی کہانی اپنے دام میں بہترین تھی جس میں آسانی سے مجرم پکڑا گیا لاکھ پردوں میں چھپائے چیکو خود کو طرفہ تماشہ میں چیکو کا مذاق تو اڑاتے ہی تھے لیکن کوئی محبت کرنے والا ایسا بھی تھا جو اسے عثمان صاحب پکارتا تھا اور وہ تھی عرشیہ جیسے چیکو نے بھی محسوس کرلیا ہنستی مسکراتی تحریر اچھی لگی صدام حسین کا آخری دور واقعی عبرت انگیز رہا جب زوال آتا ہے تو انسان کی اپنی غلطیاں ہی اسے لے ڈوبتی ہیں اور پھر مخالفت میں سازشی عناصر بھی خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں ایسا ہی کچھ صدام حسین کے ساتھ پیش آیا قلعہ حرمین میں کسی دور کے طاقتور شخص کی حالت زار اور کسمپرسی کی حالت نے دکھی کردیا زبرج نے نیہاد کو پانے کے لیے سفلی علم اور کالے جادو کا سہارا لیا تو وہ خود اسی پہ پڑ گیا کہتے ہیں جو کسی کے لیے کنواں کھودے وہی اس میں گرتا ہے ایسی ہی سزا زبرج کو بھی ملی مگر وہ مدت اور نیہاد کو جدا نہ کرسکی کچی دیوار کی صورت وہ خود ڈھے گئی کشاف اقبال کی تحریر دیوار بھی اچھی رہی، ذوق آگہی میں شازیہ ہاشم، حسین خواجہ، ملک جواد و نواز اور مہوش ٹنڈو الہیار کے مراسلے زبردست تھے جبکہ خوش بوئے سخن میں ناز سلوش ذشے، طوبیٰ رفاعی، فلک شیر ملک اور وجیہہ سحر کی شاعری بہترین رہی۔ کترنوں میں ام حبیبہ اور نفیسہ عبدالرزاق کی تحریر بھی اچھی رہی اور اس ماہ کے شاعر عامر زمان بورے والا ظلمت کے آگے انسان بھی چپ ہے کا اعلیٰ ذوق بہت پسند آیا۔
حذیفہ چوہان… منچن آباد۔ محترم عمران احمد السلام علیکم۔ شروع اس رب کے نام سے جو سارے علوم وفنون پر قدرت رکھتا ہے۔ پرچہ مکمل طور پر بہت اعلیٰ معیار کا تھا تمام بہن بھائیوں نے اچھا لکھا تبصرے بھی اپنی مثال آپ تھے۔ ذوق آگہی کا سلسلہ بہت اچھا ہے۔ خوش بوئے سخن کی غزلیں اور نظمیں اپنی مثال آپ ہوتی ہیں۔ بہن عائشہ اعوان آپ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ بھائی فلک شیر ملک جناب اشفاق شاہین اور محترم جاوید احمد صدیقی آپ لوگوں سے مجھے سلسلہ ذوق آگہی میں بہت سبق ملا ہے۔
ایم ریاض الحق… خانیوال۔ آپ کا بہت مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے نئے افق کے قابل سمجھا اور اپنی محفل میں جگہ دی۔ نئے افق سے قلبی لگائو ہے جناب امجد جاوید، ریاض بٹ اور ڈاکٹر ایم اے قریشی سے ملاقات کرنے کے لیے پرچہ پڑھتا ہوں۔ ان کی تحریروں میں ایک مقصد اور سبق پنہاں ہوتا ہے۔ نئے افق نہ صرف کہنہ مشق لکھاریوں کو عزت دے رہا ہے بلکہ نئے دوستوں کو جوہر قلم دکھلانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے تاکہ وہ بھی اپنے قلم سے معاشرتی پہلوئوں کو اجاگر کرسکیں۔ میری دلی دعا ہے کہ ہمارا یہ گھرانہ یونہی ہنسی خوشی بستا رہے۔
نا قابل اشاعت کہانیاں:۔
فریب (کشاف اقبال)، محبت ہے زندگی (سیدسالار احمد)، افلاس بے بسی (عائشہ انصاری)، کوئی بتائے میں کیا کروں (فاطمہ زہرہ)، آواز محبت (حورعین حسن)، رد عمل، قدرت کا منصوبہ (محمد سلیم کرد)، ذرا سی غلط فہمی (حسنین علی تابش)، بے بسی اور بے حسی (سلمیٰ غزل)، تیرا دوسرا نام (عبدالحکیم ثمر)، آخری شکست (محمد انس حنیف)، ایک پچھتاوا (شاہد رفیق)، ابن آتش (ثمینہ فیاض)، سونے کا بادشاہ، سانپوں کا بادشاہ، روح کا بلاوا، مقابلہ، انتقام کی آگ، فیصلے، با مراد قاتل، موت کی ریل پیل، رحمت کی نا قدری (انجم فاروق ساحلی)، چراغ راہ گزر (عقیل شاہ)، ٹارگٹ (محمد اعظم خان)، میں شرمندہ ہوں (نبیلہ نازش رائو)، تیرے انتظار میں (مجید احمدجائی)، جال (عمر فاروق ارشد)، رب کے بندے، دل کا رشتہ (طلعت نفیس)، یہی زندگی ہے (فاریحہ)، انتقام قدرت (عذرا فردوس)، آزاد غلام (محمد شعیب)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close