Hijaab Oct-16

میرے خواب زندہ ہیں(وسط نمبر12)

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
زرتاشہ اپنے باپ کی دائمی جدائی کا صدمہ برداشت نہیں کرپاتی اور اپنے باپ سے آخری گھڑیوں میں دوری کا ذمہ دار لالہ رخ کو قرار دیتی ہے۔ جبکہ لالہ رخ زرتاشہ کی سوچ جان کر بے حد دکھی ہوجاتی ہے اس نے صرف زرتاشہ کی پڑھائی کے خیال سے اسے اصل حقیقت سے آگاہ نہ کیا تھا۔ فراز مشکل وقت میں زرمینہ اور لالہ رخ کی بہت مدد کرتا ہے زرمینہ اس کے ساتھ ہی واپس کراچی آنے کا ارادہ کرتی ہے اور لالہ رخ ایک مختصر ملاقات میں اس کی بے حد شکر گزار ہوتی ہے فراز سمیر شاہ کو تمام احوال بتاتے اپنے مری آنے کا بتاتا ہے دوسری طرف ساحرہ فراز کا رشتہ طے کرنے کی بات کرتی ہیں فراز کراچی پہنچ کر سونیا کو اپنے دلی جذبات سے آگاہ کرتا ہے کہ وہ اسے لائف پارٹنر کے طور پر نہیں اپنا سکتا سونیا یہ سب جان کر شاکڈ رہ جاتی ہے ایسے میں وہ اپنے لیے کامیش شاہ کا انتخاب کرتی ہے اور ساحرہ سے خود اس پرپوزل کی بات کرتی ہے۔ ساحرہ بھی یہ جان کر بے حد خوش ہوتی ہے اور یوں وہ باقاعدہ رشتہ قائم کرنے کی خاطر سونیا کے گھر پہنچ جاتی ہے فراز کے لیے سونیا کا یہ رد عمل انتہائی غیر متوقع ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ سونیا اس کے بھائی کامیش سے سینئر نہیں ہے ایسے میں سمیر شاہ اسے تسلی دیتے اور ہر ٹیشن سے دور رہنے کا کہتے ہیں۔ ماریہ کا رویہ جیکولین اور ابرام کو تشویش میں مبتلا کردیتا ہے ایسے میں جیکولین کا ضبط جواب دے جاتا ہے اور وہ ماریہ کے باپ کی غیر ذمہ داری کا ذکر کرتے اس کی ذات کو طنز کا نشانہ بناتی ہے ابرام اپنی ماں کو سنبھالتا ہے اور ماریہ کو سمجھانے کا وعدہ کرتا ہے۔ دوسری طرف ماریہ ابرام کی بات ماننے سے انکاری ہوتی ہے جب ہی وہ طیش میں آتے اس شخص کو مارنے کا ارادہ کرلیتا ہے جس نے ماریہ کے ذہن میں یہ غلط باتیں پیدا کی تھیں۔ زرمینہ ہاسٹل پہنچتی ہے تو سب ہی چھٹیوں کے دوران اپنے گھر جارہے ہوتے ہیں ایسے میں مہوش کا بھائی بھی اسے لینے ہاسٹل پہنچتا ہے اور وہیں زرمینہ اور اس کا تصادم ہوجاتا ہے زرمینہ اپنے گھر پہنچ کر زرتاشہ سے بات کرتی ہے اور اس کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن زرتاشہ لالہ رخ کی حمایت میں ایک لفظ بھی سننا پسند نہیں کرتی دوسری طرف مہرو اور لالہ رخ زرتاشہ کے اس رد عمل پر نہایت متفکر ہوتی ہیں لالہ رخ زرتاشہ کو سمجھانے کی خاطر اس کے کمرے میں آتی ہے لیکن اندر زرتاشہ کی کیفیت دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
/…/…/…/
اس پل خالی کمرہ بھائیں بھائیں کررہا تھا زرتاشہ کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا سامنے ہی باتھ روم کا دروازہ بھی پوری طرح کھلا ہوا تھا لہٰذا باتھ روم میں اس کی موجودگی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
’’یااللہ یہ تاشو کہاں چلی گئی، مہرو تو کہہ رہی تھی کہ تاشو یہاں سو رہی ہے کہیں بیٹھک میں تو نہیں چلی گئی۔‘‘ لالہ رخ بے حد متوحش ہوکر خود سے بات کرتے ہوئے بولی اور اگلے ہی پل وہ سرعت سے پلٹ کر باہر کی جانب آئی۔
’’آج میں نے تاشو کی پسند کا کھڑے مصالحے کا قیمہ اور چاول پکائے ہیں۔‘‘ مہرو امی سے محو کلام تھی جب ہی اس نے انتہائی بدحواس سی ہوکر لالہ رخ کو باہر آتے دیکھا وہ بنا ان لوگوں کی جانب توجہ کئے سیدھی بیٹھک میں جا گھسی۔ بیٹھک کی تمام لائیٹس بے پناہ عجلت میں کھولیں اور اگلے ہی پل اسے لگا جیسے جسم سے روح کھینچ لی گئی ہو۔ زرتاشہ وہاں بھی نہیں تھی۔ یہ گھر تھا ہی دو کمروں اور ایک بیٹھک پر مشتمل باقی مختصر سے لائونج میں اس وقت امی اور مہرو موجود تھے اس کا مطلب تھا کہ زرتاشہ گھر میں موجود نہیں۔
’’یہ… یہ تاشو کہاں چلی گئی اف میرے خدا اس کی تو ذہنی کیفیت بھی آج کل ٹھیک نہیں ہے وہ کہاں جاسکتی ہے۔‘‘ بے پناہ وحشت کے عالم میں لالہ رخ خود سے بولی کہ اسی اثناء میں مہرو اس کے پیچھے اندر آئی۔
’’کیا ہوا لالہ یہ تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟‘‘
’’مہرو تاشو کہیں نہیں مل رہی وہ پتا نہیں کہاں چلی گئی۔‘‘ وہ بے پناہ متوحش ہوکر بولی۔
’’کیا…!‘‘ لالہ رخ کو انتہائی اچنبھے سے دیکھتے ہوئے وہ فقط اتنا ہی کہہ سکی۔
’’اب… اب کیا ہوگا مہرو میری تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا… یہ تاشو کہاں جاسکتی ہے۔ وہ اس پل رو دینے کو تھی۔
’’اے اللہ ہماری مدد کر ہماری تاشو کی حفاظت کرنا میرے مالک۔‘‘ وہ بے ساختہ سسک اٹھی تو یکلخت مہرو نے اسے خاموش ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے سرگوشیانہ انداز میں کہا۔
’’پلیز لالہ تم اپنے آپ کو سنبھالو تھوڑا ہمت سے کام لو اگر مامی کو پتہ چل گیا تو وہ بے حد پریشان ہوجائیں گی تم حوصلہ کرو وہ یقینا یہیں کہیں ہوگی ہم ابھی اسے ڈھونڈنے نکلتے ہیں۔‘‘ مہرینہ کی بات پر وہ اسے بغور دیکھنے لگی پھر اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔
’’ارے یہ تم دونوں لڑکیاں اندر بیٹھک میں کیوں گھس گئیں ہو تاشو بھی اپنے کمرے سے نہیں نکلی۔‘‘
’’آ… آرہے ہیں مامی۔‘‘ مہرو وہیں سے آواز دے کر بولی پھر لالہ رخ کی جانب دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’لالہ میں تاشو کو ڈھونڈنے نکلتی ہوں تم مامی کو کھانا کھلا کر دوا دے کر سلا دینا اور مجھ سے فون پر رابطہ رکھنا پھر ہم دونوں ساتھ اسے تلاش کرتے ہیں اوکے۔‘‘
’’مہرو میرا تو دل بیٹھا جارہا ہے نجانے کہاں چلی گئی ہے یہ لڑکی۔‘‘ مہرو نے بڑی عجلت میں اس کا بازو تھاما۔
’’پلیز لالہ اس وقت ہمت مت ہارنا ورنہ یقینا مامی جو خود کو سنبھالے بیٹھی ہیں وہ اپنے ہاتھ پیر چھوڑ دیں گی۔ چلو فوراً اب باہر آجائو۔‘‘ یہ کہہ کر مہرو تیزی سے پلٹ کر باہر چلی گئی جب کہ لالہ رخ کو لگا جیسے اسے کسی نے قبر میں زندہ اتار دیا ہو وہ بے ساختہ گہری گہری سانسیں لینے لگی۔
/…/…/…/
باسل‘ عدیل اور احمر آخری پرچہ دے کر ہال سے باہر آئے تو خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہے تھے ورنہ کچھ دنوں سے وہ بے حد پڑھائی میں مصروف تھے۔
’’شکر ہے اللہ کا ان پیپرز سے جان چھوٹی اچھا ہوا جو بناء کسی گیپ کے تمام پیپرز جلدی جلدی نمٹ گئے۔‘‘ عدیل بڑے ریلیکس انداز میں بولا تو دونوں نے تائیدی انداز میں اسے دیکھا۔
’’تمہارا کیا پروگرام ہے باسل، یہ چھٹیاں تم کہاں اور کیسے گزارنے کا پلان بنا رہے ہو؟‘‘ عدیل باسل کو دیکھنے لگا تو باسل قدرے سستی سے اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’ابھی تو میں نے کچھ سوچا نہیں ہے فی الحال تو ہر چیز سے دل اچاٹ ہورہا ہے۔‘‘ اس پل اس کے لہجے میں بے زاری ہی بے زاری تھی عدیل نے اسے شرارت سے دیکھا پھر ہنستے ہوئے بولا۔
’’آج کل میرے بھائی کے پاس کوئی گرل فرینڈ جو نہیں… اسی لیے صاحب بہادر کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا نہ پھولوں سے خوشبو آرہی ہے نا ہوا میں ٹھنڈک محسوس ہورہی ہے دنیا کچھ پھیکی پھیکی سی لگ رہی ہے نا اسی لیے تو کہتے ہیں میرے دوست کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔‘‘
’’اوہ شٹ اپ عدیل۔‘‘ اس وقت باسل خاور حیات بے حد چڑ کر بولا تو احمر نے بھی ہنستے ہوئے ٹکڑا لگایا۔
’’ہاں جی جب سے نیلم فرمان جیسی لڑکی سے واسطہ پڑا ہے تب سے وجود زن کائنات کا رنگ نہیں بلکہ بھنگ لگنے لگی ہے۔‘‘ اس بات پر باسل نے دونوں کو کینہ توز نگاہوں سے دیکھا جو اسے چھیڑ کر بہت لطف اٹھا رہے تھے۔
’’تم دونوں باز نہیں آئو گے تو میں یہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔‘‘ وہ واقعی میں اٹھنے لگا تو احمر اور عدیل دونوں نے ہی تیزی سے اسے دوبارہ بیٹھایا۔
’’اوکے… اوکے سوری یار اچھا اب ہم کچھ کہیں گے۔‘‘ عدیل جلدی سے بولا تو احمر نے بھی تیزی سے جملہ ادا کیا۔
’’بالکل یہ بات اب ختم۔‘‘ باسل نے انہیں لحظہ بھر کر دیکھا پھر ایک ہنکارا بھرتے ہوئے بولا۔
’’مجھے تو فی الحال گرلز سے الرجک ہوگئی ہے نجانے کیوں اب ہر لڑکی کو دیکھ کر میرے اندر غصہ امڈ نے لگتا ہے۔‘‘ احمر نے باسل کو سنجیدگی سے دیکھا عدیل نے بھی اس کی بات کو غور سے سنا۔
’’مگر باسل ہر لڑکی نیلم جیسی نہیں ہوتی کچھ لڑکیاں بارش کی پہلی بوند سے بھی کہیں زیادہ شفاف ہوتی ہیں رات کی آنکھ سے ٹپکتی شبنم کی طرح پاکیزہ کہ جنہیں بس ایک نگاہ ہی دیکھ کر انہیں اپنی پلکوں میں چھپا لینے کا دل چاہتا ہے۔‘‘ احمر کے بے حد گھمبیر لہجے میں بولتے عجیب وغریب انداز کو محسوس کرکے عدیل اور باسل دونوں نے ہی بے اختیار چونک کر اسے دیکھا تھا جو اس پل نجانے کن خیالوں کی سیر کو نکل پڑا تھا۔ عدیل نے اپنی دائیں آنکھ دباتے ہوئے باسل کو خفیف سا اشارہ کیا پھر بے پناہ شرارت سے بولا۔
’’اوے ہوئے ہمارا یار تو شاعر بن گیا بارش بوندیں پاکیزہ واہ بھئی واہ کیا بات ہے یہ چکر کیا ہے میرے دوست؟‘‘ عدیل کی آواز جب اس کی سماعت سے ٹکرائی تو وہ جیسے اپنے خیالوں ہڑبڑا کر چونکا۔
’’مجھے تو دال میں کافی کالا کالا نظر آرہا ہے۔‘‘ باسل بے حد دلکشی سے مسکراتے ہوئے احمر کو سر سے پیر تک گھورتے ہوئے بولا تو احمر خوامخواہ میں نروس ہوگیا۔
’’گائز کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو بھئی میں تو ایک عام سی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’ہاں… ہاں۔ اب تو اپنے دوستوں سے بھی چھپائے گا نا۔‘‘ عدیل لڑاکا عورتوں کی طرح اپنا سیدھا ہاتھ کمر کی خم پر ٹکاتے ہوئے بولا تو بے ساختہ احمر کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’یہ تو پھاپھا کٹنی والے اسٹائل کیوں مار رہا ہے۔‘‘ احمر ایک ہاتھ اس کے شانے پر دھرتے ہوئے بولا۔
’’عدیل یار یہ ایسے نہیں بتائے گا… ذرا پتہ تو لگائو کہ وہ ہے کون؟ جس نے ہمارے دوست کو بارش اور شبنم جیسی باتیں کرنا سیکھا دی ہیں۔‘‘ باسل کے کہنے پر احمر نے اسے بے حد شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا پھر قدرے افسوس سے بولا۔
’’باسل یار تو بھی… چلو یہ عدیل تو شروع سے ہی کمینہ ہے مگر… مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی یار۔‘‘
’’اور زیادہ مظلوم بننے کی اداکاری نہ کر ہم نے بھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے بچے ایک نگاہ میں بتا دیتے ہیں کہ کون کس کی نظر کا گھائل ہوگیا یا پھر زلف کا اسیر ہوگیا ہے۔‘‘
’’یااللہ میں کہاں جائوں۔ تم دونوں کو کیسے سمجھائوں کہ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ عدیل کی بات پر احمر بے ساختہ اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے بولا تو عدیل اور باسل دونوں احمر کی حالت زار پر ایک بلند قہقہہ لگا کر ہنس دیئے۔
/…/…/…/
وہ صبح سے اسے تقریباً دس پندرہ بار کال کرچکا تھا مگر اس نے ایک بھی بار فون ریسیو نہیںکیا تھا وہ شاید فراز شاہ کی بے بسی وبے قراری سے بے پناہ حظ اٹھا رہی تھی یا پھر اس سے بدلہ لے رہی تھی۔ فراز شاہ اپنے آفس کی سیٹ پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں مستغرق تھا سونیا نے کل شام سے اب تک اسے سخت ذہنی اذیت اور کوفت میں مبتلا کر رکھا تھا وہ مزید بھی کچھ اور سوچتا کہ اسی پل اس کا سیل فون بج اٹھا فراز شاہ کی محویت یکلخت ٹوٹی تھی اس نے بے صبری سے اپنا سیل فون اٹھا کر اسکرین دیکھی تو سونیا کالنگ بلنک کررہا تھا فراز نے فوراً فون پک کیا۔
’’ہیلو فراز کیسے ہو بھئی۔ تم کل کیوں نہیں آئے تھے میں تم سے سخت خفا ہوں بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔‘‘ سونیا خان اتنے فریش اور مگن لہجے میں بات کررہی تھی کہ اس پل فراز شاہ کا منہ تحیر کے عالم میں کھلا کا کھلا رہ گیا۔
’’تمہیں معلوم ہے ناکہ یہ ٹائم کسی لڑکی کی لائف کا سب سے زیادہ ایمپورٹنٹ اور بیوٹی فل ہوتا ہے اور ان لمحوں میں ہر لڑکی کو اپنے سب سے اچھے دوست کی ضرورت ہوتی ہے اور دیکھو تم کل بھی نہیں آئے نا۔‘‘ سونیا اتنے نارمل انداز میں بولی جیسے ان دونوں کے درمیان کچھ ہوا ہی نہیں بے پناہ اچنبھے سے فراز نے اپنے سیل فون کو دیکھا جیسے یقین کرنا چاہتا ہو کہ دوسری طرف سونیا ہی ہے۔ پھر اگلے ہی لمحے الجھتے ہوئے اسے دوبارہ کان سے لگایا جو اب کہہ رہی تھی۔
’’سوری میں نیچے ذرا ممی کے ساتھ کچن میں بزی تھی تو تمہارا فون پک نہیں کرسکی… ایکچولی میں نے آج سے ممی اور کک سے اب باقاعدہ کلاسسز لینا شروع کردی ہیں۔‘‘ آخر میں اس کا لہجہ شوخی سے بھرپور تھا اس تمام وقت میں اس نے ایک بار بھی فراز کو بولنے کو موقع نہیں دیا تھا وہ بے ساختہ ایک گہری سانس بھر کر رہ گیا پھر سپاٹ انداز میں گویا ہوا۔
’’سونیا میں آج شام کو تمہارے گھر آرہا ہوں مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’موسٹ ویلکم فراز میں تمہارا انتظار کروں گی۔‘‘ سونیا بڑے دوستانہ انداز میں بولی تو فراز نے بائے کہہ کر فون بند کردیا اور دروازے کی جانب متوجہ ہوگیا جہاں کوئی دستک دے رہا تھا۔
/…/…/…/
مہرو نے لالہ رخ کو زبردستی کرکے سلایا تھا وگرنہ تو وہ بناء پلک جھپکائے بس خاموشی سے زرتاشہ کے سرہانے بیٹھی اسے سوتا ہوا دیکھ رہی تھی کل رات مہرینہ کی بروقت عقل اور حاضر دماغی کی بدولت ان دونوں نے امی سے زرتاشہ کے گھر سے غائب ہوجانے کی بات چھپالی تھی۔ مہرو اپنے گھر امی سے یہ کہہ کر جانے کا بہانہ بنا کر وہاں سے رفوچکر ہوگئی کہ اس کا ابا ابھی اور اسی وقت اس کو بلا رہا ہے جب کہ لالہ رخ نے خود کو سنبھال کر امی سے جھوٹ بولا کہ زرتاشہ بے حد گہری نیند میں ہے۔ اس لیے اسے آرام کرنے دیں۔
’’مگر لالہ وہ یوں خالی پیٹ کیوں سوگئی؟ تھوڑا سا تو کچھ کھا لیتی۔‘‘ امی متفکرانہ لہجے میں بولیں۔
’’مہرو کہہ رہی تھی کہ اس نے شام کو سینڈوچ کھلا دیا تھا آپ فکر نہ کریں جیسے ہی وہ بیدار ہوگی میں اسے کھانا کھلا دوں گی۔‘‘ اس پل وہ خود کو کمپوز کرکے امی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ پھر کھانے سے فارغ ہوکر انہوں نے زرتاشہ کو ایک نگاہ دیکھنے کی ضد کی تو لالہ رخ نے انہیں بڑی مشکل سے ٹالا پھر دوا وغیرہ دے کر جب ان کے سونے کا یقین ہوگیا تو بے پناہ کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے اپنے موبائل فون سے مہرو کا نمبر ملایا۔
’’ہاں لالہ تم سڑک کی نچلی ڈھلان پر آجائو میں اور بٹو وہیں پر ہیں۔‘‘ رابطہ ملتے ہی اسے مہرو کی آواز سنائی دی تو لالہ رخ نے بناء کچھ کہے فون بند کیا اور پھر بڑی خاموشی مگر تیزی سے دروازہ پار کر گئی بٹو اور مہرینہ نے تقریباً ہر وہ جگہ دیکھ لی تھی جہاں زرتاشہ کے ہونے کا احتمال تھا۔
’’کیا ہوا مہرو تاشو ملی۔‘‘ جواباً بٹو اور مہرو کے چہروں پر مایوسی کے رنگوں کو دیکھ کر وہ ڈول سی گئی مہرو نے سرعت سے آگے بڑھ کر اسے دونوں ہاتھوں سے تھاما اس پر اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرہ سا چھا گیا تھا۔
’’لالہ خود کو سنبھالو یار مل جائے گی تاشو ہمیں ان شاء اللہ۔‘‘ لالہ رخ کے اعصاب بے پناہ شل ہوچکے تھے۔ اس سے تو ایک قدم بھی نہیں بڑھایا جارہا تھا۔
’’کہیں تاشو باجی اپنے ابا کے پاس تو نہیں۔‘‘ یک دم بٹو کی آواز ابھری تو دونوں لڑکیوں نے بے حد سرعت سے گردن موڑ کر اس کی جانب دیکھا وہ تھوڑا سا گڑبڑا گیا پھر فوراً وضاحت دیتے ہوئے بولا۔
’’میرا مطلب ہے اپنے ابا کی قبر پر تو نہیں چلی گئی۔‘‘ لالہ رخ نے چند ثانیے سوچا پھر یک دم اس کے دماغ میں اسپارک ہوا تو اس کے پیروں میں بجلی سی بھر گئی۔
’’مہرو بٹو فوراً آئو میرے ساتھ۔‘‘ وہ تینوں بے پناہ تیزی سے وہاں سے پلٹے رات کے آٹھ بجے مری اس پل رات دو بجے کا سماں پیش کررہا تھا۔ رہائشی علاقے سے تھوڑا دور بنے قبرستان کی جانب وہ بڑی سرعت سے بڑھ رہے تھے مہرو بٹو اور لالہ رخ ٹارچ کی روشنی میں اب قبرستان کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے یہاں لگے الیکٹرک پول پر جلتے دودھیا بلبوں نے اندھیرے کی وحشت ناکی اور سیاہی کو کافی حد تک معدوم کردیا تھا مگر قبرستان کا مخصوص ماحول لالہ رخ اور مہرو کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا گیا تھا وہ دونوں اپنے دل کو مضبوط کرتی ہوئیں گرل کا بڑا سا گیٹ دھکیل کر اندر داخل ہوئیں ابا کی قبر لب سڑک ہی بنی ہوئی تھی اور پھر انہیں وہاں تاشو بیٹھی ہوئی نظر آگئی… لالہ رخ اس پل اتنی عجیب وغریب کیفیت سے دو چار ہوئی کہ اسے لگا کہ اب وہ مزید اپنے پیروں پر کھڑی نہیں رہ پائے گی۔
اس نے بے اختیار مہرو کا بازو دبوچا جو خود بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے تاشو کو وہاں بیٹھا دیکھ رہی تھی پھر وہ تینوں تاشو کے پاس پہنچے جو ایک مسمریزم کی کیفیت میں بیٹھی تھی۔
’’تاشو… تم یہاں اس وقت اکیلے کیوں آگئیں؟ چلو فوراً اٹھو یہاں سے۔‘‘ مہرو کے لہجے میں اس پل سختی کے ساتھ ساتھ غصے کی بھی آمیزش تھی۔ جواباً زرتاشہ نے بے حد معصومیت بھرے لہجے میں کہا۔
’’میں ابا سے ملنے آئی تھی مہرو۔ وہ مجھ سے ملے بناء ہی چلے گئے نا تو میں خود ہی ان سے ملنے آگئی۔‘‘ لالہ رخ کو اس پل لگا جیسے اس کا دل پھٹ جائے گا۔ اس نے بے ساختہ اپنی ہتھیلی منہ پر رکھ کر اپنی چینخوں کا گلا گھونٹا اور پھر پلٹ کر وہاں سے دیوانوں کی طرح بھاگی جب کہ بٹو اور مہرو نے اسے نرمی سے اٹھایا اور وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں ان کے ہمراہ گھر آگئی تھی۔
جب کہ لالہ رخ تمام رات آنکھیں کھولے یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی۔ اسے یہ خوف تھا کہ کہیں اس کی پلک جھپکے اور زرتاشہ اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوجائے۔ مہرو نے خود بھی وہاں بیٹھ کر سوتے جاگتے رات گزاری تھی اور پھر صبح زبردستی کرکے اس نے لالہ رخ کو سلایا تھا۔ وہ بے تحاشہ ہڑبڑا کر اٹھی اور انتہائی وحشت کے عالم میں کمرے کے چاروں طرف دیکھا اس وقت کمرے میں کوئی نہیں تھا۔
’’تاشو… تاشو۔‘‘ وہ بے حد حواس باختہ ہوکر یونہی ننگے پیر دروازے کی جانب بھاگی مگر پھر جیسے یک لخت اپنی جگہ ٹھہر گئی۔ زرتاشہ تخت پر امی کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی۔ لالہ رخ نے اپنے بے تحاشہ دھڑکتے دل کو معمول پر لانے کی کوشش کی اور پھر ایک گہری اطمینان آمیز سانس بھری۔ اسی اثناء میں مہرینہ وہاں آچکی تھی۔ لالہ رخ پر نگاہ پڑی تو بے حد خوش گواری سے بولی۔
’’لالہ جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آجاؤ کھانا بالکل تیار ہے۔‘‘
’’لگتا ہے کل تم سارا اصطبل بیچ کر ہی سوئی تھیں۔‘‘ مہرو کی بات پر امی نے دروازے پر کھڑی لالہ رخ کو مسکرا کر دیکھا۔ البتہ زرتاشہ یونہی بے نیاز سی رہی۔
’’آں… ہاں کل کچھ تھکن زیادہ ہوگئی تھی آج تو آفس کی چھٹی بھی ہوگئی۔‘‘ وہ نارمل لہجے میں بولی پھر وہاں سے پلٹ کر فریش ہونے کی غرض سے واش روم کی جانب آگئی۔
/…/…/…/
کافی شاپ کے بے حد دلکش اور خواب ناک سے ماحول میں جیسکا ابرام کے سنگ کافی کے ساتھ ساتھ اپنے من پسند اسنیکس سے بھی لطف اندوز ہورہی تھی۔ آج بہت دنوں بعد وہ بڑے خوش گوار موڈ میں ایک دوسرے سے محو گفتگو تھے۔ وگرنہ گزشتہ دنوں ان کی باتوں کا مرکز اور محور صرف اور صرف ماریہ تھی۔ ڈارک بلو شرٹ میں ڈارک بلو ہی جینز پر لیدر کی براؤن جیکٹ پہنے ابرام بے حد وجیہہ اور ہینڈ سم لگ رہا تھا۔ جیسکا اس کی قربت میں خود پر فخر محسوس کررہی تھی۔ ابرام کی پرسانلٹی اس کا اسٹائل بے حد منفرد اور پُرکشش تھا۔ اس پر اس کا گفتگو کرنے کا انداز تو غضب ڈھاتا تھا۔
’’ویسے ابرام مجھے سچ سچ بتانا آج تک تم پر کتنی لڑکیاں فدا ہوچکی ہیں؟‘‘ وہ اپنی نشیلی آنکھیں ایک ادائے خاص سے گھماتے ہوئے انگریزی میں بولی تو ابرام بے اختیار قہقہہ لگا کر ہنسا پھر مسکراتی نگاہوں اور لبوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’تم جیلس تو نہیں ہوجاؤ گی یہ جان کر؟‘‘ وہ کافی کا ایک بڑا سا سپ لیتے ہوئے محظوظ کن لہجے میں بولا تو جیسکا نے اسے بے حد خاص نظروں سے دیکھ کر صاف گوئی سے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا۔
’’اف کورس ابرام میں بالکل جیلس ہوجاؤں گی۔‘‘
’’تو پھر رہنے دو خوامخواہ میں تمہارا دل جلے گا۔‘‘ وہ اسے چھیڑنے والے انداز میں بولا تو جیسکا ذرا کی ذرا اس کے قریب جھک کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔
’’کوئی میری جیسی تو تمہیں نہیں ملی ہوگی ناں؟‘‘ جیسکا کے لہجے میں زعم اور اعتماد اس بات کا غماز تھا کہ اسے اپنے حسین اور پُرکشش ہونے کا بھرپور احساس ہے۔ ابرام نے اس کے چہرے پر بغور نگائیں ٹکاتے ہوئے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں تم جیسی ابھی تک نہیں ٹکرائی۔‘‘ جیسکا ابرام کے جواب پر بے اختیار ایک طمانیت آمیز سانس بھر کر رہ گئی پھر قدرے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’تو پھر ابرام تم مجھے چاہ کیوں نہیں سکتے…؟ میں چاہتی ہوں ابرام کے تم صرف مجھے چاہو میری خواہش کرو۔‘‘ اس پل ابرام بھی سنجیدگی سے اسے دیکھے گیا پھر کچھ ثانیے کے بعد گویا ہوا۔
’’جیسکا تمہارے نزدیک چاہت کیا ہے‘ چاہت کا مطلب کیا ہے؟‘‘
’’میرے نزدیک چاہت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے دل میں صرف اور صرف میں رہوں تم مجھ سے اپنی باتیں شیئر کرو ہر پل میری یاد میں وقت گزارو اور مجھے پیار کرو بہت سارا پیار۔‘‘ جیسکا اپنی خوب صورت آنکھوں کو بند کیے بے باکی سے بولے گئی تو ابرام کسی سوچ میں پڑگیا پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’جیسکا میرے دل میں تمہارے لیے ایک خاص جگہ ہے جس کے سبب تم میری سب سے قریبی فرینڈ بن گئی ہو۔ رہا باتوں کا سوال تو زیادہ تر باتیں تم سے ہی شیئر کرتا ہوں ہر پل تو نہیں مگر اکثر مجھے تمہاری یاد بھی آجاتی ہے اور رہا پیار تو مجھے تم سے پیار بھی ہے تبھی تو میں اپنے اتنے ٹف شیڈول میں سے تمہارے لیے وقت نکالتا ہوں تمہارے ساتھ آؤٹنگ کرتا ہوں‘ ٹائم گزارتا ہوں۔‘‘
’’اوہ… ابرام یہ وہ والی محبت نہیں ہے جس کا تذکرہ میں کررہی ہوں۔‘‘ جیسکا تھوڑا بے مزہ ہوکر بولی تو ابرام نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو جیسکا اپنی کرسی پر تھوڑا الرٹ ہوکر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’دیکھو ابرام تم میری بات سمجھ نہیں رہے ابرام میں چاہتی ہوں کہ…‘‘ وہ تھوڑا ہچکچائی پھر تیزی سے بولتی چلی گئی۔
’’میں چاہتی ہوں کہ تم میرے دل کے ساتھ ساتھ میری جان میرے وجود کے بھی مالک بن جاؤ میری تنہائیوں کے ساتھی۔ ان خاص لمحوں کے شراکت دار بن جاؤ جو ہر لڑکی کسی خاص شخص کو سونپنا چاہتی ہے۔‘‘ ابرام بغور اسے دیکھتا رہا پھر بے حد سنجیدگی سے بولا۔
’’تم مجھ سے فیزیکل لو ایکسپرٹ کررہی ہو جیسکا۔ جانتی ہو کہ سب سے پائیدار اور مضبوط رشتہ دل اور روح کا ہوتا ہے اور سب سے کمزور اور کھوکھلا تعلق جسمانی ہوتا ہے کیا تم مجھ سے یہ چاہ رہی ہو کہ تم سے جسمانی تعلق رکھوں جو کبھی بھی کسی بھی لمحہ ٹوٹ کر فنا ہوجائے گا یا پھر روح کا رشتہ قائم کروں جو تمام عمر زندہ رہتا ہے۔‘‘
’’ابرام تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو‘ میں تم سے صرف فیزیکل ریلیشن شپ کی ڈیمانڈ نہیں کررہی۔‘‘ جیسکا نے قدرے گھبرا کر وضاحت کی۔ ’’دل اور روح کے ساتھ ساتھ میں یہ رشتہ قائم کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’جیسکا ہم جن سے دل اور روح کا رشتہ استوار کرتے ہیں نا ان کے جسموں کو پامال نہیں کرتے بلکہ ایک مقدس چیز سمجھ کر اس کا احترام کرتے ہیں۔ اس کو قابل عزت سمجھتے ہیں۔‘‘ ابرام سہولت سے بولا پھر مزید گویا ہوا۔
’’اور جن کو ہم کچھ بھی نہیں سمجھتے اس کے جسم کو کھلونا سمجھ کر اس سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ میرا تم سے دل اور روح کا رشتہ ہے۔ مقدس اور قابلِ احترام۔‘‘ ابرام بلاشبہ مغربی اقدار اور روایات کا پروردہ تھا مگر اس نقطے پر اس کی سوچ اس کی فکر دیگر لڑکوں سے بے حد مختلف تھی۔ جیسکا نے بے حد حیران ہوکر اسے دیکھا اگر وہ یہی بات کسی اور لڑکے کے سامنے کہتی تو اسے تو جیسے ہفت اقلیم مل جاتے وہ فوراً سے بیشتر جیسکا جیسی بلا کی خوب صورت اور پُرکشش لڑکی کے سامنے سرنگوں ہوجاتا مگر یہاں ابرام تھا سب سے منفرد اور انوکھا انسان جیسکا نے اسے دیکھ کر ساختہ ایک گہری سانس کھینچی۔
/…/…/…/
ڈارک پنک اور لائیٹ پنک کلر کے چوڑی دار پاجامے قمیص میں سائیڈ پر چنری کا دوپٹہ ڈالے وہ آج کافی مختلف حلیے میں فراز کے سامنے بیٹھی تھی جب کہ دونوں کلائیوں میں بھر بھر کر اسے نے چوڑیاں بھی پہن رکھی تھیں۔ لان میں بچھی کرسیوں میں وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
’’ہوں بولو تمہیں کیا ضروری بات کرنی تھی مجھ سے؟‘‘ وہ پوری توجہ سے اسے دیکھتے ہوئے بڑے مگن لہجے میں بولی تو فراز چند ثانیے اسے دیکھتا چلا گیا پھر کچھ دیر بعد ہموار لہجے میں بولا۔
’’یہ سب کیا ہے سونیا؟‘‘
’’کیا سب فراز؟‘‘ انداز میں حیرت تھی اور وہ اس سے الٹا سوال کر گئی۔
’’تم نے کامیش سے شادی کرنے کا فیصلہ کیسے کرلیا سونیا جب کہ تم…!‘‘ وہ قصداً اپنا جملہ ادھورا چھوڑ گیا تو سونیا نے جیسے ایک ادا کے بے نیازی سے اسے دیکھا پھر بڑی بے پروائی سے اس نے اپنی جگہ سے پہلو بدلا اور فراز شاہ کو ایسے تاثر دیا جیسے اس کی بات اس کے نزدیک انتہائی غیر اہم اور بے زار کن ہو۔ جس پر وہ بات بھی نہ کرنا چاہتی ہو۔ اس نے قدرے اکتائے ہوئے اپنے کندھے اچکا کر کہا۔
’’میرے خیال میں فراز اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں سب کچھ بھول کر آگے بڑھ چکی ہوں۔‘‘ اس پل اس کے ہر ہر انداز میں بے زاری جھلک رہی تھی۔ فراز شاہ نے اسے بے حد اچھنبے سے دیکھا۔
سونیا اسے ہر لمحہ شاکڈ پر شاکڈ کررہی تھی۔ اس نے کچھ دیر اسے بے حد غور سے دیکھا۔ جو اب اپنی بات کہہ کر اپنے لمبے لمبے ناخنوں پر لگی کیوٹکس کو دیکھ رہی تھی۔ سونیا اعظم کا رویہ اور باتیں دونوں اس کی سمجھ سے باہر تھیں مگر اسے ہر حال میں یہ سب سمجھنا اور جاننا تھا کہ آخر سونیا ایسا کیوں کررہی ہے۔ کچھ دیر دونوں کے درمیان گہری خاموشی طاری رہی پھر فراز ایک گہرا سانس بھر کر بے حد سنجیدگی سے گویا ہوا۔
’’دیٹس گڈ سونیا یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تم پچھلی باتوں کو بھول کر آگے بڑھ گئی ہو مگر… میں تم سے صرف یہ پوچھنا اور جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے اپنے لائف پارٹنر کے طور پر کامیش کا ہی کیوں انتخاب کیا جب کہ دو دن پہلے ہی تم یہی خواہش میرے حوالے سے رکھتی تھیں۔‘‘ فراز کی بات پر سونیا نے اس کی جانب دیکھا اور بڑی سہولت بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’یہ درست ہے فراز کہ مجھے ایسا فیل ہوتا تھا کہ ایز آ لائف پارٹنر تمہاری چوائس میں ہی ہوں گی مگر…‘‘ وہ قدرے رکی پھر تیزی سے بولتی چلی گئی۔
’’مگر تم نے مجھے انکار کیا تو میرے دل کو کافی چوٹ پہنچی پھر جب میں نے تمہاری جگہ رکھ کر خود کو سوچا تو پھر میرا غصہ اور دکھ جاتا رہا۔ ہر انسان کو اپنی مرضی اور پسند کا جیون ساتھی چننے کا پورا حق ہے۔ پھر ڈیڈ کو کامیش بہت زیادہ پسند آیا تھا انہوں نے مجھ سے کامیش کے لیے بات کی اور مجھے فورس کیا تو پھر میں سوچ میں پڑگئی کہ کیا کروں؟ مجھے شادی تو کسی نہ کسی سے کرنی ہے تو پھر کامیش میں کیا برائی ہے وہ بہت اچھا اور ڈیسنٹ ہے پھر میرا کزن بھی بس پھر فی الفور یہ فیصلہ ہوگیا اور ڈیڈ بھی خوش ہوگئے۔‘‘ فراز بے حد توجہ سے اس کی بات سنتا رہا۔
’’مگر تم نے ماما کے پاس جاکر خود سے کیوں کہا کہ تم کامیش سے شادی کرنا چاہتی ہو؟‘‘ فراز شاہ کے انتہائی الجھے ہوئے انداز پر سونیا نے پل کے پل اسے دیکھا پھر بڑی دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولی۔
’’وہ اس لیے فراز کہ میں نے آنٹی سے وعدہ کیا تھا کہ جس لڑکے سے میں شادی کرنا چاہوں گی تو اس کا نام انہیں ضرور بتاؤں گی۔ بس ڈیڈی کی مرضی اور خوشی پر سر جھکاتے ہوئے میں نے آنٹی کو کامیش کا نام بتا کر اپنا پرامس پورا کیا سمپل۔‘‘ آخر میں اس نے بڑی بے پروائی سے کندھے اچکائے… جب کہ فراز شاہ اسے یک ٹک دیکھتا رہ گیا۔ سونیا نے ہر بات کی وضاحت اس کے سامنے پیش کردی تھی۔ بظاہر کوئی گڑبڑ بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر کچھ تو تھا جو اس کے دماغ میں کھٹک رہا تھا جو اس کی نگاہوں کے سامنے نہیں آرہا تھا۔
’’اچھا اب چھوڑو بھی ان باتوں کو فراز… تم ہمیشہ میرے دوست تھے اور آئندہ بھی میرے بیسٹ فرینڈ رہوگے فائن۔‘‘ آخر میں وہ تائیدی لہجے میں بولی تو اپنے خیالوں میں گم فراز چونکا پھر بے ساختہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
’’اف کورس سونیا، یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے۔‘‘ جواباً سونیا کھل کر مسکرادی۔
/…/…/…/
موسم کے مزاج میں کافی بدلاؤ آگیا تھا گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا تھا گزشتہ دنوں ہونے والی بارشوں اور ٹھنڈی ہواؤں نے موسم بے حد سہانا اور دلفریب کردیا تھا اور پھر آج رات کی رنگینی اور دلکشی کچھ زیادہ ہی خاص تھی۔ ’’باسل پیلس‘‘ کے بے حد خوب صورت اور وسیع گارڈن کی سجاوٹ اور رونق آج دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ شہر کے فیمس ایونٹ مینجمنٹ کو ہائر کیا گیا تھا۔ جس نے ’’باسل پیلس‘‘ کے گارڈن کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا جہاں سجاوٹ کی ٹون ریڈ اینڈ وائٹ کلرز کی رکھی گئی تھی۔ پورے گارڈن کے اطراف میں سفید اور لال پھولوں سے ایک ایک کونے اور چپے چپے کو سجایا گیا تھا۔ انٹریس میں سفید اور لال پھولوں سے بے حد اسٹائلش سی محراب بنائی گئی تھی جس کے اطراف میں بے حد چمکتے دمکتے گولڈن اسٹینڈ میں بیضوی خوب صورت لیمپ جلا کر رکھے گئے تھے جس میں سفید اور لال لائٹس جل رہی تھیں۔ راہداری بنا کر اس پر سرخ کارپٹ بچھا رکھا تھا جس کے سائیڈ پر رکھے بڑے بڑے گل دانوں میں سفید پھولوں کی ٹہنیوں سے گلدستہ بنا رکھا تھا جب کہ آگے چل کر ایک جانب کو مصنوعی فوراہ بنا ہوا تھا۔ جس میں سے پانی نیچے سے اوپر کی جانب اچھلتا تو اس میں لال اور سرخ رنگ کے امتزاج کی لائٹس بھی جل اٹھتیں۔ اس پل بہت ہی دلکش فانوس کی تیز چمکتی گولڈن روشنی نے جیسے رات میں دن کا سماں باندھ دیا تھا۔
ایک جانب میوزک کے سازو سامان کی جگہ مختص کی گئی تھی جو بڑی شوخ سی دھن بجانے میں مصروف عمل تھے۔ محفل کی تابانیاں اور رنگینیاں عروج پر تھیں۔ باوردی ویٹر کولڈ اور سوفٹ ڈرنکس کے ساتھ ہلکا پھلکا اسنیکس بھی پیش کررہے تھے۔ جب کے فضاء میں کھانے کی اشتہاء انگیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ آج حورین اور خاور حیات کی شادی کی سال گرہ تھی اور شہر کے معززین اس پارٹی میں شریک تھے۔ طرح دار خواتین شوخ وچنچل لڑکیاں اور بڑے بڑے بزنس مین پارٹی کو بے حد انجوائے کر رہے تھے۔ آج حورین کا حسن بھی بے مثال نظر آرہا تھا جو آف وائیٹ ساڑھی جس پر گولڈن رنگ کا بے حد فینسی کام کیا گیا تھا۔ اسے پہنے بے حد ڈیسنٹ اور خوب صورت لگ رہی تھی جب کہ صراحی دار لمبی گردن میں ڈائمنڈ کا لشکارے مارتا گلوبند اور اس کے لمبے بندے اس پر بے انتہا جچ رہے تھے۔ اس نے خاور کے بے حد اصرار پر بالوں میں رولرز ڈلوا کر انہیں بہت منفرد اسٹائل دیا ہوا تھا۔ شہر کی مشہور بیوٹیشن نے اس کے چہرے پر اپنی مہارت کے تمام جوہر دکھائے تھے وہ اس پل آسمان سے اتری حور لگ رہی تھی حالانکہ وہ اتنی تیاریوں کے لیے رضامند نہیں تھی۔
’’اف خاور… آپ بھی ناں دو تین سال بعد میں بہو والی ہوجاؤں گی، ماشاء اﷲ سے میں جوان بیٹے کی ماں ہوں اتنا زیادہ ہار سنگھار اچھا نہیں لگے گا سب بولیں گے بڈھی گھوڑی لال لگام۔‘‘ حورین کو جب خاور نے بتایا کہ تمہیں ہماری شادی کی سال گرہ میں کس طرح نظر آنا ہے تو وہ کافی گھبرا کر بولی تھی۔ جواباً خاور حیات قہقہہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
’’میری بیوی کو کوئی بڈھی گھوڑی بول کر تو دیکھے میں اس کی جان نہیں نکال دوں گا… اور ویسے بھی تمہاری عمر اتنی بھی نہیں ہے جتنا تم اپنے آپ کو بڑا اور بوڑھا سمجھتی ہو۔‘‘ خاور حیات نے بھی امپورٹڈ بلیک ڈنر سوٹ زیب تن کر رکھا تھا سب حورین کی بے حد تعریف کررہے تھے اور حسب معمول ساحرہ کے کلیجے پر سانپ لوٹ رہے تھے۔ نجانے کیوں حورین کو اپنے سامنے پاکر وہ خوامخواہ کمپلیس میں مبتلا ہوجاتی تھی۔
سمیر شاہ بھی خاور حیات اور دیگر ملنے والوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھے جب کہ آج فراز نے بھی پارٹی میں شرکت کی تھی۔ حورین کے اردگرد جب خواتین کا رش چھٹا تو سمیر شاہ بڑی تمکت سے حورین کے پاس چلے آئے ساتھ میں فراز بھی تھا۔
’’سمیر بھائی میں سچ میں آج بہت خوش ہوں کہ آپ اپنے ہمراہ اس بے مروت فراز کو بھی لائے ہیں۔ اسے اپنی آنٹی سے ملنے کی بھلا فرصت ہی کہاں ہے۔‘‘ حورین فراز کو دیکھ کر اس پُرلطیف سا طنز کرتے ہوئے سمیر شاہ سے بولی تو فراز تھوڑا کھسیا گیا۔ پھر اپنا کان کھجاتے ہوئے شرمندگی سے بولا۔
’’آئی ایم سوری آنٹی یہ واقعی میری غلطی ہے مگر یقین کریں اب آئندہ ایسا نہیں ہوگا میں ٹائم نکال کر آپ سے ضرور ملنے آیا کروں گا… ویسے سچ میں آنٹی آج آپ بہت زیادہ پریٹی اور بیوٹی فل لگ رہی ہیں۔ آنٹیز تو کیا ساری لڑکیوں کا بھی حسن آپ کے آگے ماند پڑگیا ہے۔‘‘ آخر میں بے حد شوخی اور لگاوٹ سے بولا تو حورین اپنے مخصوص انداز میں دھیمے سے مسکرائی جب کہ کچھ فاصلے پر کھڑی ساحرہ کے کانوں میں فراز کی آواز بخوبی پڑی تھی۔ اس کا دل جل کر کباب ہوگیا تھا۔
’’آپ دونوں یہاں موجود ہیں۔‘‘ ساحرہ کی آواز پر وہ دونوں بے ساختہ مڑے۔
/…/…/…/
دبیز سیاہی کی چادر اوڑھے آسمان پر جابجا چمکیلے ننھے منے ستارے ٹمٹما رہے تھے۔ ان پر نگاہیں ٹکائے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے افشاں کی پوری ڈبیہ آسمان کے اوپر انڈیل دی ہو۔ جب کہ ابتدائی راتوں کا پُرکشش چاند بڑے طمطراق سے بیٹھا اپنی چاندنی بکھیر رہا تھا۔ لالہ رخ اپنے کمرے کے ساتھ ہی چھوٹی سی بالکونی میں بڑی محویت سے آسمان پر خالی الذہن نگاہیں ٹکائے کھڑی تھی جب ہی خاموشی سے مہرینہ اس کے پہلو میں آکھڑی ہوئی۔ جب کہ لالہ رخ ہنوز آسمان کی جانب تکتی رہی۔ مہرینہ آج کل لالہ رخ کے گھر پر ہی ٹھہری ہوئی تھی۔ دور دور تک پھیلے سناٹے میں صرف جھینگروں کے بولنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ دونوں کے درمیاں خاموشی کا بھاری پردہ حائل تھا۔
’’کیا سوچ رہی ہو لالہ؟‘‘ لالہ نے مہرو کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا وہ مسلسل آسمان کو دیکھے گئی۔
’’موسم آج کافی بدلا بدلا سا لگ رہا ہے ناں؟‘‘ مہرو یونہی بات کرنے کی غرض سے بولی تو لالہ رخ انتہائی دھیمی آواز میں بولی۔
’’ہوں بہت کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہورہا ہے۔‘‘ مہرو نے اسے چونک کر دیکھا پھر ایک بوجھل سی سانس لیتے ہوئے بولی۔
’’لالہ میں جانتی ہوں کہ تم تاشو کی وجہ سے بہت اپ سیٹ اور ڈسٹرب ہو۔ ماموں کے انتقال نے اسے شدید صدمے اور شاکڈ سے دوچار کیا ہے۔ تم پریشان مت ہو آہستہ آہستہ وہ اس کیفیت سے ان شاء اﷲ باہر نکل آئے گی۔‘‘
’’مہرو تاشو کی اس حالت کی میں ذمہ دار ہوں صرف میں۔ آج جو کچھ بھی تاشو پر گزر رہی ہے۔ وہ جو اذیت اور تکلیف سہہ رہی ہے اس کی وجہ میری ذات ہے۔ میں ہوں اس کی مجرم اس کی قصور وار۔‘‘ اس پل جیسے لالہ رخ کی آواز گہرے کنوئیں سے برآمد ہوئی تھی۔ مہرو نے انتہائی متفکرانہ انداز میں اس کی جانب دیکھا جس کا چہرہ ابھی تک آسمان کی جانب تھا۔
’’یہ تم کیسی باتیں کررہی ہو لالہ۔‘‘ جب ہی اس نے رخ اس کی جانب موڑا اور گھوم کر اس کے مقابل آن کھڑی ہوئی۔
’’ہاں میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں مہرو۔ میری وجہ سے زرتاشہ کی یہ حالت ہے اس کی ہر بات درست اور حقیقت پر مبنی ہے… مہرو میں نے تاشو کے ساتھ اچھا نہیں کیا بہت غلط کیا ہے میں نے۔ مجھ سے کیا ہوگیا مہرو۔‘‘ لالہ رخ کے چہرے پر دکھ‘ پچھتاوے اور تاسف کے جھلکتے رنگوں اور آنکھوں میں نمی دیکھ کر مہرو کا دل دکھ سے بھر گیا۔ لالہ رخ اسے بے حد عزیز تھی اس کی فکر‘ پریشانی اس کے دل کو تڑپا دیتی تھی۔ اس لمحے بھی ایسا ہی ہوا تھا لالہ رخ کی یہ کیفیت اسے بے حد اپ سیٹ کر گئی تھی۔
’’تم نے جان بوجھ کر تو تاشو کو ماموں سے دور نہیں رکھا تھا اور پھر تمہیں بھی تو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ماموں یوں ہم سب کو چھوڑ کر چلے جائیں گے اور… اور!‘‘
’’مجھے سب معلوم تھا مہرو کہ ابا…‘‘ وہ تھوڑا رکی پھر تیزی سے بولتی چلی گئی۔
’’ابا کی جان لیوا مہلک بیماری کی بابت میں سب کچھ جانتی تھی، مگر میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی رہی ایک تلخ اور وحشت ناک سچائی میرے سامنے کھڑی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سب کچھ باور کراتی رہی… مگر میں پھر بھی اس سے نگاہیں چراتی رہی… مہرو اب مجھے بہت شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے۔ تاشو کے لیے ابا سے بڑھ کر کچھ اور نہیں تھا اور میں نے ابا کے مقابلے میں اس کی پڑھائی کو ترجیح دی۔‘‘ لالہ رخ اس وقت اذیت وتکلیف کے جسے سمندر سے گزر رہی تھی۔ یک دم مہرو کی بھی آنکھوں میں آنسو آمڈ آئے۔
’’مگر پھر بھی لالہ تم یہ تو ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ تاشو کو یہ صدمہ پہنچے وہ آخری وقت میں ماموں سے دور رہے تم نے جان بوجھ کر تو اس کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔‘‘ مہرو نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر رندھی ہوئی آواز میں کہا تو لالہ رخ نے اس کو لحظہ بھر دیکھا پھر ایک تلخ مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے بولی۔
’’جان بوجھ کر نہ سہی مگر مہرو میرے ہاتھوں تاشو کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگئی نا… اگر تاشو ابا کے پاس آجاتی اور ان کے ساتھ کچھ وقت گزار لیتی تو شاید اس کے دل کو قرار آجاتا وہ بھی حوصلے سے یہ غم سہہ جاتی مگر میں نے تو ساری عمر کے لیے اس کی روح اور دل کو ایک کسک میں مبتلا کردیا… مہرو میں سوچتی ہوں کہ اگر یہی سب کچھ میرے ساتھ ہوتا جو تاشو کے ساتھ ہوا تو… تو میری کیا حالت ہوتی مہرو…؟‘‘ بولتے بولتے لالہ رخ کی آنکھیں ساون کی طرح برسنے لگیں ایک سسکی اس کے لبوں سے برآمد ہوئی جب کہ مہرو مہر بہ لب کھڑی بڑی بے چارگی اور لاچاری سے اسے دیکھے گئی۔ اس پل اس کے پاس جیسے لفظ ختم ہوگئے تھے اس نے بے حد نرمی سے لالہ رخ کو اپنے گلے سے لگا لیا۔
/…/…/…/
ماریہ آج کل بہت کوفت اور الجھن کا شکار تھی۔ ولیم تو جیسے اس کا سایہ بن گیا تھا۔ ہمہ وقت وہ ماریہ کے اردگرد منڈلاتا رہتا جب کہ ماریہ صرف جیکولین کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی غرض سے بادل نخواستہ اور زبردستی ولیم کو لفٹ دے رہی تھی۔ وگرنہ تو اس کا دل ولیم کا چہرہ بھی دیکھنے کو نہیں چاہتا تھا۔ آج بھی ایسا ہی ہوا وہ حسب معمول شام کے ایک مخصوص پہر خاموشی سے اپارٹمنٹ سے باہر نکلنے لگی تھی کہ وہ پھر آدھمکا۔
’’ولیم تمہیں کوئی اور کام نہیں ہے کیا ابھی تین گھنٹے پہلے ہی میرے ساتھ کالج سے واپس آئے تھے اور میرے ہاتھ کی کافی پی کر گئے تھے۔ کچھ دیر گزری نہیں کہ تم پھر آدھمکے۔‘‘ بے ساختہ ماریہ انتہائی تلخی اور رکھائی سے کہہ گئی پہلے تو ولیم نے کافی غور سے ماریہ کو دیکھا جس کے چہرے پر ناگواری اور ناپسندیگی کے واضح رنگ جھلک رہے تھے۔ اگلے ہی لمحے وہ ڈھٹائی سے ہنسا پھر بڑے رومانی لہجے میں بولا۔
’’کیا کروں ڈیئر تمہارے بغیر اب میرا دل ہی نہیں لگتا میں چاہتا ہوں کہ تم ہر وقت ہر پل میری نظروں کے سامنے رہو۔‘‘ ولیم کی باتوں نے اسے اندر ہی اندر سرتاپا جھلسا کر رکھ دیا۔
’’اوشٹ اپ ولیم… مجھے اس طرح کی باتیں بالکل بھی اچھی نہیں لگتیں اوکے آئندہ احتیاط کرنا۔‘‘ وہ بے تحاشہ چڑتے ہوئے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی۔ اس پل وہ دونوں اپارٹمنٹ کے مین گیٹ پر کھڑے تھے۔ اسے چلتا دیکھ کر ولیم بھی تیزی سے اس کے ساتھ چلنے لگا۔
’’مگر کیوں میں تمہارا منگیتر ہوں میں ایسی باتیں تم سے نہیں کروں گا تو بھلا کس سے کروں گا تم میری جولیٹ ہو اور میں تمہارا رومیو۔‘‘ آخر میں وہ ایک جدت سے بولا تو اس پل ماریہ کا بے اختیار دل چاہا کہ اپنا جوتا اتار کر اس کے سر پر زور سے مارے۔
’’ولیم مجھے اس طرح کی بے ہودہ باتیں بالکل پسند نہیں۔‘‘ وہ ہنوز چلتے ہوئے کلس کر بولی تو اس بار ولیم قدرے ڈھیلا پڑگیا اور تیزی سے گویا ہوا۔
’’اوکے… اوکے ریلیکس ڈیئر… آئندہ میں کوشش کروں گا کہ تم سے محبت بھری باتیں نہ کروں… اچھا یہ بتاؤ کہ اس وقت تم کہاں جارہی ہو؟‘‘ ولیم کے استفسار پر ماریہ اندر ہی اندر خائف ہوگئی۔ وہ روز روز بہانے بنا کر تھک گئی تھی۔ غصے اور جھنجھلاہٹ میں اس کے ذہن میں ہی نہیں آیا کہ آج وہ ولیم سے کہاں جانے کا کہے گی۔
’’تم اس وقت کہاں جارہی ہو ماریہ؟‘‘ ولیم نے اپنا سوال دہرایا تو ماریہ تھوڑا سٹپٹائی۔ اس پل اس کا ذہن بالکل سوچنے سمجھنے سے عاری ہوگیا تھا بروقت بہانہ سوجھ ہی نہیں رہا تھا۔
’’وہ میں… کیا تمہیں بتانا ضروری ہے؟‘‘ وہ جھنجھلا کر بولی تو ولیم نے اسے کافی حیرت سے دیکھا۔ پھر اگلے ہی لمحے وہ اسے بے پناہ سنجیدہ دکھائی دیا۔ ماریہ کافی نرم پڑگئی۔ پھر قدرے شرمندگی سے بولی۔
’’آئی ایم سوری ولیم دارصل آج کل اسٹڈیز کا پریشر میرے ذہن پر بہت ہے ناں تو میںتم سے تھوڑا روڈ ہوگئی۔‘‘ ماریہ کی وضاحت پر ولیم نے اسے مسکرا کر دیکھا پھر کندھے اچکاتے ہوئے مختصراً بولا۔
’’اٹس اوکے ڈیئر۔‘‘
/…/…/…/
’’آئیے ساحرہ بھابی۔‘‘ حورین ساحرہ کو دیکھ کر خوش دلی سے بولی تو ساحرہ سہج سہج کر قدم بڑھاتے ہوئے ان کے قریب آن پہنچی۔
’’ویسے کچھ دنوں کے بعد ہم لوگ بھی آپ کو انوائنٹ کرنے والے ہیں اور اس سے بڑی پارٹی دینے کا ارادہ ہے۔‘‘ ساحرہ اتنے بچکانہ اور چیپ انداز میں بولی کہ پاس کھڑے سمیر اور فراز دونوں خفیف سے ہوگئے۔ اس پل ساحرہ کے لب و لہجے میں جلن اور احساس کمتری واضح طور پر جھلک رہی تھی۔
’’ہاں… ہاں کیوں نہیں بھابی ماشاء اﷲ آپ کی پارٹیز تو ہوتی ہی بے حد شاندار ہیں۔‘‘ حورین بڑی دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولی توساحرہ کی مارے تفاخر کے گردن تن سی گئی۔
’’اس میں تو کوئی شک نہیں میری پارٹیز تو ہمارے سوشل سرکل میں بہت زیادہ مشہور ہیں لوگ تو مہینوں اسے یاد رکھتے ہیں۔‘‘ رائل بلو کلر کی اسٹائلش سی میکسی گاؤن میں ملبوس ساحرہ اس پل سمیر کو بے حد عامیانہ اور سطحی لگی۔ انہیں اس وقت ساحرہ کے اپنی شریک حیات ہونے پر بہت افسوس ہوا۔ فراز بھی اپنی ماں کی باتوں پر جزبز ہوتا دکھائی دیا۔
’’تم دیکھنا حورین کامیش اور سونیا کی شادی میں کتنے اعلی پیمانے پر کروں گی۔ ایسی شادی تو نہ کسی نے دیکھی ہوگی نہ سنی ہوگی۔‘‘ ساحرہ کی بات پر فراز کو اب وہاں کھڑا رہنا مشکل ہوگیا وہ ان لوگوں سے ایکس کیوز کرکے باسل کی جانب چلا آیا جو اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا۔
’’ارے فراز بھائی آئیے نا ہمیں جوائن کیجئے۔‘‘ باسل اس لمحے احمر اور عدیل کے ہمراہ موجود تھا۔ فراز کو دیکھ کر خوش دلی سے بولا تو وہ مسکراتے ہوئے ان لوگوں سے محو کلام ہوگیا۔
/…/…/…/
دن اپنی مخصوص چال چلتے ہوئے ایک دوسرے کے تعاقب میں نکلتے چلے گئے گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوچکی تھیں۔ جامعہ بھی کھل گئی تھی۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے گھروں کو جانے والے اسٹوڈنٹس واپس ہاسٹل میں آچکے تھے۔ سب کے چہرے بہت ترو تازہ اور خوش باش دکھائی دے رہے تھے۔ ایک دوسرے کو اپنی چھٹیوں میں ہونے والی سرگرمیوں کے متعلق بتا رہے تھے۔ زرمینہ بھی واپس آچکی تھی مگر وہ زرتاشہ کی طرف سے کچھ متفکر اور الجھن کا شکار تھی۔ زرتاشہ اب تک واپس نہیں آئی تھی اس نے کئی بار اس کے سیل فون پر رابطہ کیا مگر وہ ہر بار اسے بند ملا پھر اس نے لالہ رخ کو فون کیا تو اس کی زبانی اسے زرتاشہ کی حالت کے بارے میں علم ہوا جو ہمہ وقت چپ چاپ گم صم سی پڑی رہتی تھی۔ لالہ رخ اس کو لے کر بے حد پریشان تھی وہ کسی کی بھی بات سننے یا ماننے کو تیار نہ تھی۔ اس تمام عرصے میں امی نے خود کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا وہ بھی زرتاشہ کی طبیعت کی وجہ سے بہت متفکر تھیں۔ زرتاشہ جس ڈپریشن کے آکٹوپس میں جکڑی ہوئی تھی اس سے باہر نکلنے کے لیے یہ بے حد ضروری تھا کہ وہ کراچی آکر دوبارہ اپنی پڑھائی میں مصروف ہوجائے مگر وہ تو یہاں آنے کو تیار ہی نہیں تھی۔
’’آپ سب میرے پیچھے کیوں پڑگئے ہیں میں نے کہہ جو دیا ہے کہ مجھے نہیں جانا کراچی۔ نہیں پڑھنا مجھے آپ لوگ مجھے اکیلا کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔‘‘ زرتاشہ انتہائی وحشت زدہ ہوکر چلائی۔ جب کہ امی نے بے پناہ تحیر کے عالم میں اسے دیکھا۔
یہ زرتاشہ تو ان کی تاشو نہیں تھی وہ تو کبھی اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتی تھی۔ کجا کہ اس طرح چیخ وپکار کرنا وہ کچھ دنوں سے یہ بھی دیکھ رہی تھیں کہ لالہ رخ کے ساتھ اس کا رویہ بے انتہا سرد اور اجنبیوں جیسا تھا البتہ وہ مہرینہ سے پھر بھی نرمی سے بات کرلیا کرتی تھی۔
’’تاشو یہ تمہیں کیا ہوتا جارہا ہے تم کس لہجے اور انداز میں اپنی لالہ سے بات کررہی ہو۔ تمیز اور تہذیب ہے تمہیں… بڑی بہن ہے یہ تمہاری۔‘‘ امی سے یہ سب برداشت نہیں ہوا تو وہ اپنے غصے اور ناگواری کا برملا اظہار کرتی چلی گئیں۔ جب کہ ان کی بات سن کر زرتاشہ نے بے حد رکھائی سے اپنا منہ دوسری جانب پھیرا تھا۔ لالہ رخ امی کو مشتعل دیکھ کر گھبرا اٹھی۔
’’امی آ… آپ میرے ساتھ باہر آئیے۔‘‘ وہ بے اختیار جلدی سے ان کا بازو پکڑ کر بولی پھر حیرانی و پریشانی میں گھری امی کو کمرے سے باہر لے آئی۔
’’لالہ یہ… یہ تاشو کو کیا ہوتا جارہا ہے وہ تمہارے ساتھ ایسا سلوک کیوں کررہی ہے؟‘‘ امی بے حد متعجب ہوکر کافی دل گرفتگی سے بولیں تو لالہ رخ نے انہیں شانوں سے تھام کر صحن میں بچھے تخت پر بٹھایا۔
’’امی آپ فکر مت کریں ان شاء اﷲ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ چھوٹی ہے امی اسے ابا کے جانے کا بے حد صدمہ ہے اسی وجہ سے اس کے رویے میں تلخی و کڑواہٹ آگئی ہے۔‘‘ وہ انہیں پیار و نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولی تو امی نے بے انتہا الجھ کر لالہ رخ کو دیکھا۔
’’مگر بیٹا وہ یوں تمہارے…‘‘
’’اچھا چھوڑیں ان باتوں کو آپ یہاں بیٹھیں میں چائے تیار کرکے لاتی ہوں۔‘‘ وہ تیزی سے کچن کی جانب بڑھی تو امی اس کی پشت کو بس دیکھتی رہ گئیں۔
/…/…/…/
کامیش شاہ اور سونیا خان کی شادی کی تیاریاں بڑے زورو شور سے جاری تھیں۔ ساحرہ بے حد خوش اور ایکسائیٹڈ ہوکر تمام شاپنگ خود کررہی تھی اس نے ڈرائنگ روم ڈائننگ ہال اور اپنے کمرے کا فرنیچر بھی تبدیل کرنے کا ارادہ کیا تھا اور انہی سب میں ان دنوں وہ گھن چکر بنی ہوئی تھی۔ جب کہ کامیش شاہ اپنی ڈیوٹی میں آج کل بہت زیادہ مصروف تھا ایک کیس کے سلسلے میں وہ دس دن بہاول پور میں گزار کر آیا تھا اور یہاں آتے ہی وہ دوبارہ اسی کیس میں لگ گیا تھا۔ فراز اس سے سونیا کی بابت بات کرنا چاہ رہا تھا مگر اتنے دنوں میں اسے کوئی مناسب موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ آج کامیش کو فرصت ملی تو وہ سر شام تھکا ماندہ گھر چلا آیا۔ نہا دھو کر سفید کرتا شلوار پہن کر تولیے سے اپنے بالوں کو رگڑتا ہوا کمرے میں آیا تو وہاں فراز کو موجود پاکر دھیرے سے مسکرادیا۔
’’کیسے ہو بھائی۔ آج اتنے دنوں بعد تمہارا رخ روشن دیکھنے کا شرف مل رہا ہے۔‘‘ فراز اسے دیکھ کر شوخی سے بولا تو کامیش بے اختیار ہنس دیا پھر سہولت سے گویا ہوا۔
’’یار ایک کیس میں بہت دنوں سے گھن چکر بنا ہوا تھا بچے اسمگل کرنے والوں کا ایک گینگ تھا جنہیں آج علی الصبح چھاپا مار کر پکڑ لیا ہے‘ تھینک گاڈ فراز۔ ہماری اتنے دنوں کی انتھک محنت رنگ لائی ورنہ یہ گینگ ہر بار پولیس کو بڑی آسانی سے غچہ دے جاتا تھا۔‘‘ فراز نے بڑی توجہ اور دل چسپی سے اس کی بات سنی پھر خوش ہوکر سر ہلاتے ہوئے بولا۔
’’ویل ڈن مائی برادر تمہیں یہ کامیابی مبارک ہو۔‘‘
’’تھینکس فراز…‘‘ وہ مختصراً بولا تو فراز دھیرے سے گلا کھنکھار کر اپنے اصل مدعے پر آتے ہوئے کہنے لگا۔
’’دراصل کامیش میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا۔‘‘ کامیش جو ڈریسنگ کے آئینے کے سامنے کھڑا بال سنوار رہا تھا آئینے کی سطح پر فراز کے جھلکتے ہوئے عکس کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’ہاں ہاں بات کرو پلیز۔‘‘
’’کامیش تم تو جانتے ہو ناکہ آج کل گھر میں تمہاری اور سونیا کی شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں۔‘‘ فراز کی بات پر کامیش نے محض اثبات میں سر ہلایا تو فراز دوبارہ اپنی بات کا سلسلہ جوڑتے ہوئے گویا ہوا۔
’’کامیش تم اپنے دل کی آمادگی سے سونیا کے ساتھ شادی کرنے پر رضامند ہوئے ہو نا… میرا مطلب ہے کہ کیا وہ تمہیں پسند ہے یا پھر محض مام کے کہنے پر تم یہ سب کررہے ہو؟‘‘ کامیش نے رخ موڑ کر فراز کی طرف دیکھا پھر دھیرے سے چلتا ہوا اس کے مقابل کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’فراز میں ذرا مختلف مزاج کا لڑکا ہوں اپنی اسٹیڈیز اور ایکٹوٹیز میں اتنا بزی رہا کہ کسی لڑکی کو پسند کرنے کا یا دل دینے کا خیال ہی نہیں آیا یوں سمجھ لو کہ یہ سب باتیں میرے لیے بے حد فضول اور بچکانہ رہیں لہٰذا اس طرف کبھی دھیان ہی نہیں دیا…‘‘ وہ خود ہی ہنس کر بولا پھر مزید گویا ہوا۔
’’رہا سونیا کا سوال تو وہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح میرے لیے ایک عام لڑکی ہے مام نے مجھے سونیا سے شادی کرنے پر فورس کیا تو میں ان کی خاطر مان گیا دیٹس اٹ۔‘‘
’’مگر کامیش اپنی شریک سفر کے حوالے سے تم نے کوئی تو خاکہ اپنے ذہن میں اور دل میں بنایا ہوگا نا تم مام کے کہنے پر زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کررہے ہو۔‘‘ فراز بے اختیار بول اٹھا۔ جب کہ کامیش اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’ڈیئر برادر میں نے تمہیں بتایا نا کہ مجھے اس صنف میں کبھی دل چسپی نہیں رہی تو پھر خاکہ خاک بناتا۔‘‘ فراز نے کامیش کی اس موضوع پر بے پروائی اور عدم دلچسپی دیکھی تو مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کرکے دوسرے حوالے سے گفتگو کرنے لگا۔
/…/…/…/
یونیورسٹی میں یکے بعد دیگرے مختلف پیپرز کے رزلٹس نوٹس بورڈ پر لگ چکے تھے۔ زرتاشہ اور زرمینہ دونوں بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئی تھیں۔ زرمینہ کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا زرتاشہ سر شرجیل کے پیپر میں بھی بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہوں نے زرتاشہ کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی تھی۔ اس نے بے حد خوش ومسرت سے زرتاشہ کو فون پر اطلاع دی تو جواباً زرتاشہ نے ویسے ہی سرد مہری کا اظہار کیا جو اب تک زرمینہ سے کرتی چلی آئی تھی۔ زرتاشہ اسے کچھ کہتے کہتے رکی پھر دوسرے ہی لمحے بے حد منت بھرے لہجے میں لجاجت سے بولی۔
’’پلیز میری سہیلی واپس آجانا میں تجھے بہت مس کرتی ہوں… دیکھو تاشو تم دوبارہ آکر اپنی پڑھائی شروع کروں گی نا تو یقینا ابا کی روح اس سے بے پناہ خوش ہوگی پلیز میری اچھی سہیلی میری بات مان جاؤ نا۔‘‘ اور اس پل بے ساختہ زرتاشہ کو ابا کی یاد بری طرح تڑ پاگئی اس کے پاس ہونے پر کتنا خوش ہوتے اس کے لبوں سے ایک سسکی برآمد ہوئی تھی پھر بنا کچھ کہے اس نے فون بند کردیا تو زرمینہ مارے بے بسی کے اپنے سیل فون کو دیکھتی رہ گئی۔
سر شرجیل کی کلاس میں آج سارے ہی اسٹوڈنٹس خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وہ ہر ایک سے ان کی چھٹیوں کی بابت پوچھ رہے تھے پھر یک دم زرمینہ سے مخاطب ہوکر بولے۔
’’زرمینہ آپ کی دوست زرتاشہ کے والد کا انتقال کا سن کر بہت افسوس ہوا آپ پلیز میری جانب سے ان سے دکھ کا اظہار کردیجئے گا۔‘‘ سر شرجیل بے حد سنجیدگی سے بولے تو یک دم پوری کلاس میں سناٹا چھا گیا سب خاموشی سے ان کی بات کو سنے لگے۔
’’جی سر بالکل میں زرتاشہ کو آپ کا پیغام پہنچادوں گی۔‘‘ وہ اتنا ہی کہہ سکی پھر سر شرجیل ایک گہری سانس کھینچ کر تمام کلاس پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے بولے۔
’’گائز آپ سب سے مجھے ایک بات کہنی ہے۔‘‘ وہ کچھ توقف کے لیے رکے تو سب اسٹوڈنٹس نے حیران کن نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
’’آپ لوگوں کے لیے اس پل سب سے قیمتی چیز وقت ہے یہ وقت جو آپ اس یونیورسٹی میں گزار رہے ہیں یہ کبھی واپس نہیں آئے گا اور یہی وقت آپ کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ اگر آپ نے اس قیمتی چیز کی قدر نہ کرتے ہوئے اسے فضول کی ٹھٹھول اور کھیل تماشوں میں ضائع کردیا تو یہ آپ کو بھی ہمیشہ کے لیے ضائع کردے گا اور اگر آپ نے اس کا بھرپور استعمال کرکے اسے عقل وسمجھ کے ساتھ گزارا تو یہ آپ کے مستقبل کو بے حد روشن اور تابناک بنادے گا۔ لہٰذا اس کی قدرو منزلت کو ضرور سمجھئے گا اور دوسری اہم بات ایک انسان ہونے کے ناطے ہر انسان کی عزت و توقیر کیجئے گا کسی کو حقیر و ادنیٰ سمجھ کر یا پھر اس کو کمزور جان کر اس کا ناجائز فائدہ مت اٹھائیے گا۔‘‘
’’اف… یہ سر کو کیا ہوگیا یہ تو ہمیں وعظ ہی دینے لگیں۔‘‘ عروبہ جو زرمینہ کی پچھلی رو میں بیٹھی تھی اس کی ناگوار سی سرگوشی زرمینہ کے کانوں میں باآسانی پہنچی تھی۔
’’اور اب جو بات میں آپ سب سے کہنے والا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اپنا ٹرانسفر اسلام آباد یونیورسٹی میں کروالیا ہے۔‘‘
’’کیا… ہائیں… کیوں… اوہ تو… مگر کیوں سر؟‘‘ اس طرح کی کئی ایک آوازوں سے کلاس روم میں ایک شور سا اٹھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی سر آپ نے اپنا ٹرانسفر اسلام آباد کیوں کروالیا کیا کراچی والے آپ کو پسند نہیں آئے یا پھر ہم لوگوں سے کوئی خطا ہوگئی؟‘‘ ان کی کلاس کا نٹ کھٹ سا اسٹوڈنٹ دانیال کافی افسوس سے بولا تو تقریباً سب نے ہی اس کی بات کی تائید کی۔
’’یس سر۔ کیا ہم لوگ آپ کو اچھے نہیں لگے یا پھر ہم سے کوئی خطا ہوگئی جو آپ ہمیں یہ سزا دے رہے ہیں۔‘‘ کوئی دوسرا اسٹوڈنٹ بولا تھا جواباً سر شرجیل کے ہونٹوں پر دلکش سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’اوہ تو یہ کہانی تھی اتنے دنوں سے یہ مجھے اسی لیے اگنور کررہے تھے مجھ سے فون پر بھی کوئی بات چیت نہیں کررہے تھے۔ اونہہ مائی فٹ فلرٹی کہیں کا۔‘‘ عروبہ عظیم جلبلا کر بولی اس کی آواز ایک بار پھر بخوبی زرمینہ کی سماعت تک پہنچی تھی عروبہ کا موڈ اس لمحے بے حد خراب ہوچکا تھا۔
’’گائز ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے آپ لوگ بہت اچھے اور لونگ ہیں۔ میں آپ سب کو ہمیشہ یاد رکھوں گا میری کچھ پرسنل پرابلمز تھیں جس کے سبب یہ سب کچھ ہوا۔ امید ہے آپ مجھے اور میری باتوں کو ہمیشہ…‘‘ پل کی پل سر شرجیل کی توجہ ہٹی عروبہ اپنے پورے گروپ سمیت سیٹ چھوڑ کر باہر کی جانب بڑھی تھی۔ تمام اسٹوڈنٹس نے مڑ کر انہیں دیکھا پھر کچھ ثانیے بعد انہوں نے اپنا سر جھٹکا اور دوبارہ اپنا کلام جوڑا۔
’’ہمیشہ یاد رکھیں گے۔‘‘ کچھ دیر وہ اسٹوڈنٹس کے سوالوں اور شکوؤں کا جواب مسکرا کر دیتے رہے پھر ڈائس چھوڑ کر کلاس روم کے دروازے کی طرف بڑھے تو زرمینہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ سر شرجیل پل بھر کے لیے زرمینہ کے پاس رکے۔
’’مس زرمینہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے پلیز ذرا دو منٹ کے لیے میرے روم میں آئیے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ یہ جا وہ جا۔ جب کہ زرمینہ عجیب سی کیفیت میں گھری کھڑی رہ گئی۔
/…/…/…/
فراز شاہ نے لالہ رخ سے خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا تو اس نے بہت اخلاق اور سبھاؤ سے بات کی۔ زرمینہ فراز کو زرتاشہ کی دماغی کیفیت اور ذہنی انتشار کی بابت سب کچھ بتا چکی تھی مگر اس وقت فراز چاہتا تھا کہ لالہ رخ خود اپنے منہ سے زرتاشہ کے بارے میں اسے بتائے جب فراز نے اندازہ کرلیا کہ لالہ رخ محض رسماً اِدھر اُدھر کی گفتگو کررہی تھی۔ تب ہی وہ خود ہی بات کرنے کا فیصلہ کرکے سہولت سے بولا۔
’’مس لالہ رخ زرمینہ نے مجھے زرتاشہ کے حوالے سے بتایا مجھے افسوس ہے کہ وہ اس پل انتہائی اندرونی خلفشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔‘‘ یوں اچانک غیر متوقع طور پر فراز شاہ کی زبان سے یہ بات سن کر لالہ رخ چند ثانیے کے لیے بالکل خاموش سی رہ گئی جب کہ فراز اپنے تصور کی آنکھوں سے اس پل لالہ رخ کو بخوبی دیکھ رہا تھا۔
’’آپ پلیز گھبرائیے نہیں، زرتاشہ کی یہ کیفیت وقتی ہے اسے بہت بڑا شاکڈ لگا ہے لہٰذا سنبھلنے میں کچھ تو وقت درکار ہوگا مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ان شاء اﷲ جلد ہی اس کیفیت سے باہر آکر نارمل ہوجائے گی۔‘‘ فراز اپنے دھیمے انداز میں بولتا چلا گیا۔
قدرت کچھ لوگوں کی شخصیت اور ان کی باتوں میں ایسی تاثیر عطا کردیتی ہے جس کی بدولت مقابل ان کے لفظوں کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرپاتا وہ کہیں نہ کہیں ان کے وجود پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فراز شاہ کی بھی شخصیت اور باتوں میں عجیب سی کشش ڈال رکھی تھی جس کی وجہ سے سامنے والا اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکتا تھا لالہ رخ بھی متاثر ہوگئی تھی۔ پھر ایک گہری سانس کھینچ کر گویا ہوئی۔
’’فراز صاحب غلطی میری ہی تھی جو میں نے تاشو سے ابا کی حقیقت کو چھپائے رکھا۔‘‘
’’لیکن آپ کی نیت صاف تھی آپ کا مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ زرتاشہ اپنے ابا کے آخری وقت میں ان کے پاس نہ ہو۔ پلیز لالہ رخ آپ خود کو موردِ الزام مت ٹھہرائیے ورنہ اس طرح تو مشکلات میں اور اضافہ ہوجائے گا۔‘‘ لالہ رخ کے لہجے میں ندامت و تاسف کے رنگوں کو محسوس کرکے فراز سمجھانے والے انداز میں بولا تو لالا رخ بے اختیار اسے بتانے لگی۔
’’زرتاشہ نے یونیورسٹی جانے سے بھی انکار کردیا ہے۔ پڑھائی وڑھائی سب چھوڑ چھاڑ کر وہ بس بند کمرے میں پڑی ابا کو یاد کرتی رہتی ہے امی بھی اس کی وجہ سے بہت پریشان رہنے لگی ہیں۔ فراز صاحب تاشو اپنے آپ کو اذیت دے رہی ہے اور اس کی اذیت و تکلیف مجھ سے نہیں دیکھی جارہی۔‘‘ اس وقت لالہ رخ نے بے حد دقتوں سے خود کو فراز کے سامنے سنبھال رکھا تھا وگرنہ اتنا مہربان انداز سن کر اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردے۔
’’آپ پریشان نہ ہو لالہ رخ میں زرتاشہ سے بات کرکے اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ فراز شاہ کچھ سوچ کر قدرے توقف کے بعد بولا تو وہ بے اختیار چونکی پھر اگلے ہی لمحے پُرمسرت لہجے میں گویا ہوئی۔
’’آپ بات کریں گے نا تاشو سے…؟‘‘
’’جی میں اسے بھرپور طور پر راضی کرنے کی کوشش کروں گا آپ فکر مت کیجئے وہ ان شاء اﷲ میری بات ضرور مان جائے گی۔‘‘ اس وقت فراز کے لہجے کا یقین اور مضبوطی اسے بے پناہ تقویت دے گئی وہ خوشی سے بولی۔
’’پلیز فراز صاحب آپ اسے راضی کرلیجئے اسے یونیورسٹی جوائن کرنے پر آمادہ کرلیجئے۔‘‘
’’میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔‘‘
’’اوہ تھینک یو فراز صاحب تھینک یو سو مچ۔‘‘
’’اٹس اوکے۔‘‘ وہ زیرلب مسکرا کر بولا پھر اﷲ حافظ کہہ کر اس نے فون بند کیا تو ایک بار پھر لالہ رخ کا تصور میں خوشی سے گلنار چہرہ دیکھ کر دھیرے سے مسکرادیا۔
/…/…/…/
’’مے آئی کم ان سر…‘‘ زرمینہ سر شرجیل کے روم کے دروازے پر مہذب انداز میں بولی تو کسی فائل پر سر جھکائے سر شرجیل نے سرعت سے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ ڈارک گرین رنگ کے سوٹ میں سر پر ڈوپٹہ جمائے وہ بہت خود اعتمادی سے کھڑی تھی۔
’’پلیز آئیے مس زرمینہ۔‘‘ سر شرجیل انتہائی خوش اخلاقی سے بولے تو زرمینہ سہولت سے چلتی ہوئی ان کی میز کے قریب آئی اور ان کے اشارے پر سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ سر شرجیل اپنی دونوں کہنیاں میز پر ٹکائے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑے اس پر تھوڑی جمائے کچھ دیر میز کو پُرسوچ نگاہوں سے دیکھے رہے۔ زرمینہ خاموشی سے بیٹھی ان کے بولنے کی منتظر تھی۔ تب ہی سر شرجیل ایک ہنکار ابھر کر گویا ہوئے۔
’’مس زرمینہ بسا اوقات ہمارے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ جو عمل یا کام ہم کررہے ہوتے ہیں ہمیں یہ جاننے یا سمجھنے میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ آیا ہمارا وہ عمل مناسب ہے یا نہیں۔ پھر خوش قسمتی سے ہماری زندگی میں وہ لمحہ آتا ہے جو ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے ہمیں اپنے غلط ہونے کا احساس دلاتا ہے اور ہم بڑی سرعت سے آگہی کی منزل پر پہنچ کر ندامت و شرمندگی کے مقام پر جا پہنچتے ہیں۔‘‘ زرمینہ نے بہت غورو خوض سے سر شرجیل کی باتیں سنی مگر ابھی بھی ان کی باتوں کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا تھا جب وہ خاموش ہوئے تب ہی وہ نرمی سے گویا ہوئی۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں سر کبھی کبھار ادراک اور آگہی وشعور کی روشنی بالکل ہمارے سامنے موجود ہوتی ہیں مگر پھر بھی نجانے کیوں جان بوجھ کر اس سے نگاہیں چرا کر اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں اور خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔‘‘
’’آپ کی بات سے میں اتفا کروں گا۔ زرمینہ… مگر اپنی غلطی اور غلط ہونے کا ہمیں اگر احساس ہوجائے تو پھر سامنے والے کو معاف کردینا چائیے۔‘‘
’’میں آپ کی بات نہیں سمجھی سر۔‘‘ زرمینہ سر شرجیل کی مبہم بات پر کچھ الجھ کر بولی۔ زرمینہ کو کنفیوز سا بیٹھا دیکھ کر شرجیل نے ایک گہری سانس بھری پھر گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔
’’زرمینہ میں آپ کی فرینڈ زرتاشہ سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔‘‘ سر شرجیل کے منہ سے اس پل انتہائی غیر متوقع بات سن کر زرمینہ بے ساختہ حیرت سے قدرے اچھلی پھر دوسرے ہی لمحے اس نے انتہائی ناسمجھنے والے انداز میں انہیں دیکھا۔ شرجیل زرمینہ کی کیفیت سمجھتے ہوئے ہولے سے مسکرائے پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے ہنوز لہجے میں بولے۔
’’مجھے اس بات کا بخوبی احساس ہوگیا ہے کہ میرا طرز عمل آپ کی دوست کے ساتھ انتہائی غیر مہذب اور غلط تھا ایک استاد ہونے کی حیثیت سے مجھے ایسی باتیں بالکل نہیں کرنی چائیے تھیں۔ آپ کی سہیلی نے بالکل ٹھیک کہا تھا مجھے شدت سے اپنے غلط ہونے کا احساس ہوگیا ہے… مگر زرمینہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم خود تو بڑے مگن ہوکر سیدھے راستے پر سہولت سے چل رہے ہوتے ہیں مگر سامنے سے آتا کوئی انسان ہمارے قدموں کو ڈگمگا کر ہمیں غلط راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا برائی میں بہت کشش اور طاقت ہوتی ہے۔‘‘
’’مگر سر اچھائی کو لاکھ برائی کے پردوں میں چھپا دیا جائے اس کی ہلکی سی کرن برائی کے دبیز اندھیروں کا پردہ ایک ہی جست میں تار تار کردیتی ہے۔‘‘ بغور سر شرجیل کی باتوں کو سنتی زرمینہ کے منہ سے بے اختیار نکلا تو سر شرجیل نے تائیدی انداز میں اپنا سر تیزی سے اثبات میں ہلایا۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ عروبہ عظیم جیسی لڑکیاں راہ سے بھٹکا دینے والی ہوتی ہیں اور زرتاشہ جیسی لڑکیاں نیکی وبھلائی کی شفاف روشنی ہوتی ہیں جس کے آگے برائی اپنی موت آپ مرجاتی ہے۔‘‘ اس وقت سر شرجیل زرمینہ کو حیران پہ حیران کررہے تھے۔
’’آپ پلیز میرے رویے اور عمل کی مس زرتاشہ کو ضرور معافی بھجوا دیجئے گا اگر وہ یہاں ہوتیں تو میں خود ان سے سوری کرتا مگر فون پر بات کرنا مجھے کچھ مناسب نہیں لگا۔ لہٰذا اپنے دل کی بات میں آپ سے کہہ گیا مجھے امید ہے کہ آپ میرا میسج ان تک پہنچا دیں گی۔‘‘ وہ ہموار لہجے میں بولے تو دوسرے ہی پل زرمینہ دلکشی سے مسکرا کر گویا ہوئی۔
’’کیوں نہیں سر میں آپ کا میسج ضرور زرتاشہ کو پہنچاؤں گی اور مجھے یقین ہے کہ آپ کا سوری بھی ضرور قبول کرلے گی غلط کرنا اتنا فکر انگیز… نہیں جتنا غلط کرکے اسے غلط نہ ماننا ہوتا ہے آپ کو اس چیز کا احساس ہوگیا اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی… ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں سر اور ہماری دعا ہے کہ زندگی کے کسی بھی لمحہ اور مقام پر آپ کو دوبارہ کبھی کسی کے سامنے نادم اور شرمندہ نہ ہونا پڑے‘ آمین۔‘‘ آخری جملہ اس نے انتہائی خلوص و محبت سے ادا کیا تو سر شرجیل نے اسے بہت تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھا۔
’’تھینک یو… تھینک یو سو مچ زرمینہ… میری بھی دعا ہے کہ آپ دونوں ہمیشہ خوش اور کامیاب رہیں۔‘‘ وہ ممنون سے ہوکر بولے تو زرمینہ ان سے اجازت لے کر اور اﷲ حافظ کہہ کر ان کے کمرے سے ہلکی پھلکی ہوکر باہر نکل آئی۔
/…/…/…/
دن تو جیسے پر لگا کر اڑ رہے تھے آج سونیا کا مایوں تھا۔ فراز شاہ نے ان دنوں اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر سونیا کی شادی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ وہ اسے دو تین مرتبہ خود شاپنگ پر بھی لے کر گیا تھا یہ حقیقت تھی کہ سونیا اس کی بچپن کی دوست تھی اور وہ اس کی شادی میں اپنی طرف سے کوئی نہیں رکھنا چاہتا تھا مگر نجانے کیوں اندر ہی اندر وہ کافی الجھن میں مبتلا تھا بظاہر تو سب ٹھیک دکھائی دے رہا تھا سونیا خوش اور مطمئن نظر آرہی تھی اور گھر والے بھی اس شادی سے کافی مسرت میں مبتلا تھے جب کہ کامیش بھی اپنے نارمل انداز میں اپنی جاب میں مصروف تھا ایک آدھ بار وہ بھی ان دونوں کے ہمراہ شاپنگ پر گیا تھا اس کا مطلب تھا کہ سونیا اعظم خان کو اپنی لائف پارٹنر بنانے میں کوئی اعتراض نہیں تھا۔
آج مایوں کا اہتمام سونیا کے گھر کے وسیع وعریض لان میں ہی کیا گیا تھا اور فراز نے خود ایونٹ مینجمنٹ کے ساتھ مل کر مایوں کا اسٹیج بے حد خوب صورتی اور دلکشی کے ساتھ سجایا تھا۔ پورے لان کو گیندے اور بیلے کی کلیوں کے ساتھ انتہائی آرٹسٹک طریقے سے سجایا گیا تھا۔ اس پل فراز بے حد تھک گیا تھا سونیا اسے دیکھ کر بے ساختہ زور سے ہنسی۔
’’فراز یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے اپنا۔ ذرا آئینہ میں جاکر خود کو دیکھو اس وقت کوئی مزدور لگ رہے ہو تم او مائی گاڈ سر سے پیر تک گرد میں اٹے ہوئے ہو۔‘‘
’’ہاں… ہاں ہنس لو مجھے پر… مذاق اڑالو یہاں تو خلوص کی کوئی قدر ہی نہیں ہے۔ میں یعنی فراز شاہ اپنی بیسٹ فرینڈ کی مایوں کا اسٹیج دل و جان سے سجارہا ہوں اور لوگ ہیں کہ ہم پر ہنس رہے ہیں ٹھیک ہے بھئی۔‘‘ فراز مصنوعی طور پر برا مانتے ہوئے بولا۔ تو وہ کھلکھلا کر ایک بار پھر ہنسنے لگی۔
’’تم سے بڑا ڈرامے باز کوئی نہیں ہے بھئی… اچھا اب جاؤ گھر اور جلدی سے تیار ہوکر آؤ مہمان بھی آنے والے ہوں گے اور سنو تم لیٹ بالکل نہیں ہونا آخر میرے بیسٹ فرینڈ ہو تمہیں یہاں سب سے پہلے موجود ہونا چائیے انڈر اسٹینڈ۔‘‘ آخر میں وہ قطیعت بھرے انداز میں بولی تو فراز اپنے سینے پر اپنا بایاں ہاتھ رکھ کر سر کو قدرے جھکا کر بولا۔
’’یس مادام اور کوئی حکم۔‘‘ سونیا اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اٹھلا کر بولی۔
’’نہیں فی الحال اتنا ہی۔‘‘ فراز یک دم ’’اوکے‘‘ کہہ کر باہر کی جانب پلٹا تو یک لخت سونیا نے اپنے لبوں کو سختی سے بھینچا چہرے کی مسکراہٹ آن واحد میں غائب ہوگئی اور چہرے پر انتہائی ناقابل فہم تاثرات ابھر آئے پھر چند ثانیے وہ یونہی کھڑی کچھ سوچتی رہی اور پھر اگلے ہی پل اس کے ہونٹوں پر انتہائی پراسرار سی مسکراہٹ امڈ آئی تھی۔
/…/…/…/
سلونی شام بے حد سہانی تھی ماریہ نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو زندگی معمول کے مطابق رواں دواں نظر آئی۔ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف دکھائی دیئے وہ چند ثانیے یونہی کھڑی رہی۔ اس وقت ذہن کہیں اور محوِ پرواز تھا آج ابرام گھر پر ہی موجود تھا۔ یک دم کمرے کی دیوار پر لگی وال کلاک نے پانچ بجے کا اعلان کیا تو بے ساختہ اس نے نگاہ اٹھا کر گھڑی کی جانب دیکھا۔ حسب عادت اپنی کشادہ پیشانی کھڑکی کے گلاس پر ٹکادی پچھلے دو دنوں سے وہ اپنی مطلوبہ جگہ پر جانے سے قاصر رہی تھی اور اس کی وجہ ابرام کی گھر میں موجودگی تھی۔ وہ دو دن سے مسلسل گھر پر ہی تھا اور ماریہ اس کی موجودگی میں گھر سے باہر نکلنے کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔ اس پل اس کا دل کسی بے چین پنچھی کی طرح پھڑپھڑا کر رہ گیا تھا۔ اپنی مطلوبہ جگہ جانے کی خواہش اب اضطراب بن کر اس کے اندر ایک بے چینی سی پھیلا گئی تھی وہ بے ساختہ اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے چبانے لگی۔ زندگی میں آج پہلی بار اپنے عزیز از جان بھائی کی گھر میں موجودگی اسے الجھن میں مبتلا کررہی تھی وہ کافی دیر یونہی کھڑی رہی پھر اسی سادے سے حلیے میں اپنا اوورکوٹ پہن کر کمرے سے باہر نکل آئی جب وہ اپنے اپارٹمنٹ کا دروزہ کھول رہی تھی تب ہی عقب سے اسے ابرام کی گھمبیر آواز سنائی دی۔
’’ہنی اس وقت کہاں جارہی ہو؟‘‘ ابرام کے استفسار پر وہ چند پل کے لیے ٹھٹکی مگر پھر دوسرے ہی لمحے وہ نارمل انداز میں بولی۔
’’کہیں نہیں برو بس ذرا نیچے پارک تک جارہی تھی۔‘‘ اس نے اپنے گھر کے بالکل قریب کے پارک کا نام لیا تو ابرام گویا ہوا۔
’’اوکے تم ایک منٹ ٹھہرو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔‘‘ پھر کچھ ہی دیر میں وہ دونوں پارک کی دیبز اور سبز گھاس میں چہل قدمی کررہے تھے۔ ابرام اس سے کالج اور پڑھائی کے بابت پوچھتا رہا جب کہ وہ مختصراً اسے بتاتی رہی جب ہی اچانک وہ بولا۔
’’ماریہ تم آج کل روز شام کو کہاں جاتی ہو؟‘‘ بے حد غیر متوقع سوال پر ماریہ کے قدم بے ساختہ رکے۔ دل جیسے اچھل کر حلق میں آگیا۔ ہاتھ پیروں میں یک دم سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔
’’اوہ نو… یہ برو کو کیسے پتہ چلا کہ میں شام کو کہیں جاتی ہوں۔‘‘ وہ انتہائی متوحش ہوکر دل ہی دل میں خود سے بولی۔ ماریہ کو اپنی جگہ رکتا دیکھ کر ابرام بھی اس کے قریب ٹھہر گیا۔ جب کہ ماریہ نے اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا۔
’’تو میری جاسوسی کررہے ہیں؟‘‘ اس کے لہجے میں ناگواری و ناپسندیدگی کے رنگوں کو محسوس کرکے ابرام سہولت سے مسکرادیا۔
’’تم… خوامخواہ میں مجھ سے بدگمان ہورہی ہو ڈیئر ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے تم سے یونہی پوچھ لیا۔‘‘ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا تو ماریہ ایک بار پھر چلنے لگی۔ جب کہ ابرام نے بھی اس کی تقلید کی۔
’’کیا میں اپنی مرضی سے کہیں آجا نہیں سکتی؟ یا پھر ہر بات کے لیے مجھے آپ کو جواب دینا پڑے گا۔‘‘ وہ ہنوز لہجے میں بولی تو ابرام نے اپنے پہلو میں چلتی ہوئی ماریہ کو سنجیدگی سے دیکھا پھر دھیرے سے بولا۔
’’تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو ماریہ۔ جیسا تم سوچ رہی ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ یک دم ماریہ کو احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی اوور ری ایکٹ کر گئی ہے۔ تب ہی وہ خود کو سنبھال کر قدرے شرمندگی سے گویا ہوئی۔
’’آئی ایم سوری برو ایکچولی میں ابھی تک خود کو مکمل ٹھیک محسوس نہیں کررہی بس چھوٹی چھوٹی بات پر آج کل یونہی غصہ آجاتا ہے۔‘‘ ماریہ کی وضاحت پر ابرام نے اسے مسکرا کر دیکھا اور پھر کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
’’اٹس اوکے ڈیئر… میں سمجھ سکتا ہوں تم ایک مشکل دور سے گزر رہی ہو۔ اسی لیے طبیعت میں چڑچرا پن آہی جاتا ہے۔‘‘ ماریہ نے تائیدی انداز میں سر ہلایا تو وہ مزید گویا ہوا۔
’’ایکچولی میں کسی کام کی وجہ سے گھر آیا تو تم گھر پر نہیں تھیں۔ دوسرے دن بھی اتفاق سے گھر پہنچا تو اس وقت بھی تم گھر سے باہر تھیں بس اسی لیے تم سے پوچھ لیا۔‘‘ ماریہ یہ سب سن کر اندر ہی اندر خائف ہوگئی۔
’’ایک بار تو میں بک شاپ چلی گئی تھی اور ایک دفعہ ولیم کے ساتھ آؤٹنگ پر نکل گئی تھی۔‘‘ وہ سہولت سے اپنے انداز کو سرسری سا بناتے ہوئے بولی تو ابرام نے محض سر ہلایا پھر ابرام اور ماریہ کچھ دیر بعد واپس گھر کی جانب چل دیئے۔
/…/…/…/
فراز شاہ نے زرتاشہ کو نجانے کون سے دلائل دے کر سمجھایا تھا کہ وہ یونیورسٹی جوائن کرنے پر آمادہ ہوگئی تھی۔ زرتاشہ کو حامی بھرتے دیکھ کر لالہ رخ بے پناہ خوش ہوئی تھی جس نے خود آکر اس سے کہا تھا کہ وہ واپس کراچی جانا چاہتی ہے مگر اس نے لالہ رخ کو اپنے ساتھ چلنے کے لیے سختی سے منع کردیا تھا وہ اکیلے ہی کراچی جانا چاہتی تھی مگر لالہ رخ اسے یوں تن تنہا وہ بھی اس کیفیت میں ہرگز جانے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ مہرینہ نے بھی اسے بہت سمجھایا تھا کہ بھلا وہ اتنی دور اکیلے کیسے جاسکتی ہے مگر وہ تو لالہ رخ کا چہرہ بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی کجا اس کے ساتھ سفر کرنا۔ یہاں پر بھی لالہ رخ نے فراز شاہ سے مدد لی اور فراز کے پاس نجانے کون سا منتر تھا جسے پڑھ کر وہ ضدی اور اڑیل بنی زرتاشہ کو منالیتا تھا وہ بے حد خراب موڈ میں تیوری پر بل ڈالے لالہ رخ کے ہمراہ جانے کو تیار ہوگئی تھی لالہ رخ کے لیے یہی کافی تھا کہ کم از کم وہ اس کے ساتھ کراچی جانے کو راضی ہوگئی ہے بس اسے امی کی فکر تھی جو ان کے پیچھے تنہا رہ جاتی مگر قدرت نے یہاں بھی سہولت فراہم کردی تھی مہرینہ کا باپ مومن جان کچھ دنوں کے لیے پنڈی جارہا تھا لہٰذا طے پایا کہ مہرو کی اماں اور مہرو دونوں امی کے پاس آکر رہیںگی۔ لہٰذا اس جانب سے وہ مطمئن ہوکر کراچی جانے کی تیاری میں لگی ہوئی تھی۔ لالہ رخ کی زبانی جب زرمینہ نے زرتاشہ کے واپس آنے کی بابت سنا تو مارے خوشی وانبساط کے وہ جھوم اٹھی۔
’’یااللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تاشو یہاں آنے پر راضی ہوگئی۔ آپی بس آپ بالکل فکر مت کیجئے گا۔ یہاں پڑھائی میں مصروف ہوکر زرتاشہ ان شاء اللہ جلد ہی نارمل ہوجائے گی اور زندگی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے گی اور آپ کی طرف سے اس کے دل میں جو ناراضی اور بدگمانی ہے وہ بھی ختم ہوجائے گی۔‘‘ زرمینہ نان اسٹاپ تیزی سے جوش وخوشی میں بولتی چلی گئی جب کہ دوسری جانب موبائل فون کان سے لگائے لالہ رخ دھیرے سے مسکراتی رہی۔
’’ویسے آپی یہ معجزہ کیسے ہوگیا بھلا وہ کون سی عظیم شخصیت ہے جس نے تاشو کو یہاں آنے پر راضی کرلیا۔‘‘ زرمینہ چہک کر بولی تو لالہ رخ نے بڑی عزت سے نام لیا۔
’’فراز شاہ۔‘‘ جب کہ دوسری جانب زرمینہ اچھل پڑی۔
’’واقعی… اوہ فراز بھائی سچ میں بہت گریٹ ہیں انہوں نے یہ تو بہت ہی زبردست کام کیا ہے۔‘‘
’’بالکل انہوں نے ہم پر ایک اور احسان کیا ہے… اچھا زرمینہ ان شاء اللہ کل صبح کی بس سے ہم اسلام آباد پہنچے گے پھر وہاں سے کراچی کے لیے ٹرین لیں گے۔‘‘
’’اوکے آپی میں آپ دونوں کا شدت سے انتظار کروں گی۔‘‘ لالہ رخ کی بات پر وہ جوشیلے انداز میں بولی تو لالہ رخ نے اللہ حافظ کہہ کر فون رکھ دیا۔
/…/…/…/
آج سونیا اعظم خان اور کامیش شاہ کی شادی تھی تقریب کا اہتمام شہر کے معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ ہر طرف سے جیسے رنگ و خوشبوئوں کا سیلاب سا امڈ رہا تھا ملک کی بے حد مشہور اور بڑی شخصیات بھی اس ایونٹ میں مدعو تھے۔ ہوٹل کے اس ہال کو انتہائی آرٹسٹک اور خوب صورت انداز میں سجایا گیا تھا۔ ساحرہ نے آج سیاہ رنگ کی میکسی زیب تن کی ہوئی تھی بالوں کو بے حد دلکش سا اسٹائل دیئے اور ماہر بیوٹیشن کے میک اپ میں بلیک اسٹون کی جیولری پہنے وہ بلاشبہ بہت حسین اور ینگ لگ رہی تھی۔ سمیر شاہ نے بھی بلیک ڈنر سوٹ پر مہرون ٹائی لگائی ہوئی تھی وہ بظاہر تو خوش تھے مگر اندر ہی اندر کچھ متفکر اور ڈسٹرب بھی تھے اور یہی حال فرازشاہ کا بھی تھا۔ وہ بھی اندر سے الجھن میں گرفتار ڈل گولڈن قیمتی کرتے اور سفید شلوار میں بے پناہ ڈیشنگ اور ہینڈسم لگ رہا تھا ایک اچھے دوست کی طرح اس نے سونیا کی شادی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا۔
مہندی کی تقریب بھی کافی وسیع پیمانے پر منعقد کی گئی تھی جب کہ فراز نے مہندی والے دن سونیا کے بیسٹ فرینڈ کی حیثیت سے اس کی طرف سے شرکت بھی کی تھی جس پر کامیش نے مصنوعی طور پر برا منایا تھا سونیا کی بھی آج چھب ہی نرالی تھی سی گرین عروسی جوڑے جس کی لانگ سلولیس شرٹ کے ساتھ شرارہ تھا جب کہ دوپٹے پر آتشی گلابی باڈر سے جوڑے کو بے حد حسین بنایا گیا تھا یہ ڈریس ملک کے مشہور ڈزائنر نے خود بنایا تھا جب کہ برائیڈیل میک اپ کے لیے ٹاپ کی بیوٹیشن کا انتخاب کیا گیا تھا۔ بے حد قیمتی اور خوب صورت جیولری میں آج سونیا بلاشبہ کسی ریاست کی حسین ترین شہزادی لگ رہی تھی کامیش شاہ بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا تھا ڈارک برائون سوٹ جس کے اندر آف وائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اپنے ڈیسنٹ اور سوبر انداز میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا سب ہی دونوں کی جوڑی کو بے حد سراہ رہے تھے۔
’’مسز سمیر آپ کی بہو پر سے تو ہماری نظریں ہٹ ہی نہیں رہیں کیا گوہر نایاب ڈھونڈا ہے آپ نے۔‘‘ مسز سلمان رشک و حسد کے ملے جلے جذبات میں گھر کر بولیں تو ساحرہ بے ساختہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
’’بھئی ہم نے تو آج سے پہلے اتنی خوب صورت اور حسین دلہن کبھی نہیں دیکھی… مسز سمیر یو آر ویری لکی۔‘‘ ایک اور خاتون نے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔
’’پلیز ساحرہ میرے بیٹے کے لیے بھی اپنی جیسی بہو ڈھونڈو نا۔‘‘ مسز ریاض سونیا کی جانب دیکھتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولیں تو مارے غرور وفخر کے ساحرہ کی گردن تن گئی۔
’’سوری مسز ریاض سونیا جیسا پیس اب آپ کو نہیں مل سکتا یہ تو میرے نصیب میں لکھ دی گئی تھی ہاں آپ کے لیے دعا ضرور کرسکتے ہیں۔‘‘ جواباً ساری خواتین قہقہہ لگا کر ہنس دیں جب ہی دروازے سے خاور حیات اور حورین کی اینٹری ہوئی تو سمیر شاہ مہمانوں کے نرغے سے نکل کر تیزی سے ان لوگوں کی جانب بڑھے۔
’’شاباش میرے دوست خوب دوستی نبھائی تم نے… یعنی میرے بیٹے کی شادی میں بھی تم اتنی دیر سے آرہے ہو۔‘‘ سمیر شاہ بے حد اپنائیت سے شکوہ کرتے ہوئے بولے تو وہ دونوں حقیقی معنوں میں بری طرح شرمندہ ہوگئے۔
’’ویری ویری سوری یار… دراصل عین ٹائم پر کچھ کام آگیا تھا…‘‘ خاور خجل ہوکر دائیں ہاتھ سے اپنا سر کھجاتے ہوئے بولا تو حورین نے مسکرا کر کہا۔
’’بھائی صاحب ساحرہ بھابی کہاں ہیں؟‘‘ کاہی گرین اور مہرون رنگ کے امتزاج کے میکسی گائون پہنے چہرے پر سوفٹ سا میک اپ کئے بے حد نفیس سی جیولری پہنے حورین نے آکر ایک بار پھر یہاں موجود تمام خواتین کو مات دے دی تھی خوب صورت گھنے بالوں کو چوٹی کا جدید انداز دیئے وہ بے پناہ حسین لگ رہی تھی۔
’’ماشاء اللہ… ماشاء اللہ حورین بھابی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں… آپ پلیز برائیڈ کے قریب نہیں جائیے گا ورنہ یقینا وہ آپ کے سامنے ماند پڑ جائے گی۔‘‘ سمیر شاہ نے بے ساختہ اس کی تعریف کی تو حورین اچھی خاصی جھینپ گئی جب کہ خاور حیات نے بے حد فخریہ انداز میں اپنی نصف بہتر کو دیکھا۔
’’آپ بھی نا سمیر بھائی اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ خفیف سی ہوکر بولی تو خاور حیات اور سمیر شاہ حورین کو جھینپتا دیکھ کر زور سے ہنس دیئے۔
’’میں ذرا بھابی سے مل کر آتی ہوں۔‘‘ حورین نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی۔ سمیر شاہ خاور حیات کو اپنے مہمانوں سے ملوانے کے لیے دوسری جانب لے آیا۔
’’فراز بھائی یہ ساحرہ آنٹی نے مجھے کچھ شاپرز دیئے ہیں وہ کہہ رہی ہیں کہ آپ کو جاکر دے دوں۔‘‘ باسل کے ہاتھوں میں اس پل کچھ شاپرز تھے۔ فراز جو مختلف کاموں میں اس وقت بے حد مصروف تھا باسل کو چونک کر دیکھا۔
’’اوہ میں ان شاپرز کو کہاں جاکر رکھوں یار۔‘‘ فراز قدرے الجھ کر بولا پھر اسے یاد آیا تو وہ فوراً بولا۔
’’باسل میرے بھائی یار یہ شاپرز تم برائیڈل روم میں جاکر رکھ دو۔ آئی تھنک اس میں گفٹس ہیں وہاں آل ریڈی کافی سامان ہے۔‘‘ وہ اپنے کرتے کی جیب سے روم کی چابی نکالتے ہوئے بولا تو باسل نے اثبات میں سر ہلا کر چابی اس کے ہاتھ سے لے لی اور پھر وہ ہال سے باہر نکل آیا لفٹ کے ذریعے وہ ہوٹل کے رومز کی جانب آگیا اور دروازہ کھول کر اس نے تمام شاپرز وہاں رکھ دیئے جہاں پہلے ہی کافی سامان رکھا ہوا تھا دوسرے ہی لمحے وہ مڑ کر جانے ہی والا تھا کہ ایک چیز پر اس کی نگاہ پڑی وہ کچھ چونک اٹھا پھر کچھ دیر بعد جب وہ وہاں سے پلٹا تو اس کا ذہن کافی الجھا ہوا تھا وہ گہری سوچ میں ڈوبا جب ہال میں داخل ہوا تب ہی عقب سے اسے نسوانی شوخ سی آواز سنائی دی۔
’’ہیلو…‘‘ وہ بے ساختہ اپنے دھیان سے چونک کر پلٹا تو سامنے ایک انتہائی کیوٹ سی لڑکی بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی گولڈن چست پاجامے پر ڈیپ ریڈ شرٹ میں ملبوس وہ باسل کو اپنی جانب متوجہ پاکر ایک دلکش سی مسکراہٹ اپنے لبوں پر بکھیرتے ہوئے بولی۔
’’میرا نام عنایا کامران ہے۔ میں سونیا کے کزن کی سالی ہوں۔‘‘ باسل نے اسے اس بار سر سے پیر تک دیکھا پھر بڑی دلفریب مسکراہٹ اس کی جانب اچھالتے ہوئے بولا۔
’’اوہ نائس ٹو میٹ یو مس عنایا۔‘‘ عنایا باسل کو بغور دیکھتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر فولڈ کرتے ہوئے بولی۔
’’ایکچولی میں نے آپ کو سونیا کی مہندی میں فرسٹ ٹائم دیکھا تھا آپ کافی ہینڈسم لگ رہے تھے۔‘‘ وہ بے باکی سے اس کی تعریف کرتے ہوئے بولی تو باسل نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا کوئی اور وقت ہوتا تو باسل اس نٹ کھٹ سی لڑکی میں نا چاہتے ہوئے بھی دلچسپی لیتا مگر اس پل وہ کچھ ڈسٹرب سا تھا جب ہی وہ اس لڑکی سے جان چھڑا کر فراز کو متلاشی نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا جو اس وقت اپنے اور سونیا کے مشترکہ یونیورسٹی کے کلاس فیلوز کے ساتھ اسٹیج پر براجمان تھا۔ جب کہ کامیش نیچے اپنے دوستوں کے نرغے میں گھرا ہوا تھا کافی عرصے بعد وہ سب اس موقع پر اکٹھے ہوئے تھے لہذا ان لمحات کو خوب انجوائے کررہے تھے۔
’’ویسے سونیا ہم سب کو تو یہی لگتا تھا کہ تم فراز سے شادی کروگی مگر تم نے تو فراز کے بھائی سے شادی کرلی یہ ہمارے لیے کافی سرپرائزینگ ہے۔‘‘ غزل جو ان کے گروپ میں سب سے منہ پھٹ لڑکی تھی اس وقت بھی اپنے اسی انداز میں بولی تو لمحے بھر کو اسٹیج پر بالکل خاموشی چھا گئی جب کہ فراز شاہ اس لمحے بری طرح خجل ہوگیا۔
’’اوہ کم آن غزل تم بھی نا… وہ بات تو تم نے سنی ہوگی ناکہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں تو پھر یہی سمجھ لو کہ سونیا کا جوڑا کامیش شاہ کے ساتھ بنا تھا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے بننے نہیں لگ رہے؟‘‘ سب سے پہلے راحیل نے خود کو سنبھال کر بے حد نارمل اور ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو غزل جو خود یہ بات بول کر پچھتا رہی تھی کھسیانی سی ہنسی ہنس کر بولی۔
’’یو آر رائٹ راحیل واقعی سونیا کا ہزبینڈ بے حد ہینڈسم اور ڈیشنگ ہے اور پھر اوپر سے اس کا عہدہ اس کی شخصیت کو چار چاند تو کیا آٹھ چاند لگا رہا ہے۔‘‘ سب ہی غزل کی بات پر ہاں میں ہاں ملانے لگے تھے جب کہ سونیا خان نے اس پل فراز کو انتہائی ناقابل فہم نگاہوں سے دیکھا تھا۔
/…/…/…/
لالہ رخ اور زرتاشہ کراچی بخیریت پہنچ چکی تھیں رات کے اس پہر زرتاشہ اپنے بستر پر لیٹی گہری نیند میں تھی جب کہ زرمینہ نے نیچے ایک موٹی سی کھیس بچھا کر لالہ رخ کے ساتھ سونے کا انتظام کیا تھا۔ اس پل لالہ رخ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی وہ مسلسل زرتاشہ کے متعلق سوچے جارہی تھی پورے سفر کے دوران وہ بالکل خاموش بیٹھی رہی تھی ورنہ ٹرین کے سفر میں وہ بہت چہکتی تھی ٹرین کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کی زبان بھی تیزی سے چلتی تھی جب کہ یہاں پہنچنے کے بعد بھی اس کی خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ زرمینہ نے اسے بے حد گرم جوشی اور خوشی سے والہانہ انداز میں گلے لگایا تھا مگر وہ زرمینہ سے بھی بہت سرد مہری اور رکھائی سے پیش آئی تھی۔
’’کیا سوچ رہی ہیں لالہ آپی آپ… نیند نہیں آرہی کیا؟‘‘ لالہ رخ کو اپنے پہلو سے زرمینہ کی دھیمی آواز سنائی دی تو وہ ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی پھر بے حد تھکے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی۔
’’زری… تاشو کی فکریں میری نیندیں اڑائے ہوئے ہیں وہ یہاں آکر بھی اسی کیفیت کا شکار ہے جو اس کی گھر پر تھی میں اس کی جانب سے بے حد پریشان ہوں زری… وہاں تو میں ہر وقت اس کی جانب سے چوکنا رہتی تھی مگر یہاں اسے یوں تنہا چھوڑ نے پر میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔‘‘ بولتے بولتے وہ یک دم اٹھ کر بیٹھ گئی تھی زرمینہ بھی دھیرے سے اٹھ کر اس کے قریب بیٹھ گئی۔
’’لالہ آپی آپ پلیز پریشان مت ہوں اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔ وہ ہے نا ہم سب کا خیال رکھنے والا اور ہاں یہاں اس پر نظر رکھنے کا رہا سوال تو اس کے لیے میں ہوں ناں میں تاشو کا ہمہ وقت خیال رکھوں گی یہ تو ایک طرح سے بہت اچھا ہوا کہ وہ یہاں آنے پر رضا مند ہوگئی ورنہ گھر پر رہ کر وہ ابا کے صدمے سے کبھی نہ نکل پاتی اس ماحول اور جگہ میں اس کا نارمل ہونا بہت مشکل تھا مگر اب آپ دیکھئے گا وہ یہاں بہت جلد نارمل ہوجائے گی۔ آپی سب ٹھیک ہوجائے گا ان شاؔء اللہ۔‘‘ آخر میں زرمینہ لالہ رخ کے شانے پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر بولی تو لالہ رخ نے بے حد ممنونیت سے اسے اپنے گلے سے لگالیا۔
’’بہت بہت شکریہ زری مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تاشو کے بعد تمہاری شکل میں دوسری بہن بھی عطا کردی ہے اب میری دو چھوٹی بہنیں ہیں۔‘‘ وہ محبت سے لبریز لہجے میں بولی تو بے ساختہ زرمینہ کی آنکھوں میں نمی در آئی۔
’’شکریہ تو آپ کا لالہ آپی کہ آپ نے مجھے اپنی چھوٹی بہن جو بنالیا۔‘‘ وہ گلوگیر لہجے میں بولی تو لالہ رخ اس کی آواز کے بھیگے پن کو محسوس کرکے اس کے سر پر پیار سے چپت لگا کر بولی۔
’’پاگل کہیں کی۔‘‘
/…/…/…/
ابرام آج کل گھر جلدی آرہا تھا۔ اس وقت بھی وہ دوپہر میں ہی گھر آگیا تھا حسب معمول گھر میں مکمل خاموشی اور سناٹے کا راج تھا شاید ماریہ اب تک کالج سے لوٹی نہیں تھی وہ ایک گہری سانس کھینچ کر اپنے کمرے میں فریش ہونے کی غرض سے بڑھ گیا تھوڑی دیر بعد وہ باتھ لے کر کچن کی جانب چلا آیا اور اپنے لیے کافی تیار کرنے لگا جب کہ سینڈوچ میکر میں سینڈوچ بھی ساتھ ساتھ تیار کرنے میں مصروف رہا تھوڑی دیر بعد وہ بڑے ریلیکس انداز میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا تھا جب ہی اس کا سیل فون بج اٹھا دوسری جانب جیسکا روبن تھی ابرام اس کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ پھر کچھ دیر بعد اسے ایک خیال ذہن میں آیا تو وہ تیزی سے جیسکا سے استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’جیسکا کیا تم کالج سے گھر آچکی ہو؟‘‘ جیسکا ابرام کی بات پر لاپروا انداز میں گویا ہوئی۔
’’آف کورس ابرام کالج ٹائم آف ہوئے ایک گھنٹے سے زیادہ ہوچکا ہے، میں تو سیدھا گھر ہی آتی ہوں۔‘‘ جیسکا کی بات سن کر ابرام کچھ متفکر سا ہوگیا پھر بے ساختہ اس نے دیوار پر لگی گھڑی کی جانب دیکھا جو اس پل شام چار بجے کا عندیہ دے رہی تھی۔
’’اچھا مگر ماریہ تو ابھی تک گھر نہیں پہنچی وہ آج تمہارے ساتھ تھی نا۔‘‘ ابرام اپنے بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے گویا ہوا۔
’’ابرام ماریہ میرے ہی ساتھ تھی۔ ان فیکٹ آج تو ہمارے دو پریڈ بھی فری تھے وہ تمام وقت میرے ہی ہمراہ تھی البتہ آف ٹائم پر ہم دونوں ساتھ ساتھ نہیں نکلے تھے میں پہلے نکل گئی تھی۔‘‘ یک لخت ابرام کے رگ وپے میں بے چینی واضطراب کی لہریں سرعت سے سرائیت کرنے لگیں۔
’’تو آف ٹائم پر وہ کہاں تھی جیسکا۔‘‘ جیسکا چند ثانیے کے لیے سوچ میں پڑ گئی پھر ذہن پر زور ڈالتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بولی۔
’’میرے خیال میں وہ لاسٹ موومنٹ میں فریش ہونے کی خاطر باتھ روم گئی تھی اس کے بعد مجھے آئیڈیا نہیں… مگر ابرام تم پریشان مت ہو اتنی تو دیر سویر ہوہی جاتی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ کسی کام میں الجھ گئی ہو، فکر نہیں کرو وہ آجائے گی۔‘‘ جیسکا ابرام کے لہجے سے پریشانی بھانپتے ہوئے اسے تسلی دینے والے انداز میں بولی تو نجانے کیوں ابرام کے دل کو تسلی نہیں ہوئی بلکہ بے چینی و بے قراری میں قدرے اضافہ ہی ہوگیا۔
’’اچھا تم ذرا فون بند کرو میں ماریہ کے سیل پر کال کرتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ابرام اس کا جواب سنے بناء ہی لائن کاٹ گیا پھر بڑی تیزی سے اس نے موبائل فون سے ماریہ کا نمبر ملایا اگلے پل وہ شاکڈ سا رہ گیا ماریہ کا نمبر بند جارہا تھا اس نے یکے بعد دیگرے کوئی چھ سات مرتبہ کال ملائی مگر ہر بار اس کا نمبر بند ہی ملا ابرام کا جیسے جسم کا خون خشک ہونے لگا اس نے بے حد الجھ کر فون بند کیا تو اگلے ہی لمحے جیسکا کی کال آگئی۔
’’تمہارا فون لگا ابرام؟‘‘ جیسکا کے بھی لہجے سے پریشانی اور گھبراہٹ مترشح تھی۔
’’میں نے بھی ماریہ کا نمبر ٹرائی کیا مگر وہ مسلسل بند جارہا ہے۔‘‘ ابرام سیل فون کان سے لگائے گھر کے فون سے ایک بار پھر ماریہ کا نمبر ملانے لگا مگر ہر بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اس نے بے تحاشا جھنجھلا کر ریسیور کریڈل پر پٹخا۔
’’ڈیم اٹ… یہ آخر ماریہ کا فون سوئچ آف کیوں جارہا ہے؟‘‘ وہ بڑبڑا کر بولا پھر اچانک جیسکا سے مخاطب ہوا۔
’’جیسکا کہیں ماریہ ولیم کے ساتھ تو نہیں چلی گئی تھی؟‘‘ ابرام کی بات پر جیسکا نے اپنے ذہن پر زور ڈال کر کچھ سوچا پھر قدرے مایوسی سے بولی۔
’’مگر میں نے آج ولیم کو تو دیکھا ہی نہیں‘ میرے خیال میں وہ کالج آیا ہی نہیں… ہاں مگر یہ ہوسکتا ہے کہ آف ٹائم میں وہ آگیا ہو اور ماریہ اس کے ساتھ چلی گئی ہو۔‘‘
’’تم ایسا کرو فوراً ولیم کو فون کرو۔‘‘ وہ عجلت بھرے لہجے میں بولا جب کہ جیسکا نے اوکے کہہ کر لائن ڈسکنکٹ کی ابرام سے ایک پل بھی گزارنا مشکل ہورہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں جیسکا کی کال آئی تو اس نے تقریباً جھپٹنے والے انداز میں فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
’’ہاں بولو جیسکا وہ ولیم کے ہی ساتھ ہے نا۔‘‘ وہ بے حد یقین آمیز لہجے میں بولا۔ جب ہی جیسکا گھبرائے ہوئے انداز میں گویا ہوئی۔
’’نہ… نہیں ابرام ولیم کو تو بہت تیز بخار ہے وہ تو بستر پر پڑا ہے۔‘‘
’’واٹ…! تو اس کا مطلب ہے کہ ماریہ ولیم کے ساتھ بھی نہیں ہے تو پھر کہاں ہے وہ۔‘‘ وہ بے تحاشا متوحش ہوکر تقریباً چیخنے والے لہجے میں بولا تو جیسکا نے فوراً سے پیشتر کہا۔
’’ابرام ہوسکتا ہے کہ وہ جیکولین آنٹی کے پاس چلی گئی ہو۔‘‘
’’میں ابھی مام سے پوچھتا ہوں۔‘‘ وہ سرعت سے بولا پھر دوسرے ہی پل وہ جیکولین سے آن لائن تھا اس نے گول مول انداز میں ماریہ کی بابت استفسار کیا مگر ماریہ وہاں بھی نہیں پہنچی تھی ابرام نے جیکولین کو کسی بھی بات کی بھنک پڑنے نہ دی اس کا سر بری طرح چکرانے لگا تھا آنکھوں کے گرد اندھیرا چھانے لگا وہ بے حد مضبوط اعصاب کا مالک تھا مگر ماریہ کے لیے وہ بے حد حساس اور چھوٹے دل کا انسان بن جاتا تھا اس وقت بھی ایسا ہی ہوا اس کے اعصاب اور ہمتیں ڈھلنے لگیں دوسرے ہی لمحے جیسکا کا فون آیا تو ابرام کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے خود کو سنبھال کر بولی۔
’’ابرام پلیز کنٹرول یور سیلف۔‘‘
’’میں ماریہ کے کالج جارہا ہوں اسے دیکھنے پھر پولیس میں کمپلین کروں گا۔‘‘ وہ قطعیت بھرے انداز میں بولا تو جیسکا سرعت سے گویا ہوئی۔
’’تم گھر سے نکلو میں بھی کالج پہنچتی ہوں پھر ساتھ ہی چلیں گے۔‘‘ جب کہ دوسرے ہی پل ابرام عجلت میں لائن کاٹ گیا۔
/…/…/…/
پورا قصبہ تاریکی اور سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا دور سے بس جھینگروں اور گیدڑوں کی آتی آوازوں نے ماحول کو خاصا پراسرار بنایا ہوا تھا۔ اس لمحے سارا عالم اپنے اپنے گھروں میں محو خواب تھا مہرو جو آج کل لالہ رخ کے گھر پر ہی اپنی اماں کے ہمراہ رہ رہی تھی اس وقت تینوں خواتین ایک ہی کمرے میں سو رہی تھیں جب ہی مہرو کی اماں بے تحاشہ گھبرائے ہوئے انداز میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھیں انہوں نے اپنے ہاتھوں سے آنکھوں کو مسلتے ہوئے اِدھر اُدھر بے پناہ متوحش ہوکر دیکھا زیرو کے بلب کی مدقوق سی روشنی میں انہیں جب دوسرے پلنگ پر مہرو سکون و اطمینان سے سوتی ہوئی نظر آئی تو انہوں نے بھی ایک طمانیت آمیز سانس بھری پھر اپنے کپکپاتے دل پر ہاتھ رکھ کر اس کی منتشر ہوتی دھڑکنوں کو نارمل کرنے لگیں لالہ رخ کی امی جو ان کے ساتھ ہی لیٹی ہوئی قدرے چوکنا نیند سورہی تھیں معمولی سی کھٹ پٹ کی آواز پر یک دم جاگ گئیں اور گڈو کو متفکر سا بیٹھے دیکھ کر پریشان سی ہوگئیں۔
’’کیا ہوا گڈو طبیعت تو ٹھیک ہے نا تم ایسے کیوں بیٹھی ہو۔‘‘ گڈو کے ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا گلاس تھا مگر وہ اسے پینے کے بجائے کسی گہری سوچ میں مستغرق تھیں بھاوج کی آواز سے یک دم چونک کر اپنے پہلو پر نگاہ ڈالی پھر دوسرے ہی پل گلاس ہونٹوں سے لگا کر ایک ہی سانس میں پانی پی کر اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بے حد تھکے ہوئے انداز میں گویا ہوئیں۔
’’میری طبیعت کو کیا ہونا ہے بھابی میں بالکل بھلی چنگی ہوں۔‘‘ لالہ رخ کی امی نے بڑے غور سے ان کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں تفکرات بے سکونی اور خوف کی لکریں واضح طور پر کھنچی ہوئی تھیں اس پل وہ بھی متفکر سی ہوگئیں۔
’’کیا بات ہے گڈو تم مجھے کافی پریشان لگ رہی ہو مجھے بتائو کیا ہوا ہے؟‘‘ جواباً گڈو نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرالیا اس وقت وہ بہت ذہنی دبائو کا شکار دکھائی دے رہی تھی۔
’’کیا بتائوں بھابی… مہرو کی فکر نہ مجھے دن کو چین لینے دیتی ہے اور ناسکون سے سونے دیتی ہے۔‘‘
’’مہرو کی فکر…! کیوں مہرو کو کیا ہوا؟ تمہیں اس کی طرف سے بھلا کس حوالے سے فکر ہے؟‘‘ امی نے قدرے فاصلے پر سوئی ہوئی مہرو پر ایک نگاہ ڈالی پھر متعجب آمیز نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولیں تو گڈو بے اختیار ایک سرد آہ بھر کر رہ گئی۔
’’بھابی تم تو جانتی ہونا کہ مومن جان کس قماش کا انسان ہے خود غرض اور مادہ پرست اپنے مفاد اور دولت کی خاطر وہ اپنوں کو بھی قربان کرسکتا ہے۔‘‘ وہ بے حد ناگواری سے مومن جان کا تذکرہ کرتے ہوئے بولیں تو امی نے پُرسوچ نگاہوں سے چند ثانیے اپنی اکلوتی بہن جیسی نند کو دیکھا وہ ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہی تھی مومن جان کی بدفطرتی سے وہ بھی بخوبی واقف تھیں پھر معاً ذہن میں کوئی خیال در آیا تو فوراً بولیں۔
’’مگر تم مہرو کے حوالے سے کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘
’’اسی کے تو رشتے کے پیچھے پڑگیا ہے وہ، اپنے دوست کے نشئی مگر پیسے والے لڑکے سے مہرو کا بیاہ رچانا چاہتا ہے اور مجھ پر بھی بے حد زور دے رہا ہے کہ میں اس رشتے کے لیے مان جائوں۔‘‘ گڈو کچھ مشتعل اور خائف سی ہوکر بولی تو امی بھونچکا سی انہیں دیکھتی رہ گئیں۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہو گڈو تم، بھلا مومن جان اس حد تک خود غرضی دکھا سکتا ہے اس کا تو مجھے اندازہ ہی نہیں تھا۔‘‘
’’ہاں بھابی وہ پہلے ہی کہاں مہرو کے لیے اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ رکھتا ہے وہ آدمی نہیں قصائی ہے۔ قصائی جو میری بچی کو اپنے مفاد کے عوض قربان کرنا چاہتا ہے مگر میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی۔‘‘ بے زاری دکھ اور غصے واشتعال کے بیک وقت کئی رنگ اس پل ان کے لہجے سے چھلکے تھے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی نم ہوگئی تھیں لالہ رخ کی امی کے لیے یہ بات کسی انکشاف سے کم نہیں تھی کہ مہرو کا باپ ایک نشئی کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ دینا چاہتا ہے وہ کافی دیر تک اسی انکشاف کی زد میں شاکڈ سی بیٹھی رہیں پھر نند کو چپکے چپکے آنسو بہاتا دیکھ کر خود کو سنبھالتے ہوئے اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’تم بالکل فکر مت کرو گڈو۔ میری لالہ ہے نا وہ مہرو کے ساتھ ایسا ظلم ہرگز نہیں ہونے دے گی میں یہ بات لالہ کو بتائوں گی تم دیکھنا ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’مگر بھابی لالہ رخ آج کل خود بے چاری اتنے چکروں میں الجھی ہوئی ہے۔ اب مہرو کا تذکرہ کر بیٹھوں گی تو وہ پریشان ہوجائے گی۔‘‘ گڈو اپنے پلو سے آنسو پوچھتے ہوئے گلوگیر لہجے میں بولیں تو امی بے اختیار مسکرا دیں۔
’’یہی تو بات ہے میری بیٹی میں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے توکیا گھبرانا بڑی سے بڑی مہم کو بھی باآسانی سر کرلیتی ہے تب ہی تو تمہارے بھائی کہتے تھے کہ یہ ہمارا بیٹا ہے بیٹا…!‘‘ وہ بولتے بولتے جیسے کسی یاد میں گم ہوگئیں پھر یک لخت حال میں لوٹتے ہوئے تیزی سے بولیں۔
’’تم بالکل پریشان مت ہو۔ لالہ رخ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال لے گی اور اب تم اطمینان سے سو جائو مہرو اکیلی نہیں ہے ہم سب اس کے ساتھ ہیں۔‘‘ ان کی تسلی آمیز باتوں کا اثر گڈو کے دل پر ہوا تو انہوں نے بھی اپنے اندر ایک طمانیت محسوس کرکے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور پھر سونے کے لیے لیٹ گئیں البتہ امی کافی دیر تک جاگتی رہیں۔
/…/…/…/
دھیرے دھیرے رات گہری ہوچلی تھی محفل برخاست ہوچکی تھی ایک ایک کرکے تقریباً تمام مہمان رخصت ہوچکے تھے صرف گھر کے لوگ اور قریبی عزیز رشتے دار موجود تھے سونیا کو کامیش شاہ کے سنگ ابھی تھوڑی ہی دیر پہلے رخصت کردیا گیا تھا۔ فراز شاہ بے پناہ تھکن کا شکار تھا نیند کے مارے اس کا اس وقت برا حال ہورہا تھا۔
وہ پچھلے دس دن سے سونیا کی شادی میں بے حد مصروف رہا تھا اس پل وہ چاہتا تھا کہ جلد از جلد گھر پہنچ کر فوراً اپنے بستر پر گر کر سوجائے پچھلی کئی راتوں سے وہ مسلسل جاگ رہا تھا ڈھولکی مایوں مہندی وغیرہ کی رسموں نے اسے آرام کا موقع ہی نہیں دیا تھا وہ بے حد تھکے قدموں سے پارکنگ لاٹ کی طرف آیا جب ہی عقب سے اسے باسل حیات کی آواز سنائی دی تھی۔
’’فراز بھائی۔‘‘ فراز یک دم پلٹا تو سامنے باسل حیات کھڑا دکھائی دیا ایک نرم سی مسکراہٹ اس کی جانب اچھال کر وہ بولا۔
’’ینگ برادر تم بھی چل رہے ہو نا…‘‘ وہ سمجھا کہ باسل اس کے ہمراہ جانے کے لیے آیا ہے کیونکہ اس کے پیرنٹس بھی جاچکے تھے فراز کے پاس چونکہ آتے وقت کافی سامان موجود تھا جو روم میں رکھوانا تھا لہٰذا اس نے وہاں موجود گاڑی پارک کرنے والوں سے سروس نہیں لی تھی وہ ہوٹل کے اس جانب گاڑی لے آیا تھا جہاں رومز بنے ہوئے تھے لہٰذا یہاں اس وقت کافی سناٹا تھا۔
’’میرے پاس اپنی گاڑی موجود ہے فراز بھائی؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوا۔
’’دراصل فراز بھائی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ اس وقت باسل کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا جس نے فراز کو چونکا دیا تھا وہ بے اختیار اس کا چہرہ بغور دیکھتے ہوئے استفسار کرتے ہوئے بولا۔
’’ہاں بولو… کیا بات ہے؟‘‘
’’فراز بھائی بات یہ ہے کہ جب میں…‘‘ وہ فقط اتنا ہی بولا تھا کہ معاً فراز کا موبائل فون زور وشور سے بج اٹھا فراز نے سرعت سے اپنا سیل فون جیب سے نکالا پھر اسکرین پر نگاہ ڈال کر یہ کہتے ہوئے فون پک کیا۔
’’مام کی کال ہے۔‘‘
’’فراز تم جلد سے جلد گھر پہنچو تمہاری گاڑی میں جو سامان ہے وہ سونیا کے روم میں پہنچانا ہے تم نکل گئے ہونا ہوٹل سے؟‘‘ ساحرہ عجلت میں بولی تو فراز بھی ہڑبڑا سا گیا۔
’’بس میں نکل ہی رہا ہوں۔‘‘ اس نے تیزی سے کہہ کر فون بند کیا اور پھر باسل سے معذرت خواہانہ انداز میں بولا۔
’’سوری باسل اس وقت مجھے جلدی ہے ہم کل بات کرتے ہیں نا۔‘‘ باسل نے ایک نگاہ فراز شاہ کو دیکھا پھر دوسرے ہی پل مسکرا کر بولا۔
’’اوکے فراز بھائی آپ جائیے میں بھی نکلتا ہوں۔‘‘ پھر باسل اسے خدا حافظ کہتا پُرسوچ انداز میں وہاں سے پلٹ گیا۔
/…/…/…/
’’بھائی صاحب نے سونیا کی شادی کا فنکشن اتنے کمال درجے کا ارینج کیا تھا کہ ہر کوئی اش اش کررہا تھا مسسز فیروز اور مسسز زاہد کے تو چہرے سے جلن وحسد ٹپک رہا تھا اوہنہ وہ تو یہی سمجھ رہی تھیں کہ جس طرح انہوں نے اپنے بچوں کی شادیاں جس شان وشوکت سے کی ہیں ویسا تو کوئی کر ہی نہیں سکتا اب دیکھا کیسے دانتوں تلے انگلی دبائے ہوئے ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھیں۔‘‘ ساحرہ نائٹ کریم سے میک اپ صاف کرتے ہوئے تیز تیز بول رہی تھی جب کہ سمیر شاہ اپنا سیلپنگ گائون پہن کر سونے کی غرض سے بستر پر دراز ہوچکے تھے۔ وہ نجانے اور بھی کچھ بول رہی تھی مگر وہ گہری نیند میں جاچکے تھے جب ان کے ہلکے ہلکے خراٹوں کی آوازیں کمرے میں گونجیں تب ساحرہ جو اپنے آپ میں مگن بولے جارہی تھی چونک کر اپنے شوہر نامدار کو پلٹ کر دیکھا پھر ایک گہری سانس کھینچ کر خود بھی اٹھ گئیں۔
فراز نے ملازم کی ذریعے سامان سونیا کے کمرے میں بھجوا کر اپنے کمرے کی راہ لی اس کا پورا جسم اور اعصاب بے تحاشا تھکاوٹ کا شکار تھے وہ چاہتا تھا کہ جلد از جلد اپنے بستر پر جاکر فوراً سو جائے اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے اپنا سیل فون اور گاڑی کی چابیاں سامنے میز پر رکھیں اور سیدھا باتھ روم میں فریش ہونے کی غرض سے اندر چلا گیا نیم گرم پانی سے شاور لینے کے بعد اس کے اعصاب کو بے پناہ سکون ملا تھا وہ کافی ریلیکس ہوکر اپنے گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتا ہوا باہر نکلا اس پل اسے ایک کپ کافی کی شدید طلب محسوس ہوئی مگر وہ اپنی طلب کو نظر انداز کرکے اپنے بستر کی جانب متوجہ ہوا صبح جلدی اٹھ کر اسے آفس کا بھی چکر لگانا تھا اور پھر رات کو ولیمہ کی بھی تقریب تھی یک دم اسے سلیپنگ گائون پہننے کا خیال آیا تو وہ اپنے ڈریسنگ روم جو باتھ روم سے ہی ملحق تھا اس جانب بڑھا ہی تھا کہ معاً کسی نے دروازے پر خفیف سا ناک کیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچتا سمجھتا اچانک دروازہ کھول کر جو شخصیت اس کے سامنے آئی اسے دیکھ کر اسے چالیس ہزار والٹ کا کرنٹ لگا وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گیا۔ جب ہی وہ ایک ادائے دلبرجائی سے بڑے طمطراق سے چلتی ہوئی اندر آئی اور دروازہ بھیڑ کر بڑی نشیلی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے ہنس کر بولی۔
’’فراز تم تو مجھے دیکھ کر اتنی حیرت اور غیر یقینی سے اپنی جگہ فریز ہوگئے ہو جیسے لیڈی ڈیانا کی روح تمہارے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ہو۔‘‘ سونیا کے لب ولہجے میں اس پل فراز شاہ کے لیے گہرا طنز و تمسخر تھا چند ثانیے وہ اسے یونہی دیکھتا رہا پھر معاً اسے اپنے حلیے کا احساس ہوا تو وہ دوسرے ہی لمحے تیزی سے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھا اور جیسے تیسے کرکے شلوار کرتا پہن کر باہر آگیا۔
’’تم… تم یہاں کیا کررہی ہو سونیا… اور کامیش کہاں ہے وہ یقینا تمہیں ڈھونڈ رہا ہوگا تم اس وقت یہاں کیوں آئی ہو؟‘‘ فراز بے حد بدحواسی میں بولتا چلا گیا جب کہ جواباً سونیا بڑی ادا سے ہنس کر بولی۔
’’اف فراز ایک ہی سانس میں اتنے ڈھیر سارے سوال… ذرا دھیرج رکھو ڈیئر ایسی بھی کیا گھبراہٹ ہے۔‘‘ اس پل سونیا کی آنکھوں میں عجیب سی چمک اور رنگ تھے فراز سمجھتے ہوئے بھی نہ سمجھ رہا تھا جب ہی سونیا اعظم خان مست سی چال چلتے ہوئے اس کے قریب آکر رکی اور اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر بے حد عجیب انداز میں ہنسی اس پل فراز شاہ کے دماغ میں جیسے جھکڑ چلنے لگے تھے وہ بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹا اور بے حد الجھی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
(باقی ان شاء اللہ اگلے ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close