Hijaab Dec-16

بھگتے دسمبر میں

حیا بخاری

صبح سے دوپہر ہوگئی اور وہ ابھی تک منہ سر لپیٹے بیڈ پر تھی۔ عام دن ہوتا تو اماں اسے کبھی اتنی دیر تک نہ سونے دیتیں ویسے تو وہ خود بھی سویرے اٹھنے کی عادی تھی لیکن کبھی کبھار یونہی کہانیاں پڑھتے‘ فون پر اپنے دوستوں سے گپ شب لگاتے رات دیر ہوجاتی تو صبح سویرے اٹھنا دشوار ہوجاتا لیکن اماں کے سامنے اس کی ایک نہ چلتی۔ وہ اسے اٹھا کر ہی چھوڑتی بقول ان کے دیر تک سونا نحوست کو گھر میں جگہ دینے کے برابر ہوتا ہے اور تب وہ بھی آرام سے اٹھ جاتی۔
لیکن آج ایک عام دن نہ تھا‘ سحر کے لیے یوم حشر کے بعد کا دن تھا۔ کل وہ ایک بار پھر لٹی تھی‘ صرف ایک چھوٹا سا لفظ اس کی ساری خوشیاں پل بھر میں اڑا لے گیا تھا‘ وہ رد کی گئی تھی اور وہ بھی قبول ہونے کے بعد… اور یہ پہلی چوٹ نہ تھی ورنہ وہ شاید سہہ بھی جاتی یہ اس کے ساتھ تیسری مرتبہ ہوا تھا۔ پہلے صرف خاندانی تقریبات‘ میل جول میں وہ اکثر یہ ایک لفظ اپنے لیے سنتی تھی۔ پہلے پہل سن کر اداس ہوجاتی‘ آہستہ آہستہ اس نے اس کو نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے یقین تھا اس چیز کا اس کی ذات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ زندگی کے سب سے اہم موڑ پر آکر وہ خود اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائے گی جو اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی ذات سے جڑ کر رہ گئی تھی۔
دسمبر کی ایک بھیگتی سرد شام تھی‘ جب اس نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تھی۔ اس رات اس کے بابا دوسرے شہر میں تھے‘ سات سال بعد صاحب اولاد ہونے کی خبر سنتے ہی وہ رات کو ہی سفر پر نکل پڑے۔ سر شام ہی ہر منظر کو لپیٹ میں لینے والی دھند اس قدر تھی کہ ایک فٹ کے فاصلے سے بھی کچھ نظر آنا ناممکن ہورہا تھا اور صرف آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہی انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ مزید سفر بے حد مشکل تھا تبھی وہ کسی پناہ گاہ کی تلاش میں گاڑی چلاتے رہے۔ سڑک کا اندازہ لگانا مشکل ہونے لگا اور اچانک ہی انہیں احساس ہوا تھا کہ وہ سڑک سے گاڑی نیچے لے آئے تھے‘ انہوں نے بریک لگانے کی کوشش کی لیکن گاڑی نیچے سرکتی گئی‘ کار اب ان کے قابو سے نکل چکی تھی۔ وہ مسلسل اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے تھے تبھی کار کو ایک زور کا جھٹکا لگا تھا۔ صفدر کا سر زور سے اسٹیئرنگ سے ٹکرایا‘ ان کے منہ سے کراہ سی نکلی تھی‘ گاڑی الٹی اور ان کی گردن میں شدید درد کی لہر جاگی تھی اور ہر سو اندھیر اچھا گیا تھا‘ گاڑی نیچے لڑھکتی چلی گئی تھی۔
خبر بھی نہ ہوئی اور خوشی غم میں بدل گئی‘ جیتے جاگتے‘ ہنستے مسکراتے رخصت ہونے والے صفدر سفید لباس میں لپٹے جب گھر لائے گئے تو کہرام بپا ہوگیا اور آنے والے ہر فرد نے جوان شخص کی موت کے افسوس سے زیادہ نڈھال سی ناہید کی گود میں سکون سے آنکھیں موندے سحر پر طعنوں کی بوچھاڑ جاری رکھی۔ غم سے نڈھال ناہید حیران آنکھوں سے آنے والے ہر فرد کو اپنی معصوم سی بیٹی کے لیے زہر الگاتا دیکھتیں اور زیادہ مضبوطی سے اسے خود سے قریب کرلیتی۔
’’بے اولاد اچھا تھا میرا بھائی… یہ منحوس آتے ہی نگل گئی میرے بھائی کو۔‘‘ چھوٹی نند نے سینے پر دو ہتپڑ مار کے اس سے پھول چھیننا چاہا تھا یوں جیسے ابھی اپنے ہاتھوں سے اسے چیر پھاڑ دے گی۔ ناہید نے دھکا دے کر اسے خود سے دور کیا۔
’’کیا کررہی ہو رابعہ… یہ اللہ کے کام ہیں‘ اس معصوم کا کیا قصور۔‘‘ ناہید نے ایک نظر سحر کے خوب صورت گلابی چہرے پر ڈالتے ہوئے رابعہ کو سمجھایا۔
’’رابعہ سچ کہہ رہی ہے ناہید۔‘‘ پڑوسن زبیدہ آپا نے بھی رابعہ کی تائید کی‘ وہ تو صدمے سے گنگ ہی رہ گئی۔
’’تیری بچی منحوس ہے‘ آتے ہی باپ کو نکل گئی‘ دیکھ لینا تیری جوانی تیرا بخت بھی نگل لے گی۔‘‘ اور وہ بھلے کتنی ہی تردید کرتی رہی‘ سب کو بار بار باور کراتی رہی کہ سب قسمت کے کھیل ہیں۔ معصوم سی سحر کا اس میں کوئی قصور نہیں لیکن لفظ ’’منحوس‘‘ اس کی گڑیا کی ذات سے جڑ کر رہ گیا تھا۔ وہ اسے نظر انداز کرنے لگی لیکن یہ تکلیف نئے سرے سے تب شروع ہوئی جب سحر بھی اپنے بارے میں لوگوں کی آراء کا مطلب سمجھنے لگی۔ اس کی مسکراتی آنکھوں میں لہر اس کا رنگ گہرا ہونے لگا‘ کبھی کبھار وہ لوگوں کے رویے سے تنگ آکر تنہائی کا شکار ہونے لگتی۔ بلاوجہ ہی رونا شروع ہوجاتی اور اس کے آنسو ناہید کا دل چھلنی کردیتے لیکن رفتہ رفتہ وہ بھی مضبوط ہونے لگی۔ ناہید کی محنت اور نصیحت سے وہ جلد ہی سنبھل گئی۔ ناہید اب اسے کم ہی کہیں لوگوں میں لے کر جاتی‘ اکیلے ہی اس کا اعتماد بڑھانے کی کوشش کرتی اور اس کی ساری توجہ پڑھائی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتی نتیجہ یہ نکلا کہ سحر نے بہت اچھے نمبروں سے ایم ایس سی کا امتحان پاس کرلیا۔ ناہید نے اس کے لیے اچھے رشتے دیکھنے شروع کردیئے تھے اور جلد ہی اللہ نے سبب بھی بنا دیا‘ لڑکا برسر روزگار تھا۔
اس کے والد احمد‘ صفدر کے ایک دورکے رشتہ دار تھے‘ شہر کی ایک بڑی مارکیٹ میں ان کی اپنی چار دکانیں تھیں۔ زمین دار بھی تھے‘ اچھا خاصا امیر کبیر خاندان تھا سو ناہید نے حامی بھرنے میں دیر نہ لگائی تھی۔ خود سحر بھی اس رشتے سے خوش تھی‘ لڑکا اس کا کلاس فیلو رہا تھا‘ وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی اور اس لڑکے نے اس سے بات کرنے کی بجائے اس کی ماں سے براہ راست رابطہ کیا تھا یہ بات سحر کو بے حد اچھی لگی تھی۔ وہ بے حد مسرور تھی‘ جب ایک صبح اس لڑکے کی امی آئیں اور قیامت ڈھاگئیں۔
خاندان میں کسی نے انہیں سحر کی ’’پیدائشی صفت (نحوست)‘‘ کے متعلق بتادیا تھا۔ لڑکا بھلے ہی جدید دور کا تھا لیکن اس کی ماں ان توہمات پر مکمل یقین رکھتی تھیں‘ سو لڑکے کی ایک نہ سنی گئی اور رشتہ توڑ دیا گیا تھا۔ سحر جیسے ٹوٹ کے بکھری تھی‘ سعد نے اس بار خود اس کی امی سے رابطہ کیا تھا۔ اس نے سحر سے بھی بات کرنا چاہی تھی لیکن اس نے قطعی طور پر منع کردیا تھا۔ اسے اپنی ذات سے جڑے لفظ ’’منحوس‘‘ سے نفرت تھی اور جو لوگ اس کی ذات سے یہ لفظ جوڑتے ان سے شدید ترین نفرت… وہ سعد کو معاف کر بھی دیتی تو اس کے گھر والوں کو وہ قطعی معاف نہیں کرسکتی تھی۔ اس لیے اس نے اس باب کو شروع ہونے سے پہلے ہی بند کردیا تھا۔
رفتہ رفتہ وہ سنبھلنے لگی‘ اس نے جلد ہی ایک اچھی کمپنی میں جاب کرلی تھی۔ سعد بھی اسی کمپنی میں جاب کرتا تھا‘ سعد نے ایک دو مرتبہ اس کی طرف پیش قدمی کی لیکن اس کے سرد رویے نے سعد کو دور رہنے پر مجبور کردیا۔
چند ہفتوں بعد ہی اس کے لیے خاندان سے ہی ایک اچھا رشتہ آیا تھا‘ اماں نے اس دفعہ اس کی رائے لینا ضروری سمجھا تھا۔ اس نے فیصلہ کا اختیار اماں کو دے دیا تھا‘ اماں نے اس بار سادگی سے اس کی بات طے کردی تھی۔ یہ منگنی ایک ماہ تک رہی‘ سحر کچھ پُرامید ہونے لگی تھی‘ لڑکے والے شادی کی جلد تاریخ مانگنے لگے تھے۔ اماں نے بلا تردد دو ماہ بعد کی تاریخ دے دی اور ٹھیک اسی دن لڑکے کے گھر کے ایک کمرے کی چھت گر گئی۔ کچھ بدخواہوں نے جاکر صاف صاف کہہ ڈالا کہ سب سحر کے نصیب کی وجہ سے ہوا ہے‘ ابھی تو شادی طے ہوئی تھی‘ شادی ہونے کے بعد مزید بھگت سکتے تھے اور لڑکے والے فوراً رشتہ توڑ گئے۔
اور اب تیسری مرتبہ… بات اس مرتبہ بھی نہ بن سکی تھی‘ اسے بھی اب یقین ہونے لگا تھا وہ منحوس تھی۔ وہ جو کل سرشام ہی سونے لیٹ گئی تھی‘ اس کا درد اماں سے مخفی کہاں تھا۔ وہ چادر میں چھپ کر اور اماں ساری رات جاء نماز پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی تھیں۔ اماں کے آنسو اسے مزید شرمندہ کرتے رہے صرف وہی تو تھی جو بچپن سے ان کے لیے دکھوں کا باعث تھی۔
’’سحر…‘‘ نہ جانے کب تک وہ یونہی لیٹے الٹا سیدھا سوچتی رہتی جب اماں اسے پکارتے ہوئے اس کے قریب آکر بیٹھ گئیں۔
’’سحر بیٹا… اٹھ جائو‘ کچھ کھالو۔‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی‘ اسے ہمیشہ اماں کو یوں تکلیف دینا بُرا لگتا تھا لیکن یہ سب اس کے اختیار میں بھی کہاں تھا جب بھی وقت نیا گھائو لگاتا وہ یونہی جیسے چادر میں خود کو چھپا لیا کرتی۔
’’رات بھی تم کھانا کھائے بغیر ہی سوگئیں۔‘‘ اماں اس کے نرم ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے محبت پاش لہجے میں بولیں‘ وہ بتا ہی نہ سکی کہ وہ تو ساری رات سو ہی نہ سکی تھی۔
’’اماں…؟‘‘ بکھرے بکھرے لہجے میں اس نے بمشکل ماں کو پکارا۔
’’جی اماں کی جان۔‘‘ ناہید نے لب اس کے ہاتھ پر ثبت کیے تھے۔
’’کیوں کرتی ہیں اتنا پیار مجھ سے‘ کیوں اٹھاتی ہیں میرے اتنے لاڈ جبکہ میری ذات نے صرف آپ کو دکھ ہی دکھ دیئے ہیں۔‘‘ وہ ان کے ہاتھوں پر چہرہ رکھ کے رو دی‘ اماں نے اسے خود سے لگا لیا۔
’’نہ سحر… ایسے نہیں کہتے بیٹا۔‘‘ اماں کی پلکیں بھی بھیگنے لگیں۔
’’نہیں اماں… اب آپ بھی مان لیں‘ میں واقعی منحوس ہوں۔ میری وجہ سے ہی بابا کی ڈیتھ ہوئی اور آپ کی ساری زندگی‘ ساری خوشیاں میری نحوست کھا گئی۔‘‘ وہ بلکنے لگی۔
’’استغفار کرو لڑکی… کیوں لوگوں کی طرح خود کو گناہ گار کرنے پر تلی ہو ’’کُن‘‘ کا اختیار صرف اس رب جلیل کے ہاتھ میں ہے۔ ہم خاکی لوگ ہیں‘ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس طرح کے توہمات میں پڑنا صرف شرک ہے‘ کفر ہے۔ اللہ پر کامل یقین ہونا چاہیے‘ سب اس پر چھوڑ دینا چاہیے۔‘‘ وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے بولیں۔
’’تو پھر یہ سب کیا ہے اماں؟‘‘
’’یہ سب آزمائش ہے اور میرا رب اپنے پیاروں کو آزماتا ہے۔‘‘ اماں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اپنے اللہ پر یقین ہی ہے جو تمہارے بابا کے انتقال کے بعد بھی اس پاک ذات نے مجھ کسی در کا محتاج نہیں بننے دیا۔ یقین کرو سحر… جب بندہ اپنے آپ کو رب کی حفاظت میں دے دیتا ہے نہ تو اسے اس دنیا کے جھوٹے حیلوں کا آسرا نہیں رہتا۔ مشکل ہو یا خوشی‘ سب وقتی ہے اور وقت تو گزر جاتا ہے ناں بیٹا…‘‘ اماں اس کے لمبے کالے بال سہلا رہی تھیں۔ سکون سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
’’اچھا… اب جلدی سے منہ ہاتھ دھوکر باہر آجائو‘ میں نے تمہارے لیے شامی کباب بنائے ہیں‘ چائے بھی ادرک اور دم والی۔‘‘
’’سچی…‘‘ وہ کھل اٹھی۔
’’ہاں‘ جلدی سے کھالو‘ پھر بھلے دوبارہ سو جانا۔‘‘ اماں نے مسکراتے ہوئے اس کی پیشانی چومی اور باہر نکل گئیں‘ سحر اٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
/…ء…/
آفس میں آج سارا دن بہت مصروف رہا تھا‘ جب سے اس کی آفس برانچ تبدیل ہوئی تھی وہ بے حد مضطرب رہنے لگا تھا ایک ہی آفس میں ہوتے ہوئے بھلے وہ سحر سے بات کرنے میں کامیاب نہ ہوتا لیکن کم از کم وہ اس کے سامنے رہتی تھی۔ آفس ورکز کے ذریعے اس کی ذات سے جڑی خبریں اس تک پہنچ جاتیں اور اس طرح وہ اس کے حالات سے آگاہ رہتا تھا لیکن اب تو جیسے ہر طرف اندھیرا سا محسوس ہوتا تھا۔
کبھی کبھی اسے خود پر بے اختیار غصہ بھی آتا تھا‘ سحر کے سرد ترین رویے کے باوجود اس کا دل تھا کہ اسی کی طرف ہمکتا رہتا تھا لیکن وہ اس معاملے میں مکمل طور پر بے بس تھا ویسے بھی اسے اچھی طرح پتا تھا کہ اس کی محبت یک طرفہ تھی۔ سحر سے نہ تو اس معاملے پر اس کی کوئی بات ہوئی تھی‘ نہ ہی سحر کی طرف سے ایسی کوئی پیش قدمی جو اس کے جذبات کو حوصلہ دیتی۔ صرف ایک کسک دیتی یاد تھی جو اسے ذرا سا یقین بخش دیتی کہ سحر بھی اسے پسند کرتی ہے اور وہ یاد اس کی ختم شدہ منگنی سے جڑی ہوئی تھی۔ منگنی والے دن وہ چند لمحوں کی ملاقات اور سحر کا شرماتا‘ مسکراتا روپ۔ سحر کی آنکھوں میں چھلکتی سچی خوشی سعد کے دل کو تسلی دیتی اور وہ بے اختیار دوبارہ اس سے ملنے کی امید باندھ لیتا۔
آج بھی اس نے کام ختم ہوتے ہی اپنے انچارج سے پرانی برانچ میں شفٹ ہونے کی بات کی اور اس نے اسے تسلی بھی کرائی تھی کہ وہ ہیڈ آفس اس کی بات ضرور پہنچائے گا۔ وہ آفس سے نکلا تو شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے‘ گاڑی پارکنگ سے سڑک پر آئی تو اس کا سیل بجنے لگا۔ اس نے بے زاری سے موبائل کی اسکرین دیکھی‘ اس کی پرانی کولیگ زویا کی کال تھی خودبخود اس کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔
’’تمہاری کال گویا زندگی کی نوید ہوتی ہے۔‘‘ کال پک کرتے ہوئے اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ دوسری طرف زویا کھلکھلائی۔
’’اس دن جب سحر کی منگنی کا بتایا تھا تب تو بہت غصہ ہوئے تھے۔‘‘ وہ جتاتے ہوئے بولی۔
’’معذرت بھی تو کرلی تھی فوراً۔‘‘ وہ مسکرایا۔
’’پھر تم نے خبر بھی تو ایسی دی تھی جیسے میرے دل پر خنجر چلا دیا ہو۔‘‘ سعد نے موڑ کاٹتے ہوئے بات مکمل کی‘ دوسری طرف زویا نے قہقہہ لگایا۔
’’اور مجھے قطعی امید نہ تھی کہ آج تم میرا فون اٹھائو گے۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’تم ہمیشہ سحر کے حوالے سے ہی بات کروگی‘ میں جانتا ہوں تبھی ایسا کبھی سوچنا بھی مت۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولا۔
’’اور اگر آج خبر اس کی منگنی یا شادی کے حوالے سے دوں تو کیا تم تب بھی سن سکوگے سعد احمد؟‘‘ زویا کے لہجے میں شرارت امڈ آئی۔
’’ری ایکٹ جیسے بھی کروں‘ پر خبر سنوں گا ضرور۔ تم جانتی ہو سحر میرے لیے سانس جیسی ہے‘ بس کسی طرح اس کا ذکر ہو تو زندگی چلے ورنہ تو دم رکنے لگتا ہے۔‘‘ ایک چوک پر رکتے ہوئے وہ بھاری لہجے میں بولا۔
’’ہائے صدقے…‘‘ زویا ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی۔
’’کبھی کبھی تمہاری محبت مجھے حیران کردیتی ہے‘ پُرشوق اور خود میں مست‘ محبوب کے ذکر کو راحت جاں سمجھنے والا اور کبھی کبھی تم مجھے پاگل لگتے ہو۔‘‘ اس کی بات پر وہ ہنس دیا۔
’’اچھا… اب خبر بھی نشر کردو‘ میں ڈرائیونگ کررہا ہوں۔‘‘ روڈ پر رش بڑھ گیا تھا‘ اس نے کار کی رفتار کم کردی۔
’’سحر کی یہ منگنی بھی ٹوٹ گئی۔‘‘ پیر خودبخود بریک پر جا پڑا تھا۔ اس نے تیزی سے اسٹیئرنگ موڑا‘ گاڑی ایک چنگھاڑ کے ساتھ سڑک کے کنارے بنے پیٹرول پمپ کے وسیع احاطے میں کافی آگے جاکر رکی تھی۔
’’سعد…‘‘ زویا تیز آواز سن کر چلائی‘ پیٹرول پمپ کے صحن میں بیٹھے دھوپ سینکتے لوگ بھی اس کی طرف بھاگے تھے اس نے کھڑکی سے ہاتھ ہلا کر ان کو جیسے مطمئن کیا تھا۔
’’سعد…!‘‘ زویا نے پھر پکارا۔
’’ہاں… میں سن رہا ہوں۔‘‘ اس نے سیٹ سے ٹیک لگاتے ہوئے دھیرے لہجے میں کہا۔
’’تم ٹھیک ہو؟‘‘ زویا پریشان ہوئی۔
’’ہاں… ڈونٹ وری‘ میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس کی آواز اب بھی بے حد مدہم تھی۔
’’تمہیں خوشی نہیں ہوئی اس بریک اپ کی۔‘‘ زویا بمشکل بول پائی۔
’’سحر کو مسلسل تیسری چوٹ ملی ہے‘ میں خوش کیونکر ہوسکتا ہوں۔‘‘ بند آنکھوں سے بغاوت کرتا ایک آنسو اس کے گال پر لڑھکتا چلا گیا۔
’’نہ جانے اس لڑکی کے مقدر میں کیا لکھا ہے۔‘‘ زویا کو اس کے لفظ سن کر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی اس نے تو سوچا تھا سعد خوشی سے جھوم اٹھے گا یہ خبر سن کر۔
’’آئی ایم رئیلی سوری سعد…‘‘ وہ واقعی شرمندہ ہوئی۔
’’سحر کے لیے دعا کیا کرو زویا… دعا سب سے بہترین اور قیمتی تحفہ ہے جو بنا کوئی قیمت چکائے ہم بآسانی اپنے پیاروں کو گفٹ کرسکتے ہیں اور…‘‘ سعد نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا پھر ایک دم خاموش ہوگیا۔
’’اور… کیا سعد؟‘‘ زویا نے پوچھا۔
’’اور میرے لیے بھی دعا کرنا زویا… تم جانتی ہو‘ مجھے کتنی ضرورت ہے۔‘‘ نہ جانے کیوں اس کا لہجہ بھرا رہا تھا‘ وہ گاڑی آگے نہ بڑھا سکا۔
’’میں دعاکروں گی سعد… اس اداس لڑکی کی زندگی میں صرف سعد احمد جیسا بھرپور شخص ہی آئے اس کی زندگی مکمل کرنے کے لیے۔‘‘ اس نے سچے دل سے وعدہ کیا‘ سعد اداسی سے مسکرا دیا۔
’’اللہ حافظ۔‘‘
’’فی امان اللہ!‘‘ کہتے ہی سعد نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
/…ء…/
’’کیا بات ہے امی؟‘‘ وہ جب سے آفس سے آئی تھی‘ ماں کے چہرے پہ اضطراب نوٹ کررہی تھی۔ پہلے تو وہ نظر انداز کر گئی مگر کھانا کھاتے ہوئے بھی اس نے واضح طور پر یہ محسوس کیا کہ اماں اس کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی وہاں نہیں تھیں۔ وہ آج کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا رہی تھیں۔ ایک نوالہ لے کر اتنی دیر چباتیں جیسے اگلا نوالہ لینا بھول ہی گئی ہوں تو وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی اور تب مزید پریشان ہوئی جب اماں نے اس کی آواز تک نہ سنی یونہی سوچوں میں گم نوالہ چباتی رہیں۔
’’اماں…‘‘ اس نے ماں کے کندھے کو ذرا سا ہلا کر ان کو پکارا تو وہ بُری طرح چونکیں۔
’’ہاں۔‘‘ وہ اس کی طرف دیکھنے لگیں۔
’’تم کھانا کیوں نہیں کھا رہیں‘ یہ دال تو چکھو‘ لہسن کا تڑکہ لگایا ہے‘ تمہیں بہت پسند ہے نا۔‘‘ اماں اس سے نظریں چراتے ہوئے دال کی پلیٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولیں۔
’’اماں‘ میں کب کا کھانا کھاچکی ہوں‘ آپ نہیں کھا رہیں اور یہی میں پوچھ رہی ہوں کہ کیوں؟‘‘ اس نے پیار سے ماں کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
’’بات کیا ہونی ہے‘ اصل میں گرم گرم روٹی پکاتے وقت کچھ بھوک لگی تو دال کے ساتھ کھالی۔ اس لیے اب بس تمہارا ساتھ دینے کے لیے چند لقمے لے لیے۔‘‘ اماں نے جیسے اسے ٹالا‘ وہ فی الوقت سر ہلا گئی۔ برتن سمیٹے‘ کچن کو صاف کیا پھر نماز پڑھنے چلی گئی۔ واپس آئی تو اماں بھی نماز پڑھ کر تسبیح میں مصروف تھیں لیکن اس وقت بھی ان کا دھیان کہیں اور تھا وہ جاکر ان کے قریب ہی زمین پر بیٹھ گئی اور سر اماں کے کندھوں سے ٹکادیا۔
’’تھک گئی ہو؟‘‘ اماں نے چونکتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
’’نہیں اماں۔‘‘ وہ سر اٹھاتے ہوئے بولی۔
’’پریشان ہوگئی ہوں۔‘‘ اماں کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے کہا۔
’’یااللہ خیر… دفتر میں کوئی بات ہوئی کیا؟‘‘ اماں کا دل ہول اٹھا۔
’’نہیں اماں۔‘‘
’’تو پھر۔‘‘
’’گھر میں کوئی بات ہوئی ہے؟‘‘ اس کی بات پر اس نے واضح طور پر اماں کو نظریں چراتے دیکھا تھا‘ وہ مسکرادی۔
’’میں ذرا چائے لے آؤں‘ تم ٹھیک گئی ہوگی۔‘‘ وہ اٹھنے لگیں‘ سحر نے ان کے ہاتھ پکڑ کر ان کو روک لیا۔
’’آپ کیا چھپا رہی ہیں اماں؟‘‘ ناہید نے نم ہوتی آنکھوں سے سحر کو دیکھا۔ زندگی کی 26 بہاریں دیکھنے کے باوجود اس کے چہرے پر بچپن والی پاکیزگی اور معصومیت تھی‘ ان کا دل کرتا وہ اپنی بچی کی راہ کا ہر کانٹا اپنے ہاتھوں سے چن لیں لیکن نصیبوں پر کس کا زور چلتا ہے۔
’’اماں…‘‘ سحر نے ان کا ہاتھ دبایا۔
’’تمہاری چھوٹی پھوپو آئی تھیں۔‘‘ اماں مدہم آواز میں اسے بتانے لگیں۔
’’اوہ… مطلب پھر آج وہ آپ کو میری نحوست کے طعنے دے کر گئی ہوں گی۔‘‘ پل بھر میں سحر کو ساری بات سمجھ آگئی۔
’’تم جانتی ہو‘ مجھے اس کے طعنوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ اور واقعی ایسا ہی تھا‘ ناہید کو کسی کے خیالات سے کوئی سروکار نہ تھا‘ وہ صرف اللہ پر کامل یقین رکھتی تھیں اور انہیں ہمیشہ اچھے کی امید رہتی تھی۔
’’تو پھر کیا بات ہے اماں؟‘‘ سحر الجھی۔
’’آج خالہ رضیہ بھی آگئیں۔‘‘ ناہید نے اٹھتے ہوئے بتایا۔
’’وہ رشتے کروانے والی خالہ…‘‘ سحر بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ہاں۔‘‘ اماں نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے مختصر جواب دیا۔
’’پھر کوئی رشتہ لائی ہوں گی‘ صاف منع کردیجیے گا اس بار۔‘‘ وہ بے زاری سے بولی۔
’’خالہ رضیہ نے رابعہ کے سامنے بتایا کہ پہلی دونوں جگہوں پر تمہاری برائی تمہاری سگی پھوپو نے ہی کی ہے۔‘‘ اماں نے رک رک کر بولتے ہوئے گویا بم پھوڑا تھا لیکن سحر فقط دھیرے سے مسکرادی۔
’’تو اس بات پر آپ پریشان ہیں‘ اماں… ان لوگوں سے آپ نے اچھے کی توقع بھی کیوں رکھی بھلا؟‘‘ سحر ان کا ہاتھ سہلانے لگی۔
’’نہیں… پریشان اس بات سے ہوں کہ کہیں تمہارے راستے میں آگے بھی یہ لوگ کانٹے نہ بچھائیں۔‘‘
’’اللہ ہے نہ اماں… پھر آپ کی دعا بھی تو ہے میرے ساتھ۔‘‘ اماں مسکرا دیں۔
’’میری دعا تو بس تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ انہوں نے پیار سے اس کا ماتھا چوما۔
’’اچھا… اب آپ آرام کریں اور اچھا سوچیں‘ میں ابھی چائے لاتی ہوں۔‘‘ وہ کچن کی طرف بڑھ گئی‘ اماں اسے محبت پاش نگاہوں سے دیکھتی رہیں۔
خ…ء…خ
آج زویا نے اسے گھر چھوڑنے کی ریکوئسٹ کی تھی‘ کسی وجہ سے اس کا بھائی اسے لینے نہیں آیا تھا۔ ٹیکسی میں بیٹھنے کی وہ عادی نہیں تھی سو اسے یہی غنیمت لگا کہ سعد کی مدد لے۔ سعد نے فوراً حامی بھرلی تھی اور فارغ ہوتے ہی بس ایک میسج کرنے کا کہا تھا تقرباً تین بجے کے قریب اسے زویا کا پیغام ملا‘ وہ نکل رہی تھی۔ سعد بھی انچارج کو انفارم کرکے باہر نکل آیا‘ تیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ زویا کے آفس کے سامنے کھڑا تھا‘ زویا اس کے انتظار میں باہر ہی کھڑی تھی‘ فوراً گاڑی میں بیٹھ گئی۔
’’سحر چلی گئی یا ابھی آفس میں ہے؟‘‘ متلاشی نظروں سے دائیں طرف دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’آئی ہی نہیں آج وہ۔‘‘ زویا مسکرائی‘ سر ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھادی۔
’’خیریت؟‘‘ مین روڈ پر آتے ہی سعد نے سوال کیا۔
’’طبیعت خراب تھی کچھ‘ موسم کی وجہ سے شاید۔‘‘ زویا نے جواب دیا۔
’’اس دفعہ تو سردی سے زیادہ یہ دھواں پڑا ہے‘ جسے دیکھو فلو‘ کھانسی کا شکار نظر آتا ہے۔‘‘ سعد نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ایک بات کہوں سعد…‘‘ زویا اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
’’ہاں کہو۔‘‘ وہ بدستور سامنے دیکھ رہا تھا۔
’’تم سحر سے بات کیوں نہیں کرتے۔‘‘
’’تم جانتی ہو میں کئی بار کوشش کرچکا ہوں۔‘‘
’’آفس میں نہیں‘ میں کہیں باہر ملنے کی بات کررہی ہوں۔‘‘
’’تمہیں کیا لگتا ہے جو لڑکی مجھ سے آفس میں بات نہیں کرنا چاہ رہی وہ میرے ساتھ کہیں باہر چلے جائے گی؟‘‘
’’کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔‘‘
’’مطلب…!‘‘ سعد نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔
’’مطلب اس بار اگر میں تمہاری مدد کروں تو…‘‘ زویا مسکرائی۔
’’اوہ رئیلی…!‘‘ سعد چہک اٹھا۔
’’ہاں اور مجھے یقین ہے وہ میرے ساتھ آنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرے گی۔‘‘ زویا پر یقین تھی۔
’’وہ تم سے بدظن نہ ہوجائے‘ دیکھ لو۔‘‘ سعد نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’کچھ نہیں ہوگا ویسے بھی تم پہلے سے وہاں نہیں ہوگے میں جب کسی بہانے سے اٹھوں گی تو تم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے آنا۔ اسے شک نہیں ہوگا پھر ہم کوئی غلط کام تو نہیں کررہے۔ میں تم سے زیادہ یہ سب سحر کے لیے ہی کر رہی ہوں۔‘‘ وہ مطمئن تھی۔
’’پھر تو میں ضرور ملنا چاہوں گا۔‘‘ اس بار وہ کھل کے مسکرایا۔
’’اور مجھے یقین ہے تم اسے اس بار ضرور قائل کرلو گے۔‘‘
’’قائل نہ بھی کرسکا تو کم از کم اپنے دل کا بوجھ تو ہلکا کر ہی دوں گا۔ کچھ بوجھ تو اس کے دل پر بھی پڑے نہ‘ محبت ہو نہ ہو کچھ دن میرے بارے میں سوچے گی ضرور‘ بے چین بھی رہے گی۔‘‘ وہ شرارت سے کہہ رہا تھا۔
’’اوہ… بدلہ۔‘‘ زویا نے سیٹی سی بجائی۔
’’ہاں بدلہ۔‘‘ سعد نے اس کی طرف جھکتے ہوئے پراسرار ہوتے لہجے میں کہا‘ زویا قہقہہ لگا کے ہنس دی۔
خ…ء…خ
’’سحر… بیٹا کل آفس سے ذرا رابعہ کی طرف چلی جانا۔‘‘ وہ آفس کے لیے اپنا ڈریس پریس کررہی تھی‘ اماں کی بات پر اس کے چہرے پر بے زاری سی پھیل گئی۔
’’اب کون سی تقریب رکھ دی اماں انہوں نے۔‘‘ وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔
’’بُری بات‘ اپنوں کے ذکر پر یوں منہ نہیں بناتے۔‘‘
’’جی اور یہ اپنے آپ کے ساتھ جو چاہیں کریں۔‘‘ وہ چڑگئی۔
’’ہمیں اپنی راہ پر چلنا ہے کسی کی منزل ایک نہیں ہوتی۔ سب کے لیے اللہ نے الگ رکھا ہے‘ وہ ہمارے ساتھ کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘ اماں نے اسے سمجھایا۔
’’میں ویسی نہیں ہوں اماں۔‘‘ وہ کپڑے ہینگر کرتے ہوئے بولی۔
’’نہ ہی ان کی طرح کرنا چاہتی ہوں مگر بس پتا نہیں کیوں‘ دل رشتوں سے بے زار رہنے لگا ہے۔‘‘ وہ اداس ہونے لگی۔
’’رشتے ہمیشہ ساتھ کہاں رہتے ہیں‘ جگہ‘ مقام‘ حیثیت سے بدلتا رہتا ہے۔ لوگ بھی بدل جاتے ہیں تب کیفیت بھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ تم بھی ان شاء اللہ ایسے رشتوں میں بندھو گی کہ بے زاری بھول جائو گی‘ صرف مسرت اور محبت ہوگی۔‘‘ اماں نے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ لیتے ہوئے کہا‘ وہ مسکرادی۔
’’خیر اماں… میں بتانا بھول گئی‘ کل تو آفس کے بعد زویا کے ساتھ جانا ہے مجھے شاپنگ کرنے۔‘‘ وہ ماں کو بتانے لگی۔
’’زویا سمجھ دار بچی ہے‘ تم کسی اور دن کا پروگرام بنالو۔‘‘
’’نہیں اماں… آپ رابعہ پھوپو سے معذرت کرلینا کیونکہ کل ہاف ڈے ہے پھر کام کا برڈن بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہمارا جانا ضروری ہے۔‘‘ اس نے قطعی لہجے میں کہا تو ناہید سر ہلا کر رہ گئیں۔
’’چلو ٹھیک ہے میں خود چلی جائوں گی۔‘‘
’’ویسے تقریب کس سلسلے میں ہے؟‘‘ اسے خیال آیا۔
’’نائلہ کی سالگرہ کا کہہ رہی تھیں‘ اسی خوشی میں کھانا ہے اور ڈھولک بھی رکھوائی ہے۔‘‘ اماں تفصیل بتانے لگیں۔
’’ہمم… ناچ گانے کے نت نئے بہانے…‘‘ وہ منہ بناکر بولی۔
’’بڑا بول نہیں بولتے توبہ کرو اللہ سے۔‘‘ اماں نے پھر ڈرایا۔ وہ فوراً کان کو ہاتھ گلا کر استغفار کرنے لگی‘ اماں اس کی حرکت پر مسکرادیں۔
خ…ء…خ
اسے انتظار کرتے پندرہ منٹ سے اوپر ہوگئے تھے‘ نہ جانے زویا اسے وہاں بٹھا کر کہاں غائب ہوگئی تھی۔ شاپنگ کے بعد تھکن سے نڈھال وہ وہاں کچھ کھانے پینے آئے تھے‘ زویا اپنی کوئی چیز بھول گئی تھی وہ اسے دس منٹ کا کہہ کر گئی تھی اور ابھی تک غائب تھی۔ سحر نے اس کی تلاش میں بیرونی دروازے کی طرف نگاہ کی اور ساکت رہ گئی۔ سعد اندر آرہا تھا‘ اتفاق سے اس کی بھی نظر پڑچکی تھی‘ سحر نے نظریں موڑ لیں‘ سعد سیدھا اس کی طرف چلا آیا۔
’’سحر…! تم یہاں…؟‘‘ وہ یوں اس سے مخاطب ہوا کہ جیسے پرانا دوست ہو۔
’’جی‘ زویا کے ساتھ آئی تھی۔‘‘ وہ مختصر بولی۔
’’وائو… زویا بھی ساتھ ہے۔‘‘ وہ بے فکری سے کہتا کرسی سنبھال گیا۔ سحر اندر ہی اندر تپ کے رہ گئی‘ کئی لمحے خاموشی سے سرک گئے۔
’’بہت دنوں بعد دیکھ رہا ہوں تمہیں۔‘‘ بھاری لہجے پر سحر کی نظریں یکبارگی اٹھیں اور ساکت رہ گئیں۔ یہ وہ سعد تو نہیں تھا‘ ہشاش بشاش سا‘ نرم مسکراہٹ والا‘ خوش مزاج سعد۔ وہ تو کئی سالوں کا تھکن زدہ‘ پریشان حال نظر آرہا تھا۔
’’تھوڑی دیر بات تو کر ہی سکتے ہیں‘ کولیگ بھی رہے ہیں ہم آخر۔‘‘ سعد کے چہرے پر اداس مسکراہٹ تھی‘ نظریں مسلسل سحر کے چہرے کا طواف کررہی تھیں۔ وہ چاہ کر بھی کوئی تلخ جواب نہ دے سکی‘ سعد کچھ لمحے خاموش رہا۔
’’پتا ہے سحر… کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں‘ جب تمہارے ساتھ میرا نصیب نہیں جڑا تھا تو میرے دل کو تمہاری تڑپ کیوں بخشی گئی۔‘‘ گمبھیر بھاری لہجہ‘ سحر کی آنکھیں جلنے لگیں۔
’’اور اس سے بھی زیادہ حیرانگی مجھے اس بات پر ہوتی ہے کہ میری یہ تڑپ کیوں تمہارے دل پر دستک نہیں دے پاتی۔ جس آگ نے میرا من‘ میری روح تک سلگا دی ہے اس کی ذرا سی آنچ تو تمہیں بھی پہنچنی چاہیے تھی نہ‘ میں اکیلا نشانہ کیوں؟‘‘ وہ خاموش رہی۔
’’کوئی تو راہ نکالو سحر… میں تمہارے لیے ساری دنیا چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘ وہ اٹل لہجے میں بولا۔
’’میں صرف اپنے لیے آپ کو ساری دنیا سے الگ نہیں کرسکتی سعد… پھر قصور آپ کا نہیں اور جن کا ہے انہیں میں معاف نہیں کرسکتی۔ ایم سوری…‘‘ اس نے صاف معذرت کی‘ سعد ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بایاں بازو دوسری کرسی کی پشت کے پیچھے ڈال کر ٹیک لگاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
’’میرے چھوٹے بھائی کی منگنی ہوئی ہے کچھ ماہ پہلے‘ اس کے چند دن بعد ہی ہماری ایک بڑی دکان جل کر راکھ ہوگئی۔ اماں نے فوراً منگنی توڑ دی۔‘‘ سحر حیرانگی سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی‘ وہ اسے یہ سب کیوں بتارہا تھا۔
’’میرے بھائی نے خودکشی کی کوشش کی لیکن بچ گیا اور اماں اس کی جان بچانے کے لیے دوبارہ اس لڑکی کے گھر منت کرنے گئیں۔‘‘ وہ خاموشی سے سنے جارہی تھی۔
’’میں تمہارے لیے سب کرتا رہا‘ ماں باپ کو سمجھاتا رہا تمہیں مناتا رہا۔ اللہ کے سامنے گڑگڑاتا رہا‘ بس یہ خودکشی والا کام نہ کرسکا مجھے معاف کردینا سحر…‘‘ وہ سب کہہ کر اٹھ کر چل دیا تھا۔ سحر دیر تک اس کے لفظوں کے حصار میں قید رہی تھی۔
خ…ء…خ
’’سحر… سر بلا رہے ہیں تمہیں اندر۔‘‘ زویا نے اس کے آفس آتے ہی اطلاع دی۔
’’آج دیر ہوگئی کافی‘ لگتا ہے ڈانٹ پڑے گی۔‘‘ سحر گھبرائی‘ زویا مسکرا رہی تھی۔
’’نئے ڈائریکٹر آئے ہیں‘ ڈونٹ ویری‘ بس فائل ورک چیک کریں گے۔‘‘ زویا نے خبر دی۔
’’شکر۔‘‘ سحر کی جان میں جان آئی‘ وہ پرس رکھ کے سر کے روم کی طرف بڑھ گئی۔
’’یس…‘‘ دستک دیتے ہی آواز سنائی دی تھی‘ سحر اندر چلی آئی اور اگلے ہی لمحے ٹھٹک گئی۔ سامنے سعد بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
’’آیئے مس سحر… میں آپ کا ہی انتظار کررہا تھا۔‘‘ وہ بالکل پیشہ ورانہ انداز میں اس سے مخاطب ہوا اس کے باوجود بھی وہ قدم آگے نہ بڑھا سکی۔
وہ جتنا اس شخص سے بھاگتی‘ اسی قدر قسمت اسے اس کے سامنے لاکھڑا کردیتی جو منزل اس کی تھی ہی نہیں۔ راستے بار بار اسی طرف نکل آتے تھے‘ نہ جانے کیوں؟ وہ سوچے گئی۔
’’مس سحر… بیٹھیے پلیز۔‘‘ سعد نے دوبارہ پکارا تو وہ چونک کر آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’آپ کا ریکارڈ بہت اچھا ہے‘ کافی ایکٹو ممبر ہیں آپ ہماری۔‘‘
’’شکریہ سر…‘‘ وہ کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔
’’میں امید کرتا ہوں آپ میرے ساتھ بھی اسی طرح کوآپریٹ کریں گی‘ مجھے آپ کی کافی مدد درکار ہوگی۔‘‘ سعد کے ہونٹوں پر شرارت مچل رہی تھی اور وہ خوب صورت سوبر سا نوجوان سحر کو اس وقت ڈسکوری چینل کی کسی ڈاکیومنٹری کا بندر لگ رہا تھا۔
’’کاش کہ میں اپنے دل کی بات اسے بتا پاتی۔‘‘ وہ اندر ہی اندر بل کھاتی رہی۔
’’جو بھی کہنا ہے کہہ دیں‘ آپ کے لفظ قابل احترام ہیں۔‘‘ وہ مزید مسکرایا‘ سحر کی جان جل گئی۔ وہ اس کے چہرے کو پڑھ رہا تھا۔
’’کاش میں یہاں سے غائب ہوجاتی۔‘‘ اس نے جلتے ہوئے حسرت کی۔
’’آپ جب چاہیں میرے کیبن میں آ اور جاسکتی ہیں۔ آپ کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس کی شریر مسکراہٹ گہری ہوتی جارہی تھی۔ سحر نے تیزی نے سر ہلایا‘ اٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ سعد دروازہ بند ہوتے ہی کھل کر ہنس دیا تھا۔
خ…ء…خ
’’تم مجھے بتا نہیں سکتی تھیں کہ نئے باس سعد ہیں۔‘‘ باہر آتے ہی وہ زویا پر پل پڑی۔
’’میں نے سوچا‘ جس طرح مجھے سرپرائز ملا ویسے ہی تمہیں بھی حیران ہونے دوں۔‘‘ زویا نے کہا تو اس نے زور سے اس کے بازو پر چٹکی کاٹی‘ وہ سی کرکے رہ گئی۔
’’میں حیران نہیں پریشان ہوکر رہ گئی ہوں۔‘‘ دونوں ہاتھوں میں سر دیئے وہ کرسی پر ڈھے سی گئی۔
’’پاگل ہو تم سحر… اس میں ایسی کیا بات ہے؟‘‘ زویا خفا ہوئی۔
’’بات ہے زویا… میں اس شخص سے جس قدر دور بھاگتی ہوں‘ وہ اتنا ہی میرے قریب چلا آتا ہے میں اس کی آنکھوں میں جس قدر واضح اور خوب صورت عکس اپنا دیکھتی ہوں تو ڈر جاتی ہوں‘ کہیں وہ عکس اور سارے منظر مٹا نہ دے۔ سعد کے گھر والے مجھے قبول نہیں کرسکتے اور میں ہرگز نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے سعد اپنے گھر والوں سے دور ہو۔‘‘ وہ واقعی پریشان تھی۔
’’اس کے گھر والے تمہاری وجہ سے نہیں‘ اپنی ضد کی وجہ سے سعد سے دور ہوں گے اور وہ بھی فضول ضد کی وجہ سے۔‘‘ زویا تلخ ہوئی۔
’’میں بحث نہیں کرنا چاہتی زویا… جو کچھ ہوا‘ وہ بیت گیا لیکن اب میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے سعد مزید ہرٹ ہو یا میں مزید بکھروں جو کچھ بھی تھا یک طرفہ تھا پھر سعد کے نام کی انگوٹھی پہننا۔ وہ بھی بہت انوکھا تھا مگر اب سب کچھ ختم ہوچکا ہے زویا… میں مزید نہیں بکھرنا چاہتی‘ نہ ہی میں اپنی قسمت کی سیاہی سعد کی زندگی میں لانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ مایوس تھی۔
’’پاگل ہو سحر… اتنی پڑھی لکھی ہوکر تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو‘ تم جیسی معصوم‘ پُرخلوص دل والی لڑکی کبھی منحوس ہوہی نہیں سکتی۔‘‘ زویا ناراضگی سے اسے ڈانٹنے لگی۔
’’یااللہ! میں جائوں تو جائوں کہاں۔‘‘ وہ بنا سر اٹھائے‘ ٹیبل پر انگلیاں پھیرتی آنسو بہاتی رہی‘ زویا کچھ اور نہ کہہ سکی۔
خ…ء…خ
وہ بیڈ پر اخبار پھیلائے بیٹھی تھی‘ اماں چائے لے کر آئیں تو حیران ہوئیں۔
’’آج اتنے عرصے بعد پھر کیوں اخبار اٹھا لائیں۔‘‘
’’اماں… نوکری تلاش کرنی ہے۔‘‘ اخباروں میں سر دیئے اس نے جواب دیا تھا۔
’’نوکری… لیکن کیوں؟ اس قدر اچھی جگہ تو چل رہی ہے نوکری۔‘‘ اماں پریشان ہوئیں۔
’’وہاں میں نے استعفیٰ دے دیا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ ماں کے سوال پر وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
’’اماں آپ کو سعد یاد ہے۔‘‘ اماں کا چہرہ بجھتا دیکھ کر وہ حیران ہوئی‘ اسے امید نہیں تھی کہ اماں کو سعد یاد ہوگا۔
’’وہ اب میرے باس بن گئے ہیں۔‘‘ اس نے ماں کو بتایا۔
’’اوہ… تو یہ بات ہے۔‘‘ اماں ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئیں۔
’’جی۔‘‘ وہ دوبارہ کام میں مگن ہوگئی۔
’’کتنا پیارا بچہ ہے‘ سچ کہوں تو اس کے علاوہ مجھے کوئی اور تمہارے قابل ہی نہیں لگتا۔‘‘ اماں کی آواز میں ان کی حسرت بول رہی تھی۔
’’اماں نہ سوچا کریں اتنا۔‘‘ وہ بے زار ہوئی۔
’’اولاد کے لیے کون نہیں سوچتا بھلا۔‘‘ اماں بولیں۔
’’ہونا تو وہی ہے جو قسمت میں لکھا ہے تو سوچنے کا فائدہ۔‘‘ وہ کچھ زیادہ ہی مایوس ہونے لگی تھی‘ اماں نے اداسی سے اس کے خوب صورت چہرے پر نگاہ کی تھی۔
’’اللہ تمہارے نصیب روشن کرے۔‘‘ دعا کرکے وہ اٹھ گئیں اور نہ جانے کیوں نہ چاہتے ہوئے اس کے لب آمین بول گئے تھے۔
خ…ء…خ
’’ہیلو…‘‘ زویا کی کال تھی‘ اس نے کچھ سوچتے ہوئے کال پک کی۔
’’تم پاگل ہوگئی ہو؟‘‘ زویا نے اس کی آواز سنتے ہی تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں کوئی شک ہے کیا؟‘‘ اس نے جیسے مکھی اڑائی‘ زویا کچھ دیر خاموش رہی۔
’’تم کرنا کیا چاہتی ہو سحر؟‘‘ دوسری بار اس کی آواز میں ٹھہرائو تھا۔
’’مجھے یقین ہے‘ میرے ارادے تمہیں سعد ضرور بتاچکا ہوگا۔‘‘ سحر بے پروائی سے بولی۔
’’میں شام کو تمہارے گھر آرہی ہوں‘ تفصیل سے بات ہوگی۔‘‘ زویا نے کہا تو وہ مسکرادی۔
’’موسٹ ویلکم… مگر پلیز مجھ پرکوئی پریشر ڈالنے کی کوشش مت کرنا۔‘‘ سحر نے کہا۔
’’دیکھتے ہیں کیا کرنا چاہیے‘ کیا نہیں۔‘‘ زویا نے کہہ کر کال بند کردی وہ کچھ دیر یونہی بیٹھی موبائل کو گھورتی رہی۔
اور پھر شام ہوتے ہی وہ واقعی اس کے کمرے میں اس کے سامنے بیٹھی تھی۔
’’یہ اب کیا نیا ڈرامہ ہے؟‘‘ وہ تپی ہوئی تھی۔
’’کون سا ڈرامہ؟‘‘ سحر نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
’’تم نے ریزائن کیوں کیا؟‘‘
’’میری مرضی۔‘‘ سحر نے کندھے اچکائے۔
’’پھر بھی کوئی تو وجہ ہوگی؟‘‘ زویا حیران تھی۔
’’وجہ بس یہی ہے کہ اس جاب سے میرا دل بھر گیا ہے اب کچھ نیا کروں گی۔‘‘ سحر نے وجہ بتائی۔
’’تم ایسا کہو گی تو کیا میں یقین کرلوں گی۔‘‘ زویا نے اسے گھورا۔
’’مطلب؟‘‘
’’مطلب صاف ہے کہ تمہارے ریزائن کرنے کی وجہ صرف اور صرف سعد ہے۔‘‘ زویا کو اب کے غصہ آیا۔
’’جب جانتی ہو تو کیوں پوچھ رہی ہو۔‘‘ سحر بھی سنجیدہ ہوگئی۔
’’کم آن یار… تمہیں ہوکیا گیا ہے۔‘‘ زویا کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا وہ اس لڑکی کے ساتھ کیا کرے۔
’’تم صرف تب سمجھ سکتیں زویا… جب تم میری جگہ پر ہوتیں۔‘‘ سحر کی آواز بھرانے لگی تھی۔
’’سحر پلیز… تم جانتی ہو‘ میں تمہیں بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں۔‘‘ اس نے سحر کے ہاتھ تھامے۔
’’میں اس شخص کا سامنا نہیں کرسکتی زویا…‘‘ وہ رونے لگی۔
’’اس کی آنکھوں میں… میں نے اپنا عکس اس قدر شفاف اور خوب صورت دیکھا ہے کہ میں نہیں جانتی کب میں بھی اس عکس کو بار بار دیکھنے کی آرزو مند ہوگئی‘ کب وہ مجھے خود سے بھی عزیز ہوگیا۔ میں اس سے محبت کرنے لگی ہوں زویا…‘‘ وہ روتے روتے اعتراف کررہی تھی‘ زویا تو خوشی سے جیسے کھل اٹھی۔
’’تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو سحر…! اوہ مائے گاڈ…!‘‘ وہ جوش سے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑتے ہوئے بولی۔
’’لیکن… لیکن…‘‘ سحر نے ہچکی لی۔
’’لیکن کیا سحر… مشکل کیا ہے‘ وہ تمہیں کس قدر چاہتا ہے۔‘‘
’’لیکن میں اس کی زندگی پر اپنا کالا سایہ نہیں ڈالنا چاہتی۔‘‘ اس نے قطعی لہجے میں کہا۔
’’تم پاگل ہوگئی ہو‘ یہ کیا جاہلوں والی بات ہوئی۔‘‘ زویا چڑ گئی۔
’’میں پاگل نہیں ہوں۔‘‘ سحر چلا اٹھی۔ ’’میں حقیقت پسند ہوگئی ہوں۔‘‘ اس کی آنکھیں لال ہورہی تھیں۔ ’’تم خود سوچو زویا… لوگ میری‘ صرف میری ذات سے لفظ منحوس کیوں جوڑیں گے۔ تمہارے یا کسی اور کے ساتھ کیوں نہیں جڑا یہ لفظ۔‘‘ زویا لب کاٹنے لگی‘ یہ سحر کیا سوچنے لگی تھی۔
’’کیونکہ تم لوگ منحوس نہیں ہو‘ میں منحوس ہوں اسی لیے سب مجھے منحوس کہتے ہیں۔ بابا اماں ان کے ساتھ میں نے کیا کیا‘ سچ کہوں تو اماں کو یوں آدھی آدھی رات جاگ کر گھر کی حفاظت کرتے اور اللہ کی عبادت کرتے دیکھتی ہوں تو ان کی زندگی کی تمام مشکلات کا ذمہ دار میں خود کو سمجھتی ہوں۔ میں مر کیوں نہیں جاتی زویا… کم از کم مجھ سے جڑے لوگوں کی تکلیف تو کم ہو۔‘‘ وہ اور شدد رونے لگی‘ زویا نے اسے خود سے لگا لیا۔
’’یہ صرف تمہاری سوچ ہے سحر… تم کیوں ایسا سوچنے لگی ہو۔‘‘ زویا صدمے کی حالت میں بولی‘ سحر جیسی لڑکی جس کی سمجھ داری کی وہ خود قائل تھی۔ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بے حد کمزور ہورہی تھی اور یہ بات بے حد خطرناک تھی۔ یہ چیز اس کی پوری زندگی بتاہ کرسکتی تھی اور بات صرف سعد کی نہ تھی‘ زویا سمجھ چکی تھی کہ اگر یہ سوچ سحر میں پختہ ہوجاتی تو ساری زندگی اس خول سے وہ باہر نہ آپاتی اور تنہائی اور ذہنی کشمکش اس کا مقدر بن جاتی۔ اس نے فی الفور سعد اور ناہید آنٹی سے بات کرنے کا سوچا تھا۔
خ…ء…خ
جب سے سحر نے استعفیٰ دیا تھا‘ وہ بے حد شاکڈ تھا۔ اسے امید تو تھی کہ سحر ضرور اسے یوں دیکھ کر ری ایکٹ کرے گی لیکن اس قدر جلد اتنا بڑا فیصلہ کرلے گی اسے قطعی امید نہ تھی‘ سحر کی اس حرکت نے اسے صحیح معنوں میں ہلاکر رکھ دیا تھا۔ وہ اپنی سوچوں میں گم اس وقت آفس میں بیٹھا تھا۔
’’مے آئی کم ان سر…‘‘ زویا کی آواز پر وہ چونکا۔
’’آئیں مس زویا…‘‘ اس کی آواز مدہم تھی۔
’’کیسے ہو سعد؟‘‘ اندر آتے ہی زویا نے بے تکلفی سے پوچھا۔ سعد کو وہ بھی پریشان نظر آرہی تھی‘ دوستی اپنی جگہ لیکن آفس ورکرز کے سامنے وہ ایک دوسرے کو اپنے عہدوں کے مطابق ہی ٹریٹ کرتے تھے۔
’’تمہارے خیال میں کیسا ہوسکتا ہوں؟‘‘ وہ اداسی سے مسکرایا۔
’’اس بار سحر نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے۔‘‘ وہ میز پر پڑے ننھے سے گلوب سے کھیلتے ہوئے بولا۔
’’میں نہ جانے کیوں سمجھتا تھا کہ کہیں نہ کہیں‘ کچھ نہ کچھ سحر بھی میرے لیے پسندیدگی رکھتی ہے۔ اس کے دل میں بھی میرے لیے ایک نرم گوشہ ہے اور میں اپنے مسلسل اعتراف اور اظہار کی نرم بوندوں سے اس کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجائوں گا لیکن اس نے…‘‘ وہ کچھ دیر رکا۔
’’لیکن اس نے سب کچھ واضح کردیا‘ اس کی زندگی میں تو میری جگہ تھی ہی نہیں کبھی۔‘‘
’’وہ تم سے محبت کرتی ہے سعد…‘‘ زویا نے جیسے بم پھوڑا… سعد نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’تم کب تک مجھ سے ہمدردی کرو گی زویا؟‘‘ وہ جیسے بکھر سا گیا تھا۔
’’یہ میں نہیں‘ حقیقت میں سحر نے مجھے کہا ہے کہ وہ تم سے کس قدر محبت کرنے لگی ہے۔‘‘ اور پھر زویا نے اسے سحر سے ہونے والی ساری گفتگو تفصیل سے بتائی‘ اس کا چہرہ جہاں خوشی سے کھلا تھا‘ وہیں وہ پریشان بھی ہوگیا۔
’’یہ تو ٹھیک نہیں ہے‘ اس طرح کی منفی سوچیں اس سے کوئی غلط قدم بھی اٹھوا سکتی ہیں۔‘‘ سعد واقعی میں گھبرا گیا۔
’’یہی خدشہ مجھے پریشان کررہا ہے‘ جس طرح وہ موت کی بات کررہی تھی‘ کہیں وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھالے۔‘‘ زویا خود پریشان تھی۔
’’میرے خیال میں سعد… تمہیں دوبارہ اپنی امی سے بات کرنی چاہیے۔‘‘ زویا نے اسے مشورہ دیا۔
’’امی تو خود کئی بار ان کے ہاں جانے کا کہہ چکی ہیں‘ چھوٹے بیٹے کی حرکت نے انہیں میری خواہش کی اہمیت اچھی طرح سمجھا دی ہے لیکن سحر کی طرف سے ہی کچھ کلیئر نہیں ہورہا تھا۔ میں آج ہی امی سے بات کرتا ہوں۔‘‘ سعد نے فوراً حامی بھری۔
’’میں بھی ناہید آنٹی سے مل کر ان کو ساری صورت حال بتاتی ہوں اور سحر کو بھی سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘ زویا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو سعد نے سر ہلادیا۔
خ…ء…خ
اگلے دن اس نے فوراً جاکر ناہید بیگم سے بات کی‘ ناہید ساری بات سن کر سوچ میں پڑگئی تھیں۔
’’یقین کریں آنٹی… سعد بے حد اچھا لڑکا ہے‘ آپ کو تو کم از کم اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ ناہید اٹھ کر مشین سے کپڑے نکالنے لگی۔
’’آنٹی میں آپ سے بات کررہی ہوں۔‘‘ زویا بھی ان کی مدد کرنے لگی۔
’’مجھے اس رشتے پر کوئی اعتراض کبھی تھا ہی نہیں بلکہ باقی دونوں بار سحر کی بات طے کرتے ہوئے بھی مجھے اس رشتے کا افسوس ہوا تھا۔‘‘ ناہید کے لہجے میں تاسف تھا۔
’’بالکل آنٹی… سحر کے لیے سعد سے اچھا لڑکا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘
’’لیکن تمہیں اچھی طرح پتا ہے کہ یہ رشتہ سعد کے والدین نے ہی ختم کیا تھا اور وجہ تم بھی اچھی طرح جانتی ہو۔ کیا اس سب کے بعد سحر اس رشتے کو مانے گی۔‘‘
’’اگر آپ مان جائیں گی تو اسے بھی ماننا پڑے گا آنٹی۔‘‘ زویا گیلے کپڑے تار پر پھیلاتے ہوئے بولی۔
’’میں ایک مرتبہ پھر اپنی بیٹی کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی۔ اب جو اللہ چاہے گا مجھے منظور ہے باقی سحر کی شادی کا تمام تر اختیار اب اس کے پاس ہے‘ میں یہ فیصلہ کرنے کی ہمت کھوچکی ہوں۔‘‘ ناہید کا لہجہ بھیگنے لگا تھا‘ وہ چارپائی پر بیٹھ گئیں۔ زویا ہاتھ سکھاتی ان کے پاس بیٹھ گئی۔
’’یقین کریں آنٹی نہ صرف سعد‘ سحر کو بلکہ سحر بھی سعد کو بہت پسند کرتی ہے اور وہ مان بھی جاتی لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ لوگوں کی مسلسل اس کی ذات پر نشتر زنی سحر کے دماغ میں بس گئی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ اس کی نحوست سعد کو بھی لے ڈوبے گی۔ سحر جیسی سمجھ دار لڑکی خود کو بابا کی ڈیتھ اور آپ کی تمام تر تکالیف کا مجرم سمجھتی ہے‘ اس طرح تو وہ خود کو تباہ کرلے گی پلیز آنٹی… صرف میں اور آپ ہی ہیں جو اسے اس کی ذات کا اعتماد لوٹا سکتے ہیں اور سعد بھی اس میں ہماری کافی مدد کرسکتا ہے۔‘‘ ان کے ہاتھ تھامے وہ جیسے ان سے التجا کررہی تھی۔ ناہید چپ چاپ اسے دیکھتی رہیں۔
’’پلیز آنٹی… آپ ایک مرتبہ حامی تو بھریں سحر کو منانا ہمارا کام ہے۔ یقین کریں اس بار کچھ بھی بُرا نہیں ہوگا۔‘‘ وہ ان کے ہاتھ دباتے ہوئے ان کو یقین دلاتے ہوئے بولی۔
’’ان شاء اللہ۔‘‘ ناہید نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بے اختیار کہا۔
خ…ء…خ
گرمیاں آخری سانسیں لے رہی تھیں پھر بھی دن میں خاصی تپش تھی۔ آج معمول کے خلاف سڑک بھی سنسان تھی‘ چلتے چلتے وہ نہ صرف پسینے سے شرابور ہوچکی تھی بلکہ تھکن سے بھی چُور ہونے لگی تھی لیکن دور دور تک کسی ٹیکسی‘ رکشے کا نام و نشان نہ تھا۔ چلتے چلتے یونہی وہ اپنے بارے میں سوچنے لگی‘ بچپن سے لے کر آج تک سوائے ماں اور چند ٹیچرز یا دوستوں کے علاوہ اپنوں میں سے کسی کا اس کے ساتھ محبت بھرا برتائو اسے یاد نہ تھا لیکن تلخ یادیں بہت تھیں۔
ایک دفعہ جب چھوٹی پھوپو اپنی چھوٹی بیٹی کے لیے شاپنگ کرکے لائی تھیں اور اس نے ہمکتے دل کے ساتھ اس کی کالی نیٹ والی فراک کو بس ذرا سا چھو کر دیکھا تھا تو گویا قیامت برپا ہوگئی تھی تب وہ صرف آٹھ سال کی تھی اور سمجھ ہی نہ سکی تھی کہ اس نے کیا‘ کیا ہے؟ جب پھوپو نے اس کے معصوم چہرے پر ہاتھ جمادیا تھا۔
’’منحوس…‘‘ پھوپو نے نہ جانے اور کیا کیا سنایا مگر وہ تو اس ایک لفظ پر اٹک گئی جو اسے بار بار کہیں نہ کہیں سننا پڑتا تھا۔ پھوپو نے وہ سوٹ اسی وقت قرآن پاک لاکر اس سے لگا لگا کر سحر کے ہاتھ کی نحوست دور کی تھی۔
’’قرآن پاک سے لگائوں گی تو اس منحوس کی کالی نظر اور نحوست سے محفوظ رہے گی میری لاڈلی…‘‘ اور پھر یہ دن وہ کبھی بھلا نہ سکی چاہنے کے باوجود بھی…
اور پھر بڑی پھوپو کی بیٹی کی شادی میں دعوت دینے کے لیے جب پھوپو آئیں تو اس کی اماں کو صاف ہدایت کر گئیں۔
’’بھئی… تم ایک ہی بھاوج ہو میری اور بھتیجی بھی اکلوتی شامل تو ضرور ہوگی میری خوشی میں بس ایک بھلا کردینا۔ نحوست کی پوٹلی کو میری عذرا سے دور رکھنا۔ تم تو جانتی ہو کتنی مشکل سے اس کی شادی طے ہوئی تھی‘ میں چاہتی ہوں کوئی بُرا سایہ نہ پڑے۔‘‘ ناہید چپ چاپ سر ہلائے گئیں اور چودہ سالہ سحر اچھی طرح سمجھ گئی کہ وہ بُرا سایہ اس کی ہی ذات ہے۔ پوری حسرت سے شادی کی تیاری کرنے والی سحر‘ شادی والے دن پڑوسن کے گھر رہ لی۔ اماں ضد کرتی رہیں لیکن سحر نہ مانی‘ سو انہیں اکیلے ہی جانا پڑا اور پھر اس کی پے در پے ٹوٹنے والی تین عدد منگنیاں‘ جیسے اس کی نحوست پر مہر لگا گئی۔
’’سب سچ کہتے ہیں کیا؟‘‘ وہ چلتے چلتے خود سے ہم کلام ہوئی تھی۔
’’سب مجھ سے دور بھاگتے ہیں تو پھر سعد کیوں؟‘‘ اسے حیرت تھی۔
’’تو کیا میں سعد کو سب کچھ سمجھ لوں۔‘‘
’’صرف ایک مرتبہ… ایک مرتبہ پھر اپنا مقدر آزما لوں۔‘‘ وہ چلتی رہی۔
’’کیا پتا‘ اس بار صرف میری قسمت روشن ہو۔‘‘ وہ خوش فہم ہوئی۔
’’کیا پتا‘ مجھ سے جڑا وہ منحوس لفظ ہمیشہ کے لیے دھل جائے۔‘‘ امید نے اس کے ہونٹوں پر مسکان بکھیردی۔
’’اور اگر…‘‘ اس کا دل ڈوب کے ابھرا تھا۔
’’اور اگر… یہ سب سچ ہوا؟‘‘ قدم رک گئے۔
’’اگر میں واقعی بُرا سایہ نکلی۔‘‘ اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
’’سعد کا سب کچھ اجڑ گیا‘ وہ برباد ہوگیا۔‘‘ اس کی سانسیں جلنے لگیں۔
’’اور اگر سعد کو ہی کچھ ہوگیا تو…‘‘ وہ اس سے زیادہ نہ سوچ سکی‘ اس کا دل پھٹنے کے قریب ہوگیا آنکھوں سے آنسو تواتر سے گرنے لگی۔
یونہی سوچوں میں نہ جانے وہ کب تک گم رہتی‘ کسی گاڑی کے رکنے کی تیز آواز نے اس کا دل دھڑکا دیا تھا۔ اس نے چونک کر اس طرف دیکھا‘ وہ سعد کی گاڑی تھی سعد اتر کر اس کی طرف ہی آرہا تھا۔
’’سحر… تم اس وقت اتنی گرمی میں یہاں…؟‘‘ وہ اسے یوں تھکا تھکا‘ بھیگا چہرہ دیکھ کر ایک دم خاموش اور پریشان ہوا تھا۔
’’کیا ہوا سحر… آر یو اوکے؟‘‘ وہ تیزی سے اس کے قریب آیا تھا‘ نہ جانے اسے کیا ہوا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی تھی۔
’’سحر… کیوں ڈرا رہی ہو یار۔‘‘ وہ واقعی میں پریشان ہوگیا تھا۔ سحر کا رونا‘ اس کی اداس الجھی آنکھیں اور تھکن زدہ حلیہ سب سعد کا دل جیسے چیرے دے رہے تھے۔
’’اچھا آئو میرے ساتھ۔‘‘ نرمی سے اس کا ہاتھ تھامے وہ اسے گاڑی تک لے آیا۔ وہ کسی روبوٹ کی طرح اس کے ساتھ چلتی آئی‘ سعد اسے بٹھا کر اپنی سیٹ پر واپس آیا اور آہستگی سے گاڑی آگے بڑھائی۔ سحر ابھی تک رو رہی تھی‘ اس بار سعد نے اسے کچھ نہیں کہا بلکہ رونے دیا۔ وہ چاہتا تھا سحر اپنے اندر قید سارے غبار دھو ڈالے‘ ہر خوف بہا دے۔
کچھ دیر بعد وہ ذرا سنبھلی تو سعد نے منرل واٹر کی بوتل اسے تھمائی‘ وہ تیزی سے پانی پینے لگی۔ سعد اس کے آخری گھونٹ تک خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا‘ سحر اب سامنے دیکھ رہی تھی۔
’’پتا ہے سحر… ہمارا سب سے بڑے دشمن کون ہوتا ہے؟‘‘ اس نے گاڑی کی اسپیڈ مزید کم کرتے ہوئے پوچھا‘ سحر نے جواب دینے کی بجائے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’ہمارے اندر کا خوف۔‘‘ وہ گیئر تبدیل کررہا تھا اس کی فراخ پیشانی پر آتے اس کے گھنے کالے بال اسے بار بار ڈسٹرب کرتے اور بڑی بے پروائی سے وہ ان کو انگلیوں کی مدد سے دوبارہ سیٹ کرلیتا۔ اس کے گلابی کٹائو دار ہونٹ ہمہ وقت مسکراتے محسوس ہوتے یا شاید واقعی یہ مسکراہٹ اس کی شخصیت کا حصہ تھی۔
’’یہ خوف ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتا۔‘‘ سعد اسے سمجھا رہا تھا‘ وہ توجہ سے سن رہی تھی۔
’’بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ ہمارے اندر کا خوف ہمارا کچھ نہیں چھوڑتے‘ تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔‘‘ وہ موڑ کاٹتے بولا۔
’’تو کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم سب کچھ‘ اپنا سکون‘ خوشی اور محبت صرف ایک خوف پہ قربان کرنے کی بجائے‘ اس ایک خوف کو قربان کریں۔ خود کو مضبوط کرلیں‘ قسمت کو آزمائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں اور آگے بڑھ جائیں۔‘‘ سحر پھونکا جارہا تھا‘ سحر اسے خود پر طاری ہوتا محسوس کررہی تھی۔
’’زندگی کبھی ایک سی نہیں رہتی
ایک سی رہ بھی نہیں سکتی
یہ قانون فطرت کے خلاف ہے
دن کو شام اور رات پر حاوی ہونا ہے‘ خوشی کو غم پر۔ زندگی کے بعد موت اور موت کے بعد حیات دائمی۔ کسی چیز کو دوام نہیں تو خوف اور توہمات کو کیوں اتنا مضبوط گردانا جائے جبکہ میرے رب کا وعدہ ہے۔
’’ہر غم کے بعد خوشی ہے‘‘
’’بات صرف ہمارے یقین تک ہے۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا تھا‘ سحر نے لمبی سانس بھر کر نظریں پھیرلی تھیں۔ سعد نے گاڑی اس کے گھر کی گلی کے سامنے روکی تو وہ چپ چاپ نکل کے چل دی نہ شکریہ کہا نہ کچھ اور… سعد دیر تک وہیں رکا رہا کیوں… وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔
خ…ء…خ
تھکی ہاری وہ گھر پہنچی تھی تو اماں اس کا بے صبری سے انتظار کررہی تھیں۔
’’کہاں رہ گئی تھیں‘ آج تو میرا دل ہولتا رہا۔‘‘ اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی انہوں نے سکون کا سانس لیا۔
’’آپ کو تو پتا ہے امی… اس آفس کا‘ کس قدر دور ہے۔‘‘ وہ پرس اور چادر چارپائی پر اچھال کر صحن میں لگے واش بیسن پر منہ دھوتے ہوئے بولی۔
’’تم نے خوامخواہ ہی اتنی اچھی نوکری چھوڑ دی۔‘‘ اماں اس کے لیے کھانا نکالتے ہوئے تاسف سے بولیں۔
’’اماں… کھانا نہیں کھائوں گی‘ نماز پڑھ لوں تو چائے پیوں گی۔‘‘ سحر نے بات بدل دی۔
’’اچھا پھر میں لادیتی ہوں چائے‘ کباب بھی تل دیتی ہوں۔ تم نماز پڑھ لو۔‘‘ اماں نے فوراً ہی کہا وہ مسکرادی۔
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ اس نے باہر دروازے پر دستک سنی‘ وہ باہر آئی تو زویا اماں کے ساتھ اس کے کمرے کی طرف آرہی تھی۔
’’زویا…‘‘ اتنے دن بعد یوں اچانک اسے سامنے دیکھ کر اسے حقیقی خوشی محسوس ہوئی تھی۔
’’تم تو بھول ہی گئیں‘ میں نے سوچا میں ہی چکر لگا لوں۔‘‘ زویا اس کے گلے لگتے ہوئے شکوہ کرتے ہوئے بولی۔
’’تمہیں کوئی بھول سکتا ہے بھلا۔‘‘ سحر نے اس کا گال چوم لیا۔
’’ڈرامے ہیں تمہارے بس‘ یاد آتی تو ملنے نہ آجاتیں‘ کیوں آنٹی؟‘‘ زویا نے گلہ کرتے ہوئے ناہید سے تائید مانگی۔
’’بالکل۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کی حمایت کردی۔
’’اماں… آپ گواہ ہیں میں اسے کتنا یاد کرتی ہوں۔‘‘ سحر نے بھی فوراً ماں کی مدد مانگ لی۔
’’ہاں… یہ بھی ٹھیک کہہ رہی ہے۔‘‘ اماں کو ہنسی آگئی۔
’’اچھا اب کیا دونوں لڑتی رہو گی یا آرام سے بیٹھ کر باتیں بھی کروگی۔ اندر چلو تم دونوں‘ میں کباب اور چائے لے کر آتی ہوں۔‘‘ اماں نے جھگڑا ختم کیا اور کچن کی طرف بڑھ گئیں۔
’’کیسی ہو؟‘‘ زویا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’اچھی ہوں۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’بہت اچھی ہوجاتی اگر میری بات مان لیتی۔‘‘ زویا نے خفگی سے کہا۔
’’مان لیتی اگر اپنی قسمت پر بھروسہ ہوتا۔‘‘ سحر نے نظریں پھیرلیں۔
’’محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے‘ قسمت بھی بدل دیتی ہے۔‘‘
’’قسمت میں بھی بہت طاقت ہوتی ہے‘ محبت چھین بھی لیتی ہے۔‘‘ وہ کس قدر مایوس ہوچکی تھی‘ زویا کو تاسف نے گھیر لیا۔
’’سعد ایسا نہیں سوچتا۔‘‘ زویا کے لہجے میں افسوس تھا۔
’’میں تو سوچتی ہوں۔‘‘ سحر نے دلیل دی۔
’’اور تم غلط ہو‘ پھر جب سعد رسک لے رہا ہے تو تم کیوں نہیں۔‘‘ اسے غصہ آیا۔
’’تم جانتی ہو۔‘‘ سحر نے مدہم آواز میں جواب دیا۔
’’میں چائے لے آئوں۔‘‘ سحر اٹھنے لگی وہ بات بدل رہی تھی اور زویا یہی نہیں چاہتی تھی اس نے فون کی اسکرین پر ٹچ کیا اور…
’’تم ہمیشہ سحر کے حوالے سے بات کرو گی‘ میں جانتا ہوں۔‘‘ سحر کے قدم بھاری آواز سن کر ایک دم رکے تھے‘ وہ حیرت سے مڑی تھی۔
’’اور اگر آج خبر اس کی منگنی یا شادی کی ہو؟‘‘ زویا کی آواز تھی۔
’’ری ایکٹ جیسے بھی کروں خبر سنوں گا ضرور۔‘‘ سحر کے جسم سے جیسے کسی نے جان نکال لی تھی۔
’’بس کسی طرح اس کا ذکر ہو تو زندگی چلے۔‘‘ وہ بُت بنی کھڑی رہی۔
’’سحر میرے لیے سانس جیسی ہے۔‘‘ اور سحر کو لگا وہ سانس لینے لگی تھی۔
’’سحر کی منگنی ٹوٹ گئی سعد…‘‘ اور پھر تیز آواز گونجی تھی جیسے ایکسیڈنٹ ہوا تھا ’’سعد‘‘ سحر چلائی تھی… سحر تقریباً دوڑتی ہوئی زویا تک پہنچی تھی۔
’’وہ ٹھیک ہے‘ یہ کافی پرانی بات چیت ہے۔‘‘ زویا مسکرائی تھی نہ جانے کیوں سحر کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔
’’سحر…‘‘ زویا نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
’’وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے‘ یاد ہے تمہیں اس دن ہوٹل میں جب وہ تمہیں ملا تھا‘ پریشان سا اس دن اس کے چھوٹے بھائی نے خودکشی کی تھی لیکن اسے پتا تھا کہ تم نے میرے ساتھ وہاں آنا ہے۔ وہ یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی اس قدر پریشانی میں بھی وہ تمہیں ملنے آیا۔ صرف تمہاری محبت میں تاکہ تمہیں سب بتاسکے‘ اپنا آپ تم پہ کھول سکے۔ وہ تو ہمیشہ تمہارے لیے مخلص تھا‘ غلطی ہوئی تو اس کے گھر والوں سے۔ اسے تو بہت میں بعد پتا چلا کہ اس کے گھر والوں نے کیا حرکت کی ہے‘ اس کے ناکردہ گناہ کی اس قدر طویل اور سخت سزا نہ دو‘ پلیز۔‘‘ زویا اسے دیر تک سمجھاتی رہی‘ ناہید چائے لے کر آئیں تو وہ ان کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی۔ سحر مسلسل سعد کے متعلق سوچتی رہی تو کیا زندگی واقعی اس پر مہربان ہونے لگی تھی وہ سوچے گئی۔
خ…ء…خ
سعد کی امی رشتہ لے کر آئی تھیں‘ ناہید نے انہیں جلد خوش خبری سنانے کی امید دلاکر بھیجا تھا۔ وہ سحر کو مسلسل سمجھا رہی تھیں‘ خوش قسمتی ایک مرتبہ پھر اس کے در پر دستک دے رہی تھی۔
’’خوش بختی دستک دے کر خود لوٹ جائے تو کوئی بات نہیں لیکن اسے کبھی خود سے ٹھوکر نہ ماری جائے۔ تم بھی ایسا نہ کرو سحر… میری بات مان لو‘ ان شاء اللہ اس دفعہ سب اچھا ہی ہوگا۔‘‘ اور پھر اس نے ہاں کردی تھی صرف چند دن بعد ہی سعد کی امی مٹھائی لے کر آئی تھیں اور بقول ان کے سعد نے اس بار منگنی سے انکار کردیا تھا۔ اس نے ماں کو شادی کی تاریخ لینے بھیجا تھا‘ سحر اس کے فیصلے پر حیران رہ گئی تھی‘ اماں نے بھی بلا تردد اگلے ماہ کی تاریخ دے دی تھی۔
سعد نے اس سے خود رابطہ کرنے کی کوشش نہ کی تھی اور یہی چیز سحر کو پریشان کررہی تھی۔ اس نے تو سوچا تھا کہ بات پکی ہوتے ہی سعد ضرور اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا لیکن یہ نہیں ہوا تھا۔
’’کیا سعد ناراض ہے۔‘‘ اسے نیا ڈر لاحق ہوا۔
وہ پریشانی میں اپنے کیبن میں آئی تو اس کی ٹیبل سرخ گلابوں کا بُکے اور دلفریب کارڈ اس کے منتظر تھے۔
’’یہ کون بھیج سکتا ہے؟‘‘ اسے حیرت ہوئی۔
’’ٹو مائے لو… فارم سعد!‘‘ کارڈ کے اوپر سنہری جگمگاتے حروف اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گئے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے کارڈ کھولا۔
’’بھیگتے دسمبر میں…
بھیگے بھیگے لفظوں سے…
میں نے حال دل اپنا
آپ کو بتایا ہے
بھیگتے دسمبر میں…
التجا ہے اتنی سی
میرے بھیگتے من کو
اور نہ بھگودینا
بھیگتے دسمبر کی…
بس یہی سفارش ہے
اتنی سی گزارش ہے
بھیگتے دسمبر کی…
اس دفعہ کی بارش میں
آپ میرے ہولینا
میرے بھیگتے من کو
چاہ سے بھگودینا
خوب صورت نظم اور بے حد دلکش صاف لکھائی اسے اپنے دل پر نقش ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ وہ اٹھی اور تازہ گلاب لیے اپنے کیبن کی کھڑکی میں آٹھہری۔ یہ کھڑکی عمارت کے پچھلے حصے کی طرف بنے پارک میں کھلتی تھی‘ اس نے ذرا سا دھکا دیا اور کھڑکی کھلتی چلی گئی۔
دسمبر واقعی بھیگ رہا تھا‘ صبح سے گھر گھر کر آنے والے بادل کن من سی بارش برسانا شروع ہوچکے تھے۔ سال کا اختتام بہت قریب تھا اور شاید اس کی محرومیوں کا بھی۔
’’بس ذرا سی امید دے یا رب! ذرا سی کرن کہ جو میرے سارے خوف مٹادے۔‘‘ اس نے ہاتھ بڑھا کر بارش کو محسوس کرتے ہوئے دل سے دعا کی تھی تبھی اس کا سیل فون بجا تھا‘ اس نے جاکر سیل اٹھایا۔ سعد کا نام جگمگا رہا تھا‘ زویا نے دو دن پہلے ہی اسے نمبر دیا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کال پک کی اور دوبارہ کھڑکی میں آگئی۔
’’سحر…‘‘ بہت مدہم آواز میں اس کا نام پکارا گیا‘ اس کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔
’’جی۔‘‘ وہ بمشکل بول پائی۔
’’میری پروموشن ہوگئی ہے‘ مجھے مین برانچ میں شفٹ کردیا گیا ہے‘ از آ ڈائریکٹر…‘‘ سعد کی آواز میں خوشی تھی۔ ’’تم میرے لیے بہت لکی ہو۔‘‘ وہ بول نہ پائی۔
’’میں تمہارا اور اپنی خوش بختی کا انتظار کررہا ہوں۔‘‘ مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا تھا۔
سحر نے حیرت سے آسمان کی طرف دیکھا‘ اس کی دعا قبول ہوگئی تھی اور وہ جان گئی کہ نحوست جیسی چیزیں کچھ نہیں ہوتیں۔ یہ تو صرف توہمات ہوتے ہیں‘ اصل چیز تو یقین کامل اور دعا ہے اور یہی کامیابی ہے۔
وہ بھیگتے دسمبر میں‘ ٹھنڈی بارش میں دیر تک ہاتھ چہرہ بھگوتی رہی۔ دسمبر بھیگتے بھیگتے اسے بھی خوشیوں میں بھگو گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close