Hijaab Oct-16

تیرے رنگ وچ

ریحانہ آفتاب

’’رنم فاطمہ…‘‘ دادی کی کوئی چوتھی پانچویں مسلسل پکار تھی جس سے بچنے کے لیے وہ کب سے کوشش کررہی تھی۔ ہر بار دادی کی پکار پر اس کے خوابیدہ وجود میں ہلچل ہوتی۔ اب کے اس نے تکیہ کان پر رکھ کر اسے ہاتھوں سے دبوچ لیا۔ غالباً دادی کو بھی رنم فاطمہ کی ڈھٹائی کا احساس ہوگیا تھا تب ہی سلام پھیر کر انہوں نے خوابیدہ پوتی کے انداز ملاخطہ فرمائے۔
’’رنم فاطمہ…‘‘ اب کے دادی نے تکیہ اس کے کان سے ہٹایا۔
’’سونے دیں دادی پلیز۔‘‘ کسمسا کر اس نے تکیہ دوبارہ کان پر رکھنا چاہا مگر دادی اس کا ارادہ بھانپ گئی تھیں۔ تب ہی تکیہ اٹھا کر انہوں نے قدرے دور پھینک دیا تو وہ مندی مندی آنکھوں سے اور بے چارگی سے دور پڑے تکیہ کو حسرت سے دیکھ رہی تھی۔
’’کیوں آدھی رات کو اٹھا رہی ہیں دادی؟‘‘ اس نے جیسے دہائی دی۔
’’آدھی رات… لڑکی فجر کی نماز کا وقت نکلا جارہا ہے۔‘‘ دادی نے حیرت کا اظہار کیا اور تسبیح لے کر پلنگ پر بیٹھ گئیں۔
’’میں تو ابھی سوئی تھی دادی۔ سونے دیں پلیز۔‘‘ اس نے رحم کی اپیل کی۔
’’ہاں تو تم کون سا تہجد کے لیے جاگ رہی تھیں۔ لگی تھیں موا فیس بک واٹس اپ پر‘ اپنی سہیلیوں کے ساتھ۔‘‘ دادی کو تو شوشل ایپ سے ویسے بھی خدا واسطے کا بیر تھا۔
’’پلیز دادی میں ظہر کی نماز کے ساتھ فجر کی قضاء نماز بھی پڑھ لوں گی ابھی سونے دیں۔ آنکھیں نہیں کھل رہیں میری۔‘‘ اس نے پلکیں جھپک جھپک کر جیسے التجا کی۔
’’چار رکعت پڑھنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ اٹھو شاباش۔‘‘ دادی کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹانا ناممکن تھا۔ بحث سے بھی نیند متاثر ہورہی تھی اس سے تو یہ ہی بہتر تھا کہ دادی کی بات مان لی جاتی۔ وہ جھٹکے سے اٹھی۔
’’شاباش جائو وضو کرکے آئو جلدی سے۔‘‘ انہوں نے چھوٹی بچی کی طرح پچکارا تو وہ منہ بسورتی وضو کرنے چلی گئی۔ جیسے تیسے جھومتی جھامتی چار رکعت مارے باندھے پڑھ کر اس نے جلدی سے جائے نماز سمیٹی اور بیڈ کی طرف دوڑ لگا دی دادی ابھی تک بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔
’’صبح کی نماز سے چہرے پر نور برستا ہے دیکھو تو کیسا کھلا کھلا لگ رہا ہے چہرہ۔‘‘ دادی نے محبت سے رنم فاطمہ کا چہرہ دیکھا۔
’’کیا ہی اچھا ہو جو قرآن پاک کی تلاوت بھی کرلو۔ کوئی تسبیح ہی پڑھ لو۔‘‘ دادی کہہ رہی تھیں لیکن جب دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو انہوں نے بغور رنم فاطمہ کو دیکھا جو دوبارہ سوچکی تھی اس کی بے فکری عمر کی مست نیند کو محبت سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر دوبارہ سے تسبیح پڑھ کر اس پر پھونکیں مارتی جارہی تھیں۔
/…/…/…/
’’بڑی بے حیا ہے یہ‘ ہر بار منہ اٹھا کر مہینوں کراچی کا رخ کرلیتی ہے۔‘‘
’’کون رنم کس کی بات کررہی ہو؟‘‘ سنبل نے اس کے جھلائے انداز پر حیرانی سے دریافت کیا۔
’’گرمی اور کون… سارا سال گرمی کراچی پر راج کرتی ہے اور سردی اسے تو آتے ہی جیسے جانے کی لگ جاتی ہے۔‘‘ لان کا سوٹ پہنے چہرے پر آئے پسینے کو ٹشو سے صاف کرتی وہ سخت برہم نظر آرہی تھی۔
’’اور کیا سردی ہوتی ہے تو عاشقوں کے دل سے دعا نکلتی ہے‘ بے چارے رضائی میں دبکے سیل فون کان سے لگائے نائیٹ پیکجز میں لگ کر نیٹ ورک والوں کا بھلا کرتے ہیں مگر خدا کی مار ہو گرمی پر جو عاشقوں کے راز فاش کردیتی ہے۔‘‘ گھاس پر بیٹھی وانیہ اسائنمنٹ بنا رہی تھی پوائنٹر بند کرتے اس نے بھی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے۔
’’تمہارا درد تو ہم محسوس کرسکتے ہیں۔‘‘ سنبل نے شرارت سے آنکھ ماری۔
’’چپ کرو ایسا ناہو گرمی کا سارا غصہ تم پر اتر جائے۔‘‘ وانیہ نے دھمکایا۔ وانیہ اپنے کزن میں انٹرسٹڈ تھی ان کی بات طے ہوگئی تھی مگر وہ کھلم کھلا تو سب کے سامنے بات نہیں کرسکتے تھے۔
’’گرمی ہے تو کیا ہوا تم رضائی اوڑھ لیا کرو اور اماں کو بتائو کہ عاشقی میں سردی لگتی ہے۔‘‘ سنبل نے چڑایا۔
’’یہ بھی کرکے دیکھا ہے۔ جب مارے گھٹن اور پسینے سے بی پی لو ہونے لگا تو اماں نے ہی دو دھموکے لگا کر رضائی اسٹور میں رکھوا دی تھی۔‘‘ وانیہ منہ بسور کر بولی۔
’’حد کردی تم نے۔‘‘ سنبل کے ساتھ رنم فاطمہ کی ہنسی بھی بے ساختہ تھی۔
’’ہمیں کچھ نا کہو کہ محبت کے مارے ہیں ہم… کیا کچھ کرتی پھرتی ہو محبت میں۔‘‘ رنم فاطمہ نے جیسے مذاق اڑایا۔
’’جب کوئی چاہنے والا تمہاری زندگی میں آیا تب پوچھوں گی بیٹا…‘‘ وانیہ نے جیسے دانائی کا سبق پڑھایا۔
’’میں ایسی بے وقوفی ہرگز نہیں کرسکتی۔‘‘ رنم فاطمہ نے مسکرا کر جیسے اسے جھٹلانا چاہا۔
’’محبت اچھے اچھوں کو بدل دیتی ہے کبھی تو چھری تلے آئو گی۔‘‘ وانیہ اپنے موقف پر قائم تھی اور اس موضوع پر اسے کوئی ہرا بھی نہیں سکتا تھا۔
’’چلو اسلامیات کی کلاس کا ٹائم ہوگیا۔‘‘ سنبل نے رسٹ واچ دیکھتے ہوئے انہیں احساس دلایا۔
’’اتنی گرمی میں میرا دل نہیں چاہ رہا سر سے پائوں تک حجاب میں لپٹی کنیز کو دیکھوں‘ اف اسے تو دیکھتے ہی گرمی لگنے لگتی ہے۔ ہمارا لان کے سوٹ میں دوپٹے کو نوچ پھینکنے کو دل کرتا ہے اور ایک یہ کنیز صاحبہ ہیں گلوز‘ سوکس اف گرمی کا احساس دو چند۔‘‘ رنم فاطمہ نے جیسے ہی ذکر نکالا شومئی قسمت کنیز بلیک عبایا‘ گلوز اور سوکس میں لپٹی کلاس کی طرف جاتی نظر آنے لگی۔ اسے دیکھتے ہی اس نے جیسے جھرجھری لی۔
’’اسے دیکھ کر جھرجھری لینے کے بجائے اس سے ہدایت لینی چاہئے۔ شرعی پردہ عورت کی بقا بھی ہے اور احکام بھی۔‘‘ وانیہ نے حقیقت گوش گزار کی۔
’’پردے سے ہم گندی نظروں سے بچ جاتے ہیں وہ ٹھیک ہے لیکن یہ بھی تو دیکھو کس بلا کی گرمی ہے اور عبایا‘ گلوز اور سوکس۔‘‘ رنم فاطمہ کے ذہن سے گرمی کا احساس ختم نہیں ہورہا تھا وانیہ کی بات اس نے بیچ میں ہی اچک لی۔
’’جہنم کی گرمی کو یاد رکھوگی تو یہ گرمی کچھ نہیں لگے گی ڈیئر اور جب عشق رسولﷺ ہو تو کوئی کام مشکل نہیں لگتا۔ ایک انسان کی محبت میں جب ہم کھانا پینا‘ اوڑھنا بول چال کا انداز تک بدل لیتے ہیں تو عشق رسولﷺ میں کیوں نہیں۔‘‘
’’انہیں خبر ہی نہیں ہوئی کلاس کی طرف جاتے کنیز جانے کہاں سے ان کے پیچھے چلتی آرہی تھی۔ ہم قدم ہوتے اس نے ان کی گفتگو میں حصہ لیا تو اس کی دلیل پر سنبل اور رنم فاطمہ تو کچھ نہ بول سکیں وانیہ اتفاقی انداز میں سر ہلانے لگی۔
کلاس روم میں پنکھا چل رہا تھا کنیز نے ان کے ساتھ ہی کلاس میں داخل ہوتے ہوِئے السلام علیکم زور دار آواز میں کہا جس سے کلاس میں ہلچل مچ گئی تھی۔ کچھ نے جواب دیا اور کچھ نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔ چیئر پر بیٹھ کر کنیز نے اپنے چہرے سے حجاب ہٹا دیا تھا کہ کلاس میں صرف لڑکیاں ہی ہوتی تھیں رنم فاطمہ نے اس کے پسینے سے تر چہرے کو بغور دیکھا جس پر بے پناہ سکون تھا۔
/…/…/…/
’’کیا ہورہا ہے ڈیئر؟‘‘ وہ کچن میں مصروف عمل تھی جب عالیان کچن میں آیا۔ اس نے ا یک نظر اسے دیکھا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
’’پائن ایپل اسکوائش بنا رہی ہوں بھائی۔ آپ پئیں گے۔‘‘ جوسر میں پائن ایپل کے کیوبز ڈالتے اس نے آفرکی۔
’’نا کہا تو بھی تم نے پلا کے ہی دم لینا ہے۔ ویسے گرمی آتے ہی تمہیں ہو کیا جاتا ہے کبھی فالسے کا شربت کبھی کیری‘ چیری اسٹرابری کی شامت آئی رہتی ہے۔‘‘ عالیان نے مسکراتے ہوئے چھیڑا۔ وہ اس کی ہائے گرمی وائے گرمی سے آگاہ تھا۔
’’اصولاً تو تمہیں کچن کو رونق ہی نہیں بخشنا چاہئے اے سی سے نکل کر اسکوائش بنانا اف…‘‘ عالیان نے چھیڑا۔
’’اے سی میں بیٹھ کر اسکوائش پینے کا مزا ہی کچھ اور ہے بھائی اور مشروبات سے جسم کو توانائی ملتی ہے جسم سے نمکیات پسینے کی صورت خارج ہوجاتی ہے تو جسم کو تقویت پہچانے کے لیے گرمیوں میں مشروبات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘‘
’’اب گرمی کے فروٹس اور اسکوائش کے فوائد گنوانے نا لگ جانا۔‘‘ عالیان نے ہاتھ جوڑے تو وہ مسکرا دی۔
’’گھر میں کچھ ہے جو مہمانوں کے آگے رکھا جاسکے۔‘‘ کیبنٹ چیک کرتے عالیان نے پوچھا۔
’’جی بسکٹس ہیں۔ کباب بھی ہیں فرائی کردوں گی۔ شام کے لیے ماما نے اسنیکس بھی بنا رکھے ہیں۔‘‘ رنم فاطمہ نے تفصیل سے بتایا۔
’’گڈ اور تمہارا اسکوائش بھی تو۔‘‘ عالیان نے جیسے مزا لیا۔ وہ بھی مسکرا دی۔
’’میں شاور لے لوں‘ کچھ دوستوں نے آنا ہے۔‘‘ عالیان نے کچن سے نکلتے ہوئے کہا۔ وہ سر ہلا کر جوسر میں آئس کیوبز ڈالنے لگی۔ اسکوائش تیار ہوگیا تھا۔ ڈور بیل بجی۔ ماما گھر پر نہیں تھیں عالیان واش روم میں تھا۔ ہاتھ خشک کرتی وہ دروازے تک آئی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ دروازہ کھلتے ہی اسکائی بلو جنیز اور اسکائی بلو شرٹ میں گلاسز آنکھوں پر چڑھائے احسن قدرے فاصلے پر کھڑا تھا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ اس کے دل کی دنیا اتھل پھل ہونے لگی۔ وہ اتنا ہینڈسم اور فریش لگ رہا تھا کہ اس پر نظر پڑتے ہی اس کا دل سر پٹ دوڑنے لگا۔ اس کے پیچھے دو اور حضرات تھے جنہیں وہ وقتاً فوقتاً دیکھتی آئی تھی۔ یہ تینوں عالیان کے بیسٹ فرینڈ تھے۔ ان چاروں کی کالج سے دوستی چلی آرہی تھی۔ اکثر و بیشتر وہ ایک دوسرے کے گھر رونق بخشتے تھے۔ احسن چند قدم چل کر اس تک آیا۔ اس کی چوڑی پشت کے پیچھے وہ دونوں جو اسے دیکھ رہے تھے ان کی نظریں کچھ چھپ سی گئی تھیں قریب آکر احسن نے گلاسز کو آنکھوں سے پر منتقل کیا اور اس پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی۔
’’عالیان کو انفارم کردیں ہم آئے ہیں۔‘‘ اندر کی طرف اشارہ کرتے اس نے جیسے اسے اندر جاکر اطلاع دینے کا اشارہ کیا۔
’’بھائی شاور لے رہے ہیں۔‘‘ رنم فاطمہ اس کی مضبوط کلائی میں سجی گھڑی کو دیکھتے ہوئے بولی۔
’’اوکے آپ گیسٹ روم کا ڈور کھول دیں ہم ویٹ کرلیں گے۔‘‘ باقی دونوں بھی قدرے قریب آگئے تھے احسن نے جیسے اسے مسلسل کھڑے رہنے پر ہدایت کی۔
’’جی ضرور۔‘‘ وہ اس کی نظروں کا انداز دیکھ کر چند قدموں کے فاصلے پر موجود گیسٹ روم کی طرف بڑھ گئی۔ جس کا ایک دروازہ باہر کی طرف کھلتا تھا دروازہ کھول کر وہ تیزی سے نکل گئی مبادا پھر اس کی آنکھیں بول پڑیں کہ اندر جائو۔
’’میرا دل نہیں چاہتا اس پر سے نظریں ہٹانے کو اس کی ساحر آنکھیں گھڑی گھڑی اندر جانے کو بولتی ہیں۔ کتنا مغرور ہے کم بخت پہ سوٹ بھی کرتا ہے۔ رج کے ہینڈسم ہے۔‘‘ وہ بڑبڑاتی فریج سے کباب کا پیکٹ نکالنے لگی۔ جب تک کباب فرائی ہوئے وہ دیگر لوازمات پلیٹوں میں سجا کر اسکوائش گلاس میں انڈیل چکی تھی۔
’’آگیا شیطانی ٹولہ۔‘‘ عالیان فریش سا کچن میں داخل ہوا۔
’’جی بھائی… گیسٹ روم میں بیٹھے ہیں۔‘‘ اس نے نظریں چرا کر کہا۔
’’سو سوئیٹ بہنا‘ تم نے ٹرے بھی تیار کردی۔‘‘ عالیان سراہتی نظروں سے ٹرے کو دیکھتے اسے محبت سے کہہ رہا تھا۔ اس نے بھی اسپیکٹی بنالی تھی مسکرا کر ٹرے اسے تھمادی۔ عالیان کے جانے کے بعد اسپیکٹی اور اپنا گلاس لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
احسن سے اسے کب سے محبت ہوئی وہ نہیں جانتی تھی۔ تب وہ اسکولنگ میں تھی جب پہلی بار احسن نے دروازے پر دستک دی تھی اور ساتھ ہی اس کے در دل پر بھی۔ وہ ایک لمحے کو فریز ہوگئی تھی تب اس نے اس کے چہرے کے آگے چٹکی بجا کر کہا تھا۔
’’گڑیا… عالیان سے کہو احسن آئے ہیں۔‘‘ وہ ان دنوں میٹرک میں تھی اور اس وقت اسکول یونیفارم میں ہی ملبوس تھی۔ اتنی چھوٹی بھی نہیں لگ رہی تھی کہ وہ اسے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا مگر اس کا انداز بزرگوں والا ہی تھا۔
’’گڑیا…!‘‘ کئی دنوں تک اسے یہ فقرہ مسکرانے پر مجبور کرتا رہا۔ وقتاً فوقتاً ان کا سامنا ہوتا رہا وہ میٹرک سے ماسٹرز لیول تک آگئی تھی عالیان اور اس کے دوست بھی تعلیمی مدارج طے کرکے پریکٹیکل لائف میں آچکے تھے مگر آج بھی رنم فاطمہ کی احسن پر نظر پڑتے ہی فریز ہوجاتی تھی۔ عالیان سے اتنی گہری دوستی ہونے کے باوجوو رنم فاطمہ کی کبھی اس سے تفصیلی بات نہیں ہوئی تھی۔ اسے تو خبر بھی نہیں تھی کہ احسن کے دل میں کیا ہے؟ وہ اسیر محبت ہے تو کیا محبت نے احسن سے اپنا تعارف کرایا ہے؟ ان سب سے بے خبر وہ چپکے چپکے اسے چاہے چلی جارہی تھی۔
/…/…/…/
’’رنم فاطمہ… عشاء کی نماز پڑھ لی چندا؟‘‘ ماما فروٹ کاٹ رہی تھیں۔ دادی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رنم فاطمہ سیب کی قاش اٹھا کر بائٹ لیتے دادی سے جڑ کر بیٹھ گئی جب دادی نے سوال کیا۔
’’پڑھ لوں گی پیاری دادی جان۔ عشاء کی نماز میں ابھی بہت وقت ہے۔‘‘ اس نے سستی سے کہا۔ ماما مسکرا دیں۔
’’شیطان کو بھی تمہیں بہکانے کے لیے بہت وقت مل جائے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سستی نا کرو اور تم نماز پڑھ لو شیطان کو بہکانے کا موقع ہی نہ دو۔‘‘ دادی کی ناصحانہ باتوں پر اس نے ہونٹ سیکڑتے بے چارگی سے ماما کو دیکھا۔ فروٹ کاٹتے ہوئے ماما ایک نظر دادی اور پوتی کے چہرے پر ڈالتی مسکرا دیں۔
’’آپ کے آنے سے یہ بہت اچھا ہوتا ہے اماں کہ رنم پانچ نہیں تو دو تین وقتوں کی نماز تو پڑھ ہی لیتی ہے۔‘‘
’’کیا ماما آپ بھی۔‘‘ وہ منہ بسورنے لگی۔
’’میں تو ہر نماز میں دعا کرتی ہوں کہ ہماری رنم فاطمہ اللہ سے اتنا دل لگالے کہ اسے نماز کی ادائیگی کے لیے کسی کو ٹوکنا نہ پڑے‘ اذان سنتے ہی اس کا دل خود نماز کی ادائیگی کے لیے بے قرار ہوجائے۔‘‘ دادی نے دلی خواہش بتائی۔
’’آمین ان شاء اللہ وہ دن بھی آئے گا۔‘‘ ماما پُرامید تھیں۔
’’پڑھ تو لیتی ہوں ماما نماز۔‘‘ اس نے جیسے احتجاج کیا۔
’’ہفتے میں دو تین بار پڑھنے کو تم نماز کہتی ہو؟‘‘ ماما خشمگیں نگاہوں سے گھورنے لگیں۔
’’وہ تو اماں آجاتی ہیں اور تمہیں ٹوکتی رہتی ہیں تو تم مارے باندھے پڑھ لیتی ہو ان کے جانے کے بعد پھر سے پرانی ڈگر پر لوٹ جاتی ہو۔‘‘ ماما نے بھی شکایت کی پٹاری کھول دی بات تو سچ تھی وہ چپکی بیٹھی رہی۔
’’زور زبردستی یا مارے باندھے نماز پڑھنے سے نا اللہ خوش ہوگا اور نا ہی تمہیں عبادت میں لذت محسوس ہوگی۔ جب پتا ہوتا ہے کہ سال کے آخر میں تمہارا رزلٹ آنا ہے تم نے نئی کلاس میں جانا ہے تب تم پورا سال محنت کرتی ہو راتوں کو جاگ کر اسائنمنٹ بناتی ہو۔ جب طے ہے کہ ایک دن مرنا ہے دنیا میں گزارے ایک ایک پل کا رزلٹ اللہ ہمارے ہاتھ میں تھمائے گا تو اس امتحان سے بے پروائی کیوں؟‘‘ دادی مشفق انداز میں اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھیں وہ سب کچھ جانتی تھی سمجھتی تھی پر جانے کیوں اکثر کوتاہی کر جاتی تھی کوئی نا کوئی مصروفیت آڑ بن جاتی تھی۔
’’رہنے دیں اماں‘ سسرال جاکر یہ خود سدھر جائے گی۔ پہلی بار آپ کی موجودگی میں ایک فیملی آئی تھی نا رشتہ لے کر۔ انہیں ہماری رنم بہت پسند آگئی ہے لڑکا رنم کے بابا نے دیکھ رکھا ہے انہیں بھی پسند ہے ماشاء اللہ لڑکا حاجی اور صوم وصلوۃ کا پابند ہے یہ اس کے ماحول میں ڈھل جائے گی۔‘‘ ماما کہہ رہی تھیں دادی سر ہلا رہی تھیں رنم فاطمہ جھٹکے سے سیدھی ہوگئی۔
’’وہ خواتین جو شرعی پردے میں آئی تھیں گلوز اور سوکس میں ملبوس۔‘‘ رنم فاطمہ کے سامنے خطرے کی گھنٹی بجی۔
’’ہاں انہیں پسند آگئی ہو تم۔‘‘ ماما نے اطلاع دی۔
’’فار گاڈ سیک ماما‘ میں کسی مولوی گھرانے میں شادی نہیں کروں گی۔ ٹینٹ نما برقعہ پہن کر رہنے کا تصور بھی میرے لیے محال ہے۔‘‘
’’اچھے بھلے لوگ ہیں صرف شرعی پردے کی سختی پر انکار کہلوا دوں۔‘‘ ماما کو غصہ آگیا۔
’’سختی سے کام نا لو… شریعت میں نکاح‘ شادی کے لیے سختی کا حکم نہیں ہے۔ پسندیدگی کو اولیت دی گئی ہے۔‘‘
’’بجا کہا آپ نے لیکن اماں فیملی بہت نیک ہے۔ پرہیزگار لوگ ہیں۔ ایک اس کی فضول ضد پر اتنا اچھا رشتہ رد کیسے کروں۔‘‘ رنم فاطمہ دوپٹا گھسیٹتی جھٹکے سے پلنگ سے اتر گئی۔
’’کریں آپ اپنی من مانی… میں کبھی ایسی جگہ شادی نہیں کروں گی جہاں میری مرضی نہ ہو۔ میں بابا اور بھائی سے بات کروں گی۔‘‘ وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھتی اپنے خیالات سے آگاہ کرنا نا بھولی۔
’’ہاں ان دونوں نے ہی تو سر چڑھا رکھا ہے تمہیں۔‘‘
’’ہاں آپ تو سوتیلی ماں بن جاتی ہیں فوراً بھائی اور بابا سے ہی کہوں گی میں۔ وہیں شادی کروں گی جہاں میری مرضی شامل ہوگی۔‘‘ سڑھیاں چڑھتی وہ مسلسل اونچی آواز میں کہہ رہی تھی۔ دفعتاً کسی سے بری طرح ٹکرائی اسے نے جھٹکے سے رخ موڑا۔ احسن جو کئی ثانیے سے سائیڈ پر کھڑا تھا کہ محترمہ سہولت سے اپنی جنگ سے فارغ ہوکر سیڑھیوں سے ہٹیں تو وہ نیچے جائے مگر جس ٹکرائو کی وجہ سے وہ چپ چاپ کھڑا تھا وہ ہونی ہوکر رہی۔ اپنے نادر خیالات کا اظہار کرتے وہ مڑی اور شومئی قسمت کے احسن سے ٹکرا گئی احسن نے ہاتھ سینے سے اوپر کھڑے کرکے جیسے سرینڈر کردیا کہ غلطی اس کی نہیں ہے۔ رنم فاطمہ کا سر زور سے اس کے سینے سے ٹکرایا تھا قریب تھا کہ وہ لڑھک جاتی مگر سرعت سے اس کا بازو تھام کر اسے بچالیا گیا تھا۔ اس کے سنبھلتے ہی اس نے بازو چھوڑ دیا تھا۔
’’لگی تو نہیں آپ کو؟‘‘ وہ اس کے کھلے بالوں میں چھپے چہرے کو ڈھونڈتے ہوئے بولا۔
’’جی لگی ہے… بہت زور سے لیکن آپ کو اس سے کیا؟ جائیں پروجیکٹ پر کام کریں اپنا۔‘‘ احسن اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ غصے سے لال چہرہ الزام دیتی آنکھیں اور آخر میں لہجہ گلوگیر ہونے کے ساتھ آنکھوں میں پانی بھی بھر آیا تھا۔ وہ بت بنا اس کو دیکھتا رہا۔
’’ہٹیں سامنے سے‘ میں آپ کے سامنے رونا بھی نہیں چاہتی۔‘‘ ہاتھ سے ہٹنے کا اشارہ کرتی وہ اسے تجسس میں مبتلا کر گئی تھی۔ آنسو پلکوں کی باڑھ پھلانگ کر رخسار تک آگئے تھے۔ احسن کئی ثانیے اس کے پیچھے قدموں کے نشان دیکھتا رہا۔ پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
’’کتنی اسٹوپڈ ہوں میں… کیا ضرورت تھی مجھے اس کے سامنے بکواس کرنے کی… دیکھ کیسے رہا تھا بت بن کر… اس پتھر کو کیا خبر ہوگی کہ میں کب سے اس کی محبت میں مر رہی ہوں اور وہ انجان بن کر کبھی ریفریشمنٹ انجوائے کرنے کبھی بھائی کے ساتھ مل کر پروجیکٹ بنانے کے بہانے میرے سامنے آکر میرے ضبط کا امتحان لیتا رہتا ہے۔ کتنے رشتوں کو ٹھکرائوں میں کتنے حیلے بہانے کرکے منع کروں گھر میں اور کس آس میں… اس اسٹوپڈ کو پتا بھی کہاں ہے میرے دل کا۔‘‘ تکیہ منہ میں دیئے وہ بڑبڑاتی اور روتی جارہی تھی۔
/…/…/…/
’’رنم… جلدی سے حلیہ درست کرکے ڈرائنگ روم میں آجائو احسن کی ماں اور بہنیں تمہارا رشتہ لے کر آئی ہیں۔‘‘ یونیورسٹی سے آکر وہ سوگئی تھی۔ پیپرز ہونے والے تھے ان کی ٹینشن الگ تھی۔ سوکر اٹھی تو بھوک کا احساس ہوا۔ اسی خیال سے وہ کچن کی طرف آئی تھی۔ ڈرائنگ روم میں ہوتی ہلچل سے اندازہ ہوگیا تھا کہ مہمان آئے بیٹھے ہیں۔
’’میری پیاری بہنا بنے گی دلہنیا۔‘‘ عالیان قریب سے گنگناتا گزرا تو اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا سمجھ گئی مہمان اسی کے لیے آئے بیٹھے ہیں بھوک اڑ گئی تھی۔
وہ بے دلی سے چائے تیار کرنے میں مصروف تھی جب ماما کچن میں داخل ہوئیں اور اسے خوش خبری سنائی اسے یقین نہیں آیا۔
’’رئیلی ماما…!‘‘ اس کے لہجے کی بے یقینی اور چہرے پر آئے رنگوں نے ماما پر آشکار کردیا کہ ان کی بیٹی آج تک کیونکر ہر رشتے سے انکاری تھی۔
’’ہاں میری چندا… چھوڑو کچن کو‘ حلیہ درست کرو۔ میں نے عالیان کو سامان لینے بازار بھیج دیا ہے۔‘‘ ماما نے جار اس کے ہاتھ سے لے کر محبت سے کہتے اسے کچن سے باہر کی راہ دکھائی۔ وہ گومگو کی کیفیت میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ یہ آناً فاناً کیا ہوگیا تھا کہ احسن کے گھر والے اس کے طلب گار بن کر آگئے تھے وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا حیران ہو رہی تھی۔
ایک خواب کی کیفیت میں وہ تیار ہوکر ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی۔ اس کی ماں بہنوں نے اس سے کیا سوالات کیے کیا پوچھا وہ جیسے ایک خواب کی کیفیت میں انہیں جواب دیتی چلی گئی تھی۔
’’کیا ہوا بیٹا… اتنی کھوئی کھوئی سی کیوں ہو؟‘‘ احسن کی فیملی سے مل کر وہ لائونج میں آگئی تھی اسے کھوئے کھوئے دیکھ کر عالیان بھی وہیں بیٹھ گیا۔ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی پھر مسکرا کر نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’اداس ہو یہ سوچ کرکے شادی کے بعد ہمیں چھوڑ جائو گی؟‘‘ عالیان اس کی گومگو کیفیت کو کچھ اور ہی سمجھا تھا عالیان نے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔
’’پتا ہے ایک بھائی کے لیے سب سے مشکل گھڑی یہی ہوتی ہے کہ اس کی جان سے عزیز بہن کے لیے اچھے لائف پارٹنر کا انتخاب۔ احسن بحیثیت دوست جگر ہے میرا۔ تمہارے لائف پارٹنر کے لیے جب بھی سوچتا تھا میرے ذہن میں اسی کا سراپا لہراتا تھا لیکن وہی معاشرتی ڈراوے‘ دبائو کہ اپنے منہ سے کبھی اسے کہہ نہیں سکا کہ میں اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہوں۔ وہ تو جب کل اس نے مجھے جھجکتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی فیملی کو بھیج رہا ہے تمہیں مانگنے تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس نے ساتھ ہی خدشہ بھی ظاہر کیا کہ میں روایتی بھائی کی طرح غیرت کا مسئلہ بنا کر دوستی ہی ختم نا کردوں لیکن اس گھامڑ کو کیا خبر تھی کہ یہ میری برسوں کی آرزو تھی۔‘‘ عالیان مسکراتے ہوئے سارا احوال سنا رہا تھا۔ وہ بھی کھل کر مسکرا دی ورنہ تو ابھی تک شاک کی کیفیت طاری تھی۔
’’چلو اچھا ہوا تم دونوں یہیں مل گئے۔‘‘ ماما اور دادی ایک ساتھ لائونج میں داخل ہوئیں۔
’’احسن کی فیملی چلی گئی ماما؟‘‘ رنم فاطمہ بھی سیدھی ہوئی تھی۔
’’ہاں چلی گئی۔ کیا ہتھیلی پر سرسوں جمانے آئے ہیں یہ لوگ بضد ہیں رنم کے پیپرز کے دو دن بعد ہی شادی کی رسومات شروع کردی جائیں۔‘‘ ماما جیسے تھک کر بیٹھ گئیں۔
’’نیک کام میں دیری کیسی ثمر… آج ہی سعادت کو کال کرکے بتا دو۔ رشتے کے متعلق۔ احسن تو جیسے گھر کا بچہ ہے برسوں سے آنا جانا ہے اس کا… کیسا سلجھا تمیز دار بچہ ہے جب ملتا ہے سلام کرکے سر جھکا کر سر پر ہاتھ پھیرواتا ہے۔‘‘ دادی جیسے اس کی اس ادا پر فریفتہ تھیں۔
’’واہ دادی آپ کو احسن کی ایک ادا اتنی پسند آئی کہ آپ کو وہ مجھ سے زیادہ اچھا لگنے لگا۔‘‘ عالیان نے جھوٹی خفگی دکھائی۔
’’ارے نہیں بچے تو‘ تو میرا خون ہے اپنے خون سے زیادہ کسی کی کشش نہیں ہوتی‘ احسن بھلے پرایا بچہ ہے مگر ہوتے ہیں نا کچھ بچے جو دل کو بھا جاتے ہیں اور اگر وہ اچھا نہ ہوتا تو اسے اتنی اہمیت دیتی کہ وہ تیرے بیڈ روم تک آپاتا۔ گھنٹوں تم لوگ کام کرتے ہو۔ تیرے اور بھی تو دوست ہیں جو صرف گیسٹ روم تک آتے ہیں حالانکہ تم چاروں ہی کالج سے دوست ہو۔ مگر احسن کو ان دونوں سے زیادہ اہمیت حاصل ہے تو یہ اس بچے کی کوالٹی ہے نا۔ جو اس کے پوچھنے پر تو نے اس کی فیملی کو گھر آنے کی دعوت دے دی۔ ورنہ تو بس تقریبات وغیرہ میں ہی ہم ملے تھے اب تک باقاعدہ گھر وہ پہلی بار آئی ہیں۔‘‘ دادی نے عالیان کی جھوٹی خفگی کو کچھ زیادہ سنجیدگی سے لے لیا تھا تب ہی تفصیل بتا کر اس کا دل ہلکا کرنے لگیں۔
’’اور دیکھو نا پہلا رشتہ ہے جس کے آنے پر ہماری رنم فاطمہ کی زبان تالو سے لگ گئی ہے‘ ورنہ تو ابھی تک زبان سے شرارے نکال نکال کر اس نے گھر میں گرمی کی حدت میں اضافہ کرنے کے ساتھ چیزوں کی اٹھا پٹخ بھی کرنی تھی۔‘‘ دادی کے شرارت سے بولنے پر سب کی نظریں ایک دم سے اس پر اٹھ گئیں۔ وہ جو مزے سے احسن کی تعریفیں سن رہی تھی سب کی نظریں خود پر محسوس کرکے گود میں رکھا کشن چہرے پر تان گئی سب کی مسکراہٹ نے اسے جھینپنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’تو یہ وجہ تھی تمام رشتوں پر واویلا کرنے کی۔‘‘ رات دادی کی گود میں سر رکھے لیٹی ہوئی تھی جب اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے انہوں نے ہولے سے اس کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے کرکے پوچھا۔ وہ ایک دم سے شرما گئی۔
’’دادی…!‘‘ دوبارہ ان کی گود میں منہ چھپا گئی۔
’’خوش رہو میری بچی… شکر اللہ کا کہ اس نے بنا کسی تماشے کے میری بچی کی دلی خوشی اس کی جھولی میں ڈال دی اب اٹھو اور خشوع وخضوع سے شکرانے کے دو نفل پڑھ لو۔‘‘ دادی کی ہدایت پر پہلی بار اسے بھی اللہ کے حضور شکر ادا کرنے کا خیال آیا واقعی کس طرح بن مانگے ہی اللہ نے اسے اتنی بڑی خوشی دان کردی تھی وہ اگلے پل باوضو ہوکر شکرانے کے نفل پڑھنے لگی تھی۔
/…/…/…/
’’وائو اتنی جلدی شادی کررہی ہو۔ ایک ہم ہیں ماسٹرز کرچکے اور مسٹر رائٹ کا دور دور تک پتا نہیں۔ آخری پیپر سے فارغ ہوکر رنم فاطمہ نے سب کو کارڈ تھمایا تو سنبل بے ساختہ محرومی کا اظہار کرکے ان سب کے لبوں پر ہنسی بکھیر گئی۔
’’سن لو ظالموں تمہارا بھی تو نمبر لگا ہوا ہے فارغ فالتو تو میں ہی ہوں۔‘‘ سنبل‘ وانیہ کی ہنسی پر جل کر بولی۔
’’میں بھلے چار سالوں سے بزی ہوں لیکن رنم کی تو سمجھو لاٹری نکل آئی اچانک… جن صاحب کو یہ من ہی من میں چاہتی آرہی تھیں یہاں تک کے دوستوں کے سامنے بھی بھاپ نا نکالی منہ سے۔ وہ تو جب اس نے بات طے ہونے کی خبر دی تو اس کی خوشی سے میں نے پکڑا۔ تب محترمہ نے اعتراف کیا چھپی رستم تو یہ ہے جو چٹ منگنی پٹ بیاہ کررہی ہے۔‘‘ وانیہ نے بھی رنم فاطمہ کو آڑے ہاتھوں لیا اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔
’’رئیلی رنم…!‘‘ سنبل بے یقین تھیں۔ اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا۔
’’کب سے چل رہا تھا یہ سب… اور محترمہ نے کب محبت کا اظہار کیا؟‘‘ سنبل اس کے سر ہوگئی۔
’’پہلی بار اس وقت دیکھا تھا جب میٹرک میں تھی اور اظہار محترم نے ابھی تک نہیں کیا بس رشتہ آگیا اور بس۔‘‘ رنم فاطمہ نے سچائی بیان کردی۔
’’ایں… یہ کون سی محبت ہے تم بچپن سے اس کے عشق میں غرق ہو اور اس نے رشتہ بھیجنے کے بعد بھی تم سے رابطہ نہیں کیا؟‘‘
’’اب ہر کوئی تمہارے فیانسی کی طرح بے شرم تو نہیں ہے ہوسکتا ہے اسے یہ بھی احساس ہو کہ عزیز دوست کی بہن ہے سو اینڈ سو۔‘‘ سنبل نے طرف داری کی۔
’’اسے محبت ہے بھی یا نہیں تم اس کی فیملی کی پسند تو نہیں انہوں نے تمہیں تقریبات میں بھی دیکھ رکھا ہے نا۔‘‘ وانیہ ساری کڑیاں جوڑنے میں لگی ہوئی تھی۔
’’تم کیوں دور کی کوڑی لارہی ہو یہ زیادہ اہم بات ہے کہ رشتہ طے ہوگیا اور اب شادی ہورہی ہے۔‘‘ سنبل نے ان کی سوچوں کو بریک لگایا۔
’’کنیز ایک منٹ۔‘‘ ان کی باتوں کو توجہ سے سنتی رنم فاطمہ کی نظریں چیزیں سمیٹتی کنیز پر پڑیں تو وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھی۔
’’میری شادی کا کارڈ۔ پوری کلاس آرہی ہے تم بھی آئوگی تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ رنم فاطمہ کی کنیز سے کبھی بھی بہت اچھی دوستی نہیں رہی تھی لیکن کنیز کی شخصیت میں ضرور کچھ تھا جو جانے انجانے میں وہ اس کی گفتگو کا مرکز بن جاتی تھی۔
’’بہت مبارک ہو رنم فاطمہ۔‘‘ کنیز نے کارڈ تھامتے نہایت خوش دلی سے مبارک باد دی۔
’’میں نے تم لوگوں کی گفتگو سن لی ہے۔ دل سے خوش ہوں کہ بن مانگے اللہ نے تمہارا دامن خوشیوں سے بھر دیا۔ تم اس رب کا جتنا شکر ادا کرو کم ہے۔ ہمیشہ خوش رہو‘ آمین۔‘‘ کنیز کی نرم میٹھی آواز ہی تھی جس کا ہر کوئی گرویدہ تھا۔
’’بہت شکریہ شادی میں ضرور آنا۔‘‘ رنم نے مسکراتے ہوئے اصرار کیا۔
’’کب ہے تمہاری شادی؟‘‘ کنیز نے کارڈ کھولتے ہوئے پوچھا۔
’’دو دن بعد مایوں کی رسم ہے۔‘‘
’’اوہ معذرت میں شادی کی تقریب کم اٹینڈ کرتی ہوں لیکن تمہاری کرتی تو بے حد خوشی ہوتی لیکن قسمت دیکھو کہ مجھے کل ہی گجرات کے لیے نکلنا ہے اور حسن اتفاق دیکھو میری شادی بھی چوبیس تاریخ کو ہی ہے گجرات میں۔‘‘ کنیز نے نرم مسکراہٹ سے کہا۔
’’اوہ رئیلی…‘‘ رنم فاطمہ کو بھی حیرانی ہوئی۔ کنیز نے سر اثبات میں ہلایا۔
’’کسی کلاس فیلو کو کارڈ اس لیے نہیں دیا کہ کون گجرات آتا پھرے گا۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘ سنبل اور وانیہ بھی قریب آگئی تھیں۔
’’بہت مبارک ہو تمہیں بھی۔‘‘ رنم فاطمہ نے پُرخلوص مبارک باد دی۔
’’کنیز تمہاری ایک تصویر لے لوں؟ آج آخری دن ہے یونیورسٹی کا جانے پھر ہم کبھی ملیں ناملیں۔ کم از کم تصویر دیکھ کر یاد تو کرسکتے ہیں ایک دوسرے کو۔‘‘ سنبل نے اپنا سیل فون آن کرتے ہوئے کہا۔
’’نہیں دراصل میں تصویریں نہیں بنواتی یہ یقین ہے کہ تم اپنے تک ہی رکھو گی مگر شریعت کے خلاف نہیں جاتی۔ دل پر مت لینا معاف کردینا۔‘‘ کنیز کے سہولت سے انکار کرنے پر سنبل نے مسکرا کر فون واپس نیچے کرلیا۔ الوداعی ملاقات کرکے سب اپنی اپنی راہوں کو چل دیئے۔ جہاں سب کی زندگی نئے ادوار میں داخل ہونے والی تھی اور کل کس کے لیے کیا لانے والا تھا یہ آنے والے کل کو پتا تھا یا رب العزت کو۔
/…/…/…/
’’محترمہ اب تو آپ جان گئیں کہ آپ سے اہم پروجیکٹ میری زندگی میں اور کوئی نہیں ہے۔‘‘ حجلۂ عروسی میں داخل ہوکر احسن اس کے پہلو میں بیٹھا تھا۔
’’آپ کے بالوں کو چھونے کی اجازت چاہتا ہوں۔‘‘ احسن کے سوال پر حیران ہوتی رنم فاطمہ نے ناسمجھ انداز میں سر ہلا کر اجازت دی تھی۔ احسن نے اس کی پیشانی کے تھوڑے سے بال ہاتھ میں لے کر کوئی دعا پڑھی پھر اس کا ترجمہ بھی پڑھا۔
’’ترجمہ:۔ اے اللہ میں تجھ سے اپنی بیوی کی بھلائی اور خیروبرکت مانگتا ہوں اور اس کی فطرت عادتوں کی بھلائی اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس کی برائی اور فطری عادتوں کی برائی سے۔‘‘
رنم فاطمہ کسی قدر حیران ہوئی تھی اس کے اس عمل سے۔ اس کا حنائی ہاتھ نرمی سے تھام کر اس میں کنگن پہنائے۔
رنم فاطمہ جو عروسی ریڈ اور نان کنٹراس کے جوڑے میں ہوش ربا سراپا لیے سجی دھجی مقابل کو چاروں خانے چت کرنے کے ہتھیاروں سے لیس تھی اس نے ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہائٹ شیروانی میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا رنم فاطمہ نے سرعت سے نظریں چرالیں کہ کہیں اس کی ہی نظر نا لگ جائے اسے۔
’’حسین تو آپ پہلے ہی بہت تھیں مزید ہوشربائی ان لوازمات نے پوری کردی۔‘‘ اس کے کان میں جھولتے آویزے کو انگلیوں سے چھوتے اس نے اتنے گھمبیر اور محبت بھرے لہجے میں کہا کہ رنم فاطمہ کو جیسے غشی طاری ہونے لگی۔ یہ وہ شخص تھا جو اسے بے حس لگتا تھا۔ یہ تو وہ شخص لگ رہا تھا جس نے برسوں کسی کی طلب میں گزاری ہو اور طلب کے مطلوب ومیسر ہونے پر اپنی بے تابیوں کو لفظوں کا پیراہن پہنا رہا ہو۔
’’اس سے پہلے کہ میں ہوش گنوا بیٹھوں تم بھی اٹھو اور یہ سب اتار کر آرام دہ حالت میں آجائو۔ سب سے پہلے نفل پڑھ لو میں بھی نفل پڑھنے کی تیاری کرتا ہوں۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ نرمی سے دبا کر چھوڑ گیا تھا۔
’’اس وقت نفل…!‘‘ وہ ہونٹ سکیٹر کر رہ گئی۔ دادی کی ہدایت یاد آگئی تھی۔ انہوں نے بھی نفل ادا کرنے کی ہدایت کی تھی مگر اس نے سن کر کون سا عمل کرنا تھا لیکن اب احسن کی ہدایت پر وہ اپنے سجے ہوئے روپ کو بے چارگی سے دیکھ رہی تھی۔
’’کیا ہوا؟ تم ابھی تک یونہی بیٹھی ہو۔‘‘ احسن آرام دہ وہائٹ کرتا پاجامہ میں وضو کرکے باہر نکلا تو اسے مراقبے کی حالت میں دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
’’وہ یہ نیل پینٹ لگا ہوا ہے تو وضو…‘‘ اس نے جیسے جان بچانا چاہی۔
’’کوئی بات نہیں ریمور تو ہوگانا۔ میں ابھی ریموو کردیتا ہوں کہاں ہے تمہارا میک اپ باکس۔‘‘ رنم فاطمہ اس کی سوالیہ نظروں پر ایک سمت اشارہ کر بیٹھی جہاں میک اپ بکس تھا۔ اگلے ہی پل ریمور اور کاٹن لے کر احسن اس کے مقابل بیٹھا اس کی لمبی مخروطی انگلیوں سے نیل پینٹ ریمور کررہا تھا۔
’’یہ اوریجنل نیلز ہیں؟‘‘ اسے دو انچ لمبی نیلز دیکھ کر حیرانی ہورہی تھی۔
’’جی۔‘‘ وہ بمشکل بول سکی۔
’’پیروں کی رہنے دیں پلیز میں خود کرلیتی ہوں صاف۔‘‘ اس نے دونوں گھٹنے سکیڑ کر سینے سے لگا کر پیر جیسے اس سے دور کرنا چاہے۔
’’کیوں؟‘‘
’’مجھے اچھا نہیں لگے گا کہ آپ میرے پیروں کو ہاتھ لگائیں۔‘‘ اس نے سچ کہہ دیا۔
’’یہ کیا بات ہوئی جب تم میرے لیے اہم ہو تو تم سے جڑی کوئی بھی چیز میرے لیے کم تر کیسے ہوسکتی ہے۔‘‘ وہ اس کے نظریات کو پڑھ گیا تھا جیسے… اس نے پیر تھام کر نیل پینٹ صاف کرنا شروع کردیا۔
’’نیل پینٹ لگاتے ہوئے یہ بات یاد رکھا کرو زندگی اور موت کا کوئی بھروسہ نہیں اگر کسی وقت بھی موت آجاتی ہے تو یاد رکھو یہ مٹے گی نہیں کیونکہ مرنے کے بعد ہمارا جسم ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو کوئی لوشن نیل پینٹ ریمو نہیں کرسکتا اور نیل پینٹ نہ اترنے پر غسل نہیں ہوگا اس صورت میں نجس ہی دفن ہونا پڑے گا۔‘‘ اور رنم فاطمہ چپ بیٹھی سن رہی تھی کہ اسے نیل آرٹ سے عشق تھا سجے ہوئے ہاتھ اس کی کمزوری تھے۔
’’اگر تمہیں نیل پینٹ لگانے کا شوق ہے تو اگلی بار سے پیل آف نیل پینٹ یوز کرنا تاکہ بوقت ضرورت انہیں آسانی سے اتار سکو۔‘‘ وہ ساتھ ہی ساتھ اس کی آسانی کے لیے مشورہ بھی دیتا جارہا تھا۔
’’لیں محترمہ ہوگیا ریمو… جیولری بھی اتار دوں یا یہ زحمت آپ خود کرلیں گی۔‘‘ کلائی تھامے وہ کنگن اور چوڑیاں اتار رہا تھا۔ رنم فاطمہ کو یہ گھڑی یہ پل خواب محسوس ہورہے تھے اس نے برسوں جس شخص کی آرزو کی تھی وہ اس کے بہت قریب اس کا محرم بنا بیٹھا تھا۔ رب العزت کے حضور شکرانے کے نفل پڑھنے کھڑی ہوئی تو دلی آمادگی سے روم روم اس کی بارگاہ میں تشکر کے کلمات ادا کررہا تھا۔
’’محبت شاید اسی لمحے ہوگئی تھی جس لمحے تم نے پہلی بار میرے لیے در وا کیا تھا۔ تب سے آج تک محبت دھیرے دھیرے ہر مدارج طے کرتی آگے بڑھتی گئی۔‘‘
’’ہاں ہماری محبت ایسی تھی کہ اس میں اظہار نہ تھا۔ اقرار کے حسین پل نہ تھے مگر ایک ان دیکھا انجانا قوی احساس ضرور تھا کہ تم میری بنوگی۔ اسٹیڈی سے فارغ ہوکر میں دن رات خود کو اسٹیبلش کرنے میں لگا رہا تاکہ جلد سے جلد تمہیں اپنا بنا سکوں لیکن شاید اس انتظار میں تمہارا ضبط جواب دے گیا تھا تب ہی تو تم مجھ پر برس پڑی تھی۔‘‘ اس کا ہاتھ تھامے نیم دراز وہ حکایت دل سنا رہا تھا۔ آخر میں اس کی طرف کروٹ بدل کر شرارت سے اسے دیکھا تو اس کے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’جی لگی ہے… بہت زور سے لگی ہے لیکن آپ کو اس سے کیا… جائیں پروجیکٹ پر کام کریں اپنا۔‘‘ اس نے شرارتی لہجے میں اس کا کہا جملہ دہرایا تو وہ بے ساختہ حنائی ہاتھوں سے چہرہ چھپا گئی۔
’’اللہ کتنے برے ہیں آپ۔‘‘
’’جی بہت برا ہوں۔ تب ہی چھوٹی سی گڑیا مجھے برسوں سے چاہتی چلی آرہی ہے۔‘‘ وہ چھیڑ رہا تھا سارے حساب بے باق کررہا تھا۔
’’توبہ ہے۔‘‘ رنم فاطمہ کو سوائے چھپنے کے کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی۔
/…/…/…/
جب بن مانگے بنا تگ ودو کیے دلی خوشی جھولی میں آگرے تو انسان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہتا۔ رنم فاطمہ بھی ان دنوں ہوائوں کے دوش پر تھی احسن کی ظاہری شخصیت جتنی پُرسحر تھی باطن اس سے کہیں زیادہ سحر انگیز تھا۔ احسن نے بھولے سے بھی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا مگر نکاح کے بعد سے رنم فاطمہ اس کے انداز محبت کی اسیر ہوتی چلی جارہی تھی۔ وہ پل پل اس کا خیال رکھتا تھا ہر پہر اپنی محبت کا اظہار کرتا تھا وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھنے لگی تھی۔
احسن دو بھائی اور ایک بہن تھی۔ بڑا بھائی وجدان عرصہ سے لندن میں مقیم تھا۔ شادی کے بعد اس نے عریشہ کو بھی وہیں بلا لیا تھا۔ پھر احسن اور اس سے چھوٹی ثمرن تھی۔ والد ریٹائرڈ تھے اورگھر پر ہی ہوتے تھے احسن کی شادی کے سلسلے میں وجدان عریشہ اور ان کے دو بچوں کو پاکستان آنے کا موقع ملا تھا اور وہ لوگ آج کل چھٹیوں پر ہی تھے۔
رنم کی شادی کو مہینہ ہونے میں آگیا تھا احسن کی والدہ عریشہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی۔ ثمرن بھی اپنا اسائنمنٹ پھیلائے وہی مصروف تھی۔ رنم فاطمہ نک سک سے تیار ہوکر لائونج میں آئی تھی۔
’’ماشاء اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ عریشہ نے مسکرا کر روایتی دیورانی جٹھانی کے بغض سے پاک لہجہ میں کہا۔ وہ نسبتاً ملنسار فطرت رکھتی تھی۔
’’شکریہ بھابی۔‘‘ وہ شرما سی گئی۔
’’کہاں کی تیاری ہے؟‘‘ ہما بیگم نے اس کے سجے سنورے روپ کو بغور دیکھا۔
’’امی وہ… احسن کی کال آئی تھی انہوں نے کہا تھا آئوٹنگ پر جائیں گے تیار ہوجائوں۔‘‘ وہ جھجکتے ہوئے بتانے لگی۔
’’اچھی بات ہے گھومو پھرو یہی دن ہیں۔‘‘ عریشہ نے اس کی جھجک دور کرنے کو حوصلہ بڑھایا۔
’’روز ہی تم دونوں کہیں نہ کہیں آئوٹنگ کے نام پر نکل جاتے ہو اور گھنٹوں باہر گزار کر رات گئے تک لوٹتے ہو۔ احسن مرد ہے۔ مردوں کو ایسے چونچلے کرنے کی عادت ہوتی ہے شروع کے دنوں میں۔ تم پیچھے ہٹو گی تو وہ چپ کرکے بیٹھے گا نا لیکن ناجی آج کل کی لڑکیوں کو تو پھرنے کا چسکا لگا ہوا ہے۔ میاں کو اکساتی رہتی ہیں میں کچھ کہوں گی تو بری بنوں گی۔ مہینہ ہو چلا ہے تم دونوں کی شادی کو اب تم گرہستی کی طرف بھی دھیان دو۔ کچھ پکانا وکانا بھی آتا ہے تمہیں… بھئی بیٹے کی پسند تھی ہم نے تو کچھ نہیں پوچھا بس گئے اور رشتہ طے کر آئے۔‘‘ ہما بیگم روایتی ساس کا رنگ لیے پہلے رنم فاطمہ کو باتیں سناتیں رہیں پھر آخر ان کا رخ عریشہ کی طرف ہوگیا۔ رنم کسی قدر پھیکی پڑچکی تھی۔
’’جی… کوکنگ کرلیتی ہوں۔‘‘ وہ دھیمے سے بول پائی۔
’’اچھی کرتی ہو یا بری‘ یہ تو جب کرو گی تب خبر ہوگی۔ باقی گھر کے کام کاج میں دل چسپی ہے بھی یا نہیں؟‘‘ ہما بیگم دیر تک اپنے اندر کی کدورت کو چھپا نا سکی تھیں۔
’’امی… احسن کی پسند ہے ایسی ویسی تھوڑی ہوگی۔‘‘ عریشہ کو جیسے اس پر ترس آنے لگا۔
’’جی سارا کام کرلیتی ہوں۔‘‘ وہ منمنائی سسرال نام کی گرہ کھلنے لگی تھی۔
’’ہاں بھئی آج کل کی اولاد جس کسی کو سامنے لاکر کھڑا کردے اسے گلے کا ہار بنانا پڑتا ہے۔ ہمارا دور تھوڑی ہے کہ جس سے اماں ابا نے ہاتھ پکڑا دیا اس کے ساتھ ساری زندگی نبھادی۔ آج کی جنریشن تو پہلے عشق محبت کا کھیل کھیلتی ہے۔ اس کے ساتھ باپ کو جیسے تیسے بلیک میل کرکے اپنی پسند قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ احسن کو ہی دیکھ لو اتنا فرماں بردار بچہ تھا میرا۔ کبھی میری کسی بات کو نہیں ٹالا اس نے۔ خاندان کے کتنے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ ان کا داماد بنے۔ لیکن اس نے کبھی دل چسپی نہیں لی۔ مجھے لگا کہ پڑھائی پر توجہ دے رہا ہے۔ وہ تو تب کھلا کہ یہ ساری تک و دو کس لیے تھی۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ رنم فاطمہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اگر میرا انکار ہے تو یہ حکم کے خلاف نہیں جائے گا۔ ہاں لیکن کبھی شادی نہیں کرے گا اور سب کو پتا ہے وہ کتنا ضدی ہے۔ میں اسے بدظن نہیں کرسکتی تھی نا اسے ناخوش دیکھ سکتی تھی۔ اس لیے اسے مانگنے چلی گئی۔‘‘ ہما بیگم کی تفصیلات رنم فاطمہ کو بھیگا ہوا جوتا محسوس ہورہی تھیں۔
احسن نے اسے نہیں بتایا تھا کہ اس نے کیسے اپنی فیملی کو راضی کیا اور اب ہما بیگم کی زبانی ساری کہانی سن کر وہ کچھ بول نہیں پائی۔
’’احسن کا انتخاب غلط بھی نہیں۔ ماشاء اﷲ رنم فاطمہ بہت اچھی بہو ثابت ہوگی۔‘‘ عریشہ مسلسل اس کی حوصلہ افزائی کررہی تھی۔ ہما بیگم نے اختلاف نہیں کیا تو ان کے تاثرات بھی نہیں بدلے۔ ایسے میں اسائنمنٹ سے سر اٹھا کر ثمرن نے سوال کیا۔
’’بھابی… احسن بھائی اور آ پ کی لو اسٹوری کب سے چل رہی تھی؟‘‘ اس سوال نے اسے مزید پانی پانی کردیا۔
’’ہماری کوئی لو اسٹوری نہیں چلی۔‘‘ اس نے سچ کہہ دیا۔
’’کیا بات کررہی ہیں؟ بھائی نے یونہی امی کو دھمکی دے ڈالی۔‘‘ ثمرن کے لہجے میں استہزاء آگیا۔ ہما بیگم الگ تلخ مسکراہٹ چہرے پر لے آئیں۔
’’رئیلی رنم…!‘‘ عریشہ کو بھی حیرت ہوئی۔
’’جی بھابی… نا میں نے ان سے کبھی بات کی نا کبھی احسن نے کوئی کوشش کی۔ پھر اچانک رشتہ آگیا۔‘‘ رنم فاطمہ نے پوری سچائی ان سب کے گوش گزار کی۔ ہما بیگم کے چہرے پر میں نامانوں کے تاثرات آگئے۔
’’حیرت ہے جب کہ احسن کئی بار مجھ سے تمہارا ذکر کرچکا تھا۔ شادی کے ذکر پر جب کبھی اسے چھیڑتی تھی وہ تمہارا ہی نام لیتا تھا۔ ابھی پڑھ رہی ہے۔ ابھی چھوٹی ہے۔‘‘ عریشہ نے بھی اپنی حیرت کو زبان دی۔
’’مجھے اس سلسلے میں کچھ نہیں پتا بھابی۔ میں لاعلم ہوں۔ ہماری کبھی کوئی بات نہیں ہوئی کسی بھی حوالے سے۔‘‘ ثمرن اور ہما بیگم کے تاثرات اسے تکلیف دے رہے تھے۔ دونوں کے تاثرات ایسے ہی تھے جیسے لو میرج کے بعد آئی گھر میں بھابی اور بہو کو سننے پڑتے ہیں۔
’’رہنے دو عریشہ… گڑھے مردے اکھاڑ کر کیا ملتا ہے۔ جو ان دونوں کی خواہش تھی وہ تو پوری ہوئی۔ یعنی شادی۔‘‘ ہما بیگم کے طنزیہ انداز پر رنم فاطمہ بے ساختہ اپنے نیلز دیکھنے لگی۔
/…/…/…/
’’احسن آپ نے اپنے گھر والوں کو کیسے راضی کیا تھا۔ رات وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔‘‘ وہ بے ساختہ مسکرادیا۔
’’آج یہ سوال کیوں آگیا اس ننھے سے دماغ میں؟‘‘ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اس کے ہاتھ دو پل کو پیشانی پر رکے۔
’’بتائیں نا؟‘‘ اس کے شانے سے سر اٹھا کر اصرار کرنے لگی۔ احسن اس کے ضدی انداز پر ایک بار پھر مسکرایا۔ سمجھ گیا تھا جواب لیے بنا اس کی جان نہیں چھوڑے گی۔
’’جس دن تم سے ٹکر ہوئی میں نے تمہاری ساری گفتگو سن لی تھی۔ دل میں یہ ڈر بھی آگیا کہ تمہاری فیملی نے کہیں اور تمہاری بات طے کردی تو میں کیا کروں گا۔ اس لیے گھر آکر میں نے امی کو اپنی خواہش بتا کر تمہارے متعلق بتایا۔ امی کچھ کنفیوز تھیں انہوں نے مجھے خاندان میں لڑکی دیکھنے کا بھی کہا مگر میں نے کہہ دیا کہ اگر تم سے شادی نہیں ہوئی تو میں کسی سے بھی نہیں کروں گا۔ بس پھر وہ مان گئیں۔‘‘ احسن نے پوری ایمان داری سے ا س کے گوش گزار کیا۔ رنم فاطمہ اس کی سچ بولنے والی فطرت کی اسیر ہوگئی۔
’’آپ بہت سچے ہیں احسن۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ آپ جیسا ہم سفر ملا۔‘‘ رنم کا لہجہ گلوگیر ہوگیا۔ احسن نے بے ساختہ اسے اپنے قریب کرلیا۔
’’جب کبھی تشکر کا احساس ہو تب تب اﷲ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا کرو۔ میں نے تمہیں بھی نہیں بتایا تھا۔ اپنی محبت سب سے چھپا کر رکھی تھی۔ یہ ڈر تھا کہ اگر بڑے دعوے کیے اور انہیں پورا نہ کرسکا۔ فیملی کو راضی نہ کرسکا تو جھوٹا کہلاؤں گا لیکن اگر کسی کے سامنے میری دلی کیفیت عیاں تھی‘ میرا کوئی راز دار تھا تو صرف اﷲ… میں نے اﷲ کے سامنے اعتراف کیا تھا۔ اﷲ مجھے تیری زمین پر تیری بنائی ہوئی ایک بندی سے شدید محبت ہوگئی ہے۔ اسے دیکھتا ہوں تو مجھے میری ادھوری ذات کا پورا حصہ لگتی ہے۔ اسے میرا کردے اور ہم دونوں کا ساتھ اتنا خوش گوار اور محبت سے بھرا ہو کہ ہم ایک دوسرے کی ہم سفری میں آسودہ رہیںکبھی کوئی پل بوجھ نہ لگے۔‘‘ احسن کی دل میں اترجانے والی باتوں نے رنم فاطمہ کی پلکیں نم کردیں۔
وہ شخص اتنی دیانت داری سے اسے مانگتا رہا تھا یہ احساس ہی اتنا خوش کن تھا کہ رنم فاطمہ کچھ بول نا سکی۔ اسے دل میں احسن کے لیے محبت کا سمندر مزید گہرا ہوتا محسوس ہورہا تھا۔
’’رنم…‘‘ وہ اس کے پاس ہی تھی مگر وہ اسے پکار کر ہی مخاطب کرتا تھا اور پکار میں جو مٹھاس‘ محبت اور دل کشی ہوتی تھی وہ رنم کے اندر اتر جاتی تھی۔
’’جی…‘‘
’’تم نماز نہیں پڑھتیں؟‘‘ انگلیاں بالوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔ اس کا سر تھا م کر اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا۔ وہ بغور اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ رنم فاطمہ کی پلکیں لرزیں پھر نگاہیں کچھ شرمندہ ہوکر جھک گئیں۔
’’جی… کبھی کبھی۔‘‘ اس کی آواز دھیمی تھی۔
’’اوکے… لیکن اب سے تم کوشش کرنا کہ پانچ وقت کی نماز پڑھو۔ مجھے خوشی ہوگی۔ پانچ وقت کی نہیں پڑھ سکتیں تو تین چار وقت کی ضرور پڑھنا۔ جب آہستہ آہستہ عادت بن جائے گی تو تمہیں خود اگلی نماز کی ادائیگی کے لیے بے چینی ہوگی۔‘‘ وہ بہت ہولے ہولے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ رنم فاطمہ کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگی تھیں۔ وہ پلکیں جھپک کر نیند کو بھگا رہی تھی۔
’’نماز سے متعلق جھوٹ نا بولنا۔ نا بھی پڑھو تو مجھے سچ بتا دینا۔‘‘
’’احسن آپ اتنے اپ ٹو ڈیٹ نظر آتے ہیں۔ آپ کو دیکھ کر کوئی بھی یقین نہیں کرسکتا کہ آپ مذہب کے معاملے میں اتنے حساس ہیں۔ روزے نماز کو اپنی زندگی میں اولیت دیتے ہیں۔‘‘ کئی دنوں سے ذہن میں گونجتے سوال پر رنم فاطمہ بول اٹھی۔ احسن ہولے سے مسکرایا۔
’’مذہب سے محبت کا تعلق دل سے ہے۔ بھلے میں ظاہری دنیا کے رنگ میں ماڈرن لگتا ہوں مگر مجھے احکام شریعت پر چلنا ہے۔ یہ شاید میری دنیا سے محبت ہی ہے جو میں اپنے روپ کو اسلام کے رنگ میں پیش نہ کرسکا۔ شرعی داڑھی شرعی حلیہ کو فالو نہ کرسکا۔ اﷲ مجھے اس کی توفیق دے۔ لیکن میں اس حال میں بھی خوش ہوں کہ میرے دل میں اسلام اور پیغمبر کی محبت بہت زیادہ ہے۔ شاید شرعی حلیہ دکھا کر میں لوگوں پر تو ثابت کردوں کہ میں پیغمبر اسلام کے بتائے راستے پر چل رہا ہوں۔ شاید مجھ میں دکھاوا‘ خود نمائی آجائے اور میں دل میں اسلام کو جاننے اور اس کی محبت میں مزید رنگنے کی خواہش کو گہن لگ جائے۔ اﷲ ہمیں روز محشر داڑھی یا ٹخنوں سے اونچی شلوار دیکھ کر جنت نہیں دے گا۔ ہم میں سے سب سے زیادہ متقی پرہیز گار کو ہمارے اعمال پر ہمیں جنت کی خوش خبری دے گا۔ اس لیے میں ظاہر سے زیادہ باطن پر توجہ دیتا ہوں۔ اور میری خواہش ہے میری شریک سفر بھی اس میں میرے ہم قدم ہو۔‘‘ احسن اسلام پر سحر انداز اپنے افکار بیان کررہا تھا۔
/…/…/…/
’’بہو کیا تمہارے گھر والوں نے تمہیں نماز و قرآن پڑھنے کی تعلیم نہیں دی؟‘‘ نماز مغرب کا وقت تھا۔ ہما بیگم وضو کرکے چادر لپیٹتی لاؤنج سے گزریں تو رنم فاطمہ ایل ای ڈی آن کیے بیٹھی تھیں۔ اس کا کوئی پسندیدہ پروگرام آرہا تھا اور پھر نماز پڑھنے کا خیال بھی کم ہی آتا تھا۔ ایسے میں مغرب کی اذان ہوئی تو عریشہ اور ثمرن وضو کرنے کے ارادے سے اٹھ گئیں جو ساتھ ہی پروگرام دیکھ رہی تھیں۔ ہما بیگم ادھر آنکلیں اور اس کی نظریں اسکرین پر مرکوز دیکھ کر ناگواری کا اظہار کرنا نا بھولیں۔
ہما بیگم خود کو صوم و صلوۃ کی پابند ظاہر کرتی تھیں۔ ہمہ وقت ہاتھ میں تسبیح ہوتی تھی۔ جس کے دانے آگے پیچھے کرتے وہ زمانے بھر کی باتیں بھی کرلیتی تھی۔ دوستوں‘ رشتے داروں سے فون کال پر بات بھی ہوتی رہتی تھی۔ مگر ان کے دانے گرنے میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
’’جی وہ…‘‘ رنم فاطمہ ریموٹ رکھ کر جلدی سے کھڑی ہوئی۔
’’خیر سے بڑی ہوگئی ہو‘ شادی ہوگئی ہے۔ نماز تو تم پر فرض ہی ہوگی۔‘‘ ہما بیگم کا لہجہ کٹیلا ہوگیا۔ ’’جب تم خود اسلام سے اتنی دور ہو تو اپنی نسلوں کو کیا سکھاؤ گی۔ دنیاوی ڈگری لے کر فیشن کے کپڑے پہن کر مغرب کی تقلید کرو۔ اذان کے وقت ایل ای ڈی کے آگے بیٹھی رہو۔‘‘ ہما بیگم کو اچھا موقع ملا تھا۔ اپنا غصہ نکالنے کا۔ رنم فاطمہ چپکی کھڑی رہی۔
’’السلام علیکم!‘‘ احسن بیگ اٹھائے داخل ہوا تھا۔ اس نے ہما بیگم کے کلمات سن لیے تھے۔ اس کی آمد پر رنم فاطمہ مزید شرمندہ ہوکر سر جھکا گئی۔
’’کیا ہوا مما؟‘‘ ہما بیگم کے ناگوار تاثرات کو دیکھتے بیگ صوفے پر رکھتے اس نے استفسار کیا۔ ایک نظر رنم فاطمہ کے جھکے سر پر ڈالی۔
’’یہ تم اپنی لاڈلی چہیتی بیوی سے پوچھو۔ جسے نا اذان کا احترام ہے نا نماز کی فکر۔‘‘ ہما بیگم چمک کر بولیں۔ رنم فاطمہ کے قدم زمین میں جیسے دھنسنے لگے۔
’’ہزاروں لڑکیاں تھیں۔ خاندان میں مگر تمہیں بھی سر پھوڑنا تھا تو یہاں جسے دنیا کی پڑی ہے۔ دین کے متعلق کچھ خبر نہیں۔ جانے ماں باپ نے کیسی تربیت کی ہے۔‘‘ ہما بیگم جلے دل کے پھپھولے پھوڑے جارہی تھیں۔ رنم فاطمہ کو ہما بیگم کی بات گالی کی طرح لگی۔ اس کے عمل پر انگلی والدین کی تربیت پر اٹھنے لگی تھی۔
’’مانا رنم کی کوتاہی ہے امی۔ مگر یہ درست طریقہ نہیں کسی کو سمجھانے کا۔ دین ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ اگر ہم نماز‘ روزے کے پابند ہیں تو بے نمازی کو حقیر نظروں سے دیکھیں۔ رہی بات تربیت کی تو یہ رنم کے والدین کی تربیت ہی ہے جو اتنا کچھ سننے کے باوجود اس نے آپ کے سامنے آج تک ایک لفظ نہیں کہا۔ ورنہ ثمرن آپ سے دوبدو زبان لڑاتی ہے۔‘‘ احسن نے حقیقت کا آئینہ ہما بیگم کو دکھایا تو وہ اور پھڑ پھڑا گئیں۔
’’لو بیوی کی سائیڈ۔ زن مرید بنو۔ ماں کی پسند سے کی ہوتی شادی تو صوم و صلوۃ کی پابند لڑکی لاتی۔ مجھے ہمیشہ یہ گلہ رہے گا کہ تم نے اپنی پسند کو اولیت دی۔‘‘ ہما بیگم کا لہجہ اب کے نم ہوگیا۔ احسن نے آگے بڑھ کر ہما بیگم کو دونوں شانوں سے تھام کر چند قدم چل کر انہیں صوفے پر بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گیا۔
’’تم بھی بیٹھ جاؤ‘ تمہیں کسی نے سزا دی ہے۔‘‘ احسن نے نرم لہجے میں انگلیاں مروڑتی رنم فاطمہ کو مخاطب کیا۔
’’میری اچھی مما… میں کبھی آپ کی پسند کو اپنانے سے انکار نہیں کرتا اگر جو مجھے رنم فاطمہ سے محبت نہ ہوتی۔‘‘ ہما بیگم کے دونوں گھٹنے تھامے وہ نرم لہجے میں انہیں بہلا رہا تھا۔ رنم فاطمہ کو اپنے گال تپتے محسوس ہوئے۔
’’کیا ہوتا جو تم میری پسند سے شادی کرلیتے؟‘‘ ہما بیگم کو یہ قلق ہی نہیں بھول رہا تھا۔ ’’دنیا کے ہزاروں لڑکے لڑکیاں محبت کرتے ہیں مگر شادی ماں باپ کی پسند سے کرتے ہیں۔ ایک تم کرلیتے تو کیا برا ہوجاتا۔‘‘ ہما بیگم ضدی بنی ہوئی تھی۔
’’بے شک ایسا ہے اور ہورہا ہے ہماری سوسائٹی میں لیکن میں ایسا کبھی نہیں کرسکتا تھا۔ آپ کی بلیک میلنگ سے شادی کرلیتا۔ اسے گھر لے آتا۔ پھر مام شادی دو فریق کے بیچ ایک معاہدہ ہے۔ جس میں صرف سچ چلتا ہے۔ میں ایک ایسی لڑکی کو اپنے ساتھ کیسے نبھا سکتا ہوں جس کے لیے میرے دل میں کوئی جذبات نہ ہوں۔ نا میں اسے پیار دے سکوں نہ وقت۔ اس کے ساتھ وقت گزارتے ناگواری محسوس کروں۔ کیا یہ نکاح جیسے مقدس رشتے کی توہین نہیں اور کیا یہ آنے والی کے ساتھ زیادتی نہیں؟ میں نے ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں رنم فاطمہ کو اپنی زوجیت میں لیا ہے۔ اس کی خوشی کا خیال رکھنا۔ اس کے ہر پل کا احساس بھی مجھے ہوتا ہے‘ کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ جب کہ اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتی تو شاید میںکبھی سر شام گھر لوٹنے کی کوشش نہ کرتا۔ اسے بھی خوش نا رکھتا تو گناہ میرے سر پڑتا۔ اﷲ مجھ سے حساب لے گا کہ میں نے جسے اپنی زوجیت میں لیا اسے خوش رکھا؟ اس کی ذمہ داری خوش اسلوبی سے نبھائی؟ اﷲ میری بیوی کے متعلق میرے ماں باپ سے حساب نہیں لے گا۔‘‘ احسن نرم لہجے میں اپنا نکتہ نظر واضح کررہا تھا۔ جو سو فیصد درست تھا۔ زور زبردستی سے کی شادی کامیاب نہیں ہوتی۔ زور زبردستی سے رشتہ جڑتا ہے دل نہیں اور جب شادی جیسے مقدس بندھن میں محبت‘ فکر احساس نا ہو تو فقط ایک کاغذ کا رشتہ رہ جاتا ہے۔ جس میں صرف جسم کا وجود رہ جاتا ہے۔ تب ہی تو لوگ دل میں کسی کو رکھتے ہیں رشتے میں کسی سے جڑے رہتے ہیں۔ نتیجتاً گناہ گار ٹھہرتے ہیں۔‘‘
’’تمہاری باتوں میں میری نماز نکل جائے گی۔‘‘ ہما بیگم متفق ہوئی تھیں مگر قبول کرنا سرشت میں نہیں تھا۔ وہ اٹھ کر نماز کو چل دیں۔ ان کے جانے کے بعد احسن نے بغور اسے دیکھا۔ وہ ڈسٹرب سی تھی۔ احسن اٹھ کر اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس کے سامنے اپنا مضبوط ہاتھ پھیلایا۔ رنم فاطمہ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
’’شرف بخشنا پسند فرمائیں گی ڈیئر وائف…‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ نرم گرم تاثر اس کے چہرے پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کے تاثرات سے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ابھی کچھ دیر قبل رنم فاطمہ کی وجہ سے اسے کتنی باتیں سننا پڑی تھیں۔
’’انتظار کررہا ہوں…‘‘ اصرار پر رنم نے اپنا نازک سا ہاتھ اس کی پھیلی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ احسن نے اس کے ہاتھ کو نرمی سے کھینچ کر اسے مقابل کھڑا کیا۔
’’میری بھی جماعت مس ہوگئی ہے آؤ نماز پڑھتے ہیں۔‘‘ اسے بازو کے گھیرے میں لیے صوفے سے بیگ اٹھاتے احسن اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
/…/…/…/
رنم فاطمہ کی میکے آمد پر ہر کوئی خوش تھا۔ گھر میں لوگ ہی کتنے تھے۔ پپا سعودیہ میں تھے۔ عالیان اور مما ہی تھیں ایسے میں دادی آجاتی تھیں چھوٹے چاچو کے پاس سے تو گھر میں رونق ہوجاتی تھی۔ ابھی بھی دادی کو دیکھ کر رنم فاطمہ کی چینچ نکل گئی۔
’’ارے دادی…!‘‘ وہ بھاگ کر ان تک آئی اور ان کے وجود کے گرد گھیرا ڈال کر بیٹھ گئی۔
’’کیسے ہو بہنوئی صاحب۔‘‘ عالیان نے خوش دلی سے احسن کو بھینچ لیا۔ اسے اپنا دوست مزید عزیز تر ہوگیا تھا۔ رنم فاطمہ کتنی خوش تھی چند مہینوں میں یہ سب پر کھل گیا تھا۔
’’تمہارے سامنے ہوں۔‘‘ احسن نے بھی خوش دلی سے جواب دیا۔ دادی کے سامنے سر جھکا کر پیار لیتے صوفے کو رونق بخشی۔
’’ماشاء اﷲ… دونوں کتنے خوش ہیں‘ یہ ان کے چہروں سے ظاہر ہے۔ نظر بد سے بچائے اﷲ میرے بچوں کو‘ آمین۔‘‘ دادی جان نثار نظروں سے رنم کے کھلے کھلے چہرے کو دیکھ رہی تھیں۔ سب کی نظریں رنم فاطمہ کے چہرے پر اٹھ گئیں۔
’’توبہ ہے‘ آپ سب مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اس نے شرما کر دادی کے شانے پہ منہ چھپالیا۔ سب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’آپ نے کیوں زحمت کی ماما میں بنا لیتی نا۔‘‘ ماما کے ہاتھ میں شربت کی ٹرے دیکھ کر اس نے حفت سے کہا۔ رنم فاطمہ نے سب سے پہلے دادی کو شربت کا گلاس پیش کیا وہ بڑی تھیں اور ماما نے بچپن سے یہی تربیت کی تھی کہ پہلے بڑوں کا خیال رکھنا ہے۔ سب کو گلاس سرو کرکے رنم اپنا گلاس لے کر دادی کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
’’سچی رنم تمہارے قسم قسم کے مشروبات کو بہت مس کرتا ہوں۔ جب یہ ریڈی میڈ مشروب پیتا ہوں۔‘‘ عالیان نے گلاس لہراتے ہوئے دونوں کو یاد کیا۔
’’بھئی ہماری رنم تو ہر فن مولا ہے بس ایک ہی شکایت رہی اس سے۔‘‘ دادی نے سراہتے ہوئے آخر میں ٹھنڈی آہ بھری۔
’’کون سی شکایت دادی؟‘‘ احسن نے دلی چسپی دکھائی۔ رنم فاطمہ کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہونے لگی۔
’’یوں تو ہماری رنم لاکھوں میں ایک ہے۔ ہر کسی کو خوش رکھتی ہے۔ لیکن جانے کیوں اﷲ کو خوش رکھنے کے معاملے میں کوتاہی کرجاتی ہے۔‘‘ دادی کو افسوس ہوا۔
’’بچپن سے یہ وقت آگیا ہے مگر آج تک اسے دل سے نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ جانے کب یہ خوشی دیکھنا نصیب ہوگی۔‘‘ دادی کا لہجہ پست ہوگیا۔ رنم فاطمہ کو شرمندگی ہونے لگی۔
’’فکر نا کریں دادی آجائے گی عقل اسے۔‘‘ احسن نے تسلی دی۔ رنم فاطمہ نے ایک شکایتی نظر احسن پر ڈالی۔
’’جانے کب عقل آئے گی۔ بچی تھوڑی ہے اب۔ خیر سے شادی ہوگئی ہے۔‘‘ دادی اپنا دکھڑا سنا رہی تھیں۔
’’کچھ بچے شادی کے بعد بھی بڑے نہیں ہوتے دادی۔‘‘ احسن مسکرا کر بولے تو عالیان زور سے ہنسا۔
’’جانے کب بڑی ہوگی۔ کل کو خود کی گود میں بچہ آجائے گا تب بڑی ہوگی۔‘‘ دادی کو فکر لاحق ہوئی۔ عالیان ماما کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔ جو انہیں کچھ ضروری چیزیں بازار سے لانے کا کہہ رہی تھیں۔
’’تیاری کرلو اب تو دادی نے بھی پیشن گوئی کردی!‘‘ احسن کا شوخ جواب اسے جھیپنے پر مجبور کر گیا تھا۔
’’تم ہی اسے سمجھایا کرو۔ تم تو شوہر ہو۔‘‘ دادی کی زندگی کا شاید ایک ہی مقصد رہ گیا تھا جسے وہ پورا ہوتے دیکھنا چاہتی تھی۔
’’آپ بے فکر رہیں دادی۔ ان شاء اﷲ جلدی ہی رنم کو اسی رنگ میں دیکھیں گی جس میں آپ دیکھنا چاہتی ہیں۔‘‘ احسن پُر عزم تھا۔ رنم فاطمہ ماما اور عالیان کے پیچھے باہر گئی تھی۔ غالباً انہیں اہتمام کرنے سے روکنے کے لیے تب ہی احسن کو دادی کو سمجھانے کا موقع ملا۔
’’ان شاء اﷲ… اﷲ تمہاری زبان مبارک کرے۔‘‘ دادی کو احسن بہت پسند تھا اور پوتی سے جڑ کر اور عزیز ہوگیا تھا۔
’’کیا ہوا ڈیئر وائف… مسنگ یو۔‘‘ احسن نے ٹیکسٹ کیا اور اسے خبر تھی رپلائے جلد ہی آجائے گا۔
/…/…/…/
’’کیا اب اس گھر میں شرم و حیا بھی ختم ہوگئی ہے۔‘‘ رنم فاطمہ کچن میں چائے بنا رہی تھی۔ احسن کچھ دیر قبل آفس سے لوٹا تھا۔ وہ شاور لینے گیا تو رنم فاطمہ کچن میں چلی آئی۔ گھر میں اس وقت صرف خواتین ہی ہوتی تھیں۔ ایسے میں وہ بے دھیانی میں بنا دوپٹے کے کچن میں آگئی تھی کہ اس کا روم کچن کے ساتھ ہی تھا۔ اسے خبر ہی نا ہوسکی کہ کسی ضرورت کے تحت وجدان کچن میں آیا اور اسے بنا دوپٹے کے دیکھ کر الٹے قدموں کچن سے نکل کر تیز آواز میں چلانے لگا۔ کچھ ناسمجھتی رنم فاطمہ کچن کے خارجی راستے تک آئی۔
’’حد ہوگئی اب بندہ گھر کے کسی بھی گوشے میں جانے سے پہلے اعلان کرے۔‘‘ کچن سے ملحق لاؤنج میں کھڑا سخت برہم نظر آرہا تھا۔ آناً فاناً ہما بیگم اور ثمرن بھی اس شور پر بھاگی چلی آئیں۔
اپنے روم میں آئینے کے آگے کھڑا احسن وہائٹ شرٹ اٹھا کر پہنے لگا تھا۔ شور کی آواز پر شرٹ کی آستین ڈالتے وہ بھی روم کے دروازے تک آیا۔ رنم فاطمہ وہائٹ شلوار سوٹ میں ٹخنوں سے اوپر شلوار کیے‘ شرعی ڈاڑھی اور سر پر ٹوپی لیے اپنے جیٹھ وجدان کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔ وجدان سے باقاعدہ آج تک بات نہیں ہوئی تھی۔ وہ الگ تھلگ رہتا تھا۔ لندن جیسے ملک میں رہ کر اپنا حلیہ نہیں بدلا تھا۔
’’حالانکہ مجھے وہاں شرعی حلیے پر لاکھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہاں گھر کی عورت کا حال برا ہے۔ تف ہے…‘‘ وجدان ملامت سے کہہ رہا تھا۔
’’او بے حیا… شرم سے ڈوب مر اب بھی تن کے کھڑی ہے۔‘‘ ہما بیگم نے سخت نفرت سے رنم فاطمہ کو حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو رنم فاطمہ جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹی۔
’’کیا ہوا بگ بی؟‘‘ احسن کی نظر ابھی تک رنم فاطمہ پر نہیں پڑی تھی۔ شرٹ کے بٹن بندکرتے اس کے ہاتھ رک گئے تھے۔ ہما بیگم کا تحقیر آمیز جملہ کانوں میں گونجا۔ اس نے اردگرد کا جائزہ لیا اور رنم فاطمہ کو بنا دوپٹے کے دیکھ کر وہ اس تک آیا۔
’’یہ تم اپنی بیوی سے پوچھو۔ جسے اسلامی طور طریقے کی اشد ضرورت ہے۔ اسے سکھاؤ کہ مسلم عورتیں اتنی بے حیائی سے گھر میں نہیں دندناتی پھرتیں۔‘‘ وجدان اپنے نظریے کا سخت تھا۔ وہی سختی اس کے لہجے میں تھی۔
’’ہر کسی کے گھر کا ماحول الگ ہوتا ہے بگ بی۔ رنم کا دھیان نہیں رہا ہوگا کہ آپ گھر میں موجود ہیں۔‘‘ احسن رنم فاطمہ کے وجود کے آگے ڈھال بنا کھڑا تھا۔ رنم فاطمہ نے نمناک نظروں سے اس کی چوڑی پشت کو دیکھا جس کے پیچھے وہ سب کی حقارت بھری نظروں سے چھپ سی گئی تھی۔
’’تو صوم و صلوۃ کی پابند اور حجاب و حیا کو دھیان میں رکھنے والی لڑکی پسند کرنی تھی نا۔ تم نے اپنی ضد تو کرلی اور ہم سب کو امتحان میں ڈال دیا[ ہمیں گناہ گار بناؤ۔‘‘ وجدان احسن کو گھور رہا تھا۔
’’ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ذرا خود کو متقی پرہیز گار سمجھنے لگیں تو دنیا کا ہر بندہ کافر نظر آتا ہے۔ پیغمبر اسلام نبیﷺ نے ہمیں یہ درس نہیں دیا۔‘‘ احسن نے ناگوار لیکن نرم لہجے میں کہا۔ ثمرن خاموش تماشائی بنی کھڑی تھی۔ ہما بیگم کے چہرے پر ناگواری صاف ظاہر تھی۔
’’ایک دفعہ پیغمبر اسلام نبیﷺ نے ایک ہندو لڑکی کو بنا دوپٹے کے دیکھا تو اس کے سر پر آنچل ڈال دیا۔ لوگوں نے کہا یہ ہندو ہے۔ تب انہوں نے بہت نرمی سے اپنا مطمع نظر واضح کیا تھا۔ کیا ہم وہی نرمی اپنے اندر نہیں لاسکتے۔ سختی کرے اور خود کو اعلا و ارفع سمجھنے کا درس ہمیں ہمارا مذہب نہیں دیتا۔‘‘ احسن کے نرم لہجے پر ماحول میں سناٹا چھا گیا۔
’’رہنے دو وجدان ان تلوں میں تیل نہیں۔‘‘ ہما بیگم نے ناگواری سے کہا۔ رنم فاطمہ نے سہم کر پیچھے سے احسن کو تھاما۔ احسن کو اس کی دلی کیفیت کا اندازہ ہوگیا تھا۔ وجدان بنا کچھ کہے تلملاتا ہوا چلا گیا تھا۔ شاید سچ برداشت نہیں ہوا تھا۔ ہما بیگم بھی ہونہہ کرکے چلی گئی تو ثمرن بھی ان کے پیچھے چل دی۔
’’تم لوگ جاؤ چائے میں بنالیتی ہوں۔‘‘ عریشہ نے کہتے ہی کچن کی طرف پیش قدمی کردی تھی۔ احسن نے دایاں ہاتھ پیچھے لے جا کر اس کی مٹھی پر اپنا ہاتھ رکھا اور نرمی سے قمیص چھڑا کر اس کی سمت پلٹا۔ اس کا ہاتھ ہنوز ہاتھ میں تھا۔ اس کی شرٹ دبوچے وہ ہراساں ہرنی کی طرح نم آنکھوں سے اس کے بے حد پاس تھی۔ احسن نے اپنا دایاں بازو اس کی کمر کے گرد حصار کیا اور اسے ساتھ لیے کمرے کی سمت بڑھ گیا۔ اس کے قدم من من بھر کے ہورہے تھے۔
کمرے میں آکر احسن نے دروازہ بند کیا اور رنم فاطمہ کا ضبط جواب دے گیا۔ احسن کے وجود کو سختی سے دبوچے وہ شدت سے رودی تھی۔ اس نے بہت مست ملنگ زندگی گزاری تھی۔ گھومنا پھرنا‘ کھانا پینا‘ دوستیاں کرنا‘ بے فکری تھی۔ ہاں اتنا شعور تھا کہ ہر سوٹ کی ساتھ دوپٹہ ہوتا تھا۔ بنا دوپٹوں کے گھومتی عورتوں کو دیکھنے کے باوجود اس نے کبھی دوپٹا نہیں چھوڑا تھا۔ بھلے گلے میں ہی کیوں نا ہو۔ ماما اور دادی کے بقول دوپٹے کے بنا سوٹ کا کوئی وجود نہیں تھا۔ گھر میں سارا دن کوئی نہیں ہوتا تھا۔ یونیورسٹی میں دوپٹا شانوں پر ہوتا تھا۔ گھر آتے ہی جانے کس کونے میں چھپ جاتا تھا۔ ایسے میں کوئی اچانک آجاتا تو دوپٹے کی ڈھنڈیا مچتی تھی۔ ماما دادی سے کئی بار ڈانٹ پڑچکی تھی لیکن اثر نہیں ہوا تھا۔
لیکن آج اس عادت کی وجہ سے احسن کو اس کی وجہ سے جتنی سبکی اٹھانی پڑی تھی یہ احساس اسے بدحواس کر گیا تھا۔ تو ذلت کا احساس رلا رہا تھا آنسوؤں سے بھیگا گلابی چہرہ اور گلابی آنکھیں اس کے سامنے تھیں۔ ہچکیاں لیتی وہ سیدھی دل میں اتری جارہی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں پر جھکا تھا۔ رنم فاطمہ کی تیز سسکی نکلی تھی۔
’’اب نہ رو… بس کردو۔‘‘
’’سوری احسن… مجھے بالکل دھیان نہیں تھا کہ وجدان بھائی گھر میں ہیں ورنہ…‘‘ سر اٹھائے متورم گلابی آنکھوں سے اسے دیکھتے وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر لب کاٹنے لگی۔ احسن ہولے سے مسکرا دیا۔
’’مجھے معلوم ہے میری جان تم جان بوجھ کر ایسی حرکت نہیں کرسکتی تھیں۔ لیکن حجاب عورت کا حسن ہے۔ گرمیوں کا رونا رو کر حجاب سر سے اتار دیتی ہیں اور شیطان سر پر سوار ہوجاتا ہے۔ گرمی امہات المومنین کے وقت میں بھی پڑتی تھیں مگر انہیں جہنم کی گرمی کا خوف ان کے سروں سے حجاب کو اترنے نہیں دیتا تھا۔‘‘ احسن بے حد نرم لہجے میں اسے بتا رہا تھا۔ اگر اس کی جگہ ابھی کوئی اور ہوتا تو کمرے میں آتے ہی اپنا غصہ اس پر انڈیل کر لفظوں کی برچھی چلا کر حکم صادر کردیتا کہ آئندہ بنا دوپٹے کے نادیکھوں یا آئندہ سے حجاب لوگی۔ وہ سمجھا رہا تھا تو ان عظیم ہستیوں کی مثال دے کر جن کی تقلید سے آخرت روشن تھی۔
’’سوری احسن میں پوری کوشش کروں گی کہ آئندہ میری وجہ سے آپ کو کوئی شرمندگی نا ہو۔‘‘ وہ صدق دل سے کہہ رہی تھی۔ اس پر بہت جلد کھل گیا تھا کہ وہ اس گھر میں ناپسندیدہ ہستی ہے اور اگر اس کے رنگ ڈھنگ سے احسن کے دل میں بھی میل آجاتا تو وہ کیا کرتی۔
’’مجھے خوشی ہوگی میری جان۔‘‘ احسن نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے وجود کا مان بخشا تھا وہ اس کے لیے ہر نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کو کھڑا تھا۔
/…/…/…/
’’بہت خوش قسمت ہو تم کہ تمہیں احسن جیسا ہم سفر ملا ہے جو ہر جگہ تمہاری ڈھال بن جاتا ہے۔ کبھی کچھ ایسا نہ کرنا کہ اس کا دل دکھے یا وہ اپنی پسند پر پچھتائے۔‘‘ اگلے روز اس کے ساتھ ہنڈیا پکاتی عریشہ کہہ رہی تھی۔ رنم فاطمہ مسکرادی۔ اسے احسن کی تعریفیں سننا اچھا لگ رہا تھا۔
’’شادی کے ایک ماہ بعد وجدان لندن چلے گئے تھے۔ مجھے وہاں بلانے میں انہیں تقریباً ایک سال لگا اور یہ ایک سال میں یہاں رہی تھی سب کے ساتھ۔ سب میرے ساتھ ٹھیک تھے۔ شاید اسی لیے کہ میں اس خاندان کی ہوں۔ پھوپو نے کبھی ساس والا رویہ نہیں رکھا تھا ناں ثمرن نے نند والا۔ احسن کا رویہ ویسا ہی تھا جیسے بحیثیت کزن پہلے تھا۔ بھابی بننے کے بعد ہاں ضرورت کے تحت تھوڑی باتیں کرلیتا تھا۔ ورنہ جب تک کزن تھی تو سلام دعا سے زیادہ کبھی اس نے کوئی بات نہیں کی۔ ہم سب کزنز کی بہت اچھی دوستی رہی ہے۔ سب ساتھ ہی دل کی باتیں کرتی تھیں۔ کتنی ہی کزن احسن کو پسند کرتی تھیں مگر اس نے کبھی کسی کو گھاس نہیں ڈالی۔ چچا کی بیٹی فروا اس پر مرتی ہے۔ پچھلے سال خاندان میں شادی تھی میں بھی آئی ہوئی تھی۔ فروا نے بے دھڑک اظہار محبت بھی کردیا اور احسن نے اسی وقت چھوٹتے ہی کہہ دیا تھا۔ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اور اسی سے شادی کرے گا۔ بھری محفل میں انکار پر فروا نے اسے اپنی بے عزتی گردانا تھا۔ اس نے چچا اور چچی جان کو فورس کیا کہ وہ پھوپو سے اس کے لیے احسن کا رشتہ مانگیں وہ ہر حال میں احسن سے شادی کرے گی۔ چچا اور چچی رشتہ لے کر آئے۔ انہوں نے جہیز کے نام پر لاکھوں کی پراپرٹی بھی احسن کے نام کرنے کی آفر کردی۔ پھوپو کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ انہوں نے پھوپا جان سے بات کی اور اپنے تئیں رشتہ پکا کردیا۔ احسن کو خبر ہوئی تو اس نے پورے خاندان کے سامنے کہہ دیا کہ وہ فروا سے شادی نہیں کرے گا اور ناہی اس رشتے کو مانتا ہے جو اس کی مرضی کے بنا طے ہوا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی امید رکھی جائے… پھوپو نے اموشنل بلیک میلنگ کی تو اس نے گھر چھوڑ دیا۔ ایک ہفتہ گھر سے لاپتا رہا۔ کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے‘ کیسا ہے؟ خاندان کے سارے لوگ پھوپو اور چچا چچی کو لعن طعن کرنے لگے کہ زبردستی کا رشتہ جوڑ کر کیوں دو گھرانوں میں نفرت کی دیوار اٹھارہے ہو۔ چچا اور چچی کو یہ بات سمجھ آگئی اور یوں رشتہ ختم ہوا۔ فروا کچھ کرتی اس سے پہلے چچا نے اس کا رشتہ امریکہ میں اپنے بھانجے سے طے کردیا۔ چٹ منگنی پٹ بیاہ کرکے معاملہ رفع دفع ہوا تھا۔‘‘
’’یہ کب کی بات ہے بھابی؟‘‘ رنم فاطمہ غور سے سن رہی تھی۔
’’ڈیڑھ سال ہوگیا تقریباً۔‘‘ عریشہ نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’تب میں نے اس سے پوچھا تھا کہ کون ہے وہ لڑکی جس کے لیے تم نے پورے خاندان سے بیر باندھ لیا۔ وہ شرما گیا تھا۔ تب اس نے تمہارا نام لیا تھا۔‘‘
’’رئیلی بھابی…!‘‘ عریشہ مسکرائی۔
’’یہ بہت حیرت انگیز اسٹوری ہے میرے لیے۔ شادی سے پہلے ناں احسن نے کبھی مجھ سے کوئی بات کی نہ کبھی اظہار کیا۔ ہاں شادی کے بعد ضرور بتایا کہ وہ بھی مجھ سے پہلی نظر میں محبت کر بیٹھے۔‘‘ اس کا استعجاب سے برا حال تھا۔
’’اگر یہ سچ ہے جو تم کہہ رہی ہو تو تم سے زیادہ تم دونوں کی لو اسٹوری پر مجھے حیرت ہے۔‘‘ عریشہ نے مسکراتے ہوئے ہنڈیا چولہے سے اتاری۔ رنم فاطمہ آٹا گوندھ کر پیڑا بنا کر فارغ ہوئی تھی تب اس کے سیل فون کی ٹون بجی۔
’’کیا ہورہا ہے جانو۔ مسنگ یو میسج۔‘‘ پڑھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ کو دیکھتے عریشہ نے اس کے گال پر چٹکی بھری تھی وہ شرما گئی۔
’’تعریفیں سن رہی ہوں ایک ہیرو کی۔‘‘ اس نے لب دبا کر مسکراتے ہوئے رپلائی کیا۔
’’کون ہے وہ خوش قسمت جس کی آپ تعریفیں سن رہی ہیں۔‘‘
’’ہے نا کوئی… آئی لو ہیم ٹو مچ۔‘‘ رنم فاطمہ نے مزا لیا۔
’’اوہو…! میں بہت جل رہا ہوں۔‘‘ احسن نے مصنوعی آہ بھری۔ رنم فاطمہ کی مسکراہٹ میں مان کا احساس اور گہرا ہوگیا۔
/…/…/…/
عریشہ اپنے میکے گئی تو۔ ہما بیگم بھی ساتھ ہولی تھیں۔ ثمرن کالج میں تھی۔ رنم فاطمہ کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔ احسن آفس جانا نہیں چاہ رہا تھا۔ اس کی طبیعت کی خرابی اور اکیلے پن کی وجہ سے لیکن رنم فاطمہ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ آرام کرے گی۔ تب کہیں سختی سے آرام کرنے کی تنبیہہ کرکے وہ مانا تھا۔ مگر چند گھنٹوں میں کئی بار کال کرکے اس کی طبیعت کے متعلق پوچھ چکا تھا۔ بھوک کا احساس ہوا تو وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ اپنے لیے چیز سینڈوچ اور جوس بنانے لگی۔
’’واؤ رنم فاطمہ ڈلیش۔ شاباش ہے تمہیں۔‘‘ جوس کا گھونٹ بھر کر ٹیسٹ کرتے اس نے جیسے خود کو داد دی۔ اور ٹرے میں سینڈوچ کی پلیٹ اور جوس کا گلاس رکھ کر پلٹی تو بری طرح ٹکرا گئی۔ اس کی چینخ نکل گئی۔
’’ارے ڈرو مت میں ہوں۔‘‘ مقابل نے اس کے لڑکھڑاتے قدم پر اس کی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اسے سنبھالا۔ رنم فاطمہ کو جیسے جلتے کوئلے نے چھولیا تھا۔ وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹی۔
’’ڈر کیوں رہی ہو؟‘‘ مقابل دو قدم آگے بڑھا۔ رنم فاطمہ کے حواس جیسے سلب ہورہے تھے۔ شانوں پر موجود دوپٹے کو قدرے آگے گھسیٹا۔ خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ پتھرائی آنکھوں سے وجدان کو دیکھ رہی تھی جس کے شرعی روپ سے شیطان آشکار ہورہا تھا۔
وجدان نے ہاتھ بڑھا کر رنم فاطمہ کے ہاتھ میں موجود ٹرے سے جوس کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگالیا۔ رنم فاطمہ ڈگمگائی۔ ٹرے اس کے ہاتھ میں کانپنے لگی۔
’’رنم فاطمہ واقعی شاباش ہے تمہیں۔‘‘ اس کا جوس گھونٹ گھونٹ پیتے وجدان اس کا جملہ دہرا رہا تھا۔
’’آ…آ… آپ کیسے؟ گیٹ تو لاک تھا۔‘‘ رنم فاطمہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس صورت حال کو کیسے ہینڈل کرے۔ صبح ناشتے کی میز پر ہی وجدان حیدرآباد کے لیے نکلنے کی بات کررہا تھا۔ اور وہ وقت پر چلا بھی گیا تھا۔ پھر کیسے؟ اسے اپنی جان نکلتی محسوس ہورہی تھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ وجدان کا بدلتا انداز اور نگاہیں اسے جو پیغام دے رہی تھیں وہ انتہائی خراب تھا۔ وجدان جیسے اس کے معصومانہ سوال پر مسکرایا۔
’’لاک کی چابی میں نے رکھ لی تھی۔ جب خبر ہوئی تم گھر پر اکیلی رہوگی اور حیدرآباد جانے کا ڈرامہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ آؤ کچن میں کب تک کھڑی رہوگی… گرمی ہے یہاں… چلو اے سی میں انجوائے کرتے ہیں۔‘‘ اس کا ہاتھ تھامنے کے خیال سے وجدان آگے بڑھا تھا۔ اس کے چہرے پر پھیلی خباست اور جملوں کے بعد اب شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی کہ اس کے ارادے کتنے مکروہ تھے۔ خود کو متقی و پرہیز گار ظاہر کرنے والا اندر سے کتنا گھناؤنا تھا یہ آشکار ہوگیا تھا۔
وہ خوف زدہ ہرنی کی طرح راہ فرار ڈھونڈ رہی تھی۔ وجدان دروازے کی طرف ہی کھڑا تھا۔ سو اسے نکلنے کے لیے اس کا سامنا کرنا پڑتا۔ دفعتاً ڈور بیل مسلسل بجنے لگی۔ وجدان ڈور بیل پر بری طرح بوکھلا گیا۔
رنم فاطمہ دل ہی دل میں مدد مانگتی اﷲ کے حضور شکر ادا کرنے لگی۔ وجدان فوراً کچن سے باہر چلا گیا۔ ڈور بیل مسلسل بج رہی تھی۔ رنم فاطمہ کپکپاتی ٹانگوں سے دروازے کی طرف بڑھی تھی۔
’’کیا باجی سوگئی تھیں؟ کب سے گھنٹی بجارہی ہوں۔‘‘ فاخرہ دروازہ کھلتے ہی شروع ہوگئی تھی۔
رنم فاطمہ کو اس کی بے وقت آمد پر اس کی کلاس لینے کے بجائے اس کا شکرادا کرنے کو جی چاہا۔
’’دیر سے آنے پر ناراض ہو باجی جو بول نہیں رہیں۔ جہاں ایک اور گھر میں کام کرتی ہوں آج وہاں مشین لگائی تھی۔ کپڑے دھونے میں ٹائم نکل گیا۔ اس لیے دیر ہوگئی۔‘‘ فاخرہ ملازمہ تھی۔ اسے باتیں کرنے کی عادت تھی۔ رنم فاطمہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے اسے بتائے کہ اس کی بے وقت آمد نے آج اس کی آبرو بچالی ہے۔
’’کوئی بات نہیں… تم اپنے کام کرو۔‘‘ وہ بمشکل کچھ بولنے کے قابل ہوئی تھی۔ فاخرہ اس کے پیچھے بولتی چلی آرہی تھی۔ رنم فاطمہ نے وجدان کو خاموشی سے گھر سے نکلتے دیکھا تو اس کی رکی سانس خارج ہوئی۔ وہ جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے چلا گیا تھا۔ تاکہ رنم اس کی شکایت بھی کرے تو سب اسے ہی مورد الزام ٹھہرائیں کوئی اس کی بات کا یقین نہ کرتا۔ جاتے جاتے بھی اس کی آنکھیں بہت کچھ بتا گئی تھی کہ کب تک بچے گی۔
’’گھر میں اکیلی ہو باجی؟‘‘ فاخرہ کو بھی گھر کے سناٹے کا احساس ہوا۔ ورنہ تو ہما بیگم موجود ہوتی تھیں۔
’’اکیلی پہلے تھی اب تم جو آگئی ہو۔‘‘ رنم فاطمہ نے اپنی محسنہ کو ذرا سا مسکرا کر دیکھا اور اس مسکراہٹ کے پیچھے دل پر جو گزری یہ وہی جانتی تھی۔
’’یہ ٹھیک کہا تم نے باجی۔‘‘ فاخرہ نے حسب عادت زور دار قہقہہ لگایا۔
’’فاخرہ پہلے عریشہ بھابی کمرہ صاف کردو۔ انہوں نے خاص ہداہت دی ہے روم اور واش روم کی صفائی کرنے کی۔‘‘ رنم فاطمہ کے قدم جیسے شل ہوگئے تھے۔ وہ صوفے پر ڈھے سی گئی۔
’’میں ابھی کردیتی ہوں۔ وجدان بھائی تو کمرے میں نہیں ہیں نا؟‘‘ فراٹے سے بولتی فاخرہ ایک دم ہراساں ہوکر پوچھنے لگی۔ رنم فاطمہ کے دل کی دھڑکن تھمی۔
’’کیوں… وجدان بھائی کا کیوں پوچھا تم نے؟‘‘ رنم فاطمہ کے لبوں پر بھائی کا لفظ اٹکنے لگا۔ وجدان اس مقدس لفظ کے قابل کہاں رہا تھا۔
’’رہنے دو باجی اب کیا بولوں۔‘‘ فاخرہ جیسے کشمکش میں تھی۔
’’بولو جو بات تمہیں تنگ کررہی ہے۔‘‘ رنم فاطمہ نے حوصلہ بڑھایا۔ فاخرہ نے پہلے ارد گرد نظر دوڑائی جیسے تسلی کرنا چاہتی ہو کہ کوئی سن تو نہیں رہا۔
’’بس باجی… جب وجدان بھائی گھر آتے ہیں۔ مانو میری سختی آجاتی ہے۔ میں سالوں سے یہاں کام کررہی ہوں۔ کوئی شکایت نہیں ہوئی لیکن وجدان بھائی…‘‘ فاخرہ جیسے ڈر کر رک گئی کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار اس گھر کے فرد سے کررہی ہے۔
’’ڈرو مت‘ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔‘‘ رنم فاطمہ کو احساس ہوگیا کہ فاخرہ ڈر رہی ہے۔ تب ہی اس کا حوصلہ بڑھایا۔
’’وجدان بھائی نظر ونیت کے ٹھیک انسان نہیں۔ اکیلے دیکھ کر کئی بار دست درازی کی کوشش کرچکے ہیں۔ وہ تو قسمت اچھی تھی جو ہر بار بچ گئی۔ جب یہ گھر آتے ہیں تو میں زیادہ چھٹیا کرلیتی ہوں یا کوشش کرتی ہوں بے وقت آؤں تاکہ انہیں موقع نہ ملے۔ غریب ہیں تو کیا ہوا باجی عزت تو ہماری بھی ہے۔‘‘ فاخرہ جیسے غمگین ہوگئی تھی۔ رنم فاطمہ کو سانس لینا جیسے دشوار لگنے لگا تھا۔
’’اب آپ بھی اسی گھر میں رہتی ہو۔ احتیاط کرنا۔ کبھی اکیلی نہ رہنا کہ وجدان جیسے شیطان صفت کو موقع ملے۔ ایسے انسان کسی کے سگے نہیں ہوتے۔ انہیں کسی رشتے کا پاس نہیں ہوتا۔‘‘ فاخرہ اپنے تئیں فلسفہ بول رہی تھی اور رنم فاطمہ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ لب ہلا کر اس کا شکریہ ادا کرسکتی کہ اگر وہ وقت پر نہ آتی تو جانے ابھی وہ زندہ بھی ہوتی یا نہیں۔
’’احسن بھائی بھی ہیں۔ اگر میں ان کے روم میں صفائی کرنے جاتی ہوں تو وہ خود کمرے سے نکل جاتے ہیں کہ میں سکون سے اپنا کام کرلوں۔ دعا نکلتی ہے احسن بھائی کے لیے جو احترام سے کام بتا کر چلے جاتے ہیں۔ مجھے کبھی مال مدد کی ضرورت پڑی میں نے خالہ (ہما بیگم) سے کہنے کے بجائے احسن بھائی سے کہا اور انہوں نے خاموشی سے مدد بھی کی۔ سچ ہے انسان پیٹھ پیچھے بھی اس کی تعریف کرتا ہے جو اس لائق ہوتا ہے۔‘‘ فاخرہ کہہ رہی تھی رنم فاطمہ خاموشی سے سب سن رہی تھی ساتھ ہی دل میں خدا کا شکر بھی ادا کررہی تھی۔
/…/…/…/
رنم فاطمہ کو اس واقعے کے بعد سے چپ سی لگ گئی تھی وہ زیادہ تر وقت کمرے میں ہی گزارنے لگی تھی جہاں کہیں بھی وجدان کی موجودگی کا یقین ہوتا وہ کنی کترا جاتی۔ رشتہ اتنا نازک اور وجہ اتنی بڑی تھی کہ وہ کیسے اس شخص کو ہینڈل کرتی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اس نے احسن سے بھی تذکرہ نہیں کیا تھا حالانکہ وہ بارہا اس کے بجھے بجھے انداز کی وجہ پوچھ چکا تھا وہ بتاتی بھی تو کیا اور کن لفظوں میں؟ اب تو وہ بھی دعا گو تھی کہ وجدان جلد سے جلد لندن واپس چلا جائے۔ ایک گھر میں رہ کر وہ کب تک اس کی حریص نظروں سے بچ سکتی تھی خصوصاً ڈائننگ ٹیبل پر سامنا لازمی ہوتا تھا۔
ابھی بھی سب ڈنر کررہے تھے اور نا چاہتے ہوئے بھی رنم فاطمہ کو اس کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اسے ڈائننگ میز کے نیچے سے کسی چیز کی سراہٹ محسوس ہوئی تو خوف زدہ ہوکر اس نے اپنی ٹانگیں مزید سمیٹ لیں اور احسن کے مزید قریب ہوگئی۔ اس کے عین سامنے وجدان بیٹھا تھا۔ رنم کے چہرے پر ناقابل فہم تاثرات تھے۔ جی چاہ رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
’’یہ کیا بات ہوئی احسن؟ کمپنی نے اس سے پہلے بھی تمہیں آفر کی تھی تب تم نے ریجیکٹ کردی تھی اور اب آفر قبول کرنے کی وجہ تو یہ ہی نظر آتی ہے کہ تم خود شفٹ ہونا چاہتے ہو۔‘‘ ہما بیگم کی ناگوار تیز آواز پر سراسیمگی کی کیفیت میں رنم فاطمہ نے ماحول کو نا سمجھنے کی کوشش کی جانے کب سے کیا باتیں ہورہی تھیں اس کا دھیان ہی نہیں تھا۔
’’ترقی کے لیے آفر قبول کرنا ضروری ہے مما اور اسلام آباد کون سا دور ہے آتے جاتے رہیں گے ہم… رنم تم کمرے میں جاکر پیکنگ شروع کرو میں آتا ہوں۔‘‘ رنم کے پلے خاک نہیں پڑا تھا۔ راہ فرار ملتے ہی وہ تیزی سے اٹھی تھی۔ اپنے پیچھے اسے ہما بیگم کی برہم اور احسن کی نرم آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
’’اسلام آباد… پیکنگ۔‘‘ ابھی وہ ادھیڑبن میں ہی تھی کہ احسن ٹرے میں کھانا لیے کمرے میں داخل ہوا۔
’’آئو پہلے کھانا کھالو۔ کئی دنوں سے نوٹس کررہا ہوں تم نے ڈھنگ سے کھانا نہیں کھایا۔‘‘ ٹرے میں موجود بریانی پلیٹ میں نکالتے احسن نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے اس کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
’’ایسی بات نہیں ہے احسن…‘‘ اس نے بات بنانا چاہی۔
’’اچھے بچے جھوٹ نہیں بولتے۔‘‘ اسپون میں چاول بھر کر احسن نے اس کی طرف بڑھایا۔ اتنا کیئرنگ اور لونگ شوہر پاکر اس کی آنکھیں بھرنے لگی تھی۔
’’نمکین پانی کے ساتھ بریانی بالکل مزا نہیں دے گی جانو‘ سو پلیز ایسی کوشش نہ کرو۔‘‘ اسپون پلیٹ میں رکھ کر اس کی آنکھوں میں آئے پانی کو رخسار پر بہنے سے پہلے ہتھیلی میں جذب کرلیا۔ چند دنوں سے دل اتنا گداز ہوگیا تھا کہ بات بے بات آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ اس کے احساسات و جذبات پر وجدان کے عمل نے کاری وار کیا تھا وہ کبھی تصور میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی اسے دوپٹا نہ لینے پر درس دینے والا اندر سے اتنا گندا ہے کہ اس کے نزدیک رشتوں کا تقدس بھی نہیں تھا۔
’’پیکنگ کرلینا کل صبح ہم اسلام آباد کے لیے نکل رہے ہیں۔‘‘ اسے چمچہ بھر بھر کر کھلاتے احسن گویا ہوا۔
’’کتنے دن کے لیے؟‘‘ اسے یہاں سے فرار کی ہنوز یہی فرحت ہوئی۔
’’ہمیشہ کے لیے۔‘‘ احسن نے مسکرا کر کہا۔
’’مطلب…!‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’کمپنی کافی ٹائم سے آفر کررہی تھی کہ میں ان کی اسلام آباد برانچ کے ساتھ کام کروں سو میں نے یہ آفر قبول کرلی۔ مما چاہتی ہیں میں تمہیں یہاں چھوڑ کر جائوں۔‘‘ احسن کہہ رہا تھا اور رنم فاطمہ جس کے چہرے پر خوشی کے پھول کھلنے لگے تھے احسن کے آخری جملے پر وہ سہم کر اسے دیکھنے لگی۔
’’پھر آپ مجھے یہاں چھوڑ کر چلے جائیں گے؟‘‘ اس کے خوب صورت چہرے پر پھیلے خوف پر احسن کو بے حد پیار آیا۔
’’میں اپنی جان کو کیسے یہاں چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘ اس نے رنم فاطمہ کے رخسار کو چھوا۔ ’’میں نے مما کو صاف کہہ دیا کہ تم میرے ساتھ جائوں گی‘ جب ہم ایک ساتھ مکمل ہیں تو کیوں ادھورے پن کے ساتھ جئیں۔‘‘ احسن بہت ہولے سے کہہ رہا تھا اور سکون رنم فاطمہ کے اندر تک اترتا چلا گیا۔
/…/…/…/
گھر میں کوئی بھی ان کے جانے سے خوش نہیں تھا۔ ہما بیگم اور ثمرن منہ بنائے بیٹھی تھیں۔ عریشہ نے مسکرا کر دعا دے کر رخصت کیا تھا۔ احسن نے ہما بیگم کے پیروں کو ہاتھ لگا کر معافی تک مانگی تھی کہ اگر اس کے عمل سے ان کا دل دکھا تو اسے معاف کردیں۔ وجدان نے وقت رخصت رنم کے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑا پن دکھانا چاہا تھا لیکن رنم فاطمہ اس انسان کو اتنا بھی حق نہیں دینا چاہتی تھی اس لیے آگے سے نکل گئی۔ رنم نے رات ہی گھر فون کردیا تھا۔ مما نے اصرار کیا تھا کہ وہ دونوں ناشتہ ان کے ساتھ کریں پھر یہاں سے ہی ڈائریکٹ ایئرپورٹ چلے جائیں گے۔
وہ دونوں پہنچے تو گھر میں سب ان کے منتظر تھے۔ خوش دلی سے استقبال کیا گیا تھا۔ دادی بھی موجود تھیں جس کی وجہ سے ناشتے کا لطف دوبالا ہوگیا تھا۔ فلائٹ کا وقت ہورہا تھا۔ مما نے ڈھیروں تحائف دونوں کے ہمراہ کئے تھے۔
’’احسن خیال رکھنا رنم کا۔‘‘ وقت رخصت عالیان دوست اور بہنوئی سے بحیثیت بھائی کے استدعا کرنا نہیں بھولا تھا۔ ایک شہر میں رہتے ہوئے ملنے جلنے کے لیے تامل نہیں کرنا پڑتا تھا۔ مگر اب وہ دور جارہی تھی۔
’’فکر نہ کرو یار تمہیں کبھی شکایت نہیں ملے گی۔‘‘ احسن نے ہاتھ گرم جوشی سے دباتے ہوئے اسے گلے سے لگالیا۔
’’تم بھی چکر لگانا۔ ہم بھی آتے جاتے رہیں گے۔‘‘ سب نے محبتوں کے ساتھ انہیں رخصت کیا تھا۔ نیا گھر نئے شہر میں آکر رنم فاطمہ کو فرحت کا احساس ہوا تھا۔ یہاں نا ہما بیگم کی جگر کو چیر دینے والے جملے تھے نہ ان کی برچھی کی طرح چبھتی نظریں۔ نا وجدان جیسا شیطان صفت انسان تھا۔ یہاں آکے وہ کھل سی گئی‘ یہ احسن سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔
نیا آفس نئے ماحول میں احسن کچھ زیادہ مصروف ہوگیا تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ رنم کو ٹائم ضرور دیتا تھا۔ دن میں کئی بار اسے کال کرتا تھا۔ ایک ملازمہ بھی اس کی سہولت کے لیے رکھ دی تھی جو ضروری امور انجام دے کر چلی جاتی تھی۔ گھر کے ضروری کاموں سے فارغ ہوکر رنم کو سر شام احسن کا انتظار کرنا اچھا لگتا تھا۔ بنیادی طور پر دونوں ایک دوسرے کے سنگ بے حد خوش تھے۔
’’رنم نماز پڑھ لی؟‘‘ احسن کا ایک ہی سوال تھا جس پر رنم فاطمہ کی فراٹے سے چلتی زبان تھم جاتی تھی۔ اکثر احسن اسے نرمی سے سمجھاتا رہتا اور رنم فاطمہ اس کی موجودگی میں مارے باندھے نماز کے لیے کھڑی ہوجاتی تھی جیسے دادی کے کہنے پر کھڑی ہوجاتی تھی۔
رنم پہلی بار احسن کے ساتھ کسی آفیشل پارٹی میں جارہی تھی۔ اسے بہت اچھا لگا تھا۔ اس کے لیے اس نے اچھے سے پارلر سے سروسز اور اسٹائلنگ کے لیے اپائنمنٹ لے لی تھی۔ بے حد حسین ڈریس بھی خرید چکی تھی وہ پارلر جانے کے لیے ٹائم دیکھ رہی تھی تب ہی احسن کی کال آگئی۔
’’نماز جمعہ کا ٹائم ہونے والا ہے نماز پڑھ لینا۔‘‘ ضروری باتوں کے بعد احسن نے یاد دلایا۔
’’احسن وہ مجھے پارلر جانا تھا تو…‘‘ وہ اس سے جھوٹ نہیں کہہ سکتی تھی اس لیے زبان رک گئی۔ اب وہ بے شرموں کی طرح تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ نماز کے لیے وقت نہیں ہے پہلے ایسا ہی تھا۔ لیکن زبان میں شاید ابھی تھوڑی حیا باقی تھی۔
’’اچھا سارے کام چھوڑو شاور لو اور جمعہ کی تیاری کرو۔ آج صلوۃ التسبیح کی نماز پڑھنی ہے‘ سورہ الکہف اور سورہ یسیٰن کی تلاوت بھی کرنی ہے تم نے اوکے۔‘‘ احسن نے بے حد نرمی سے کہا۔
’’احسن پارلر سے اپائنمنٹ لی ہوئی ہے میں نے ڈیئر۔‘‘
’’میں نے کہا نہ سارے کام چھوڑدو تو بس…‘‘ احسن نے قدرے اونچی آواز میں کہا۔ ایک پل کو تو رنم فاطمہ بھی چپ رہ گئی آج تک اتنی سخت اور تیز آواز میں احسن اس سے ہم کلام نہیں ہوا تھا احسن کو اس کی خاموشی محسوس ہوئی۔
’’پارلر تھوڑا لیٹ چلی جائوگی تو کوئی ہرج نہیں ہوگا۔ میں کال کردیتا ہوں تم نماز کی تیاری کرو۔ صلوۃ التسبیح کی نماز لازم پڑھنی ہے‘ سورہ الکہف اور سورہ یسیٰن بھی…‘‘ یاددہانی کروائی۔
’’میں ٹرائی کروں گی۔‘‘ رنم کی باریک سی آواز نکلی۔
’’ٹرائی نہیں کرنا ہے۔ میں تین بجے واپس آئوں گا تب تک سب کچھ ہوجائے۔‘‘ احسن نے سابقہ نرمی سے کہا۔
’’جی بہتر۔‘‘ رنم فاطمہ کو جانے کیوں اس کی تیز آواز بری نہیں لگی۔ شاور لے کر نماز کے لیے کھڑی ہوئی تو جانے کیوں سورہ فاتحہ پر زبان لڑکھڑانے لگی۔
’’اللہ… تیرا یہ بندہ مجھے تیری طرف لانے کے لاکھ جتن کررہا ہے اس کی اس ادا پر مجھے اتنا پیار آرہا ہے تو تجھے کتنا آرہا ہوگا۔ احسن بہت اچھا ہے۔ اللہ اسے میرے لیے ہمیشہ اچھا رکھنا۔ تیرا لاکھ شکر کے تونے اتنا اچھا ہم سفر مجھے عطا کیا۔ تیرے اس بندے سے بہت محبت ہے اللہ بے حد محبت ہے۔‘‘ وقت دعا جانے کیا ہوا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اللہ کے حضور اس بات کا اعتراف کرکے آنسو نکل آئے تھے ایک سرور حاصل ہوا تھا پھر اس نے صلوۃ التسبیح کی نماز بھی پڑھی۔ پھر تو اس نے سورہ جمعہ سورہ مزمل اور سورہ کہف بھی پڑھ ڈالیا۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ مارے باندھے کی بجائے اس کا دل خود اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ قرآن شریف کو پلکوں سے لگا کر چوم کر جزدان میں رکھا تو دل میں عہد کرلیا کہ ان شاء اللہ اب یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔
/…/…/…/
وجدان اور عریشہ لندن واپس جارہے تھے وہ جانے سے پہلے ان سے ملنے اسلام آباد آنا چاہ رہے تھے رنم فاطمہ نے سنا تو وجدان کی آمد پر کچھ پریشان سی ہوگئی۔
’’آجائیں آپ لوگ ڈنر باہر ساتھ کرلیتے ہیں لیکن سوری آپ لوگوں کو ہم ٹائم نہیں دے سکیں گے میں رنم کو ہنی مون ٹرپ پر لے جارہا ہوں۔ آزاد کشمیر اور ناردن ایریاز کا پلان ہے۔‘‘ احسن کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ وجدان چپ رہ گیا۔
’’ارے نہیں… ہم نہیں آرہے۔ تم لوگ انجوائے کرو۔ ابھی تو تمہیں گئے زیادہ دن بھی نہیں ہوئے۔ وجدان کا ہی موڈ تھا۔ لیکن تم لوگ ایک ساتھ زیادہ ٹائم اسپینڈ کرو۔‘‘ عریشہ نے خوش دلی سے کہا۔ احسن نے بھی چند ایک بات کے بعد فون بند کردیا تھا۔
’’پہلے تو ایسا کوئی پلان نہیں تھا آپ کا…!‘‘ رنم فاطمہ نے چائے کا مگ اسے تھمایا۔ رنم کی جان میں جان آئی وجدان کے نہ آنے کا سن کر۔
’’سرپرائز بھی کوئی چیز ہوتی ہے میری جان۔‘‘ احسن نے مسکراتے ہوئے مگ کائوچ پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھتے رنم فاطمہ نے مسکرا کر اپنا ہاتھ اس کے بڑھے ہاتھ پر رکھ دیا۔ احسن نے نرمی سے اسے اپنے پہلو میں بیٹھالیا۔
’’آئوٹنگ کا پلان اس لیے بنایا کہ رمضان بھی آنے والا ہے۔ رمضان کی مصروفیت ہوجائے گی۔ روزہ‘ نماز‘ تراویح اور نفلی عبادتوں کے بعد فرصت نہیں ملے گی۔ تم روزہ تو رکھتی ہونا؟‘‘ احسن کے اچانک سوال پر رنم کی زبان لڑکھڑا گئی۔
’’جی… وہ کچھ ہیلتھ ایشو ہوجاتا ہے۔ بی پی لو ہوجاتا ہے چکر آنے لگتے ہیں تو اکثر میں پہلا اور آخری روزہ ہی رکھتی ہوں۔‘‘ اس کے اٹک اٹک کر بولنے پر احسن کو ہنسی آگئی۔
’’پہلا اور آخری روزہ ایسا تو اکثر بچے کرتے ہیں۔‘‘ رنم کچھ شرمندہ سی ہوگئی۔
’’کوئی بات نہیں اس بار تم پورے روزے رکھوگی ان شاء اللہ اچھی سحری افطاری کرو گی تو کوئی ہیلتھ ایشو نہیں ہوگا۔ میں خود تمہارا خیال رکھوں گا۔‘‘ رنم فاطمہ نے انحراف نہیں کیا تھا ایک ہفتہ ہنی مون ٹرپ پر کیسے گزرا انہیں ایک دوسرے کی سنگت میں اس کا احساس بھی نہ ہوا تھا۔
رمضان المبارک کا چاند نظر آیا تو اس کے ساتھ رمضان کی مصروفیات بھی شروع ہوگئیں۔ احسن نماز وتراویح‘ نوافل میں بزی تھا۔ رنم فاطمہ پہلے روزے پر ہی کچھ نڈھال سی ہوگئی بھوک کی کچی تھی جس کی وجہ سے اس نے آج تک دس روزے بھی نہیں رکھے تھے۔ اب کے روزوں کے ساتھ نماز اور تراویح کی تلقین بھی احسن نے کی تھی سارا دن سوکر روزہ تو گزار لیتی تھی لیکن اس صورت میں نمازیں مس ہوجاتی تھیں۔
گھر سے مما کی کال آئی تھی وہ ان سے باتیں کررہی تھیں۔ جب احسن کمرے میں داخل ہوا۔ ضروری امور انجام دے کر وہ بستر پر آیا تو وہ ابھی تک فون پر لگی ہوئی تھی۔ احسن نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے تراشیدہ شفاف نیلز کی گولائی پر انگلی کی پور پھیرنے لگا۔ رنم فاطمہ نے مسکرا کر اس کے اس عمل کو دیکھا تھا پھر اس کا ہاتھ سینے پر رکھ کر احسن اپنی جگہ لیٹ کر آنکھیں موند گیا تھا۔
’’احسن۔‘‘ فون سے فارغ ہوکر اس نے پکارا۔
’’بولو جان احسن!‘‘ بند آنکھوں سے اس نے جواب دیا۔
’’ہم کراچی کب جائیں گے۔ عید کا لطف تو اپنوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ پوچھنے کے ساتھ اس نے خواہش بھی ظاہر کی۔ احسن نے آنکھیں کھول کر اس کے چہرے کو دیکھا جس میں کسی قدر اداسی تھی۔
’’اداس کیوں ہوتی ہو میری جان۔ میں نے بکنگ کروالی ہے۔ عید کی شام ہم ان شاء اللہ کراچی میں گزاریں گے۔‘‘ احسن نے اس کے لبوں کے کناروں پر اپنی انگلیوں کی مدد سے مسکراہٹ پھیلائی۔
’’رئیلی…!‘‘ وہ بے حد خوش ہوگئی۔
’’ہاں زندگی۔ سوچا تھا سرپرائز دوں گا لیکن تمہارے چہرے کی اداسی دیکھی نہیں گئی تو کہہ دیا۔‘‘ احسن نے اپنے ہاتھ میں موجود اس کی انگلیوں پر دبائو بڑھایا۔
’’آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ رنم فاطمہ اس کی محبت اور کیئر پر مرمٹنے لگی تھی۔
’’تم سے زیادہ اچھا نہیں ہوں جان۔‘‘ احسن نے مسکرا کر قریب کیا۔ ’’ابھی آخری عشرہ باقی ہے پہلے ہم سب کے لیے شاپنگ کریں گے ہماری پہلی عید اور چاند رات ہوگی میں کچھ اسپیشل پلان کرنے کا سوچ رہا ہوں۔‘‘
’’جیسے؟‘‘ اس کے بازو پر سر رکھ کر لیٹتی وہ استفسار کرنے لگی۔
’’چاند نظر آتے ہی ٹرو لورز کی طرح ہم سارا وقت ساتھ گزاریں گے۔‘‘ احسن سر خوشی سے بولے جارہا تھا۔
’’ایسا کیوں؟ آپ اتنی محبت کیوں کرتے ہیں مجھ سے۔ لوگوں کی محبت تو شادی کے بعد کم ہوجاتی ہے لیکن آپ کی بڑھتی جارہی ہے۔‘‘ رنم فاطمہ نے صدق دل سے اپنی فیلنگز شیئر کیں۔
’’شادی کے بعد اکثر کپلز اسی لیے ایک دوسرے سے بے زار نظر آتے ہیں کہ وہ شادی سے پہلے تمام لمحوں کو جی چکے ہوتے ہیں اور شادی کے بعد اپنے ریلیشن کو لگی بندھی روٹین کے حوالے کردیتے ہیں لیکن میں نے تمام لمحوں کو شادی کے بعد کے لیے پلان کر رکھا تھا میں تمہارے ساتھ اپنی عمر کا ایک ایک پل جینا چاہتا ہوں۔ میں ہماری محبت کو کبھی گدلے جھیل کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں ہماری محبت بپھرے سمندر کی طرح ہر پل ہمیں بھگوتی رہے اور ہم زندگی کی خوشیوں سے شرابور رہیں۔‘‘ احسن کہنی کے بل نیم دراز اس سے ہم کلام تھا اور رنم محویت سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔ اسے احساس ہوا کہ اگر احسن جیسی سوچ ہر مردکی ہوجائے تو شاید کوئی عورت میاں کی لاتعلقی پر گھلتی نہ رہے۔ عورت کے لیے تو واقعی سچ ہے کہ مرد جیسا چاہے گا وہ ویسی بنتی چلی جاتی ہے اب چاہے تو مرد اسے اپنی محبوبہ کے روپ میں ڈھال لے چاہے تو اجنبی کے۔
’’نماز عشاء اور تراویح پڑھ لی تھی؟‘‘ اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ مما سے بات ہوتی رہی تو ٹائم کا اندازہ نہیں ہوا۔ اب تو بہت دیر ہوگئی ہے ہمت بھی نہیں نماز پڑھنے کی میں کل سے دھیان رکھوں گی۔‘‘ وہ پوری دیانت داری سے کہہ گئی۔
’’اوکے سو جائو… صبح بات ہوگی۔‘‘ احسن نے اس کے بالوں سے سرعت سے ہاتھ کھینچا۔ اس کی انگلیوں سے اپنی انگلیاں آزاد کرکے رخ پھیر کر لیٹ گیا۔ رنم فاطمہ نے گہرائی سے اس کے سرعت سے بدلتے انداز کو دیکھا تھا۔ اس کی پشت پر نظریں جمائے وہ ایک پل بھی سکون سے آنکھیں نہ موند سکی تھی۔
سحری کے وقت وہ اٹھی تو احسن تہجد کے لیے کمرے کے گوشے میں جائے نماز بچھا کر کھڑا ہوگیا تھا۔ وہائٹ کرتے پاجامے میں وہ اتنا وجیہہ لگ رہا تھا کہ رنم فاطمہ کی نظریں اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔ کئی ثانیے اسے دیکھتے رہنے کے بعد وہ کچن کی طرف بڑھی تھی۔ سحری کا وقت ہوچکا تھا۔
/…/…/…/
’’رنم اٹھ کر دروازہ لاک کرلو‘ میں جارہا ہوں۔‘‘ احسن کی مسلسل آواز پر رنم فاطمہ جھومتی جھامتی دروازے تک آئی تھی۔ احسن خاموشی سے نکل گیا۔ آج ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ رنم بھی شاید کچھ زیادہ نیند میں تھی جو احسن کی خاموشی اور اس کے بدلے انداز پر دھیان نہ دے سکی۔ احساس اس وقت ہوا جب پورا دن گزر گیا اور احسن کی کال اور کوئی میسج نہ آیا کچھ پریشانی سے اس نے خود احسن کا نمبر ڈائل کیا تھا۔ کال ریسیو نہیں ہورہی تھی اس نے دوبارہ نمبرملایا تھا اب کی بار کال ریسیو ہوگئی۔
’’احسن آپ ٹھیک ہیں… کوئی کال میسج نہیں۔؟‘‘ رنم فاطمہ کی بے قراری لفظوں سے عیاں تھی۔
’’میں ٹھیک ہوں… بزی ہوں گھر آکر بات کروں گا۔‘‘ حسب عادت نرم لہجے میں احسن نے جواب دیا۔ اس سے پہلے کہ رنم اگلا جملہ کہتی کال کٹ چکی تھی۔ رنم نے حیرانگی سے فون کان سے ہٹا کر دیکھا۔ اتنے روکھے پھیکے انداز میں تو احسن نے کبھی اس سے بات نہیں کی تھی۔ شاید واقعی بزی ہوں۔ رنم نے جیسے خود کو بہلایا اور اٹھ کر افطاری کی تیاری کرنے لگی۔
لیکن جب احسن گھر آیا تو اس کی ساری غلط فہمی دور ہوگئی اس نے خاموشی سے افطاری کی تھی اور نماز کی ادائیگی کے لیے چلا گیا تھا۔ رنم حیران تھی نماز عشاء اور تراویح کے بعد جب احسن اپنا تکیہ اٹھا کر صوفے پر لیٹا تو رنم کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔
’’احسن آپ ناراض ہیں مجھ سے؟‘‘ وہ اٹھ کر صوفے تک آئی۔
’’میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا‘ مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘ احسن کشن منہ پر رکھ سوتا بن گیا تھا کچھ ثانیے رنم فاطمہ کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر بیڈ پر آکر بیٹھ گئی بیڈ سے بھی وہ اسے ہی دیکھتی رہی تھی جس کے وجود میں کوئی ہلچل نہیں ہورہی تھی۔
اگلا دن بھی سابقہ رنگ لیے آیا تھا نا کوئی کال نا میسج نہ ہی احسن اس سے بلا ضرورت کوئی بات کررہا تھا رنم فاطمہ جو اس کی محبت کی عادی ہوگئی تھی اس کے لفظوں پر مرمٹنے لگی تھی اس سے یہ سب برداشت نہیں ہورہا تھا۔ اس نے باریکی سے احسن کی ناراضگی کی وجہ ڈھونڈی اور اسے اپنی کوتاہی اور احسن کی ناراضگی کی وجہ اچھی طرح نظر آگئی تھی۔ وہ سراسر خود کو مجرم گردان رہی تھی اس کی وجہ سے وہ روٹھ گیا تھا۔ ہر دم مسکرانے والا‘ خوب صورت باتیں کرنے والا شخص خاموش ہوگیا تھا۔ تین دن سے رنم نے اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی اسے نیک بنانے کے لیے وہ اسی سے ناراض ہوگیا تھا۔
’’معاف کردیں نا احسن مجھے میری غلطیوں کا احساس ہوگیا ہے میں اب باقاعدگی سے نماز پڑھوں گی آپ کو مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔‘‘ رات حسب معمول احسن خاموشی سے اپنا تکیہ اٹھا کر صوفے پر جانے کی نیت کرنے لگا تو رنم فاطمہ نے سرعت سے اس کا تکیہ اٹھا کر دونوں بازوئوں میں بھینچ کر سینے سے لگا لیا۔ احسن خاموشی سے اس کی حرکت اور ندامت کے لفظ سن رہا تھا۔
’’مجھ سے آپ کی لاتعلقی بیگانگی برداشت نہیں ہورہی۔ اب بس کردیں نا پلیز۔‘‘ تکیہ گود میں رکھے وہ دونوں ہاتھ جوڑ گئی۔ چہرے پر اتنی معصومیت سادگی تھی کہ احسن نے بیڈ پر بیٹھتے اس کے جڑے ہاتھ کھول دیئے۔
’’تم سے ناراض رہ کر میں کب سکون سے ہوں۔ میری زندگی کی اب ہر خوشی تمہارے عمل سے ہے۔ اب یہ تم پر منحصر ہے کہ تم مجھے کب ناراض ہونے کا موقع دیتی ہو۔‘‘ احسن نے محبت سے اپنی فیلنگز شیئر کی تھیں۔
’’میں پوری کوشش کروں گی کہ آپ کو ناراض نہ کروں۔ میں نہیں جی سکتی آپ کو ناراض کرکے۔ ایک پل سکون سے نہیں گزرا۔ میں آپ کی محبت کی عادی ہوگئی ہوں آپ کی لاتعلقی میری جان لے لی گی۔‘‘ رنم فاطمہ کو واقعی اس سے اتنی محبت ہوگئی تھی کہ وہ اس کی ناراضگی برداشت نہیں کرسکتی تھی اور پھر واقعی رنم فاطمہ نے اپنا کہا سچ کر دکھایا۔ باقی کے تمام روزے اس نے پورے دل سے رکھے تھے نماز وتراویح کی ادائیگی کے لیے وقت کا دھیان رکھنے لگی تھی اور اب اس کی عبادت میں محبت کا رنگ بھی شامل ہونے لگا تھا۔ بے دلی اور سستی کہیں دور جانے لگی تھی تب اس پر راز کھلا تھا۔
ایک احسن کی محبت میں وہ خود کو بدل رہی تھی تو کیا اسے اللہ سے اتنی محبت نہیں تھی کہ وہ خود کو اللہ کے لیے بدلتی۔ اس کے احکامات پر چلتی۔ ہم انسان محبوب کی پسند ناپسند کا تو فوراً دھیان رکھتے ہیں اس کے رنگ ڈھنگ میں ڈھلنے کی کوشش کرتے ہیں کن باتوں سے محبوب ناراض ہوتا ہے اس کا خیال رکھتے ہیں لیکن اﷲ کے دکھائے راستوں پر چلنے کی خواہش نہیں کرتے اس کی ناراضگی کی پروا نہیں کرتے جو سچ میں ہمارا خیر خواہ ہے۔
رنم فاطمہ احسن کی محبت کی ڈور کو تھامے جب اللہ کی طرف بڑھتی تو اس پر رب کائنات کی محبت کھلنے لگی۔ اس کی نوازشات پر شکر ادا کیا تو اپنی کوتاہیاں رلانے لگیں۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس نے بن مانگے‘ بنا تگ ودو کے اس کی محبت جھولی میں ڈال دی تھی۔ اس کے نصیب میں اتنا اچھا ہمسفر لکھ دیا تھا جو نہ صرف اس سے محبت کرتا تھا بلکہ اسے رب کی محبت میں بھی مبتلا کر گیا تھا۔ وہ اپنی مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
’’رمصان المبارک میں جب ہم شب قدر کو تلاش کرتے ہیں تو وہیں چاند رات بھی اہم ہے۔ چاند رات کو لیلۃ الجائزہ یعنی مزدوری ملنے کی رات کہتے ہیں۔ لیکن افسوس ہم اللہ سے اپنی مزدوری طلب کرنے کی بجائے رات کو بازاروں کی رونق بڑھاتے ہیں۔ اس کی مثال تو یہ ہوئی کہ ایک مزدور نے پورے ماہ محنت کی لیکن جب مالک سے اجرت طلب کرنے کا وقت آیا تو ہم شیطان کی آزادی کا جشن منانے نکل کھڑے ہوئے۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ ہم تھوڑا وقت رمضان کی روحانیت کا خیال کرکے رب العزت سے اپنی عبادات کا اجر طلب کریں۔ خود سے جڑے لوگوں کی خوشیوں کا سامان کرکے تھوڑا وقت اس کی طرف بھی رجوع کرسکتے ہیں۔ عید کا دن مسلمانوں کے لیے انعام ہے آج کی رات بھی اللہ اپنے بندوں کو پکارتا ہے۔ ہے کوئی مانگنے والا۔ اور دینے والا جب وہ خود پکارے تو ہم کیوں کوتاہی کریں۔‘‘ احسن جملہ مکمل کرکے جائے نماز بچھانے لگا تھا۔
’’واقعی جب نوازنے والا خود پکار رہا ہو تو وہ کیوں غفلت میں رہ کر محروم رہتے۔‘‘ رنم کے دل کو یہ جملہ لگا تھا۔
عید گزر گئی تھی اپنوں کے ساتھ تین چار دن کیسے بیتے وقت کا احساس ہی نہ ہوا۔ ہما بیگم ثمرن بھی قدرے ٹھیک سے ملی تھیں میکے میں پورا دن گزار کر بھی اس کا دل نہیں بھرا تھا اور وہ واپس اسلام آباد آگئے تھے۔
’’عیدالضحیٰ پر لمبی چھٹی لے لوں گا تب رہ لینا میکے میں۔‘‘ اس کی اداسی پر احسن نے دلجوئی کی تھی۔
’’لڑکیاں کتنے ہی دن رہ لیں میکے سے ان کا دل نہیں بھرتا۔ ماں باپ بھائی رشتے ہی ایسے ہیں۔ لیکن اب میں آپ کے بناء بھی نہیں رہ سکتی۔ دن کو آپ کی باتیں مس کرتی ہوں تو رات کو آپ کے بازو کا تکیہ نہ ہو تو نیند نہیں آتی۔‘‘
’’اچھاجی۔!‘‘ احسن نے چھیڑا۔
’’ہاں جی۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے اعتراف کر گئی تھی۔
/…/…/…/
’’کنیز…!‘‘ وہ گروسری لینے مال آئی تھی۔ ایسے میں سامنے سے ٹرالی دھکیلتی شخصیت پر اس کی نظر ٹھہری تو ایک چیخ کی صورت اس کے منہ سے اس کا نام نکلا۔ سامنے سے آتی ہستی بھی اپنا نام سن کر ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگی۔
’’رنم… تم رنم فاطمہ ہونا۔‘‘ وہ بھی اسے پہچان گئی تھی رنم فاطمہ بمشکل سر ہلا سکی۔ کنیز فوراً اس کے گال سے گال ملا کر ملنے لگی۔ رنم فاطمہ کو اس کے ملنے کے انداز سے جھٹکا لگا۔
’’اتنے عرصے بعد ملے ہیں آئو اوپر فوڈ سینٹر میں بیٹھتے ہیں۔‘‘ کنیز کی آواز پر سر ہلاتی رنم فاطمہ ابھی تک شاکڈ تھی۔
یونیورسٹی میں شرعی پردہ کرنے والی گلوز سوکس میں ملبوس رہنے والی کنیز اس وقت جنیز اور ٹی شرٹ میں چھوٹا سا اسکارف گلے میں ڈالے ہائی ہیل پہنے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ سر کے بال جو کبھی نظر نہیں آئے تھے اب خوب صورت ہیئر کٹنگ کے ساتھ گولڈن برائون رنگ میں رنگے شولڈر پر پڑے تھے۔
’’کنیز یہ جنیز اور شرعی پردہ…!‘‘ فوڈ سینٹر میں اس کے مقابل بیٹھتے وہ زیادہ دیر خود کو روک نا پائی اپنی الجھن دکھانے میں کنیز کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
’’جس طرح تمہیں میرے حلیے پر حیرت ہورہی ہے اسی طرح مجھے بھی تمہارے انداز پر حیرانگی ہے کتنے سلیقے سے تم نے بڑے سے دوپٹے کو وجود کے گرد لے رکھا ہے کہ بال بھی نظر نہیں آرہے حالانکہ گرمی ہے بہت گو کہ اے سی آن ہے لیکن تمہارا انداز دیکھ کر لگ رہا ہے تمہیں سر پر دوپٹہ لینے کی عادت ہوگئی ہے۔ ورنہ تم ہی تھیں جس کا دوپٹہ اذان کی آواز پر بھی زمین پر جھولتا رہتا تھا۔‘‘ کنیز کی آنکھوں کے آگے جیسے ماضی کی اسکرین چلنے لگی وہ بیتے وقت کو یاد کرتے مسکرائی۔ ایک عجیب سی بات تھی اس مسکراہٹ میں۔
’’تم نے ہی کہا تھا کہ اگر جہنم کی گرمی کو محسوس کرو گی تو دنیاوی گرمی کا احساس نہیں ہوگا۔‘‘ رنم فاطمہ نے اس کا کہا جملہ دہرایا۔
’’چلو تمہیں میرے لفظ تو یاد ہیں۔ جنہیں میں خود بھول گئی۔‘‘ کنیز نے پزا پر کیچپ انڈیلتے ہوئے کہا۔
’’ہاں تمہارے لفظ بھی یاد ہیں اور اپنے شریک سفر کی خواہش بھی کہ اللہ جب تک شرعی پردے کی توفیق نہیں دیتا تو کم از کم سر کو باہر ڈھانپ کر نکلو کہ تمہارے بال کوئی نامحرم نہ دیکھے اور مرنے کے بعد کوئی عذاب تمہارے سر پر نہ ہو۔‘‘ رنم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بہت لکی ہو تم… ہم دونوں کی شادی ایک ہی دن ہوئی تھی لیکن تم بہت لکی نکلیں کہ رب نے تمہیں ایسا ہمسفر دیا جس نے تمہاری دنیا کے ساتھ دین کی بھی فکر ہے۔‘‘ کنیز کے درست قیاس پر رنم فاطمہ ایک لمحے کو چپ رہ گئی۔
’’تمہیں کیسے پتا کہ احسن بہت اچھے ہیں۔‘‘ اس نے حیرت کو زبان دی۔
’’تمہیں دیکھ کر… کسی کے ہم سفر کے متعلق جاننا ہو تو اس سے جڑی عورت کو دیکھ لو۔ تمہارے چہرے اور وجود سے جو پاکیزگی نظر آرہی ہے وہ گواہ ہے کہ تمہارا شریک سفر ایک نفیس انسان ہے جس نے تمہاری الڑ بے پروائی کو اپنی محبت سے ٹھہرائو دیا ہے۔ دنیاوی رنگ اتار کر تمہیں حقیقی رنگ میں رنگ رہا ہے اسی رنگ میں جس میں بنت حوا کی بقا اور آسودگی ہے۔‘‘ کنیز کی باتوں میں آج بھی اتنی ہی فصاحت اور بلاغت تھی جتنی پہلے ہوا کرتی تھی۔
’’اور تم…؟‘‘ رنم فاطمہ کو ابھی تک اپنے سوال کا جواب نہیں ملا تھا۔
’’سیم وہی کہ مجھے دیکھ کر میرے میاں کے متعلق رائے قائم کرلو۔‘‘ کنیز نے شانے اچکاتے ہوئے بے پروائی سے کہا۔ مگر اس کے چہرے پر ایک پل کو جو درد آیا وہ رنم فاطمہ سے چھپا نہ رہ سکا۔ مزیدار پیزا شاید کنیز کو کڑوا لگنے لگا تھا۔ تب ہی اس نے پلیٹ بے دلی سے پرے کھسکا دی۔ کولڈڈرنک کے سپ لیتی وہ ارد گرد نظر دوڑا کر آنکھوں میں آئے پانی کو اندر اتارنے کے جتن کررہی تھی اس کے چہرے پر پھیلا کرب رنم فاطمہ کو بے چین کر گیا۔
’’میں نے ایک اوسط درجے کے گھرانے میں آنکھ کھولی۔ جہاں روزہ نماز کو ایک فرض سمجھ کر ادا کرتے تھے۔ میں چھوٹی تھی تو میلاد شریف میں نعتیں پڑھتی تھی۔ پھر پیغمبر اسلام نبی کریمﷺ سے محبت بڑھتی چلی گئی تو میں نے قرآن شریف حفظ کرنا شروع کردیا اور چند سالوں میں ہی میں حافظہ بن گئی۔ محبت بڑھتی رہی درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوئی تو ظاہری رنگ روپ بھی بدل گیا۔ شرعی پردہ کرنا شروع کیا تو گھر میں امی ابو نے کسی حد تک مخالفت کی گھر پر کزنز اور رشتے داروں کا آنا جانا لگا ہوتا تھا۔ چچا ماموں کو بھی اپنے بیٹوں سے پردہ گراں گزرنے لگا۔ بہنوئیوں نے بھی باتیں سنانا شروع کردیں لیکن میں نے پھر بھی ہمت نہیں ہاری گو کہ کزنز اور رشتے داروں کی طرف سے بہت سی باتیں سننے کو ملیں مگر میں نے پروا نہیں کی۔ وقت گزرتا رہا پھر کالج یونیورسٹی تک پہنچ کر شادی بھی ہوگئی اور یہیں میں نے غلطی کردی۔‘‘ کنیز بولتے بولتے جیسے تھک گئی تھی۔ اس کا گلہ خشک ہونے لگا تھا۔ شاید آنسو گلے میں پھنس گئے تھے۔ اس نے کولڈ ڈرنک کے گھونٹ بھرنا شروع کردیئے۔
’’مشرقی لڑکی کی طرح شریک سفر کا فیصلہ میں نے بھی اپنے والدین پر چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے سب دیکھا۔ لڑکا پڑھا لکھا تھا۔ پیسے والا‘ اچھی کاسٹ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہینڈسم۔ سب کچھ اے ون تھا۔ نہیں دیکھا تھا تو یہ کہ لڑکا صوم و صلوۃ کا پابند ہے کہ نہیں؟ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود اس کے اعمال مسلمانوں والے ہیں یا نہیں؟ میرے میاں کو پردے‘ گلفز میں ملبوس بیوی سے کوفت ہوتی ہے۔ وہ جتنا خود ماڈ ہے اتنا ہی شریک سفر کو دیکھنا چاہتا ہے۔ سال میں صرف عید کی نماز بھی پڑھ لے تو غنیمت ہے۔ بس مسلمان ہونے پر شکر الحمدﷲ کہہ کر جیسے بری الذمہ ہوجاتا ہے۔‘‘ وہ تلخ ہورہی تھی۔ رنم فاطمہ چپ چاپ اسے سنتی رہی۔
’’میں نے شروع میں احتجاج کیا۔ شرعی پردہ ناچھوڑنا چاہا تو مجھے طلاق کی دھمکی مل گئی۔ والدین سے شکایت کی تو انہوں نے میاں کے رنگ میں رنگنے کا مشورہ دے کر مجھے ہی مودر الزام ٹھہرایا۔ میری نمازوں‘ عبادتوں سے میرے میاں کو الجھن ہوتی ہے۔ میں چھپ چھپ کر عبادت کرتی ہوں۔ میاں کے کہنے پر ظاہری حلیہ بدلا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اﷲ میری یہ آزمائش ایک دن ختم کردے گا۔ میں طلاق جیسے قبیح فعل کو رب کی طرح ناپسند کرتی ہوں۔ مجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے کہ بھلے میرے طلاق لینے کے بعد میرے والدین میرا ساتھ نا دیں مگر میرے رب کی سر زمین بہت وسیع ہے۔ وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ لیکن میں اپنے شریک سفر کو چھوڑنا نہیں چاہتی۔ میری کوشش اور دعا ہے کہ رب اس کا دل بدل دے اور وہ بھی عاشق رسولﷺ بن جائے۔ اس کے دل میں بھی اسلام گھر کرلے۔ کیا معلوم اﷲ نے اس کی ہدایت کے لیے اس کی پسلی سے مجھے پیدا کیا۔ کیا معلوم یہی میری آزمائش اور امتحان ہو؟ کیا معلوم ایک دن ہم دونوں کا ظاہری و باطنی حلیہ اسلام کے عین مطابق ہوجائے۔‘‘ کنیز کے چہرے سے جھلکتی امید پر رنم فاطمہ نے صدق دل سے آمین‘ کہا تھا۔ کنیز نے پلکوں پر آئے آنسو چن کر مسکراتے ہوئے رنم فاطمہ کے صبیح چہرے کو چوما۔
’’وقت ہر انسان پر ایک سا گزرتا ہے۔ مگر الگ الگ انداز میں ہم دونوں کی شادی ایک دن ہوئی۔ تم بہتر کی طرف سفر کرنے لگیں اور میں بدتر کی طرف۔ تمہارے چہرے پر جو سکون ہے اس کا تمہیں اندازہ نہیں ہے شاید…‘‘ اور رنم فاطمہ کو یاد آیا کہ کبھی یہ سکون اسے کنیز کے چہرے پر نظر آتا تھا اور سرشاری کا رنگ لیے جس پر اب اضطراب کا قبضہ ہوگیا تھا۔
’’شریک سفر نیک ہو تو دنیا و آخرت سنور جاتی ہے رنم فاطمہ۔ یہ مرد پر منحصر ہے کہ وہ عورت کو حجرے میں بٹھاتا ہے یا بازار میں۔‘‘ رنم فاطمہ کو اس کے درد کا بہت اچھی طرح احساس ہوگیا تھا۔ وہ دل سے دعا گو تھی کہ اﷲ کنیز کی نیت کو دیکھ کر اس کی آزمائش ختم کردے۔ وہ جب مال سے نکلی تو احسن اس کی نظروں میں مزید بلند ہوگیا تھا۔ جس نے چند ماہ کی رفاقت میں اس کی ذات میں گم وہ روشن راہ دکھادی تھی جو اس کی بقا تھی۔
/…/…/…/
کنیز سے مل کر رنم فاطمہ کی محبت اور عبادت کو مزید جلا ملی تھی۔ وہ بہت دل سے نماز پڑھنے لگی تھی۔ جمعہ کے دن عبادت کا بہت اہتمام کرتی اور یہ سب دیکھ کر احسن بے حد خوش تھا۔ اس کی آنکھ کھلی تو رنم بستر پر نہیں تھی۔ اس نے مخصوص گوشے پر نظر ڈالی تو وہ نماز پڑھتی نظر آئی۔ آج اسے اٹھنے میں تھوڑی دیر ہوگئی تھی۔ رنم نے شاید اس کی طبیعت کے پیش نظر نہ جگایا ہو کہ رات اسے بخار ہورہا تھا۔ بستر چھوڑ کر وہ وضو کرکے اس سے ذرا فاضلے پر نماز کے لیے کھڑا ہوچکا تھا۔ سلام پھیر کر احسن نے اسے مسکرتے ہوئے دیکھا وہ انگلیوں پر تسبیح پڑھ رہی تھی۔ رنم فاطمہ نے اس کی محویت پر اسے دیکھا۔
’’جب یہ تک پتا نہیں تھا کہ تم میرے نصیب میں ہو بھی یا نہیں تب ایک دن فجر کی نماز میں دعا مانگی تھی کہ تم تمام نمازیں میری نظر کے سامنے ادا کرو۔‘‘ رنم فاطمہ مسکرادی۔ اس کی مسکراہٹ میں عقیدت و محبت کا رنگ گہرا تھا۔
’’آپ کی ان ہی دعاؤں اور محبت نے تو مجھ ناچیز کو اپنے ان بندوں میں سے چن لیا جنہیں وہ ہدایت دینا چاہتا ہے اور میں آپ کے اس عمل پر آپ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ اگر آپ میرے ہم سفر نہ ہوتے تو شاید میں بھی ایک غفلت بھری زندگی گزار کر اپنی زندگی کے دن پورے کرکے اس دنیا سے چلی جاتی اور قبر میں اپنی کوتاہیوں‘ غفلتوں بھرے شب و روز پر آنسو بہا رہی ہوتی۔ تب سوائے حسرتوں اور کف افسوس ملنے کے میرے پاس کچھ نہ ہوتا۔ توبہ کا در بھی وانا ہوتا۔‘‘ ذکر الہیٰ کے خوف سے رنم فاطمہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔ احسن کے ہاتھوں کو محبت سے تھامتے اس نے اپنی پیشانی اس کے ہاتھوں کی پشت پر رکھ دیا تھا۔ آنسو احسن کے ہاتھ کو بھگو رہے تھے اور احسن کے اندر ایک سکون اترتا جارہا تھا کہ اس کے دل کو اﷲ کی لو لگ گئی تھی۔
/…/…/…/
چاند رات پر ایک بار پھر وہ اپنوں کے درمیان تھی۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر ہما بیگم سے استدعا کی تھی کہ وہ اسے دل سے قبول کرلیں۔ ہما بیگم کو بھی اس کا تقاضہ اتنا بھایا کہ انہوں نے اسے گلے لگالیا تھا۔
’’میں کوشش کروں گی۔‘‘ ہما بیگم کا جملہ اسے پُرسکون کرنے لگا تھا کہ جب رب راضی ہونے لگے تو سب راضی ہوجاتے ہیں۔
اسکائپ پر وجدان اور عریشہ آن لائن تھے۔ رنم فاطمہ‘ ثمرن کی اوٹ میں ہوگئی۔ وجدان کو آن لائن دیکھ کر اسے گزشتہ واقعہ شدت سے یاد آگیا تھا۔ وہ سراسمیگی کی کیفیت میں گھر گئی تھی۔
’’رنم میرے کپڑے نکال دو۔‘‘ احسن نے اٹھتے ہوئے اسے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’احسن ایسی بھی کیا بے رخی… دو گھڑی ہم سے بھی بات کرلو۔‘‘ اسے اٹھتے دیکھ کر عریشہ نے جیسے گلہ کیا۔ رنم جو احسن کے اشارے پر اٹھنے لگی تھی ایک بار پھر ثمرن کی اوٹ میں ہوگئی۔
’’وجدان گلہ کررہے تھے کہ تم نے ان کی کال تک ریسیو کرنا چھوڑ دی ہے واٹس ایپ اور دیگر سوشل ایپس پر انہیں بلاک کردیا ہے۔‘‘ عریشہ کہہ رہی تھی اور باقی سب کی حیران نظریں احسن پر اٹھ گئیں۔ خود رنم فاطمہ استعجاب سے احسن کا چہرہ دیکھنے لگی۔
’’بے رخی نہیں بھابی اسے قطع تعلق کرنا کہتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کبھی اس بات کو طشت ازبام کروں لیکن آپ نے ذکر نکالا ہے تو میں کلیئر کردوں کہ میرے لیے میرا بھائی مرچکا ہے۔ میں نے بھائی کو باپ کا درجہ دیا تھا مگر انہوں نے میری بیوی میری عزت پر بری نیت ڈال کر اپنا جو اصل روپ دکھایا ہے اس پر یہ واجب القتل ہیں۔‘‘ رنم فاطمہ کا دل دھک سے رہ گیا تھا۔ باقی سب بھی شاکڈ بیٹھے تھے وجدان کے چہرے کا رنگ فق ہوچکا تھا۔
’’مجھ پر بہتان مت لگائو بیوی کی باتوں میں آکر۔ بنا دوپٹے کے رہنے والی نے خود…‘‘ وجدان سنبھل کر طیش دکھا کر اپنا برہم قائم رکھنا چاہتا تھا۔
’’منہ بند رکھیں اپنا… اگر پھر کبھی میری بیوی کا نام بھی آپ کی زبان پر آیا تو میں نے جو خود کو بمشکل روکے رکھا ہے شاید مزید نا روک سکوں۔‘‘ احسن اتنی زور سے دھاڑا کہ ثمرن نے دہل کر دل پر ہاتھ رکھ لیا۔ رنم فاطمہ بھی سہم گئی۔
’’احسن آرام سے۔‘‘ ہما بیگم کی دھیمی آواز نکلی۔ اس نے جیسے سنا نہیں۔
’’میری بیوی نے مجھ سے ذکر بھی کیا ہوتا اس واقعے کا تو میں اسی وقت آپ کو جہنم واصل کردیتا۔ لیکن اس اللہ کی بندی نے مجھے کچھ نہیں بتایا کیونکہ یہ آپ کو میری نظروں میں گرانا نہیں چاہتی تھی حالانکہ گر تو آپ اسی وقت گئے تھے جب آپ نے اس پر بری نیت ڈالی تھی۔ اس کی طبیعت خرابی اور اکیلے پن کا خیال کرکے جب میں گھر آیا تو میں نے آپ کو خود چوروں کی طرح گھر سے باہر نکلتے دیکھا۔ پھر کچن میں بکھرا سامان رنم کی متوحش کیفیت پر میں نے حیدر آباد کنفرم کیا تب پتا چلا کہ آپ نے حیدر آباد کا ڈرامہ صرف ہمیں سنانے کے لیے کیا تھا… اگر پھر بھی آپ کو اپنا کریکٹر سرٹیفیکیٹ چاہئے تو فاخرہ موجود ہے جس نے کئی بار مما سے آپ کی دست درازی کی شکایت کی اور انہوں نے کبھی آپ سے پوچھ گچھ نہیں کی۔ لیکن میں ایسی چیزیں برداشت نہیں کرتا۔ آستین میں سانپ پالنے کا شوق نہیں رکھتا۔ تب ہی میں نے اسلام آباد شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا کہ میں اپنی بیوی کو آپ جیسے وحشی اور رشتوں کا احترام نہ کرنے والے شخص کی نظروں سے ہمیشہ دور رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ جیسے مکروہ لوگوں نے ہی اسلام کو بدنام کیا ہوا ہے۔ بظاہر ظاہری حلیہ دکھا کر آپ نے کتنے گناہ کئے یہ آپ جانتے ہیں یا آپ کا اللہ… میرے لیے آپ مر گئے… اسلام میں قطع تعلق کی ممانعت ہے لیکن ابھی میرا علم محدود ہے۔ میرے اندر اتنی وسعت نہیں کہ آپ کو معاف کرسکوں کوشش کیجئے گا کبھی مجھ سے آپ کا سامنا نہ ہو۔‘‘ رنم فاطمہ اور باقی سب پہلی بار احسن کو اتنا غصے میں اونچا بولتے دیکھ اور سن رہے تھے۔ ہما بیگم کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے تو ثمرن نظریں چرانے لگی۔ عریشہ ساکت بیٹھی رہ گئی تھی۔ وجدان کو اب ساری زندگی ذلیل و خوار ہی ہونا تھا۔
’’احسن… بھائی ہے معاف…‘‘ ہما بیگم منمنائیں۔ انہیں پتا تھا وہ اپنی بات کا کتنا پکا ہے۔
’’کچھ غلطیوں کی کبھی معافی نہیں ہوتی مما۔ اگر اس دن فاخرہ بے وقت کام پر نہ آتی تو رنم فاطمہ جیتے جی مر جاتی۔ میرے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہوتا کہ میری بیوی میرے ہی گھر میں بے آبرو ہوجاتی۔‘‘ احسن کا لہجہ گلوگیر ہوگیا تھا۔
’’اگر کل کو فاخرہ بھی ان کے ہتھے چڑھ جاتی تو آپ نظر ملا سکتی تھیں ایک ملازمہ سے…‘‘ احسن کا کڑا سوال ہما بیگم کو چپ کرا گیا تھا۔
’’رنم کپڑے نکال دو۔‘‘ احسن کہتا چلا گیا۔ رنم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے پیچھے چلی آئی تھی۔ اسکائپ کی آگے بیٹھے سارے لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو احسن وارڈ روب میں سر دیئے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کررہا تھا۔ رنم فاطمہ نے بے ساختہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
’’میں کپڑے نکال رہا ہوں پلیز استری کردو۔‘‘ احسن کا بھیگا لہجہ رنم فاطمہ کا دل مجروح کر گیا۔ خود کو مصروف ظاہر کرکے وہ اپنے تاثرات چھپا رہا تھا۔ پٹ بند کرکے رنم فاطمہ اس کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔
’’مجھے ذرا دوستوں سے ملنے جانا ہے۔ تمہارا موڈ ہے تو چلو میکے چھوڑدوں تمہیں واپسی میں مہندی بھی لگوالینا۔‘‘ نظریں دیوار پر گاڑے وہ جیسے خود کو کمپوز کررہا تھا۔ رنم فاطمہ نے بے ساختہ اس کے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا چہرہ اپنی نظروں کے سامنے کیا۔ احسن کی آنکھیں ضبط کی کوشش میں سرخ ہونے لگی تھیں۔ اتنے دنوں سے اس نے یہ درد اپنے اندر چھپا رکھا تھا اور آج جب بات دور تلک پھیلی تو وہ جیسے وجدان کا بھائی ہونے پر اس کے سامنے شرمسار تھا۔ اس کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت نہیں ہورہی تھی۔ رنم فاطمہ بغور اس کی آنکھوں کے سرخ ڈوروں کو دیکھ رہی تھی۔
’’میں مزید تمہارے بنا نہیں رہ سکتی۔‘‘ رنم فاطمہ نے ہولے سے اعتراف کیا۔ احسن کا ضبط جیسے جواب دے گیا تھا۔ اس کی آنکھ سے ٹوٹا ایک قطرہ سرخ آنکھ سے بہہ نکلا تھا جیسے رنم فاطمہ نے فوراً اپنی پور پر چن لیا تھا۔
’’مجھے فخر ہے کہ آپ میرے شریک سفر ہیں مجھے اور کسی سے کوئی سروکار نہیں۔‘‘ احسن کے شانوں کو مضبوطی سے تھامے وہ اسے باور کرا رہی تھی۔
اسے احسن کا جملہ بے ساختہ یاد آیا تھا کہ اللہ میرا ظاہر وباطن بھلے ایک نہ رکھے مگر میرے اندر اسلام کی روشنی ہو۔ اس کا حلیہ بظاہر ماڈ تھا ‘ فیشن کے کپڑے پہنتا تھا۔ لیکن اس کے دل میں جتنا خوف الٰہی رشتوں کا تقدس نرمی اور حلاوت سمجھداری تھی یہ اوصاف وجدان میں نہیں تھے۔ ہوتا تو شاید وہ کبھی اتنی گری ہوئی حرکت نہیں کرتا۔
’’نماز عشاء پڑھ لی تھی رنم۔‘‘ وہ میکے آئی ہوئی تھی ایک بار پھر سابقہ محفل جمی ہوئی تھی۔ پپا بھی آئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے گھر کی رونق مزید بڑھ گئی تھی۔
احسن پپا اور عالیان سے باتوں میں مصروف تھا۔ مگر اس کا دھیان دادی کے سوال پر بھی تھا۔
’’جی دادی الحمدللہ… گھر سے پڑھ کے نکلی تھی۔‘‘
’’باقاعدگی سے پڑھ رہی ہونا نماز۔‘‘ دادی کو خوشی تو ہوئی ساتھ ہی تصدیق بھی کی۔
’’ایسی ویسی باقاعدگی دادی… اب تو مجھے بھی محترمہ یہی یاد دلاتی ہیں کہ اذان ہوگئی ہے فوراً نماز پڑھیں۔‘‘ احسن کے جواب پر دادی نہال ہوگئیں۔
’’ہیں واقعی… ماشاء اللہ… ماشاء اللہ… اللہ مزید ہدایت دے’ آمین۔‘‘ دادی کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ رنم کا سیل فون بجا۔
’’جان میری… کہو تو اور تھوڑی تعریف کردوں۔‘‘ احسن کا ٹیکسٹ پڑھ کر رنم کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’نہیں برائی کریں۔‘‘ رنم نے چڑایا۔
’’ایسا کیسے کرسکتا ہوں۔ تم ہو ہی تعریف کے قابل۔‘‘ احسن کے جواب نے رنم کے چہرے پر گلال بکھیر دیا۔
’’میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔‘‘ رنم فاطمہ کا بے ساختہ اظہار پڑھ کر احسن نے لب دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ روک کر عالیان کی بات کا جواب دیا۔
’’کتنی۔‘‘ احسن کا اصرار ہوا۔
’’کوئی حساب نہیں‘‘ باتیں بھی ہورہی تھیں سب سے اور ان کے محبت بھرے پیغامات بھی چل رہے تھے۔
’’تم بھلے ارکان اسلام سے دور تھیں مگر تمہارا باطن بہت صاف تھا۔ تمہارے نفس میں پاکیزگی تھی‘ تب ہی تم نے جلد ہی اللہ سے لو لگا لی۔ لوگ محبوب سے ملنے کی دعا کرتے ہیں۔ محبوب سے شادی کی دعا کرتے ہیں جب کہ میں چاہتا ہوں تم جنت میں بھی میرے ساتھ رہو۔ اسی لیے تم پر سختی کررہا تھا کہ میں وہاں بھی صرف تمہیں اپنی شریک سفر کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ احسن کا خوب صورت اقرار چاند رات کی خوب صورتی کو مزید بڑھا گیا تھا۔
/…/…/…/
عیدالضحیٰ کا دن تھا۔ احسن نے خود قربانی کی تھی۔ مرد حضرات بوٹیاں بنانے میں مصروف تھے تو رنم کلیجی بھون رہی تھی۔ ثمرن پراٹھوں کے لیے آٹا گوندھ رہی تھی۔ ہما بیگم عزیزوں رشتے داروں میں گوشت تقسیم کرنے کے لیے الگ الگ پیکٹس بنوا رہی تھیں۔ کلیجی دم پر تھی۔ ثمرن سلاد کا سامان اٹھائے ٹی وی کی آگے جاکے بیٹھ گئی۔ رنم نے پراٹھے بیلنے شروع کردیئے تھے۔ جب احسن خون آلود کپڑوں میں کچن میں داخل ہوا۔
’’جانو…‘‘
’’جی جانو کی جان۔‘‘ اس کی محبت بھری پکار پر اس نے بھی محبت سے جواب دیا۔
’’نیڈ یو…‘‘ احسن نے وہائٹ سوٹ میں ملبوس سجی سنوری رنم فاطمہ کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ ایک دم سے کہہ گئی۔
’’دھیرج رکھیں سب موجود ہیں۔‘‘
’’ہاں تو ہگ (HUG) تو مل ہی سکتا ہے۔ بے وفا بیوی تم تو عید بھی نہیں ملیں۔‘‘ احسن کے گلے پر رنم فاطمہ کے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close