Hijaab Oct-16

حسن خیال

جوہی احمد

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! اللہ عزوجل کے بابرکت نام سے ابتدأ ہے جو خالق کونین اور مالک ارض وسماں ہے اکتوبر کا شمارہ عید نمبر پیش خدمت ہے جس میں عیدالاضحیٰ کے تمام رنگوں کو دلکش طریقے سے سمونے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ امید ہے آپ کے ذوق ومعیار کے عین مطابق ہوگا اس لیے ہمیں اپنی آرا و تجاویز سے آگاہ کرتے رہیے گا۔ ان شاء اللہ نومبر 2016ء کا شمارہ سال گرہ نمبر ہوگا آپ بہنوں سے گزارش ہے کہ جلد از جلد اپنی نگارشات ارسال کردیں۔ آئیے اب چلتے ہیں آپ بہنوں کے دلچسپ تبصروں کی جانب جو بزم حسن خیال میں جھل مل کرتے عید کی شان بڑھا رہے ہیں۔
فریدہ فری یوسفزئی… لاہور۔ السلام علیکم! سب قارئین اور رائٹرز کو فری کا سلام قبول ہو یہ خط میں اسپتال سے لکھ رہی ہوں بے حد بیمار ہوں۔ انجیکشن لگ رہے ہیں مجھ سے لکھا نہیں جارہا مگر ایک افسانے یا تحریر نے لکھنے پر مجبور کیا وہ ہے میٹھے موسم واہ کیا افسانہ تھا۔ صوفیہ سرور جی کیا خوب لکھا‘ لفظوں کا چنائو پڑھ کر مزہ آگیا اور بھی میرے فیورٹ لکھنے والے ہیں مگر آپ کا افسانہ پہلی مرتبہ ہی دل میں اتر گیا تبصرہ تاخیر سے بھیج رہی ہوں لیکن تعریف بھی تو ضروری تھی۔ میں تو صرف شاعری کرتی ہوں رائٹر تو ہوں نہیں پتا نہیں آپ کی شان میں کیا لکھوں، میں آنچل کی بہت پرانی قاری ہوں اور حجاب بھی میرا پسندیدہ میگزین ہے تمام دوستوں کو سلام دعا خاص کر پروین افضل اور نزہت جبیں صاحبہ کو بے حد سلام میرا نمبر طاہر بھائی سے لے لیں میں نے رابطہ کرنا ہے۔
٭ فریدہ بہن اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو کامل صحت سے نوازے آمین۔
پروین افضل شاہین… بہاولنگر۔ پیاری باجی جوہی احمد السلام علیکم اس بار حجاب کے سرورق پر ماڈل نے اپنے ہاتھوں پر مہندی کا خوب صورت ڈیزائن بنایا ہوا تھا جو کہ بہت ہی پسند آیا۔ شمیم ناز صدیقی اور کاشف شہزاد کے انٹرویوز زبردست تھے۔ آپ کا اداریہ بھارت کو لتاڑ رہا تھا اور حجاج کرام کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ میری طرف سے حجاب کی پہلی سال گرہ مبارک ہو، حمدونعت اور امہات المومنین پڑھ کر اپنے ایمان کو تازہ کیا، میری نگارشات پسند فرمانے پر ریما نور رضوان، حرا قریشی، عائش کشمالے کا شکریہ، سیدہ رابعہ شاہ مجھے آپ کی دوستی قبول ہے ہم حجاب کے ذریعے ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں، مرضی ہے آپ کی‘ آپ نے تو مجھے بوتل کا جن ہی بنا دیا کہ ہر ہر ڈائجسٹ میں موجود ہوتی ہوں شکر ہے جن ہی بنایا چڑیل نہیں بنایا ورنہ ہماری دوستی آج ہی سے… خدا حافظ۔
کوثر خالد… فیصل آباد۔ پیارے حجاب پیاری جوہی پیارے قارئین، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ۔ سب سے پہلے حمد خدا کہ اس نے عیدالاضحیٰ جیسا قربانیوں بھرا تہوار مرحمت فرمایا، ہمارا بس چلے تو بکرے کی جگہ خود قربان ہوکر دیکھیں، بہرحال خداوند ہمیں نیت خالصہ کے ساتھ قربانی کی توفیق دے ورنہ قربانی نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ دیگر آپ لوگوں نے تبصرہ کے ذریعے میری تحریروں کو پذیرائی بخشی، سر آنکھوں پر اس دعا کے ساتھ کہ جس طرح میں ہر امتحان زندگی میں صبر فرما کر سرخرو ہوئی آپ سب جلد اس مقام کو حاصل کرلیں گو کہ ہم نے بڑھاپے کی جوانی (بقول انجم انصار) میں یہ سب حاصل کیا۔ میری یہ دعا شب و روز اس لیے جاری ہے کہ میں تنہا کچھ بھی نہیں کہ فرد قائم ربط ملت سے ہے۔ آئو بہنو اور بھائیو!
دست باہم کی طرح مل جائیں۔
ابھی صرف حمدونعت، حسن خیال شوخیٔ تحریر اور آغوش مادر ہی پڑھ پائی ہوں باقی بعد میں پڑھوں گی آغوش مادر پر خیالی تبصرہ اتنا طویل تھا جیسے ناولٹ مگر قلم سے صرف اتنا لکھوں گی کہ جب تک ہر مادر پاکستان عروج کی بلندیوں پر نہ پہنچے گی کشمیر کی آزادی مشکوک ہے اور عمل میں سادگی کو میں سر فہرست رکھتی ہوں اور سچ کے بنا تو مر ہی جائوں، بس یہ ہی دو صفات میری مجھے کامیابی تک لائی ہیں مگر میں سب کی منتظر ہوں کہ کب ہم جسم واحد بنتے ہیں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
فیشن اور سجاوٹیں ترک کرکے کیا سکون ملتا ہے پیسے کی دوڑ بند کرتے ہی دل کی آنکھ روشن ہوجاتی ہے۔ اگر ہم نفس کو روکنے کی شرط جیت جائیں جو کہ مشکل ہے تو ایک صاف شفاف دنیا اندر اور باہر ہماری منتظر ہوتی ہے اسی لیے الم نشرح کے پس منظر میں ہم نے لکھا ہے۔
آسانی میں دشواری ہے دشواری میں آسانی ہے
آئو مل کر ساتھ چلیں یہ دنیا آخر فانی ہے
نوٹ کیجیے میں ہمسائی کی بچی کو سنبھال رہی ہوں کہ وہ بازار گئی ہے ادھر میں قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف‘ ادھر وہ خود ہی کلمہ اور گنتی پڑھ رہی ہے ماشاء اللہ۔ تبصرہ نہیں لکھا کہ چلو کسی اور بہن کو جگہ مل جائے اور تبصرہ نہ لکھے کی تمہید کتنی طویل ہے۔ کب سے شوق تھا یہ قرآنی سوال منظر عام پر لائوں گی آج یہ حسرت تکمیل تک پہنچی اور کوئی غنچہ ایسا نہیں جو بن کھلے مرجھا جائے اگر اس کا تعلق سیدھی راہ اور خدا سے ہو۔ کہانیاں بھی اس لیے پڑھتی ہوں کہ شاید کوئی نئی نیکی کی بات ملے تو اس کی نعت وحمد بن جائے بہت ہوگیا اللہ حافظ وناصر، پاکستان زندہ باد۔
ریما نور رضوان… کراچی۔ السلام علیکم، عزیز وخاص احباب نئے افق گروپ آف پبلیکیشن کے تمام اسٹاف وممبران، پلس فیس بک ممبرز ماہنامہ حجاب انتہائی تاخیر سے موصول ہوا۔ باعجلت حجاب پر اظہار خیال کررہی ہوں۔ کہیں کوئی خطا کر جاؤں تو درگز کردیجئے گا۔ ٹائٹل گرل بس سو سو لگی۔ اشتہارات سے آگے بڑھتے ہوئے۔ حجاب کی خوب صورت فہرست کھولی۔ ایک صرف نظر ڈال کر بات چیت کی محفل میں آبیٹھی۔ قیصر آپا کی خشمگیں نگاہوں میں خفگی دکھائی۔ جیسے کہہ رہی ہوں بڑی جلدی آئی ہو۔ میں نے کان پکڑ کر سوری کہا۔ قیصر آپا نے تاریخ کے اوراق الٹے اور یوم دفاع پاکستان کی یاد کو تازہ کردیا۔ دوسری جانب حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی پر حجاج کرام کو ہماری طرف سے بھی مبارکباد۔ چلیں ماہانہ دعا میں تمام پیاری بہنیں شرکت کرلیں۔ قیصر آپا کے ساتھ میں بھی دعاگو ہوں۔ اس، پرور دگار سے کہ وطن عزیز ہم نے وطن تیرے نام پر حاصل کیا، آج اس کی حفاظت بھی تو خود فرما اور اسے ایک اسلامی ریاست بنادے آمین ثم آمین۔ حجاب ڈائجسٹ کو ہماری دنیا میں آئے ایک سال ہونے کو ہے واہ جی واہ یہ پیار و محبت بھرا ساتھ نبھاتے نبھاتے اک سال ہونے کو آرہا ہے۔ حجاب نے اتنا مان، عزت، پیار دیا کہ پتہ ہی نہ چلا اور سال گرہ آگئی۔ سال گرہ نمبر کے لیے ان شاء اللہ بہت جلد خصوصی تحریر ارسال کردونگی۔ دعا ہے کہ حجاب کے صفحات پر میری تحریر جگمگائے۔ آمین‘ ثم آمین۔ اللہ پاک کامیابی نصیب فرمائے۔ حمد بے شک میرا خالق کائنات سب رعایا ہے تیری تو ہے سبھی کا تاجدار۔ ریاض حسین قمر صاحب کی حمد بہت پیاری لگی۔ نعت پیاری فصیحہ آپی جی ماشاء اللہ بہت زیادہ اچھی لکھی۔ دل پکارے صلی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک مددگار ہیں سب کے وہ۔ امہات المومنین تنہائی و سکون میں تسلی سے پڑھتی ہوں کیونکہ اس سلسلے میں بہت ساری باتیں مجھے سیکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ سیکھنے کا عمل سانس رکنے کے بعد روکتا ہے۔ ذکر اس پری وش کا نبیلہ ملک۔ ہانیہ اعجاز۔ کبری مہتاب۔ سب سے دلچسپ ملاقات رہی ایم فاطمہ سیال سے محبتوں، چاہتوں، مسکراہٹوں سے بھری لڑکی۔ زبردست تعارف رہا۔ سباس آپی جی رخ سخن میں شمیم ناز صدیقی کے ساتھ ملی مجھے تو ملنے میں بڑا مزہ آیا۔ سباس جی باخوبی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ کاشف بھائی کا تعارف بھی بہت اچھا لگا۔ آغوش مادر میں میری پیاری سہیلی حرا قریشی ملیں میرے خیالات بھی ماں جی کے حوالے سے یہی ہیں۔ ان شاء اللہ کبھی آپ سب سے شیئر کروں گی۔ حرا کی تحریر نے آنکھیں نم کردیں۔ واقعی حرا دنیا کی تمام مسرتیں ماں اس سہہ حرفی لفظ میں مجتمع ہیں۔ جویریہ وسمی سچ کہا پیاری ماں میں اپنی ہر مشکل ہر الجھن کا حل تیری باتوں میں پالیتی ہوں اور تیرے ہاتھ کی روٹی اکثر بھوک سے زیادہ کھالیتی ہوں۔ شیشوں کا مسیحا از قلم تحسین انجم انصاری مکمل ناول پر تحسین جی کی گرفت مکمل رہی۔ نازنین کا جلنا کڑھنا‘ شہریار کا مزید جلانا‘ سرینا کی برجستگی‘ بہت اچھی لگی۔ اخیتار بیگ اور فارینہ کی محبت بہت معتبر سی لگی‘ ناول بہت اچھا لگا۔ کانٹا ازقلم اقبال بانو نصیحت وسبق آموز افسانہ میں متفق ہوں کہ انسان کی پہچان اس کے دوستوں سے ہوتی ہے۔ فیروزہ کی مینا سے دوستی نے اس کا گھر بستے ہی اجاڑ دیا تھا۔ دوست غلط راستوں پر چلیں تو انھیں سمجھا نا چاہیے۔ ان کا ساتھ ہرگز نہ دینا چاہیے بہت زبردست تحریر لکھی۔ میرے خواب زندہ ہیں وقت کی کمی کی باعث نہ پڑھ سکی۔ اس ناول کی منظر نگاری اتنی عمدہ ہوتی ہے کہ میں محو ہوجاتی ہوں۔ خلش کے پار ازقلم مصباح علی سید۔ مکمل ناول ایس پی عداس نام اور نٹ کھٹ کردار بہت اچھا لگا، واقعی بدگوئی کوتاہی کرتے ہم بھول جاتے ہیں کہ کسی دن یہ احتساب میں ہمارے سامنے آکھڑا ہوگا۔ اللہ اکبر افسانہ نگار عالیہ توصیف واقعی عالیہ جی ہم نے اپنا مزاج بنالیا ہے دوسروں پر نظر رکھنا اور تنقید کرنا اور ہر انسان کی کوئی نہ کوئی خامی تلاش کرکے دلی تسلی حاصل کرنے کا بہت بہت منفرد اور خاص افسانہ لگا سوچوں کے نئے در وا کردیے بہت ہی عمدہ۔ لمحہ احتساب ناولٹ نگار پیاری افشاں علی‘ نظیفہ اور آژمیر کے گرد گھومتی وادی محبت کی نرم گرم چھاؤں میں چہل قدمی کرتی بھرپور رومانوی جذبات سے بھری معاشرتی برائی کے عنصر کے ہمراہ یہ تحریر پسندیدگی کے اعلی معیار پر رہی۔ واقعی افشاں سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال نقصان دہ ہے۔ ٹیبلو سیگمنٹ ناولٹ کا جاندار حصہ رہا۔ ماشاء اللہ بہت بہت بہت زبردست اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ دل کے دریچے ازقلم صدف آصف واہ جی واہ فائز کے جذبوں پر پڑی گرد کو سفینہ نے اپنی محبت کے آنچل سے جھاڑ دیا تبھی فائز صاحب خوشی سے سرشار ہیں۔ سنی کے آئیڈیل میں روشنی ڈھلے گی یا نہیں یہ کام واقعی روشنی کے لیے مشکل ہے‘ واہ روشنی کے خیالات بھابی ہاہاہاہا مزہ آیا۔ افسانہ نکمی افسانہ نگار سمیرا غزل صدیقی عالیہ جیسی بہوئیں اور اس کی ساس جیسے کردار ہمارے معاشرے میں ہمارے ہر دوسرے گھر میں ملتے ہیں بہت عمدہ تحریر جس نے ہمارے گھروں کے ماحول کی بھرپور عکاسی کی۔ ماموں جی بس کردیں ناول نگار ام ایمان قاضی نام سے شوخ وشنگ سی تحریر لگی‘ راحت بیگم کا کردار مضبوط رہا بیٹے ولید اور بھائی ماموں بخیل عقیل ماموں جیسے ناسور ہمارے معاشرے میں ہی بستے ہیں سود کے کاروبار میں ملوث ہوکر ولید اور فجر نے اتنی تکلیف و اذیت دی واقعی عقیل ماموں پر یہ بات صادق آتی ہے کہ جن کے دلوں پر مہر لگی ہو ان پر الفاظ کا اثر نہیں ہوتا۔ ٹوٹے بندھتے رشتوں پر مبنی عمدہ تخلیق لگی۔ افسانہ شکستوں کا جال افسانہ نگار صبا جاوید فریحہ محبت کے نام پر ماں وباپ کے اعتبار واعتماد کو توڑا محبت میں باوفا ہوتے ہوئے بھی بے وفا کہلائے گئے۔ امتثال کے لیے اشعر ارسلان سے روابط استوار نہ کیے۔ امتثال طلاق یافتہ محبوبہ کو بیوی کے درجے پر فائز نہ کرسکا، محبت ڈاٹ کام محبت کا کھیل ختم اچھی تحریر لگی۔ مختصر بااثر تاثر لیے صبا کی تخلیق نے متاثر کیا۔ افسانہ سہیلی افسانہ نگار عالیہ حرا واہ واہ دوست ہو تو نبیلہ جیسی جس نے برسوں بعد ملنے پر ایک نظر ہما کو دیکھنے سے اس کے تمام حال کا اندازہ لگا لیا ولید اور ہما کی محبت مثالی لگی۔ ہما کی ماں نے بیٹی کا بھلا چاہا لیکن ماں نے دولت سے مستبقل محفوظ کرنا چاہا تھا۔ اسے مزید عدم تحفظ کا شکار کردیا ہے۔ حقیقت پر مبنی عمدہ تخلیق۔ مستقل تمام سلسلے عمدہ اعلی بہترین اچھا جی اب اجازت ان شاء اللہ اگلے ماہ ملاقات ہوگی مجھے دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
سمیہ عثمان… کراچی۔ السلام بہنوں کو خلوص کے ساتھ دعائیں حجاب ہاتھ میں آتے ہی ٹائٹل سے ہوتے ہوئے فہرست پر نظر ڈالی اور پہلی ہی جست میں میرے خواب زندہ ہیں سے پڑھنا جو شروع ہوئی تو زیاں پر اختتام کیا ارے گھبرائیں نہیں کالم بعد کے لیے رکھے وقت جو کافی تھا سمجھا کریں بات کی جائے میرے خواب زندہ ہیں کی تو مجھے جو کردار پسند ہے وہ فراز کا ہے آپی فراز کی اسٹوری کچھ ادھوری لگ رہی ہے ابھی تک یہ کردار ٹھیک سے سامنے بھی نہیں آیا جب کہ اب تو سونیا بھی راستے سے ہٹ گئی ہے اس کے بعد دل کے دریچے واہ بھئی کہانی جس خوب صورتی سے آگے بڑھ رہی ہے کرداروں کے ساتھ سوچ کے دریچے بھی کھلتے ہی جارہے ہیں بھئی اب میں بہت پرانی سوچ کی مالک تو ہوں نہیں جو کہوں کہ فائز کے ساتھ کچھ نہ ہو اس کی شادی سفینہ سے ہی ہو جبکہ یہ سب تو قسمت کے فیصلہ ہیں اور مصنفہ نے کچھ اچھا ہی سوچ رکھا ہوگا ویسے مجھے روشی بہت پسند ہے اس کا انداز، زیاں کی بات کی جائے تو شروع سے اختتام پر باقی آئندہ دیکھ کر سچ مچ چکرا گئی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ میرے ساتھ کیا مذاق ہوا، خیر تحریر کے لیے الفاظ کم ہیں اور تعریف کے لیے دل سامنے رکھنا پڑے گا سچ میں آپی مذاق نہیں۔ افشاں علی نے نشاندہی ٹھیک کی ہم نے واقعی فیس بک کا استعمال غلط طریقہ سے شروع کردیا ہے خیر ایسی تحریریں ہی ہماری اصلاح کرتی ہیں آپ نے ایک بہتر استاد کی حیثیت سے اپنے حصہ کا کچھ فرض ادا کردیا، مصباح علی کی تحریر میں ہمیشہ سکون سے اور سب سے آخر میں پڑھتی ہوں کیونکہ یہ جتنی محنت سے لکھتی ہیں پڑھ کر اندازہ ہوجاتا ہے آپ کی تحریر دل تو بچہ ہے میں اب بھی تنہائی میں اداس موڈ کے ساتھ پڑھتی ہوں لیکن اس کے بعد موڈ خوشگوار ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی تحریر لکھا کریں (گزارش) باقی سب کے ہی افسانے ایک سے بڑھ کر ایک تھے اقبال بانو کا افسانہ کانٹا لاجواب تحریر تھی، ان کے لیے بھی میرے پاس الفاظ نہیں باقی سلسلے سب اچھے تھے سب سے دعا کی درخواست اجازت چاہوں گی، اللہ نگہبان۔
عنبر فاطمہ… کراچی۔ السلام علیکم پرخلوص دعائوں کی خوشبو لیے اپنے جذبات واحساسات کی عکاسی اور حجاب کی دلکشی ورعنائی کے رنگوں کو سمیٹے حسن خیال کی حسین محفل میں عنبر فاطمہ ایک مرتبہ پھر جلوہ افروز ہے، انتظار کی گھڑیاں بے حد طویل اور صبر آزما ہوتی ہیں اور حجاب کے دیدار کے یہ مراحل ہمیں انہی جانگسل لمحات سے گزارتے ہیں بہرحال ملنے کی چاہ میں ہمیں اس کے یہ نخرے اور ناز برداریاں بھی برداشت اور قبول ہیں ویسے بھی زبان زد عام ہے۔
نزاکت نازنینوں کو سکھانے سے نہیں آتی
خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے
اور جب سے ہمارے حجاب میں نزاکت اور حسن و خوب صورتی کا امتزاج پیدا ہوا ہے اور ہماری تمام خواہشات اس نے بن کہے پوری کیں تو ہم بھی ناز نخرے برداشت کرنے کو تہہ دل سے تیار ہیں جناب اب آتے ہیں شمارے کی جانب، سرورق پر جلوہ افروز ماڈل سولہ سنگھار کیے مہندی و چوڑی سے آراستہ لبوں پر دھیمی مسکان سجائے عید کی مبارک باد قبل از وقت دیتی نظر آئی، حمیرا کی مسکان سے اپنے لبوں پر بھی مسکراہٹ کے پھول سجائے اشتہارات سے بچتے بچاتے فہرست پر نظر ڈالی اور یہ ایک نظر ہٹنے سے انکاری تھی بھئی نام دیکھ کر۔ سب سے پہلے آتے ہیں مکمل ناول کی جانب تو تحسین انجم انصاری نے طویل عرصے بعد مکمل ناول کی صورت شرکت کرکے ہمیں اپنا گرویدہ کرلیا، مصباح علی سید کا ناول بھی گھریلو ناچاقی اور انتشار کے حوالے سے لکھا گیا بہترین لگا بے شک اگر خواتین چاہیں تو گھر سنور بھی جاتے ہیں اور بگڑ بھی سکتے ہیں اور نگہت کا کردار انہی اوصاف کا حامل تھا۔ اے ایس پی عداس اپنے گیٹ اپ میں بہت دلکش کردار لگا۔ ام ایمان قاضی کی تحریر جیسے کے نام سے ہی ظاہر تھا ماموں نے جی واقعی خوب ماموں بنایا لیکن بالآخر اپنی چال میں خود ہی الجھ گئے اسی لیے سودی کاروبار اور ربا سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ڈیئر ایمان تحریر کا موضوع اچھا تھا لیکن بعض جگہ طوالت نے دلکشی کو متاثر کیا یہ ایک میری رائے ہے آپ سب کا متفق ہونا ضروری نہیں اب آتے ہیں جناب پیارے سے ناولٹ زیاں کی جانب اور اس بارے میں یہی کہوں گی ڈیئر ضوباریہ تمہارا نام ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ کہانی دلکش اور سسپنس سے بھرپور ہوگی بہرحال پہلی قسط پڑھ کر ہی اپنا خوب صورت تاثر قائم کرنے میں یہ کہانی کامیاب رہی، عورت کی جیسے تذلیل دکھائی گئی ہے اسے پڑھ کر بے اختیار آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے، لمحہ احتساب سوشل میڈیا کے نقصانات کے حوالے سے لکھی موجودہ دور کی خامیوں کی بہترین عکاسی کررہی تھی۔ اقبال بانو کا افسانہ ویری ویلڈن بالکل سچ کہا ہے کہ مرد کبھی وسیع القلب نہیں ہوتا بلکہ تنگ نظر ہوتا ہے یہ عورت کا ہی وصف ہوتا ہے کہ اس کی تمام خامیوں سمیت اسے نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ اپنے من مندر کا دیوتا بھی مان لیتی ہے، بابر حیات جیسے نجانے کتنے ہی مرد ہوں گے جن کے ظاہر و باطن میں تضاد ہوگا فیروزہ کی طلاق پر دل بے حد رنجیدہ ہوا مگر واقعی وہ بابر جیسے بے حس اور بے ضمیر شخص کی بیوی نہیں ہوسکتی تھی۔ پاکستان زندہ باد یہ تحریر کیونکر نہ پسند آتی کیونکہ نام اور انداز دونوں ہی بے حد منفرد اور خوب صورت تھے آج وطن سے غداری کرنے والے 1947ء کے ان خون ریز واقعات کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں اگر اس تاریخ پر ایک مرتبہ نظر ڈال لیں تو ضرور اپنے وطن سے مخلص ہوجائیں، یہ تحریر پڑھ کر روایتی دشمن بھارت کے مظالم پر دکھی دل سے بے اختیار آہ نکلی اللہ تعالیٰ نہتے کشمیریوں کو آزادی کی نعمت عطا کرے اور شہیدوں کا لہو رنگ لائے‘ آمین اس سلسلے میں اپنے دل کی ترجمانی کے لیے ایک شعر کا سہارا ضرور لینا چاہوں گی۔
ارباب جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
دیگر تمام افسانے بھی بے حد پسند آئے، مستقل سلسلوں میں امہات المومنین ہمیشہ کی طرح قابل تعریف و لائق تحسین تھا پری وش چہروں سے ملاقات بے حد اچھی رہی، حرا قریشی آغوش مادر میں نہایت چابک دستی سے اپنی ماں کو چاہتوں اور محبتوں کے نذرانے پیش کرتی بے حد اچھی لگیں، آج یقینا آپ کی والدہ آپ سے بے حد خوش ہوں گی اور ہمیشہ آپ کے لیے دعا گو رہیں گی۔ دیگر سلسلوں اور سلسلہ وار ناول کے لیے بس اتنا کہوں گی کہ سب کچھ اے ون تھا اس کے ساتھ ہی اجازت چاہوں گی بشرط زندگی پھر ملاقات ہوگی اسی حسن خیال کی حسین سی محفل میں۔
ثنا فرحان… ملتان۔ السلام علیکم! امید ہے تمام بہنیں خیریت سے ہوں گی۔ حسن خیال میں شامل ہونے کے لیے اس بار جلد ہی حجاب پڑھ لیا ورنہ مدیرہ صاحبہ صرف ایک ہی جملہ لکھتی ہیں کہ تبصرے میں صرف کہانیوں پر ہی تبصرہ کیا کریں اب بھئی جب تک دوستوں سے ملاقات ہر جگہ نہ ہو تو مزہ نہیں آتا زندگی ادھوری سی لگتی ہے یہ میرا خیال ہے آپ بھی ٹھیک ہی کہتی ہیں کہ جب تک مصنفین کی تعریف نہ کی جائے ان کا لکھنے کا حق ادا نہیں ہوتا جیسے شاعر کو شعر پر داد نہ دی جائے۔ ٹائٹل پر نظر ٹھہری تو یوں محسوس ہوا جیسے وہ کہنا چاہتی ہو دیر سے آنے پر معافی چاہتی ہوں۔ ہم نے بھی معاف کرتے اندر کی طرف دوڑ لگائی اور اشتہارات سے بچتے ہوئے فہرست پر نگاہ ڈالی اور کافی عرصے بعد تحسین انجم کو پڑھ کر اچھا لگا امید ہے کہ پھر سے آپ غائب نہیں ہوجائیں گی، نادیہ فاطمہ رضوی میرے خواب زندہ ہیں کی تو کیا ہی بات ہے ایسے ہی صدف آصف کی تحریر دل کے دریچے نے پرانی بہت سی یادیں تازہ کردی ہیں فرسٹ ایئر میں تھی جب جو چلے تو جان سے گزر گئے ماہا ملک کا ناول پڑھا تھا اور دل میں گھر گیا صدف آصف کا دل کے دریچے، میرے دل کے دریچے میں مہکتا ہے محبت سے گوندھی یہ تحریر معاشرے کی عکاسی بھی کرتی نظر آرہی ہے ماموں جی بس کردیں، ام ایمان قاضی نے تھوڑا بور کیا میرا خیال تھا کہ تحریر طنز و مزاح کا انداز لیے ہوئے ہوگی لیکن اس کے برعکس تھی اچھی تحریر ہونے کے ساتھ سبق آموز بھی تھی بس تھوڑی طوالت زیادہ تھی اس کے بعد مصباح علی کو بھی پڑھا یہ وہ نام ہے جو بہت کم وقت میں اپنی پہچان بنا رہا ہے افشاں علی کی تحریر لمحہ احتساب بھی زبردست تھی ان سے یہ کہوں گی کہ افشاں پہلے لوگ چہرے پڑھا کرتے تھے اب لوگ فیس بک پڑھتے ہیں اور لوگوں کے لیے رائے قائم کرلیتے ہیں اگر کوئی اسلامیات کی ٹیچر ہے یا عالمہ تو ہم انہیں کسی دوسری دنیا کا کیونکر تصور کرتے ہیں ہوتے تو وہ بھی ہماری طرح عام انسان ہی ہیں (معذرت کے ساتھ) اس کے بعد زیاں پڑھی، ضوباریہ کا تو نام ہی کافی ہے پہلی قسط نے ہی اگلی قسط کا انتظار کرنے پر مجبور کردیا بے صبری سے انتظار ہے۔ اقبال بانو اور رخ چوہدری کو میں نے کم پڑھا ہے لیکن ان کی تحریریں ہوں اور اچھی نہ ہو یہ ممکن نہیں، کانٹا ایک لاجواب تحریر تعریف کے لیے الفاظ نہیں غلطیاں معاف کرنا عورت کی خاصیت ہے مرد اپنی انا میں ہی مارا جاتا ہے باقی تمام افسانے زبردست رہے۔ کالم میں عالم میں انتخاب میں مجھے عرشیہ ہاشمی کا انتخاب پسند آیا شوخی تحریر میں ریما نور رضوان نمبر لے گئیں باقی سلسلے مصروفیت کے باعث پڑھے نہیں ارے بھئی گھر کے کام ہوتے ہیںاس لیے، اس دعا کے ساتھ اجازت کہ اللہ پاک حجاب کو مزید ترقی دے آمین، اللہ حافظ۔
فائزہ بتول… خانیوال! معزز احباب سامعین و حاضرین فائزہ کی جانب سے میرے تمام ہم نوایان چمن کو پر خلوص اور دعائوں سے لبریز السلام علیکم، ستمبر کا شمارہ ہاتھ میں آتے ہی دل بے قرار کو ایک گوشہ طمانیت و اطمینان نصیب ہوا، مہینوں کا فراق لمحوں میں سمٹ آیا تھا اس لیے برقراری سے آگے بڑھنا چاہا مگر ٹائٹل پر موجود دوشیزہ نے اپنے ہار سنگھار اور خوب صورتی کی بدولت پل بھر کو وہیں ٹھہرنے پر مجبور کیا، بات چیت میں روایتی حریف بھارت کی ہٹ دھرمی کا ذکر نہایت خوب صورت انداز میں تھا بے اختیار دل افسردہ کو سنبھالا اور اپنے وطن کی حالت زار پر دل خون کے آنسو رو دیا، آج کم و بیش ستر سال کی آزادی کے بعد بھی ہم ذہنی طور پر انہی کی غلامی میں ہیں کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہے مگر یہاں ہرکوئی انڈین فلموں اور ڈراموں کا گرویدہ ہے اور اب اس نازک موقع پر بھی بائیکاٹ نہیں کیا جا رہا ہے معذرت کے ساتھ تبصرہ میں یہ خیالات دراصل جذبات پر بندھ باندھنا مشکل نظر آتا ہے۔ حمد و نعت سے قلب و جان کو معطر کیا اور دل و روح میں سکون اترتا گیا۔ سلسلہ وار ناول میں ’’میرے خواب زندہ ہیں۔‘‘ کچھ سست روی کا شکار نظر آتا ہے۔ زرتاشہ کا وہی غم وہی بدگمانی اور سونیا ضرور اسٹار پلس کے ڈراموں والی چال چلنے والی ہے کہ کامیش سے شادی کے بعد فراز تو ہمہ وقت نظر آئے گا پلیز اب یہ سب کچھ خاص تاثر قائم نہیں کرتا، ان ڈراموں کو چھوڑ کر کچھ نیا ہونا چاہیے۔ صدف آصف کی تحریر واہ واہ جناب فائز کے محبت کے بحر بیکراں میں صرف سفینہ کی چاہت کا سفینہ ہی تیر سکتا ہے بہرحال وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا کہانی کا سسپنس بہت بھرپور ہے۔ مکمل ناول سب ہی اچھے تھے خلش کے پار آخر کار سب دلوں کی کدورت اور خلش مٹ ہی گئی اے کاش ہم سب اس گھریلو سیاست سے باز آجائیں تو ہر گھر جنت کا گہوارا بن جائے۔ مصباح اے ون ماموں جی تو حد درجے کے کنجوس اور بخیل تھے ڈیئر ایمان ایسا لگتا ہے کہ آپ اس کردار سے بالمشافہ ملاقات کر چکی ہیں۔ بہرحال بہترین سبق کی حامل تحریر تھی۔ ’’لمحۂ احتساب‘‘ افشاں نے بالکل بجا دکھایا نجانے ہم کب اس فیس بک کی اصل حقیقت کو سمجھیں گے، آج نماز روزے سے غافل مسلمان قوم کے لیے ان فضول خرافات کے لیے بھرپور وقت ہے، سیدہ ضوباریہ کی تحریر گویا پہلی قسط سے ہی تجسس اور دلکشی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا باقی آئندہ دیکھ کر افسردگی کے ساتھ صفحات پلٹے اور افسانوں کی سر زمین پر قدم رنجہ فرمائے۔ اقبال بانو کا افسانہ واہ جناب تعریف کے لیے الفاظ کم پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ بابر حیات کے کھوکھلے دعوے‘ مکرو فریب ہمارے ناتواں و نازک دل میں بھی کانٹے کی طرح پیوست ہوتے درحقیقت بابر اور ان جیسے تمام افراد ہمارے معاشرے کے وہ ناسور اور خاردار کانٹے ہیں جس کی وجہ سے پھولوں جیسی صنف نازک نہ صرف لہو لہان ہوتی ہے بلکہ اپنا وقار اور اعتماد بھی کھو دیتی ہے۔ ضرور فیروزہ کے لیے کوئی اچھا ساتھی منتظر ہوگا۔ پاکستان زندہ باد کہانی کے عنوان پر بے ساختہ آمین کہا بے شک پاکستان زندہ باد اور اس کے دشمن مردہ باد۔ خوب صورت تحریر۔ عالیہ توصیف نے بھی کوزے میں دریا بند کرتے چند صفحات پر بہت اچھا سبق دیا، نکمی ہمارے گھروں کی عام کہانی جس سے ہر ساس ہر بہو دوچار ہے۔ سہیلی پڑھ کر بے اختیار اس حرماں نصیب لڑکی سے بہت ہمدردی محسوس ہوئی۔ محبت کو کبھی ترازو کے پلڑے میں نہیں تولنا چاہیے۔ جہاں چاہت ہو مان ہو عزت ہو وہاں دولت بھی خود بخود آجاتی ہے بہرحال یہ شاید اس کی ماں کا احساس محرومی تھا جس نے بیٹی کی زندگی کو جہنم بنا دیا۔ دیگر تمام سلسلوں میں حرا قریشی نے آغوش مادر میں بہت متاثر کیا حرا ڈیئر زندگی کے میدان میں بہت سی کامیابیاں تمہاری راہ تک رہی ہیں ستاروں سے آگے اور بھی جہان ہیں بس ان کی ضیاء سے اپنی زندگی جگمگاتی رہو سالگرہ نمبر کے لیے ڈھیروں نیک تمنائیں اور فائزہ کی پر خلوص دعائیں، ان شاء اللہ پھر یونہی رونق بکھیرنے حسن خیال کی دنیا میں برا جمان ہوں گے، اللہ حافظ
اب اس دعا کے ساتھ ہی رخصت چاہوں گی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صبر واستقامت عطا فرمائے اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر گزرنے کی توفیق بخشے تاکہ بروز حشر ہمارا پروردگار بھی ہماری مغفرت و بخشش فرمادے، آمین۔ بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ سال گرہ نمبر کے لیے اپنی نگارشات جلد از جلد ارسال کردیں تاکہ بروقت ملنے پر جگہ پاسکیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close