Aanchal Oct-16

ذکر اس پری وش کا

زینب احمد

السلام علیکم! ڈئیر ریڈرز کیا حال چال ہے؟ امیدکرتی ہوں سب کے مزاج اچھے ہوں گے اور دعا کرتی ہوں کہ میرے حال چال کے اختتام تک اللہ پاک آپ سب کے نازک مزاجوں کو درست زاویے پر رکھیں۔ بس بس حال چال بہت ہوگیا اب اصل تعارف کی طرف آتے ہیں‘ ہاں تو مابدولت باتونی صاحبہ کو عمارہ شاہ اور بہت لاڈ پیار کا نام گالالی ہے میرے بعد (مریم) ہے میری دوسری بہن جو اپنے نام کے بالکل الٹ ہے یعنی مجھ سے زیادہ باتونی اور فیشن ایبل ہے اور لاسٹ میں میری بہت زیادہ اچھی اور میرے دل کے بہت قریب میری سویٹ سی پری بہن (جویریہ) ہے جو ایک بہن ہونے کے ساتھ ساتھ میری بیسٹ فرینڈ بھی ہے۔ مابدولت نے دل کے سارے خفیہ راز اس کے دل کے اکائونٹ میں سیو رکھے کیونکہ مابدولت کو اپنی بہن پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے۔ ڈئیر فرینڈز اب مابدولت کو ذرا اپنی خوبیاں اور خامیوں کی طرف لے چلیں‘ ذرا ہاں پہلے بات کرتے ہیں خامیوں کی تاکہ خوبیاں پھر ذرا آرام سے بیان کرلیں۔ بات بات پر رونا‘ ضد‘غصہ اور کچھ کچھ بدتمیز بھی۔ کیا کروں فرینڈز چاہ کے بھی ان خامیوں کو دور نہیں کرسکتی اور بہت چاہ کے بھی دور نہیں ہوتی۔ زندگی میں اپنے سے وابستہ ہر پیارے رشتہ کو انہی خامیوں کی وجہ سے بہت تکلیف دی ہے بہت ہرٹ کیا ہے سب کو۔ اب چاہے جتنی دفعہ بھی ان سب سے معافی مانگ لوں کچھ نہیں ہوسکتا نہ ہی وہ دن میں واپس لاسکتی ہوں بس زندگی میں مجھے یہی ایک واحد غم ہے کہ میں نے کیوں اپنے پیاروں کو ہرٹ کیا۔ اچھا فرینڈز اب خوبیوں کی بات ہوجائے۔ خوبیاں تو بس ذرا سی ہیں اپنی ہر غلطی کا فوراً احساس ہوجانا‘ غریبوں اور دکھی لوگوں کی مدد کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانا اور زندگی سے ناراض لوگوں کو ہر ممکن طرح سے خوش کرنا اور رکھنا۔ خوبیاں اور خامیاں ختم‘ اب آگے بڑھتے ہیں کچھ اور کھانا پینا میرا بہت سمپل ہے مطلب میں صرف زندہ رہنے کے لیے کھاتی ہوں۔ گوبھی‘ کدو‘ بریانی (چکن‘ آلو دونوں کی) بھنڈی‘ مٹر پھلی اور آلو چپس یہ میری فیورٹ ڈشز ہیں۔ مشروبات میں روح افزا ود ملک‘ گاجر کا جوس‘ بنانا شیک‘ ملک کافی اور چائے یہ سب میرے فیورٹ ہیں۔ جینز‘ ٹرائوزر اور کُرتے پہننا پسند ہے۔ کالا اور سفید رنگ میرا فیورٹ ہے‘ سونگز مجھے پسند نہیں ہے کبھی کبھی سیڈ سونگ سن لیتی ہوں جب بہت اداس ہوتی ہوں۔ کمپیوٹر سے موبائل پر گیمز اور ہارر موویز ڈائون لوڈ کرنا فیورٹ کام ہے۔ فرینڈز میں ایک اور کام میں بھی سست ہوں میں صرف تین وقت کی نمازپڑھتی ہوں‘ فجر‘ مغرب اور عشاء چاہ کے بھی ہر بار کام کی وجہ سے صرف تین وقت کی نماز ہی ہوپاتی ہے۔ سویٹ فرینڈز پلیز دعا کریں میں پانچ وقت کی نمازی بن جائوں‘ مجھے بے حد مخلص لوگ پسند ہیں اس لیے میری زندگی میں بہت ہی کم انسان میرے فرینڈ ہیں۔ میری بیسٹ فرینڈ صرف دو ہی ہیں(شائستہ آپی اور گلشن آپی) مجھے اپنی یہ دونوں سسٹرز‘ فرینڈ اس حد تک پیاری ہیں کہ اگر کبھی ان کے لیے جان بھی دینی پڑے تو مجھے خود کی پروا نہیں ہوگی کیونکہ ان دونوں نے زندگی کے ہر قدم پر ثابت کرکے دکھایا ہے کہ میں ان دونوں کو بہت پیاری ہوں۔ بس میری دعا ہے کہ اللہ پاک ان کو بہت سویٹ‘ لونگ اور کیئرنگ ہمسفر عطا کرے‘ آمین۔ ڈئیر فرینڈز بس دو منٹ برداشت کرلیں۔ اس سال گریجویشن سے فارغ ہوئی ہوں یعنی بی اے فائنل ائر ‘ ان شاء اللہ آگے لاء میں ایڈمیشن لوں گی کیونکہ یہ میرے بچپن کا خوب ہے کہ میں ایک کامیاب وکیل بن کے اس ملک کے غریب لوگوں کو انصاف دلاسکوں۔ اوکے فرینڈز کوشش کریں کہ زندگی میں کبھی بھول کر بھی اپنے سے وابستہ پیارے رشتوں کو ذرا سا بھی دکھ نہ دیں کیونکہ وقت سب کچھ ٹھیک تو کرسکتا ہے مگر کھوئی ہوئی محبت کو کبھی واپس نہیں لاسکتا اور دوسری بات انسانوں کا ساتھ اور دوستی میں کبھی بھی ضرورت کو نہ دیکھیں۔ او کے فرینڈز میری بور سی باتیں سن کے کیسا لگا مجھے ضرور بتایئے گا‘ اپنا خیال رکھیں‘ خوش رہیں‘ اللہ حافظ۔

ڈئیر حجاب اسٹاف اینڈ قارئین‘ آپ سب کو میرپیار بھرا سلام قبول ہو‘ کیا حال چال ہے‘ میری دعاؤں سے سب ٹھیک ٹھاک ہوں گے‘ خدا کے فضل و کرم سے میں بھی فٹ فاٹ ہوں‘ پہلی بار حجاب میں لکھنے کی ہمت اور جسارت کی۔ آئی ہوپ کہ آپ مجھے مایوس نہیں کریں گے‘ مائی نک نیم سحرش گھر والے سبھی اسی نام سے بلاتے ہیں۔ مابدولت نے 14 ستمبر 1995ء میں پاکستان کے خوب صورت شہر جنڈانولہ میں آنکھ کھولی مجھے کائنات کی خوب صورتی بہت متاثر کرتی ہے ایف اے (اکنامکس) کررہی ہوں۔ اسکول لائف کو بہت انجوائے کیا اب جنڈانوالہ کے اکلوتے کالج میں لائف بہت زیادہ ٹف ہوگی۔ پڑھنا‘ پڑھنا اور بس پڑھنا‘ مجھے پڑھنے کا بہت زیادہ شوق ہے۔ کتابوں سے سچا عشق ہے‘ ہر انسان میں خوبیاں اور خامیاں ہوتی ہیں۔ خامی یہ ہے کہ انسانوں کو پرکھ نہیں سکتی‘ جو میٹھا بول دے وہ اچھا لگتا ہے چاہیں وہ اندر سے کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔ سیکنڈ یہ کہ بہت زیادہ ضدی ہوں اپنی زندگی تو برباد کرسکتی ہوں لیکن ضد نہیں توڑ سکتی۔ خوبی یہ ہے کہ نہ کسی کو دکھ دیتی ہوں نہ ہی کسی کا دکھ برداشت کرسکتی ہوں‘ اگر کوئی مجھ سے ناراض ہوجائے۔ میری غلطی نہ بھی ہو فوراً سوری کرلیتی ہوں‘ محبت میں کسی کو دھوکہ نہیں دیتی۔ کلر بلیک اور پنک پسند ہے‘ جیولری میں جھمکے اور کنگن پسند ہیں۔ ہاتھوں پر مہندی بڑی ٹاپ کی لگتی ہے ڈریس فیشن کے لحاظ سے ہر طرح کا پہن لیتی ہوں۔ کھانے میں جو دل کو اچھا لگے کھالیتی ہوں‘ نخریلو بالکل نہیں ہوں‘ کوکنگ کرنا‘ صفائی اور کپڑے پریس کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ ڈاکٹر اور مجاہد لوگ بہت اٹریکٹ کرتے ہیں‘ سیڈ شاعری اور سیڈ سونگ کی دیوانی ہوں۔ بہت کم گو ہوں‘ زیادہ بولنے والے لوگ بہت بُرے لگتے ہیں‘ تنہائی پسند ہوں۔ بلیک ڈریس اور بلیک کنگن پہن کر سنہری بالوں کو کھلا چھوڑ کر بارش میں نہانا ہائے بہت مزا آتا ہے۔ پسندیدہ شہر مدینہ منورہ اور شاہ چین‘ پسندیدہ ہستی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ماما‘ پاپا اور اپنے پانچوں چاند سے بھائی اساتذہ میں ٹیچر شاہین‘ نازیہ اور کوثر بہت اچھی ہیں‘ خدا ان کو زندگی میں خوشیاں ہی خوشیاں عطا فرمائے‘ آمین۔ جن لوگوں سے ایک بار ملاقات ہوجائے وہ اپنے بن جاتے ہیں‘ میری بیسٹ فرینڈ سمیرا نازش‘ حمیرا اسلم اور سارہ خان بہت اچھی ہیں۔ صائمہ تو بہت ہی اچھی ہے‘ چھوٹی پھوپو بہت اچھی لگتی ہے۔ اپنے پیارے آنچل وجحاب کے بغیر مجھے اپنی ذات بہت ادھوری لگتی ہے‘ آنچل و حجاب میری جان اور ان سے وابستہ ہر چیز مجھے بہت عزیز ہے آنچل و حجاب سے دوستی کبھی بھی نہیں توڑ سکتی کیونکہ اس سے میرا رشتہ بہت مضبوط اور اٹوٹ ہے۔ایک پیغام آپ سب کے نام‘ کبھی بھول کر بھی ماں کو مت رُلانا‘ تمہاری ایک غلطی پورے عرش کو ہلادے گی لیکن ماں کی یک دعا تمہاری زندگی بنادے گی خود روئے گی مگر تم کو ہنسا دے گی۔ اجازت چاہتی ہوں اگر سانسوں نے وفا کی تو پھر ملاقات ہوگی۔
السلام علیکم! میرے پیارے حجاب کی پیاری پیاری شہزادیوں (بے شک میں نے تم سب کو دیکھا نہیں ہے لیکن چلو کوئی بات نہیں۔ اس دنیا میں سب چلتا ہے اگر کوئی پری میرے سب کو شہزادی مخاطب کرنے پر خفا ہے تو جلدی سے اب اپنا موڈ ٹھیک کرلے) اور سنائیں جناب کیا حال چال ہیں (ارے تم سب بھی سوچ رہیں ہوں گی کہ اپنا تعارف کروایا نہیں اور حال چال بھی پوچھنے والا) اوکے جناب ہم اپنا تعارف بھی کرائے دیتے ہیں۔ میں ہوں مدیحہ شفیع عرف مدو ‘ مانو‘ آپی زاہدہ کی شہزادی‘ آہم۔ پاکستان کے پیارے سے شہر بورے والا کی رہائشی ہوں‘ جو میرے لیے ہر دل عزیز شہر ہے کیونکہ بورے والا سے میری تمام یادیں جڑی ہیں اینڈ اپنی ایج نہیں بتاسکتی کیونکہ ہر لڑکی کی طرح میں بھی اس معاملے میں بہت ٹچی ہوں (اب یہ مت سمجھ لینا کہ ‘ ہاہاہا) اور میں بھائی عمر سے (سب سے چھوٹا) بڑی ہوں‘ آہم)۔ اب میں سوچ رہی ہوں کہ اپنی سوچ تک رسائی آپ سب کو بھی کرادی جائے (جناب ہر کام سوچ سمجھ کر کرتی ہوں نا‘ اس لیے) لیکن محترمہ حافظہ نازیہ عبد الحمید صاحبہ اب یہ مت کہیے گا کہ دوستی اور محبت سوچ سمجھ کر ہی کرنی تھی کیونکہ ہم نے یہ کام بہت سوچ سمجھ کر ہی کیا تھا‘ کیا یار مجھے خود پر بھی بلیو نہیں ہوتا کہ میں نے محبت کی ۔ وہ بھی ایک لڑکی سے (آئی مین تم سے) لیکن ایک بات ہے (میں نے محبت تو سوچ سمجھ کر نہیں کی تھی البتہ اقرار سوچ سمجھ کر ہی کیا تھا) میں نے تمہارا غرور توڑنا تھا‘ سوری تمہارے منہ سے اپنے لیے پسندیدگی کے الفاظ سننا تھے جو ہمیشہ تمہاری آنکھوں میں‘ میں نے دیکھے اور ایک راز کی بات بھی بتاتی چلوں‘ میں انہیں سچے جذبات کو اگنور کرنے کے لیے تمہاری غلافی آنکھوں میں نہیں دیکھتی تھی۔ اظہار تو خیر بہت پہلے سے ہی ہوچکا تھا‘ ہے ناں۔وہ مجھے (نازیہ عبد الحمید) نویں میں ملی ‘ میری ہی کلاس فیلو تھی۔نجانے کیسے محبت ہوگئی پتا ہی نہ چلا‘ مجھے محبت کا نہ تو معلوم تھا کہ یہ کیا چیز ہے اور نہ ہی کبھی کسی سے ہوجانے کی دعا کی تھی اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا۔ وہ بھی ایک مغرور لڑکی سے‘ توبہ توبہ… اُف یہ محبت… پاگل کردیتی ہے یہ محبت‘ یار ایک ایسی لڑکی تھی میں جو محبت کا مذاق اڑاتے نہ تھکتی تھی اور اسی محبت نے مجھے اپنے جال میں کیسا جکڑا یہ تو کوئی مجھ سے پوچھے‘ لیکن بتائے سے بھی بتائی نہ جائے گی یہ داستانِ عشق و غم۔ محبت کا مذاق اڑانے والوں کے نام ایک نظم
اڑایا کرتی تھی مذاق میں بھی
اس محبت کا
دیا کرتی تھی نام اس کو
دل لگی کا
نجانے کیسے یہ محبت
مجھے بھی ہوگئی؟
کیا چیز ہے یہ محبت
نجانے میں کہاں
کھوگئی…
مجھے بھی محبت ہے
اک بے وفا سے
کیا کرتی ہوں اقرار میں بھی
اس محبت کا…
اور اب لوگ اڑاتے ہیں مذاق
میری محبت کا…
فرق صرف اتنا ہے کہ
دیا کرتے ہیں وہ نام اس کو
دل کی لگی کا…
آواز بھرائی ہوئی‘ آنکھوں میں نمی‘ ہونٹوں پر اب جانے کتنے سالوں سے خاموشی کی برف جمی ہے۔ دل اداس‘ اس کی حسین یاد‘ دھڑکن جیسے ویرانے میں دھڑک رہی ہو‘ میں محفل میں ہوتے ہوئے بھی اکیلی‘ بھیڑ میں بھی تنہا (ارے کس لیے محبت جو ہوئی تھی‘ ایک مغرور سے‘ اُف…) سوری پلیز اگر آپ میں کوئی بھی میری محبت کا رونا سن کر ڈسٹرب ہوا ہو‘ میں بھی کیا لے کر بیٹھ گئی۔ گفٹس دینے کا بے حد شوق ہے اور کسی کی برتھ ڈے پر میں ہی سب سے زیادہ پرجوش دکھائی دیتی ہوں‘ آہم… (سوری یار نازی! تمہیں دینا تھا لیکن آگے تم خود سمجھ دار ہو‘ اب تو اس بات کو سال ہا سال بیت گئے‘ آہ) ڈائجسٹ پڑھنے کا بے حد شوق جو اب میرا جنون و حاصل ہے (جناب ایک عدد لکھاری بھی ان شاء اللہ آپ کی دعائوں سے جلد ہی ضرور بن جائوں گی) لکھنے کا شوق تو بچپن سے ہے اور اب… خوابوں کی دنیا سے دور بھاگتی ہوں کیونکہ حقیقت یکسر مختلف ہوتی ہے۔ لباس میں پاجامہ ود لونگ کرتا یا فراک رنگوں میں ریڈ کلر ازمائی موسٹ فیورٹ کلر اینڈ اس کے بعد وائٹ اینڈ بلیک یا پنک۔ کھانے پینے کا ذرا خیال نہیں رکھتی کیونکہ اس چیز کا اتنا شوق نہیں (اس لیے بے حد اسمارٹ ہوں عقل سے بھی) اللہ کی ذات پر بھروسہ قائم رکھنا چاہتی ہوں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میری آئیڈیل میری پیاری سی سسٹر (مون) ہے جو مجھ سے بڑی ہے۔ پھلوں میں سب سے زیادہ انگور ہی پسند ہیں جو کہ انگوروں کے موسم میں خوب اڑاتی ہوں‘ آئی مین بہت کھاتی ہوں اوکے جناب اب اللہ حافظ۔

پیارے قارئین آنچل اسٹاف اینڈ رائٹرز کو محبت بھرا سلام قبول ہو تو جی جناب کیسے ہیں آپ کیا کہا نہیں پہچانا تو کوئی بات نہیں۔ ہم آپ کو اپنا تعارف کرادیتے ہیں توہم سے ملئے ہم کو مہرین آصف بٹ کہتے ہیں بٹ ہماری کاسٹ ہے بچپن سے ہی نام کے ساتھ لکھتے آرہے ہیں یہی پہچان ہے۔ جنت نظیر وادی کشمیر کی خوب صورت سی وادی سہنسہ آزاد کشمیر سے ہمارا تعلق ہے یہاں کے لوگ ملنسار پیار کرنے والے مہمان نواز ہیں‘ آزمائش شرط ہے۔یہاں کی زیادہ آبادی پڑھے لکھے افراد پر مشتمل ہے۔ ہماری ڈیٹ آف برتھ 18 اکتوبر ہے‘ ہم دراز قامت خوب صورت نرم و نازک حسین ذہین و اسمارٹ سے ہیں وہ کیا ہے نا کہ غرور نہیں کیا ماشاء اللہ تو کہہ دو نظر ہی نہ لگ جائے کہی خیر کیوں کہ کشمیری جو ٹھہرے۔ ہائے رے خوش فہمی‘ ویسے ہماری فیملی کی تمام لڑکیاں لڑکے دراز قامت حسین و ذہین ہیں۔ ارے ارے یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ عموماً لوگوں کی رائے یہی ہوتی ہے آپ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں۔ آپ بھی کیا سوچ رہے ہوں گے ہم نے کیا تعارف کے بجائے اپنی تعریفیں شروع کردی تو پھر آگے ہوجائے۔ ہمارے والد محترم تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ والدہ گھریلو خاتون خانہ کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ ہم سے بڑے دو بہن ایک بھائی جبکہ دو بھائی ایک بہن جھوٹے ہیں۔ ہماری فیملی کا شمار تعلیم یافتہ افراد میں ہوتا ہے‘ ہمارے خاندان کے 90 فیصد افراد تعلیم یافتہ ہیں جہاں تک ہماری تعلیم کا تعلق ہے تو مابدولت بی اے کی اسٹوڈنٹ ہیں۔ فیورٹ سبجیکٹ ہسٹری‘ ایجوکیشن اینڈ ادب ہے‘ مستقبل میں صحافت یا ایجوکیشن ان میں سے کسی شعبے کو اپنائں گے ان شاء اللہ ۔ فیورٹ ٹیچر میں صغریٰ ہیں‘ جس شخصیت نے سب سے پہلے متاثر کیا وہ ہمارے والد صاحب ہیں جو کہ اچھے استاد و باپ کے علاوہ بہت چھے شاعر بھی ہیں اگر وہ باقاعدہ اپنی کتب کی اشاعت کراتے تو اچھے شاعروں میں ان کا بھی شمار ہوتا ہسٹری سے ان کو بہت لگائو ہے اچھے وکیل بھی بن سکتے ہیں کہ اس شعبے میں بھی ان کی کافی معلومات ہیں۔ پسندیدہ شخصیت میں سرفہرست حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہؓ حضرت خالد بن ولید ہیں پسند و ناپسند کی بات کی جائے تو بارش کے بعد کا موسم گیلی مٹی کی خوشبو پسند ہے اکثر بارشوں کا موسم اداس کردیتا ہے۔باغبانی سے لگائو ہے‘ ہرے ہرے پودے و پھول بہت پسند ہیں۔ پھولوں میں رات کی رانی موتیے کے پھول اور گلاب بہت پسند ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے گھر میں ہر قسم کے ہرے بھرے پھول ہیں جو کہ ماحول کو دلکش بناتے ہیں۔ موسموں میں سردیوں کا موسم بہت پسند ہے فجر اور مغرب کا وقت گرمیوں کی راتیں اچھی لگتی ہیں خصوصاً رات کو ڈوبتے چاند کا نظارہ کرنا اچھا لگتا ہے شاعری سے کافی لگائو ہے ایسی شاعری پسند ہے جو دل کو چھوجائے۔ فیورٹ شاعر علامہ اقبال‘ فیض احمد فیض ہیں۔ چھوٹے بچے پسند ہیں ان کی معصومیت بھری باتیں شرارتیں اچھی لگتی ہیں‘ بچپن سے تنہائی پسند ہوں دل کی ہر بات کسی سے شیئر نہیں کرتی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے معاملے میں کنجوس ہوں کہ دوست بنانا پسند نہیں ویسے دعا سلام کی حد تک کئی دوست ہیں پر جس سے دل کی بات شیئر کی جائے ایسی کوئی نہیں۔ اپنی سسٹرز اینڈ کزنز سے بھی دوستی ہے‘ پھلوں میں آم ‘ آڑو پسند ہیں۔ کھانے میں جو اچھا کھانا چٹ پٹا ہو‘ پسند ہے۔ اپنی فیملی کے برعکس چاول خاص پسند نہیں مگر تناول فرماتے ہیں۔ جہاں تک خوبیوں خامیوں کی بات ہے ہر انسان میں پائی جاتی ہیں انسان جتنا اپنے آپ کو جانتا ہے اتنا کوئی اور نہیں۔ میری نظر میں مجھ میں جو غلطی ہے وہ یہ کہ قوت برداشت کی کمی ہے دو تین سال پہلے تو سب ٹھیک تھا پر اب ذرا سی بات جذباتی کردیتی ہے۔ غصہ جلد آجاتا ہے غصے کی حالت میں کھانا چھوڑ دیتی ہوں مگر پانی نہیں کہ پانی ہماری کمزوری ہے‘ غصے کی حالت میں خود کو کمرے تک محدود کرلیتی ہوں‘ جلد ہی غصہ اتر جاتا ہے کبھی کبھار دوسرے بھی غصے کا نشانہ بنتے ہیں‘ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ لباس میں شلوار قمیص چوڑی دار پاجامہ بھی بڑا سا ڈوپٹہ پسند ہے۔ جیولری میں رنگ اور بریسلیٹ پسند ہے‘ میوزک وہ جو سن کر اچھا لگے۔ اپنے خاندان کی جو سب سے زیادہ بات پسند ہے ہمارے خاندان میں لڑکیوں لڑکوں کو برابری کی سطح پر حقوق دیئے جاتے ہیں انہیں اعلیٰ تعلیم بلکہ وراثت میں ان کا حق دیا جاتا ہے۔شادی کے معاملے میں ان کی مکمل رضا مندی لی جاتی ہے اور برادری سے باہر شادی کرنا غلط نہیں سمجھا جاتا۔ سیرو سیاحت کی شوقین ہوں کہ پوری دنیا گھومنے کی خواہش ہے سب سے پہلے اپنا ملک ہماری دعا ہے کہ کشمیر جلد آزاد ہو کہ ہم اپنے پورے ملک کو اکٹھے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مطالعہ کے بہت شوقین ہیں ہر قسم کی کتب زیر مطالعہ رہتی ہیں۔ ایک اور بات اپنے بارے میں بتادیں کہ ہمیں جھوٹ سے نفرت ہے‘ ہمیشہ کوشش ہوتی ہے سچ بولنے کی یہ تو نہیں کہوں گی کہ کبھی جھوٹ نہیں بولا بہت کم بولا ہے۔ ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میری وجہ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے‘ کسی سے محبت کرتی ہوں تو ٹوٹ کر اگر کوئی دل سے اتر جائے تو اس سے ملنا گوارہ نہیں کرتی‘ انا پرست ہوں جو کہ غلط بات ہے اگر کوئی برا کہہ دے جب تک معافی نہ مانگ لے معاف نہیں کرتی۔ دوسرے مجھ پر اعتبار کرتے ہیں جبکہ میں کسی پر اعتبار نہیں کرتی کبھی کسی کا اعتبار نہیں توڑا۔ مذہب کے زیادہ قریب ہوں آج کل کے حالات سے بہت تکالیف ہوتی ہے مسلمان آپس میں لڑرہے ہیں یہ کون سی چیز انہیں آپس میں لڑوارہی ہے جبکہ ہمارا مذہب تو اس سب کی اجازت نہیں دیتا ‘ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے‘ آمین۔ کھیلوں میں کرکٹ پسند ہے ویسے آج کل کرکٹ ٹیم کے حالات بھی ملکی حالات کی طرح چل رہے ہیں‘ دعا ہے جلد بہتر ہوں۔ ہمیں دیجیے اجازت اگر زندگی نے وفا کی تو پھر ملاقات ہوگی‘ دعائوں میں یاد رکھیے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close