Hijaab Oct-16

خاموش صدائیں

اقبال بانو

وہ کوئی ماورائی مخلوق تو نہ تھی اور نہ ہی کوئی رئیس زادی مگر نجانے کیا بات تھی میں جب بھی گائوں جاتا دل بڑا مضطرب رہتا ہر تیسرے یا چوتھے مہینے گائوں جاتا اور یہ جو دل ہے نا وہاں بے چین ہوجاتا اس کو دیکھنے کو بے قرار ہوجاتا ہے۔ آنکھیں بے چین سی سر سبز پگڈنڈی پر کچھ تلاش کرتی اور جب وہ مجھے کبھی سرسوں کے کھیت میں پیلے پیلے پھولوں کے درمیان نظر آجاتی تو نجانے کیوں دل کو ایک دم ہی قرار آجاتا تمام بے قراریاں ختم ہوجاتیں یوں لگتا جیسے دل کے آنگن میں کوئی دھیرے دھیرے چل رہا ہو اور یہ آہٹیں صاف سنائی دیتیں یہ لالی کی چاپیں تھیں۔ جنہیں میں کبھی کوئی نام نہ دے سکا تھا اور مجھے تو پتا بھی نہ ہوتا کہ آخر یہ آہٹیں میرے دل میں کیوں پیدا ہوتی ہیں۔
میں نے کئی بار اپنا محاسبہ کیا بارہا خود کو ٹٹولا اور اس قدر ٹٹولنے کے باوجود بھی میں اپنے آپ سے کچھ نہ معلوم کرسکا تھا کہ آخر اس بے چینی اور بے قراری کی وجہ کیا ہے۔
’’کیا میں اسے چاہنے لگا ہوں؟‘‘ میں بے چین ہوکر خود سے سوال کرتا۔
’’ارے نہیں۔‘‘ میرے اندر ہی اندر کوئی بڑے زور سے ہنس دیتا۔
’’تف ہے تم پر چوہدری شجاعت علی صرف ایک معمولی سی لڑکی کی خاطر تم بے قرار ہو، چھوڑو یار تم اس دیہاتن کو بالکل نہیں چاہتے‘ چاہنے کے لیے یہاں شہر میں کم لڑکیاں ہیں۔‘‘
میں خود ہی سوال کرتا اور خود ہی جواب دے کر اپنے آپ کو مطمئن کرلیتا مگر یہ جو پگلا دل ہے نا اس کی بے قراری کبھی نہ گئی یہ ہمیشہ بے قرار رہا مجھے وہ ایسے تو کبھی یاد نہ آتی مگر جیسے ہی میں چھٹیاں گزارنے کے لیے گائوں جانے کی تیاری کرتا تو نہ جانے کہاں سے دھم سے خیالوں میں آجاتی۔
’’نہیں اس کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں۔‘‘ میں خود سے عہد کرتا۔
’’اس طرف بھی نہ جائوں گا جہاں لالی کے ملنے کا امکان ہو۔‘‘ اور پھر میں جب گائوں پہنچتا تو نجانے کہاں سے لالی کی شبیہہ آنکھوں میں اتر آتی۔
کپاس کے کھیتوں میں کپاس چنتی لڑکیاں جو کہ رنگ برنگی چنریاں اوڑھے ہوئے ہوتیں۔ کھیت کے قریب سے گزرتے ہوئے میری نظر ایک ایک پر پڑتی کہ شاید ان میں لالی بھی ہو خود کو ڈانٹتا بھی مگر پگلا من مچلتا ہی چلا جاتا اور جب وہ مجھے اتنی ڈھیر ساری لڑکیوں میں نظر آجاتی تو یوں لگتا جیسے سوکھے ہوئے دھانوں پر پانی پڑ گیا ہو۔ برسوں کی پیاس ایک دم بجھ گئی ہو روح کو شانتی مل گئی ہو اور میں بڑا مسرور سا حویلی چلا آتا۔
کبھی میں اسے سرسوں کے کھیت میں پیلے پیلے پھولوں کے درمیان ساگ توڑتے دیکھتا تو نجانے کیوں آپ ہی آپ مسکرا دیتا۔ دل کھل کر پھول بن جاتا جس پر شبنم کے قطروں کی نرم نرم پھوار برسنے لگتی۔ گرمیوں میں جب گندم کی کٹائی ہوتی تو اس قدر گرمی میں لالی اور لوگوں کے ساتھ مل کر فصل کاٹتی تو مجھے یوں لگتا جیسے اس کی درانتی گندم کے پودوں کو نہیں بلکہ میرے دل کے ٹکڑے کررہی ہے اور میری بے قراریاں مزید بڑھ جاتیں مگر میں کبھی اس سے کچھ نہ کہہ سکا۔ ہم نے جب سے بچپن کی حدود پار کرکے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا ہم دونوں کے درمیان کبھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی بس میری بے قراری صرف اتنی تھی کہ اسے دیکھ سکوں اور اسے دیکھتے ہی مجھے چین آجاتا۔ میرا دل اس کی خوش بو دل میں سمو لینے کو بے قرار رہتا اور جب میں اسے دیکھ لیتا تو سرشار ہوجاتا۔
اس بار تقریباً گیارہ ماہ بعد گائوں جارہا تھا اپنے پیارے گائوں رتن پور میں میرے بابا رتن پور کے بہت بڑے زمیندار ہیں۔ بہت مخلص اور بہت چاہنے والے اپنے مزارعوں کا، اپنے بچوں کا خیال رکھنے والے میری پانچ بہنیں اور دو بھائی ہیں سب شادی شدہ اور بال بچوں والے ہیں میں سب سے چھوٹا ہوں۔
اصل میں قصہ کچھ یوں ہے کہ میرے بابا کو ڈاکٹر بننے کا بہت شوق تھا وہ ڈاکٹر بن کر رتن پور میں ایک اسپتال بنانا چاہتے تھے اور یہ شوق انہیں گائوں میں ایک ڈاکٹر کے آنے کی وجہ سے ہوا تھا جو کہ زیادہ کمائی نہ ہونے کی وجہ سے کسی اور گائوں چلا گیا تھا۔ تب بابا بہت چھوٹے تھے گائوں کے پرائمری اسکول میں پڑھتے تھے انہوں نے جب دادا ابا سے کہا کہ وہ ڈاکٹر بنیں گے تو وہ گرم ہوگئے۔ رتن پور کا وارث ہو اور ڈاکٹر بنے وہ بھی کمی لوگوں کے لیے یہ وہ کسی طرح نہ گوارا کرسکے وہ بھلا یہ سب کیسے برداشت کرسکتے تھے کہ میلوں پھیلی ہوئی زمینوں کا مالک شہر جا کر ہاسٹل میں رہے۔
’’پتر اوئے، اے ڈاکٹر شاکٹر غریب لوگ بنتے ہیں اے پڑھائیاں صرف غریب لوگوں کے واسطے ہیں جو کہ بعد میں نوکری کرکے پیسہ کما سکیں تیرے پاس تو بہت کچھ ہے اور تمہیں شہر جانے کی کوئی لوڑ نہیں۔‘‘ اور پھر بابا اپنے جاگیردار باپ کے سامنے نہ بول سکے ان کا تو بچپن ہی میں دل ٹوٹ گیا تھا بڑے ہوئے تو محرومی کا وہ ننھا سا پودا تناور درخت بن چکا تھا۔ مجھ سے بڑے دونوں بھائی پرائمری سے آگے نہ پڑھ سکے اور بھلا کیسے پڑھتے دادا ابا جو زندہ تھے جب سب ہی مایوس تھے بالکل اچانک میں اس دنیا میں وارد ہوا میں اپنی سب سے چھوٹی بہن سے گیارہ سال چھوٹا ہوں جب میں پیدا ہوا تو دادا ابا دنیا میں نہیں تھے۔ تین بہنوں اور دونوں بھائیوں کی شادیاں ہوچکی تھیں اور پھر بابا نے مجھے اپنی آرزوئوں کا مسکن بنا لیا اور آج میں شہر میں میڈیکل کے تھرڈ پرفیشنل میں ہوں۔ جلد ہی میرے ابا کے خواب پورے ہونے والے تھے وہ مجھے ایک زمیندار سے زیادہ ایک فرض شناس ڈاکٹر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے اور میں نے بھی ان کے خوابوں کی حسین تعبیر دینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ بابا نے گائوں میں پورے ایک ایکڑ پر اسپتال بھی بنوانا شروع کردیا تھا۔ میں جب اپنی تعلیم سے فارغ ہوجائوں گا تو اسپتال تیار ہوچکا ہوگا۔
بابا نے میرے دل میں گائوں والوں کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے وہ مجھے شہر آنے سے پہلے اکثر کہا کرتے تھے۔
’’شجو پتر دولت ہمارے پاس بہت ہے خدا کی مہربانی سے بہت ہے پتر تو یہ نہ سمجھنا کہ میں نے تجھے شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تو پیسے کے لیے نہیں پتر میں تجھے رتن پور کے لوگوں کی خدمت کے لیے شہر بھیج رہا ہوں یہاں صرف ایک حکیم ہے جو نسل در نسل حکیم چلا آرہا ہے مرض اس کی سمجھ میں آتا نہیں ہے اور وہ ہاون دستے میں دوائیں پیس پیس کر انہیں دیے چلا آرہا ہے… میرے رتن پور کے لوگ سسک سسک کر مر جاتے ہیں اور انہیں میں اس حالت میں نہیں مرنے دینا چاہتا… میں چاہتا ہوں میرا رتن پور گائوں بے نظیر بن جائے… پتر شہر میں تو بہتر ڈاکٹر ہیں اور پھر گائوں سے لوگ ڈاکٹری پڑھنے جاتے ہیں وہ بھی وہیں کے ہو جاتے ہیں اور ان کے گائوں کے غریب لوگ ان کا انتظار کرتے کرتے کھانستے ہوئے بیماریوں سے کراہتے ہوئے منوں مٹی تلے دفن ہوجاتے ہیں پتر شہر نے ہم سے بہت سے ڈاکٹر چھین لیے ہیں۔‘‘ بابا کے لہجے میں دکھ ہی دکھ تھا میرا کلیجہ شق ہوکر رہ گیا۔
’’بابا میں رتن پور کو آئیڈیل گائوں بنائوں گا آپ کے خاکے میں رنگ بھروں گا۔‘‘ میں بابا سے لپٹ گیا اور نجانے کیوں میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
’’پتر اگر ہر گائوں کا لڑکا تجھ جیسا ہوجائے سب تعلیم حاصل کرکے واپس اپنے آشیانوں کو اپنی زرخیز زمینوں، بھولے بھالے لوگوں کی طرف لوٹ آئیں تو سب مسائل خودبخود حل ہوجائیں مگر بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ شہر جا کر وہ بھی شہری بن جاتے ہیں اور دیہاتی کہلوانا اپنی ہتک سمجھتے ہیں دولت کچھ نہیں ہوتی پتر۔‘‘ بابا نے مجھے چوم لیا تھا۔
اور اب میں صرف دو سال بعد بابا کے خوابوں کی تعبیر بن جائوں گا میں نے مڈل تک گائوں کے اسکول میں پڑھا پھر شہر آگیا میں اب تک ہاسٹل میں رہ رہا ہوں مگر ہر تیسرے چوتھے مہینے گائوں ضرور جاتا ہوں دل جو نہیں لگتا یہاں اپنوں سے ملنے کے لیے بے قرار رہتا ہوں اس بار پڑھائی کی وجہ سے امتحان کے بعد جارہا ہوں تاکہ چند ماہ سکون سے گزار سکوں۔
ہاں تو بات ہورہی تھی لالی کی… میں نے لالی سے نہ ملنے، اسے نہ دیکھنے کا عہد کیا تھا اور اب بھی اس عہد پر قائم ہوں۔
لالی ہمارے مزارعے ’’کرمو‘‘ کی اکلوتی بیٹی ہے نام تو اس کا لالی ہے مگر سانولے سلونے چہرے پر بس ہلکی سی لالی کی جھلک ہے شاید اس لیے والدین نے اس کا نام لالی تجویز کیا جبکہ وہ مجسم لالی کبھی نہ رہی تھی وہ میرے بچپن کی ساتھی ہے۔
ہم دونوں اکٹھے کھیلا کرتے تھے جب میں نے مڈل پاس کیا تو وہ دس سال کی تھی میں شہر جانے سے پہلے اس سے ملا تھا وہ ندی کے صاف و شفاف پانی میں پائوں لٹکائے بیٹھی تھی اور نجانے کیا سوچ رہی تھی میں اس کے قریب چلا گیا مجھے پتا تھا اسے بھی میرے جانے کا علم ہے کیونکہ رات ہی تو بابا نے پورے گائوں کی دعوت کی تھی اور شبینہ کرایا تھا۔
’’لالی۔‘‘ میں نے اپنی ساتھی کو ہولے سے پکارا۔
’’شجو… شجو تو نہ جا۔‘‘ اس نے اپنی سیاہ بھنور سی آنکھوں میں اداسی سمیٹ کر کہا۔
’’ارے پگلی میں آیا کروں گا تُو‘ تو بے وقوف ہے میں نے واپس یہیں آنا ہے آخر ڈاکٹر بھی تو بنتا ہے میں نے۔‘‘ میں نے نہایت بے تکے پن سے اسے دلاسا دیا۔
’’اچھا…‘‘ اس نے اداسی سے کہا۔
’’جلدی جلدی آیا کرنا۔‘‘
’’ہاں بابا سے کہوں گا جلدی جلدی بلوایا کریں۔‘‘ میں نے کہا۔
پھر ہم برسین کے کھیت میں گھس کر گھاس کے ٹڈے پکڑنے لگے ایک دم ہی ساری اداسی ختم ہوگئی تھی۔ جیسے ہر طرف پھول کھل اٹھے ہوں اور پھر میں شہر آگیا بابا بھی میرے ساتھ تھے انہوں نے مجھے ہاسٹل میں کمرہ دلوایا اور نجانے کیوں دو روز بعد ہی میرا جی رتن پور جانے کو کرنے لگا مگر پھر میں نے خود کو سمجھایا اگر میں ایسی کوئی خواہش کرتا تو بابا کو دکھ ہوتا کہ ابھی تو منزل شروع ہوئی ہے اور میں نے ابھی سے تھکنا شروع کردیا۔
پھر بابا گائوں چلے گئے مجھے پڑھنے کی ڈھیروں نصیحتیں کرتے ہوئے ہاسٹل میں بے شمار لڑکے تھے اس لیے میرا دل بھی بہل گیا ویسے بھی میں تھا دیہاتی لڑکا سیدھا سادا اور وہ تھے شہری تیز اور چلبلے میں بھی جلد ہی ان کے رنگ میں رنگ گیا۔ مجھ میں بہت تیزی آگئی تھی پڑھائی میں بھی تیز تھا شرارتوں میں بھی اور ویسے بھی جب بچے والدین سے دور ہوجائیں تو اپنی من مانی کرتے ہیں۔ والدین کے پاس من مانی کا موقع ہی نہیں ملتا نا۔ میں جب بھی گائوں جاتا لالی مجھے ضرور ملتی ہم گھنٹوں ندی میں پائوں لٹکائے بیٹھے رہتے گنے چوستے گندم کی ہری ہری بالیوں کو توڑ کر انہیں آگ میں بھونتے اور پھر بھنی ہوئی بالیوں کو ہتھیلی پر مسل کر دانے نکال کر گرم گرم گندم کے نرم نرم دانے کھاتے۔
غرض یہ کہ میں جب بھی گائوں جاتا وہی میری دوست ہوتی مجھے لڑکوں سے کوئی دلچسپی بھی نہ تھی اصل میں میرے گائوں کے لڑکے مجھ سے خوف کھاتے تھے اس لیے کہ آخر میں زمیندار کا بیٹا تھا اور خوف نہ کھاتی تو لالی اس کا کہنا تھا۔
’’دوستی اپنی جگہ زمینداری اپنی جگہ۔‘‘ اور مجھے اس کی یہی بات پسند تھی۔
وقت کا پنچھی پر پھیلائے محو سفر رہا میں نے میٹرک کا امتحان دیا تو بابا مجھے لینے آگئے اور میں ان کے ساتھ گائوں آگیا بابا بہت خوش رہنے لگے تھے ان کی آرزوئوں کی تکمیل جو چند سال بعد ہونے والی تھی۔ اس بار مجھے لالی نہ ملی میں نے اسے کنویں پر دیکھا کھیتوں میں دیکھا مگر مجھے نظر نہ آئی۔
اس روز لالی کی سہیلی نوراں پنگھٹ پر پانی بھر رہی تھی کہ میں پہنچ گیا مجھے دیکھ کر بارہ تیرہ سال کی وہ بچی گھبرا گئی اور میں تو تھا ہی جٹ پتر پندرھواں سن تھا میرا مگر میں اپنی عمر سے بھی بڑا لگتا تھا۔
’’نوراں، تجھے لالی کا پتا ہے۔‘‘ میں نے نہایت آہستگی سے پوچھا۔
’’ہاں چوہدری جی وہ اپنے نانکے گئی ہوئی ہے اس کا نانا بیمار ہے نا اس لیے۔‘‘ نوراں نے پانی بھرتے ہوئے کہا میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا اور آگے بڑھ گیا۔ مجھے شدید غصہ آرہا تھا اس پر حالانکہ اسے علم تھا کہ میں آنے والا ہوں آخر وہ کیوں گئی مگر مجھے اپنے غصے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔
پھر یوں ہوا کہ اس بے قراری کا انکشاف پہلی بار ہوا راہ چلتے ہوئے میری نظریں اسی کی متلاشی رہتیں جہاں لڑکیوں کا جھمگٹا ہوتا وہیں ایک ایک کو غور سے دیکھتا کہ شاید ان میں لالی بھی ہو۔ ان دنوں عجیب حالت تھی میری ہر جگہ میں اسی کو تلاش کرتا رہتا اور اپنی اس کیفیت کو کوئی نام بھی نہ دے سکا۔
میرے بہنوئی اشرف علی سرگودھا میں رہتے تھے انہی دنوں وہ آگئے اور ان سے میری بے قراری چھپی نہ رہ سکی وہ سمجھے شاید میں گائوں میں آکر اداس ہوگیا ہوں کتنا غلط خیال تھا ان کا گائوں آنے کے لیے تو میں انگلیوں پر دن گنا کرتا تھا گائوں ہی میں تو میرا دل لگتا تھا۔
’’سرگودھا چلو گے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ میں نے کہا۔ اماں کو پتا چلا تو بہت ناراض ہوئیں مگر اشرف بھائی نے انہیں منا لیا اور یوں میں سرگودھا آگیا۔
گائوں سے نکلتے ہی میں پُرسکون ہوگیا میں نے پوری چھٹیاں سرگودھا میں گزار دیں اور جب صرف ایک ہفتہ رہ گیا تو میں واپس گائوں آگیا مگر میرا پھر وہی حال تھا۔ سرگودھا میں‘ میں جتنے دن بھی رہا مجھے وہ بالکل یاد نہ آئی گائوں آنے کی دیر تھی کہ پھر وہی بے قراریاں شروع ہوگئیں۔
میری جان جل گئی خود پر بے تحاشا غصہ آنے لگا کیونکہ لالی ابھی تک نہیں آئی تھی نوراں سے پتا چلا کہ اس کا نانا فوت ہوگیا ہے پھر میرا رزلٹ بھی نکل آیا میں پاس ہوگیا تھا۔
بابا ایک بار پھر میرے ساتھ شہر آئے اور مجھے کالج میں داخلہ دلوایا ہمیشہ کی طرح ڈھیروں نصیحتیں کیں اور چلے گئے۔
کالج میں میرے کئی دوست بن گئے تھے اسکول لائف سے کالج لائف زیادہ اچھی لگی تھی مجھے ان لڑکوں کے والدین پر بے حد ترس آتا جو پورا وقت کینٹین میں گزارتے تھے ایک دو پیریڈ اٹینڈ کرلیتے ورنہ کینٹین کو اکھاڑا بنائے رکھتے لڑکیوں کے متعلق باتیں کرتے اور گرلز فرینڈز کے قصے سناتے۔ ایک روز ہمارا پیریڈ فری تھا تو میں اپنے دوست زاہد اور وسیم کے ساتھ کینٹین آبیٹھا زاہد تو انگیج تھا اپنی کزن ناہید کے ساتھ اور وسیم اپنے محلے کی ایک لڑکی کا دیوانہ تھا۔
’’یار چوہدری تیری بھی کوئی دوست ہے۔‘‘ وسیم نے میرے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا یہ سب مجھے چوہدری ہی کہتے تھے۔
’’ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کون ہے؟‘‘ زاہد نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’ارے بھئی تم لوگ۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’نہیں یار کوئی لڑکی شڑکی۔ تو تو نرا بدھو ہے۔‘‘ وسیم نے کہا۔
’’نہیں کوئی نہیں۔‘‘ میں نے ہونٹ سی لیے حالانکہ خیالوں میں فوراً لالی آگئی تھی دل چاہا کہہ دوں لالی ہے مگر کہہ نہ سکا۔
’’یار کوئی بنائو، ایسے اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’تمہارے مشورے کا شکریہ آئندہ مجھ سے ایسی بات مت کرنا۔‘‘ مجھے غصہ آگیا میں ان دونوں کو چھوڑ کر لیب میں آگیا۔
حالانکہ زاہد اور وسیم میرے بہت اچھے دوست تھے اور انہوں نے کہا ہوا تھا کہ اگر وہ ڈاکٹر بن گئے تو میرے ساتھ ’’رتن پور‘‘ جائیں گے زاہد کی منگیتر بھی خواتین کے کالج میں پڑھتی تھی اور اس کا ارادہ بھی ڈاکٹر بننے کا تھا اس نے بھی زاہد سے کہا تھا کہ وہ بھی گائوں جائے گی یعنی ڈاکٹرز کا مسئلہ حل ہوگیا تھا۔
بہت سے دن بنا آہٹ کے گزر گئے میں بس دو دن کے لیے گائوں جاتا مگر لالی گائوں میں ہونے کے باوجود بھی مجھ سے نہ ملتی اس کے گھر بھی ایک دو بار گیا مگر مایوس لوٹ آیا۔ میں سخت پریشان رہتا ایف ایس سی کے ایگزام سے فارغ ہوکر میں بابا کو بتائے بغیر اچانک ہی گائوں پہنچ گیا تانگے نے مجھے سڑک پر اتار دیا آگے راستہ نہ تھا۔ کیونکہ آگے لہلہاتے کھیت تھے میں نے اٹیچی کیس اٹھایا اور اونچی نیچی پگڈنڈی پر ہولیا میں چاروں طرف نظریں دوڑاتا ہوا چل رہا تھا ہر طرف سناٹا تھا کوئی ذی روح بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
کھیتوں میں سے ہوا سرسراتی ہوئی گزر رہی تھی تب ہی مجھے گنے کے کھیت میں سرخ چنری نظر آئی اور نہ جانے کیوں ایک دم سے میرے دل کی پُرسکون دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ لالی ہو اور میری منتظر تھی میں تیر کی سی تیزی سے اس کی طرف لپکا میں نے اندازے سے ہی پیچھے سے جا کر اس کی آنکھیں بند کردیں مگر دل میں سوچ رہا تھا اگر کوئی اور لڑکی ہوئی تو چوہدری شجاعت علی جوتی تمہارے سر پر پڑے گی۔
’’ہائے کون ہے تو ہی ہوگی کم بخت نوراں۔‘‘ اور میں خوشی سے جھوم اٹھا وہ صد فیصد لالی کی آواز تھی وہ اپنی آنکھوں سے میرا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی مگر میں بھی جٹ پتر تھا بھلا اتنی سی لڑکی میرے شکنجے سے کیسے آزاد ہوسکتی تھی۔
آخر میں نے ہاتھ ہٹا دیے میں اسے پریشان کرنا نہیں چاہتا تھا اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا اور میں تو اسے دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا یہ لالی اس لالی سے بہت مختلف تھی جو کہ میری دوست تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں قندیلیں جل اٹھتی تھیں اور یہ جوانی کی دہلیز کو چھوتی ہوئی لالی اس پر تو ٹوٹ کر شباب آیا تھا گالوں پر گلاب کھل رہے تھے بھنور سی آنکھوں میں جوانی کا خمار انگڑائی لے رہا تھا اور نازک سے لب کپکپا رہے تھے جیسے گلاب کی دو پنکھڑیاں ہوں اس کے قرب نے مجھے مدہوش کردیا۔
’’یہ اچھی حرکت نہیں شجو۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں مجھے سرزنش کی۔
’’تو مجھے ملتی کیوں نہیں۔ میں جب بھی یہاں آتا ہوں تو غائب ہوتی ہے۔‘‘
’’اچھا نہیں لگتا شجو اور ویسے بھی اب ہم بچے نہیں ہیں۔‘‘ لالی نے ہولے سے کہا۔
’’کیا مطلب…!‘‘ میں نے حیرت سے دیکھا۔
’’آسان سا مطبل ہے تم یہاں کے زمیندار کے بیٹے ہو اور میں ایک غریب مزارعے کی بیٹی ہوں۔‘‘ وہ سر جھکا کر بولی۔
’’تو میں تجھے کھا رہا ہوں۔‘‘ مجھے غصہ آگیا۔
’’اب ہم بڑے ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نہایت اداسی سے کہا۔
’’ہم کتنے ہی بڑے ہوجائیں دوستیاں تو بہت مضبوط ہوتی ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتیں۔‘‘ میں نے مضبوط لہجہ میں کہا۔
’’یہ شہر والوں کی باتیں تم وہیں چھوڑ آیا کرو اب۔‘‘ لالی نے کچھ کہنا چاہا تو میں نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’بہرحال میں تم سے اب کبھی بات نہیں کروں گا۔‘‘ میں پائوں پٹختا ہوا حویلی کی طرف چل پڑا اتنا بڑا ہونے کے باوجود بھی مجھ میں بچپنا تھا مجھے اس کا احساس تک نہ تھا۔ پھر یوں ہونے لگا کہ میری نظریں اس کی متلاشی رہتیں اور جب وہ نظر آجاتی تو مجھے سکون مل جاتا۔
یوں ہی بہت سے دن بیت گئے اور میرا رزلٹ نکلا تو میں نے فرسٹ ڈویژن فرسٹ کلاس لی مجھے شہر جانا تھا اور اب مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ لینا تھا اور میں جانے سے پہلے نہ جانے کیوں لالی سے دوستی کرنا چاہتا تھا آخر وہ میرے بچپن کی دوست تھی۔
آخر ایک روز مرچوں کے کھیت میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ وہ بھی مرچیں چنتی ہوئی نظر آگئی سب لڑکیاں نہایت احتیاط سے مرچیں چننے لگیں تاکہ کوئی پودا نہ ٹوٹے وہ یہ سمجھیں کہ میں ان کی نگرانی کررہا ہوں۔ ہاں میں نگرانی کررہا تھا صرف لالی کی جب وہ کھیت کے ایک کونے میں لگے بوٹے سے مرچیں توڑ رہی تھی تو میں اس کے قریب پہنچ گیا۔
’’لالی۔‘‘ میں نے اسے دھیرے سے پکارا۔
’’کیا ہے؟‘‘ اس نے نہایت بے رخی سے پوچھا۔
’’مجھ سے ناراض ہو۔‘‘ میں نے مسکرا کر پوچھا۔
’’کیوں۔‘‘ اس نے اپنی آنکھیں مجھ پر گاڑھ دیں۔
’’مجھ سے دوستی کرلو۔‘‘ میں نے نہایت ملتجی لہجے میں کہا۔
’’میں تو ناراض نہیں ہوں۔‘‘ وہ آنکھیں پٹ پٹا کر بولی۔
’’میں شہر جارہا ہوں۔‘‘
’’تُو‘ تو ہمیشہ جاتا ہے کوئی نئی بات نہیں۔‘‘ وہ مرچیں توڑنے میں مصروف ہوگئی مجھے اس نے بالکل اگنور کردیا تھا میری تو جان ہی جل گئی میں نے ایک قہر آلود نظر اس پر ڈالی اور میں خود پر لعنت بھیجتا ہوا وہاں سے آگیا۔
دو روز بعد مجھے شہر آنا تھا اور یہ دو روز میں نے گائوں میں سولی پر لٹک کر گزارے اور پھر میں شہر آگیا۔ اور اب پورے تین برس ہوگئے تھے میں آج پھر گائوں جارہا ہوں اور مجھے وہ شدت سے یاد آرہی ہے۔ حالانکہ میں جب تک شہر میں رہتا ہوں وہ مجھے بالکل یاد نہیں آتی گائوں پہنچتے ہی وہ حواسوں پر چھا جاتی ہے اب میں نے خود سے عہد کیا تھا اور دل ہی دل میں اس عہد کو دہرا رہا تھا۔
’’اب میں اسے دیکھنے کی خواہش بھی نہیں کروں گا۔‘‘ مگر یوں لگتا ہے جیسے میرے اندر بہت دور کوئی ہنس رہا ہو جیسے کہہ رہا ہو۔
’’میاں اتنے بلند و بانگ دعوے مت کرو۔‘‘ میں سختی سے اسے جھڑک دیتا ہوں ہمیشہ کی طرح حالانکہ ان تین سالوں کے دوران میں جب بھی گائوں گیا ہوں اس سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔
دور ہی دور سے اسے دیکھتا ہوں اور میرا یہ مضطرب دل چین پالیتا ہے۔ گاڑی جیسے ہی اسٹیشن پر رکی میں اپنے خیالات سے چونک پڑا اور اٹیچی اٹھا کر نیچے اتر آیا میرا ملازم دینو مجھے لینے کے لیے موجود تھا۔
’’سلام چوہدری جی۔‘‘ دینو نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام کیا اور میرے ہاتھ سے اٹیچی لے لی۔
’’وعلیکم السلام ٹھیک ہو۔‘‘ میں نے اس کا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔
’’دعا ہے جی۔‘‘ وہ انکساری سے بولا۔ اسٹیشن کے باہر ہی تانگہ کھڑا تھا میں بیٹھ گیا اور دینو نے گھوڑا آگے بڑھا دیا دو گھنٹے بعد ہی میں رتن پور پہنچ چکا تھا اور میرا عہد متزلزل ہوگیا تھا۔
’’دینو تو سڑک سے تانگہ لے کر آمیں ادھر درمیان سے چلا جاتا ہوں۔‘‘ میں تانگے سے اتر کر چھوٹی سی پگڈنڈی پر ہو لیا۔ میرے دونوں طرف گندم کی سنہری سنہری بالیاں جھوم رہی تھیں فصل کی کٹائی کے دن تھے اور اس قدر دھوپ میں بھی لوگ کٹائی کررہے تھے۔
ہر طرف سنہری سنہری بالیاں کٹ رہی تھیں اور میں گرمی سے بچنے کے لیے تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا حویلی کی طرف جارہا تھا کہ اچانک میں ٹھٹک گیا۔
’’لالی۔‘‘ میرے لب آپ ہی آپ کپکپا کر رہ گئے میرا عہد متزلزل ہونے لگا میں اسے پہچان گیا تھا۔
وہ ندی کی پگڈنڈی پر بیٹھی شاید پانی پی رہی تھی میں تیزی سے آگے بڑھا سب عہد بھلا ڈالے میں اس سے خاصا دور تھا تب ہی وہ اٹھی اور واپس کھیت میں جانے لگی اس کے ہاتھ میں درانتی تھی تب ہی وہ نیچے بیٹھ گئی۔
میں اس کے قریب پہنچ چکا تھا میرا دل نجانے کیوں بلیوں اچھل رہا تھا اور میں اس کے اچھلنے پر حیران بھی تھا۔ مجھے خود حیرت تھی کہ میں اس کے پاس کیسے پہنچ گیا اور اب تو آہی چکا تھا اس لیے سوچنا فضول تھا۔
’’کیا ہوا لالی۔‘‘ میں نے بے چین ہوکر پوچھا اس نے ایک دم سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں ایک چمک لہرائی پھر معدوم ہوگئی۔
’’کانٹا چبھ گیا ہے۔‘‘ لالی نے سر جھکا کر جواب دیا۔
’’لائو میں نکال دوں۔‘‘ میں نیچے بیٹھ گیا اور اس کا پائوں اپنے گھنٹے پر رکھ کر کانٹا کھینچ نکالا وہ ایک سسکی لے کر رہ گئی میں نے جیب سے رومال نکالا اور ٹھنڈے ٹھنڈے پانی میں بھگو کر اس کے پائوں پر رکھ دیا کیونکہ پائوں میں سے خون رسنے لگا تھا۔
’’تونے جوتی بھی نہیں پہنی۔‘‘ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کرتے ہوئے کہا تو وہ بس مسکرا کر رہ گئی۔
’’اتنی گرمی ہے لالی اور تو فصل کیوں کاٹ رہی ہے۔‘‘ میں نے دھیرے سے پوچھا۔
’’کاش چوہدری خدا غربت نہ دیتا ارے نہیں اگر وہ غربت نہ دیتا تو اسے کون یاد کرتا۔‘‘ وہ ہنس دی۔
’’اگر ہم فصل نہ کاٹیں تو شہروں میں رہنے والے کیسے کھائیں اور کیا کھائیں ہم زمین سے سونا اگاتے ہیں اور پھر وہ سونا صاف ہوکر شہروں کو جاتا ہے ہمیں کیا ملتا ہے صرف دو وقت کی روٹی اور مہینوں بعد ایک نیا جوڑا۔‘‘ لالی دکھ سے ہنس دی اس کی ہنسی میں ہزاروں آنسوئوں کی آمیزش تھی میں حیرت سے اسے ٹکر ٹکر دیکھے جارہا تھا اس نے مجھے کبھی بھی چوہدری کہہ کر مخاطب نہیں کیا تھا ہمیشہ شجو کہتی تھی اور آج یہ انقلاب وہ مجھے اتنے تکلف سے مخاطب کررہی تھی۔
مجھے یوں لگا جیسے اس کی زبان سے لفظ چوہدری ایک نشتر کی طرح نکلا ہو اور میرے سینے میں گھونپ دیا گیا ہو آخر میں نے دکھتے دل کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
’’لالی تو نے مجھے کبھی چوہدری نہیں کہا پھر آج…‘‘
’’میں تیرے اور اپنے درمیان جو دیوار ہے اسے تجھ سے روشناس کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نہایت تلخ لہجے میں کہا۔
مگر لالی…‘‘ میں نے کہنا چاہا مگر اس نے میری بات کاٹ دی۔
’’بس چوہدری شجاعت علی مزید کچھ نہ کہنا اب گھر جا چوہدرانی تیری ماں انتظار کررہی ہوگی۔‘‘
وہ درانتی اٹھا کر لنگڑاتی ہوئی آگے بڑھ گئی جیسے اب کوئی بات نہ کرنا چاہتی ہو اور میں بھی سر جھکائے اس راستے پر ہو لیا جو حویلی کی طرف جاتا تھا قدرت کے کھیل کتنے نرالے ہوتے ہیں میرا عہد ملیا میٹ ہوگیا تھا اور قسمت کی بات تھی کہ اسی سے سب سے پہلے میرا ٹکرائو ہوا تھا۔ میں گھر پہنچا تو واقعی اماں میری منتظر تھیں۔ بابا بھی موجود تھے کیونکہ دینو کافی دیر پہلے پہنچ چکا تھا۔
’’کہاں رہ گیا تھا شجو۔‘‘ اماں نے مجھے لپٹا لیا اور نجانے کیوں میں ماں کے سینے سے لگ کر رو دیا۔
’’اوئے پگلا پتر صرف گیارہ مہینے بعد آیا تو اداس ہوگیا۔‘‘ بابا نے محبت سے میری پیٹھ تھپکتے ہوئے کہا۔
’’مگر یہ آنسو ماں باپ سے دوری کے تو نہ تھے پھر کاہے کے تھے۔‘‘ میں نے خود سے پوچھا مگر کوئی جواب نہ ملا۔
پھر دن بنا آہٹ کے گزرنے لگے کیونکہ ان کا تو کام ہی گزرنا ہے چاہے کوئی دکھی یا سکھی بابا کے ساتھ کبھی میں اسپتال دیکھنے چلا جاتا بابا اسے میری پسند سے بنوانا چاہتے تھے تاکہ بعد میں کوئی شکایت نہ کرسکوں ان سے بابا بہت خوش تھے اور رتن پور کے رہنے والے بابا سے بھی زیادہ خوش تھے آخر ان کو گائوں میں تمام سہولتوں سے آراستہ ایک اسپتال جو بننے والا تھا سب کو ان کے سہانے سپنوں کی سہانی تعبیر جو ملنے والی تھی۔
میں شام کو گھر سے نکل کھڑا ہوتا اور پھر میری نظریں اس کی متلاشی رہتیں اور جب وہ نظر آجاتی تو میں گھر آجاتا پھر میں دل میں انجانی سی کسک لیے شہر واپس چلا گیا۔
وقت آگے بڑھتا رہا گزرتا رہا اور پھر میں نے بہت محنت کی ایم بی بی ایس کرلیا اور ایک سال ہائوس جاب کرنے کے بعد گائوں آگیا۔ زاہد اور وسیم بھی میرے ہمراہ تھے ناہید بھی آئی تھی بابا بہت خوش تھے گائوں میں کئی روز تک خوشیاں منائی جاتی رہیں چراغاں ہوا اور رتن پور اسپتال کا افتتاح کردیا گیا بابا نے اسپتال کے کاغذات میرے حوالے کردیے اور ساتھ ہی میرے حصے کی زمین کے کاغذات بھی۔
’’بابا… آپ نے مجھے اسپتال بنوا دیا یہی بہت ہے زمین میں کیا کروں گا۔‘‘ میں نے حیرت سے بابا کو دیکھا۔
’’پتر یہ تیرا حق بنتا ہے اور میری خواہش تو نے پوری کی ہے تو دل چاہتا ہے کہ جان بھی تجھے دے دوں۔ تو نے میرے رتن پور کو آئیڈیل گائوں بنایا ہے۔‘‘ بابا نے مجھے لپٹا لیا اور بابا کی خوشی کی خاطر میں نے بھی کاغذات لے لیے۔
’’بابا زمینوں کی نگرانی آپ کو کرنی ہوگی۔‘‘
’’ہاں… ہاں پتر۔‘‘ بابا خوش دلی سے بولے۔
میں گائوں آکر خوش تھا مگر نجانے کیوں دل مضطرب سا رہتا لالی کو دیکھنا اب بھی میرا معمول تھا جب میں اسپتال جارہا ہوتا تو وہ کبھی مجھے کنوئیں پر پانی بھرتی نظر آتی کبھی جانوروں کے لیے چارا سر پر اٹھائے نظر آتی اور میں دل میں انجانی سی کسک لیے آگے بڑھ جاتا میری سمجھ میں نہ آتا کہ میں اتنا مضطرب کیوں رہتا ہوں۔
’’کیا میں اسے چاہنے لگا ہوں۔‘‘ میں گھبرا کر خود سے سوال کرتا۔
’’ارے نہیں چوہدری شجاعت وہ صرف تمہاری بچپن کی دوست ہے اس کے سوا کچھ نہیں بھلا شہر میں کم لڑکیاں تھیں چاہنے کے لیے۔‘‘ میں خود کو دلاسا دیتا۔
لیکن جس روز وہ صبح مجھے نظر نہ آتی میں واپس گھر آجاتا اسپتال بھی نہ جاتا کیا فائدہ غلط نسخہ لکھ دیتا تو کیا ہوتا۔ پھر ایک روز یوں لگا جیسے کسی نے میرا دل سینے سے نکال لیا ہو۔
گائوں میں تو آئے روز شادیاں ہوتی ہی رہتی تھیں مگر یہ کیسی شہنائی تھی جو کہ مجھے غم کی نوید سنا رہی تھی یہ کیسے ڈھول تھے جن کی دھمک مجھ پر نیزے کی طرح پڑتی محسوس ہوئی تھی اور یہ کیسا جھومر رقص تھا جو میرے دل کو اندر ہی اندر مسل رہا تھا اور پھر مجھے سب کچھ پتا چل گیا۔
میں ڈھول کی آواز سن کر باہر آیا تو دیکھا کہ اماں اور میری دونوں بھابیاں گوٹا کناری والے کپڑے پہنے بالکل تیار کھڑی تھیں۔ شادو جو ہماری ملازمہ ہے اس نے چھوٹا سا اٹیچی اٹھا رکھا تھا میری اماں کی شروع سے عادت تھی کہ گائوں میں جب بھی کوئی شادی ہوتی وہ اسے گیارہ اچھے جوڑے اور ہلکا سا سونے کا سیٹ دیتی تھیں ہمیشہ کی طرح آج بھی جارہی تھیں۔
’’اما کس کو سولی پر لٹکایا جا رہا ہے۔‘‘ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے ہنس کر پوچھا۔ اور پھر میری ہنسی کو بریک لگ گئے بالکل اسی طرح جیسے سیاہ تارکول کی سڑک پر گاڑی بھاگتی ہوئی آرہی ہو اور اچانک سگنل کی سرخ بتی روشن ہوجائے یہ ماں کیا کہہ رہی تھی اور میں کیا سن رہا تھا مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرے چاروں طرف دھماکے ہورہے ہوں اور میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہوں ماں کہہ رہی تھی۔
’’پتر لالی کی شادی ہے اور اس کی برات آگئی ہے لالی اپنے ہی گائوں کی بیٹی ہے اور بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہے نا، وہیں جارہی ہوں۔‘‘ ماں تو کہہ کر چلی گئی مگر میرے من کی دنیا میں ہلچل مچا گئی دل کی پُرسکون ندی میں تلاطم پیدا ہوگیا اس پانی میں ماں نے پتھر پھینک کر دائرے بنا دیے تھے میں اپنے کمرے میں آگیا مضمحل سا دل لیے ہارے ہوئے جواری کی طرح دل اندر ہی اندر بیٹھا چلا جا رہا تھا۔
’’ارے اس کی شادی ہے تو تم کیوں پریشان ہو۔‘‘ میں نے خود کو تسلی دی۔
’’اس لیے کہ تم لالی کو چاہتے ہو۔‘‘ میرے اندر ہی اندر کوئی زور سے بولا۔
’’نہیں…‘‘ میں چیخ پڑا۔
’’تم چاہے جتنا بھی انکار کرو مگر تم لاشعوری طور پر اسے چاہتے ہو۔‘‘ دل کی عمیق گہرائیوں سے آواز آئی۔
’’نہیں۔‘‘ میں نے سختی سے اپنے خیال کو مسترد کردیا۔
’’اگر نہیں تو تمہارا دل اتنا بے قرار کیوں رہتا تھا اس کو دیکھنے کے لیے۔ تمہاری آنکھیں کیوں اس کی متلاشی رہتی تھیں اور تم کیوں اس راستے پر جاتے تھے جس پر اس کے نظر آنے کا امکان ہوتا تھا بتائو۔‘‘ کسی نے میرے دل کو جھنجوڑ ڈالا۔
’’وہ صرف میری دوست تھی اور کچھ نہیں۔‘‘ میں نے پھر انکار کیا۔ اور پھر میری زبان نہ نہ کرتے تھک گئی میں نہیں نہیں کہہ کر ہار گیا مگر دل… دل ان کی آواز پر حاوی ہوگیا۔
پھر میں نے آنکھیں بند کرکے کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا اور میرے لب آپ ہی آپ کپکپا اٹھے۔
’’ہاں…‘‘ میں نے ہتھیار ڈال دیے۔
’’میں اسے چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے خود سے اعتراف کیا۔ یہ ایسی بات تھی جو میں خود سے بھی چھپاتا آیا تھا آج میں نے اس بات کو قبول کرلیا تھا مگر کب جب گزرے وقت کا کوئی بھی لمحہ میرے پاس نہ تھا جب حالات کے دھاگے اس قدر الجھ گئے تھے کہ مجھے سرا بھی نہیں مل رہا تھا کہ کہاں سے پکڑوں وقت کے پائوں میں، میں نے بیڑیاں نہیں ڈالی تھیں میں اپنی محبت کی بازی انجانے میں ہار چکا تھا اور پھر نجانے کیا ہوا میں کڑیل سا چوہدری شجاعت علی ایک فرض شناس ڈاکٹر اپنے بازوئوں میں چہرہ چھپا کر رو دیا۔
نجانے کتنا وقت بیت گیا اور پھر الوداعی شہنائی نے میرے دل کے زخموں میں مزید اضافہ کردیا میں اپنے کمرے سے نکل آیا اور حویلی کے آہنی گیٹ پر کھڑا ہوگیا کیونکہ برات نے یہیں سے گزرنا تھا۔ پھر تھوڑی ہی دیر بعد برات وہاں سے گزری کہاروں نے ڈولی اٹھائی ہوئی تھی اور لالی پی کے دیس جا رہی تھی۔ تب ہی مست پروا کے شریر جھونکے نے شرارت کی، ڈولی کا پردہ ہَوا کے جھونکے نے اڑا دیا اور میں صرف اس کی ایک ہی جھلک دیکھ سکا تھا صرف ایک جھلک اس نے سرخ آنچل کا گھونگھٹ نکالا ہوا تھا اور ڈولی میں سر جھکائے نجانے کن خیالوں میں گم تھی۔
’’شاید میرے ہی خیالوں میں گم ہو۔‘‘ میں نے سوچا اور پھر وہ اپنی ایک جھلک دکھا کر مجھے مزید بے کل کر گئی میں واپس اپنے کمرے میں آگیا۔
مجھے اپنی حالت پر افسوس ہورہا تھا کہ میں ایک دیہاتی لڑکی پر فریفتہ ہوگیا تھا تف ہے مجھ پر میں نے خود پر لعنت ملامت کی۔ مگر یہ جو دل ہے نا یہ کسی کی نہیں مانتا اپنی من مانی کرتا ہے اور پھر ٹھوکر کھا کر چوٹ لگنے پر لہولہان ہوجاتا ہے میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا میں دل کی ہر بات کو ٹھکراتا آیا تھا اور آج وہ بے چارہ لہولہان ہوگیا تھا میں اس کے بے قرار ومضطرب ہونے کے انداز کو نہ سمجھ سکا تھا کتنا بے عقل تھا میں۔
میں بہت پریشان رہنے لگا انہی دنوں زاہد اور ناہید ایک ماہ کے لیے شہر گئے اور واپس آئے تو مقدس بندھن میں بندھ چکے تھے اور پھر وہ فوراً ہی رتن پور آگئے تھے میں نے شرارت سے کہا۔
’’یار تم لوگ ہنی مون منانے نہیں گئے۔‘‘
’’ہم اپنی خوشیوں میں مگن رہیں اور دوسروں کو غموں میں دھکیل دیں نہیں شجاعت یہ نہیں ہوسکتا بس ہم نے شادی کرلی بہت ہے یہاں کے لوگوں کو ہماری اشد ضرورت ہے۔‘‘ زاہد نے کہا تو میں اس کی عظمت کا قائل ہوگیا انہیں گائوں آئے صرف ڈیڑھ سال ہوا تھا اور انہیں یہاں کے لوگوں سے اتنی محبت ہوگئی تھی۔ جبکہ میرا دل رتن پور سے اچاٹ ہوگیا تھا دل چاہتا گائوں سے بھاگ جائوں بہت سوچا، بہت چاہا مگر کچھ بھی سمجھ نہ آیا تو میں نے رتن پور سے فرار ہونے کی راہ نکالی میں کبھی کبھی لالی کو دیکھ لیتا تھا تو میرے دل کا درد جاگ اٹھتا تھا پہلے یہی دل تھا جو اسے دیکھ کر قرار پالیا کرتا تھا اب اور بھی مضطرب ہوجاتا تھا۔ میں لالی کا سامنا کرتے ہوئے بھی گھبراتا تھا اسی آنکھ مچولی میں کئی دن بیت گئے تب ہی میں نے رتن پور سے فرار ہونے کی راہ نکالی اگر میں یونہی کہیں چلا جاتا تو بابا کو دکھ ہوتا کہ میں نے ان کے خواب چکنا چور کردیے ہیں۔ مگر مجھے خود کو بھی تو سنبھالنا تھا آخر بہت سوچنے کے بعد خیال آیا اور میں نے بابا سے کہا۔ بابا میں ایس آر سی ایس کرنے یوکے جانا چاہتا ہوں۔
’’ضرور پتر بڑے ڈاکٹر تو رتن پور کا رخ نہیں کریں گے میں خود بھی سوچ رہا تھا اچھا ہے تو چلا جا مگر پتر یاد رکھنا تو نے واپس رتن پور ہی آنا ہے تو رتن پور والوں کا خادم ہے۔‘‘ بابا نے نہایت شفقت سے کہا۔
’’ہاں بابا مجھے پتا ہے ہر شے اپنے مرکز کی طرف لوٹتی ہے اور رتن پور میرا مرکز ہے میں ضرور آئوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
پھر ایک روز وہ جاتی بہاروں کی ایک خوب صورت ارغوانی شام تھی جب میں ڈھیروں لوگوں کی دعائیں سمیٹے رتن پور سے کراچی اور کراچی سے لندن روانہ ہوگیا۔ پھر بہت سا وقت گزر گیا دن بدلے مہینے بنے رتیں بدلیں کئی بہاریں آئیں اور پودوں پر ڈھیروں پھول کھلے۔ خزائوں نے بھی ڈیرے جمائے۔ بہاروں میں بھی من کا آنگن سونا ہی رہا پیڑوں کی ننگی شاخوں کی طرح کوئی کلی نہ چٹکی تھی۔ بہت عرصہ بیت گیا۔
نو سال کم تو نہیں ہوتے نا۔
میں نے ایس آر سی ایس کرلیا ہارٹ اسپیشلسٹ بن گیا بابا کے فون آتے کہ رتن پور کے لوگوں کو میری ضرورت ہے اور میں بھی چپ کرکے فون سن لیتا۔ حالانکہ کئی بار میرا بھی جی چاہا تھا کہ میں اپنے وطن چلا جائوں اپنے مرکز کی طرف لوٹ جائوں مگر یہ جو دل ہے نا یہ نہیں مانتا تو میں ان دیکھے خواب بھول گیا تھا ایسے سپنے جنہیں میں نے دیکھا بھی نہ تھا۔ مگر وہ مالا میں پروئے ہوئے موتیوں کی طرح مالا کے ٹوٹنے پر بکھر گئے تھے ہائے یوں بھی ہو نا تھا شاید ہی دنیا میں کبھی کسی کے ساتھ ایسا ہوا ہو۔
یورپ میں بہت سی لڑکیوں کا ساتھ ملا میری کئی لڑکیوں سے دوستی ہوگئی مگر وہ لڑکی جو ہر دم میرے ساتھ رہتی تھی میری تنہائیوں کی شریک تھی میرے دل کا قرار تھی اور دل کے جس خانے میں وہ معصوم سی دیہاتی لڑکی فٹ تھی۔ وہاں پر تو کسی کی پرچھائیں بھی نہ پڑی تھی اور نہ ہی پڑسکتی تھی کیونکہ میں کسی لڑکی کو اتنا آگے بڑھنے ہی نہیں دیتا تھا کہ لالی کی شبیہہ دھندلا جاتی میں اور ٹینا فلور پر رقص کررہے تھے تب ہی ٹینا نے پوچھا۔
’’تم مجھ سے شادی کب کررہے ہو؟‘‘
’’شاید کبھی نہیں۔‘‘ میں نے ایک طویل سانس لی۔
’’کیا کہا؟‘‘ ٹینا نے اپنی کانچ جیسی نیلی آنکھوں میں حیرانی سمو کر مجھے دیکھا اصل میں، میں نے اردو میں کبھی نہیں کہا تھا اور وہ نہ سمجھ سکی۔
’’کچھ نہیں ٹینا، میں جلد ہی تم سے شادی کرلوں گا۔‘‘ میں نے اسے دلاسہ سا دیا اور پھر اسٹیپ لینے لگا۔
پھر مجھے بالکل سکون نہ ملا میں سکون کی خاطر در بدر مارا مارا پھرا دنیا کا کونا کونا چھان مارا صرف دل کے سکون کی خاطر۔ صرف اس گوشت کے لوتھڑے کے چین کی خاطر اس دنیا میں ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار کی خاطر۔
قدیم ملک مصر دیکھا اس کے حسین بازار جن کی جتنی تعریف سنی تھی اس سے بڑھ کر پایا۔ اسپین دیکھا ترکی کی خوب صورت اور محنت کش عورتیں دیکھیں بینکاک دیکھا لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے گھنٹوں نیلے پانیوں کو دیکھتا رہا۔ جاپان میں ٹوکیو گڑیوں کا شہر دیکھا۔ غرض کہ سب کچھ دیکھ ڈالا مگر اس دل کی بے سکونی ختم نہ ہوئی میں اسے نہ بھلا سکا جس نے مجھے در بدر کیا تھا۔
اور پھر میں نے سوچا جب بے قرار ہی رہنا ہے تو پھر اپنے وطن کیوں نہ لوٹ جائوں اور تیرہ برس بعد اپنے مرکز کی طرف لوٹ آیا بے تحاشا دولت تھی میرے پاس مگر میں پھر بھی تہی دامن تھا۔ دل کی دولت میرے پاس نہ تھی دل میں اندھیرا ہی اندھیرا داغ ہی داغ اجڑا اجڑا سا تھا میں۔
بے سکون… بے چین… بے قرار سا۔
گائوں پہنچا تو پھر وہی حال ہوگیا میری آنکھیں آج تیرہ برس بعد بھی اس کی متلاشی تھیں میں سر جھکائے حویلی کی طرف تیزی سے قدم بڑھانے لگا گائوں میں بھی خاصی تبدیلیاں آگئی تھیں پکی سڑکیں بن گئی تھیں اور اب تو گھر گھر میں بجلی آگئی تھی۔
حویلی پہنچا تو سامنے ہی نیم کے بڑے سے درخت کے نیچے بابا بیٹھے حقہ گڑگڑا رہے تھے اتنے عرصے بعد بھی میں اپنے بابا کو پہچان گیا بابا بہت کمزور اور لاغر ہوگئے تھے۔
اور پھر مجھ سے برداشت نہ ہوسکا میں ’’بابا‘‘ کہہ کر دوڑ کر ان کے قدموں سے لپٹ گیا اور میرے آنسو بابا کے پائوں بھگونے لگے میں جو آنسو اندر ہی اندر پینے کا عادی تھا بابا کے پائوں پر سر رکھ کر بچوں کی طرح رو رہا تھا۔
’’اوئے تو بڑا کمینہ نکلا شجاعت۔‘‘ بابا نے میری کمر تھپکی انہیں پتا چل گیا تھا کہ اس طرح آنسوئوں سے ان کے پائوں دھونے والا میرے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔
’’مجھے معاف کردو بابا۔‘‘ میں نے آنسوئوں سے تر چہرہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔
’’چل میں نے تجھے معاف کیا صبح کا بھولا شام کو واپس آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے چل نہ رو۔‘‘ بابا نے مجھے اٹھا کر لپٹا لیا۔
’’او شجو کی ماں ادھر دیکھ اے نالائق آگیا ہے۔‘‘ بابا نے اماں کو آواز دی ان کا چہرہ خوشی سے تمتا رہا تھا۔
اماں کمرے سے باہر تقریباً دوڑتی ہوئی آئیں میں ان سے لپٹ کر رو دیا وہ بھی رو رہی تھیں آخر دل کی آگ کو اسی طرح ٹھنڈا کرنا تھا نا پھر بڑے بھائی بھی آگئے میری بہنوں کو پتا چلا تو وہ بھی آگئیں۔ سب مجھے سرزنش کر رہے تھے اور میں شرمندہ بیٹھا ہوا تھا۔ آج میں ان کا مجرم تھا۔ بابا نے بتایا کہ اسپتال کو مزید بڑھا دیا گیا ہے زاہد اور وسیم نے میری غیر موجودگی میں اسپتال کو بہت اچھی طرح چلایا اور اب تو حکومت بھی تعاون کررہی ہے کئی نئے ڈاکٹر بھی آگئے ہیں۔
مجھے اپنے دوستوں پر ہمیشہ فخر رہا ہے اور شاید میں زاہد اور وسیم کے احسانات کبھی نہ بھول سکوں میں تو بہت چھوٹے دل کا مالک تھا جو ذرا سی پریشانی پر بھاگ گیا تھا اپنے لوگوں کو چھوڑ کر حالانکہ بعض مرتبہ سوچتا ہوں کہ اس محبت میں اتنی شدتیں کیوں ہیں جو انسان کو بے سکون کردیتی ہیں۔
ابھی تو لالی اور میں نے عہد وپیمان بھی نہیں کیے تھے مجھے علم نہیں تھا کہ اس کے دل میں کیا تھا اگر مجھے پتا چل جاتا کہ وہ بھی مجھے چاہتی ہے تو شاید میں اب تک زندہ نہ رہتا خیر جو ہوا اچھا ہوا میں باقاعدگی سے اسپتال جانے لگا۔
مگر میری پرانی عادت نہ گئی میری نظریں اس کی متلاشی رہتیں ہر مریض میں مجھے اس کی شبیہہ نظر آئی۔
پھر انہی دنوں اماں مجبور کرنے لگیں کہ میں شادی کرلوں انہیں میری ووہٹی کا بڑا ارمان تھا مگر میں نے شادی کرنے سے صاف انکار کردیا بھلا میں کسی کو اس آگ میں کیوں جلاتا جس میں جل کر میں کندن ہوگیا تھا۔ میں بھلا کسی کو کیا محبت دے سکتا تھا جو کہ کسی معصوم لڑکی کی زندگی تباہ کرتا میری محبت صرف لالی کے لیے تھی اور میں اس امانت میں خیانت نہیں کرسکتا تھا۔
اماں کے تقاضے زور پکڑتے گئے اور ادھر میرے انکار میں شدت آتی گئی اماں نے انکار کی وجہ پوچھی اور پھر میں نے اماں کے مجبور کرنے پر انہیں لالی کے بارے میں بتا دیا کہ میں انجانے میں ہی خود کو لٹا چکا ہوں۔
’’تو پگلا تھا میرے لال اگر تو پہلے بتادیتا تو میں ضرور لالی سے تیرا بیاہ کرتی تو نے اچھا نہیں کیا۔‘‘
’’ساری زندگی کا دکھ مول لیا ہے۔‘‘ ماں مجھے لپٹا کر رو دیں۔
’’اماں وقت نے اچھا نہیں کیا اور یہ وقت بہت ظالم ہے۔‘‘ میں نے دھیرے سے کہا۔
اور پھر میرے اطراف اتنے برسوں بعد دھماکے ہونے لگے یوں لگا میرا سمٹا ہوا وجود پھر ٹکڑے ٹکڑے ہورہا ہو اماں کہہ رہی تھیں۔
’’شجو وہ تو شادی کے صرف ایک سال بعد ہی مرگئی تھی کنوئیں میں چھلانگ لگا دی تھی اس نے۔‘‘
’’کیوں اماں۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’پتر اس کے شوہر کو شک تھا کہ وہ کسی اور سے ملتی ہے اسی کے خیالوں میں گم رہتی ہے وہ یہ الزام برداشت نہ کرسکی… اور…!‘‘
’’یعنی میرے جانے کے صرف سات ماہ بعد اماں مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے فون پہ بتا دیتیں میں اپنے بے قرار دل کو سکون دینے کی خاطر در بدر بھٹکتا رہا میں جلد لوٹ آتا اماں یہ بن باس تو نہ سہنا پڑتا اماں تمہیں کیا بتائوں کہ میں اب بھی باہر نکلتا ہوں تو میری نظریں اسی کی متلاشی رہتی ہیں۔ کسی بھی مریضہ کو دیکھتا ہوں تو اسی ظالم کے نقوش ابھرتے آتے ہیں یہ ظلم کیوں کیا مجھ پر اور اب بھی مجھے آتے ہی نہ بتایا ڈھائی ماہ بعد بتا رہی ہو میں اس کی آخری آرام گاہ پر تو چلا جائوں مجھے یقین ہے وہ میری منتظر رہتی تھی کہ میں کب شہر سے آئوں گا۔ اس کی آنکھوں کی چمک بتاتی تھی مگر وہ دونوں کے درمیان اونچی دیوار سے خائف تھی میں یہ دیوار نہ پھلانگ سکا تو وہ لڑکی ہو کر یہ سب کیسے کرتی؟‘‘ میں اماں کے جھریوں زدہ ہاتھ آنکھوں سے لگائے رو رہا تھا بلک رہا تھا اور اماں مجھے دلاسے دے رہی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتیں تھیں لالی کے انجام نے میرا دل ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ پھر میں اٹھا اور اپنے بھتیجے حامد کے ساتھ شہر خموشاں کی طرف چل دیا میرے ہاتھوں میں ڈھیروں پھول تھے میں اپنی ناکام محبت کی خاطر آخری آرام گاہ پر پھول چڑھانے اور آنسوئوں کے موتی نچھاور کرنے جارہا ہوں۔ وہ میرے آنسوئوں کے چھڑکائو کی منتظر ہوگی اپنی قبر میں یقینا اسے اسی طرح سکون آئے گا۔ میں نے اس کی آخری آرام گاہ پر پھول چڑھائے اور فاتحہ کے لیے ہاتھ بلند کیے چند لمحے یوں ہی گزر گئے۔
’’ارے چوہدری تجھے پتا چل گیا۔‘‘ یہ نوراں تھی لالی کی سہیلی۔
’’ہاں ابھی بتایا ہے اماں نے تم لوگ بہت ظالم ہو پہلے کیوں نہ بتایا۔‘‘
’’ظالم ہم ہیں یا تو چوہدری تجھے خبر ہے اس نے موت تیری خاطر قبول کی۔‘‘ نوراں نے قبر کی طرف اشارہ کرکے کہا اس کے لہجے میں دکھ تھا۔
’’کیا مطلب۔‘‘ میں نے حیرت سے نوراں کو دیکھا۔
’’چوہدری لالی کو پتا تھا کہ تم اس کی خاطر گائوں چھوڑ کر گئے ہو اور یہ تمہاری خاطر دنیا چھوڑ گئی جب اس کی لاش کنوئیں میں سے نکالی تھی تب اس کی زبان پر تمہارا نام تھا۔ پتا ہے لالی نے مجھے کیا کہا تھا چوہدری۔ کہا تھا نوراں اگر چوہدری کبھی تجھ سے ملے تو اس سے کہہ دینا کہ لالی ہمیشہ تیری منتظر رہی وہ تیرے آنے کے دن انگلیوں پر گن گن کر گزارتی تھی اور جب تو آجاتا تو روز اس کی نظریں تجھی کو تلاش کرتیں مگر وہ مجبور تھی تم آسمان تھے وہ زمین تھی نہ تم نیچے آسکتے تھے اور نہ دنیا اسے اوپر جانے دیتی اگلے جہاں میں ہم ضرور ملیں گے یہ کہا تھا اس نے۔‘‘ نوراں نے کہا اور میں تو سر پکڑ کر نیچے بیٹھتا چلا گیا میں جو سمجھتا تھا کہ اس آگ میں، میں تنہا جل رہا ہوں مگر نہیں اس کی تپش لالی تک بھی پہنچی تھی اور وہ جان کر انجان بن گئی تھی یہ اس کی عظمت تھی میں نے اس کی کچی قبر پر سر ٹیک دیا اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کہ تمام بے قراریاں اور بے چینیاں ایک دم مٹ گئی ہوں ہر طرف سکون ہی سکون ہوگیا تھا۔ دل کی دنیا میں دل کے کھولتے سمندر میں ٹھہرائو پیدا ہوگیا اور پھر مجھے پتا نہ چلا کہ میں کیسے گھر آیا کون مجھے لایا۔
اور آج کئی برس بیت گئے ہیں میں نے اب تک شادی نہیں کی۔ اماں ابا یہ آرزو لیے قبر میں سوگئے گہری نیند… زاہد اور وسیم بھی اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر شہر جاچکے تھے اور میرا صرف ایک کام ہے روز اسپتال جانے سے پہلے لالی کی قبر پر پھول چڑھاتا ہوں اور ہر جمعرات کو دیا جلاتا ہوں پکی اور شاندار قبر بنوائی ہے میں نے اس کی۔ اب تو پورے گائوں کو ہماری خاموش محبت کا پتا چل گیا ہے مجھے زمانے کی اب پروا نہیں ہے لالی کی یادیں میری تنہائی کا سرمایہ ہیں لوگ کچھ کہتے ہیں میں سنتا ہی نہیں اب تو میں بھی بوڑھا ہوگیا ہوں مگر اب بھی وہ میرے ساتھ ہے میری تنہائی کی ساتھی ہے اور شاید چند سالوں بعد یہ تنہائی ختم ہوجائے اور اس کی بات پوری ہوجائے کہ ہم اگلے جہان میں ملیں گے۔
اور میں سوچتا ہوں یہ خاموش محبت تو بہت ظالم ہوتی ہے انسان کو جلا کر اندر ہی اندر راکھ کردیتی ہے اور میرا دل بھی راکھ ہوگیا ہے مگر اس راکھ میں سے اب بھی صدائیں آتی ہیں۔
’’لالی… لالی… لالی…!‘‘
اور جس روز یہ صدائیں آنا بند ہوگئیں سمجھ لیں کہ وہ میری زندگی کا آخری دن ہوگا اور پھر لالی کی قبر کے ساتھ ایک اور قبر کا اضافہ ہوگیا جی دیکھیے اب بھی آواز آرہی ہے۔
’’لالی… لالی… لالی!‘‘
’’سن رہیں ہیں نا آپ؟‘‘
یہی آواز مجھے یہ یاد دلاتی ہے کہ ابھی میں زندہ ہوں پھر یہ آوازیں آتی رہتی ہیں تو میرا دل پُرسکون رہتا ہے اب تو نہ یہ بے قرار ہوتا نہ مضطرب بس پگلا گردان کیے جاتا ہے۔
’’لالی… لالی… لالی…!‘‘

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close