Naeyufaq Feb-16

ڈائن

خلیل جبار

کاشی کی دھمکی نے آنٹی ناز لی کو ہلاکر رکھ دیا۔ وہ اس کے شوہر عرفان کو سب کچھ بتادے گا‘ اس کے ایسا کرنے سے گھر میں بھونچال آسکتاتھا۔ وہ کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہیں رہتی۔ یہی ممکن تھا عرفان شدید غصے کی حالت میں قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتا‘ جس بات کو اس نے محض معمولی سمجھاتھا‘ وہی بات بڑی تباہی لانے والی تھی۔ نازلی سخت خوف زدہ ہوگئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ مسئلے سے خود کو کس طرح سے نکالے۔ اس کا ذہن مائوف ہوکررہ گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے شوہر کا غصے سے بھرا چہرہ نظر آرہاتھا۔ عرفان کو جب بھی غصہ آتاتھا اسے ہوش نہیں رہتاتھا‘ وہ یہ بھی نہیں دیکھتاتھا کہ اس کے سامنے کون ہے عرفان کے منہ میں جو آتا تھابکناشروع کردیتاتھا۔وہ انتہائی خود سراور بدتمیز قسم کا آدمی تھا۔ نازلی نے عرفان کے ساتھ کس طرح گزارا کیا تھا یہ وہی جانتی تھی‘ یہ اس کاہی حوصلہ تھا کہ جو اس نے عرفان کے ساتھ نبھا کیا تھا۔
عرفان ان کے دور کے رشتے داروں میں سے تھا۔ رشتے میں وہ نازلی کا ماموں زاد تھا۔ ایک شادی کی تقریب میں عرفان نے نازلی کو دیکھ لیاتھا اور اپنے والدین سے ضد کرنے لگا کہ وہ شادی کرے گاتو نازلی سے ورنہ زندگی بھر شادی نہیں کرے گا۔عرفان کی ضد کو دیکھتے ہوئے والدین بھی مجبور ہوگئے۔ رشتے کا پیغام لے کر گھر پہنچ گئے۔ عرفان ان دنوں سول اسپتال میں پریکٹس کررہاتھا۔ شکل وصورت میں اچھا تھا۔ نازلی کے والدین کوبھی اس رشتے میں ایسی خامی نظر نہ آئی جو وہ انکار کرتے‘ اس لیے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والی بات ہوئی۔ نازلی مسز عرفان بن کرعرفان کے گھر آگئی وہ بھی اسے پاکر بہت خوش تھا۔ شادی کے ابتدائی دن بہت ہی خوشگوار ماحول میں گزرے پھر عرفان کااصل چہرہ آہستہ آہستہ کھل کر نازلی کے سامنے آنے لگا تھا۔ وہ انتہائی ضدی قسم کا انسان تھا۔ اپنی بات کومنوا کر دم لیتاتھا۔وہ غصے کی حالت میں اچھے برے اور رشتے کی تمیز کھوبیٹھتاتھا۔ عرفان کو ایسی حالت میں دیکھ کر نازلی دل ہی دل میں کڑھتی اور سوچتی تھی کہ وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب اس کے والدین نے اس رشتے کی ہامی بھری تھی۔
جب عرفان اچھے موڈ میں ہوتا تھاس کی نوازشیں نازلی پر بڑھ جاتی تھیں۔ تفریحی مقامات پر لے جاتا‘ قسم قسم کے عمدہ کھانے کھلانے بڑے اچھے اچھے ہوٹلز میں لے جاتاتھا۔
دن ایسے ہی گزرتے رہے۔ نازلی کے دو لڑکے کامران اور عمران اور ایک لڑکی فائزہ ہوئی۔ جب بچے ذرا بڑے ہوئے ان کے دادااور دادی کاانتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال سے گھر میں سونے پن کااحساس ضرور ہواتھا مگر بچوں نے اس کمی کو کسی حد تک پورا کردیاتھا۔ کامران اور عمران بی ایس سی میں پہنچ چکے تھے۔ جبکہ فائزہ میٹرک پاس کرچکی تھی اور انٹر میں داخلہ لینے والی تھی۔ کامران کی اپنے کلاس فیلو کاشی سے بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی اور وہ اکثر گھر آتا رہتاتھا‘ وہ دونوں مل کر اسٹڈی کرتے تھے۔ کاشی بہت ہی خوبصورت لڑکاتھا جب پہلی بار وہ ان کے گھر آیا‘ نازلی حیرت سے اس کو دیکھتی رہ گئی۔ وہ عیاش قسم کی خاتون نہیں تھی پھر بھی ناجانے کیوں اسے کاشی سے یکطرفہ محبت ہوگئی تھی ۔ جب بھی کاشی ان کے گھر آتا وہ بہانے بہانے سے کامران کے کمرے میں چلی جاتی تھی۔ نازلی کو خود اپنے آپ پر حیرت ہوتی تھی کہ اسے کیا ہوتاجارہا ہے۔ وہ کیوں کاشی کی طرف مائل ہورہی ہے وہ کسی بھی طرح اس کے جوڑ کانہیں تھا۔
کاشی نے بھی اب پڑھائی کے بہانے روز آنا شروع کردیاتھا۔ ایک دن جب کاشی گھر آیا تو کامران اور عمران کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے اور ان کے گھر آنے میں دیر تھی۔ کاشی ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھ گیا ۔ نازلی‘ فائزہ کو چائے بنانے کا کہہ کر کاشی کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
’’کامران تھوڑی دیر سے آئے گا۔‘‘ نازلی نے بتایا۔
’’کوئی بات نہیں آنٹی میں انتظار کرلوں گا۔ کامران نے مجھے بتادیا تھا کہ وہ کام سے جائے گا مگر کام کرکے فوراً ہی گھر لوٹ آئے گا۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’تم دونوں کی امتحان کی تیاری کیسی چل رہی ہے۔‘‘ نازلی نے پوچھا۔
’’آنٹی تیاری بہت اچھی چل رہی ہے ‘ہم دونوں کی بھرپور کوشش ہے کہ اچھے نمبروں سے پاس ہوں‘ اس لیے روزانہ خوب محنت کررہے ہیں۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’تم عمران کو بھی اپنے ساتھ تیاری میں شریک کیوں نہیں کرتے۔‘‘
’’آنٹی عمران اکیلے ہی تیاری کررہا ہے ہم اسے کہتے ہیں کہ وہ بھی امتحان کی تیاری ہمارے ساتھ کرے مگرنجانے کیوں وہ ہمارے ساتھ تیاری کرنے کوتیار نہیں ہے۔‘‘ کاشی نے بتایا۔
’’میں عمران سے بات کروں گی‘ ساتھ میں تیاری اچھی ہوجاتی ہے۔‘‘ نازلی نے کہا۔
کامران کے گھر لوٹ آنے پر ان کی گفتگو کاسلسلہ منقطع ہوگیا اوروہ کامران کے ساتھ کمرے میں چلاگیا۔ نازلی کو اس وقت کامران کے جلدی آجانے پر ناجانے کیوں غصہ آرہاتھا۔ وہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
اس دن ان کی بات چیت کیاہوئی اب اکثر ایسا ہونے لگا تھا‘ کاشی گھر پرآتاہی اس وقت تھا جب کامران کسی کام سے باہر گیا ہوا ہوتاتھا۔ نازلی کوبھی کاشی سے کھل کربات چیت کرنے کاموقع مل رہاتھا۔ کاشی اپنے شاندار مستقبل کے لیے خوب محنت کررہاتھا۔
’’آنٹی کیا آپ نے فائزہ کی بات کہیںپکی کردی ہے۔‘‘ کاشی نے ایک دن نازلی سے پوچھ ہی لیا۔
’’فائزہ کی ابھی عمر ہی کیا ہے جو بات پکی کردوں۔‘‘ نازلی نے کہا۔
وہ کاشی کی بات پر بری طرح چونکی ضرور تھیں مگر اس پرظاہر نہیں کیا۔
’’کامران بتارہاتھا کہ آپ لوگ بچوں کی شادیاں جلدی کردیتے ہو۔‘‘
’’یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم لوگ بچوں کی شادیاں اس لیے جلدی کردیتے ہیں کہ جو کام وقت پر ہوجائے وہ اچھا ہوتا ہے۔‘‘
’’آنٹی میں آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کیاآپ برا تونہیں مانیں گی۔‘‘
’’ایسی کیابات ہے جس کامیں برامان جائوں گی۔‘‘ وہ بولیں۔
’’بس بات ایسی ہی ہے اس لیے پہلے اجازت مانگ رہا ہوں اگر برالگے تو بات نہیںکروں گا۔‘‘ وہ بولا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے ایسی کیا بات ہے جو میں برامان جائوں گی۔پھرتم بتائو کہ کیا بات ہے میں تمہاری بات کابرا نہیں مانوں گی۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’آپ فائزہ کی کہیں بات کرنے سے پہلے مجھ …‘‘
’’ہاں بولو رک کیوں گئے۔‘‘
’’آنٹی بات کرتے ہوئے ہمت نہیں ہو رہی ہے۔‘‘
’’ویسے تم بہت پڑھاکو بنتے ہو اور مجھ سے بات کرتے ہوئے تمہیں ہمت نہیں ہو رہی ہے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولیں۔
’’‘میں سمجھ گئی ہوں تم کیا کہنا چاہ رہے ہو فائزہ کو پسند کرنے لگے ہو۔‘‘
’’جج…جج…جی۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے گردن نیچے جھکادی۔
’’سچ پوچھو کاشی ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ تمہاری طرح کاذہین داماد ملے۔‘‘
’’میری طرح کامیں نہیں۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’تم بھی ہوسکتے ہو میں نے کب انکار کیا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کے رشتے بزرگ کرتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔‘‘
’’ہاں میں یہ بات سمجھتاہوں‘ میں ابھی اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ گھر والوں سے شادی کی بات کرسکوں۔ مجھے ابھی اپنا کیریئر بنانا ہے پھر ہی کچھ کرسکتاہوں۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’مجھے تمہارے خیالات سن کر بہت خوشی ہوئی ہے تم دوسرے لڑکوں کی طرح نہیں ہو۔ تمہاری اپنے مستقبل پر گہری نظر ہے۔ تمہارا اچھا مستقبل ہونے پر ہی تم بیوی بچوںکا خیال رکھ سکتے ہو ورنہ مالی پوزیشن اچھی نہ ہونے پر تم نہ خود پر توجہ دے سکوگے اور نہ ہی بچوں کا خیال رکھ سکوگے۔‘‘
’’آنٹی میں رشتے کی بات ہرگز نہ کرتامگر میں نے یہ بات محض اس لیے کی ہے کہ کہیں جلدی کے چکر میں فائزہ کی کہیں اور بات پکی نہ کردیں‘ بس اسی مقصد کے تحت میں نے بات کی ہے۔‘‘
’’کاشی سچ پوچھو تو تم شروع دن سے ہی مجھے اچھے لگے تھے۔ تمہاری اور فائزہ کی جوڑی بہت اچھی لگے گی۔‘‘ نازلی ایک خاص اداسے بولی۔
’’تم اس بات کاکسی اورسے ذکر نہیںکرنا‘ یہ بات کسی اور کو پتا چل گئی تو پھر معاملہ خراب ہوجائے گا۔‘‘
’’وہ کیوں آنٹی؟‘‘
’’ہمارے کئی رشتے دار ایسے ہیں جو فائزہ کو اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے ہیں‘ انہیں ذرابھی بھنک پڑگئی وہ زبردستی فائزہ کی منگنی کے لیے دبائو ڈالنا شروع کردیں گے اور تمہارے انکل کومنگنی کرنی پڑجائے گی۔‘‘
’’آنٹی پھر یہ رشتہ کس طرح ہوگا۔‘‘ کاشی نے پوچھا۔
’’یہ میرا کام ہے تمہیں بہت صبر اور حوصلے سے کام لینا ہوگا‘ اس وقت تک جب تک تم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوجاتے‘ جیسے ہی اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائو اپنے والدین کورشتے کے لیے بھیج دینا۔ میں کسی کومنگنی کی بھنک لگے بغیر تمہاری منگنی پکی کرادوں گی۔ منگنی ہوجانے پر سب رشتے داروں کے ارمان دھرے رہ جائیں گے۔‘‘ وہ بولی۔
’’آنٹی ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’بے فکر رہو ایسا ہی ہوگا۔‘‘نازلی نے کاشی کے گال پراپناہاتھ تھپکی کے انداز میں لگایا۔
کاشی کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔ اسے مسکراتا دیکھ کر نازلی بھی مسکرادی۔
’’کاشی وہی ہوگا جو تم چاہوگے یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ ایسا جب ہی ہوگا جب تم میری فرمانبرداری کروگے۔‘‘
’’فرمانبرداری۔‘‘ کاشی نے چونک کر نازلی کے چہرے کو دیکھا۔’’میں سمجھانہیں۔‘‘
’’فرمانبرداری کامطلب نہیں سمجھے۔ میں تمہیں بتاتی ہوں‘ میں جیسا تمہیں کہوں گی اس پر تمہیں عمل کرنا ہوگا۔ سادہ الفاظ میں یہ کہ میرا ہر حکم تمہیں آنکھیں بند کرکے پورا کرنا ہوگا۔‘‘نازلی نے کہا۔
’’ارے آنٹی… آپ…آ…آپ حکم کریں اگر میں انکار کروں تو میرا نام بدل دینا۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’میں بھی یہی چاہتی ہوں پھر ملائو ہاتھ۔‘‘ نازلی نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔
آنٹی کابڑھا ہاتھ دیکھ کر کاشی کو ایک لمحے کو جھٹکا لگا مگر اس نے پھرتی سے ان سے ہاتھ ملالیا۔ نازلی نے کاشی کاہاتھ چھوڑنے کی بجائے تھام لیاتھا اور بڑی محبت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ آنٹی نازلی کے اس طرح دیکھنے پر کاشی کوشرم سی محسوس ہوئی اور اس نے بے اختیار اپنی نظریں نیچے جھکالیں۔
’’کیا ہوا تم نے اپنی نظر کیوں نیچی کرلیں کیامیں اتنی بری ہوں کہ تم مجھ سے نظریں ملاتے ہوئے گھبرارہے ہو۔‘‘
’’ایسی بات نہیں میں نے احتراماً نظریں نیچے کرلی تھیں۔‘‘ کاشی نے نظر اوپر کرتے ہوئے آنٹی نازلی کودیکھا۔
’’میں تمہیں کیسی لگتی ہوں؟‘‘
’’آپ بہت اچھی ہیں۔‘‘
’’میں واقعی اچھی ہوں یامیرا دل رکھنے کو کہہ رہے ہو۔‘ ‘نازلی نے پوچھا۔
’’میں سچ کہہ رہاہوں مجھے جھوٹ بول کرکیاملے گا۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’جب تم ہمارے گھر پہلی بار آئے تھے مجھے ایک جھٹکا سا لگاتھا‘ اس دن مجھے احساس ہوا کہ میں وقت سے پہلے پیدا ہوگئی ہوں‘ مجھے تمہارے جیسے خوبرو نوجوان کی بیوی بننا چاہیے تھا۔‘‘نازلی نے اپنے دل کی بات کردی۔
’’آنٹی ایسا ہوتا ہے‘ انسان کی فطرت ہے اسے جو اچھا لگے وہ اس کی قربت چاہتا ہے مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ عمروں کا فرق انہیں دور کردیتا ہے۔ وہ چاہنے کے باوجود قریب نہیں ہوپاتے اسی نام دنیا ہے۔‘‘
اور پھر جو کچھ ہوا وہ کاشی کے لیے غیر متوقع تھا۔ بہرحال وہ کچی عمر کا نوجوان تھا۔ نازلی جیسی تجربہ کار عورت کے ہتکنڈوں کے آگے اس کی تمام تر مزاحمت دم توڑ گئی اور اس نے خود کو نازلی کے حوالے کر دیا۔
وہ ہر صورت میں فائزہ سے شادی کرناچاہتاتھا۔ یہ اس وقت ممکن تھا جب وہ تعلیم مکمل کرکے اپنے مستقبل کوسنوارلے مالی طور پرمستحکم ہونے کی صورت میں انکل عرفان بھی اس رشتے پراعتراض نہیں کرسکتے تھے ان کااس رشتے کے لیے ذہن بنانے کو آنٹی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ آنٹی کی ناراضگی کسی صورت میں اسے نقصان پہنچا سکتی تھی۔
کامران سے ملاقات ہوجانے پر جب وہ گھر جارہاتھا دل ہی دل میں یہ تہیہ کرچکاتھا کہ آنٹی اس کی ہونے والی ساس ہے‘ ساس سے خوشگوار تعلقات ہی رشتے کوقائم رکھنے میں کامیاب ہوسکتے تھے۔ آنٹی اسے کوئی بھی کام کہیں گی اپناذاتی کام چھوڑ کر ان کاکام پہلے کرے گا۔ چنانچہ نازلی کو جب بازار جانا ہوتا وہ فون کر کے اسے بازار میں بلا لیتی تھی۔
’’آنٹی نازلی جب ایک خاص انداز سے پیاسی نگاہوں سے اس کے چہرے کو دیکھتیں وہ جھینپ ساجاتا اور اپنی نظریں نیچے کرلیتا‘ نازلی آنٹی کووہ ابھی سے اپنی ساس سمجھنے لگاتھا اس لیے ان کااحترام کرنااس پرلازم ہوگیاتھا مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتاتھا کہ ریسٹورنٹ میںبیٹھے لوگ انہیںشک بھری نگاہ سے دیکھیں‘ آنٹی نازلی اور کاشی کی عمر میں بہرحال ایک فرق تھا وہ ان کے بیٹے کا ہم عمر تھا جسے جھٹلایا نہیں جاسکتاتھا‘ وہ دونوں جب بھی کسی بھی ریسٹورنٹ میں بیٹھتے تھے لوگوں کی توجہ کامرکز بن جاتے تھے۔ ایسے میں کاشی کوشرمندگی ہوتی تھی۔ دراصل نازلی کاکاشی کودیکھنے کاانداز ایسا ہوتاتھا کہ لوگ خودبخود ان کی جانب متوجہ ہوجاتے تھے۔ ہرملاقات میں ایسا ہی ہوتاتھا۔ سامان کی خریداری وہ اس کے ساتھ ضرور کرتی تھیں مگر وہ رکشہ گھر سے کچھ فاصلے پررکوا کررخصت کردیتی تھیں۔ حالانکہ وہ کہتا رہ جاتاتھا کہ آنٹی میں سامان گھر تک پہنچادوں۔‘‘
’’سامان میں لے جائوں گی تم اس کی فکر نہ کرو تمہارا پہلے ہی خاصا وقت ضائع ہوچکا ہے تم گھرجاکر امتحان کی تیاری کرو۔‘‘آنٹی نازلی مسکرا کر کہتیں۔
کاشی سعادت مند بچے کی طرح رکشے سے اتر کر چل دیتا۔ اکثر گھر جاتے ہوئے اس کے دل میں آتا کہ وہ نازلی آنٹی سے ملاقات ہونے پر ضرور پوچھے گا کہ وہ اسے ریسٹورنٹ میں اس طرح کیوں دیکھتی ہیں کہ وہ لوگوں کی توجہ بن جاتا ہے‘ ملاقات ہونے پر اس کی اتنی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ یہ بات پوچھ سکے۔ اسے آنٹی نازلی کی ناراضگی کا خیال آجاتاتھا‘ کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں‘ حقیقت یہ تھی کہ فائزہ اسے بہت پسند آگئی تھی اس کے بغیر وہ زندگی کو ادھورا سمجھنے لگاتھا‘ اس لیے وہ خاموش تھا۔
ایک دن وہ ریستوران میں بیٹھے ہوئے تھے ریستوران خالی تھا‘اچانک آنٹی نازلی نے اس سے وہی بات کردی جو وہ آنٹی سے کہتے ہوئے ہچکچا رہاتھا۔
’’کاشی تمہارے دل میں یہ خیال آتا ہوگا کہ میں تمہیں اس طرح سے دیکھتی ہوں جیسے ایک محبوبہ اپنے محبوب کو دیکھتی ہے۔‘‘
’’آ…ہاں…‘‘ کاشی نے مختصر سا جواب دیا۔
’’پھر تم نے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں؟‘‘
’’آپ کی ناراضگی کے ڈر سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ کاشی نے شرماتے ہوئے کہا۔
’’ارے …ارے تمہیں کیا ہوا تم شرمندہ کس بات پر ہو رہے ہو۔‘‘
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آپ نے میرے دل میں کیسے جھانک لیاہے۔‘‘
’’یہ عام سی بات ہے تم مجھے پیار سے دیکھوگے مجھے فوراً پتا چل جائے گا۔ میں تمہیں پیار سے دیکھتی ہوں اور مجھے پتا چل جاتا ہے کہ تم یہ بات محسوس کررہے ہوگے۔ کاشی میں تم سے کچھ چھپانا نہیں چاہتی ‘سب کچھ سچ سچ بتادینا چاہتی ہوں‘مگر پہلے وعدہ کرو یہ بات کسی اور سے شیئر نہیں کروگے۔‘‘ آنٹی نازلی بولی۔
’’آنٹی میری آج تک کتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں یقین کریں میں نے کسی کوبھی نہیں بتایا حتیٰ کہ کامران کوبھی نہیں بتا۔ محض اس وجہ سے کہ رکشے میں سامان ہوتے ہوئے بھی مجھے گھر سے کچھ فاصلے پر چھوڑتی ہوشاید اس میں کوئی مصلحت ہو ‘بس پھر میرا بھی فرض بنتا ہے کہ میں بھی اس رازکو راز رکھوں۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’شاباش مجھے تم سے یہی امید تھی ‘ میری بات توجہ سے سنو اور جو بات کرنے جارہی ہوں وہ کسی تیسرے شخص کو پتا نہیں چلنی چاہیے۔‘‘
’’میں وعدہ کررہاہوں کسی کونہیں بتائوں گا۔‘‘
’’کاشی تمہیں دیکھ کر میرے سوئے ہوئے جذبات بھڑک اٹھے ہیں‘ میں تمہیں چاہنے لگی ہوں‘ میں کچھ عرصہ تمہاری قربت میں گزارنا چاہتی ہوں‘ مجھے تم مایوس نہیں کرنا۔‘‘ آنٹی نازلی نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
کاشی جو بات خاصے عرصے سے نہیں سمجھ پایاتھا‘ آنٹی نازلی نے چند لفظوں میں سمجھادی تھی۔ وہ جو چاہ رہی تھی اس کاتصور کرکے ایک لمحے کووہ کانپ کررہ گیا۔ مگر پھر ہمت کرکے وہ بولا۔
’’آنٹی بلاشبہ اس عمرمیں بھی آپ میں بلا کی کشش ہے مگر میں آپ کو ساس کادرجہ دے چکاہوں‘ اور ساس کا درجہ بہت احترام والا ہوتا ہے۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے میں کیا کروں‘ میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر تم سے یہ بات کررہی ہوں کیا تم فائزہ کی خاطر میرا ساتھ نہیں دے سکتے۔‘‘
’’میں فائزہ کو پانے کے لیے سب کچھ کررہاہوں‘ آپ کی ایک کال پر سب کام چھوڑ کر دوڑاچلا آتا ہوں‘ یہ سب فائزہ کی محبت ہی ہے۔‘‘
’’پھر بھی تم میری بات نہیں مانوگے؟‘‘
’’آنٹی آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر لیکن یہ سوچو شادی کے بعد ہمارے تعلقات کے بارے میں فائزہ کوپتا چل جانے پر وہ کیا سوچے گی۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’فائزہ کوکون بتائے گا۔ یہ راز ہم دونوں کے درمیان راز رہے گا۔ جب تمہاری شادی فائزہ سے ہوجائے گی ہم تنہائی میں ملاقاتیں کرنا چھوڑ دیں گے‘ میرااور تمہارا رشتہ صرف ساس اور داماد کا رہ جائے گا۔‘‘آنٹی نازلی نے کہا۔
’’اچھی طرح سے سوچ لیں آنٹی‘ فائزہ کو پانے کے لیے سب کچھ کرنے کوتیار ہوں مگر فائزہ کسی اور کی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ کاشی نے آنٹی سے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
آنٹی نازلی نے کاشی کے چہرے پر نیم رضامندی دیکھ لی تھی۔ اس لیے وہ فوراً سے بولیں۔
’’کاشی بے فکر ہوجائو فائزہ تمہاری ہی اور تمہاری ہی رہے گی۔ بس میں جو کہوں وہ کرتے جائو۔‘‘ آنٹی نے مسکراتے ہوئے کاشی کے چہرے کو دیکھا۔
کاشی نے اس کے آگے ایسے سرجھکالیاتھا جیسے وہ یہ کہہ رہاہو کہ جوحکم آقا کا غلام اسے بجالائے گا۔
آنٹی کاشی کاجھکا ہوا سردیکھ کر دل ہی دل میں مسکرادی۔اس نے کاشی پرجومحنت کی تھی اس کاثمر اب ملنے والا تھا۔
آنٹی نازلی کے دل میں کاشی کو دیکھ کر جوارمان جاگے تھے‘ وہ ارمان پورے ہونے والے تھے۔ وہ جب کاشی کوبلاتی وہ دوڑا چلاآتا‘ یہ کام اس رازداری سے ہورہاتھا ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے کو خبر تک نہیں ہوتی تھی ابتدا میں کاشی ڈرا‘ ڈرا رہتاتھا‘ مگر اب وہ بھی شیر ہوگیاتھا۔ آنٹی نازلی کااس پرجو خوف وڈرتھا وہ نکل گیاتھا۔ وہ بے خوف ہو کر آنٹی نازلی کے پاس آتااور خوب کھل کر کھیلنے لگاتھا۔ کئی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا‘ کاشی بہت مطمئن تھا۔ اس نے آنٹی نازلی کوبہت خوش رکھا ہوا ہے اس لیے دنیا کی کوئی طاقت اس کی فائزہ سے شادی کونہیں رکواسکے گی‘ کئی سال یہ سلسلہ چلتے رہنے پر اب آنٹی کو کاشی سے اکتاہٹ ہونے لگی تھی‘ ایسا لگتاتھا کہ اس کادل کاشی سے بھرگیا ہے اور اسے کسی اور شکار کی تلاش ہے۔ اب وہ کاشی کو دیکھ کر اس طرح خوش نہیں ہوتی تھی جیسے پہلے کبھی ہوا کرتی تھی۔
فائزہ کے لیے ایک رشتہ آگیا‘ جمشید ایک سرکاری بینک میں افسر تھا۔ ذاتی بنگلہ اور کار بھی تھی۔ اس کے ریٹائرڈ والد کمال کے پاس بھی ٹھیک ٹھاک پیسہ تھا جو جمشید کوہی وراثت میں ملناتھا۔ عرفان کو یہ رشتہ بہت پسند آگیا۔ وہ کسی صورت یہ رشتہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتاتھا۔ آنٹی نازلی نے احتجاج بھی کیا کہ جمشید کی عمر لڑکی سے زیادہ ہی‘ مگر عرفان نے اس کے احتجاج کو نظر انداز کرکے بات پکی کردی۔ یہ خبر ا یسی تھی جو چھپ نہیں سکتی تھی۔ جب کاشی کو پتاچلا وہ غصے سے آگ بگولہ ہوگیااور نازلی پر اس رشتے کو ختم کرنے پر زور ڈالنے لگا۔ نازلی جانتی تھی کہ عرفان کسی کی نہیں سنے گا اس لیے اس نے کاشی کو صاف صاف بتادیا کہ عرفان اس کی نہیں سن رہے ہیں ان کی بات سن کر کاشی شدید غصے میں آگیا۔
’’آنٹی میں نے تمہارا ہر حکم غلام کی طرح مانا‘ محض اس لیے کہ میری فائزہ سے شادی ہوجائے گی۔ میری فرمانبرداری کایہ صلہ دے رہی ہو۔‘‘
’’میں مجبور ہوں‘ کاشی تم میری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے ہو۔‘‘نازلی نے کہا۔
’’مم… میں کچھ نہیں سمجھ رہا‘ میرے دماغ میں آندھیاں چل رہی ہیں۔یہ رشتہ ہرحالت میں ختم ہوجانا چاہیے‘ ورنہ …‘‘
’’ورنہ کیا؟‘‘
’’ورنہ میں انکل عرفان کو سب کچھ بتادوں گا۔‘‘ کاشی نے کہا۔
’’تم میرا گھر اجاڑنا چاہ رہے ہو۔‘‘
’’میراگھر بننے سے پہلے ہی جو اجڑ رہا ہے مجھے کتنا مان تھاآپ پراور یہ‘ یہ صلہ مل رہا ہے میرے مان کا۔‘‘
’’کاشی… کاشی… میں تمہیں کیسے سمجھائوں‘ تم میری مجبوری کوسمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’میرے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو کررہ گئی ہے‘ مجھے صرف اور صرف فائزہ چاہیے وہ کسی اور کی نہیں میری دلہن بنے گی۔ ورنہ میں سب کچھ تہس نہس کرکے رکھ دوں گا۔‘‘
’’مجھے تم سے بالکل بھی یہ امید نہیں تھی۔‘‘
’’آنٹی مجھے بھی آپ سے یہ ہرگز امید نہیں تھی اگر آپ یہ چاہتی ہیں کہ تمہارا گھر بسارہے تو فائزہ کے لیے آیا ہوا رشتہ ختم کرادو۔‘‘
’’ورنہ …‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ خاموش ہوگیا۔
’’کاشی تم اتنے جذباتی مت بنو مجھے کچھ سوچنے کاموقع دو۔ میں تمہاری خاطر کچھ کرتی ہوں۔‘‘آنٹی نازلی نے اس کاغصہ کم کرنے کو کہا۔
’’ٹھیک ہے میں دو دن کے بعد آئوں گا۔ مجھے ہاں میں جواب چاہیے۔‘‘یہ کہتے ہوئے وہ چلاگیا۔
آنٹی نازلی نے کاشی کاغصہ ٹھنڈا کرنے کوبظاہر تسلی دے دی تھی مگر وہ چاہتی تھیں کہ عرفان کسی بھی صورت میں اس رشتے کوختم نہیں کرے گا وہ جو فیصلہ ایک بار کرلیتاتھا پھراس پرقائم رہتاتھا چاہے اسے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوجائے۔ کاشی کی دھمکی نے آنٹی ن ازلی کی نیندیں اڑادی تھیں بات بھی ایسی تھی نیندوں کااڑنا فطری تھا۔
دو دن پلک جھپکتے میں گزر گئے‘ کاشی پھر اس کے سامنے تھا‘ وہ اس طرح غصے میں تھا‘ اس کے غصے میں ذرا بھی کمی نہیں آئی تھی۔
’’آنٹی آپ نے بات کی۔‘‘ وہ بولا۔
’’ہاں میں نے بات کی ہے تمہارے انکل کو میںیہ منگنی ختم کرانے کی پوری کوشش کررہی ہوں کچھ وقت ضرور لگے گا مگر منگنی ختم ہوجائے گی۔ تم بے فکر ہو جائو۔‘‘
’’انکل منگنی ختم کرنے کو مان جائیں گے نا۔‘‘ کاشی نے بے یقینی سے پوچھا۔
’’تم شک نہیں کرو‘ میں نے جب تمہیں کہہ دیا ہے کہ تمہارا کام ہوجائے گا پھر کیوں پریشان ہو رہے ہو۔‘‘نازلی نے کہا۔
’’آپ نے پہلے بھی کہاتھا کہ فائزہ میری ہے پھر بھی اس کی منگنی بینکر سے ہوگئی۔‘‘کاشی نے شکوہ کیا۔
’’یہ سب اچانک ہوا‘ عرفان نے مجھے بالکل بھی اعتماد میں نہیں لیااور منگنی کردی۔ میں نے اسے سمجھایا ہے کہ لڑکے کی عمر بہت زیادہ ہے تم نے یہ فیصلہ بہت جلد بازی میں کردیا ہے‘انہوں نے میری بات کی تائید کی ہے کہ واقعی وہ جلد بازی میں ایک غلط فیصلہ کرچکے ہیں۔یہ بہت بری بات ہے کہ انہوں نے اپنی غلطی کااعتراف کرلیاہے ‘بہت جلد میں اس منگنی کو ختم کراکے دم لوں گی۔‘‘ نازلی نے کہا۔
’’ٹھیک ہے آنٹی ایسا ہوجاتا ہے تومیں بھی اپنی زبان کوبند رکھوں گا۔‘‘ کاشی نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’تم بہت جلد فائزہ کی منگنی ختم ہونے کی خوشخبری سن لوگے۔‘‘ نازلی نے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔
بظاہر نازلی نے کاشی کومطمئن کردیاتھا لیکن وہ دل ہی دل میں پریشان تھیں کہ آج نہیں تو کل جب کاشی کو پتاچلے گا کہ اس نے جھوٹ بولاتھا وہ شدید غصے میں آجائے اور پھر سب کچھ تہس نہس ہوجائے گا یہ تصور کرتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ وہ فائزہ کی منگنی ختم نہیں کراسکتی تھی اس لیے اسے اس مسئلے کا حل اس طرح نکالناتھا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ‘ اس کام کے لیے کافی سوچ بچار کی ضرورت تھی۔
انسان کے کسی مسئلے کے حل کے لیے کافی سوچ وبچار کرنے سے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آتاہے ایساہی نازلی کے ذہن میں حل آہی گیا۔ اس کے ذہن میں جومنصوبہ آیا تھا اس میں وہ اداکاری میں جتنا رنگ بھرتی اس کے شوہر کو پورا یقین آجانایقینی تھا۔
نازلی نے اپنے منصوبے کی کامیابی کے لیے اپنے بچوں کو ان کی خالہ نصیبو کے گھر بہانے سے بھیج دیا۔ جب عرفان گھر پہنچا نازلی نے اپنے کپڑوں کو آگے کی طرف سے پھاڑ لیا جب عرفان نے اس کی یہ حالت دیکھی وہ بری طرح چونکا۔
’’یہ… یہ… سب کیاہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’یہ اس ذلیل کاشی نے کیا ہے ہم نے اسے اپنے بچوں کی طرح محبت دی اس کایہ صلہ دیا ہے کہ آج مجھے اکیلا دیکھ کر میری عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی‘ میں نے جب شور مچایا وہ خوف زدہ ہو کربھاگ گیا۔‘‘ نازلی نے رونا شروع کردیا۔
’’اس ذلیل لڑکے کی یہ ہمت میں ابھی اور اسی وقت کاشی کوبلا کر دیکھو میں اس کے ساتھ کیاسلوک کرتا ہوں۔‘‘ عرفان شدید غصے میں آگیا۔
’’خدا کے لیے ایسا کچھ نہیں کرنا۔‘‘
’’اس نے تمہاری عزت پرحملہ کرنے کی کوشش کی ہے میں کس طرح سے خاموش رہ سکتاہوں۔‘‘
’’تم بات کوسمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘
’’کیا سمجھنے کی کوشش کروں میراغصے کے مارے براحال ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ میں سمجھنے کی کوشش کروں۔‘‘
’’اس سے ہماری عزت اچھلے گی۔ فائزہ بیٹی کی منگنی ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں جب انہیں پتاچلے گا کہ فائزہ کی منگنی ہونے پر اس نے مشتعل ہو کر میری عزت پرحملہ کیاہے تووہ لوگ کیا سوچیں گے۔‘‘
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم کیا چاہ رہی ہو مجھے تفصیل سے پوری بات بتائو۔‘‘ عرفان نے غور سے نازلی کودیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہیں پوری تفصیل بتاتی ہوں‘ کاشی ہمارے گھر میں بظاہر کامران کے دوست کی حیثیت سے آتاتھا مگر اس کے دل میں چور تھا وہ ہمارے گھر میں فائزہ کے چکر میں آتاتھا کہ کس طرح اس سے دوستی پیدا کرلے مگر فائزہ نے کبھی اسے لفٹ نہیں کرائی اس بات کا اسے دکھ تھا کہ اس کی محنت رنگ کیوں نہیں لائی وہ فائزہ کے دل میں اپنے لیے جگہ کیوں نہیں بنا سکا۔ فائزہ کی منگنی سے کاشی کوشدید ذہنی طور پر جھٹکا لگا ہے وہ آج مجھ سے بات کرنے آیا تھا کہ میں کسی طرح اس منگنی کو ختم کراکے اس کے ساتھ فائزہ کی منگنی کرادوں‘ میں نے اسے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ اپنی اوقات میں رہے۔ ہم اتنااچھا رشتہ ختم نہیں کرسکتے‘ اس بات پر وہ مشتعل ہوگیااور مجھے دھمکی دی کہ وہ ہماری عزت خراب کردے گا‘ میںنے بھی کہہ دیا کہ تمہیں جوبھی کرنا ہے کرو مگر ہم فائزہ کاآیا ہوا رشتہ نہیں ٹھکراسکتے۔ بس اتنی سی بات تھی اس نے مجھ پر حملہ کردیا۔ تم خود سوچو جب فائزہ کے ہونے والے سسرالیوں کو یہ بات پتاچلے گی وہ کیا سوچیں گے‘ ہم لاکھ کہتے رہیں کہ فائزہ کا کاشی سے کوئی چکر نہیں تھا مگر وہ ضرور شک کریں گے۔ جمشید کے دل میں ایک بار شک پیدا ہوجانے پرپھر کبھی دل سے شک دور نہیں ہوگا اور وہ زندگی بھر شک میں مبتلا رہے گا کہ شادی سے پہلے فائزہ کا اس کے بھائی کے دوست سے عشق رہا ہے۔ کاشی نے مجھ پر اسی لیے حملہ کیا ہے کہ تم جذبات میں آکر اس کی پٹائی کروگے یا پولیس کے حوالے کردینے پر بھی یہ بات ضرور کھلے گی کہ تم نے ایسا کیوں کیا ہے۔‘‘ نازلی نے مکاری سے کہا۔
’’بات تمہاری بالکل ٹھیک ہے میں ایسا ہی کرنے والا تھااور وہ ذلیل کمینہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا۔‘
’’کاشی بہت ہی مکار لڑکا ہے ہمیں اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’بیگم اسے کچھ نہ کچھ سبق سکھانا پڑے گاورنہ وہ پھر اس طرح کی حرکت کرکے ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کرے گا۔‘‘ عرفان نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’ہاں سبق سکھانا ضروری ہے مگر اس طرح کہ علاقے میں کسی کو پتا نہ چلے کہ ہم نے کاشی کو سبق سکھانے کے لیے جوابی کارروائی کی ہے۔‘‘
’’میں تمہاری بات سمجھ گیاہوں تم بے فکر رہو ایسا ہی ہوگا ۔ میں ہوشیاری سے ایسا کام کروں گا کہ کسی کوکانوں کان خبر نہ ہوگی۔‘‘ عرفان نے کہا۔
وہ سوچ میںپڑگیاتھا کہ کس طرح کاشی سے انتقام لیاجائے‘ سوچتے سوچتے عرفان کے ذہن میں ایک ترکیب آہی گئی۔
’’نازلی میں سوچ رہاہوں کسی طرح دھوکے سے میں علاقے سے باہر بلائوں اور کسی ویرانے میں لے جاکر اس کاکام تمام کردوں۔اس طرح کسی کوبھی اس کے قتل کاپتا نہیں چل سکے گا‘ مگر کس طرح اسے بلائوں؟‘‘
’’اس کاایک ہی حل ہے‘ میں کاشی کو بے وقوف بنائوں۔‘‘
’’وہ کس طرح ؟‘‘
’’میں موبائل پرکال کرکے اسے کہوں گی کہ میںنے تمہیں کس طرح سے منگنی توڑنے کے لیے راضی کرلیا ہے‘ اب تم انکل کے قریب ہوکر ان کے دل میں جگہ بنائو کہ وہ تم سے فائزہ کی منگنی کرنے کو تیار ہوجائیں۔‘‘
’’کیاوہ مان جائے گا۔‘‘ عرفان نے بے یقینی سے نازلی کو دیکھا۔
’’فائز ہ کو حاصل کرنے کے لیے وہ سب کچھ کرنے کوتیار ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے یہ کام انتہائی راز داری سے ہونا چاہیے ذرا سی بھی بے احتیاطی ہمیں پھنسا سکتی ہے۔‘‘عرفان نے کہا۔
’’تم بے فکر ہوجائو‘ کاشی اتنے عرصے سے ہمارے گھر آرہاہے میں اس کی نفسیات سے واقف ہوچکی ہوں۔ اپنی عزت بچانے کے لیے ہمیں ایسا جال بچھانا پڑے گا جس میں کاشی بری طرح پھنس کررہ جائے‘ سوائے پھڑپھڑانے کے کچھ نہ کرسکے۔‘‘ نازلی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
نازلی کاذہن اب تیزی سے کام کررہاتھا‘ اس نے بڑی ہوشیاری سے شوہر کو اپنی باتوں میں پھنسالیاتھااور اب وہ کام ہونے والاتھا کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
’’کاشی تمہارے لیے خوشخبری ہے۔‘‘ نازلی نے کاشی سے ملاقات ہونے پربتایا۔
’’کیاواقعی ؟‘‘ کاشی نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں کاشی وہ مان گئے ہیں‘ مگر تمہیں تھوڑی محنت کرناپڑے گی۔‘‘نازلی نے کہا۔
’’جب وہ مان گئے ہیں تو پھر مجھے محنت کیوں کرناپڑے گی۔‘‘ کاشی چونکا۔
’’بے وقوف میںنے اسے منگنی توڑنے کے لیے راضی کرلیاہے کہ لڑکا بڑی عمر کاہے اس سے اچھا تو کاشی ہے جو کم از کم اس کے جوڑ کاتو لگتا ہے‘ اب تم یہ کام کرنا کہ انکل کے قریب ہونے کی کوشش کرو‘ تاکہ ان کے دل میں تمہارے لیے جگہ ہو اور میںجب تمہارے لیے انہیں قائل کرنے کی کوشش کروں تو وہ انکار نہ کرسکیں۔‘‘ نازلی نے کہا۔
’’کیا وہ مجھے اپنا داماد بنانے پرراضی ہوجائیں گے؟‘‘ کاشی نے بے یقینی سے کہا۔
’’محبت سے سب کچھ ہوجاتا ہے ‘تم انکل کے دل میں محبت پیدا کرکے تو دیکھو پھر دیکھنا کیاہوتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے آنٹی جیسا تم کہوگی۔ میں ویسا ہی کروں گا لیکن …‘‘
’’بے فکر ہوجائو فائزہ تمہاری ہی دلہن بن کررہے گی۔‘‘ نازلی نے اسے بھرپور یقین دلاتے ہوئے کہا۔
نازلی کی یقین دہانی پر کاشی کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔اسے پورا یقین تھا کہ آنٹی ہی یہ کام کرسکتی ہیں۔
’’بیگم کاشی کوسبق سکھانے کا انتظا م ہوگیا ہے‘ بس تمہارا یہ کام ہے کہ کسی طرح اسے میرے ساتھ بھیج دو پھر تم دیکھنا میں اسے کیسا سبق سکھاتاہوں۔‘‘ عرفان نے اپنی مونچھوں کوتائو دیتے ہوئے کہا۔
’’اس طرح بات کھل جائے گی۔ محلے کا جوبھی شخص اسے تمہارے ساتھ جاتا دیکھے گا وہ گواہ بن جائے گاکہ آخری دفعہ اس نے کاشی کوتمہارے ساتھ جاتا دیکھا ہے۔‘‘ نازلی نے کہا۔
’’ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو پھرمیں کیا کروں ؟‘‘ عرفان سوچ میں پڑگیا۔
’’میں تمہیں کاشی کاموبائل نمبر دے دوں گی تم اسے کال کردینا وہ تمہاری کال پر دوڑا ‘ دوڑا آئے گا‘ اور کسی کوکانوں کان خبر بھی نہیں ہوگی۔‘‘ نازلی نے کہا۔
’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔‘‘ عرفان نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’لیکن اس میں ایک پرابلم ہے اگر اس نے میری کال کا کسی کوبتادیا تو…‘‘
’’نوپرابلم تم کہہ سکتے ہو میں نے کاشی کوبلایا تھا۔ مگر وہ آیاہی نہیں تھا۔‘‘
نازلی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں یہ بھی ٹھیک ہے یہ ضروری تو نہیں جس نے کاشی کوبلایا ہو وہ اسے قتل بھی کردے ساتھ جاتے دیکھنے پرآدمی پھنس سکتا ہے۔‘‘ عرفان نے کہا۔
٭٭٭٭
’’خلیل جبار تمہاری خبروں سے لوگ جیلس ہو رہے ہیں ۔‘‘ استاد پیارے نے یہ کہتے ہوئے پانی کا گلاس ایک سانس میں پی لیا۔ ’’تم بہت آگے جارہے ہو‘ اپنی خبروں کے حوالے سے۔‘‘
’’یہ کون کہہ رہا ہے۔‘‘میںنے استاد پیارے سے تفریح لینے کو کہا۔
’’کون کہہ رہاہے‘ استاد پیارے نے حیرانی سے مجھے دیکھا۔ ’’میں کہہ رہاہوں اور کون کہے گا۔‘‘ استاد پیارے نے مصنوعی غصے سے کہا۔
اس وقت ہم کورٹ کی کینٹین میں بیٹھے گفتگو کررہے تھے‘ دو بجے کے قریب کینٹین خالی ہوجاتی ہے اور اکادکا افراد ہی بیٹھے ہوتے ہیں یا کورٹ رپورٹر آکر ایک دوسرے سے خبروں کا تبادلہ کرتے ہیں۔
’’خلیل جبار تم پانی زیادہ پیا کرو‘ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے‘ یہ گرمی انسانوں کوبیمارکرنے والی ہے۔ میں اس گرمی میں اتنا پانی پیتاہوں کہ حلق تک پانی محسوس ہوتا ہے‘ جسم میں پانی بھراہوگا تو زیادہ بیمار نہیں ہوگے۔ نعیم بھائی کو دیکھو وہ گرمیوں میں آئے دن بیمار ہوجاتے ہیں میں انہیں بھی سمجھاتاہوں کہ پانی خوب پیا کرو لیکن وہ میری بات پرعمل نہیں کرتے۔ دیکھ لوآدمی گرمی برداشت نہیں کرسکتا فوراً تیز گرمی میں بیمار ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’استاد پیارے ان کی عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے یہ عمر‘ ان کے آرام کرنے کی ہے لیکن انہیں گھر کی کفالت کی خاطر اس عمر میں بھی کام کرنا پڑرہاہے۔‘‘
’’یہ بات تم درست کہہ رہے ہو لیکن یہ عمر ایسی ہے کہ اس عمر میں انسان کے کام نہ کرنے پر وہ چارپائی سے لگ جاتا ہے ہاتھ پیر چلتے رہنے سے جسم توانا رہتا ہے اور انسان بستر پر لگنے سے بچ جاتا ہے۔‘‘ استاد پیارے نے کہا۔
’’استاد پیارے‘ وہ بات ادھوری رہ گئی کہ مجھ سے کون جیلس ہو رہا ہے۔‘‘ میںنے کہا۔
’’وہی لوگ جن کو تم اپنا قریبی سمجھتے ہو اور استاد پیارے کو چھوڑ کر ان کے ساتھ گھومتے ہو‘ خلیل جبار تم ہم سے کتنی غداری کرلو لیکن ہم تم سے دوستی ختم نہیں کریں گے۔‘‘ استاد پیارے نے کہا۔
’’استاد پیارے ہم آپ سے کیا کہیں ہم ہر خبر تمہیں بتادیتے ہیں پھر بھی ہمیں یہی طعنہ سننے کو ملتا ہے کہ ہم غداری کررہے ہیں خبریں چھپارہے ہیں۔‘‘ میںنے کہا۔
’’ارے بھئی تم جذباتی ہوگئے ہو لو یہ پانی پیو۔‘‘ استاد پیارے نے پانی کا گلاس میری جانب بڑھایا۔
’’استاد پیارے گرمی میں یہ گرم پانی پی کر ہماری اور حالت خراب ہوجائے گی۔‘‘ میں نے کہا۔ ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ
اچانک میری سامنے نظر پڑی‘ میں چونکا ‘مجھے چونکتا ہوا دیکھ کر استاد پیارے نے بھی سامنے کی طرف دیکھا ۔ دوپولیس کانسٹیبل اور ایک اے ایس آئی ایک ملزم کو ہتھکڑی پہنائے سول کورٹ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ملزم ادھیڑ عمر تھا۔
’’خلیل جبار مجھے یہ کوئی بڑی خبر لگ رہی ہے۔‘‘ استاد پیارے نے کہا۔
’’ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے آئو چل کر بات کرتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
میرے اٹھنے پراستاد پیارے بھی اٹھ گیا۔ اے ایس آئی ندیم احمد نے ہمیں دیکھااور بے اختیار مسکرادیا۔
’’تم لوگوں کو کیسے پتا چل جاتا ہے کہ ہم ملزم کو لے کرآرہے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’جیسے تمہیں ملزم کاسراغ مل جاتا ہے ایسے ہی ہمیں بھی خبر مل جاتی ہے کہ آج کسی نہ کسی ملزم کوریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔‘‘ استاد پیارے نے چہکتے ہوئے کہا۔
’’ہمیں ملزم پکڑنے میں پھر بھی بہت محنت کرناپڑتی ہے مگر صحافیوں کویہ فائدہ ہے کہ وہ کورٹ کے احاطے میں صبح آجائیں پھران سے کوئی خبر چھپ نہیں سکتی۔‘‘ اے ایس آئی ندیم نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اس ملزم کو کس سلسلے میں گرفتار کیاہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’قتل کے مقدمے میں گرفتار کیاہے۔‘‘
’’قتل… ملزم شریف لگ رہا ہے۔‘‘ میں نے حیرت سے ملزم کودیکھا۔
’’ہاں قتل اکثریت میں شریف لوگ ہی کرتے ہیں۔‘‘ اے ایس آئی ندیم احمد نے کہا۔
’’شریف لوگ قتل کرتے ہیں۔‘‘استاد پیارے نے حیرت سے پوچھا۔
’’قتل لوگ ارادہ کرکے نہیں جذبات میں آکر کرتے ہیں ‘پیشہ ور ملزمان کے ہاتھوں بہت کم ہی قتل ہوتے ہیں یہ بات مجھ سے زیادہ صحافی جانتے ہیں۔‘‘ اے ایس آئی ندیم نے کہا۔
’’قتل انتہائی سنگین قدم ہوتا ہے جذبات میں آکر لوگوں سے قتل جیسا جرم سرزد ہوجاتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’آئیں پہلے میں ملزم کا سول عدالت سے ریمانڈ حاصل کرلوں پھر آپ لوگ ملزم سے بات چیت کرلینا۔‘‘ اے ایس آئی ندیم نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔ ہم بھی ان کے ساتھ چل دیے۔
’’شکل وصورت سے دیکھو کتنا شریف لگ رہا ہے۔‘‘ استاد پیارے نے کہا۔
’’قتل شکل وصورت سے نہیں جذبات میں آکر ہوجاتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو‘ دیکھتے ہیں یہ ملزم اپنے بیان میں کیا بتاتاہے۔‘‘ استاد پیارے نے کہا۔
اے ایس آئی ندیم احمد نے سول عدالت سے ملزم کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ‘ ریمانڈ مل جانے پر وہ ہمارے پاس آیا۔
’’ہاں بھئی صحافی بھائیو! اب آپ لوگ ملزم سے سوال جواب کرسکتے ہو۔‘‘
’’کیانام ہے آپ کاملزم بھائی اور یہ قتل کیوں کیا۔‘‘ استاد پیارے نے ملزم کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’میرا نام عرفان ہے اور میں نے ہی کاشی کو قتل کیا ہے۔‘‘
’’کیوں قتل کیا‘ کوئی وجہ تو ہوگی نا۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کاشی کاہمارے گھر آنا جانا تھا‘ وہ میرے بیٹے کامران کے ساتھ اسکول سے پڑھتا آرہاتھا۔ اس لیے ہم اسے بچوں کی طرح سمجھتے تھے۔ ایک رات جب میں گھر لوٹا تومیری بیوی کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور اس نے بتایا کہ کاشی نے اس پرحملہ کیاتھا وہ اس کی عزت لوٹ کرہمیں بدنام کرنا چاہتا ہے۔‘‘ عرفان نے بتایا۔
’’جب اس کا تمہارے گھرمیں آناتھا تو پھراس نے ایساجرم کیوں کیا۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’میری بیگم نے بتایا کہ وہ میری بیٹی فائزہ سے شادی کرنا چاہتا ہے‘ جبکہ میں نے اس کی ایک بینک آفیسر سے منگنی کردی تھی وہ نہیں چاہتاتھا کہ یہ منگنی برقرار رہے اس لیے ہمیں بدنام کرکے وہ یہ منگنی تڑوانا چاہتا ہے۔ میری بیگم نے مجھے مشورہ دیاتھا کہ میں کاشی کو دھوکے سے بلا کرقتل کرادوں تاکہ قصہ ہی ختم ہوجائے۔ اس کے برعکس میں چاہتاتھا کہ اسے بلا کرسمجھائوں کہ وہ اپنی حرکت سے باز رہے ورنہ ہماری عزت پرحملہ کرکے وہ بھی زندہ نہیں بچے گا۔ میں نے کال کرکے کاشی کواپنے دوست کے گھر بلایااور اس سے جب بات چیت کی مجھ پرنیاانکشاف ہوا۔ کاشی نے بتایا کہ وہ فائزہ کو حاصل کرنا چاہتاتھا‘ اس لیے اس نے میری بیوی سے اس شرط پرناجائز تعلقات قائم کیے کہ فائزہ کی شادی کسی اور سے نہیں ہوگی صرف کاشی سے ہوگی۔ میرے لیے یہ انکشاف کسی دھماکے سے کم نہ تھا ۔ میرے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں۔ میں نے اپنی تسلی کے لیے جب بیگم سے بات کی اور بتایا کہ کاشی تم پریہ الزام لگا رہا ہے کہ اس نے تم سے ناجائز تعلقات اسی بنیاد پرقائم کیے تھے کہ تم فائزہ سے اس کی شادی کروائوگی اور یہ بات وہ تمہارے منہ پر کہنے کوتیار ہے‘ جس پربیگم روپڑی۔
’’عرفان مجھ سے نادانی میں یہ غلطی ہوگئی تھی اس کی میں تم سے معافی مانگتی ہوں‘ خدا کے لیے میرے لیے نہیں بچوں کی خاطر تم کاشی کو قتل کردینے میں تاخیر نہ کرناورنہ سب کچھ بہہ جائے گا‘ ہم خاندان اور معاشرے میں کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے۔‘‘
مجھے بیگم سے بہت محبت تھی‘ میں لاکھ سخت مزاج سہی مگر میں اپنی بیگم کوبہت چاہتاہوں اس سے برائی کا تصور بھی نہیں کرسکتاتھا‘ بیگم کی آہ وزاری کرنے پر میں سوچ میں پڑگیا۔ یہ بات میرے لیے بڑی تکلیف دہ بات تھی کہ میری بیوی کے کاشی سے ناجائز تعلقات رہے تھے۔ دوسری طرف کاشی کھل کر سامنے آگیاتھا‘ وہ ہر صورت میں میری بیٹی سے شادی کرنا چاہتاتھا۔ اس کام کے لیے وہ ہماری عزت سے کھیلنا چاہ رہاتھا‘ اسے یہ پرواہ نہیں تھی کہ اس کے انکشاف سے ہماری خاندان میں دوٹکے کی بھی عزت نہیں رہے گی ابھی تک ہمارا خاندان میں بھرم تھا۔ وہ سب ختم ہوجائے گا‘ اس وقت میرے ذہن میں یہی بات آئی کہ فی الحال بچوں کی خاطر پہلے کاشی کو ٹھکانے لگادوں پھربیگم کو بھی اس کے کئے کی سزا دوں گا کہ کسی کوکانوں کان خبر بھی نہ ہوگی اور وہ بھی کاشی کی طرح دوسرے جہان میں پہنچ جائے گی۔ مگر قسمت کو اور ہی منظور تھا میں نے کاشی کو لے جاکر ویرانے میں قتل کردیااور گھر چلا آیا لیکن یہ میری بھول تھی‘ کاشی ہوشیار نوجوان تھا ‘میرے کال کرنے پروہ ایک لیٹر گھر چھوڑ آیا تھاکہ مجھے عرفان انکل نے بلایا ہے اگر مجھے کسی بھی قسم کانقصان ہو اس کے ذمہ دار انکل عرفان ہوں گے‘ اس لیٹر کی بنیاد پر کاشی کی گمشدگی پرکارروائی مجھ سے شروع ہوئی اور پولیس نے مجھ سے سب اگلوالیا اور ویران علاقے سے لاش بھی اٹھا کر لے آئی اور اب مجھے عدالت میں جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔‘‘یہ کہتے ہوئے ملزم عرفان خاموش ہوگیا۔
’’ملزم سے مزید کچھ اور پوچھنا ہے۔‘‘ اے ایس آئی ندیم احمد نے کہا۔
’’میرا خیال ہے خبر مکمل ہے مزید پوچھنے کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ہاں‘ ہاں خبرمکمل ہے۔‘‘ استاد پیارے نے کہا۔
’’ٹھیک ہے پھر ہمیں اجازت۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اے ایس آئی ندیم احمد آگے بڑھ گیا۔
اس کے آگے بڑھ جانے پراستاد پیارے نے میری طرف حیرت سے دیکھا۔
’’یار یہ کیسا اے ایس آئی ہے شہر کے دومعززصحافیوں نے اس کے ملزم سے بات چیت کی ہے اور وہ ہماری خدمت کیے بنا ہی آگے بڑھ گیا۔‘‘
’’خدمت سے کیا مراد ہے‘چائے بسکٹ اور سگریٹ۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں بھئی اتنا تو اسے ہمارا خیال کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’ایسا تو ہوتا ہے کوئی خدمت کردیتا ہے اور کوئی ایسا ے ایس آئی نکل آتا ہے جو بنا خدمت کے ہی چل دیتا ہے۔‘‘ میں مسکرایا۔
میری بات پر استاد پیارے سوچ میں پڑگئے تھے کہ کیا واقعی ایسا بھی ہوتا ہے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close