Hijaab Oct-16

حمد و نعت

وجد چغتائی/ادیب رائے پوری

حمد باری تعالیٰ

ذرہ ہوں آفتاب کی توصیف کیا لکھوں
کرنیں ملیں کرم کی تو حمد و ثنا لکھوں
تیری صفات و ذات میں تفریق ہے عبث
جلوہ لکھوں تجھے کہ میں جلوہ نما لکھوں
واحد کہوں، وحید کہوں، حامد و حمید
تجھ کو حکیم و حاکمِ روز جزا لکھوں
قیوم بھی، قدیم بھی ہے تو عظیم بھی
مطلق لکھوں، صمد لکھوں، رب العلیٰ لکھوں
ذروں کو آفتاب کے جلوے عطا کیے
اس سے سوا میں اور کیا تیری عطا لکھوں
عالم نیا ہو روز مرے وجد و حال کا
مضمون تیری حمد کا ہر دم نیا لکھوں

وجد چغتائی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

در سے غلام آپ کے سر کو اٹھائیں کس طرح
چھوڑ کر آپ کا دربار جائیں تو جائیں کس طرح
آنکھ کو گر منا لیا دل کو منائیں کس طرح
فصل بہار لٹ گئی پھول کھلائیں کس طرح
آپ کے در کی حاضری اہل جنوں کی عید تھی
کعبۂ دل کو توڑ کر عید منائیں کس طرح
صبح دیار آپ کی نور حیات جاں مری
نور سے تیرگی میں پھر لوٹ کے جائیں کس طرح
چوم کے جالیوں کو ہم بھول گئے تھے سارے غم
پھر سے غمِ حیات میں دل کو پھنسائیں کس طرح
لوٹ کے اب چلے غلام لیجیے آخری سلام
پھر سے غلام آپ کے لوٹ کے آئیں کس طرح
گنبد سبز دیکھ کر روح میں کیف سر بسر
صبر و قرار اے ادیب روح میں لائیں کس طرح

ادیب رائے پوری

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close