Hijaab Oct-16

میں قربان جاوں

نازیہ جمال

پورپ سے اٹھتے گولے کی روپہلی‘ شفاف ٹھنڈی اور چمکیلی کرنوں نے دھرتی کے چہرے پر پیار سے اور بڑی نرمی سے بوسہ دیا تو زندگی انگڑائی لے کر بیدار ہوگئی تھی۔ ڈھائی کنال پر بنے تین پورشنز میں بھی صبح اپنے ازلی روایتی انداز میں اتری تھی مگر ناشتے کی تیاری کی کھٹر پٹر صرف مسرت پھوپو کے کچن سے ہی کانوں میں پڑ رہی تھی باقی دو پورشنز میں ناشتے کی تیاری کے آثار فی الحال نظر نہیں آرہے تھے۔
’’رانیہ… بیٹا اٹھ… ناشتا تیار کر‘ دیر ہورہی ہے تیرے ابا مسجد سے آنے ہی والے ہوں گے اور آتے ہی نہار منہ چائے کا پیالہ مانگیں گے۔‘‘ چارپائیوں کی قطار سے کھیس تہہ کرتے ہوئے جمیلہ نے بڑے پیار سے اسے جگایا۔
’’سونے دے اماں… بڑے زوروں کی نیند آرہی ہے۔‘‘ کھیس میں منہ چھپاتے ہوئے وہ غنودگی میں بڑبڑائی مگر جمیلہ نے اس کا کھیس بھی کھینچ کر تہہ کرنا شروع کردیا۔
’’سونے تو دوں مگر گھر کے کام کون کرے گا‘ بچوں نے اسکول جانا ہے۔ تیرے ابا کو بھی جلدی دکان پر نکلنا ہوتا ہے اور بچے معاذ عبدالکریم کو بھی تو کام کے لیے نکلنا ہے۔‘‘
’’ہونہہ معاذ عبدالکریم…‘‘ اماں کی آخری بات نے تو اس کا حلق تک کڑوا کردیا تھا۔ انتہائی بے دلی سے تکیے کے نیچے سے گول مول پڑا دوپٹہ نکال کر کندھوں پر ڈالا اور منہ ہاتھ دھوکے ناشتے کی تیاریوں میں لگ گئی۔
اپنے پانچ عدد شریر لاڈلے بہن بھائیوں کا فرمائشی ناشتا تیار کرنا ہی اس کے لیے کافی محال تھا کجا کہ اب تو چاچا عبدالکریم کے بھی چار عدد بچے بھی شامل ہوچکے تھے‘ سب کی فرمائشیں الگ الگ۔
’’آپا… مجھے فرائی ایگ چاہیے۔‘‘ ایک آواز لگاتا۔ ’’اور مجھے دہی کے ساتھ پراٹھا۔‘‘ ہر ایک کی الگ فرمائش‘ اس کا تو دماغ ہی گھوم جاتا۔ دل چاہتا ایک زور کا جھانپڑ سب بچوں کے منہ پر لگائے مگر نومولود بچوں کے منہ پر جھانپڑ لگانے کے لیے بھی تو کافی وقت درکار ہوتا۔ جو اس کے پاس صبح کے وقت بالکل بھی نہیں ہوتا تھا سو دل پر جبر کیے تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے بچوں کو ڈانٹنے کا ارادہ موقوف کیے کام نمٹاتی جاتی۔ جھانپڑ کا کیا ہے وہ تو سارے دن میں کسی وقت انہیں بے دریغ لگا سکتی تھی۔
’’جی مجھ ناچیز کو بھی کچھ کھانے کو مل سکتا ہے۔‘‘ اسی دم معاذ عبدالکریم کی آمد ہوئی۔ چوکی کھینچ کر چولہے کے قریب‘ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے شگفتگی سے پوچھا۔ صبح صبح تازہ شیو بنائے‘ نہادھو کر وہ بالکل فریش اور تازہ دم دکھائی دے رہا تھا۔
’’میرے خیال میں آپ کو روز کچھ نہ کچھ کھانے کو مل ہی جاتا ہے تو پھر یہ سوال کیوں؟‘‘ انڈہ تیزی سے پھینٹتے ہوئے وہ رکھائی سے بولی۔
’’ہاں یہ تو ہے‘ جو بھی ملتا ہے لاجواب اور لذیز ہوتا ہے۔‘‘ وہ تائیدی انداز میں سر ہلا کر بولا‘ انداز میں توصیف تھی جو وانیہ کو بالکل متاثر نہ کرسکی۔
’’آج کیا چاہیے ناشتے میں؟‘‘
’’جو کھلادو‘ میں ٹھہرا سیدھا سادا بندہ‘ کھانے میں عیب نکالنا گناہ سمجھتا ہوں۔ جو بھی ملے کلمۂ شکر پڑھ کر کھالیتا ہوں اور…‘‘ معاذ عبدالکریم کی زبان کو ایک دم بریک لگا تھا۔ وانیہ نے رات کا بچا ہوا شلجم کا سالن گرم کرکے سادہ روٹی کے ساتھ اس کے سامنے رکھ دیا۔
’’یار بندہ بھلے دن بھر میں جو کھاتا رہے مگر ناشتا تو کم از کم تگڑا اور من پسند ہونا چاہیے۔ یہ شلجم تو مجھے بالکل پسند نہیں‘ اماں تو کبھی نہیں پکاتیں‘ اس کے ساتھ روٹی کھانے سے میں کچے پیاز کے ساتھ کھانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔‘‘ معاذ عبدالکریم اب بے چارگی سے پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔ وانیہ کے لبوں پر بے ساختہ استہزائیہ ہنسی چمکی‘ معاذ عبدالکریم کو شلجم کیا سبزیاں پسند ہی نہ تھیں وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی۔
’’تو پہلے بتانا تھا ناں خوامخواہ اپنی نادیدہ عاجزی پر روشنی لازمی ڈالنا تھی۔‘‘ آملیٹ کے آمیزے کو توے پر انڈیلتے ہوئے وہ آف موڈ سے بولی۔
’’ویسے چاچی صرف ایک ہفتے کا کہہ کر گئی تھیں‘ دوسرا ہفتہ آنے کو آگیا ہے ان کی واپسی کے آثار نظر نہیں آرہے۔‘‘ استعمال شدہ برتن سنک میں جمع کرتے ہوئے بولی۔
’’ہاں اماں کا ارادہ ہفتے کا ہی تھا مگر رات کال پر بتا رہی تھیںکہ کچھ اور رشتہ داروں سے ملنے ملانے میں ایک دو دن لگ سکتے ہیں۔‘‘ معاذ عبدالکریم نے بھاپ اڑاتی چائے کا کپ لبوں سے لگایا۔
’’ویسے گھر کی طرف سے وہ بالکل بے فکر تھیں‘ میں نے انہیں کہہ دیا ناشتا‘ کھانا‘ کپڑے سب کچھ ایک دم فرسٹ کلاس مل رہا ہے ہمیں۔ ٹینشن لینے کی قطعاً ضرورت نہیں‘ آرام سے گھومیں پھریں‘ دوستوں رشتہ داروں کے ہاں جائیں‘ نو پرابلم۔‘‘
’’ہاں انہیں پرابلم نہیں‘ پرابلم تو مجھے ہے۔ ایک تو اپنے گھر کے کام ختم نہیں ہوتے دوسرا تم لوگوں کے کام۔ کھانا‘ صفائی‘ کپڑے‘ ایک اکیلی میری جان کہاں کہاں کھپوں میں؟‘‘ وانیہ بے لحاظی سے بول رہی تھی‘ معاذ عبدالکریم اس کی دلی کیفیت جانتا تھا تبھی متاثر ہوئے بغیر بولا۔
’’ہاں مجھے بھی یہ ظلم لگتا ہے۔ کہاں تمہاری نازک جان اور اتنے ڈھیر سارے نہ ختم ہونے والے کام۔ مگر کیا کیا جائے میرے بس میں کچھ نہیں‘ اماں اور چاچی مل کر تم پر ظلم کرنے پر متفق ہیں تو میں کیا کرسکتا ہوں نہ جھاڑو پونچھا کرسکتا ہوں‘ نہ واش روم صاف کرسکتا ہوں۔ کاش کسی طرح تمہارا کام ہلکا کرسکتا۔‘‘ وہ ایک مصنوعی آہ بھرتے ہوئے بولا‘ وانیہ کی تو جان جل کر راکھ ہوگئی۔
’’جھاڑو پونچھا رہنے دو‘ وہ میں کرلوں گی بس ہوٹل سے کھانا منگوا کر کھا لیا کرو۔ یہی ہیلپ بھی کافی ہے مجھے۔‘‘ وہ خاصے طنز سے بولی۔
’’ہاہ کہتی تو ٹھیک ہو مگر ہوٹل اتنے خوب صورت جو نہیں ہوتے۔‘‘ وہ اس کی چمک دار برائون آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ٹھہرے ہوئے انداز میں بولا تو لمحہ بھر کو وانیہ کنفیوژ ہوگئی تھی۔
’’چلو خوب صورتی پر صرف نظر کر ہی لوں کیا وہ اتنے پیار‘ دل اور توجہ سے کھانا تیار کرتے ہیں جیسے تم کرتی ہو۔‘‘ وہ چوکی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ہونہہ پیار‘ توجہ… اگر اماں کا ڈر نہ ہوتا تو کچھ الٹا سیدھا پکا کر رکھ دیتی۔ پتا نہیں کب چاچی گھر آئیں گی اور اس اضافی مشقت سے جان چھوٹے گی۔‘‘ معاذ عبدالکریم کی سیاہ گھور آنکھوں میں لمحہ بہ لمحہ اترتی شوخی سے گھبرا کر وہ بلا وجہ کیبنٹ کھولنے بند کرنے لگی۔
’’یار… کیوں اتنا نیگیٹو ہوکر سوچ رہی ہو‘ تمہارا اپنا فائدہ ہے۔ یہ دو ہفتوں کی پریکٹس تمہارے لیے مستقبل میں فائدہ مند ثابت ہوگی‘ پانچ چھ بہنوں کے کام کاج ذرا بھی تمہیں مشکل نہیں لگیں گے۔‘‘ کھٹاک… ک… ک… وانیہ نے زور سے کیبنٹ کا دروازہ بند کیا بلکہ دے مارا تھا۔ اس سے زیادہ سننا اس کے بس سے باہر تھا‘ خون کی روانی ایک دم سے تیز ہوگئی تھی۔
’’مطلب کیا ہے تمہارا؟ مستقبل… پریکٹس… کہنا کیا چاہتے ہو تم؟‘‘ وہ دونوں ہاتھ نازک کمر پر ٹکا کر معاذ عبدالکریم کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے غصے سے بولی۔
’’کچھ نہیں‘ میں صرف اتنا کہہ رہا تھا کہ اگر فیوچر میں تمہارے گھر کے افراد پانچ یا اس سے زیادہ تعداد میں ہوں تو تم بالکل بھی پریشان نہیں ہوگی۔‘‘ اس کے خونخوار تیوروں سے گھبرا کر معاذ عبدالکریم نے جلدی سے بات بنائی اور باہر کی راہ لی۔
/…ء…/
’’اور یہ میری پیاری بیٹی وانیہ کے لیے۔‘‘ چاچی فاطمہ نے بہت محبت سے ایک خوب صورت اور اسٹائلش سا سوٹ اس کی طرف بڑھایا تھا وہ کل ہی ملتان سے لوٹی تھیں۔ سب گھر والوں کے لیے کچھ نہ کچھ ان کے ہاتھ میں موجود تھا۔ اس وقت جمیلہ اور پھوپو مسرت ان کے پاس بیٹھیں ان سے ملتان کا احوال پوچھ رہی تھیں۔ کہاں کہاں گئیں‘ کس سے ملیں‘ اس دفعہ چاچا عبدالکریم بھی ان کے ہمراہ تھے سو خوب خاطر تواضع ہوئی۔
’’آنی… میرے نیلز کاٹ دیں‘ کل ٹیچر نے اسمبلی میں فائن کیا تھا مجھے۔‘‘ ایمن باجی کا ارسل نیل کٹر لیے اس کے پاس آکھڑا ہوا۔
’’اور آپا… میری بھی یونیفارم کی سامنے والی پاکٹ سی دیں‘ رفیع نے بریک میں اتنے زور سے کھینچی تھی کہ پھٹ گئی۔‘‘ یاسر نے بھی یاددہانی کروائی۔
’’ہاں بس تم لوگوں کے کام کرتی رہوں‘ تمہاری مائیں باتیں بگھارنے کے لیے ہیں۔ کب سے چہرے پر ماسک لگانے کا سوچ رہی ہوں مجال ہے جو ٹائم مل جائے۔‘‘ وہ تپ کر بولی۔
وانیہ سے چار سال بڑی ایمن مسرت پھوپو کی بڑی بہو تھی‘ جن کا ساتھ ہی پورشن تھا۔ مرحوم پھوپا عصمت دادی کے یتیم بھتیجے تھے‘ سو اکلوتی بیٹی کی شادی کہیں دور پرے کرنے کی بجائے گھر سے بیٹی کا شریعت کے مطابق حصہ نکال کر خوب صورت سا پورشن بنوادیا۔ اکلوتی بیٹی سدا آنکھوں کے سامنے خوشی سے بستی رہی باقی دو پورشنز میں عبدالکریم احمد اور عبدالرحیم احمد کی فیملیز آباد تھیں۔ تینوں بہن بھائی ہی ماشاء اللہ سے کثیر الصیال تھے‘ تینوں پورشنز بھرے پُرے اور آباد تھے۔
مسرت پھوپو کے بڑے بیٹے امجد بھائی کے ساتھ ایمن باجی کی شادی ان کے میٹرک کرنے کے فوراً بعد ہی کردی گئی سو ایمن باجی محض دو قدم رخصت ہوکر پھوپو مسرت کے گھر کا حصہ بن گئیں مگر ان کے تینوں بچے ہمہ وقت ان کی طرف ہی پائے جاتے۔ چار سال میں تین بچوں کی پیدائش نے ایمن کو مصروف اور کسی حد تک کمزور کر ڈالا تھا سو اپنی سہولت کے لیے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بچوں کو وانیہ کی طرف بھیج دیتی۔
’’آنی… بال بنادیں۔‘‘ بچے یونیفارم پہن کر صبح صبح ادھر آجاتے۔ ’’آنی فیڈر بنادیں… آنی یہ… آنی وہ…‘‘ وانیہ دونوں بھانجیوں اور بھانجی سے محبت تو کرتی تھی مگر کام کی زیادتی نے اسے چڑچڑا کر ڈالا تھا‘ کبھی کام کرتی تو کبھی ڈانٹ کر بھگا دیتی۔
’’اپنے بہن بھائیوں کے بکھیڑے ہی نہیں سمٹتے اوپر سے ان کی خواری بھی کرو۔‘‘ ساتھ میں عبدالکریم چاچا کے چار عدد بچے بھی سارا دن آتے جاتے اُدھم مچائے رکھتے۔ گند اور بے ترتیبی پھیلانے پر وہ خوب سیخ پا ہوتی۔ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ ساتھ کزنز کی خوب پٹائی کرتی۔
’’مجھے کوئی لوہے فولاد کا انسان سمجھ رکھا ہے جو سارا دن تم لوگوں کے بگڑے کام سنوارتی رہوں۔‘‘ وہ حلق پھاڑ کر چلاتی۔
’’ہاں تو لڑکیوں کے اور کیا کام ہوتے ہیں‘ ہنستے بستے گھروں میں سو بکھیڑے ہوتے ہیں پھر خوش دلی سے انہیں سمیٹ بھی لیا جاتا ہے۔‘‘ اماں پر اس کے واویلے کا چنداں اثر نہ ہوتا۔
’’یا اللہ… مجھے اس جنجال پورے سے نکالنے کا کوئی سبب بنا‘ جہاں نہ دن کو سکون ہے نہ رات کو چین۔ کسی ایسی جگہ بھیج‘ جہاں سکون‘ خاموشی اور طمانیت کی فضا ہو۔‘‘ وہ باآواز بلند یہ دعا کرتی رہتی تھی۔
/…ء…/
’’واہ چاچی… آپ کی چوائس کی داد دینا پڑے گی۔‘‘ چاچی فاطمہ کا دیا ہوا سوٹ زیب تن کرکے اس نے آئینے میں خود کو سراہتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بے ساختہ کہا۔ سوٹ اس کے اسمارٹ سراپے پر بے حد جچ رہا تھا۔ ماموں نفیس کے دل کا بائی پاس ہوا تو اماں کے ساتھ وہ بھی جانے کے لیے تیار ہوگئی تھی۔
’’کوئی ضرورت نہیں جانے کی‘ ایمن کے ساتھ رہو اس کے ایک بیٹے کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے تو دوسرے کو خسرہ نکلا ہوا ہے۔‘‘ جمیلہ نے اس کے تروتازہ پُربہار سراپے کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہوئے منع کردیا۔
’’ہرگز نہیں‘ میں لازمی جائوں گی‘ مجھ سے نہیں ہوتے ان کے گھر کے کام۔ کب سے پڑی گھر میں بور ہورہی ہوں‘ ذرا ماموں کے گھر جاکر ذہن فریش ہوجائے گا۔ پہلے چاچی جان ملتان یاترا کو گئیں تو ان کے بچوں کے کام بھگتائے اور اب ایمن باجی… ہرگز نہیں مجھے ریلیکس ہونا ہے۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔
’’شرم کرو‘ بہن کی مدد کرنا تمہیں مشکل لگتا ہے‘ بہنیں ہوتی کس لیے ہیں۔‘‘ اماں نے اسے لتاڑا مگر وہ ڈھٹائی سے اماں کے ساتھ ہولی۔
وہ ماموں نفیس کے گھر بہت کم گئی مگر جب بھی گئی دل و دماغ پر ایک خوش گوار تاثر لے کر ہی لوٹی۔ ماموں کا وسیع و عریض عالی شان گھر اور گھر کا پُرسکون و تمیز دار ماموں اسے بہت اپیل کرتا تھا۔ بڑے بڑے‘ ہرے بھرے لان‘ جن میں انواع و اقسام کے غیر ملکی پودے عجب بہار دکھا رہے ہوتے۔ سامنے تعیشات سے آراستہ بڑے بڑے کمرے‘ دبئی میں کمائی ہوئی دولت ماموں نے گھر کی آرائش و زیبائش پر دل کھول کر لٹائی تھی۔ ماموں کے گھر عیادت کی خاطر کافی لوگ آئے ہوئے تھے‘ ان کے جاننے والے دوست احباب اور ممانی صدف کے رشتہ دار‘ ممانی بہت پیار اور محبت سے ان سے ملیں۔ اماں بیڈ پر دراز ماموں کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئیں‘ اکلوتے ماں جائے کی کمزور جسمانی حالت نے ان کی آنکھیں نم کردی تھیں۔
وانیہ کچھ دیر تو یونہی بیٹھی قیمتی پینٹنگز سے آراستہ دیواریں سر اٹھا کر دیکھتی رہی پھر مہمانوں کی خاطر تواضع میں مصروف ممانی صدف کی مدد کے خیال سے کچن میں آگئی۔ جدید امریکن اسٹائل کچن میں ملازمائیں اشیائے خورونوش کو ٹرالی میں سجا سجا کر ڈرائنگ روم میں لا اور لے جارہی تھیں مگر ان کے انداز میں بے پروائی اور غیر ذمہ داری واضح جھلک رہی تھی اس نے آرام سے سرونگ کا کام اپنے ذمہ لے لیا پھر لنچ کی تیاری تک کچن میں مصروف رہی۔
اماں نے چھوٹی عمر میں ہی اسے گھر کے کاموں میں کھپا دیا تھا سو ہاتھ میں ذائقہ اور انداز میں پھرتی تھی۔ ٹائم پر فٹافٹ ٹیبل لگالی‘ ممانی اتنے سلیقے سے لنچ پنج کرنے پر اس کی دل سے مشکور تھیں‘ ان کے میکے سے کافی مہمان آئے ہوئے تھے جنہیں انہوں نے بعد اصرار لنچ پر روک لیا تھا۔ وہ بس سادگی سے مسکرادی تھی‘ درحقیقت اتنے صاف ستھرے اور لگژری کچن میں کوکنگ کرنا خود اس کے لیے کافی پُرلطف تجربہ تھا۔ عصر کے قریب اماں نے جانے کی اجازت چاہی تو ماموں نے ڈنر کے لیے روک لیا۔
’’جمیلہ… رات کا کھانا کھا کر جانا‘ روز کون سا آتی ہو اور باقی بچوں کو بھی لے آتیں۔‘‘
’’ارے نفیس‘ ان آفت کے پرکالوں کا نام نہ لو‘ تمہارے اس بنے سنورے گھر کا وہ حشر کرتے کہ تم ہمیشہ کے لیے اس گھر کے دروازے ہم پر بند کردیتے۔‘‘ اماں ہنس کر بولیں تو ماموں بھی مسکرادیے‘ جانے کے وقت ممانی نے اسے روک لیا۔
’’جمیلہ باجی… وانیہ کو چند دن میرے ہاں چھوڑ جائیں‘ مہمانوں کا آنا جانا لگا ہے گھر کے کام کاج کے لیے میڈز موجود ہیں مگر جب تک سر پر موجود نہ ہوں تو کام سر سے بھگتاتی ہیں۔‘‘ ممانی کی بات سن کر اس کا دل کھل اٹھا تھا مگر اماں نے سلیقے سے معذرت کرلی۔
’’بھابی… وانیہ کا اپنا گھر ہے مگر کیا کروں گھر کے اتنے کام ہیں اور میں جوڑوں کی مریض‘ اوپر سے ایمن کے بچے بیمار ہیں ادھر بھی دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘
’’اماں… ایمن باجی کے ساتھ مسرت پھوپو ہیں ناں‘ وہ آرام سے گھر کے کام نمٹالیتی ہیں۔‘‘ وہ جھٹ سے بولی تو اماں دانت پیستے ہوئے اسے گھور کر رہ گئی۔
’’لو بھئی جمیلہ… ہماری بھانجی کا خود ہی رکنے کو دل کررہا ہے۔‘‘ ماموں اس کا ارادہ پاکر ہنس دیئے تھے مجبوراً بادل نخواستہ اماں کو اجازت دینی پڑی۔
/…ء…/
’’امی اکثر کہتی ہیں کہ ہمارا کچن بہت خوب صورت ہے‘ مگر میں ادھر بہت کم آتا ہوں مگر اب واقعی امی کے خیالات سے متفق ہونا پڑا ہے۔‘‘ وہ جو مکھنی چکن کی تیاری میں لگی ہوئی تھی‘ پشت پر ایک جاندار آواز سن کر مڑی۔ حاشر فریج سے بوتل نکال کر منہ سے لگارہا تھا۔
’’جی ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ کچن آپ لوگوں کا واقعی زبردست ہے۔‘‘ وہ حاشر کی بات میں چھپی معنی خیزیت کو نہ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلاکر بولی۔
’’صرف کچن خوب صورت ہے؟‘‘ حاشر قدم قدم چلتا ہوا آگے بڑھا۔
’’نہیں پورا گھر ہی خوب صورت ہے‘ آرئسٹک‘ جدید۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولی۔
’’تو کیا صرف گھر ہی خوب صورت ہے؟‘‘ حاشر اس کے صبیح چہرے پر نگاہیں جماتے ہوئے گہرے لہجے میں بولا۔
’’ہاں‘ ہے تو۔‘‘ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔ حاشر کے دیکھنے کا انداز عجیب لگا تھا اسے۔
’’گھر والے خوب صورت نہیں؟‘‘ لہجہ دھیما ہوکر آنچ دینے لگا تھا۔
’’ہاں… ہیں تو۔‘‘ اسے سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے۔
’’تھینکس میری تعریف کرنے کا؟‘‘ حاشر کے لہجے میں سرشاری در آئی تھی۔
’’ان فیکٹ یہ گھر‘ یہ کچن سب کچھ آل ریڈی خوب صورت ہیں مگر تمہارے آنے سے ان کی خوب صورتی دو چند ہوگئی ہے۔ ہر چیز روشن روشن اور اٹریکٹو ہوگئی ہے۔ امی کہتی ہیں حاشر… پہلے تم گھر ٹکتے نہیں تھے اب ہر وقت گھر میں پائے جاتے ہو‘ اب انہیں کیا معلوم گھر میں دل لگنے کا سامان تو اب موجود ہوا ہے۔‘‘ وہ بے باکی سے بول رہا تھا اور وانیہ کی ہتھیلیاں بھیگ گئی تھیں‘ دل الگ دھڑ دھڑ کررہا تھا۔
ماموں کا اکلوتا سپوت اس کے لیے امتحان سے کم ثابت نہیں ہورہا تھا۔ جہاں جاتی اس کے سر پر پہنچ جاتا۔ برملا اس کے کھانوں کی تعریف کرتا‘ اس کے بالوں اس کی خوب صورتی کی تعریف اپنے مخصوص بے باک انداز میں کرتا۔
’’اف وانیہ… تم تو بنی بنائی پرنسس ہو‘ بغیر کسی کرائون کے۔ ایک پرنس ہی ڈیزرو کرتی ہو مگر کیا‘ کیا جائے آج کل پرنس کا ملنا مشکل ہے بس میرے جیسا چارمنگ‘ ہینڈسم بندہ مل سکتا ہے۔ کیوں منظور ہے؟‘‘ تیز تیز بولتے ہوئے حاشر آخر میں آنکھیں نچا کر اس سے پوچھتا تو وانیہ کانوں تک سرخ ہوجاتی۔
’’اللہ… کتنا بے دھڑک اور نڈر بندہ ہے‘ کتنا بے خوفی سے بول لیتا ہے۔‘‘ وہ دھڑ دھڑ کرتے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچتی۔
’’چلو تمہیں شاپنگ کروا لائوں‘ کب سے ایک ہی سوٹ میں گھوم رہی ہو۔‘‘ ایک دن اس کا ہاتھ تھام کر بولا۔
’’نہیں حاشر بھائی‘ اس کی ضرورت نہیں‘ ممانی کیا کہیں گی۔‘‘ اس نے لاکھ تاویلیں دیں مگر وہ ساری ان سنی کیے کھینچ کر اسے شاپنگ مال میں لے آیا۔ اتنے شاندار‘ جگر جگر کرتے کئی منزلہ مالز‘ اس کی تو آنکھیں دنگ رہ گئیں‘ وانیہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔ اپنی تیئس سالہ زندگی میں اس نے یہ سب کچھ پہلے کہاں دیکھا تھا۔
حاشر نے دل کھول کر اسے شاپنگ کروائی‘ ڈریسز‘ شوز‘ بیگ‘ جیولری سب کچھ اعلیٰ‘ قیمتی اور برانڈڑ وہ تو بس مسمرائز سی اس کے ساتھ کھینچتی چلی جارہی تھی۔ شاپنگ کے بعد حاشر اسے ایک ہوٹل میں لے آیا۔
’’میں امی ابو سے اب تمہاری اور اپنی شادی کی بات کرتا ہوں‘ زیادہ ویٹ مجھ سے نہیں ہوتا۔ میں چاہتا ہوں جب دبئی جائوں تو لائف پارٹنر کی حیثیت سے تم بھی میرے ساتھ چلو۔‘‘ وہ اسے اگلی پلاننگ بتارہا تھا‘ بڑا ہی اسٹریٹ فارورڈ بندہ تھا محض ایک ہفتے کے اندر ہی بے تکلفی کی ساری حدیں پھلانگتا اس کی زندگی میں گھس آیا تھا اور اب زندگی کا مالک بنا اس کی زندگی کے تمام تر فیصلوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیے بے دھڑک اپنے ارادے بتارہا تھا۔ بنا اس سے مشورہ لیے‘ بغیر ارادہ پوچھے کیونکہ وانیہ کے گلگوں ہوتے مخملیں عارض اور جھکتی لرزتی پلکیں ہی اس کے ارادوں کا پتہ خوب دے رہی تھیں۔
/…ء…/
معاذ عبدالکریم کو پرائیوٹ کمپنی میں ایک اچھی سی جاب مل گئی تھی‘ اسی خوشی میں وہ اپنے کسی دوست سے گاڑی مانگ کر لے آیا تھا۔ اس کا ارادہ سب گھر والوں کو دریائے سندھ پر لے جانے کا تھا‘ ساری بچہ پارٹی نے خوشی اور جوش کے مارے وہ ہاہاکار مچا رکھی تھی کہ الامان۔ بچے تو بچے گھر کی خواتین بھی خوشی سے نہال تھیں۔
’’خوش ہوجائو وانیہ… باہر آئوٹنگ کا موقع بن گیا ہے‘ تمہیں بہت شوق ہے ناں باہر گھونے پھرنے کا۔‘‘ ایمن خوش دلی سے اس سے مخاطب ہوئی۔
’’ہونہہ… شوق ہے مگر ایسی کھٹارہ میں جانے کا نہیں ہے‘ وہ بھی اتنی بدتمیز پلٹن کے ساتھ۔‘‘ وہ ناگواری سے بولی۔
اس کے حواسوں پر تو حاشر کی سیاہ اکارڈ ہی چھائی ہوئی تھی جس میں بیٹھ کر اسے خود پر بھی رشک آیا تھا۔ ماموں نفیس کے گھر ایک ہفتہ رہ کر اسے اپنا آپ سنڈریلا کی طرح لگنے لگا تھا جو خواب ناک‘ جادوئی دنیا سے واپس اپنی بے رنگی‘ پُرمشقت اور بدصورت دنیا میں واپس آگئی ہو جہاں ہروقت چخ چخ کے ساتھ نہ ختم ہونے والے کام ہوں۔ خیر دل اس اطمینان سے لبریز تھا کہ یہ پُرمشقت اور بے رنگ زندگی بڑی مختصر ہے۔ سنڈریلا کی طرح اس کا مقدر بھی وہی عالی شان گھر ہے جہاں شہزادوں جیسی وجاہت رکھنے والا حاشر نفیس اس کے لیے تمام خوشیوں کا امین بن کر رہتا ہے۔
’’وانیہ… تم کیوں نہیں چل رہیں؟‘‘ معاذ عبدالکریم اسے ڈھونڈتے ہوا ادھر آنکلا۔
’’نہیں میرے سر میں درد ہے‘ میں کہیں نہیں جاسکتی۔‘‘ اس نے سلیقے سے انکار کردیا۔
’’کیا ہوا‘ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔‘‘ وہ تشویش سے بولتا ہوا ایک قدم آگے بڑھا۔
’’بولا ناں سر میں درد ہے‘ طبیعت خراب نہیں۔ اب سر کا درد نظر آنے سے تو رہا۔‘‘ وہ خاصے غصے سے بولی ابھی ابھی جمیلہ ساتھ نہ چلنے پر اس کی خوب کھنچائی کر گئی تھی۔
’’تمہارا دماغ خراب ہوتا جارہا ہے‘ میں تمہارا دماغ آگے درست کرتی ہوں۔ خوب سمجھ رہی ہوں تمہارے تیور‘ مگر تم جو چاہتی ہو ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
’’اور جو آپ چاہتی ہیں وہ بھی میں نہیں ہونے دوں گی‘ مر کر بھی نہیں۔‘‘ اس نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا۔
’’اوکے تم ریسٹ کرو مگر میری جاب کی خوشی میں جو ٹریٹ مانگو گی وہ گھر پر ارینج کرلیں گے۔‘‘ معاذ عبدالکریم کا دل اس کے بگڑے تاثرات کو دیکھ کر مسوس کر رہ گیا تھا مگر بظاہر خوش دلی سے بولا۔
’’ہونہہ… گھر پر ارینج کریں گے‘ کیا ارینج ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ فاسٹ فوڈ کے ساتھ ڈرنکس‘ پزا‘ بس… آئوٹنگ تو وہ تھی جو میں نے حاشر کے ساتھ کی۔ پُرسکون‘ رومانٹک ماحول میں زبردست کھانا۔‘‘ وہ اس کے جانے کے بعد چارپائی پر دراز ہوکے حاشر کے سنگ… بیتے دنوں کو یاد کرنے لگی پھر تکیے کے نیچے سے موبائل نکالا‘ یہ موبائل حاشر نے چلتے وقت اسے تھمایا تھا۔
’’رکھ لو‘ تمہاری آواز سنوں گا تو دن بھر کسی کام میں جی لگے گا اور روز اپنی تازہ تصویر مجھے واٹس ایپ کرنی ہے۔‘‘
’’توبہ ہے حاشر… اب روز کون تصویر بنائے‘ ابھی تو تم سے مل کر آئی ہوں صبر بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘‘ وہ ناز سے اٹھلا کر کہتی۔
’’ارے سویٹ ہارٹ‘ تم صبر کی بات کرتی ہو‘ میرے صبر کی انتہائوں کو تم نہیں جانتیں۔ دن گن رہا ہوں کہ کب تم میرے بیڈ روم میں آکر میری بانہوں میں…‘‘
’’پلیز حاشر…!‘‘ وہ سٹپٹا کر اسے ٹوک گئی تھی‘ حاشر کا بولڈ اور کھلا انداز اسے کبھی کبھار پریشان کرکے رکھ دیتا تھا۔ فطرتاً وہ ایک شرمیلی اور حیادار لڑکی تھی۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے معاذ عبدالکریم سے ہر وقت سامنا رہتا تھا۔ وہ معاذ عبدالکریم کے دل میں اپنے بارے میں پلتے جذبات سے بھی بخوبی واقف تھی‘ معاذ عبدالکریم کی جذبے لٹاتی آنکھیں‘ کبھی کبھار کانوں میں پڑنے والا شوخ و دل پذیر جملہ اس کے کاموں کے واویلے پر اس کا متفکر و ہمدرد رویہ یہ سب کچھ معاذ عبدالکریم کے جذبوں کو عیاں کرنے کے لیے کافی تھے مگر اس نے بھول کر بھی معاذ عبدالکریم کے جذبوں کو پذیرائی نہ بخشی تھی کیونکہ اس کی منزل اور تھی۔ اس کے خواب اور مستقبل بس ایک ہی شخص تھا حاشر نفیس جو اس وقت اپنے ٹوکے جانے پر خفا ہوگیا تھا۔
’’شٹ یار وانیہ… سارے رومانٹک کا بیڑہ غرق کردیتی ہو۔‘‘ انتہائی بدمزگی سے کہتے ہوئے موبائل آف کردیا تھا۔
/…ء…/
’’تمہارے ابا کا ارادہ اس بقرہ عید کے تیسرے دن تمہیں معاذ عبدالکریم کے سنگ رخصت کرنے کا ہے۔‘‘ اگست کی حبس بھری دوپہر میں جمیلہ نے نرمی سے بات کا آغاز کیا۔
’’مگر میرا ارادہ ابا کے ارادے سے یکسر مختلف ہے۔‘‘ وہ بے خوفی سے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
’’اور تمہارا ارادہ کیا ہے… ہمارے دل توڑنے کا‘ ہمارے ارمانوں پر مٹی ڈالنے کا؟‘‘ جمیلہ تلخ ہوئیں۔
’’آپ کے ارمان‘ آپ کے دل… میری کوئی خوشی کوئی آرزو نہیں؟‘‘ وہ چلا کر بولی۔ ’’میں جوان ہوں‘ خوب صورت ہوں۔ ایک جوان لڑکی کا دل خشک کنواں نہیں ہوتا مگر آپ کے اور ابا کی نظروں میں میرے دل اور اس میں پلتی خواہشوں کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘ وہ بے حد شاکی اندز میں بولی۔
’’وانیہ… ہم تمہارے ماں باپ ہیں‘ تمہارا بھلا چاہیں گے۔ معاذ عبدالکریم گھر کا پلا بڑھا بچہ ہے جس کی شرافت و کردار کے ہم خود ضامن ہیں۔‘‘ جمیلہ کا انداز دھیما تھا۔
’’اور حاشر آپ کا سگا بھتیجا ہے‘ اس کے کردار و شرافت کے بارے میں آپ کس قسم کے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔‘‘ وہ کھٹ سے بولی۔
’’حاشر دیار غیر میں پلا بڑھا ہے‘ اس کے عادات و اطوار سے بھی مکمل آگاہی نہیں کجا کہ شرافت و کردار کے بارے میں یقین حاصل ہو۔ ویسے بھی نفیس بھائی مالی لحاظ سے بہت برتر ہیں ہم سے اور صدف بھابی کبھی ہم جیسے سفید پوشوں کے ہاں اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی نہیں کرنا چاہیں گی۔ ان کا ارادہ اپنی بھانجی لینے کا ہے‘ وہ مجھ سے تذکرہ کرچکی ہیں۔‘‘
’’مگر حاشر مجھے منتخب کرچکا ہے‘ اپنے اکلوتے بیٹے پر جبر وہ بھی نہیں کریں گی۔‘‘ وہ تفاخر بھرے انداز میں بولی۔ جمیلہ نے دکھ بھری نظر اس کے چہرے پر ڈالی تھی جہاں کچھ انوکھے رنگ اسے بہت خاص بنا رہے تھے۔ پتا نہیں اس کی تربیت میں کہاں خطا ہوئی تھی۔ جمیلہ سمجھ دار اور جہاں دیدہ خاتون تھیں‘ بیٹی کے بدلے بدلے تیور بخوبی سمجھا رہے تھے کہ وہ کن راہوں پر چل نکلی ہے۔ سختی کا نتیجہ بدلحاظی کی صورت میں سامنے آتا سو نرمی اور پیار سے سمجھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ساتھ میں ایمن سے بھی تعاون کی درخواست کر ڈالی۔
’’دیکھو میری پیاری مگر نادان بہن‘ ہمارے اور ماموں کے معیار زندگی میں بہت فرق ہے۔ تم کبھی وہاں سیٹ نہیں ہوپائو گی‘ معاذ عبدالکریم تم سے محبت کرتا ہے‘ تمہارے انکار سے ابا اور چاچا کے تعلقات پر اثر پڑے گا۔ گھر کی فضا متاثر ہوگی‘ برسوں کی محبت اور چاہت کے رنگ ماند پڑجائیں گے۔‘‘ ایمن دھیرے دھیرے بولتے ہوئے اسے حالات کا دوسرا ممکنہ رخ دکھا رہی تھی۔
’’باجی‘ ان ڈھیر ساری محبتوں کا اچار نہیں ڈالنا میں نے‘ مجھے بس ایک شخص کی محبت کافی ہے۔ ماموں کا گھر میرا آئیڈیل ہے‘ وہاں پر محبتیں نہیں ہوں گی‘ ٹھیک ہے میں سمجھوتہ کرلوں گی مگر یہ ہر وقت کی چخ چخ‘ اٹھاخ پٹاخ‘ شور شرابا مجھے سخت ہائپر کرتا ہے۔ آدھی زندگی اس جنجال پورے میں جیسے تیسے گزار دی ہے مگر آگے کی زندگی تو کم از کم پُرسکون اور آرام دہ ہو۔ مجھے قدرت موقع فراہم کررہی ہے‘ حاشر کی صورت میں تو فائدہ کیوں نہ اٹھائوں؟‘‘ وانیہ کا انداز ازلی دو ٹوک اور حتمی تھا۔
/…ء…/
’’حاشر… میں نے اماں سے فائنل بات کرلی ہے‘ وہ ابا تک میرا موقف پہنچادیں گی مگر تم بتائو ماموں ممانی کب باقاعدہ پرپوزل لے کر آرہے ہیں۔‘‘ برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی وہ موبائل پر حاشر سے بات کررہی تھی‘ انداز میں سنجیدگی اور گمبھیرتا تھی۔ کل شام چاچی فاطمہ ہمیشہ کی طرح اس کا عید کا جوڑا لائی تھیں۔
’’یہ تو میری پیاری بیٹی کا عید کا جوڑا ہے‘ شگن کے کپڑے تو اور خریدوں گی۔ معاذ عبدالکریم کہہ رہا تھا اماں جب عید کے بعد شادی ہی کرنا ہے تو یہ جوڑا دینے کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے کہا پگلے بچپن سے وانیہ کو دیتی آرہی ہوں ہر عید‘ بقرہ عید‘ شب برأت پر تو کیا اب بھی نہ دوں۔‘‘ چاچی مسرور لہجے میں کہہ رہی تھیں تو اس نے بے ساختہ اماں کی طرف دیکھا تھا۔ اماں نظریں چرا گئی تھیں‘ اس کا مطلب تھا کہ انہوں نے چاچی تک اس کا انکار نہیں پہنچایا تھا۔
’’اماں… چاچی کو کس جھوٹی آس پر لگا رکھا ہے آپ نے؟ انکار کیوں نہیں کیا؟‘‘
’’کس برتے پر انکار کروں‘ اس بھتیجے کے لیے جو کبھی غریب پھوپو کا در پھلانگ کر نہیں آیا۔ وہ بھائی‘ بھابی جو سالوں میں ایک آدھ بار شکل دکھا دیتے ہیں بس‘ جیسے تو ماں کے منہ کو آجاتی ہے تو حاشر نے کیوں مجبور نہیں کیا تیرے لیے اپنے ماں باپ کو؟‘‘ اماں گہرے طنز سے بول رہی تھیں۔ واقعی ماموں ممانی کو کم از کم بات کرنے تو آنا چاہیے تھا‘ اس لیے تو اماں اس کے انکار کو خاطر میں نہ لارہی تھیں سو وقت ملتے ہی حاشر کو کال ملائی۔
’’مگر وانیہ… ایسی جلدی بھی کیا ہے تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔‘‘ حاشر اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے میٹھے انداز میں بات کررہا تھا۔
’’نہیں حاشر… اتنی دیر بھی ٹھیک نہیں ہے‘ یہ تم نے کہا تھا میرے بعد‘ میری دو بہنیں اور بھی ہیں۔ اماں نے ان کا بھی سوچنا ہے‘ ان کا ارادہ اس عید پر ہر حال میں مجھے رخصت کرنے کا ہے۔ اب جو کرنا ہے‘ جلدی کرنا ہے۔‘‘ بولتے بولتے اس کا لہجہ بھیگا تھا۔
’’اُف وہی مڈل کلاس کے ٹپیکل پرابلمز۔‘‘ حاشر نے کوفت سے فون آف کردیا۔
/…ء…/
اچھے بھلے مناسب رفتار سے موٹر سائیکل چلاتے ابا کو مخالف سمت سے آتے ٹرالر نے ایسی زور سے ٹکر ماری کہ لمحوں میں کمزور بدن لہولہان ہوگیا تھا۔
’’ہائے میرا ابا… میں نے صبح ناشتا کروا کر اس حال میں تو نہیں بھیجا تھا۔‘‘ ہسپتال میں باپ کو سر تاپا پٹیوں میں جکڑا دیکھ کر وہ بلک بلک کر رو پڑی۔
’’پلیز وانیہ… سنبھالو خود کو۔‘‘ معاذ عبدالکریم اس کے لیے پانی کا گلاس لایا۔ خون زیادہ بہہ جانے کی صورت میں خون کی اشد ضرورت تھی‘ معاذ عبدالکریم نے اپنا خون ڈونیٹ کیا باقی کچھ دوستوں سے ارینج کروایا۔
’’شکر ہے میرا سہاگ سلامت ہے۔‘‘ اماں الگ غم سے نڈھال تھیں‘ چاچی فاطمہ نے انہیں دلاسہ دے رکھا تھا۔ ایک ہفتہ بعد ابا کو ڈسچارج کردیا گیا مگر اس دوران حاشر ایک بار بھی ان کی خیریت دریافت کرنے نہیں آیا۔
’’حاشر… تم ابا کی طبیعت پوچھنے نہیں آئے‘ آخر کو تمہارے پھوپا بھی لگتے ہیں۔‘‘ فون پر وانیہ خود کو گلہ کرنے سے روک نہ پائی‘ حقیقتاً حاشر کے رویے نے اسے ہرٹ کیا تھا۔
’’یار… پھوپا گورنمنٹ ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں‘ وہاں کا ماحول کتنا غلیظ اور بدبودار ہوتا ہے۔ میں تو وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہاں اگر کسی اچھے سے پرائیوٹ ہسپتال میں ایڈمٹ ہوتے تو ضرور چکر لگاتا۔‘‘ حاشر کی بات پر وہ چپ رہ گئی‘ اگر اتنے ہی مالی حالات اچھے ہوتے تو اس کا باپ سرکاری ہسپتال میں داخل ہوتا۔
ہاں البتہ ابا کے گھر شفٹ ہونے کے بعد حاشر ان کے گھر آیا تھا‘ لمبی سی چمکتی سیاہ اکارڈ میں‘ سیاہ چشمہ لگائے بے حد آف موڈ کے ساتھ۔
’’وانیہ… تمہارا محلہ ہے یا کوئی کوڑا نگر‘ جدھر دیکھو کچرے کے ڈھیر‘ گندگی‘ غلاظت نہ ڈرینج سسٹم ٹھیک ہے ناں روڈ۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی سرکس میں گاڑی چلا رہا ہوں۔‘‘ حاشر ناگواری سے کہہ رہا تھا اور وانیہ بُری طرح شرمندہ ہوئے جارہی تھی مگر معاذ عبدالکریم کو سنجیدگی سے مداخلت کرنا پڑی۔
’’حاشر صاحب… آپ بلاوجہ مبالغہ کررہے ہیں‘ ورنہ تو اس روڈ سے روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں بلا رکاوٹ گاڑیاں گزرتی ہیں شاید آپ کو ڈرائیونگ پر مکمل عبور نہیں‘ ایک ماہر ڈرائیور ہر طرح کے دشوار راستوں پر گاڑی دوڑانا جانتا ہے۔‘‘ حاشر کو ایک دم سے توہین کا احساس ہوا تھا‘ البتہ اماں اور ابا کے چہرے پر طمانیت کا احساس بکھرا تھا۔
وانیہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ حاشر کی خاطر تواضح کس چیز سے کرے۔ معاذ عبدالکریم سے بیکری کے کچھ آئٹمز منگوائے اور بوکھلاہٹ میں جیسے تیسے چائے تیار کی۔ حاشر چائے پیتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ جب وہ ان کی گلی میں داخل ہوا تو کیسے چھتوں پر چڑھی خواتین حیران ہوکر اس کی گاڑی کو دیکھ رہی تھیں۔
’’سوچ رہی ہوں گی کہ اتنی شاندار گاڑی میں آخر کون آپ لوگوں کے دروازے پر آیا ہے۔‘‘ مسکراتے ہوئے انداز میں سراسر شیخی تھی۔ ایمن کو وانیہ کی پسند پر بے حد افسوس ہوا تھا۔
اسی دم صحن میں پکڑن پکڑائی کھیلتے ریحان اور طیب تیزی سے بھاگتے ہوئے اندر آئے اور اپنی ہی جھونک میں ریحان‘ حاشر پر جاگرا تھا۔ چائے حاشر کے کپڑوں پر الٹ گئی‘ ایک تو ہلکی سی جلن کا احساس اوپر سے داغ دار بہترین ٹو پیس سوٹ‘ حاشر نے بے اختیار ہاتھ گھما کر ریحان کے منہ پر دے مارا تھا۔
’’نان سینس… جاہل… دیکھ کر نہیں آسکتے تھے۔‘‘ ریحان منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموشی سے باہر چلا گیا‘ اماں عاجزی سے معذرت کرنے لگیں۔
’’بس بیٹا‘ تمہارا اپنا پھوپی زاد ہے‘ ذرا لاڈلہ ہے۔‘‘
’’حاشر صاحب… زحمت نہ ہو تو پلیز اپنی گاڑی ذرا آگے میدان میں پارک کردیجیے‘ گلی میں ٹریفک کے آنے جانے کا مسئلہ ہورہا ہے۔‘‘ اسی دم معاذ عبدالکریم نے اندر آکر حاشر سے درخواست کی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اوہ میں تو بھول ہی گیا تھا کہ اتنی تنگ گلی میں مجھے اتنی لمبی گاڑی پارک نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ حاشر کا انداز استہزائیہ تھا۔
وانیہ بھی اس کے ساتھ چلتے چلتے دروازے تک آئی تھی۔ گاڑی نے واقعی گدھا گاڑی اور دوسری چھوٹی موٹی پک اپس کا راستہ روک رکھا تھا مگر گاڑی کے بونٹ پر لگی کھرنچوں اور شیشے پر میلے دھبوں نے حاشر کا تو دماغ ہی الٹ دیا تھا۔
’’یہ کس ان مینرڈ نے میری گاڑی کا حشر نشر کیا ہے؟‘‘ حاشر مڑ کر دروازے کے پٹ سے لگی وانیہ سے مخاطب ہوا تھا‘ انداز بے حد سخت تھا۔
’’حاشر‘ کچھ کہہ نہیں سکتی‘ محلے کے بچوں کا کام ہوگا۔‘‘ وانیہ پھنسی پھنسی آواز میں شرمندگی سے بولی۔
’’او بھئی گاڑی ہٹا… راستہ دے‘ کام کا وقت نکلا جارہا ہے۔‘‘ آگے والی پک اپ کا ڈرائیور چلایا تو باقی سارے ہارن بجانے لگے‘ ہر ایک چہرے سے کوفت و بے زاری ظاہر ہورہی تھی۔
’’وانیہ‘ تمہارے گھر آنا میرے لیے اتنی ٹینشن کا باعث بنے گا اگر مجھے علم ہوتا تو بائی گاڈ میں کبھی یہاں قدم نہ رکھتا۔‘‘ حاشر نے انتہائی کھردرے انداز میں وانیہ کو مخاطب کیا‘ سیاہ چشمہ آنکھوں پر لگا کر گاڑی بھگا کر لے گیا‘ وانیہ کی آنکھوں میں مارے شرمندگی کے آنسو آگئے تھے۔
’’کوئی ایسا خاص نقصان نہیں ہوا‘ تم دل پر نہ لو چلو اندر چلو۔‘‘ معاذ عبدالکریم نے اس کی آنکھوں میں چمکتے پانی کو دیکھتے ہوئے نرمی سے اسے اندر دھکیل کر دروازہ بند کردیا۔ وانیہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ کاش یہ ساری بدمزگی نہ ہوئی ہوتی اگر ہونی تھی تو کم از کم معاذ عبدالکریم کے سامنے نہ ہوتی۔ اُف مارے شرمندگی اور خجالت کے اس کا دل اندر ہی اندر ڈوبا جارہا تھا۔
/…ء…/
’’معاف کیجیے گا بھائی صاحب… کچھ کاروبار کے بکھیڑے اور کچھ ناسازی طبع فوراً آپ کی طبیعت پوچھنے وقت پر نہ آسکا۔‘‘ ماموں نفیس دیر سے آنے پر ابا سے معذرت کررہے تھے۔ ممانی صدف بھی ان کے ہمراہ آئی ہوئی تھی۔
’’بس نفیس بھیا‘ قسمت میں یہ چوٹیں لکھی تھیں‘ رب کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے زندگی بخشی۔ میرا جوان بھتیجا معاذ عبدالکریم میرا بازو اس کے تازہ وتوانا خون نے میری رگوں میں نئی زندگی بھردی ہے۔‘‘ ابا بھرائی آواز میں بولتے ہوئے ممنون نگاہوں سے ساتھ بیٹھے معاذ عبدالکریم کو دیکھنے لگے جو سوپ کا بائول ہاتھ میں لیے خاموشی سے ان سب کی باتیں سن رہا تھا۔
’’چلیں چاچا‘ آپ کے سوپ پینے کا ٹائم ہورہا ہے پھر دوا بھی کھانی ہے۔‘‘ معاذ عبدالکریم نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے ابا کی کمر سرہانے سے ٹیک لگائی تھی۔ نفیس احمد نے متاثر زدہ نظروں سے اس کی چوڑی پشت کو دیکھا تھا جو ان کی طرف ہوگئی تھی پھر میز پر رکھے جگ سے پانی انڈیلنے ہی لگے تھے کہ ممانی صدف نے ہاتھ سے انہیں روک دیا۔
’’کیا کرتے ہیں نفیس‘ یہ نلکے کا پانی ہے‘ آپ نے منزل واٹر پینا ہوتا ہے۔ پتا بھی ہے ڈاکٹرز نے آپ کو کتنی احتیاط بتائی ہے۔‘‘ ماموں نے ہاتھ روک لیا‘ چائے کے ساتھ بسکٹ اس لیے نہیں لیے کہ یہ بیکری کے کھلے بسکٹ ہیں‘ حفظان صحت کے اصولوں کے عین خلاف۔
جاتے ہوئے ماموں نے خاکی رنگ کا ایک لفافہ میز پر رکھ دیا جو کافی پھولا پھولا تھا۔ ممانی نے ایک عاجزانہ درخواست بھی ساتھ کر ڈالی تھی۔
’’جمیلہ آپا… اپنے بیٹے ارسلان کو کچھ دنوں کے لیے ہماری طرف بھیج دیں‘ نفیس کا میل اٹینڈنٹ کسی وجہ سے چھٹی پر گیا ہوا ہے‘ ان کے اٹھنے بیٹھنے‘ واک کرانے کا پرابلم ہے۔ جیسے آپ لوگوں کا بھتیجا معاذ عبدالکریم بھائی کا خیال رکھ رہا ہے ایسے میں اگر نفیس کا بھانجا ان کی بیماری میں ان کے کام آجائے تو خوش قسمتی ہے آپ لوگوں کی۔‘‘ آخر میں ممانی کا لہجہ کچھ تفاخرانہ سا ہوچلا تھا۔ اپنی بات کے جواب میں انہوں نے سب کے خاموش چہرے دیکھے تھے۔
’’ایسا ہے بہن کہ ایکسیڈنٹ کے بعد مجھے اپنی زندگی سنواری ہوئی لگتی ہے۔ ایک لمحہ کو بھی اپنے بچوں کو نظر سے دور کرنے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘ ابا نخیف مگر دو ٹوک انداز میں بولے۔
’’خیر بھائی صاحب‘ آپ کی بات بلکہ خواہش سراسر غیر حقیقت پسندانہ ہے آخر کو بیٹیاں بھی بیاہنی ہیں۔ ہوسکتا ہے ان کے نصیب میں کوئی دور دیس لکھا ہو۔‘‘ ممانی صدف برانڈڈ پرس کی ڈوری بازو پر لپیٹتے ہوئے کچھ جتا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’نہیں بہن… اللہ نے چاہا تو میری ساری بچیاں میری آنکھوں کے سامنے ہی ہنستی بستی رہیں گی۔ آخر کو بھائی بہن کے جوان بچے میری امید کو جواں رکھتے ہیں۔‘‘ ابا کی چمکتی آنکھوں میں خوابوں کے رنگ وانیہ سمیت سبھی کے لیے جانے پہچانے تھے۔
’’جی ٹھیک کہا آپ نے‘ جب گھر میں جوڑ کے سنجوگ موجود ہوں تو دور کے ڈھول سننے کی کیا ضرورت۔‘‘ ممانی تائیدی انداز میں کہتے ہوئے ماموں سمیت رخصت ہوگئیں۔
’’چھناک… ک… ک…‘‘ وانیہ کے دل میں کچھ بہت زور سے ٹوٹا تھا اور اس ٹوٹے ہوئے کانچ کی آواز اتنی زور دار تھی کہ وہ کتنی ہی دیر کھڑی اس آواز کی بازگشت سنتی رہی تھی۔
’’یہ مامی کیا کہہ گئی؟ انہیں تو کچھ اور کہنا چاہیے تھا‘ یہی کہنا چاہیے تھا کہ لازمی نہیں آپ اپنے سارے بچوں کو اسی گھر میں کھپا دیں۔ وانیہ کا نصیب ذرا مختلف اور روشن ہونا چاہیے۔‘‘ کافی دیر بعد اس نے خود کلامی کی۔
’’کچھ بھی نہ کہا‘ نہ میرے اور حاشر کے رشتے کی بات کی‘ نہ جاتے ہوئے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر خصوصی پیار کیا۔ کیا اتنا ہی ہلکا لے رکھا ہے انہوں نے اپنے بیٹے کی خواہش کو۔‘‘ اندر ٹوٹے ہوئے احساس کی چبھن اتنی پُر درد تھی کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس انوکھے دردکی اذیت اس نے پہلی بار جھیلی تھی‘ کیا بے توجہی‘ ناقدری کے احساسات اتنے اذیت ناک اور پُردرد ہوتے ہیں کہ بندہ خود سے بھی نظریں چرانے پر مجبور ہوجائے۔
اماں ارسلان کو ماموں کے گھر بھیجنے کے جتن کررہی تھیں‘ آخر کو لفافے میں رکھے کافی سارے نیلے نوٹ انہیں مجبور کررہے تھے کہ بھائی بھابی کی خواہش کو پس پشت نہ ڈالیں۔
’’جا میرا بچہ‘ اگلے ہفتے ویسے بھی عید ہے‘ عید کا کہہ کر گھر واپس آجانا۔‘‘ اماں ارسلان کو پچکار رہی تھیں۔ ارسلان بے دلی سے جانے کی تیاری کررہا تھا مگر معاذ عبدالکریم کو اماں کا فیصلہ اچھا نہیں لگ رہا تھا‘ دبے دبے انداز میں کہا۔
’’چاچی… ارسلان نویں کا طالب علم ہے‘ وہاں جاکر یہ پڑھ نہیں پائے گا‘ اس کی اکیڈمی کا حرج ہوگا۔‘‘
’’ارے نہیں‘ میرے بھائی کا گھر آسائشوں سے بھرا پُرا ہے‘ وہ اسے پڑھنے سے کیوں روکیں گے۔‘‘ اماں نے معاذ عبدالکریم کی بات کو اہمیت نہ دی۔
ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی تینوں گھروں نے قربانی کے بکرے خرید لیے تھے۔ بچوں کا ٹولہ بکروں کے چائو اٹھانے میں زیادہ تر مصروف رہتا تھا۔ ہر جگہ ان کے چارے کا پھیلاوا بکھرا ہوتا۔
’’دنیا جہاں کی قربانیاں عید سے صرف ایک یا دو دن پہلے آتی ہیں مگر ناں جی انہیں دیکھو ہفتہ پہلے گند پھیلانے کے لیے ریوڑ کو گھر لے آئے۔‘‘ وہ جلتی کلستی جانوروں کا گند صاف کرتے ہوئے بلند آواز میں کہتی۔ ابا جو اَب زیادہ تر گھر میں آرام کررہے تھے اس کی بڑبڑاہٹ سنتے رہتے۔
’’وانیہ بیٹا… اللہ کی راہ میں قربانی ہمیشہ اس جانور کی کرنی چاہیے جو ہمیں بہت عزیز اور بہت پیارا ہو‘ اس جانور سے کیسا لگائو اور انسیت پیدا ہوگی جو عید سے ایک دن پہلے گھر لایا جائے۔ قربانی کے جانور کی عزت اور خدمت کرنی پڑتی ہے اس کے لاڈ اٹھانے پڑتے ہیں۔ یہی خدمت اور عزت ہی بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ پاتی ہے۔ جب تک اپنی قربانی میں اپنی محبت اور انتہا درجے کی چاہت شامل نہیں کریں گے تو ذوقِ ابراہیمی کہاں سے پیدا ہوگا۔ قربانی نام ہی اپنی محبتوں‘ خواہشوں اور تمنائوں کو اپنے محبوب حقیقی کے آگے پیش کرنے کا ہے‘ اپنی چاہت پس پشت کرکے رفیق حقیقی کی چاہت کو ترجیح دینا ہی انسانیت اور جذبہ محبت کی اعلیٰ ترین معراج ہے۔‘‘ ابا دھیرے دھیرے فلسفہ قربانی بیان کررہے تھے‘ وہ فرش پر پونچھا چھوڑ کر لمحہ بھر کو دم بخود ہوئی تھی۔
’’قربانی‘ محبوب… ذوق ابراہیمی…‘‘ ذہن میں ابا کے الفاظ کی تکرار ہورہی تھی۔
/…ء…/
ارسلان تیسرے دن ہی ماموں کے گھر سے لوٹ آیا تھا۔
’’مجھ سے نوکروں والے کام کرواتی تھیں مامی‘ برتن دھلواتی‘ مالی کے ساتھ مل کر باغ کی صفائی کرواتی‘ پورچ دھلوایا‘ گاڑی چمکواتیں۔‘‘ ارسلان آنکھوں میں آنسو لیے بتارہا تھا۔
’’ہائے میرا لال… میں نے اس لیے تجھے شہزادوں کی طرح پالا تھا کہ تجھے بھابی اپنے گھر کا نوکر بنالے۔‘‘ اماں نے بھینچ کر ارسلان کو گلے سے لگایا۔
’’اور تو اور وہ جو حاشر بھائی ہیں‘ ان کی ایک دوست ملنے آئیں‘ برستی بارش میں‘ خوب لمبی اور ماڈرن سی‘ ان کی گاڑی پر کیچڑ لگی تھی۔ ارسلان بھائی نے مجھے گاڑی دھونے کو کہا‘ میں نے خوب دل لگا کر دھوئی مگر ان کی دوست شہرین کیا کہہ رہی تھی۔ اسے صفائی پسند نہ آئی تو حاشر بھائی نے مجھے کھینچ کے تھپڑ مارا اس لڑکی کے سامنے‘ گالیاں بھی دیں۔‘‘ ارسلان بولتے بولتے رو پڑا تھا۔
’’میں قربان جائوں اپنے ویر پر‘ وہ ہاتھ ٹوٹیں جس نے میرے بھائی کے نازک رخساروں کو پیٹا۔‘‘ وانیہ نے بے ساختہ آگے بڑھ کر ارسلان کے ماتھے پر بوسہ دیا‘ اس کے دل میں عجیب پکڑ دھکڑ ہورہی تھی۔
’’ہاں بھئی میرے شیرا واپس لوٹ آئے ہو۔‘‘ معاذ عبدالکریم خوش دلی سے ارسلان سے پوچھ رہا تھا۔
’’ارسلان میرا کزن ہے‘ میرا جگری یار اور بھائی‘ جانتا ہے کہ سنگ مرمر پر چلنے سے بہتر ہے کہ اپنی مٹی پر ہی چلنے کا سلیقہ سیکھا جائے۔‘‘ وہ مخاطب تو ارسلان سے تھا مگر دیکھ اس کی طرف رہا تھا۔ وانیہ نے دانستہ رخ موڑ لیا تھا‘ عام سے لہجے میں ہزاروں معنی چھپے ہوئے تھے۔
’’چلو ارسلان… اندر شیلف میں عید کی شاپنگ کی لسٹ رکھی ہے‘ دیکھ کر بتائو کہ کوئی چیز کم تو نہیں۔‘‘ اس نے ارسلان کو وہاں سے روانہ کیا کہ مبادا کہیں وہ معاذ عبدالکریم کے سامنے ہی ماموں کے گھر کی روداد نہ بیان کردے۔
’’وانیہ‘ تم بزرگوں کا پروگرام جانتی ہو ناں‘ عید کے چوتھے دن سے میری اور تمہاری زندگی کے نئے موڑ کی تیاریوں کی شروعات‘ ایک نیا بندھن‘ داستان حیات کے الگ باب کا آغاز…‘‘ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب آیا۔ وانیہ کی نظریں سرخ پختہ فرش پر جمی ہوئیں تھیں۔
’’اماں اپنے حساب اور پسند سے تیاریوں میں لگی ہیں‘ میں نے ان سے کہہ دیا ہے آپ وانیہ کی پسند کو اولیت دیں۔ آخر کو اس نے یہ ساری چیزیں پہننی اوڑھنی ہیں۔‘‘ بے حد دوستانہ انداز میں بولتے ہوئے وہ اس کا مان بڑھا رہا تھا۔ عزت افزائی بخش رہا تھا‘ یہ سادہ لوگوں کا سادہ اظہارِ محبت۔
’’نہیں معاذ عبدالکریم… چاچی کے بھی اپنے ارمان ہیں‘ ان کی پسند پر مجھے پورا بھروسہ ہے۔ لازمی نہیں کہ ہم ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کو آزمائیں‘ کبھی ان کی چاہ میں اپنی چاہ ملا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ زندگی پر کتنا خوب صورت رنگِ الفت چڑھتا ہے۔‘‘ وہ نرمی سے کہہ کر اندر کی طرف چل دی۔ معاذ عبدالکریم اس کی نازک کمر پر جھولتی چٹیا کو دیکھتے ہوئے قدر دانی سے مسکرادیا۔ اس کے موبائل پر رنگ ہورہی تھی‘ نمبر حاشر کا تھا۔
’’ہیلو جان من… کیسی ہو؟ ریڈی ہوجائو میں تمہیں پک کرنے آرہا ہوں‘ تمہیں عیدکی شاپنگ کروانی ہے۔ خوب گھمانا پھرانا ہے‘ تمہاری من پسند چیزیں تمہیں دلوانی ہیں۔‘‘ حاشر اپنی مخصوص ترنگ میں بولا۔
’’حاشر… تم نے میرے بھائی کو تھپڑ کیوں مارا تھا؟‘‘ اس نے چبھتے ہوئے انداز میں پوچھا۔
’’تمہارے بھائی کو کب مارا تھا… اچھا وہ ینگ بوائے تمہارا بھائی تھا۔‘‘ حاشر کو ایک دم یاد آیا۔
’’ہاں وہ میرا بھائی تھا جسے تم نے اپنی گرل فرینڈ کے سامنے مارا تھا۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی۔
’’بائے گاڈ وانیہ… مجھے تو امی نے کہا تھا کہ یہ ہمارا نیا ملازم ہے‘ مجھے علم ہوتا تو میں کبھی مس بی ہیو نہ کرتا۔‘‘ حاشر کا لہجہ متاسفانہ تھا۔ ’’اور ویسے بھی مجھے تمہارے بہن بھائیوں کا زیادہ علم نہیں‘ نہ چہرے یاد ہیں۔ نام تو بالکل نہیں آتے‘ اب ایک دو ملاقاتوں میں کہاں اتنا کچھ یاد رہتا ہے۔ ہاں البتہ جیجا جی بنیں گے تو سبھی کچھ یاد کرلیں گے۔ آشنائی کے سارے مرحلے طے کریں گے‘ ابھی تو تمہاری ذات کو حفظ کرنے میں لگا ہوں۔‘‘ بولتے بولتے حاشر کا لہجہ شوخ ہوا تھا‘ مگر آج وانیہ کے جذبات اور احساسات میں ٹھہرائو تھا‘ خیالات میں مضبوطی تھی۔ حاشر کا اس کی زندگی میں آنا ایک پُربہار جھونکے سے زیادہ نہیں تھا۔ ہاں ایک جھونکا جو وقتی‘ عارضی اور لمحاتی ہوتا ہے اس پُربہار جھونکے نے اسے خوشبوئوں اور رنگوں کی ایسی دنیا دکھائی کہ اس نے خود کو خوشیوں کے حصار میں مقید کرلیا تھا۔ جہاں اس کی زندگی بھر کی ناآسودہ اور تشنہ خواہش اس کی مٹھی میں آگئی تھیں مگر ان سب کے باوجود اس کے جذبات پر ماں باپ کی تربیت کا ایسا عمدہ پہرہ تھا جس نے اس کی خواہشوں کو بے لگام ہونے سے روکا ہوا تھا۔
اسے گھر کا پُرشور اور ہنگاموں سے بھرپور ماحول اکتاتا تھا مگر گھر والوں سے محبت بھی تو گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ حاشر کا تھپڑ صرف ارسلان کے منہ پر نہیں بلکہ اس کے دل پر بھی زور سے لگا تھا۔ کئی مہینوں کی کشمکش لمحوں میں ختم ہوگئی تھی‘ فیصلہ آسان ہونا ہی تھا۔ معاذ عبدالکریم کو اس کے بہن بھائیوں کی ایک ایک خواہش کا ادراک تھا‘ ان کی اسکولنگ‘ ان کے ٹیچرز اور حاشر کو اس کے بھائی کا نام تک نہ آتا تھا۔
’’ایم سوری وانیہ… میں ارسلان سے خود معذرت کرلوں گا‘ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ تمہارا بھائی تھا۔‘‘ حاشر صفائی دے رہا تھا۔
’’تو کیا میرے بھائی کی جگہ کوئی اور لڑکا بھی ہوتا تو تم اسے ایسے تھپڑ رسید کردیتے؟‘‘ وانیہ نے الٹا اس سے پوچھا۔
’’یار… ایک بات کو لے کر کیوں ناراض ہورہی ہو اور نوکروں سے کیسے ڈیل کیا جاتا ہے‘ بولو… کبھی نوکر گھر میں رکھے ہوں تو…‘‘ حاشر لمحوں میں اپنی اصلیت پر آیا تھا۔ وانیہ نے ایک لمبی سانس کھینچ کر کال ڈس کنکٹ کردی۔
ابا سچ کہتے ہیں عیدِ قرباں کا مطلب اپنی محبت‘ خواہش اور آرزو پہ اپنے محبوب کی چاہ کو ترجیح دینا اور اس کے سب گھر والے ہی اس کے محبوب ہی تو تھے جن کے لیے وہ اپنی سراسر جذباتی خواہش کو قربان کیوں نہ کرسکتی تھی۔ ایک پُرسکون‘ آسودہ اور خوش حال زندگی کی خواہش جس میں عزت‘ محبت اور قدر بھی شامل تھی بلاشبہ اس کی یہ ساری خواہشیں اس گھر میں پوری ہونے والی تھیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close