Hijaab Sep-16

کانٹا

اقبال بانو

’’آج تم چپ چاپ سی کیوں ہو مینا؟‘‘ احسن نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں تو۔‘‘ مینا نے ٹالنا چاہا۔
’’نہیں‘ کوئی بات تو ہے مجھے نہیں بتائو گی۔‘‘ احسن کا لہجہ محبت کی شیرینی میں گھلا ہوا تھا۔
’’اب کیا بتائوں؟‘‘ مینا نے آہ بھر کر کہا۔
’’چلو تم مت بتائو‘ میں مس فیروزہ سے پوچھ لیتا ہوں‘ آپ بتائیے؟‘‘ احسن نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اس پر کبھی کبھی اداسی کے دورے پڑتے ہیں۔‘‘ میں نے بے پروائی سے کہا۔
’’مگر میرے پاس آکر تو سب اداسی کا فور ہوجانی چاہئے۔‘‘ احسن نے شوخی سے کہا۔
’’تم تو بے تکی باتیں کرتے ہو۔‘‘ مینا جھینپی۔
’’ہاں بتائو اداس کیوں ہو یار اپنوں سے کیا چھپانا؟‘‘
’’احسن! میری کلاس فیلو کی ذرا سی بات پر منگنی ٹوٹ گئی ہے آج وہ بے تحاشا رو رہی تھی دکھ تو ہوتا ہی ہے نا کسی کو دکھی دیکھ کر۔‘‘ مینا کے لہجے میں دکھ تھا۔
’’کوئی وجہ تو ہوگی منگنی ٹوٹنے کی۔‘‘
’’صرف برقعہ۔‘‘ میں ہنس پڑی۔
’’برقعہ؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں بھئی اس کے سسرال والے چاہتے تھے کہ وہ برقعہ اوڑھے… خصوصاً لڑکے کی خواہش تھی جب کہ عذرا نے سوچا جب سسرال جائے گی تو ان کے کہنے پر عمل کرلے گی۔ ابھی کیا ضرورت ہے… لڑکے نے ایک روز کالج جاتے ہوئے اسے بغیر برقعہ کے دیکھ لیا اور وہ کل انگوٹھی واپس کرگئے۔‘‘
’’آج وہ بے چاری لڑکی رو رو کر پاگل ہورہی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے۔‘‘ میں نے پوری تفصیل بتادی۔
’’عجیب تنگ دل لڑکا ہے وہ۔‘‘ احسن نے ٹیبل کی سطح کو کھرچتے ہوئے کہا۔
’’مرد کبھی بھی وسیع القلب وسیع النظر نہیں ہوسکتا۔‘‘ میں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے جلدی سے کہا۔
’’آپ غلط کہہ رہی ہیں مس فیروزہ‘ ہر لڑکا اس لڑکے کی طرح نہیں ہوسکتا‘ جس نے صرف برقع کا بہانہ کرکے منگنی توڑ دی۔ نہایت ہی گھٹیا ذہنیت ہوگی اس کی۔ آپ میری مثال لیجئے میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی ورکنگ ویمن ہو۔‘‘
’’یہ تو آپ مینا کی وجہ سے کہہ رہے ہیں کیونکہ بی ایس سی کے بعد اس کی شدید ترین خواہش ہے جاب کرنے کی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’آپ غلط سمجھیں۔ میرے تو شروع سے یہی خیالات ہیں‘ مینا سے تو چند ماہ ہوئے ملاقات ہوئی ہے۔‘‘ احسن نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ میں جو بڑی بولڈنیس سے بات کررہی تھی گڑبڑا کر رہ گئی اور احسن کہہ رہا تھا۔
’’اس کے علاوہ میں یہ بھی چاہوں گا کہ میری وائف ہر نیا فیشن کرے۔‘‘ اس بات پر میں اپنی زبان نہ روک سکی تھی تو اس کی بات کاٹ کر میں نے کہا۔
’’چاہے لوگوں کی نظر میں عریانی ہی کیوں نہ ہو؟‘‘
’’بالکل۔‘‘ احسن ہاتھ پر ہاتھ مار کر بولا۔
’’بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق ہے اور فیشن صرف فیشن ہے پھر عورت اپنا دل کیوں مارے‘ اپنے حق سے کیوں محروم رہے۔ اگر وہ دسیوں مردوں میں بیٹھی ہوگی تو میں کبھی شک نہ کروں گا فرض کرو وہ میرے دوستوں کے ساتھ گھومے پھرے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘ احسن بڑے جوش سے بول رہا تھا جونہی وہ رکا تو میں نے کہا۔
’’مسٹر احسن معاف کیجئے گا آپ سب کچھ فرض ہی کررہے ہیں تو یہ بھی فرض کیجئے کہ آپ کی بیوی آپ کے بہت ہی اچھے دوست کے ساتھ چلی جائے اور رات بھر گھر نہ آئے؟‘‘
’’اب اتنی بھی اجازت نہیں اور نہ اس قدر فرض کرسکتا ہوں۔‘‘ وہ ہنس دیا۔
’’تو بس یہ جان لیجئے کہ مرد کی گھٹی میں شک رچا بسا ہے۔ وہ عورت کی طرح اعلیٰ ظرف نہیں جو کہ کیچڑ میں لتھڑے مرد کو بھی اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر پناہ دے دیتی ہے۔ جب کہ عورت کیچڑ کے قریب سے بھی گزر جائے تو مرد یہ شک ضرور کرتا ہے کہ چھینٹے ضرور پڑے ہوں گے۔ خواہ عورت کی چنری کتنی ہی بے داغ کیوں نہ ہو۔‘‘ میں نہایت مضبوط لہجے میں بول رہی تھی۔ ’’مرد ہمیشہ ایسی عورت کو پسند کرتا ہے جو سو پردوں میں رہی ہو اور خود بے شک ہزاروں پر نظروں سے کمندیں ڈالتا پھرے کوئی پروا نہیں۔‘‘ احسن سوچ رہا تھا یہ تم لڑکیاں اتنی گہرائی میں کیوں چلی جاتی ہو ہمارے دلوں تک کے راز کیوں جان لیتی ہو۔
’’مگر مس فیروزہ تم جیسی چند ایک ہی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ جو دل کی عمیق گہرائیوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ مینا جیسی سطحی لڑکیاں صرف زبان سے ادا ہونے والے جملوں پر اعتبار کرتی ہیں بات کو سچ یا جھوٹ سمجھنے کی ان میں حس ہی نہیں ہوتی۔‘‘
’’ہاں تو احسن صاحب آپ مان لیجئے کہ مرد کبھی وسیع القلب نہیں ہوتا اور آپ اپنے یہ خیالات بدل دیجئے کہ آپ کی بیوی ورکنگ ویمن ہو۔ آپ کے یہی خیالات رہے تو ساری زندگی روتے رہیں گے۔ اتنی آزاد خیالی بھی اچھی نہیں ہوتی۔‘‘ میرا جی تو چاہا آگے یہ بھی کہہ دوں کہ ایسی ہی لچھے دار باتوں سے آپ لڑکیوں کے دلوں میں گھر کرلیتے ہیں۔
’’چلئے جی مان لیا کہ مرد وسیع القلب نہیں ہوتا بس۔‘‘ احسن نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’کبھی تو ہار ہی جاتے ہو۔‘‘ مینا جو بڑی دلچسپی سے ہم دونوں کی بحث سن رہی تھی احسن سے بولی تو اس نے کہا۔
’’کبھی کبھی ہارنا بھی پڑتا ہے اور ایسی ہار میں بھی بڑا مزا آتا ہے۔‘‘
’’تھینکس۔‘‘ میں زور سے ہنس دی کہ ذرا سی بحث سے میں نے ساڑھے چھ فٹ کے مرد کو ہرا دیا ہے اور تب ہی کافی شاپ کے خوابناک سے ماحول میں احسن نے میری طرف جھکتے ہوئے خمار آلود لہجے میں کہا۔
’’آپ کے گال میں پڑنے والا ڈمپل بہت خوب صورت ہے۔‘‘ میرے کھلے کھلے ہونٹ ایک دم بھینچ گئے۔ جیت کا نشہ ہرن ہوگیا مارے غصے کے میرے گال دہک اٹھے۔ میں نے کڑی نظروں سے سامنے کے صوفے پر احسن کے ساتھ بیٹھی مینا کو دیکھا جو ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی۔
’’احسن اس کے ڈمپل تو بہت مشہور ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ احسن نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہماری کلاس کی لڑکیاں اسے زبردستی ہنساتی ہیں محض اس کے ڈمپل دیکھنے کے لیے کلاس میں کوئی اسے فیروزہ نہیں کہتی سب نے ڈمپل والی نام رکھ چھوڑا ہے۔‘‘ مینا بتا رہی تھی اور میرا جی چاہ رہا تھا اس بولتی مینا کے منہ پر ہاتھ رکھ دوں۔
’’تو یہ جان بوجھ کر اتنے خوب صورت ڈمپل ڈالتی ہے سچ مینا! میں نے پہلی بار گالوں میں اتنے خوب صورت ڈمپل دیکھے ہیں۔‘‘ احسن کے لہجے میں شوخی تھی اور وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’میں درست کہہ رہا ہوں نا؟‘‘ میں کچھ نہ بولی مگر مجھے اس کی آنکھوں میں ایک جال نظر آیا۔ خوب صورت سنہری تنا ہوا‘ بنا ہوا جال اور میں جان گئی کہ وہ یہ جال مجھ پر پھینکنا چاہتا ہے اور سوچ رہا ہے کیسے پھینکوں۔ تبھی تو اس کی آنکھوں کی چمک اور شوخی بڑھ رہی تھی مجھے اس کی نظروں سے سخت الجھن ہونے لگی اور بیٹھنا دوبھر ہونے لگا۔ میں نے ٹیبل پر رکھی کتابیں اٹھائیں اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’مینا چلو بہت دیر ہوگئی ہے۔‘‘
’’اتنی جلدی۔‘‘ احسن نے کہا‘ اس کی آنکھوں میں واضح طور پر لکھا تھا۔
’’رک جائو نا۔‘‘
’’اب چلے ہی جانا چاہئے ہمیں۔‘‘ میں کسی صورت بھی مزید رکنا نہ چاہتی تھی۔ میرے لہجے کی سختی کو مینا نے بھی محسوس کیا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’آئندہ ہفتے کا پروگرام تو طے کرلونا؟‘‘ احسن نے لہجے میں بے قراری پیدا کرتے ہوئے بظاہر مینا سے کہا مگر اس کی تمام تر توجہ میری طرف تھی۔ میں نے منہ پھیرلیا اور مینا اسے بتانے لگی کہ آئندہ ہفتے کہاں اور کس وقت ملنا ہے۔ چند ماہ قبل ہی تو مینا کی احسن سے ملاقات ہوئی تھی۔ مینا کی خالہ زاد شائستہ آپا کی شادی تھی اور احسن ہر رسم میں شریک رہا کیونکہ وہ شائستہ کے بھائی شیراز کا گہرا دوست تھا اور کلاس فیلو بھی شیراز کے ہاں اس کا بہت آنا جانا تھا اور شائستہ کو بھی بڑی بہن کی طرح چاہتا تھا۔ ولیمے والے دن تک مینا سے اس وجیہہ اور ہنس مکھ احسن کی خاصی دوستی ہوچکی تھی وہ مقامی یونیورسٹی میں جی ای فائنل ایئر کا طالب علم تھا۔ ماں باپ خان پور میں رہتے تھے احسن نے بتایا تھا کہ اس کے والد بہت بڑے زمیندار ہیں۔ وہ غریبوں کا خون چوستے تھے اور بیٹا یہاں عیاشیاں کرتا پھرتا تھا۔
واللہ آعلم یہ سب سچ تھا یا جھوٹ وہ تو باتوں میں اڑانے والا بندہ تھا۔ لفظوں کی بوندیں بھی ساون کی بارش کی طرح اس تواتر سے برساتا تھا کہ انسان کا پور پور بھیگ جائے۔ مینا اسے کبھی کبھی ہاسٹل فون کرکے گپیں مار لیا کرتی تھی پھر احسن نے ملنے پر اصرار کیا‘ تب وہ ہار گئی‘ دوستی ہی دوستی میں وہ احسن کو پسند کرنے لگی تھی اور جس سے محبت کی جائے اس کی بات نہیں ٹالی جاتی مینا نے اپنی محبت کا رازداں مجھے بنایا۔
’’میں اس سے خود بھی ملنا چاہتی ہوں فیروزہ۔‘‘
’’تو شوق سے ملو‘ اپنے آپ کو برباد کرلو۔‘‘ میں نے تڑخ کر جواب دیا۔
’’برباد؟‘‘
’’دیکھو ڈیئر! ایسے دھندے لڑکیوں کو اچھے نہیں لگتے۔‘‘ ہمیشہ خود کو ان دیکھے شوہر کی امانت سمجھنا چاہئے میں نے سمجھانا چاہا۔
’’کیا خبر قدرت احسن ہی کو…‘‘ مینا نے جملہ ادھورا چھوڑا۔
’’مجھے تو نہیں لگتا… صاف فراڈیا ہے وہ۔‘‘ میں نے تنک کر کہا۔
’’تمہیں کس نے بتایا؟‘‘ مینا نے پوچھا۔
’’میرا اندر کہتا ہے اور دل کی گواہیاں سچی ہوتی ہیں۔‘‘ میں وثوق سے بولی۔
’’میرا دل بھی کہتا ہے کہ وہ مجھے چاہتا ہے تو کیا میرا دل جھوٹا ہے۔‘‘ مینا نے کہا۔
’’ہاں…‘‘ میں نے وثوق سے کہا۔
’’واہ تمہارے دل کی گواہی سچی ہے اور میرے دل کی نہیں۔ عجیب منطق ہے۔‘‘ مینا تمسخر سے بولی اور پھر میں مینا کے مجبور کرنے پر اس کے ساتھ احسن سے ملنے جانے لگی۔ وہ دونوں کسی بھی ریسٹورنٹ میں جاتے تو میں الگ کونے میں بیٹھ جاتی وہ خوب گپیں لگاتے۔
احسن مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا۔ کئی بار میں نے مینا سے کہا بھی کہ میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گی مگر وہ منتیں کرکے مجبور کردیتی کہ اس کے ساتھ رہوں۔ ایک روز احسن نے کہا۔
’’مس فیروزہ آپ بور تو ہوتی ہوں گی میرا دوست ہے اسفند آپ اس سے دوستی کرلیں۔‘‘
’’جی نہیں۔‘‘
’’ارے احسن تم کیوں کہہ رہے ہو اس کی آل ریڈی دوستی ہے۔‘‘
’’کس سے؟‘‘ وہ حیرت سے بولا۔
’’اس کے پڑوس میں رہتا ہے نوید نام ہے۔‘‘ مینا نے ہنس کر بتایا۔
’’پھر ملاقا ت ہوتی ہے۔‘‘ احسن نے پوچھا۔
’’ہاں ابھی کل ہی تو ملے تھے دونوں۔‘‘
’’تم ساتھ جاتی ہو۔‘‘
’’ظاہر ہے یہ میرے ساتھ آتی ہے تو مجھے بھی جانا پڑتا ہے۔‘‘ مینا نے کہا تو میں اس کے جھوٹ پر اسے منع بھی نہ کرسکی نہ میں نے تردید کی۔ مجھے احسن سے کیا ڈرنا تھا۔ بلکہ انجانے میں اس وقت بے وقوفی کی انتہا پر تھی کہ جو غلطی میں نہیں کررہی تھی جو جرم میں نے کیا نہیں تھا نہایت آرام سے مجرم بن گئی تھی۔ یونہی بہت دن گزر گئے۔ مینا نے اب احسن سے شادی کا تقاضا کیا تھا کہ وہ والدین کو بھیجے مگر وہ ٹال مٹول کررہا تھا۔
کبھی کوئی بہانہ اور کبھی کوئی… اور پھر یہ ہوا کہ احسن نے اسے چھوڑ دیا۔ فون نہ سنتا تھا پھر اس کے دوست اسفند نے مینا کو بتایا کہ وہ شہر چھوڑ کر چلاگیا ہے۔ مینا بہت روئی تڑپی اور پھر سنبھل گئی۔ بی اے کے بعد اس نے پڑھائی چھوڑ دی۔ میں نے ایم اے میں داخلہ لے لیا اور ہماری ملاقاتیں بھی کم ہوتی گئیں۔ جلد اس کی شادی ہوگئی اور وہ اسلام آباد چلی گئی۔ پھر وہ اپنی زندگی میں مگن ہوگئی اور میں اپنی پڑھائی میں مصروف۔ میں نے نہایت صاف ستھری زندگی گزاری۔ یونیورسٹی میں بھی صرف عالیہ میری دوست تھی ہم دونوں سب سے الگ تھلگ رہتے تھے۔
کبھی بھی میرے نام کے ساتھ کسی لڑکے کا نام نہیں لیا گیا۔ میرا کوئی اسکینڈل نہ بنا اور میں نے دل پر کسی کی پرچھائیں ڈالے بغیر ہی اپنی تعلیم مکمل کرلی۔ میری بہت خواہش تھی کہ میں لیکچرار شپ کروں مگر ابا میاں تو میرے یونیورسٹی میں پڑھنے کے مخالف تھے۔ انہیں یہ پسند نہ تھا کہ میں لڑکوں کے ساتھ پڑھوں مگر بڑے بھیا اور منجلے بھیا کی پُرزور سفارش کی وجہ سے میں نے ایم ایس سی کرلیا۔ مگر جاب کی بات تھی تو دونوں بھائی ابا میاں کے حامی بن گئے۔
’’تمہیں گھر میں کسی چیز کی کمی ہے؟‘‘ بڑے بھیا نے گھرکا۔
’’کمی تو کسی چیز کی نہیں ہے بس میرا شوق ہے۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’سارے شوق سسرال جا کر پورے کرنا۔‘‘ عامرہ بھابی نے ننھے کو کندھے پر تھپکتے ہوئے شوخی سے کہا تو میں کانوں کی لوؤں تک سرخ ہوگئی۔ بڑے بھیا کے سامنے مجھے بے حد شرم آئی۔ میں جلدی سے کمرے سے نکل آئی۔
پھر انہی دنوں بڑی آپا راولپنڈی سے آئیں تو وہ ایک رشتہ بھی میرے لیے لیتی آئیں۔ ان کے سسرالی رشتہ داروں میں لڑکا تھا دو سال سے لیبیا میں مقیم تھا۔ بہت شریف النفس اور نجانے کیا کیا۔ اب وہ آنے والا تھا تو والدین چاہتے تھے کہ جب وہ آئے تو فوراً شادی کردی جائے تاکہ واپسی پر وہ بیوی کو بھی ساتھ لیتا جائے۔ ابا میاں نے بابر حیات کو دیکھا ہوا تھا اور اس کی ساری فیملی سے بھی واقف تھے۔ دوسری بات یہ کہ بابر کی ماں نے خود بڑی آپا سے کہا تھا کہ وہ مجھے بہو بنانا چاہتی ہیں۔ میں چھٹیاں گزارنے پنڈی آپا کے پاس گئی تھی تو وہیں انہوں نے مجھے دیکھا اور پسند کرلیا تھا۔ بڑی آپا بہت خوش ہوئیں بابر حیات بہت پسند آیا تھا۔ حالانکہ ایک دو بار ہی ملی تھیں مگر خاصی امپریس تھیں۔
بڑی آپا نے فون کرکے بابر کی ماں کو بلوایا اور وہ آکر نہایت سادگی سے اپنے شگون پورے کرگئیں۔ میرے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں سرخ نگینے کی بڑی خوب صورت سی انگوٹھی پہنا کر بابر کے نام کی مہر ثبت کردی گئی۔ شادی دو ماہ بعد ہونا قرار پائی۔
اتنی جلدی سب طے ہوا کہ مجھے یہ سب خواب لگتا۔ گھر میں چہل پہل ہوگئی تھی۔ کبھی جیولرز کے پاس جانا ہوتا اور کبھی جوڑے سل رہے ہوتے۔ میں اپنی سپنوں بھری آنکھوں سے یہ سب دیکھتی رہتی اور میرے اندر کہکشاں سی اترنے لگی۔ انجانے سے مرد کے خیالات نے میری تنہائیوں کو گدگدادیا تھا۔
’’نجانے وہ کیسا ہوگا؟‘‘
حتیٰ کہ میں نے بابر کی تصویر بھی نہیں دیکھی تھی۔ نہ ابا میاں نے تصویر مانگی تھی اور نہ ہی میرا فوٹو دیا گیا تھا۔ معاملہ بڑوں ہی کے درمیان طے پایا تھا۔ شادی سے صرف چار روز پہلے ہی بابر لیبیا سے واپس آگیا تھا۔
اس کی فیملی پہلے ہی بمعہ براتیوں کے کراچی آگئی تھی۔ وہ سب بابر کے بڑے ماموں سعید احمد کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ تمام رسمیں ہورہی تھیں۔ اس روز مایوں کی رسم تھی بابر ہمارے ہاں آیا۔ صرف تھوڑی دیر کے لیے پھر چلا گیا مگر اپنا ذکر چھوڑ گیا۔ ہر ایک کی زبان پر اسی کا نام تھا۔ عامرہ بھابی کہہ رہی تھی۔
’’فیروزہ… تو بہت خوش قسمت ہے‘ بابر حیات بہت سوبر ہیں بالکل آئیڈیل مرد۔‘‘ اور میں نے اپنی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے شدت سے خواہش کی کہ وہ جلد بارات لے کر آئے اور مجھے لے جائے تاکہ میں بھی اس آئیڈیل شخص کو دیکھ سکوں۔ سب نے اسے دیکھ لیا تھا اور میں جو اس کی زندگی کی ساتھی بننے والی تھی وہ جو صرف میرا تھا‘ میں نے ایک جھلک بھی نہ دیکھی تھی اس کی۔
m…m…m…m
حجلۂ عروسی میں‘ میں دھک دھک کرتے دل کے ساتھ بابر کی منتظر تھی۔ ابھی چند لمحے پیشتر ہی تو میری نند دوبارہ میرا میک اپ کرکے گئی تھی۔ وہ مجھے بنا سنوار کر بھائی کو پیش کرنا چاہتی تھی۔
’’یہ بہنیں بھی کیا ہوتی ہیں۔‘‘
بھاری قدموں کی آواز پر میں چونکی۔ میرا جھکا سر مزید جھک گیا اور میں بالکل ہی اپنے آپ میں سمٹ کر گٹھڑی بن کر رہ گئی۔ میرا دل دھڑک دھڑک کر بے حال ہورہا تھا جیسے کے پسلیاں توڑ کر ابھی باہر آجائے گا۔ اف خدا جب منزل قریب ہو تو سانس کیوں پھولنے لگتا ہے۔ قدموں کی آواز چھیڑ کھاٹ کے قریب آکر رک گئی اور پھر وہ پھولوں سے سجی سیج پر آکر بیٹھ گیا۔ یہ بابر تھا میرا مجازی خدا کتنے ہی لمحے خاموشی کی نذر ہوگئے۔ شاید وہ کچھ کہنے کے لیے دل ہی دل میں الفاظ ترتیب دے رہا تھا۔ پھر کمرے کے سکوت میں نہایت ہی گھمبیر آواز ابھری۔
’’فیروزہ جی! بہت خواہش تھی آپ کو دیکھنے کی اور اب جب کہ اس خواہش کے پورے ہونے میں تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے تو نجانے دل کیوں قابو میں نہ رہا۔ بہنوں سے بہت تعریفیں سنی ہیں آپ کی اور یہ بہنیں تو جذبۂ شوق کو اور ہوا دیتی ہیں۔ بہت سی باتیں سوچی تھیں آپ سے کرنے کو مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی سب کچھ بھول گیا۔‘‘ آواز میں گھمبیرتا کے ساتھ شوخی بھی تھی۔ تب میری زبان پر یہ جملہ مچلنے لگا۔
’’یادداشت بہت کمزور ہے آپ کی۔‘‘ مگر میں نے ہونٹ دانتوں تلے دبالیے کہ آواز نہ نکل جائے۔
پھر دو مضبوط ہاتھ میرے گھونگھٹ کی جانب بڑھے اور چند سیکنڈ بعد میرا گھونگھٹ الٹا جاچکا تھا اور پھر بابر ایک دم ہی مسہری سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’آپ…؟‘‘ یہ… یہ کیا لہجہ تھا جس میں حیرت اور اجنبیت تھی وہ شہد آگئیں لہجہ نجانے کہاں کھوگیا تھا۔
میں نے بوجھل آنکھیں کھول دیں اور پھر اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی میری سانسیں الجھنے لگیں۔ میرے لبوں پر ایک لفظ پھسلا۔
’’احسن…!‘‘
’’احسن!‘‘ وہ تمسخر سے ہنسا۔
’’شکر ہے آپ نے پہچان لیا مگر میرا نام تو بابر ہے صرف بابر حیات۔‘‘
’’مگر…‘‘ میری آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے۔
’’ہاں میں کسی کے لیے طارق ہوں کوئی لڑکی مجھے فاروق کے نام سے جانتی ہے۔ کسی کو متین نام بتایا تھا اور آپ احسن کے نام سے جانتی ہیں۔‘‘ وہ نہایت ڈھٹائی سے اعتراف کررہا تھا۔
’’مگر میرا اصل نام کسی کو معلوم نہیں فیروزہ بیگم… کیونکہ یہ نام لینے کا حق صرف اور صرف میری بیوی کو تھا میں کسی بھی اڑتی تتلی کی زبان سے اپنا یہ نام کہلوانا پسند نہیں کرسکتا تھا۔‘‘ بابر سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا۔
’’اتنے روپ۔‘‘ میں نے تھوک نگل کر کہا مگر میری آواز نہ نکل سکی۔
’’سوری فیروزہ ہم نے ابھی سفر بھی شروع نہیں کیا کہ راستہ بدلنے کا موڑ آگیا ہے۔‘‘
’’میں نے کبھی زندگی کے سفر میں آپ جیسے ساتھی کی تمنا نہیں کی۔‘‘
’’جی…!‘‘ میری تحیر آمیز آواز نکلی۔
’’اگر پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو فوراً نکال دیا جاتا ہے۔ تو بھلا میں زندگی بھر اپنے سینے میں کانٹے کی چبھن کیوں برداشت کروں۔ میں آپ کو طلاق…‘‘
’’نہیں…‘‘ میں بابر کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی چینخ پڑی۔ ’’نہیں… نہیں …نہیں۔‘‘ میرا رواں رواں کانپ رہا تھا۔ میں مسہری سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’آپ میری بات بھی تو سنیں۔‘‘
’’صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘ مجھے آپ کے بارے میں سب علم ہے اور آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتا۔‘‘
’’یہی کہ تم اپنی دوست کے ساتھ مجھ سے ملنے آتی تھیں اور جب تمہاری ڈیٹ ہوتی تھی تو وہ…‘‘
’’اس نے غلط نہیں بتایا تھا۔‘‘ بابر حیات نے وثوق سے کہا۔
’’بخدا… میں نے خود اسے کہا تھا کہ آپ میرے بارے میں پوچھیں تو وہ یہی کہہ دے۔ مجھے… مجھے نہیں علم تھا کہ اس مذاق کی بات کا یہ خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’آپ نے میرے ساتھ گل چھڑے اڑائے فیروزہ… اسی طرح آپ کسی اور کے ساتھ بھی جاتی ہوں گی اور…‘‘ بابر کی خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بے ربط جملہ بول رہا ہے۔ زبردست شاک لگا تھا اسے تو اور وہ ابھی تک سنبھل نہ پایا تھا۔ ایسا تو اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا شاید۔
’’آپ میرے کریکٹر کے بارے میں مینا سے پوچھ سکتے ہیں۔‘‘ ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا کے مصداق میں نے کہا۔
’’مینا کوئی کسوٹی نہیں ہے اور یوں بھی انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ بابر کے لہجے میں تلوار کی سی کاٹ تھی۔
’’میں آپ کے ساتھ ایک منٹ نہیں گزار سکتا۔‘‘
’’بابر مجھے ناکردہ گناہوں کی سزا مت دیجیے۔‘‘ میرا لہجہ ملتجی تھا۔
’’ناکردہ گناہ۔‘‘ بابر ہنس دیا۔ اس کی ہنسی برچھیوں کی طرح میرے دل میں اتر گئی۔
’’یاد ہے آپ ہی نے تو کہا تھا کہ مرد کبھی وسیع القلب نہیں ہوسکتا اور…‘‘
’’مگر آپ تو بہت وسیع القلب…‘‘
’’نہیں رہا فیروزہ جی!‘‘ بابر نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں نے امی جی سے کہا تھا کہ میری بیوی پڑھی لکھی ضرور ہو مگر ورکنگ ویمن نہ ہو۔ آپ پر ہی ان کی نظر انتخاب پڑی ہونہہ کیا تھرڈ کلاس پسند ہے ان کی۔‘‘ بابر کے لہجے میں نفرت ہی نفرت تھی۔
’’بابر میں صرف کیچڑ کے قریب سے گزری ہوں مگر خدا گواہ ہے میرے دامن پر ایک بھی چھینٹ نہیں ہے۔‘‘ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں پہلی رات کی دلہن آنسو بہارہی تھی۔
’’یہ بھی آپ ہی کے الفاظ ہیں کہ عورت کیچڑ میں لتھڑے مرد کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر پناہ دے سکتی ہے مگر مرد ہاں فیروزہ میں عورت کی طرح اعلیٰ ظرف نہیں ہوں بلکہ کوئی بھی مرد ایسا نہیں ہے۔ اب تم اپنی ہی مثال لو۔ میرے گزشتہ کرتوتوں کے بارے میں جانتے ہوئے بھی تم میرے ساتھ رہنے کو تیار ہو مگر میں… میں تو یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس لڑکی کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کروں جو کسی اور کی محبوبہ رہ چکی ہے۔‘‘
’’یہ غلط ہے… جھوٹ ہے۔‘‘ میں چینخ پڑی۔
’’صبح آپ کو طلاق کے کاغذات مل جائیں گے اب آپ آرام کریں۔‘‘ بابر نے نہایت سفاکی سے کہا تو مجھے لگا جیسے میرا سہاگ کا جوڑا جلنے لگا ہو۔
’’پلیز بابر!‘‘ میں بابر کے قدموں میں جھک گئی۔ ’’مجھے معاف کردو‘ جو گناہ میں نے نہیں کیا اس کی معافی مانگ رہی ہوں آپ سے۔‘‘
’’تم یقینا بے گناہ ہوگی فیروزہ‘ مگر میں اس پھانس کا کیا کروں جو میرے سینے میں پھنسی ہوئی ہے اور اگر میں نے اسے نہ نکالا تو میرا دم گھٹ جائے گا اور میں اس پھانس کو کل نکال دوں گا۔‘‘
’’کیا… کیا ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کیسا معاہدہ؟‘‘ بابر نے میرے ہاتھوں کے نیچے سے اپنے پاؤں کھینچ لیے۔
’’میرے والدین بہت عزت دار لوگ ہیں۔‘‘
’’تو کیا میں بے غیرت ہوں۔‘‘ بابر بھڑکا۔
’’آپ تو بہت غیرت مند ہیں صرف شک کی وجہ سے مجھے اپنانے کو تیار نہیں ہیں۔‘‘ ناچاہتے ہوئے بھی میرا لہجہ تلخ ہوگیا۔
بابر کی ضد اور ہٹ دھرمی سے مجھے علم ہوگیا تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ضرور کر گزرے گا اور اب رونا‘ گڑگڑانا فضول ہی تھا۔
’’کیسا معاہدہ کرنا چاہتی ہیں آپ؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔
’’میں چاہتی ہوں کہ آپ کل طلاق نامہ دینے کے بجائے ملک سے باہر جاکر بھیجیں تاکہ… تاکہ میں بے غیرتی کی بھٹی میں نہ جھونکی جاؤں۔ پلیز بابر یہ احسان مجھ پر‘ میرے خاندان پر کردیجئے۔ صرف کچھ ماہ بعد اپنی ارادے کو عملی جامعہ پہنائیے گا۔‘‘ بابر نے چند لمحے کچھ سوچا اور پھر بولا۔
’’ٹھیک ہے مگر آپ یہ نہ سمجھئے گا کہ آپ اتنے دن میرے ساتھ رہیں گی اور میں آپ کو اپنالوں گا۔ میں نے آپ کو طلاق دی‘ طلاق دی‘ طلاق دی۔‘‘ بابر نے تین لفظوں کا شعلہ میری طرف پھینک کر مجھے جلا ڈالا۔ مجھے کچھ ہوش نہ رہا میں چکرا کر گر پڑی اور جب ہوش آیا تو میں مسہری پر آڑھی ترچھی لیٹی ہوئی تھی۔ میں نے یونہی نظر گھما کر دیکھا تو سامنے صوفے پر کشن سر تلے رکھے بازو سینے پر لپیٹے وہ ظالم پتھر دل انسان سویا ہوا تھا۔
جس کے سینے میں گوشت پوست کا دل نہیں پتھر تھا۔ جسے میرے آنسو بھی نہ پگھلا سکے تھے۔ وہ جذبے لٹاتی چمکتی آنکھیں جو پلکوں تلے بند تھیں اور خوب صورت خمیدہ لب مونچھوں تلے مسکرا رہے تھے۔
’’مجھے یقین ہے بابر تم کوئی بہت ہی حسین سپنا دیکھ رہے ہو گے۔‘‘
میں اٹھ بیٹھی۔ ’’اور نہ جانے سپنے میں تمہارے ساتھ مینا ہے یا…‘‘
مینا کے نام پر میرے حلق میں کڑواہٹ گھل گئی۔ اس کی وجہ سے مجھے یہ دن دیکھنے پڑے ہیں۔
’’کاش… کاش مینا میں تمہارے ساتھ نہ جاتی تو آج میری سہاگ رات ایسے چپ چاپ تو نہ گزرتی۔ مقدر کس نے دیکھا ہے۔
آنے والے پل کی کسے خبر ہے۔ نجانے کون سا لمحہ کون سی ساعت ایسی ہوتی ہے جب ناکردہ گناہوں کی سزا بھی مل جاتی ہے اور سزا پا کر بھی زندہ رہنا پڑتا ہے۔ اپنی عزت کی خاطر لب سینے پڑتے ہیں۔
’’ہونہہ! مرد اور وسیع القلب۔‘‘ بابر حیات یونہی دعوے کرتا تھا۔ انسان کو اتنے بلند و بانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔ اپنا قول و فعل ایک سا رکھنا چائیے۔ مگر نہیں‘ بابر حیات اگر تمہارا قول و فعل ایک ہوجائے تو ہماری زندگی برباد ہونے کے بجائے تمہاری نہ ہوجائے اور ہر کوئی آگ سے اپنا دامن بچانا چاہتا ہے اور بابر حیات تم بھی ایسے ہی لوگوں میں سے ہو۔‘‘ جو آگ لگا کر تماشہ بھی دیکھتے ہیں اور چھپتے بھی پھرتے ہیں کہ پکڑے نہ جائیں۔
’’پچھتاوے میرا مقدر تھے۔‘‘ کیونکہ طلاق کا کانٹا مجھے پہلی رات ہی چب گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close