Naeyufaq Feb-16

اقرا

طاہر قریشی

یہ عظیم کائنات جوہمیں نظر آتی ہے اور جوہماری نظروں سے اوجھل ہے‘ یہ نہایت وسیع وعریض ہے‘ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی پیدا کردہ ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اس پرحاوی اور سربلند ہے۔وہ اپنی قدرت وحکمت اور تدبیر سے اسے چلارہا ہے۔ سورج‘چاند‘ستارے‘ رات ودن کیسے آگے پیچھے چلے آرہے ہیں‘یہ سب کے سب اللہ کے قبضہ قدرت میںہیں‘وہی ان کا نگہبان‘ متصرف ومدّبر ہے‘ وہی ہم سب کا رب ہے‘ وہی اپنے طبعی نظام کے ذریعے ہماری تربیت کرتاہے‘ وہی ہمارے لیے قوانین بناتا اور نافذ کرتا ہے‘ انسانوں کوسمجھنا چاہیے کہ الوہیت‘ ربوبیت‘ سیاسی حاکمیت اور اقتدار اعلی سب کچھ ایک اکیلے اللہ کا ہے۔
سورۂ ھود میں عرش سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ زمین وآسمان پیدا کرنے سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔
ترجمہ :۔اوراس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ (ھود۔۷)
یہی بات صحیح احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث شریف میں آیاہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل مخلوقات کی تقدیر لکھی‘ اس وقت اس کاعرش پانی پر تھا۔(صحیح مسلم کتاب القدر۔صحیح بخاری‘ کتاب بدء الخلق) سورۂ ہود کی اسی آیتِ مبارکہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ارض وسماء کی تخلیق سے پہلے پانی کی تخلیق ہوچکی تھی اور یہی اصل کائنات ہے اور یہی منبع حیات ہے۔دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’کہ ہم نے پانی کے ذریعے ہر چیز کو زندگی کا سامان فراہم کیا۔ اس پانی کی حقیقت کیاہے؟ کیا وہ یہی پانی تھا یا کوئی اور مائع یعنی بہنے والی کوئی سیال چیز جسے پانی سے مناسبت دی گئی ہو۔(ضیاء القرآن پیرمحمد کرم شاہ الازہری)
قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ تصوّر کہ اللہ کی ذاتِ عالی جسم‘ جہت اور مقام سے پاک ہے اللہ کی ہستی کا کسی جگہ متعین ہونا ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ انسانوں کا خالق ہے وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ انسان کو کس طرح سمجھایاجاسکتا ہے۔ اس لئے ہی قرآنِ حکیم میں تمام مثالیں اور واقعات‘تشبیہات کو زمینی واقعات وعمل کے مطابق پیش کیاگیا ہے تاکہ انسان جب موازنہ کرے تو بہ آسانی اس کی سمجھ میں بات آسکے۔ اس لئے قرآنِ کریم میں بھی وہی نقشہ پیش کیا گیا ہے جو دنیا میں حکمرانی وبادشاہی کاانسان دیکھتااور سمجھتا ہے‘ یہ سب صرف اصل حقیقت کو انسانی فہم سے قریب ترکرنے کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کو کسی ایک جگہ متعین کرنا ممکن ہی نہیں‘ربّ ِکائنات خود ہی سورہ ٔق میں ارشاد فرما رہا ہے۔
ترجمہ:۔ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میںابھرنے والے(خیالات) وسوسوں تک سے ہم خوب واقف ہیں اور ہم اس کی شہ رگ (رگ جاں) سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔ (ق۔۱۶)
تفسیر:۔ آیتِ مبارکہ میں بڑی وضاحت و فصاحت سے ربِّ کائنات اپنے بندوں کو مطلع کررہا ہے کہ وہ نہ صرف اُن کا خالق ہے بلکہ اُن کے انتہائی قریب بھی ہے۔ یعنی اُن کی رگِ جان سے بھی قریب تر ہے اگرانسان قرآنِ حکیم پر ہی غور وفکر کرتا رہے تو اللہ کی اس قربت کا بھرپور اندازہ کرسکتا ہے۔ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بھی آچکا ہے کہ سورۂ الحجر۲۹ میں ہے کہ تخلیقِ انسان یعنی آدم علیہ السلام کے بارے میں ارشاد الٰہی ہوا کہ
ترجمہ:۔ تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور (اس میں) اپنی روح پھونک دوں‘ تو تم سب اس کے لئے سجدے میں گرجانا۔ (الحجر۔۲۹)
اللہ تعالی کاانسان سے اس سے زیادہ قرب اور کیا ہوگا کہ خالقِ عظیم نے اس میں اپنی روح میں سے پھونکا جو اس کی حیات کا سبب ہے‘ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تو مجھے کہیں اور نہ تلاش کر میں تو تیری شہ رگ کے قریب سے قریب تر ہوں۔ اس قربِ الٰہی سے مراد قربِ علمی ہے یعنی علم کے لحاظ سے اﷲ انسان کے بالکل قریب‘ اتنے قریب ہے کہ اس کے نفس کی باتوں کوبھی جانتا ہے۔ امام شوکانی نے اس کامطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام احوال کو خوب اچھی طرح جانتا ہے۔(فتح القدیر )
شہ رگ سے بھی قریب ہونے کامطلب اگرانسان سمجھ لے اور اس پرفکر کرے تو اسے اللہ کی موجودگی کا احساس ہردم رہے اور وہ کبھی کسی غلطی یاگناہ وجرم کا مرتکب نہ ہو۔ کیونکہ اس آیتِ مبارکہ سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ انسان اوراس کے خالق کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔ہرچیز اللہ کے سامنے ظاہرہے۔جب اس کے دل کے خفیہ ترین ارادوں وباتوں سے بھی اس کا خالق ومالک واقف ہے تو اس کے رات ودن کی تمام مصروفیات حرکات وسکنات کیسے اس سے پوشیدہ اور چھپی رہ سکتی ہیں‘ انسان کے ایک ایک لمحے کا وہ پوری طرح نگراں ونگہبان ہے۔ جب مالکِ کائنات مالکِ کو ن و مکاں یہ فرمارہا ہے کہ جس طرح اس کی شہ رگ جس میں اس کا خون دوڑ رہا ہے سے بھی وہ قریب ہے تو یہ اللہ کے براہ راست قبضہ وملکیت کا اعلان ہے اگر انسان اس حقیقت کا تصور ہی کرلے تو اس کا رواں رواں کانپ اٹھے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے کائنات کی تخلیق سے پہلے اس کے لئے جو منصوبہ بندی فرمائی وہ اس نے لوح محفوظ پر تحریر کردی یا کرادی‘ اس کے حکم سے ’’قلم‘‘ نے سب کچھ تحریر کردیا۔ کائنات کے ذرے ذرے کی تقدیر اس کی تخلیق یعنی پیدائش سے لے کر اس کی آخرت تک کا ہر قسم کا حسا ب کتاب‘ ہر حرکت تحریر کردی گئی‘ جیسا کہ سورۂ القلم میں ارشاد ِباری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ:۔ن قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ (فرشتے) لکھتے ہیں۔ (القلم۔۱)
آیتِ مبارکہ میں ربّ ِ کائنات نے ن کہہ کرجوحروف مقطعات میں سے ہے‘ جیسے اس سے قبل ص‘ق اور دیگر فواتح سورگزرچکے ہیں قلم کی قسم کھائی ہے جس سے قلم کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ سید شریف جرجانی ؒ نے اپنی کتاب ’’التعریفات‘‘ میں تحریر کیاہے کہ النون سے مراد وہ دوات ہے جو علمِ اجمالی سے عبارت ہے یہاں ن سے مراد علمِ اجمالی ہے جو مرتبہ احدیت میں ہوتاہے اور قلم تفصیل کا مرتبہ ہے اور واوقسم کے لئے ہے۔‘‘ (ضیاء القرآن ) بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ خاص قلم ہے جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا اور اس کو تقدیر لکھنے کا حکم د یا۔ چنانچہ اس نے ازل سے لے کر ابدتک ہونے والی تمام مخلوقات اور چیزوں کے بارے میں لکھ دیا۔ (سنن ترمذی)
یسطرون سے مراد اصحاب قلم ہیں‘ جن پر لفظ قلم دلالت کرتا ہے۔ اور القلم سے مراد جنس قلم ہے۔ علوم وفنون‘نظریات وافکار کی تعلیم واشاعت میں بے شک زبان کی قوتِ اظہار کابڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ لیکن اس کی افادیت زمان ومکان تک محدود رہتی ہے لیکن قلم کے ذریعے لکھی گئی تحریر زمان ومکان کی قید سے نکل کر دور دور تک چلتی پھیلتی چلی جاتی ہے۔اور مسافت درمسافت طے کرتی رہتی ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ صدیوں پرانی تحریریں آج بھی محفوظ ہیں اور صاحبانِ علم کے لئے کارآمد ومفید ہیں۔ اس طرح دور دراز کے علماء وحکما کے اقوال‘ افکار ونظریات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close