Naeyufaq Feb-16

آشفتہ دل

عمران احمد

للی جورڈن نے اداسی سے باہر دیکھا سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری تھی، مگر وہ اس شور کی اس طرح عادی ہوگئی تھی کہ اسے کچھ محسوس نہیں ہوتا تھا البتہ شام کو جب وہ تھکی ہاری گھر پہنچی تھی تو اسے بستر پر گر کر بے پناہ خاموشی اور سکون کا احساس ہوتا تھا دن بھرٹائپ رائٹر پر انگلیاں چلانے اور اس کی مسلسل ٹک ٹک سنتے کے بعد شام کالوری دیتا ہوا سکوت اس کے تھکے ہوئے اعصاب کو بڑی راحت دیتا تھا اس کا چھوٹا سا فلیٹ اس کے دفتر سے انیس میل دور لندن کے مضافات میں تھا۔ صبح شام ایک گھنٹہ بس اور پھر ٹیوب میں سفر کرتے گزر جاتا تھا اور رات کا وقت وہ خاموشی سے ٹی وی دیکھنے یا کتابیں پڑھنے میں گزار دیتی تھی۔ وہ سوسائٹی گرل نہیں تھی۔
کرسمس جیسی تقریبات میں بھی شور ہنگامے سے اسے وحشت ہوتی تھی۔ جگمگاتی روشنی میں بھی اس کا دم گھٹتا تھا۔ آہستہ آہستہ تنہائی اور اندھیرے کی زندگی اس کی فطرت بن گئی تھی وہ شروع سے کم گو اور کم آمیز تھی۔
وہ حسین تھی، بہت سے لوگوں نے اس سے یہ بات کہی مگر وہ مسکرا کر ٹال گئی، اس قسم کی تعریف کے پس منظر میں ہمیشہ ایک ہی خواہش ہوتی تھی، دوستی کے لیے بڑھتے ہوئے ہاتھ بے غرض نہیں ہوتے تھے چنانچہ انیس سال کی عمر میں بھی وہ نوجوانی کے ابلتے ہوئے جذبات سے عاری تھی اور لوگوں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا لیکن وہ بد اخلاق بھی نہ تھی۔ لوگوں سے تپاک کے ساتھ ملتی تھی، ہمیشہ مسکراتی رہتی تھی، دوسروں کی سنتی تھی مگر اپنی کبھی نہ کہتی تھی، ایک سیکرٹری کی حیثیت سے وہ کامیاب تھی، فرض شناس مستعد اور خوش مزاج لیکن ایک عورت… ایک نوجوان حسین عورت کے جذبات اس جسم کے تہہ خانوں میں دفن تھے اور اس کا ذمہ دار اس کا ماضی تھا۔
ایک سال پہلے جب اس نے فرم میں قدم رکھا تھا تو بہت سی متجس نگاہیں اس کی طرف اٹھی تھیں لیکن وہ نہ گھبرائی ہوئی تھی اور نہ ہی نو آموز لگتی تھی وہ پر اعتماد قدموں سے مسٹر آرتھر کے پیچھے چلتی ہوئی ہال سے گزری۔ ’’مس للی جورڈن۔‘‘ مسٹر آرتھر نے وسط میں کھڑے ہو کر کہا اورلس دوسری ٹائپسٹ لڑکیوں نے اس کے سیدھے سادے لباس اور آرائش سے بے نیاز چہرے کو دیکھا اور مسکرائیں دیہات سے آئی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ ایک نے کہا۔ باقی سب ہنس پڑیں کیتھرین، جوزیفائن، سنڈرا… شوخ اور چنچل نئی وضع قطع کے لباس اور میک اپ کے رنگوں سے سجی ہوئی لڑکیاں تھیں اس نے اطمینان کا سانس لیا، ایڈورڈ فریڈرک اور جیمس تین لڑکے تین لڑکیاں، اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس کے براہ راست سیکرٹری بن کر شیشے کے کیبن میں جا بیٹھنے سے ان تینوں لڑکیوں کو حسد اور مایوسی کے جذبات نے پہلے ہی دن ایک الگ محاذ بنانے پر مجبور کر دیا تھا مگر رفتہ رفتہ وہ سب اس کی بے ضرر شخصیت کے عادی ہوگئے۔ اسن کی فائن آرٹ کی ڈگری اور سرکاری طور پر بلند حیثیت نے اسے سب کے لیے قابل احترام بنا دیا۔
لیکن چارلس آرتھر کا کیبن خالی پڑا تھا اور وہ شیشے کے کیبن میں اکیلی بیٹھی تھی۔ تین دن ایسے ہی گزر گئے تھے ایک لفظ ٹائپ کیے بغیر ایک لفظ لکھے بغیر باری باری وہ سب کے پاس وقت گزار کر پھر اپنے کیبن میں آ بیٹھی۔ گھڑی کی سوئیاں جیسے رک گئی تھیں۔ دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہوا تو آرتھر کی غیر موجودگی کا احساس شدید تر ہوگیا۔ پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا، آخر اس میں میرا کیا قصور ہے… اس نے سوچا اور حسب معمول سڑک پار کر کے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی کیفے میں اپنی مخصوس ٹیبل پر جا بیٹھی، کونے میں آرتھر کی ٹیبل خالی پڑی تھی کسی ارادے کے بغیر اس کی نگاہ اِدھر اٹھ گئی اور اس نے ایک سرد آہ بھری، شاید قصور میرا ہی ہے اس نے سوچا میں ضرورت سے زیادہ محتاط ہوں، آرتھر شریف اور مہذب تھا اور ہر گز اس سلوک کا مستحق نہیں تھا و وہ حد سے بڑھ گیا تھا پاگل ہوگیا تھا کھانا کھاتے ہوئے اسے بار بار اس خالی کونے کا احساس ہوا۔ اس کی بھوک مر گئی، احساس جرم اس پر مسلط ہوتا گیا وہ جتنا اس خیال سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتی تھی اتنا ہی اپنی غلطی کا احساس بڑھتا جاتا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔
’’اوہ خدا… میں کس مصیبت میں پھنس گئی میرے لیے کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔‘‘
بات صرف اتنی تھی کہ اس نے چارلس جے آرتھر کے منہ پر تھپڑ مار دیا تھا جو فرم کا جونیئر ڈائریکٹر تھا۔ آرتھر اسی دن سے غائب تھا بالآخر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ چیئرمین سے ملے، آرتھر کے باپ سے جو اسے اپنے ساتھ لے کر آیا تھا کھانے کا وقفہ ختم ہوتے ہی اس نے اپنے کیبن سے انٹر کام پر بات کی۔
’’سر، میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں، تنہائی میں۔‘‘
’’للی… کیا بات ہے… تم پریشان ہو۔‘‘ مسٹر آرتھر نے شفقت سے کہا۔
’’نہیں… ہاں… یس سر… کیا میں آجائوں۔‘‘
’’آئو، آئو اتفاق سے میں فارغ ہوں۔‘‘
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی وجیہہ اور با وقار مسٹر آرتھر گھومنے والی کرسی پر گہرا نیلا سوٹ پہنے بیٹھے تھے، اس کے بیشتر بال سفید ہوچکے تھے مگر ان کی صحت نوجوانوں سے بہتر تھی وہ اس کے سامنے سمٹ کر بیٹھ گئی۔
’’للی، تم چارلس کی بات کرنے آئی ہو… ٹھیک۔‘‘
’’یس سر، وہ تین دن سے دفتر نہیں آرہے ہیں۔‘‘
’’پھر کیا ہوا، وہ شروع سے ایسا ہے اس کی فکر مجھے ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے سگار کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے کہا۔
’’تم کیوں پریشان ہو۔‘‘
’’دراصل۔‘‘ اس نے کہنے کے لیے لب کھولے۔
’’دراصل سر…!‘‘ اس کی زبان پھر رک گئی۔
’’دراصل… دراصل کیا… ڈرنے کی بات نہیں… جو کہنا ہے کہہ ڈالو۔‘‘ انہوں نے لائٹر سے سگار سلگاتے ہوئے کہا۔
’’اس وقت میں تمہارے والد کے دوست کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’مسٹر آرتھر… میرا خیال ہے مسٹر چارلس میری وجہ سے چلے گئے ہیں۔‘‘
’’تمہاری وجہ سے… میں نہیں سمجھا… کھل کر بات کرو۔‘‘
’’بات یہ ہے مسٹر آرتھر کہ… کہ تین دن پہلے انہوں نے مجھے شادی پیشکش کی تھی۔‘‘ اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں انکار کردینا چاہیے تھا۔ وہ ابھی اس قابل نہیں ہے۔‘‘ مسٹر آرتھر نے کہا۔
’’ججی میں نے یہی کہا تھا غالباً وہ برا مان گئے میرا خیال ہے انہیں صدمہ ہوا۔‘‘
’’برا ماننے دو، اگر وہ دفتر نہیں آئے گا تو ان کا اپنا نقصان ہے۔ جیب خرچ کہاں سے لائے گا۔‘‘
’’یہ بات نہیں مسٹر آرتھر ان کی غیر موجودگی میں میرے بارے میں باتیں ہوتی ہیں لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اور پتا نہیں کیا کیا میرے خیال میں بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے فارغ کردیں۔‘‘ اس نے ہمت سے کام لے کر ساری بات کہہ ڈالی۔
’’اچھا تو یہ بات ہے۔‘‘ انہوں نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’خیر چارلس سے تو میں پوچھ لوں گا، مگر یاد رکھو تمہیں یہاں میں لایا ہوں… چارلس نہیں… اب تم گھر جانا چاہو تو جا سکتی ہو… جو باتیں کرتے ہیں انہیں کرنے دو۔‘‘ بادل ناخواستہ اس نے اپنا کوٹ اٹھایا اور دفتر سے نکل کر فٹ پاتھ پر چلنے لگی، مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوا تھا۔ نجانے چارلس کہاں ہوگا اس نے چلتے چلتے رک کر سوچا اس کے اچانک رک جانے سے ایک عورت جو اس کے پیچھے بہت سے بنڈل اٹھائے آرہی تھی اس سے ٹکرا گئی، بنڈل زمین پر بکھر گئے۔
’’سوری۔‘‘ اس نے بنڈل سمیٹتے ہوئے کہا۔ کیفے کے سامنے نیلی کار کھڑی تھی اور پیچھے سامان کا ٹریلر تھا، اسے یاد آیا کہ آج منگل ہے وہ آہستہ آہستہ کیفے کی طرف چلنے لگی اسے حیرت ہوئی کہ نیلی کار والا ابھی تک بیٹھا ہے۔
چارلس جے آرتھر عہدے کے اعتبار سے کمپنی کا جونیئر ڈائریکٹر تھاایک جذباتی نوجوان، گو لڑکیوں کے معاملے میں وہ دل پھینک نہیں تھا لیکن للی کو دیکھتے ہی وہ اس پر مر مٹا۔ ابتدا میں اس نے اپنے جذبات کا اظہار نہیں ہونے دیا وہ اس کی سیکرٹری تھی۔ وقتاً فوقتاً وہ اسے کسی کام کے بغیر اپنے کمرے میں بلا لیتا۔
’’مس جورڈن ، آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے پلیز اپنے آپ کو کمپنی کا ملازم نہ سمجھیں مجھے معلوم ہے آپ میرے والد کے دوست کی بیٹی ہیں۔ مس جورڈن آپ خوش تو ہیں نا، مجھے اپنا باس نہیں دوست سمجھے۔‘‘ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ شکریہ ادا کرنے کے سوا اس بے مقصد باتوں کا کیا جواب دے، اگر کبھی دن بھر وہ اس کے کمرے میں نہ جاتی تو وہ بلا کر پوچھتا۔
’’مس جورڈن ، کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں۔‘‘
’’ناراض؟‘‘ وہ بوکھلا کر کہتی۔
’’کس بات پر مسٹر آرتھر۔‘‘
’’آپ نے آج سارا دن صورت نہیں دکھائی، میں تو ڈر گیا۔‘‘
’’وہ کوئی کام جو نہیں تھا۔‘‘ وہ کہتی۔ ’’اور آپ نے بلایا بھی نہیں۔‘‘
’’اچھا تو آپ صرف بلانے پر آئیں گی، ویسے نہیں۔‘‘ وہ بچوں کی طرح سوال کرتا، لیکن آہستہ آہستہ وہ ان سوالات کا مطلب سمجھنے لگی، پہلے تین مہینے اس نے انجان بن کر گزار دیے پھر اس نے براہ راست سوال کرنے شروع کردیے۔
’’مس جورڈن ، کیا آپ کا کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے۔‘‘ مس جورڈن ، آپ اتنی اداس اور کھوئی کھوئی کیوں رہتی ہیں؟‘‘ مس جورڈن آپ کا شام کا وقت تنہائی میں کیسے گزرتا ہے۔‘‘
وہ حتی الامکان ان سوالوں کے جواب حوصلہ افزا انداز سے دینے سے گریز کرتی رہی لیکن وہ دن بدن زیادہ بے تکلف ہوتا گیا وہ اسے للی کہہ کر بلانے لگا اور مصر ہوا کہ وہ اسے سر یا مسٹر آرتھر کی بجائے چارلس کہے۔ اس نے اپنے رویے کو کاروباری اور غیر ذاتی رکھنے کی کوشش کی مگر چارلس کی پیش قدمی جاری رہی، اس کے تمام دفاعی حربے ناکام ہونے لگے۔
دوپہر کے کھانے کے لیے وہ ہمیشہ الگ الگ میزوں پر بیٹھتے تھے۔ پھر چارلس اس کے ساتھ بیٹھنے لگا۔ دو دن بعد اسے چارلس سے صاف کہنا پڑا۔ ’’مسٹر آرتھر… میں دفتری تعلقات میں اس بے تکلفی کو پسند نہیں کرتی لوگ ان چیزوں کو غلط رنگ دیتے ہیں۔‘‘
’’تمہیں لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کردینا چاہیے۔‘‘
’’مسٹر آرتھر، مجھے لوگوں کے ساتھ ہی رہنا ہے، میں ان سب کی زبان نہیں پکڑ سکتی اور میں اپنی بد نامی کو خود بھی پسند نہیں کرتی۔‘‘
وہ اٹھ کر دوسری میز پر جا بیٹھی۔ غصے اور ذلت سے آرتھر کا چہرہ اور بھی بد صورت ہوگیا۔ اس کے ساتھ لنچ کو بدنامی کہہ دینا خاصی جرات کا کام تھا۔ وہ اور آرتھر دوسرے دن سے پھر الگ الگ بیٹھنے لگے اور آرتھر نے اپنے رویے کی معافی مانگ لی۔
آرتھر کے بارے میں سوچتے ہوئے للی کو ہمیشہ یہ احساس ہوا کہ وہ اس کے ذہنی معیار وہم یا مرض میں مبتلا رہتا تھا اور پھر ان کا ذکر بڑی مظلومیت سے کرتا اور اس طرح غیر شعوری طور پر اپنے لیے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ والدین کا اکلوتا لڑکا تھا لیکن اس کا باپ کمپنی کا چیئرمین تربیت کے معاملے میں بہت سخت تھا۔
اس نے زندگی میں یہ مقام ذاتی کوشش اور جدوجہد سے حاصل کیا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ چارلس اکلوتا بیٹا ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی کے تجربات سے محروم رہ جائے اور لاڈ پیار میں بگڑ کر ناکارہ ہوجائے، چارلس نے اسے محبت سے محرومی کا رنگ دیا کام سے جی چرانے لگا اور ایک ایسا راستہ اختیار کرلیا جو اس کے والدین کے کردار کی نفی کرتا تھا۔
چھ ماہ بعد اس نے للی کو رات کے کھانے اور رقص کی دعوت دی جو للی نے محص اس کا دل رکھنے کو قبول کرلی کیونکہ اس دعوت سے قبل اس نے لڑکیوں کے معاملے میں اپنی بد قسمتی کا ذکر بڑے درد ناک پیرائے میں کیا تھا۔
’’مس للی… کوئی لڑکی میرے ساتھ جانا پسند نہیں کرتی میرے پاس دولت ہے عزت ہے کار ہے، لیکن نہ جانے کیا بات ہے لڑکیاں میرے سائے سے بھی بھاگتی ہیں کیا آپ مجھے اس کی وجہ بتا سکتی ہیں؟‘‘
اس اچانک سوال سے وہ گھبرا گئی۔ ’’مسٹر آرتھر میرا خیال ہے وہ بے وقوف ہوتی ہیں اور کیا۔‘‘ اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ ’’مجھے معلوم تھا اور مجھے یقین ہے آپ ان کی طرح بے وقوف نہیں ہیں دیکھیے نا ایک ایسے نوجوان کے ساتھ جو زندگی بھر تنہا رہا ہو، جسے نہ والدین کا پیار ملا ہو نہ بہن کی محبت، ایک شام گزار لینے سے کسی کا کیا جاتا ہے۔‘‘
اسے احساس ہوا کہ وہ خود اپنے دام میں آگئی ہے، اگر وہ انکار کرتی تو وہ یقیناً رو پڑتا۔
’’مسٹر آرتھر۔‘‘ اس نے رات کو رقص گاہ سے لوٹتے ہوئے کہا۔
’’میں آپ کے حسن سلوک کی شکر گزار ہوں لیکن پلیز آئندہ مجھ سے اس قسم کی درخواست نہ کیجیے گا۔‘‘ اس نے کار سے اترتے ہوئے محسوس کیا کہ اسے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا چارلس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ وہ للی کو اس کے فلیٹ پر چھوڑنے آیا تھا اور للی کا اندازہ تھا کہ وہ رخصت ہوتے ہوئے زیادہ جذباتی ہونے کی کوشش کرے گا۔ اسی سے بچنے کے لیے للی نے یہ بات کہہ دی تھی کچھ کہے بغیر اس نے کار کو آگے بڑھا دیا، اتنی تیزی سے للی ڈری کہ کہیں وہ خود کشی نہ کرلے۔
اگلے دن حالات معمول پر آگئے ان کے تعلقات محض کاروباری ہوگئے لیکن اتنی سرد مہری کے باوجود للی میں کوئی بات ایسی تھی کہ چارلس کے لیے اپنے جذبات کا رخ بدلنا ممکن نہ تھا تین مہینے بعد اس نے لنچ کے وقفے میں اچانک اس سے اظہار محبت کردیا وہ لنچ کے وقفے میں اس کی میز پر آبیٹھا۔
’’مس للی… میں اب تک بلا وجہ آپ سے ڈرتا رہا مجھے یہ بات پہلے ہی کہہ دینی چاہیے تھی میں پہلے ہی دن سے آپ کی محبت میں گرفتار ہوں، میں آپ کے بغیر زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میں پاگل ہوجائوں گا مجھے اٹھتے بیٹھے آپ کا خیال رہتا ہے میں رات کو سو نہیں سکتا۔‘‘ اس نے ایک سانس میں رکے بغیر کہا وہ خاموشی سے سنتی رہی اور کھانا کھاتی رہی۔
’’مسٹر آرتھر مجھے افسوس ہے مگر بحث کی نہیں جاتی، اگر یہ ممکن ہوتا تو میں ضرور آپ سے محبت کرلیتی، لیکن میرے لیے یہ ممکن نہیں۔‘‘ اس نے چھری کانٹے سیدھے رکھتے ہوئے کہا ویٹر اس کے سامنے سے پلیٹ اٹھا کر لے گیا۔
’’کیوں آخر کیوں ممکن نہیں؟‘‘ وہ ہاتھ روک کر بولا۔
’’میں نے کہا نا اس کا تعلق جذبات سے ہے میں آپ سے محبت نہیں کرسکتی۔‘‘
’’مگر کیوں، کیا میں آوارہ ہوں بدچلن ہوں، غریب ہوں۔‘‘ اس نے مشتعل نے ہوتے ہوئے کہا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں خدا کے لیے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا کیونکہ آس پاس بیٹھے ہوئے بہت سارے لوگ اچانک ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔
’’لوگ سن رہے ہیں۔‘‘
’’سننے دو۔‘‘ اس نے میز پر مکا مار کر کہا۔
’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ مجھ میں کیوں خرابی ہے تم مجھ سے نفرت کیوں کرتی ہو۔‘‘ اس نے چلاتے ہوئے کہا۔
’’میں آپ سے نفرت نہیں کرتی پلیز مسٹر آرتھر۔‘‘ وہ گھبرا کر بولی۔
’’نہیں تم مجھ سے نفرت کرتی ہو کیوں…کیوں؟‘‘
زندگی میں پہلی بار اسے غصہ آیا۔
’’مسٹر آرتھر اگر آپ حقیقت جاننا ہی چاہتے ہیں تو پہلے یہ جان لیجیے کہ حقیقت تلخ ہوتی ہے آپ ایک احمق، غیر ذمہ دار نوجوان ہیں اور اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھ جیسی غریب لڑکی سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ شاید یہی آپ کا کام ہے شاید کچھ لڑکیاں آپ کی دولت سے متاثر ہو کر آپ کے جال میں پھنس گئی ہوں گی آپ نے مجھے بھی ان ہی میں سے سمجھا ہے، یہی آپ کی غلطی ہے میں آپ سے نفرت کرتی ہوں نفرت کیونکہ آپ بدصورت ہیں، بد صورت اور دائم المرائض اپنے چہرے کو دیکھا ہے اس پر کتنی جھائیاں اور مہاسے ہیں کون لڑکی انہیں برداشت کرسکتی ہے، آپ کے منہ سے بدبو آتی ہے آپ کا لباس آپ کی چال، گفتگو کا انداز سب کچھ مضحکہ خیز ہے… سنا آپ نے آپ میں مردوں والی کوئی بات نہیں۔‘‘غیر ارادی طور پر اس کی آواز بلند ہوتی گئی۔ وہ ہکا بکا سنتا رہا، کیفے میں سوائے اس کے کسی کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پھر اس کا حوصلہ جواب دے گیا وہ ذلت اور بے بسی کے احساس سے میز پر سر رکھ کر رونے لگی۔
اسی وقت کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’کم آن بے بی اٹ از آل رائٹ۔‘‘
’’یو مسٹر۔‘‘ اس نے چارلس سے کہا۔ ’’اس سے پہلے کہ میں تمہیں اٹھا کر سڑک پر پھینک دوں گیٹ آئوٹ۔‘‘ وہ مہربان اس کو تھپکتا رہا، چارلس کب اٹھ کر گیا اسے کچھ پتا نہ چلا جب اس کے آنسو خشک ہوئے تو لنج کا وقفہ ختم ہوچکا تھا۔ کیفے خالی پڑا تھا اور اس کے ساتھ تیس بتیس سال کا ایک شخص بیٹھا تھا۔ للی کی نگاہ بے اختیار باہر گئی، نیلی کار اور ٹریلر موجود تھے۔ اسے یاد آگیا کہ آج منگل ہے۔
’’تھینک یو مسٹر۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’اسمتھ، بیکر اسمتھ۔‘‘ وہ اسے باہر جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ للی نے دروازے پر پہنچ کر محض اظہار تشکر کے طور پر اسے پلٹ کر دیکھا ایک سنجیدہ اور متین چہرہ، ہمدردی کے جذبات سے معمور، محنت کرنے والے انسان کا چہرہ جس پر شگفتگی اور تازگی کی جگہ لکیریں تھیں جو زندگی کی سختی اور زندہ رہنے کی جدوجہد کے ہر سال کا پتا دیتی تھیں۔ للی نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ اس کے ہاتھ غیر معمولی طور پر چوڑے اور کھردرے تھے۔ ایسے ہاتھ جو قلم کی جگہ ہل چلاتے ہیں۔ ٹریکٹر چلاتے ہیں بوجھ ڈھوتے ہیں اور آگے بڑھنے کے لیے کسی کا سہارا نہیں لیتے، للی اسے سال بھر سے یوں ہی ہر منگل اور ہر جمعے کو وہاں دیکھتی تھی، وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ کر لنچ کھاتا تھا اور اس کی نیلی کار اور ٹریلر باہر کھڑے رہتے تھے۔ للی نے اس میں کبھی دلچسپی نہ لی تھا لیکن اس کا اندازہ تھا کہ وہ جس باقاعدگی سے مقررہ دنوں میں مقررہ وقت پر آتا ہے اس سے اس کی باضابطہ زندگی کا پتا چلتا ہے۔
آرتھر اور للی کی بول چال بھی بند ہوگئی۔ اس کے باپ مسٹر آرتھر یا تو ان سب باتوں سے بے خبر تھے یا پھر تجاہل عارفانہ برت رہے تھے۔ انہوں نے کبھی للی سے کچھ نہیں پوچھا اور آتے جاتے مسکرا کر ’’ہیلو بے بی۔‘‘کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ للی کے لیے شفیق باپ کی طرح تھے مگر دفتری اوقات میں وہ سب کے لیے ایک جیسے تھے، دفتر کے بعد وہ بارہا ان کے گھر گئی اور ان کی بیوی نے اسے اپنے خاندان کے ایک فرد کی طرح سمجھا، گزرتے گزرتے مسٹر آرتھر دو ایک بار اس کے فلیٹ پر بھی آئے اور اس کے انکار کے باوجود ہمیشہ کچھ نہ کچھ چھوڑ گئے۔ کوئی خوب صورت سا قیمتی لباس، جوتے اور انہوں نے ہمیشہ ایک ہی جھوٹ بولا۔
’’میں نے اپنی بیوی کے لیے خریدے تھے مگر اسے پسند نہیں آئے میں بھول جاتا ہوں کہ وہ بوڑھی ہوچکی ہے۔ تمہیں پسند ہیں؟‘‘ اور وہ بمشکل تمام اتنا کہہ سکی۔
’’بہت پسند ہیں مسٹرآرتھر مسز آرتھر کا شکریہ۔‘‘ اس کے پاس اس بے غرض جھوٹ کی کئی نشانیاں تھیں۔
گزشتہ منگل کے واقعے کے بعد بیکراسمتھ ہر منگل اور جمعے کو آتا رہا مگر ان کی شناسائی رسمی حدود سے آگے نہ بڑھی۔ وہ الگ الگ میزوں پر بیٹھتے رہے اور مسکرا کر اخلاقاً سر کے اشارے سے سلام دعا کرتے رہے لیکن للی کو اس کے پہلے دن کا سلوک یاد تھا وہ ہاتھ جس نے اسے تھپکا تھا بے غرض اور پر خلوص اظہار ہمدردی اور جس طرح اس نے چارلس کو چلتا کر دیا تھا وہ آہستہ آہستہ اس میں دلچسپی لینے لگی ہر منگل اور جمعہ کو وہ اس کی نیلی کار اور ٹریلر کو دیکھتے ہی لنچ کے لیے چل پڑتی تھی اور جب وہ سیڑھیاں اتر کر سڑک عبور کر کے کیفے میں قدم رکھتی تھی تو بیکراسمتھ اخبار سے نظریں ہٹا کر سر کوذرا سا خم کرتا اور بس۔ للی نے دیکھا کہ اس کے کپڑے عموماً میلے ہوتے تھے۔ گرد آلود اور پر شکن لیکن وہ مزدور نظر نہیں آتا تھا کم از کم اپنے اطوار کی شائستگی سے وہ اس کے جانے کے بعد بھی بیٹھا رہتا۔ خدا جانے کب تک۔
پھر کسی وجہ کے بغیر کسی سے کچھ کہے بغیر مسٹر آرتھر نے اسے اپنا سیکرٹری مقرر کرلیا۔ غالباً انہیں چارلس کے رویے کی خبر مل گئی تھی۔ مسٹر چارلس کی نیگرو سیکرٹری نے اس کی جگہ لے لی۔ چارلس اور نیگرو سیکرٹری دونوں نے اس تبدیلی کو بے عزتی پر محمول کیا۔ لیکن اس نے خدا کا شکر ادا کیا وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتا رہا اور اس کی نئی سیکرٹری اسے اکساتی رہی ایک ہفتے بعد اسے موقع مل گیا جمعے کا دن تھا۔ مسٹر آرتھر نے اسٹاف کو بونس ادا کیا اور آدھے دن کی چھٹی دے دی۔ للی کو انہوں نے چند خطوط ٹائپ کرنے کے لیے دیے اور اسے ہدایت کر کے چلے گئے کہ وہ خطوط ٹائپ کر کے چلی جائے۔ وہ اپنے کام میں منہمک تھی کہ دروازہ کھلا اور چارلس اندر آگیا۔ ایک دم اسے احساس ہوگیا کہ دفتر میں ان دونوں کے سوا کوئی نہیں مگر اس نے اپنے اعصاب کو قابو میں رکھا اور ٹائپ کرتی رہی۔ چارلس نے مشین سے کاغذ کھینچ کر پھاڑ دیا۔
’’اس کا کیا مطلب ہے مسٹر آرتھر۔‘‘ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ وہ کچھ نہیں بولا۔ صرف اسے گھورتا رہا۔ ’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے اس رویے کا کیا مطلب ہے؟‘‘
’’میں تمہیں بتا چکی ہوں۔‘‘ وہ مدافعت کے لیے تیار ہوتے ہوئے بولی اس کے تیور خطرناک تھے۔
وہ اچانک اس پر جھپٹا۔‘‘ میں اس پر یقین نہیں کرتا تم جھوٹ بولتی ہو، تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔‘‘
وہ پھرتی سے میز کے گرد گھوم گئی۔
’’مسٹر آرتھر تم پاگل ہوگئے ہو، میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔‘‘ وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگی، دروازے کی طرف۔ آرتھر پھر اس کی طرف بڑھا۔
’’لیکن میں تم سے محبت کرتا ہوں تمہیں اس پر یقین کرنا پڑے گا ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا، سنا تم نے وہیں تمہیں مار ڈالوں گا۔‘‘
وہ دروازے تک پہنچ گئی مگر اسے ہینڈل گھما کر دروازہ کھولنے کا وقت نہ ملا آرتھر نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا پھر اس نے آرتھر کا مہاسوں بھرا داغ دار چہرہ اپنے قریب ہوتے دیکھا، اس کی سانس کی بدبو کو محسوس کیا اور اپنی ساری قوت کو مجتمع کر کے اس نے پوری قوت سے چارلس آرتھر کے گال پر تھپڑ مارا۔
’’وحشی جانور۔‘‘ وہ ایک لمحے کے لیے حیرت اور غصے سے ساکت و صامت کھڑا رہا۔ اتنی دیر میں للی دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اور تالے میں چابی گھما دی۔ اپنے پیچھے اس نے شیشہ ٹوٹنے کی آواز سنی، چارلس نے کرسی مار کر دروازے کا شیشہ توڑ دیا تھا وہ بے تحاشا بھاگی اور تیزی سے لفٹ کی طرف بڑھی مگر بار بار بٹن دبانے کے باوجود روشنی نہ ہوئی۔ اس نے زینے کا رخ کیا آرتھر اس کے تعاقب میں تھا۔ وہ اسے دیوانوں کی طرح چیختے چلاتے سن رہی تھی۔
’’للی… للی… رک جائو… پلیز۔‘‘ وہ تین تین سیڑھیاں پھلانگتی گئی اونچی ایڑی کے جوتے کے باوجود نیچے آکر اس نے تقریباً بھاگتے ہوئے سڑک کو عبور کیا۔ اچانک اس کے سامنے نیلی کار آگئی، کسی ارادے کے بغیر اس نے دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گئی، شاید اس ڈر سے کہ کہیں آرتھر کیفے کے اندر پہنچ کر بھی ہنگامہ برپا نہ کردے وہ ہوش میں نہیں تھا، مگر اس کے بعد وہ خود بھی بے ہوش ہوگئی، اس کے کانوں میں اب بھی چارلس کی آواز آرہی تھی ایک ڈرائونے خواب کی طرح۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ ایک اجنبی جگہ پر تھی ایک دبلی پتلی بوڑھی عورت اس پر جھکی ہوئی تھی، وہ اٹھ کر بیٹھ گئی، یہ چھوٹا سا صاف ستھرا کمرہ تھا نیم تاریک اور بھدے فرنیچر سے آراستہ، وہ جس بستر پر لیٹی تھی وہ کبھی کسی اناڑی کے ہاتھ کا بنا ہوا تھا مگر آرام دہ اور صاف تھا۔
’’لیٹی رہو، میری بچی۔‘‘ بڑھیا نے دیہاتی لہجے میں کہا۔ اس نے سر پر ایک رومال لپیٹ رکھا تھا اور پرانی وضع کا ٹخنوں تک پہنچنے والا سوتی لبادہ پہنے ہوئے تھی، اس کے گلے میں سونے کی ننھی سی صلیب لٹک رہی تھی۔‘‘ میں یہاں کیسے آئی۔‘‘ اس نے پوچھا پھر کھڑی سے باہر اسے نیلی کار نظر آئی اور اسے سب کچھ یاد آگیا اس نے اپنا سر تھام لیا۔
’’میرا بیٹا بیکر وہ تمہیں لے کر آیا تھا تم بے ہوش تھیں میں سمجھی تم مر گئی ہو تمہارا چہرہ سفید تھا اور ہاتھ پائوں ٹھنڈے تھے میں نے اس سے پوچھا۔
’’کیا تم نے اس کو مار دیا ہے۔‘‘ اس نے کہا ’نہیںاور اس نے تمہیں یہاں ڈال دیا اور ڈاکٹر کو لینے چلا گیا۔‘‘ بڑھیا نے چھوٹے چھوٹے جملوں میں کہا۔ اس دوران وہ اسٹول نما میز گھسیٹ کر اس کے قریب لائی اور اس پر دودھ کا گرم گلاس رکھا میں نے اس سے کہا۔ ’’ڈاکٹر کی ضرورت نہیں مگر وہ پریشان تھا۔ ڈاکٹر پڑوس میں رہتا ہے تم یہ دودھ پی لو۔‘‘
’’میں اب ٹھیک ہوں، میں جانا چاہتی ہوں۔‘‘
’’دودھ پی لو، تم ٹھیک ہوجائو گی، ڈاکٹر کے لیے میں اسے منع کردیتی ہوں۔‘‘
اسے مجبوراً دودھ پینا پڑا بڑھیا ایپرن سے ہاتھ صاف کرتی باہر نکل گئی۔
دس منٹ بعد وہ پھر کمرے میں داخل ہوئی۔ ’’بیکر تمہارا انتظار کر رہا ہے تم ٹھیک ہو‘نا ڈاکٹر گھر پر نہیں ہے۔‘‘
اس نے اثبات میں سر ہلایا دروازے تک پہنچ کر وہ رکی۔
’’مجھے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔‘‘ بڑھیا نے نفی میں سر ہلایا اور سینے پر صلیب کا نشان بنایا۔ ’’خداوند یسوع مسیح تمہاری حفاظت کرے۔‘‘ وہ کار میں جا بیٹھی جہاں بیکراسمتھ اس کا منتظر تھا وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔ ’’یو آل رائٹ مس۔‘‘
’’یس تھینکس مسٹر اسمتھ۔‘‘ جب گاڑی روانہ ہوئی تو وہ کمر خمیدہ بڑھیا اپنے گھر کے دروازے میں کھڑی تھی، اسے اندازہ ہوا کہ وہ لندن کے مضافات میں ہے اپنے گھر سے مخالف سمت میں نہ جانے کتنی دور۔
’’میں نے کیفے سے تمہیں دوڑتے دیکھا، تم ایک کار کے نیچے آنے سے بال بال بچ گئیں۔ جب میں آیا تو تم بے ہوش تھیں۔ میں نے تماشہ بنانا مناسب نہیں سمجھا مجھے تمہارا گھر معلوم نہیں تھا اور میں تمہیں اسپتال لے جاتا تو وہ مجھ سے بہت سوال کرتے میں تمہیں اپنے گھر لے آیا تمہیں کیا ہوا تھا؟‘‘
’’وہ وہی شخص آرتھر وہ مجھے مارنا چاہتا تھا۔‘‘ للی نے کہا۔ ’’تم جانتے ہو نا اسے۔‘‘
’’تم پولیس اسٹیشن جانا پسند کرو گی؟‘‘ اس نے نظر سامنے رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں… نہیں۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا۔
’’وہ ایسے ہی پاگل ہو رہا تھا وہ ٹھیک ہوجائے گا میں اس کے باپ کو بتا دوں گی میرا باپ اس کا دوست تھا۔ اب وہ میرے لیے باپ کی طرح ہے میں گھر جائوں گی۔‘‘
’’اوکے… تمہاری مرضی… مس جورڈن ۔‘‘ سارا راستہ ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ اس نے للی کو اس کے بتائے ہوئے راستے پر لے جا کر فلیٹ کے سامنے اتار دیا۔
’’مسٹر اسمتھ… میں آپ کی بے حد احسان مند ہوں اور آپ کی والدہ کی بھی۔ خدا حافظ۔‘‘ اس نے جواب میں کچھ نہیں کہا وہ گاڑی کو موڑ کاٹ کر غائب ہوتے ہوئے دیکھتی رہی۔
اگلے دن چارلس دفتر نہیں آیا اور اس سے اگلے دن اور پھر تیسرے دن بھی لیکن مسٹر آرتھر کو وہ صحیح بات نہ بتا سکی۔ محض اس خیال سے کہ انہیں صدمہ نہ ہو وہ انہیں غمزدہ نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔
بیکراسمتھ نے اسے دوبارہ اندر آتے دیکھا، وہ سیدھی اس کی میز پر جا کر بیٹھ گئی۔
’’کافی؟‘‘ اس نے پوچھا للی نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ دونوں خاموشی سے کافی پیتے رہے۔
’’مسٹر اسمتھ… میں آپ کی والدہ سے ملنا چاہتی ہوں میں اس دن ان سے کوئی بات نہ کرسکی۔‘‘ اس نے چلتے چلتے کہا۔
’’جمعہ کو تم میرے گھر چل سکتی ہو۔‘‘ بیکر نے کہا۔
’’انہوں نے بھی کہا تھا کہ تمہیں لائوں مگر میں نے مناسب نہیں سمجھا میں نے سوچا تم اس کا غلط مطلب نہ لو لیکن تم مجھ پر پھر بھروسہ کرسکتی ہو۔‘‘
’’کافی کے لیے شکریہ۔‘‘ وہ مسکرائی جواب میں وہ بھی مسکرایا۔ ’’جمعہ۔‘‘ اس نے سر ہلایا۔
جمعہ کی دوپہر کو جب وہ دفتر سے نکلی تو نیلی کار اور ٹریلر اس طرف کھڑا تھا۔
’’مسٹر بیکر کیا آج لنچ نہیں ہوگا۔‘‘ اس نے تعجب سے کہا۔
’’نہیں میری ماں لنچ پر تمہاری منتظر ہے۔‘‘
وہ دروازہ کھول کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ وہ بالکل خاموشی سے کار چلاتا رہا اس نے چوری چوری اس کی طرف دیکھا آخر اس کی صورت میں کیا ہے سوائے بھدے پن کے اور کرختگی کے مگر یہ انسانی چہرہ ہے آئینے کی طرح جس میں دل کا ہر جذبہ اپنے اصل رنگ میں نظر آتا ہے۔ سیدھے سادیے انسان کا دل زندگی کے نرم اور بے ضرر جذبوں سے پر آرتھر میں اور اس میں وہی فرق ہے جو ایک سوئمنگ پول میں اور پہاڑوں کے پتھروں سے گھری ہوئی قدرتی جھیل میں ہوتا ہے اور وہ تفع سے بہت دور تھی۔ شاید یہ آرتھر سے نفرت کا رد عمل تھا۔ اس نے سوچا ایک دولت مند، فیشن ایبل اور تعلیم یافتہ نوجوان کے مقابلے میں وہ ایک غریب، اکھڑ اور بظاہر جاہل آدمی کے خلوص سے متاثر ہوگئی ہے کیسی عجیب بات ہے بیکر کی گفتگو کا انداز اس کی ماں کے مقابلے میں بہتر ہے۔ شاید اس نے تھوڑا بہت پڑھا ہو، وہ خود ایک غریب کسان کی بیٹی تھی مگر اس کے باپ نے اسے فائن آرٹ کی تعلیم دلوائی اسے کبھی ماں کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔
اگر وہ مرا نہ ہوتا تو حالات بالکل مختلف ہوتے وہ بھی اسی طرح اپنے باپ کے فارم پر کام کرتی نہ کہ مسٹر آرتھر کے دفتر میں۔‘‘ اس نے عمداً اپنے خیالات کی رو کو موڑ دیا۔ دفتر کی زندگی کا تجربہ ذرا بھی خوشگوار نہ تھا۔
گاڑی رک گئی، بیکر کی ماں نے دروازے سے سر نکالا اور غائب ہوگئی وہ منتظر رہی کہ بیکر اتر کر آئے اور اس کے لیے دروازہ کھولے مگر وہ اپنی جگہ بیٹھا رہا۔ وہ خود ہی باہر نکل آئی بیکر دوسری طرف سے نکلا۔ اسی وقت پہلی بار للی نے دیکھا کہ اس کی ایک ٹانگ گھٹنے سے نیچے لکڑی ہے۔ اس نے پہلے کبھی اسے چلتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ وہ یا تو اسے کیفے میں بیٹھا ہوا ملتا تھا یا کار میں، وہ چند سیکنڈ حیرت سے اسے دیکھتی رہی مگر وہ آگے جا رہا تھا کچھ کہے بغیر وہ اس کے پیچھے ہولی، اندر بڑھیا میز پر کھانا لگا رہی تھی۔
’’بیکر… تم نے بہت دیر کردی… کھانا ٹھنڈا ہوگیا۔‘‘ وہ خفگی سے بولی۔
’’اپنی مہمان سے پوچھو۔‘‘ اس نے غسل خانے سے کہا جہاں وہ ہاتھ منہ دھونے اور کپڑے بدلنے چلا گیا تھا۔
’’آئی ایم سوری کام زیادہ تھا۔‘‘
’’نوجوانوں کو پہلے کھانا چاہیے پھر کام کرنا چاہیے۔‘‘ بڑھیا نے تلقین کے لہجے میں کہا۔ وہ خاموش رہی اور میز پر پھیلی ہوئی چیزوں کو دیکھتی رہی، انڈوں کے پڈنگ، پنیر، مکھن، شہد، سیب کا مربہ، گوشت اور سلاد۔
مسز اسمتھ، اتنی چیزیں ہم ایک وقت میں کھائیں گے۔‘‘
’’مس جورڈن ، ہم نے اس میں سے کوئی چیز بازار سے نہیں خریدی، یہ ساری چیزیں ہم خود پیدا کرتے ہیں۔‘‘ بیکر نے کرسی گھسیٹتے ہوئے کہا۔
’’سب؟‘‘ اس نے تعجب سے پوچھا۔
’’ہاں کھانے کے بعد میں تمہیں اپنا فارم دکھائوں گا، پولٹری فارم ڈیری فارم… بی فارم اور…‘‘ وہ ہنس پڑی۔
’’پلیز فارم ایگریمنٹ فارم، یونیفارم۔‘‘ اس نے اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ بڑھیا ہنسی پھر وہ ہنسا اور پھر وہ سب ہنسے۔ بے تکلف ہنسی للی جورڈن کو یوں لگا جیسے یہ گھر… یہ لوگ اور یہاں کی ہر چیز سب اس کے اپنے ہیں کوئی چیز اجنبی نہیں… وہ برسوں سے یہاں ہے یہاں سے کہیں نہیں گئی۔
’’مس جورڈن … یہ گھر میںنے بنایا ہے، اپنے ہاتھوںسے اس کی ہر چیز‘ ایک ایک اینٹ میں نے خود چنی ہے۔‘‘ اس نے کھانے کے دوران کہا۔
للی نے اِدھر اُدھر دیکھا دیواریں بالکل سیدھی تھیں مگر پلستر برابر نہیں تھا، رنگ روغن بھی ٹھیک تھا، کمروں کے درمیان لکڑی کے تختوں کی دیواریں تھیں اور ان پر دیواروں کی طرح روغن تھا، ڈھلوان چھت بھی لکڑی کی تھی۔
’’مجھے یقین نہیں آتا۔‘‘ للی نے کہا کہ ’’ایک آدمی یہ کام کیسے کرسکتا ہے۔‘‘
’’اور یہ فرنیچر… یہ میز… یہ کرسی جس پر تم بیٹھی ہو… وہ پلنگ جس پر تم لیٹی تھیں، سب میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہیں۔‘‘ اس نے فخر سے کہا۔ للی کو اس کے بھدے کھردرے ہاتھوں کا لمس یاد آیا۔ ایک بار پھر اس نے ان ہاتھوں کی طرف دیکھا جو غیر معمولی طور پر چوڑے اور مضبوط تھے۔
’’یہ چیزیں زیادہ خوب صورت تو نہیں ہیں مگر آرام دہ ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مسٹر بیکر، میںجس دنیا میں رہتی ہوں وہاں یہ باتیں نا ممکن سمجھی جاتی تھیں، لیکن میرا باپ بھی ایسا ہی تھا۔ وہ فارمکا سارا کام خود کرتا تھا اور گھر میں بھی اس نے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کیا۔ اتنا کہ اس کا جسم اسے برداشت نہ کرسکا، اس نے اپنے آپ کو مار لیا۔‘‘ وہ اداسی سے بولی۔ ’’اس کا ہارٹ فیل ہوگیا۔‘‘
’’آئی ایم سوری۔‘‘ بیکر نے کہا۔ ’’میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم کھانا چھوڑ دو۔‘‘
’’بیکر، یو آر اے فول۔‘‘ اس کی ماں نے کہا۔
’’یس آئی ایم۔‘‘ وہ ہنسنے لگا۔ ’’مگر میں پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہوں، خواہ کچھ بھی ہوجائے۔‘‘
جب وہ کھانا کھا کر اٹھے تو سہ پہر ہوچکی تھی منع کرنے کے باوجود اس نے برتن سمیٹے اور دھو کر رکھنے میں اس نے مسز اسمتھ کا ہاتھ بٹایا۔
’’پلیز مسز امستھ یہ میرے لیے گزرے ہوئے وقت کی یاد ہے جب میں اپنے گھر میں تھی اور یہ سارے کام کرتی تھی اب میں فلیٹ میں رہتی ہوں، ہوٹل سے کھاتی ہوں۔‘‘
’’آل رائٹ۔‘‘ وہ سر ہلاتے ہوئے بولی، بیکراسمتھ اسے حیرانی سے دیکھتا رہا اور اپنی جگہ بیٹھا پائپ پیتا رہا۔
’’اب ہم تمہارے سارے فارم دیکھیں گے۔‘‘ اس نے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا، اسمتھ اٹھ کھڑا ہوا اس کی لکڑی کی ٹانگ سیمنٹ کے فرش پر بجنے لگی، وہ پچھلے دروازے سے باہر نکل آئے۔ اسمتھ کے پیچھے چلتے ہوئے وہ زمین پر ایک پیر کے نشان کے ساتھ دوسرے گول گڑھے کا موازنہ کرتی جو لکڑی کی ٹانگ سے بن جاتا تھا۔
’’یہ سبزیوں کا فارم ہے یہاں موسم کی ہر چیز پیدا ہوتی ہے۔‘‘ وہ چھوٹے چھوٹے قطعات میں اگی ہوئی سبزیوں کو دیکھتی رہی۔ زمین سے ایک آشنا خوشبو آرہی تھی، مٹی، پانی اور سبزیوں کی مہک۔
’’تمہیں کوئی آواز سنائی دے رہی ہے۔‘‘ اسمتھ نے پوچھا۔
’’ہاں… چڑیاں اور طوطے۔‘‘
’’نہیں… اور کچھ… جیسے کوئی مشین چل رہی ہو۔‘‘
’’نہیں… اس نے غور کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہے؟‘‘
’’اوپر دیکھو… ادھر درخت پر…!‘‘
وہ حیران رہ گئی ہزاروں لاکھوں مکھیاں ایک چھتے کے گرد منڈلا رہی تھیں، مگر وہ جو شہر کے ٹریفک کے شور سے آشنا تھی اس بھنبھناہٹ کو نہ سن سکی تھی۔ حالانکہ اس خاموشی میں یہ آواز بالکل واضح تھی پولٹری فارم میں مرغیاں تھیں اور بطخیں انہی کے ساتھ بھینسیں تھیں اعلیٰ نسل کی دودھ دینے والی۔
’’مسٹر اسمتھ، یہ سارے کام آپ کرتے ہیں۔‘‘
’’ہاں… سوائے بھینسوں اور مرغیوں کی دیکھ بھال کے وہ میری ماں کرتی ہے… دودھ نکالتی ہے… مکھن اور پنیر بناتی ہے اور انڈے جمع کرتی ہے اور ان کو دانہ ڈالتی ہے۔ بھینسوں کو چارہ اور…!‘‘
’’اس عمر میں…!‘‘
’’ہاں… اس نے تو مجھے بھی پالا ہے تمہارے باپ کی طرح اکیلے وہ سخت جان اور محنت کش عورت ہے۔‘‘
آہستہ آہستہ رات کا اندھیرا پھیل گیا اس نے رات وہیں بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دو دن چھٹی کے تھے رات کے کھانے کے بعد بیکراسمتھ فوراً پڑ کر سو گیا، وہ بڑھیا کے پاس بیٹھی رہی۔
’’مسز اسمتھ‘ بیکر نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے سخت زندگی گزاری ہے۔ مگر اس نے آپ کے شوہر کا ذکر نہیں کیا۔‘‘ بڑھیا نے خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’اس کا ذکر کرنے سے کوئی فائدہ نہیں اس نے زندگی میں مجھے کوئی سکھ نہیں دیا، وہ ہمیشہ دوسری عورتوں کے پیچھے پھرتا رہا اور اپنی ساری کمائی انہیں کھلاتا رہا ہم فاقے کرتے رہے بیکر تعلیم حاصل نہ کرسکا۔ اس نے خود ہی تھوڑا بہت پڑھا ہے لیکن وہ اسکول کبھی نہیں گیا۔ جب وہ سولہ سال کا تھا تو اس نے ایک مل میں نوکری کرلی۔ بہت کم عمر میں یہ بوجھ سنبھال لیا اور اس کا باپ ایک عورت کے ساتھ بھاگ گیا اور کبھی لوٹ کر نہیں آیا وہ لندن ہی میں رہتا ہے اور میں نے سنا ہے وہ خاصا پیسے والا ہے مگر ہم نے کبھی اس سے ایک پیسہ نہیں مانگا، بڑھیا نے جیسے اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے کہا۔
’’بیکر نے بہت محنت کی اور دن کو بھی کام کرتا اور رات کو بھی یہ خلاف قانون تھا مگر اس نے کہا میں اٹھارہ سال کا ہوں اور تین سال تک وہ مجھے اپنی ساری کمائی دیتا رہا اس عرصے میں ہم نے کچھ پیسہ بھی بچا لیا مگر مجھے اس کی حالت پر افسوس ہوتا تھا۔ میں اپنے لیے کبھی نہیں روئی مگر اس کے لیے میرا دل روتا تھا۔ یہ اس کی لڑکیوں کے ساتھ پھرنے کی عمر تھی لیکن اس نے کسی کو دوست نہیں بنایا کبھی ان کے ساتھ باہر نہیں گیا، پھر…!‘‘ وہ رک گئی اور آنکھوں سے نکل آنے والے آنسوئوں کے قطرے اپنے دامن سے صاف کیے۔
اس نے مسز اسمتھ کا ہاتھ تھام لیا۔
’’اس کے باپ کے بارے میں آپ کو کچھ علم نہیں۔‘‘
’’معلوم ہے، لیکن میں نے تو کبھی بیکر کو نہیں بتایا، اس نے دوسری شادی کرلی ہے اور اس کا ایک لڑکا ہے ممکن ہے بیکر کو بھی معلوم ہو لیکن اس نے کبھی ذکر نہیں کیا، ہم پہلے بریڈ فورڈ میں تھے تین سال تک بیکر نے کارخانے میں کام کیا پھر اس کی ٹانگ کٹ گئی اور اس کی نوکری ختم ہوگئی۔‘‘
’’وہ کیسے۔‘‘
’’وہ دوسرے مزدوروں کے ساتھ فیکٹری سے واپس آرہا تھا۔ وہ سب خوش تھے کیونکہ انہیں بونس ملا تھا اور آدھے دن کی چھٹی (للی کے دل میں ایک کانٹا سا چبھا) وہ سب ٹرک پر سوار تھے اور گا رہے تھے۔ اچانک اس کا ایک ساتھی نیچے گرنے لگا اس کا توازن بگڑ گیا تھا پتا نہیں کیسے، بیکر نے اسے بچانا چاہا اور وہ خود گر گیا ان کے پیچھے ایک کار تھی۔ اس نے بیکر کا پیر کچل دیا وہ چھ مہینے اسپتال میں رہا مگر اس کی نوکری جاتی رہی اور آدھی ٹانگ بھی۔‘‘
’’اسے انشورنس کی رقم نہیں ملی؟‘‘
’’ملی تھی… آدھی ٹانگ کی قیمت اسی سے ہم نے یہ زمین خریدی اور فارم قائم کیا، اب ہم یہاں خاصے جم گئے ہیں بیکر ہر منگل اور جمعہ کو شہر جا کر شہد، انڈے اور پنیر اور سبزیاں بیچ آتا ہے۔‘‘ منگل اور جمعہ اسے معلوم تھا۔
’’آپ بیکر کے باپ پر دعویٰ کرسکتی تھیں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے اس نے دوسری شادی کی۔‘‘
’’ہاں… مگر میں نے سے معاف کردیا کیونکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی، میں اس کا گھر اجاڑنا نہیں چاہتی تھی وہ خوش تھا اور میں اس کے بغیر خوش تھی، بیکر نے تیرہ سال یہاں محنت کی ہے۔‘‘
’’اس کا کیا نام تھا اس کے باپ کا۔‘‘
’’آرتھر اسمتھ… وہ بجلی کی موٹریں اور واٹر پمپ بناتا ہے۔‘‘ دنیا للی کی نظروں کے سامنے گھومنے لگی، مسز اسمتھ بولتی رہی مگر للی جورڈن نے کچھ نہیں سنا… چارلس… تم اپنے باپ سے مختلف نہیں ہو… مگر مسٹر آرتھر… میں آپ سے کیا کہوں… میں اس عورت سے کیا کہوں میں کس کو برا کہوں اس چھوٹی سی خمیدہ کمر کمزور عورت کو کیا بتائوں جس نے اپنے عزم سے اور اپنی نیکی سے تمہیں ہی نہیں ساری دنیا کو شکست دے دی ہے… اوہ… میرے خدا… میرے خدا وہ سسکیاں بھرنے لگی… مسز اسمتھ نے اسے تھام لیا۔
’’تمہیں اب سو جانا چاہیے… رونا بند کرو… میں زندگی میں کبھی نہیں روئی اور مجھے نوجوان چہرے مسکراتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔‘‘ وہ مسکرائی لیکن اس نے وہ رات کانٹوں کے بستر پر کروٹیں بدلتے اور روتے گزاری۔
’’خداوند میرے گناہ کو معاف کردے۔‘‘
ہفتے اور اتوار کا دن گزر گیا۔ اس نے مسز اسمتھ کے ساتھ بھینسوں کا دودھ نکالا، مرغیوں کے انڈے جمع کیے بیکر کے ساتھ شہد اکٹھا کیا۔
’’اب ہم منگل کو انہیں شہر لے کر جائیں گے۔‘‘ اس نے بیکر سے کہا۔
’’مگر مس جورڈن آپ کو پیر کی صبح ڈیوٹی پر پہنچنا ہے۔‘‘
’’ڈیوٹی… میں نے وہ نوکری چھوڑدی ہے… بیکر۔‘‘ وہ اسے تعجب سے دیکھتا رہا۔
’’لیکن اس طرح اچانک تمہیں ان کو بتانا چاہیے۔‘‘ بیکر نے کہا۔
’’وہ خود جان لیں گے میں نے مسٹر آرتھر سے بات کی تھی۔ منگل کو میں انہیں بتا دوں گی۔‘‘
منگل کی صبح بیکر نے ٹریلر کو کار کے پیچھے جوڑا پھر انہوں نے انڈے اور سبزیاں لادنی شروع کیں، شہد کے مرتبان رکھے اور دو گھنٹے بعد روانہ ہوگئے بیکر نے اسے دفتر کے سامنے اتار دیا۔
’’میں دوپہر کو کیفے میںملوں گا۔ بائی۔‘‘ کار اور اس کے پیچھے لہراتا ہوا ٹریلر آگے چلے گئے۔
لیکن جب وہ سیڑھیاں طے کر کے دفتر کے دروازے پر پہنچی تو دفتر بند تھا۔ وہ حیران ہوئی مگر اسے بتانے والا کوئی نہ تھا۔ لفٹ بند پڑی تھی اس نے دفتر کے شیشے سے اندر جھانکا، چوکیدار سویا پڑا تھا اور مسٹر آرتھر کے کیبن کے ٹوٹے ہوئے شیشے ابھی تک فرش پر پڑے تھے۔ اس نے دروازہ بجایا چوکیدار نے دروازہ کھولا۔
’’یس مس۔‘‘
’’دفتر کیوں بند ہے؟‘‘
’’وہ…!‘‘ اس نے ٹوٹے ہوئے کیبن کی طرف انگوٹھے سے اشارہ کر کے کہا۔
’’بڈھا مر گیا ہے۔‘‘
للی کو ایک زور کا چکر آیا، اس نے دیوار کو تھام لیا۔ ’’کیسے؟‘‘
’’بس وہ ادھر بیٹھا تھا اور اس نے تمہارے بارے میں پوچھا کل صبح… پھر اس نے گھر سے چارلس کو بلایا اور اس پر گرم ہوا پھر چارلس کو واپس گھر بھیج دیا، اس نے کہا۔
’’یو… ڈسمس…!‘‘ چوکیدار نے چٹکی بجائی۔
’’نوجونیئر ڈائریکٹر۔ دوپہرکو اس نے کہا۔ ’’مس کار لائل کو بلائو… وہ نگر… چارلس کی سیکرٹری لیکن جب وہ آئی تو وہ مرچکا تھا، وہ اپنی کرسی پر بیٹھا تھا اور مس کارلائل نے کہا یس سر اور اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور اس نے پھر کہا۔ یس سر ڈاکٹر نے کہا اس کا ہارٹ فیل ہوگیا ہے چارلس آیا اور اسے لے گیا اس نے آفس بند کردیا، اس نے چیئرمین کی جگہ چھٹی کے حکم پر دستخط کیے۔‘‘
لیکن وہ کچھ نہیں سن رہی تھی اور زمین پر بیٹھی تھی اور اس کا سر دیوار سے لگا ہوا تھا چوکیدار نے اسے کندھے سے پکڑ کر ہلایا اور وہ زمین پر لڑھک گئی۔
’’مس… مس جورڈن ۔‘‘
ہوش میں آنے پر اس نے نقاہت محسوس کی وہ مسٹر آرتھر کے کمرے میں لیٹی تھی اور ڈاکٹر نے اسے ایک انجیکشن دیا تھا وہ ایک دم کھڑی ہوگئی کیبن کے ٹوٹے ہوئے شیشوں کو دیکھا اور باہر نکل گئی۔ اس کے پیروں میں لرزش تھی، اپنے فلیٹ میں پہنچ کر وہ بے سدھ اپنے بستر پر گر پڑی اور آنسوئوں کا سیلاب سارے بند توڑ کر بہہ نکلا شام ہوگئی مگر وہ اسی طرح پڑی رہی، پھر اس نے بیکر کی کار کا ہارن سنا، وہ پھر بھی لیٹی رہی بیکر کی لڑکی کی ٹانگ کی آواز زینے پر سنائی دی پھر دروازے کا ہینڈل گھوما اور وہ اندر آیا نیم تاریک نیم روشن دروازے کا ہینڈل گھوما اور وہ اندر آیا نیم تاریک نیم روشن دروازے میں اس کی پرچھائیں نظر آئی اور اس نے دیوار پر ہاتھ بڑھا کر سوئچ آن کردیا کمرہ روشن ہوگیا۔
’’مسں جورڈن ۔‘‘ وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔‘‘
’’تم روتی رہی ہو۔‘‘ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’جھوٹ مت بولو، مجھے معلوم ہوگیا ہے وہ مر چکا ہے میں تمہارے آفس میں گیا تھا۔‘‘
وہ اٹھ بیٹھی، ’’بیکر کیا تم جانتے ہو؟‘‘
’’ہاں… وہ میرا باپ تھا… مگر میں نے کبھی اپنی ماں کو نہیں بتایا۔ میں اس کیفے سے اس کو آتے جاتے دیکھتا تھا میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کیسا آدمی ہے جس نے میری ماں کو چھوڑ دیا لیکن میں بھی اپنی ماں کی طرح خوددار ہوں، میں اس کے پاس ایک بار بھی نہیں گیا لیکن میں جانتا تھا وہ دولت مند ہے۔ میں نے اس کی کار اور کوٹھی بھی دیکھی ہے اس کی دوسری بیوی بھی اور، اور اپنے بھائی کو بھی۔ میں اس سے ملتا تو وہ ضرور میری مدد کرتا۔ شاید مجھے بھی جونیئر ڈائریکٹر بنا دیتا۔ لیکن میں اپنی ماں کی عمر بھر کی محنت کو ٹھکانے نہیں لگانا چاہتا تھا۔ میں نے سنا تھا وہ اچھا آدمی ہے تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ اور پہلی مرتبہ للی نے غور سے اسے دیکھا وہ چہرہ مسٹر آرتھر کا تھا۔ اسے افسوس ہوا کہ اس نے یہ بات پہلے نوٹ نہیں کیا۔
’’میرا خیال ہے اس کی میری ماں سے نہیں بنی، وہ بہت سیدھی سادی عورت ہے اور وہ بہت دنیادار، ذہین تھا ترقی کرنے کی خواہش رکھتا تھا اور محنتی تھا میری طرح… میری ماں اس کا ساتھ نہیں دے سکی کیونکہ وہ غریب تھی اور میرے باپ کو پیسے کی ضرورت تھی کامیابی کے لیے۔‘‘
بیکر خدا کے لیے… یہ بات اپنی ماں کو نہ بتانا… وہ مر جائے گی۔‘‘
وہ ہنسا۔ ’’نہیں وہ زندہ رہے گی وہ صدمے اٹھانے کی عادی ہے لیکن میں اسے نہیں بتائوں گا للی… کیا تم میرے ساتھ چل رہی ہو؟‘‘
’’نہیں… بیکر… میں آج کہیں نہیں جا رہی ہوں۔‘‘ وہ اٹھا آہستہ سے اس کا سرسہلایااور باہر نکل گیا اس نے گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز سنی اور پھر یہ آواز دور ہوتی چلی گئی۔
ایک اور بے رحم اور بے خواب رات گزار کر للی نے نئے عزم کے ساتھ زندگی کی ابتدا کا فیصلہ کیا اس نے اپنے ماضی سے سارے رشتے توڑ لیے، وہ دن اس نے ملازمت کی تلاش میں گزارا جو مسٹر آرتھر کی تدفین کا دن تھا، دو مسٹر آرتھر ایک وہ جس نے دولت کے لیے اپنے بچوں کو چھوڑ دیا ایک وہ جس کے پر خلوص جھوٹ کی بہت سی نشانیاں اس کے پاس تھیں، ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے۔ مسٹر آرتھر کے حوالے سے اسے دوسری جگہ آسانی سے نوکری مل گئی، نئے باس نے اس سے صرف ایک سوال کیا۔
’’آپ وہ فرم کیوں چھوڑ رہی ہیں؟‘‘
’’کیونکہ… کیونکہ مسٹر آرتھر مر چکے ہیں۔ میں اب وہاں نہیں بیٹھ سکتی۔‘‘ یہ اعتراف کرتے ہوئے وہ پھر رو پڑی۔
’’وہ آپ کے…؟‘‘ نئے باس نے نرمی سے پوچھا۔
’’وہ میرے لیے باپ کی طرح تھے۔‘‘
’’ٹھیک ہے آپ چاہیں تو ابھی سے کام شروع کردیں یا پھر کل یا پرسوں جب آپ کو سہولت ہو۔‘‘
زندگی پھر اسی معمول پر آگئی لیکن چارلس کے ڈر سے اس نے فلیٹ تبدیل کرلیا، ہفتے کے آخری دو دن وہ بیکر کے گھر پر گزارتی اور اس کا ہاتھ بٹاتی، وہ اس کے خاندان میں شامل ہوگئی تھی لیکن بیکر نے کبھی اس سے کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسے ناگوار گزرے، چھ مہینے گزر گئے، کرسمس قریب آنے لگی، بیکر نے اور اس کی ماں نے فارم کے چاروں طرف پھول اگائے تھے ایک ساتھ بیٹھ کر انہوں نے پھولوں کے گلدستے بنائے اور وہ سڑک کے کنارے میز پر گلدستے سجا کر بیٹھ گئی، آنے جانے والی کاروں کے سامنے گلدستے بلند کر کے وہ آواز لگاتی۔‘‘
’’کرسمس کے لیے پھول صرف چھ پنس میں جناب۔‘‘ کاریں رک جاتیں گزر جاتیں وہ پیسے میز پر بچھے ہوئے سفید کپڑے پر رکھتی گئی، دوپہر کے قریب اس نے ایک کار کو ذرا آگے جا کر رکتے دیکھا۔ وہ گلدستہ لے کر لپکی چھ پنس جناب کرسمس مبارک ہو۔‘‘ لیکن کار کا مالک باہر نکل آیا تھا۔ للی کے قدم رک گئے اور آواز اس کے گلے میں گھٹ گئی، اس کے سامنے چارلس کھڑا تھا وہ گلدستہ ہاتھ میں تھامے کھڑی رہی۔
’’للی… یہ تم کیا کر رہی ہو؟‘‘
چارلس بالکل بدل چکا تھا اس کا چہرہ صاف ہوگیا تھا رنگ نکھر آیا تھا اور اس کی صحت بہت بہتر تھی اپنے قیمتی لباس میں وہ خاصا ذمہ دار نظر آتا تھا۔
’’مسٹر چارلس… کرسمس کے لیے پھول پھولوں کے لیے کرسمس… چھ پنس سر۔‘‘
’’شٹ اپ تمہیں اسی وقت میرے ساتھ چلنا ہوگا۔‘‘
’’سوری مسٹر چارلس۔ میں بہت مصروف ہوں۔‘‘
’’للی! میں نے تمہیں بہت تلاش کیا تمہارے فلیٹ پر بھی گیا میں تم سے معافی مانگنا چاہتا تھا، پورے خلوص کے ساتھ۔‘‘
’’گزری ہوئی باتوں کو یاد کرنے سے کیا حاصل مسٹر آرتھر۔‘‘
’’للی میں تم سے اب بھی محبت کرتا ہوں۔ میں بدل گیا ہوں، میری پوزیشن بدل گئی ہے لیکن میری محبت نہیں بدلی، تم اس پر یقین کرو گی۔‘‘
’’کیا واقعی؟‘‘ اس نے سوچا وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی… حسین… اسمارٹ… دولت مند… اور… صحت مند… جس کے دونوں پیر سلامت تھے وہ اس کے پیروں پر نظریں جمائے کھڑی رہی۔ نہ جانے کب بیکر اس کے پیچھے آکھڑا ہوگیا۔
’’للی کیا تم جا رہی ہو؟‘‘ بیکر نے پوچھا۔
’’ہاں۔‘‘ چارلس نے اپنے بڑے بھائی کو جواب دیا۔‘‘ وہ میرے ساتھ جا رہی ہے۔‘‘
’’للی بتائو کیا تم جا رہی ہو؟‘‘ بیکر نے بے چینی سے پوچھا للی پتھر کے بت کی طرح کھڑی رہی۔
’’ہاں… ہاں…!‘‘ چارلس اسے کھینچے ہوئے بولا۔
’للی جا رہی ہے اور میں اس سے شادی کر رہا ہوں سمجھے۔‘‘
ایک لمحہ صرف ایک لفظ وہ کیا کرے کس کا انتخاب کرے اس کا جس نے اسے دیوانوں کی طرح چاہا جس کی محبت کو وقت اور فاصلے نہ مٹا سکے، جس کے قدموں پر شہر کی حسین ترین لڑکیاں سر جھکا سکتی تھیں مگر وہ پھر بھی اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا یا اسے جس سے زمانے نے سب کچھ چھین لیا تھا باپ کو بھی شباب کے جذبوں کو بھی اور امنگوں کو بھی اور اس کی ایک ٹانگ کو بھی اچانک اس نے محسوس کیا کہ اسے بیکر سے ہمدردی ہے وہ اس کی مدد کرناچاہتی تھی، اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ بیکر سے شادی بھی کرسکتی ہے۔
’’جواب دو للی…کیا تم ہمیں چھوڑ دو گی؟‘‘
’’نہیں بیکر… یہ میرا گھر ہے… یہاں میری ماں رہتی ہے اور بیٹیاں ہمیشہ ماں کے گھر نہیں رہتیں۔‘‘ للی نے کہا۔
بیکر کا رنگ زرد پڑ گیا۔
’’تو تم نے فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ایک ہاتھ اس کے منہ پر پڑا چارلس آگے بڑھا لیکن للی درمیان میں آگئی ٹھہرو چارلس۔‘‘
’’تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔‘‘بیکر نے کہا۔
’’میں نے کسی کو دھوکا نہیں دیا میں نے تم سے کوئی وعدہ نہیں کیا میں اپنی مرضی سے یہاں آئی تھی اور آتی رہوں گی خواہ تم اپنے گھر کے دروازے مجھ پر بند کرلو۔‘‘
’’کم آن للی۔‘‘ چارلس نے اس کے ہاتھ سے گلدستہ لے کر پھینک دیا پھول مٹی میں مل گئے۔
’’آل رائٹ مس جورڈن ۔‘‘ بیکر نے گلدستے کے پھولوں کو جھاڑتے ہوئے کہا۔
’’کرسمس مبارک ہو، پھولوں کے چھ پنس سر۔‘‘ اس نے چارلس کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا۔
چارلس نے للی کے لیے کار کا دروازہ کھولا اور اسے اندر دھکیل دیا پھر اس نے جیب سے چھ پنس نکالے اور بیکر کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ گلدستہ لے کر وہ اپنی سیٹ پر آ بیٹھا گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھی اور چارلس نے گلدستہ باہر پھینک دیا۔
للی نے آنسو خشک کر کے مڑتے ہوئے دیکھا کہ بیکر دوسرا گلدستہ لیے ایک اور کار کی طرف بڑھ رہا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close