Hijaab Dec-16

مجھے مصروف رہنے دو

ام مریم

حوریہ کمال سمیت وہ چار بہنیں تھیں۔ بڑی تینوں کی ہی شادیاں ہوگئیں تھیں۔ اگر ان کے گھرانے کی حسن وخوب صورتی کی مثالیں دی جاتی تھیں تو حوریہ کو دیکھ کر لمحہ بھر کو سہی دیکھنے والی نگاہ میں تحیر وحیرانگی سمٹ آتی جبکہ لبوں سے بے ساختگی میں ہی یہ فقرہ مچل جاتا یہ واقعی آپ کی بیٹی ہے۔ ایسے لمحوں میں جہاں بابا جان کے چہرے پہ روشنی کی کرن پھوٹتی اور بہت فخر سے اسے ساتھ لگا کر یقین دہانی کرواتے۔
’’ہاں یہ میری بیٹی ہے۔‘‘ تو وہاں بی بی جان چہرے پر لرزتے تاریک سائے کو چھپانے کی غرض سے سرد آہ بھرتیں۔ مجرمانہ سے انداز میں سر جھکالیا کرتیں۔ بڑی تینوں چونکہ مکمل اور بے مثال حسن کی مالک تھیں جبھی چٹ پٹ رشتے طے ہوگئے کسی ایک نے بھی یونیورسٹی میں قدم نہ رکھا کہ نوبت ہی نہ آسکی اور اپنے گھروں کی ہوگئیں۔ بابا جان نے بیٹیوں کی خوب صورتی کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے دامادوں کے چنائو کا معیار بھی خاصا بلند رکھا تھا یہی وجہ تھی تینوں داماد نہ صرف مردانہ وجاہتوں کا مکمل نمونہ تھے بلکہ ویل ایجوکیٹڈ‘ ویل ڈریسٹد اور اونچے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے دونوں سول سروسز میں تھے۔ تیسرے کا اپنا بزنس تھا۔ اب حوریہ کی باری تھی اور حوریہ جو بہنوں کے بقول صرف نام کی حوریہ تھی اور بابا جان نے جانے کیا سوچ کر اس کا نام حوریہ رکھا تھا بھلا سانولی رنگت کے ساتھ حوریہ نام رکھ کر مذاق بنوانے والی بات نہیں تھی تو اور کیا تھا جبکہ بی بی جان حسین وجمیل بیٹیوں کو نپٹا کر اب اس کی جانب سے خاصی فکرمند رہنے لگی تھیں۔ وہ بیس سال کی ہورہی تھی جبکہ ان کی تینوں بیٹیاں سترہ سے انیس سال کی عمر تک پیا دیس سدھار گئی تھیں۔ اس سانولی رنگت اور عام سے نقوش سمیت کون اسے بیاہ لے جائے گا۔ وہ دن رات اسی فکر میں گھلتی رہتیں۔ تشویش کے ساتھ اب گھبراہٹ بھی ان کا محاصرہ تنگ کررہی تھی البتہ بابا جان اس فکر سے آزاد نظر آتے انہیں اپنی یہ چھوٹی بیٹی تمام بیٹیوں سے بڑھ کر عزیز تھی کچھ اس کی کمی کی وجہ سے تو کچھ اسے دلائے گئے احساس کی وجہ سے وہ اس کے متعلق خاصے حساس ہوچکے تھے۔ وہ جانتے تھے حوریہ نہ صرف اس بات کو بہت محسوس کرتی ہے بلکہ اندر ہی اندر شدید قسم کے کمپلکس کا بھی شکار ہوتی جارہی ہے جبھی وہ اکثر وبیشتر غیر محسوس انداز میں اس کی خوبیوں کو اجاگر کرتے اس احساس کو کم کرنے کی سعی کرتے رہتے کبھی اس کے گھٹائوں سے لانبے گھنیرے بالوں کی تعریف‘ تو کبھی اس کے چہرے پہ پھیلی معصومیت بھری ملاحت کی‘ تو کبھی اس کے آئینے کی مانند شاف دل کی اور بلاشبہ وہ ایسی ہی تھی بے حد حساس‘ بے حدمعصوم اور نرم دل اور ایسے وقت جب بابا جان اس کی تعریف کرتے تو بی بی جان چپ سی ہوجاتیں۔ ایک ٹھنڈا سا طویل سانس بھرتیں اور دل ہی دل میں اس کے بہت اچھے نصیب کے لیے دعا گو ہوجاتیں۔ انہیں نہیں خبر تھی کہ ہماری بعض باتوں پہ تقدیر دور کھڑی مسکراتی رہتی ہے جبھی تو اگلے چند مہینوں میں جب بڑی آپا کے توسط سے آنے والی خاتون نے حوریہ کو دیکھا اور فریفتہ ہی ہوگئیں تو بی بی جان تقدیر کی مسکراہٹ سے بے خبر اس پروپوزل پر بے حد شانت سی ہوگئی تھیں۔
ء…٭…ء
اس کی بات طے ہوگئی تھی بڑی آپا آپی اور اپیا تینوں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ جاکے شہیر کو دیکھ آئی تھیں اور واپسی پر باقی تمام باتوں کے سوا جو ایک بات تینوں نے کی اور بہت زیادہ کی وہ شہیر کی خوب صورتی اور خوبروئی کا تذکرہ تھا۔
’’بھئی ماننا پڑے گا حوریہ بی بی کے نصیب کو بی بی جان کے تینوں داماد ہی ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں مگر جو وجاہت اور اسمارٹنیس شہیر کی ہے وائو میں تو بلا جھجک یہ بات کہوں گی کہ بی بی جان کے سبھی دامادں میں شہیر سب سے زیادہ گڈلکنگ اور ہینڈسم ہے۔‘‘ یہ آپا کا خیال تھا جو اس بات پہ خاصی مغرور بھی تھیں کہ یہ ان کا کارنامہ ہے بھئی اگر تینوں داماد حسین تھے تو بی بی جان کی بیٹیاں بھی حسین وجمیل اور چاند کے ٹکڑے تھیں۔
’’آپ نے بی بی جان کے لیے داماد تو اتنا شاندار ڈھونڈ لیا مگر حوریہ کی شکل وصورت کو کیوں فراموش کر ڈالا۔‘‘ اپیا نے ناک چڑھا کر خاصے نخوت زدہ انداز میں کہا تو آپی نے بے اختیار انہیں ٹہوکا دیا۔
’’اونہہ میں کوئی غلط تھوڑا ہی کہہ رہی ہوں اتنا عرصہ ہوگیا مگر حوریہ کو اس بات سے سمجھوتہ کرنا نہ آیا۔‘‘ وہ تیکھے لہجے میں بات کرتیں مکھی اڑانے والے انداز میں ہاتھ ہلا کر مزید گوہر افشانی کرتے ہوئے بولیں۔
’’ظاہر ہے بھئی جب وہ خود اتنا ڈیشنگ اور اسمارٹ ہے تو بیوی بھی تو ایسی ہی چاہتا ہوگا۔ ہوسکتا ہے بیچارا فیملی کو دیکھ کر دھوکہ کھا گیا ہو کہ اپنے ماں باپ بہنوں‘ بہنوئیوں کی طرح حوریہ بی بی بھی ایسی ہی ہوگی۔‘‘ اپیا کی بات تمام تر تلخی اور کاٹ سمیٹ حوریہ کے اندر اتر گئی تھی۔ لب کچلتی ہوئی وہ سر جھکائے بیٹھی رہی تھی۔ واقعی یہ نئی بات تو تھی نہیں اپیا اس حد تک دل شکنی کی باتیں اکثر کیا کرتی تھیں اور یونہی دھڑلے سے بقول ان کے وہ سچی اور کھری بات کرنے کی عادی تھیں اور انہیں اپنی یہ عادت بہت پسند تھی۔
’’تمہیں نہیں لگتا کل کلاں کو کوئی خرابی ہو تو نقصان تب زیادہ ہوگا‘ لڑکے کا کیا بگڑتا ہے۔ سارا نقصان تو لڑکی کے حصے میں آتا ہے۔‘‘ اب وہ نہایت سفاک انداز میں اوپری ہمدردی سموئے آپی سے مخاطب تھیں‘ حوریہ کی قوت برداشت جواب دے گئی تو تیزی سے دھندلاتی آنکھیں جھپکتی آہستگی سے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی اور آنکھوں میں مچلتے آنسوئوں کو جیسے راستہ مل گیا تھا۔
ء…٭…ء
اپیا کی باتوں کی تلخی اور سفاکی بہت دنوں تک اس کے وجود میں سناٹے بھرتی رہی تھی۔ منگنی کے بعد شادی میں زیادہ وقفہ نہیں تھا اس کے سسرالیوں کو شادی کی بہت جلدی تھی یوں بھی بابا جان نے منگنی سے پہلے ہر قسم کی تسلی کر لی تھی جبھی دیر کرنا مناسب خیال نہیں کیا۔ یوں گھر میں شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے تھے۔ بی بی جان سارا دن مصروف رہتیں۔ زرق برق ملبوسات اور چمکتے دمکتے زیورات فرنیچر کا آرڈر کراکری کی خریداری تمام کام انہیں ہی بابا جان کے ساتھ مل کر نپٹانے تھے۔ وہ یونیورسٹی سے لوٹتی تو بی بی جان کو مصروف دیکھتی تو اپنی تھکن کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ جت جاتی۔ تھکن سے بے حال ہوکر جب رات کو تکیے پہ سر رکھتی تو کتنے ہی روپہلے خواب آپ ہی آپ پلکوں پہ سج جاتے۔ ایک سوچ چپکے سے چٹکیاں کاٹنے لگتی۔ اسے یاد تھا اپیا اور آپی پہ بھی ایسا سنہرا دور آیا تھا تو وہ کتنا یادگار اور خوب صورت وقت تھا تینوں کے لیے‘ منگیتروں کی بے قراری‘ چپکے چپکے راتوں کو فون پہ باتیں اور شادی پہ اکٹھی شاپنگ اس کے ساتھ تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا نہ اس کی نند نے خود فون کرکے اپنے بھائی سے بہانے سے نہ بات کروائی… حالانکہ آپا‘ اپیا اور آپی تینوں کی بار اس نے ایسے نظارے بارہا دیکھے تھے۔ کہیں اپیا کی بات ٹھیک ہی نہ ہو‘ کہیں وہ مجھے ناپسند ہی نہ کرتے ہوں‘ کہیں ان کے گھر والوں نے… روپہلے خواب مکڑی کے جالے بن کر اس کی آنکھوں کو گدلا کرنے لگتے تو گھبرا کر اٹھ جاتی۔ ایسی کتنی ہی صبحوں اور شاموں کے بعد بالآخر اس کی شادی کا دن بھی آپہنچا۔ ڈیپ میرون بوجھل کام کی چولی اور بارڈر پہ نفیس کام کے لہنگے کے ساتھ میچنگ جیولری‘ پھولوں کے گہنوں کے ساتھ مکمل تیاری سمیت جب اسے آئینے کے سامنے لایا گیا تو ایک پل کو وہ خود بھی متحیر سی رہ گئی تھی۔ ہمیشہ سادگی میں رہنے والا روپ اس سج دھج کے بعد نکھر کر گویا شعاعیں بکھیر رہا تھا اس کے عروسی لباس کی خریداری کے موقع پہ بھی خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ آپا اس کے لیے مہرون یا ریڈ کلر لینا چاہتی تھیں جبکہ اپیا کا خیال تھا یہ کلر اس کی سانولی رنگت پہ سوٹ نہیں کرے گا۔ اسپیشلی مہرون کلر تو بالکل نہیں۔ وہ کون سا بہت گوری چٹی ہے جو ہر رنگ میں اچھی نظر آئے گی جبکہ حوریہ کو ذاتی طور پر پنک کلر پسند تھا اور جانے کیسے وہ اس خواہش کا اظہار بھی کر بیٹھی تھی جس کا اپیا نے خوب ریکارڈ لگایا تھا۔ پنک کلر پہلے تو وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتی رہی تھیں پھر اسے گھور کر بولی تھیں۔
’’پاگل ہوگئی ہو ہمارا مذاق بنوانا ہے یہ کلر خاص طور پہ دودھیا گلابی رنگت پہ ہی سوٹ کرتا ہے تم شاید بھول گئی ہو کہ تم نہ تو دودھیا شفاف رنگت رکھتی ہو نہ گلابی…‘‘ ان کا مضحکہ اڑاتا ہوا انداز حوریہ کو بہت تضحیک آمیز محسوس ہوا تھا بنا کچھ بھی کہے وہ پھیکے چہرے سمیت وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔ پھر آپا ہی اس کا یہ جوڑا لائی تھیں جس کی چولی کام سے بھری تھی جبکہ دوپٹے اور لہنگے پہ ہم رنگ موتیوں اور نگینوں کا بارڈر بنا ہوا تھا اپیا نے تب بھی تنقید کرنا چاہی تھی مگر بی بی جان کی سرزنش پہ انہیں وقتی طور پر چپ ہونا پڑا تھا مگر آتے جاتے وہ اس پہ طنزیہ فقرے اچھال کر دل کی بھڑاس نکالتی رہی تھیں اور اب جبکہ وہ مکمل آرائش کے بعد سامنے لائی گئی توبی بی جان نے بے ساختہ بلائیں لے لی تھیں۔ اپیا بھی کتنی دیر تک یقین سے عاری ساکت نظریں اس کے چہرے پہ ٹکائے رہی تھیں معاً پھر چونکتے ہوئے خجالت مٹانے کی غرض سے بولیں تو اندر کی تمام جلن باہر نکال کے رکھ دی تھی۔
’’بہت ماہر بیوٹیشن کو ہائر کیا گیا تھا اور اس مہنگے ترین کوسمٹکس کا کمال تو دیکھو یقینا اس طرح تو چڑیل بھی پری نظر آسکتی ہے۔‘‘ بی بی جان اور آپا کو شدید قسم کی ناگواری اور اختلاف محسوس ہوا تھا مگر موقع ایسا تھا کہ صرف انہیں تنبیہی نظروں سے دیکھنے پہ ہی کتفا کیا جائے۔ نکاح کے وقت اسے لاکر شہیر کے مقابل بٹھایا گیا تو اس کا دل اتنی تیز رفتار سے دھڑک رہا تھا گویا پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے تاب ہو‘ گھونگھٹ کی چلمن سے ایک آدھ بار جب بھی نگاہ اٹھی شہیر کو دیکھ کر ساکن رہ گئی۔ بلاشبہ وہ ان تمام تعریفوں سے کہیں بڑھ کر خوب صورت تھا جو بابا جان‘ بی بی جان اور اس کی تمام بہنیں کرچکی تھیں۔ جس قدر خلوص وچاہت اور محبت سے اسے مانگا گیا تھا اس کا استقبال اس سے کئی گناہ بڑھ کر اپنائیت اور محبت سے کیا گیا۔ شہیر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ایک بڑی بہن تھی جس کی شادی ہوچکی تھی۔ ایک کینال پہ پھیلے شاندار سے گھر کی تزئین وآرائش دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ گلاب موتیے اور گیندے کے پھولوں سے آراستہ گھر پرفیوم اور ایئرفریشز‘ پھولوں اور سگریٹ کی ملی جلی خوشبوئوں سے مہک رہا تھا۔ مووی کیمروں کی چکاچوند نے اس کا چمکتا دمکتا روپ گویا مزید جگمگا ڈالا۔ مختلف رسموں کی ادائیگی کے بعد اسے شہیر کے بیڈ روم تک پہنچادیا گیا۔ شہیر کی کزنز کچھ مزید رسمیں کرنا چاہتی تھیں کہ مگر شہیر کی ماما نے اجازت نہیں دی اور توجہ بھیگتی رات کی سمت دلاتے ہوئے بولیں۔
’’حوریہ بہت تھک گئی ہے باقی کی رسمیں صبح کرلینا۔‘‘ ان کا مشفق اور دھیما انداز اس قدر نرمی لیے ہوئے تھا کہ مائنڈ کرنے کی کہیں کوئی گنجائش ہی نہیں نکلتی تھی۔ حوریہ نے اس احساس مندی پہ ممنونیت اور تشکرانہ نگاہوں سمیت انہیں تکا تو جواباً وہ اس کی نظروں کو محسوس کرتی جھکی تھیں اور اس کی پیشانی چوم کر ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں پھر سرگوشی کے انداز میں بولیں۔
’’بیٹا شہیر اکلوتا ہونے کی وجہ سے کچھ موڈی اور اگریسو سا ہے تمہاری طبیعت میں جو سادگی اور ملاحت ہے اسے دیکھ کر ہی میں نے اسے تمہارے لیے چنا تھا اور مجھے بھرپور یقین ہی نہیں اپنی بیٹی پہ مان بھی ہے کہ تم اسے سنبھال لوگی۔‘‘ اپنی بات مکمل کرکے وہ چلی گئی تھیں جبکہ حوریہ گم صم سی بیٹھی رہ گئی تھی۔ موصوف صرف چارمنگ ہی نہیں خاصے پرائوڈی بھی ہیں۔ شہیر کو دیکھ کر آنے کے بعد اپیا نے جو پہلا تبصرہ کیا تھا وہ یہی تھا۔
’’جانے کیا سمجھ رہا تھا خود کو‘ بات بھی ٹھیک سے نہیں کی۔ ان کا غصہ کم ہونے ہی میں نہیں آرہا تھا تب حوریہ نے ان کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اس بات پہ اتنا دھیان نہیں دیا تھا کہ انہیں عادت تھی ہر بات کا منفی پہلو دیکھنے کی مگر اب اسے ذرا سا ذہن پہ زور دینے سے یاد آیا تھا کہ کم وبیش کچھ ایسے ہی انداز میں آپا نے تبصرہ کیا تھا۔ بلاشبہ بی بی جان کا یہ داماد سب سے شاندار ہے مگر مزاج کچھ عجیب سا ہے یوں جیسے ہمارے پاس آکر بھی مارے باندھے بیٹھا ہو۔ دروازے پہ ہونے والی آہٹ پہ اس کا سوچوں کا یہ سلسلہ بکھرا تھا۔ بھاری قدموں کی آہٹ پہ وہ نگاہیں اٹھائے بغیر بھی اندازہ کرسکتی تھی کہ آنے والا کون ہوسکتا ہے اس کی دھڑکنوں میں جیسے بھونچال سا آگیا تھا… جو لمحہ بہ لمحہ پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا تھا۔ دروازہ لاکڈ ہونے کی ہلکی سی کلک کی آواز ابھری اس کے بعد خامشی چھا گئی۔ حوریہ دھڑکتے دل کو سنبھالتی گھبراہٹ آمیز تجسس سمیت اس کی منتظر تھی گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ انتظار طویل ہوا تب اس نے جھجکتے ہوئے لرزتی پلکوں کی جھالریں اٹھائیں تو اسے صوفے پہ نیم دراز اپنی سمت تکتا پاکے دھک سے رہ گئی۔ بلیک چست جینز اور وائٹ براق شرٹ کے ساتھ گلے میں جھولتی سرخ ٹائی اس کے لمبے تڑنگے تنومند وجود پہ خاصی جچ رہی تھی کوٹ گود میں دھرا تھا اور ہونٹوں کے درمیان سلگتا ہوا سگریٹ۔ حوریہ کو اس سے زیادہ اس کا جائزہ لینے کی تاب نہیں تھی۔ جبھی لرزتی پلکیں آپ ہی آپ جھک گئیں۔ جبکہ شہیر لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ لیے اس کے نزدیک چلا آیا تھا۔ قیمتی پرفیوم کی دلفریب مہک نے حوریہ کے گرد اپنا حصار تنگ کیا تھا‘ اس کی نگاہوں میں کچھ تو ایسا تھا کہ حوریہ اپنی جگہ سمٹ گئی تھی۔
’’ہر عام لڑکی کی طرح تم بھی اس رات میری جانب سے اپنی ستائش اور تعریف کی منتظر ہوگی۔‘‘ بھاری آواز اس کے آس پاس گونجی تھی۔ اس کا جھکا ہوا سر کچھ اور جھک گیا تھا۔
’’لیکن تمہیں شدید قسم کی مایوسی ہوگی کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے نہ ہی میں تمہیں رونمائی گفٹ دے رہا ہوں کیونکہ ایسا کوئی بھی اہتمام میں نے نہیں کیا۔‘‘ اس کا گھونگھٹ پلٹتے ہوئے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر جھکا چہرا اٹھاتے ہوئے وہ تنقیدی نظروں سمیت اسے بغور تکتا ہوا بہت عجیب سے انداز میں بات کررہا تھا۔ حوریہ اتنی قربت کی تاب نہ لاتے ہوئے بے تحاشا دھڑکتے دل سمیت آنکھیں میچ گئی تھی۔
’’بہت شوق تھا ماما کو تمہیں بہو بنانے کا اور اس جیت پہ وہ بہت خوش بھی ہیں اور یقینا تم بھی۔ چی چی لیکن تم دونوں کی یہ خوشی بہت عارضی ہے آج جو کچھ بھی تمہارے ساتھ ہوگا اسے اگر چاہو تو ماما کو بتادینا‘ ٹھیک ہے۔‘‘ اس کا لمحہ بہ لمحہ سرد پڑتا رخسار تھپتھپاتا ہوا وہ بے حد عجیب لہجے میں بہت عجیب باتیں کررہا تھا۔ اتنی عجیب کہ حوریہ کو سمجھنا دشوار محسوس ہورہا تھا جبھی وہ شرم وحیا بھلائے پوری آنکھیں کھولے اسے تکنے لگی تھی۔ شہیر نے اس کے اس انداز کو دیکھا اور اس کی پوری کھلی آنکھوں میں جھانک کر مسکرایا تو جانے اس کی مسکراہٹ سے کیوں حوریہ پوری جان سے کانپ اٹھی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ سمجھتی پورا کمرا تاریکی میں ڈوب گیا۔
ء…٭…ء
اگلی صبح اپنی تمام تر خوب صورتی کے باوجود اس کے لیے بے حد بھیانک ثابت ہوئی تھی۔ باتھ لینے کے بعد وہ ڈریسنگ ٹیبل کے قد آدم آئینے کی سامنے کھڑی دھندلائی ہوئی نظروں سمیت اپنے بے دردی سے نوچے کھسوٹے عکس کو تک رہی تھی۔ گزشتہ رات کے متعلق کیا پورے یقین کے ساتھ وہ کہہ سکتی تھی کہ وہ اس کی سہاگ رات ہی تھی جبکہ اس کا دل تو سسک سسک کر اپنی پامالی پہ فریاد کناں تھا۔ آئینے میں ایستادہ عکس کسی دلہن یا سہاگن کے بجائے لوٹ مار کا مال نظر آرہا تھا اگر وہ چاہتی شاید تب بھی کسی سے اس شرمناک سلوک کے متعلق کچھ نہ کہہ پاتی جتنی زیادتی وہ گزشتہ رات اس کے ساتھ کرچکا تھا اس کے متعلق سوچ کر ہی اس کی روح کانپ رہی تھی۔ اس کے اس انتہائی سفاکانہ طرز عمل کی وجہ جو بھی ہو حوریہ کے لیے یہ تصور ہی ہولناک تھا کہ اس کا یہ رویہ آئندہ آنے والی راتوں میں بھی اسی درندگی کا مظہر ہوگا۔ دروازے پہ ہونے والی دستک پہ وہ اپنی جگہ زور سے اچھل گئی تھی۔ بے ساختہ دھڑک اٹھنے والے دل پہ ہاتھ رکھے وہ سوچ رہی تھی آیا اسے خود دروازہ کھولنا چاہئے یا نہیں جبکہ دستک ایک تواتر سے جاری تھی اگر وہ جاگ رہا ہوتا تو یقینا خفگی کا اظہار کرتا اور ساتھ اسے سخت ست سناتا بھی اس کا جی نہیں مانا کہ نگاہ پھیر کر اس پہ ایک نگاہ ہی ڈال لے‘ آہستگی سے اپنی جگہ چھوڑی وہ اٹھ کر دروازے تک آئی اور دروازہ ان لاکڈ کردیا۔ دروازہ اوپن ہونے پہ ماما کی پُرتشویش صورت نظر آئی اس پہ نگاہ پڑتے ہی مسکرائی تھیں۔ بہت گہری نگاہ سمیت اس کے تازہ غسل سے نکھرے وجود کو دیکھا اور والہانہ انداز میں بڑھ کر اسے گلے لگا کر پیشانی چوم لی وہ جو انہیں دیکھ کر سرعت سے نظریں جھکا گئی تھی لب کچل کر رہ گئی۔
’’ہوگئی تیار… شہیر ابھی تک سو رہا ہے۔‘‘ اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے ہوئے حددرجہ طمانیت چھلک رہی تھی حوریہ سر جھکائے ہاتھ ملتی رہی۔ ’’ایسا کرو بیٹے شہیر کو بھی جگادو تمہارے گھر سے ناشتہ آگیا ہے تمہاری بہنیں تمہاری منتظر ہیں۔‘‘ حوریہ چھلکتی آنکھوں کو جھپکتی جانے کیسے ضبط کیے کھڑی تھی جبھی کوئی جواب نہیں دیا تو انہیں تشویش لاحق ہوئی۔ اس کی پیشانی چھو کر پریشانی سے پوچھا۔
’’کیا بات ہے بیٹا اتنی چپ چپ کیوں ہو طبیعت ٹھیک ہے۔‘‘ تب حوریہ کا جی چاہا تھا بھبک کے رو پڑے۔ سارا دکھ کہہ سنائے ان کے بیٹے کی درندگی کے تمام اسباق کہہ دے مگر اپنی فطری طبیعت کے باعث وہ شاید ساری عمر بھی ایسا نہ کرپاتی۔ جبھی سر جھکائے اضطراری انداز میں لب کچلتی رہی تھی۔ ماما ابھی تک بھرپور تفکر سمیت اسے دیکھ ہی رہی تھیں کہ آپا اور آپی ہنستی مسکراتی اندر چلی آئیں۔
’’ہم نے سوچا تم تو شاید نہ آئو اس لیے خود ہی چلے آئے۔‘‘ آپا اسے گلے لگاتے ہوئے مسکرا کر گویا تھیں۔
’’تم باتیں کرو میں ناشتہ بجھواتی ہوں۔‘‘ ماما آہستگی سے کہتی کمرے سے نکل گئیں۔ شہیر ہنوز بے خبر سو رہا تھا ان کی باتوں کی آواز پہ ڈسٹرب ہوکر اٹھ بیٹھا۔ بھرپور نیند لینے کے باوجود اس کی بے تحاشا سرخ آنکھوں کو دیکھ کر بہت ہی معنی خیز سا خیال ذہن میں امڈا تھا… آپا اور آپی اسے اٹھتے دیکھ کر یک دم خاموش ہوگئی تھیں جبکہ وہ سپاٹ چہرہ لیے اٹھ کر واش روم میں گھس گیا آپا کا چہرہ سبکی کے احساس سمیت پھیکا پڑ گیا ان کی جانچتی نظریں واش روم کے بند دروازے سے پلٹ کر حوریہ کے چہرے پہ آٹھہریں جو سر جھکائے گم صم سی بیٹھی تھی۔
’’حوریہ شہیر کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا تھا؟‘‘ آپا نے بہت ٹھہری ہوئی آواز میں پوچھا اورحوریہ یوں گھبرائی تھی جیسے اسے کسی نے اچانک سر بازار عریاں کر ڈالا ہو۔
’’رونمائی میں کیا دیا‘ دکھائو ذرا۔‘‘ آپی نے آہستگی سے پوچھا وہ فق چہرہ لیے بیٹھی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اس کٹھن اور دشوار مرحلے میں کیسے ری ایکٹ کرے۔
’’خیال رکھا کرو اپنا۔‘‘ تبھی واش روم سے شہیر برآمد ہوا تھا تولیے سے سر کے بال خشک کرتے یقینا وہ آپا کی بات سن چکا تھا۔ جبھی قدرے ٹھٹک کر انہیں دیکھنے لگا خوب صورت مغرور آنکھوں میں تشویش کا ہلکا سا تاثر امڈا تھا۔ جو آپا کی بات نے اگلے لمحے ہی زائل کردیا تھا۔
’’دیکھا شہیر تم نے اس بے وقوف کو‘ اپنا ذرا بھی خیال نہیں رکھتی۔ ایک یہ حوریہ ہے۔‘‘ وہ کوئی بھی جواب دیے بغیر قدم بڑھاتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا رکا۔ انداز میں بلا کا غرور اور بے نیازی کا تاثر ملتا تھا اور جب ناشتے کے بہانے آپا اور آپی اٹھ کر باہر گئیں تو شہیر اس کے مقابل بیٹھتا ہوا بہت گہری نگاہوں سمیت اسے تکتا متبسم لہجے میں بولا۔
’’کچھ نہ بتا کر بہت سمجھداری کا ثبوت فراہم کیا ہے تم نے ورنہ میرا تو کچھ نہ بگڑتا البتہ تم ضرور بیچاری مشہور ہوجاتیں۔‘‘ اس کی بھیگی معطر لٹ پکڑ کر کھینچتا ہوا وہ اسے اس وقت کتنا سفاک محسوس ہوا تھا۔ حوریہ کا دل تو پہلے ہی کچھ کھانے پہ آمادہ نہیں تھا ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ واپس رکھتے ہوئے فاصلے پر چلی آئی۔ جبکہ اس کے برعکس شہیر نے ناصرف ڈٹ کر ناشتہ کیا بلکہ ایک بار پھر چائے کا کپ لیے بستر پہ چلا گیا تھا۔ حوریہ کو جتنی الجھن اس کی موجودگی سے تھی اس سے کہیں بڑھ کر خود پہ اٹھتی اس کی نگاہوں اور ان نگاہوں سے چھلکتی مسکراہٹ سے ہورہی تھی اس کا بس چلتا تو اسے کہیں غائب کردیتی یا خود کہیں بھاگ جاتی۔
’’پتہ نہیں ماما نے کیا سوچ کر میرے لیے تمہارا انتخاب کیا۔‘‘ اس کی طنز سے بھرپور آواز پہ حوریہ کو اپنے وجود میں شرارے پھوٹتے محسوس ہوئے تھے۔ ایک بار پھر جیسے اسے خود پہ ضبط نہیں رہا تھا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
ء…٭…ء
ولیمے کی تقریب بہت شاندار رہی تھی۔ لائٹ پنک خوب صورت ڈریس میں وہ کل سے کہیں بڑھ کے دلکش نظر آرہی تھی اس کا سوز میں ڈوبا متاثر کن روپ پورے ماحول پہ چھا رہا تھا جبکہ شہیر تو تھا ہی خوب صورت وائٹ پینٹ کوٹ میں بے حد نمایاں لگ رہا تھا اس کے بلند وبانگ قہقہے حوریہ کے اندر سر پٹ بھاگتی دوڑتی وحشت کو مزید بڑھا رہے تھے۔ تقریب کے اختتام پر بی بی جان اور بابا جان نے رسم کے مطابق حوریہ کو ساتھ لے جانا چاہا تو شہیر نے نہایت بے رخی سے انکار کردیا۔ اس کا گستاخ لہجہ کسی لچک کے بغیر حددرجہ نروٹھا پن لیے تھا جہاں بی بی جان اور باباجان گھبرائے وہاں ماما کے چہرے پہ جانے کیوں شہیر کے اس انکار پہ اطمینان بکھر گیا تھا البتہ وہ اس کے لہجے سے خائف ہوئیں ضرور گھبرا گھبرا کر وضاحتیں پیش کرتی رہی تھیں بی بی جان اور بابا جان کو رخصت کرتے انہوں نے یہ اطمینان اور یقین ضرور انہیں سونپ دیا تھا کہ شہیر کل حوریہ کو خود ان سے ملانے لے آئے گا‘ جبکہ حوریہ اس خبر کے ساتھ ہی سخت وحشت زدہ سی ہوگئی تھی۔ دل پہ بے پناہ بوجھ لیے‘ زیورات اور کپڑے بدلتے ہوئے وہ مسلسل بابا جان اور بی بی جان کے متعلق سوچ سوچ کر افسردہ ہوتی رہی تھی۔
’’اچھی بات ہے آج تم نے مصنوعی تیاری سمیت مجھے متاثر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی مسز حوریہ کمال۔‘‘ اس کی تمسخر اڑاتی آواز حوریہ کو چونکانے کا باعث بنی تھی جانے وہ کب اندر آیا تھا وہ گھبرا کر سیدھی ہو بیٹھی۔
’’میں فریش ہولوں تم تب تک میرے لیے ایک کپ چائے لے آئو۔‘‘ کوٹ اتار کر بیڈ پہ پھینکتا ہوا وہ واش روم میں گھس گیا‘ ناگواری کی شدید لہریں حوریہ کے پورے وجود میں سرائیت کرگئیں۔ لب بھینچے اندر امڈتے اشتعال پہ قابو پاتی وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہ تھی یہاں تک کہ وہ فریش ہوکے باتھ گائون میں باہر آگیا اس کا مردانہ وجاہتوں کا شاندار سراپا اس کے سامنے تھا وہ سگریٹ سلگا رہا تھا۔ حوریہ نے شدید ناگواری سمیت نگاہ کا زاویہ بدل ڈالا۔
’’وہاں کیوں بیٹھی ہو اتنی دور یہاں آئو نہ میرے قریب۔‘‘ بلاوا خاص تھا مگر حوریہ کو اپنا وجود سنسناتا ہوا محسوس ہوا۔ گزشتہ رات کا اس کا درندگی سے بھرپور وحشیانہ سلوک یاد کرتے ہی وہ جھرجھری سی لے کر اپنی جگہ سمٹ سی گئی جبکہ دوسری سمت وہ یقینا اس کا منتظر تھا جبھی اسے اپنی جگہ جمے دیکھ کر غرایا۔
’’سنا نہیں تم نے کا کیا رہا ہوں۔‘‘ اس سرد غراہٹ پہ وہ دہل کر سخت متوحش ہوکر اسے دیکھنے لگی۔ جس کی آنکھیں جانے کس احساس کے تحت سرخ ہورہی تھیں چہرے پہ ایسی غضبناکی تھی کہ وہ جو تہیہ کیے بیٹھی تھی کبھی اس کی درندگی کا شکار نہیں بنے گی سخت خوف زدہ سی ہوکر ازخود اس کے پاس اٹھ آئی تو شہیر جو خونی نظروں سے اسے گھور رہا تھا قریب آتے ہی جھپٹنے کے انداز میں کلائی پکڑتے ہی زور دار جھٹکا دیتے ہوئے اپنے پہلو میں گرالیا۔
ء…٭…ء
اس کا انداز کل سے بھی زیادہ شدید اور بدتر تھا حوریہ کو اس کے خیال سے ہی کراہیت محسوس ہونے لگی تھی اس کی منت سماجت آنسو التجائیں کچھ بھی تو اسے اس کے مذموم ارادوں سے باز نہ رکھ پایا تھا۔ شدت گریہ نے اس کی آنکھوں کو سجا کر سرخ کر ڈالا تھا۔ آج تو اس نے آئینے سے بھی نگاہ نہیں ملائی تھی۔ ماما نے اس کے ستے ہوئے چہرے اور متورم آنکھوں کو بہت زیادہ تشویش سے دیکھا تھا البتہ کہا کچھ نہیں۔ حوریہ نے محسوس کیا وہ اس سے نظریں چرا رہی ہیں۔ نظریں تو وہ خود سے بھی چرا رہی تھی۔ اس شخص نے اسے کتنا گرا دیا تھا خود اس کی اپنی نظروں میں بھی۔ اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا۔ بستر پہ آنکھیں موندے لیٹی بس اپنے نصیب سے شاکی ہوتی رہی تھی۔ کیا وہ اس قابل ہی تھی جو سلوک اس کے ساتھ ہوا تھا صرف سانولی رنگت ہی اس کا سنگین جرم ٹھہری تھی۔ جس کی سزا اس درجہ کڑی آزمائش کی صورت اسے دی گئی تھی۔ اسے یاد تھا بہت بچپن سے ہی اسے اپنی اس کمی کا احساس ہوگیا تھا۔ لوگوں کے ایک ہی جیسے کمنٹس جو اسے دیکھ کر دانستہ یا نادانستہ ان کے لبوں سے ادا ہوتے تھے اسے اس کی بہنوں یا والدین کے ساتھ دیکھ کر کوئی بھی یہ بات ماننے پہ تیار نظر نہ آتا تھا کہ وہ ان کی بہن یا بیٹی ہے اور جب ان کی یقین دہانی پہ اعتبار کرتے تو تبصرہ کیے بغیر نہ رہتے۔ حیرت ہے بھئی یہ کس پہ چلی گئی۔ آپ کے گھر میں تو سبھی ماشاء اللہ بے حد خوب صورت ہیں۔ ایسے وقت میں اس کے گھر والوں کے مختلف جواب ہوتے۔ بی بی جان چپ سی ہوجاتیں‘ ایسی گم صم سی خامشی جس میں شرمندگی اور مجرمانہ سا احساس چھلک رہا ہوتا۔ بہنیں یا تو ہنس دیتیں یا پھر کندھے اچکا کر لاپروائی سے کہتیں۔
’’پتہ نہیں کس پہ چلی گئی۔ ہمارے تو ننھیال ددھیال میں دور دور تک کوئی کالا یا سانولا نہیں۔‘‘ جبکہ ان سب سے برعکس بابا جان کا رویہ مختلف اور فخریہ ہوتا وہ اسے لپٹا کر پیشانی چوم کر پیار کرتے اور بہت محبت سے کہا کرتے تھے حوریہ اپنی اس سانولی رنگت کی وجہ سے ہی تو میری تمام بیٹیوں میں سب سے نمایاں اور پیاری دکھتی ہے جو جاذبیت اور ملائمت اس کے چہرے پہ ہے وہ میری بڑی بیٹیوں کے حصے میں نہیں آئی اسے یہ بھی یاد تھا وہ سات سال کی تھی جب آپا کے ساتھ ان کے اسکول گئی تو وہاں ان کی فرینڈز اور اسکول کے دیگر بچوں کے اسی قسم کی دل شکن باتوں پہ روہانسی ہوکر آتے ہی بی بی جان کے پاس آکر منہ بسور کر بولی تھی۔
’’دیکھ لیں بی بی… آپا کی ساری فرینڈز مجھے کلو پری کہہ کر پکار رہی تھیں ان کے ساتھ آپا بھی ہنستی رہیں تھی… کیا میں سچ مچ کالی ہوں۔‘‘ تب جواباً بی بی جان نے اپنی ساری کی ساری فرسٹریشن اس پہ انڈیل دی تھی۔
’’مجھ سے کیا پوچھتی ہے نصیب جلی وہ کیا جھوٹ بولتی ہیں کسی نے تیری بہنوں کو نہ کہہ دیا۔ تجھے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہے۔‘‘ وہ جو اکثر اس قسم کی باتوں سے کلستی رہتی تھیں آج اس کے سامنے ضبط کھو بیٹھیں اسے دو ہتڑ مار کر بھبک کے رو پڑیں۔ حوریہ جس کے لیے ان کا یہ رویہ شاکڈ کردینے والا تھا۔ آنکھوں میں آنسو لیے بے یقین نظروں سے انہیں تکتی رہ گئی تھی۔ اگر بابا جان اس لمحے آکر اسے بازوئوں میں نہ لیتے تو یقینا وہ ہچکیوں سے رو پڑتی۔ وہ اس روز بہت خواہش کے باوجود بھی نہیں روئی۔ وہ سارے آنسو جو پلکوں پہ ٹھہر گئے تھے اس نے اندر اتار لیے تھے۔ یہ وہ پہلا موقع تھا کہ وہ بابا جان کے بہلائوں سے بھی نہ بہل سکی تھی‘ اس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنی ذات کے خول میں سمٹتی بہت محدود ہوکر رہ گئی تھی جبکہ اس کے ادھر ادھر ہوتے ہی بابا جان نے بی بی جان کو بہت کچھ کہا تھا اور وہ تو پہلے ہی پشیمان تھیں بے ساختہ رو پڑیں۔
’’آپ کا کیا خیال ہے مجھے احساس نہیں مگر کیا کروں یہ لوگ…‘‘
’’لوگ بے حس ہیں تو تم بے حس مت بنو۔ تم ماں ہو اور ماں کو اپنی اولاد سے یہ رویہ سوٹ نہیں کرتا پھر حوریہ تو اس وجہ سے پہلے ہی بہت حساس ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے رویے سے اس کے اندر پنپتے اس احساس کو زائل کردیں نہ کہ مزید بڑھاتے رہیں۔‘‘ بابا جان پڑھے لکھے سمجھدار انسان تھے سمجھانے کا انداز بھی بہت خاص ہوتا کہ اگلا بندہ بجائے غصہ کرنے کے اپنی غلطی کو تسلیم کرتا ہوا آئندہ سے تائب ہوجائے یہ ان پہ اللہ کا کرم تھا سو اس وقت بھی بی بی جان نے بھڑکے بنا ان کی بات کو اپنی گرہ سے باندھ لیا تھا۔ آئندہ بے حد احتیاط کی مگر بدقسمتی سے یہ احتیاط ان کی بیٹیاں نہ کرسکیں جنہیں بچپن سے لوگوں کے خصوصی رویوں نے حسن کا بھرپور احساس بخشا تھا خاص طور پہ اپیا۔ وہ تیسرے نمبر پر ہونے کی وجہ سے بابا جان کی بے حد لاڈلی رہی تھیں۔ خصوصی توجہ خصوصی محبت انہی کے حصے میں آئی تھی چونکہ حوریہ ان کے پانچ سال بعد پیدا ہوئی تھی تو بابا جان کی توجہ کو بٹتے دیکھ کر بہت کم عمری سے ہی رقابت کا جذبہ حوریہ کی طرف سے دل میں جگہ پا گیا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ شدید نفرت میں ڈھل گیا تھا۔ اب یہ اس کا نصیب تھا کہ حوریہ اپنی رنگت کی وجہ سے بے حد حساس تھی اور بابا جان کو اس کی اس حساسیت کا پورا پورا احساس تھا یوں یہ توجہ اور محبت مزید گہری ہوتی گئی ساتھ ساتھ اپیا کی نفرت بھی۔ وہ اسے ذہنی اذیت پہنچانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھیں یہی وجہ تھی۔ کم گو تو تھی ہی ایسے طعنوں اور مذاق کا نشانہ بنی تو بالکل ہی بولنا بھول گئی۔ مناسب ماحول نہ ملنے کی وجہ سے اس کی شخصیت کی صحیح طور پر نشوونما نہ ہوپائی تھی اور وہ عدم اعتماد کا شکار نظر آتی۔ کالج میں بھی اس نے کسی کی سمت دوستی کا ہاتھ نہ بڑھایا وہ تو نائلہ ہی تھی جو زبردستی اس سے دوستی کرچکی تھی… وہ جب اکثر اس کے لمبے خوب صورت بالوں‘ لانبی خمیدہ پلکوں اور ہونٹوں کے خوب صورت کٹائو کی تعریف کرتی تو حوریہ کو غیر یقینی سے اپنی سمت تکتا پاکر ہنس پڑتی تمہارے ہاتھ اتنے خوب صورت ہیں اور اسمارٹنس کیا غضب ہے یار اگر میں لڑکا ہوتی تو… تب اس کی اگلی بات حوریہ کو خفا کر ڈالتی۔ اسے نائلہ کی کسی بات پہ اعتبار نہیں آسکا تھا۔ اعتماد آتا بھی کیسے کہ صرف وہی تو تھی اس کی اس انداز میں تعریف کرنے والی اسے لگتا جیسے نائلہ محض اس کا دل رکھنے کو ایسا کرتی ہے تب وہ جواب لینے کو آئینے کے سامنے آٹھہرتی اپنے چہرے کے ایک ایک نقش کو بالوں کو بغور دیکھتی تو آئینہ مسکرا کر نائلہ کی تمام باتوں کی تصدیق کر ڈالتا اور یہیں اس کی عدم تحفظ کا شکار ذات پھر سے اعتماد پانے لگتی تھی۔
مگر اس کا یہ اعتماد شہیر ملک نے کچھ اس بری طرح سے بکھیرا تھا کہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ احساس کمتری کا شکار نظر آنے لگی تھی جس سے اس نے خود کو بہت دقتوں سے بڑی محنت سے چھٹکارا دلایا تھا۔
’’بھابی سو رہی ہیں؟‘‘ وہ جانے کب تلک مزید ان اذیت انگیز سوچوں میں الجھی رہتی کہ اس نرم شیریں آواز پہ آنکھیں کھولنے پہ مجبور ہوئی‘ وہ شہیر کی ہی کوئی کزن تھی ہونٹوں پہ دوستانہ مسکراہٹ لیے اس پہ جھکی ہوئی تھی۔
’’نہیں‘ آئو بیٹھو۔‘‘ وہ ناچاہتے ہوئے بھی اٹھ بیٹھی کہ معاملہ سسرال کا تھا جہاں اسے ہی نہیں ہر لڑکی کو ہی پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔
ء…٭…ء
شہیر کی وہ کزن اسے زبردستی کمرے سے گھسیٹ کر باہر لے آئی تھی۔ موسم بے حد خوشگوار تھا کچھ دیر لان میں موسم کو انجوائے کرنے کے بعد وہ سب ٹی وی لائونج میں آگئیں تھیں۔ باتوں میں وقت گزرنے کا بھی احساس نہ ہوا۔ وہ سب ہی سلجھی ہوئی نفیس سوچ کی مالک لڑکیاں تھیں۔ ماما نے آکر کھانے کا کہا تب ربیعہ نے حیران ہوکر گھڑی دیکھی اور پھر اسے دیکھ کر بولی تھیں۔
’’بھابی آپ شہیر بھائی کا انتظار نہیں کریں گی۔‘‘ وہ کیا جواب دیتی۔ گڑبڑا کر ماما کو دیکھنے لگی۔
’’وہ تو اپنے دوست کے ساتھ کہیں نکلا ہوا ہے۔ کہہ رہا تھا لیٹ نائٹ آئے گا۔ اتنی دیر تک حوریہ بھوکی تو نہیں رہ سکتی۔‘‘ پھر اسے دیکھ کر بولی تھیں۔ ’’بیٹے آپ ایسا کرو ہمارے ساتھ کھانا کھالو شہیر نے اگر کھانا ہوا تو تھوڑا بہت اس کا بھی ساتھ دے لینا۔‘‘ وہ کیا کہتی سر جھکائے رہی۔ کھانے کے بعد وہ ایک بار پھر ان کے ساتھ ٹی وی لائونج میں آکر بیٹھ گئی۔ ٹی وی پر کوئی میوزیکل شو براہ راست آرہا تھا اور وہ ہر سنگر پہ بے لاگ تبصرے کرتے خاصی مگن تھیں جبکہ حوریہ جیسے ان کے درمیان بیٹھ کر بھی موجود نہیں تھی۔ گیٹ پہ گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر حوریہ کو اپنے وجود پہ لرزا سا طاری ہوتا محسوس ہوا۔ اگلے چند لمحوں میں وہ اندر چلا آیا تھا۔ نیوی بلیو پینٹ کوٹ میں غضب کی ہائٹ سمیت وہ نگاہ کو چونکائے دے رہا تھا۔
’’ہیلو ایوری باڈی۔‘‘ ان پہ ایک سرسری سی نگاہ ڈالتا جیسے ازراہ مروت بولا تھا۔
’’آئیے نا شہیر بھائی ہمیں جوائن کریں۔ بہت مزا آرہا ہے۔‘‘ ربیعہ نے ڈرائی فروٹ سے کاجو چن کر پھانکتے ہوئے مسکرا کر اسے دیکھ کر آفر کی جسے اس نے اگلے ہی لمحے رد کردیا تھا۔
’’نو تھینکس اس وقت تو تھکا ہوا ہوں آرام کروں گا۔ البتہ آپ کو پھر کبھی کمپنی دوں گا۔‘‘ ربیعہ کی بات کا جواب دیتے اس کی نظر سر جھکائے ہاتھ مسلتی حوریہ پہ پڑی تو ایک پل کو حیران نظر آیا۔
’’آگئے شہیر کھانا کھائو گے۔‘‘ وہ پلٹ رہا تھا جب ماما نے اندر قدم رکھا۔
’’میں کھانا کھا چکا ہوں۔ بس ایک گلاس دودھ بھجوادیں۔‘‘ وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا بولا۔
’’شہیر کچھ تو خیال کرو نئی نئی شادی ہوئی ہے اور تم اکیلے ہوٹلوں میں کھانے کھاتے پھر رہے ہو۔‘‘ ماما کے لہجے کی سختی ڈھکی چھپی ہرگز نہیں تھی گو کہ لہجہ دبا ہوا تھا شاید ان سب کی موجودگی کے باعث مگر شہیر نے جواباً ایسا تکلف بھی نہیں برتا۔
’’میں اکیلا نہیں تھا میرے دوست میرے ساتھ تھے۔‘‘ وہ جتا کر بولا تھا۔
’’کب جان چھوٹے گی ان آوارہ دوستوں سے اگر باہر کھانا کھانا تھا تو حوریہ کو بھی ساتھ لے جاتے۔‘‘ ماما کی بات پر وہ جھٹکے سے رکا اور اسی شدید موڈ میں ان کی سمت پلٹ کر سرخ آنکھوں سمیت اسے دیکھنے لگا۔
’’آپ کی بہو کے ساتھ ہی مجھے ساری عمر کھانے کھانے ہیں زندگی کو مجھ پہ اتنا تنگ مت کریں فارگاڈ سیک۔‘‘ اس کا آنچ دیتا لہجہ ماما کو بری طرح سے سلگا کر رکھ گیا… مگر وہ رکا نہیں تھا دھپ دھپ کرتا سیڑھیاں چڑھ گیا۔ حوریہ کو ان کی باتیں تو نہیں سنائی دی تھیں کہ ٹی وی کا والیوم تیز تھا البتہ اس کے اور ماما کے چہرے کے تاثرات اس پہ ساری کہانی عیاں کررہے تھے جبھی ماما سے نظریں ملائے بغیر وہ سر نیہوڑائے بیٹھی رہی تھی۔ طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اس کے سر میں جیسے دھماکے سے ہورہے تھے مگر اس نے دل میں ٹھان رکھی تھی کہ کم از کم اس کے سونے سے پہلے ہرگز کمرے میں نہیں جائے گی۔ شو ختم ہونے کو تھا جب ایک بار پھر شہیر سیڑھیوں پہ برآمد ہوا۔
’’شہلا تم لوگ ابھی تک سوئی کیوں نہیں؟‘‘ حوریہ پہ کڑی نگاہ ڈالنے کے بعد وہ بمشکل مشتعل لہجہ کنٹرول کرتا ہوا شہلا سے مخاطب ہوا تھا۔ گولڈن سلیپنگ گائون میں سرخ آنکھوں اور بکھرے ہوئے بالوں سمیت وہ غضب کی مردانگی سمیت بھی حوریہ کو بالکل اچھا نہ لگا۔
’’بس بھائی جا ہی رہے ہیں۔‘‘ شہلا نے گھبرا کر ٹی وی آف کیا اور دوپٹہ سنبھالتے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کی تقلید میں ربیعہ‘ ثنا اور عائشہ بھی اٹھی تھیں البتہ حوریہ نے اپنی جگہ سے حرکت تک نہیں کی۔
’’یہاں چھپ کر بیٹھ کر تم سمجھتی ہو تم مجھ سے بچ جائوگی۔‘‘ وہ اس کے سر پہ پہنچ کر بھنچے ہوئے سرد لہجے میں غرایا تو حوریہ نے نظریں اٹھا کر بے خوفی سے اسے دیکھا۔ کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں‘ جبکہ شہیر ان نگاہوں سے چھلکتی سرد مہری اور نفرت کو پاکر جیسے آپے سے باہر ہوا تھا۔
’’تم اندر چلو پھر میں تمہیں بتاتا ہوں۔‘‘ بات ادھوری چھوڑ کر وہ لب بھینچتا ہوا خود پر ضبط کے پہرے بٹھا کر مشتعل سا بولا۔
’’میں آپ کے ساتھ اس کمرے میں نہیں جائوں گی۔‘‘ اس کا انداز تنفر زدہ قطعی اور دو ٹوک تھا۔
’’ہائو ڈیر یو۔‘‘ اس کا ہاتھ پوری قوت سے فضا میں گھوم کر اس کے چہرے پہ تھپڑ کی صورت آپڑا۔ وہ لڑکھڑا کر گرتی مگر اس کے بروقت تھام لینے پہ اس کے بازوئوں کے سہارے سنبھلی تھی۔ ’’اگر تم اس بھول میں ہو کہ میں تمہاری منتیں کروں گا تو بہت غلط سوچ ہے۔‘‘ اسے شانوں سے جکڑتا ہوا وہ آتش فشاں پہاڑ کی طرح پھٹ پڑا تھا۔ حوریہ کے تو اس ایک تھپڑ نے ہی حواس چھین لیے تھے اس پہ ستم اس کی تیز نظروں کا غیض وغضب کہاں کی جرأت اور کہاں کی بے خوفی وہ جیسے اس کے شدید رویے کے سامنے لمحوں میں زیر ہوئی تھی۔
’’کیا ارادہ ہے چلوگی یا میں کچھ اور اقدام کروں۔‘‘ حقارت زدہ انداز میں اسے جھٹکتا ہوا وہ اس کی چھلکتی آنکھوں میں جھانک کر بولا جو اس ذلت آمیز رویے پہ رو دینے کو تھی۔ بات مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ پلٹی تو چوکھٹ پہ ششدر کھڑی ربیعہ کو دیکھ کر جیسے خود کو زمین میں دھنستا ہوا محسوس کیا۔
’’وہ… وہ میرا سیل فون یہاں رہ گیا تھا وہی لینے آئی تھی۔‘‘ شہیر کی تیز نظروں کے جواب میں گھبرا کر وضاحت دیتی وہ لپک کر فلور کشن پہ پڑے سیل فون کو اٹھاتی الٹے قدموں بھاگی تھی۔
’’چلو تم بھی۔‘‘ شہیر نے اس کے ساکن وجود کو دھکیلا تو وہ بغیر کسی مزاحمت کے معمول کی طرح اس کے ساتھ ہولی۔
ء…٭…ء
اس کا رویہ کیسا تھا اب اس پہ سوچنے غور کرنے کی ضرورت نہیں تھی حوریہ کو لگتا تھا جیسے وہ کوئی وحشی درندہ تھا جو خوب صورت انسانی روپ میں اس پہ مسلط ہوگیا تھا اور بس حوریہ کے نزدیک اس کی یہی پہچان تھی اگلے روز اس کے دل میں جانے کیا سمائی تھی یا پھر ماما نے ہی فورس کیا تھا کہ وہ اسے بابا جان اور بی بی جان سے ملانے لے آیا اس کی بہنیں اس کی جانب سے مایوس ہوکر اپنے اپنے گھروں کو سدھار چکی تھیں۔ بابا جان کو وہ پہلے سے زیادہ خاموش اور عدم اعتماد کا شکار نظر آئی تو دل ملول سا ہوکر عجیب سے خدشات کا شکار ہونے لگا۔ واپسی پہ وہ بہت خاموش اور غم زدہ تھی جب شہیر نے اسے ترچھی نگاہ سے دیکھتے ہوئے طنز کا تیر برسایا تھا۔
’’لباس کا انتخاب بھی بندے کو اپنی شخصیت کو دیکھ کر کرنا چاہیے۔‘‘ وہ اس وقت سیاہ جھلملاتی ہوئی ساڑھی میں ملبوس تھی جو بطور خاص ماما نے اسے اپنی پسند سے نکال کر دی تھی‘ احساس کمتری سے اس کا جھکا سر کچھ اور جھک گیا۔ گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو اسے ناچاہتے ہوئے بھی متوجہ ہونا پڑا۔
’’پتہ نہیں کیا سوچ کر ماما نے اپنے خوبرو شاندار بیٹے کے لیے تم جیسی عام سی لڑکی کا چنائو کیا اب سمجھ رہی ہیں اس طرح مجھے قابو کرلیں گی۔ بے چاری ماما پہ مجھے ترس آرہا ہے۔‘‘ ان کی تمام تر نادانی اور معصومیت سمیت وہ ہنس رہا تھا۔ انداز صاف دل شکنی والا تھا چڑاتا ہوا سا۔ حوریہ کے حلق میں کچھ پھنسنے لگا۔
’’حیران ہوں ان کی سوچ پر شاید اگر وہ کوئی حور پری میرے لیے لاتیں تو چانس بھی تھا میرا اس جال میں پھنس جانے کا اب کیسے… رئیلی مجھے ماما پہ حیرت ہورہی ہے کیا ہوگیا تھا انہیں۔‘‘ اس کی ہنسی قہقہے میں ڈھل گئی۔ حوریہ کو اپنی پیشانی ہی نہیں پورا وجود سلگتا بھڑکتا محسوس ہوا تھا۔
’’میرا گھر میرے پیرنٹس تمہارے ہوسکتے ہیں مگر حوریہ بیگم یہ گڈلکنگ ڈیشنگ اور اسمارٹ شہیر ملک تمہارا نہیں ہوسکتا… کبھی نہیں۔ یہ بات تم بے شک ماما کو بھی بتا دینا میں تمہیں کسی قسم کے دھوکے میں رکھنا نہیں چاہتا‘ جبھی بتارہا ہوں کہ تم مجھے بالکل پسند نہیں ہو… تم صرف ماما کی خدمتیں اور میری عارضی شکست جس کا میں بھرپور انتقام تم سے لے چکا ہوں۔‘‘ اس کی خوف تحیر اور رنج سے پھیلی آنکھوں میں جھانکتا ہوا ازحد اطمینان سے گویا تھا۔
’’کل میں اسلام آباد واپس جارہا ہوں اپنی جاب پہ جہاں ٹینا ہے میری محبت۔ اسے ہی بیوی بھی بنائوں گا۔ اب تمہاری مرضی ہے تم چاہو تو یہاں ماما کے پاس رہ لینا ورنہ اپنے پیرنٹس کے پاس چلی جانا مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ہاں اگر تم چاہو کہ میں تمہیں آزاد کردوں تو بھی مجھے اس میں کوئی عار نہیں۔ اینی ویز اب تم اپنی مرضی کی مالک ہو۔ میری بہرحال تم سے کوئی دشمنی نہیں کہ تمام عمر تمہیں سولی پر لٹکا کے رکھوں۔‘‘ ٹپ‘ ٹپ‘ ٹپ اس کی پلکوں کی دہلیز سے پھسلتے بے بسی کے مظہر آنسو بہت سرعت سے اس کے گریبان میں جذب ہوتے رہے۔
ء…٭…ء
اگلی صبح وہ واقعی چلا گیا تھا ماما نے یقینا اسے حوریہ کو ساتھ لے جانے پہ فورس کیا تھا مگر وہ کسی طور نہیں مانا۔ ماما بے بس سی ہوکر سر جھکا کر آنسو پونچھنے لگی تھیں۔
’’تم جو بھی فیصلہ کرو مجھے آگاہ کردینا۔ منتظر رہوں گا۔‘‘ جاتے ہوئے وہ محض ایک پل کو اس کے پاس تھم کر بولا اور حوریہ نے لب بھینچ کر سر جھکا لیا تھا۔ اس کے بعد اس پہ ہر رات گزشتہ چار راتوں پہ بھاری پڑتی رہی اس کے کمرے میں موجود ہر چیز میں اس کی خوشبو کا احساس رچا بسا تھا۔ جیسے وہ وہاں سے جاکے بھی وہیں کہیں موجود تھا۔ چھے ہفتے تک بھی جب وہ نہیں آیا تو ماما نے فون کیا مگر اس پہ جیسے اثر ہی نہیں تھا اس روز اس کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر نے جو وجہ بتائی اس نے ماما کو مطمئن کردیا تھا۔ واپسی پہ مٹھائی ساتھ لائی تھیں۔ پاپا کو جب وہ بتا کر خوشی سے بے حال ہورہی تھیں تب اچانک ہی وہ بھی بنا اطلاع کے چلا آیا تھا۔
’’مٹھائی یہ کس خوشی میں ہے بھئی۔‘‘ گلاب جامن اٹھا کر منہ میں رکھتے ہوئے اس نے بہت سرسری لہجے میں پوچھا تھا جبکہ حوریہ کانوں کی لوئوں تک سرخ پڑگئی تھی۔ وہ چاہتی تو اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کرسکتی تھی مگر وہ تو جیسے کوئی فیصلہ کرنے کی تاب ہی کھو چکی تھی اس کی عدم موجودگی میں اس بے رحم‘ بے حس کٹھور شخص کی محبت کا احساس اسے بھربھری مٹی کی طرح بکھیر چکا تھا۔ اس سلوک کے بعد گو کہ اس جذبے کی کہیں گنجائش نہیں نکلتی تھی مگر نکاح کے بولوں نے اس تعلق کو جائز بنا کر اس کے دل میں گنجائش پیدا کردی تھی کہ وہ خود کو اس سے محبت کرنے سے روک نہیں پائی تھی۔
’’ارے تُو فون پہ ملتا تو بتاتے نہ‘ تو باپ بننے والا ہے۔‘‘ ماما نے چہک کر جس طرح مسکرا کر کہا تھا وہ ایک پل کو ہونق سا ہوا۔ نگاہ بے ساختہ ہی شرمائی جھینپی ہوئی سی حوریہ پہ پڑی تھی تو جیسے پورے وجود میں انگارے سے چٹخ گئے۔ منہ کی سمت جاتا ہاتھ وہیں تھم گیا تھا۔ گلاب جامن کا بچا ہوا پیس وہیں پلیٹ میں پٹخا اور سرخ چہرہ لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جبکہ حوریہ اندر گونجتے سناٹوں کو وحشت بھرے انداز میں سنتی رہی تھی۔
’’پتہ نہیں ماما اور پاپا نے اس کا یہ رویہ محسوس کیا تھا یادانستہ نظر انداز کررہے تھے۔ جو کچھ بھی تھا اس کے لیے بے حد تکلیف کا باعث تھا۔
’’سنو تم ابارشن کروائوگی انڈر اسٹینڈ جو کچھ تھا میں تمہیں بتا چکا ہوں پھر یہ سب…‘‘ وہ خاصی دیر بعد اندر آئی تو اسے کمرے کے بیچوں بیچ سگریٹ پھونکتے ٹہلتے پایا اسے دیکھتے ہی وہ لپک کر آتے ہی اسے شانوں سے جکڑ کر جھٹکے سے اپنے مقابل کرتا ہوا انگارے چبانے لگا جبکہ حوریہ زرد سی ہوگئی تھی۔
’’دیکھئے آپ اس طرح مت کریں پلیز میں آپ سے کوئی تقاضا تو نہیں کررہی جو ہے جیسا ہے رہنے دیں۔‘‘
’’شٹ اپ… جسٹ شٹ اپ میں نے تم سے مشورہ نہیں مانگا۔‘‘ وہ جیسے لہجے میں بادلوں کی گھن گرج کی طرح بولا۔ وہ سہم سی گئی۔ ’’تم سمجھ لو میں تمہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ تم سے میری نسل آگے بڑھے۔‘‘ وہ اسے اپنے سامنے سے جھٹکتا باہر چلا گیا۔
ء…٭…ء
پھر وہ پلٹ کر نہیں آیا۔ ماما کی منت سماجت اور پاپا کی سرزنش کچھ بھی کام نہ آسکی۔ پاپا سے یہ بات چھپی نہ رہ سکی تھی کہ اس نے ٹینا سے شادی کرلی ہے۔ پاپا خود وہاں جاکر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے تھے۔ پاپا واپس لوٹے تو بے حد خاموش اور پریشان تھے۔ وہ دونوں باتیں کرتے رہتے اور اسے دیکھ کر فکرمند ہوتے رہتے۔ اس کے اچانک آجانے پہ دونوں ہی چپ سادھ لیتے۔ وہ کھٹک سی گئی تھی۔ ایسی کیا بات تھی جو اس سے چھپائی جارہی تھی۔ پاپا کا غصہ ماما کے آنسو سب کچھ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ ان دنوں طبیعت بھی ٹھیک نہ رہتی تھی اس رویے پہ گھبرا اٹھی۔
’’ماما کیا ہوا ہے؟ میں محسوس کرتی ہوں آپ لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔‘‘ تو ماما نے پُرزور انداز میں نفی کی۔ وہ یقین نہ کرنے کے باوجود جرح نہ کرسکی کہ یہ سب اس کی طبیعت کا حصہ نہ تھا۔ اس روز بھی وہ مضمحل سی پورے گھر میں چکراتی پھر رہی تھی۔ پاپا ابھی تک آئے نہیں تھے جبکہ ماما طبیعت کی خرابی کی وجہ سے آرام کررہی تھیں۔ سورج واپسی کا سفر شروع کررہا تھا۔ جب کال بیل کی آواز نے اسے چونکا دیا تھا۔
’’کون سی پٹیاں پڑھائی تھیں پاپا کو تم نے کہ وہ اس قدر غصے میں وہاں آئے تھے اور ٹینا کو اتنی سخت باتیں سنائیں۔‘‘ وہ اسے دھکیلتا ہوا ٹینا سے ملنے والی خجالت پاپا کے رویے کا اشتعال اور سفر کی تمام جھنجلاہٹ اس پہ الٹتے ہوئے غراہٹ زدہ لہجے میں پھنکارا۔ حوریہ جو غیر متوقع طور پہ اسے سامنے پاکر ڈھنگ سے خوش بھی نہ ہوپائی تھی کہ اس اچانک حملے پہ لڑکھڑا کر دیوار سے جالگی۔
’’کیا سمجھتی ہو تم اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈوں سے مجھے پالوگی تو یہ تمہاری بھول ہے۔‘‘ اس کا چہرا اپنے سخت فولادی ہاتھوں میں لے کر چیختا ہوا وہ سراپا قہر بن چکا تھا۔ حوریہ شدید تکلیف کے احساس سمیت بلبلا اٹھی۔ شہیر نے اپنی سخت گرفت میں مچلتی تڑپتی حوریہ کو نہایت حقارت زدہ انداز میں جھٹکا مگر اگلے ہی لمحے نہایت بے دردی سے اس کے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔ ’’بولو پاپا کو تم نے وہاں بھیجا تھا… ہاں میں نے شادی کی ہے میں کسی سے ڈرتا نہیں ہوں یہ بات تم پاپا کو بھی سمجھا دینا تمہاری جو حیثیت تھی اسے میں واضح کرچکا ہوں کہو تو ابھی تمہیں طلاق دے کر فارغ کردوں۔‘‘ حوریہ اپنے بال چھڑانے کی کوشش میں تھی اس بات پہ لمحوں میں سرد پڑگئی۔ ’’بولو کیا چاہتی ہو مجھ سے۔‘‘ وہ دانت پیس کر بولا تو حوریہ الٹے قدموں پیچھے ہٹ گئی۔ سرعت سے بہتے آنسو ہتھیلی کی مدد سے رگڑے اور بہت سارا حوصلہ مجتمع کرکے بولی۔
’’کچھ نہیں مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے… ای ون طلاق بھی نہیں۔‘‘ اپنی بات کہہ کر وہ ہاتھوں میں چہرہ ڈھانپ کر اس وحشت سے روئی تھی کہ سنبھالنا مشکل ہوجائے۔ جبکہ شہیر قہربار نظروں سے اسے دیکھتا وہی سے پلٹ گیا تھا۔
ء…٭…ء
دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں ڈھلتے چلے گئے۔ وہ پھر لوٹ کر ہی نہ آیا۔ یہاں تک کہ اس کی ڈلیوری کی ڈیٹ قریب آگئی۔ بی بی جان کو اس کی خاصی فکر رہنے لگی تھی وہ تو چند دنوں کے لیے اسے لینے بھی آئی تھیں مگر ماما نے بہت سہولت سے انکار کردیا تھا۔
’’بہن یہ تو ہمارے گھر کی رونق ہے اسے لے جائیں گی تو ہم کیا کریں گے۔ آپ فکر کیوں کرتی ہیں میں اسے بہو نہیں بیٹی بنا کر لائی تھی اللہ خیر کا وقت لائے میں اسے اچھی طرح سنبھال لوں گی۔‘‘ بی بی جان جو ہر قسم کے حالات سے بے خبر تھیں کہ داماد نے روز اول سے ہی جو اجنبیت بھرا سلوک روا رکھا تھا ایک آدھ بعد کی ملاقات میں اس میں اضافہ ہی ہوا تھا وہ یہی سمجھی تھیں شہیر دوسرے شہر میں جاب کرتا ہے ہر ویک اینڈ پہ آجاتا ہے جبھی انہوں نے زیادہ اصرار نہیں کیا۔ ماما نے اپنی کہی بات پوری کر دکھائی تھی۔ حوریہ کی طبیعت خراب ہوئی تو پاپا کو تو فون کیا ہی ساتھ جانے کیا سوچ کر شہیر کو بھی کردیا۔ اس نے جانے کیا کہا تھا کہ وہ حسب سابق خاموش رہنے کی بجائے پھٹ پڑی اور اچھی خاصی سنانے کے بعد فون پٹخ دیا۔ پاپا کے آنے پر ماما اسے عجلت بھرے انداز میں ہاسپٹل لے آئی تھیں جہاں قدرت نے اس کے پائوں تلے جنت بچھا دی۔ ایک ہی وقت میں دو صحت مند خوب صورت بچوں کو پاکر بھی وہ بھرپور طریقہ سے اس احساس کو محسوس نہ کرپائی کہ دل وروح پہ غم کی گھٹائیں امڈی ہوئی تھیں۔ میجر آپریشن نے اس کے وجود کی رہی سہی طاقتیں بھی سلب کر ڈالی تھیں۔ جب نرس نے کمبل میں لپٹے بچے اس کے دائیں بائیں لٹائے تو جانے کس احساس کے تحت وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔ ماما کے ساتھ بی بی جان اور بابا جان کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا تھا۔ اس کو سنبھالتے سنبھالتے وہ خاصی دیر تلک ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے تھے اور پھر دل پہ بہت بوجھ لیے اٹھ کر گئے تھے کہ ماما کی تسلیوں کے باوجود وہ انہیں سکھی نظر نہیں آئی تھی۔ اتنی بڑی خوشی کی خبر کو پاکر بھی شہیر وہاں نہیں پہنچا تھا تو یہ بات انہیں ازحد پریشانی اور تفکر میں مبتلا کررہی تھی۔ جب یہی بات بی بی جان نے شکایت بھرے انداز میں ماما سے کہی تو ان کی کترائی ہوئی نظروں میں اتنا خوف اتنی بے بسی تھی کہ وہ کچھ بھی سمجھے بغیر متحیر سی رہ گئی تھیں۔ اسے ہاسٹل میں تیسرا دن تھا جب گرے سوٹ میں وہ نک سک سے تیار بالکل اچانک وہاں چلا آیا تھا۔ حوُریہ کی اٹھی ہوئی نگاہ حیرت وغیر یقینی سے ساکن رہ گئی تھی۔ پاپا نے بچے سے کھیلتے ہوئے دروازہ کھلنے کی آواز پہ پلٹ کر دیکھا تھا۔
’’السلام علیکم! ‘‘ وہ مسکرایا تھا۔ جبکہ پاپا کے سپاٹ چہرے پہ بھرپور تنفر چھلکا تھا۔ بچے کو کاٹ میں لٹاتے ہوئے وہ جھٹکے سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔
’’ماما…‘‘ وہ ماں کی سمت متوجہ ہوا‘ نظروں میں باپ کے رویے کی بھرپور شکایت تھی۔ ماما نے چند ثانیے ڈبڈبائی شاکی نظروں سے دیکھا پھر پاپا کی طرح چپ چاپ باہر چلی گئی تھیں۔ شہیر نے ٹھنڈا سانس بھرا اور شانے جھٹکتا ہوا کاٹ کی سمت متوجہ ہوگیا۔ برابر رکھے دو کاٹ اسے خوشگوار حیرت میں مبتلا کر گئے۔
’’اوہ… تو آپ آہی گئے‘ یقینا ان بے بیز کے فادر ہیں آپ۔‘‘ اچانک نرس کی مداخلت پہ وہ چونکتا ہوا سیدھا ہوا۔ ’’آپ کے دونوں بچے بہت ہیلدی اور کیوٹ ہیں البتہ آپ کی وائف کی کنڈیشن بہت تشویش ناک رہی۔ ابھی بھی بہت ویک نیس ہے انہیں۔ بہترین خوراک ہی نہیں خوش رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔‘‘ نرس حوریہ کو انجکشن لگا رہی تھی یونہی مصروفیت کے عالم میں بھی پٹرپٹر بولے گئی۔ شہیر کو جو تھوڑی بہت الجھن تھی وہ بھی رفع ہوگئی۔ وہ جھک کر باری باری دونوں بچوں کو پیار کرتا رہا اس دوران نرس جاچکی تھی۔ ننھے منھے گل گوتھنے سے خوب صورت بچے اسے یکایک عجیب سے احساس کا شکار کرچکے تھے۔ محبت کے جذبات سے مغلوب ہوتا ہوا وہ ان کی پیشانیوں پہ بوسے ثبت کرتا سیدھا ہوا تھا۔ حوریہ آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھ رہی تھی۔ دل عجیب سے دکھ سمیت بوجھل ہونے لگا تھا۔ کتنا مکمل تھا سب کچھ مگر فریب نگاہ وہ اس کا ہوکر بھی تو اس کا نہیں تھا‘ یہ بات وہ بہت اچھی طرح سے جانتی تھی وہ سب کچھ سہہ سکتی تھی اس کی نفرت‘ اس کا حد سے بڑھا ہوا تکلیف دہ رویہ مگر یہ احساس کہ وہ اس کا نہیں تھا اسے روہانسہ کرتا جارہا تھا۔ بچے کے نرم روئی کے گالے سے گال سہلاتے ہوئے اس نے اچانک نگاہ اٹھائی تھی۔ حوریہ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں نہ صرف نظر کا زاویہ بدل ڈالا تھا بلکہ چہرے کا رخ بھی پھیر گئی تھی۔ شہیر نے کسمساتے بچے کو آہستگی سے واپس کاٹ میں لٹایا اور اس کے سرہانے آن ٹھہرا۔
’’میری خواہش کے برخلاف تم سے میری نسل بڑھی ہے تو یقینا اس میں اللہ کی کوئی مصلحت ضرور ہے کہ ایک کی بجائے دو دو بچے اس نے بیک وقت تمہاری گود میں ڈال دیئے… میں حیران ہوں‘ البتہ تمہیں میری جانب سے خوش فہمی کا شکار اب بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میں ٹینا کے ساتھ بہت خوش ہوں۔‘‘ اس کے بالوں میں ہاتھ الجھا کر ہلکے سے جھٹکے سمیت اس کا رخ اپنی جانب پھیرتا ہوا وہ ہمیشہ کے سے لہجے میں گویا تھا۔ حوریہ کی آنکھوں سے بہتا گرم سیال اس بے اعتنائی کے مظاہرے پہ مزید سرعت سے بہنے لگا۔
’’میں تمہیں صرف یہ جتانے کی غرض سے آیا ہوں کہ اس آنر کے بعد خود کو مضبوط سمجھنے کی حماقت مت کر بیٹھنا ہمیشہ یاد رکھنا تمہاری حیثیت میرے نزدیک آج بھی وہی ہے جو روز اول سے تھی چونکہ یہ میرے بچے ہیں سو ان کے نام بھی میں ہی رکھوں گا۔‘‘ وہ پلٹا اور باری باری دونوں بچوں کو بانہوں میں سمیٹ کر اس کے پہلو میں لٹادیا۔ ’’یہ عبداللہ ہے اور یہ عبدالرحمن… تمہیں میں اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ تم ان کے نام ہی رکھ دو۔‘‘ وہ مسلسل چرکے لگا رہا تھا حوریہ نے سختی سے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
ء…٭…ء
ماما اور پاپا کی شدید ناراضگی اس سے مخفی نہ رہ پائی تھی۔ ہاسپٹل میں جو رویہ انہوں نے شہیر کے ساتھ رکھا تھا اسے دیکھتے ہوئے حوریہ کو اپنی تمام زندگی سیاہ ہوتی نظر آرہی تھی۔ دو بچوں کی مصروفیت نے آنے والے وقتوں میں اسے سر کھجانے کا بھی وقت نہیں دیا مگر یادوں کا اس مصروفیت نے بھی کچھ نہیں بگاڑا اسے یہ اعتراف کرنے میں عار نہیں تھا کہ ماما اور پاپا اس کا خیال اپنی اولاد سے بڑھ کر رکھتے… ویسا ہی مان ویسی ہی محبت‘ کبھی کبھی تو اسے خود بھی لگتا وہ ان کی بہو نہیں بیٹی ہے ایسی بیٹی جس کا شوہر اس سے بے وفائی کا مرتکب ہوچکا ہو… جس کے دکھ بربادی اور اذیت کا انہیں بھرپور احساس ہو۔ اسے ان کے خلوص اور محبتوں پہ شبہ نہیں تھا کہ اس کی خاطر ہی انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے سے قطع تعلق کرلیا تھا۔ عبداللہ اور عبدالرحمن میں ان کی جان تھی۔ ماما کبھی بے اختیاری میں عبداللہ کی کسی حرکت پہ کہتیں بالکل باپ پر گیا ہے وہ بھی بچپن میں بالکل ایسا ہی تھا مگر جب اس کے متغیر چہرے پہ نگاہ ڈالتیں تو چور سی بن جاتیں اور اگلے کئی لمحوں تک چپ مجرم سی بنی رہتیں۔ عبداللہ اور عبدالرحمن کی پہلی سال گرہ تھی پاپا کو اس نے صبح ہی تمام مطلوبہ چیزوں کی لسٹ بنا کردے دی تھی مگر اب یاد آیا تھا کہ بچوں کی شیروانیوں کے ساتھ سنہری کھسے بھی چاہیے تھے۔ ماما کی طبیعت ٹھیک نہ تھی اسی وجہ سے وہ عبداللہ کو سلا کر عبدالرحمن کو آیا کے حوالے کرتی دونوں کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے خود قریبی مارکیٹ تک آگئی ارادہ تھا آدھے گھنٹے تک مطلوبہ سامان لے کر آبھی جائے گی کہ اگر پاپا کا انتظار کرتی تو باقی کاموں کی تیاری کا تو پھر وقت ہی نہ مل پاتا۔ آف وائٹ بڑی سی چادر میں اچھی طرح خود کو لپیٹے وہ اس احساس سے بے نیاز تھی کہ وائٹ کرولا کی ڈرائیونگ سیٹ پہ موجود شہیر ملک اسے دیکھ کر چونکا تھا… سڑک کراس کرتی وہ جیسے ہی مارکیٹ کی سمت مڑی‘ وائٹ گاڑی نہایت سبک رفتاری سے چلتی اس کے بالکل قریب آن رکی۔ حوریہ اپنے دھیان میں نہیں تھی۔ توجہ دیئے بنا آگے بڑھ گئی معاً بیچ روڈ کے اچانک کلائی پر مردانہ گرفت محسوس کرتے ہی وہ جیسے کرنٹ کھا کر مڑی اور اسے روبرو پاکے ششدر رہ گئی تھی۔
’’کہاں آوارہ گردی کرتی پھر رہی ہو۔‘‘ طنز سے بھرپور کاٹ دار لہجہ حوریہ کو سر تاپا جھلسا کے راکھ کر گیا تھا۔
’’لیو می۔‘‘ اس کی تمام سرشاری شدید اشتعال میں ڈھلی تھی جو اسے روبرو پاکے اچانک اندر سرائیت کر گئی تھی۔
’’اتنی بھی کیا جلدی ہے کچھ نہ کچھ تعلق تو ہمارے درمیان ہے نا آئو بیٹھو۔‘‘ یک دم لہجہ بدلتا ہوا وہ مسکرا کر بولا اور اس کی سنے بغیر ہی زبردستی گھسیٹ کر فرنٹ ڈور اوپن کرتے ہی اسے اندر دھکیل دیا۔
’’چھوڑیں مجھے۔ آپ کے ساتھ مجھے کہیں نہیں جانا۔‘‘ وہ قدرے سختی سے بولی… مگر اس کا جواب اسے بھک سے اڑا کے رکھ گیا۔
’’میرے ساتھ نہیں جانا تو کیا کوئی اور دیکھ لیا ہے۔‘‘ لہجہ تھا یا دو دھاری تلوار جو اسے پل بھر میں کاٹ گیا۔ اس کا گلا لمحے کے ہزارویں حصے میں رندھ گیا۔ اس قدر تذلیل شاید یہ شخص اسے سوائے تضحیک آمیز سلوک کے کچھ نہیں دے سکتا تھا۔ وہ سرعت سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ گاڑی ایک جھٹکے سے حرکت میں آئی اور ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ گاہے بگاہے اس کے ہچکیوں سے لرزتے وجود پہ نظر ڈالتا وہ ریش ڈرائیونگ کررہا تھا۔ فائیو اسٹار ہوٹل کی شاندار عمارت کے سامنے گاڑی روکتا ہوا وہ اسی انداز میں اس کی کلائی تھام کر دروزاہ کھولتا ہوا اچانک اس کی سمت پلٹا تھا۔
’’بند کرو یہ رونا دھونا اغوا نہیں کررہا تمہیں۔‘‘ ٹشو بکس سے ٹشو کھینچ کر اس کی سمت پھینکتا ہوا وہ اس سے کیا چاہ رہا تھا حوریہ اتنا تو سمجھ ہی گئی تھی جبھی جبراً خود کو مضبوط بناتی ٹشو سے آنکھیں اور چہرا صاف کرنے لگی وہ جیسے مطمئن ہونے کے بعد ہی گاڑی سے نکلا اور اسے یونہی اپنے ساتھ لیے ریسپشن پہ آکر چابی لی… تب حوریہ کو انداہ ہوپایا کہ وہ وہیں ٹھہرا ہوا ہے اس کے ساتھ کمرے میں آنے تک وہ کسی حد تک خود کو سنبھال کر متوقع صورت حال کے لیے خود کو تیار کرچکی تھی۔ اب جانے کون سا مطالبہ منوانے کی غرض سے اس طرح لایا تھا۔ وہ قطعی نہیں سمجھی جبھی خاصے غصے میں بولی تھی۔
’’کیوں لائے ہیں مجھے یہاں؟‘‘ کمرے کا دروازہ بند کرنے کے بعد کوٹ اتارتے دیکھ کر وہ سراسیمہ سی ہوکر بولی۔
’’بتا دیتے ہیں جان من اتنی جلدی بھی کیا ہے۔‘‘ وہ آگے بڑھا تھا اور اس کی حیرت وخوف سے پھیلی نگاہوں میں جھانکتے ہوئے ہنس کر اسے بیڈ پہ دھکا دیتے ہوئے بولا۔ حوریہ کے حلق سے چیخ نکلی تھی جس کا گلا اگلے ہی لمحے اس کے بھاری ہاتھ نے بہت بے دردی سے گھونٹ ڈالا تھا۔
ء…٭…ء
وہ آفیشل کام کی غرض سے یہاں آیا تھا۔ یہ تیسرا اور آخری دن تھا جب اس نے حوریہ کو بازار میں دیکھا تو ایک شیطانی خیال بہت سرعت سے اس کے دماغ میں گھسا تھا جسے اگلے ہی لمحے اس نے عملی جامہ پہنا دیا۔ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے وہ سگریٹ پیتے ہوئے حظ لیتی نظروں سے بری طرح سے سسکتی ہوئی حوریہ کو دیکھ رہا تھا اس کے کھل کر بکھر جانے والے بالوں نے اس کے نازک سراپے کو کسی حد تک چھپا لیا تھا۔ رسٹ واچ پہ نگاہ ڈالتا ہوا وہ سگریٹ ایش ٹرے میں اچھال کر بیڈ سے اترا۔ فریش ہونے کے بعد تیار ہوا اور اپنی چیزیں سمیٹ سمیٹ کر سوٹ کیس میں رکھتا اس پہ بھی بھولی بھٹکی نگاہ ڈال لیتا۔ پھر اسے ہنوز اسی حالت میں پاکر قریب آیا۔
’’کتنی نفرت کرتا ہوں میں تم سے۔ شاید کبھی بتانا چاہوں تو مناسب الفاظ کبھی نہ مل پائیں۔ کہ وہ تمام لفظ میری نفرت کے سامنے بے حد معمولی ہیں سو اس بات کو رہنے دو بس اتنا جان لو کہ یہ جو کچھ بھی میں نے تمہارے ساتھ کیا تمہاری طلب میں بے بس ہوکر نہیں بلکہ نفرت کے شدید جذبے سے مغلوب ہوکر اپنی اس نفرت کا دائرہ میں وسیع کردینا چاہتا ہوں اس طرح کہ صرف میں ہی نہیں ساری دنیا تم سے نفرت کرے۔ تم پہ تھو تھو کرے میرے پاپا‘ میری ماما جنہیں تم جیسی گھٹیا عورت نے مجھ سے چھین لیا اب میں تمہیں ان کی نگاہوں سے گرانا چاہتا ہوں۔ ذرا سوچو جب تم ایک بار پھر پریگنینٹ ہوگی تو انہیں کیا منہ دکھائوگی… ظاہر ہے میں تو تم سے نہیں ملا وہ یہی سمجھتے ہیں نا۔‘‘ وہ اس کی خوف سے پھیلی ساکن آنکھوں میں جھانکتا ہوا سفاکی سے کہتے لمحہ بھر کو تھما۔ ’’بہت محبت کرتے ہیں نا وہ تم سے اب دیکھنا یہ محبت کیسے پانی کے بلبلے کی مانند اپنا وجود کھوتی ہے اور یہی میرا مقصد ہے تاکہ تم ذلیل وخوار ہوکر اس گھر سے دفعان ہو تو میں ٹینا کے ساتھ وہاں آکے رہ سکوں جب تک تمہارا منحوس وجود ہے میری یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔‘‘ کس درجہ رحم سے عاری محسوس ہوا تھا وہ حوریہ کو اس لمحے… ابھی وہ اسی شاک سے سنبھلی نہ تھی کہ وہ اس کا چھلنی وجود مزید تار تار کرنے لگا۔ دونوں بازو اس کے دائیں بائیں رکھ کے اس پہ جھکا اور اس کی پیشانی سے تھوڑی تک لکیر کھینچتے ہوئے سفاکی سے ہنسا تھا۔
’’تم کیا جانو کہ میں کیا سمجھتا ہوں تمہیں‘ تم بتائو تمہیں اپنا آپ میری قربتوں میں کیسا لگا کیا تم نے میرے کسی بھی انداز سے محسوس کیا کہ تم میری بیوی ہو… نہیں نا…‘‘ وہ اس کی ساکت پلکوں کو چھو کر مسکرایا۔ ’’گڈ سمجھنا بھی نہیں کیونکہ میں بھی تمہیں بیوی نہیں اپنی داشتہ سمجھتا ہوں۔‘‘ حوریہ نے شدید کرب میں گھرتے ہوئے سختی سے آنکھیں بند کرلیں تو دو آنسو ڈھلک کر گالوں پہ پھیل گئے تھے۔ وہ سیدھا ہوا بریف کیس اٹھایا اور ہینڈل پکڑ کر مڑا کہ کچھ خیال آنے پہ بے ساختہ ایڑیوں کے بل گھوما۔
’’ہاں ایک بات اور بہت خاص ہے شاید تمہارے اس رنج وملال کو کم کردے۔‘‘ وہ اسے گھٹ گھٹ کر روتے دیکھ کر قریب آکر بولا۔ ’’تم اتنی بھی عام سی نہیں ہو جتنا میں آج تک سمجھتا رہا بلکہ اچھی خاصی خوب صورت ہو اور تمہاری اس خوب صورتی کا احساس آج سے قبل قطعی نہیں ہوسکا تھا۔‘‘ اس کا یخ ہوتا رخسار تھپتھپا کر متبسم لہجے میں کہتا وہ پلٹ کر کمرے سے نکل گیا جبکہ حوریہ سناٹوں میں گھری وہیں بیٹھی رہ گئی تھی چند منٹ کے توقف سے دروازے پر دستک ہوئی تو اس کے ساکن وجود میں تحریک پیدا ہوئی تھی۔
’’سوری میم آپ کو یہ روم خالی کرنا پڑے گا صاحب جاچکے ہیں اور ادائیگی بھی ہوگئی ہے اس لیے پلیز آپ بھی یہاں سے تشریف لے جائیے۔‘‘ ویٹر اندر آکر مشینی انداز میں بولنا شروع ہوا تھا لہجہ مہذبانہ سہی مگر حوریہ اس کی نگاہوں سے پانی پانی ہوگئی تھی کیسے دیکھا تھا اس نے اسے وہ ان نظروں کے مفہوم کو خود پہ واضح نہ کرتے ہوئے بھی جیسے خود سے نگاہ ملاتے شرم سے کٹ گئی۔ اس کی آنکھوں میں اتنی سرعت سے دھند اتری تھی کہ وہ رونا نہیں چاہتی تھی تب بھی رو پڑی تھی۔ شاید اس تذلیل پہ نہیں اس محبت پہ جو اس نے شہیر ملک سے کی تھی مگر اس ایک لمحے میں وہ ہمیشہ کے لیے اپنی موت مرگئی تھی۔
ء…٭…ء
آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان مرد جب شادی کے لیے عورت منتخب کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ تین خوبیوں کو مدنظر رکھے اس عورت کا حسن‘ اس کی دولت اور اس کی دین داری اور ان سب میں سب سے اہم جو خوبی ہے وہ دین داری ہے‘ حوریہ کے پاس نہ بے تحاشہ حسن تھا نہ بہت زیادہ دولت البتہ اس کے پاس پارسائی تھی‘ دین داری تھی‘ اپنی فیملی اور ملنے ملانے والوں کے رویوں نے جب قدم قدم پہ اسے اذیت بخشی تھی تو اپنی ذات میں تنہا ہوتے ہوتے اس نے کب اللہ کو پہچانا کب اسے پایا اسے خود بھی خبر نہ ہوسکی‘ البتہ یہ ضرور ہوا کہ پھر اس نے خود کو دین کے راستوں کی راہی بنالیا‘ اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون پوشیدہ ہے اس کے بھی مضطرب بے قرار دل کو جیسے قرار مل گیا تھا جبھی تو شہیر کے سخت سے سخت رویے کو بھی خندہ پیشانی سے سہہ کر حرف شکایت لبوں پہ نہ لائی حالانکہ اس کا تضحیک آمیز رویہ اس کی روح پہ تازیانے لگتا تھا وہ بلبلاتی رہی تھی محبت کے بغیر رہ سکتی تھی مگر مسرت کے بغیر نہیں اور اب جیسے انتہا کردی تھی… شہیر ملک نے اس کی تذلیل کی اس نے آخری بار رو کر جیسے اس کی محبت کو اندر ہی اندر کہیں ہمیشہ کے لیے دفنا دیا تھا۔ اسے خبر نہیں تھی وہ گھر کیسے پہنچی اس کی طبیعت اگلے کئی دنوں تک نہیں سنبھلی۔ ماما کے الگ ہاتھ پائوں پھولے رہے۔ دن رات اس کی پٹی سے لگی رہتیں اس پہ دونوں بچوں کی ذمہ داریاں الگ‘ وہ تو ایک ہفتے میں ہی چکرا کر رہ گئی تھیں۔ حوریہ کی طبیعت تو سنبھل گئی البتہ دل نہیں ٹھہرا جو خوف کا عفریت وہ وہاں سے لے کر آئی تھی اس نے سجدے دراز کردیئے ایک ہی دعا خدا سے کرتی کہ اللہ اسے مزید کسی بھی آزمائش سے بچالے اور وہ تو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا ہے اس کے بھی اس خوف کو زائل کردیا اس کے بعد تو وہ اس قدر خوف زدہ ہوئی تھی کہ ہمیشہ کے لیے تنہا گھر سے نکلنے سے توبہ کرلی۔ وقت کتنا ہی کڑا کیوں نہ ہو بیت ہی جاتا ہے جس روز پاپا نے عبداللہ اور عبدالرحمن کا اسکول میں ایڈمیشن کروایا جانے کیوں بہت سے زیاں کا احساس اس کا دل بھینچنے لگا تھا زندگی کے قیمتی ماہ سال کسی کی بے حسی اور سفاکی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ پاپا نے اسے الگ گاڑی لے دی تاکہ وہ بچوں کو وقت بے وقت پک اینڈ ڈراپ کرسکے۔ وہ تو تیزی سے گرتی صحت کے ساتھ بامشکل آفس کی ذمہ داریاں سنبھال پاتے تھے اس نے بھی پس وپیش سے کام نہیں لیا کہ ایک بے بنیاد خوف کے پیچھے وہ کب تک یوں بزدلوں کی طرح چھپ چھپ کر جیتی جبکہ اب وہ پہلے والی حوریہ بھی نہیں رہی تھی۔ اللہ نے اسے بلند عزم حوصلہ اور ہمت عطا کی تھی۔ پھر وہ کیوں خود کو محدود کرتی بس یہی سوچ کر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں تھیں۔
ء…٭…ء
عبداللہ اور عبدالرحمن کی چھٹی سال گرہ تھی اور دونوں کی رٹ تھی کہ اس مرتبہ کسی فائیواسٹار ہوٹل میں اریجمنٹ ہونی چاہیے گو کہ حوریہ نے سمجھایا بھی تھا بیٹا دادا اور دادو کے ساتھ کیک کاٹ لیں گے جیسے ہمیشہ کاٹتے ہیں تو عبداللہ جس کی طبیعت میں ضد اور نخرہ چھلکتا تھا اس بات پہ بری طرح اینٹھ گیا۔
’’میرے تو سارے فرینڈز اپنے پاپا کے ساتھ جاکر ریسٹورینٹ میں برتھ ڈے سیلبریٹ کرتے ہیں۔ آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ وائے۔‘‘ وہ پائوں پٹخ کر چیخا تھا پھر اس پہ گرفت کرتا ہوا بولا۔ ’’ایک تو پپا بھی کبھی نہیں آتے… ہماری برتھ ڈے پر بھی نہیں آتے نہ ہی آپ ہماری کبھی ان سے فون پہ بات کرواتی ہیں۔ ہمیشہ ہمارے سونے کے بعد ہی ان کا فون کیوں آتا ہے اور وہی کیوں کرتے ہیں آپ کیوں نہیں کرتیں آپ کے پاس ان کا کانٹیکٹ نمبر نہیں ہے کیا آپ نے تو کبھی انہیں واپس آنے پہ بھی فورس نہیں کیا… کیوں؟‘‘ وہ کتنا سمجھدار اور ہوشیار بچہ تھا اس کا اندازہ حوریہ کو تھا مگر آج جس طرح اس نے اسے گھیرا تھا اس نے حوریہ کا رنگ فق کر ڈالا تھا۔ اگر ماما عبداللہ کو نہ بہلا لیتی تو شاید وہ اپنی باتوں سے اسے عاجز کردیتا۔ اس نے بچوں کے ساتھ سالگرہ ہوٹل میں سیلبریٹ کرنے کا ارادہ کیا اور پاپا کو آگاہ کردیا انہیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ ماما شریک نہیں ہوئیں گھر پہ ہی دونوں بچوں کو گفٹ اور دعائیں دے دیں۔ وہ پاپا کے ساتھ جب رات کے دس بجے گھر لوٹی تو پورٹیکو میں کھڑی سیاہ نسان کو پاپا کے ساتھ اس نے بھی قدرے حیرانگی سے دیکھا… شاید کوئی مہمان آیا ہے۔ پاپا نے ازخود ہی اپنی الجھن رفع کرلی۔ اچھلتے کودتے عبداللہ کی انگلی تھامے پاپا اور سوئے ہوئے عبدالرحمن کو اس نے بمشکل اٹھا رکھا تھا جیسے ہی پاپا کے ہمراہ اس نے ٹی وی لائونج میں قدم رکھا اپنی جگہ ٹھٹکی‘ بھونچکی سی رہ گئی۔ ماما صوفے پہ بیٹھی تھیں اور ماما کی گود میں سر رکھے وہ شہیر ملک کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا… اس کی ساکت پلکوں سے پاپا کی نگاہ ٹکرائی تھی تب وہ جیسے ہوش کی دنیا میں ہڑبڑا کر لوٹ آیا بازوئوں کے گھیرے میں عبدالرحمن کو بھینچتی الٹے قدموں بھاگتی اپنے کمرے میں آئی اور بے دم سے انداز میں بیڈ پہ ڈھے گئی۔
ء…٭…ء
وہ اکیلا نہیں آیا تھا اس کی تین سالہ بیٹی امن اس کے ساتھ تھی جسے طلاق کے بعد ٹینا نے اپنے ساتھ رکھنا گوارا نہیں کیا تھا… یہ تمام باتیں ماما کے توسط سے اس تک پہنچی تھیں۔ شہیر مزاج میں یکسر تبدیلی کے ساتھ ویسا ہی جاذب نظر تھا کچھ دن تک تو حوریہ سے نظریں چراتا رہا تھا شرمندگی وخجالت اس کے ہر انداز سے عیاں تھی۔ دھیرے دھیرے وہ جیسے سیٹ ہوا پاپا کی چند روزہ ناراضگی بھی بالآخر ختم ہوگئی جبکہ ماما نے تو کھلے بازوئوں سمیت اسے خوش آمدید کہا تھا حوریہ کو ماما اور پاپا سے شکایت نہیں تھی وہ ان کا بیٹا تھا اتنے سالوں سے دور تھا اب آیا تھا تو ان کے لیے اس کی محبت اور اہمیت کا اسے احساس تھا۔ امن کے ساتھ شہیر نے عبداللہ اور عبدالرحمن کو بھی اپنی شفقتوں اور محبتوں میں حصہ دار بنا لیا تھا۔ یہی نہیں آفس بھی جانا شروع کردیا جہاں پاپا نے سکون کا سانس لیا وہاں ماما بھی مطمئن نظر آنے لگیں۔
’’اگر تم برا نہ منائو حوریہ تو امن کو بھی عبداللہ اور عبدالرحمن کی طرح اپنے ساتھ سلالیا کرو۔ وہ بہت چھوٹی ہے ماں کی محرومی اس کا نصیب نہ بنائو۔‘‘ گو کہ انہوں نے بہت ڈرتے ڈرتے یہ بات کی تھی مگر حوریہ نے بہت محبت بھرے انداز میں ان کا مان بڑھا دیا تھا۔
’’یہ میری بیٹی ہے ماما آپ بے فکر ہوجائیں۔ امن میرے لیے کسی طرح بھی عبداللہ اور عبدالرحمن سے کم نہیں۔ خدا نے مجھے دو بیٹوں سے نوازا تھا اب بیٹی کی کمی بھی پوری کردی۔‘‘ ان کی گود میں بیٹھی امن کو اپنے بازوئوں میں لے کر پیار کرتے ہوئے اس نے اتنی محبت اتنی اپنائیت سے کہا کہ ماما کھل اٹھیں۔ اس نے اپنا کہا سچ بھی کر دکھایا تھا۔ واقعی اس نے تینوں بچوں میں کوئی تفریق نہیں رکھی۔ اگلے چند دنوں میں امن کا ایڈمیشن بھی عبداللہ اور عبدالرحمن کے اسکول میں کروا دیا وہ جو کچھ بھی کررہی تھی پیش نظر اللہ کی خوشنودی اور ماما پاپا کی محبتوں‘ شفقتوں کا حقیر سا بدل تھا… بس ان دو عظیم انسانوں نے جو کچھ اس کے لیے کیا تھا وہ سمجھتی تھی اس کے جواب میں اس کی یہ قربانی کچھ بھی نہیں تھی۔ بچوں کو اب بھی اسکول وہی لینے جاتی‘ البتہ ڈراپ آفس جاتے ہوئے شہیر کردیا کرتا ۔ پہلے دن جب بچے اس کے ساتھ اسکول گئے وہ معمول کے مطابق عجلت بھرے انداز میں تمام کام نپٹاتی چادر اوڑھ کر پورٹیکو میں آئی تو شہیر تینوں بچوں کو پیچھے بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ رہا تھا وہ اپنی جگہ پہ جم کر رہ گئی تھی۔
’’مما… اب ہم پپا کے ساتھ اسکول جایا کریں گے۔‘‘ عبداللہ نے خوب چہک کر اسے اطلاع بہم پہنچائی۔ تب وہ گہرا سانس کھینچ کر وہیں سے پلٹ گئی۔
’’حوریہ…‘‘ تبھی شہیر کی اس بھاری بھرکم پکار پہ وہ جیسے خود کو زمین میں جکڑا ہوا محسوس کرنے لگی تھی۔ قدم بے اختیار ہی تھم گئے تھے۔ ’’یہاں آئو… مجھے تم سے کچھ بات کرنا ہے۔‘‘ جب سے وہ آیا تھا براہ راست یہ پہلا موقعہ تھا جو اس نے اسے مخاطب کیا تھا۔ حوریہ نے بغور اسے دیکھا اور لب بھینچتی ہوئی تیز قدم اٹھاتی اندرونی حصے کی جانب چلی گئی جبکہ شہیر ملک کے وجیہہ چہرے پہ عجیب بے بسی کا تاثر جھلکا تھا۔
ء…٭…ء
’’مما… آج بریک میں بچوں نے امن کو دھکا دے کر گرا دیا تھا۔ دیکھیں ذرا اس کے گھٹنے پہ چوٹ لگی ہے۔‘‘ عبداللہ نے نہ اسے رونے سے چپ کروایا نہ ہی اٹھنے میں مدد دی۔‘‘ عبدالرحمن کو ہوم ورک کے دوران اچانک یاد آیا تو پینسل کا سرا منہ میں دباکر اسے بتایا۔
’’تو بیٹا… آپ خود اٹھالیتے بہن کو۔‘‘ حوریہ امن کو گود میں بٹھا کر گھٹنے چیک کرتے ہوئے کہا واقعی امن کا گھٹنہ چھل گیا تھا اس نے عبدالرحمن کو دراز سے مرہم نکال کر لانے کا کہا اور خود عبداللہ کی سمت متوجہ ہوئی۔ ’’عبداللہ بیٹا… یہ مما کیا سن رہی ہیں آپ نے بہن کی ہیلپ کیوں نہیں کی ابھی تو وہ بہت چھوٹی ہے آپ کو پتہ ہے نا اسے آپ کی ہیلپ اور کیئر کی ضرورت ہے۔‘‘ اس کا رسانیت سے بھرپور لہجہ ازحد نرمی کے ساتھ سرزنش لیے ہوئے تھا۔
’’مگر وہ میری بہن نہیں ہے۔‘‘ عبداللہ پہ الٹا اثر ہوا تھا۔ ہاتھ سے ریڈر بک پھینکتے ہوئے وہ تڑخ کر بدتمیزی سے چیخا۔ حوریہ قدرے گھبرا کر حیران وپریشان ہوکر اس چھوٹے سے بچے کا یہ غم وغصہ ملاحظہ کرنے لگی معاً اس نے خود کو سنبھالا اور بہت نرمی سے بولی۔
’’واٹ یو مین مائی سن‘ امن آپ کی بہن نہیں ہے یہ آپ سے کس نے کہا؟‘‘
’’یہ میری ریئل سسٹر تو نہیں ہے… اسٹیپ سسٹر بھی تو اسٹیپ مدر کی طرح بالکل اچھی نہیں ہوتی۔‘‘ حوریہ کا وجود جیسے دھماکے سے اڑ گیا تھا امن کو گود سے اتار کر اس نے اکھڑے اکھڑے سے عبداللہ کو خود سے قریب کیا۔
’’بری بات ہے بیٹا… بہن تو بس بہن ہوتی ہے رئیل یا اسٹیپ کے متعلق آپ نے بالکل نہیں سوچنا نہ بات کرنا ہے اگر مما نے آئندہ آپ کے منہ سے ایسی بات سنی تو خفا ہوجائیں گی اور کبھی آپ سے بات نہیں کریں گی اور ہاں امن آپ کی چھوٹی بہن ہے اور بڑے بھائی ہرگز کیئر لیس نہیں ہوتے آپ کو تو اس کا محافظ بننا ہے رائٹ۔‘‘ وہ مسکرا کر اس سے پرامس لے رہی تھی جبکہ کمرے کی چوکھٹ پہ کھڑے شہیر ملک کے چہرے پہ آسودہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
ء…٭…ء
ماما نے شہیر کی پریشانی اور اضطراب کو دیکھتے ہوئے ہی حوریہ کو پاس بٹھا کر خاصا طویل لیکچر دیا تھا جس میں خطا کار کو معاف کردینے کی عظمت پر خصوصی روشنی ڈالی گئی تھی۔ حوریہ ان کا مقصد سمجھ کر بھی بظاہر انجان بنی خاموش بیٹھی رہی۔
’’شہیر نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا ہے تمہاری زندگی کا اجاڑ پن بھی میرے سامنے ہے میں چاہتی ہوں اب تم دونوں انا کی اس دیوار کو گرا کر پھر سے ایک ہوجائو۔‘‘ حوریہ نے دل پہ پتھر رکھ کر یہاں بھی ان کی بات مان لی تھی۔ یوں شہیر جو اتنے دنوں سے دوسرے بیڈ روم میں تھا اس کے ساتھ اسی کمرے میں آگیا۔
’’مجھے تم سے کچھ بات کرنا ہے حوریہ… پلیز دو گھڑی آرام سے بیٹھ کر میری بات سن لو۔‘‘ وہ جو کب سے اس کی توجہ کا طالب بنا بیٹھا تھا… ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار نہ کرسکا کہ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ بچوں کے یونیفارم استری کرنے‘ جوتے پالش کرنے ان کے بیگ تیار کرنے میں کچھ اس حد تک مصروف تھی کہ ایک بار بھی نظر اٹھا کر اسے نہ دیکھا۔ اب جب اس نے پکارا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی سمت متوجہ ہوگئی۔
’’جی کہیں…‘‘ لہجہ وانداز یوں پُرسکون تھے کہ شہیر کو گمان گزرا جیسے درمیان کے عرصے میں ان کے مابین کوئی خفگی کوئی رنجش تھی ہی نہیں۔
’’تم مجھ سے بات نہیں کرتیں میرے پاس نہیں بیٹھتیں۔‘‘ وہ شاکی سا ہوا تو حوریہ نے صرف ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے سر جھکا لیا۔ شہیر خجالت کے شدید احساس سمیت اس ایک خاموش نگاہ کی کاٹ کو محسوس کرتا رہا تھا پھر جیسے حوصلوں کو مجتمع کرکے بولا۔
’’مجھے اعتراف ہے حوریہ کہ میں بہت زیادتی کرچکا ہوں تمہارے ساتھ۔ غلطی پہ تھا میں لیکن اگر تم مجھے معاف کرچکی ہو تو اپنے رویے کی مار تو مت مارو۔‘‘ وہ سراپا عاجز ہوکر کہہ رہا تھا۔ حوریہ رخ پھیر کر الماری میں رکھے کپڑوں کو ازسر نو ترتیب سے رکھنے لگی۔ اس کے اندر شہیر کی باتوں سے گویا آنسوئوں کی برسات ہونے لگی تھی اسے وہ ایک ایک زیادتی یاد آنے لگی تھی جبکہ وہ اس کی کیفیت سے بے خبر کہہ رہا تھا۔
’’بہت تھک گیا ہوں حوریہ تمہارے ساتھ جو کچھ کیا وہ شرمندگی وہ احساس ندامت مجھے دن رات کچوکے لگاتا ہے پلیز مجھے معاف کردو اس احساس سے نکال لو اپنے وجود کی مہربان چھائوں سے میرے اندر کی دھوپ مٹا ڈالو۔‘‘ اسے بازوئوں کے حلقے میں لے کر سر شانے پہ رکھتا ہوا وہ یکسر بدلے ہوئے روپ میں سامنے تھا۔ حوریہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی‘ کوئی احتجاج نہیں کیا۔
’’تم… تم نے مجھے معاف کردیا نا حوریہ میں… میں تمہیں اب یوں نہیں چھونا چاہتا کہ تمہیں احساس ہو میں تمہیں تم سے چھین رہا ہوں تمہاری مکمل رضامندی اور سپردگی چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اس پہ جھکا اس کے جواب کا منتظر تھا۔ وہ زخمی سے انداز میں مسکرادی۔
’’میں آپ کو آپ کی کسی بھی جسارت سے روکوں گی بھی نہیں شہیر ملک‘ اس کے باوجود بھی کہ آپ کی قربت میں مجھے خود پہ بہت جبر کرنا پڑے گا‘ اس کے باوجود بھی کہ مجھے اپنا آپ کسی کال گرل اور آپ کی داشتہ سے زیادہ ہلکا لگے گا۔‘‘ سارے آنسو اندر اتار کر اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو شہیر اسے چھوڑ کر یوں پیچھے ہٹا جیسے کرنٹ لگا ہو اس کے وجیہہ چہرے پہ اذیت رقم ہوچکی تھی۔
’’حوریہ…!‘‘ اس کے لب کانپے تھے۔ ’’یہ سزا مت دو مجھے حوریہ…‘‘ وہ منت کے انداز میں عاجزی پہ اتر آیا تو حوریہ زہرخند سے ہنس دی۔
’’سزا کیسی سزا یہ سزا تو میں خود کو دے رہی ہوں شہیر ملک‘ آپ کو کیا فرق پڑے گا‘ آپ کا تو مجھ سے ہمیشہ سے یہی رشتہ رہا ہے نا… اذیت تو میں نے سہی ہے ایک شریف عورت کسی کی داشتہ بننے سے قبل مر جانا پسند کرتی ہے‘ آپ تو ہمیشہ سے خود مختار رہے تھے‘ کسی نے روکا ہے آپ کو۔‘‘
’’مم… میں تمہاری رضا…‘‘
’’ہاں رضا…‘‘ وہ زہرخند سے بولی تو شہیر لب بھینچتا ہوا سرعت سے پلٹ کر باہر چلا گیا۔
ء…٭…ء
میں اس کی دسترس میں ہوں لیکن
وہ مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
جب ماما نے مجھ سے شہیر کو معاف کردینے کا کہا تو میں ہمیشہ کی طرح ان کی بات رد نہ کرسکی ان کی بات مان لینے کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ چھ سال گزر جانے کے بعد بھی میں انہیں آج تک یہ نہ بتا پائی کہ ان کے بیٹے نے میرے ساتھ کیسا انسان سوز سلوک کیا‘ میرے وجود پہ جو زخم ان کی وحشتوں کے گواہ بن کر اترے تھے انہیں وقت نے بھر تو دیا مگر روح کے زخم کینسر میں ڈھل گئے تھے۔ میں سب کچھ بھول سکتی ہوں‘ مگر وہ پل نہیں جب ہوٹل کے کمرے میں انہوں نے مجھے ہمیشہ کے لیے میری ہی نگاہوں سے گرا دیا تھا… گو کہ ان کا رویہ مجھے کبھی بھی ان کی بیوی سمجھنے نہیں دیتا تھا مگر وہ سب میں چاہوں بھی تو بھلا نہیں پائوں گی اس روز مجھے سچ مچ اپنا آپ کسی داشتہ کی طرح ہی کمتر محسوس ہوا تھا… ویٹر کی نظروں میں اپنے لیے جو کچھ میں نے دیکھا تھا وہ آج بھی میری روح پہ تازیانے لگتا ہے… کتنے ہی صفحات آگے خالی پڑے تھے۔ شہیر نے بے تابی سے صفحے پلٹے وارڈروب سے اپنی شرٹ ڈھونڈتے یہ بلیک مخملیں جلد کی ڈائری اس کے ہاتھ لگ گئی تھی۔ معاً اس کے ہاتھوں کی حرکت تھم گئی اور نظریں بے تابی سے سطروں پہ پھسلیں۔
مجھے مصروف رہنے دو
تمہاری یاد کی کرنوں کو اب رستہ نہیں ملتا کہ میری جان کھا جائیں
بہت مصروف رہتی ہوں تمہاری یاد کی کرنوں سے کتنی دور رہتی ہوں
تب اور اب کی اس لڑکی میں چند صدیوں کی دوری ہے
بہت مصروف رہتی ہوں مجھے یہ فکر لاحق ہے
ابھی کھانا پکانا ہے ابھی میٹھا بنانا ہے
ابھی تو پیاز کٹنے ہیں ابھی سیلڈ بنانا ہے
ابھی سب آنے والے ہیں ابھی ٹیبل سجانا ہے
ابھی بچوں کے کپڑوں کو بھی دھونا ہے
ابھی بچوں کو کل کے واسطے لکھنا لکھانا ہے
ابھی سب آنے والے ہیں ابھی کھانا پکانا ہے
ابھی پھر شام ہوتی ہے ابھی چائے پکانی ہے
ابھی مہمان آنے ہیں
ابھی مجھ کو تمہاری یاد کی فرصت نہیں ملتی
مگر سوچو یہ اچھا ہے میرے حق میں‘ تیرے حق میں
کہ میری یاد کی دنیا کو اب ویران رہنا ہے
مجھے تم سے یہ کہنا ہے
مجھے مصروف رہنے دو
مجھے مصروف رہنے دو
تحریر شہیر ملک کی نگاہوں میں دھندل اگئی۔ نم پلکوں کو جھپکتے ہوئے اس نے مزید پڑھنے کی کوشش نہیں کی اور ڈائری بند کرکے وہیں رکھ دی جہاں سے اٹھائی تھی۔ اسے یاد تھا جب وہ شادی کے بعد اسلام آباد جارہا تھا تو حوریہ سسکتی ہوئی اس کے بازو سے لپٹ گئی تھی۔
’’مت جائیں شہیر مجھے اکیلا چھوڑ کر نہ جائیں میں جیتے جی مرنا نہیں چاہتی۔ مجھے آپ سے محبت ہے آپ کے بغیر مر جائوں گی۔‘‘ مگر تب وہ بے حس بنا کھڑا رہا تھا اسے نہایت اہانت آمیز انداز میں جھٹک کر چلا گیا تھا اور آج وہ بے حس بن چکی تھی۔ وقت کا الٹا چکر شروع ہوچکا تھا اس نے اس کی بچی کو قبول کرلیا تھا لیکن وہ اسے معاف نہیں کرسکی تھی اسے یاد تھا اس نے ہی اسے یہ اختیار سونپا تھا وہ اب اپنا فیصلہ کرلے اور فیصلہ ہوچکا تھا ایک عہد اس نے بھی کیا تھا اس پہ جبر نہ کرنے کا اس کے اعمال کی یہ سزا معمولی تھی۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close