Naeyufaq Feb-16

دستک

مشتاق احمد قریشی

سندھ میںپاکستان پیپلز پارٹی کی بلا شرکت غیر حکومت ہے شاید اسی سبب پیپلز پارٹی کے بظاہر حکمران جن کی ڈوریاں دبئی سے ہلائی جا رہی ہیں۔ ڈوری کا ایک سرا شاہ صاحب سے بندھا ہے تو دوسرا زرداری صاحب کی انگلیوں میں دبا ہے۔ ان کا بس نہیں چل رہا کہ گھڑی کی چوتھائی میں اپنے دست راست ہمدم دیرینہ ڈاکٹر عاصم کو اپنے پاس بلا لیں ڈاکٹر عاصم آخر کب تک اپنی زبان پر تالے ڈالے رہ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت کچھ وہ پہلے مرحلے میں اگل چکے ہیں دوسرا مہرا عذیر بلوچ ہے وہ بھی زرداری صاحب کی بے اعتنائی اور ان کی طرف سے آنکھیں پھیر لینے کے سبب دل برداشتہ ہو رہا ہے۔ وہ کب تک ایجنسیوں کے حربوں کے سامنے ٹک سکے گا اگر وہ سرکاری گواہ بننے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو بڑے بڑوں کی گردن میں پھندا پڑ سکتا ہے لیکن معاملہ یہ ہے کہ سیاست اور حکمرانی کے حمام میں سب ہی ننگے ہیں ایک دوسرے کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں موجودہ حکمران بڑے مخمصے میں ہیں اگر وہ سابقہ حکمرانوں اور حکومت کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی ایکشن لیتے ہیں تو سامنے والوں کے پاس بھی ان کے کالے کرتوت کے حوالہ جات موجود ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ نوکر شاہی کی تمام تر کوشش کے باوجود افواج پاکستان جس نے وطن عزیز میں ہر قسم کی کرپشن بدعنوانی اور قتل و غارت، بھتہ خوری کے خاتمے کے لیے ہر سطح پر صفائی کا عزم کر رکھا ہے اور وہ اپنے ارادوں میں بڑی حد تک کامیابی بھی ہو رہی ہے لیکن جمہوریت کی اوٹ میں بیٹھے تمام ہی سیاسی بازی گروں نے گٹھ جوڑ کر لیا ہے اسی میں انہیںاپنی بقا و سلامتی نظر آرہی ہے بڑے شاطر سیاست کی بساط پر سجے مہروں کو بہت سوچ سمجھ کر چلا رہے ہیں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے غالباً یہ طے کر لیا ہے کہ ضرب عضب کی ضرب سے خود کو اور اپنے حواریوں کو کیسے بچانا ہے۔ وائٹ کالر کرائم کا یہ بنیادی اصولوں ہے کہ کسی بھی واردات کو سر انجام دیتے ہوئے اپنے ہاتھ اور منہ کو ہر قسم کی کالک سے کیسے بچایا جائے اس لیے پس پشت رہ کر بہت ہوشیاری سے اپنے منصوبے کو اپنے کارندوں کے ہاتھوں آگے بڑھانا ہوتا ہے اگر کبھی خدانخواستہ کہیں لینے کے دینے پڑ جائیں تو اپنے ہاتھ صاف رہیں اور اگر پکڑا جانے والا کوئی کارندہ زبان کھول بھی دے تو اسے صرف الزام کا درجہ دے کر اور لا تعلقی کا اظہار ہی کافی رہتا ہے۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ جناب قائم علی شاہ بھی شرجیل میمن، مظفر ٹپی اور دیگر زرداری جاں ثاروں کی مانند ایک مہرہ ہی ہیں جب تک وہ زرداری صاحب کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں گے وہ قائم رہیں گے اور جہاں انہوں نے بودے پن کا مظاہرہ کیا ہے وہیں وہ مارے جائیں گے یا وہ بھی اپنے آقا و مربی کے پاس دبئی میں جو جائے پناہ ہے پہنچ جائیں گے۔ فی الحال قائم علی شاہ پر بڑا سخت وقت آ پڑا ہے ایک طرف ان کا سامنا وفاقی وزیر داخلہ سے ہے اور دوسری طرف رینجرز کے اختیارات کے مسئلے نے انہیں افواج پاکستان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے کار پرداز اشاروں کنایوں میں قائم علی شاہ کو مطلع کر رہے ہیں کہ اگر آپ نے ہماری بات نہ مانی اور رینجرز کے اختیارات بحال نہ کیے تو آپ کا قائم رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوسکتا ہے گورنر راج کی دھمکی اس لیے بھی دی جا رہی ہے کہ خود وفاقی حکمرانوں کو بھی شاید خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ کہیں آدھی بچانے کے چکر میں ساری ہی حکمرانی نہ چھن جائے اور بوٹوں کی دھمک سے قصر اقتدار نہ لزرنے لگے حکمراں ہوں یا ان کے حریف دونوں ہی ملک و قوم کی ایک طرف رکھتے ہیں۔ اپنے اپنے مفادات اور گردنوں کی حفاظت کے اہتمام میں مصروف عمل ہیں فی الحال موجودہ حکمرانوں اور سابقہ حکمرانوں میں گردن بچائو میچ چل رہا ہے کہ صرف ایک شخصیت کے زیر دام آجانے ہی قائم علی شاہ صاحب کے سرپرستوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالانکہ موجودہ حکمرانوں کے بقول ان کے ہاتھ کئی ایسے مہرے لگ گئے ہیں جو اگر زبان کھول دیں تو سامنے والوں کو بچنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ ڈاکٹر عاصم، عذیر بلوچ کے علاوہ بھی کئی اور زبانیں جن پر تالے پڑے ہوئے ہیںکسی بھی وقت کھل سکتی ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے ناراض کی زبانیں ایسی بھی ہیں جو موقع اور وقت کی منتظر ہیں، یہی وجہ ہے کہ قائم علی شاہ صاحب کی کشتی ڈول رہی ہے۔ انہیں خدشات نے گھیر لیا ہے لیکن ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کے مصداق وہ اپنے بچائو کی پوری کوشش کر رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوششیں کب تک اور کتنی دیر کار آمد رہتی ہے یہ جملہ تو سندھ کے خصوصاً کراچی کے ہر سیاسی شعور رکھنے والے کی زبان پر ہے کہ قائم علی شاہ صاحب کب تک قائم رہیں گے۔ رینجرز کے اختیارات کے بعد انہیں میئر کراچی کے اختیارات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close