Hijaab Dec-16

ذکر اس پری وش کا

زینب احمد

امبرین کوثر
السلام علیکم! آنچل و حجاب کے تمام قارئین اور تمام اسٹاف کو میرا پیار بھر اسلام۔ میں آنچل و حجاب کی خاموش قاری ہوں‘ فرسٹ ٹائم شرکت کررہی ہوں‘ امید ہے جگہ ضرور ملے گی اور اگر نہ بھی ملی تو میں لے لوں گی کیونکہ آنچل و حجاب ہمارا پنا جو ہے اور جو چیز اپنی ہو اس پر حق جتانا مجھے خوب آتا ہے۔ امبرین کوثر نام ہے میرا اور گھر میں مینا بھی بولتے ہیں 18 اکتوبر کو ضلع چکوال کے گائوں ملتان خرد میں پیدا ہوکر اپنے گھر کو خوشیوں سے بھردیا۔ہم چار بہنیں اور دو بھائی ہیں‘ سب سے بڑی میں ہوں۔ میں نے بی اے کیا ہے پر وہ بھی آدھا انگلش میںسپلی جو آگئی تھی‘ ساتھ ہی وفاق المدارس سے درس نظامی کا کورس کررہی ہوں پھر نورین ہے ابھی ایف اے کررہی ہے اس سے چھوٹی نوشین ایف ایس سی کررہی ہے پھر بشریٰ ہے ابھی میٹرک کے پیپر دیئے ہے اس نے پھر میرا بھائی سلیمان پڑھاتا تو ابھی 10th میں ہے پر اللہ معافی دے ہم سے چھوٹا ہوکر بھی حکم بڑوں کی طرح دیتا ہے۔ سب سے چھوٹا ارسلان حد سے زیادہ شرارتی ہے۔ 5th میں پڑھتا ہے‘ شاعری کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے پر ناول میں تو جان ہے سردی کا موسم بہت پسند ہے۔ کرکٹ سے بہت لگائو ہے دل کی بہت نرم اور غصے کی بہت گرم ہوں۔منافق لوگ بالکل پسند نہیں اور جو انسان میرے ساتھ بُرا کریں اس سے بات کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ جیولری کا خاص شوق نہیں بس لاکٹ پسند ہیں۔ کوشش کرتی ہوں کہ میری وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو اور کوشش کرتی ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کروں بہت جذباتی ہوں۔ دوسروں کی جھوٹی بات کا بھی اعتبار کرلیتی ہوں‘ رونا بہت جلدی آجاتا ہے۔اللہ میرے والدین کو لمبی زندگی اور صحت دے‘ آمین۔ مجھے چھوٹے چھوٹے گول مٹول بچے بہت پسند ہیں‘ لاہور بہت پسند ہے۔ اپنی دوست شمسہ سے بہت محبت ہے‘ ایک دن بات نہ ہو اس سے تو بے چین ہوجاتی ہوں۔ ندا بھی بہت اچھی دوست ہے۔ ڈئیر قارئین آپ بور تو نہیں ہوگئے بس دومنٹ اور عمیرہ احمد اور نمرہ احمد‘سمیرا شریف طور ‘ نازیہ کنول نازی ‘ اقراء صغیر احمد ‘اقبال بانو اور عشنا ء کوثر سردار کے ناولز بہت پڑھتی ہوں۔ آنچل اور شعاع کہ چار‘ پانچ سال پرانے رسالے بھی ابھی نئی حالت میں رکھے ہیں میرے پاس امربیل میں عمر کے مارنے پر بہت روئی تھی اور ’’پیر کاملؐ،، تو کئی دفعہ پڑھا ہے میں نے آپ کو میرا تعارف کیسا لگا۔ دعائوں میں یاد رکھیے گا اور اپنا ڈھیر سارا خیال رکھیے گا‘ اللہ حافظ اور فی امان اللہ۔
نازش نوربلوچ
میرا نام نازش نور ہے لیکن گھر والے مجھے نازی کہتے ہیں‘ ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ دو بھائی بڑے میرا نمبر تیسرا ہے‘ ایک بھائی اور ایک بہن چھوٹی ہے‘ میری تاریخ پیدائش 6 دسمبر 1977ء ہے اور میری تعلیم میٹرک ہے گھر والے پڑھائی کے خلاف ہیں کیونکہ ہم لوگ بلوچ ہیں اور بلوچ لوگ لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت نہیں دیتے‘ لڑکوں کے مقابلے میں میٹرک کے بعد میں نے ہیلتھ میں اپلائی کیا ہے سلیکٹ ہوگئی ستمبر 94ء میں لیڈی ہیلتھ ورکر کی ٹریننگ کرنے لگی اس کے بعد میری منگنی ہوگئی ہے اپنے کزن کے ساتھ یہ شادی ارینج میرج تھی نہ میں اس کی چوائس نہ وہ میری پسند مگر جب 6 دسمبر 96ء کو میری شادی ہوئی تومیں ایکسپٹ کرنے لگی میں تھی ایک گائوں سموگوٹھ کی رہنے والی جو ملیر کا ایک فرسودہ علاقہ ہے اور شادی ہوئی گولیمار میں مگر میں ہر غم کا مقابلہ کرنا سیکھ چکی تھی۔ میں نے شوہر کی بے رخی کو اگنور کیا‘ میری فیملی کے لوگ دن چڑھے سوتے تھے مگر میں صبح پانچ بجے اٹھتی اور اپنے کاموں میں لگی رہتی کیونکہ میری ساس جو میرے پپا کی کزن اور بھابی ہیں مجھے ایک نوکرانی سے زیادہ نہیں سمجھتی تھیں مگر میں نے یہ بات بھی قبول کرلی رات بارہ بجے کے بعد ہی میں فارغ ہوتی پھر جو گھر کے افراد تھے۔ آنے والے دن کے لیے ان کے کپڑے پریس کرتی دس جوڑے روزانہ کیونکہ دبئی کے رہنے والے لوگ روزانہ نہاکر کپڑے چینج کرتے تھے۔ شادی کے دو سال بعد میری ایک بیٹی ہوئی جس کا نام اقراء مجید ہے اس کے دو سال بعد بیٹی آن گل مجید پھر بیٹے مصیب مجید ‘ حسیب مجید اور آخر میں جنید مجید پھر ڈیلوری کے بعد میں قومہ میں گئی ایک ماہ بعد ہوش آیا تو گھر والوں نے گھر سے نکال دیا جب سے اب تک امی کے گھر پر رہ رہی ہوں۔ جاب گئی‘ شوہر گیا‘ بچے گئے‘ پپا کی ڈیتھ ہوئی اب میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے سوائے رب کے۔ اجازت چاہتی ہوں‘ اﷲ نگہبان۔
طاہرہ پرویز
السلام علیکم! میں ہوں طاہرہ پرویز فرام گجرات‘ ارے آپ اس لیے حیران ہو کہ یہ طاہرہ کون ہے؟ جناب یہی بتانے کے لیے تو میں آپ کے اس خوب صورت محل میں آئی ہوں تو جناب میرا نام طاہرہ پرویز ہے۔ سب مجھے طاہرہ ہی پکارتے ہیں اور پیار کے نام بہت سارے ہیں‘ جیسے ابو اور امی تاریا کہتے ہیں۔ باجی صبا‘ پھیناجن‘ لالہ طاہرہ‘ شہباز کھل مصالحہ ا ور شیراز اور شمروز مجھے مڈی کہتے ہیں اور ہم چھ بہن بھائی ہیں اور میرا نمبر پانچواں ہے۔ شمروز مجھ سے چھوٹا ہے اور گھر بھر کا لاڈلہ بھی۔ میں میٹرک کرچکی ہوں آگے کی تیاریاں ہیں‘ مجھے دوست بنانا اچھا نہیںلگتا مگر ہزاروں دوستیاں ہیں۔ میں بہت ہنس مکھ اور سنجیدہ لڑکی ہوں۔ مجھے تقریبات اور ہلہ گلہ ایک حد تک پسند ہے‘ میری بیسٹ فرینڈ آپی انا اور سنیعہ ہیں۔ آپی انا میری بڑی بھابی ہیں اور آپ کی شاعرہ انا احب یعنی انا شاہ زاد ہیں جن کی بدولت میں آنچل و حجاب سے ملی ہوں۔ میں ان سے اپنی ہر بات شیئر کرتی ہوں‘ میرے ابو اور امی کو مجھ پر بہت زیادہ یقین اور اعتبار ہے جو مجھے بے حد عزیز ہے اور میں کوشش کرتی ہوں کہ میری وجہ سے ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور اس کوشش میں خدا کا ساتھ ہمیشہ میرا مطلوب رہا ہے۔ کھانے پینے سے میں جان چراتی ہوں‘ ہاں مگر شملہ مرچ اورقیمہ میری فیورٹ ڈش ہے۔ چاول کبھی بہت پسند تھے مگر اب نہیں۔ میٹھے میں مجھے اپنے بھانجوں اویس اور آصف اور قیصر کا بوسہ لینا پسند ہے۔ اس کے علاوہ آئس کریم میں کارنیٹو ڈبل چاکلیٹ بہت پسند ہے۔ مشروب مجھے مرنڈا اور مینگو شیک پسند ہے۔ سب کہتے ہیں کہ میری پرسنالٹی اچھی ہے ویسے میں بہت سادہ رہتی ہوں‘ جیولری میں مجھے گھڑی بے حد پسند ہے ۔ لباس میں لمبی قمیص چوڑی دار پاجامے کے ساتھ لمبا دوپٹہ پسند ہے۔ خوشبو مجھے ایکوا بلو‘ بلیو لیڈی پسند ہے۔ پھول تو سارے ہی اچھے ہوتے ہیں مگر بلیک روز کی کیا بات ہے۔ ہمارے گھر میں انٹرنس پر ہی پودوں کی بہار نظر آتی ہے جو مجھے بے حد اچھی لگتی ہے‘ ان پودوں کی نوک پلک سنوارنے کا ذمہ شہزاد لالہ کا ہے۔ میری بہت ساری کزنز ہیں اور میں ان کو کہنا چاہتی ہوں۔ فرح‘ سحر‘ عائشہ‘ ثوبیہ‘ عتیقہ‘ شمائلہ‘ چندا‘ نمرہ‘ سویرا‘ بھائی زبیر جو کہ میرے بہنوئی بھی ہیں اور میرے بیسٹ فرینڈز بھی ہیں۔ بھائی شہباز اور بھائی عمیر جو کہ میرے بہنوئی بننے والے ہیں۔ میرے تایا کی بیٹی عتیقہ کی وجہ سے‘ بھائی شان بھی اسی منصب پر فائز ہونے جارہے ہیں‘ بوجہ تایا کی بیٹی ثوبیہ کے۔سب کو میرا سلام اور ان دنوں میں آپ سب کو بہت یاد کررہی ہوں‘ آئی مس یو آل۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ پنجگانہ نماز ادا کروں‘ میں حجاب لیتی ہوں ہمارے گھر کا ماحول بہت فرینڈ لی ہے۔ سب کی لاڈلی ہوں اور خاندان والے یہ کہتے ہیں کہ طاہرہ اپنے بھائیوں اور ابو کی چہیتی ہے اور یہ سچ بھی ہے کیونکہ میں سب سے بہت پیار کرتی ہوں تو پھر واپس اس سے بڑھ کر ملتا ہے۔بقول آپی انا میں بہت حساس طبیعت کی مالک ہوں اور کسی کا دکھ نہیں دیکھ سکتی۔ سنگر راحت فتح علی خان اور شریا گھوشال ہیں‘ میں تمام بہنوں کو ایک بات کہنا چاہتی ہوں کہ خدا پر ہمیشہ یقین رکھو اور کسی دوسرے سے کبھی امید نہ باندھو اور اگر آپ خدا سے کچھ مانگو اور وہ نہ ملے تو مایوس نہ ہوں بلکہ جو آپ کے پاس ہے اسے بخوشی سنبھال کر رکھو کیونکہ جو آپ کے پاس ہو شاید وہ اور کسی کے پاس نہ ہو المختصر رب کی رضا میں راضی رہنا چاہیے کیونکہ اس نے کہا ہے اگر تو وہ مانگتا ہے جو میری چاہت ہے تو میں تجھے وہ بھی دوں گا جو تیری چاہت ہے۔ آپ سب کی دعائوں اور تعریف و نقائص کی طلب گار ہوں گی‘ اللہ حافظ۔
انیلا طالب
السلام علیکم! تمام آنچل و حجاب ریڈرز اینڈ پیارے سے رائٹرز کو سلام‘ میرا نام انیلا طالب ہے پورا نام سیدہ انیلا طالب شاہ بخاری ہے۔ میرے بہت سے نام ہیں بقول سب کے کہ یہ لوگوں کی طرف سے مجھے لقب ملے ہوتے ہیں۔ والد صاحب پیار سے نیلو‘ مما جانی نیلیا‘ کزن انعم عینی‘ زاہرہ آنٹی‘ نیلوفر‘ نیلی کہتی ہیں جبکہ کئی بوڑھی بزرگ خواتین مجھے لیلیٰ‘ نیلم‘ الینا‘ پکارتی ہیں تو جناب اب آتے ہیں اپنے صحیح تعارف کی طرف‘ میں گوجرانوالہ شہر کے بھدے شریف گائوں میں 14 دسمبر 1998ء میں پیدا ہوئی‘ نام میرے تایا ابو پروفیسر سید عابد حسین شاہ نے رکھا۔ دادا ابو کی لاڈلی پوتی ہونے کا مجھے شرف خاص حاصل ہے۔ والدین کی آنکھوں کا تارا ہوں‘ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں‘ تین بہنیں مجھے نکال کے دو اور تین بھائی ہیں۔ ابو جان سے بہت پیار ہے اور امی جان میں توجان ہے یہاں تک کہ اگر میں انٹرنیٹ پر کچھ دیکھ رہی ہوتی ہوں تو امی کے بغیر بور ہونے لگتی ہوں۔ انہیں پاس بٹھا کے دیکھتی ہوں‘ اپنی بہت سی باتیں میں ان سے شیئر کرتی ہوں۔ میری پسندیدہ شخصیات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ حضرت عثمان غنیؓ، محترمہ بے نظیر بھٹو‘ ارفع کریم رندھاوا‘ شامل ہیں۔ اب بات ہوجائے پسند ناپسند کی تو جناب ہماری پسند بہت اونچی ہے۔ سردیوں کی بارش‘ موسم بہار‘ جہاز اڑاتے پاک آرمی کے نوجوان‘ سمندر پہاڑ‘ سمندری جزیرے‘ پرندوں کی چہچہاہٹ تو جنون کی حد تک پسند ہیں۔ فیورٹ ہابی پاکستان کا نام روشن کرنے کے آئیڈیاز سوچنا‘ ڈائری لکھنا‘ ہینڈی کرافٹس ‘ کپڑوں کی ڈیزائننگ اور گھر کو سجانا‘ منفرد طریقے سے برتھ ڈے آئیڈیاز سوچنا‘ وغیرہ وغیرہ ہیں۔ مجھے صوفیانہ کلام بہت پسند ہیں‘ دنیا کی ہر کتاب پڑھنا میرا دلچسپ مشغلہ ہے‘ لباس میں مجھے شلوار قمیص‘ لانگ شرٹ‘ شارٹ شرٹ کے ساتھ کھلا پلازو‘ فراک‘ لانگ اسکرٹ پسند ہیں جبکہ جیکٹ کوٹ تو بہت اچھے لگتے ہیں۔ مجھے کپڑوں کا کوئی خاص شوق نہیںلیکن یہ ہے کہ پروقار اور اچھا لباس انسان کی شخصیت پر بہت اثر کرتا ہے۔ میرا خواب ہے کہ کچھ بھی ہوجائے اپنے پاکستان کے لیے کچھ خاص کرنا ہے۔ خوشحال پاکستان کے نام سے ایک پروجیکٹ بنا چکی ہوں جس میں وزیر اعلی ٰپنجاب سے گزارش ہے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اور بھی سہولیات پاکستان کو فراہم کریں۔ ناول نگار ہوں‘ بچپن سے شاعری کرتی ہوں بقول دوسروں کے بہترین مقرر ہوں‘ مجھے ہوائوں میں پرواز کرنے کا بہت شوق ہے یعنی جہاز اڑانے کا‘ بحری جہاز تو دل کو چھوتا ہے۔ گیلی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو تو من میں اترتی ہے‘ پرندے‘ مچھلیاں‘ پھول اچھے لگتے ہیں۔ فیورٹ رائٹرز میں عمیرہ احمد‘ ہاشم ندیم ملک‘ نازِیہ کنول نازی‘اقراء صغیر احمد‘عشنا ء کوثر سردار‘سمیر شریف طور‘ نادیہ فاطمہ رضوی اور ام مریم سرفہرست ہیں۔ سنگرز میں نصرت فتح علی خان‘ راحت فتح علی خان کو سننا پسند کرتی ہوں۔ طبیعت بہت نرم دل ہے‘ کوئی تنگ کرے تو لڑ نہیں سکتی رونے لگ جاتی ہوں۔ کئی باتوں پر جذباتی ہوجاتی ہوں پر زیادہ نہیں‘ جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے قوت برداشت اور صبر و تحمل بھی آرہا ہے۔ مجھے بچپن سے ہی شوق ہوگیا تھا کہ میں کچھ ایسا کروں کہ پوری دنیا میں میری ایک پہچان ہو‘ اب اس شوق کو پورا کرنے کی کوشش میں لگی ہوں‘ کم گو ہوں پر کسی کو بور نہیں کرتی جو جس ٹائپ کا ہو اسے اس طرح ہی ٹریٹ کرتی ہوں۔ کتاب میگزین‘ ڈائجسٹ جو مل جائے اول تا آخر پڑھ کے دم لیتی ہوں۔ زندہ دل ہوں پر بہت شوخ و چنچل نہیں ہوں۔ گھر سجانے کا جنون کی حد تک شوق ہے سب سے دوستوں کی طرح رہتی ہوں پر دوست کم بناتی ہوں۔ غصہ تب آتا ہے جب کوئی بہت تنگ کرتا ہے‘ر وتی بہت ہوں مگر اب ہمت آرہی ہے۔ میری زندگی کا مقصد دوسروں کو زندگی جینا سکھانا بن چکا ہے‘ روتے بلکتے بے کس لوگوں کو نا امیدی سے نکال کر‘ اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی بات پر عمل کرنا اور کرانا ہے۔ زندگی ایک بار ملتی ہے سر اٹھا کر جئیں‘ ٹھاٹ سے زندگی گزاریں۔ میرا یہ خواب ہے کہ میرے دیس کے تنہا لوگ غریب و بے کس بھی جینا سیکھیں ‘ میرا تعارف کیسا لگا ضرور آگاہ کیجئے گا آپ سب کی نیک دعائوں کی منتظر۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close