Hijaab Dec-16

رخ سخن(انٹرویو)

سباس گل

قرۃ العین سکندر
سوال: اپنے بارے میں کچھ بتایئے؟ کہاں اورکب پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی‘ تعلیم کتنی ہے؟
جواب: میری پیدائش لاہور میں ہی ہوئی۔ 14 دسمبر کو پیدا ہوئی‘ میری والدہ صاحبہ کا خواب تھا کہ سب بچوں کو تعلیم دلوائی جائے۔ تعلیم کے معاملے میں وہ ایک سخت گیر خاتون تھیں‘ گلبرک کالج سے گریجویشن کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا اور مختلف کورسز بھی کیے۔
سوال: قلم سے دوستی کب ہوئی اور اس دوستی کا احساس کب ہوا؟
جواب: قلم سے ناطہ بہت بچپن میں جڑگیا تھا‘ مجھے بچپن سے یہ صفحات اور قلم اپنی جانب کھینچتے تھے اور میں نصابی سرگرمیوں کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی تھی۔ لکھنا بہت بچپن میں شروع کردیا تھا مگر ڈائری کی حد تک‘ میں لکھتی اور ڈائری میں جمع کرلیتی تھی۔ مطالعہ کا جنون کی حد تک شوق تھا‘مختلف ڈائجسٹ‘ رسائل کا مطالعہ بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔لکھنا میرا جنون ہے میں لکھ کر خود کو ہلکا پھلکامحسوس کرتی ہوں۔ لکھنے کی تحریک میری سوچ ہے جو لفظوں میں ڈھل جاتی ہے۔ لکھنے کے بعد میں خود کو تازہ دم محسوس کرتی ہوں‘ ہر ماہ جب مختلف ڈائجسٹ میں میری تحریریں چھپتی ہیں تو اللہ پاک کا شکر ادا کرتی ہوں کیونکہ رب العزت کے کرم کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔
سوال: پہلی تحریر کہاں شائع ہوئی؟ اب تک کیا کچھ لکھ چکی ہیں؟
جواب: پہلی تحریر ردا ڈائجسٹ میں شائع ہوئی ’’سود و زیاں کا حساب‘‘ دوسری تحریر آنچل میں شائع ہوئی ’’ظلمت شب کی سحر‘‘ اور اس کے بعد اشاعت کا سلسلہ زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ ردا ‘ ریشم‘ آنچل‘ حجاب‘ نئے افق میں مختلف تحریریں شامل اشاعت رہیں۔ پاکیزہ‘ کرن اور خواتین ڈائجسٹ میں بہت جلد مختلف ناولز اور افسانے شامل اشاعت ہوں گے۔ ابھی نومبر میں بھی خواتین ڈائجسٹ میں افسانہ شائع ہو اہے۔
سوال: مزاجاً کیسی ہیں؟
جواب: مزاجاً توگرم مزاج کی ہوں‘ غصہ بہت کم آتا ہے۔ بہت جلد لوگوں پر اعتبار کرلیتی ہوں‘ اسی طرح بہت جلد معاف کردیتی ہوں۔ بہت وقت کے لیے کسی سے بھی خفا نہیں رہ سکتی‘ دل کی بات دل میں رکھنے کی قائل نہیں ہوں جو جیسا لگے اسے کہہ دیتی ہوں۔لگی لپٹی کی قائل نہیں۔
سوال: کھانا پکانے کاشوق کس حد تک ہے؟
جواب: کھانے پکانے کا شوق اپنے بچوں کی فرمائشوں کی لسٹ دیکھ کرہوا ہے۔شادی سے قبل زیادہ تر کھانا میری امی پکایا کرتی تھیں‘ میری والدہ کے ہاتھوںمیں بہت لذت ہے۔ جو ایک بار ان کے ہاتھ کی کوئی سی بھی ڈش کھالے بار بار فرمائش کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ امی کی نسبت میں اتنی اچھی کک نہیں ہوں مگر کوشش ضرور کرتی ہوں کہ میرے بچے بھی میری امور خانہ داری سے مطمئن ہوجائیں۔
سوال: شادی کے بعد پہلی ڈش کیا پکائی تھی؟
جواب: شادی کے بعد ولیمے سے اگلے ہی دن میں نے دال کا حلوہ پکایا تھا۔ دال کا حلوہ پکانے میں مجھے مہارت حاصل ہے‘ دراصل شادی سے قبل گھر میں جو بھی میٹھا بنتا تھا‘ میں ہی تیار کرتی تھی۔ بیسن کا حلوہ‘ دال کا حلوہ‘ سوجی کا حلوہ اور بہت سے میٹھے پکوان۔ شادی کے بعد میں نے اپنی بڑی نند کی فرمائش پر دال کا حلوہ تیار کیا تھا‘ الحمدللہ وسیع پیمانے پر پکایا یہ حلوہ سب نے کھایا اور سراہا۔
سوال: آپ کے ہاتھ کی کون سی ڈش ہے جو شوہر اور بچے بہت شوق سے کھاتے ہیں؟
جواب: میں پلائو بہت اچھا پکاتی ہوں‘ میرا بیٹا محمد قاسم فرمائش کرکے پکواتا ہے جبکہ میرے میاں کو میرے ہاتھ کے ہر قسم کے چاول پسندہیں۔
سوال: کبھی باہر کھانے کا موڈ ہوتو کیا کھانا پسند کرتی ہیں؟
جواب: میں اور میری فیملی عموماً گھر پر ہی کھانا پسند کرتے ہیں اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کھانے کی غرض سے باہر جائیں۔
سوال: زندگی کا خوب صورت لمحہ؟
جواب: اللہ رب العزت کا بے پناہ کرم ہے ایسے بہت سے لمحات ہیں مگر شادی کے دن میں بے حد خوش تھی اور میرے مجازی خدا بھی بے حد خوش تھے مگر زندگی میں جب مجھے اللہ نے بیٹے کی نوید دی تو لگا یہی زندگی کا خوب صورت لمحہ ہے پھر جب سے لکھنا شروع کیا یعنی باقاعدہ اشاعت کے لیے بھجوانا شروع کیا اور جب بھی کوئی افسانہ یا ناول شائع ہوتا ہے‘ دل کو ازحد خوشی ملتی ہے۔
سوال: زندگی کا کُل اثاثہ؟
جواب: میری زندگی کا کُل اثاثہ میری فیملی ہے۔میرا قلم سے ناطہ ہے جو ہر نئے طلوع ہونے والے دن میں مزید گہرا ہوتا جارہا ہے۔ میرا دل کرتا ہے میں تنہا بیٹھی لکھتی چلی جائوں۔ میں خود کو اتنا پرسکون محسوس کرتی ہوں‘ بالکل ہشاش بشاش۔
سوال: کوئی ایسی کتاب جو بار بار پڑھی مگر پھر بھی دل کرتا ہو کہ بار بار پڑھوں؟
جواب: ایم اے راحت کا ناول ’’کالا جادو‘‘ جو ایمان کی تقویت کا باعث ہے۔ میں نے جب بھی یہ ناول پڑھا رب العزت کو اپنے بے حد قریب پایا‘ آج کل ایم اے راحت علیل ہیں‘ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحت یاب کرے‘ آمین۔ ہمارا سرمایہ ہیں ایسی عظیم شخصیات جو اپنے قلم سے حق و باطل میں امتیاز کرتی ہیں‘ دل کویقین محکم عطا کرتی ہیں۔
سوال: اپنے بچپن کے بارے میں کچھ بتائیں‘ کیسا گزرا؟ شرارتی تھیں یا سنجیدہ۔
جواب: میں شرارتی نہیں تھی‘ کچھ گم صم سی خوابوں کی دنیا میں رہنے والی۔ تخیل کے زینے طے کرتی پروان چڑھی ہوں۔بسا اوقات شرارت میری بڑی بہن کیا کرتی تھی اور میں نے اس کے حصے کی مار بھی کھائی ہے۔ سادہ مزاج اور صاف گو‘ سیدھی سادی تھی۔ چالاکی و ہوشیاری جیسے عناصر نہ تھے ۔
سوال: آپ کو فیملی میں اور دوستوں میں کون سپورٹ کرتا ہے؟
جواب: فیملی میں میری والدہ صاحبہ نے میری ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان کے علاوہ میری دوست فاطمہ خان جو کہ خود بھی لکھتی ہیں ۔ جنگ میں ان کے آرٹیکل لگتے رہتے ہیں‘ اس کے علاوہ بھی ادب سے متعلق تحریریں منظر عام پر آچکی ہیں‘ اس کی حوصلہ افزائی میرے لیے بے حد اہم ہے۔
سوال: آپ نے زندگی سے کیا سیکھا؟ کیسا پایا اسے؟
جواب: زندگی دکھ کی فصیل بھی ہے اور خوشیوں کی آبشار بھی۔ زندگی میں غم اور خوشی کا امتزاج ہی ہے جو جینے کا باعث بھی ہے اور کبھی کبھار اداس بھی کردیتا ہے۔
زندگی تجھ کو جیا ہے کوئی افسوس نہیں
زہر خود میں نے پیا ہے کوئی افسوس نہیں
سوال: تقدیر پر یقین رکھتی ہیں یا تدبیر پر؟
جواب: تقدیر اور تدبیر دونوں پر یقین ہے‘ جو ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے مگر ہمارے لیے اللہ رب العزت نے راہیں کھول دی ہیں۔ لگن محنت سے آپ کوئی بھی منزل پاسکتے ہیں۔
سوال: بچپن میں گڑیا کھیلی ہیں؟
جواب: بہت کھیلی ہوں گڑیا سے‘ مجھے گڑیا کا بے حد شوق تھا۔ اسٹاک تھا باقاعدہ رنگ برنگی گڑیوں کا اور پھر ان کے لباس بنانا اور مختلف ملبوسات میں گڑیا کا سجا سجایا روپ بھاتا تھا۔بسا اوقات تپتی دو پہروں میں امی سے چھپ کر چھت پر جاکر گڑیا سے کھیلتی تھی جبکہ امی کی تاکید ہوتی تھی کہ اسکول سے آنے کے بعد بچے آرام کریں اور پھر اس کے بعد فریش ہوکر پڑھائی کریں۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے تازہ دم اور چوکس رہنے کا راز ہی یہی تھا کہ میں گڑیا سے کھیل کر خوشی محسوس کرتی تھی‘ بالکل بھی تھکان کا احساس نہ ہوا کرتا تھا۔
سوال: گھر میں سب سے زیادہ کس سے اٹیچ ہیں؟
جواب: شادی سے پہلے اپنی بڑی بہن کے ساتھ تھی‘ ابھی بھی میں فون پر اپنی ہر خوشی اپنی بڑی بہن سے ضرور بانٹتی ہوں اور پھر ان کی رہنمائی میں مجھے کئی مسائل کا حل بھی مل جاتا ہے۔ شادی کے بعد میرے مجازی خدا سکندر صاحب میرے دوست ہیں۔ رات کو جب وہ آتے ہیں میں دن بھر کی روداد ان کو سنا ناں لوں مجھے سکون نہیں آتا اور وہ میری ہر بات کو بغور سنتے ہیں۔
سوال: بچپن میں کیا سوچتی تھیں کہ بڑے ہوکر کیا بننا ہے؟
جواب: میری ہمیشہ سے لکھنے لکھانے سے گہری وابستگی رہی ہے اور مجھے مختلف کتابوں کا مطالعہ کرنا بے حد اچھا لگتا تھا۔ دل میں خواہش تھی کہ کبھی میں بھی لکھوں اور میری تحریریں بھی مختلف ڈائجسٹ کی زینت بنیں اور اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے عزت دی ہے اور میری ہر خواہش پوری کی ہے۔
سوال: کوئی ایسی بات جس پر پچھتاوا ہو؟
جواب: نہیں‘ اللہ کا شکر ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے جس پر مجھے پچھتاوا ہو۔
سوال: کوئی ایسی بات جس سے چڑ ہو؟
جواب: جب کوئی انسان دنیا کی نفسا نفسی میں انسان کی وقعت نہ کرے اسے کم تر حقیر سمجھے اور عزت کا معیار محض دولت پر رکھے تو مجھے بہت بُرا لگتا ہے۔
سوال: فیس بک گروپس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: علمی و ادبی گروپس کا مقصد علم و ادب کو فروغ دینا ہے۔ آج کل ہر دوسرا شخص آن لائن پڑھ سکتا ہے گھر بیٹھے کئی مفید معلومات حاصل کرسکتا ہے۔
سوال: آٹو گراف بُک پر کیا لکھنا پسند کرتی ہیں؟
جواب: بی ہائنڈ بیڈ لک… کمز گڈ لک۔
سوال: 14 اگست یوم آزادی کیا کہیں گی اس دن کے حوالے سے؟
جواب: اللہ کا کرم ہے کہ ہمیں آزاد فضا میسر ہے‘ جہاں ہم آزادی منانے کا حق رکھتے ہیں مگر آزادی کے دن کو جوش و ولولہ سے منانے کے ساتھ ساتھ لمحہ فکریہ کی بھی ازحد ضرورت ہے کہ ہم اپنے ملک کے لیے کیا کررہے ہیں‘ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ اپنے حصے کی مشعل جلائیں گے تو روشنی ہوگی۔
سوال: کیا آپ شاعری کرتی ہیں؟ شاعری ہمارے ساتھ شیئر کریں۔
جواب: جی ہاں‘ میرے لکھنے کی باقاعدہ ابتداء شعر و شاعری سے ہی ہوئی تھی۔ کالج کے زمانے میں شاعری لکھ کر باقاعدہ ریڈیو پاکستان پر بھیج دیا کرتی تھی اور وہ نشر ہوا کرتی تھی۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ میں نے شاعری پوسٹ کی ہو اور وہ شامل نہ ہوئی ہو بلکہ بہت پسند کی جاتی تھی۔
غزل
اے فریب جستجو یہ کلپنا کیا ہے
ہر شے ٹھہری پرائی یہاں اپنا کیا ہے
اک بار ہی دفنا دو ارمان سارے
بار بار کا یہ گرنا سنبھلنا کیا ہے
مروت کے لیے ظرف درکار ہے ہمدم
آئو سکھلائیں تمہیں بھرم رکھنا کیا ہے
دام گیر میں الجھا لو کچھ اور پنچھی
تم کیا جانو خوابوں کا بکھرنا کیا ہے
گریہ و زاری سے نہیں ملتی فرصت
سوا اس کے اور ہمیں کرنا کیا ہے
ہو کوئی غیر تو کوئی بات بھی ہے
ہر بات پر اپنوں سے الجھنا کیا ہے
غزل
دل میں اک طوفان سا ہوتا رہا
وہ ہنسا اور دل میرا روتا رہا
اس کی اک اک ادا سے پیار تھا
میں خود کو حادثاتاً ڈبوتا رہا
الزام جو تراشے تُو نے مجھ پر
نہ چاہتے بھی انہیں دھوتا رہا
میں شفاف سادہ لوح و بے ضرر
نقش اضطراب قلب میں سموتا رہا
رخ روشن میں کوئی بات تو ہے ورنہ
نگاہ ہٹا نہ سکے ہم وہ سوتا رہا
نظم
اسے بھول جانے کی
جہد مسلسل رائیگاں ٹھہری
کیونکہ ہر بار میں ہاری
اور دل جیتا
غزل
نگوڑی پاپن دنیا تن دیکھے من نہ دیکھے
کرموں کو دیکھے سنسار کاش دھن نہ دیکھے
انسانوں کی بستی میں ہو کوئی ایسا انسان
چاند کی کیوں سندرتا دیکھے گہن نہ دیکھے
کیسے پالے ہر کوئی قدرت کے پوشیدہ راز
سوہنے رب کی آشا میں جو بن نہ دیکھے
جیون میں لکھا ہو کر ہی رہتا ہے
لکھے میں رب کو دیکھے ماہ و سن نہ دیکھے
بے کار ہے گوری تیرے روپ کی مہکار
جسے بیگانے تو سراہیں پر سجن نہ دیکھے
روپ رنگ نہ دیکھے نہ ہی اونچی ذات پات
جگ کے بنائے بندھنوں کو لگن نہ دیکھے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close