Hijaab Dec-16

دل کے دریچے(قسط نمبر14)

صدف آصف

گزشتہ قسط کا خلاصہ
سائرہ بیگم بیٹے کی بات مانتے رشتہ پر حامی بھر لیتی ہیں اور اس مقصد کی خاطر فائز کے ہمراہ خان ہائوس جانے کی تیاری کرتی ہیں تاکہ فائز اور سفینہ کے نکاح کی بات کی جاسکے دلشاد بیگم کو بیٹی کا یہ فیصلہ قطعاً پسند نہیں آتا جب ہی وہ آنے والے حالات سے ڈراتیں انہیں روکنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن فائز نانی کی باتوں کو نظر انداز کرتے سفینہ کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ ریحانہ بیگم سفینہ کے رشتہ طے ہونے کی بات کرتی ہیں ایسے میں سائرہ بیگم دنگ رہ جاتی ہیں بچوں کی خوشیوں کا ذکر کرتے وہ ریحانہ کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن ریحانہ بدلے کی آگ میں جلتی ان کی ہر بات سننے سے انکاری ہوجاتی ہیں۔ سفینہ اور فائز دونوں کے لیے یہ صورت حال بہت سی مشکلات لاتی ہے، سفینہ کو لگتا ہے کہ وہ فائز کو ہمیشہ کے لیے کھو دے گی، دوسری طرف فائز بھی اپنی محبت کے بچھڑنے پر غم زدہ ہوتا ہے، سائرہ بیگم اس تذلیل پر بے حد خائف ہوتی ہیں اور گھر آکر جلال خان کو تمام باتوں سے آگاہ کرتی ہیں جلال خان کے لیے بھی یہ صورت حال نہایت تکلیف دہ ہوتی ہے انہیں اپنے بھائی سے اس قدر بے رخی کی توقع نہیں ہوتی جب ہی وہ بیٹے کی خوشیوں کی خاطر بہزاد خان سے بات کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ دوسری طرف صائمہ نبیل کی اصلیت شرمیلا پر ظاہر کرنا چاہتی ہے اور اس کی دیگر لڑکیوں سے دوستی کا ذکر کرتی ہے لیکن شرمیلا نبیل کے دام میں اس طرح الجھ جاتی ہے کہ وہ صائمہ کی کسی بھی بات پر یقین نہیں کرتی ایسے میں صائمہ نہایت بے بس ہوجاتی ہے۔ روشی عشو بیگم کی باتوں میں آکر سفینہ اور آفاق کے رشتے پر آمادہ نہیں ہوتی اسے یہی لگتا ہے کہ سفینہ کے اس گھر میں آجانے سے وہ بھائی کی محبت سے محروم ہوجائے گی دوسری طرف اسریٰ خالہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ ان سے بھی بدگمان ہوجاتی ہے ایسے میں آفاق اس کی شادی کا ذکر کرتے اسے خود کو بدلنے کا کہتا ہے مگر روشنی اس بات پر آمادہ نہیں ہوتی۔ ریحانہ بیگم بیٹی کا رشتہ بڑے گھر میں طے کرنے پر جہاں بے حد خوش ہوتی ہیں وہیں اخراجات کا سوچ کر گھبراہٹ کا شکار بھی نظر آتی ہیں ایسے میں انہیں یہی حل نظر آتا ہے کہ خان ہائوس بیچ کر وہ ہر ضرورت کو باآسانی پورا کرسکتی ہیں جب ہی وہ یہ بات بہزاد خان سے کرتی ہیں مگر بہزاد خان ان کی اس بات پر نہایت طیش میں آجاتے ہیں۔
(اب آگے پڑھیے)
ؤ… /…ؤ
ڈھلتے سورج کے ساتھ ہی آسمان پر کئی رنگوں کا مجموعہ پھیلتا چلا گیا۔ سفینہ بہزاد نے اپنی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے سر اٹھایا اور سفید روئی کے گالوں کو سرمئی آسمان پر پیر پھیلانے کی کوشش میں مصروف پایا۔ چمکدار جھلملاتی شعاعوں کی تپش نے نرم پڑتے ہوئے کئی رنگوں کو اپنے بس میں کرلیا تھا۔ سفینہ نے سستی سے جان چھڑاتے ہوئے ٹھٹھرتے گداز وجود کو سیاہ گرم شال میں لپیٹا اور گھر کے عقبی حصے کی جانب بڑھ گئی۔ اس بار اس کے مزاج پر سرما کی دھندلی صبحوں اور اداس شاموں کا جادو بھی نہ چل پایا، شاید دل کا موسم ناخوش تھا، اسی لیے فطرت کا حسن بھی اثر انداز نہیں ہو رہا تھا۔ آسمان پر کئی رنگوں کے ملاپ سے بے حد خوب صورت اور جاذب نظر منظر اپنا نقش و نگار چھوڑ گئے۔ سفینہ نے کیاری کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے، ایک بار پھر نگاہ اٹھائی، فطرت کی دلکشی آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی مزاج میں پھیلی ترشی کو کم نہ کرسکی۔ دیوار کے ساتھ پھیلی خودرو بیل پر چھوٹے چھوٹے پھول اسے بہت کچھ یاد دلاگئے۔
فائز ہمیشہ ان ننھے رنگ برنگ پھولوں کو چوٹی کے ایک ایک بل میں سجانے کی فرمائش کرتا اور وہ منہ چڑا کر بھاگ جاتی تھی، موسم سرما کی گلابی شام، زردی مائل پڑتی خودرو بیل، کہیں کہیں چھومتے ہوئے پھول اور اس کا اپنا گھلتا ہوا وجود، اب بھی سب کچھ ویسا ہی تھا۔ بس نہیں تھا تو فائز کا ساتھ، ضبط کرنے کی کوشش میں اس کے لب آپس میں پیوست ہوکر رہ گئے، آنکھوں سے سرخی چھلک پڑی۔
فائز کی یاد کے ساتھ سفینہ کا دل یوں دھڑکنے لگا، جیسے جاڑے کی خنک شامیں، یخ بستہ ہوائیں اپنے ساتھ دل کو گرما دینے والی یادوں کے ساتھ خان ہائوس کے آنگن میں آٹھہریں ہوں۔ اس نے مخروطی انگلیوں سے سوکھی بیل کو پیار سے چھوا اور گالوں پر قطار در قطار آنسو بہتے چلے گئے۔
ؤ… /…ؤ
’’بہزاد… یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘ ریحانہ نے شوہر کی پشت پر آکر اونچی آواز سے پوچھا۔
’’بس ایسے ہی۔‘‘ وہ بجھے انداز میں جواب دینے کے بعد دوسری طرف دیکھنے لگے۔
’’کمال ہے میں نے آپ کو پورے گھر میں ڈھونڈ لیا اور آپ چھپ کر یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘ وہ قدم بڑھاتی ہوئی ایک اسٹیپ اوپر آئیں اور ان کے برابر میں زینے پر بیٹھ گئیں۔
’’ہونہہ۔‘‘ وہ لاپروائی سے سر ہلا کر زمین میں جانے کیا تلاش کرنے لگے۔
’’چپ چپ سے لگ ر ہے ہیں۔‘‘ شوہر کو گہری نظروں سے دیکھنے کے بعد پوچھا۔
’’کسی سے بھی بات کرنے کا دل نہیں کررہا۔‘‘ بہزاد جو ہنوز گم صم اور خاموش لب بستہ تھے، مسلسل ہوتے سوال وجواب پر ایک دم چڑ کر بولے۔
’’ ایسا کیا ہوگیا؟‘‘ ریحانہ کا اندز اپنائیت آمیز ہوا، ان کے بازو کو پیار سے چھو کر اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا۔
’’نہیں… کچھ بھی نہیں ہوا۔‘‘ بہزاد نے کاندھے اچکا کر لاپروائی کا تاثر دینے کی کوشش کی۔
’’جب تم میری بات سمجھنے کی روا دار نہیں تو پھر تم سے کچھ نہیں کہنا۔‘‘ وہ ہرگز بھی ریحانہ سے اپنے دل کا درد بیان کرنا نہیں چاہتے تھے، دل میں سوچ کر رہ گئے۔
’’کس سوچ میں ہیں؟‘‘ ریحانہ نے کچھ دیر بعد شوہر کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی تاکہ دل کی بات جان سکیں۔
’’تمہیں میری سوچ سے کیا فرق پڑتا ہے، جائو جاکر خوشیاں منائو۔‘‘ بہزاد کے ہونٹوں نے کڑواہٹ اگل ہی دی، اعصاب کشیدہ ہوگئے تھے۔
’’ہائے کیوں بھئی مجھے کیوں بھگا رہے ہیں۔‘‘ وہ نرم پڑتے ہوئے مسکرائیں۔
’’جانتے ہوئے انجان بننا کوئی آپ سے سیکھے۔‘‘ وہ مکمل طور پر ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’جانتی تو سب کچھ ہوں مگر اتنے اچھے موسم میں کوئی اختلافی بات کرنے کا موڈ نہیں۔‘‘ ریحانہ نے خوش اسلوبی سے ٹالنا چاہا۔
’’ریحانہ… آپ میری بات کیوں نہیں مان لیتی۔‘‘ بہزاد مڑ کر بیوی کا ہاتھ تھام کر التجا کرنے لگے۔
’’ایک بار پھر سے وہ باتیں نہ چھیڑیں۔‘‘ وہ بھنائیں۔
’’دیکھو سارے اختلاف ختم ہوسکتے ہیں، اگر تم مان جائو تو۔‘‘ بہزاد نے پیار سے منانا چاہا۔
’’مجھے اس بارے میں ایک لفظ نہیں کہنا اور ناں ہی سنا ہے۔ جس کے بعد ہمارے تعلقات بھی خرابی کی طرف جانے لگتے ہیں۔‘‘ ریحانہ کے لہجے میں اضطراب سا در آیا۔
’’یعنی کہ تم نہیں مانو گی؟‘‘ بہزاد نے لمحہ بھر کو انہیں گھور کر دیکھا اور شکست بھرے انداز میں پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ مختصر جواب کے بعد ریحانہ نے ہونٹوں کو باہم بھینچ لیا، جیسے کچھ اور بول کر جھگڑا نہیں بڑھانا ہو۔
’’دیکھو بابا جان کا یہ گھر ہم سب کے لیے گھنا سایہ ہے، ویسے ہی جیسے جلال بھائی کی ذات اور تم ان دونوں سے دور کرنے پر تلی بیٹھی ہو۔‘‘ وہ بظاہر بے تاثر لہجے میں گویا ہوئے۔ مگر اندر ہی اندر غصہ ابل رہا تھا۔
’’ٹھیک ہے آپ اپنی مرضی کرلیں مگر…‘‘ ریحانہ سمجھ گئی کہ ان کے اندر کون سا بڑا طوفان پوشیدہ ہے، اسی لیے بند باندھنے کی سعی کی۔
’’آپ کے یہ اگر اور مگر مجھے بہت خوف زدہ کرتے ہیں۔‘‘ بہزاد نے مڑ کر بیوی کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اپنے خدشے کا اظہار کیا۔
’’سفینہ کو فائز کے ساتھ بیاہنے کے ساتھ ساتھ مجھے دفنانے کا بھی انتظام کر رکھئے گا۔‘‘ وہ بڑے مضبوط اور سخت انداز میں بول کر رکی نہیں اٹھ کر اندر کی طرف چل دیں۔
’’یہ… عورت…‘‘ بہزاد نے دکھ سے انہیں جاتا دیکھا، پھر بے جان لاشے کی طرف سن سے بیٹھے بیوی کی بات پر دہلتے رہے۔
ؤ… /…ؤ
سائرہ کے لیے زندگی کا ایسا پہلو، چبھنے لگا تھا۔ جس میں جلال خان بے بسی کی تصویر بنے ایک جگہ لیٹے خلائوں میں جانے کیا کیا تلاش کرتے رہتے، وہ اپنے حسین ماضی میں کھو جاتیں۔ انہیں لگتا جیسے وہ ساری باتیں خواب جیسی ہوں۔ اس وقت جن باتوں کو انہوں قابل اعتناء نہیں جانا، اب دل کے نزدیک محسوس ہوتیں۔ ایک وقت تھا جب وہ سر اٹھا کر ریحانہ کی زندگی میں ستم توڑتیں، کبھی ساس کو ورغلاتی، کبھی شوہر کو بھائی کی فیملی سے ملنے جلنے سے منع کرتیں، ایسا کرتے ہوئے انہیں کبھی شرمندگی نہ ہوئی نہ ہی ان کی روح کانپتی تھی مگر آج شوہر کی کسمپرسی انہیں رلا دیتی، ان کے مزاج میں خودبخود گداز در آیا تھا، ان کا اکلوتا بیٹا فائز جلال‘ دادا کا لاڈلا، چاچا کا دلارا، غم تو اسے چھو کر بھی نہ گزرا تھا، بڑی ہمت سے ایسے مسائل سے لڑ رہا تھا، جو کسی حد تک ان کے پیدا کردہ تھے۔ فائز کے لیے ان کی آنکھوں نے بڑے بڑے خواب دیکھے تھے، وہ کتنا چپ چپ اور اداس رہنے لگا تھا، اس کے قہقہے، شوخیاں، ہنسی مذاق، وقت کی دھول میں کہیں کھو گئے تھے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اسے واپس نہیں لاسکتی تھیں۔ فائز نے حالات سے مجبور ہوکر اپنی اعلی تعلیمی اسناد کو ایک طرف رکھ دیا اور ایسی ملازمت کے لیے حامی بھرلی جو اس کی قابلیت سے میل نہیں کھاتی تھی۔ ماضی کی باتیں خیالوں میں گھومتی تو آنکھیں نم ہوجاتیں۔ خان ہائوس میں گزارے گئے وہ بھرپور دن جب انہوں نے ایک ایک لمحے سے خوشیوں کا رس کشیدا تھا، سب کچھ یاد کرکے منہ سے سرد آہ نکل جاتی۔ سائرہ نے ہونٹ چباتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔ ان سے گھر کے دونوں مردوں کی اداس اور زندگی سے بے رغبتی دیکھی نہ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ دنیا میں ایک ہی لڑکی ہے جو انہیں واپس جینے پر مجبور کرسکتی ہے اور وہ ہے سفینہ بہزاد۔
’’میں ایک اور کوشش کرتی ہوں۔‘‘ سائرہ نے دماغ لڑایا اور کھڑی ہوگئی۔ اس کے بعد سب سے چھپ کر دیور کو کال ملائی اور دفتر سے واپسی پر اپنے میکے بلوایا۔ بہزاد نے پہلے تو کئی بہانے بنانے کی کوشش کی مگر آگے سے سائرہ تھیں، ایک نہ چلنے دی تو آنے کی حامی بھرلی۔
ؤ… /…ؤ
’’روشنی بیٹا… آنکھیں کھولو۔‘‘ وہ بے اختیار چلایا۔
’’ہائے ہائے کیا ہوگیا میری بچی کو؟‘‘ عشو اماں یوں اندر داخل ہوئیں، گویا باہر منتظر کھڑی تھیں۔
’’پتا نہیں اماں۔‘‘ آفاق کو خود بھی سمجھ میں نہیں آیا، ان کو کیا بتاتا۔
’’کافی دنوں سے میری بچی ٹینشن میں ہے۔ ایسا تو ہونا ہی تھا۔‘‘ عشو نے بات کو مزید گھبیر بنانا چاہا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ آفاق نے مڑ کر عائشہ بیگم کو گھورا تو وہ دبک گئیں۔
’’روشنی… چندا آنکھیں کھولو۔‘‘ اس نے بہن کے ساکت وجود کو ہلانے جلانے کی کوشش کی۔
’’پانی کے چھینٹے مارو۔‘‘ عشو نے پاس پڑے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر اسے پکڑایا مگر وہ اپنے حواسوں میں کہاں تھا بہن کو تکتا رہا۔
’’ہمت کرو… اٹھ کر بھائی کو دیکھو بیٹا۔‘‘ عشو نے روشنی کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو اس کی پلکیں لرز اٹھیں۔
’’اماں… روشنی کو سہارا دیں۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں۔‘‘ آفاق نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے ایک طرف سے تھاما۔
’’ہاں یہ بہتر رہے گا۔‘‘ عشو نے دوسری طرف سے تھام کر اٹھایا اور بولیں۔
’’یہاں بٹھائیں۔ میں گاڑی نکالتا ہوں۔‘‘ آفاق نے لان میں بنی سنگ مرمر کی بنچ پر سہارا دے کر بٹھایا اور کار پورچ کی طرف بڑھا۔
’’بیٹا… جیسا میں نے سمجھایا تھا ویسا ہی کرنا۔‘‘ عائشہ نے آفاق کو دور جاتا دیکھا تو موقع دیکھ کر روشنی کا ہاتھ دبا کر کچھ سمجھانا چاہا۔
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے غیر محسوس انداز میں ایک بار آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا اور سر ہلا کر دھیرے سے بولی اس کے بعد فوری طور پر آنکھیں موند لیں۔ آفاق لان کے نزدیک گاڑی پارک کرنے کے بعد تیز قدموں سے ان کی جانب آرہا تھا۔
ؤ… /…ؤ
بہزاد نے تو بیٹھتے ہی ایک ایسا دھماکا کیا کہ ان کے ہی پرخچے اڑ گئے وہ تو دیور سے اپنے زخموں پر مرہم رکھنے کی امید رکھتی تھیں مگر انہوں نے تو خان ہائوس بیچنے کی بات کرکے ایک اور چرکا لگا دیا تھا۔ پہلے تو وہ ہک دک سی انہیں دیکھتی رہیں پھر برس اٹھیں۔
’’تم لوگوں پر ایسی کون سی فقیری آگئی ہے، جو ابا جان کی جائیداد بیچنے کی نوبت آگئی۔‘‘ وہ بری طرح سے چلائیں۔
’’بھابی… میں اس گھر کو بیچنے کے حق میں تو نہیں تھا مگر اب ایسی مشکل آن پڑی ہے۔‘‘ بہزاد نے نگاہیں چراتے ہوئے کہا۔
’’مجھے بھی تو پتا چلے ایسے کون سے مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں؟‘‘ ان کا لہجہ طنز میں بھیگا ہوا تھا۔
’’سفینہ کا رشتہ ایک بڑے گھر میں طے پاگیا ہے، شادی کے انتظامات بھی اسی حساب سے کرنے ہوں گے اور میری آمدنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔‘‘ وہ دیوار کی جانب دیکھتے رہے، نگاہیں ملانے کی جرأت نہ تھی۔
’’میرے بھائی… اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ سفینہ اور فائز کی شادی کردو۔‘‘ وہ بولتے بولتے تھم کر دیور کے تاثرات جانچنے لگیں۔
’’ہاں یہ تو ہے…‘‘ وہ بھی کچھ کہتے کہتے رکے۔
’’ارے میں کہتی ہوں ساری مشکل پل میں آسان ہوجائے گی۔‘‘ سائرہ کے لہجے میں امید جاگی تو جوش سے بولیں۔
’’میرے لیے اس سے اچھی بات اور کیا ہوتی مگر اب یہ ممکن نہیں۔‘‘ بہزاد نے سر کھجاتے ہوئے دکھی انداز میں کہا۔
’’کیوں اب میرے بیٹے میں کون سے کیڑے نکل آئے ہیں؟‘‘ سائرہ نے بھنویں اچکاتے ہوئے تیز لہجے میں پوچھا۔
’’نہیں… نہیں یہ بات نہیں۔‘‘ بہزاد کے لیے ان کے سوالات کے جواب مشکل ہوگئے تو انہیں ٹالنا چاہا۔
’’اچھا تو پھر کون سی بات ہے وہ ہی بتادو؟‘‘ سائرہ پیچھا چھوڑنے والی نہیں تھی، کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کمر پر ہاتھ رکھ کر بولیں، بہزاد نے سرد آہ بھری اور نگاہیں چرائیں۔
ؤ… /…ؤ
سفینہ کی بھوری چمک دار آنکھیں کسی غیر مرئی نقطے پر جاکر مرکوز ہوگئیں، دماغ میں مسلسل ایک ہی بات گردش کررہی تھی، چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔ اس کی ’’خان ہائوس‘‘ بیچنے پر ماں سے بہت بحث ہوچکی تھی مگر ریحانہ اپنے موقف سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔
ایک ہی بات سوچ سوچ کر سفینہ کا دماغ کھولنے لگا۔ ماں کا ظالمانہ فیصلہ پہلے ہی اس کے وجود پر ایک کوڑے کی طرح برسا اور کئی جگہ ان دیکھے گھائو چھوڑتا چلا گیا اس کے بعد اس گھر سے جدائی اس کے لیے سوہان روح تھی۔ کیا‘ کیا نہیں تھا یہاں، دادا ابا کی خوشبو، دادی اماں کی محبتیں، فائز اور اس کے بچپن کی شرارتیں، تائی اماں کی کھٹی میٹھی باتیں تو تایا جان کے مشفقانہ انداز اس کے سارے اثاثے تو گھر کی ایک ایک اینٹ تلے مدفون تھے، پھر وہ کیسے کسی غیر کے پیروں تلے روند کر ان کی بے حرمتی ہونے دیتی۔ اس نے ایک بار پھر ماں کو سمجھانے کی ٹھانی اور اندر کی جانب قدم بڑھائے مگر ماں کو دیکھ کر منہ سے الفاظ نہ نکلے وہ بری طرح سے سسک کر رو پڑی۔ ریحانہ نے تڑپتے ہوئے اسے سینے سے لگایا اور وجہ پوچھتی رہ گئیں۔ اس کی سسکیاں ہچکیوں میں ڈھل گئیں۔ ماحول بے حد سوگوار مایوس کن اور رنجیدہ ہونے لگا، بیٹی کی حالت پر‘ ریحانہ کی جان پر بن آئی۔ وہ اس سے رونے کی وجہ پوچھتی رہ گئیں آخر سفینہ نے منہ کھولا تو ان کو چپ لگ گئی۔
ؤ… /…ؤ
’’اب چپ کیوں ہوگئے، کچھ تو بولو۔‘‘ سائرہ کا تجسس عروج تک جا پہنچا تو دیور کو چونکایا۔
’’بس میں نہیں چاہتا کہ رشتوں کے بیچ مزید دڑاریں پڑ جائیں۔‘‘ بہزاد نے کچھ سوچا اور پھر بات بدل ڈالی۔
’’بہزاد اور کسی کا نہیں تو اپنے بیمار بھائی کا ہی خیال کرلو۔‘‘ سائرہ نے انا کو ایک طرف رکھ کر دیور کو سمجھانے کی کوشش کی۔
’’میرا بس چلے تو مگر…‘‘ وہ افسوس سے سر ہلانے لگے۔
’’اچھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم خود نہیں چاہتے؟‘‘ سائرہ کا لہجہ بجھ سا گیا۔
’’نہیں… نہیں… ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ جلدی سے تردید کر بیٹھے۔
’’یہ نہیں وہ نہیں تو پھر بات کیا ہے؟‘‘ سائرہ کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
’’بھابی… اس بار ریحانہ اڑ گئی ہے۔‘‘ بہزاد نے ہاتھ ملتے ہوئے شرمندہ لہجے میں سچائی اگل دی۔
’’اس بات کا اندازہ تو مجھے اسی وقت ہوگیا تھا جب میں تاریخ طے کرنے گئی تھی۔‘‘ سائرہ کو وہ بھسم کردینے والا لمحہ یاد آیا۔
’’بس اسی لیے میں نے سفینہ کی شادی غیروں میں کرنے کی ٹھانی ہے۔‘‘ بہزاد کا شکست خوردہ انداز انہیں ایک آنکھ نہ بھایا۔
’’اوہ… تو یہ بولو کہ تم مکمل طور پر جورو کے غلام بن گئے ہو۔‘‘ سائرہ نے یوں دانت کچکچائے، جیسے ریحانہ کو چبا رہی ہوں۔
’’نہیں مگر زندگی میں پہلی بار اس نے مجھ سے کچھ مانگا ہے۔‘‘ بہزاد نے نہ چاہتے ہوئے بھی بیوی کا دفاع کیا۔
’’پہلی بار مانگا بھی تو کیا، جس نے ہم سب کا چین وسکون چھین لیا۔‘‘ وہ جل بھن گئیں۔
’’بھابی… پلیز اس طرح ہم سب سکون سے جی سکیں گے۔‘‘ بہزاد نے اٹھتے ہوئے سمجھایا۔
’’ہمیں اذیت میں مبتلا کرنے کے بعد صرف تمہاری بیگم ہی سکون سے جی سکے گی۔‘‘ سائرہ نے دانت بھینچ کر کہا۔
’’جو بھی ہے اب اس بات کو ختم سمجھیں اور مجھے اجازت دیں۔‘‘
’’ریحانہ پر سختی کیوں نہیں کرتے؟‘‘ وہ بھڑکانے پر اتر آئیں۔
’’سب کرکے دیکھ لیا مگر بیکار ثابت ہوا، الٹا میں ہی اس کے آگے ہار گیا ہوں۔‘‘ وہ سرد آہ بھر کر بولے اور قدم بڑھائے۔
’’ایسی بھی کیا مجبوری ہے جو تم اپنے باپ جیسے بھائی کا بھی خیال نہیں کررہے؟‘‘ سائرہ نے پیچھے سے آواز لگا کر جذباتی طور پر بلیک میل کرنا چاہا، بہزاد کے قدم جیسے زمین پر جم کر رہ گئے۔
’’جی؟‘‘ وہ انہیں اصل بات کیسے بتاتے، انہیں تکتے رہ گئے۔
ؤ… /…ؤ
آفاق کو کچھ پتا نہ چلا وہ تو ایمرجنسی کی کیفیت میں اسے گاڑی میں ڈال کر فیملی ڈاکٹر انور خان کے کلینک بھاگا۔ وہاں جاکر پتا چلا کہ پریشانی کی تو ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ مکمل چیک چپ کے بعد سب کچھ نارمل نکلا۔ روشنی بھی ہوش میں بیٹھی ان کی ہدایت غور سے سن رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہی ڈاکٹر انور نے مسکرا کر انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے باوجود روشنی طبیعت خرابی کی دہائی دیتی رہی۔ آفاق کی تسلی نہ ہوسکی تو گھبرا کر بہن کے ڈھیر سارے ٹیسٹ کروانے کے لیے ڈاکٹر انور پر زور دیا۔ ان کا کیا جاتا تھا پیسے بنانے کے لیے ڈھیر سارے ٹیسٹ لکھ ڈالے۔ ٹیسٹ ہوتے گئے اور ایک کے بعد ایک ہر چیز اوکے ہوتی چلی گئی۔ آفاق حیران رہ گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو روشنی کس لیے اتنی ہاہا کار مچا رہی ہے۔ وہ روشنی کو بنچ پر بٹھا کر ایک بار پھر ڈاکٹر انور سے بات کرنے اندر آیا۔
’’دیکھو آفاق۔ مجھے لگتا ہے کہ بچی کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے پین میز پر مارتے ہوئے بولے۔
’’ڈاکٹر صاحب آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ بوکھلایا۔
’’میں یہ سمجھانا چاہ رہا ہوں کہ روشنی ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہے مگر وہ…‘‘ وہ ایک دم سے کچھ کہتے کہتے رک گئے۔
’’جی وہ تو رپورٹس بتارہی ہیں۔‘‘ آفاق نے سر ہلا کر اتفاق کیا۔
’’اس کے باوجود وہ جو بلاوجہ بیمار ہونے کی ایکٹنگ کررہی ہے تو…‘‘ ان کی پُرسوچ نگاہیں خلاء میں معلق ہوئیں۔
’’بیماری کی ایکٹنگ۔‘‘ وہ بھونچکا رہ گیا۔ اسے روشنی سے ایسی باتوں کی امید نہ تھی۔
’’ہاں میرا یہ ہی مطلب ہے۔‘‘ آفاق کے چہرے کے رنگ اترتے دیکھ کر انہیں خاموش ہونا پڑا، معاملہ حساس تھا، اسی لیے وہ بہت زیادہ بولنا نہیں چاہ رہے تھے۔
’’وہ ایسا کیوں کرے گی اسے بھلا کس چیز کی کمی ہے۔‘‘ آفاق نے سوال کیا۔
’’شاید کوئی نفسیاتی گرہ ہے یا تمہاری مکمل توجہ حاصل کرنے کے لیے ہوسکتا ہے کسی کے کہنے میں آکر…‘‘ ڈاکٹر انور نے اس کے سامنے تین آپشن رکھے اور سوچ کے نئے در وا کردیئے۔
ؤ… /…ؤ
’’امی… یہ بہت بڑا ظلم ہوگا۔‘‘ سفینہ نے ماں کا ہاتھ تھام کر لجاحت سے پھر سمجھانا چاہا۔
’’ایسا کون سا غضب ہونے جارہا ہے، جو تم نے ماں کو ظالم قرار دے دیا ہے۔‘‘ ریحانہ نے مٹر چھیلنا چھوڑ کر جواب دیا۔
’’آپ کو احساس ہی نہیں کہ کیا ہونے جارہا ہے؟‘‘ اس نے ماں کے پیروں کے پاس بیٹھ کر پوچھا۔
’’میں بے حس نہیں ہوں سفی۔‘‘ ریحانہ نے بیٹی کے گالوں کو چومتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔
’’پھر پے در پے کیوں ظالمانہ فیصلے کرتی چلی جارہی ہیں؟‘‘
’’میری جان… جو بھی ہونے جارہا ہے اس میں تمہاری بھلائی چھپی ہوئی ہے۔‘‘ وہ محبت سے چور لہجے میں بولیں۔
’’مجھے ایسی بھلائی نہیں چاہیے، جو میرے جسم سے روح کھینچ لے۔‘‘
’’سفی… خیر کے جملے منہ سے نکالو۔‘‘ ریحانہ کو بھی تپ چڑھی۔
’’کوئی خیر کی خبر ملے تب نا۔‘‘ اس نے گلابی لبوں کو بے دردی سے کاٹا۔
’’سفی… تم ابھی ناسمجھ ہو مگر بعد میں تمہیں میری ہر بات کی سمجھ آئے گی۔‘‘
’’امی… صرف ایک بات مان جائیں‘ یہ گھر نہ بیچیں۔‘‘
’’ماننے والی بات ہوتی تو ضرور مانتی۔‘‘ سفینہ کی منت سماجت خاطر میں نہ لاتی ہوئی وہ اڑ گئیں۔
’’اس بات کے ماننے میں کیا مشکل ہے؟‘‘
’’سفی… ہر بات منہ سے کہنے کی نہیں ہوتی، کچھ چیزیں سمجھنے کی ہوتی ہیں۔‘‘
’’مجھے پھر بھی جاننا ہے۔‘‘ وہ ایک دم ضد پر اتر آئی۔
’’تمہاری دھوم دھام سے شادی کے لیے ہمیں اس گھر کو بیچ کر اپنا حصہ لینا پڑے گا۔‘‘ ریحانہ کی آواز میں لرزش پیدا ہوئی۔
’’اگر یہ بات ہے تو مجھے نہیں کرنی شادی۔‘‘ وہ ایک دم تپ گئی۔
’’یہ بات دوبارہ مت کہنا سفی۔‘‘ ریحانہ ہونق ہوگئی۔
’’امی… تو پھر نکال دیں یہ خیال دل سے ہمیشہ کے لیے۔‘‘ سفینہ چلائی وہ اپنے ارادے سمیت ان کے سامنے عیاں ہوگئی تھی۔
’’ہم اِسی آس میں تو جی رہے ہیں تمہیں محفوظ ہاتھوں میں سونپ کر خود سکون سے آنکھیں موند سکیں۔‘‘ ریحانہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’امی… ایسے نہ کہیں۔ اللہ آپ دونوں کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم رکھے۔‘‘ سفینہ کو لگا جیسے کسی نے کلیجہ نوچ لیا ہو، ناراضی سے ماں کو دیکھا۔
’’سفینہ… تم ہماری اکلوتی بیٹی ہو۔ آج ہم میاں بیوی کو کچھ ہوجائے تو تمہارا کیا بنے گا کبھی سوچا ہے۔‘‘ ریحانہ نے بڑی سنجیدگی سے تلخ سچائی بتائی۔
’’یہ بھی حقیقت ہے کہ جو کچھ ہونے جارہا ہے وہ مجھے زندہ درگور کردے گا۔‘‘ سفینہ نے ماں کو دیکھ کر آنسو بہاتے ہوئے کہا۔
’’تم سمجھ کیوں نہیں رہیں کہ زندگی میں اتنی آسانیاں کہاں ہوتی ہیں کہ ہر خواہش پوری ہوجائے۔‘‘ انہوں نے چپکے چپکے آنسو بہاتے ہوئے اسے سمجھانے کا فریضہ جاری رکھا۔
’’یہی تو میں بھی آپ کو سمجھانا چاہ رہی ہوں امی… زندگی میں پہلے ہی آسانیاں کم ہیں، اللہ کے واسطے مشکلات میں اضافہ نہ کریں۔‘‘ اس کے پاس بھی ایک سے بڑھ کر ایک جواب موجود تھا۔
ؤ… /…ؤ
واپسی کے سفر میں سرمئی شام ساتھ چل پڑی۔ ڈاکٹر انور کے کلینک سے فراغت پانے کے بعد وہ خاموشی سے باہر کی طرف بڑھا، روشنی کو بھائی کے مزاج میں پیدا ہونے والا بدلائو پریشان کر گیا۔ اس کی معنی خیز خاموشی سے وہ تھوڑا گھبرائی اور پھر اس کا موڈ بھی آف ہوگیا۔
آفاق کو شہر میں جاری کھدائی کی وجہ سے متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا جو ذرا طویل تھا وہ چڑ گیا۔ اس پر جگہ جگہ ٹریفک جام کی وجہ سے وقت کا ضیاع… اس نے اسٹیئرنگ پر جھنجھلا کر ہاتھ مارا۔ روشنی نے گردن اچکا کر بھائی کو دیکھا، جس کے چہرے پر بیزاری کی چھاپ واضح دکھائی دے رہی تھی۔ کچھ نیا تو نہیں ہوا تھا، مگر اس کا ذہنی الجھائو اس نہج تک جا پہنچا کہ ہر چیز تکلیف دے رہی تھی۔ روشنی کا بلاوجہ کا شور مچانا جہاں ڈاکٹر انور کو حیرت زدہ کر گیا تھا۔ وہیںآفاق کو بھی بہت کچھ سمجھا گیا۔ اس کے دماغ میں اسریٰ خالہ کی باتیںگونج اٹھیں۔ روشنی کے عمل نے ہر بات کی تصدیق کی اور وہ دکھی ہوکر چپ سا رہ گیا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے مڑ کر عقبی سیٹ پر نیم دراز حالت میں بیٹھی روشنی کو دیکھا جو کہیں سے بھی بیمار دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ البتہ تھک تو وہ گیا تھا صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی تھکان اس کے اعصاب پر سوار ہوتی جارہی تھی۔ خیالوں میں وہ لمحہ چمکا اور اس کے ہاتھ کپکپا اٹھے وہ کتنا ڈر گیا تھا۔ جب روشنی اچانک بے ہوش ہوکر اس کی بانہوں میں جھول گئی تھی۔
خلاف مزاج آفاق نے بھی پورے راستے بڑی خاموشی سے ڈرائیونگ کی۔ اس کا دماغ سائیں سائیں کررہا تھا۔ روشنی جیسی معصوم لڑکی کس کے کہنے میں آکر ایسا کررہی ہے، وہ اچھی طرح سے جان چکا تھا، اس کے اندر خوف کی ایک نئی کیفیت پیدا ہونے لگی۔
’’بھائی… بات سنیں۔‘‘ روشنی نے تکلیف دہ خاموشی سے بچنے کے لیے بھائی کو مخاطب بھی کیا پر آفاق کی سوچوں کا تسلسل پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا۔ وہ کسی اور کی طرف متوجہ ہوتا بھی تو کیسے۔ زندگی میں پہلی بار بہن کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے گاڑی چلانے میں مشغول رہا۔
’’عشو اماں… ٹھیک کہتی ہیں بھائی بدل گئے ہیں۔‘‘ روشنی کی ذہنی رو منفی سمت مڑ گئی آنکھیں بھر آئیں۔
’’چلو اترو۔‘‘ وہ تھوڑا روڈ لہجے میں گویا ہوا۔ گھر پہنچنے کے بعد روشنی کو تھام کر گاڑی سے اتارنے کا مرحلہ پیش آیا۔
’’ہائے میری بچی آگئی۔‘‘ بیل بجاتے ہی عشو اماں بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوئیں اور بڑھ کر روشنی کو سنبھالا۔
’’سب ٹھیک رہا نا۔‘‘ عشو جانے کیا جاننا چاہتی تھی، مخفی انداز میں روشنی کا ہاتھ دباکر پوچھا۔
’’اماں… میں اب ٹھیک ہوں۔‘‘ روشنی نے اشارے میں مزید کچھ پوچھنے سے روکا۔
’’ہونہہ۔‘‘ عشو نے سر ہلایا اور دونوں نے معنی خیز انداز میں ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ آفاق کی نگاہوں سے ان کے تاثرات چھپے نہ رہ سکے، اس کا دل بری طرح سے خراب ہونے لگا۔ روشنی عائشہ بیگم کا سہارا لیے ہوئے اندر کی جانب چل دی۔ آفاق نے بڑے دکھ بھرے انداز میں ان دونوں کو جاتے ہوئے دیکھا اور اسریٰ کو فون ملا کر سارا واقعہ گوش گزار کرنے لگا۔
ؤ… /…ؤ
’’جائو نہ کرو شادی… پھر بھی میں یہ فیصلہ بدلنے والی نہیں۔‘‘ ریحانہ اپنے فیصلے پر ڈٹی کھڑی رہیں۔
’’ٹھیک ہے… میں بھی دیکھتی ہوں کہ ایسا کیسے ہوتا ہے۔‘‘ وہ دھمکی دینے کے بعد پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی جانب دوڑی۔
’’اس لڑکی کا تو دماغ ہی خراب ہوگیا ہے۔‘‘ ریحانہ بیٹی کے ایسے رد عمل پر گھبرا گئیں۔
’’سفی… ایک منٹ بات سنو۔‘‘ پیچھے سے اسے پکارا۔
’’مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔‘‘ اس نے ماں کی پکار کو نظر انداز کرتے ہوئے سوچا اور کھٹاک سے کمرہ بند کرلیا۔
’’امی… اتنی منتوں کے بعد بھی اپنا فیصلہ نہیں بدل رہی۔‘‘ سفینہ کو ایک یہ ہی غم کھائے جارہا تھا۔
’’فائز سے جدائی کا دکھ کم تھا جو۔ اس کے ساتھ اب یہ دادا ابا کی نشانی بیچنے کا نیا قصہ کھڑا ہوگیا۔‘‘ وہ سر تھام کر بستر پر گر گئی۔
’’ایسا صرف ایک میری ذات کے لیے کیا جارہا ہے۔‘‘ اسے خود سے نفرت محسوس ہوئی۔
’’میں اس بات کے لیے خود کو کبھی معاف نہیں کرسکوں گی۔‘‘ وہ منہ میں تکیہ ٹھونس کر چلائی۔
غصہ جنون کی شکل اختیار کر گیا تو بے اختیار ہاتھ ہلایا جو پاس پڑے گل دان سے جا ٹکرایا۔ شیشے کا پاٹ تھا چھناکے کے ساتھ میز سے گر کر ٹوٹ گیا اور زور کی آواز پیدا ہوئی، کرچیاں دور دور تک بکھرتی چلی گئیں۔ دروازے سے کان لگائے کھڑی ریحانہ کے سینے میں سانس اٹک کر رہ گئی۔
ؤ… /…ؤ
’’بھابی… چھوڑیں نہ۔‘‘ وہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے۔
’’نہیں اب تو تمہیں بتانا پڑے گا۔‘‘ سائرہ ڈٹ گئیں۔
’’بس ہے ایک ایسی بات جو میں اس حد تک مجبور ہوگیا ہوں۔‘‘ بہزاد نے سر کھجایا۔
’’ہاں… ہاں تو میں بھی اسی بارے میں پوچھ رہی ہوں۔‘‘ وہ بدمزا ہورہی تھیں۔
’’ریحانہ نے دھمکی دی ہے…‘‘ بہزاد کچھ کہتے کہتے تھم گئے۔
’’دھمکی… کیسی دھمکی؟‘‘ وہ چونک کر سوال کر بیٹھیں۔
’’ریحانہ نے کہا ہے کہ اگر فائز اور سفینہ کی شادی ہوئی تو وہ نکاح کے وقت خود کو آگ لگالے گی۔‘‘ بہزاد نے جھلا کر سچ بول دیا۔
’’کیا…! یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ ان کے منہ سے چند سرسراتے الفاظ نکلے۔
’’جی میں سچ بول رہا ہوں۔ وہ صرف ایسا بول نہیں رہی کرکے بھی دکھائے گی۔‘‘ بہزاد نے سر جھکا کر کہا۔
’’ریحانہ اس حد تک چلی جائے گی مجھے یقین نہیں آرہا؟‘‘ سائرہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’آہ… پتا نہیں اسے ہو کیا گیا ہے اس معاملے میں کچھ سننے کو تیار نہیں۔‘‘ بہزاد نے دہلیز پر رک کر سائرہ کو دیکھا اور باہر نکل گئے۔
’’ریحانہ بیگم تم نے میرے اندر کی ضدی عورت کو جگا دیا ہے۔‘‘ سائرہ لمحے بھر کو ہک دک رہ گئیں پھر پیر پٹخ کر بولیں۔
’’دیوارنی جی… اب تم خودکشی تو کرو گی مگر سفینہ اور فائز کی شادی کی خوشی میں۔‘‘ سائرہ نے دانت کچکچا کر کہا اور ذہن میں تانا بانا بننے لگیں۔
ؤ… /…ؤ
’’یہ لڑکی تو بہت ہی ضدی ہوگئی ہے۔‘‘ ریحانہ بیٹی کی حرکت پر چکرا کر رہ گئیں۔
’’سفی… سفی…‘‘ آوازیں دیں، کتنے چکر اس کے کمرے کے لگالیے۔
’’میری بچی اپنی ماں کی بات تو سنو۔‘‘ محبت سے پچکارا، پیار سے پکارا۔
’’میں کہتی ہوں کھولو دروازہ ورنہ۔‘‘ تھوڑا غصہ بھی دکھایا مگر اس کی خاموشی نہ ٹوٹی۔
’’توبہ… توبہ کیا زمانہ آگیا ہے۔‘‘ گال پیٹتی ہوئی وہاں سے ہٹ گئیں۔
’’کہیں بے ہوش تو نہیں ہوگئی جو کوئی جواب نہیں دے رہی۔‘‘ یہ ہی سوچ کر وہ کئی بار دروازہ بجا چکی تھیں۔
’’اللہ اب میں کیا کروں؟‘‘ کان لگائے مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا مسلسل پانی گرنے کی آواز باہر تک آرہی تھی تھوڑا اطمینان ہوا۔
’’یہ بہزاد کہاں رہ گئے سب مل کر تنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔‘‘ ریحانہ نے کچھ دیر بعد گھڑی پر نگاہ ڈال کر سر پر ہاتھ مار کر کہا۔
’’سفی جان… بات نہ کرو مگر دروازہ تو کھولو۔‘‘ ایک بار پھر دہائی دی مگر جواب ندارد۔
’’یہ لڑکی تو باپ کے قابو میں ہی آسکتی ہے۔‘‘ انہیں سفینہ کی اس حرکت سے خوف محسوس ہوا۔
ؤ… /…ؤ
’’اے میں کہتی ہوں دل کو چین پڑگیا؟‘‘ دلشاد بانو نے صحن میں داخل ہوتے ہی طنزیہ لہجے میں بیٹی سے پوچھا۔
’’کس کے دل کو چین ملا ہے اماں۔‘‘ سائرہ کا لہجہ تھکا تھکا سا تھا۔
’’اے تجھ کو اور کس کو اپنی دیورانی کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بعد؟‘‘ انہوں نے مسکرا کر تپایا۔
’’اچھا تو اب آپ زخموں پر نمک چھڑکنے آئی ہیں۔‘‘ وہ بھی دبنگ انداز میں مڑ کر بولیں۔
’’نہیں بچی تیری آنکھیں کھولنے آئی ہوں۔‘‘ انہوں نے تھوڑا سنبھل کر جواب دیا۔
’’اماں مجھے کسی مشورے کی ضرورت نہیں۔‘‘ سائرہ جو پہلے ہی جلی بھنی تھی کمر پر ہاتھ رکھ کر چیخ پڑی۔
’’اے لو کسی کا غصہ کسی پر اتار رہی ہے۔‘‘ دلشاد بیگم بھی تپ گئیں۔
’’تو اور کیا کروں؟‘‘
’’میں تو کہتی ہوں لعنت بھیج دے ان سب پر اور شرمیلا سے رشتہ جوڑ لے۔‘‘
’’اماں پلیزز بس کردیں۔‘‘ سائرہ نے ماںکے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔
’’سچ تو بول رہی ہوں کھڑے کھڑے فائز کا نکاح پڑھوا دے۔‘‘ وہ راز بھرے انداز میں بولیں۔ ’’دیکھنا تو تیرے دیور کے منہ پہ کیسا جوتا پڑے گا۔‘‘
’’کس سے نکاح پڑوائوں؟‘‘ ماں کی بات پر سائرہ نے غائب دماغی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’اے لو اوپر والی شرمیلا سے اور کس سے۔‘‘ دلشاد بانو نے انگلی سے اوپر کا اشارہ کیا۔
’’اماں سوچ سمجھ کر بات کریں۔‘‘ سائرہ کو تو پتنگے لگ گئے۔
’’آئے کیوں؟‘‘ دلشاد نے منہ میں انگلی دبائی۔
’’شرمیلا کے لچھن آپ کی نگاہوں سے مخفی ہوں گے مگر میں سب جانتی ہوں۔‘‘ سائرہ نے انکشاف کیا۔
’’ہائیں اس نے ایسا کیا کردیا جو تو اس کے پرخچے اڑانے پر تل گئی ہے۔‘‘ انہوں نے سر پر ہاتھ رکھ کر حیرت سے پوچھا۔
’’اماں میرا منہ نہ کھلوائیں آپ کی آنکھیں بند ہوں گی مگر میری کھلی ہیں۔‘‘ وہ منہ بگاڑ کر بولیں۔
’’توبہ ہے… میں نہیں مانتی اتنی معصوم بچی ہے۔‘‘ دلشاد بانو نے کلے پیٹ کر نفی میں سر ہلایا۔
’’مجھے نہ جھٹلائیں۔ اب کی بار اوپر جائیں تو بتول آپا سے پوچھئے گا کہ ان کی بیٹی کس امیر زادے کے ساتھ گاڑی میں گھومتی پھرتی ہے۔‘‘ سائرہ نے گرم شال کو کاندھے پر ڈالا اور اندر کی جانب بڑھتے ہوئے زور سے کہا۔ سیڑھیاں اترتی ہوئی شرمیلا نے چونک کر سائرہ خالہ کی اپنے بارے میں گوہر افشانیاں سنیں اور سن سی کھڑی رہ گئی۔
ؤ… /…ؤ
’’اس لڑکی نے تو میرا بڑھاپا خراب کردینا ہے۔‘‘ ریحانہ کو سچ مچ بیٹی کی حرکتوں پر جلال آرہا تھا۔
’’ایک بار یہ مکان بک جائے تو شادی کی تاریخ دے دوں۔‘‘ آخر تھک کر وہ کمرے کے سامنے لائونج میں رکھے تخت پر بیٹھ گئیں۔
’’خوب دھوم دھام سے رخصت کردوں اس کے بعد چین کی نیند سوئوں گی۔‘‘ وہ خواب بننے لگ گئیں۔
’’سفی کر کیا رہی ہے؟‘‘ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد پھر پریشانی شروع ہوئی۔
’’دیکھوں تو۔‘‘ ان کے وجود میں جنبش ہوئی بند دروازے کو سر اونچا کرکے دیکھا، کچھ نئی بات دیکھنے کو نہ ملی۔
’’بہزاد کو کال کرکے بیٹی کی حرکتیں بتاتی ہوں۔‘‘ ریحانہ کو خیال آیا تو شوہر کا نمبر ڈائل کیا۔
’’ان کو دیکھو یہ بھی فون نہیں اٹھا رہے۔‘‘ وہ تپ گئیں۔
’’بہزاد… کال تو پک کریں۔‘‘ ریحانہ نے خود کلامی کی مگر بیکار، بہت دیر تک بیل جاتی رہی مگر دوسری طرف سے کال ریسیو نہیں کی گئی۔
’’شاید راستے میں ہوں گے۔‘‘ خود کو تسلی دیتے ہوئے لائن کاٹ دی۔
سفینہ نے بہت دیر تک بستر پر پڑے رونے کے بعد خود کو بہتر محسوس کیا تو اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ماں سے ناراض تھی تو باہر سے ہونے والی کسی دستک کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا رونے کی وجہ سے آنکھوں میں جلن ہورہی تھی۔ کچھ اور سمجھ میں نہیں آیا تو واش روم میں جاکر جلتے وجود کو بہت دیر تک شاور کے نیم گرم پانی سے بھگوتی رہی۔ تھوڑا سکون حاصل ہوا تو لباس بدل کر باہر آئی اور بالوں کو تولیہ سے پونچھ کر انگلیوں سے سنوارتی ہوئی باہر کی طرف بڑھی۔ دھڑ سے دروازہ کھول دیا۔ سامنے ہی تخت پر ریحانہ نیم دراز دکھائی دیں۔ اس نے منہ پھیر لیا۔
کھٹکے کی آواز پر ریحانہ خیالات کو ایک طرف دھکیل کر حال میں واپس آئیں، کھلے کمرے سے سفینہ نکلتی دکھائی دی، وہ گیلا تولیہ باہر رسی پر ڈالنے کے لیے، ماں کے قریب سے ایسے گزر گئی جیسے ان کا وجود ہی نہ ہو، ریحانہ جل بھن کر رہ گئیں۔
ؤ… /…ؤ
’’روشنی کی سوچ ایک معصوم بچے جتنی رہ گئی ہے۔‘‘ اسریٰ نے بھانجے کو سمجھایا۔ سارا واقعہ سن کر ان سے رہا نہ گیا دوڑی چلی آئیں۔
’’ہاں… ایسا بچہ جو آگ سے کھیلنا چاہتا ہے۔‘‘ آفاق نے دبے لہجے میں شکایت کی۔
’’ہم اسے ان دیکھی آگ سے بچالیں گے۔‘‘ اسریٰ نے حوصلہ آمیز لہجے میں کہا۔
’’خالہ جانی وہ بہت دور نکل گئی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ مایوسی کی حدوں تک جا پہنچا۔
’’نہیں جان… ہم اسے سمجھالیں گے۔‘‘
’’پتا نہیں کیوں وہ ہر بات کا غلط مطلب نکال رہی ہے۔‘‘
’’میں تو تمہیں بہت دن سے یہ ہی بات سمجھانا چاہ رہی تھی۔‘‘
’’میں اپنے آپ کو اس بات کے لیے معاف نہیں کروں گا۔‘‘ لہجے میں تھکن جاگی۔
’’کس بات کے لیے؟‘‘ اسریٰ نے حیرانی سے دیکھا۔
’’آپ ہر بات جانتے ہوئے بھی یہ سوال کررہی ہیں۔‘‘ وہ بلاوجہ تنک سا گیا تو انہیں خاموش ہونا پڑا۔
’’سوری… میں کچھ زیادہ ہی اونچا بول گیا۔‘‘ اسے فورا ہی احساس ہوا تو معذرت کی۔
’’اٹس اوکے… بیٹا میں تمہاری ذہنی کشمکش سے آگاہ ہوں۔‘‘ وہ مسکرائیں۔
’’کیسا اندھیر ہے کہ روشنی گھریلو سیاست کا شکار ہوگئی اور میں بے خبر رہا۔‘‘ سپید فراخ پیشانی پر شکنوں کا جال۔ وہ بھنچی آواز میں بولا۔
’’نہیں… نہیں خالہ کی جان ایسا الٹا سیدھا مت سوچو۔‘‘ سرسری انداز میں جواب دیا۔
’’آپ جانتے بوجھتے یہ بات کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’میں ہر بات جانتی ہی نہیں بلکہ سمجھتی بھی ہوں۔‘‘ ان کے لہجے کی معنی خیزی اسے الجھا گئی۔
’’پھر بھی۔‘‘ آفاق نے مزید کچھ بولنا چاہا مگر دروازے کا پردہ ہلتا دیکھ کر چونک کر چپ ہوگیا۔
’’ایک منٹ۔‘‘ اسریٰ نے خوبرو بھانجے کو انگلی سے خاموش رہنے کو کہا اور دھیرے دھیرے دروازے کی جانب بڑھتی چلی گئیں۔
ؤ… /…ؤ
اداسیوں کے موسم میں جاڑوں کی خنکی سے بچنے کے لیے اپنے نازک وجود کو گرم شال میں لپیٹے رات دیر تک ٹہلنا سفینہ کو بہت زیادہ بھاتا تھا، ان سب باتوں سے قطع نظر کے خزائوں کا ڈیرہ اس موسم کی رعنائی نگل لیتا ہے۔ وہ اس ماہ کو نئے آنے والے سال کی امید قرار دیتی آئی تھی۔ اسی لیے جب بھی دسمبر کی آمد پر سفینہ خوشی سے جھومنے لگتی تو ریحانہ اسے خبطی قرار دیتیں۔ مگر مجال ہے جو وہ ذرا سا بھی اثر لیتی… ہنستے ہوئے ریوڑیوں کے ساتھ الائچی سے مہکتا سبز قہوہ بناکر ماں باپ کو پیش کرتی تو کبھی گاجر کا حلوہ فرمائش کرکے منگواتی۔ ان دنوں کو ہر انداز میں انجوائے کرنا اس کی عادت تھی۔
برسات میں نکھرتا گلابی سردیوں کا رنگ، چھت پر ٹہلتے ہوئے گرما گرم کافی کا کپ پیتے ہوئے فائز سے دنیا جہان کی باتیں کرنا اس کا من پسند مشغلہ تھا۔ وہ باپ یا تایا ابا کے ساتھ لان میں بیٹھ کر پھیکی پڑتی ہلکی نارنجی دھوپ سینکتی یا تخت پر بیٹھ کر ڈھیروںکینو چھیل چھیل کر نمک لگا کر خود بھی کھاتی اور ماں کو بھی کھلاتی۔ کبھی کبھی رات کے وقت تنہا چہل قدمی کرتے ہوئے زرد ہالے میں چمکتے چاند کا نظارا اس کے معمولات کا حصہ تھا۔ ایسے میں گھر لوٹتے ہوئے فائز جیبوں میں چھپا کر اس کے لیے مونگ پھلی اور چلغوزے لاتا تو وہ سنہری رخساروں پر نرم ہتھیلیاں رکھ کر بچوں کی طرح خوشی سے ناچ اٹھتی اور فائز کی پیار بھری نظروں کا حصار اس کے ارد گرد پھیلتا چلا جاتا… اس ایک لمحے میں ساری عمر گزار دینے کی خواہش اس کے من میں جاگتی مگر اب وہ لمحے کیسے لوٹ کر آئیں گے… یہ سوال اسے اذیت دے رہا تھا۔
ؤ… /…ؤ
ہوٹل کی بلند و بالا اور شاندار عمارت کے سامنے کھڑے ہوکر جانے کیوں شرمیلا پہلی بار پزل ہوکر رہ گئی۔ ہوٹل کے جگمگاتے گلاس ڈور کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے اندر خوف پیدا ہوا کہ کہیں اس کا محافظ اسے اندر جانے سے نہ روک دے مگر اچانک اس کے ہاتھ پر نبیل کی مضبوط گرفت محسوس ہوئی اور اندر تک اطمینان چھا گیا۔ وہ بے فکری سے قدم بڑھانے کا سوچنے لگی واقعی پیسے میں بڑی طاقت ہے۔
’’چلو یہاں کیوں رک گئی؟‘‘ وہ محبت سے بولا تو خیالات کی رو ٹوٹی۔
’’آں ہاں کچھ نہیں۔‘‘ اس نے بظاہر مسکرا کر مگر لرزیدہ قدموں کے ساتھ چمکتی سیڑھیاں عبور کی۔
’’میں تمہیں یہاں ایک بہت خاص بات بتانے لایا ہوں۔‘‘ وہ کھڑکی کے ساتھ رکھی ٹیبل پر بیٹھتے ہی بے چینی سے بولا۔
’’اچھا ایسی کیا بات ہے۔‘‘ شرمیلا کو خود پر قابو پانے کا موقع مل چکا تھا۔ مسکرا کر بولی۔ اندر کا ماحول باہر سے مختلف تھا۔ وہاں ایک نئی دنیا آباد تھی۔ خود میں مگن‘ ہر کوئی دوسرے سے بے نیاز اور لاتعلق، آلودگی سے یکسر پاک‘ ٹھنڈک آمیز اور پُرسکون فضائیں، جس میں مزیدار کھانوں کی خوشبو گھوم رہی تھی۔
’’میری شادی طے پاگئی ہے۔‘‘ وہ اس کی جانب دیکھتے جھکتے ہوئے بولا۔ شرمیلا کو ایک شاک پہنچا۔
’’اچھا… مبارک ہو۔‘‘ مگر اپنی کمزوری کا اظہار کرنا اسے آتا ہی نہیں تھا، خوش دلی سے بولی۔
’’بابا کے دوست کی بیٹی ہے۔‘‘ وہ خود سے تفصیل بتانے لگا۔
’’اچھا…‘‘ اس کی غیر معمولی مردانہ وجاہت اور امیرانہ انداز اسے یہاں موجود بہت سارے لوگوں میں ممتاز کررہے تھے، مگر شرمیلا کو رتی برابر بھی پروا نہیں تھی کیونکہ دل فائز میں جو اٹکا ہوا تھا وہ اگر اس کے ساتھ یہاں تھی تو صرف فائز کو نیچا دکھانے کے لیے۔
’’بہت خوب صورت اور امیر ہے۔‘‘ وہ زچ ہوکر اسے جلانے کی بھونڈی کوشش کرنے لگا۔
’’چلو یہ تو اور بھی اچھی بات ہے کہ وہ دیکھی بھالی اور ہم پلہ بہو لارہے ہیں۔‘‘ اس نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا۔
’’مطلب تمہیں ذرا بھی افسوس نہیں ہوا۔‘‘ وہ مایوس اور کافی حد تک دکھی ہوا۔
’’افسوس کس بات کا یہ تو خوشی کی خبر ہے۔‘‘ اب کی بار اس نے نبیل کو جان بوجھ کر چڑایا۔
’’یہ لڑکی مجھے ہمیشہ چونکنے پر مجبور کرتی ہے۔‘‘ نبیل نے اس کے حسین چہرے کو نگاہوں کی گرفت میں لیا اور دل میں سوچا ورنہ وہ تو سوچ رہا تھا کہ شرمیلا اس کی منت سماجت پر اتر آئے گی۔
’’اچھا مگر ایک اچھی خبر اور بھی ہے۔‘‘ نبیل کا انداز ڈرامائی ہوا۔
’’وہ بھی سنادو۔‘‘ شرمیلا نے اپنے شفاف ناخنوں کو گھورتے ہوئے بے دلی سے پوچھا۔
’’میں تم سے بھی شادی کروں گا۔‘‘ اب کی بار اس نے شرمیلا کو چونکا ہی دیا۔
’’واٹ… شادی یا دوسری شادی۔‘‘ وہ ماحول کا خیال کیے بناء چلائی۔
’’کول ڈائون بے بی۔‘‘ نبیل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا مگر شرمیلا کا غصہ کم نہیں ہوا۔
ؤ… /…ؤ
’’خیریت تو ہے عائشہ بیگم؟‘‘ اسریٰ نے بڑے جارحانہ موڈ میں کن سوئیاں لیتی ہوئی ملازمہ کے مقابل پہنچ کر پوچھا۔
’’وہ… وہ… میں کھانے کا پوچھنے آئی تھی۔‘‘ یوں پکڑے جانے پر عشو بیگم کی جان نکل گئی، انگلیاں مروڑتے ہوئے بولیں۔
’’ابھی تو کھانے کا وقت نہیں ہوا پھر آپ کو کس بات کی فکر کھائے جارہی ہے۔‘‘ اسریٰ انہیں کوئی رعایت دینے کو تیار نہ تھیں۔
’’ہائے ہائے اگر پوچھ لیا تو کون سا گناہ ہوگیا؟‘‘ عائشہ بیگم نے چڑ کر آنکھیں چڑھا کر کہا۔
’’گناہ اور ثواب کا بھلا آپ سے کیا واسطہ؟‘‘ وہ بھنا کر چلائیں۔
’’آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟‘‘ عشو بیگم نے گھبرائے لہجے میں پوچھا۔
’’اگر آپ میں تھوڑی سی بھی مروت ہوتی تو ان یتیم بچوں کی زندگی سے یوں نہ کھیلتی۔‘‘ اسریٰ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’بس یہ ہی سننے کو رہ گیا تھا۔‘‘ عشو نے جان کر زور سے چلا کر کہا، روشنی کو سنانا مقصود تھا۔
’’ایک لفظ بھی غلط ہو تو مجھے جھٹلادیں۔‘‘ اسریٰ کی جرح جاری تھی۔
’’بی بی میری وفاداری پر انگلی نہ اٹھائیں۔‘‘ عائشہ بیگم گڑبڑائیں۔
’’ابھی حساب کتاب شروع کہاں ہوا ہے ورنہ بڑے گھپلے نکلیں گے۔‘‘ اسریٰ آج انہیں بے نقاب کرنے کے موڈ تھیں۔
’’توبہ توبہ الزام تو نہ لگائیں۔‘‘ عشو نے کلے پیٹتے ہوئے زور زور سے کہا۔
’’آپ لوگ مالک میں ملازمہ میری یہ مجال جو آپ کو جھٹلا سکوں۔‘‘ وہ مگرمچھ کے آنسو بہانے پر آگئیں۔
’’جھٹلانے کے لیے سچائی کی قوت کا ہونا ضروری ہے۔‘‘ عائشہ بیگم آپے سے باہر ہوگئیں۔
’’روشنی‘ آفاق یہاں آئو اور دیکھو آج مجھے اس گھر میں کیسی عزت سے نوازا جارہا ہے۔‘‘ عائشہ بیگم نے دہائی دی ساتھ ہی رو رو کر پورا گھر سر پر اٹھالیا۔ آفاق تو سب جانتا تھا، اس لیے دخل دینے سے پرہیز کیا۔ اسریٰ البتہ ملازمہ کی ایسی دیدہ دلیری پر منہ کھول کر دیکھتی رہ گئیں۔
ؤ… /…ؤ
سفینہ آگے کی جانب بڑھی تو ہر طرف بکھرے زرد خاکستری اور سرخ پتے اس کے نرم پیروں تلے آکر چر مرا اٹھے… وہ بے اختیار زمین پر بیٹھ کر ان پتوںکو ہتھیلی کی اوک میں بھرنے لگی۔ جانے کیوں یہ مہینہ جدائی اور ہجر کا استعارہ بنا ہوا تھا۔ وہ اس انجام پر افسردہ ہوگئی۔ اداسی نے ماحول کے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔ فائز کی محبت بھرے انداز شوخی کا پہناوا اوڑھے اس کے پاس چلے آئے، ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔ وہ بہت دیر تک ان میں کھوئی رہی پھر کچھ دیر بعد گردن اٹھا کر خان ہائوس کی وسیع و عریض عمارت کا جائزہ لیا۔ دل بجھنے سا لگا ایسی جذباتی وابستگی محسوس ہوئی کہ وجود میں درد کی لہریں دور تک بہتی چلی گئیں۔ کچھ دیر بعد سرد آہ بھرتے ہوئے اٹھی اور دو قدم چل کر اونچی ڈھلان پر جا کھڑی ہوئی۔ فضاء میں خشک پتوں کی مہک میں پھیلی اپنائیت اس کے دل پر اثر کر گئی۔ اداس ہوائیں جانے کس بات کا ماتم کرتی ہوئیں اس طرف چلی آئی، سنہری آنکھوں کے گلابی گوشے بھیگ اٹھے۔ کہتے ہیں کہ عشق سچا ہو تو میلے میں بھی اکیلا کردیتا ہے، اس کے ارد گرد بھی تو یادوں کا میلا لگا ہوا تھا۔
’’فائز… فائز…‘‘ ایک ہچکی منہ سے نکلی اور اس نے ہاتھوں میں منہ چھپا کر بے آواز لہجے میں محبوب کو پکارا۔ دکھ، درد اور نارسائی کی کیفیت سے گزرنا کتنا جان لیوا ہے، اس سے بڑھ کر کون جان سکتا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی فطرت کی اس آنچ سے خود کو بچا نہیں سکتی تھی جسے محبت کہتے ہیں اور فائز کی چاہت تو اس کے اندر سے امڈتی، ایک تند لہر تھی جو اس کا وجود اپنے ساتھ بہائے لیے جارہی تھی۔ سفینہ نے گہری سانس لی اور دونوں ہاتھوں سے آنکھیں رگڑ ڈالیں۔
ؤ… /…ؤ
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ شور کی آواز سن کر روشنی اور آفاق بھی کوریڈور کی طرف چلے آئے۔
’’دیکھو بچوں… مجھے اب کیا کیا سننے کو مل رہا ہے۔‘‘ وہ بے قراری سے روشنی اور آفاق کو دیکھ کر بلکنے لگیں۔
’’بس بس بچوں کو بلیک میل نہ کریں۔‘‘ اسریٰ کو ہوش آگیا، کمر پر ہاتھ رکھ کر دو قدم آگے آئیں اور عائشہ بیگم کو گھورا۔
’’یہاں کس بات پر بحث چل رہی ہے؟‘‘ روشنی نے حیرت سے پوچھا۔
’’بچوں… اس گھر کے درو دیوار گواہ ہیں کہ میری جوانی کے سنہری سال تم لوگوں کی دیکھ بھال میں گزر گئے۔‘‘ عشو نے ان دونوں کی جانب دیکھا۔
’’اماں آپ کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ روشنی نے عائشہ کا بازو تھام کر تسلی دی۔
’’اس گھر کی دیواریں تو نمک حرامی کی بڑی داستانیں اپنے دامن میں سمیٹے کھڑی ہیں۔‘‘ اسریٰ کا طنز تیر کی طرح عائشہ بیگم کے دل میں پیوست ہوا تھا۔
’’نہیں بی بی اتنا ظلم نہ ڈھائو۔‘‘ عائشہ بیگم کو سچ مچ میں رونا آگیا۔
’’آپ دونوں خاموش ہوجائیں پلیز۔‘‘ آفاق نے زچ ہوکر انہیں دیکھا مگر وہ دونوں اس کی طرف متوجہ نہ ہوئیں۔
’’اس گھر کے درو دیوار لالچ، ہوس اور بے ایمانی کے نظاروں کی بھی گواہ ہیں۔‘‘ اسریٰ کا غصہ کم نہیں ہورہا تھا چلا کر بولیں۔
’’دیکھ لو اب سفید چونڈے پر تمہاری خالہ کالک ملنے چلی ہیں۔‘‘ وہ ماتھا پیٹتی چلی گئیں۔
’’اماں پلیز روئیں تو نہ۔‘‘ روشنی نے جلدی سے بڑھ کر عائشہ بیگم کے آنسو اپنے ہاتھوں سے پونچھے اسے کسی اور کی پروا بھی نہیں تھی۔
’’نہیں بیٹا بہت سن لیا۔‘‘ عشو کا مقصد پورا ہوا، وہ اس کے جذبات سے کھیلنے میںکامیاب ہوچکی تھیں۔
’’ایسی باتوں سے ان بچوں کو بے وقوف بنائو مگر میں نہیں بن سکتی۔‘‘ اسریٰ نے آفاق کے اشاروں کو نظر انداز کرتے ہوئے چلا کر کہا۔
’’بس آفاق گائوں کا ٹکٹ لادو۔‘‘ انہوں نے تڑپ کا پتا پھینکا۔
’’وہ کس لیے اماں؟‘‘ روشنی نے کپکپاتے لبوں سے پوچھا۔
’’میں شام کی گاڑی سے واپس گائوں جانا چاہتی ہوں۔‘‘ عشو زمین پر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئیں اور سر پر ہاتھ رکھ کر آنسو بہاتے ہوئے ایک ہی بات کی گردان کرنے لگیں۔
ؤ… /…ؤ
’’فائز…فائز…‘‘ سائرہ نیم اندھیرے کمرے میں اسے پکارتی ہوئی داخل ہوئیں۔
’’جی ممی…؟‘‘ ابھی کچھ دیر پہلے ہی اس کی آنکھ لگی تھی کہ ماںکے پکارنے پر وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’کیا سوگئے ہو؟‘‘ انہوں نے بے تکا سوال کیا۔
’’بس ایسے ہی لیٹا تو نیند آگئی۔‘‘ اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنکھ ملتے ہوئے جواب دیا۔
’’ایک کام تھا تم سے۔‘‘ وہ رک رک کر بولیں۔
’’پاپا کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس کا دل باپ کی طرف ہی لگا رہتا تھا، چونک کو پوچھا۔
’’ہاں ابھی تو انہیں میڈیسن کھلائی ہے۔‘‘ سائرہ کا لہجہ تھکا تھکا سا تھا، اصل بات بتانا بھول گئیں۔
’’ہونہہ۔‘‘ اس کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا بولے تو سر ہلادیا۔
’’بہت چپ چپ ہوگئے ہو۔‘‘ بلیو جینز، گرے ٹی شرٹ میں ملبوس اداس آنکھوں اور اپنے لمبے چوڑے وجود کے ساتھ سامنے بیٹھے بیٹے کی نظر اتارنے کا دل چاہا۔
نہیں تو۔‘‘ اس نے بڑی سرعت سے نگاہوں کا زاویہ بدلا، ماں کو اپنی کمزوری دینا نہیں چاہتا تھا۔
’’بیٹا… میں ہر بات اچھی طرح سے سمجھتی ہوں مگر…‘‘ ذرا سا جھک کر سرسراتے لہجے میں جتایا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ فائز نے بھنویں اچکا کر مسکراہٹ لبوں پر سجائی۔
’’اچھا تو سچ سچ بتائو تمہیں اپنی چاچی کے انکار کا دکھ نہیں؟‘‘ سائرہ نے بیٹے کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اسے کریدا۔
’’ممی اب وہ بات اپنے انجام تک پہنچ چکی ہے چھوڑیں۔‘‘ اپنے اعصاب پر کنٹرول رکھتے ہوئے، اس نے لہجے میں مصنوعی اطمینان گھسیٹا اور اٹھ کر وہاں سے جانے لگا۔
’’نہیں فائز ابھی تو اصل شروعات ہوئی ہے اسی کام سے تو میں آئی ہوں۔‘‘ اسے ماں کی آواز میں ماضی کے رنگ چھلکتے محسوس ہوئے دل کو گھبراہٹ ہوئی۔
’’ممی…! اب میں اپنی زندگی میں کوئی نیا تماشہ نہیں چاہتا۔‘‘ اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا سا تھا۔
’’تماشہ تو ہوگا مگر کسی اور کی زندگی کا۔‘‘ ان کا عجیب سا لہجہ نظر ملنے پر وہ اندر ہی اندر کپکپایا۔
’’آپ کیا سوچ رہی ہیں پلیز مجھے بتائیں؟‘‘ وہ ایک دم ماں کے مقابل آکھڑا ہوا اور سخت لہجے میں بولا۔
’’اتنی جلدی بھی کیا ہے تھوڑا انتظار کرو سب پتا چل جائے گا۔‘‘ ان کا انداز آگ بن کر تپا گیا۔
ؤ… /…ؤ
وقت کے ظالم ہاتھوں میں آکر جیسے سب کچھ بدل گیا تھا۔ بس ایک کسک سی تھی جو من کو جلائے رکھتی۔ اس دسمبر میں اس نے نہ کینو چھیلے، نہ قہوہ بنایا، گاجر کے حلوے سے بھی منہ موڑ لیا اور مونگ پھلی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ اس وقت بھی موسم کا حسن اسے بہت دیر تک اپنے سحر میں مبتلا نہ کرسکا۔ وہ خلائوں میں ان کھوئے ہوئے محبت بھرے لمحوں کو تلاشتی رہی مگر لاحاصل۔ اسے اب سرما کی دھوپ سے بھی اکتاہٹ سی محسوس ہورہی تھی۔ نہ وہ دسمبر رہا نہ خوب صورت باتیں، سب کچھ ماضی کی یادیں بن گئیں، چڑچڑاہٹ میں سفینہ نے سنہری گالوں میں گھلتی سرخی کو ہاتھ کی پشت سے دھکیلا اور اندر کی جانب قدم بڑھائے رائٹنگ ٹیبل پر رکھی سیاہ ڈائری نے جیسے اسے پکارا… ہاتھ میں لے کر احتیاط سے کھولا اور جیسے محو ہوگئی۔
وہ آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراںگزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانے سے
کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بدنما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں،ان کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھے نشان
چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری ایک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہوں گے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہوں گے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفان سمٹ گئے ہوں گے
ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہوں گے
ان کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
اک صحرا سا پھیلتا ہوگا
اور کچھ بے نشاں صفحوں پہ
نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
(امجد اسلام امجد )
اس بار دسمبر بھی اس کے احساسات پر حاوی نہ ہوسکا، ہوتا بھی تو کیسے، وہ تو فائز کی چاہت کے ساتھ ساتھ اس آنگن کی دھوپ، ان درختوں پر آنے والا پت جھڑ اور خشک پتوں کی خوشبو سے محروم ہونے کے خوف میں مبتلا تھی۔ غم سوا ہو چلا تھا۔
ؤ… /…ؤ
’’سو تو آپ جارہے ہیں۔‘‘ شرمیلا نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور فرنٹ سیٹ پر براجمان ہوگئی۔
’’ہاں جانا تو نصیب ٹھہرا۔‘‘ نبیل جو دوسری طرف متوجہ تھا چوک کر اسے دیکھتے ہوئے فلسفہ جھاڑا۔
’’چلو اچھا ہے جو فیصلہ کل ہونا تھا وہ آج ہوجائے۔‘‘ شرمیلا کا لہجے کچھ شکستہ ہوا، جس پر اس نے مسکراہٹ کا پردہ ڈالا۔
’’اب بھی وقت ہے اگر تم نکاح کے لیے مان جائو تو۔‘‘ نبیل نے برابر میں بیٹھی شیشے سے بنی لڑکی کو نرم نگاہوں سے تکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں‘ میں شراکت برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ اس کے لہجے میں رسانیت ابھری، گلابی لب خشک ہوئے۔
’’جان وہ تو صرف نام کی بیوی ہوگی، مجھ پر تو مکمل طور پر تمہارا اختیار ہوگا۔‘‘ نبیل کا انداز دلجوئی کا تھا مگر شرمیلا کو خاندانی بیویوں کی قوت کا مکمل اندازہ تھا۔
’’ایسا نہیں ہوتا نا نبیل۔‘‘ شرمیلا کے چہرے سے واضح بے بسی کا اظہار چھلکنے لگا تھا۔
’’میں ہر طرح کی گارنٹی دینے کو تیار ہوں۔‘‘ اس کی رضا کا پاس تھا ورنہ تو وہ کسی بھی حد پر جاکر اسے اپنا بنانا چاہتا تھا۔
’’جانے آنے والا وقت کیا رنگ دکھلاتا ہے ایسے دعوی نہ کریں۔‘‘ وہ ایک دم ملول ہوگئی۔
’’شرمیلا… ایک بات کہوں تم میری زندگی میں آنے والی وہ واحد لڑکی ہو جس کو میں نے اپنی عزت جانا ہے۔‘‘ نبیل نے اُسے بھرپور توجہ و محبت سے دیکھتے ہوئے جانے کیا باور کرانا چاہا۔
’’آپ کہنا کیا چا ہتے ہیں؟‘‘ اس نے خود پر قابو پاکر نگاہیں اٹھا کر پوچھا۔
’’لڑکیوں کی محبت اور قربت نبیل علی کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہے شرمیلا۔‘‘ نبیل کا بھاری لہجہ اور انداز بڑا خاص تھا۔
’’پلیزز… مجھے اس لسٹ میں شامل نہ کریں، جو آپ کی دولت پر فریفتہ رہی ہیں۔‘‘ شرمیلا نے اسے تیکھی نظروں کی زد پر رکھا۔
’’جانتا ہوں جان اسی لیے تو تمہیں اپنی عزت بنا کر بیوی کا درجہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘ نبیل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر جتایا۔
’’تو پھر وہاں انکار کردیں اور اپنے والدین کو میرے گھر لے آئیں۔‘‘ شرمیلا نے بڑی مشکل سے یہ جملہ ادا کیا۔
’’کاش یہ آسان ہوتا مگر کوئی فائدہ نہیں اگر میں نے ہمت کر بھی لی تب بھی ایسا نہیں ہوسکتا۔‘‘ نبیل یکایک سنجیدہ ہوکر بولا۔
’’اچھا تو پھر میں اس ملاقات کو آخری سمجھوں۔‘‘ وہ تھوڑا جھلائی۔ خود کو بہت مضطرب اور بے کل محسوس کررہی تھی۔
’’نہیں… بیوی تو تمہیں میری بننا پڑے گا۔‘‘ وہ اس کی جانب قدرے جھکا اور شرارت آمیز انداز میں اس کی ناک کو پکڑ کر زور سے دبایا۔
’’ان حالات میں تو ایسا ممکن نہیں۔‘‘ شرمیلا نے ہونٹ چبائے۔
’’اچھی طرح سے سوچ لو میں واپس آئوں گا تو یہ خوشگوار فریضہ انجام دیا جائے گا۔‘‘ اس کا خوب صورت بھاری لہجہ بہت آسودگی سے پُر تھا۔
’’ٹھیک ہے تو اس لڑکی سے شادی سے انکار کردیں۔‘‘ وہ بھی اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔
’’پلیز شرمیلا… بس اب تم مزید ایک لفظ بھی نہیں کہو گی۔ اوکے؟‘‘ وہ یک دم رُوڈ ہوا شرمیلا پہلے حیرت زدہ رہ گئی پھر اس کی نگاہوں میں شکایت اتر آئی۔
’’میرا خیال ہے کہ مجھے چلنا چاہیے۔‘‘ شرمیلا نے کچھ دیر تک اسے زخمی انداز میں دیکھا پھر خشک لہجے میں بولی۔
’’اوکے… بائے۔‘‘ نبیل نے ایک جھٹکے سے روڈ کی سائیڈ پر لے جاکر گاڑی روک دی۔ شرمیلا نے دروازہ کھولا اور نبیل کے اہمیت نہ دینے پر وہ پیر پٹختی ہوئی قریب کھڑے رکشے کو ہاتھ دے کر اس میں بیٹھ گئی۔
’’یہ لڑکی جتنی مشکل ہے، اتنی مجھے عزیز ہوتی جارہی ہے۔‘‘ نبیل نے گہرا سانس بھرا اور سر جھٹک کر گاڑی اسٹارٹ کرکے مین روڈ پر ڈال دی۔
’’شرمیلا جان میں اس موقع پر تمہیں ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا مگر تم مجھ سے وہ بات منوانا چاہتی ہو جو میرے اختیار سے باہر ہے۔‘‘ اس کے اعصاب پھر تنائو کا شکار ہونے لگے۔ اسٹئیرنگ پر مکا مارا۔ شرمیلا اس کی محبت تھی اور اس کی ہستی نبیل کے نزدیک بے حد اہم‘ مگر اِس وقت وہ اُس کے پیچھے جانے‘ اُسے منانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اسے واپس جانا تھا ورنہ ملازم گائوں خبر کرکے اس کے لیے نئی مشکلات کھڑی کرسکتا تھا۔
ؤ… /…ؤ
فائز ٹہلتے ٹہلتے ایک دم خیالات کی یلغار سے پریشان ہوکر صوفے پر لیٹ گیا۔ اس کا وجود ان دیکھی تھکن سے چور چور ہونے لگا۔ کئی دنوں سے وہ دکھوں کے دلدل میں جیسے دھستا چلا جارہا تھا۔ ایک وقت تھا جب اسے خوش رہنا ہنستے کھلکھلاتے رہنے کا مرض لاحق تھا۔ یوں اداس، غمگین مجنوں کی طرح سینہ مسلتے سوز و غم میں مبتلا رہنے والوں پر اسے بے حد ہنسی آیا کرتی تھی مگر اب جب بھی کاموں سے فرصت ملتی‘ اس کے سوچوں کا بہائو خودبخود سفینہ کی طرف مڑ جاتا۔ کیا اب وہ خود پر ہنس سکتا تھا، اسے اپنے آپ پر ترس آنے لگتا۔ یوں جینے کے گر وہ خوب جانتا تھا اور اچھے برے لوگوں پر فتح پانے کا دلدادہ مگر سب کچھ بھول چکا تھا۔
سفینہ سے الگ ہونے کا خدشہ اس کے دل کے ہر گوشے میں ایسے چھپ کر بیٹھ گیا تھا کہ اس کی ساری تیزی‘ طراری‘ ہنسی مذاق، شوخی شرارت کہیں جا سوئی تھی۔ اب تو وہ منتظر تھا کہ کس دن چاچا کے گھر سے اس کی موت کا پروانہ، شادی کے کارڈ کی شکل میں آتا ہے۔
دیر تک کسی بات کو دل میں رکھ کر اپنے آپ کو میلا کرنے کی اس کی فطری سادہ لوحی متحمل ہی نہ ہوسکتی تھی۔ مگر جانے کیوں چاچی سے وہ دل ہی دل میں ناراض ہو بیٹھا تھا۔ وہ بچپن سے ان کا شیدائی تھا، چھوٹا تھا تو ان کا پلو تھامے تھامے پھرتا… ریحانہ بھی فائز کا بہت خیال رکھتی، اس کے لیے گرما گرم میٹھا پراٹھا پکا کر اپنے ہاتھوں سے کھلاتی، سفینہ کے ساتھ ساتھ اس کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں، وہ انہیں اپنی دوسری ماں سمجھتا تھا مگر اب جوانی میں جہاں اپنی اولاد کی بات آئی تو انہوں نے اسے پرایا کردیا تھا۔
ؤ… /…ؤ
’’جائو آفاق لے آئو ٹکٹ۔‘‘ اسریٰ نے شہہ دی۔
’’ہاں… ہاں بس یہ ہی سننے کی کسر رہ گئی تھی۔‘‘ عشو نے متوحش ہوکر سب کو دیکھا۔
’’ویسے بھی عائشہ بیگم کو اپنا بڑھاپا اپنے بچوں کے ساتھ گزارنا چاہیے۔‘‘ اسریٰ نے بڑے اطمینان سے جتایا۔
’’آہ… میں نے تو ہمیشہ ان بچوں کو ہی اپنا سمجھا تھا۔‘‘ عائشہ بیگم نے ایک اور کمزوری سے کھیلا اور منہ پر دوپٹہ ڈال کر بلکنے لگ گئیں۔
’’آپ ہماری اماں ہیں نا۔‘‘ روشنی کو جیسے ہوش آیاتو پچکارا۔
’’کاش ایسا ہی ہوتا۔‘‘ اسریٰ نے گھورا۔
’’جائو بیٹا جلدی کرو۔‘‘ عائشہ بیگم کو پتا چل گیا کہ روشنی اب جانے نہیں دے گی، اسی لیے اعتماد سے کہا۔
’’ٹھیک تو ہے اب یہ معاملہ بھی صاف ہوجائے۔‘‘ اسریٰ نے بڑی دیدہ دلیری سے انہیں گھورتے ہوئے آفاق سے کہا۔
’’ہائے ہائے یہ عورت تو مجھے مروائے گی۔‘‘ عشو نے کنکھیوں سے پہلے اسریٰ اور پھر آفاق کے وجیہہ چہرے کو دیکھا۔
’’ہاں میں تمہیں مزید ان بچوں کا استحصال نہیں کرنے دوں گی۔‘‘ اسریٰ نے بت بنے کھڑے بھانجے بھانجی کو دیکھ کر کہا۔
’’اگر بچوں کی یہ ہی خواہش ہے تو جائو آفاق بیٹا جلدی سے ٹکٹ لے آئو اب یہاں کا پانی بھی مجھ پر حرام ہے۔‘‘ انہوں نے ایک اور چال چلی۔
’’یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا؟‘‘ آفاق کے چہرے پر تفکر کے رنگ ابھرے۔
’’آپ لوگ پلیز۔ خاموش ہوجائیں۔‘‘ روشنی نے التجائیہ انداز میں کہا تو عائشہ بیگم کو سہارا حاصل ہوا۔
’’نہیں بیٹا اب جانے دو بہت بے عزتی اٹھالی۔‘‘ عائشہ بیگم نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے چادر کے کونے سے آنکھ پونچھی۔
’’عزت اور ذلت کروانا انسان کے اپنے اختیار میں بھی ہوتا ہے۔‘‘ اسریٰ اس وقت کڑی کمان بنی ہوئی تھیں۔
’’بی بی اپنی چپل اتاریں اور میرے سر پر ماریں مگر زبان سے یوں زخم نہ لگائیں۔‘‘ عشو بیگم نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ڈرامہ کیا۔
’’آفو جائو نا ٹکٹ لے آئو۔‘‘ اسریٰ کو انہیں چڑانے میں مزہ آنے لگا۔
’’اماں جانا چاہیں تو؟‘‘ آفاق کو بھی یہ حل نظر آیا مجبوراً سر ہلایا۔
’’میرے خیال میں عائشہ بیگم کو اب آرام کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں تسلی دی۔
’’بھائی… جائیں ٹکٹ لے آئیں۔‘‘ روشنی نے کھڑے ہوتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا اور منہ پھلا لیا۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہے روشنی؟‘‘ سب کے ساتھ ساتھ عشو بیگم بھی ہکابکا رہ گئیں۔
’’دیکھا میری بچی کتنی سمجھدار ہوگئی ہے۔‘‘ اسریٰ نے مسکرا کر بھانجی کو دیکھا۔
’’ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی۔‘‘روشنی نے ہلکے سے طنزیہ لہجے میں کہا۔
’’کیا مطلب تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ آفاق کو اچھی طرح سے اندازہ ہوچکا تھا کہ روشنی ایک ٹرانس میں ہے، اسی لیے کسی دھماکے کی منتظر تھا۔
’’بھائی… اماں کے ساتھ میرا ٹکٹ بھی لادیں۔‘‘ روشنی نے واقعی میں دھماکا کر ڈالا تھا۔
’’کیا مطلب کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ اسریٰ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’مجھے یہ ہی امید تھی۔‘‘ آفاق کو ذرا سی بھی حیرانگی نہیں ہوئی، اس نے بہن کو بغور دیکھتے ہوئے سوچا۔
’’اگر اس گھر سے عشو اماں جائیں گی تو میں بھی ان کے ساتھ جائوں گا۔‘‘ روشنی نے عائشہ بیگم کو خود سے لپٹا کر روتے ہوئے کہا۔
’’روشنی…‘‘ اسریٰ نے سرسراتے لہجے میں بھانجی کو پکارا مگر اس نے ذرا لفٹ نہ کروائی۔ عائشہ بیگم نے البتہ بڑی فاتحانہ نظروں سے انہیں گھورا اور روشنی کو ساتھ لگائے اندر کی جانب بڑھ گئیں۔
ؤ… /…ؤ
فائز کا غصہ اور جھنجھلاہٹ سفینہ کی موجودگی میں جیسے ہوا ہوگیا۔ زندگی میں پھیلے کانٹے ہمیشہ اس کی قربت میں کند ہوجایا کرتے، اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ ساری دنیا میں اس کے لیے وہ واحد ہستی تھی جسے صرف محبت کی نظر سے دیکھا جاسکتا تھا۔‘‘ شک کی نگاہ سے نہیں لہٰذا اس نے سفینہ کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا اور ملنے کے لیے اسی پارک میں بلوایا جہاں انہوں نے ایک ساتھ کئی حسین پل گزارے تھے۔
’’سفی سنو تو۔‘‘ فائز نے اسے بے ساختہ مخاطب کیا۔
’’سب ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘ سفینہ نے پریشان نظریں اس کے چہرے پر ڈالی اور پوچھا۔
’’تم…‘‘ ٹرائوزر کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے وہ سفینہ کی گھبراہٹ پر دھیرے سے مسکرایا۔
’’میں کیا؟‘‘ فائز کے اس طرح مسلسل دیکھنے پر وہ کنفیوز ہوکر خود کو دیکھنے لگی۔
’’حد سے زیادہ اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ فائز نے آہستگی سے اس کے قریب ہوکر کان میں پیار بھری سرگوشی کی۔
’’فائز کے بچے یہ بات کہنے کے لیے ارجنٹ کال کرکے بلوایا تھا۔‘‘ سفینہ کا دل خوشگوار دھڑکنوں کے شور میں ڈوب گیا۔
’’نہیں یہ بتانے کے لیے کہ ممی نے ہم دونوں کے ملن کے لیے ایک حل ڈھونڈ نکالا ہے۔‘‘ فائز کے لہجے کی نغمگی اسے زندہ کر گئی۔
’’اچھا واقعی میں…!‘‘ سفینہ کی رگوں میں سرشاری کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔
’’ہاں واقعی۔‘‘ فائز نے یونہی جھکے سر کے ساتھ اسے دیکھا اور پھر مسکرا کر پیار سے کہا۔
’’کاش ہمارا یہ خواب سچ ہوجائے۔‘‘ فائز کو سفینہ کی چمکتی دمکتی سنہری آنکھوں میں آس اور امید نظر آئی۔
’’ممی تو اس بات کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘ فائز کی نگاہوں میں خوشی کی رمق ہلکورے لینے لگی۔
’’اچھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری فتح کا دن قریب ہے۔‘‘ سفینہ کا لہجہ شرارتی ہوا۔
’’ٹھہر جائو میں بتاتا ہوں چچی کو کہ ان کی لڑکی ہاتھ سے نکل رہی ہے۔‘‘ اس نے بھی ایک آنکھ بند کرتے ہوئے چھیڑا۔
’’تمہاری محبت میں ہر بات جائز لگتی ہے۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔
’’اچھا جی ایسی بات ہے کیا؟‘‘ فائز نے اس کی لٹ گھسیٹی نگاہوں سے تفاخر چھلکا۔
وہ بہت خوش تھا سفینہ کی لگاوٹ، محبت اور ادائیں تسکین کا احساس دلا رہی تھیں۔
ہر ایک زخم کا چہرہ گلاب جیسا ہے
مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جیسا ہے
یہ تلخ تلخ سا لہجہ،یہ تیز تیز سی بات
مزاج یار کا عالم شراب جیسا ہے
مرا سخن بھی چمن در چمن شفق کی پھوار
ترا بدن بھی مہکتے گلاب جیسا ہے
بڑا طویل،نہایت حسین،بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جیسا ہے
تو زندگی کے حقائق کی تہہ میں یوں نہ اتر
کہ اس ندی کا بہائوچناب جیسا ہے
تری نظر ہی نہیں حرف آشناورنہ
ہر ایک چہرہ یہاں پر کتاب جیسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر ،بجھے تو ریت کی لہر
مرے خیال کا دریا سراب جیسا ہے
ترے قریب بھی رہ کر نہ پاسکوں تجھ کو
ترے خیال کاجلوہ حباب جیسا ہے
(محسن نقوی)
ؤ… /…ؤ
سادگی سے سجے ہوئے ڈرائنگ روم میں بتول نے بڑی خوش دلی سے ان دونوں خواتین کو بٹھایا اور حال احوال پوچھنے لگیں۔ ان کے اسکول میں کام کرنے والی ایک ساتھی ٹیچر نے اپنے جاننے والوں میں سے بہت اچھے گھرانے کا رشتہ شرمیلا کے لیے بھیجا تھا۔ لڑکے کا اپنا کاروبار تھا۔ شرمیلا تو یہ سب سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئی…پھر ماں کے آنسوئوں سے مجبور ہوکر مانتے ہی بنی۔ بتول کا نکالا ہوا سبز گلابی لباس بے دلی سے زیب تن کیا بہن کے اصرار پر ہلکا سا میک اپ کیا اور کانوں میں سونے کی بالیاں ڈالیں تو ایک دم چمک اٹھی۔
’’بہن اگر بچی کو جلدی بلوا لیتی تو اچھا رہتا۔‘‘ بڑی عمر کی عورت انیسہ جو لڑکے کی ماں تھی بے چینی سے پہلو بدل کر بولا۔
’’جی… ضرور میں دیکھتی ہوں۔‘‘ بتول نے سر ہلایا اور چھوٹی بیٹی کو اشارے سے شرمیلا کو بلانے کے لیے کہا۔
’’آپ کی بیٹی کہیں جاب بھی کرتی ہے کیا؟‘‘ شازیہ جو لڑکے کی بہن تھی اور شکل سے ہی تیز و طرار نظر آرہی تھی، تجسس سے پوچھا۔
’’نہیں جی ابھی تو وہ پڑھائی سے فارغ ہوئی ہے۔‘‘ بتول نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’اسلام علیکم!‘‘ شرمیلا ہاتھ میں چائے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئی۔
وعلیکم السلام۔‘‘ دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا اور پسندیدہ نگاہ ڈالی۔
’’ماشاء اللہ کیا نام بتایا تھا۔‘‘ انیسہ اس کی خوب صورتی پر دیکھتے ہی فریفتہ ہوگئیں اور کھسک کر اپنے قریب جگہ دی۔
’’ شرمیلا نام ہے اس کا۔‘‘ بتول نے ان کی دلچسپی دیکھی تو اطمینان کی سانس بھری۔
’’کون سے کالج میں پڑھتی ہیں۔‘‘ شازیہ نے تجسس سے پوچھا۔ شرمیلا نے دھیرے سے مقامی کالج کا نام بتایا اور سر جھکا کر بیٹھ گئی۔
’’کمال ہے میں بھی اسی کالج میں پڑھتی ہوں۔‘‘ وہ مسکرائی۔
شرمیلا جو اپنے خوب صورت ہاتھوں کی لکیروں سے اُلجھی ہوئی تھی چونک اٹھی۔
’’اِن کی پہلے بھی منگنی ہوچکی ہے کیا۔‘‘ شازیہ نے سموسہ کھاتے ہوئے اپنی الجھن دور کرنا چاہی۔
’’نہیں تو۔‘‘ بتول کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔
’’اچھا پھر مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔‘‘ شازیہ کا انداز معنی خیز تھا۔
’’آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟‘‘ شرمیلا نے ایک دہکتی ہوئی نگاہ ان ماں بیٹی پر ڈالی اور جھٹکے سے کھڑی ہوگئی۔
’’یہ ہی کہ اکثر آپ کو لینے ایک بڑی سی گاڑی کالج کے دروازے پر آتی تھی۔‘‘ شازیہ نے زہرخند لہجے میں کہا اور ماں کو کھڑے ہونے کا اشارہ کیا۔
کیوں؟‘‘ انیسہ نے حیرت سے بیٹی کی طرف دیکھا اور پھر فوراً کھڑی ہوگئی، شرمیلا اپنی جگہ جم سی گئیں۔
’’کافی چرچے ہیں اس امیر زادے کے اور ان کی دوستی کے۔‘‘ شازیہ نے صاف لہجے میں ماں کو بتایا۔
’’وہ… تو میرا ایک رشتے دار ہے۔‘‘ بتول نے گھبرا کر جھوٹی صفائی دینا چاہی۔
’’ایک مشورہ دوں آنٹی پھر اپنی بیٹی کی شادی اسی رشتے دار سے کروا دیں۔‘‘ شازیہ طنزیہ انداز میں بولتی ہوئی ماں کا ہاتھ تھام کر باہر چل دی۔
شرمیلا جیسے زمین میں گڑ گئی۔ چہرہ خطرناک حد تک سفید پڑتا چلا گیا۔ طیش کی بہت زوردار لہر اس کے اندر اٹھی وہ شازیہ کے پیچھے جاکر اس کی طبیعت صاف کر دینا چاہتی تھی، اس نے گردن موڑ کر پانی سے بھری آنکھوں سے ماں کی جانب دیکھا۔
’’نہیں جو کچھ تم کرچکی ہو وہ ہی بہت ہے۔‘‘ بتول کی نظروں میں غصہ، بے بسی‘ آنسو اور التجائیں تھیں۔
’’بات کو بڑھا کر مزید ذلیل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں، دہی تو اپنا کھٹا تھا۔‘‘ ان کے چہرے کے تاثرات صاف پڑھے جارہے تھے۔
’’اماں میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا نبیل کے ساتھ…‘‘ شرمیلا نے صفائی دینا چاہی۔
’’اسی دن کے ڈر سے تو روکتی تھی اب کون مانے گا تمہاری یہ بات۔‘‘ بتول چلائیں۔
کتنا سمجھایا مگر شرمیلا پر تو جانے کون سا بھوت سوار تھا، سارے زمانے میں اپنی بدنامی کرانے کے بعد اب گھر بیٹھ بھی جاتی تو کیا فائدہ۔ بتول کی پیشانی عرق ریز اور چہرہ سرخ ہوگیا۔ اس قسم کی ذلت کا واسطہ انہیں زندگی میں پہلی بار ہوا تھا۔ اسی لیے برداشت کرنا مشکل ہوگیا۔ فشارِ خون بڑھتا چلا گیا اور آنکھیں جلنے لگیں وہ ایک دم تیورا کر زمین پر گرتی چلی گئیں۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close