Hijaab Aug-16

ٹوٹکے

خدیجہ احمد

معدے کے امراض کے لیے
ترکیب:
چینی(باریک پسی ہوئی)
ایک پائو
میٹھا سوڈا
ایک چھٹانک
ست پودینہ
ایک تولہ
چینی اور میٹھا سوڈاآپس میں ملائیں اور پھر ست پودینہ اس میں ملا کر خوب رگڑیں اتنا کہ چینی‘ میٹھا سوڈا اور ست پودینہ آپس میں یکجان ہوجائیں۔ کسی ہوا بند ڈبے یا بوتل میں محفوظ رکھیں‘ زیادہ مقدار میں نہ بنائیں‘ نمی کے موسم میں جم جاتا ہے۔ بناتے رہیں ساتھ استعمال کرتے رہیں ساتھ آدھا چمچ کھانے کے بعد ‘ دن میں تین دفعہ بھی لے سکتے ہیں اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو بار بار بھی لے سکتے ہیں۔
اس کا سب سے پہلا فائدہ تویہ ہے کہ سینے کی جلن‘ پیاس کی زیادتی‘ گرمی کی شدت‘ کھانا ہضم نہ ہونا یا ہضم ہوئے بغیر نکل جانا‘ دائمی قبض ہونا‘ اجابت کھل کر نہ آنا‘ ذہنی تفکرات‘ ذہنی دبائو‘ بچوں کے دست‘ اجابت‘ بچوں کی قے‘ بچوں کا موٹا تازہ نہ ہونا‘ بھوک نہ لگنا‘ طلب غذا کی نہ ہونا‘ تھوڑا سا کھاکر چھوڑ دینا اور بڑوں کے لیے ایسے جوقے متلی سے بدحال ہوجاتے ہیں یا کسی چیز کو کھانے کو جی نہیں چاہتا یا ایسے مصروف لوگ جو وقت بے وقت کھانا کھاتے ہیں پھر انہیں صحیح ہضم نہ ہوتا ہو پیٹ بڑھ رہا ہے‘ جسم میں چربی بڑھ رہی ہے۔ گرمی کے روزوں میں‘ بندش میں‘ جلن‘ پیاس کی زیادتی کو ختم کرتا ہے۔ خاص طور پر افطاری کے بعد جو گھبراہٹ ہوتی ہے اس کے استعمال کرنے سے اس کو فوراً افاقہ ہوتا ہے اگر صبح سحری کے بعد اس کو کھالیا جائے تو سارا دن پیاس‘ بھوک‘ شدت حدت اور نڈھالی سے روزے دار بچا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دوا یعنی سفید پائوڈر دل کی گھبراہٹ کے لیے مفید ہے دل کے وہ مریض جو بائی پاس کراچکے ہیں یا کرانے والے ہوں یا دل کی کسی بھی مرض میں مبتلا ہوں ان کے لیے بہت موثر ثابت ہوا ہے۔
دل کی گھبراہٹ کے لیے‘ اعصاب کے کھچائو کے لیے‘ طبیعت کی بے چینی اور نڈھالی کے لیے‘ ذہن کی اور طبیعت کی تراوٹ کے لیے بہت زیادہ موثر۔ یہ دوا ہر موسم میں مفید ہے‘ یہ صرف موسم گرما کے لیے مخصوص نہیں جتنا فائدہ موسم گرما میں دیتی ہے اتنا ہی فائدہ موسم سرما میں بھی دیتی ہے۔
دمہ … کیا‘ کیوں‘ کیسے؟
دمہ (استھما) یونانی لفظ ازما سے ماخو ز ہے جس کے معنی ہیں ’’سانس کا پھولنا‘‘ چونکہ دمہ میں ’’ازما‘‘ مبتلا مریض کی سانس پھولتی ہے اوروہ ہانپنے لگتا ہے اس لیے اس بیماری کو استھما کا نام دیا گیا ہے۔دمہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں مریض پورے طبعی طریقے سے سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے اور پیہم کھانسنے لگتا ہے جس کی وجہ ہوا کی نالیوں کا سکڑ کر تنگ ہوجانا ہے۔ سانس کی نالیوں سے ایک خاص قسم کی آواز ’’ویز‘‘ نکلتی ہے اور مریض کو سانس لینے میں تکلیف اور دشواری محسوس ہوتی ہے۔ چھاتی پر دبائو محسوس ہوتا ہے اور دمہ کا حملہ شروع ہوتے ہی مریض بے قراری کی حالت میں ہانپنے لگتا ہے‘ اس کے چہرے سے پریشانی کے آثار ٹپکنے لگتے ہیں اور وہ تازہ ہوا (آکسیجن) کی تلاش میں ہاتھ پیرمارتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ چند ثانیے بعد مریض ایک خصوصی پوزیشن اختیار کرلیتا ہے جس سے اسے قدرے راحت ملتی ہے اس دوران دوائیوں کا استعمال کرنے سے وہ تھوڑی دیر بعد پھر سے نارمل دکھائی دیتا ہے۔دمہ کا حملہ کسی وجہ سے کسی بھی وقت ہوسکتا ہے‘ ہر وقت مناسب علاج ملنے سے مریض کو فوری راحت ملتی ہے لیکن کبھی کبھی مریض پے درپے حملوں کا شکار ہوتا ہے۔ اسے اسٹیٹس استھمیٹکس کہتے ہیں۔ یہ ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے جس کا علاج اسپتال میں تحت نظر ماہرین کیا جانا ضروری ہے ورنہ یہ حالت جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
دمہ ایک عام بیماری ہے جو کسی بھی عمر میں لاحق ہوسکتی ہے۔ کُل آبادی میں دس سے بارہ فیصد بچے اور پانچ سے سات فیصدبڑے اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔ مختلف تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ بیماری زیادہ تر بچوں اور (سن بلوغت سے قبل) نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ بچوں میں یہ بیماری یا تو ایک مزمن بیماری کا روپ دھار لیتی ہے یا سن بلوغت کے بعد خودبخود غائب ہوجاتی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ثابت کیا جاچکا ہے کہ اگرچہ یہ بیماری عمر کے کسی بھی موڑ پر گھیر لیتی ہے مگر پچاس فیصد افراد عمر کے دسویں سال سے پہلے ہی اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جہاں تک بالغ افراد کا تعلق ہے مرد وزن یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں مگر بچوں میں لڑکوں‘ لڑکیوں کا تناسب 2.1 ہے یعنی لڑکوں میں بیماری زیادہ پائی جاتی ہے۔
مجموعی طور پر دمہ کی دو قسمیں ہیں
(۱) خارجی‘ ظاہری یا حساسیتی الرجی
(۲) باطنی‘ داخلی یا غیر حساسیتی الرجی
دمہ خارجی‘ ظاہری یا حساسیتی زیادہ عام ہے جو عام طور پر بچپن میں ہی شروع ہوتا ہے اس قسم کے دمہ میں مبتلا بچے اور ان کے قریبی رشتہ دار کسی خاص قسم کی حساسیت (الرجی) کے شکار ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کو وقتاً فوقتاً مختلف چیزوں کے ساتھ الرجی ہوتی ہے، جو خاص محرکات خارجی ان کے اندر حساسیت پیدا کرتے ہیں ان میں زرگل (پھولوں کا زیرہ) گھروں کے اندر اٹھنے والے گردو غبار، باریک کیڑے مکوڑے‘ مختلف قسم کی غذائیں اور کچھ کیمیائی مادے قابل ذکر ہیں۔ یہ چیزیں یا ان کی بو سانس لیتے وقت پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہیں اور حساسیت پیدا ہوجاتی ہے جس سے دمہ کا حملہ شروع ہوتا ہے۔
دمہ باطنی‘ داخلی یا غیر حساسیتی دمہ کی یہ قسم سن بلوغت کے بعد شروع ہوتی ہے اس میں فرد نہ تو خود کسی حساسیت کا شکار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی قریبی رشتہ کسی خاص حساسیت کا شکار ہوتا ہے۔ ان افراد میں دمہ کا حملہ کسی وائرسی انفکشن کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ان افراد میں قابل ذکر محرکات خارجی نہیں ہوتے ہیں لیکن دس فیصد مریض دوائیوں کے لیے حساس بن جاتے ہیں جن میں اسپرین قابل ذکر ہے یعنی اگر یہ لوگ اسپرین استعمال کریں تو ان پر دمہ کا حملہ ہوسکتا ہے۔ یہ دمہ کی ایک اور قسم بھی ہے جو کچھ خاص دوائیاں استعمال کرنے سے شروع ہوتا ہے۔
ان دو قسموں کے علاوہ ایک اور قسم کا دمہ ہے جسے مخلوط قسم کہتے ہیں جس میں مریض نہ اولین اور نہ دوئمی قسم میں فٹ ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے (جو عام طور پر ڈاکٹروں سے پوچھا جاتا ہے) کہ دمہ اور الرجی میں کیا فرق ہے؟ الرجی یا حساسیت انسانی جسم کے کسی بھی حصہ کا غیر معمولی ردعمل ہے جو کسی بیرونی حالت یا ایجنٹ کی وجہ سے واقع ہوتا ہے جبکہ دمہ نتیجہ ہے الرجی کا جس کا تعلق سانس کی نالیوں سے ہے۔ دمہ جہاں سانس کی نالی اور پھیپھڑوں سے تعلق رکھتا ہے الرجی جسم کے کسی بھی حصہ کا عکس العمل ہوسکتا ہے۔
دمہ (استھما) تشخیص کرنے میں ڈاکٹروں کو کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ مریض کا شرح حال سن کر ظاہری حالت دیکھ کر اور طبی معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر فوری تشخیص کرتا ہے اور وہ دوائیاں تجویز کرتا ہے۔ دمہ کے مریض کے لیے دوائیاں تجویز کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مریض کی عام زندگی کے معمولات کو برقرار رکھا جائے اور مرض کے بار بار حملوں کو کم کیا جائے۔ اس کے لیے مریض کو مرض کے متعلق تمام معلومات بہم پہنچانا اشد ضروری ہے۔ دمہ میں حملے کے وجوہات یا مرض میں شدت پیدا کرنے کے اسباب مریض کے لیے جاننا بے حد ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے اپنے آپ کو پے درپے حملوں سے بچا سکے جو دوائیاں مریض کے لیے تجویز کی جائیں ان پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے اور کبھی بھی کسی بھی صورت میں دوائیوں کی تعداد نہ ازخود کم کرے نہ زیادہ اور تب تک دوائیوں کا استعمال جاری کیا جائے جب تک ڈاکٹر ہدایت دے کوئی بھی دوائی ڈاکٹری مشورہ کے بغیر استعمال نہ کریں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close