Naeyufaq Feb-16

زاد سفر(حصہ دوم)

ناصر ملک

ٰبھاگوں کے جاگنے سے پہلے وہ جاگ گئی۔ چونک کر بالی اور شاہ سائیں کو دیکھا۔ آنکھوں میں قہر بھر گیا۔ ہڑبڑا کر اُٹھی اور بدک کر چارپائی سے اُتر کر کمرے کے آخری سرے تک چلی گئی۔ بالی کو دیکھے بغیر مخاطب کرتے ہوئے چیخی ۔ ’’بالی! تمھیں کس نے کہاہے کہ اِسے یوں میرے گھر میں لے آئو… لے جائو اِسے یہاں سے۔ مجھے کوئی دَم تعویذ نہیں کروانا اور آئندہ یہ حرکت مت کرنا ورنہ میں بہت بُری طرح پیش آئوں گی۔‘‘
بالی کا چہرہ شرمساری کے احساس سے بجھ گیا۔ لپک کر اُس کے قریب آیا۔ ہاتھ تھام کر ہولے سے بولا۔ ’’کیا کررہی ہوبانو! سائیں جی بڑی شان والے پیر ہیں۔ اَدب سے سر جھکا نہیں سکتی ہو توکیا خاموش رہ کر بیٹھ بھی نہیں سکتی ہو۔ معافی مانگو اُن سے، چلو…‘‘
وہ ناگن کی طرح پلٹی اور دونوں پر آتش بار نگاہ ڈال کر پھنکاری ۔ ’’بالی! تم نرے گنوار ہو۔ کبھی بھی سدھر نہیں سکتے۔ اور پیر صاحب! میں دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں اور درخواست کرتی ہوں کہ میرے بے وقوف بھائی کی جان چھوڑ دو۔ لو! میں نے معافی مانگ لی، اَب تم دونوں مجھ پر رحم کرو اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ خدا کے لیے! جائو یہاں سے…‘‘
بالی کو اُس پر غصہ آگیا۔ بپھر کر اونچا اونچا بولنے لگا۔ وہ بھی جواباً خاموش نہیں رہی تھی۔ شاہ سائیں کا پُر نور چہرہ فرطِ تضحیک و شرمساری سے بجھ گیا۔ اُلٹے قدموں دہلیز پار کرتے ہوئے بالی کو مخاطب کرکے بولا ۔’’اقبال حسین! میں نے واقعی غلطی کی جو تمھارے ساتھ یہاں تک چلا آیا۔ معاملہ میری سوچ سے کہیں زیادہ بگڑ چکا ہے اور میں تمھارے حق میں دُعا ہی کرسکتا ہوں۔‘‘
بالی لپک کر اُس کے پاس آیا۔ دونوں صحن میں کھڑے ہوکر باتیں کرنے لگے۔ بالی منت وسماجت کررہا تھا، بانو کے غلط رویے پر معافی مانگ رہا تھا اور بار بار استدعا کررہا تھا کہ وہ اُس بے وقوف لڑکی کو کوئی بددعا نہ دیں۔شاہ سائیں کا سرخ ہوتا چہرہ، لبوں سے پھوٹتے بے رَبط الفاظ اور بانو کے رونے چلانے کی آوازیں بالی کا سانس روکے جارہی تھیں اور وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے سائیں جی کے ساتھ گلی تک چلا آیا۔
شاہ سائیں نے رُک کر اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور عجیب سے انداز میں مسکرا کر کہا ۔ ’’جوان! تم بہت بڑی مصیبت سے دوچار ہونے والے ہو۔ تمھاری بہن پر کالا جادو کردیا گیا ہے جس نے اِس کا دماغ الٹ دیا ہے۔ اُس کے اندر موجود شیطانی طاقتیں مجھے دیکھتے ہی بپھر گئی ہیں۔میرا کچھ نہیں بگاڑا جاسکتا، اِس لیے اُس بے چاری کی شامت آگئی ہے۔ اچھا! میں چلتا ہوں۔ تم وقت نکال کر میرے پاس آجانا۔ ‘‘
’’کیا وہ ٹھیک ہوجائے گی شاہ سائیں؟‘‘وہ دھڑکتے دِل کے ساتھ سائیں جی کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ گلی میں سے گزرتے ہوئے اِکا دُکا لوگوں نے حیرت سے یہ تماشا دیکھا مگر دَخل نہ دیتے ہوئے اپنی راہ پر ہو لیے ۔ بالی کو اِس سمے کسی کی پروا نہیں تھی۔ اُسے محض اپنی بانو کی دگرگوں حالت کی فکر کھائے جارہی تھی۔
’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ میں تمھارے لیے کچھ نہ کچھ ضرورکروں گا، فکر نہ کرو۔‘‘ شاہ سائیں نے کہا اور تیز تیز قدم اُٹھاتا ہؤا رخصت ہو گیا۔
وہ پلٹ کر بانو کے پاس آیا۔ بالوں سے پکڑ کر جھنجوڑتا ہؤا بولا۔ ’’دیکھ بانو! تم نے میری محبت کا ناجائز فائدہ اُٹھایا ہے اور مجھے شاہ سائیں جیسے اللہ کے پیارے بندے کے سامنے سر اُٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ بتا! کیا میں نے کبھی تمھاری بے عزتی کی ہے کسی کے سامنے؟ کیا میں نے کبھی تمھاری بات رَد کی ہے؟‘‘
وہ پہلے ہی رو رہی تھی، بالی کی خفگی پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بالی کا غصہ فرو ہوگیا۔ اُسے منانے اور چپ کرانے میں جُت گیا۔ وہ سرخ ہونٹوں کو بے دردی سے کچلتے ہوئے بولی۔
’’بالی! تمھاری کوئی بے عزتی نہیں ہوئی۔ تم خود ہی تو کہتے ہو کہ میں تمھاری عزت ہوں، پھر مجھے عزت سمجھتے کیوں نہیں ہو۔ کیوں اُس نامحرم کو میری چارپائی پر لے کر آئے ہو؟ کیا اَپنی بہنوںکو یوں غیر مردوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے؟‘‘
وہ بھونچکا رہ گیا ۔ ’ ’پگلی! وہ کوئی نامحرم نہیں، شاہ سائیں تھے۔تم نے اُن کے چہرے کو غور سے نہیں دیکھا۔ اُن کے دِل میں نور بھرا ہؤا ہے، وہ عام آدمی نہیں ہیں۔‘‘
’’تو کیا ہیں؟‘‘ وہ روتے روتے چپ ہوکر تڑپ کر بولی ۔ ’ ’شریعت میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہؤا کہ پیر، مرشد یا ولی اللہ کو نامحرم عورتوں کی خلوت میں لے جایاجاسکتا ہے۔ کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہوا کہ عورتیں منہ اُٹھائے بچے بانٹنے والوں، پھونکیں مارنے والوں یا دَم تعویذ بیچنے والوں کے پاس چلی جائیں۔ تم اَن پڑھ ہو، نہیں سمجھ سکتے ہو اور بدقسمتی یہ ہے کہ میرے سمجھانے پر بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے ہو۔ بس! میں نے کہہ دیاہے کہ آئندہ وہ میرے گھر میں قدم نہ رکھے۔اگر وہ دوبارہ یہاں آیا تو میں اُسے دھکے دے کر باہر نکال دوں گی۔ تمھیں زیادہ شوق ہے پیسے دے کر اُس کی غلامی کرنے کا تو جائو، وہاں جاکر اپنا شوق پورا کرو اور میرے گھر کو بخش دو۔‘‘
بالی ایک ٹک اُسے دیکھے جارہا تھا۔ سوچے جارہا تھا کہ وہ پہلے تو اتنی بے وقوف نہیں تھی جتنی آج ثابت ہورہی تھی۔ ایسے میں شاہ سائیں کی کہی ہوئی باتیں سیدھی دِل پر اُتر رہی تھیں اور لحظہ بہ لحظہ اپنی گرفت مضبوط کرتی جاتی تھیں۔
بانو نے دوا کھائی۔ بخار کا زور ایک بار ٹوٹا، پھر گالوں کو تمتمانے لگا۔ بالی اُس کی تیمارداری میں مصروف تھا۔ ساتھ ساتھ جتاتا جاتا تھا کہ اُس نے شاہ سائیں کو ناراض کرکے اچھا نہیں کیا۔ اللہ اپنے پیاروں کو ناراض کردینے والوں سے راضی نہیں رہتا۔ وہ منہ بنا کر سُن لیتی اور سُن کر منہ پھیر لیتی۔ شام میں بالی نے بازار جانے کا بہانہ کیا اور شاہ سائیں کے آستانے پر دونوں ہاتھ جوڑے حاضر ہوگیا۔ شاہ سائیں نے بانو کا حال دریافت کیا۔ اُس کے چہرے بشرے سے کوئی ناراضی ہویدا نہیں ہورہی تھی۔ بالی نے سوچا ۔ ’’یہی تو اللہ والوں کی اَدا ہوتی ہے۔ اِن کا دِل جتنا بھی دکھایا جائے، خفا نہیں ہوتے۔ کوئی اور ہوتا تو مجھے اپنے گھر سے دھکے دے کر نکال چکا ہوتا۔سائیں جی کتنے مہربان ہیں، نہ صرف پیار سے بات کررہے ہیں بلکہ میری خاطر مدارت کا حکم بھی دے رہے ہیں۔‘‘
شربت کا بھرا جان افزا گلاس اُس کے سامنے رکھ دیا گیا۔ وہ اِس کا ذائقہ اَبھی تک نہیں بھولا تھا۔ پیتے ہی جیسے دِل پر دھرا بڑا سا پتھر ہٹ جاتا تھا۔ اُس نے لبوں سے لگایا، آنکھوں کو سائیں جی کے قدموںمیں بچھایا اور زبان پر اپنی جان کی تمام تر عقیدت رکھ دی۔ ’’شاہ سائیں! اُس بائولی کے تن بدن میں آگ بھری ہوئی ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے ہی تپش محسوس ہوجاتی ہے۔ خدا کے لیے اُس کے حق میں دعا کیجئے۔‘‘
سائیں جی نے دونوں ہاتھ اُٹھا لیے ۔ دعا مانگی۔ ہوا میں پھونک ماری۔ کسی نادیدہ وجود کو مخاطب کیا ۔ ’ ’دیکھ بے شیطانی چرخے! اُس نادان کا پیچھا چھوڑ دو۔ اگر تمھیں اپنی طاقت پر اتنا ہی غرور ہے تو میرے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال، مزہ نہ چکھا دوں تو کہنا۔‘‘
بالی نے ستائشی اور تفہیمی انداز میں سر ہلایا۔ شاہ سائیں کی پہنچ اور اُس کے لہجے کی تمکنت نے دل کو تسکین بخشی۔ یقین سا ہوگیا کہ بانو اَب ایک دَم ٹھیک ہوجائے گی۔ شاہ جی اپنے کام سے فراغت پا کر بولا۔ ’ ’اقبال حسین! وقتی طور پر تمھاری بہن کو اُس مورکھ سے نجات دلا دی ہے مگر وہ بہت کائیاں اور خبیث ہے۔ موقع پاتے ہی لوٹ آئے گا۔ اونٹ جیسا بیر رکھتا ہے۔ کبھی بھولتا نہیں ہے۔ تم پہلی فرصت میں اپنی بہن کے ہاتھ پیلے کردو۔ سہاگن پر باہر کی چیزیں نہیں آیا کرتیں۔ سمجھ رہے ہوناں میری بات؟‘‘
سائیں کے منہ سے برآمد ہونے والے الفاظ سیدھا دل میں اُتر رہے تھے۔ اثبات میں سرہلا کر بولا۔’’میں آپ کا عمر بھر احسان مند رہوں گا۔ جیسے ایک امیر زادے کے دِل میں آپ نے میری مدد کا جذبہ رکھ دیا تھا، ایسے ہی میری لاڈلی بہن کے لیے کسی کو میری دہلیز پر بھیج دو۔‘‘
ایک معنی خیز مسکراہٹ شاہ سائیں کے چہرے پر اُبھری۔ کندھا تھپتھپا کر بولا ۔ ’’اقبال حسین! ذہن میں رکھو، ایک بار قسمت کو تم اپنی دہلیز پر سے مایوس لوٹا چکے ہو، دوسری مرتبہ ایسا کرو گے تو کہیں کے نہیں رہو گے۔ تباہی تمھارا مقدر بن جائے گی۔ جلد ہی تمھارے گھر میں اُجالے بھرنے کے لیے چاند اُتر آئے گا۔ انکار نہ کرنا ورنہ وہ دہکتاہؤا سورج بن جائے گا اور تم دونوں کو جلا کر راکھ کر دے گا۔‘‘
بالی کے دیدے پھیل گئے۔ بہ یک وقت دِل میں خوشی بھر گئی اور دماغ اندیشوں سے بھاری بھی ہوگیا۔ لرزتی ہوئی آواز میں بولا ۔ ’’مگرسائیں جی! مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ روشنی پھیلانے والا آپ کا بھیجا ہوا چاند ہی ہے یا کوئی اور دھوکے بازسورج ہے جسے شیطان نے ہماری بربادی کے لیے بھیجا ہے؟‘‘
سائیں نے بڑی گہری نظر سے اُسے دیکھا۔ شاید اُس کے وجود میں بھری عقیدت کو ملاحظہ کیا پھر مخصوص انداز میں کہیں گم ہوگیا۔ کافی دیر کے بعد سر اُٹھایا۔ لبوں پر جاندار مسکراہٹ اُبھری ۔ ’ ’میں نے اُسے دیکھ لیا ہے۔ مجھے نہیں علم تھا کہ تمھاری مدد کے جذبے میں مجھے بھی امتحان سے گزرنا پڑے گا۔ خیر! تمھیں نشانیاں بتلاتا ہوں۔ کھلی آنکھ سے دیکھنا اور دیکھ کر پہچاننا۔پہچاننا معرفت کہلاتا ہے اور یہ ارادت کی پہلی منزل ہوتی ہے۔ اِس میں مُرید کامیاب ہوجائے تو سمجھو! اُس پر کائنات کے اسرار کھل جاتے ہیں۔ سنو! آنے والا بہت پُروقار شخصیت اور…‘‘
سائیں جی عجیب کیف بھری کیفیت میں اُسے خوشی بن کر گھر میں اُترنے والے کو پہچاننے کے لیے راہ نمائی کرنے لگا۔ وہ ہمہ تن گوش بیٹھا ایک ایک حرف کوسماعت کے راستے اپنے شعور میں جذب کرتا جارہا تھا۔
٭ذ٭
آج بھی عینی کالج سے غیر حاضر تھی۔ بانو اُس کی کمی کوشدّت سے محسوس کرتے ہوئے سوچ رہی تھی ،وہ سر پر سوار ہوتی ہے تو دل کو گھٹن کا احساس ہونے لگتا ہے۔ وہ موجود نہ ہو تو میں اُسے مس کرنے لگتی ہوں۔ مجھے تو اپنی سمجھ بھی نہیں لگتی، کسی کو خاک سمجھ سکتی ہوں۔‘
وہ لیکچر سنتے ہوئے بھی نہیں سن رہی تھی۔ ایسی کیفیت اُس پر تب سے اترتی ہی رہتی تھی جب سے وہ عینی کی نگاہوں میں کھٹکی تھی۔ اُس پر اَبھی تک بخار کی نقاہت طاری تھی۔ پہلے بخار چڑھتا تھا تو کچا کچا بدن بہت مزہ دیتا تھا۔ اَب کی بار یوں لگتا تھا جیسے جان چھوڑتے چھوڑتے بخار نے جان کو توڑ کر رکھ دیا ہو۔ تیسرے لیکچر میں اُس کا جی کلاس کے شور شرابے سے اکتا گیا۔ وہ کالج سے نکل آئی۔ رکشا میں بیٹھ کر عینی کے گھر پہنچ گئی۔ اُس نے آج بالی سے اجازت نہیں لی تھی۔
عینی گھر پر موجود تھی۔ اُسے دیکھ کر خوش ہوئی مگر اپنی دِلی مسرت کو دَبا کر بے اعتنائی سے ملی۔ تنہائی پاتے ہی اُس کی بے اعتنائی بے رُخی میں بدل گئی۔ بولی ۔ ’ ’کہو بانو! کیسے آنا ہوا؟‘‘
وہ بولی۔ ’ ’کیا مجھے نہیں آنا چاہیے تھا؟‘‘
’’میں نے یہ تو نہیں کہا۔‘‘ عینی نے کہا۔
’’تو …‘‘
’’حیرت ہوئی ہے کہ تمھیں میرا خیال کیسے آگیا؟‘‘
’’کیا میں تمھارا خیال نہیں کرتی ہوں؟‘‘
’’اچھا چھوڑو اِس تذکرے کو، بتائو، تمھارا بھائی کیسا ہے؟‘‘
’’ہرگز اچھا نہیں ہے۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی۔ پھر عینی کی بے توجہگی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے وہ شاہ سائیں کے بارے میں بتلانے لگی۔ تلملانے لگی کہ کیسے ایک اتفاق کی بچھی ہوئی بساط نے بالی کے عقائد کو مسخ کردیا اور وہ شاہ سائیں کے نرغے میں آگیا۔ بولی۔ ’’دیکھو عینی! یہ لوگ کیسے لوگوں کی نفسیات سے کھیلتے ہیں۔ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا نے اثر دکھایا، میں ٹھیک ہوگئی مگر بالی اُسے شاہ سائیں کی دعا کا فیض قرار دے رہا ہے۔ وہ سمجھانے پر بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہے کہ یہ محض اتفاق ہے۔ جب سائیں میرے بھولے بھالے بالی کا مرُشد نہیں بنا تھا، تب کیا میں ڈاکٹر کی دوائوں سے ٹھیک نہیں ہوا کرتی تھی؟‘‘
عینی نے کہا ۔ ’ ’بولے چلے جارہی ہو، کیا تمھیں میرا چہرہ دیکھ کر میری ناراضی کا اندازہ نہیں ہو رہا؟‘‘
وہ چونکی، ایک ذرا مسکرائی اور بولی ۔ ’ ’اوہ اچھا… پہلے بتلا دیتیں تو اَب تک منا چکی ہوتی۔ عینی ڈیئر! میں اِس قابل نہیں ہوں کہ تم جیسی بڑے گھر کی لڑکی مجھ سے خفا ہو۔ تم بڑی ہو۔ مجھ سے مقابلہ کرکے اپنا قد چھوٹا نہ کرو اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر مان جائو۔‘‘
اُس کا غصہ فرو نہ ہوا، متجاوز ہوگیا۔ بولی ۔ ’ ’تمھیں تو منانے کا طریقہ بھی نہیں آتا۔‘‘
’’تو کیا کہوں؟‘‘ وہ مصنوعی بے چارگی سے بولی۔ ’’چلو تھوڑی خوشامد کر لیتی ہوں۔ دیکھو، اتنے پیارے اور معصوم چہرے پر خفگی ذرا اچھی نہیں لگتی۔ تم ہنس مکھ لڑکی ہو، خود پر جبر کرکے ہنسنا مسکرانا بند کردو گی تو چہرے پر جھریاں پڑ جائیں گی اور دیکھنے والے بوڑھی قرار دے کر رشتہ مانگے بغیر گھر سے رخصت ہوجائیں گے۔‘‘
وہ زیرِ لب مسکرا کر بے چارگی سے اُسے دیکھنے لگی جو مناتے ہوئے بھی قدم قدم پر شرمندہ کرنے لگی تھی بولی ۔’’ اف میرے اللہ! کس احمق لڑکی کو دوست بنا بیٹھی ہوں۔ تمھیں تو منانے کا ہنر بھی نہیں آتا۔ بھیا ناراض ہوگیا تو تم اُسے کس طرح منایا کروگی۔ جس بیوی کے پاس شوہر کو منانے کا ہنر نہیں ہوتا، وہ کبھی کامیاب بیوی نہیں کہلا سکتی۔‘‘
اُس نے سر جھکا دیا۔ شہزاد کا سراپا نگاہوں میں لہرا گیا۔دِل نے فوراً دلاسہ دیا ۔ ’ ’وہ روٹھنے والا نہیں ہے۔‘‘
دماغ نے ڈراوا دیا ۔ ’ ’محبوب روٹھنے والا نہیں ہوتا، شوہر ہر رات کو روٹھنے کا جواز تلاش کرلیتا ہے۔روٹھ کر مانتا ہے، مان کر روٹھ جاتا ہے۔ ہر بار ماننے کے لیے نئی ادا طلب کرتا ہے اور جان کو توڑنے کے لیے نیا حصار کھینچتا ہے۔‘‘
عینی اُس کے پل پل بدلتے چہرے کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔ پوچھا ۔ ’ ’کیا سوچ رہی ہو میری جان؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’تم نے میری بات کا جواب بھی نہیں دیا۔‘‘
’’تم نے کچھ پوچھا ہی نہیں، جواب کیا دیتی۔‘‘
’’میں نے پوچھا تھا کہ بھیاناراض ہوگیا تو اُسے کس طرح منائو گی؟ کیا اِسی طرح، جس طرح مجھے منانے کی کوشش کررہی تھی؟‘‘
وہ بے دھیان تھی۔ فوراً بول پڑی ۔ ’ ’میں اُسے خفا ہونے کا موقع ہی نہیں دوں گی۔‘‘
’’کیا…ہائے بانو!یہ تم نے کیا کہا؟ اپنی بات کو دُہرائو۔‘‘ عینی کا چہرہ وفورِ مسرت واستعجاب سے چمک اُٹھا۔
اُسے بانو کی چیختی ہوئی آواز نے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی معنویت سے آن کی آن میں روشناس کرادیا۔ وہ جو اعتراف نہیں کرنا چاہتی تھی، اُس کی زبان نے اُس کی اجازت کے بغیر طشت ازبام کردیا تھا۔ اُس کا چہرہ آنِ واحد میں گلنار ہوگیا اور گھٹنوں میں چہرہ چھپا کر دوہری ہوگئی۔ عینی چوری پکڑ چکی تھی۔ چور کو بھاگنے کا موقع دیے بغیر اُس کے سر ہوگئی۔ بیڈ پر گرا کر والہانہ انداز میں چومنے لگی، دیوانگی بھری بے تابی سے سمجھانے لگی۔’’ میں تمہیںچوم چوم کر جھوٹی کردوں گی۔ شہزاد کے چاند پر نیل آرمسٹرانگ بن کراُتروں گی اور قریہ قریہ پر قدم رکھ کر جھٹلا دوں گی۔ ہونٹ، گال، آنکھیں، زلفیں… چھو کر بھی چھوتے رہنے کو جی چاہتا ہے۔ نہ جانے خدا نے تمھیں کیسا بنایا ہے۔ہاتھ لگانے سے میلی ہوتی ہو، میلی ہوکر دل میں سجنے لگتی ہو۔ ہائے بانو! تم کتنی پیاری ہو۔ میرابھائی بڑا خوش قسمت ہے۔ اُس کی قسمت جیسی دُنیا میں کسی کی نہیں۔‘‘
عینی کا والہانہ پن اُسے شرمسار کررہاتھا مگر وہ اُس کی کیفیت سے بے نیاز اُسے چومے جارہی تھی۔ تھک کر بیڈ میں اُس کے پہلو میں گر گئی۔ بولی ۔ ’ ’میں تھک گئی ہوں، شہزاد زندگی بھر نہیں تھکے گا۔ تم بھی نہیں تھکو گی۔ عورت ایسی ہی ہوتی ہے۔ ناں ناں کرتی رہتی ہے، بن ڈور کے بندھ کے کھنچتی بھی جاتی ہے۔ میںجانتی تھی کہ ایک نہ ایک دِن تمھارے دِل میں بھیا کی محبت روگ بن کر جاگ اُٹھے گی اور تمھیں بے کل کر دے گی۔ آج تم محبت کی بے کلی کو محسوس کررہی ہو۔ کل محبت میں عارضی ہجر پر بے کلی کے مارے بل پر بل کھاتی پھرو گی۔‘‘
اُس کی بے ساختگی نے اُس کی مشکل حل کردی تھی۔ عینی کے یوں چھیڑنے پر وہ بھی قدرے بے باک ہوگئی۔ بولی ۔ ’ ’عینی! شہزاد بہت اچھا ہے۔ تم بھی بہت اچھی ہو۔ اپنے اورتمھارے بیچ حائل اسٹیٹس مجھے تمھاری طرف آنے سے روکتا ہے۔ میں کیا کروں؟ مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔‘‘
عینی جھٹ سے بولی ۔ ’ ’تمھیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جانم! جو بھی کرنا ہوگا، وہ میں کروں گی یا میرا بھیا کرے گا۔ تم بس اتنا احسان ہم دونوں پر کردینا کہ جب تم سے کچھ پوچھا جائے، تب اِس سر کو اوپر نیچے حرکت دے دینا۔‘‘
وہ زیادہ بولنے کی عادی نہیں تھی۔ عینی نے اُس کے دل ودماغ کو گویائی دی تو وہ بلا تکان بولتی چلی گئی۔ تھک گئی تو نڈھال سی ہوکر بیٹھ گئی۔ ایسے میں پتہ چلا کہ ساری باتیں کرلی جائیں تو ذہن اچانک خالی ہوجاتا ہے۔ خالی ذہن تھکن اور بے چارگی کی علامت ہوتا ہے۔ اُسے بالی کا خیال آگیا۔ وہ مقررہ وقت پر کالج پہنچ کر اُسے موجود نہ پاتا تو پریشان ہوجاتا۔ عینی سے اجازت طلب کی تو وہ بولی۔ ’’ایسے نہیںمیری جان! اَبھی کافی وقت پڑا ہے۔ میں فون کردیتی ہوں، بھیا تمھیں کالج ڈراپ کر آئے گا۔ اگر اُس کے پاس وقت نہیں ہوگا تو وہ ڈرائیور کو بھیج دے گا۔‘‘
وہ شہزاد کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نفی میں سر ہلا کر بولی۔‘‘نہیں۔ میں رکشا میں چلی جائوں گی۔‘‘
عینی نے اُس کے انکار سے پہلوتہی کرتے ہوئے فون پر شہزاد سے رابطہ کر لیا۔ وہ کسی میٹنگ میں مصروف تھا۔ اُس نے ڈرائیور کو بھیجنے کا وعدہ کر لیا۔ عینی نے اُسے بانو کو ڈراپ کرنے کے بارے میں نہیں بتلایا تھا۔ آدھے گھنٹے میں گاڑی گھر پہنچ گئی۔ ڈرائیور پورچ میں رُک کر ہارن بجانے لگا تو دونوں پورچ میں آگئیں۔ وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی تو عینی نے سرگوشی کی ۔ ’ ’دیکھنا، اپنے وعدے پر قائم رکھنا اور میرے بھیا کو کبھی نارا ض نہ کرنا۔‘‘
وہ جھینپ گئی۔ شرمائی شرمائی سی مسکراہٹ میں اپنے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے کالج کی طرف روانہ ہوگئی۔ زندگی بھی عشق کے کفایتی وقت کی طرح ناآسودہ ہوتی ہے۔ جب کہیں مزہ آنے لگتا ہے، سانسیں ختم ہو جاتی ہیں۔ جہاں زندہ رہنے کی طلب شدّت اختیار کرتی ہے وہاں اِسے بے ثباتی اور کج ادائی سوجھنے لگتی ہے۔ آج ہی تو عینی کے ساتھ دل کی باتیں کرنے کا مزہ آرہا تھا۔ آج ہی اُس کے پاس وقت کم تھا۔
وہ لیٹ ہوگئی تھی۔ کالج کے گیٹ پر بالی اُس کا منتظر تھا۔ اُسے عینی کی کار سے نکلتے دیکھ کر لپک کر قریب آیا۔ پریشانی سے بولا۔ ’ ’تم نے بتلایا ہی نہیں تھا کہ تم عینی کے ہاں جائو گی۔ بتلا کر جاتیں تو مجھے انتظار نہ کرنا پڑتا۔ خیر، بیٹھو…‘‘
وہ کیرئیر پرجم کر بیٹھ گئی۔ معذرت خواہانہ لہجے میں بولی۔ ’’وہ آج بھی کالج نہیں آئی تھی۔ پیریڈ خالی تھے، اِس لیے اُس کا پتہ کرنے رکشا پر چلی گئی تھی۔ باتوں میں وقت کا دھیان نہیں رہا ورنہ تمھیں انتظار کی کوفت جھیلنا نہ پڑتی۔‘‘
’’وہ ناراض تھی ناں؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’مان گئی؟‘‘
’’ہاں۔ میں نے اُسے منا لیا۔ وہ دل کی بُری نہیں ہے۔ جلدی مان جاتی ہے۔‘‘
بالی نے عافیت بھری سانس سینے میں اُتاری اور اپنی توجہ ٹریفک کے بیچ سے سائیکل لہرا کر رستہ حاصل کرنے پر مرکوز کردی۔ بڑی گاڑیوں ، کاروں اور رکشاوالے سائیکل سواروں کو شاید انسان ہی نہیں سمجھتے تھے۔ تبھی اُسے سائیکل بڑی احتیاط سے چلانا پڑتی تھی۔
بانو نے دوپہر میں ہی بالی سے کہہ دیا تھا کہ وہ شام کا کھانا بازار سے خرید کر لائے۔ آج کے دِن میں وہ ہرگز کوئی کام نہیں کرنا چاہتی تھی بلکہ پوری یکسوئی سے کھلی آنکھوں میں شہزاد کے خواب پرونا چاہتی تھی۔ شام کو کھانا کھانے کے بعد بالی چارپائی پر دراز ہوگیا۔ اُسے ورکشاپ میں سارا دِن کام کرنا پڑتا تھا جس کے سبب اُس کا بدن تھکاوٹ سے چور ہوجاتا تھا۔ تبھی وہ کھانا کھاتے ہی چارپائی سے چمٹ جاتا تھا۔ بانو بھی خاموشی چاہتی تھی۔ خموشی میں ہی اُس کی تصوراتی دُنیا آباد ہوسکتی تھی۔ ایسے میں بالی کے فون کا بزر بج اُٹھا۔ بالی نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے فون اٹینڈ کرنے کا حکم دیا۔ اُس نے فون اُٹھایا۔ اسکرین پر نگاہ پڑتے ہی لبوں پر مسکراہٹ تیر گئی۔ کال ریسیو کرتے ہوئے بولی ۔ ’ ’کوئی فضول بات مت کرنا۔ میں مذاق کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں۔‘‘
عینی کی چلبلاتی آواز سماعت میں اُتری۔ ’ ’ہتھیلی پر سرسوں جمتی دیکھی ہے تم نے کبھی مائی ڈیئر؟‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’افوہ! تم جیسی بے وقوف لڑکی کو سب کچھ سمجھانا پڑتا ہے۔ تم دِن میں مجھ سے مل کر گئی ہو، رات تمھارے بغیر کاٹنی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ تمھیں اپنی ہتھیلی پر جمی ہوئی سرسوں دکھانے اور تمھارا پیارا پیارا چہرہ دیکھنے کے لیے حاضر ہونا چاہتی ہوں۔ ملکہ عالیہ کی اجازت درکار ہے۔‘‘
وہ ایک ذرا گھبرا کر اُٹھ بیٹھی۔ بولی ۔ ’’نہیں نہیں۔ اِس وقت نہیں۔ صبح کالج میں مل لینا۔‘‘
’’صبح چھٹی ہے۔‘‘ عینی نے جلدی سے کہا۔
’’پرسوں سہی…‘‘
’’نہیں۔ اَبھی اور اِسی وقت آنا چاہتی ہوں۔ کیا تمھیں میرا آنا اچھا نہیں لگتا؟‘‘
’’کافی وقت ہوگیا ہے۔ اندھیرا بھی ہے۔ تم صبح آجانا۔‘‘ وہ عینی کی آمد پر پریشان ہوجاتی تھی۔ اپنی کم مائیگی کا احساس اُسے ستانے لگتا تھا۔
فون میں عینی کی جلترنگ بج اُٹھی۔ بولی ۔ ’ ’ہم تمھارے گھر کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ جی چاہے تو اندر بلالو، جی چاہے تو نامراد واپس بھیج دو۔‘‘
’’سچ؟‘‘ وہ بوکھلا گئی۔ بالی بھی اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ اشارے سے پوچھنے لگا کہ وہ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہے۔ وہ جلدی سے چارپائی سے اُتری اور فون ہاتھ میں تھامے بیرونی دروازے کی طرف لپکی۔ بالی بھی اُس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ دروازہ کھولا تو عینی کو عین سامنے کھڑے پایا۔ اُس کے عقب میں عینی کے پاپا اور ماما بھی کھڑے تھے۔ وہ حیرت سے گنگ رہ گئے۔ عینی شوخی سے بولی۔ ’ ’کیا اندر آنے کی اجازت نہیں دوگی؟‘‘
وہ جلدی سے دروازے پر سے ہٹ کر راستہ دیتے ہوئے بولی ۔ ’ ’آ… آجائیں پلیز… السلام علیکم انکل جی!‘‘
تینوں گھر میں داخل ہوئے۔ انکل اور آنٹی نے باری باری دونوں کے سروں پر شفقت بھرے ہاتھ رکھے اور کمرے میں آگئے۔ بانو چاے بنانے کے خیال سے چولھے کی طرف گئی مگر عینی نے پکڑ کر ماما کے پاس بیٹھا دیا۔ بولی ۔ ’ ’چاے بعد میں پئیں گے، پہلے جی بھر کر دیکھنے تو دو۔ سچ! آج تو دیکھے بنا نیند ہی نہیں آرہی تھی۔‘‘
وہ سراسیمہ نگاہوں سے باری باری تینوں کو دیکھ رہی تھی۔ بالی بھاگ کر گیا اور بوتلیں پکڑ لایا۔ سرو کرتے ہوئے اُس کے ہاتھوں کا ارتعاش صاف دکھائی دے رہا تھا۔ تبادلۂ احوال کے بعد ماما نے بانو کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا، پیار کیا اور بالی کو مخاطب کرکے کہا ۔ ’ ’بیٹا! جیسے تم کسی ماں کے بیٹے ہو، ایسے ہی شہزاد میرا بیٹا ہے۔ عینی کو تم نے دیکھ رکھا ہے، چاہو تو شہزاد کو بھی دیکھ سکتے ہو۔ میں تمھارے گھر میں جھولی پھیلائے اِس پیاری سی بیٹی کو مانگنے آئی ہوں۔ اپنے گھر کا چاند میرے آنگن میں اُتار دو۔ زندگی بھر تمھارا احسان نہیں بھولوں گی۔‘‘
بالی اَن پڑھ شخص تھا۔ بہ مشکل ماما کی بات کو سمجھ پایا۔ ہونقوں کی طرح دیکھتے ہوئے سوچنے لگا ۔ ’ ’کہیں ان کی بات کا مطلب کچھ اور ہو۔ وہ نہ ہو،جو میں سمجھ بیٹھا ہوں۔‘‘
انکل نے اُس کی مشکل کو بھانپتے ہوئے رَسان سے اپنا مدعا بیان کیا۔ بالی نے چونک کر بانو کو دیکھا جو سر جھکائے ناخنوں سے کھیل رہی تھی۔ اُس کا آدھا چہرہ دکھائی دے رہا تھا جو کھلے الفاظ میں بالی کو بتلا رہا تھا کہ آنے والے اُس کے دوپٹے کا کونا پکڑ کر ہی اِس اندھیرے کمرے تک پہنچے ہیں۔ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ شہزاد کا چہرہ نظروں میں گھل گیا۔ ساتھ ہی شاہ سائیں کی دعا اور بتلائی ہوئی نشانیاں گرہ بہ گرہ کھلنے لگیں۔ شاہ سائیں نے بتلایا تھا کہ اُس کی بہن کا ہاتھ تھامنے کے لیے بھکاری بن کر آنے والا شکل وصورت میں یکتا ہوگا۔ پُرکشش ہوگا۔ صبر اور محبت سے معمور وجود ہوگا۔ بے انتہاء دولت کا مالک ہوگا اور سب سے بڑی نشانی یہ بتلائی تھی شاہ سائیں نے کہ وہ اُس کی بہن کی غربت کو نہیں دیکھے گا بلکہ صدقِ دل سے،جی جان سے محبت کرے گا۔ شاہ سائیں کا بھیجا ہوا شخص آن پہنچا تھا۔ دل میں اندیشہ سرسرانے لگا ۔ ’ ’کہیں پہلے کی طرح بانو اکڑ نہ جائے!‘‘
ماما نے جلدی سے پوچھا۔ ’’کیا بات ہے بیٹا؟ کس سوچ میں پڑ گئے ہو؟ اگر تمھیں سوچنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے تو بلا جھجک کہہ دو، ہم انتظار کر لیں گے۔ ہاںمگر انکار نہیں کرنا ورنہ ہم سب کا دل ٹوٹ جائے گا۔‘‘
بالی نے ایک نظر بانو کو دیکھا۔ ایسے ہی وقت میں بانو کا سر اُٹھا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ عمر بھر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ ایک دوسرے کی کہی اور اَن کہی سن رکھی تھیں۔ بالی نے آنکھیں چُرا لیں۔ بولا ۔ ’’مجھے فیصلہ کرنے کے لیے چند دِنوں کی مہلت دیجئے۔ آپ بھی سوچ لیں کہ ہم دونوں بہن بھائی محض اتنی ہی بساط رکھتے ہیں جتنی آپ کو دکھائی دے رہی ہے۔ اِس سے آگے یا پیچھے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ نہ ہو کہ کل کلاں میری بہن کو آپ خوشی کی بجائے دکھ دینے والے طعنے دینے لگیں۔‘‘
ماما کا چہرہ بجھ گیا۔ اُٹھ کر بالی کے پاس آگئی۔ سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے بولی۔ ’ ’جو تم کہنا چاہتے ہو، میں سمجھ رہی ہوں۔ سمجھا رہی ہوں کہ میں اور تمھارے انکل سوچ سمجھ کر یہاں آئے ہیں۔ ہمیں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم امیر ہو یاغریب، اَن پڑھ ہو یا بہت زیادہ تعلیم یافتہ… ہم بانو کے دیوانے ہیں۔ اِسے اپنی بہو بنا کر یہاں سے لے جانے کے ارادے سے آئے ہیں۔ میں وعدہ کرتی ہو کہ تمھاری بہن پر زندگی بھر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ آئی بھی تو پہلے مجھ پر آئے گی۔میرے دونوں بچے امیر زادے ضرور ہیں مگر میں نے اِن کی تربیت اس انداز سے کی ہے کہ یہ انسان کو اہمیت دیتے ہیں، رُپے پیسے کو نہیں…‘‘
عینی نے بانو کا ہاتھ پکڑا اور صحن میں لے آئی۔ ایک گوشے میں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی ۔ شرارت بھری نظروں سے اُسے سر تا پا ٹٹولنے لگی۔ وہ جھینپ کر بولی۔ ’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’لوگ بکری گائے خریدنے کے لیے منڈی میں جاتے ہیں تو ٹٹول ٹٹول کر چیک کرتے ہیں۔ دانت، سینگ، دُم … ہر چیز پر بحث کرتے ہیں۔ میں تو پھر ایک انسان کو محبت کے داموں خریدنے کے لیے نکلی ہوں۔ اچھی طرح ٹھونک بجا کر دیکھوں گی، تب خریدوں گی۔‘‘
وہ ایڑیوں پر گھوم کر قریب ہو آئی ۔ ’ ’جی بھر کر دیکھ لو۔ کہیں تمھارے بھیا کو کل مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘
وہ چھیڑنے لگی۔ جوانی کے پُراسرار بدن پر گدگدی ہونے لگی۔ پَرے ہٹ کر بولی۔ ’ ’تم تو بالکل بے حیا ہوجاتی ہو۔‘‘
’’اور تم ایسے سرخ ہوجاتی ہو جیسے میں عینی نہیں، شہزاد ہوں۔‘‘عینی نے اُس کا گل گوں چہرہ ہاتھوں میں بھر لیا۔ آنکھوں کو جھپکائے بغیر اُس پر مرکوز رکھتے ہوئے بولی ۔ ’’بانو! نصیب کا کھیل دیکھنے کا ہوتا ہے۔ میں بوائے فرینڈز پر یقین رکھنے والی لڑکی ہوں، مجھے گرلز فرینڈز کا استعمال شدہ ٹشو پیپر ملے گا۔ تم نے ایک پر نچھاور ہونے کا تہیہ دل سے باندھ کر رکھا تھا، دیکھ لو! تمھیں اَن چھوا ساتھی مل گیا ہے۔ سچ بانو! سبھی کہتے ہیں کہ محبت بانٹنے کی چیز ہوتی ہے۔ بانٹنے سے کم نہیں ہوتی۔ شاید ٹھیک کہتے ہوں گے مگر میں نے دیکھا ہے کہ بانٹنے سے کم ہویا نہ ہو، بے وقعت اور ناآسودہ ضرور ہوجاتی ہے۔ مجھے کوئی من چاہا بوائے فرینڈ چھوتا ہے تو مجھے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ تمھیں میں ہی چھو لوں تو تمھارے چہرے کا رَنگ بدل جاتا ہے۔ ہائے! جان ودِل فدا اس لرزش پر جوتمھارے ہاتھوں میں عود کر آتی ہے، ہائے! چشم وظرف فدا اس گلابی عکس پر جو شہزاد کا نام سنتے ہی تمھارے گالوں پر پھوٹ پڑتا ہے اور ہائے…‘‘
’’اَب اپنی بکواس بند بھی کردو عینی!‘‘وہ اپنے دونوں ہاتھ اُس کے سینے پر رکھ کر دھکا دیتے ہوئے بولی۔ وہ دیوار سے پشت ٹکائے کھڑی تھی۔ دھکیلی نہ گئی تو خود بے قابو ہوگئی۔ عینی نے اُسے بانہوں میں جکڑ کر اتنی شدّت سے بھینچ ڈالا کہ اُس کی سانس پسلیوں میں ہی چکرانے لگی۔ دل زورسے دھڑکنے لگا اور دھڑکن اپنے محبوب کا نام محبت کے راگ میں الاپنے لگی۔ اُس نے بے دم ہو کر ہار مان لی اور فرطِ جذبات سے رو پڑی۔ ایسے میں اُس کاپورا وجود گنگنانے لگا ۔’’تو میرے بغیر نہ رہ سکا تو،کب تیرے بغیر جی سکی میں…آتی رہے اَب کہیں سے آواز،اَب تیرے پاس آگئی میں…
ایسے ہی وقت میں اُس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا کسی کام سے کمرے سے باہر نکلا۔ دونوں کو دیوار کے ساتھ اِس حالت میں دیکھ کر بھونچکا رہ گیا۔ قریب آکر کھنکارا۔ دونوں اُس کی موجودگی کو بھانپ کر ہڑبڑا کر الگ ہوگئیں۔ بانو نے ایک کندھا چھوڑا، دوسرا تھام لیا۔ بالی اُس کے بالوں میں اپنی فولادی انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا بانو! میری جان! تجھے خود سے جدا کرنا ایسے ہی لگتا ہے جیسے میں اپنی زندگی کو الوداع کہنے چلا ہوں مگر مجھے ایک خوشی ہے کہ میں نے تمھارے مستقبل کی جو تصویر اپنی آنکھوں میں سجا رکھی تھی، وہ قسمت نے حقیقی منظر بنا کر سامنے رکھ دی ہے۔ مجھے اَب فیصلہ کرنے کے لیے مہلت کی ضرورت نہیں۔‘‘
بانو کو عینی کے سپرد کرکے وہ ماما اور پاپا کے پاس چلا گیا۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا ۔ ’’ماما! آپ جب چاہیں، آکر اپنی بیٹی کی انگلی میں انگوٹھی ڈال سکتی ہیں البتہ میں چاہوں گا کہ بانو کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد اُس کی شادی کی جائے۔‘‘
ماما اور پاپا کواس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اُتر کر پھیلتی رات کا اکلوتا سورج مقدر نے بانو کی بند گداز مٹھی میں دے دیا تھا۔آنے والے چند دنوں میں مٹھی کی ایک مخروطی انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی چمکنے والی تھی۔ پہنانے والے کی شکل اَبھی سے تصور کی آنکھ کو خیرہ کئے جارہی تھی۔
٭ذ٭
بالی نے سوچا تھا کہ منگنی کے بعد مٹھائی اوراصلی بوسکی کے سوٹ کا نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے لیے شاہ سائیں کے آستانے پر حاضری دے گا۔ مُرادوں والے دِن یعنی جمعرات کو وہ اپنے شوق کو شاہ سائیں کے قدموں میں رکھنے کے لیے آستانے پر حاضر ہوگیا۔ سر جھکا کر اَدب سے بولا ۔ ’’شاہ جی! آپ مجھ پر مہربان کیا ہوئے، خدا مجھ پر راضی ہوگیا۔ سچ کہتے ہیں، اللہ والوں کی آنکھ کی جنبش تقدیر کو بدل دیتی ہے۔ میری تقدیر بدلنے والے آپ ہیں اور میں اپنے آپ کو آپ کی غلامی میں دینے کے لیے حاضر ہوگیا ہوں۔‘‘
’’کیا بات ہے اقبال حسین؟ بڑے خوش دکھائی دیتے ہو، کہیں لاٹری تو نہیں نکل آئی۔‘‘ شاہ سائیں نے تعجب سے پوچھا۔
’’ایسا ہی سمجھیں سائیں جی!‘‘ بالی نے شاہ سائیں کے پیروں پر ہاتھ رکھ دیے۔ ہاتھوں پر آنکھیں بچھا دیں۔’’میری بہن کے لیے بہت امیر آدمی کا رشتہ آیا ہے جی۔ وہی آدمی تھا جو مجھے تین لاکھ رُپے کا چیک دینے کے لیے دکان پر آیا تھا مگر بانو کی بے جا ضد کی وجہ سے سارا کام کھٹائی میں پڑ گیا۔ اَب وہ دینے کی بجائے لینے کے لیے دروازے پر پہنچ گیا ہے سائیں جی! آپ بڑے کرموں والے ہیں جی…‘‘
شاہ سائیں کے دیدے پھیل گئے۔ اُسے بالوں سے پکڑ کر اوپر اُٹھاتے ہوئے دانت پیس کر بولا ۔ ’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’میں سچ کہہ رہا ہوں جی!‘‘
’’کون تمھارے دروازے پر آیا تھا؟‘‘ اُس کے پُرنور چہرے پر عجیب سے تاثرات اَبھر آئے ۔ ’’مجھے تفصیل سے بتائو، تم کون سی حماقت کر آئے ہوبے وقوف انسان؟‘‘
بالی شروع ہوگیا۔ جوں جوں بولتا جاتا تھا، سائیں کا چہرہ فرطِ اشتعال سے سرخ ہوتا جاتا تھا۔ بالی سمجھ رہا تھا کہ سائیں جلال میں آتا جارہا ہے۔ یہ دیکھ کر اُس کی آواز میں لحظہ بہ لحظہ جوش بھرتا جاتا تھا۔ بات مکمل کرنے پر سائیں کو دیکھا۔ وہ پوری طرح جلال میں آچکا تھا۔ ہاتھ اُٹھا کر، جبڑے بھینچ کر تیز لہجے میں کہہ رہا تھا ۔ ’’تم نے بہت غلط کیا بالی، بہت غلط کیا۔ تمھارے پاس آنے والا دھوکے باز ہے، وہی شیطان ہے جس نے تمھاری بہن کو اپنے بھیانک پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔ تم نے اپنی بہن اُسی شیطان کے حوالے کردی۔ یہ تم نے کیا کردیا اقبال حسین… اَبھی جائو اور یہ منگنی توڑنے کا اعلان کردو۔ اُن کا سامان واپس کردو۔ یہ شادی تم دونوں کے لیے تباہی کا مؤجب بن جائے گی۔ ہائے ہائے… تم نے میری بتلائی ہوئی نشانیوں کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ورنہ اتنا بڑا دھوکا نہ کھاتے۔ اَب دفع ہوجائو اور اگلی جمعرات کو میرے پاس آنا۔ تب تک منگنی توڑنے کے تمام تر امور سرانجام دے لینا۔‘‘
بالی ہونقوں کی طرح سائیں جی کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ اپنی سادہ لوحی کے سبب یہ سوچ کر گھبرا گیا تھا کہ اُس نے اپنی بہن کی زندگی اپنے ہاتھوں سے تباہ کر دی ہے۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کراُٹھتے ہوئے لرزتی ہوئی آواز میں بولا ۔ ’’سائیں جی! میں انسان ہوں، انسان خطا کا پتلا ہوتا ہے جی… میری غلطی پرپردہ ڈال کر میری بہن کی زندگی کو بچا لیں۔ وہ مجھے بہت پیاری ہے۔ مجھ سے تو اُس کے چار آنسو بھی دیکھے نہیں جاتے۔‘‘
سائیں نے دونوں ہاتھ ہوا میں لہرائے۔ کچھ پڑھ کر پھونک ماری اور پھنکتے ہوئے لہجے میںبولا ۔ ’’اَب دفعان ہوجائو یہاں سے اور جو کہا ہے، وہ کرنے کے بعد ہی یہاں قدم رکھنا ورنہ اپنے نقصان کے تم خود ہی ذمہ دار ہوگے۔میں نے تم جیسا بے وقوف انسان زندگی بھر نہیں دیکھا۔‘‘
آستانے سے نکل کر جھکے کندھوں والا بالی بھی شاہ سائیں کی اِس بات سے متفق تھا اور خود کو نِرا الو کاپٹھا قرار دے رہا تھا۔ سائیکل پر ڈھیلے پیروں کے ساتھ پیڈل مارتے ہوئے وہ سوچتا جاتا تھا ۔ ’’شہزادجیسا مہذب انسان کیسے شیطان بن سکتا ہے؟ وہ اتنا امیر اور سخی آدمی ہے۔ بانو کی کلاس فیلو کا بھائی ہے۔ ہاہ! شیطان کیسی کیسی شکلیں اپنا لیتا ہے۔ شاہ سائیں نہ بتلاتے تو میں اپنے ہاتھوں اپنی لٹیا ڈبو چکا ہوتا۔ سچ کہتے ہیں، بن مُرشد کے زندگی، زندگی نہیں ہوتی، شرمندگی ہوتی ہے اور شرمندگی سر جھکادیتی ہے۔ میرا سر بھی مُرشد کے سامنے جھک گیا ہے۔‘‘
گھر پہنچ کر دیکھا کہ بانو کا سر بھی جھکا ہوا تھا۔ مگر اُس کا سر کسی ندامت کے بار تلے دَب کر نہیں جھکا تھا بلکہ اپنی انگلی میں پہنی ہوئی خیرہ کن انگوٹھی پر جھکا ہوا تھا۔ بالی اُس کے پاس بیٹھ کر اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے الفاظ مجتمع کرنے لگا۔ وہ آنکھ اٹھائے بغیر مستفسر ہوئی۔ ’’کیا بات ہے بالی؟‘‘
وہ ایک ذرا جھجک کر بولا۔ ’’کیا تم مجھ پر اور میری محبت پر یقین رکھتی ہو؟‘‘
وہ چونک کر اُسے دیکھنے لگی ۔ ’’خدا کے بعد تمھاری ذات پر ہی تو یقین ہے مجھے مگر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
’’مجھے پتہ چلا ہے کہ شہزاد اچھا آدمی نہیں ہے۔ وہ بظاہر انسان ہے، بہ باطن شیطان ہے۔ تمھیں عذاب میں مبتلا کردے گا۔ تم دُکھی ہوگی تو میں بھی زندگی بھر خوشی نہیں منا سکوں گا۔‘‘ بالی نے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔ ’’مجھ پر یقین کرتی ہو تو میرے کہے پر بھی یقین کرلو بانو… ہمیں بہت بڑا دھوکا دیا جارہا ہے۔‘‘
بانو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی۔ یہ اُس نے کیا کہہ دیا تھا؟ پُرتشویش لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’ناممکن! قطعی ناممکن ہے بالی کہ شہزاد یا عینی مجھے دھوکا دینا چاہتے ہوں۔ وہ ہمیں دھوکا دے کر کیا حاصل کرسکتے ہیں؟ کچھ بھی تو نہیں۔ہمارے پاس گنوانے کے لیے رکھا بھی کیا ہے۔ تم بتلائو، تمھیں یہ باتیں کس نے کہی ہیں؟‘‘
وہ غصہ آمیز لہجے میں بولا ۔ ’’کیا تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟‘‘
’’تم پر ہے، تمھیں بہکانے والے پر نہیں ہے۔‘‘
ہوش میں ہوتا تو لب سیے رکھتا مگروہ جوش میں تھا۔ بغیر سوچے کہہ گیا۔ ’’مجھے شاہ سائیں نے بتلایا ہے۔ اَب بتائو، کیا وہ جھوٹ بول سکتے ہیں؟‘‘
بانو بھڑک کر کھڑی ہوگئی۔ شعلہ بار نگاہوں سے بالی کو گھورتے ہوئے چلائی ۔ ’’وہ کون ہوتا ہے ہمارے معاملات میں دَخل دینے والا؟ میں نے تمھیں اُس کے پاس جانے سے منع کر رکھا تھا مگر تم پھر بھی اُس کے پاس چلے گئے۔ اوہ مائی گاڈ! تم سمجھتے کیوں نہیں ہو بالی؟ شیطان شہزاد نہیں ہے، سائیں ہے جو تمھیں الٹے سیدھے مشورے دیتا رہتا ہے۔‘‘
’’بیوقوف لڑکی! خود سمجھنے کی بجائے مجھے سمجھانے لگتی ہو۔ میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتی ہو کہ شاہ سائیں کی دُعا کے طفیل ہی شہزادکے والدین تمھارا رشتہ مانگنے کے لیے یہاں آئے تھے۔ سائیں جی نے سختی سے حکم دیا ہے کہ میں فی الفور منگنی ختم کردوں۔ مجھے اُن کا حکم ماننا پڑے گا۔ نہیں مانوں گا تو اپنے ساتھ تمھیں بھی لے ڈوبوں گا۔‘‘ بالی نے جھنجلائے ہوئے انداز میں اُسے قائل کرنے کی کوشش کی ۔ ’’ویسے بھی سائیں جی کو ہماری ذات سے کوئی لالچ نہیں ہے۔ اُن کی نظریں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہیں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شادی کبھی پنپ نہیں سکے گی۔ وہ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے ناں!‘‘
بانو نے شاہ سائیں کو دیکھا تھا۔ شہزاد کو بھی دیکھ رکھا تھا۔ دونوں چہرے یکبارگی سے نگاہوں میں جھلملاگئے۔ اپنا اپنا مقدمہ پیش کر گئے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا سر بھینچ کر پوری قوت سے چلائی۔
’’بالی! میں نے شہزاد کے نام کی تختی اپنے ماتھے پر لگا لی ہے۔ جب تک میں رہوں گی، یہ نیم پلیٹ بھی لگی رہے گی۔ میں کسی عامل کو نہیں جانتی۔ میں کسی مُرشد کو نہیں مانتی۔ تم مانتے ہو، مانتے رہو اور اپنی زندگی کے فیصلے اُس سے کرواتے رہو۔ شہزاد جیسا بھی ہے، میں قبول کرچکی ہوں۔ میں اُن لوگوں کو جانتی ہوں، تم نہیں جانتے ہو اور نہ ہی تمھارا سائیں جی جانتا ہے۔ مجھے اُس کی بکواس پر یقین نہیں ہے۔‘‘
بالی نے اُسے تھام لیا۔ منت سماجت کرنے لگا۔ وہ نہ مانی تو خفگی سے سمجھانے لگا۔ وہ ہم خیال نہیںہوئی تو منہ بنا کر پَرے بیٹھ رہا۔ اُس کے ذہن میں رہ رہ کر سائیں جی کی باتیں چکرارہی تھی۔ اپنی بے بسی اور بانو کی حماقت رَوی پر جھنجلانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اُس کی ذہنی سکت جواب دے گئی اور وہ سپر ڈال کر دُکان پر چلا گیا۔
دُکان پر شہزاد اُس کا منتظر تھا۔ اُسے دیکھ کر بالی کا ماتھا ٹھنکا۔ دماغ نے فوراً دور رہنے کی تلقین کردی۔ وہ فطرتاً بداخلاق نہیں تھا۔ اُس سے یہ ممکن نہ تھا کہ شہزاد سے بدتمیزی کرتا۔ مجبوراً خوش انداز سے ملا۔ شہزاد نے کہا ۔ ’’بالی! تمھاری بہن نے اپنی ورکشاپ کے منصوبے کو بلا جواز غارت کردیا تھا۔ میں نے اُستاد عبدالرحمن والی ورکشاپ تمام مشینری اور آلات سمیت خرید لی ہے۔ میرے ساتھ چلو اور دُکان اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق سنبھال لو۔ دیکھو! ضد اور حماقت نہ کرنا۔ جیسا کہتا جائوں، کرتے جائو۔‘‘
ایک ہی وقت میں بالی کے اندر خواب کی تکمیل کی خوشی اور بانو کی ناراضی کا خوف پَرا جما کر بیٹھ گیا۔ وہ خالی الذہنی کی کیفیت میں شہزاد کو دیکھنے لگا۔ اُس کے ہچکچاہٹ آمیز رویے کو بھانپ کر شہزاد نے ہاتھ تھاما اور تقریباً کھینچتا ہوا آٹو مارکیٹ کے دوسرے سرے تک چلا گیا جہاں اُستاد عبدالرحمن کی نوقائم شدہ ورکشاپ موجود تھی۔ ورکشاپ میں ویلڈنگ پلانٹ پر اپنا داہناں پائوں رکھ کر کھڑا ہوگیا اور مسکراتے ہوئے بولا ۔ ’’لے بھئی اُستاد بالی! یہ ورکشاپ اَب تمھاری ہے۔ اُستاد عبدالرحمن کو اِس کی قیمت ادا کردی گئی ہے۔ تم سامان پورا کرلو۔ یہ رہی فہرست۔‘‘
بالی نے کانپتے ہاتھوں سے فوٹو اسٹیٹ پیپر تھاما جس پر سامان کی تفصیل درج تھی۔ استاد عبدالرحمن کا ایک کاریگر فہرست پڑھتا جاتا تھا، بالی نہ چاہتے ہوئے بھی آلات سنبھالتا جاتا تھا۔ چند ہی منٹوں میں اُس کی مزاحمت دَم توڑ گئی تھی۔ کھوئے کھوئے انداز میں اس نے تمام سامان چیک کیا۔ آلات دیکھے۔ مشینیں چلا کر دیکھیں اور مطمئن انداز میں سر ہلا کر استاد عبدالرحمن کو فارغ کردیا۔ ورکشاپ سے نکلتے ہوئے اُس نے ہاتھ لہرا کر کہا ۔ ’’اُستاد بالی! تجھے تیری ورکشاپ مبارک ہو۔ اَگر کوئی پریشانی ہوتو مجھ سے رابطہ کرلینا۔جب تک میں اپنی ورکشاپ نہیں بنا لیتا، شاگرد اور کاریگر یہیں کام کریں گے۔اِس دوران میں تم اپنے بندوں کا بندوبست کرلینا۔ خداحافظ! ‘‘
بالی کو اپنی ورکشاپ کی خوشی میں بانو اور شاہ سائیں کا دھیان تک نہیں رہا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے شہزاد کو دیکھتے ہوئے بولا ۔ ’’بابو جی! کیا یہ مناسب ہوگا؟ بانو کو پتہ چلا تو وہ کھانا پینا بند کردے گی اور جب تک میں اس کی بات نہیں مانوں گا، کچھ بھی نہیں کھائے گی۔‘‘
’’تم اُس کی فکر نہ کرو، اپنے کام کی فکر کرو۔ میں اُسے منا لوں گا۔‘‘ شہزاد نے پورے وثوق سے کہا۔
اُس نے اپنے پرس سے چند بڑے نوٹ نکالے اور سیاہ کائونٹر پر رکھتے ہوئے کہا ۔ ’’کام چلانے کے لیے تمھیں کچھ رقم کی ضرورت بھی ہوگی۔ یہ رکھ لو۔ اور ہاں… آٹو مارکیٹ والے مٹھائی وغیرہ کا تقاضا کررہے تھے۔ اُن کا منہ میٹھا کردینا۔اَب میں چلتا ہوں۔ کوئی پریشانی ہو تو مجھے فون کردینا۔ میرانمبر اپنے موبائل میں فیڈ کرلو۔‘‘
اُس نے نمبر بتلایا۔ مبارک باد دی اور دُکان سے نکل گیا۔ بالی خواہش کے باوجود اُسے روک نہ پایا۔ ایک ایک کرکے ورکشاپئے اُس کی دُکان میں جمع ہونے لگے۔ مٹھائی کے مول مبارک بادبیچنے کے لیے بالی کے سر ہوگئے۔ اِسی مجمع میں اُسے اپنا نائیک بھی دکھائی دیا۔ وہ اگر خوش نہیں تھا تو دُکھی بھی نہیں تھا۔ فاصلے پر کھڑے رہ کر ہاتھ لہرا کر بولا ۔ ’’واہ استاد! چھپا رُستم نکلا تو۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ تو اتنا بڑا ہاتھ مارے گااور ایک ہی جست میں دریا پار کر ڈالے گا۔ ہم بدقسمتوں کی تو ساری عمر دو چار پرانی مشینیں خریدنے میں گزر گئی۔ تمھیں ایک دِن میں بادشاہی مل گئی۔ مبارک ہو، جی جان سے مبارک ہو بالی اُستاد!‘‘
نصف گھنٹے بعد دکان کے سامنے کرایہ پر لائے گئے آہنی چولھے پر دیگ چڑھا دی گئی۔ حمام والے کے بڑے سے چمچے کے دیگ سے ٹکرانے کی آواز نے بالی کو متوجہ کیا۔ اُس نے سیاہ دھوئیں میں لپٹی دیگ کودیکھا، دھوئیں کے تعاقب میں آسمان کی طرف دیکھا پھر اپنے کھلے ہاتھوں کی میل زدہ لکیروں کو دیکھا۔ لکیریں خاموش تھیں۔ ویسی ہی تھیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں مگر اُس کے حالات بدل گئے تھے۔ اُس کے دونوں خواب پورے ہوگئے تھے۔ ورکشاپ اور بانو کا مستقبل سنہری لکیر بن کر ہتھیلیوں پر چمک رہا تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی خوشی انسان کو بڑے حادثے کی تڑپ سے نکال دیتی ہے۔ وہ شاہ سائیں کے فرمان کو بھول کر خوش آئند بھول بھلیوں میں سرگرداں ہوگیا۔
اُس نے بانو سے ورکشاپ کا معاملہ چھپانے کا فیصلہ کرلیا ۔ آ ج تک کچھ چھپایا نہیں تھا۔ دِل چور بنا ہوا تھا۔ شاید اِس سے پہلے اُن دونوں کی زندگی میں ایک دوسرے سے چھپانے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔کہتے ہیں کہ جام ہاتھ میں ہو تو پارسائی کی حیثیت کا تعین کیا جاسکتا ہے، پیمانہ دسترس سے باہر ہو تو پرہیز کیا، اکتفا کیا اور انکار کیا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ شہزاد اُس کو نئی دکان میں بیٹھا کر پرانے گھر کے دروازے پر دستک کناں ہوا تھا۔ بانو نے دروازہ کھولا۔ شہزاد کو دیکھا تو بھیگی آنکھیں ٹھہر کر مستفسر ہوگئیں۔ پوچھنے لگیں ۔ ’’اے دِل میں بغیر دستک آجانے والے! گھر کے دروازے تک کیوں کر پہنچ گئے ہو؟‘‘
وہ گلی میں ارد گرد دیکھ کر آہستہ سے بولا ۔ ’’کیا مجھے اندر آنے کی اجازت دو گی؟‘‘
’’وہ…وہ دراصل بالی گھر پر نہیں ہے۔‘‘ وہ پریشان ہوگئی۔
’’میں بالی سے نہیں، تم سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔‘‘ وہ اُس کے چہرے کا طواف کرتے ہوئے بولا ۔ ’’میں جانتا ہوں کہ وہ اِس وقت کام پر ہوتا ہے۔میں چند باتیں کرکے واپس چلا جائوں گا۔ پلیز بانو!‘‘
اس کے لفظوں میں، لہجے میں اور خال وخد میں التجا تھی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے دروازے پر سے ہٹ گئی۔ وہ اندر داخل ہوا۔ ہر قدم جیسے بانو کے دِل پر پڑ رہا تھا۔ لرزتے ہوئے وجود کے ساتھ اُس کے ساتھ کمرے تک آئی۔ کھڑے کھڑے پوچھنے لگی ۔ ’’جی… آپ کچھ کہنا چاہتے تھے۔‘‘
وہ وفورِ شوق سے دیکھتے ہوئے بولا ۔ ’’یوں لگتا ہے جیسے کافی دیر تک روتی رہی ہو، خیر تو ہے؟‘‘
’’نن…نہیں… میں بھلا کیوں روئوں گی۔‘‘ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا ۔ ’’آپ کیا کہنے کے لیے آئے ہیں، کہیں اور پلیز…‘‘
’’چلے جائیں…‘‘ وہ لطف لیتے ہوئے بولا ۔ ’’میں تمھاری پرابلم سمجھتا ہوں۔ فکر نہ کرو، ہم دونوں منگیتر ہیں، کوئی اجنبی نہیں کہ تم پر کوئی انگلی اُٹھائے گا۔ میں یہ درخواست کرنے کے لیے آیا تھا کہ میں نے تمھارے بھائی کو ایک ورکشاپ خرید کر دے دی ہے۔ وہ تمھاری خفگی پر گھبرا رہا تھا۔ میں نے تسلی دی کہ میں بانو کو منا لوں گا۔ میرا بھرم رکھنا اور اُس سے لڑائی جھگڑا نہ کرنا۔‘‘
وہ بھونچکی رہ گئی۔ اسے اپنی آواز بھی شایداجنبی لگی تھی ۔ ’’مگر آپ نے وہ کام کیوں کیا جو مجھے سخت ناگوار گزررہا ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں انسان نہیں، کوئی جنس ہوں جس کا سودا کیا گیا ہے۔‘‘
وہ قریب آگیا۔ دونوں ہاتھ شانوں پر رکھ کر دل فریب انداز میں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ وہ جھینپ کر سمٹ گئی مگر سمجھانے والے کی اَن کہی باتیں سیدھی دِل میں اُترتی گئیں۔ وہ مَرد کے پہلے لمس سے آشنا ہورہی تھی۔ زندگی کی پہلی رعنائی کو قریب سے دیکھ رہی تھی۔ شہزاد دیکھ رہا تھا کہ وہ مان تو گئی ہے، دل سے نہیں مان رہی۔ ہاتھوں کے پیالے میں اُجلے خال وخد سمیٹ کر اپنے وارفتہ ہونٹوں کو پیشانی پر ثبت کرتے ہوئے جذبات گیں آواز میں بولا ۔ ’’تیرے بنا جو عمر بتائی بیت گئی، اَب اِس عمر کا باقی حصہ تیرے نام…بانو! میری دسترس میں جو کچھ ہے، تمھارا ہے۔ تم سے وابستہ ہر سانس، زندگی کی ہر سانجھی ساعت میری ہے۔ میں نے تمھارے بھائی کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ خود کو مطمئن کرنے کے لیے یہ قدم اُٹھایا ہے۔ ہاں! دل نہیں مانتا تو اِسے اُدھار سمجھ لو۔ میرے پاس ہمیشہ کے لیے آنا اور لحظہ لحظہ بانٹ کر قرض لوٹا دینا۔‘‘
ہاتھوں کے لمس سے گال انگارہ ہوگئے۔ ہونٹوں نے پیشانی کو دہکا دیا۔ قربت کے پہلے احساس نے بدن کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ بہ دقّت تمام کھڑی تھی۔ پھر ہولے سے پیچھے ہٹ کر ہاتھوں سے پھسل گئی۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر، آنکھیں موند کر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ وہ دزدیدہ نگاہوںسے دیکھتا ہوا دروازے میں آگیا۔ پیچھے پلٹ کر دیکھے بغیر بولا ۔ ’’جانے کو جی نہیں چاہتا مگر تجھے اپنے پاس بلانے کے لیے جارہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ تم بالی کے سامنے میرا بھرم رکھوگی اور اُس سے لڑائی جھگڑا نہیں کرو گی۔ اوکے نائس لیڈی! آئی کیئر ابائوٹ یو … اینڈ گڈبائے!‘‘
اُس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ جانے والا کھلے صحن میں بیرونی دروازے کی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا۔ پھر اوجھل ہوگیا۔ اس کا عکس کمرے میں جا بہ جا تھرکنے لگا۔ کبھی دروازے میں، کبھی چارپائی کے پاس اور کبھی پورے قد کے ساتھ نظروں کے عین سامنے… دل کے عین رُوبرو… وہ باہنیں پھیلائے چارپائی تک آئی، اوندھے منہ گر کر متزلزل تنفس کو ہموار کرنے لگی جو تھمنے کی بجائے لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتا جاتا تھا۔ سینے میں دھڑکتے دل کی آواز پورے کمرے میں سنائی دے رہی تھی۔
ایسے میں لبوں پر بے ربط لہجے کی گنگناہٹ پھسلنے لگی ۔ ’’یہ بے رنگیاں کب تک اے حسنِ رنگین،ادھر آ! تجھے عشق میں چُور کردوں… تمھیں دل میں سمیٹ کر رکھتی تھی۔ تم یوں کھلے عام میری دُنیا میں کیوں چلے آئے؟ کسی نے تمھیں آتے یا جاتے دیکھ لیا اور بالی کو بتلا دیا تو بہت بُرا ہوگا۔ وہ مجھ پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتا ہے، سن کر بدظن ہوجائے گا۔ سمجھانے سے بھی نہیں سمجھے گا بلکہ مجھے گمراہ خیال کرکے نظروں سے گرا دے گا۔تمھیں آنے کی کیا ضرورت تھی میرے دِل میں بسنے والے؟‘‘
بازو پر بے دھیانی کی کیفیت میں گال رکھا۔ چونک گئی۔ سوچ میں پڑ گئی۔ رخسارآگ تھا، بازو گرم تھا کہ وہ پوری کی پوری حدت پکڑچکی تھی۔ سر پر چلتے پنکھے کی ہوا نہ جانے کہاں جارہی تھی کہ بدن کے مسام مسام سے پسینہ پھوٹ پڑا تھا۔ اُسے آنکھیں بند کرکے تصور کی سیج پر شہزاد کو سجانے میں ہی عافیت کا راستہ دکھائی دیا۔ ایسے میں پورا کمرہ ایک ہی فقرے سے گونج اُٹھا ۔ ’’نائس لیڈی! آئی کیئر ابائو ٹ یو…‘‘
کل کاسنا ہواجملہ یاد داشت سے محو ہوتے ہوئے ایک فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پر چھوڑ گیا ۔ ’’آئی ڈونٹ کیئر اینی باڈی…‘‘
خود کوزیرِ دام لا کر کسی کو خریدلینے میں عجب لطف پنہاں ہوتا ہے۔
٭ذ٭
لیتھ مشین کے آہنی پہیے کی چال وہی تھی وہی انداز تھا۔ وہ بڑے پیار سے اپنا کھردرا سیاہ ہاتھ پہیے کے عقبی ملائم حصے پر رکھتے ہوئے سوچ رہا تھا ۔ ’’اللہ والے کی آنکھ کے ایک اشارے نے مجھ پر زندگی آسان کردی ہے۔ شاید عمر بھر میری خواہشیں تشنۂ گام رہتیں، اگر میں آستانے پر حاضر نہ ہوتا۔ شاہ سائیں زندہ باد!‘‘
ایسے میں چند ثانیوں کے لیے ماضی میں جھیلی گئی کٹھنائیاں عکس بن کر آنکھوں کے سامنے لہرائیں پھر خوشیوں کی تاب نہ لا کر دَم توڑ گئیں۔ پھر آنکھ میں کانٹا چبھ گیا۔ شاہ سائیں نے منگنی توڑنے کا سختی سے حکم دیا تھا۔ بانو نے سنتے ہی حکم رَد کردیا۔ سائیں کے کہے کو ٹالنے کی مجال نہ تھی، بانو کو منانا محال تھا۔ سوچ میں پڑ گیا۔ کیا کرے؟ پھر اچانک دل نے انگلی تھمائی اور ایک راستہ کھول دیا ۔ ’’اتنی سامنے کی بات بھی میری عقل میں اَب تک نہیں آسکی۔ میں شام کو آستانے پر جائوں گا اور سائیں جی سے درخواست کروں گا کہ وہ شہزاد کا دل بانو پر سے ہٹا دے۔ اُسے ہماری زندگی سے دور کردے۔جب شہزاد پیچھے ہٹ گیا تو بانو آپوں آپ ہی اُس کا خیال دِل سے نکال دے گی۔‘‘
مطمئن ہوکر اپنا کام کرنے لگا۔ شام کو اس نے اپنی درخواست سائیں جی کے سامنے رکھ دی۔ اُس نے آنکھیں بند کیں، کچھ پڑھا پھر اُس پر پھونکتے ہوئے بولا ۔ ’’عجب مُرید ہو، خود کچھ بھی نہیں کرتے ہواور ہر کام مجھ پر ڈال دیتے ہو۔ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔ کئی حاجت روائوں کو دیکھنا پڑتا ہے مگرخیر! تمھارا ہاتھ چھوڑا نہیں جاسکتا۔ اُس شیطان کا نام پتہ لکھوائو۔ سمجھو، تمھارا یہ کام بھی ہوگیا۔‘‘
وہ خوش ہوگیا۔ خوشی خوشی شہزاد کے بارے میں بتلانے لگا۔ وہ سنتا گیا۔ ہاتھ کے اشارے سے جانے کا حکم دیتے ہوئے بولا ۔ ’’شیطانی طاقتوں پر ہاتھ ڈالنا دل گردے کا کام ہوتا ہے مگر میں تمھارے اور تمھاری بہن کے لیے اوکھلی میں سر ڈال دوں گا۔ اَب جائو اورخیال رکھنا، اُس الٹی کھوپڑی والی لڑکی کو اِس بارے میں کچھ بھی مت کہنا۔‘‘
اُس کی زندگی میں کرامتیں امڈ امڈ کر آرہی تھیں۔ اُسے یقین تھا کہ شاہ سائیں کے اَبرئوں کے اشارے پر دُنیا ادھر کی اُدھر ہوجاتی ہے۔ دل کہتا تھا کہ بانو کے دِل کی دُنیا بھی اپنا رُخ بدل لے گی۔ عمل والے نظر کرتے جاتے ہیں، واقعات اور حالت اتھل پتھل ہوتے جاتے ہیں۔ کرامتوں کے وقوع پذیر ہونے کے ایسے ہی دنوں میں بانو پر حالات کی جزر اُترنے لگی۔
وہ دیکھ رہی تھی کہ گذشتہ چند دِنوں سے شہزاد کے عشق کے والہانہ پن میں بتدریج کمی واقع ہورہی تھی۔ وہ تنہائی میں باتیں کرتے کرتے کھو جاتا۔ عشق کے وارفتہ پن میں برف اُتر آتی۔ وہ کچھ نہ سمجھ پائی۔ چاہنے والا سمجھاتا تو رموز گرہ بہ گرہ کھلتے مگر اُس کے لب سلے ہوئے تھے۔ اُس نے بارہا مرتبہ پوچھا ۔ ’’آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہے؟‘‘
وہ ہر مرتبہ ٹال گیا۔ وہ پریشان نہیں تھا۔ عذابِ آگہی سے نبرد آزما تھا۔ پھر وہ چند دِنوں کے لیے اپنے کسی کاروباری معاملے میں شہر سے باہر چلا گیا۔ ایسے میں وہ عینی کے قریب ہوگئی۔ پوچھا ۔ ’’عینی! شہزاد آج کل پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ پوچھنے پر ٹال جاتے ہیں۔ کیا تم اُن کی پرابلم سے آگاہ ہو؟‘‘
وہ بولی ۔ ’’تم ٹھیک کہتی ہو۔ وہ پریشان ہے ۔ مگر اُس نے مجھے بھی کچھ نہیں بتایا۔ کوئی کاروباری الجھن ہوگی، سلجھ جائے گی۔ پہلے بھی کبھی کبھار ایسے ہی منہ لٹکائے پھرتا تھا۔‘‘
بانو تذبذب کا شکار ہو گئی۔ وہ کیا بتلاتی، جب اچانک اُسے دیکھتے ہوئے شہزاد کی آنکھوں میں بے عنوان درشتی اُتر آتی تھی تو وہ کٹ کر رہ جاتی تھی۔ اُسے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اُس کی ذات میں اچانک کوئی بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا تھا جس پر شہزاد کی نگاہیں گڑ جاتی تھیں۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ بالی نے اُس مُرشد کا پلو تھام رکھا تھا جس کی آنکھ کے اشارے پر انہونیاں روپذیر ہوجاتی تھیں۔
انہونی ، ہونی میں کیا بدلی، بانو کے دِل کی دُنیا ہی بدل گئی۔ شہزاد اپنے کاروباری دورے سے واپس پلٹا تو کئی دِنوں تک اپنے کمرے بند رہا۔ برائے نام کھاتا پیتا، نہ ہونے کے برابر کلام کرتا اور مجبوراً کمرے سے باہر نکلتا۔ عینی ہر روز بانو کو اُس کے پُر حزن معمولات سے آگاہ کرتی۔ وہ اُس سے ملنا چاہتی تھی مگر عینی سمجھا کر روک دیتی ۔ ’’دیکھ بانو! میں نہیں جانتی، وہ کس پریشانی میں مبتلا ہے مگر یہ جانتی ہوں کہ اِس وقت اُسے میرا وجود بھی اچھا نہیں لگتا۔ ماما اور پاپا کو بھی لفٹ نہیں کراتا۔ ایسے میں تم جائو گی تو شاید اُس کے رویے سے دل برداشتہ ہوجائو گی۔ اُسے سنبھلنے دو، پھر اپنے حسن کی بجلیاں بے چارے پر گراتے رہنا۔‘‘
وہ شہزاد کے پاس نہیں گئی۔ وہ چلا آیا۔ پہلے چاند بن کر دل کے آنگن میں اُترتا تھا۔ آج سورج بن کر خاکستر کرنے آیا تھا۔ وہ اکیلی تھی۔ اُس کے چہرے پر نگہ ڈال کر گھبرا گئی کیونکہ اُسے اتنا سنجیدہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ کمرے میں آکر اُس کی طرف پیٹھ کرکے کھڑا ہوگیا۔ شکست خوردہ لہجے میں بولا ۔ ’’بانو! انسان جتنا بھی بااختیار اور شہ زور ہو، تقدیر کے سامنے خود کو ہمیشہ بے بس محسوس کرتا ہے۔ میں دُنیا سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتا ہوں، دُنیا کے ہر عیب پر پردہ ڈالنے کی سکت رکھتا ہوں مگر قسمت کے لکھے کو ٹالنے کی جرأت نہیں رکھتا۔‘‘
وہ سن کھڑی تھی۔ شہزاد کا رویہ اُس کے وجود میں حبس بھرنے لگا تھا۔ قریب آکر لرزتی ہوئی آواز میں بولی ۔ ’’آپ بیٹھ جائیں۔ میں پانی لاتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ آپ کسی بہت بڑی پریشانی میں مبتلا ہیں اور یہ بھی اندازہ کررہی ہوں کہ میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اُس پریشانی سے منسلک ہوں۔‘‘
بانو نے مانگے بغیر پانی کا گلاس اُسے تھما دیا۔ وہ ایک ہی سانس میں گلاس خالی کر گیا۔ کھڑے کھڑے بولا ۔ ’’دو ہفتوں سے اپنے اندر ایک محاذ پر بے سپر لڑتا آرہا ہوں۔ آج ہار گیا ہوں۔ سوچا، تمھیں اپنی فتح میں شامل کیا تھا، آج اپنی شکست میں بھی شامل کردوں۔ بانو! مجھے معاف کردینا، میں تمھارے ساتھ نہیں چل سکتا۔‘‘
لفظ پگھلا ہوا سیسہ بن کر سماعت میں یوں اُترے کہ قوتِ گویائی بھی جاتی رہی۔ پھٹی پھٹی نگاہوں سے بولنے والے کی پشت کو گھورنے لگی۔ وہ کچھ توقف کے بعد بولا ۔ ’’یہ مت سمجھو کہ میں تعلق توڑنے آیا ہوں، میں تعلق کی نوعیت بدلنے کے لیے آیا ہوں۔ ہم شریکِ سفر نہیں بن سکتے تو کیا ہوا، اچھے دوستوں کی طرح تو ایک دوسرے کو سہارا دے سکتے ہیں۔‘‘
وہ بہ دقّت تمام چارپائی تک آئی۔ پائنتی کی جانب گرنے کے انداز میں بیٹھ کر سر تھام لیا اور چکراتے دماغ سے شہزاد کی باتوں کو دہرانے لگی۔ شہزاد اُس کی طرف دیکھنے سے واضح طور پرگریز کررہا تھا۔ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتے ہوئے دروازے تک آیا۔ دونوں ہاتھوں سے دہلیز تھام کر کھڑا ہوگیا۔ ڈوبی ڈوبی آواز میں بولا ۔ ’’بڑی بات نہیں ہے کہ انسان جو چاہے، وہ پورا نہ ہوپائے۔ محبت ایسا بھی کریہہ اور بھیانک جذبہ نہیں ہے جو انسان میں انتہاء پسندی بھر دے۔ میں نے تجھے پا کر کھودیا۔ تم نے میری بن کر جدائی اوڑھ لی۔ یہی قسمت ہے۔ قسمت اپنا آپ منوا کر رہتی ہے۔ میں نے قبول کرلیا، تم بھی قبول کرلو اور میں اُمید کرتا ہوں کہ جیسے میں نے ناوقت ہجر کو کھلے دِل سے تسلیم کیا ہے، تم بھی کرو گی اور خود کو مضبوط اور باوقار ثابت کرو گی۔ اور ہاں! بندھی ہوئی زنجیر کی کھلتی کڑیاں اِسی کمرے میں بکھری ہیں جہاں ہم دونوں کھڑے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے خدا حافظ! مگر دوستی کے جاوداں محل میں خوش آمدید!‘‘
شہزاد کی آواز نم ہوگئی۔ تھک گیا تھا۔ بانو کی طرف پلٹ کر دیکھے بغیر تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا گھر سے نکل گیا۔ وہ جہاں کی تہاں رہ گئی۔ یوں لگا جیسے دُنیا اچانک ہی پُرسانِ حال سے محروم ہوگئی ہو۔ جیسے دُنیا میں اُجالے یک لخت سمٹ کر غائب ہوگئے ہیں۔ کافی دیر تک ذہن سائیں سائیں کرتا رہا اور وہ سر تھامے بیٹھی رہی۔ محبت بھری بانہوں میں جکڑ کر آسمان پر لے جانے والے نے بیچ راستے میں ہی بے سبب بانہیں کھول دی تھیں۔ اُسے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے آنِ واحد میں زمین پر گرنے والے بدن سے روح نکل کر ہوا میں معلق ہوگئی ہو۔
اُسے بالی کی آمد کا پتہ نہیں چلا۔ وہ کمرے میں آیا۔ اُسے اس حالت میں دیکھ کر گھبرا گیا۔ لپک کر قریب آیا۔ جھنجوڑنے لگا۔ وہ خالی خالی آنکھوںسے کافی دیر تک اُسے ایک ٹک دیکھے گئی پھر چیخ مار کر اُس سے لپٹ گئی ۔ ’’ہائے بالی! یہ کیا ہوگیا؟ میں دیکھنے میں سالم ہوں مگر اندر سے لُٹ گئی ہوں۔ ‘‘
بالی کا منہ کھلا رہ گیا۔ وہ اُس سے لپٹ کر ہچکیوں کی تال پر بُری طرح جھٹکے لے رہی تھی۔ پھٹی پھٹی آواز میں بتلا رہی تھی ۔ ’’شہزاد آیا تھا۔ کچھ دیر پہلے مجھے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اپنا جرم پوچھا نہیں، اُس نے بتلایا نہیں… ہائے بالی! یہ کیا ہوگیا؟سچ کہتی ہوں، اُس سے مل کر بھی آج تک نہیں ملی، اُس کی ہوکر بھی اَب تک اُس کی نہیں ہو پائی، تمھاری بات مان کر شرمندہ ہوئی مگر محبت میں شرمندہ نہیں ہوں، پھر کیوں مجھے بے جرم چھوڑ دیا ہے اُس نے؟‘‘
وہ دلاسہ دیتا رہا، بہلاتا رہا اور دِل ہی دِل میں شاہ سائیں کا شکر ادا کرتا رہا جس کی دُعا کے طفیل اُس کی بہن کسی بہت بڑی نادیدہ قیامت کا شکار ہونے سے بچ گئی تھی۔ اُس کا آنسوئوں سے تر چہرہ سینے میں چھپا کر سمجھانے لگا۔ ’’دیکھ بہن! میں نے سچ کہا تھا مگر تم نے مجھ پر اعتبار نہیں کیا۔ یہ دولت سے کھیلنے والے لوگ ہم جیسے غریبوں کو کھلونا سمجھتے ہیں۔ کھیلا، کھولا اور پھر رسہ کھول دیا۔ اِنہیں ہمارے جذبات متاثر نہیں کرتے۔ اِنہیں ہماری سادگی راس نہیں آتی۔تمھاری احتیاط اور پارسائی نے اُس کے جذبات کو ہیضے میں مبتلا کردیا ہے اور وہ سینے میں گھٹن پیدا کرنے والی ہوس کے ہاتھوں مر گیا۔ تمھارا کچھ نہیں بگڑا ہے، تم نے کوئی غلطی نہیں کی ہے پھر تم کیوں روتی ہو؟ خود کو سنبھالو، اَبھی زندگی پڑی ہے، اَبھی حوصلے درکار ہیں۔‘‘
وہ اَن پڑھ تھا۔ ٹوٹے پھوٹے لہجے میں دانش کی باتیں اُگل رہا تھا۔ بانو نے ایک ذرا خاموش ہوکربالی کو دیکھا۔ ہمیشہ کی طرح معتبر لگا۔ کھردرے اور سخت ہاتھوں سے آنسوئوں سے تر گالوں کو صاف کرتے ہوئے مضبوط پناہ گاہ دکھائی دیا۔ ہچکیوں سے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی ۔ ’’بالی! کہیں تم بھی مجھے ایسے ہی بے جرم چھوڑ تو نہیں دو گے؟‘‘
’’یہ کیا کہہ دیا تم نے بانو؟‘‘ بالی نے تڑپ کر کہا ۔ ’’روح اور بدن صرف موت کی تلوارسے ہی جدا ہوتے ہیں۔ ہمیں تو شاید موت بھی جدا نہیں کر پائے گی۔ میں تمھارا ہوں، تم میری ہو، یہی حقیقت ہے اور کبھی دل میں ایسے بُرے خیالات نہ لایا کرو۔‘‘
بانو سنبھل گئی مگر اُس نے ایک ہی رَٹ پکڑ لی ۔ ’’مگر شہزاد نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ کوئی وجہ تو ہوگی ناں۔‘‘
بالی ٹالتا رہا مگر وہ اَپنی ضد پر قائم رہی۔ مجبوراً بالی کو سائیکل نکال کر عینی کی کوٹھی پر جانا پڑا۔ اس کی واپسی تک بانو دیوار سے چمٹ کر کھڑی رہی۔ کبھی رو لیتی، کبھی خاموش ہوکر گزرے ایام کی رنگینیاں سمیٹنے لگتی۔ کل بھی ایسا ہوا تھا۔ اُسے اُس کا جرم بتلائے بغیر سزاوار ٹھہرا دیا گیا تھا۔ آج بھی یہی کچھ ہی ہوا تھا۔ جانے والے نے اُس کی گود میں کوئی جواز، کوئی بہانہ یا کوئی اصول نہیں ڈالا تھابلکہ قسمت کو موردِ الزام ٹھہرا دیا تھا۔ کیا تھا جو اُسے دکھائی نہیں دیتا تھا، پوری دُنیا کو دکھائی دیتا تھا۔
بالی کافی دیر کے بعد لوٹا۔ بانو نے اُسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ وہ کچھ نہیں بولا مگر اُس کا چہرہ پڑھ کر بانو کو پتہ چل گیا۔ سر جھکا کر رونے لگی۔ بڑبڑانے لگی ۔ ’’ہر کوئی سچ کہتا ہے، میں چاند ہوں۔ چاند دور سے ہی بھلا لگا ہے۔ قریب جانے پر پتہ چلتا ہے کہ وہ بے آب وگیاہ دھرتی ہے۔ جیسے وہاں سانس کی آبیاری نہیں ہوتی ، ویسے ہی میرے قریب آنے والا گھٹن اور حبس کا شکار ہوجاتا ہے اور موقع پاتے ہی بھاگ اُٹھتا ہے۔ تم کچھ بھی نہ بتلائو، میں جان گئی ہوں۔ دل ڈر رہا ہے، کہیں پھر سامان سر پر نہ رکھنا پڑ جائے۔ پہلے توایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ شاید اَب بھی ایسا ہی ہوگا اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔‘‘
بالی نے کچھ کھائے پئے بغیر آنکھوں پر بازو کی پٹی اوڑھ لی۔ بدن بلب کے اجالے میں تھا۔ آنکھیں اور دماغ اندھیرا تان کر بدقسمتی کی نیند سوگئے تھے۔ بانو نے ایک بار پھر پوری توجہ سے بالی کے آدھے چہرے کو دیکھا۔ دُکھ ہوا۔ اٹھ کر بالی کی چارپائی پر آگئی۔ اُس کا سر اپنی گود میں رکھ کر گالوں پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی۔ ایسے میں آنسوئوں کی زباں سے بہلانے لگی ۔ ’’بالی! دیکھ، کچھ بھی تو نہیں ہوا ہے۔ کیا ہوا جو اُس امیرزادے نے منگنی توڑ دی۔ یہ اُس کا فطری عمل ہے۔ اَب تک جو بہلاوے میرے نام کرتا رہا، وہ غیر فطری تھے۔ میں اُس کے لائق نہ تھی، وہ میرے لائق نہ تھا۔ تم ملال کیوں کرتے ہو، کیا پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے؟‘‘
بالی کی آنکھوں سے آنسو رِس آئے۔ گلوگیر لہجے میں بولا ۔ ’’کیا تم منگنی ٹوٹنے کی وجہ دریافت نہیں کرو گی؟‘‘
وہ تڑپ کر بولی ۔ ’’پہلے بھی بہت کچھ ہمارے ساتھ ہوا، کیوں ہوا؟ میں نے نہیں پوچھا۔ پوچھنے کا فائدہ ہی کیا ہوتا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اُسے احساس ہوگیا ہے کہ میری اور اُس کی کلاس میں زمین وآسمان کا فرق ہے جو کبھی بھی ختم نہیں کیاجاسکتا۔‘‘
بالی خاموش ہوگیا۔ شاید سوچ رہا تھا، کچھ بتلائے، نہ بتلائے۔جب بتلانا ضروری ہو، چھپانا ناگزیر ہو تو انسان شش پنج میں پڑ جاتا ہے۔ وہ بھی تذبذب کا شکار ہورہا تھا۔
وہ اُس کے آنسو پونچھتے ہوئے بولی ۔ ’’بالی! کیا یہاں سے بھی بھاگنا پڑے گا؟‘‘
وہ چونک کر بولا ۔ ’’نہیں تو… یہ تم نے کیوں سوچ لیا؟‘‘
’’دودھ کی جلی ہوں، چھاچھ کو بھی دودھ ہی سمجھ بیٹھتی ہوں۔‘‘ وہ دل گرفتہ تھی، لہجہ بھی دل گیر تھا۔ بالی سو گیا یا سوتا بن گیا۔ وہ رات کی تنہائی سے رات بھر نبرد آزمائی پر آمادہ دکھائی دے رہی تھی۔
وہ کئی دِنوں تک کالج نہیں گئی۔ پہلے ایک دِن نہیں جاتی تھی تو عینی فون پر دماغ چاٹ لیتی تھی۔ اَب فون بھی خاموش تھا۔ پھر ایک شام میں اُس نے ہمت کرکے خود فون کر لیا۔ عینی نے کال ریسیو کی، جواب نہیں دیا بلکہ سسک کر رونے لگی۔ بانو نے کچھ نہیں پوچھا بلکہ محض یہی کہا ۔ ’’عینی! اپنے بھائی سے کہو، اپنی ورکشاپ اپنے ہینڈ اووَر کرلے۔ تمھارے دَان تو جان کو تھامے بیٹھے ہیں، شاید کبھی لوٹا نہ پائوں، اُس کا احسان لوٹانا ہی مصلحت ہے۔پلیز!‘‘
عینی کافی دیر تک فون پر روتی رہی۔ بانو کے فون نے تہی دامنی کا بزر بجایا اور رابطہ منقطع ہوگیا۔ عینی نے کال بیک کی۔ بانو کی سماعت میں اپنی ہچکیاں، سسکیاں اور آہیں اُتارنے لگی۔ بانو کے اُکسانے پر بہ دقّت تمام بولی ۔ ’’بانو! میری جان! میں نہیں جانتی، اچانک کیا ہوگیا ہے۔ بھیا ایسا ہرگز نہیں تھا جیسا اَب بن گیا ہے۔ خدا کے لیے مجھے معاف کردو بانو! میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ تمھارے سامنے میرا سر میرے بے وقوف بھائی نے جھکا دیا ہے اور شاید میں کبھی بھی نظریں اٹھا کر تمھارے روبَہ رُو کھڑی نہ ہو سکوں۔ورکشاپ کی بات چھوڑو، وہ بالی کی ہے اور اُسی کی رہے گی۔‘‘
بانو کا جگر کٹ رہا تھا، زبان لڑکھڑا رہی تھی مگر وہ فون کان سے لگائے بیٹھی تھی۔ بولی ۔ ’’تم اُسے کہہ دینا کہ اپنی دُکان واپس لے لے۔ مجھے اُس کی کسی شئے کی تمنا نہیں رہی۔‘‘
عینی نے اُس کی بات نہیں مانی اور فون بند کردیا۔ بالی پاس لیٹا سُن رہا تھا۔ ہاتھ اُٹھا کر بولا ۔ ’’بانو! تم فکر نہ کرو، میں چند ہی دِنوں میں نوکری تلاش کرلوں گا اور پھر دُکان کی چابی شہزاد کے گھر دے آئوں گا۔‘‘
وہ کچھ نہ بولی۔ بولنے کے لیے اُس کے پاس کچھ بھی نہیں رہا تھا۔
بالی شاہ سائیں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اُس کی عظمت کے سامنے خود کو بونا محسوس کررہا تھا۔ اُس نے آج دوپہر میں اُسے دلاسہ دیا تھا ۔ ’’اقبال حسین! تم فکر نہ کرو۔ تمھاری بہن کے لیے بہت اچھا رشتہ چند ہی دِنوں میں آئے گا۔ شہزاد کی دُکان اُسے ہرگز واپس نہ کرنا اور نہ ہی وہ کبھی مانگنے کے لیے آئے گا۔ میرے علم نے اُس کا راستہ روک دیا ہے۔ تم کیا جانو، تمھارے لیے مجھے کتنی راتوں تک مسلسل جاگ کر چلہ کاٹنا پڑا ہے۔ یہ شیطانی طاقتیں ایسے ہی تھوڑا ہاتھ ڈالنے دیتی ہیں۔ انگلیاں تک جل جاتی ہیں انسان کی اِنہیں رہِ راست پر لاتے ہوئے۔‘‘
اُس نے بتلایا ۔ ’’سائیں جی! بانو کی حالت بہت خراب ہے۔ دیکھتا ہوں تو دل کٹ کر رہ جاتا ہے۔‘‘
’’فکر نہ کرو۔ وہ بھی جلد ہی سنبھل جائے گی۔‘‘
پھر شاہ سائیں نے ایک تعویذ کمرے کی دہلیزتَلے دَبانے کے لیے اُسے عنائت کیا۔ سمجھایا، بانو کو پتہ نہیں چلنا چاہیے ورنہ تعویذ اثر کھو دے گا۔ وہ تعویذ اَب بھی اُس کی سائیڈ والی جیب میں پڑا ہوا تھا۔ وہ آنکھیں موندے بانو کے سونے کا انتظار کررہا تھا مگر وہ سونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ انتظار نے تھکا دیا تھا اور وہ بے اختیار اپنے نصیبوں کی طرح گہری نیند سوگیا۔
بانو کافی دِنوں کے بعد کالج گئی تو اُسے تعویذ دَبانے کا موقع میسر آیا۔ اپنی کارروائی سے فارغ ہوکر دکان پر پہنچا ہی تھا کہ تعویذ اپنا کام دکھا چکا تھا۔ استاد مجیدا اُس کامنتظر تھا۔ تبادلۂ احوال کے بعد اُس نے بتلایا کہ بالی کو شاہ سائیں نے اپنی خلوت میں طلب کیا ہے۔ وہ ہر کام بالائے طاق رکھ کر آستانے میں پہنچا اور سائیں جی کی قدم بوسی کا اعزاز حاصل کیا۔ اِس وقت اَن گنت مُریدین وہاں موجود تھے جنہیں سائیں نظر انداز کرتے ہوئے اُسے اپنے خصوصی حجرے میں لے آیا۔اپنے پاس بیٹھا کر بڑے پیار سے بولا ۔ ’’اقبال حسین! تقدیر کے فیصلوں کو ماننے والا خوش لیکھ اور نہ ماننے والا بَد لیکھ کہلاتا ہے۔ اتنا کچھ دیکھ لینے کے بعد تمھیں مجھ پر یقین تو آگیا ہوگا کہ میں وہ کام کرتا ہوں جو اوپر والے کو پسند ہوتا ہے، تبھی میری ہر دُعا قبول ہوجاتی ہے۔ سمجھ رہے ہوں ناں؟‘‘
بالی نے عقیدت بھرے انداز میں اثبات میں سر ہلایا ۔ ’’بنا شک سائیں جی! آپ کا کہا پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔‘‘
’’تو پھر سنو! میں تمھیں سہارا دینا چاہتا ہوں۔‘‘ شاہ سائیں نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی جانب گھسیٹ کر قریب کرلیا۔ شہد آگیں لہجے میں بولا ۔ ’’تم دونوں بہن بھائیوں کی زندگی میں بہت بڑا زہر گھلا ہوا ہے جو دَم آخر تک تمھیں چین نہیں لینے دے گا۔ شاید راز، راز رہ جاتا مگر بدقسمتی سے بانو کے سر پر شیطان کے چیلے سوار ہوگئے جو خوشی کی ہر گھڑی میں رکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں۔ اَب یہی دیکھ لو، کس نے شہزاد کو اُس راز سے آگاہ کیا؟ اِس شہر میں تو کیا، ہر اُس شہر میں جس کا واسطہ شہزاد سے ہے، تمھارا کوئی جاننے والا نہیں ہے۔ پھر کس نے اُسے خبر دی؟ اُنہی بَلائوں نے جو بانو کا پیچھا چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں اقبال حسین؟‘‘
بالی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے شاہ سائیں کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا ۔ ’’جی سائیں جی! ہمارے ساتھ پہلے بھی ایسا ہوچکا ہے۔ آپ بڑے کرنی والے ہیں جی، ہمارے لیے کچھ کیجئے تاکہ یہ ہوائی چیزیں ہماری جان چھوڑ دیں۔‘‘
’’تم کیا سمجھتے ہو کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا ہوگا؟‘‘ سائیں نے اچنبھے سے کہا۔
’’میرا یہ مطلب نہیں ہے جی!‘‘ بالی گڑبڑا گیا۔
’’جو بھی ہے، کان کھول کر سن لو۔ بانو کے نزدیک جو کوئی بھی جائے گا، اُسے پَرے دھکیل دیا جائے گا۔وہ بہت طاقتور شیطان ہیں۔ کسی کے قابو میں آنے والے نہیں ہیں۔ ایک ہی صورت ہے کہ بانو کو کسی اللہ والے کے سائے میں مستقل طور پر رکھا جائے۔ وہی اُسے اُن عفریتوں سے بچائے رکھے گا،اِس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ہے۔‘‘ سائیں جی کا لہجہ سنسنا رہا تھا۔
’’ایسا کیسے ممکن ہے سائیں جی؟‘‘ بالی کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
’’ممکن ہے اقبال حسین! تم اپنی بہن کو کسی کامل پیر کے رشتۂ زوجیت میں دے دو۔فوری طور پر اُس کی شادی کردو۔ پھر کوئی بھی اُس کا بال بھی بیکا نہیں کر پائے گا۔‘‘
’’مگر … شاہ سائیں جی… کون اللہ کا پیارا ایسا ہوگا جو اُس بے چاری کو اپنی بیوی بنائے گا؟‘‘ بالی کی سانس سینے میں ہی کہیں اَٹکنے لگی۔
شاہ سائیں نے شاید اُس کے اندیشے سے اتفاق کیا تھا ، تبھی چند لمحوں تک خلا میں کسی نادیدہ شئے کو دیکھتا رہا پھر سر جھکا کر مخصوص انداز میں گم ہوگیا۔ کچھ دیر کے بعد اُس کے لب بڑبڑانے کے سے انداز میں ہلنے لگے۔ وہ کسی سے باتیں کررہا تھا۔ کان لگا کر سن بھی رہا تھا۔ بالی اُمید بھری نظروں سے اُسے دیکھتارہا۔ ایسے میں اُس کے کانوں میں سائیں کی آواز پڑی ۔ ’’اے لاج رکھنے والے! اتنی بڑی ذمہ داری مجھ پر نہ لاد۔ میں اتنا مضبوط نہیں ہوں کہ اُن خونی پنجوں میں اپنا ہاتھ ڈال سکوں۔ میں ناتواں ہوں، تو کسی اور کی راہ مجھ پر کھول…‘‘
پھر خاموشی طاری ہوگئی۔ سائیں جی کو کچھ سنائی دے رہا تھا۔ بالی کو کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ پھر شاہ سائیں نے ایک لمبی سانس پھیپھڑوں میں اُتاری اور آنکھیں کھول دیں۔ بالی نے دیکھا کہ فرطِ جذب سے سائیں کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ زبان سے سرسراہٹ کی سی آواز برآمد ہوئی۔ بالی نے سُنا ۔ ’’اقبال حسین! مُریدوں کی دل نوائی بڑا مشکل کام ہے۔ اوپر والا دُنیا والوں کی نگاہوں پر نظر نہیں ڈالتا، اپنی مرضی کا حکم سنا دیتا ہے۔ مجھے بھی اُس نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘‘
بالی کچھ سمجھ نہیں پارہا تھا۔ شاہ سائیں نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اوپر کی جانب اُٹھائی اور آنکھیں بند کرکے خمار آلود لہجے میں کہا۔ ’’وہ کہتا ہے کہ میں تمھاری بہن کو اپنی زوجیت میں لے لوں۔ وہ کہنے والا ہے، لوگوں کی زبان درازیوں کی پروا نہیں کرتا، مجھے اور تجھے کرنا پڑتی ہے۔ بہ ہَر حال تم خوش خبری لے کر گھر جائواور بانو کو یہاں لے آئو… میں تمھاری اور تمھاری بہن کی سلامتی کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔ جائو شاباش!‘‘
بالی نے چونک کر سراسیمہ نگاہوں سے سید منظور حسین شاہ المعروف شاہ سائیں کو دیکھا جو جلال میں آکر سر دھن رہا تھا۔ وہ وجیہہ اور پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ اُس کے سرخ وسپید چہرے پر سیاہ گھنی داڑھی بہت بھلی لگتی تھی۔ جوانی میں معرفت کے عروج کو پاکر کتنا پُرنور اور پاکیزہ صورت ہوگیا تھا۔ دولت کی ریل پیل، بے پناہ عزت واحتشام، جوانی، ہزاروں معتقدین او ر مریدین کے جھکے ہوئے سر… بالی نے فیصلہ کرنے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگائی۔ استاد مجیدے نے بتلایا تھا کہ شاہ سائیں نے اَبھی تک شادی نہیں کی۔ اچھی بات تھی اور اگر وہ پہلے سے شادی شدہ ہوتا تب بھی بالی کو بانو کی زندگی سے پیار تھا۔ اُسے بچانا ضروری تھا۔
کافی دیر گزر گئی۔ وہ اپنے تئیں سوچتا رہا پھر شاہ سائیں کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا۔ الٹے قدموں چلتا ہوا حجرے کے دروازے تک آیا اور سر جھکا کر بولا ۔ ’’سائیں جی! میں بانو سے بات کرنے کے بعد جواب دوں گا۔ اُس پگلی کو سمجھائوں گا، تب ہامی بھروں گا۔ آپ اِسے میری گستاخی نہ سمجھئے گا، مجبوری خیال کیجئے گا۔‘‘
دونوں ہاتھ باندھ کر حجرے سے نکل آیا۔ اُسے توقع تھی کہ جب وہ کھل کر پوری بات بانو کو بتلائے گا تو وہ مان جائے گی۔ اُس کی توقع پنپ نہ سکی اور بانو لال بھبوکا ہوکر لڑنے مرنے پر تُل گئی۔ وہ کسی بھی طرح سے شاہ سائیں کا نام سننا گوارا نہیں کر پارہی تھی۔ ایک دن، دو پھر کئی دِن گزر گئے مگر وہ بانو کو قائل کرنے میں بُری طرح ناکام رہا اور تھک کر سائیں جی کی خدمت میں پیش ہوگیا۔
’’میں معافی چاہتا ہوں سائیں جی! چھوٹے منہ میں بڑی بات بھری ہوئی ہے، منہ سے نہ کہلوائیں اور اپنے علم سے معلوم کر لیں تو میں گستاخی سے بچ جائوں گا۔‘‘
شاہ سائیں نے مسکرا کر کہا ۔ ’’میرا علم کہتا ہے کہ اُس نے تمھاری بات نہیں مانی۔ وہ پگلی ہے، اپنا نفع نقصان نہیں سمجھتی ۔ تم سمجھ دار ہو، اپنا اور اُس کا تحفظ چاہتے ہو۔ اُسے کسی نہ کسی طرح منائو ورنہ تم دونوں برباد ہو جائو گے۔پھر میں بھی تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکوں گا۔‘‘
بالی نے تاسف بھرے انداز میں سر کو دائیں بائیں حرکت دی۔
’’زبان سے نہیں مانتی تو اُسے ہاتھ سے منائو۔ بچہ آگ کو چھونے کی ضد کرے تو ماں باپ روکتے ہیں۔ نہ رکے تو پٹائی کرتے ہیں۔ یہ پٹائی بھلائی کے لیے ہوتی ہے ناں کہ ظلم … جائو…‘‘ شاہ سائیں نے اُسے سمجھایا۔ اُس کی سمجھ میں آگیا اور وہ دل میں تہیہ کرکے گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے بھر سوچتا رہا۔ ’’اگر مارنے پیٹنے سے بھی رضامند نہ ہوئی تو…‘‘
دماغ نے تسلی دی ۔ ’’کیسے نہیں ہوگی؟ بگڑے ہوئوں کا علاج ڈنڈے سے ہی کیا جاتا ہے اور وہ تندرست ہوجاتے ہیں۔‘‘
دل نے کہا ۔ ’’تم نے آج تک اُس پر ہاتھ نہیں اُٹھایا، آج کیسے اُٹھائو گے؟‘‘
اِسی اُدھیڑ بن میں گھر پہنچا۔ بانو اُس کے لیے کھانا تیار کررہی تھی۔ اُس کے عقب میں پہنچ کر سنجیدہ لہجے میں بولا ۔ ’’تم نے کیا سوچا بانو؟‘‘
وہ چونکی، سنبھلی پھر بولی ، ۔ ’’میں نے کیا سوچنا تھا؟‘‘
’’میں نے تمھیں بتلایا تھا کہ شاہ سائیں ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
وہ سر جھکائے کلبلائی ۔ ’’جوان لڑکی کو اپنی آغوش میں دَبا کر؟‘‘
’’اُن کے بارے میں ایسی گندی زبان استعمال نہ کر بانو! وہ بہت بڑے انسان ہیں۔ ہماری چپ بھی اُن پر کھل کر زبان بن جاتی ہے۔‘‘ بالی نے دانت پیس کر کہا۔
’’اگر اتنا ہی پہنچا ہوا بزرگ ہے تو اُسے کہو، میرے انکار کو اپنے علم سے اقرار میں بدل ڈالے۔ تم مجھ پر کیوں آنکھیں نکالتے رہتے ہو؟‘‘ وہ گردن موڑ کر اُسے گھورتے ہوئے بولی۔
’’بانو! میں تمھاری کفریہ باتیں سن سن کر تنگ آگیا ہوں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، میرا گلا دبادو، مجھے زمین میں دفن کردو مگر اُس کمینے کے حوالے نہ کرو۔ میں کوئی گلہ نہیں کروں گی۔‘‘
’’کیا کہا؟‘‘ بالی حلق کے بل چیخا ۔ ’’تم اُسے کمینہ کہہ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں بالی! کمینے کو کمینہ نہ کہوں تو بتلا، کیا کہوں؟‘‘ وہ ترکی بہ ترکی بول رہی تھی۔
بالی بپھر گیا۔اشتعال میں بے قابو ہوکر بانو کو چوٹی سے کھینچ کر اوپر اُٹھاتے ہوئے غرایا ۔ ’’بانو! میں تمھارے نقصان کے لیے نہیں، فائدے کے لیے روز منت وسماجت کرتا ہوں مگر تو اتنی بے وقوف اور ضدی ہے کہ سمجھنے کا نام ہی نہیں لیتی ہو۔ اَب بھی کہتا ہوں، مان جائو ورنہ …‘‘
اُس نے بالوں کو جھٹکا دیا۔ بانو کا چہرہ سوئے آسمان ہوگیا۔ ہونٹ تکلیف کے مارے بھنچ گئے۔ چہرہ تمتما اُٹھا۔ بالی نے اِس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اوپر تلے دو تین طمانچے اُس کے رخسار پر جڑ دیے۔ رخسار سرخ ہوگیا۔ ہونٹ دانتوں تلے کچلا گیا اور خون کا ایک قطرہ نچلے ہونٹ پر چمک اُٹھا۔ وہ چلائی نہیں، نہ ہی مزاحم ہوئی بلکہ عجیب ظالمانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بہ دقّت تمام بولی ۔ ’’بالی! تم نے مجھے مارا ہے؟ تم نے تو کبھی غصہ بھری آنکھ سے مجھے دیکھا تک نہیں تھا… ہاں! آں ہاں! اور مارو… میں اِن ہاتھوں پہ قربان جو طمانچے بن کر میرے رخساروں تک آرہے ہیں، میں اِن آنکھوں پر قربان جو شعلے اگل کر میرے بدن کو خاک ستر کررہی ہیں… مارو… اتنا مارو کہ میرا دَم گھٹ جائے۔ میری سانس رُک جائے مگر اِس یقین کے ساتھ مارو کہ میں شاہ سائیں کی بھینٹ نہیں چڑھوں گی۔ مارو، اتنا کہ مار ہی ڈالو مگر یہ نہ منوائو جو منوانے پر تُل گئے ہو۔‘‘
بالی تھک گیا۔ بانو کا مصمم ارادہ دیکھ کردہل گیا۔ بال چھوڑ کرہاتھ مسلتے ہوئے چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ یکبارگی سے اپنی زیادتی کا احساس ہوا۔ اُسے اتنا درشت رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا مگر شاہ سائیں کا حکم بھی ناگزیر تھا۔ سر تھام کر چارپائی کی بانْہہ پر ٹک گیا۔ وہ شاہ سائیں کو ماننے پر تیار نہیں تھی، شاہ سائیں کے حکم پر سر جھکانے پر آمادہ نہیں تھی۔ کیا کرے؟ کیا نہ کرے؟ ایسے میں منت سماجت کا خیال آیا۔ لپک کر اُس کے قریب آیا۔ وہ ساکت کھڑی تھی، یوں کہ جیسے سینہ سانس سے عاری ہوگیا ہو۔ وہ اُس کے دونوں ہاتھ تھام کر سہلانے لگا۔ اپنی آنکھوں سے لگاتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہنے لگا ۔ ’’بانو! تم مجھے اپنی آنکھوں سے بھی زیادہ پیاری ہو۔ تم مجھے جان سے بھی پیاری ہو۔ ہاتھ اٹھانے کی غلطی کر بیٹھا ہوں۔ تمام عمر اپنے ہاتھوں کو انگاروں میں جھونکتا رہوں گا مگر خداکے لیے مجھے غلط مت سمجھو۔ میں تمھارے فائدے کے لیے ہی سب کچھ کررہا ہوں۔ شاہ سائیں نے…‘‘
بانو نے جلدی سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے ۔ دونوں کانوں میں انگلیاں ٹھونستے ہوئے بولی ۔ ’’میں اُس خبیث کا نام سننا بھی گوارا نہیں کرتی۔ اَب میرے کان بند ہیں، تم لاکھ بار اُس کا نام لو، لاکھ بار مجھے اُس کی دلہن بننے کا مشورہ دو، میری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘
پھر اُس نے یہ ثابت بھی کردیا۔ آنے والے چند دِنوں میں ہی بالی کو شکست تسلیم کرنا پڑی۔ اَب ایک ہی حل باقی تھا … اُسے جبراً شاہ سائیں سے بیاہ دیا جاتا… اُس نے استاد مجیدے سے مشورہ کیا۔ وہ بھی پور پور سائیں جی کی عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا۔ عقیدت میں جکڑا ہوا مشورہ عنایت کرتے ہوئے بولا ۔ ’’تم بڑے خوش قسمت ہو بالی کہ شاہ سائیں تجھے اپنا رشتہ دار بنا رہے ہیں۔ اُن کا احسان مانو اور جیسے بھی ہو، اپنی بہن کو اُن کے ساتھ بیاہ دو۔ دُنیا بھی سنور جائے گی، آخرت بھی ہاتھ لگ جائے گی۔ میری مانو، اپنی زندگی کا سب سے اہم اور فائدہ بخش فیصلہ کرنے میں دیر مت کرو۔‘‘
اُس نے سر جھکا لیا۔ استاد مجیدا ٹھیک کہتا تھا۔
بانو نادان نہیں تھی۔ بالی کا پل پل بدلتا رویہ دیکھ کر اندازہ لگا لیتی تھی کہ وہ کیا کرتا پھرتا ہے۔ اُس شام کو جب وہ تاخیر سے گھر پہنچا تو بانو نے ایک نظر دیکھ کر ہی اندازہ کرلیا کہ وہ آستانے پر حاضری دے کر شاہ سائیں سے نیا ہدایت نامہ حاصل کر آیا ہے۔ سرد لہجے میں بولی۔ ’’بالی! آج اُس نے کون سا نیا آپشن دیا ہے؟‘‘
بالی نے تلخ نوائی کی۔
’’کیا مطلب؟ تم کس کی بات کررہی ہو؟‘‘
’’میں اُس ایماندارکی بات کررہی ہو جو میری ایک جھلک دیکھ کر بے ایمان ہو گیا اور اُسے فوراً اپنے ادھورے پن کا شدّت سے احساس بھی ہوگیا۔‘‘ بانو کے لہجے میں گہرا طنز پنہاں تھا۔
بالی نے سرِدست کوئی جواب نہیں دیا۔ کھانا کھا چکا تو نیپکن سے ہاتھ پونچھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بولا ۔ ’’بچے کی ہر ضد پر سر جھکانا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر لوہا لچک دار نہیں ہوتا مگر اُسے یوں ہی چھوڑا بھی نہیں جاتا۔ میں تم سے بڑا ہوں۔ ہر وہ فیصلہ کرنے کی قدرت رکھتا ہوں جس میں تمھارا فائدہ نظر آئے۔ میں نے شاہ سائیں سے تمھاری شادی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تم اِسے قبول کرو، نہ کرو، یہ ہوکر رہے گا۔ کل صبح تیار رہنا، شاہ سائیں نکاح خواں اور گواہوں کے ہمراہ گیارہ کے لگ بھگ یہاں تشریف لا رہے ہیں۔ سمجھ رہی ہو ناں؟‘‘
بانو کی آنکھوں میں آگ جل اُٹھی۔ تڑپ کر بولی ۔ ’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو بالی؟‘‘
’’میں جو کہہ رہا ہوں، تم سن رہی ہو، سمجھ رہی ہو۔ بچی نہیں ہو۔‘‘ بالی کے لہجے کا کٹھور پن بانو کو دہلا گیا۔ وہ خاصی دیر تک پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھے گئی۔ پھر سر جھٹک کر چارپائی پر گر گئی۔ سمجھ گئی تھی کہ اُس پر آنسوئوں کا اثر نہیں پڑے گا۔
کافی دیر کے بعد پژمردہ لہجے میں بالی کو مخاطب کئے بغیر بولی ۔ ’’میرا تمھارے بغیر دُنیا میں کوئی نہیں اور نہ ہی مجھے آج تک کسی کا نہ ہونا محسوس ہوا۔ آج دل میں کسک جاگ پڑی ہے کہ کاش! کوئی ایک تو دُنیا میں تمھارے علاوہ بھی میرا ہوتا کہ میں اِس گھر سے بھاگ کر اُس کے پاس پناہ لینے چلی جاتی۔ کوئی تو ہوتا جسے پکارتی کہ میرا بھائی مجھے جہنم میں جھونک رہا ہے، بچائو… ہائے! مجھے بچانے والا کوئی نہیں۔ جو آج تک بچاتا آیا، وہی بھٹی میں جھونکنے پر تل گیا… لو! میں حاضر ہوں۔ جہاں چاہو لے جا کر پھینک دو۔ اگر تمھارا دِل میرے دکھ پر کڑھتا نہیں تو مجھے بھی کوئی تکلیف نہیں…‘‘
وہ نہ جانے کیا کچھ کہتی رہی۔ بالی نے بیچ میں کئی مرتبہ ڈانٹ کر چپ کرانے کی کوشش کی مگر وہ شاید کچھ بھی سن نہیں رہی تھی۔ بالی نے کروٹ بدل کر خاموشی اختیار کر لی۔ناگاہ، کسی جاندار لمحے میں بانو کو شہزاد یاد آگیا۔ عینی کی صورت میں مدد دکھائی دی۔ سوچا ۔ ’’اُس نے اگر مجھے اپنی بیوی نہیں بنایا تو کیا ہوا،دوستی کا سہارا تو نہیں چھینا تھا۔ وہ مجھے بالی کی اِس احمقانہ عقیدت کی بھینٹ چڑھنے سے بچا سکتا ہے۔‘‘
شہزاد کے تصور نے کچھ تقویت بخشی۔ وہ آنکھیں بند کرکے بالی کے سوجانے کا انتظار کرنے لگی۔ جب اُسے یقین ہوگیا کہ وہ گہری نیند سوچکا ہے تو آہستگی سے چارپائی سے اُتری، احتیاط سے بالی کے سرھانے کے نیچے سے موبائل فون نکالا اور صحن میں آگئی۔ صحن میں اندھیرا تھا۔ وہ عموماً اندھیرے سے ڈرتی تھی، آج یوں لگ رہا تھا جیسے ہر ڈر پیچھا چھوڑ گیا ہو۔ کمرے سے انتہائی دوری پر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔ عینی کا نمبر ملایا۔ وہ سو رہی تھی۔ بار بار ٹرائی کرنے پر جاگ گئی۔ بانو کو یوں لگا جیسے اُس کی قسمت جاگ پڑی ہو۔ جلدی سے بولی ۔ ’’ہیلو عینی!‘‘
’’ہاں!بول رہی ہوں۔ کیا آج تمھیں بالی نے تارے گننے پر لگا رکھا ہے؟‘‘ عینی کی خمار آلود آواز سنائی دی۔
بانو خود کو سنبھالنے میں ناکام ہونے لگی۔ لہجے میں نمی گھل گئی۔ بولی ۔ ’’عینی! بالی پاگل ہوگیا ہے۔ وہ میری شادی ایک فراڈ پیر کے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔ اور تو اور… وہ فراڈیا بارات لے کر مجھے بیاہنے کے لیے کل یہاں آرہا ہے۔ بالی میری کوئی بات سننے پر تیار نہیں ہے۔ اُس پر شاہ سائیں کی عقیدت اور محبت کا بھوت سوار ہے۔ خداکے لیے عینی! کچھ کرو ورنہ میں مر جائوں گی…‘‘
اتنا بھی جانے کس طرح کہہ پائی کہ گلا رُندھ گیا اور وہ سسک سسک کر رونے لگی۔ عینی چلا چلا کر اُس سے تفصیل پوچھ رہی تھی مگر وہ کچھ بھی بتلا نہیں پارہی تھی۔ اچانک فون میں شہزاد کی بھاری آواز اُبھری ۔ ’’ہیلو بانو! کیا بات ہے؟ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، تمھیں تمھاری مرضی کے بغیر کوئی بھی یوں اُٹھا کر نہیں لے جاسکتا۔‘‘
وہ ریڈیو کی طرح چل پڑی۔ شاہ سائیں کے بارے میں جو کچھ بالی سے سُن چکی تھی، شہزاد کے گوش گزارنے لگی۔ وہ سنتا جاتاتھا، تسلیاں اور دلاسے دیتا جاتاتھا۔ بانو کے خاموش ہونے پر بولا ۔ ’’نائس لیڈی! تم بے فکر ہوکر سوجائو۔ وہ فراڈیاتم تک نہیں پہنچ سکے گا اور ہاں! تم بالی کو میرے یا عینی کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتلائو گی۔ اِز اِٹ اوکے؟‘‘
’’مجھے بچالیں پلیز!‘‘ وہ پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔
’’میرے کہے پر یقین کرو، تم پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔‘‘ وہ پورے اعتماد سے بولا ۔ ’’اَب عینی سے بات کرو۔‘‘
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بہت ہوتا ہے، شہزاد تو پھر شاہ زاد تھا، شاہ تیر تھا۔ اُس نے دوستی کی لاج رکھ لی تھی۔ بانو کا دِل مطمئن ہوگیا۔ فون بند کرکے اپنی چارپائی پر آگئی۔ ایک نظر خوابیدہ بالی پر ڈالی اور سر جھٹک کر دراز ہوگئی۔ دل قوی ہوگیا تھا مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ چین کی نیند سو جاتی۔ جاگتی رہی، سوچتی اور کڑھتی رہی اور شاہ سائیں کو کوستی رہی۔ پُرسکون زندگی میں تلاطم بپا کرنے کے لیے نہ جانے کہاں سے آگیا تھا؟
وہ رات بھر سو نہیں پائی۔ صبح بالی کے ڈانٹنے کے باوجود اُس نے تیاری نہیں کی۔ بالی نے زیادہ زور ڈالا تو بُری طرح بھڑک کر بولی۔ ’’میں دُلہن بن کر نہیں، میت بن کر اُس کمینے کے گھرجارہی ہوں۔ مجھے کوئی تیاری ویاری نہیں کرنی۔ رعب جماکر مجبور کرنے کی کوشش نہ کرو۔ مجھ پر رعب جمانے والاایک ہی بھائی تھاجو کل رات مجھے ایک ہوس زادے کے ہاتھ بیچ کر مَر گیا۔ تم کون ہو، میں نہیں جانتی اور نہ ہی جاننا چاہتی ہوں۔‘‘
بالی نے بھی ضد نہیں کی۔
بانو کو یقین تھا کہ شہزاد اُس کی مدد کے لیے ضرور پہنچے گا مگر پھر بھی دِل اندیشوں کی زَد میں تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی شاہ سائیں کیسا آدمی ہے؟ اچھا یا بُرا… مگر سُن پڑھ یہی رکھا تھا کہ ٹونے ٹوٹکے کرنے اور پھونکیں مارنے والے اچھے نہیں ہوتے۔ جو اچھا نہیں ہوتا، وہ شریکِ سفر بننے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔
دَس بجے کے بعد ایک ایک منٹ جان پر گراں گزرنے لگا۔ بالی متعد د بار دروازے پر جا کر گلی میں جھانک چکا تھا۔ اُس کی حالتِ زار دیکھ کر اُس کی بے تابی اور انتظار کی کیفیت کی خبر ہوتی تھی۔ بانو کو اُس کا رویہ بہت عجیب لگ رہا تھا۔ کیا وہ اُس پر اچانک بوجھ بن گئی ہے؟
گیارہ بج گئے۔ آنے والا وقت کا پابند نکلا۔ گلی میں بہت سے آدمیوں کے قدموں کی چاپ گونجی۔ اُس کا دل دھڑک اُٹھا۔ مارنے والا آن پہنچا تھا۔ بچانے والے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ موبائل فون بالی کی جیب میں تھا۔ اُس کی دسترس میں نہیں آسکتا تھا کہ وہ شہزاد سے رابطہ کرکے اُسے یاددہانی کروا دیتی۔
کمرہ جس میں اَن گنت راتیں سکون سے گزری تھیں اور کمرے کی ہر شئے سے مانوسیت کا احساس جاگتا رہتا تھا، آج اجنبی لگنے لگا تھا۔ وہ کمرے کے آخری گوشے میں چلی گئی۔ دیوار کی جانب منہ کرکے رونے لگی۔ روتے روتے شہزاد کو پکارنے لگی ۔ ’’آجائو مجھ سے محبت چھین کر دوستی کا ہاتھ بڑھانے والے! بانو کے ساتھ وہ ہونے لگا ہے جس کا کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔‘‘
شاہ سائیں بڑے تزک واحتشام سے صحن میں بچھی چارپائی پر براجمان ہوچکا تھا۔ اُس کے ساتھ نکاح خواں اور چھ سات مُرید تھے۔ بالی نے ہمسائیوں سے چارپائیاں مانگ کر صحن میں بچھا رکھی تھیں۔ چاے پانی کا بندوبست بھی کررکھا تھا۔ استاد مجیدے کے دو مستعد شاگردوں کی معاونت سے اُس نے باراتیوں کو بوتلیں پیش کیں۔
بارات کے ساتھ اُستاد مجیدا بھی آیا تھا۔ بالی کو پکڑ کر تنہائی میں لے گیا۔ کچھ سمجھانے کے سے انداز میں باتیں کرنے لگا۔ بانو کسی کو نہ تو دیکھنا چاہتی تھی اور نہ ہی اُس کے دل میں کوئی تجسس تھا۔ وہ کسی اور آہٹ کی منتظر تھی۔ ایسے میں بالی اُس کی پشت پر آن کھڑا ہوا۔ کندھے پر ہاتھ رکھ کر گھٹے گھٹے لہجے میں بولا ۔ ’’بانو! میری بہن! تمھارے سوا میرا دُنیا میں کوئی نہیں۔ تمھیں غلط فہمی ہوگئی ہے کہ میں تمھارا نقصان کرنے چلا ہوں۔ خدا کی قسم! میں جو کررہا ہوں، تمھاری بھلائی کے لیے کررہا ہوں۔ شاہ سائیں بہت اچھے انسان ہیں، تم اُنہی کے سائے میں پہنچ کر محفوظ رہ سکتی ہو۔ میں سچ کہتا ہوں، آج جو کچھ تمھیں اچھا نہیں لگ رہا، آنے والے وقت میں یہی سب سے اچھا لگنے لگے گا۔ تب تمھیں میری باتوں کا یقین آئے گا۔‘‘
وہ آہستہ سے پلٹی۔ خالی خالی نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔ بالی کو دکھ اور تأسف نے لحظہ بھر کے لیے آن گھیراکیونکہ ہمیشہ بولنے والی آنکھیں یکسر خاموش تھیں، پھر دل مضبوط کرکے صحن میں چلا گیا۔ بچے کو چولھے سے دور رکھنے کیلیے ، دوائی پلانے کے لیے اور اسکول بھیجنے کے لیے مارنا پیٹنا بھی پڑتا ہے کیونکہ وہ ذی شعور نہیں ہوتا۔اُسے اپنے بُرے بھلے کی آگہی نہیں ہوتی۔
اُس کے کانوں میں مختلف آوازیں شور بن کر اُتر رہی تھیں۔ سمجھ میں نہیں آرہی تھیں۔ اپنی چند دوستوں کے بھائی بہنوں کی شادیوںمیں شرکت کا موقع ملا تھا۔ باراتیں بھی دیکھ رکھی تھیں مگر اُس کی زندگی میں اُترنے والی بارات سب سے مختلف تھی۔ خوشی، جنوں خیز رسمیں، ہنگامہ پرور آوازیں اور ہیجان خیزانتظار… یہاں کچھ بھی تو نہیں تھا۔
اپنے عقب میں قدموں کی چاپ سن کر بھی وہ پلٹی نہیں۔ بالی کی آواز سنائی دی ۔ ’’بانو! مولوی صاحب آئے ہیں۔‘‘
وہ زیرِ لب بڑبڑائی۔ بالی نے اُسے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی جانب موڑ لیا۔ پیار سے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔ ’’میری جان! یہ نکاح کی اجازت لینے کے لیے تمھارے پاس آئے ہیں، اِنہیں اجازت دے دو۔‘‘
وہ عجیب دُلہن تھی۔ بنائو سنگھار، عروسی ملبوسات، شرمگیں تمکنت یا مَے سے لبریز آنکھیں… کچھ بھی تواُس کے پاس نہیں تھا۔ اُداس اور شکست خوردہ انداز میں مولوی صاحب کودیکھنے لگی۔ پوچھا گیا ۔ ’’بیٹا! کیا سید منظور حسین شاہ صاحب ولد سید جمیل حسین شاہ قوم سید بالعوض حق مہر پچاس ہزار رُوپے تمھیں قبول ہے؟‘‘
اُس نے پوری شدّت سے نفی میں سرہلادیا۔ بالی نے جھپٹ کر اُس کا ہاتھ تھاما، جھنجوڑتے ہوئے بولا ۔ ’’بانو! یہ کیا کہہ رہی ہو؟انکار کرکے مجھے شاہ سائیں کے سامنے بے عزت مت کرو۔‘‘
وہ کچھ نہیں بولی۔ نکاح خواں نے اپنا سوال دہرایا۔ وہ پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی ۔ ’’میں اُس کمینے پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی۔ تم نے پیسے لے رکھے ہوں گے، جو وہ کہے گا، تم کرو گے۔ مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔ یہاں تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتی، ایک عدالت زندگی کے بعد لگے گی اور میں وہاں تمھارا گریبان پکڑ کر پوچھوں گی کہ جب میں نے انکار کردیا تھا تو تم نے میرا نکاح کیوں پڑھایا؟‘‘
مولوی نے عجیب سی نظروں سے بالی کو دیکھا۔ بانو کے کہے ہوئے زہرخند الفاظ سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اُس نے پھر اپنا سوال کیا۔ وہ گلوگیر لہجے میں بولی ۔ ’’میں اُسے قبول نہیں کرتی۔ کسی بھی قیمت پر، کسی بھی حالت میں … یہ جانتے ہوئے کہ آپ لوگوں کو میری مرضی پر نہیں چلنا بلکہ اُس کے ہاتھوں کے میل کو چاٹنا ہے۔ ایمان فروش مولوی! جا، جو وہ کہتا ہے، وہی کر اور میرا دماغ مت چاٹ۔‘‘
بالی نے اُس پر غصہ بھری نگاہ ڈالی اور مولوی صاحب کا ہاتھ تھام کر باہر نکل گیا۔ بانو نے سنا، مولوی بہ آوازِ بلند کہہ رہا تھا۔ ’’دُلہن نے نکاح قبول کرلیا ہے۔ شاہ سائیں! مبارک ہو۔‘‘
پھر وہی سوال شاہ سائیں سے کیا جانے لگا۔ وہ حیرت کے مارے گنگ کھڑی تھی۔ بالی جاتے ہوئے دروازہ بندکرگیا تھا۔ وہ کھڑکی کے سامنے آن کھڑی ہوئی ۔ بند کھڑکی کی درزوں سے جھانکنے لگی۔ شاہ سائیں مولوی کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔ دوسری چارپائی پر نکاح رجسٹرکے بڑے بڑے پرت پھڑپھڑا رہے تھے اور اپنا پیٹ سیاہ حرفوں سے بھر رہے تھے۔ اُس کا دل کٹ کر رہ گیا۔ وہ ہورہا تھا جو اُس نے زندگی بھر نہیں سوچا تھا۔
سینے پر ہاتھ رکھ کر فرش پر بیٹھ گئی۔ ایک روزن پھر آنکھوں کے سامنے تھی جس کے پار صحن کا بھیانک منظر بچھا ہوا تھا۔ اُس نے دونوں ہاتھ دیوار پررکھ دیے، لب دانتوں میں پیسے اور کراہی ۔ ’’ہائے کاش! میں معجزوں کے دور میں پیدا ہوئی ہوتی، کوئی معجزہ رونما ہوکر مجھے اِن ظالموں سے بچا لیتا۔کتنا ہی اچھا ہو کہ بالی کے دِل میں میرا پیار جاگ جائے اوروہ اِن بھیڑیوں کو دھکے دے کر باہر نکال دے۔ ہائے کاش! دوستی کا دعویٰ رکھنے والی ہی میری مدد کو پہنچ جائے، اُس کا بھائی مجھے بچانے کے لیے آجائے…‘‘
مشکل وقت میں کوئی نہیں آتا۔ کوئی آگ کو ہاتھوں سے پَرے ہٹانے کی ہمت نہیں کرتا مگر اُس کی قسمت اچھی تھی۔ جونہی صحن میں مبارک باد کی صدائیں اُبھریں، عین اُسی وقت کھلے دروازے میںاُسے شہزاد کھڑا دکھائی دیا۔ وہ بنا اجازت گھس آیا۔ بانو کے آنسو تھم گئے۔ اُمیدکی کرن پھوٹ پڑی۔
شہزاد کے پیچھے عینی دکھائی دی۔ پھر چار پانچ پولیس والے نظر آگئے۔ شہزاد تمام بندوبست کرکے آیا تھا۔ بانو کے کانوں میں ایک درشت آواز پڑی۔ ’’اِن سب کو حراست میں لے لو خان محمد!‘‘
اُسے قیامت کے ٹلنے کا یقین ہوگیا۔ دیوار پر جمے ہاتھوں کے درمیان میں پیشانی ٹیک کر ہچکیاں لینے لگی۔ اُسے اَب باہر کے تماشے سے کوئی سروکار نہیں تھی۔ کچھ ہی دیر بعد اُسے اپنے کندھے پر کسی ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ وہ پلٹی نہیں بلکہ زیادہ زور سے رونے لگی۔ دلاسے بھرا ہاتھ رکھنے والی نے اُسے خودسے چمٹا کر اٹھا لیا۔ گالوں پر بوسہ ثبت کرتے ہوئے بولی ۔ ’’بانو! تم کیوں روتی ہو؟ میں ہوں ناں… تمھاری فرینڈ عینی! میرے ہوتے ہوئے کوئی تمھیں تمھاری مرضی کے بغیر چھو بھی نہیں سکتا۔ آئو! کھلے دروازے کے باہر دیکھو، فراڈیے پیر کا کس طرح سواگت ہورہا ہے؟‘‘
وہ کچھ بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ گھسٹ کر چارپائی تک آئی اور اوندھے منہ گر کر اونچی آواز میں رونے لگی۔ عینی باہر کا منظر دیکھ کر اندر والی کو بتلا رہی تھی ۔ ’’بانو! انسپکٹر جاوید بھیا کا بہت اچھا دوست ہے۔ تم سے کچھ پوچھنے کے لیے آرہا ہے۔ ٹھیک ٹھیک جواب دینا۔‘‘
وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔ پولیس کی یونیفارم میں انسپکٹر جاوید کو دیکھا۔ سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ انسپکٹر نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ پیار بھرے لہجے میں بولا ۔ ’’بے بی! شہزاد نہ صرف میرا کلاس فیلو ہے بلکہ بہت اچھا دوست بھی ہے۔ میں اور شہزاد تمھاری مدد کے لیے یہاں آئے ہیں، ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں، صاف صاف بتلائو کہ ڈبہ پیر نے یہاںکیا تماشا بنا رکھا ہے؟‘‘
اُس کے اندر آگ بھری ہوئی تھی۔ دھیمے لہجے میں انگارے پھینکنے لگی۔ بتلانے لگی کہ کس طرح شاہ سائیں نے بالی پر اپنا تسلط جمایا اور بانو کی مرضی کے بغیر بیاہ رچانے کے لیے یہاں تک پہنچ گیا۔ انسپکٹر ہاتھ میں پکڑے ہوئے پاکٹ سائز ٹیپ ریکارڈ میں اُس کا بیان محفوظ کرتا گیا۔ خاموش ہونے پر بولا ۔ ’’بے فکر رہو، یہ بدخصلت انسان دوبارہ تمھارے سامنے نہیں آئے گا۔‘‘
وہ باہر چلا گیا۔ عینی اُسے دلاسہ دینے لگی۔ سمجھانے لگی کہ اُسے اپنا دِل مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ دیر کے بعد اچانک صحن میں خاموشی چھا گئی۔ وہ چونکی۔ عینی کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ وہ جواباً کچھ نہیں بولی۔ شہزاد دروازے میں کھڑا ہوکر بولنے لگا ۔ ’’بانو ڈارلنگ! دُلھا میاں سمیت تمام بارات تھانے کا رُخ کرچکی ہے۔ میں بھی وہیں جارہا ہوں۔ تمھارا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے،رکشا یا ٹیکسی میں بیٹھ کر عینی کے ساتھ گھر چلی جائو۔ تھانے سے فارغ ہوکر آئوں گا اور تفصیل سے آگاہ کروں گا۔ سرِدست یہی کہہ سکتا ہوں کہ تم اِس مصیبت سے چھٹکارا پا چکی ہو۔‘‘
اُس نے تشکر بھری نظروں سے شہزاد کودیکھا اور عینی سے لپٹ کر چارپائی میں گر گئی۔ چیخی۔ ’’ہائے عینی! تم کتنی اچھی ہو۔ تمھارا بھیا کتنا اچھا ہے۔ مجھے بن موت مرنے سے بچاکر مجھ پر کبھی نہ پلٹنے والا احسان کیا ہے تم نے! میرے پاس دینے کے لیے محض میرا وجود تھا۔ وہ میں نے دے دیا تھا مگر تم نے نہیں لیا، اَب بول، کیا دوں تجھے؟‘‘
شہزاد چلا گیا۔ کمرے میں سوائے عینی اوربانو کے دِلوں کی دھڑکن کے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ دھڑکنوں کی تال پر عینی آنکھوں کی زبانی سمجھا رہی تھی۔ ’’چراغ اپنی کمزوریوں کے بل پر لرزہ بر اندام رہتا ہے۔جب اندر سے کھوکھلا ہو کر بجھ جاتا ہے ، تب قسمت پر الزام دھرتا ہے مگر یہ نہیں سوچتا کہ ہوا کسی کی دشمن نہیں ، کو ئی ہوا کا دشمن نہیں۔ـ‘‘
٭ذ٭
شاہ سائیں کی بارات بانو کے گھر میں اُترنے کی بجائے تھانے میں پہنچ گئی۔ شہزاد کے دوست نے حقِ دوستی ادا کیا اور متعلّقہ اہلکاروں کا منہ بند کردیا۔ یوں شام کو شہزاد جب گھر پہنچا تو بالی اُس کے ہمراہ تھا۔ اُس کا سر جھکا ہوا تھا۔ شہزاد اُسے سمجھا رہا تھا ۔ ’’اَب تم اپنے شاہ سائیں کی پہنچ دیکھو۔ اُس کا علم دیکھو۔ لوگوں کے مستقبل میں جھانک لینے والے کو اپنا مستقبل دکھائی نہیں دیا اور وہ سیج پر بیٹھنے کے چکر میں حوالات کے فرش پراوندھے منہ گر پڑا ہے۔‘‘
بانو نے دیکھا کہ بالی کا سر جھکا ہوا تھا مگر آنکھوں میں خفگی رچی ہوئی تھی۔ وہ باری باری تینوں کو دیکھ کر سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ بالی نے طویل آہ بھری اور کسی کو مخاطب کئے بغیر بولا ۔ ’’بہت بُرا ہوا۔ آپ لوگوں کو شاہ سائیں کی حیثیت کا علم نہیں ہے۔ وہ چاہے تو …‘‘
’’وہ چاہے تو اپنے لیے بھی کچھ نہیں کرسکتا بالی!‘‘ شہزاد نے ذرا تیز لہجے میں کہا ۔ ’’تم جب اُسے جانتے نہیں تھے، میں اور عینی نے تب تمھیں ورکشاپ بنا کر دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہ اُس کی محنت نہیں، ہماری محبت تھی جسے تم نے اُس کی کرامت سمجھ لیا۔ اورہاں! تم جو اُسے بہت برگزیدہ اور نیکوکار سمجھتے ہوناں، یہ تمھاری کم علمی کے سوا کچھ نہیں۔جیسا تم اُسے سمجھتے ہو، وہ ویسا نہیں ہے۔ وہ بہت کمینہ انسان ہے۔ اُس دِن تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مجھے تمھارے پس منظر سے کس نے آگاہ کیا؟ تب میں نے تمھیں ٹال دیا تھا۔ آج بتلاتا ہوں، مجھے اُسی کم بخت نے بتلایا تھا۔ میں نے اُس کی باتوں پر یقین نہیں کیا اور کاروباری مصروفیات کا بہانہ کرکے تمھارے ماضی میں بہت دور تک چلا گیا۔ تم نے جس گلی سے اپنی زندگی کے سفر آغاز کیا تھا، میں نے اُسی گلی سے اپنی کھوج کی ابتدا کی تھی۔‘‘
بالی نے بے یقینی بھری نگاہوں سے اُسے گھورا۔ ایسے میں بانو نے ایک ذرا ٹھٹک کر شہزاد کے چہرے پر نظریں جمائیں، بالی کو بہ نظرِ غائر دیکھا اور پھر سر جھکا لیا۔ اُسے بہ خوبی اندازہ تھا کہ اُس کے کریدنے کے باوجود اُس کے پَلے میں کچھ نہیں ڈالا جائے گا۔ دونوں اُسے چکر دے جائیں گے۔
شہزاد منہ پھیر کر بولا ۔ ’’میں یہ نہیں جانتا کہ اُسے اُن تمام باتوں کا پتہ کیسے چلا تھا، یہ جانتا ہوں کہ اُس نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔اُس نے مجھے سچ بتلا کر مات کردیا جبکہ تجھے جھوٹ کی فصل کاٹنے پر مامور کردیا۔ مجھ پر کوئی آسیب نہیں، میرے اندر کوئی شیطان نہیں جو تم لوگوں کو نقصان پہنچائے۔میں تمھاری طرح کاعام اور بے ضرر سا انسان ہوں۔ مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اُس شیطان سے ڈرو اور دور رہو۔ یہی تم دونوں بہن بھائیوں کے حق میں بہتر ہے۔‘‘
بالی عدم توجہی سے اُس کی باتیں سُن رہا تھا۔ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ شاہ سائیں پر بانو کے حصے کا عذاب آن اُترا ہے۔ شہزاد بالکل ویسا ہی نکلا ہے جیسا شاہ سائیں نے بتلایا تھا۔ شہزاد نے ردِ عمل کو بھانپ کر خاموشی اختیار کرلی۔
وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ وقت کا اونٹ کروٹ بدل گیا۔ شہزاد کی کامیابیاں آنے والے چند دِنوں میں گہناگئیں۔ انسپکٹر جاوید، شاہ سائیں اور اُس کے وفاداروں کو گرفتار کرکے مصیبت میں پھنس گیا۔ اُسے اندازہ نہیں تھا کہ دَم تعویذ کی آمدنی پر پلنے والا اتنے اثرورسوخ کا مالک بھی ہوسکتا ہے۔ شاہ سائیں کی ’’پہنچ‘‘ نے اُسے تگنی کا ناچ نچا دیا۔ وہ کبھی ایک میز کے سامنے کھڑا اپنی صفائی پیش کررہا تھا تو کبھی دوسری میز کے عقب میں بیٹھے ہوئے کسی ’’بڑے‘‘ کی انکوائری بھگت رہا تھا۔ ایک ہفتے میں ہی اُسے شاہ سائیں اور اُس کے حواریوں کو آزاد کرنا پڑا۔اختیار رکھنے کے باوجود شاہ سائیں کا چالان بھی عدالت میں پیش نہ کرسکا۔ شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اُس نے شہزاد کو فون کیا ۔ ’’ہیلو شہزاد! میں تم سے بہت شرمندہ ہوں۔ میں شاہ سائیں کی گردن دبوچنے میں ناکام ہو گیا ہوں۔ اُس کم بخت کی اپروچ بہت اوپر تک نکلی۔‘‘
شہزاد نے حیرت سے کہا ۔ ’’ثبوت سمیت موقع پر گرفتار کر لینے کے باوجود بھی؟‘‘
’’ہاں دوست!قانون ثبوت دیکھتا ہے مگر قانون کو اپنی مرضی سے چلانے والے اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔ اگر میں بہ ضد رہتا تو شاید مجھے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ اینٹی کرپشن کا ایک ڈائریکٹر اُس کا مرید تھا۔ تم یہ تو جانتے ہی ہو کہ اِس حمام میں سب ننگے ہیں اور بے چھت کے اِس حمام کی دیوار کے اوپر انٹی کرپشن والے بیٹھے رہتے ہیں۔ایک دروازہ کھلے گا تو سبھی کھل جائیں گے۔ ایس پی صاحب اگر ڈائریکٹر کی بات نہ مانتے تو اُن کی کئی فائلیں کھل جاتیں۔ میرے خلاف محاذ کھڑا ہوجاتا۔‘‘
’’جاوید! یہ بہت بُرا ہوا ہے۔ وہ زخمی سانپ کی طرح پھنکارتا ہوا اُن غریبوں پر چڑھ دوڑے گا۔ بالی اُس کا عقیدت مند ہے۔ اُسے یوں حوالات کے باہر دیکھ کر مزید بچھ جائے گا اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر بانو کو اُس اُلو کے پٹھے کے قدموں میں بچھا دے گا۔‘‘ شہزاد گھبرا گیا۔
’’میں تمھیں کوئی تسلی نہیں دینا چاہتا۔ تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ عینی کی سہیلی محفوظ نہیں رہی۔ تم سوائے اُنھیں چھپانے کے کچھ بھی نہیں کرسکتے اور یہ کرنے کے لیے بھی بالی کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہوگا۔ کام مشکل تو ہے مگر اُسے تم تدبیر سے ممکن بنا سکتے ہو۔بہ ہرحال! میں نے تمھیں بتلا دیا ہے۔ شاہ سائیں کے معاملے میں آئندہ اعلیٰ حکام کی نظروں میں آئے بغیر تمھاری مدد کرسکوں گا۔ مجھے امید ہے کہ تم میری پوزیشن کو سمجھ گئے ہو۔‘‘
شہزاد سمجھ گیا تھا۔ بے دِلی سے فون بند کرکے گہری سوچ میں غرقاں ہوگیا۔ جیتی ہوئی بازی بانو کے وجود کی طرح اُس کے ہاتھوں سے پھسل گئی تھی۔ بجھے دل سے اُس نے عینی کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ اُسے سمجھایا کہ وہ بانو کو فون کرکے محتاط رہنے کا مشورہ دے۔ وہ بولی ۔ ’’بھیا! وہ شاہ سائیں سے محتاط رہ سکتی ہے، بالی سے کیسے محتاط رہ پائے گی؟‘‘
وہ سوچتے ہوئے بولا ۔ ’’خود کو بچانے کے لیے اُسے بالی کو بھی شک بھری نگاہوں سے دیکھنا ہوگا۔ وہ اَبھی تک شاہ سائیں کی عقیدت میں پور پور ڈوبا ہوا ہے اور کچھ بھی کرسکتا ہے۔‘‘
’’تو؟‘‘
’’اُسے ملو، سمجھائو کہ جیسے اُس نے فون کرکے پہلے مطلع کیا تھا، ایسے ہی مشکل وقت میں پھر مطلع کردے۔‘‘
’’یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا بھیا؟‘‘
’’جب تک شاہ سائیں اُس کی طرف لپکتا رہے گا۔‘‘
’’بانو کے پاس موبائل فون بھی تو نہیں ہے۔ وہ بالی کے فون سیٹ سے کال کرتی تھی۔ ہوسکتا ہے اُسے پھر ہمیں بتلانے کا موقع نہ مل سکے۔‘‘
’’تم اُسے فون سیٹ خرید کر دے دو۔ وہ چھپا کر رکھے گی اور صرف ضرورت کے وقت ہی کال کرے گی۔‘‘ شہزاد نے عندیہ دیا۔
عینی نے تفہیمی انداز میں سر ہلایا۔ تشویش آمیز لہجے میں بولی ۔ ’’مجھے نہیں لگتا کہ وہ بہروپیا اُس کا پیچھا آسانی سے چھوڑ دے گا۔‘‘
’’ہوں!‘‘ شہزاد کا لہجہ تفکر آمیز تھا ۔ ’’کل کیا ہوتا ہے؟ اُس بے چاری کی قسمت اُس کے ساتھ کیا کھیل کھیلتی ہے؟… دیکھا جائے گا۔‘‘
٭ذ٭
اُسے بالی پر بھروسہ نہیں رہا تھا۔ چھپا کر رکھے ہوئے موبائل فون پر اعتماد کا دِیا روشن تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ بالی وہی کچھ دوبارہ کرنے کی کوشش کرے گا جس میں ناکامی کا منہ دیکھ چکا ہے۔ بے دِلی سے اُس کا استقبال کرتی، دھڑکتے دِل سے اُسے کھانا کھلاتی اور خاموشی سے بستر پر لیٹ جاتی۔ دونوں کی چارپائیوں کے مابین حائل فاصلہ وہی تھا، دونوں کے اَذہان کے بیچ سینکڑوں میل کی مسافت حائل ہوچکی تھی۔
وہ چھت کے عین وسط میں نصب آہستہ رَوی سے گھومتے ہوئے پنکھے کو ایک ٹک دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔ ’’قیامت آکر ٹل گئی۔ ایک ہفتہ گزر گیا۔ قیامت بپا کرنے والے اَبھی تک خاموش ہیں اور کوئی رَد عمل بھی دکھائی نہیں دیا… خدا خیر کرے۔ یہ خامشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے، عافیت کی پیش خبر نہیں۔ بالی دیر سے آتا ہے۔ دکان سے سیدھا آستانے پر ہی جاتا ہوگا اور شاہ سائیں اِسے ہر نئی شام میں نیا سبق پڑھاتا ہوگا۔‘‘
ایسے میں بالی نے کھنکار کر کروٹ اُس کی طرف بدلی، آنکھیں کھولیں اور پیار سے بولا ۔ ’’بانو! کیا تم اَبھی تک مجھ سے ناراض ہو؟‘‘
وہ چونکی۔ اُس پر ایک نگاہ ڈالی۔ ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش رہی۔ وہ بولا ۔ ’’تم نے کوئی جواب نہیں دیا، کیا بات ہے؟‘‘
وہ پھر بھی کچھ نہیں بولی۔
بالی اُٹھ کر چارپائی پر سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ تھوڑے توقف کے بعد بغیر نظریں ملائے مخاطب ہوا ۔ ’’دیکھ بانو! میں سچ کہتا ہوں کہ سائیں جی اللہ کے ولی ہیں۔ اُن کی آنکھ کے ایک اشارے سے دُنیا اِدھر کی اُدھر ہوجاتی ہے۔ تم نے دیکھ لیا کہ شہزاد اُس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پایا۔ اُس گستاخ کی دولت بھی شاہ سائیں کو عدالت میں کھینچ کر لے جانے میں ناکام رہی ہے۔‘‘
’’میں نے تم سے کچھ بھی پوچھا ہے کیا؟‘‘ بانو نے بیزاری سے کہا ۔ ’’تم خواہ مخواہ اُس شخص کی تعریفیں کئے جارہے ہو جس کا نام سننا بھی مجھے گوارا نہیں ہے۔ کوئی اور بات کرو۔‘‘
’’یہی فرق ہے بانو!‘‘ بالی نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا ۔ ’’شاہ سائیں کی عظمت دیکھو، وہ اَب بھی تمھیں اپنانا چاہتا ہے۔ تمھاری مدد کرنا چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تم کہیں بھی خوش نہیں رہ پائو گی۔ تم کہیں بھی وہ عزت حاصل نہیں کر پائو گی جس کی تم حقدار ہو، اِس لیے وہ …‘‘
بانو کو اُس کی باتیں بہت عجیب لگ رہی تھیں۔ اُس کی بات کاٹ کر بولی۔ ’’مگر جب مجھے اُس کی مدد کی ضرورت ہی نہیں تو پھر وہ کیوں میرے پیچھے پڑا ہوا ہے؟ اُسے کہہ دو، اگر مجھے خوش رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میری جان چھوڑ دے۔ مجھ سے دور رہے۔ تم اُس کے پاس مت جایا کرو۔ وہ پھر تجھے بہلا پھسلا کر میرے روبرو کھڑا کردے گا۔ صاف کہتی ہوں بالی! اَب اگر تم نے مجھے شاہ سائیں کے حوالے کرنے کی کوشش کی تو میں بجائے شہزاد اور عینی کو بلانے کے، زہر پھانک لوں گی اور تم دونوں جیل کی ہوا کھائو گے۔‘‘
اُس کا لہجہ نہ صرف درشت تھا بلکہ اَٹل بھی تھا۔
’’تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟‘‘ بالی نے جھنجلا کر کہا۔
’’اور تم غلط بات کو سمجھانے پر اتنے بضد کیوں ہو؟‘‘ وہ بھی ترکی بہ ترکی بولی۔
وہ بہ مشکل ضبط کئے بیٹھا تھا۔ دانت پیس کر بولا ۔ ’’تم نِری احمق ہو۔ سائیں کے غضب کو آواز دیتے ہوئے تمھیں ذرہ بھر ڈر نہیں لگتا۔ میں نہیں چاہتا کہ تمھاری زندگی برباد ہوجائے۔ تم پر بیرونی قوتوں کا اَثر دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے اور ہاں!سائیں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر تمھاری چند ہی دِنوں میں شادی نہ ہوئی تو تم پاگل ہوجائو گی۔ اَب وہ تمھاری حفاظت کے لیے ہر وقت تو مصلے پر بیٹھا نہیں رہ سکتا ناں!‘‘
اُس کے لبوں پر زہر خند سی مسکراہٹ اُبھر آئی۔ استہزائیہ لہجے میں بولی۔ ’’مجھ پر بیرونی نہیں، اندرونی قوت حملہ آور ہے۔ کوئی اور نہیں، تم مجھے پاگل کرنے پر تُلے ہوئے ہو۔ تم اگر چپ ہوجائو تو مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اُسے جا کر کہہ دو کہ میری خاطر مصلے پر مت بیٹھا کرے۔ میں پاگل ہونے والی نہیں ہوں، خواہ وہ مصلے پر بیٹھے یا گرم توے پر… مجھے فضول اندیشوں سے ڈرانے کی کوشش مت کرے۔‘‘
بالی نے اُسے سمجھانے کی بہتیری کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ صبح جب وہ کالج جانے کی تیاری کررہی تھی تو بالی نے ٹوکا ۔ ’’تمھارا کالج جانا مناسب نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں؟ کیا ہوا؟ کیا کالج کے راستے میں بیرونی قوتیں ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہیں؟‘‘ اُس کے لہجے میں نفرت آمیز طنز چھپا ہوا تھا۔
’’پڑھائی تمھارا دماغ خراب کررہی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم آگے پڑھو اور مزید اپنا دماغ خراب کر بیٹھو۔‘‘
’’مجھے تمھارے چاہنے یا نہ چاہنے کی پروا نہیں رہی۔ پَرے ہٹو! مجھے جانے دو،دیر ہورہی ہے۔‘‘ وہ اُسے ایک طرف دھکیلتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔
بالی نے اُس کا تعاقب نہیں کیا بلکہ اونچی آواز میں بولا۔ ’’بانو! تم بہت بدل گئی ہو۔ تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں رہا۔ اچھا ٹھہرو ذرا! میں سائیکل نکالتا ہوں۔‘‘
’’تم جب تک اعتبار کے قابل رہے، میںتب تک آنکھیں بند کرکے تم پر بھروسہ کرتی رہی۔ اَب تم بھی بدل گئے ہو۔‘‘ وہ ایک ذرا تھم کر بولی پھر تیز تیز قدموں سے گھر سے نکل آئی۔ وہ پیدل یا رکشا پر کالج جاسکتی تھی۔ اپنی ناراضی کو ظاہر کرنے کے لیے اُس نے آج سائیکل پر بیٹھنے سے اجتناب کیا تھا۔ گلی کی نکڑ پر پہنچی تو بالی سائیکل لے کر پہنچ گیا۔ ہاتھ سے پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔ ’’بیٹھ جائو۔اتنا سفر پیدل طے کرو گی تو پڑھنے کے قابل ہی نہیں رہو گی۔‘‘
’’میں پیدل ہی چلی جائوں گی، تم اپنی دکان پر جائو۔‘‘
’’بکواس مت کرو، بیٹھو، مجھے بھی دیر ہورہی ہے۔‘‘ بالی نے ڈپٹ کر کہا۔
وہ اچھل کر کیرئیر پر بیٹھ گئی۔ اُنھیں کالج پہنچنے میں خاصی دیر ہوچکی تھی۔ اس لیے گیٹ پر اِکا دُکا لڑکیاں دکھائی دیں۔ گیٹ کے عین سامنے بالی نے سائیکل روکی۔ وہ اُترنے لگی تھی کہ بُری طرح چونک گئی۔ بریکوں کی تیز چرچراہٹ کے ساتھ سیاہ اندھے شیشوں والی ڈارک میرون کلر کی کار سائیکل کے عین سامنے آن رُکی۔ بانو کو یوں لگا جیسے دِل نے دھڑکنا موقوف کردیا ہو۔ آن کی آن میں دو تنومند آدمیوں نے کار سے نکل کر اُسے دَبوچ لیا۔ تیسرے فرد نے گاڑی سے اُتر کر بالی کو ریوالور کے نشانے میں رکھ لیا۔
بانو اپنے بچائو کے لیے چیخنے چلانے لگی۔ خود کو مضبوط گرفت سے چھڑانے کے لیے زور لگانے لگی۔ بالی نے ریوالور کی پروا نہ کرتے ہوئے بانو کی کلائی پکڑ لی اور اپنی جانب کھینچتے ہوئے چیخنے لگا۔ ’’چھوڑ دو اِس کا ہاتھ… چھوڑ دو ورنہ میں پولیس کو بلا لوں گا۔‘‘
وہ پولیس کے نام سے ڈرکھانے والے نہیں تھے۔ ریوالور والے نے اُلٹے ہاتھ کا جھانپڑ بالی کو رسید کیا۔ بانو کی کلائی چھوٹ گئی اور وہ ڈگمگا کر کمر کے بل جاگرا مگر اُس نے اُٹھنے میں دیر نہیں لگائی۔ بانو کو پکڑنے والے اُسے گھسیٹ کر کار کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہ بانو کی طرف لپکا۔ ایک نے پلٹ کر اُس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں زور دار ٹھوکر لگائی۔ وہ تیورا کر منہ کے بل زمین پر جاگرا۔
کالج کے سامنے ایک گھنا درخت اور چند دُکانیں واقع تھیں۔ دکاندار اپنی اپنی دُکانوں سے نکل کر چھجوں تلے کھڑے سڑک پر کھیلا جانے والا کھیل بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔نہ سمجھنے کے ارادے کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔ ریوالور والا ہاتھ اُنھیں سمجھا رہا تھا کہ پرائے پھڈے میں ٹانگ اڑانے والوں کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے۔ کبھی کبھی زندگی کی ڈوری بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ اُن میں سے کوئی بھی مدد کا ارادہ نہیں رکھتا تھا لیکن ریوالور والے شخص نے پھر بھی ایک ہوائی فائر کر دیا۔ دہشت پھیل گئی۔ کوئی بھی قریب آنے کی جرأت نہیں کرسکا۔ طوفان بن کر آنے والے بانو کو گاڑی میں ڈال کر آندھی کی طرح ہوا ہوگئے۔
بالی دونوں ہاتھ ٹانگوں کے بیچ رکھے زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ گاڑی کی آواز سُن کر غیر معمولی تیزی سے اُٹھا۔ تکلیف بھول گئی۔ وہ اندھا دُھند کار کے پیچھے دوڑا۔ ٹانگوں پر دوڑتا چور قابو میں نہیں آتا۔ چار پہیوں پر اُڑتا ہوا ڈاکو کیسے پکڑائی دے سکتا ہے، وہ اُس سمے نہیں جانتا تھا۔ چیختا جاتا تھا ۔ ’’بانو… میری بانو… پولیس… پکڑو، وہ بے غیرت میری بہن کو اُٹھا کر لے گئے ہیں… بانو…‘‘
کافی دور آگے جاکر اغوا کاروں نے مین روڈ چھوڑ دیا۔ لنک روڈ پر گاڑی مُڑ کر نگاہوں سے اوجھل ہوگئی تو وہ بے دم سا ہوکر زمین پر گر پڑا۔ پھٹی پھٹی نگاہوں سے سڑک پر کسی نادیدہ شئے کو گھورنے لگا۔ ریوالور اوجھل ہوگیا تو دکاندار بھاگ کر اُس کے قریب پہنچے۔ کوئی سہارا دے کر اُٹھانے لگا، کوئی اغواکاروں کی دیدہ دلیری پر حیرت کا اظہار کرنے لگا تو کسی نے پانی کا گلاس بھر کر اُس کے ہونٹوںسے لگانے کی کوشش کی۔ ایسے میں کسی نے پھولے پھولے لہجے میں دانشمندی کی بات کی۔ ’’پولیس کو فون کرو۔‘‘
ایک نے موبائل فون نکالا۔ نمبر پنچ کئے۔ واردات کی اطّلاع دی۔ دوسری طرف سے کچھ پوچھا گیا۔ وہ بولا ۔ ’’مجھے علم نہیں، دوسروں سے پوچھ کر بتاتا ہوں۔‘‘
پھر وہاں کھڑے لوگوں کی طرف متوجہ ہوا ۔ ’’پولیس والے کار کا نمبر ، رنگ اور ماڈل دریافت کررہے ہیں۔ کسی کو علم ہو تو بتلائو۔‘‘
کسی نے کار کا نمبر نوٹ نہیں کیا تھا۔ وہ بولا ۔ ’’سر! نمبر کسی نے نوٹ نہیں کیا۔ گہرے کلیجی رنگ کی نئی کار تھی۔ کار سے تین آدمی باہر نکلے تھے۔ ایک کے ہاتھ میں پستول تھا جبکہ ایک آدمی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا رہا تھا۔ وہ باہر نہیں آیا تھا۔‘‘
فون بند ہوگیا۔ بالی کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ بے دم سا ہوکر زمین پر دوزانو بیٹھ گیا۔ پولیس پانچ دَس منٹ میں موقع پر پہنچ گئی۔ بالی کانپتے وجود کے ساتھ اپنی سائیکل کے پاس آیا۔ سائیکل پہلو کے رُخ گری پڑی تھی۔ پچھلے وِیل پر بانو کی کتابیں بکھری پڑی تھیں۔ چند قدموں کے فاصلے پر اُس کا آف وائٹ کلر کا ایک جوتا پڑا تھا۔ کار کے ٹائروں کے نشانات کے پاس ہی ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کے اَن گنت ٹکڑے بکھرے پڑے تھے۔ وہ فرطِ جذبات سے بے قابو ہوکر جوتا اٹھانے لگا تھا کہ ایک اہلکار کی کرخت آواز کانوں میں پڑی ۔ ’’جوان! کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔ ہمیں موقع ملاحظہ کرنے دو۔‘‘
وہ رُک گیا۔ یوں لگا جیسے وقت رُک گیا ہو… سوئیاں ٹھہر گئی ہوں… ایسے ہی وقت میں عینی کی گاڑی کالج کے گیٹ پر آکر رُکی۔ عینی نے گاڑی سے اُترتے ہی پولیس کے نرغے میں کھڑے بالی کو دیکھ لیا۔ وہ گیٹ کے بغلی دروازے میں داخل ہونے کی بجائے تیزی سے بالی کی طرف بڑھ آئی۔ بانو دکھائی نہیں دی۔ جو منظر دکھائی دے رہا تھا وہ خیر کا منظر نہیں تھا۔ دل دھک سے رہ گیا۔ بالی کا بازو تھام کر چلائی ۔ ’’بالی! کیا ہوا؟ بانو کہاں ہے؟‘‘
بالی نے نفی میں سر ہلایا، سسکی سی حلق سے برآمد ہوئی ۔ ’’بانو نہیں ہے، اُسے چار آدمیوں نے اغوا کرلیا ہے۔ آہ! ایک بھائی کی موجودگی میں بہن اغوا ہوگئی ہے، تف ہے میرے جیسے بھائی پر،لعنت ہے میری غیرت پر!‘‘
عینی کا ہاتھ سینے پر عین دل کے مقام پر جا ٹکا۔ بیٹھی بیٹھی آواز میں بولی ۔ ’’کون لوگ تھے وہ؟‘‘
بالی اُنھیں جانتا نہیں تھا اور نہ ہی اُس نے ان میں سے کسی کو پہلے دیکھ رکھا تھا۔ حلق سے آواز نہیں نکلی، آنکھوں سے بے بسی کے چند استعارے ٹپک پڑے اور وہ سر جھکا کر پولیس کی کارروائی کو دیکھنے لگا۔ وہاں کتابوں، جوتے اور چوڑیوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ جس سمت میں سب کچھ لے جایا جاچکا تھا، اُس طرف پولیس متوجہ نہیں تھی۔ کسی نے توجہ دلائی ۔ ’’بھائی صاحب! اغواکاروں کا پیچھا بھی تو کیا جائے۔‘‘
پولیس پارٹی کو ایک سب انسپکٹر لیڈ کررہا تھا۔ چونک کر ایک اہلکار سے مخاطب ہوا ۔ ’’وائرلیس پر سبھی چوکیوں کو واردات کی اطّلاع کردو۔ کار کا رنگ اور ماڈل بھی نشر کردو۔ ہری اَپ!‘‘
عینی نے بلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنے ہینڈ بیگ سے موبائل فون نکالا۔ شہزاد سے رابطہ کیا اور تیزتیز لہجے میں بولی۔ ’’بھیا! خالد بھائی کو لے کر فوراً کالج کے گیٹ پر پہنچو۔ بانو کو اغوا کر لیا گیا ہے۔‘‘
اُس نے دوسری طرف سے کچھ سُنے بغیر رابطہ منقطع کردیا اور پھٹی پھٹی نگاہوں سے جان کنی کی کیفیت سے نبرد آزما بالی کو دیکھنے لگی۔
٭ذ٭
کار میں بٹھاتے ہی اُس پر گہرے رنگ کی چادر اوڑھا دی گئی تھی۔ وہ کچھ بھی دیکھ نہیں سکتی تھی۔ دیکھنا چاہتی بھی نہیں تھی۔ گاڑی ائر کنڈیشنڈ تھی۔ چاروں شیشے چڑھے ہوئے تھے۔ اُس کی آواز باہر نہیں جاسکتی تھی مگر اغوا کار شاید کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تھے۔ اُس کا چیخنا چلانا رُکا نہیں تواُس کے منہ میں کپڑے کا گولا ٹھونس دیا گیا۔ ایک نے درشت لہجے میں دھمکایا ۔ ’’خاموشی سے بیٹھی رہو ورنہ تمھیں گولی مار کر گاڑی سے باہر پھینک دیا جائے گا۔ تعاون کرو گی تو زندہ سلامت رہو گی۔‘‘
وہ سہم گئی۔ بُری طرح خوفزدہ ہوکر سمٹ گئی۔ ایک اغوا کار کے پاس اُس نے ریوالور دیکھا تھا۔ اُس نے اُسے کار میں ڈالتے ہوئے ہوائی فائر بھی کیا تھا۔ جولوگ دِن دیہاڑے شارع عام پر اغوا کی واردات اتنی دیدہ دلیری سے کرسکتے تھے، وہ اُسے گولی مار کر کہیں بھی پھینک سکتے تھے۔ سوائے خدا کے اُسے بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ اُس نے گھر میں بالی کو زہر کھانے کی دھمکی دی تھی۔ مرنے کی دھمکی دینے اور مرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ وہ موت سے ڈرتی تھی۔ اِسی ڈر کے باعث دبک کر بیٹھ گئی۔
کم و بیش آدھا گھنٹہ گزر گیا۔اُسے یوں لگا جیسے عمر گزر گئی ہو۔ کار رُکی اور اُسے باہر گھسیٹ لیا گیا۔ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکتی تھی۔ ڈھے گئی، گھسیٹنے والے نے اُسے چادر سمیت بانہوں میں بھر کر اُٹھا لیا اور چل پڑا۔ چند منٹوں بعد اُسے بیڈ پر پٹخ کر سفاک لہجے میں بولا ۔ ’’کوئی چالاکی دکھانے کی کوشش نہ کرنا ورنہ گولیوں سے بھون دی جائو گی۔‘‘
دروازہ بند ہونے کی زور دار آواز سُن کر وہ تڑپ کر اُٹھی۔ بیڈ میں کھڑی ہوئی تو چادر پیروں میں گر گئی۔ منہ سے کپڑے کا گولا نکال کرچیخنا چاہتی تھی مگر حلق سے ’اوغ‘ کی سسکی نما آواز برآمد ہوئی۔ چوڑیوں کے کانچ نے دائیں کلائی پر ننھے ننھے زخم کردیے تھے جن میں چبھن محسوس ہورہی تھی۔ چاروں طرف گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ صاف ستھرے، کارپٹڈ اور آراستہ کمرے میں مقید تھی۔ اپنے پیروں پر نگاہ پڑی۔ ایک جوتا موجود تھا، دوسرا پائوں ننگا تھا۔ جہازی سائز کے بیڈ پر کھڑی ٹخنوں تک فوم میں دھنسی ہوئی تھی۔ دائیں ہاتھ دیوار کے ساتھ جدید طرز کے سوفے دَھرے ہوئے تھے۔ دہشت بھری پھٹی پھٹی نگاہوں سے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے وہ گھٹنوں کے بل بیڈ میں گر گئی۔ منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکنے لگی۔ وہ کہاں تھی، یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی۔ اُس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، یہ سمجھ میں آنے والی بات تھی اور وہ سوچ سوچ کر لرز رہی تھی۔روتے روتے چونک گئی۔ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ ہاتھ باہر آیا تو اُس میں ننھا سا موبائل فون دَبا ہوا تھا۔ اغوا کرنے والوںکو اُس کے پاس موبائل فون کی موجود کا شبہ نہیں ہوا تھا یا وہ حد سے زیادہ پُر اعتماد تھے وگرنہ وہ اتنی بڑی غلطی نہ کرتے۔
فون میں صرف عینی اور شہزاد کے نمبر فیڈ تھے۔ اُس نے عینی کا نمبر ملایا۔ پہلی بیل پر ہی عینی کی تیز آواز کانوں میں پڑی ۔ ’’ہیلو بانو! تم کہاں ہو؟‘‘
وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی ۔ ’’مجھے اغوا…‘‘
’’جانتی ہوں، یہ بتلائو کہ تم اِس وقت کہاں ہو؟‘‘عینی نے جلدی سے اُس کی بات کاٹ دی۔
وہ لاچارگی سے بولی ۔ ’’پتہ نہیں۔ راستے بھر اُنہوں نے مجھ پر چادر ڈالے رکھی۔ یہاں ایک کمرے میں بند کرکے چلے گئے ہیں۔‘‘
’’کیا تم اُن میں سے کسی کو پہچانتی ہو؟‘‘
’’میں ٹھیک طرح سے کسی کا چہرہ دیکھ ہی نہیں پائی۔ خدا کے لیے عینی! مجھے یہاں سے نکالو ورنہ میں مر جائوںگی۔‘‘
وہ سسکنے لگی۔ ایسے میں فون سے شہزاد کی آواز سنائی دی ۔ ’’ہیلو عینی! تم ٹھیک تو ہو ناں؟‘‘
وہ ٹھٹک کر بولی ۔ ’’مجھے یہاں سے نکالیں۔ نہ جانے یہ کون لوگ ہیں، کیا چاہتے ہیں، میرا دَم گھٹ رہا ہے۔پلیز شہزاد…‘‘
’’ہم تم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تم دعا کرو۔ یہ بتائو، تم اس جگہ پر کب پہنچی ہو، اَب سے کتنی دیر پہلے؟ ہم اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم یہاں سے کتنے فاصلے پر ہو۔‘‘
وہ رُندھی ہوئی مگر نہایت کم بلند آواز میں بولی ۔ ’’پانچ دَس منٹ ہوئے ہیں یہاں پہنچے ہوئے۔‘‘
شہزاد جلدی سے بولا ۔ ’’تم فون پررِنگ ٹون کی جگہ ’وائبریشن‘ لگا لواور گریبان میں رکھ لو۔ میں وقفے وقفے سے تمھیں کال کرتا رہوں گا۔جونہی اغوا کرنے والا کمرے میں آئے، تم کھجلی کرنے کے سے انداز میں گریبان میں ہاتھ ڈال کر کال ریسیو کرنے والا بٹن پش کردینا۔ دھیان رکھنا کہ کسی کو موبائل فون کی موجودگی کا ا حساس نہ ہونے پائے۔ اوکے؟‘’
اُس کے ’اوکے ‘ کہنے کے ساتھ ہی رابطہ منقطع ہوگیا۔ شہزاد کی محبت پر یقین رکھتی تھی تبھی دل کو ڈھارس ہوئی پھر کانپتی انگلیوں سے فون کے آپریٹنگ سسٹم کو کھول کر ’وائبریشن‘ پر سیٹ کرنے لگی۔ اَبھی فارغ ہوئی ہی تھی کہ سیٹ کانپنے لگا۔ شہزاد کال کررہا تھا۔ اُس نے ہدایت کے مطابق کال ریسیو کرنے کی بجائے فون کو گریبان میں اُڑس لیا۔ اُس نے دو تین مرتبہ کال ریسیو کرنے والے بٹن پر انگلی رکھی اور سیٹ نکال کر دیکھا۔ ہر بار اس کی انگلی ٹھیک بٹن پر لگی تھی۔
تھوڑے تھوڑے وقفے سے سینے پر دوسرا دِل دھڑکنے لگتا۔ پھر خاموش ہوجاتا۔ اِس دھڑکتے رُکتے دِل کا رشتہ دور بیٹھے شہزاد سے جُڑا ہوا تھا۔ وہ کافی دیر تک بیٹھی رہی پھر اُٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھی۔ کھڑکی کھل گئی۔ باہر مضبوط آہنی گرل اور باریک جالی لگی ہوئی تھی۔ چند فٹ کے فاصلے پر قدآدم دیوار واقع تھی جس کے اوپر سوائے درختوں کی چوٹیاں ا ور نیلگوں آسمان کے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ بیڈ کی دوسری جانب واقع کھڑکی میں آن کھڑی ہوئی۔ وہاں سے جھانکنے پربھی یہی منظر دکھائی دیا۔
اُسے غیر معمولی پُر سکوت خاموشی پر اچنبھا ہوا۔ شاید اطراف میں کوئی گھر، کوئی سڑک یا کوئی ذی روح موجود نہیںتھا۔قریب ہی کہیں پیٹر انجن پر چلتے ہوئے ٹیوب ویل کا مخصوص شور، پرندوں کی ملی جلی چہکاریں اور مخصوص گھرگھراہٹ ماحول کو خاصا پُر اسرار بنارہی تھی۔ دروازے کو کھولنے کی کوشش کی۔ ناکام ہونے پر مضبوط چوبی طاق کے ساتھ کان لگا کر باہر کی سُن گُن لینے کی کوشش کی مگر کچھ سنائی نہ دیا۔ یوں لگتا تھا کہ اُسے اغوا کرنے والے اُسے یہاں قید کرکے واپس چلے گئے تھے۔
اُس نے ایک بار پھرکمرے کا بہ نظرِ احتیاط جائزہ لیا۔ خاصا بڑا کمرہ تھا۔ ایک گوشے میں اَدھ کھلا دروازہ اٹیچڈ باتھ کی خبر دیتا تھا۔ وہ باتھ روم کے دروازے میں آن کھڑی ہوئی۔ جھانکنے پر پتہ چلا کہ باتھ روم میں ایک اور دروازہ بھی کھلتا تھا۔ اُس نے باتھ روم میں پڑے ہوئے مردانہ سلیپر پہنے اور قدم بڑھا کر اُس دروازے کو بھی کھول دیا۔ اُس کی اُمید پر پانی پھر گیا۔ وہ دروازہ باہر کی طرف نہیں کھلتا تھا بلکہ باکس نما ڈریسنگ روم میں کھلتا تھا جس میں وارڈ روب، ڈریسنگ ٹیبل اور ریوالونگ بنچ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ بے ارادہ وارڈ روب کھولی۔ ہینگروں میں لٹکے ہوئے تین چار لیڈیز سوٹ دیکھ کر دَم بخود رہ گئی۔
کمرے میں آئی۔ دیوار گیر الماری کو کھول کر دیکھنے لگی۔ الماری کھانے پینے کی مختلف اشیاء سے بھری ہوئی تھی۔ یہ صورتِ حال خاصی خطرناک تھی۔ اغوا کاروں نے اُسے لمبے عرصے کے لیے یہاں رکھنے کا بندوبست کررکھا تھا۔ ایسے میں اُسے ایک خیال آیا اور اُس نے الماری بند کردی۔ فون کی ٹھیر ٹھیر کر گدگدانے والی تھرتھری شہزاد کی بے چینی کو ظاہر کررہی تھی۔ بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گئی اور فون نکال کر کال ریسیو کرتے ہوئے نہایت دھیمی آواز میں بولی۔ ’’شہزاد صاحب! یہاں بالکل خاموشی ہے، لگتا ہے میں شہر میں نہیں، گاؤںکی کسی حویلی میں ہوں۔ آپ بار بار تکلیف اُٹھا رہے ہیں، جونہی کسی کے آنے کی آہٹ سنائی دی، آپ کو کال کر دوں گی۔ ‘‘
شہزاد کی عجلت بھری آواز سنائی دی ۔ ’’اپنے طور پر یہاں سے نکلنے کی کوشش کرتی رہو۔‘‘
’’یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔میں کچھ نہیں کرسکتی، آپ ہی کچھ کریں ورنہ وہ مجھے مار دیں گے۔ ‘‘ وہ منت آمیز لہجے میں بولی۔
’’پولیس پارٹیاں جگہ جگہ پر ریڈ کررہی ہیں۔ تمھیں کسی پر ذرا بھرشبہ بھی اگر ہے تو بتا دو؟‘‘
’’شاہ سائیں کے علاوہ مجھے کسی پر شبہ نہیں۔‘‘ وہ بولی۔
ایسے ہی وقت میں کمرے کے باہر کسی کے قدموں کی آہٹ اُبھری۔ اُس نے چونک کر نہایت آہستہ آواز میں کہا ۔ ’’کوئی آرہا ہے۔‘‘
فون کو آن چھوڑ کر گریبان میں ڈال کر چادر اوڑھنے لگی۔ چند لمحوں کے بعد دروازے کا قفل کھلنے کی مخصوص آواز سنائی دی ۔ دروازہ کھلا اور ایک جسیم مَرد کمرے میں داخل ہوا۔ بانو سہم کر اُسے دیکھنے لگی۔ وہ اُس کے لیے یکسر اجنبی تھا۔ دروازہ بند کرکے اُس کے قریب بیڈ کے میٹرس کے ساتھ چپک کر کھڑا ہوا تو وہ ایڑیوں کے بَل پیچھے کی طرف کھسک گئی۔وہ نسبتاً نرم لہجے میں بولا ۔ ’’لڑکی! اگر تم چیخنے چلانے کا شوق پورا کرنا چاہو تو تمھیں مکمل آزادی حاصل ہے۔ حلق پھاڑ کر چیخو۔ یہاں تمھاری آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔ نکل بھاگنے کی کوشش کرو گی تو کتے کی موت ماری جائو گی۔ ہاں! کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلاجھجک مانگ سکتی ہو۔‘‘
اُس کا دِل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی ۔ ’’تم کون ہو؟ مجھے یہاں کیوں اُٹھا کر لائے ہو؟‘‘
’’یہ بتانا ضروری نہیں کہ میں کون ہوں۔ تمھیں کیوں لایا گیا ہے، یہ تمھیں آنے والی رات میں پتہ چل جائے گا۔‘‘ اجنبی کے سفاک چہرے پر زہریلی مسکراہٹ ناچنے لگی۔ دیوار گیر الماری کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔ ’’الماری میں تمھارے کھانے پینے اور عام استعمال کی چیزیں موجود ہیں اور یہ رہا اٹیچڈ باتھ… تم چینج لے سکتی ہو۔ اُدھر وارڈ روب میں کئی لباس موجود ہیں۔‘‘
اُس نے بے ارادہ الماری کی طرف ایک نظر دیکھا، بولی ۔ ’’یہ کون سی جگہ ہے؟‘‘
وہ بولا ۔ ’’یہ ایسی جگہ ہے جہاں کوئی اپنی مرضی سے نہیںآتا، وہ آتا ہے جسے ہم لاتے ہیں۔جو ایک مرتبہ یہاں آجائے، وہ اپنی مرضی سے نہیں، ہماری مرضی سے واپس جاتا ہے۔ جو ہماری مرضی کے بغیر یہاں آنے یا یہاں سے جانے کی کوشش کرتا ہے، وہ سیدھا جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔‘‘
بانو کے لب سل گئے۔ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی جو بڑے نرم لہجے میں آگ برسا رہا تھا۔وہ اُلٹے قدموں پیچھے ہٹا۔دروازے کے قریب نصب سوئچ بورڈ پر لگے ایک بٹن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’اگر تمھیں کچھ مانگنا ہو، کوئی تکلیف ہو تو اِس بٹن کودَبا دینا۔ یہ کال بیل کا بٹن ہے۔‘‘
پھر ایک نگہِ عجب اُس کے چادر میں لپٹے وجود پر ڈالتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ جاتے ہوئے اُس نے دروازہ باہر سے بند کر دیا تھا۔ اُس کے قدموں کی آواز معدوم ہوئی تو وہ سرعت سے اُٹھی اور باتھ روم میں گھس گئی۔ دروازہ بند کرکے فون نکالا۔ محتاط لہجے میں بولی ۔ ’’ہیلو شہزاد صاحب! آپ نے پوری بات چیت سنی؟‘‘
شہزاد کی آواز کانوں میں پڑی ۔ ’’ہاں! سن چکا ہوں۔کیا دھمکیاں دینے والے کو پہچانتی ہو؟‘‘
’’نہیں! اُسے میں نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ لمبا چوڑا، گورا رنگ، بڑی بڑی نوکیلی مونچھیں اور کھلی شلوار قمیص… مجھے بڑا ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ وہ پھر سسکنے لگی۔
’’بانو پلیز! سمجھنے کی کوشش کرو۔ رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا۔ تمہیںاِس موقع پر غیر معمولی دلیری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ بہت بڑا نقصان ہوجائے گا۔ اِس وقت ایک ایک لمحہ بڑا قیمتی ہے۔ رونے میں ضائع کرنے کی بہ جائے مجھے کارآمد باتیں بتلائو۔‘‘
وہ بولی ۔ ’’لگتا ہے کہ یہ لوگ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔ مجھے اِن کے ارادے …‘‘
’’اوکے…اوکے!‘‘ شہزاد نے جلدی سے کہا ۔ ’’شاہ سائیں اپنے آستانے پر موجود ہے۔ قوی شبہ ہے کہ یہ اُسی کی مذموم حرکت ہے۔ پولیس سادہ کپڑوں میں اُس کی نگرانی کررہی ہے۔ جونہی وہ تمھاری طرف آنے کی کوشش کرے گا، پولیس اُس کے تعاقب میں اِس خفیہ ٹھکانے پر پہنچ کر تمھیں بہ خیریت بازیاب کرالے گی۔‘‘
بانو نے کوئی جواب نہیں دیا۔ شہزاد اُسے خود پر قابو رکھنے کا مشورہ دینے کے بعد بولا ۔ ’’میں فون بند کرنے لگا ہوں۔اگر کوئی خاص بات ہو تو کال دینا۔ کسی اور کو کال نہ کرنا، کہیں یہ نہ ہو کہ فضول باتوں میں فون کی بیٹری ختم ہوجائے یا شک ہونے کی بنا پر تم سے موبائل چھین لیا جائے۔ایسا ہو گیا تو رابطے اوراُمید کی اکلوتی ڈور ٹوٹ جائے گی۔‘‘
وہ گھبراکر بولی ۔ ’’بالی تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘
’’بالی اور عینی میرے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ وائڈ اسپیکر پر تمھاری باتیں سن رہے ہیں۔‘‘ شہزاد نے کہا اور فون بند کردیا۔ بانو نے جلدی سے ڈسپلے اسکرین پر دیکھا۔ بیٹری کی چارجنگ ظاہر کرنے والی لکیریں پوری تھیں۔اطمینان بھری سانس سینے میں اُتار کر وہ فون کو مخصوص جگہ پر چھپاتے ہوئے باتھ روم سے نکل آئی۔
روتے روتے آنسو خشک ہوگئے۔ پیاس لگی، پانی پی کر سوچنے لگی۔ تاوان کے لیے امیروں کے بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ اپنے مفادات کی آبیاری کے لیے مقتدروں کی لڑکیوں کا اُٹھایا جاتا ہے یا دُشمنی کے تناور درخت کی جڑیں سیراب کرنے کے لیے اتنا بڑا قدم اُٹھایا جاتا ہے۔ جہاں اِن اسباب میں سے کوئی ایک بھی مدنظر نہیں ہوتا، وہاں جوانی کی دہکتی ہوئی آگ پر سردبدنوں کی لمبی چُپ کو آتش گویائی بخشنے کا ہذیان کارفرما ہوتا ہے۔ سمجھائے بغیر ہی سمجھ میں آرہا تھا کہ اُس کی خیر نہیں تھی۔ اُسے اگر شاہ سائیں نے اغوا کرایا تھا، تب بھی، اور اگر کسی اور نے اُٹھایا تھا، تب بھی اُس کی عصمت اور زندگی شدید خطرے میں تھیں۔ سوچ وبچار کے کارِ مسلسل کے سبب سر درد سے پھٹنے لگا۔ الماری سے کوک کی لٹر پیک بوتل نکالی۔ کھول کر لبوں سے لگائی، مانوس ذائقہ بھی کسیلا اور اجنبی سا لگا۔ چند گھونٹ بھرنے کے بعد اُس نے بوتل واپس الماری میں رکھ دی۔
اپنی بانْہہ کو سہلاتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا؟ وہ جوں کی توں لیٹی رہی اور آنکھیں پھاڑے چھت کو گھورتی رہی۔ عینی کے بستر سے یہ بیڈ کہیں زیادہ آرام دِہ تھا، دیکھنے میں پھولوں کی سیج تھا مگر عملی طور پر کانٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ کانٹے بدن کے عضو عضو میں چبھن بھر رہے تھے۔ پلک جھپکتے میں کیا سے کیا ہوگیا تھا۔ آنسوئوں سے نم آواز میں بڑبڑانے لگی ۔ ’’ہائے میرے خدا! یہ کیا ہوگیا؟ تیرے حکم کو مان کر میں نے خود کو بچانے کے لیے وقت ناوقت سامان باندھا، چوروں کی طرح بُکل مار کر اَن گنت ہجرتوں کا عذاب جھیلا اور ننگے پائوں دُنیا کے تپتے صحرا میں سرپٹ دوڑی، آج کسی بے غیرت کے ہاتھوں نوچی کھسوٹی جانے والی ہوں۔ اے اپنے بندوں کی لاج رکھنے والے! میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتی ہوں، اپنی پارسائی اور پاک دامنی کا واسطہ دیتی ہوں، مجھے اِس عذاب سے نکال لے۔ اگر میرے کسی جُرم پر سزا دینا ہی مصلحت ہے تو میرے دھڑکتے ہوئے دل کو مٹھی میں جکڑ کر ہمیشہ کے لیے خاموش کر دے۔مجھے موت قبول ہے مگر شرم کا پردہ کھلنے کے بعد کی اذیت ناک زندگی کا عذاب قبول نہیں ہے۔‘‘
وہ زندگی کی ہر مشکل گھڑی میں پیدا کرنے والے کو آواز دیتی آئی تھی۔ کبھی بھی اُس نے مایوس نہیں کیا تھا۔ خیال آنے پر اُٹھی۔ وضو کرکے قالین پر کھڑی ہوگئی۔ ایک اور مشکل آن پڑی تھی۔ سمتوں کا علم نہیں تھا۔ اُس کے روبَہ رُو جھکنے کے لیے چہرے کا رُخ سوئے کعبہ ہونا ضروری تھی۔ مجبوری کے عالم میں جس سمت میں کھڑی تھی، اُسی سمت میں کعبے کا تصور پختہ کر لیا۔ عصر کا وقت ہوچلا تھا۔ نماز پڑھی۔ اپنے گناہوں کی رو رو کر معافی مانگی اور اِس مشکل وقت میں غیبی امداد طلب کی۔ شام تک دونوں ہاتھ پھیلائے بیٹھی رہی، روتی سسکتی رہی اور آنے والے بُرے وقت کے بارے میں سوچتی رہی پھر دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
اُس نے تمام دِن میں کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اُسے بھوک کا احساس بھی نہیں ہوا تھا۔ کچھ کھانے پینے کا ارادہ کر رہی تھی کہ فون پر کال آنے لگی۔ اُس نے فون نکال کر دیکھا۔ شہزاد رابطہ کررہا تھا۔ وہ جلدی سے باتھ روم میں چلی گئی۔ بولی ۔ ’’اَبھی تک کوئی بھی نہیں آیا۔‘‘
’’لگتا ہے، ہمارا شاہ سائیں پر شک بے جا تھا۔ وہ اپنے معمول کے مطابق آستانے سے اُٹھ کر گھر کے اندر چلا گیا۔ کافی دیر گزر گئی، اَبھی تک باہر نہیں نکلا۔‘‘ شہزاد کا لہجہ تفکر آلود تھا۔
وہ گھبرا گئی ۔ ’’پھر اَب کیا ہوگا؟ کیا پولیس مجھے ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئی ہے؟‘‘
’’میری درخواست پر ایس پی صاحب نے ریزرو فورس منگوا لی ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں ٹیمیں تمھیں تلاش کررہی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم آج رات میں تم تک پہنچ جائیں گے۔‘‘ شہزاد نے اُسے تسلی دینے کے سے انداز میں کہا اور رابطہ منقطع کردیا۔ اُس کے لہجے کے کھوکھلے پن کو بانو محسوس کئے بنا نہ رہ سکی۔ آٹھ بج گئے، پھر دَس بجنے کو آگئے مگر اُسے تمام دِن قید کیے رکھنے والا صیاد نہ آیا۔ نقاہت کا احساس ہونے پر وہ الماری سے کھانے پینے کی چیزیں نکالنے لگی۔
لیٹی تو نیند نے اپنی پُر کیف گرفت میں جکڑ لیا۔ سوگئی، مقدر بھی شایدسو گیا۔ رات کے کسی پہر میں اچانک آنکھ کھل گئی۔ خود پر کسی کو جھکا ہوا دیکھ کر دہشت ناک چیخ مار کر اُٹھ بیٹھی۔ جھک کر دیکھنے والا غیر اختیاری طور پر سرعت سے پیچھے ہٹ گیا۔
شاہ سائیں کو پہچاننے میں اُسے زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ ایسے میں موبائل فون پر کال دینے کے لیے کھجلی کا خیال آیا۔ جلدی سے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ دل دھک سے رہ گیا۔ فون اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا۔ اُس نے تڑپ کر سارا سینہ کھجلا ڈالا مگر وہ نہ ملا۔ کمرے میں شاہ سائیں کا طنزیہ قہقہہ گونج اُٹھا۔ بانو نے خوف اور نفرت بھری نگاہوں سے اُسے دیکھا، دانت کچکچائے اور آگ برساتے لہجے میں بولی ۔ ’’میں جانتی تھی، اتنی ذلیل اور گری ہوئی حرکت کرنے والا تمھارے سوا کوئی اور نہیں ہوسکتا۔‘‘
اُس کی ہنسی تھم گئی۔ الٹے قدموں چلتے ہوئے سوفے پر ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا۔ ہاتھ وائپر کی طرح اُس کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے فاتحانہ انداز میں مسکرایا ۔ ’’دیکھو … اپنے موبائل فون کو دیکھو۔ دل سے لگا کر رکھی ہوئی چیزوں کا دھیان بھی رکھنا چاہیے۔ اس نے تمھیں جگانے کی بہتیری کوشش کی مگر تمھاری آنکھ نہیں کھلی۔‘‘
بانو کی اُمید دَم توڑ گئی۔ موبائل فون کا آسرا ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا ۔ ’’شہزادکی بہن بار بار تمھاری خیریت دریافت کرنے کے لیے کال کررہی ہے۔ اُس کی بے چینی کو ختم کئے دیتا ہوں تاکہ بے چاری سکون کی نیند سو جائے۔‘‘
اُس نے فون ’پاورڈ آف‘ کرکے جیب میں ڈال لیا۔ اُس کا حد سے بڑھا ہوا اعتماد اور پُر یقین رویہ بانو کے خوف میں اضافہ کررہا تھا مگر وہ اپنی نفرت پر قابو نہ پا سکی اور حلق کے بَل پوری قوت سے چیخی ۔ ’’میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑوں گی کمینے انسان!شہزاد کو پتہ چل چکا ہے کہ تم نے مجھے اغوا کررکھا ہے، وہ کسی بھی وقت پولیس کو لے کر یہاں پہنچنے والا ہے۔‘‘
شاہ سائیں کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ سوفہ چھوڑ کر بانو کے قریب بیڈ پر آگیا۔ اُس کی کلائی تھامنا چاہتا تھا مگروہ بدک کر پیچھے ہٹ گئی۔ انسانوں کے پُرہجوم شہر میں اُس کے ہاتھوں سے بچ نہیں سکی تھی، اُس کے قید خانے میں کہاں تک خود کو اُس کی گرفت سے دور رکھ سکتی تھی۔ بیڈ کی دوسری سائیڈ سے نیچے اُتر کر دروازے کی طرف بھاگی۔ چٹخنی کھولنے کی کوشش کررہی تھی کہ سائیں کی گرفت میں آگئی۔ تڑپ کر مچلی اور مچھلی کی طرح ہاتھوں سے پھسل کر باتھ روم کی طرف دوڑی۔ اُس نے سوچا تھا کہ باتھ روم میں گھس کر دروازہ اندر سے بند کرلے گی مگر اُس کے لانبے بال سائیں کی مشتعل کلائی سے لپٹ گئے۔ سائیں نے ایک جھٹکا دیا اور اُسے بیڈ پر پھینک دیا۔ وہ پہلو کے بل بیڈ پر گرکر کراہنے لگی۔ شاہ سائیں اُس کی خُو کو پہچان چکا تھا۔ غرا کر بولا ۔ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ تم بھی شرافت کی زبان سمجھنے والی نہیں ہو، اَب ایسے طریقے سے سمجھائوں گا کہ تم لفظ لفظ سمجھتی جائو گی۔‘‘
اُس نے بالوں کو پکڑ کر چہرہ اوپر اُٹھایا، الٹے ہاتھ کا زور دار طمانچہ منہ پرمارا پھر اندھا دُھند مارتا چلا گیا۔ لاتوں، مکوں اور تھپڑوں نے کچھ ہی دیر میں بانو کو بے سُدھ کردیا۔ بے جان انداز میں آڑی ترچھی پڑی لمبے لمبے سانس لیتی رہی، کراہتی رہی اوروہ فاتحانہ انداز میں جوتے سمیت ایک پائوں بیڈ پر رکھے فرعون بنا کھڑا رہا۔
استہزائیہ انداز میں بولا ۔ ’’تمھارا عاشق پولیس کو سادہ کپڑوں میں میری نگرانی پر مامور کرکے چین کی نیند سوگیا تھا۔ اُس نے سوچا تھا کہ میرا پائنچہ پکڑ کر پولیس تم تک پہنچ جائے گی۔ اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ رات کو چور جاگتے ہیں، پولیس والے لمبی سادھ کر سو جاتے ہیں۔میری نگرانی کرنے والے آنکھوں پر میرے پھینکے ہوئے بڑے بڑے نوٹ رکھے میرے گھر کے گیٹ کی نگرانی کررہے ہیں اور اپنے آقائوں کو وائرلیس پر میرے گھر میں موجود ہونے کا یقین دلاتے رہیں گے تاوقتیکہ میں واپس اپنے کمرے میں نہیں پہنچ جاتا۔ تجھے بچانے والے سبھی کتے چاروں شانے چت لیٹے خراٹے بھررہے ہیں جبکہ تمھارا سچا عاشق تمھیں جگانے کے لیے آدھی رات کو دوڑا چلا آیا۔ اپنے عاشق کو جوانی کی مست ٹہنی پر جھومتے ہوئے پھول کو سونگھنے دو، پتیاں نوچ کر بکھیر دینے پر مجبور نہ کرو۔‘‘
بانو کے دماغ نے ہار مان لی مگر دل نے نئی راہ سجھادی۔ دُکھتے ہوئے بدن پر سے توجہ ہٹا کر سمجھانے لگا ۔ ’’اے لڑکی! تم بے حیائی کی زندگی پر موت کو ترجیح دیتی تھیں، پھر اَب ایسا کیا ہوا ہے کہ تم نے ہار مان لی ہے۔ تم اِس دیو کو مار نہیں سکتی ہو، کیا ہوا، اپنی جان تو لے سکتی ہو۔ اُٹھو! میں تمھاری مدد کرتا ہوں۔‘‘
وہ یکبارگی تڑپ کر اُٹھی۔ بیڈ کے سرھانے کی سمت والے بڑے چوبی تختے پر پوری قوت کے ساتھ بازو پٹخا۔ ایک ہی وار میں تمام چوڑیاں ٹوٹ کر چھوٹے بڑے اَن گنت ٹکڑوں میں بٹ گئیں۔اُس نے بجلی کی سی تیزی سے چند بڑے ٹکڑے مٹھی میں بھرے، شعلہ بار نگاہوں سے سائیں کو دیکھا اوربائیں ہاتھ کی پشت پر نوک کے رُخ پرچوڑی کے ٹکڑے رکھ کر پوری قوت کے ساتھ نیچے کی طرف کھینچے۔ سائیں کو سمجھنے میں کچھ دیر لگی تھی۔ سمجھنے اور سنبھلنے تک بانو اِس پُر تشدد عمل کو تین چار مرتبہ دہرا چکی تھی۔ سائیں نے اُسے قابو کرنے میں دیر نہیں لگائی مگر تب تک ہاتھ کی پشت پر دو تین جگہوں سے خون کے فوارے اُبل پڑے۔ چوڑی کے ٹکڑوں نے خون کی وریدوں کو کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ چند ہی لمحوں میں بانو کی گود، پائوں اور بیڈ خون سے تَر ہوگئے۔
سائیں نے ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔ بانو نے کانچ بھری مٹھی اُس پر تان لی اور ہذیانی انداز میں چیخی ۔ ’’بے غیرت انسان! مجھے ہاتھ مت لگانا ورنہ کاٹ کر رکھ دوں گی۔ میں جان دے دوں گی مگر تمھاری بھوکی نیت کو بھرنے نہیں دوں گی۔‘‘
شاہ سائیںکے لیے یہ صورتِ حال قطعی غیر متوقع تھی۔ وہ پریشان ہوگیا۔ الجھی ہوئی نگاہوں سے خون میں تر ہوتے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔ تھام کر خون کا بہائو روکنا چاہتا تھا مگر ہاتھ تھامنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ جس نے خود کو چھلنی کردیاتھا، وہ اُسے گزند پہنچاتے ہوئے کیونکر پیچھے ہٹتی۔ نرم لہجے میں بولا ۔ ’’پاگل لڑکی! دیکھ تو کتنا ڈھیر سارا خون بہہ گیا ہے۔ ہاتھ ادھرلائو، میں خون روکنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اوہ میرے خدا! یہاں تو مرہم پٹی کا سامان بھی موجود نہیں ہے۔‘‘
شیر کے خونی جبڑوں سے منمناہٹ سُن کر وہ شیر ہوگئی۔ وحشت آمیز انداز میں غرائی ۔ ’’مجھے ہاتھ مت لگانا ورنہ تمھیں زندہ نہیں چھوڑوں گی۔‘‘
آنکھوںمیں پُرگداز جوانی کی طلب کی جگہ خون کی سرخ دہشت پھیلنے لگی تو وہ بیڈ سے اُتر کر ایک قدم پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا۔ سمجھانے کے سے انداز میں بولا ۔ ’’میں تمھارے زخموں پر ہاتھ نہیں رکھوں گا تو تم خون کے بے تحاشا بہائو کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں ختم ہوجائو گی۔‘‘
’’ختم ہوجائوں گی تو تمھاری بھوک بھی مٹ جائے گی۔‘‘ اُس کا لہجہ بہت سنگین تھا۔ کئی منٹ گزر گئے۔ اُس کا سُرخ تر چہرہ پیلاہٹ پکڑنے لگا تھا۔ آنکھوں سے نقاہت مترشح ہونے لگی تھی۔ ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی ۔ ’’میں مرنا چاہتی ہوں۔ میں نے موبائل پر شہزاد اور عینی کو بتلا دیا تھا کہ تم نے ہی مجھے اغوا کیا ہے۔ میں مر جائوں گی تو تمھیں میرے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے گا۔تم پھانسی کے پھندے پرلٹک کر اپنے جیسے شیطانوں کے لیے عبرت کی داستان بن جائو گے۔‘‘
وہ منت آمیز لہجے میں بولا ۔ ’’مجھے پھانسی کا کوئی خوف لاحق نہیں ہے مگر میں تجھے مارنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ مجھے قریب آنے دو، وعدہ کرتا ہوں کہ تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا۔‘‘
وہ سوچ میں پڑ گئی۔ مرنے کا خیال بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ہاتھ کی پشت پر انگارے سلگ رہے تھے۔ تکلیف حد سے تجاوز کرنے لگی تھی۔ لہو کے مسلسل اخراج نے پورے جسم پر موت کی نقاہت طاری کرنا شروع کر دی تھی۔ دائیں ران اور پیٹ کے درمیان کانچ بھری مٹھی رکھتے ہوئے بولی ۔ ’’تمھارے جیسے بے ایمان آدمی کے وعدے پر کوئی یقین نہیں رکھتی۔ خون کی شریان پر ہاتھ رکھ کر تجھے قریب آنے کی اجازت دیتی ہوں۔ آئو، بہتے ہوئے خون پر بند باندھ سکتے ہو تو باندھ لو۔ یہ دھیان رکھنا کہ اگر تم کوئی بھی غلط حرکت کرو گے تو میں اپنی شریان کاٹ دو ں گی۔‘‘
وہ باتھ روم سے تولیہ اُٹھا لایا اور آہستہ قدموں سے چلتا ہوا بانو کے قریب آگیا۔ کچھ فاصلے پربیٹھ کر اُس کے ہاتھ کی پشت کو غور سے دیکھنے لگا۔ تولیے سے خون پونچھا، کٹی ہوئی وریدوں کا محل وقوع بھانپا اور زخموں پر سختی سے ہاتھ رکھ دیا۔ خون کے رسنے کی مقدار خاصی کم ہوگئی۔ کچھ دیر بعد اُسے دونوں ہاتھوں کی مدد سے بانو کے ہاتھ کو دَبانا پڑا۔ عجیب صورتِ حال بن گئی تھی۔ مارنے والا، موت کے راستے میں ہتھیلیوں کا بند باندھے پریشان بیٹھا آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں غور وخوض کررہا تھا اور دَم بہ دَم بانو کے دَم کو کوس رہا تھا۔ اُس کی انگلیاں خون سے تَر ہو گئیں۔ سوچ میں پڑ گیا ۔ ’’میں کب تک خون روکے بیٹھا رہوں گا؟‘‘
رَگوں میں دوڑتا ہوا خون حسن بن کر اُسے اپنی جانب کھینچتا تھا۔ رَگوں سے نکل کر اُسے دہشت میں مبتلا کررہا تھا۔ اُس نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ مر گئی تو اُس پر قتل کا الزام عائد ہوگا کیونکہ وہ اپنے پیچھے بیٹھے ہوئوں کو اُس کے بارے میں بتلا چکی تھی۔ اِس تکلیف دہ صورتِ حال سے نبٹنے کے لیے اُس کا ذہن بڑی تندہی سے کام کررہا تھا مگر کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
وہ تکلیف کے مارے جبڑے بھینچے پوچھ رہی تھی ۔ ’’یہ کون سی جگہ ہے؟‘‘
وہ جھنجلا کر بولا ۔ ’’بکواس مت کرو۔ میں اِس وقت کچھ بھی سننا نہیں چاہتا۔‘‘
وہ زہر خند انداز میں مسکرائی ۔ ’’ٹھیک ہے مگر میں سننا چاہتی ہوں، تم بکواس کرو۔‘‘
اُس نے بپھر کر کچھ کہنا چاہا، پھر ہونٹ بھینچ کر خاموش ہوگیا۔ وہ بولی ۔ ’’تم کب تک میرا ہاتھ پکڑے رکھو گے؟ آخر تھک جائو گے۔ اس سے پہلے تم کسی ڈاکٹر کو فون کرکے بلا لو یا مجھے کسی اسپتال میں لے جائو۔ میری حالت زیادہ خراب ہورہی ہے۔‘‘
’’بھاڑ میں جائو تم اور…‘‘ وہ سخت غصے میں پھٹ پڑا۔
’’ٹھیک ہے، میرا ہاتھ چھوڑ دو، میں کچھ ہی دیر میں بھاڑ میں چلی جائوں گی۔ تم بھی جیل کی ہوا کھانے لگو گے۔‘‘ وہ پریشانی کے عالم میں بولی۔
دونوں پھر خاموش ہوگئے۔سائیں کی انگلیاں تھکنے لگیں تو اُسے مفاہمت کا خیال آیا۔ سمجھانے کے سے انداز میں بولا ۔ ’’مجھے تمھاری زندگی عزیز ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم بلاوجہ موت کا شکار ہوجائو۔‘‘
’’تم جو کچھ میرے ساتھ کرنا چاہتے تھے، وہ موت سے زیادہ کریہہ اور خوفناک تھا۔‘‘ وہ ترکی بہ ترکی بولی۔
’’میں مانتا ہوں کہ میں نے اچھا نہیں کیا مگر یقین مانو کہ میری نیت بُری نہیں تھی۔ میں تمھیں اپنی شریکِ حیات بنانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اگر ایسا تھا تو تم رات کے اندھیرے میں اکیلے نہ آتے بلکہ پہلے کی طرح نکاح خواں اور گواہوں کے جلوس میں دندناتے ہوئے دِن کے اُجالے میں آتے۔ تمھیں ماننا پڑے گا کہ تم انسان نہیں، شیطان بن کر میری تنہائی میں اُترے ہو اور مجھے جیتے جی مار دینا چاہتے ہو۔‘‘ بانو کا لہجہ نہائت سرد تھا۔
’’نہیں… میرا تمھیں ہاتھ لگانے کا ارادہ نہیں تھا۔ میں تو صرف تم پر اپنی محبت کی برتری اوربانْہوں کی طاقت ثابت کرنا چاہتا تھا۔ تمھیں بتانا چاہتا تھا کہ میں تمھاری محبت میں ایسا انتہائی قدم بھی اُٹھا سکتا ہوں۔‘‘ اُس نے اپنے لہجے میں غیر معمولی حلاوت گھول لی تھی۔
وہ ہنسی ۔ ’’یوں ہی سہی… مجھے تمھاری طاقت کا یقین آگیا۔ تم اپنے گرگوں کو بلائو اور مجھے میرے گھر پہنچا دو۔‘‘
’’اِس وقت؟‘‘ وہ گھبرا گیا۔
’’اگر تم صبح تک ایسے ہی بیٹھے رہ سکتے ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘ وہ مصنوعی بے پروائی سے بولی۔
’’میں تھک گیا ہوں۔ تم چوڑیاں پھینک کر زخموں پر ہاتھ رکھو، میں بیڈ شیٹ پھاڑ کر پٹی بناتا ہوں اور ہاتھ پر لپیٹ دیتا ہوں۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں چوڑیاں نہیں پھینکوں گی خواہ پورے جسم کا خون بہہ جائے۔ ‘‘ وہ گھبرا کر بولی۔ پھن پھیلائے سانپ پر اعتماد کرنے کو جی نہیں مانا ۔ ’’تم ایک ہاتھ چھوڑ دو۔ میرا دوپٹہ گردن سے نکال لو اور پھاڑے بغیر ہاتھ پر کس کے باندھ دو۔ اسپتال یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘
’’وہاں پہنچنے میں کم از کم ایک گھنٹہ لگے گا۔‘‘
’’کیا یہاں تمھارے اور میرے سوا کوئی بھی نہیںہے؟‘‘
اُس نے نفی میں سر ہلایا۔ ایک ہاتھ سے بانو کی گردن سے لپٹا ہوا دوپٹہ نکالا، اُسے ہاتھ پر لپیٹا اور طویل سانس لے کراپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو پوری وسعت میں پھیلا کر سہل کرنے لگا۔ چونکہ بدن کی مستی خون دیکھ کر ہوا ہوچکی تھی، اِس لیے ذہن انجام کے اندیشوں میں گھر گیا۔ پُر تفکر لہجے میں بولا ۔ ’’تمھیں شہر لے کر جائوںگا تو تمھارے اغوا کے الزام میں دھر لیا جائوں گا۔ تمھیں چھوڑ کر جائوں گا تو تم چیخ چیخ کر مجھے گرفتار کروا دو گی۔ اِس سے کہیں بہتر ہے کہ میں تجھے قتل کرکے گڑھے میں دَبا دوں۔ نہ بانس رہے گا اور نہ دُنیا میں میری بد نامی کی بانسری بجے گی۔‘‘
وہ کانپ گئی۔ سوچ میں پڑ گئی۔ یہاں سے زندہ اور باعافیت نکلنا ضروری تھا۔ مفاہمت کا راستہ دکھاتے ہوئے بولی ۔ ’’تم سانپ ہو، ڈنک مارنا تمھاری سرشت میں شامل ہے مگر کان کھول کر سن لو۔ میری لاش بھی ڈنکے کی چوٹ پر تمھیں اپنا قاتل قرار دیتی رہے گی۔ ایک ہی صورت ہے، تم کسی طرح مجھے اسپتال تک پہنچاکر اپنا منحوس چہرہ گم کرلو، میں تمھارا نام نہیں لوں گی۔‘‘
’’مجھے تم پر اعتبار نہیں ہے۔‘‘
’’یوں کہو کہ اپنے کئے پر اعتبار نہیں ورنہ میں نے آج تک تمھیں کوئی دھوکا نہیں دیا۔ ناقابلِ اعتبارمیں نہیں، تم ہو۔ اپنا حلیہ دیکھو، اپنی شہرت دیکھو اور اُس عمل پر نگاہ ڈالو جو تم نے سرزد کیا ہے۔‘‘ وہ نفرت آمیز لہجے میں بولی ۔ ایسے میں زخم چبھنے لگے۔ سسکاری لے کر بولی ۔ ’’میں مرنے کا تہیہ کئے بیٹھی ہوں، تم اپنی فکر کرو۔ مجھ پر ہاتھ اُٹھائو گے تو آنے والی صبح میں دُنیا جو تمھارے پیر چھوتی تھی، وہ تم پر تھو تھو کرنے لگے گی۔‘‘
شاہ سائیں کائیاں شخص تھا۔ جانتا تھا کہ بانو دُنیا میں نکلے گی تو دُنیا اُس پر تھو کے گی۔ کوئی اِس پر یقین نہیں کرے گا کہ وہ جیسی گئی تھی، ویسی ہی پلٹی ہے۔ بدنامی اور بے عزتی کی پہلی ٹھوکر پر ہی اُس کے لبوںنے ’شاہ سائیں‘ کا نام اُگل دینا تھا مگر بہ صد غور وخوض، اُسے اپنے بچائو کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ اُس کی خلوت میں اَن گنت شباب پھول بن کر مہکے تھے۔ اُن میں سے اکثر خود ہی پتی دَر پتی بکھرنے کے خواہاں تھے ۔ چند ایک ضدی لڑکیوں نے اُس کی آتشِ شوق کو بھڑکایا تھا مگر اُس کے ہتھکنڈوں کے آگے بالآخر ہار کر جھولی میں گر گئی تھیں۔ اُس نے بانو کے بارے میں یہی اندازہ لگایا تھا مگر وہ گلے میں ہڈی بن کر اَٹک گئی تھی۔
بانو کے ہاتھ پر بندھا ہوا دوپٹہ سرخ ہوچلا تھا۔ اُس کے پھیکے پڑتے چہرے پر نگاہ ڈالی، رسٹ واچ کی طرف دیکھا اور دل میں بولا ۔ ’’صبح ہونے میں اَبھی تین گھنٹے باقی ہیں۔ اگر خون اِسی رفتار سے بہتا رہا تو صبح ہونے سے پہلے ہی اِس حرافہ کی زندگی کی شام ہوجائے گی۔‘‘
اُس نے پانی پیا۔ بانو کے کہنے پر اُسے بھی پلایا۔ اُس کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ تن آسان ہوکر بیٹھی تھی۔ اُسے اپنے بے حد قریب پا کر چوکس ہوگئی۔ چوڑیوں بھرا ہاتھ تن گیا۔ شک آلود آنکھوں سے گھورتے ہوئے تھوڑا پیچھے کھسک گئی۔ بولی ۔ ’’کیا تم ڈر رہے ہو؟‘‘
شاہ سائیں نے ایک ذرا غصے سے دیکھا اور کہا ۔ ’’کوئی میرا بال بیکا نہیں کرسکتا، تم اِس خوش فہمی میں نہ رہو۔‘‘
’’تو اتنے مضطرب انداز میں کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ وہ جلد از جلد یہاں سے نکلنا چاہتی تھی کیوںکہ اُس پر نقاہت طاری ہونا شروع ہوگئی تھی۔
’’میں تمھارے بارے میں سوچ رہا تھا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ چونکی۔
’’یہی کہ تم مجھ سے اتنی بدگمان کیوں ہو؟ میں تمھیں عزت و احترام سے اپنی بیوی بنانا چاہتا تھا مگر تم نے نہائت تضحیک انگیز اندازمیں مجھے ٹھکرا دیا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔تم مجھے پیچھے دھکیلتی ہو، میری مردانگی مجھے آگے بڑھنے پر اُکساتی ہے۔جب تک تم مجھے قبول نہیں کرو گی، میں ایسے ہی اُلٹے سیدھے کام کرتا رہوںگا۔‘‘
’’اِس تذکرے کو چھوڑو، یہ سوچو کہ اَب ہمیں کیا کرنا ہے۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولی ۔
’’تم پر گناہ وثواب کا بھوت سوار ہے۔ چلو ایسا کرو، میرے کندھوں پر ثواب کی چادر ڈال کر سینے سے لگا لو۔ میں نکاح پڑھوانے کا بندوبست کرسکتا ہوں۔‘‘
’’میں تم پر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتی۔‘‘ وہ پُر تضحیک انداز میں غرائی۔
’’مجھ میں اور شہزاد میں کیا فرق ہے؟‘‘ وہ پلٹ کر پھنکارا۔
’’وہی جو ایک انسان اور شیطان میں ہوتا ہے۔‘‘
’’تم میری توہین کررہی ہو۔‘‘
’’یہ کیوں بھول گئے کہ تم میری توہین کرچکے ہو۔ میں ویسی نہیں رہی، آنے سے پہلے جیسی تھی۔ میں زمانے کو یقین نہیں دلا سکوں گی کہ مجھے کسی شیطان نے ہاتھ نہیں لگایا۔‘‘ اُس کے لہجے میں تندی بدستور موجود تھی۔
وہ توہین کے بار تَلے دَبا کندھے اُچکا کر خاموش ہوگیا۔ وہ کچھ دیر تک سوچتی رہی، پھر بولی ۔ ’’تم مجھے یہاں کا پتہ بتلائو، میں اپنے فون پر شہزاد سے رابطہ کرتی ہوں اور تمھارا بتلایا ہوا پتہ سمجھا دیتی ہوں۔ اُس کے آنے سے پہلے تم یہاں سے نکل جانا۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اُسے تمھارے بارے میں نہیں بتلائوں گی۔‘‘
تجویز شاہ سائیں کے دل کو اچھی لگی۔ سوچ میں پڑ گیا۔ اُس کے ایک حواری نے فرضی نام سے یہ فارم ہائوس کرایہ پر لیا تھا۔ پہلے بھی کئی مرتبہ اِسے تختۂ مشق بنا چکا تھا۔ رات کے ساتھ ہی بات ہوا میں تحلیل ہوتی دکھائی دی۔ اگر بانو اُس پر انگلی اُٹھائے گی تو وہ کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائے گی۔ وہ اپنے گھر میں اپنی موجودگی کے اَن گنت گواہ پیش کرسکتا تھا۔ اُس نے تفہیمی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔ ’’تمھاری جان بچانے کے لیے میں یہ خطرہ مول لے سکتا ہوں۔‘‘
بانو کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ اُبھری۔ رسی جل رہی تھی مگر اُس کے بَل بدستور موجود تھے۔ شاہ سائیں اُسے فارم ہائوس کا محلِ وقوع سمجھانے لگا۔ دروازے پر آکر رُکا، چندلمحے خاموش کھڑا کچھ سوچتا رہا پھر جیب سے بانو کا موبائل فون نکال کر بیڈ پر اُچھال کر کمرے سے نکل گیا۔ جاتے ہوئے اُس نے دروازے کو مقفل کردیا تھا۔
بانو نے فون آن کیا۔ نہ جانے کتنی دیر بند رہا تھا۔ اِس دوران شہزاد ، عینی اور بالی یقینا بہت پریشان ہوئے ہوں گے۔ شہزاد کا نمبر ملایا۔ رابطہ ہونے پر موجودہ صورت حال کے بارے میں بتلانے لگی۔ شاہ سائیں کا بتلایا ہوا پتہ سمجھانے کے بعد بولی ۔ ’’میں زخمی ہوں اور میرا خون مسلسل بہہ رہا ہے، پلیز جلد آئیں۔ وہ کمینہ جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ باہر سے بند کرگیا ہے۔‘‘
’’اوہ… تم فکر نہ کرو۔میں اور بالی پولیس کو لے کر اَبھی نکل رہے ہیں۔ اگر تمھاری حالت زیادہ خراب ہے تو بتلائو، میں ڈاکٹر کو اپنے ساتھ لے کر آجاتا ہوں۔‘‘
’’نہیں… ایسی بھی بات نہیں مگر جلدی کیجیے۔‘‘ اُس نے بہ عجلت شہزاد کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ شہزاد نے ’اوکے‘ کہہ کر رابطہ منقطع کردیا۔
قدرے مطمئن ہوکر اُس نے اپنے ہاتھ پر بندھے ہوئے دوپٹے کو بہ احتیاط دیکھا۔ نبض کے ساتھ ساتھ زخم دھڑکنے لگے تھے۔ نیند نُما بے ہوشی کی غنودگی ذہن پر وارد ہونے لگی۔ اُسے صورتِ حال کی نزاکت کا بہ خوبی علم تھا۔ اَب کے سوئی تو شاید کبھی جاگ نہیں پائے گی۔ شہزاد کے آنے تک اُس کا اپنے مکمل حواس میں رہنا بے حد ضروری تھی۔ موبائل فون کی ڈسپلے اسکرین پر سیکنڈ بہ سیکنڈ بدلتے ہوئے ہندسوں پر نظریں جمائے بے تابی کے ساتھ شہزاد کا ا نتظار کررہی تھی۔ پولیس وین اور ایمبولینس کے ہوٹر کی کریہہ اور شامت طلب آواز کوئی بھی سننا نہیں چاہتا مگر وہ زندگی سے موت کی طرف جانے والی پگڈنڈی پر سر نیہوڑاکر کان لگائے بیٹھی تھی۔ پھرجب اُس کے کانوں میں پولیس کا سائرن گونجا، اُس کی آنکھوں میں یک لخت کمرے کا دیکھا بھالا منظر دُھندلانے لگا اوروہ ایک عافیت بھری طویل سانس حلق میں اُتار کر پہلو کے بَل ڈھلک گئی۔
٭ذ٭
بے ہوشی کی طویل غار کے دہانے پر کھڑے ہوکر چندھیائی ہوئی آنکھوں سے ناشناسا منظر کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔ سوچ رہی تھی ۔ ’’یہ میرا کمرہ نہیں ہے۔ یہ بالی کا کمرہ نہیں ہے۔ اورتو اوریہ شاہ سائیں کا پنجرہ بھی نہیں ہے… پھر یہ کون سی جگہ ہے؟‘‘
چھت سے نظریں ہٹا کر اپنے دائیں پہلو میں دیکھا۔ ڈسٹیمپر شدہ دیوار دکھائی دی۔ دیوار کی جڑ میں ایک چوبی بنچ دھرا ہوا تھا۔ بائیں جانب دیکھا۔ چونک گئی۔ اچانک سجھائی دینے لگا کہ وہ اسپتال کے کسی کمرے میں پڑی ہوئی ہے۔ ڈرپ اسٹینڈ پر لٹکا ہوا بلڈ بیگ جس سے سرخ نالی نکل کر اُس کے بازو میں خون انڈیل رہی تھی، تشویش ناک صورتِ حال کو آشکار کررہا تھا۔ اسٹینڈ پر ایک آدھی ڈرپ بھی ٹنگی ہوئی تھی۔ غالب خیال یہی تھا کہ اُس میں سے آدھا پانی اُس کی رگوں میں سرائت کر چکا تھا۔ اُس نے ایک طویل سانس حلق سے خارج کی۔ نقاہت کا احساس ہوا۔ پیاس لگی تو ارد گرد نظر دوڑائی۔ پانی دکھائی نہیں دیا تو نظریں بے اختیار اَدھ کھلے دروازے پر جم گئیں۔
کمرے میں اُس کے سوا کوئی نہیں تھا۔ سر کی عقبی جانب کھڑکی تھی جس میں سے روشنی چھن چھن کرتی اندر آرہی تھی۔ ظلمت کی سیاہ شب ڈھلنے کی نوید سنا رہی تھی۔ اُس کی نگاہوں میں اچانک شاہ سائیں کا چہرہ لہراگیا۔ ہونٹ نفرت سے سکڑ گئے۔ بے دھیانی سے اپنا بایاں ہاتھ دیکھنے لگی جو سفید بینڈیج میں یکسر چھپا ہوا تھا۔ ایک دو جگہوں پر پیلے دھبے دکھائی دے رہے تھے جو غالباً ٹنکچر کے تھے۔ اُس نے آہستہ سے ہاتھ کو حرکت دینے کی کوشش کی۔ ہاتھ میں درد نہیں جاگا، بازو میں کہنی کے اندر کی جانب ٹیس اُٹھی۔ شاید رَگ کے اندر گھسی ہوئی سوئی چبھنے لگی تھی۔ اُس نے بازو کو ساکت کرلیا۔ شاہ سائیں کی شکست اور اپنے ارادے کی جیت نے دل کو آسودہ کردیا، ساتھ ہی آنکھوں سے بے بسی کے آنسو چھلک پڑے۔ وہ دُنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہی تھی۔ وہ ہر بولنے والی زبان پر اپنی بے گناہی کے ثبوت چسپاں نہیں کرسکتی تھی۔
ایسے میں عینی نے کمرے کے اندر جھانکا۔ اُسے ہوش میں پاکر لپک کر بیڈ کے پاس آگئی۔ آدھی بیڈ پر لٹک گئی، آدھی لپٹ گئی۔ آنسو شاید پلکوں پر دھرے پھرتی تھی، والہانہ انداز میں اُس کا منہ چومتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ روتے روتے خاموشی کی زبان میں سمجھانے لگی ۔ ’’بانو! میں رو رہی ہوں، تم مت رونا۔ تم کہتی تھیں کہ تمھاری قسمت جنم دِن سے نامہربان ہے، میں مانتی نہیں تھی۔ آج تمھاری حالتِ زار دیکھ کر مان رہی ہوں کہ دُنیا والے لاٹھی ہاتھ میں پکڑ کر ہر بھینس کو اپنی پگڈنڈی پر ہانکتے ہیں۔ اُس کمینے نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لیتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ وہ ایک عورت پر ہاتھ اُٹھا کر اپنی اَنا کو تسکین پہنچا رہا ہے۔‘‘
بانو نے اُسے خود سے علیحدہ کیا۔ اشکوں سے دھندلائی ہوئی آنکھوں سے دیکھا، کہا ۔ ’’عینی! میں نے اپنی جان پر کھیلنا گوارا کرلیا، اپنے بدن پر اپنے ہی خون کے چھینٹے ڈال لیے مگر اُس شیطان کے ہوس آلود ہاتھوں میں سوائے ندامت کے کچھ نہیں آنے دیا۔ تم میری بات کا یقین کرلو، دُنیا کو تسلیم کرنے پر مجبور کردو کیونکہ تم ایسا کرسکتی ہو۔ لوگ تمھاری بات مانتے ہیں۔ میں غریب ہوں،میرا دُنیا میں کوئی نہیں ہے، سبھی مجھ پر انگلیاں اُٹھائیں گے۔‘‘
عینی اُسے دلاسہ دے رہی تھی۔ پوچھ رہی تھی ۔ ’’کیا شاہ سائیں نے ہی تمھیں اغوا کیا تھا؟‘‘
وہ ہونٹ بھینچ کر سوچ میں پڑ گئی۔ ایسے میں بالی اور شہزاد بھی کمرے میں داخل ہوگئے۔ اُسے عینی کے ساتھ باتیں کرتے دیکھ کر ایک ذرا مطمئن ہوکر بنچ پر بیٹھ گئے۔ بالی کا سر جھکا ہوا تھا۔ وہ عینی کو ہاتھ سے ایک طرف ہٹا کر بالی کو دیکھتے ہوئے بولی ۔ ’’بالی! یوں سر جھکانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تم نے میرے روکنے کے باوجود شاہ سائیں کے پیروں میں سر جھکایا، اَب یہ سر زندگی بھر دُنیا کے سامنے جھکا رہے گا۔ کاش! تم نے میری بات مان لی ہوتی اوراُس پر اندھا اعتماد نہ کیا ہوتا۔‘‘
بالی کے لب سل گئے۔ مدد طلب نگاہوں سے شہزاد کو دیکھتے ہوئے بولا ۔ ’’مجھے لوگوں نے بہکا دیا تھا۔ ہر کوئی کہتا تھا کہ شاہ سائیں بہت نیک آدمی ہے۔ اللہ اُس کی مانتا ہے۔ مجھے کیا علم تھا…‘‘
شہزاد بنچ سے اُٹھ کر بانو کے قریب بیڈ پر ٹک گیا۔ پیار سے ہاتھ سہلاتے ہوئے بولا ۔ ’’پولیس والے باہر بیٹھے ہیں۔ اُنھیں یہاں بلانے سے پہلے میں تم پر گزرے ہوئے واقعات کی تفصیل جاننا چاہوں گا۔ کیا تم خود کو بالکل فٹ محسوس کرتی ہو؟‘’
اُس نے اثبات میں سر ہلایا۔ نظریں جھکا کر بتلانے لگی۔ تینوں پورے انہماک سے سنتے رہے۔ اُس کے خاموش ہونے پر عینی نے بے یقینی سے چلاتے ہوئے کہا ۔ ’’ہائے بانو! تم نے خود کو زخمی کرکے وحشی شیر کی دُم پر پائوں رکھ دیا… تمھیں یہ اچھوتا آئیڈیا سوجھ کیسے گیا؟‘‘
وہ شکوہ کناں نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولی ۔ ’’اچھوتا آئیڈیا؟… کتنی ظالم ہو تم۔ میری جان پر بنی ہوئی تھی اور تمھیں مذاق سوجھ رہا ہے۔ میں نے اُسے روکنے کے لیے نہیں، خود کو مارنے کے لیے چوڑیاں چبھوئی تھیں۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ خون دیکھ کر بوکھلا جائے گا۔ سچ عینی! اُس وقت اس کی شکل دیکھنے کی تھی جب بھل بھل بہتا ہوا خون روکنے کے لیے میرا ہاتھ پوری قوت کے ساتھ دَبا کر بیٹھا ہوا تھا۔ احمقوں کی طرح میرے ہاتھ میں دَبے ہوئے چوڑیوں کے ٹکڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ دراصل اُسے مجھ سے یہ توقع نہیں رہی تھی۔‘‘
عینی نے ایک ذرا مسکرا کر سر ہلایا۔ شہزادعمیق سوچوں میں مستغرق تھا، مایوسانہ انداز میں سانس حلق سے خارج کرتے ہوئے بولا ۔ ’’میرا خیال ہے کہ ہم یہ ثابت نہیں کرسکیں گے کہ تمھیں شاہ سائیں نے ہی اغوا کرایا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘‘
’’وہ کئی گھنٹے میرے ساتھ، میرے بیڈ پر بیٹھا رہا۔ میں اُسے پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں کرسکتی۔‘‘ بانو نے تیزی سے کہا۔
’’تمھارے کہنے پر قانون آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرے گا۔ وہ ثبوت مانگے گا۔‘‘ شہزاد نے کہا۔
عینی چٹخ کر بولی ۔ ’’تو کیا ہم خاموشی سے گھر جا بیٹھیں گے؟‘‘
شہزاد کا چہرہ فرطِ غصہ سے سرخ پڑ گیا۔ دانت کچکچا کر بولا ۔ ’’پولیس کی تفتیش کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ فارم ہائوس کسی خواجہ بشیر احمد کے نام پر ریزرو تھا۔ خواجہ بشیر احمد کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ گزشتہ پندرہ دِنوں سے اپنے بزنس کے سلسلے میں دوبئی میں مقیم ہے۔ گاڑی کا نمبر معلوم نہیں ہوا۔ اغوا کرنے والوں میں سے کوئی گرفتار نہیں ہوا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس وہ سپاہی جو شاہ سائیں کی کوٹھی پر مامور تھے، وہ کوٹھی میں اُس کی شب بھر موجودگی کے گواہ ہیں، ایسے میں اُس پر اغوا کا الزام کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے؟‘‘
عینی اور بانو دونوں اُسے اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا ۔ ’’شاہ سائیں قانون کی گرفت میں نہیں آئے گا۔ اُسے کٹہرے میں کھڑا کرکے ہم بدنامی کے بند پنجرے میں جا کھڑے ہوں گے۔ پورے شہر میں ہماری عزت اُچھالی جائے گی۔ اخباروں کی سرخیاں ہمارے منہ پر کلنک مل دیں گی۔ اس صورتِ حال میں دانش مندانہ فیصلہ یہی ہوگا کہ ہم شاہ سائیں پر انگلی اُٹھانے کی غلطی نہ کریں۔ بانو! میں پولیس والوں کو بلاتا ہوں، تم اُنھیں باور کرا دینا کہ تم نے کسی بھی اغوا کرنے والے کی شکل نہیں دیکھی۔ اگر دیکھی بھی ہے تو تم اُسے پہچاننے کی اہل نہیں ہو۔ اِسی میں ہم سب کی بہتری ہے۔‘‘
وہ سمجھ رہی تھی۔ گزشتہ شب میں شاہ سائیں کے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی یاد آرہی تھی۔ شہزاد کے ہاتھ پر اپنا سرد ہاتھ رکھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں بولی ۔ ’’آپ پر کامل بھروسہ کرتی ہوں۔ آپ جیسا کہیں گے، میںویساہی کروں گی۔ پولیس والے پوچھیں گے کہ اغوا کرنے والوں نے میرے ساتھ کوئی بُرا سلوک نہیں کیا، کوئی تاوان نہیں لیا اور نہ ہی مجھ سے کچھ چھینا ہے، پھر اُن کا مجھے اغوا کرنے کا کیا مقصد تھا؟ تب میں جواب میں کیا کہوں گی؟‘‘
شہزاد نے ستائش بھری نگاہ اُس پر ڈالی، بولا ۔ ’’میں نے پولیس کو بتلایا تھا کہ تمھارے موبائل فون کے سبب ہمیں فارم ہائوس کی لوکیشن کا پتہ چلا ہے۔ تم کہہ دینا کہ جونہی اُنھیں پولیس کی آمد کا پتہ چلا، وہ کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر وہاں سے نکل گئے۔‘‘
اُس نے تفہیمی انداز میں سر ہلایا۔ شہزاد نے تینوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی اور کمرے سے نکل گیا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد دو وردی پوش اہلکاروں کی معیت میں کمرے میں داخل ہوا۔ اُنھیں بنچ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’بانو! اِنھی مہربانوں کی وجہ سے تم بغیر کسی نقصان کے اُن ظالموں کی کھچار سے نکلنے میں کامیاب ہوئی ہو۔ یہ تمھارا بیان قلم بند کرنا جاہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تم اِن کے ساتھ مکمل تعاون کرو گی۔‘‘
اُس نے اثبات میں سر ہلایا۔ ایک اہلکار نے رَف پیڈ اور قلم سنبھال لیا۔ دوسرا مستفسر ہوا۔ کرید کرید کر پوچھنے لگا۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر، سوچ سوچ کر بتلانے لگی۔ جن سوالوں کا جواب نہیں دے پائی، اُن سوالوں کا جواب شہزاد کی جیب میں تھا۔ چوبی بنچ پر براجمان دونوں تفتیش کاروں کو بہ خوبی علم تھا کہ اُس امیر زادے کی جیب سے نکلا ہوا ایک جواب اُن کے ہر سوال پر حاوی ہوجائے گا۔
بانو کے بیان میں اغوا کاروںکا کوئی کلیو نہیں تھا۔ سرکاری الائونسز کی میز پر کاغذوں کا پیٹ بھرگیا، وردی پوشوں کے حلق میں نوٹوں کے پُر حدت ذائقے ٹپک گئے اور بانو کے پُر اسرار اغوا کی واردات پر گرد پڑ گئی۔ اُس نے عافیت کی سانس لی۔ ڈاکٹرز کے معمول کے چیک اَپ کے بعد وہ اور بالی کمرے میں اکیلے رہ گئے۔ بالی نے آزردہ لہجے میں کہا۔ ’’بانو! کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟‘‘
اُس نے نفی میں سر ہلایا۔ بات بدلنے کے لیے بولی ۔ ’’مجھے خون کیوں لگایا جارہا ہے؟‘‘
’’ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ تمہارے جسم میں خون کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ یہ تو شکر ہوا کہ تمھارا اور میرا گروپ ایک ہی نکلا اور فوراً ہی خون کا بندوبست ہوگیا۔ ورنہ شاید کچھ تاخیر ہوجاتی۔‘‘ بالی نے کہا ۔ ’’ہم نے جب تمھیں فارم ہائوس کے بند کمرے سے نکالا تھا، تب تمھارا چہرہ بالکل پیلا ہوچکا تھا۔ اَب تم کافی بہتر حالت میں ہو۔‘‘
وہ عجیب سی نظروں سے بالی کو دیکھنے لگی۔ ایک ٹک دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگی ۔ ’’بالی! میں وہ کھانسی کے سیرپ والی دھلی ہوئی بوتل اور بوتل کے منہ پر چڑھے ہوئے نپل سے ٹپکتا ہوا دودھ بھلا نہیں پائی ہوں جو تم سردیوں کی ٹھٹھرتی راتوں میں سرکنڈوں کی آگ پر گرم کرکے مجھے پلایا کرتے تھے۔ میں تو اَبھی تک اُن نوالوں کا ذائقہ بھی بھول نہیں پائی ہوں جو دُور… بہت دُور، بچپن میں تم اپنے ہاتھوں سے میرے منہ میں ڈالا کرتے تھے۔ گائوں کے باغ سے چُرائے ہوئے امرود اور مالٹے یاد ہیں، وہ پٹائی بھی آنکھوں میں چبھتی ہے جو چوری پکڑے جانے پر تمھارے کم سن بدن پر اپنے گہرے نشان چھوڑ جایا کرتی تھی…خود نہ کھانے کے لیے احمقانہ بہانے، مجھے کھلانے کے لیے من گھڑت دلیلیں… میں کچھ بھولی تو نہیں تھی کہ تم نے اپنے بدن سے خون نکال کر میری رَگوں میں اعادے کے طور پر انڈیلنا شروع کردیا ہے… ہائے بالی! میں کچھ نہیں بھولی ہوں۔ مجھے یاد دلایا کرو مگر ایسے نہیں۔‘‘
بالی اُس کی نظروں کے ٹھہرائو پر نادم سا ہوگیا۔ بولا۔ ’’اللہ کی قسم! تم سے پیارا مجھے دُنیا میں کوئی نہیں۔ میں اپنے آپ سے بھی اتنا پیار نہیں کرتا ہوں۔ شہزاد نے مجھے بتلایا ہے کہ تم مجھ سے بدگمان ہو۔ بانو! میں بے وقوف ہوں ناں… اَن پڑھ ہوں۔ اَن پڑھ اور پڑھے لکھے میں فرق تو ہوتا ہے۔ میں دھوکا کھا گیاتھا، کملا ہوگیاتھا مگر،یقین کرو، میں بُرا نہیں ہوں۔ مجھے معاف کردو۔ آئندہ تم جو کہو گی، میںوہی کروں گا۔ اپنی مرضی نہیں کروں گا۔‘‘
اُس نے معصومیت بھرے انداز میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ آنکھیں بھر آئیں۔ گلوگیر لہجے میں بولا ۔ ’’میں اُس کے پاس تمھاری اچھی جگہ پر شادی کی آرزو لے کر گیا تھا۔ اُس نے سورج دکھا کر میری آنکھوں کی بینائی لوٹنے کی کوشش کر ڈالی۔‘‘
بانو نے اُسے اپنے قریب بلایا۔ اپنے پہلو میں بیڈ پر بیٹھا کر اُس کا ہاتھ تھاما اور بے ساختگی سے چوم لیا۔ پھرسخت اور کھردری جلد والے سیاہ ہاتھ کو والہانہ انداز میں چومتی گئی، روتی گئی اور معاف کرنے کی بہ جائے لجاجت کے ساتھ معافیاں مانگتی گئی۔
آنسو پونچھنا چاہتی تھی۔ دوپٹہ گلے میں نہیں تھا۔ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ بالی کے شانے سے آنکھیں رگڑتے ہوئے پوچھنے لگی ۔ ’’بالی! میں کب تک یہاں اسپتال میں پڑی رہوں گی؟ میرا ہاتھ اَب بالکل ٹھیک ہے۔ گھر چلیں؟‘‘
وہ بڑے رَسان سے اُسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے پچکارکر بولا ۔ ’’خون کی بوتل تو ختم ہونے دو۔‘‘
’’پتہ نہیں یہ کب ختم ہوگی۔ بہت آہستہ آہستہ چل رہی ہے۔‘‘
’’میں نے نرس سے پوچھا تھا، کہہ رہی تھی کہ شام تک ختم ہوجائے گی اور ہمیں اسپتال سے چھٹی مل جائے گی۔‘‘ وہ بولا۔
’’عینی چلی گئی؟‘‘
’’ہاں۔ دونوں چلے گئے۔‘‘ بالی نے کہا۔
’’دوبارہ آئیں گے؟‘‘
’’شاید!‘‘ بالی نے کہا۔ ’’شہزاد کا تو پتہ نہیں، عینی ضرور آئے گی۔‘‘
’’ایک بات پوچھوں؟‘‘
بالی نے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا۔
’’کیا تم اَب بھی شاہ سائیں کے آستانے پر جانا چاہو گے؟‘‘
بالی نے دونوں کانوں کی لوئوں کو چھوا، نفی کے انداز میں زور زور سے سر ہلایا اور مصمم لہجے میں کہا۔ ’’میری بات کا یقین کرو، میں بھول کر بھی اُس کے پاس نہیں جائوں گا۔‘‘
بانو نے اُس کے چہرے پر نقش صداقت بھری تحریر پڑھی، کروٹ بدلی اور آنکھیں موند کر لیٹ گئی۔ قسمت نے دونوں کے بیچ محبت کے ٹوٹے ہوئے سوتی دھاگے کو گانٹھ دے کر جوڑ دیا تھا۔
جوان عورت کی رسوائی اُس کے گھر پہنچنے سے پہلے دہلیز پر پہنچ جاتی ہے۔ اُس نے کوئی جرم نہیں کیا تھا مگر معاشرے کی نظر میں مجرم بن گئی تھی۔ دو راتیں گھر سے باہر گزارنے کے بعد محلے میں پہنچی تو ہر نظر سے نفرت آمیز سوالات چھلک رہے تھے۔ دیواریں پھلانگتی ہوئی بدنامی پورے محلے میں پھیل گئی تو ڈھلتی شام میں آدھا محلہ بالی کے دروازے پر اکٹھا ہوگیا۔ گلی تنگ تھی۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک انگلیاں اُٹھانے والوں سے لبالب ہوگئی۔ بالی نے دروازہ کھولا۔ استفسار پر محلے کی چھوٹی سی مسجد کے قد آور امام مسجد نے آڑے ہاتھوں لیا ۔ ’’میاں! بہت ہوگئی۔ تم دکان پر جاتے ہو۔ تمھاری بہن نہ جانے کہاں جاتی ہے۔ تمھاری غربت اور بے سروسامانی کودیکھتے ہوئے آنکھیں بند رکھیں مگر اَب تمھاری بدچلنی کی آنکھوں دیکھی مکھی کو نگلنا مشکل ہوگیا ہے۔‘‘
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایک ایک چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
سامنے والے گھر کا مالک سعید اللہ بڑے بازار میں سبزی کا ٹھیلہ لگاتا تھا۔ اونچی آواز میں بولنے کا عادی تھا۔ راز کی بات کرتا تب بھی آدھا محلہ سنتا تھا۔ کڑک دار آواز میں بولا ۔ ’’جوان! ہم عزت دار لوگ ہیں۔ ہمارے گھروں میں بھی بیٹیاں رہتی ہیں۔ تمھاری بہن کے فیشن کو دیکھ کر ہم سوچا کرتے تھے کہ ایک ورکشاپئے کے ہاں اتنی دولت کہاں سے آگئی۔ اَبھی پچھلے دنوں تمھارے گھر میں بارات اُتری تھی، بارات کے ساتھ ہی پولیس بھی آن وارد ہوئی۔ محلہ نہ ہوا، تماشا گاہ ہوگئی۔ ہم پر رحم کرو اور اپنا ٹھیا ٹھکانہ کہیں اور کر لو۔‘‘
بانو دروازے کے قریب دیوار کے ساتھ چپک کر کھڑی پتھروں سے بھی زیادہ جاں شکن آوازے سن رہی تھی اور ندامت سے زمین میں گڑی جارہی تھی۔ بالی نے اٹک اٹک کر کہا ۔ ’’مگر ہم نے ایسا کیا جرم کر دیا ہے کہ آپ لوگ اتنی سخت باتیں کرنے کے لیے یہاں آن دھمکے ہیں؟‘’
’’اے لو میاں! سنو تم بھی…‘‘ امام مسجد نے ہاتھ نچا کر طنزیہ لہجے میں کہا۔ اُس نے اپنے ہمراہیوں کو مخاطب کیا تھا ۔ ’’بالی میاں پوچھتے ہیں، اِنھوں نے کیا جرم کیا ہے؟ اِس کی بہن دن دیہاڑے اغوا کر لی گئی، لوٹا دی گئی اور کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘
’’جوان لڑکی بے سبب اغوا نہیں ہوتی۔ لڑکیاں پہلے اغوا ہونے کا راستہ بناتی ہیں۔پھر اپنے عاشق کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شہہ دیتی ہیں کہ آئو! دُنیا کی نگاہوں میں دھول جھونک کر ہمیں اُٹھا کر لے جائو اور اپنے گھر کی رانی بنا دو۔ وہ رانی بنے، نہ بنے، کسی نائیکہ کی سلطنت کی مہارانی ضرور بن جاتی ہے۔‘‘ ایک تنو مند جوان پہلو کے بل کھسک کر آگے نکلا اور تیز لہجے میں بولا۔
’’پولیس والوں اور غنڈے ڈکیتوں نے یہ گھر دیکھ لیا ہے۔ ایک جارہا ہوگا تو دوسرا آرہا ہوگا۔ تمھارا کیا ہے؟ ہم عزت دارلوگ شہر میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔‘‘ کوئی آواز عقب سے اُبھری۔
بالی ہونقوں کی طرح ارد گرد دیکھنے لگا۔ ایسے میں مردوں کے عقب میں عورتوں کی آوازیں بھی گونجنے لگیں۔ بالی کی گھگیاہٹ لوگوں کی دبنگ آوازوں میں کہیں دَب کر رہ گئی۔ اُس کی کوئی نہیں سن رہا تھا، ہر کوئی یہی سنا رہا تھا کہ وہ جتنا جلد اِس محلے سے نکل جائے گا، اُس کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہوگا۔ امام مسجد نے معاملے کو بڑھتا دیکھ کر بیچ بچائو کراتے ہوئے فیصلہ صادر کیا ۔ ’’اے میاں! سو باتوں کی ایک بات ہے، اپنا کیل کانٹا اُٹھائو اور یہاں سے چلتے بنو ورنہ نقصان کے خود ذمہ دار ہوگے۔ محلے کے جوان سخت مشتعل ہیں۔ تمھیں اور تمھاری نیک پروین کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ میں اُنھیں سمجھاتا ہوں، چند دِنوں کی مہلت مانگتا ہوں تاکہ تم کسی اور محلے میں مکان کرایہ پر لے سکو۔ سن رہے ہو ناں میری بات؟‘‘
وہ سن رہا تھا، سمجھنے کی کوشش نہیں کررہا تھا کیونکہ زندگی نے اُسے قدم بہ قدم یہی سبق سمجھایا تھا۔ وہ سر جھکا کر الٹے قدموں گھر میں داخل ہوا، دروازہ بند کیا اور بانو پر ایک نگاہِ عجب ڈال کر سر نیہوڑائے کمرے میں گھس گیا۔ بانو بھاگ کر اُس کے پیچھے آئی۔ تمام باتیں اپنے کانوں سے سن چکی تھی۔ بالی کا جھکا ہوا سر دیکھ چکی تھی۔ چولھا سنبھال کر رونے بیٹھ لگی۔
رات خاموشی سے سوتے جاگتے میں کٹ گئی۔ وہ کالج جانا چاہتی تھی۔ تیاری کرہی رہی تھی کہ بالی کے فون پر عینی کی کال آگئی۔ بانو نے اٹینڈ کی۔ عینی اُسے بتلانے لگی ۔ ’’بانو! تم آج کالج مت آنا۔‘‘
وہ حیرانی سے مستفسر ہوئی ۔ ’’مگر کیوں؟‘‘
’’دراصل تم اَبھی شاک میں ہو۔ پوری طرح سنبھل نہیں پائی ہو۔ کلاس کی لڑکیوں کو فیس نہیں کر پائو گی۔‘‘ عینی نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا۔
’’میں کچھ سمجھی نہیں عینی! تم پہیلیاں مت بجھوائو، کھل کر کہو، کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘
’’کالج میں تمھارے اغوا کے بارے میں اچھی رائے استوار نہیں ہوئی۔ چند دِن چھٹیاں کرنے کے بعد کالج میں آئو گی تو بات پرانی ہو کر اہمیت کھو چکی ہوگی۔‘‘ عینی نے اُسے سمجھایا۔
وہ سر جھکا کر بیٹھ گئی۔ عینی اُسے دلاسے دیتی رہی مگر وہ سنی اَن سنی کرتی رہی۔ گزشتہ شام میں عزت داروں کا رویہ دیکھ رکھا تھا۔ آہ بھرنے کے سے انداز میں لمبی سانس حلق میں اُتارتے ہوئے اُس نے کتابیں الماری میں واپس رکھ دیں۔ چادر اُتار کر چارپائی پر پھینک دی۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ شاہ سائیں کو کوسنے لگی۔ ایسے میں بالی نے اُس کو شانوں سے پکڑ کر اپنی جانب موڑ کر سینے سے لگا لیا۔ قدرے بھاری آواز میں بولا ۔ ’’بانو! میری جان! فکر نہ کرو۔ میں دو چار دِنوں میں کسی اور شہر میں کام ڈھونڈ لوں گا۔ ہم یہاں نہیں رہیں گے۔‘‘
اُس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ بند پلکوں سے دو لکیریں رِس کر رخساروں پر ڈھلک آئیں ۔ ’’بالی! مجھے عینی بہت یاد آیا کرے گی۔‘‘
’’تم فون پر اُس سے باتیں کر لیا کرنا۔ کبھی موقع ملا تو ملنے کے لیے آجانا یا اُسے اپنے پاس بلوا لینا۔‘‘ بالی نے کہا اور اُسے بڑی آہستگی سے چار پائی پر بیٹھا دیا۔ پھر سست رَوی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
٭ذ٭
ایک ہفتے کی مسلسل بھاگ دوڑ نے بالی کو تھکا کر رکھ دیا تھا۔ تین سو کلو میٹر کی دوری پر واقع نسبتاً چھوٹے شہر نے اُسے قبول کرلیا تھا۔ وہاں مکان کرایہ پر لینے، کام حاصل کرنے اور بانو کی مائیگریشن کے کاغذات جمع کرانے میں اُسے خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سامان بندھ گیا تو عینی اورشہزاد اُنھیں الوداع کہنے کے لیے پہنچ گئے۔ بانو نے پہلی مرتبہ عینی کے کھلنڈرے چہرے پر حزن چھایا ہوا دیکھا تو کٹ کر رہ گئی۔ لپٹ کر دیوانہ وار رونے لگی۔ سسکتے ہوئے شکوہ کرنے لگی ۔ ’’عینی! میں بُری تھی، گندی تھی توتم نے مجھے اپنا دوست کیوں بنایا تھا؟ میرے روکنے کے باوجود مجھ ٹاٹ کو مخمل میں ٹانکنے کا ارادہ کیوں ظاہر کیا تھا؟ ہائے عینی! میں کبھی بھی تمھیں اور تمھارے بھائی کو بھول نہیں پائوں گی۔ تم نے مجھے پیار دیا، تمھارے بھائی نے میرے وجود کو زندہ رکھا مگر میری روح کو مار دیا۔ میں ایسی بدقسمت ہوں کہ گلہ بھی نہیں کر سکتی۔‘‘
عینی ایک دم ساکت آنکھوں سے اُسے دیکھے جارہی تھی۔ ایک نگاہ اپنے ملول بھائی پرڈال کر بولی ۔ ’’بانو! تم بہت پیاری ہو، تمھاری قسمت پیاری نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں تمھیں سکھی دیکھنے کی خواہش میں تمھیں دکھ دے بیٹھی۔ مجھے معاف کردینا۔ میں فون کیا کروں گی، جواب دیتے رہنا۔ کبھی موقع ملا تو ملنے کے لیے بھی آئوں گی۔ دیکھ بانو! تو بڑی دلیر ہے۔ تمھاری چوڑیوں نے وہ کام کیا جو چنگیزی تلوار بھی نہیں کر پائی تھی۔ بس! اپنے ہاتھ کی اِس مردانہ گرفت کو سنبھال کر رکھنا۔ اللہ اچھا وقت لائے گا۔‘‘
منی ٹرک کے ڈرائیور نے سامان لوڈ ہونے کی خبر دی تو شہزاد چونک سا گیا۔ بالی کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بولا ۔ ’’تم اَن پڑھ ہی نہیں، بے وقوف بھی ہو۔ تم اگلے شہر میں ایک ورکشاپ پر نوکری ملنے کی خوشی میں یہ بھول گئے تھے کہ یہاں تمھاری اپنی ورکشاپ موجود ہے۔ تم نے اُس کا کیا بندوبست کیا ہے؟‘‘
بالی کو واقعتاً دھیان نہیں رہا تھا۔ سر جھکا کر بولا ۔ ’’وہ میری کہاں تھی؟ آپ کی تھی۔ اُس کی چابیاں ٹرنک میں ہیں۔ ٹھہریں! میں اَبھی ٹرک میں سے نکال لاتا ہوں۔‘‘
شہزاد نے ایک ذرا طنزیہ لہجے میں کہا ۔ ’’میں ورکشاپ چلائوں گا کیا؟‘‘
’’آپ اُسے بیچ کر اپنے پیسے پورے کر لیجئے گا۔ میں شرمندہ ہوں مگر آپ جانتے ہیں کہ اِس بدلی ہوئی صورت میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ میری قسمت نے میرا ساتھ نہیں دیا۔‘‘ بالی نے شرمسار لہجے میں کہا۔
شہزاد نے کہا ۔ ’’تم واقعی بے وقوف شخص ہو۔ میں نے ورکشاپ کا سامان ٹرک پرلدوا دیا ہے۔ وہ ٹرک بھی تمھارے ساتھ جائے گا۔ جس دکان پر تم نے ملازمت اختیار کی ہے، اُس سے چار دُکانیں چھوڑ کر شمالی جانب کی پانچویں دُکان تمھارے لیے کرایہ پر لے چکا ہوں۔ کرایہ طے ہوگیا ہے۔ خالی پڑی ہے اور اُس کی چابی میں نے اسلم پوشش والے کے پاس رکھوا دی ہے۔ نوکری نہ کرنا بلکہ اپنا کام کرنا۔‘‘
اُسے ششدر حالت میں بت کی طرح ایستادہ چھوڑ کر بانو اور عینی کے پاس آیا۔ عینی سے آنکھ کے اشارے سے تخلیہ طلب کیا۔ وہ کھسک کر بالی کے پاس چلی گئی۔ شہزاد نے دھیمے لہجے میں بانو کو مخاطب کیا ۔ ’’بانو! مجھے معاف کردو۔افسوس! میں تمھارا ساتھ نہیں دے پایا۔‘‘
وہ سسک کر چپ ہوگئی۔ پہلی مرتبہ دلیری سے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کئی لمحوں تک کھڑی دیکھتی رہی پھر ایک ذرا جھجک کر بولی ۔ ’’میں آپ کے احسانات کبھی بھلا نہیں پائوں گی۔ مجھے اپنی کٹھن زندگی کے ماضی کی رُو شناسی حاصل ہے اور مستقبل کے بارے میں کوئی خوش فہمی بھی لاحق نہیں ہے۔ میرے راستے میں قدم قدم پر شاہ سائیں پھن پھیلائے بیٹھے ہیں۔ اُن سب میں مجھے آپ کی شبیہہ علیحدہ سے دکھائی دیتی رہے گی اور زندگی گزارنے کا بہانہ بنا تی رہے گی۔ پہلی مرتبہ عینی کو دکھائی دینے سے لے کر آج، اِس لمحے اور اِس منظر تک میں ہرگز نہیں بدلی، آپ بھی شاید نہیں بدلے مگر نہ جانے کس جرم کی پاداش میں قسمت نے خوشیوں کی طرف جانے والے میرے ٹریک کا کانٹا بدل دیا۔ نہیں جانتی اور شاید زندگی بھر جاننا بھی نہیں چاہوں گی کیونکہ میں خود کو یا آپ کو نامعتبر کرنا نہیں چاہتی۔‘‘
مضطربانہ انداز میں اپنی نازک انگلیاں چٹخاتی ہوئی بانو شہزاد کے بَدن کو کاٹ رہی تھی اور وہ بے بسی سے اُسے بکھرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ یوں جیسے وہ اُس سے نہیں، کسی اور سے مخاطب ہو۔
بالی اور بانو منی ٹرک کے ڈرائیور کیبن میں بیٹھ گئے۔ عینی نے ہاتھ لہرایا ۔ ’’بانو! فون پر رابطہ رکھنا۔‘‘
شہزاد نے زیرِ لب کہا ۔ ’’آب و ہوا تو یوں بھی میرا مسئلہ نہیں، مجھ کو تو ایک درخت لگانا ہے اور بس…الوداع! اے جانِ دل پذیر الوداع!‘‘
دیواروں پر سے جھانکتی ہوئی چند عورتوں کی آنکھیں خاموشی کی زبان میں نعرہ زن تھیں ۔ ’’نخرے سے مور نی کی چال چلنے والی ندامت کے بوجھ تلے دَب کر سر جھکائے محلہ سے رخصت ہورہی ہے۔کم بخت کو سوہنے شاہ سائیں کی بددُعا چاٹ گئی۔ خس کم جہاں پاک…‘‘
نصف گھنٹہ کے بعد آگے پیچھے دوڑتے ہوئے دونوں ٹرک شہر کی حدود سے نکل گئے۔ زندگی کا چلن ہی یہی ہے۔ ایک پائوں سہارا دینے والی زمین کو پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے، دوسرا قدم اجنبی مٹی کو گلے لگاتا ہے۔ پھر وہ پیر بھی زمین کو دھکا دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔
٭ذ٭
نئے شہر میں پہلا ہفتہ بہت مصروف گزرا۔ بانو قدرے مطمئن تھی کیونکہ جس محلے میں اُنھیں گھر میسر آیا تھا، وہ بہت پُر سکون اور نسبتاً مہذب لوگوں پر مشتمل تھا۔ تین کمروں کے اِس مکان کا کرایہ اگرچہ زیادہ تھا مگر خاصا سہولت دِہ بھی تھا۔ بانو کو اُسے سجانے سنوارنے میں زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی تھی۔ سوئے اتفاق بالی کو مشینیں وغیرہ فٹ کرنے کے دوران ہی کافی کام مل گیا تھا۔
ہاتھ میں پشت پر روشن الائو کی حدت میں بتدریج کمی آتی گئی۔ پھر ایک دِن ٹانکے کاٹ کر پھینک دیے گئے مگر وہ جاتے جاتے اپنے نشانات چھوڑ گئے۔ زخموں کے دو تین نشان مٹ گئے تو اُسے حوصلہ ہواکہ باقی داغ بھی کسی نہ کسی روز دُھل جائیں گے۔ تواتر سے بام لگاتی، انٹی بائیاٹک گولیاں کھاتی اور جی بھر کر شاہ سائیں کو بددُعائیں دیتی۔ساتھ میں خدا کا شکرادا کرتی کہ روح کی سلیٹ پر اُس کم بخت کے نام کا کوئی دھبہ نہیں لگا تھا۔
پوری طرح ایڈجسٹ ہونے کے بعد بانو نے دل کھول کر فون پر عینی سے بات کی۔ بتلایا ۔ ’’عینی! میں یہاں بڑے آرام سے ہوں۔ یہاں اہلِ محلہ بھی بہت تعاون کرنے والے ہیں۔ کالج میں اَبھی تک گئی نہیں، جائوں گی تو کلاس کے بارے میں بھی بتلائوں گی۔ تم سنائو، کیسی ہو؟‘‘
’’ہم سب تمھیں بہت مس کرتے ہیں بانو!‘‘ عینی نے افسردہ لہجے میں کہا۔
’’کوئی نئی دوست بنائی ؟‘‘
’’اَبھی نہیں۔ ویسے تمھاری جگہ پر کسی کو اپائنٹ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائوں گی کیونکہ میں تمھارے بغیر بڑی اداس رہنے لگی ہوں۔‘‘
’’کوئی بوائے فرینڈ؟‘‘
’’نہیں۔تم نے مجھے اپنے سوا کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔‘‘
’’شہزاد کیسے ہیں؟‘‘ بانو نے ایک ذرا ٹھٹک کر پوچھا۔
’’بھیا اَب ویسا نہیں ہے، جیسا تمھاری موجودگی میں ہوا کرتا تھا۔ پُرانے خول میں سمٹ گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ مجھے بھی دل ہی دل میں اپنی ناکامی پر موردِ الزام ٹھہراتا ہے،تبھی دور دور رہتا ہے۔ زیادہ پروا نہیں کرتا مگر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ تھوڑے عرصے میں سنبھل جائے گا۔جوانی کی کچی محبت ایسی ہی ہوتی ہے۔ امرود کی لچکتی ٹہنی کی طرح۔ زمین پر گرنے والے امرود کے پیچھے نہیں لپکتی، نیا تخلیق کرکے اُس کے بَل پر جھومنے لگتی ہے۔‘‘
بانو کے دل سے ہوک نکلی۔ پژمردہ لہجے میں بولی ۔ ’’امیر اور غریب کی جوانی میں فرق ہوتا ہے۔ میں اپنے پرس کو بدلنے کا سوچ کر دکھی ہوجاتی ہوں، تم کار کا ماڈل بدلتے ہوئے خوشی سے تالیاں بجاتی ہو۔‘‘
’’چھوڑو یار! دل دکھانے والی باتیں نہ کرو۔ بالی کی دُکان کا حال سنائو۔‘‘ عینی نے اپنے مخصوص انداز میں اُس کے غمزدہ لہجے پر اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
اُس نے بالی کے نئے کاروباری سیٹ اَپ کے بارے میں تفصیلاً بتلایا۔ عینی نے اُس کی کال منقطع کی۔ خود کال کی اور ڈھیر ساری باتیں کیں۔ بانو کی باتیں ختم ہوگئیں، عینی کی زبان رُکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ زِچ ہو کر بولی۔ ’’عینی! مجھے خود سے پَرے ہٹا کر اُداس ہوگئی ہو۔ جب تم نے مجھے تھاما تھا، مجھے یقین نہیں آیا تھا۔ پھر جب تم نے میرا پکڑا ہوا ہاتھ بے رُخی سے جھٹک دیا، تب بھی میں یقین نہیں کر پائی۔ ایسا کیوں ہے؟‘‘
’’یہ مت پوچھو۔ ہر آگہی خوش آئند نہیں ہوا کرتی۔‘‘
’’لاعلمی بھی توبے قراری کا مؤجب ہوتی ہے۔‘‘
’’بے قراری نہ سہے جانے والے کرب سے بہ ہر طور بہتر ہے۔‘‘ عینی نے کہا ۔ ’’پیچھے مڑ کر مت دیکھو۔ اپنی توجہ سامنے کی طرف مرکوز رکھو۔ مجھے یقین ہے کہ تمھاری نظروں میں آنے والا نیا منظر پچھلے سے کہیں بہتر اور رنگوں بھرا ہو گا۔ بالی کے لیے کوئی اچھی سی لڑکی تلاش کرو۔ آنے والی تمھارے لیے شُبھ گھڑی لائے گی۔ سمجھ رہی ہو ناں؟‘‘
’’سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
عینی ہنس پڑی ۔ ’’یہ تمھاری پرانی عادت ہے۔ نئے ماحول میں نئی عادتیں اپنائو۔‘‘
’’کوشش کروں گی۔‘‘ اُس نے کہا۔ پھر دونوں نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور رابطہ منقطع کردیا۔ ناچار دور ہوجانے والوں کے بیچ ایسے ہی رابطے جُڑتے رہتے ہیں، منقطع ہوتے رہتے ہیں اور مدقوق سینے میں اُترتی گھٹتی سانس کی طرح یاد کی ڈور ہلتی رہتی ہے۔
اُس نے کالج جوائن کرلیا۔ یہ اُس کالج سے نسبتاً چھوٹا اور قدیم عمارت پر مشتمل تھا۔ اُس کا یہاں دَم گھٹنے لگا۔ آنے والے چند دِنوں میں ہی اُس کی طبیعت نے کالج کے ماحول سے مفاہمت کرلی اور کلاس کی لڑکیوں سے بھی شناسائی ہوگئی۔ یہاں طبقہ امرا کی لڑکیاں بہت کم تعداد میں زیرِ تعلیم تھیں۔ وہ امیر تو تھیں مگر اُن تک اَبھی بڑے شہروں کے طور طریقے نہیں پہنچ پائے تھے۔ بانو اِس ماحول میں خود کو نسبتاً زیادہ پُر اعتماد محسوس کرنے لگی۔
انصار کالونی، جہاں اُنھیں کرایہ پر مکان میسر آیا تھا، کالج سے بہ مشکل دَس منٹ کی مسافت پر واقع تھی اور بانو کی گلی کی ہی دو لڑکیاں کالج میں پڑھنے کے لیے آتی تھیں۔ اِس لیے بالی اُسے کالج پہنچانے اور کالج سے گھر لانے کے تردد سے بچ گیا۔ وہ ساتھی لڑکیوں کے ہمراہ آنے جانے لگی۔ سمیرا اور صدف متوسط طبقہ کے گھروں کی لڑکیاں تھیں۔ دو چار دِنوں میں ہی وہ بانو کے بہت قریب آگئیں۔ چونکہ وہ علیحدہ کلاس میں پڑھتی تھیں، اِس لیے کالج اور گھر کے مابین حائل فاصلے میں ہی اُن کی صحبت حاصل ہوتی تھی۔ پھر بے تکلفی بڑھنے پر وہ گاہے بگاہے بانو کے گھر میں بھی آنے لگیں۔ بالی کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ بتدریج بانو کی محلے میں قدر ومنزلت بڑھتی جارہی تھی۔ ایسے میں اُس نے گھر کی آمدن بڑھانے اور خود کو مصروف کرنے کے چکر میں محلہ کے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن دینا شروع کردیا۔ دو پھر چار… ایک مہینہ میں ہی علم کے پیاسوں کی تعداد بڑھ کر پندرہ ہوگئی۔ اُس کا وقت اچھا گزرنے لگا۔ کالج کا خرچ بھی پورا ہونے لگا۔ اُسے یوں محسوس ہونے لگا کہ وہ زندگی بھر بھٹکنے کے بعد آخرش ٹھیک مقام پر پہنچ گئی ہے۔ ایسے میں اُسے شہزاد اور عینی کی یادوں نے بھی کم ستایا تھا۔ اُن کی شخصیات وقت کی گرد میں دھندلا گئی تھیں۔ ہاں مگر جب عینی اور شہزاد کی یاد تنہائی میں کبھی کبھار ستانے بیٹھتی تو پسلیوں کے پنجر میں حبس سا بھر جاتا اور اُسے یوں محسوس ہوتا جیسے اُس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہ رہا ہو۔
پھر ایک دوپہر میں جب وہ کالج سے واپس آرہی تھی، کاغذ کی ایک ننھی سے پرچی میں لپٹ کر زندگی کا مبہم سا مقصد اُس کی ہتھیلی میں دَب گیا۔ آج صدف کی طبیعت خراب تھی اور سمیرا اوربانو کو اُس کے بغیر کالج جانا پڑا تھا۔ واپسی پر جب وہ اپنے گھر کا قفل کھولنے لگی تھی، سمیرا نے مسکرا کر پَرچی اُس کی ہتھیلی میں رکھ دی اور کہا ۔ ’’چاہو تو دل سے لگا کر سنبھال لینا، چاہو تو پھاڑ کر پھینکتے ہوئے اِسے ہمیشہ کے لیے بھول جانا۔ اپنے بھائی کامران کی ضد پر ہتھیار ڈالتے ہوئے مجبوراً دل للچاتی جوان بیری پر پتھر پھینک رہی ہوں۔‘‘
ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ