Hijaab Sep-16

شکستوں کا جال

صبا جاوید

کالج کے آہنی گیٹ کے پار‘ ٹریفک کے اژدھام سے گھری سڑک کو عبور کرکے قدرے فاصلے پر امتثال اس کا منتظر تھا۔ قدموں تلے آگ اگلتی زمین‘ سر پر شعلے برساتا آسمان‘ بدن کو جھلساتی حدت سے بھری پُرتپش ہوا‘ موسم کے خطرناک تیوروں اور رکاوٹوں سے بے نیاز وہ محو انتظار تھا۔ تھوڑی دیر بعد سیاہ عبائے میں لپٹا وجود اسے شدید گرمی میں بھی ٹھنڈک اور لطیف احساسات سے دوچار کرنے لگا تھا۔ اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ مچل اٹھی تھا۔ گرے اسکاف کے ہالے میں مقید حسن سمٹ کر آنکھوں میں بس گیا تھا۔ چند لمحوں کی مسافت کے بعد وہ اس کے سامنے تھی۔
’’سوری… مجھے آنے میں دیر ہوگئی اور آپ کو انتظار کرنا پڑا۔‘‘ اس کی کشادہ پیشانی پر پھسلتے پسینے کے قطرے دیکھ کر وہ تفکر وندامت کے ملے جلے اثرات میں بولی۔
’’اٹس اوکے‘ آپ کے انتظار سے بھی مجھے محبت ہے۔ اس میں اس قدر شوریدگی ہے کہ یہ سب مظاہر قدرت مجھے آپ کے ساتھ محبت کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔‘‘ وہ احترام سے بولا۔ جواباً وہ جھینپ سی گئی۔ بہرحال وہ اس کے تاثرات جانچ نہیں پایا کہ وہ نقاب کئے ہوئے تھی۔
ایک گہری نگاہ اس کے متناسب سراپے پر ڈال کر اس نے بائیک اسٹارٹ کردی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اس کے پیچھے بیٹھ جائے۔ فریحہ کچھ ہچکچاتی ہوئی اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔
امتثال اسے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں لے آیا تھا جہاں وہ اکثر وبیشتر ملتے تھے۔ اس نے قدرے کونے والی ٹیبل کا انتخاب کیا۔ جو داخلی دروازے سے کافی فاصلے پر اور نظروں سے کچھ اوجھل تھی۔
فریش جوس کا آرڈر دے کر اب وہ فریحہ کی حرکات وسکنات کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ اس کا مخروطی ہاتھ گود میں دھرا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے وہ ٹیبل کی سطح کھرچ رہی تھی۔ اس کی سفید آنکھوں پر سیا لانبی پلکیں نقاب میں چھپے چہرے کی کشش وخوبصورتی کا چیخ چیخ کر اعلان کررہی تھیں۔ اس نے بڑی محویت سے ان حسین جھکی پلکوں کا نظارہ کیا تھا۔
’’آپ نقاب اتار سکتی ہیں۔ ادھر کسی کی نظر آپ پر نہیں پڑے گی۔ آپ کی داخلی دروازے کی طرف پشت ہے اور ویسے بھی یہ ٹیبل قدرے ہٹ کر ہے۔‘‘ امتثال نے نرمی سے کہا تو اس نے پن کھول کر جیسے چاند کو پردوں کی قید سے آزاد کردیا۔
’’کیا تم اس پُرخلوص اور اجلے حسن سے دستبردار ہوسکتے ہو امتثال۔‘‘ اس کے ملیح چہرے پر نگاہیں ٹھہراتے ہوئے اس نے خود سے سوال کیا۔
’’بالکل نہیں۔‘‘ اس کے دل نے فوراً اس کے حق میں فیصلہ دیا تو وہ بے ساختہ اپنے دل کی حالت پر خود ہی مسکرا اٹھا۔
’’کیا خاموش رہنے کے لیے بلایا ہے آپ نے مجھے۔‘‘ اسے مسلسل چپ کی بکل اوڑھے دیکھ کر امتثال نے خفیف سی چوٹ کی۔
’’نہیں تو۔‘‘ اس کے خمیدہ لب فوراً وا ہوئے اور امتثال کو لگا جیسے چاروں طرف جلترنگ بج اٹھے ہوں۔
’’تو پھر؟‘‘ وہ تھوڑا سا اس کی طرف جھکا۔
’’پاپا کے ایک دوست ہیں‘ ان کا بیٹا امریکہ سے جرنلزم کی ڈگری لے کر لوٹا ہے‘ پرسوں ہانی کی برتھ ڈے پر وہ لوگ انوائیٹڈ تھے۔‘‘ اس نے دھیرے سے بات کا آغاز کیا۔ امتثال بہت غور سے اس کی بات سن رہا تھا اور اس کے یوں خاموش ہونے پر سوالیہ نگاہیں اس کے چہرے پر جمادیں۔
’’انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے مجھے پسند کیا ہے امتثال‘ پاپا انہیں برسوں سے جانتے ہیں‘ میری فیملی کو وہ ہر لحاظ سے میرے لیے مناسب اور موزوں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اس پرپوزل کو ایکسپٹ کرنے والے ہیں۔‘‘ اس کا گلا رندھا۔ اپنی آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کے لیے وہ لمحہ بھر کا توقف کر گئی۔ اتنے میں ویٹر ان کا مطلوبہ آرڈر سرو کرنے لگا۔ دونوں نفوس کے مابین بامعنی خاموشی ٹھہر سی گئی۔ فریحہ نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اٹھا کر اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا جن کی سطح میں نمی ٹھہر سی گئی تھی اور ان آنکھوں کے حزن وملال نے امتثال کو بری طرح تڑپا دیا تھا۔
’’آپ کے پیرنٹس کو جلدی کس بات کی ہے فریحہ‘ ابھی تو آپ کالج میں پڑھ رہی ہو۔‘‘ وہ جھنجلا کر بولا۔
’’ہر ماں باپ کو اپنی بیٹیاں بروقت اپنے گھروں کی کردینے کا خواب ہوتا ہے اور جب قابل غور رشتے آئیں تو ان کی فکریں سمٹنے لگتی ہیں۔‘‘ وہ ناصحانہ انداز میں بولی۔
’’مگر میرے پاس تو ابھی کوئی جاب بھی نہیں ہے فریحہ‘ ایسی صورت میں آپ کے والدین مجھے کسی امریکہ پلٹ پر فوقیت کیونکر دیں گے۔‘‘ وہ کچھ متفکر سا استفہامیہ انداز میں بولا۔
’’میں نہیں جانتی۔‘‘ وہ ناسمجھی کے عالم میں بولی۔
’’تو پھر مجھے کچھ وقت دیں۔‘‘ اس نے ایک ٹھنڈی آہ خارج کی۔
’’چاہے اس وقت سے پہلے مجھے کوئی اور لے جائے۔‘‘ وہ آنکھوں میں خفگی بھر کر جارحانہ انداز میں بولی۔
’’اچھا مجھ سے دور جانے کا اتنا خوف ہے۔‘‘ وہ تمام سنگینیاں بھلا کر شرارت سے بولا۔ جواباً وہ رخ موڑ گئی۔
’’اچھا… زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ صرف میری ہیں‘ اس بات کا یقین رکھیں۔‘‘ اس کے چہرے سے چھلکتے خوف وہراس کو کم کرنے کی خاطر وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا اور محبت کے اس پُروثوق اظہار نے جیسے اس کے خدشات ذائل کردیئے تھے اس کے لبوں کے سنگ اس کی سحر طراز آنکھیں بھی مسکرانے لگی تھیں اور امتثال اس مسکراہٹ پر جان بھی وار سکتا تھا۔
پھر چند ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ امتثال نے بھی لنچ پر رکنے کی ضد اس سے نہیں باندھی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فریحہ کالج سے بلا توقف اس کے ساتھ آئی ہے‘ اس کی مشکلات کا اندازہ کرتے ہوئے وہ بھی بل پے کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
…٭٭٭…
فریحہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی بے ضرر سی لڑکی تھی۔ بے شک زندگی تزئین آرائش اور تعیشات سے آزاد تھی لیکن خدا نے حسن کی دولت سے مالا مال کیا تھا۔ عبدالرحمان اور ان کی زوجہ بھی سیدھے سادھے‘ ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔ فریحہ کی پرورش میں وہ تمام عناصر نمایاں تھے جو کسی شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے والدین اس کی پرورش بہترین خطوط پر کررہے تھے۔ اس سے چار سال چھوٹی ہانیہ عبدالرحمان تھی جو میٹرک کے امتحانات کے بعد فارغ تھی۔ ہانیہ عبدالرحمان سے دو سال چھوٹا عادل تھا جو آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ زندگی اپنی مخصوص ڈگر پر سبک روی سے رواں دواں تھی جب اس نوخیز کونپل سے وجود میں جذبات کی شوریدہ سری جگانے امتثال آپہنچا۔ فریحہ اپنے بی ایس سی کے ایڈمیشن کے فارم جمع کروانے آئی تھی اور امتثال بھی اپنی کسی عزیزہ کے فارم جمع کروانے آیا تھا۔
ایک نظر میں ہی وہ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اس کی دھڑکنوں کو اتھل پتھل کر گئیں اور دھیرے دھیرے وقت کے بہتے دریا نے انہیں غیر محسوس انداز میں محبت کے رشتے سے باندھ دیا۔ فریحہ کے اندر محبت کا پُرکیف سا جذبہ سینچنے لگا تھا۔ محبوب کو چاہنے کے احساس میں اس قدر سرشاری تھی کہ وہ کچی ڈور سے بندھی اس کی جانب کھنچنے لگی۔ پیار کا انوکھا احساس اس کی نس نس میں لہو بن کر دوڑنے لگا تھا۔ امتثال سے دستبرداری گویا اپنے وجود کو فنا کرنے کے مترادف تھا۔ اس کی سنگت میں اسے اپنا آپ بھولنے لگتا تھا۔ جس سفر پر وہ چل نکلی تھی اس سے واپسی ناممکن تھی۔ وہ اکثر وبیشتر اس سے ملنے چلی جایا کرتی تھی اور امتثال کی محبت کا اعتقاد اپنے دامن میں سمیٹ کر واپس آجاتی۔ مگر اب جب اس قصے کو دو سال کا عرصہ بیت چکا تھا اور امتثال اپنی تعلیم مکمل کرکے کسی اچھی نوکری کی تلاش میں تھا تب عبدالرحمان کے دوست کے بیٹے کی نسبت نے محبت کے اس پُرسکون سمندر میں تلاطم برپا کردیا تھا۔
عجیب بے کلی اور بے چینی کا احساس مسلسل وجود میں چٹکیاں بھر رہا تھا۔ چاروں اُور درد پھیلا تھا جو رگوں کو کاٹ رہا تھا۔ دل پر دھڑکن کی رفتار کم کرنے لگا تھا۔ خود سے اس کی جنگ چھڑ گئی تھی۔ امتثال سے دست برداری ناممکن تھی۔
…٭٭٭…
چاہتوں کے تیقن کے ہزاروں تارے آنچل پر ٹانکے وہ پُرامید سی گھر لوٹ آئی۔ امتثال کے الفاظ نے فریحہ کے اندر اطمینان بھر دیا تھا اور صد شکر کہ چند دنوں سے اس کی شادی کا تذکرہ بھی زبان عام نہ تھا۔ اس نے بے ساختہ ہی سکھ کا سانس لیا۔ پھر بی ایس سی کے فائنل امتحانات کے لیے ڈیٹ شیٹ آگئی اور وہ سب کچھ ذہن سے محو کرتے ہوئے پڑھائی میں جت گئی۔ البتہ امتثال کا اعتماد اس کے ہمراہ تھا اور کبھی کبھار میسج پر بات کرکے بھی دل کی بے قراری کو قرار مل جاتا۔
جس دن آخری پیپر دے کر وہ لوٹی تو کچھ رنجیدہ وملول تھی کہ جب تک یونیورسٹی میں ایڈمیشن نہ ہوجاتا امتثال سے ملاقات ناممکن تھی۔ بجھی بجھی سی وہ ڈرائنگ روم کا زینہ پار کررہی تھی جب اسے گھر میں غیر معمولی ہلچل کا احساس ہوا۔ اور تب اس کی روح تک منجمد ہوگئی جب اس ہلچل اور ہڑبونگ کا عقدہ اس پر کھلا۔ وہ ہک دک مسکراتے اور مسکراہٹیں بکھیرتے چہرے دیکھ رہی تھی۔ اپنے دل کی بربادی پر وہ اس قدر ہراساں تھی کہ ایک لفظ زبان سے ادا نہ ہوا اور وہ فریحہ کو اپنے نام کرتے ہوئے رخصت ہوگئے۔
جب تک اپنے دل میں بچھے ماتم کدے کو وہ سمجھ پاتی تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ آنسو دھیرے سے پلکوں کی باڑ پھلانگ کر چہرے پر بہہ نکلے اور وہ بے ساختہ گھٹنوں میں منہ دے کر بے بسی سے رو دی۔
…٭٭٭…
اس کی انگلی میں اشعر ارسلان کی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ ارسلان کے گھر والے اسے اپنے خاندان کا حصہ بنانے پر مہر ثبت کرچکے تھے۔ اشعر ارسلان کو دو ماہ بعد واپس امریکہ جانا تھا لہٰذا ماندہ مراحل بڑی تیزی سے انجام پارہے تھے۔ عجب سی وحشت اسے چاروں طرف سے گھیرے بیٹھی تھی۔ امتثال کے علاوہ اس نے تصور میں بھی خود کو کسی کے ساتھ نہیں سوچا تھا مگر بے بسی کا جان لیوا احساس اس کے وجود میں پنجے گاڑے بیٹھا تھا۔ وہ ہوا کی مخالف سمت کو سمجھ نہیں پارہی تھی۔ اشعر ارسلان کی فیملی جلد شادی پر زور دے رہی تھی لہٰذا ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے عبدالرحمان نے تاریخ دے دی۔
فریحہ بولائی بولائی سی اندر باہر چکر لگا رہی تھی۔ تقدیر کی اس افتاد نے اسے بوکھلا کر رکھ دیا۔ بار بار امتثال کا وجیہہ چہرہ اس کی آنکھوں میں گھوم جاتا‘ خود پر بند باندھتے باندھتے وہ ہلکان ہوچکی تھی مگر امتثال کی محبت ہر شے پر حاوی ہوتی دکھائی دیتی تھی۔ جب دل کسی طور سمجھوتے پر راضی نہ ہوا تو اس نے دوٹوک بات کرنے کی ٹھانی۔ غروب آفتاب کا وقت تھا۔ سورج کی نارنجی کرنیں مغرب کے کناروں پر پھیل کر الوداع کہہ رہی تھیں۔ تب وہ ستے ہوئے چہرے کے ساتھ لائونج میں چلی آئی۔
’’کیا ہوا ہے فری؟‘‘ اسے شکست خوردہ سا دیکھ کر آصفہ بیگم نے متفکر انداز میں پوچھا۔ جواباً وہ زور وشور سے رونے لگی اور اس کے تواتر سے بہتے آنسوئوں نے انہیں مزید پریشان کردیا۔
’’فری… میری بچی کچھ تو بولو۔‘‘ اسے بانہوں میں سمیٹ کر آصفہ بیگم محبت سے گویا ہوئیں۔
’’امی… میں… مم… میں۔ یہ شادی نہیں کرسکتی۔‘‘ آنسوئوں کے درمیان وہ قطعیت سے بولی۔
’’دماغ ٹھیک ہے تمہارا‘ ایک ہفتہ باقی ہے شادی میں‘ اور تم انکار کررہی ہو۔‘‘ آصفہ بیگم نے اسے خود سے الگ کیا اور اسے یوں دیکھا جیسے اس کی صحیح الدماغی پر شک ہو۔
’’میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں امی۔‘‘ اس نے امید ویاس سے سوجی آنکھیں آصفہ بیگم کے ہراساں چہرے پر سجا کر کہا‘ جبکہ وہ دم بخود رہ گئیں۔
’’آج تو تم نے ایسی بات کہہ دی ہے فری‘ مگر آئندہ کبھی میں تمہارے منہ سے ایسی بات نہ سنوں۔ تمہارے پاپا کو پتہ چل گیا تو وہ تمہیں جان سے مار ڈالیں گے۔‘‘ خود کو سنبھالتے ہوئے انہوں نے فریحہ کو سرزنش کی۔
’’مار ڈالیں مجھے‘ جو دکھ وکرب اور اذیت میں سہہ رہی ہوں اس سے موت بھلی ہے۔‘‘ بالوں کو دونوںہاتھوں سے نوچتے ہوئے وہ ہسٹریائی انداز میں چلائی۔
’’فریحہ یہ کیا پاگل پن ہے۔‘‘ اس کے بالوں کو چھڑاتے ہوئے آصفہ بیگم اب کے قدرے سختی سے پیش آئیں۔
اتنے میں عبدالرحمان‘ ہانیہ کو اکیڈمی سے لے کر آگئے اور فریحہ کی ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر پریشان ہو اٹھے۔
’’کیا ہوا ہے میری بیٹی کو؟‘‘ انہوں نے فوراً آگے بڑھ کر اسے کارپٹ سے اٹھایا اور صوفے پر اپنے برابر بٹھایا۔
’’کچھ نہیں… ہم سے دور جانے کے خیال سے رنجیدہ اور بوجھل ہے‘ میں نے سمجھایا ہے آپ پریشان نہ ہوں۔ ٹھیک ہوجائے گی۔‘‘ آصفہ بیگم نے بات سنبھالنے کی کوشش کی تو فریحہ کی شکوہ کناں نگاہوں نے دانستہ ان کے چہرے کا طواف کیا۔
’’بس اتنی سی بات پر میرا بیٹا پریشان ہے۔‘‘ اسے خود سے لگاتے ہوئے عبدالرحمان نے بشاشت سے کہا وگرنہ ان کے دل پر ایک بوجھ سا آن پڑا تھا۔
’’چلو جائو‘ فری جاکر منہ ہاتھ دھولو‘ پھر رات کے کھانے کی تیاری کرو۔‘‘ آصفہ بیگم اسے جلد ہی منظر سے غائب کردینا چاہتی تھیں۔
’’ایسے دل چھوٹا نہیں کرتے فریحہ۔ آپ کا جب دل اداس ہو آپ اپنے مما اور پاپا سے ملنے فوراً آجانا۔‘‘ انہوں نے اسے تسلی دی تو اس کے آنسوئوں میں کچھ اور شدت آگئی تھی۔
’’پاپا مجھ پر یہ ظلم مت کریں۔ میں اس شخص کے ساتھ کبھی مسرت وشادمانی کی زندگی بسر نہیں کرسکتی۔ میرے اندر کسی اور کی چاہت کا جہان آباد ہے‘ اسے بنجر مت کریں پاپا۔ مجھے برباد ہونے سے بچالیں۔‘‘ وہ ہچکیوں کے درمیان ان سے ملتجی لہجے میں بولی۔
’’کیا کہا آپ نے؟‘‘ اسے خود سے الگ کرتے ہوئے عبدالرحمان نے قدرے درشتی سے کہا جیسے اپنی سماعتوں سے گزرنے والی بات کی تصدیق چاہتے ہوں۔
’’ہانیہ آپ جاکر اپنے کمرے میں آرام کرو۔‘‘ کسی انہونی کے پیش نظر آصفہ بیگم نے اسے منظر سے غائب کرناچاہا اور حکم ملتے ہی وہ دو دو سیڑھیاں پھلانگتی فرسٹ فلور کی عمارت میں گم ہوگئی۔
’’پاپا میں کسی اور سے پیار کرتی ہوں۔ وہ بہت اچھا ہے پاپا۔ پلیز آپ اس سے ایک بار مل لیں۔ میں امتثال کے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘ وہ محبت میں دیوانگی سے چلا رہی تھی‘ دونوں ہاتھ عبدالرحمان کے سامنے جوڑے وہ سراپا التجا بنی ہوئی تھی آصفہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائیں۔
’’بند کروا پنی بکواس فریحہ… اور دفع ہوجائو اپنے کمرے میں۔‘‘ آصفہ بیگم اسے مزید گوہر فشانی سے باز رکھنے کی خاطر بولیں۔
’’پاپا پلیز۔‘‘ آصفہ بیگم کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سسکتی ہوئی ان کے قدموں میں بیٹھ گئی اور بیٹی کے منہ سے اس قدر بے باک اظہار محبت سن کر عبدالرحمان کا ضبط ہارنے لگا تھا۔ انہوں نے پورے زور سے قدموں میں بلبلاتی فریحہ کو ٹھوکر ماری تھی۔
ردعمل کے طور پر وہ لڑھکتی ہوئی صوفے سے جاٹکرائی تھی۔ آصفہ بیگم کے منہ سے دل خراش چیخ برآمد ہوئی‘ وہ فوراً اس کی طرف لپکیں جو پیشانی پر بوٹ لگنے کے سبب بوکھلا گئی تھی۔
’’بچی ہے عبدالرحمان… میں سمجھائوں گی‘ غلطی ہوئی ہے اس سے۔ پلیز ایسا سلوک مت کریں۔‘‘ آصفہ بیگم نے تڑپ کر کہا۔
’’آپ ہٹ جائیں آصفہ۔ اس نے میرے اعتماد کا خون کیا ہے۔ اسے میں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ انہیں بازئوں سے پرے دھکیل کر وہ اس پر جھپٹ پڑے تھے۔ فریحہ کو بازو سے دبوچ کر انہوں نے اپنے سامنے کیا اور پھر اس کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کردی۔
’’پاپا میرا جرم کیا ہے؟‘‘ وہ ہچکیاں بھرتے ہوئے گویا ہوئی۔ اس آواز میں سرگوشی تھی اور نوحوں کی سی صدا تھی۔ اس کی بات نے عبدالرحمان کے غصے کو مزید ہوا دی۔
’’تم نے اپنے باپ کے سامنے غیر مرد کا نام لیا ہے۔ تم نے اپنے والدین کے اعتماد پر نقب لگائی ہے۔ تم نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے بے حیائی کا درس چھوڑا ہے۔‘‘ وہ غصے سے بپھرے بولے اور ساتھ ساتھ مکے‘ تھپڑ اور ٹھوکریں لگاتے جارہے تھے۔ آصفہ بیگم کی دہائیاں اور نازک وجود عبدالرحمان کے فولادی وجود اور شیر کی سی دھاڑ کے غصے کو قابو میں لانے سے معذور رہا تھا۔
فریحہ کے منہ سے خون نکل رہا تھا‘ اس کے چہرے پر تھپڑوں کے نشان ثبت ہوگئے تھے۔ اس کے بازوئوں اور گلے پر خراشیں تھیں اور پورا جسم نیل زدہ تھا۔ ان کے ہاتھوں کے وار تب ہی بند ہوئے تھے جب اس کاوجود بے سدھ ہوکر زمین بوس ہوا تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔ غصے کی شدت سے ان کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔
’’لے جائو اسے میری نظروں سے دور اور کہہ دو کبھی اپنی شکل نہ دکھائے۔ اس کے لیے میرے گھر کے دروازے بند ہیں۔‘‘ نفرت سے سلگتی نگاہ ڈال کر بے حال سی فریحہ پر ڈال کر وہ تیزی سے باہر نکل گئے۔
…٭٭٭…
پورے بدن سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ اس کا سر بہت بھاری اور مضمحل سا محسوس ہورہا تھا۔ وہ غائب دماغی سے چند لمحے یونہی بے حس وحرکت لیٹی رہی اور پھر گزشتہ شب گزرا واقعہ پوری جزئیات سمیت اس کے ذہن کے پردے پر گھوم گیا۔ اس کے وجود میں درد کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ دو سفید موتی خاموشی سے اس کی آنکھوں کے کناروں پر بہہ نکلے۔
’’تم سے محبت کرنے کا انعام ملا ہے امتثال‘ کہاں چھپ گئے ہو۔‘‘ اس نے بڑے کرب سے اسے پکارا جس سے رابطہ کرتے کرتے وہ تھک گئی تھی مگر ایک دن بھی اس کا نمبر آن نہ ملا تھا۔ اکیلے خود سے اور خود سے وابستہ لوگوں سے لڑتے لڑتے اس کے اعصاب تھکنے لگے تھے۔ فریحہ نے آنکھیں موند کر شاید خود سے اور وقت کے کٹھور پن سے نظریں چرائیں۔
اور پھر اس کی توقعات کے برعکس‘ اس کی محبت کو بے حیائی اور بے باکی کا نام دیتے ہوئے اپنے قدموں تلے روند دیا گیا۔ وقت اور مجبوریاں غیرت کے نام پر جیت گئیں۔ وہ ٹکر ٹکر اپنی ہار کا تماشہ دیکھتی رہی۔ اسے بیاہ کر اشعر ارسلان کے سنگ رخصت کردیا گیا۔ عبدالرحمان نے بھول کر بھی اسے تسلی دینا گوارا نہیں کیا تھا۔ البتہ آصفہ بیگم نے ہزاروں نصیحتیں اس کے پلو کے ساتھ باندھ دی تھیں۔
بالآخر روایت کے مطابق اسے حجلہ عروسی میں لاکر بٹھا دیا گیا اور فریحہ میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اٹھ کر اپنی نشست بدل لیتی۔ کچھ دیر کے بعد ایک جاذب نظر مرد کمرے میں داخل ہوا اور اس قدر حسین مجسم دیکھ کر مبہوت ہی ہوگیا۔
’’خدا کس کس طرح انسان کو نوازتا ہے۔‘‘ اس کا اندازہ آپ کو دیکھ کر مجھے ہوا۔‘‘ اشعر ارسلان کی بازگشت اس کے کانوں کے قریب سرسرائی۔
اس نے پورے استحقاق سے فریحہ کے حنائی ہاتھ تھام لیے اور بڑے پیار سے اپنے ہونٹ اس کی ہتھیلی کی پشت پر رکھ دیئے۔ فریحہ کے اندر نوحے بلند ہونے لگے تھے اس نے بڑی تیزی سے اس کی گرفت سے اپنے ہاتھ آزاد کروائے۔
پوری کوشش کے باوجود وہ اپنے اندر یہ احساس نہیں جگا پائی تھی کہ اسے اشعر ارسلان کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرنا ہے۔ اشعر ارسلان کو دیکھ کر اس کے دل کے بین مزید بلند ہوئے تھے۔ اس کے چھوتے ہی فریحہ کے اندر باہر درد کا جان لیوا احساس بسیرا کرنے لگا تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ کیا کچھ کھوکر وہ اس شخص تک پہنچی تھی اپنا آپ اس شخص کو سونپنا فی الوقت اسے ناممکن دکھائی دیتا تھا۔
’’اوں ہوں… آج آپ کی نہیں چلے گی‘ مسز اشعر۔ آج کی رات صرف میں کہوں گا اور آپ سنیں گی‘ آپ کی سننے کے لیے تو ساری عمر پڑی ہے۔‘‘ شرارت سے کہتے ہوئے اس نے ایک پُروثوق نگاہ اس کے وجود پر ڈالی اور بے ساختہ اسے بانہوں میں بھرلیا۔ جواباً وہ شدتوں سے رو پڑی اور اس ردعمل پر اشعر ارسلان پریشان ہوا۔ وہ فوراً اس کی گرفت سے نکلی۔
’’پلیز… مجھے کچھ وقت دے دیں… میں… مم… مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ اس نے بے ربط سے چند الفاظ کہہ کر چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں چھپا لیا اور سسک اٹھی اور اس کی اس قدر معصومیت پر اشعر بے ساختہ مسکرا اٹھا۔ اس کی مسکراہٹ بڑی گہری اور بامعنی تھی۔
’’قیامت برپا کرکے پُرسکون ہونا چاہتی ہیں۔‘‘ آنکھوں میں چاہت کا نشہ لیے وہ مخاطب تھا۔
’’پلیز… میری آپ سے ریکوسٹ ہے۔‘‘ اسے کسی طور ٹلتا نہ دیکھ کر اس نے ہاتھ جوڑ دیئے۔
’’اوہ… بس بس مادام… مجھے سمجھ آگئی‘ اوکے فائن‘ جیسے آپ کی مرضی لیکن اب رونا تو بند کریں۔‘‘ اس نے جلدی سے ہتھیلی کی پشت سے آنکھیں رگڑیں۔
’’جائیں چینج کرلیں اور فریش ہوجائیں۔‘‘ اس سے قدرے دور ہوتے ہوئے اشعر نے بجھے دل سے کہا تو فوراً کمرے سے ملحقہ واش روم میں گھس گئی جہاں پہلے سے ہی میرون سوٹ رات کی مناسبت سے لٹکا ہوا تھا۔
’’تو یہ طے ہوا کہ میرے جسم‘ روح اور خیالوں‘ احساسات‘ جذبات اور سوچ پر صرف تمہارا حق ہے امتثال۔ اس شخص کا چھونا میرے اندر صرف الائو بھڑکائے گا۔ اس کی قربت میں سکون نہیں بے قراری ہے۔‘‘ اس نے زخمی دل سے سوچا اور کتنے ہی آنسو پانی میں مدغم ہوگئے۔ کافی دیر تک وہ ٹھنڈے پانی سے خود کو پُرسکون کرنے کی کوشش کرتی رہی اور باتھ لے کر بدلی ہوئی حالت میں باہر نکل آئی۔ اشعر ارسلان ابھی تک اس کا منتظر تھا۔
چند لمحے وہ گومگو کی کیفیت میں بیڈ کے کنارے کھڑی رہی پھر تکیہ اٹھا کر مڑی تو اشعر ارسلان کی آواز نے اس کے پیرِں میں زنجیر باندھ دی۔
’’آپ کو ان تکلفات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بلیو می‘ میں آپ کو تنگ نہیں کروں گا۔‘‘ اس نے قدرے پُرسکون لہجے میں کہا تو فریحہ کچھ جھجکتی بیڈ پر تکیہ برابر کرکے اس سے قدرے فاصلے پر لیٹ گئی۔ اس کے اندر آنسو پگھل رہے تھے تب ہی تو اسے اپنا آپ جلتا محسوس ہورہا تھا۔
’’میں تم سے کبھی محبت نہیں کرسکتی اشعر ارسلان‘ اپنے حصے کی محبت تو میں کرچکی۔ میرے جذبات کی نوخیزی صرف اس ایک شخص سے وابستہ ہے جب میری محبت کی موت ہوگئی تو میرے احساسات بھی سوچکے ہیں میں ایک برف کی سل ہوں جو صرف جلاتی ہے‘ میرے دل میں تمہارے لیے کچھ نہیں اور یہ رشتہ بھی کوئی ڈور تم سے باندھنے میں ناکام رہے گا۔‘‘ اس نے بے بسی سے سوچا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔
…٭٭٭…
’’میرے جذبات خالص نہیں ہیں اشعر‘ میں اپنی محبت بھلا نہیں سکتی اور دل میں کسی اور کو بسا کر بے ایمانی سے آپ کا آنگن آباد نہیں کرسکتی۔ یہ دوہری زندگی اور متضاد کیفیات کے ہمراہ میں نہیں جی سکتی۔ اگر آپ کو مجھے قبول کرنا ہے تو اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا۔‘‘
جب اشعر ارسلان اس کا انتظار کرتے کرتے تھکنے لگا تھا تو اس نے فریحہ سے خلیجیں پاٹنے کو کہا تھا تب اس نے روتے ہوئے اپنا حال دل کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا یہ جانے بغیر کہ گزشتہ دو ماہ جو آنکھیں اسے امید ویاس سے دیکھتی تھیں‘ ان میں کس قدر بیگانگی‘ لاتعلقی اور سردمہری کا احساس ہلکورے لینے لگا ہے۔ مرد خود چاہے جیسا ہو لڑکی اجلی اور معطر ہی چاہئے ہوتی ہے ایک ایسی عورت جو اپنے دل میں کسی اور مرد کو چھپائے بیٹھی ہو اسے قبول کرنا اس مرد کی انا پر کاری ضرب ہے۔
’’شاید آپ نے اپنے حصے کی ایمان داری نبھائی ہے فریحہ چاہے کسی ایک کے ساتھ ہی سہی‘ آپ مخلص اور بے غرض تو رہیں۔ مگر یہ سب جاننے کے بعد میں خود میں اتنا حوصلہ نہیں پاتا کہ مسکرا کر آپ کو بانہوں میں سمیٹ لوں۔ میں اتنا عظیم مرد بھی نہیں ہوں اور اس حقیقت کے منکشف ہونے کے بعد میرا دل کبھی آپ کی طرف مائل نہیں ہوگا۔ میاں بیوی جیسے پاکزہ اور مقدس بندھن میں بندھنے کے باوجود ہم یوں زندگی گزاریں جیسے دریا کے دو کنارے‘ تو یہ سب وقت کا زیاں ہے۔ میں آپ کو اپنے نام کی قید سے آزاد کرتا ہوں۔ چند دنوں میں تمام قانونی کارروائی مکمل کرکے میں آپ کو طلاق کے پیپرز بھجوادوں گا۔‘‘ اس نے کہا اور فریحہ کے لرزتے وجود کو نظر انداز کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا داخلی دروازہ عبور کر گیا۔ فریحہ کا دل خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپنے لگا تھا۔ وہ ایسے سفید پڑتی جارہی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
’’جب اس رشتے میں کوئی سمجھوتہ نہیں تو پھر ٹوٹنے پر اتنا رنج کیوں۔‘‘ اس نے خود سے سوال کیا۔ اپنے اندر جھانک کر دیکھا تو ایک اندھیرا قبرستان تھا جس میں مردہ جذبات اور کلستی تڑپتی محبت کی روح منڈلاتی پھر رہی تھی‘ ہر سو مہیب سناٹے کی راجدھانی تھی۔
اس نے گھبرا کر خود سے نگاہیں چرائیں اس کے ماتھے پر طلاق کا کلنگ لگ چکا تھا۔ مگر محبت سے وفا ابھی بھی قائم تھی۔
…٭٭٭…
آج ڈھائی سال بعد یوں سر راہ وہ اسے مل جائے گا اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ فریحہ جس قدر اس سے مل کر خوش تھی اس سے کہیں زیادہ امتثال پُرجوش تھا۔
’’میں نے پل پل صرف آپ سے محبت کی ہے فریحہ۔ میں نے خود کواپنے جذبات کو آپ کے لیے سینت سینت کر رکھا ہے۔‘‘ وہ اسے دیکھتے ہوئے مخمور سی سرگوشی کررہا تھا اور گزشتہ ڈھائی برس کے زخموں پر جیسے کوئی پھاہے رکھ رہا تھا اس شخص کا اقرار اسے آسمان کی پرواز بخش رہا تھا۔
’’اور میں نے تم سے محبت نبھانے میں‘ وفا کا علم بلند کرنے میں کیا کیا کھویا ہے شاید تم کبھی نہ جان سکو۔‘‘ وہ خود سے مخاطب تھی۔
اشعر ارسلان اسے طلاق دے کر امریکہ واپس جاچکا تھا۔ اس کی طلاق کے بعد عبدالرحمان کا رویہ پہلے سے بھی زیادہ برا ہوگیا تھا۔ بھری جوانی میں وہ اجڑ گئی تھی۔ مصائب والم نے اس کی تقدیر کی راہ لے لی تھی اور آج یوں سر راہ امتثال کا مل جانا‘ اس کے تمام دکھ زائل ہونے لگے تھے۔ وہ گزشتہ دو سال سے دبئی میں تھا تب ہی وہ اس سے رابطہ نہیں کر پایا تھا۔ وہ اسے بتا رہا تھا اور اس کے دل پر جمی کثافتیں دھلنے لگی تھیں۔ دھیرے دھیرے وہ پھر سے اس کی زندگی میں شامل ہوگیا۔ بلکہ شامل تو وہ ہر لمحہ ہی تھا بس ظاہری طور پر اس کے ساتھ تھا۔ فریحہ نے اسے فی الحال اپنی شادی اور طلاق کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ اور جب خود پر گزرنے والی قیامت سے آگاہ کیا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔
’’آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔‘‘ وہ بپھرا۔
’’اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔
’’فرق پڑتا ہے۔‘‘ وہ مبہم سا بولا۔
’’کیا آپ کے جذبات میں فرق آجائے گا۔‘‘ اس نے سہمے ہوئے کبوتر کی طرح پوچھا۔ جواباً ایک تیز نگاہ اس کے سپرد کرکے وہ گاڑی کی چابیاں اٹھا کر یہ جاوہ جا۔ اب تقدیر کس رنگ میں اس کے سامنے آنے والی تھی اس نے بے بسی سے سوچا اور مرے مرے قدموں سے خود کو بمشکل گھسیٹتی باہر آگئی۔
…٭٭٭…
وہ دونوں خزاں کے پیلے اور سوکھے پتوں کو اپنے قدموں تلے روندتے اس سنسان سڑک پر قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے تھے۔ درختوں کی شاخیں‘ پتوں کی سرسراہٹ سے خالی تھیں‘ خزاں نے درختوں کی رونق ان سے چھین لی تھی اور زمین کا سینہ آباد کردیا تھا۔ ہوا کا ایک بے درد جھونکا آیا اور ماندہ پتوں کو بھی درخت سے جدا کر گیا تھا۔ فریحہ نے بڑے کرب سے اس منظر کو جانچا تھا۔ پھر ایک نظر پہلو میں چلتے امتثان پر ڈالی جو کچھ مضمحل اور الجھا ہوا دکھائی دیتا تھا۔
’’تم بہت اچھی ہو فریحہ۔‘‘ وہ رکا اور اس کے ملیح چہرے کو دیکھتے ہوئے بہت ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔ فریحہ کا دل سینے میں شدتوں سے دھڑکا اٹھا۔ اس بے تکی بات کے آگے نجانے کون سی تلخی چھپی تھی۔
’’بات کیا ہے امتثال۔‘‘ اس کی خاموشی سے گھبرا کر اس نے خود ہی اس سے استفسار کیا۔
’’مجھے تم میں کوئی عیب نظر نہیں آتا‘ تم اب بھی میرے لیے ویسے ہی قابل احترام ہو۔‘‘ اس نے تمہید باندھی اور فریحہ دم سادھے کوئی نئی افتاد سننے پر خود کو آمادہ کررہی تھی۔
’’میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر…‘‘ وہ خاموش ہوا‘ فریحہ زمین پر مٹر گشت کرتے پتوں پر نگاہیں جمائے مگر کے آگے کچھ سننے کی متمنی تھی۔
’’مگر امی نہیں مانتیں‘ وہ کہتی ہیں ایک طلاق یافتہ عورت کو کبھی اپنی بہو نہیں بنائیں گی۔‘‘ بالآخر اس نے اپنے لفظوں کے انگارے فریحہ کے کانوں میں انڈیل دیے۔
نیزے کی کوئی انی تھی جو اس کے سینے میں آرپار ہوگئی۔ درد کی شدید لہر نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
’’محبت ڈاٹ کام… بس محبت کا کھیل ختم۔‘‘ ایک لفظ نے اس کی ساری خواہشیں نگل لیں اور اسے بے سرو سامانی کی کیفیت میں تنہا چھوڑ دیا۔
جو محبت اس میں روح بن کر سمائی تھی وہ بہت چپکے سے اس کے وجود کو چھوڑ کر اپنے اصل کی طرف لوٹ گئی اور اب کی بار اس نے محبت کے پیچھے دوڑنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اپنی بدنصیبی اور محبت سے وفا کرنے کے چکر میں اپنے حصے میں آنے والی اہانت وپچھتاوا بھی بیان نہیں کیا تھا۔ اس نے ایک زخمی نگاہ مقابل کھڑے وجیہہ مرد پر ڈالی جس کی محبت نے ایک لفظ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔
اسے ایک لفظ بھی کہے بغیر وہ اپنے مردہ وجود کو گھسیٹتی چل پڑی۔ قدموں تلے کچلنے والے پتوں نے بے ساختہ بین بلند کیے تھے‘ فضا کی پرہول تابناکی میں شکست آنکھیں پھیلائے اسے گھور رہی تھی۔ شکستوں کا کوئی جال بچھا تھا جس میں اس کا وجود پھنس گیا تھا اور محبت…!!!

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close