Hijaab Oct-16

آغوش مادرا

لائیبہ میر/مدیحہ اکرم

لائبہ میر
سلسلہ آغوش مادر کے توسط سے آپ سب سے مخاطب ہوں۔ جیسا کہ آپ سب بھی جانتے ہیں لفظ ’’ماں‘‘ سے جڑے نہ صرف خدائے تعالیٰ کے فرمان اور حدیثیں ہمارے سامنے موجود ہیں بلکہ بے شمار شعراء‘ فقراء اور اہل علم لوگوں نے نجانے کس کس انداز میں اس ایک لفظ کی وضاحت کی اور اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔
’’ماں‘‘ صرف اس ایک لفظ میں نجانے کون کون سا جذبہ پنہاں ہے‘ ایک ماں کی ظاہری خوب صورتی سے قطع نظر خدا نے صرف ایک ماں کے رشتے میں جہاں بھر کی خوب صورتی کو مقید کر رکھا ہے لیکن یہاں میں اپنے ناقص علم و عقل کی بنا پر اپنے ماں باپ کی بے شمار محبتوں قربانیوں کا ایک چٹ مٹا (دھندلا) سا عکس بھی دکھا پائوں گی۔
اس مخصوص سرگوشی اور اس آغوش مادر کے سلسلے نے مجھ پر واضح کیا کہ میرا بچپن جو میرے نزدیک خاصہ ناخوشگوار تھا‘ درحقیقت وہ کتنا عظیم ہے میری اسی بچپن کے اپنوں میں نہ صرف والدین کی صحت‘ توانائی بلکہ وہ ایک ایک پل درج ہے جو میرے ماں باپ کی جوانی کہ مجھ پر یعنی ایک اولاد پر صرف ہوئے اولاد کی زندگی کی نذر ہوگئے۔
میں صرف ایک بیٹی کی ہی حیثیت سے یہ سب نہیں کہوں گی بلکہ میں ایک عام فرد کی نظر سے بھی دیکھوں تو میری امی کو خدا نے نہ صرف بے انتہا ظاہری خوب صورتی سے بلکہ میرے ابو کی طرح سیرت میں بھی سادگی‘ صبر اور وفا کوٹ کوٹ کر بھردی۔
یہاں اگر ابو کا ذکر نہ کروں تو میرے خیال سے ناانصافی ہوگی چونکہ مجھے پروان چڑھانے میں جتنی محنتیں‘ قربانیاں امی کی تھیں اتنی ہی ابو کی بھی۔ ہمارا بچپن کا دور خاصہ مشکل دور رہا‘ باوجود اس کے کہ ہم اوپر نیچے کے پانچ بہن بھائیوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ہانڈی روٹی اور ڈیڑھ صدی کے پرانے مکان کو روزانہ نئے سرے سے گھر بنانا اور ڈھیروں ذمہ داریاں امی کے ذمہ تھیں (چونکہ تب تک دادو کی فوتگی ہوچکی تھی) اور ابو کی دن بھر ہمارے لیے بھاگ دوڑ اور رات کو جاگ جاگ کر ہم سب کو پنکھا جھلنا‘ سب مائوں کی طرح بچوں کی بدتمیزی پر ہلکے سے ایک دو تھپڑ لگا کر بچوں کے ساتھ خود بھی رونا اور ابو کا ہماری غلطیوں پر تنبیہ کرنا (کبھی کبھی غصے میں) اور غصے کے اثرات کو مٹانے کے لیے چیزوں کے ڈھیر لگادینا بقول عائشہ کے ظاہری پیار نہیں جتاتے میرے والدین بھی جس پر اکثر مجھے اعتراض بھی رہتا تھا اور میری امی کے نہ صرف سب جاننے والے گرویدہ ہیں بلکہ ان میں میری آپی اور بابو جی (دادا‘ دادی) بھی سرفہرست تھے۔ امی کو بالکل اپنی بیٹیوں کی طرح چاہتے تھے اور بقول دادو کے شاہجہاں (امی) میری بڑھاپے کی لاٹھی ہے۔ ان کے بعد ایک نانو ہی تھیں جنہوں نے ہر حال میں اپنی طرف سے ہر طرح ہمارا ساتھ دیا‘ مجھے امی ابو سے بھی زیادہ نانو سے پیار تھا اور ہے‘ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے‘ آمین۔ میری بے وقوفانہ حرکتیں بھی تک جاری و ساری ہیں جن پر دن بھر میری کلاس ہوتی رہتی ہے لیکن جب کبھی رات کو آنکھ کھلتی تھی تو سوچتی ہوں اگر میرے ماں باپ کے احسان سمندر کے برابر ہیں تو اس کے برعکس میرے عمل اتنے بھی نہیں کہ میں انہیں ایک ذرّے میں شمار کرسکوں۔
نانو کے لیے ماں کے عنوان سے چند نظمیں لکھیں لیکن جو صرف اپنے والدین کے لیے لکھیں خصوصی طور پر وہ چند سطریں آپ کی نذر۔
اللہ ہم سب کو اپنے فرماں بردار اور پسندیدہ انسان کی حیثیت سے دنیا میں ٹھہرائے‘ مین۔
سایہ تیرا سر پر میرے رہے بابل ہزاروں سال
میں بیٹی ایسی ثابت ہوں نہ ہو زندہ کہیں مثال
٭…٭
صدا مہکے تیرے وجود سے میرے دل کا جہاں میری ماں
ایک پل بھی دکھ نہ ملے تجھے میں رہوں نہ مرکے بھی تجھ سے جدا
٭…٭…٭…٭
مدیحہ اکرم
حجاب کا سلسلہ ’’آغوش مادر‘‘ جب پہلی بار پڑھا تو بے اختیار ہی میرا دل چاہا کہ میں بھی اس میں لکھوں مگر قلم تھامنے کے بعد یہ حقیقت مجھ پر پوری طرح آشکار ہوگئی کہ ماں سے محبت کا جو وسیع سمندر دل میں ہمہ وقت موجزن رہتا ہے اس کے شایان شان تو کوئی ایک لفظ بھی نہیں بن پارہا کہ جسے میں قرطاس پر سجا سکوں اور اگر اس بے پایاں محبت کے سمندر کو چند لفظوں کا پیراہن پہنا بھی دوں توتشنگی نے ہنوز برقرار ہی رہنا ہے مگر پھر بھی…!
ماں کی محبت سے متعلق اپنا لکھا ہوا ایک شعر
قاصر ہے قلم میرا بے پا ہیں جذبے کہ بکھریں قرطاس پر
چشم و دل ہیں سر پا رشک تری محبت کے ہر انداز پر
میری نظر میں دنیا کا سب سے خوب صورت ترین رشتہ ماں کا اولاد سے ہے۔ مجھے اپنے رب پر بے طرح پیار آتا ہے اور دل شکر گزاری کے جذبات سے لبریز ہونے لگتا ہے یہ سچ کے کہ اس نے ماں جیسی عظیم نعمت عنایت فرمائی کہ جس کے وجود کی روشنی ہی میری ہستی کی اندھیری زمین کو ہمہ وقت روشن کیے رکھتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے کہ جس کی طبیعت میں معمولی سی خرابی میرے اضطراب میں کئی گنا اضافے کا سبب بنتی ہے اور میرے دل و دماغ میں بس ایک ہی دعا اٹک جاتی ہے …
’’یا اللہ میری ماں کو فوراً سے پیشتر صحت یاب فرمادے۔‘‘
تقاضا ہائے دنیا داری جب امی کو کہیں جانا پڑجائے اور پھر جب تک امی نظروں سے اوجھل رہیں تو وہ لمحات جانے کیوں مجھے نہایت ہی گراں معلوم ہونے لگتے ہیں اور جب تک امی لوٹ کر نہیں آجاتیں میری نظریں گاہے بگاہے دہلیز پر ہی اٹھتی رہتی ہیں۔ امی کے بغیر پورے گھر میں ایک خالی پن سا اتر آتا ہے‘ کسی نے بہت ہی ٹھیک کہا ہے کہ…
’’ماں کے بغیر گھر بھی قبرستان کی مانند لگتا ہے۔‘‘
اور پھر جب امی در وا کرتے ہوئے گھر کے اندرونی حصے کی طرف قدم دھرنے لگتی ہیں تو میرے اندر کی کثافت لمحوں میں ختم ہوجاتی ہے۔
ماں! تجھے کیا خبر کہ آہٹیں تری
میری سانسیں بحال کرتی ہیں
جو محبتیں اور دعائیں میں نے اپنی ماں جیسی شفیق اور مہربان ہستی کے طفیل پاؔئیں اپنے تاحال کسی اور رشتے میں نہ پاسکی۔ اب تو ایک دعا لبوں کا احاطہ کیے رکھتی ہے کہ میرے لیے دعا کرنے والے یہ ہاتھ تاحیات سلامت رہیں‘ آمین۔
اب تو ماں ہے کہ میری مسرتیں ماں کی خوشیوں پر منحصر ہیں اور میرے غموں کا تعلق ماں کی افسردگیوں سے ہے۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ میری زیست میں کچھ نہیں سوائے ماں کی محبتوں کے۔ بے حسی اور خود غرضی کے اس دور میں صرف ’’ماں کی محبت‘‘ ہی ہے جو میرا دامن خالی نہیں ہونے دیتی۔ماں کی توجہ و محبت ہی میرا سرمایہ حیات ہے اور زندگی کا ہر وہ لمحہ جس میں ماں کو اپنے لیے پہلے سے بڑھ کے حساس پائوں‘ میری زندگی کا حاصل ہے۔
اپنی ماں کی مشقتوں سے مزین زندگی پر جب نظر دوڑاتی ہوں تو اپنے اندردور دور تک ڈھیروں ڈھیر اداسیاں اترتی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہیں اور بے اختیار ایک ہی دعا دل میں گھر کرلیتی ہے کہ یارب! میری ماں کو اتنی آسانیاں عطا فرما کہ وہ گزرے وقت کے سارے کٹھن لمحات بھول جائیں‘ آمین۔
المختصر میری ماں میرا عشق ہیں‘ ماں کی مسکراہٹیں میری زندگی کا اجالا ہیں۔ ماں کی محبتیں میری کل کائنات اور ماں کی دعائیں میرا سرمایہ حیات ہیں۔
خدا سے دعا ہے کہ وہ ہر ایک کی ماں جیسی عظیم اور نمول ہستی کو سلامت رکھے اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین ثم آمین۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close