Hijaab Oct-16

دل کے دریچے(قسط نمبر12)

صدف آصف

گزشہ قسط کا خلاصہ
فائز اپنے اور سفینہ کے رشتے میں آنے والی دوریوں کو مٹانے کا ارادہ کرتا ہے اور ایسے میں اپنی ماں سائرہ بیگم کو مختلف انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ تمام جائیداد پر بہزاد چچا کا قبضہ ہے اور ہم اپنا گھر چھوڑ کر یہاں آگئے ہیں اس کی بات پر سائرہ بیگم بھی تشویش میں مبتلا ہوجاتی ہیں فائز اس مشکل کا حل یہ پیش کرتا ہے کہ اس کی شادی سفینہ سے کردی جائے تاکہ بہزاد چچا کی تمام جائیداد کے وارث بھی وہ بن سکیں سائرہ یہ تجویز سن کر اس پر غور کرنے کی حامی بھر لیتی ہیں۔ نبیل اپنے باپ کے بلاوے پر گائوں پہنچتا ہے تو وہاں علی مراد اس سے سخت برہم ہوتے ہیں اپنے مخصوص آدمی کے ذریعے انہیں پہلے ہی نبیل اور شرمیلا کی ملاقاتوں کا علم ہوجاتا ہے جب ہی وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ایسے میں سکینہ مراد اپنے بیٹے نبیل کا دفاع کرتے اس کی محبت کو محض تفریح اور وقت گزاری کا نام دیتی ہیں لیکن نبیل شرمیلا کے ذکر پر انہیں تمام حقائق سے آگاہ کردیتا ہے کہ وہ علی بخش کی بیٹی مومل کی بجائے شرمیلا سے شادی کرنا چاہتا ہے شرمیلا کے نام پر علی مراد نہایت طیش کے عالم میں اس کے کردار پر انگلی اٹھاتے صاف انکاری ہوتے ہیں۔ جبکہ شرمیلا کی یہ توہین نبیل کے لیے انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے مگر باپ کے سامنے وہ خاموش رہ جاتا ہے۔ شرمیلا نبیل سے دوستی کے بعد ہوائوں میں اڑنے لگتی ہے جب ہی فائز اس کے بدلے رویوں پر حیران ہوتا ہے دوسری طرف دلشاد بیگم کو بھی شرمیلا کی یہ اجنبیت پسند نہیں آتی ایسے میں وہ بتول سے شرمیلا اور فائز کی شادی کی بات کرتے شرمیلا کو محتاط رہنے کا کہتی ہیں مگر شرمیلا اب ان کی باتوں میں آنے والی نہیں ہوتی۔ بہزاد خان اور ریحانہ بیگم کے آپس کے تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں انہیں سفینہ کا رشتہ کہیں اور طے کرنے پر انتہائی غصہ ہوتا ہے جس کا اظہار وہ ریحانہ بیگم کے سامنے کرتے رہتے ہیں روشی اپنے دوست سنی کو پسند کرنے لگتی ہے اور اسے شادی کا کہتی ہے سنی شادی کی بات پر اس کا بے حد مذاق اڑاتا ہے اور صاف کہہ دیتا ہے کہ وہ اس کے آئیڈیل پر پورا نہیں اترتی اور کوئی بھی لڑکا ایسی لڑکی سے شادی کرنا پسند نہیں کرتا اپنی اس تحقیر پر روشی کا معصوم دل ٹوٹ جاتا ہے جب ہی وہ خود کو بدلنے پر آمادہ کرتی ہے مگر جلد ہی سنی اپنی منگنی کا بتا کر اس کے خوابوں کا محل چکنا چور کردیتا ہے آفاق شاہ کو ان تمام باتوں کا علم ہوتا ہے تو وہ صدمے میں گھر جاتا ہے اور جلد از جلد سفینہ سے شادی کرنا چاہتا ہے تاکہ سفینہ کے ذریعے روشی کو سنبھالا جاسکے جب ہی وہ اسری خالہ سے جلد از جلد اپنی شادی طے کرنے کا ذکر کرتا ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ض…ظ…ژ
پورے چاندکی چاندنی میں بھیگا پُرفسوں ماحول، اس پر مدھر سنگیت، کانوں میں رس گھول رہا تھا۔ برآمدے کے ستونوں سے لپٹی قمقموں کی لڑیوں کی زرد چمکتی روشنی ماحول کو سحر انگیز بنارہی تھیں۔ وسط میں موجود لکڑی کے بڑے سے جھولے پر خوب صورت تخت پوش بچھا کر ان دونوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ دھیمے سروں میں بجنے والی موسیقی نے کچھ دیر بعد پینترا بدلا اور ایک جانی پہچانی خیر مقدمی دھن چھیڑ دی گئی، وہ چونکا، رات جیسے جھومنے لگی، آفاق کے لبوں کو ہلکی سی مسکراہٹ چھو کر چھپ گئی، اسے ادراک ہوا کہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں، مگر ابھی تک اس کا چاند بدلی میں چھپا تھا، بے چین نگاہیں بار بار داخلی دروازے سے ٹکرا کر مایوس لوٹ رہی تھی، بالآخر من کی مراد بر آئی، سفینہ اپنی سہیلیوں کے جلو میں دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی ہوئی باہر آئی۔ آفاق مکمل طور پر ادھر ہی متوجہ تھا، اس کی ساحرانہ نگاہوں کے حصار میں آتے ہی سفینہ کے قدم لمحے بھر کو ڈگمگائے۔
وہ، آسمانی، سرخ زر تار لہنگے میں ملبوس ہلکے سے میک اپ کے ساتھ بہت پیاری لگ رہی تھی، اس کے دبیز ہونٹ سرخ رنگ سے سجنے کے بعد کچھ زیادہ ہی نمایاں ہورہے تھے۔ ایک سائیڈ پر پڑی گھنی لمبی چوٹی کو بڑی مشاقی سے سفید‘ موتیے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا، سنہری آنکھوں کی خوب صورتی کو بڑھاوا دینے کے لیے لگایا گیا کاجل، دور سے لو دیتا محسوس ہوا۔ آفاق کے وجود میں سرور سا پھیلتا گیا، دشمن جاں کی نرم سنہری سی کلائی تھامنے کو من مچلا، مگر خود پر قابو پانا پڑا، وہ قریب پہنچی تو احتراماً کھڑے ہوکر سر کو خم دیا، وہ تھوڑا پیچھے ہوئی تو، شرارتی انداز میں جھانکنے کی کوشش کی، نیلگوں مائل سنہرے دوپٹے کے ہالے میں جیسے اس کا حسن پھوٹا پڑ رہا تھا۔
ان کو ایک دوسرے کے برابر میں بٹھادیا گیا، وہ جیسے ہی اس کے پہلو میں بیٹھی، رات مزید رنگین ہوتی چلی گئی، اسری نے ان پر سے نوٹ وار کر ملازموں کو تھمائے۔ آفاق کو کچھ ہوش نہ تھا، سفینہ کی سنہری آنکھوں میں جانے کیسا سحر تھا، جس سے بچ نکلنا اس کے لیے مشکل ہورہا تھا۔ اس کے پاس سے اٹھنے والی مہک، مشام جاں کو مہکائے دے رہی تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کائنات ان لمحوں میں تھم سی گئی ہو۔ آفاق نے کچھ بے اختیار ہوتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر سفینہ کو چھونا چاہا اور پھر چراغوں میں جیسے روشنی نہ رہی۔ اس کی آنکھ کھل گئی۔ اِدھر اُدھر نگاہ گھما کر سفینہ کو ڈھونڈا، مگر وہ تو ایک خواب تھا، جو نیند کھلتے ہی غائب ہوگیا، آفاق سر پکڑ کر بیٹھ گیا، انوکھی سی مسکراہٹ لبوں پر کھیلنے لگی۔ وہ بہت دیر تک بستر پر دراز سر کے نیچے ہاتھ ٹکائے مسلسل اسی خواب کے بارے میں سوچتا رہا، پتا نہیں کیوں اس کے دل کو یقین ہونے لگا کہ یہ قدرت کی جانب سے ایک مثبت اشارہ ہے۔
ض…ظ…ژ
’’ویسے اماں۔ میں نے بہت سوچا تو مجھے ایسا لگا کہ فائز کی بات حقیقت پر مبنی ہے۔‘‘ سائرہ نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے سر ہلا کر اعتراف کیا۔
’’آئے کیا تیرا دماغ چل گیا ہے؟‘‘ دلشاد جو پاندان صاف کرنے میں مگن تھیں، اپنا کام چھوڑ کر بیٹی کو گھورنے کے بعد گوہر افشانی کی۔
’’اماں… چھوڑیں اس بحث کو۔ ویسے بھی۔ آپ اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتی۔‘‘ سائرہ کا کوفت بھرا انداز ان کے دل پر جا لگا۔
’’ہاں بیٹی اب تو مجھے سمجھائے گی۔‘‘ انہوں نے جان کر منہ لٹکایا اور چاندی کے پاندان کا ڈھکن زور سے بند کیا۔
’’ایسی بات نہیں ہے مگر فائز نے جو بات سمجھائی ہے وہ سولہ آنے ٹھیک ہے۔‘‘ سائرہ نے محبت بھرے انداز میں ان کا کاندھا دباتے ہوئے کہا۔
’’اے میں تو یہ جانوں کہ اتنی مشکلوں کے بعد تیری زندگی سے دیور دیورانی کا نام نکال پھینکا اور تو جانے کیوں انہیں پھر سے اپنے اوپر مسلط کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔‘‘ دلشاد بانو نے دانت کچکچائے اور سبز پانوں کو گیلے رومال میں لپیٹا۔
’’افوہ… آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ اس شادی سے ہمیں کتنا زیادہ فائدہ ہونے والا ہے۔‘‘ سائرہ نے معنی خیز انداز میں دیکھتے ہوئے مہین کٹی ہوئی چھالیہ کے دانے اٹھا کر منہ میں رکھ لیے۔
ض…ظ…ژ
گھر کے قریب واقع پارک میں قدم رکھتے ہی اس نے آسمان کو دیکھا جہاں سرمئی بادلوں کی چادر سی تنی ہوئی تھی آسمان پر اڑتے ہوئے اکا دکا پرندے، کیاریوں میں جھومتے ہوئے خوش رنگ پھولوں کی قطاریں۔ وہ یہاں آنے کا مقصد بھول بھال کر کچھ دیر کے لیے یوکلپٹس کے چوڑے تنے پر ہاتھ ٹکائے، ٹھنڈی ہوا سے لطف اٹھانے لگی، تازہ ہوا میں سینہ تان کر کھڑے اونچے اونچے درختوں کی شاخوں کے سبز پتے، آنکھوں کو تراوٹ بخش رہے تھے، اسے سب کچھ بے حد نیا لگ رہا تھا، ماحول میں پھیلی تازگی نے آنکھوں کے سنہری پن میں سبزی مائل رنگ گھول کر رکھ دیا۔ تازہ فضاء میں کھل کر سانس لینا اسے بہت دیر تک اچھا لگتا رہا، ہوا کے خوشگوار نم جھونکوں میں رچی مٹی کی سوندھی خوشبو بتا رہی تھی کہ یہ بادل کسی بھی وقت پیاسی زمین کی سیرابی کے لیے برسنے کو تیار کھڑے ہیں۔ اچانک اسے خیال آیا کہ وہ تو یہاں فائز کے بلاوے پر آئی تھی اور موسم کی رعنائی میں محو ہوگئی۔
سفینہ نے فورا ہی نگاہ اٹھا کر اسے پارک میں تلاش کرنا شروع کردیا۔ وہ کچھ دور ایک سنگی بنچ پر، ہاتھ میں اخبار تھامے، بظاہر مطالعہ میں مصروف نظر آیا، مگر سفینہ کو اس حقیقت کی خبر تھی کہ وہ اپنی سفی کے انتظار میں مبتلا ہے۔ اس نے سر جھٹکا اور تیز قدموں سے چلتی ہوئی اندر کی جانب بڑھی۔ فائز نے اس کی آہٹ پر نگاہ اٹھا کر جیسے ہی سفینہ کو دیکھا، ہاتھ ہلا کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ وہ فیروزی اور سرخ امتزاج کے لان کے جدید انداز کے سلے ہوئے سوٹ میں‘ جیسے خوش گوار موسم کا حصہ بنی ہوئی تھی۔ فائز کو اس وقت، سفی دنیاکی خوب صورت ترین لڑکی دکھائی دی، پتا نہیں اس کی محبت کا کمال تھا یا وہ شروع سے ہی اتنی حسین تھی، یہ فیصلہ تھوڑا مشکل ہونے لگا۔ فائز کی نگاہوں کے حصار میں محصور سفینہ کے دل کو کچھ ہوا۔ میک اپ کے نام پر اس کے کلیوں جیسے ہونٹوں پر سرخ لپ اسٹک چمک رہی تھی، دھلا دھلایا شفاف چہرہ‘ سنہری جھیل سی گہری آنکھیں‘ نرم کلائیوں میں کانچ کی ڈھیر ساری سرخ اور فیروزی چوڑیاں، جن کی کھنک دور سے سنائی دے رہی تھی۔ سنہرے پیروں میں تلے والی چپل‘ ایک سائیڈ پر ڈالی گئی کالی چوٹی اور چہرے پر بار بار آتی ایک لٹ، جس کی شرارت سے وہ پریشان دکھائی دی، فائز کا دل مچلا کہ وہ اس لٹ کو مٹھی میں جکڑ کر سفی کے کانوں کے پیچھے اڑس دے، مگر ایک آہ بھر کر رہ گیا۔
سفینہ ریحانہ کی نگاہوں سے بچ کر بڑی مشکل سے گھر کے نزدیک واقع پارک میں اس سے ملنے آئی تھی، اس کے من میں تجسس کی لہریں اٹھ رہی تھیں کہ ایسا کیا کام تھا جو فائز نے اسے کال کرکے یہاں بلایا، وہ پوچھنا چاہ رہی تھی مگر فائز تو کسی اور موڈ میں تھا، اسے پیار سے تکتا چلا گیا۔
ض…ظ…ژ
آفاق کے سامنے لیپ ٹاپ کھلا تھا مگر وہ خیالوں میں گم اسکرین کو مسلسل تک رہا تھا، دروازے پر ہلکی سی آہٹ کے ساتھ، معید مرزا اس کے روم میں داخل ہوا اور کنکھارا مگر آفاق اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا۔ وہ دونوں پرانے دوست ہونے کے ساتھ کاروبار میں بھی ساجھے دار بن چکے تھے، اسی لیے اکثر ایک دوسرے کے دفاتر میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔
’’کس سوچ میں گم ہو پیارے؟‘‘ معید نے بیٹھتے ہوئے بے تکلفی سے سوال کیا۔
’’آں… ہا… کچھ نہیں۔‘‘ وہ چونکا، بات کو ٹالنے کے لیے نفی میں گردن ہلائی۔
’’چل پھر جلدی سے اُٹھ۔‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے آنکھ سے اشارہ کیا۔
’’کیوں کوئی کام ہے؟‘‘ آفاق نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور پھر بے دلی سے لیپ ٹاپ بند کیا۔
’’کیا مطلب کوئی کام؟‘‘ معید نے اسے غصے سے گھورا جو اتنی اہم بات بھولے بیٹھا تھا۔
’’مجھے سچ مچ کچھ یاد نہیں۔‘‘ آفاق نے ذہن پر زور دیا پھر بیزاری سے جواب دیا۔
’’او گاڈ ڈفر تم اتنی اہم بات کیسے بھول سکتے ہو کہ ٹھیک پانچ بجے ہمیں شہباز خان سے ملنے کے لیے جانا ہے۔‘‘ وہ بری طرح سے تپ کر چیخا۔
’’اوہ… یار سوری میرے ذہن سے یہ بات واقعی میں نکل گئی تھی۔‘‘ آفاق نے ہونٹ بھینچ کر اعتراف کیا۔
’’یار تم تو جانتے ہو ناکتنی مشکل سے یہ میٹنگ فکس ہوئی تھی۔‘‘ معید نے اسے یاد دلایا۔
’’چلو… ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا جلدی سے اٹھ جائو ہم وقت پر پہنچ ہی جائیں گے۔‘‘ معید ایک دم کھڑا ہوا اور اسے چلنے کا اشارہ کرنے لگا۔
’’نہیں میرا ذہن بہت منتشر ہے، آج کی میٹنگ کینسل کردو۔‘‘ آفاق نے بڑے ڈھیلے انداز میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
’’یہ کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اس کی آنکھیں ابل پڑیں۔
’’پلیز کوئی بحث نہیں۔‘‘ آفاق نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کرانا چاہا۔
’’تم جانتے ہو اس بات سے ہماری بزنس کی ساکھ متاثر ہوگی۔‘‘ وہ ایک دم بلبلایا۔
’’ہاں مگر جانے کیوں تمہاری ایسی باتوں سے میرا دل متاثر ہورہا ہے۔‘‘ آفاق نے برا سا منہ بناکر جھاڑا۔
’’آفاق تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ معیدنے فکرمندی سے دوست کی شکل دیکھی۔
’’یس آئی ایم اوکے۔‘‘ وہ چہرے کے تاثر بلینک کرتے ہوئے بولا۔
’’نہیں کچھ تو ہے پلیز بتاؤ مجھے۔‘‘ معید اب اس کے پیچھے ہی پڑ گیا۔
’’بس یار۔ کچھ خاص نہیں پرسنل پرابلمز ہیں۔‘‘ آفاق بے ساختہ کہا۔
’’شئیر کرنا چاہو تو تیرا دوست موجود ہے، آنسو بہانے ہو تو دوست کا کاندھا حاضر ہے۔‘‘ وہ شرارت سے مسکرایا تو آفاق نے کچھ سوچ کر اسے ہر بات بتادی۔
’’اس میں ایسی کون سی قباحت ہے۔ اب شادی نہیں کرے گا تو کیا بڑھاپے میں سہرا باندھے گا۔ مزے سے نئی زندگی کو انجوائے کر۔‘‘ سب کچھ سننے کے بعد وہ کاندھا تھپتھپا کر بولا۔
’’یار میں سوچ رہا ہوں کہیں جلد بازی میں یہ قدم اُٹھا کر میں کوئی غلطی تو نہیں کررہا۔‘‘ آفاق نے اپنے خدشات بیان کرتے ہوئے پوچھا۔
’’مائی ڈئیر کچھ چیزیں بظاہر بہت مشکل لگ رہی ہوتی ہیں مگر اس وقت آسان ہوجاتی ہیں، جب انسان عملی قدم اٹھاتا ہے۔‘‘ معید نے پیر ہلاتے ہوئے مشورہ دیا۔
’’یہ تو ہے بس دل ڈرتا ہے کہ کہیں یہ فیصلہ میری بہن کے حق میں غلط ثابت نہ ہو۔‘‘
’’کبھی کبھی منزل تک پہنچنے کے لیے آپ کو ان اجنبی راہوں پر چلنا پڑتا ہے جن سے آپ کے قدم ہی مانوس نہیں ہوتے۔‘‘ معید نے ایسی دلیل پیش کی جو آفاق کو بھاگئی، اس کے اندر تک اطمینان پھیلتا چلا گیا۔
’’یہ بات تو ہے۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’میرے دوست تم بلاوجہ کی باتوں میں الجھنے کی جگہ…‘‘ وہ بولتے بولتے ایک لمحے کو رکا۔
’’کیا… آگے بھی بول نا؟‘‘ آفاق کی سوالیہ نگاہیں اس پر جم گئیں، بے چینی سے کس کر دھموکا مارا۔
’’اس خوشگوار اور سہانی گھڑی کو کھلے دل سے خوش آمدید کہو اور مجھے بھی چاچو کہلانے کا شرف بخشو۔‘‘ معید نے ایک آنکھ بند کرتے ہوئے شرارت سے بات پوری کی۔
’’تایا کیوں نہیں۔‘‘ آفاق نے زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے چھیڑا۔
’’ہاں پورے ایک مہینے چھوٹا ہوں میں تجھ سے۔‘‘ اس نے ٹھنک کر جتایا۔
’’چل نکل یہاں سے شرم تو نہیں آتی یوں ننھا منا بنتے ہوئے۔‘‘ آفاق نے اس کو انگوٹھا دکھا کر باہر کا راستہ دکھایا تو وہ ہنستے ہوئے اس سے لپٹ گیا۔
ض…ظ…ژ
’’کیا بات ہے سفی آج تو تم بہت ہی پیاری لگ رہی ہو؟‘‘ فائز نے اس کے قریب پہنچنے پر چھیڑا۔
’’مطلب کیا ہے میں ویسے اچھی نہیں لگتی کیا؟‘‘ وہ ایک دم اس کے مقابل تن کر کھڑی ہوئی اور سوالیہ نگاہوں سے اسے گھورا۔
’’یہ ہی تو مسئلہ ہے تم تو ہمیشہ بھتنی جیسی لگتی ہو۔‘‘ فائز نے شرارتی انداز میں اس کے حسن سے نظریں چراتے ہوئے چھیڑا۔
’’بھتنے ہوگے تم آئی سمجھ۔‘‘ سفینہ بھول گئی کہ یہاں کیوں آئی تھی الٹا کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑائی شروع کردی۔
’’وائو۔‘‘ پاس سے گزرتے لڑکے نے اس پر شوخ سی نگاہ ڈالی، فائز کو ایک دم برا لگا، لڑکے کو قہر آلود نظروں سے گھورا۔
’’اچھا بھئی یہ جھگڑا بعد کے لیے اٹھا کر رکھو اور یہاں تمیز سے بیٹھ کر میری ایک بات سنو۔‘‘ فائز نے جلدی سے کھسک کر اس کے لیے جگہ بنائی تاکہ وہ بیٹھ جائے محبت کے ساتھ وہ سفینہ کا احترام بھی کرتا تھا، اسی لیے پبلک پلیس کا خیال کیا۔
’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ سفینہ نے بنچ پر بیٹھنے کی جگہ سبز گھاس پر پھسکڑا مارا اور اسے غور سے دیکھ کر سر ہلایا۔
’’کیا بات ہے۔‘‘ فائز ڈارک بلیو جینز اور لائٹ پیچ رنگ کی شرٹ پہنے، ہمیشہ سے زیادہ اسمارٹ اور پُروقار لگ رہا تھا۔ اس نے دل میں سراہا، آنکھوں سے روشنی سی پھوٹنے لگی۔
’’اصل میں تمہیں یہاں بلانے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے ممی کے کان میں بات ڈال دی ہے۔‘‘ وہ نرم انداز میں اپنے سامنے زمین پر بیٹھی سفینہ کو دیکھتے بولتا چلا گیا مگر اس کا دھیان اتنی اہم بات کی طرف تھا ہی نہیں۔
’’اگر آپ آسمان پر نہ چڑھ جائیں تو ایک بات کہوں۔‘‘ سفینہ نے کچھ شرارتی انداز میں پلکیں جھپکتے ہوئے اجازت طلب کی۔
’’ہاہ… ایسی کیا بات ہے؟‘‘ فائز نے مسکراہٹ کو لبوں تلے دبا کر پوچھا۔
’’آپ پر یہ رنگ بہت سوٹ کرتا ہے پہنا کریں۔‘‘ آخر تعریف اس کے لبوں تک آہی گئی، فائز نے زور دار انداز میں قہقہہ لگایا۔
’’شکر ہے تمہیں کچھ پسند تو آیا۔‘‘ فائز کو اس کے یوں اظہار کرنے پر بہت خوشی ہوئی فوراً بولا۔
’’میں کیا آپ میں ہر وقت عیب نکالتی رہتی ہوں؟‘‘ وہ ایک دم جھینپ کر بولی۔
’’نکالتی تو ہو۔‘‘ اس نے بھی پورا پورا بدلہ لیا۔
’’بڑے آئے کہیں سے۔‘‘ سفینہ نے ہونٹ لٹکا کر جواب دیا۔
’’اچھا سفی… ایک کام تو کرنا۔‘‘ اس پر شرارت سوار ہوئی۔
’’وہ کیا؟‘‘ سفینہ نے منہ بگاڑا۔
’’میری برتھ ڈے آنے والی ہے تم اسی رنگ کی ایک درجن شرٹ اور ٹی شرٹ مجھے گفٹ کردینا تاکہ میں ہر وقت تمہیں اسی رنگ میں نظر آئوں۔‘‘ فائز نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا تو سفینہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’فائز آپ نے مجھے اتنی ارجنٹ کال کرکے یہاں پہنچنے کا کیوں کہا تھا؟‘‘ سفینہ کو ٹائم گزرنے کا خیال آیا تو ایک دم بات کا رخ بدلا۔
’’ہاں تو سنو۔‘‘ وہ بھی سنجیدگی سے اسے اپنی منصوبہ بندی کے بارے میں بتانے لگا، سفینہ اس کی بات غور سے سننے لگی۔
’’افوہ آپ نے تائی اماں کے ساتھ یہ ڈرامے بازی کی۔‘‘ بات مکمل ہونے کے بعد سفینہ نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ اس کے انداز پر وہ تھوڑا گھبرایا۔
’’فائز میں آپ کو بالکل بھی ایسا نہیں سمجھتی تھی خان ہائوس پر قبضہ جمانے کے لیے ایسی منصوبہ سازی۔‘‘ سفینہ نے رونے والا منہ بنایا، فائز کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
ض…ظ…ژ
’’اچھا بیٹی ایسا کون سا خزانہ تیرے ہاتھ لگنے والا ہے ذرا مجھے بھی بتا؟‘‘ دلشاد نے ناک پر انگلی جما کر طنز فرمایا۔
’’پورے کا پورا خان ہائوس میرے بیٹے فائز کو مل جائے گا۔‘‘ سائرہ نے خوش ہوکر بتایا۔
’’ارے بی بی چھوڑو میں ایسی چال چلتی کہ تجھے ویسے ہی سب مل جاتا۔‘‘ دلشاد نے ناک پر سے مکھی اڑائی۔
’’اور آپ کے داماد کی خوشی وہ تو آپ نہیں دلوا سکتی تھی نا۔‘‘ سائرہ نے جذباتی ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’ہونہہ تو جان اور تیرا کام جو میں بولی تو جو سزا کالے چور کی وہ میری۔‘‘ دلشاد نے پیٹھ موڑ کر ناراضی دکھائی۔
’’اماں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے آگے… مگر کبھی کبھی آپ بھی بچوں کی طرح ضد پکڑ لیتی ہیں۔‘‘ سائرہ بھی چڑ گئی۔
’’اچھا تو اب تو اُن کے لیے اپنی ماں سے بحث کرے گی۔ جنہوں نے کبھی تیری خوشیوں کی رتی بھر بھی پروا نہیں کی۔‘‘ دلشاد ایک دم جذباتی ہوگئیں، شکوہ کناں نگاہوں سے مڑ کر بیٹی کو دیکھا۔
’’اماں! یہ کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں آپ بلاوجہ اداس ہورہی ہیں۔‘‘ سائرہ کے خیالات میں بدلائو کیا آیا نظریہ بھی بدل گیا، پھر سمجھانے میں جت گئیں۔
’’آئے سائرہ یہ بات اتنی چھوٹی بھی نہیں، جتنا تو بنا کر پیش کررہی ہے۔‘‘ دلشاد سے کسی بھی طرح سفینہ اور فائز کی شادی کی بات ہضم نہیں ہورہی تھی۔
’’اچھا چلیں میں چائے بنا کر لاتی ہوں دونوں مل کر پیتے ہیں۔‘‘ سائرہ نے دلشاد کا پارہ ہائی ہوتے دیکھا تو بات ختم کردی۔
’’سائرہ سوچ سفینہ کے پیر اس آنگن میں پڑتے ہی تیری حیثیت کتنی کمزور ہوجائے گی۔‘‘ وہ بیٹی کی بے نیازی پر ایک دم چیخ کر اپنے اندیشوں کا اظہار کرتی چلی گئیں۔
’’اللہ اللہ میں کوئی ’’موم کی ناک‘‘ نہیں کہ جس کا جیسے دل چاہے موڑ لے۔‘‘ انہوں نے ایک دم سینے پر ہاتھ مار کر جواب دیا۔
’’ایک نمبر کی بے وقوف ہے میری یہ لڑکی بس بیٹے کے بہکاوے میں آگئی۔‘‘ دلشاد بانو کے افسوس کا انداز بھی ان کے جیسا تھا۔
’’آپ ایسے کیوں بول رہی ہیں؟‘‘ سائرہ نے الجھی نگاہوں سے ماں کا ہلتا سر دیکھا۔
’’اے… جیسے ہی تو رشتہ لے کر وہاں جائے گی، تیری دیوارنی فٹ سے تیرا ہاتھ پکڑ کر خان ہائوس کے دروازے سے باہر چھوڑ آئے گی۔‘‘ ان کے چہرے کے تاثرات میں معنی خیزی کے رنگ تھے۔
ض…ظ…ژ
’’روشنی‘ تم تو بہت پیاری بچی ہو۔ پھر ایک بات پر کیوں اڑ گئی ہو؟‘‘ اسری نے بھانجی کے چہرے کو ایک انگلی سے اٹھا کر پیار سے سمجھانا چاہا، جو سفینہ کے گھر جانے سے انکار کررہی تھی۔
’’ہاں بس مجھے ابھی بھائی کی شادی نہیں کرنی۔‘‘ وہ مسلسل نفی میں سر ہلارہی تھی۔
’’کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ اسری نے اس کی بات پر جھرجھری سی لی اور پوچھا تو اس نے مدد طلب نگاہوں سے عشو اماں کو دیکھا۔
’’روشنی بیٹا… چلوکھانا لگادیا ہے۔‘‘ عائشہ نے جلدی سے اسے منظر سے ہٹانا چاہا کہ کہیں ان کا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
’’جی اچھا عشو…‘‘ وہ اطمینان بھرا سانس لے کر کھڑی ہونے لگی۔
’’بیٹھی رہو۔‘‘ اسری نے بھانجی کی کلائی تھام کر اسے واپس صوفے پر بٹھایا۔
’’بچی نے دوپہر میں بھی بہت کم کھایا تھا۔‘‘ عشو نے زبردستی ان کی بات کاٹتے ہوئے بلاوجہ کی فکر دکھائی۔
’’ایک منٹ عائشہ باجی آپ کو نظر نہیں آرہا کہ میں کتنی ضروری بات کررہی ہوں۔‘‘ اسری کا دماغ گھوم گیا، انہیں لتاڑا۔
’’وہ میں تو بس…‘‘ ان کی زبان لکنت زدہ ہوگئی۔
’’مجھے تو لگتا ہے کہ روشنی کو دس من کی بوری بنانے میں آپ کا مکمل تعاون رہا ہے۔‘‘ اسری نے منہ بگاڑ کر کہا۔
’’بھیا… یہ ٹھیک ہے ’’نیکی برباد گناہ لازم‘‘ میں نے بچی کی تندرستی کی خاطر اچھا سے اچھا کھلایا اور…‘‘ وہ بولتے بولتے دوپٹہ میں منہ چھپا کر بلک اٹھیں۔
’’بس کریں میں اچھی طرح سے جانتی ہوں سب۔‘‘ اسری تڑخ کر بولیں، مجال ہے جو ان کے رونے سے ذرا بھی متاثر ہوئی ہوں۔
’’ایسی بات نہیں۔‘‘ روشنی سے اپنی عشو اماں کا رونا دیکھا نہیں گیا۔
’’یہ الزام بھی لگنا تھا۔‘‘ عائشہ نے سرخ آنکھوں سے روشنی کی جانب دیکھتے ہوئے ہمدردی حاصل کرنا چاہی۔
’’کوئی الزام نہیں لگایا۔‘‘ اسری نے ہاتھ اٹھا کر انہیں خاموش کرایا۔
’’برائے مہربانی ایک کپ چائے کا لے آئیں۔ فضول کی باتوں سے سر میں درد ہونے لگا ہے۔‘‘ اسری کی غصیلی نگاہوں کا سامنا مشکل ہونے لگا۔ عائشہ نے مزید کچھ کہنے سے پرہیز کیا اور چپ کرکے باہر نکل گئی۔
’’میں بھی ابھی آتا ہوں۔‘‘ روشنی دھیرے سے بولتی ہوئی کھسکنے لگی مگر اسری کے بگڑتے تیور دیکھ کر جہاں کی تہاں رہ گئی۔
ض…ظ…ژ
’’مجھے اپنے بیٹے فائز پر یقین ہے وہ ماں کا سر جھکنے نہیں دے گا۔‘‘ ماں کی بات پر پہلے تو وہ گم سم سی سوچ میں پڑگئی اس کے بعد اعتماد سے سر اٹھا کر جواب دیا۔
اسی وقت بتول وہاں پہنچی، اس نے چنے کی دال کا حلوہ بنایا تھا، دلشاد بانو کو میٹھا پسند تھا تو دینے کے لیے نیچے آئی تھی، ویسے بھی جب سے دلشاد نے نواسے کی شرمیلا سے رشتے والی بات اس کے کان میں ڈالی تھی، وہ کچھ نہ کچھ اچھا پکا کر ان کی آئو بھگت کے لیے لے کر پہنچ جاتی، ابھی کمرے میں داخل ہورہی تھی کہ ان کی باتیں کانوں میں پڑی ایک دم چونک کر اندر ہونے والی گفتگو سننے لگ گئی۔ دلشاد کو بیٹی کا بڑ بولا پن پسند نہ آیا، ماتھے پر ہاتھ مار کر منہ بنایا اور پاندان کھول کر بیٹھ گئیں، سائرہ کو ماںکا یوں نظر انداز کرنا برا لگا۔
’’ایک بار شادی ہونے دیں پھر دیکھیے گا۔‘‘ سائرہ نے جوش میں ماں سے اپنی بات منوانے کے لیے زور سے کہا۔
’’اوں پتا نہیں کیا دیکھوں گی؟‘‘ دلشاد نے بھی طنزیہ انداز میں ہاتھ نچایا۔
’’یہ ہی کہ میں کیسے اس لڑکی کو اپنے پیروں کی جوتی بنا کر رکھوں گی۔‘‘ وہ اپنے سخت انداز میں بولی، دلشاد نے بیٹی کی طرف دیکھا، جس کے چہرے کا رنگ لمحہ بھر کو نیلا ہوا، مگر سائرہ نے جلد ہی اپنے اوپر قابو پالیا۔
’’یہ کس کے بارے میں بات ہورہی ہے کہیں شرمیلا کے بارے میں تو نہیں۔‘‘ بتول ان دونوں کی باتوں سے الجھ سی گئی۔
ض…ظ…ژ
’’اے لڑکی زبان سنبھال کر۔‘‘ فائز اندر سے تھرتھرایا، ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔
’’ہاں تو میں اور کیا کہوں… توبہ توبہ یہ لچھن…‘‘ اس نے بڑے مزے سے گال پیٹ کر دلشاد والے انداز میں کہا، وہ پھر بھی نہ سمجھا۔
’’سفی… میں نے یہ سب کچھ صرف اپنی محبت کو پانے کے لیے کیا ہے۔‘‘ جلدی سے وضاحت پیش کی۔
’’ہاہ… محبت۔‘‘ سفینہ نے زبان چڑائی۔
’’ایک بات غور سے سنو۔‘‘ فائز طیش میں آیا۔
’’جی… جی۔‘‘ اس نے کانوں میں انگلی پھیری۔
’’مجھے گھر کے حصے سے نہیں صرف تم سے دلچسپی ہے مگر تم مجھے ایسا گھٹیا سمجھتی ہو تو میں ممی کو منع کردوں گا۔‘‘ فائز نے اپنی پوزیشن کلئیر کی اور اٹھ کر منہ موڑ کر جانے لگا، اسے سفینہ کی سوچ نے بہت دکھ پہنچایا تھا، وہ اسے اتنا گرا ہوا سمجھتی ہے۔
’’منع کرکے تو دیکھیں اپنی اور آپ کی جان ایک کردوں گی۔‘‘ فائز نے الجھتے ہوئے دو قدم بڑھائے، اچانک اس کی مضبوط کلائی، نرم انگلیوں کے گھیرے میں آگئیں، شیریں لہجہ کانوں میں پڑا۔
’’کیا… تو یہ مذاق تھا۔‘‘ فائز نے مڑ کر دیکھا تو سفینہ کی پیار بھری نگاہوں سے نگاہیں مل گئیں۔ لب مسکرا رہے تھے۔ فائز سمجھ گیا کہ وہ مذاق میں اسے تنگ کرنے کے لیے باتیں سنا رہی تھی دل مطمئن ہوگیا، ایک سکون بھرا سانس لینے کے بعد اس نے سفینہ کے ہاتھوں کو کس کر تھام لیا۔
’’اچھا تو پہلے اپنی اور میری جان ایک کردو۔‘‘ وہ اتنا قریب ہوا کہ سفینہ ایک دم بدک کر پیچھے ہوئی، پلکوں کی لرزش کو فائز نے انجوائے کیا۔
’’سفی کیا ہوا‘ اب کیوں بولتی بند ہوگئی۔‘‘ فائز کھسک کر مزید قریب کھڑا ہوا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے ایک ٹک گھورتے ہوئے بولا۔
’’فائز ہم لوگ شاید پبلک پلیس پر موجود ہیں۔‘‘ وہ ایک دم گڑبڑا کر احساس دلانے لگی، شکر ہے کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
’’چلو تو پھر کہیں تنہائی میں چلتے ہیں۔‘‘ وہ اسے تنگ کرنے لگا‘ سفینہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر لب تھرا کر رہ گئے، الفاظ نے ساتھ نہ دیا۔
اس کی گلابی پڑتی رنگت نے فائز کو مزید تنگ کرنے سے باز رکھا، تاہم وہ دونوں ایک دوسرے کی کیفیت کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے کیونکہ باوجود اس کے کہ ان کے وجود الگ الگ تھے مگر دل ایک ہی لے پر دھڑکتے تھے۔ کچھ محبت کا فسوں تھا۔ کچھ جذبوں کی شدت۔ وہ بے اختیار ہوکر ایک دوسرے کو دیکھتے چلے گئے۔
ض…ظ…ژ
’’روشنی… آج تو تم نے یہ بات کر لی ہے مگر آئندہ میں تمہارے منہ سے ایسا کچھ نہیں سنوں۔‘‘ اسری نے روشنی کو آڑے ہاتھوں لیا۔
’’آپ سمجھتی کیوں نہیں مجھے بھابی کے نام سے بھی ڈر لگتا ہے۔‘‘ روشنی نے تنک کر جواب دیا۔
’’اگر یہ بات آفاق کے کانوں تک پہنچی تو قیامت آجائے گی۔‘‘ اسری نے اس کا ہاتھ تھام کر ڈرانا چاہا۔
’’یہ کوئی ایسی بڑی بات بھی نہیں میں خود بھائی کو منع کردوں گا۔‘‘ وہ مسکرا کر بھولے پن سے بولی۔
’’اتنی مشکلوں سے تو آفاق کو سفینہ پسند آئی اب تم نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا۔‘‘ اسری کا منہ بن گیا، سر تھام کر بیٹھ گئیں۔
’’پتا نہیں ایسا کیا ہے، اس لڑکی میں جو آپ اور بھائی پیچھے ہی پڑ گئے ہیں۔‘‘ اس کے منہ سے عائشہ کے الفاظ نکلے۔
’’بس بات کو یہیں ختم کردو اور خیال رکھنا کہ آفاق کے سامنے یہ سارا جھگڑا نہ آئے۔‘‘ اسری نے سخت لہجے میں روشنی کو تنبیہہ کی۔
’’کیوں اس میں ایسا کیا ہے؟‘‘ روشنی ایک دم ہنس دی۔
’’تمہیں کیسے سمجھائوں لڑکی مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمہارے منہ سے نکلی ہوئی ایک ضد کی وجہ سے وہ ایک بار پھر زندگی کی خوشیوں سے دور نہ چلا جائے۔‘‘ اسری کی نگاہ دور تک کچھ کھوجنے لگی۔
’’ہاں تو کیا ہوا یہ نہیں تو کوئی اور سہی بھائی کو کوئی اور لڑکی پسند آجائے گی۔‘‘ روشنی نے پیر ہلاتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔
’’نہیں… سفینہ جیسی سمجھدار اور سلیقہ شعار لڑکی ہی اس خاندان کو سنبھال سکتی ہے۔‘‘ وہ ایک دم نفی میں سر ہلاتی گئیں۔
’’سفینہ بھابی وہ آئی بھی نہیں اور میرا جینا مشکل ہوگیا ہے عشو اماں نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔‘‘ روشنی نے دانت کچکچا کر سوچا۔
’’روشنی… ذرا عقل استعمال کرو، تم نے تو سفینہ سے بلاوجہ کا بیر باندھ لیا ہے۔‘‘ اسری نے اس کے چہرے کے تاثرات جانچنے کے بعد طنز فرمایا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ بھی منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔
’’کان کھول کر سن لو میں اس رشتے کو تمہاری نادانی کے بھینٹ نہیں چڑھنے دو گی۔‘‘ اسری ایک فیصلے تک پہنچ گئی۔ اس لیے سختی سے جتایا۔
’’اوکے جیسی آپ کی مرضی۔‘‘ روشنی کو خالہ کا انداز برا لگا کاندھے اچکا کر کھڑی ہوئی۔
’’اس بات کا کیا مطلب تم چل رہی ہو یا نہیں؟‘‘ اسری کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس لڑکی کے ساتھ کریں تو کیا کریں۔
’’سوری میں نہیں جائوں گا۔‘‘ اس کے اندر کی ضد عود آئی، رک کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط لہجے میں جواب دیا۔
ض…ظ…ژ
’’اور وہ شرمیلا۔ میں نے تو اس کی ماں سے رشتے کی بات بھی کرلی ہے۔‘‘ دلشاد نے دبے لہجے میں کہا، کمرے کی دہلیز پر کھڑی بتول ٹھٹک کر پیچھے ہوئی۔
’’ارے اماں اس لڑکی کے پاس اچھی شکل کے سوا اور ہے ہی کیا؟‘‘ سائرہ کے لہجے کی حقارت، بتول کے لیے تکلیف دہ ہوئی۔
’’سائرہ تم تو اس لڑکی کے گن گاتی پھرتی تھی پھر یہ کایہ کیسے پلٹ گئی؟‘‘ دلشاد نے منہ کھول کر بیٹی کو دیکھا۔
’’سیدھی سی بات ہے کہ شرمیلا جیسی لڑکی کو بہو بنانے سے مجھے بھلا کیا فائدہ ہوگا۔‘‘ بتول کو اس کی ہنسی میں طنز کی آمیزش محسوس ہوئی۔
’’ہاں ہاں بڑی جلدی تجھے فائدے اور نقصان کی فکر پڑ گئی۔‘‘ دلشاد نے ہنس کر پوچھا۔
’’اماں زمانہ ہی ایسا ہے ویسے بھی سفینہ کی پوزیشن شرمیلا کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے۔‘‘ سائرہ نے بڑے اطمینان سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔
’’ہائے اللہ… یہ سائرہ باجی کس قدر منافق نکلیں۔‘‘ بتول نے لڑکھڑاتے قدموں کو زمین پر جمانا چاہا، پوری دنیا گھومنے لگی تھی۔
’’ایک بار ریحانہ کو سمدھن بننے دے تجھے لگ پتا جائے گا۔‘‘ دلشاد نے پان کی گلوری منہ میں رکھتے ہوئے ڈرانا چاہا۔
’’میں کیا کسی سے کم ہوں ہوش اڑا کر رکھ دوں گی۔‘‘ سائرہ کے انداز پر بتول نے کانوں کو چھوا۔
’’ایک بار اور سوچ لے شرمیلا جیسی مکھن ملائی سی لڑکی تجھے دوسری نہیں ملے گی۔‘‘ دلشاد کو بیٹی کے سسرال والوں سے جنموں کا بیر تھا، پھر سمجھانا چاہا۔
’’ہاں تو خالی خولی خوب صورتی کو لے کر بھلا چاٹنا ہے کیا؟‘‘ سائرہ کے حوصلہ شکن جواب پر وہ منہ موڑ کر پلنگ پر لیٹ گئیں۔
’’ان دونوں عورتوں نے میری شرمیلا سے کیسی محبتوں کا دعویٰ کیا تھا لیکن…‘‘ بتول کا حلق خشک ہونے لگا، مزید سننے کی سکت نہ رہی، حلوے کی پلیٹ میز پر ٹکائی اور مرے مرے قدموں سے زینے کی جانب چل دیں۔
ض…ظ…ژ
شرمیلا اپنی سہیلی کی شادی سے لوٹی تو بہت اداس تھی، نبیل کی کچھ باتیں اس کے اندر اترتی محبتوں کو دھندلانے کے لیے کافی تھیں، اتفاق سے نبیل بھی لڑکے والوں کی جانب سے اس تقریب میں موجود تھا، اتنے دنوں بعد اسے دیکھ کر خوشی کے احساس سے زیادہ تکلیف محسوس ہوئی۔ ابھی تو ان کی محبت کا پودا پروان چڑھنا شروع ہوا تھا مگر اس کا یوں مہینے بھر کے لیے بغیر کسی رابطہ کے غائب ہوجانا، شرمیلا کی کال ریسیو نہیں کرنا اور اگر بات ہوجائے تو کوئی تسلی بخش جواب نہ دینا، اس کے بڑھتے قدموں کو روکنے کے لیے کافی تھا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ ابھی گائوں سے نبیل کی واپسی نہیں ہوئی مگر وہ تو بڑے کرو فر سے تقریب میں موجود تھا مگر اسے دیکھ کر یوں بن گیا جیسے پہچانتا نہ ہو۔
شرمیلا کے لیے نبیل کے ایسے اجنبی انداز ناقابلِ برداشت ہوجاتے تھے۔ وہ بھی اپنے خول میں سمٹ گئی، اس سے قبل بھی کئی بار ایسا ہوچکا تھا، مگر جب شرمیلا اس سے ملنا کم کردیتی، بات کرنے میں نخرے دکھاتی، نظر انداز کرتی تو اس کی برداشت جواب دے جاتی، وہ جتنا اس سے بھاگتی، نبیل اتنا ہی بے قرار ہوجاتا۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ زمین و آسمان ایک کرکے شرمیلا کو منالے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، سبز لباس میں سجی سنوری شرمیلا، پوری محفل میں یکتا دکھائی دے رہی تھی، وہ بہت دیر تک مزاحمت نہ کرسکا اور اکبر خان کی نگاہوں سے بچتا بچاتا، اس طرف چلا آیا جہاں ڈنر سرو کیا جارہا تھا، شرمیلا نے بے دلی سے پلیٹ میں چاکلیٹ کیک کا پیس رکھا اس کے ارد گرد مخصوص مدہوش کردینے والی خوشبو پھیلی، جو اسے نبیل کی موجودگی کا پتا دے رہی تھی۔
’’ہیلو… شرمیلا کیسی ہو؟‘‘ وہ بے رخی سے مڑی مگر نبیل نے اس کا راستہ روک لیا اور ایک بار پھر لفظوں کا جال اس پر پھینکنا شروع کردیا۔ وہ بہت زیادہ احساس کمتری کا شکار ہورہی تھی، اسے قہر آلود نگاہوں سے دیکھا اور بغیر کچھ کھائے پیئے، ٹیبل پر پلیٹ رکھ کر ٹشو سے ہاتھ پونچھتی، گھر جانے کے لیے محفل چھوڑ کر باہر کی جانب چل دی۔ نبیل اس کے پیچھے تیز قدموں سے جانے لگا مگر اکبر خان جو اس کی چوکسی پر معمور تھا غیر محسوس انداز میں اس کی راہ میں آکھڑا ہوا۔
ض…ظ…ژ
’’بھائی صاحب آپ آفاق کے بارے میں جس طرح سے بھی چاہیں معلومات کروالیں۔‘‘ اسری نے بہزاد کی آنا کانی محسوس کرتے ہوئے بھانجے کی وکالت شروع کردی۔
’’وہ تو ٹھیک ہے بہن مگر…‘‘ بہزاد کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنے سامنے بیٹھی معزز خاتون کو کیسے انکار کریں۔
’’دیکھیں میرا بھانجا بہت ہی خوش اخلاق اور ملنسار ہونے کے ساتھ خوش شکل ہے، باقی خاندان کے بارے میں تو آپ کو پتا ہی ہوگا۔‘‘ وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولیں۔
’’نہیں… نہیں اسری بہن‘ آپ کو یہ سب بتانے کی ضرورت نہیں، ماشاء اللہ آفاق میاں کی تعریف کرنا گویا سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہوگی۔‘‘ ریحانہ نے گرما گرم کباب کی پلیٹ بڑھاتے ہوئے تصدیق کی مہر لگائی۔
’’شکریہ… ریحانہ بس اور نہیں لینا۔‘‘ اسری نے تکلف سے ٹشو سے ہونٹ پونچھتے ہوئے انکار میں سر ہلایا۔
’’آپ اور کباب لیں گے؟‘‘ ریحانہ بہانے سے شوہر کے قریب جاکر کھڑی ہوئیں۔
’’نہیں رہنے دیں۔‘‘ بہزاد عجیب شش و پنج میں مبتلا ہوگئے، اس دور میں اتنے اچھے رشتے سے انکار کرنا بے وقوفی کی علامت تھی مگر فائز۔
’’بہت ہی اچھا گھرانا ہے۔ ایک چھوٹی بہن ہے، مزید کوئی بکھیڑا نہیں، سفینہ تو عیش کرے گی۔‘‘ ریحانہ نے سرگوشی میں شوہر کو جتانا چاہا، جو کھوئے کھوئے سے بیٹھے تھے۔
’’اچھا بھائی تو پھر آپ کب تک جواب دیں گے۔‘‘ اسری جو آج منگنی کی تاریخ طے کرنے کے ارادے سے آئی تھیں، تھوڑا مایوس ہوکر پوچھا۔
’’میں اپنے بڑے بھائی اور بھابی سے مشورہ کرلوں اس کے بعد جواب دوں گا۔‘‘ بت بنے بہزاد خان میں حرکت پیدا ہوئی، انہوں نے اسری کی جانب دیکھ کر بہانہ بنایا۔
’’پتا نہیں سفینہ میں ایسی کیا بات ہے کہ وہ مجھے اتنی عزیز ہوگئی کہ مجھے لگا کہ میری مرحومہ بہن کی گدی سنبھالنے کی اہل یہ لڑکی ہی ہوگی۔‘‘ اسری نے ہنستے ہوئے کہا اور بیگ اٹھا کر جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’آپ کی عزت افزائی ہے بہن۔‘‘ بہزاد بھی ان کے خلوص کے قرض دار ہوگئے۔
’’بس آپ ایک بار ہاں کردیں تو میرے دل کو سکون ملے گا۔‘‘ اسری نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ایک بار پھر زور دیا۔
’’جی بہن… دعا کریں اللہ وہ کرے جو ہمارے بچوںکے حق میں بہتر ہو۔‘‘ بہزاد نے آسمان کی جانب دیکھ کر کہا۔ اسری نے اجازت طلب کی۔
بہزاد نے متانت سے سر ہلاکر انہیں رخصت کیا، ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھادی۔
’’بہزاد… آپ اللہ کی ناشکری کررہے ہیں۔‘‘ شوہر سے شکوہ کرتے ہوئے ریحانہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’ارے پگلی روکیوں رہی ہو۔‘‘ بہزاد نے ان کا کاندھا تھپتھپا کر تسلی دینا چاہی۔
’’ہاں تو کیا کروں لوگ بیٹیوں کے اچھے رشتوں کے لیے دعائیں مانگ مانگ کر تھک جاتے ہیں اور یہاں…‘‘ ان کا گلا خشک ہونے لگا تو لمحہ بھر کو خاموش ہوگئیں۔
’’یہ بات تو سچ ہے ریحانہ میں نے کبھی اس انداز سے سوچا نہیں تھا۔‘‘ بہزاد نے اعتراف کیا، وہ آفاق کے بارے میں سن کر کافی متاثر ہوئے تھے۔
’’میں تو اپنے مالک کا جتنا شکر ادا کروں اتنا ہی کم ہے۔‘‘ ریحانہ کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔
’’واقعی رشتہ تو بہت اچھا ہے، انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں نکل رہی ہے۔‘‘ انہوں نے بیوی کو دیکھ کر سر ہلایا۔
’’اسری بہن کہہ رہی تھیں کہ اگر آپ رضا مندی دیں تو پورے رسم و رواج سے رشتہ طے کریں گی۔‘‘ ریحانہ نے شوہر کو نرم پڑتا دیکھا تو جلدی سے بتایا۔
’’ہونہہ… ٹھیک ہے جلال بھائی سے بات کرنا پڑے گی۔‘‘ بہزاد خان نے دھیرے سے کہا تو ریحانہ فاتحانہ انداز میں مسکرا دیں۔
ض…ظ…ژ
ماں کا فون ریسیو کرتے ہوئے شکیل کو کوفت نے آگھیرا، دلشاد کی وہ ہی باتیں اور ویسے ہی تقاضے، وہ اپنی نئی دنیا میں سیٹ ہوچکا تھا، جس میں اماں کی گنجائش ہی نہیں نکل پارہی تھی۔
’’اماں کتنی بار پوچھوگی بتایا ناکہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ شکیل نے ماں کے پے درپے سوالات سے جان چھڑانا چاہی۔
’’بچے… کیا اب تیرے پاس ماں کے لیے دس منٹ بھی نہیں بچتے؟‘‘ دلشاد رونکھی ہوئیں۔
’’افوہو اماںجی… ناراض کیوں ہوتی ہیں، یہاں سب ٹھیک ہے۔‘‘ شکیل کو اپنے تلخ لہجے پر افسوس ہوا۔
’’وہ جادوگرنی کیسی ہے؟‘‘ اپنے مخصوص انداز میں بہو کا ذکر چھیڑا۔
’’ہاں آپ کی بہو بھی ٹھیک ہے بہت یاد کرتی ہے۔‘‘ شکیل نے جلدی سے تصیح کی۔
’’یہ بات تو میں اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ وہ مجھے کتنا یاد کرتی ہوگی۔‘‘ دلشاد نے ٹھٹھا مارا۔
’’اچھا باجی اور بھائی صاحب کا کیا حال ہے۔‘‘ شکیل نے فون کو دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا اور بات بدلی۔
’’ہوں… ہاں وہ سب ٹھیک ہیں۔‘‘ دلشاد نے پان کو کلے میں دباتے ہوئے بتایا۔
’’ان کی طرف جانا تو میرا سلام کہنا۔‘‘ شکیل نے اپنا فرض ادا کیا۔
’’اب جانے کی کیا ضرورت ہے وہ سب تو خود یہاں موجود ہیں، ابھی کہے دیتی ہوں۔‘‘ دلشاد کا لہجہ بڑا خوشگوار ہوا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ شکیل بھونچکا ہوا۔
’’آئے میں سائرہ کو اپنے گھر ہی لے آئی۔‘‘ ان کا اطمینان بیٹے کو جلا گیا۔
’’اچھا مگر ان کا سسرال والا گھر تو کافی بڑا ہے۔‘‘ شکیل نے پوچھا۔
’’ہاں مگر وہاں رہنے والوں کے دل بہت چھوٹے تھے، بچی کا جینا مشکل کردیا تھا بس اسی لیے۔‘‘ دلشاد نے اپنے تئیں بیٹے کی ہمدردی حاصل کرنا چاہی۔
’’پھر بھی باجی کو کم از کم اپنا گھر چھوڑ کر میکہ آباد نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘ شکیل نے خاصہ برا مانتے ہوئے جتایا۔
’’ہائے اللہ تجھے ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آئی خود جو گھر داماد بنا سالوں کے در پر پڑا ہوا ہے۔‘‘ دلشاد نے بیٹے کی طبیعت صاف کرنا چاہی۔
’’بہت شرم آتی ہے، اسی لیے فیصلہ کیا ہے کہ یہ گھر بیچ کر ان پیسوں سے یہاں کچھ کرلوں۔‘‘ شکیل کے ذہن نے جلدی سے ترکیب لڑائی۔
’’اچھا اور ماںکو سڑک پر بٹھادے گا۔‘‘ دلشاد کا طیش کے مارے برا حال ہوا۔
’’آپ باجی کے گھر شفٹ ہوجائیے گا۔‘‘ آسان سا حل پیش کردیا۔
’’کم بخت، کم ذات ناہنجار وہاں جاکر شرم بیچ کھائی…‘‘ وہ حلق کے بل چلائیں، شکیل کے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
’’کیا ہوگیا اماں۔‘‘ شکیل تھوڑا گھبرایا۔
’’آج تو یہ بات کہہ دی، آئندہ ایسا سوچا بھی تو گدی سے زبان کھینچ لوں گی۔‘‘ ان کا جلال کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
’’کیوں ابا کے اس مکان پر کیا میرا کوئی حق نہیں؟‘‘ شکیل نے احتجاج کیا۔
’’یہ گھر تمہارے باپ نے مرنے سے پہلے میرے نام کردیا تھا، کسی ٹرسٹ کے نام لکھ جائوں گی، تمہیں اس کی ایک اینٹ بھی نصیب نہ ہوگی آئی سمجھ۔‘‘ دلشاد کی دھمکی پر شکیل نے گھبرا کر لائن ہی کاٹ دی۔
ض…ظ…ژ
وہ سفینہ کے خیالوں میں گم، اکیلے میں بیٹھا مسکرا رہا تھا، اس نے جب سے اسری خالہ کو شادی کے لیے ہاں بولی تھی، اس کی تنہائی سفینہ کی یادوں سے آباد ہوگئی تھی۔ دل جیسے اطمینان سے بھر گیا تھا، جانے کیوں اسے یقین تھا کہ سفینہ روشنی کو سنبھال لے گی۔ دروازے پر ہونے والی دستک نے اسے چونکایا۔
’’بھائی میں آجائوں؟‘‘ روشنی نے سر نکال کر پوچھا۔
’’آئو نا روشنی… رک کیوں گئی؟‘‘ آفاق شاہ نے چونکتے ہوئے خیر مقدمی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
’’بھائی آپ کیسے ہیں؟‘‘ روشنی کے سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ اپنی بات کیسے شروع کرے تو حال احوال پوچھنے بیٹھ گئی۔
’’میں تو ٹھیک ہوں تم سنائو کہاں تھیں۔‘‘ انہوں نے بہن کو اپنے برابر میں بیٹھنے کی جگہ دی اور محبت سے سوال کیا۔
’’میں تو یہیں ہوں مگر آپ خیالوں کی دنیا میں کہیں دور پہنچے رہتے ہیں۔‘‘ روشنی نے دبی دبی چوٹ کی۔
’’ایسا تو نہیں ہے بیٹا۔‘‘ وہ سنبھل کر بولتا ہوا اسے دیکھنے لگا۔
’’بھائی میری دنیا میں تو اب آپ کے علاوہ کوئی نہیں مگر…‘‘ روشنی گہری سنجیدگی سے کہتے کہتے رکی۔
’’مگر کیا؟‘‘ آفاق چونکا۔
’’کچھ نہیں چھوڑیں میں نے کچھ بولا تو خالہ ناراض ہوں گی۔‘‘ روشنی ہونٹ لٹکا کر بولی۔
’’او… لگتا ہے کہ خالہ نے پھر کلاس لگائی ہے۔‘‘ وہ نارمل ہوتے ہوئے ہنسا۔
’’ہاں سب مجھے ڈانٹتے ہیں کیوں کہ اب کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا۔‘‘ روشنی نے نمناک آنکھوں سے بھائی کو دیکھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ویسے بھی میری جان بھی تو میری پیاری بہنا میں اٹکی ہے۔‘‘ آفاق نے اسے اپنے بانہوں کے گھیرے میں لیتے ہوئے، نرمی سے ماتھا چوم لیا۔
’’آئندہ ایسا نہیں ہونے والا۔‘‘ وہ ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگئی۔
’’تم ایسی الٹی سیدھی باتیں کیوں سوچتی رہتی ہو ہاں۔‘‘ آفاق کو اس پر ترس آیا، اسے سمجھانے لگا۔
’’کیا کروں جو کچھ ہونے جارہا ہے، اس کا خوف مجھے پریشان رکھتا ہے۔‘‘ وہ دکھی لہجہ بناکر بولی۔
’’کیا… کیا ہونے جارہا ہے؟‘‘ آفاق شاہ نے نہ سمجھ میں آنے والی نگاہوں سے بہن کو دیکھا۔
’’تم دونوں یہاں چھپے بیٹھے ہو ہاں۔‘‘ اسی وقت اسری نے چھاپہ مارا بڑے خوش گوار انداز میں بولتے ہوئے روشنی کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھا۔
’’ہاں خالہ آئیے نا۔‘‘ آفاق انہیں منتظر نگاہوں سے دیکھتا ہوا، اٹھ کھڑا ہوا، جانتا تھا کہ وہ سفینہ کے گھر سے آئی ہیں۔ اسری اسے وہاں کی تفصیلات بتانے لگی، روشنی نے دکھی ہوکر ان دونوں کو باتوں میں مگن دیکھا اور چپ چاپ کمرے سے نکل گئی۔ ایک دم آفاق کو بہن کی غیر حاضری کا احساس ہوا، ایک پھانس سی اس کے دل میں گڑ گئی۔
ض…ظ…ژ
’’دنیا میں سب کچھ ممکن ہے۔‘‘ شرمیلا نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر اپنا پرس پھینک کر سوچا۔
’’اگر نبیل نے مجھے سچ مچ دھوکا دیا تو کیا میں سہہ پائوں گی۔‘‘ آئینے کے سامنے اپنا میک اپ اتارتے ہوئے کھو گئی۔
’’شاید مشکل ہوگا یا شاید آساں۔‘‘ کلینزنگ ملک ہتھیلی پر نکالتے ہوئے اندر سے متضاد جواب آیا۔
’’جب میں اسے چھوڑ سکتی ہوں تو پھر کسی اور کی کیا حیثیت۔‘‘ بہت دنوں بعد اسے احساس ہوا کہ اس کی زندگی میں جو مقام فائز کا ہے، کسی دوسرے کا نہیں۔
’’اور لوگ بھی تو زندہ رہتے ہیں دھوکے کھاتے ہیں اور ازسر نو زندگی کی شروعات کرتے ہیں۔‘‘ شرمیلا نے چہرے کا مساج کرتے ہوئے خود کو تسلی دی۔
’’مگر میں جانتی ہوں زندہ رہنے اور جینے میں کتنا بڑا فرق ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ ڈھلک کر گال پر پھسلا۔
’’فائز کے بناء میں جی نہیں رہی بس زندہ ہوں۔‘‘ وہ ایک دم ہچکیوں سے روتی چلی گئی۔
’’شاید نبیل کی ذات میں چھپ کر جینے کی کوشش کررہی ہوں۔‘‘ شرمیلا نے بڑی مشکل سے یہ اعتراف کیا اور سسکاری بھری۔
’’اور میں کبھی بھی فائز کو اس بات کی خبر نہیں ہونے دوں گی کہ وہ نہیں تو کوئی دوسرا نہیں۔‘‘ اس نے ٹشو سے چہرہ پونچھتے ہوئے اپنے دل کو ایک بار پھر سخت کرلیا۔
’’فائز… تم کیا سمجھتے ہو۔ اگر تم میرا ساتھ نہیں دو گے، تو کیا میری دنیا ختم ہوجائے گی؟‘‘ شرمیلا نے سرگوشی کی۔
’’نہیں بالکل نہیں بہت سے اور بھی ہیں جو میری چاہت کا دم بھرتے ہیں۔‘‘ اس نے یوں تفاخر سے جتایا جیسے فائز اس کے مقابل آکھڑا ہو۔
ض…ظ…ژ
’’فائز… فائز…‘‘ وہ آفس سے واپس آکر بستر پر آرام کے لیے لیٹا ہی تھا کہ اچانک سائرہ نے دروازے پر کھڑے ہوکر بیٹے کو پکارا اور پھر اندر داخل ہوگئیں۔
’’کیا ہوا ممی… سب خیریت تو ہے؟‘‘ وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور مسکرا کر ماںکا استقبال کیا۔
’’ہاں بس ایک پھانس سی دل میں گڑی جارہی تھی، سوچا تم سے بات کرکے اسے نکال پھینکوں۔‘‘ سائرہ نے بیڈ کے سامنے بچھی کرسی پر بیٹھنے کے بعد کہا۔
’’ایسی کیا بات ہوگئی؟‘‘ وہ چونکا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ ریحانہ جیسی گھمنڈی عورت کے پاس جاکر کیسے سفینہ کا ہاتھ دوبارہ مانگوں؟‘‘ ان کے منہ سے الفاظ پھسل پھسل گئے۔
’’ممی… اس میں کون سی بڑی بات ہے۔ وہ کوئی غیر تھوڑی ہیں۔‘‘ فائز کا دل خوشی سے اچھل پڑا، مگر سنجیدہ شکل بنا کر کہا۔
’’اگر بات صرف میری ہوتی تو میں پروا بھی نہیں کرتی۔ لیکن…‘‘ وہ بولتے بولتے تھم گئیں۔
’’لیکن کیا؟‘‘ فائز نے بے چینی سے پوچھا۔
’’اگر ریحانہ نے انکار کردیا تو جلال کی طبیعت پر برا اثر پڑے گا۔‘‘ سائرہ نے تھکے تھکے لہجے میں بیٹے سے کہا۔
’’آپ اتنی منفی باتیں کیوں سوچ رہی ہیں۔‘‘ فائز ماں کے اندیشوں پر جزبز ہوا۔
’’کیا کروں تمہارے ددھیال والوں کی طرف سے ہمیشہ برا ہی ملا ہے تو پھر اچھا کیسے سوچوں؟‘‘ سائرہ بیگم نے مظلوم بننے کی ناکام کوشش کی۔
’’ممی پلیز اگر ہم ماضی سے نہیں نکلیں گے تو مستقبل کے بارے میں کیسے سوچیں گے۔‘‘ وہ ماں کا ہاتھ سہلاتے ہوئے سمجھانے لگا۔
’’ویسے تمہیں کیا لگتا ہے ریحانہ مان جائے گی؟‘‘ انہوں نے بیٹے کی جانب دیکھ کر رائے طلب کی۔
’’میں کیا کہہ سکتا ہوں مگر یہ پتا ہے کہ ابھی جو رشتہ آیا ہوا ہے اس پر بہزاد چاچا اور چاچی میں ٹھنی ہوئی ہے۔‘‘ اس کے منہ سے غلط فقرے نکل گئے۔
’’اچھا ان باتوں کی تمہیں کیسے خبر ہوئی؟‘‘ سائرہ نے بیٹے کو بغور گھورا وہ گھبرا گیا۔
’’وہ بس اتفاق سے میں اس دن ان کی طرف گیا ہوا تھا، جب وہ دونوں اس معاملے پر بحث کررہے تھے۔‘‘ فائز نے جلدی سے بہانہ گھڑا۔
’’اوہ میں سمجھی کہ تم اور سفینہ… خیر۔‘‘ سائرہ نے شک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بات ہونٹوں تلے دبالی۔
’’ممی… آپ نے پھر شک کرنا شروع کردیا نا۔‘‘ فائز نے غصہ دکھایا۔
’’نہیں بیٹا میں تو اس لیے پوچھ رہی تھی کہ اگر تم سفینہ سے بات چیت کرتے ہوگے تو ان کے اندر کی بات اگلوا لو گے۔‘‘ سائرہ نے جلدی سے بات بنائی۔
’’اب میں آپ کو کیسے بتائوں کہ سفینہ میرے علاوہ کسی اور سے شادی کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔‘‘ فائز دل میں سوچتے ہوئے مسکرا دیا۔
’’تو پھر کب چلیں؟‘‘ بیٹے کو کھویا کھویا پاکر، سائرہ کا انداز سوالیہ ہوا۔
’’آں… ایک دو دن میں چلتے ہیں۔‘‘ فائز نے گڑبڑا کر جواب دیا۔
’’چلو ٹھیک ہے۔‘‘ سائرہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ممی کو لے جانے سے پہلے سفی سے بات کرنا ضروری ہے۔ خان ہائوس۔ تک جانے کی راہ ہموار کرنے لیے اس کا تعاون ضروری ہے۔‘‘ وہ دل میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔
’’میں چلتی ہوں‘ اب تم آرام کرو۔‘‘ سائرہ نے بیٹے کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور باہر نکل گئیں۔
’’اوکے ممی۔‘‘ فائز نے منہ پر تکیہ رکھا اور سفینہ کے سپنوں میں کھو گیا۔
ض…ظ…ژ
نبیل دو دفعہ اس کے کالج کے باہر آیا مگر شرمیلا نے اسے بالکل لفٹ نہیں کرائی۔ وہ اس دن سے نبیل سے کترا رہی تھی، اس لیے جب اس کے چلے جانے کا یقین ہوتا، اس کے بعد ہی کالج سے باہر نکلتی، مگر اس دن چوک ہوگئی، وہ چھٹی کے بعد تیز قدموں سے بس اسٹاپ کی طرف چلی جارہی تھی مگر نبیل نے اچانک کونے سے نکل کر استحقاق سے اس کا بازو تھام لیا۔
’’ہائے اللہ…….‘‘ اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔
’’شرمیلا گھبرائو نہیں یہ میں ہوں۔‘‘ نبیل نے مسکرا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’کیا بات ہے۔‘‘ وہ ایک دم سٹپٹائی۔
’’تم سے ملنا تھا۔ بس اس لیے چلا آیا۔‘‘ بڑے پیار سے بولا، اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ اس نے طنز فرمایا۔
’’ہاں کیوں؟‘‘ وہ دلکشی سے مسکرایا۔
’’بس۔‘‘ اس نے نروٹھے پن سے آگے کی جانب قدم بڑھائے۔
’’یار ایک بات تو بتائو تم مجھے اتنا اگنور کیوں کررہی ہو؟‘‘ نبیل نے اس کے برابر چلتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’تمہیں کیوں اگنور کروں گی؟‘‘ وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
’’اس بات کا جواب تو تمہارے پاس ہے۔‘‘ نبیل نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا۔
’’مجھے بھلا کیا پتا۔‘‘ شرمیلا نے مذاق اڑاتے ہوئے نبیل کو بغور دیکھا، کچھ تو ہوا تھا، وہ وہ نہیں تھا۔
’’اچھا یار معاف کردو۔‘‘ وہ خاصہ تھکا تھکا سا لگا۔
’’کس لیے… تم نے ایسا کیا‘ کیا ہے؟‘‘ وہ پھر انجان بنی۔
’’اس دن شادی میں تمہیں دیکھ کر انجان بن گیا بعد میں خود کو بہت کوسا۔‘‘ سچائی سے اعتراف کیا۔ شرمیلا کچھ کہے بناء اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
’’تمہیں پتا نہیں کہ میں کن اذیتوں سے دوچار ہوں۔‘‘ نبیل کی بڑھی ہوئی شیو، ملجگہ لباس اس کی حالت کی ترجمانی کررہا تھا۔ ’’کاش تم مجھے سمجھ لو۔‘‘ وہ مڑتے ہوئے دکھی انداز میں بولا اور تیز قدموں سے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
شرمیلا حیرت زدہ سی منہ کھولے اسے جاتا دیکھتی رہی، سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک نبیل کا رویہ اتنا چینج کیسے ہوجاتا ہے۔
ض…ظ…ژ
علی مراد کو شروع سے تعلیم سے کچھ خاص رغبت نہ تھی، ان کا شوق عملی سیاست میں حصہ لینے اور اپنے باغات کی پیدوار بڑھانے سے منسلک تھا مگر نبیل کی ضد پر اسے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر کی یونیورسٹی بھیجنا پڑا۔ بیٹے کے جانے سے حویلی کی تمام رونقیں ماند پڑگئیں تو وہ ہر دوسرے دن کال کرکے اسے بلانے لگے مگر آہستہ آہستہ اس کے بناء رہنے کی عادت ڈال لی۔ نبیل شروع سے بہت ذہین تھا، اس نے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کا اندازہ لگایا اور شہر میں بھی باپ کے کاروبار کو وسعت دینے کا پکا ارادہ کرلیا۔ اسی کوشش میں وہ اپنی تمام توانائیاں صرف کرنے لگا۔ نبیل نے نہ دن کو دن سمجھا نہ رات کو رات ہر وقت بس کاروباری دائو پیچ میں اُلجھا رہتا۔ شروع میں تو کچھ اچھا رسپانس نہ ملا مگر پھر اس کی محنت کا صلہ ملنے لگا، علی مراد بھی خوش ہوگئے جب بیٹے نے گائوں کے مقابلے میں شہر سے دگنا منافع کما کردیا۔ علی مراد کی بھی آنکھیں پھٹ پڑیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ پیسے کی ہوس بھی بڑھنے لگی، ویسے بھی لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اس لیے بینک بیلنس کے بڑھتے ہوئے ہندسے ان کے لیے باعث طمانیت تھے۔ نبیل نے بھی باپ کی توقع سے بڑھ کر شہر میں اپنا نام کمایا وہ بہت جلد ترقی اور کامیابی کی منزلیں طے کرتے ہوئے عزت کی بلندیوں تک پہنچ گیا۔ باپ ان پڑھ تھا، پرانے انداز میں کاروباری معالات کو چلانا چاہتا مگر تعلیم کی پالش اور نبیل کی وجاہت کے ساتھ ساتھ بات کرنے کے انداز سے سامنے والا مرعوب ہوجاتا۔ کچھ قسمت بھی اس کا ساتھ دینے پر تل گئی، مٹی میں بھی ہاتھ ڈالتا تو سونا بن جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مختلف، جیم، جوسز اور سافٹ ڈرنک کی کمپنیوں نے ان سے پھلوں کی خریداری کا معاہدہ کرلیا۔ علی مراد کے پھلوں کے باغات اور فارم ہائوس کا سلسلہ شہر سے گائوں تک وسیع ہوتا چلا گیا سکینہ بیٹے کو پھلتا پھولتا دیکھ کر خوش ہوتیں اور علی مراد اپنی نوکیلی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے فخریہ انداز میں گائوں کے چوپال میں سب سے نبیل کی فرماں برداری کی قصیدہ گوئی میں مصروف ہوجاتے۔
سکینہ کے دل میںاب بیٹے کا گھر بسانے کی آرزو مچلنے لگی، شوہر کی توجہ اس طرف دلائی، علی مراد نبیل کی شادی اپنے سے بڑے زمیندار گھرانے میں کرنے کے خواہاں تھے، مگر وہ کسی بھی طرح راضی نہیں ہورہا تھا، اس بات پر انہیں پچھتاوا ہوا کہ اس اتھرے گھوڑے کو اتنی ڈھیل ہی کیوں دی کہ وہ ان کو ہی ہاتھ دھرنے نہیں دے رہا۔ اگر کم عمری میں ہی نبیل کی پکڑ کر شادی کردیتے تو آج یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے۔
نبیل بھی کیا کرتا، شہر میں اکیلا تھا اس پر دولت کی ریل پیل، کاروباری تھکا دینے والی روٹین سے اکتا جاتا تو صنف نازک سے دوستی کا مشغلہ اپنالیا۔ اکبر نے علی مراد کو بروقت چھوٹے صاحب کی رنگین آنچلوں کے سائے تلے وقت گزارنے کی تمام سرگرمیوںسے آگاہ کردیا، مگر علی مراد نے اس بات کو اتنی اہمیت نہ دی۔ ایسی باتیں تو ان کے خاندان کے مردوں کا شیوہ رہی ہیں۔ جب تک معاملہ دل لگی تک محدود رہا، علی مراد نے صرف نظر سے کام لیا، مگر جیسے ہی بات دل کی لگی تک جا پہنچی، ان کے کان کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے نبیل کو بلا کر سرزنش کرنا چاہی مگر زندگی میں پہلی بار وہ باپ کے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا، علی مراد نے بظاہر پسپائی اختیار کی مگر پیچھا نہیں چھوڑا۔ اکبر خان کو ہر وقت بیٹے کے ساتھ چپکے رہنے کی تاکید کرنے کے بعد اس کی شادی کے اسباب کرنے میں جت گئے۔
ض…ظ…ژ
’’لڑکی غور سے سنو۔‘‘ فائز نے سفینہ کے کال ریسیور کرنے کے بعد چھوٹتے ہی کہا۔
’’جی جناب… سن رہی ہوں۔‘‘ اس نے موبائل کانوں سے چپکا لیا۔
’’میں نے اپنے حصے کا کام بڑی سمجھداری سے انجام دے دیا ہے۔‘‘ وہ اترا کر بولا۔
’’کون سا کام؟‘‘ سفی نے حیرت سے پوچھا۔
’’بھئی ممی چاچی سے بات کرنے کو تیار ہیں۔‘‘ اس نے اپنے تئیں، بڑی خبر سنائی۔
’’کون سی بات۔‘‘ اب کی بار تجاہل عارفانہ سے کام لیا گیا۔
’’یہ ہی کہ بیگن کی بھجیا کیسے پکائی جاتی ہے۔‘‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’کیا… یہ ہم دونوں کی شادی کی بات کے بیچ میں بیگن جیسی غیر شاعرانہ سبزی کہاں سے آگئی؟‘‘ وہ جل کر بولی۔
’’ہا… ہا… ہا… پکڑی گئی نا۔‘‘ فائز نے زرو دار انداز میں قہقہہ لگایا۔
’’توبہ…‘‘ وہ جھینپ اٹھی اور کان چھوئے۔ دونوں کے بیچ خاموشی در آئی۔
’’میں ایک دو دن میں ممی کو لانا چاہ رہا ہوں۔‘‘ فائز نے خوش خبری سنادی۔
’’سچ تائی اماں راضی ہوگئیں؟‘‘ اس کا لہجہ مسرت سے بھرگیا۔
’’بڑے پاپڑ بیلے ہیں تب کہیں جاکر یہ مشکل کام سر انجام ہوا ہے۔‘‘ وہ شرارتی لہجہ میں اپنی اہمیت بڑھانے لگا۔
’’اچھا تو جناب کو پاپڑ بیلنے بھی آتے ہیں۔‘‘ سفینہ نے سیل فون کو یوں گھورا جیسے سامنے فائز کھڑا ہو۔
’’ایک بار شادی ہوجانے دو سارے جوہر کھل کر سامنے آجائیں گے۔‘‘ فائز کی شوخیوں پر اس کا دل مسکرا اٹھا۔
’’چلیں تو پھر مجھے بڑی آسانی رہے گی۔‘‘ وہ بھی شرارت پر آمادہ تھی، مگر وہ سنجیدہ ہوگیا۔
’’سفی جان بڑی مشکلوں سے مرحلہ یہاں تک پہنچا ہے۔ اب آگے تم کو ہی ہمت کرنی ہے۔‘‘ اس کے لہجے کا مان، سفینہ کو اپنی قسمت پر رشک آیا۔
’’ہونہنہ ویسے تائی اماں نے کہا کیا؟‘‘ سفینہ کو تجس نے گھیرا، وہ سڑ گیا‘ اس کے سوال جواب کبھی کبھی برے لگتے تھے۔
ض…ظ…ژ
شرمیلا سے معذرت کے بعد بھی نبیل کافی دنوں تک اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، اسے مہنگی سی مہنگی شاپنگ کرائی بہت اعلی جگہ پر لنچ کے لیے زبردستی لے گیا اور آخر وہ ہار گئی ایک بار پھر اس پر اعتماد ہونے لگا، نبیل کی محبت کا یقین کرکے سپنے دیکھنے لگی، مگر اس کا دل ڈرتا تھا کہ ہمیشہ کی طرح، پھر کوئی ایسی بات نہ ہوجائے کہ وہ واپس اسی جگہ پر لوٹ جائے جہاں سے چلی تھی۔ سانپ سیڑھی کہ اس کھیل نے اس کے اندر کے اعتماد اور یقین کو ڈس لیا تھا۔ وہ نبیل کی باتوں کو سن کر مسکراتی رہتی مگر اندر سے ڈرتی کہ جانے وہ کس مقام پر ساتھ چھوڑ جائے۔ ویسے بھی صائمہ نے آج کل کال کرکے اسے مزید پاگل بنایا ہوا تھا۔ اس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ نبیل سے ہر تعلق توڑ لو دوسری جانب نبیل بھی اسے صائمہ سے دور رہنے کے مشورے دے رہا تھا۔ شرمیلا سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کس کا اعتبار کرے اور کس کو جھوٹا سمجھے۔
ض…ظ…ژ
’’ممی نے کہا کہ فائز بیٹا سفینہ سے پوچھو کہ کیا وہ، اپنی ماں کو مناسکتی ہے؟‘‘ اس نے ہونٹ چبا کر اپنی طرف سے بات گھڑی۔
’’ہائیں کیا مطلب؟‘‘ ایک اور سوال آیا۔
’’مطلب ممی کو ڈر ہے کہ کہیں چاچی انکار نہ کردیں۔‘‘ اس نے سمجھایا۔
’’یہ تو ہے۔‘‘ سفینہ کے لہجے میں اداسی چھا گئی۔
’’ویسے ممی کو یقین ہے کہ تم اپنی محبت کے لیے سب سے ٹکر لے سکتی ہو۔‘‘ ایک اور جھوٹ گھڑا۔
’’کیا سچ؟‘‘ سفینہ نے دھڑکتے دل پر قابو پاتے ہوئے تصدیق چاہی۔
’’نہیں جھوٹ۔‘‘ وہ پھر کھکھلایا تو سفینہ کنفیوز ہوگئی۔
’’ویسے ممی یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ اگر وہاں سے انکار ہوا تو سفینہ کو تمہارے جیسا دوسرا کوئی ہینڈسم، اسمارٹ اور ڈیشنگ لڑکا نہیں مل سکے گا۔‘‘ فائز نے اپنی بڑائیاں مارنی شروع کی تو وہ اس کے مذاق کو سمجھ گئی۔
’’آپ کو بھی ایک اطلاع دینی تھی۔‘‘ سفینہ نے بھی پینترا بدلا۔
’’ہاں… ہاں ضرور۔‘‘ فائز نے سیل فون دوسرے کان سے لگایا۔
’’وہ جو شہر کے مشہور امیر کبیر گھرانے سے میرا رشتہ آیا ہوا ہے نا وہ لوگ فوری شادی پر زور دے رہے ہیں۔‘‘ سفینہ نے مصنوعی اُداسی طاری کرتے ہوئے خبر سنائی۔ فائز ایک دم خاموش ہوگیا، یوں لگا جیسے بولنے کے لیے اس کے پاس کچھ بچاہی نہ ہو۔
ض…ظ…ژ
’’دنیا میں سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘ بتول کی آنکھیں نم ناک ہوئیں، ذہن میں بار بار ان باتوں کی بازگشت ہورہی تھی۔
’’کسی کو کسی کی پروا نہیں ہوتی بس دولت کی ہوس، پیسے کے پجاری۔‘‘ انہیں پہلی بار اپنی غربت پر افسوس ہوا، ہونٹ بھنچ کر سسکاری روکی۔
’’امی…!‘‘ شرمیلا کی آواز نے اُن کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ ایک دم چونک کر بیٹی کو گھورتی چلی گئیں، جو ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوئی۔ نبیل نے کچھ خاص بات کرنے کے لیے بڑی منتوں کے بعد اسے ملنے کے لیے بلایا تھا۔ شرمیلا نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے ملنے کو تیار ہوگئی۔
’’کیا ہوا بیٹا؟‘‘ شرمیلا کو خیالوں میں کھویا دیکھ کر بتول نے شیریں لہجے میں پکارا۔
’’مجھے ذرا ایک سہیلی سے ملنے جانا ہے۔‘‘ شرمیلا نے لب کاٹتے ہوئے اجازت مانگی۔ وہ سبز لباس میں آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی۔
’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘ خلاف توقع بتول نے بیٹی کو مسکراہٹ سے نوازا، کوئی باز پرس نہ کی۔
’’اچھا ایک اور بات کہنی تھی۔‘‘ شرمیلا نے جھجکتے ہوئے ماں کو دیکھا۔
’’ہاں کہو۔‘‘ بتول کے لہجے میں جانے کہاں سے اتنا سکون اتر آیا، حالاں کہ اندر سے وہ بہت بے سکون تھیں۔
’’وہ مجھے تھوڑی دیر ہوسکتی ہے۔‘‘ اس نے دبی دبی آواز میں اطلاع فراہم کی۔
’’چلو کوئی بات نہیں۔‘‘ بتول نے سر ہلا کر جواب دیا اور تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئیں۔
’’اچھا تو پھر میں چلتی ہوں۔‘‘ شرمیلا پہلے تو ششدر سے ماں کو دیکھتی رہی جو منہ موڑے لیٹی ہوئی تھی، پھر ہمت کرکے بولی۔ ابھی وہ دروزے کی جانب بڑھی تھی کہ، مڑ کر ماں کو دوبارہ دیکھا، بتول کا رویہ اسے الجھا رہا تھا۔
’’بیٹا ایک بات سننا۔‘‘ بتول نے جانے کیوں بیٹی کو پکارا۔
’’جی امی کیا ہوا؟‘‘ وہ جو کمرے کے دروازے سے نکلنے والی تھی، واپس پلٹ کر الجھی الجھی سی ماں کے قریب آکر کھڑی ہوگئی۔
’’اپنے دوست سے پوچھنا کہ وہ تم سے شادی بھی کرے گا یا ایسے ہی پورا شہر گھماتا پھرے گا۔‘‘ بتول نے نرمی سے کہا اور دوبارہ لیٹ گئی، شرمیلا نے نظریں اُٹھا کر سامنے لیٹی ماں کو دیکھا، جن کے جواب نے اُسے پتھر کا کردیا تھا۔
ض…ظ…ژ
’’ہیلو… ہیلو آپ سن رہے ہیں نا؟‘‘ سفینہ نے کچھ دیر بعد زور زور سے پکارنا شروع کردیا، افسوس ہوا کہ ایسی دل دکھانے والی بات کیوں کی۔
’’ٹھیک ہے پھر تو تم اسی امیر زادے سے شادی کرلو مجھ جیسا غریب تمہیں کیا دے سکتا ہے۔‘‘ فائز کا لہجہ خشک سا ہوا۔
’’اللہ نہ کرے۔ اگر ایسا ہوا تو میری جان ہی نکل جائے گی۔‘‘ فون اس کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا، تیزی سے بولی۔
’’اس دور میں کون کسی کے لیے مرتا ہے؟‘‘ وہ ایک دم اجنبی بن گیا، مذاق سفینہ کو مہنگا پڑگیا تھا۔
’’میری چاہت تو ایسی ہے کہ آپ کے بغیر سانس لینے کا تصور بھی مشکل ہوتا ہے اور آپ کو یقین ہی نہیں۔‘‘ سفینہ روتے ہوئے بولی۔ ’’میں تو مر کر بھی دکھا سکتی ہوں۔‘‘ وہ روتے ہوئے ہلکان ہونے لگی تو فائز کے دل کو کچھ ہوا۔
’’سفی دیکھو چپ ہوجائو‘ مت روئو۔‘‘ وہ ایک دم پریشان ہوگیا، اتنی دور سے اسے کیسے چپ کرائے۔
’’آپ بہت خراب ہیں میرے ساتھ ہمیشہ ہی ایسا کرتے ہیں۔‘‘ سفینہ کو جانے کون کون سی باتیں یاد آنے لگیں، شکوہ کیا۔
’’سفی جان۔‘‘ اس نے منانے کے لیے نرمی سے پکارا۔
’’نہیں آپ کو مجھے دکھ دینا اچھا لگتا ہے نا؟‘‘ اس نے الٹا سوال کیا۔
’’اچھا بابا سوری تم جانتی ہو کہ مجھے ہر بات برداشت ہے سوائے تمہارے رونے کے۔‘‘ وہ پیار سے بولا۔
’’جائیں میں بات نہیں کرتی۔‘‘ سفینہ کے منہ سے سسکی نکلی۔
’’پلیز… جاناں میری خاطر۔ چپ ہوجائو نا۔‘‘ فائز کا بس نہیں چل رہا تھا، اڑ کر آئے اور اس کے آنسو اپنی پوروں سے چن لے۔
’’اچھا تو پھر آئندہ کبھی ایسی بات کریں گے؟‘‘ سفینہ کا دھمکاتا لہجہ اسے ہمیشہ بہت بھاتا تھا، مسکراہٹ دبیز لبوں کو چھو گئی۔
’’نہیں میری جان… کبھی نہیں۔‘‘ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
’’اپنی بات پر قائم رہیے گا۔‘‘ سفینہ نے بھی موقع سے پورا فائدہ اٹھایا۔
’’اوکے… جیسا تمہارا حکم مگر اب تم بالکل بھی نہیں رونا۔‘‘ فائز نے اقرار کیا اور بات ختم کرنا چاہی۔
’’ڈر گئے نا۔‘‘ وہ شرارتی ہوکر ہنس پڑی۔
’’ہاں ڈر گیا… واقعی میں ڈر گیا کیوں میں اپنی محبت کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘ فائز نے اطمینان سے اعتراف کیا تو سفینہ کے ارد گرد پھول سے کھل اٹھے۔
ض…ظ…ژ
کبھی پیار کے جھگڑے
کبھی محبت کی باتیں
وہ ہی آپ ہی کے قصے
وہ ہی آپ ہی کی باتیں
وہ ملا ہے مجھ کو اکثر
سر راہ چلتے چلتے
وہ ہی اجنبی نگاہیں،وہ ہی بے رخی کی باتیں
نا سمجھ سکا جہاں میںکوئی میرا درد پنہاں
میرے غم کو لوگ سمجھے میری شاعری کی باتیں
کوئی ہم کو یہ بتائے ،یہ جنون نہیں تو کیا ہے؟
ملیں جب بھی ہم کسی سے کریں آپ ہی کی باتیں
میرے حال پہ وہ یوں ہی کچھ ایسے مسکرائے
میں سنارہا ہوں جیسے کسی اجنبی کی باتیں
نبیل نے گنگناتے لہجے میں‘ محبت سے بوجھل ہوتی آواز میں شرمیلا کو منانا چاہا۔
’’بس بہت ہوگئیں لفاظیاں اب کچھ عمل بھی ہوجائے۔‘‘ وہ تڑخ کر بولی اور روٹھی روٹھی سی منہ پھلائے اس کے سامنے سے اٹھ کر جانے لگی۔
’’ارے بھئی… سنو تو۔‘‘ وہ پھرتی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور زبردستی اسے واپس کرسی پر بٹھایا، وہ دونوں ایک کافی شاپ میں آئے ہوئے تھے۔
’’تم میرے ساتھ ہمیشہ ایسا کیوں کرتے ہو؟‘‘ وہ ناراضی سے بولی، ویسے بھی ماں کے سوال نے اسے دکھی کردیا تھا، سارا غصہ نبیل پر اترا۔
’’اُف لڑکی سمجھنے کی کوشش کرو۔ کچھ مصروف تھا۔‘‘ نبیل نے سر کھجاتے ہوئے بہانہ بنایا۔
’’ہاں تو مصروف رہیں میں نے کب منع کیا۔‘‘ اس کا نروٹھا پن انتہائوں تک جا پہنچا۔
’’شرمیلا… دیکھو اتنے حسین لمحات کو روٹھنے منانے میں ضائع نہ کرو۔‘‘ نبیل کو اس کے غصے پر پیار آنے لگا۔
’’آپ کو کچھ اندازہ بھی ہے کہ مجھے اس طرح کے سلوک سے کتنی کوفت ہوتی ہے۔‘‘ شرمیلا نے جھک کر میز کی شفاف سطح پر انگلی پھیرتے ہوئے جتایا۔
’’اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ تھوڑا برا مان کر بولا۔
’’ہاں تو کیسی بات ہے؟‘‘ شرمیلا نے ترچھی نگاہوں سے دیکھا۔
’’تم اگر جان جائو کہ میری زندگی میں تمہاری کیا حیثیت ہے تو زمین پر قدم نہ رکھو۔‘‘ نبیل نے کپ میں کافی انڈیل کر شرمیلا کو تھماتے ہوئے پیار سے کہا۔
’’اچھا تو آج یہ بتا ہی دیں کہ میری آپ کی زندگی میں کیا اہمیت ہے۔‘‘ شرمیلا نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کر ہی ڈالا۔
’’ظالماں یہ کیا پوچھ ڈالا۔‘‘ نبیل سڑک چھاپ عاشقوں کی طرح سینے پر ہاتھ رکھ کر گنگنایا۔ اس کے انداز پر شرمیلا کو ہنسی روکنا مشکل ہوگئی۔
’’آپ بھی حد کرتے ہیں۔‘‘ اس کا کھنکتا ہوا قہقہہ اور مسکراتا لہجہ، نبیل کے اندر تک سکون اترتا چلا گیا، آخر وہ ایک بار پھر اس سر پھری لڑکی کو منانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ مگر یہ بات اس کی خام خیالی تھی، اسے پتا ہی نہیں تھا کہ شرمیلا کے دل میں کس قسم کے طوفان جنم لے چکے ہیں۔
ض…ظ…ژ
سورج اپنی نرم کرنوں کو سمیٹ کر چھپنے کی تیاری کرنے لگا، جلال خان صحن کی چارپائی پر دراز چھوٹے بھائی اور اس کی فیملی کے بارے میں سوچنے لگے۔
’’بہزاد نے کافی دن سے چکر نہیں لگایا۔‘‘ وہ نیم کے گھنے درخت پر نظریں جمائے سوچ میں گم تھے۔ اچانک انہیں قدموں کی چاپ سنائی دی مڑ کر دیکھا سائرہ ہاتھ میں سبزی کی ٹوکری تھامے ان کی طرف چلی آئیں۔
’’کیا ہوا سب خیریت تو ہے؟‘‘ شوہر کی اتری صورت دیکھ کر انہوں نے ٹوکری چارپائی پر رکھ کر فکرمندی سے پوچھا۔
’’اتنا بڑا ستم ڈھانے کے بعد مجھ سے یہ سوال پوچھتی ہو۔‘‘ سائرہ جلال خان نے لرزتی آواز میں طنز کیا۔
’’میں نے تو اچھا ہی سوچا تھا مگر آپ تو…‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے چپ ہوگئیں۔
’’آہ…‘‘ جلال خان صورت سے بیمار لگ رہے تھے، سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کراہنے لگے۔
’’مجھے آپ کی یہ اُداسی تکلیف دیتی ہے پلیز ہر دکھ کو دل سے نوچ کر پھینک ڈالیں۔‘‘ سائرہ نے نرم لہجے میں دلاسہ دیا۔
’’کاش ایسا انسان کے اختیار میں ہوتا۔‘‘ جلال خان کی آنکھوں میں اداسیوں کا غبار چھایا ہوا تھا۔
’’چلیں پھر ایسا کریں اپنے سارے غم مجھے دے دیں۔‘‘ مستقل شوہر کی پریشان کن صورت دیکھنے کے بعد التجا کی۔
’’میرا قاتل ہی میرا منصف ہے۔ کیا میرے حق میں فیصلہ دے گا۔‘‘ جلال خان کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ سائرہ کو جھرجھری سی آئی۔
’’میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ سائرہ کے کچھ دیر کے بعد جب اوسان ٹھکانے پر آئے تو غمگین لہجے میں معافی طلب کی۔
’’اچھا مگر تمہاری معافی سے حالات نہیں بدل سکتے۔‘‘ وہ لرزتا ہاتھ سر کے نیچے رکھتے ہوئے بولے۔
’’نہیں اب بھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔‘‘ سائرہ کا دل تڑپا‘ وہ نرم لہجے میں ان کو تسلیاں دینے لگیں۔
’’تو کیا ہم واپس خان ہائوس جاسکتے ہیں؟‘‘ جلال خان نے بچوں کی طرح پُرامید نظروں سے بیوی کو دیکھ کر پوچھا۔
’’ہاں کیوں نہیں مگر اس سے پہلے میں آپ کو ایک اور خوشی دینا چاہتی ہوں۔‘‘ سائرہ کی باتوں کی ٹھنڈی پھوار ان کے پیاسے دل پر گری تو سکون میسر آیا۔
’’سچ…! ایسی کون سی خوشی کی بات ہے؟‘‘ جلال خان کو بیوی کے انداز میں خوشیوں بھری آہٹیں سنائی دیں۔
’’میں ایک دو دن میں خان ہائوس جانے والی ہوں۔‘‘ انہوں نے معنی خیز انداز میں بتایا۔
’’کوئی کام ہے کیا؟‘‘ جلال خان کا تجسس سے برا حال ہوا۔
’’ہاں سفینہ اور فائز کی نکاح کی ڈیٹ فکس کرنے کے سلسلے میں بہزاد میاں سے مشورہ کرنا ہے۔‘‘ وہ ایسے اچھل پڑے جیسے سائرہ نے ان کے نزدیک دھماکا کردیا ہو۔
’’واقعی تم سچ بول رہی ہو…!‘‘ ان کی آنکھوں کی چمک لوٹ آئی، کئی بار تصدیق چاہی۔
’’ہاں بھئی بالکل سچ۔‘‘ سائرہ نے شوخی سے میاں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
’’بیگم تم نے ایسا فیصلہ کیا ہے کہ ساری زندگی کے دکھ دھو ڈالے۔‘‘ ان کا دل تشکر کے جذبات سے لبریز ہوگیا۔ وہ انہیں سراہتی نگاہوں سے دیکھے جارہے تھے۔ ان کی اُداسی اور نااُمیدی لمحوں میں طمانیت میں بدل گئی تھی۔
ض…ظ…ژ
فائز کی نیند سے آنکھ کھلی تو بڑے خوش گوار موڈ میں انگڑائی لیتے ہوئے بستر سے نیچے اترا اور کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا، وہ ہر لمحے اپنے اور سفینہ کے ملن کے سپنے دیکھ رہا تھا۔ اسی لیے دن اور رات بڑے حسین لگنے لگے تھے اس نے دھیرے سے آسمانی رنگ کا دبیز، پردہ ہٹایا اور کھڑکی کا شیشہ کھسکایا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے بالوں کو بکھیر دیا، وہ موسم کی شرارت پر مسکرادیا۔ نگاہیں اٹھا کر اوپر کی جانب دیکھا تو نیلے آسمان پر تیرتے ہوئے روئی کے گالوں جیسے بادل بہت بھلے لگے۔ اگرچہ فضاء میں ہلکی تمازت تھی مگر بری محسوس نہیں ہورہی تھی، چہرے پر پڑنے والی سورج کی سنہری نرم شعاعوں میں عجیب سی سرشاری پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے ارد گرد ایک ساحرانہ سا سکوت طاری تھا، جو رگ وپے میں سرور طاری کرنے لگا۔ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ یہ کیسی تبدیلیاں ہیں، جو اندر ہی اندر اسے بدل رہی ہیں۔ دل میں انوکھی انوکھی خواہشات جنم لے رہی ہیں۔ جس میں صرف وہ اور سفینہ ہیں۔ جس کی رفاقت میں وہ ہر ایسی شے سے زندگی کا لطف کشید کرنا چاہتا تھا جس کا مزہ ماضی میں نہ چکھا ہو۔
گو کہ فائز کا سوشل سرکل بہت وسیع نہ تھا۔ اگر بھولے بھٹکے کسی دوست کے گھر سے پارٹی یا فنکشن کا بلاوہ آجاتا اس پر بھی وہ حتی الامکان جانے سے احتراز برتتا تھا مگر اب سفی کی ہمراہی میں ایسی تقریبات میں جانے کا مصمم ارادہ کیے بیٹھا تھا۔ اسے فطرت کے نظارے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتے تھے، وہ سفینہ کی ہمراہی میں ایسی جگہوں پر جانے کا ارادہ باندھے بیٹھا تھا، سردیوں میںشہر کی مشہور کافی اور گرمیوں میں مزیدار آئس کریم کا لطف اٹھانا چاہتا تھا۔ کچھ دنوں سے سفی کے رنگین آنچل میں حسین موسم کو سمونے کی خواہش من میں انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگی تھی، تنہائی بری لگنے لگی تھی، اس کا حسین چہرہ ہر وقت اپنے سامنے دیکھنا چاہتا تھا۔
برستی بارش میں سفی کے ساتھ لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے، موسم کی خوب صورتی اپنے اندر جذب کرنے کی ہوک اٹھ رہی تھی، ویک اینڈ پر چاندنی راتوں میں سفینہ کا ہاتھ تھام کر اپنی گاڑی میں لاکر بٹھانے کے بعد لانگ ڈرائیو پر نکل جانے کی خواہش اور بھی جانے کیا کچھ من میں کھدبد سی مچی ہوئی تھی وہ بہت کچھ ایسا چاہتا تھا، جو پہلے کبھی نہیں چاہا۔ دروازے پر ہولے سے دستک نے اس کے خیالات کی ڈور توڑ ڈالی۔
’’فائز…‘‘ قدموں کی آہٹ پر اس نے مڑ کر دیکھا، تو سائرہ مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور اسے پکارا۔
’’ممی کیا ہوا سب خیریت تو ہے؟‘‘ اس کی سوالیہ نگاہیں ماں کی طرف اٹھیں، جلدی سے پوچھا۔
’’ہاں… وہ تم آج شام کو ذراجلدی گھر آجانا۔‘‘ انہوں نے پُرشفیق مسکراہٹ سے سر ہلا کر کہا۔
’’کوئی کام ہے؟‘‘ فائز نے سادہ انداز میں پوچھا۔
’’ہاں بہت اہم کام ہے۔‘‘ سائرہ کا انداز معنی خیز ہوا۔
’’جی حکم۔‘‘ وہ کچھ کچھ سمجھتے ہوئے مسکرایا۔
’’میں تمہارے چاچا کی طرف جانا چاہتی ہوں تاکہ تمہاری اور سفینہ کی بات کرسکوں۔‘‘ سائرہ نے اسے جیسے زندگی کی نوید دے دی۔
’’اوممی…! تھینک یو…‘‘ وہ ایک دم جوش میں ماں سے لپٹ گیا۔
’’مگر اس سے قبل تمہیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا۔‘‘ سائرہ نے بیٹے کو خود سے الگ کیا اور سنجیدگی سے کہا۔
’’وعدہ… کیسا وعدہ؟‘‘ فائز نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔
’’یہ ہی کہ اگر تمہاری چاچی نے انکار کردیا تو پھر…‘‘ وہ بولتے بولتے تذبذب کا شکار ہوئیں۔
’’تو پھر کیا ممی؟‘‘ وہ لاشعوری طور پر تیز لہجے میں بولا۔
’’تم ہمیشہ کے لیے سفینہ کے نام کا ورق اپنی زندگی کی کتاب سے پھاڑ دو گے۔‘‘ سائرہ کے لہجے سے عجیب سی سفاکی ٹپکنے لگی۔
’’کیا میری محبت کسی نئے امتحان سے دوچار ہونے والی ہے۔‘‘ ماں کی بات پر فائز کا دل تڑپ اٹھا، وہ بے یقینی سے سائرہ کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا، اس کی آنکھوں سے شکایت ٹپکنے لگی تو سائرہ نے نگاہیں چرائیں۔
(ان شاء اﷲ باقی آئندہ شمارے میں)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close