Hijaab Sep-16

شیشوں کا مسیحا

تحسین انجم انصاری

جب وہ سفید پتھروں سے بنے اس خوب صورت گھر میں داخل ہوئی تو وسیع وعریض لائونج میں بھاری قیمتی صوفوں پہ بیٹھے نفوس نے بے اختیار اس کا جائزہ لیا۔ وہ شہریار کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وقار اور تمکنت سے چل رہی تھی۔ پنک کاٹن کے سادہ سوٹ میں جس کے دوپٹے پہ ریشمی ربن نے اسے تھوڑا قابل قبول بنادیاتھا۔اس نے اپنے اطراف کاجائزہ لیا۔
قالین پہ صوفے کی بیک سے ٹیک لگائے کاشی کاروں سے متعلق کسی میگزین کا مطالعہ کررہاتھا ‘ رسالے سے نظریں ہٹاکرانہیں دیکھا تو چہرے پہ مسکراہٹ آگئی۔ عرشی ٹیلی ویژن پہ کھانا پکانے سے متعلق کوئی پروگرام دیکھ رہی تھی‘ا س نے اسکرین سے نظریں ہٹا کر ادھر دیکھا‘ عرشی کی نظروں میں ستائش تھی اور وہ پروگرام چھوڑ کر پرجوش انداز میں ان کی طرف بڑھی۔ صوفے پہ مغرور انداز میں بیٹھی نازنین نے اپنے ناخن سنوارتے ہوئے تیوری چڑھا کر دیکھااورایک جھٹکے سے کھڑی ہوگئی‘ بڑی بڑی آنکھوں میں ناگواری تھی۔
’’یہ تم کسے ساتھ لے آئے شہری…؟‘‘نازنین کے انداز پہ زرمینہ نے ناول سے نظریں ہٹا کر تیکھی نظروں سے آنے والوں کاجائزہ لیا۔ اپنی بیٹی کا غصہ جائز لگا تودوبارہ ناول میں غرق ہوگئیں۔
’’السلام علیکم…یہ سرینا ہیں‘میرے بہت عزیز دوست کی بہن۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے۔‘‘وہ بے نیازی سے بولی۔ ’’یہ تمہارے ساتھ کیوں ہے؟‘‘
عرشی نے اس کاہاتھ تھام لیا۔
’’میرا نام عرشی ہے اور مجھے آپ سے دوستی کرکے خوشی ہوگی۔‘‘
’’جی نہیں مجھے زیادہ خوشی ہوگی…‘‘ کاشی اسے پیچھے کرکے آگے بڑھا۔
سرینا کے چہرے پر ایک دم مسکراہٹ کی کرن چمکی۔ اس کا پورا چہرہ روشن ہوگیا۔ نازنین نے کینہ توز نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ لائٹ برائون بادامی آنکھیں جن پہ بے حد گھنیری پلکیں جھالر کی صورت میں دلکش لگ رہی تھیں۔ لائٹ برائون بال جو پشت پہ نیچے تک آتے تھے چوٹی گندھی ہوئی تھی اور گالوں پہ پڑے ڈمپل اس کی مسکراہٹ کو دلکش بنارہے تھے۔ نازنین کی آنکھوں میں حسد کے مارے جلن سی ہونے لگی۔ وہ بل کھاتی ناگن کی طرح پھنکاری۔
’’اب یہ بھی بتادو آخر یہ تمہارے ساتھ کیوں ہے؟‘‘
سرینا چونکی… نازنین کو دیکھااور سوچا اس لڑکی کو سب سے زیادہ فرق اس بات سے پڑرہاہے کہ میں شہریار کے ساتھ کیوں ہوں… ویری انٹرسٹنگ …!
’’سرینا میرے ایک بہت اچھے دوست کی بہن ہے۔ وہ چھ ماہ کے لیے ایک کورس اٹینڈ کرنے امریکہ جارہا ہے‘ تب تک یہ ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔‘‘
’’کیوں اس کے گھر میں کوئی اور نہیں ہے…؟‘‘ وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’نہیں…شہریار نے تنبیہی انداز میں اسے گھورا… ’’اور اگر اب تمہارے سوال ختم ہوگئے ہوں تو عرشی سرینا کو اس کا کمرہ دکھادو…؟‘‘
’’ہونہہ… اس نے نخوت سے ہنکارا بھرا…’’مجھے کیا ضرورت ہے‘ سوال کرنے کی۔‘‘
سرینا عرشی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگی تو کاشی کی آواز آئی۔
’’میں بھی آئوں گرلز…؟‘‘
’’تم کیوں؟ تمہارا کیا کام ہے یہاں…‘‘ عرشی چمک کر بولی۔
’’ان کیس …کہیں سے چھپکلی آجائے تو…؟‘‘ عرشی نے گھور کر دیکھا تو وہ دوبارہ وہیں بیٹھ کرLinixکا مطالعہ کرنے لگا۔
کمرے میں آکر عرشی کے واپس جاتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور جہازی سائز کے بیڈ پر بیٹھ گئی آنسو ایک دم سے آنکھوں سے نکلے اور گالوں پہ ڈھلک آئے… اور کچھ دیر بعد وہ سسکیوں سے رو رہی تھی۔
/…/…/
وہ نہا دھو کر فارغ ہوئی تھی کہ رانی اسے بلانے آگئی۔ نیچے سب چائے پہ اس کاانتظار کررہے تھے۔
وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ اس کی نظر لائونج میں صوفے پہ بیٹھے اس شخص پر جم کررہ گئی… قدم ایک لمحے کے لیے وہیں رک گئے… پلکوں کی جھالر بھیگنا شروع ہوگئی۔
’’آئو سرینا… ہم چائے پہ تمہارا انتظار کررہے ہیں۔‘‘ وہ خود کو سنبھالتے ہوئے پروقار قدموں سے چلتی لائونج کی طرف آئی۔
’’پہلے اس گھر کے دو بڑوں سے آپ کا تعارف کروادوں…‘‘شہریارمسکرایا۔
’’یہ میرے بابا جان ہیں بختیار بیگ اور یہ چچا میاں ہیں اختیار بیگ نام ہے ان کا…‘‘
بختیار صاحب نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا… تو اس نے آہستہ سے آداب کہہ کر اختیار بیگ کی طرف دیکھا۔ چائے کے کپ کی طرف جاتا اختیار بیگ کا ہاتھ وہیں رک گیا اور نظر اس کے چہرے پہ جم کررہ گئی۔ سرینا کے چہرے پہ سایہ سا لہرا گیا۔ ان کا ہاتھ بختیار بیگ کی طرح اس کے سر تک نہ جاسکا… وہ بس اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے اوران کے چہرے پہ درد کی ایک موہوم سی کیفیت تھی۔
’’پاپا ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں…؟‘‘ کاشی نے پوچھا تو انہوں نے چونک کر اس کے چہرے سے نظر ہٹائی۔
سرینا کو دیکھ کر کچھ یاد آگیا تھا۔ ایسے لگتا ہے پہلے بھی یہ چہرہ کہیں دیکھا ہے۔ وہ سوچوں میں گم لگ رہے تھے۔ زرمینہ بیگم نے تیوری چڑھا کر ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی اور نازنین کی طرف دیکھا وہ کچھ غصے میں تھی۔
’’غصے میں کیوں ہے ہماری بیٹی…؟‘‘ اختیار بیگ نے نازنین کی طرف پیار سے دیکھا تووہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’پاپا! میں نے آپ سے کہاتھا مجھے فلاور اریجمنٹ کی کلاس میں ایڈمیشن دلوادیں‘ آپ نے کچھ نہیں کیا ابھی تک…‘‘
’’ارے ناراض کیوں ہوتی ہو…‘‘ ابھی انتظام کیے دیتے ہیں۔‘‘
’’یوآرگریٹ پاپا… اس نے ان کے گلے میں بازو ڈال کر کہا تو زرمینہ مسکرادیں…سرینا کے کپ والے ہاتھ میں ذرا سی لرزش ہوئی اور کپ سائڈ پہ رکھ کر ایک دم اٹھ گئی۔ شہریار بھی اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’آئیے سرینا آپ کو دادی جان سے ملوائوں …‘‘
’’دادی جان سے …‘‘ وہ اشتیاق سے بولی۔
’’وہ تمہاری دادی جان نہیں ہیں…‘‘ نازنین نے غرور سے سرینا کی طرف دیکھا…’’ تم انہیں دادی جان نہیں کہوگی۔‘‘ سرینا نے خاموش نظروں سے نازنین کی طرف دیکھا۔ نازنین کو جانے کیوں سرینا کی خاموش نظروں سے گھبراہٹ ہوئی تھی جس کا اظہار وہ غصے کی صورت میں کرتی تھی۔
’’چلیں شہریار…‘‘ اس نے نازنین کو قطعاً نظرانداز کردیااور شہریار کے ساتھ اندر کے دروازے کی طرف مڑ گئی۔
’’پاپا دیکھا آپ نے …؟شی اگنورڈ می…‘‘
’’توبیٹا کیا کہے وہ آپ کو… قصور آپ کاہے۔ گھر آئے مہمان سے اس طرح سلوک کرتے ہیں؟‘‘
’’شی از ناٹ اے گیسٹ پاپا… ہم نے اسے انوائٹ نہیں کیا۔‘‘
’’تو شہریار نے کیا ہے… وہ بھی اسی گھر کا فرد ہے۔‘‘
’’میں کچھ نہیں جانتی۔ آئی جسٹ ڈونٹ لائک ہر۔‘‘
دادی جان کے دروازے پر دستک دے کر وہ سرینا کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔
سرینا نے دیکھا سفید بیڈ شیٹس اور سفید پردو ں والی بڑی سی مسہری پہ سفید بالوں اور سفید نرم وملائم چہرے والی ضعیف خاتون تکیوں کے سہارے نیم دراز تھیں۔ سورج کی روشنی چھن چھن کر اندر آرہی تھی۔ سرینا کو اس کمرے کاماحول انتہائی پاکیزہ اور پرسکون لگا۔ اسے یوں لگ رہاتھا جیسے یہاں آکر اس کے دل کو قرار آگیا ہو۔ ایک ملازمہ ان کو چمچ سے سوپ پلارہی تھی۔سرینا کی آنکھوں میں بیگم مہرالنساء ذوالفقار کو دیکھ کر نر م سی روشنی جل اٹھی۔
’’السلام علیکم دادی جان۔ دیکھیے تومیں کس کو آپ سے ملوانے لایا ہوں…‘‘
سرینا نے بڑی پیاری مسکراہٹ کے ساتھ ان کی طرف دیکھا… جس سے اس کے گالوں کے ڈمپل بھی مسکرااٹھے۔ اس نے جھک کر انہیں سلام کیا۔
دادی جان نے اچھنبے سے اس کے چہرے پہ نظر ڈالی۔
’’وعلیکم السلام بیٹا… یہ کون ہیں شہری…؟‘‘
’’دادی جان…‘‘ شہریار نے پیار سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔
’’میں نے جاتے ہوئے آپ کو بتایا تھا کہ میں پرستان جارہا ہوںاور وہاں سے پریوں کی شہزادی کو لے کرآئوں گا جو آپ کے ساتھ رہے گی۔‘‘
’’اور بیٹا میں نے بھی تو کہاتھا کہ پریوں کی شہزادی میرے ساتھ رہنے کیوں آنے لگی…؟‘‘
’’لیکن دیکھ لیجیے نا آگئی پریوں کی شہزادی…‘‘
سرینا نے ٹھٹک کر حیرت سے شہریار کی طرف دیکھا… اس کا چہرہ گلابی ہوگیا‘ اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے لیکن شہریار نے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش ر ہنے کااشارہ کیا۔
’’اچھا تو تمہاری شہزادی کانام کیا ہے…؟‘‘ دادی جان کی آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوئی۔
’’اس کانام سرینا ہے۔‘‘
’’سرینا ادھر آئو بیٹا میرے پاس بیٹھو…‘‘ دادی نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھالیا۔ اس کے ہاتھوں میں دادی جان کے ہاتھ کے لمس سے لرزش سی پیدا ہوئی اسے یوں لگا جیسے صدیوں سے اس لمس کو پہچانتی ہو۔ انہوں نے پاس بٹھا کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیااور غور سے اسے دیکھا۔
’’میری بیٹی واقعی پریوں کی شہزادی ہے۔‘‘ انہوں نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔
’’تم نے بالکل صحیح کہا شہری لیکن تمہیں پرستان میں اس کے گھر کاپتا کس نے دیا؟‘‘ان کی آنکھوں میں شرارت تھی۔
’’دادی جان ڈھونڈنے والے ڈھونڈ ہی لیتے ہیں‘ چاہے کوئی سات پردوں میں چھپ جائے۔‘‘ انہوں نے معنی خیز نظروں سے سرینا کی طرف دیکھا۔
’’بیٹارخشندہ کب تک واپس آئے گی…؟‘‘
’’دادی جان ابھی تو ایک ہفتہ وہیں رہیں گی…کیوں آپ اداس ہوگئیں…؟‘‘
’’تمہیں تو پتا ہے بیٹا ایک وہی ہے جس سے میں دل کی بات کہہ سکتی ہوں۔ زرمینہ تو بہت بے نیاز اور بے پروا ہے۔‘‘
’’تو یہ عرشی کس لیے ہے دادی جان… اسے بٹھایا کریں پاس… آج میں اسے ڈانٹتا ہوں۔ اگر وہ آپ کے پاس بیٹھا کرے تو آپ بور نہ ہوں۔‘‘
’’خبردار جو تم نے کچھ کہا بچی کو… وہ مجھے کافی دیر بہلاتی ہے‘ اب بچی ہے اس کے اپنے کام بھی ہیں۔‘‘
’’دادی جان…آپ فکر نہ کریں… اب میں آگئی ہوں نا… میں آپ کو کمپنی دوں گی… اور آپ مجھ سے دل کی ہربات کہہ سکتی ہیں… ہرراز بتاسکتی ہیں۔ میں راز کو راز رکھنے میں خاصی ماہر ہوں۔‘‘
’’یہ تو جانتے ہیں ہم…‘‘ شہریار زیر لب بولا تووہ چونک گئی۔
’’کیامطلب ہے آپ کا…میں سمجھی نہیں؟‘‘ اس نے حیرت سے اپنی گھنیری پلکیں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔
’’مطلب پھر کبھی سہی…‘‘ وہ ایک دم اٹھ گیا۔
’’دادی جان میں چلتا ہوں‘ آپ سرینا سے باتیں کریں… میں پھر آئوں گا…‘‘ وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا اور وہ دیکھتی رہ گئی۔
’’تو دادی جان بتائیں کیا کروں آپ کے لیے… آپ کو اخبار پڑھ کرسنائوں…؟‘‘
’’وہ پھر کبھی کرلینا… اس وقت تو تم میرے پاس بیٹھو… میرا دل چاہ رہا ہے تم سے باتیں کروں۔‘‘
’’دادی جان آپ تھک تو نہیں گئیں۔ آپ ٹیک لگا کر بیٹھ جائیں۔ میں ادھر کرسی پہ بیٹھ جائوں گی۔‘‘سرینا نے ان کو تکیوں کے سہارے لگایا اور پھربیڈ کے پاس رکھی کرسی پربیٹھ گئی۔
’’بیٹا شہری بتارہاتھا تمہارا بھائی کسی کورس کے لیے امریکہ گیا ہے۔ اور تم اکیلی ہو… مجھے اپنی ماں کے بارے میں کچھ بتائو کیسی تھی وہ…؟‘‘
سرینا نے سر جھکالیا… آنکھوں سے آنسو نکل کر گالوں پہ ڈھلک گئے… اور جسم ہولے ہولے کانپنے لگا۔
’’نہیں بیٹا… بہادر لوگ روتے نہیں ہیں… مجھے اس کے بارے میں بتائو اس طرح تمہارے دل کابوجھ بھی ہلکا ہوجائے گااور مجھے بھی پتا چلے گا کتنی اچھی عورت تھی جس نے تم جیسی بیٹی کو جنم دیا… کیا نام تھا اس کا…؟‘‘
’’فارینہ… ‘‘سرینا نے اپنی آنکھیں پونچھ کر دھیرے سے کہا۔
’’اب مجھے فارینہ کے بارے میں کچھ بتائو…‘‘ انہوں نے پیار سے کہا۔
’’کیابتائوں آپ کو ان کے بارے میں… میں نے ان جیسی اور کوئی خاتون نہیں دیکھی اپنی زندگی میں… وہ پیار ومحبت کا مجسمہ تھیں‘ ایثارووفا کی تصویر…انہوں نے اپنی ساری زندگی ہمارے لیے قربان کردی۔ ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ زمانے سے دھوکا کھایا…لیکن کبھی شکایت نہ کی…ایک مرد پہ اعتبار کیا…ا س سے محبت کی‘ شادی بھی کی… لیکن وہ مرد بھی ان سے وفا نہ کرسکا… لیکن انہوں نے اپنے لبوں پہ کبھی بھی اس کے خلاف شکایت نہیں آنے دی… ہمیشہ ہمیں یہی کہا… کہ تمہارے باپ کو غلط فہمی ہوگئی تھی‘ یااس کی کوئی مجبوری ہوگی۔‘‘
کتنی ہی دیر بیٹھی اپنی ماں کی باتیں کرتی رہی… دادی جان نے اس کو بالکل نہ روکا… وہ خاموش بیٹھی سنتی رہیں اور واقعی سرینا کا دل ہلکا ہوگیا۔ اپنی ماں کے بارے میں پہلی بار وہ کسی سے اتنی تفصیل سے گفتگو کررہی تھی اور اس گفتگو نے اس کو واقعی ہلکا پھلکا کردیاتھا۔
تھوڑی دیربعد رانی کھانے کے لیے بلانے آگئی۔
’’دادی جان میں آپ کے ساتھ کھانا کھائوں گی۔‘‘
’’نہیں بیٹا… میں نے تو ابھی ابھی سوپ پیا ہے… میں اب سونے سے پہلے صرف دودھ کاگلاس لوں گی… تم جائو سب کے ساتھ بیٹھو… اس طرح سب سے واقف ہوجائوگی اور یہاں رہنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ جائو شاباش۔‘‘
’’پھر آپ میرے آنے سے پہلے سوئیے گا نہیں۔ میں کھانا کھا کر آتی ہوں۔‘‘ وہ اٹھ گئی۔
باہر آئی تو شہریار مل گئے۔
’’آئیے …ڈائننگ روم میں چلتے ہیں۔‘‘وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے اندر آئی تو سب اپنی اپنی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ انہیں دیکھ کر نازنین کے چہرے کا زاویہ بدل گیا۔ شہریار نے اس کے لیے ایک کرسی باہر کھینچی اوراس کے بیٹھنے کے بعد اپنی کرسی کی طرف چلے گئے۔ شہریار کے اس طرح کرنے سے نازنین نے غصے سے پہلو بدلا۔ سب کھانے میں مشغول ہوگئے‘ سرینا نے اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے چاول ڈالے اور خاموشی سے بیٹھ گئی۔
’’اے لڑکی… کھاکیوں نہیں رہیں۔‘‘ زرمینہ بیگم نے گھور کر اسے دیکھا… سرینا نے خاموش نظروں سے ان کے چہرے کی طرف دیکھااور دھیرے سے بولی۔
’’میرا نام سرینا ہے۔‘‘
’’جوبھی ہے… کھاکیوں نہیں رہیں؟‘‘
’’میں اصل میں بگھارے بینگنوں کا انتظار کررہی ہوں…‘‘ اس نے اس ڈونگے کی طرف دیکھا جو اس وقت شہریار کے تصرف میں تھا…شہریار نے جلدی سے پلیٹ میں تھوڑا سالن ڈال کر ڈونگا اس کی طرف بڑھادیا۔
’’آپ کو بینگن پسند ہیں سرینا باجی…‘‘
’’کیوں تمہیں پسند نہیں۔‘‘
’’مجھے کوئی خاص اچھے نہیں لگتے۔ آپ کو پتا ہے زیادہ تر لوگوں کو بینگن پسند نہیں ہوتے۔‘‘
’’مجھے بہت پسند ہیں… ماما کہتی تھیں کھانے کے معاملے میں میری پسند میرے پاپا پر گئی ہے۔‘‘ اس نے کنکھیوں سے اختیار بیگ کی پلیٹ کی طرف دیکھا…انہوںنے بھی ٹھٹک کر اسے دیکھا… اور پھر اپنی پلیٹ پہ ان کی نظر رک گئی۔
وہ خاموشی سے کھانا کھاتی رہی… عرشی اور کاشی بہت باتیں کررہے تھے… جبکہ نازنین کھانا کم کھارہی تھی اور غصہ زیادہ کھا رہی تھی۔
/…/…/
سب لائونج میں بیٹھے تھے جب وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔ اس نے زرد کاٹن کا شلوار سوٹ پہن رکھا تھا جس پہ زرد ہی دھاگے سے کڑھائی کی گئی تھی ۔ دوپٹے کے پلو پہ بھی زرد ریشمی دھاگے سے کڑھائی کی گئی تھی۔ یہ اس کی ماما کا سوٹ تھا‘ جواسے بہت پسند تھا۔ ماما کہتی تھیں کہ یہ اس کے پاپا نے بڑے شوق سے ان کے لیے بنوایا تھا۔ اور ان سے کہتے تھے تم ان کپڑوں میں بالکل گلاب کی زرد کلی لگتی ہو۔ ماما نے اسی لیے یہ سوٹ بہت سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔
نیچے آئی تو جیسے ہی اختیار بیگ کی نظر اس پہ پڑی ان کے ہاتھ میں موجود بزنس میگزین چھوٹ کر ان کی گود میں آگرا… اور وہ ایک دم سیدھے ہو کربیٹھ گئے۔ ان کے چہرے پہ سایہ سا لہرایا… انہوں نے بے قراری سے پہلو بدلا… اور پھر غور سے اس کی طرف دیکھا… وہی سوٹ تھا‘ اس سوٹ کووہ کیسے بھول سکتے تھے۔ زندگی میں پہلی بار اتنی محبت سے انہوںنے کسی کے لیے کچھ بنوایا تھا۔ اپنے شوق سے… اور سرینا کو دیکھ کر وہ کیوں یاد آئی تھی۔ کچھ تو تھا اس لڑکی میں…شاید اس کے بالوں اور آنکھوں کی رنگت اس سے ملتی ہے… یا پھر اس کی آنکھیں …کچھ تو ہے جس کی وجہ سے ایک بھولی بسری یاد دل کے کونوں کھدروں سے جھانکنے لگی تھی۔
کاشی اپنے سامنے کتاب رکھے جزبز ہو رہا تھا۔
’’کیا بات ہے کاشی… کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ اس نے نرمی سے پوچھا تو اس نے ایک کتاب اس کے آگے کردی۔
’’مسئلہ کیاہونا تھا باجی… یہ حضرت میتھ میرے لیے ہمیشہ سے مسئلہ رہے ہیں… آپ کو پتا ہے پاپا کیا کہتے ہیں…پاپا کہتے ہیں میتھ کے معاملے میں تم نے اپنی ماں کا دماغ لیا ہے۔‘‘
’’اچھا… تمہیں ایک انٹرسٹنگ بات بتائو ں …‘‘
’’کیا…؟‘‘ وہ اشتیاق سے بولا۔
’’میری ماما کہتی ہیں میں نے میتھس کے معاملے میں اپنے پاپا کا دماغ لیا ہے…‘‘ وہ بہت پیارے انداز میں مسکرائی۔
’’اور جناب میں میتھس میں تمہارا ہر مسئلہ حل کرسکتی ہوں۔ میں نے میتھس میں ماسٹرز کیا ہے۔‘‘
’’ماسٹرز… آپ تو چھوٹی سی لگتی ہیں۔‘‘
’’اتنی چھوٹی بھی نہیں ہوں۔ اگر انسان فیل نہ ہو تو بائیس تئیس سال کی عمر میں ماسٹرز کرلیتا ہے۔‘‘سرینا نے اس کامسئلہ منٹوں میں حل کردیا۔ تو عرشی بھی بولی۔
’’اس کامطلب ہے میں بھی آپ سے مدد لے سکتی ہوں؟‘‘
’’کیوں نہیں ضرور…‘‘
’’باجی اگر پڑھائی ختم ہوگئی ہو تو ٹینس نہ ہوجائے۔‘‘
’’ایک شرط ہے…؟‘‘وہ مسکرائی۔
’’فرمائیے۔‘‘
’’اگر میں جیت گئی تو میری ایک بات ماننی پڑے گی۔‘‘
’’وہ کیا…؟‘‘
’’یہ میں بعد میں بتائوں گی۔‘‘
’’دس از ناٹ فیئر باجی… چلو خیر جیت تو نہیں سکتیں آپ۔ میری ٹینس بہت اچھی ہے۔‘‘
’’ایوری باڈی…‘‘ کاشی نے سب کومتوجہ کیا۔ ’’سب باہر آجائیں… گریٹ چیمپنز کا میچ ہونے لگا ہے…آپ سب آکر میچ کی شان کو دوبالاکریں۔‘‘
’’میں تو نہیں جائوں گی… ‘‘ نازنین نخوت سے بولی۔
’’مجھے بھی معاف کریں… میں اس وقت اپنا ناول ختم کرنا چاہوں گی۔‘‘ زرمینہ بیگم بھی بے نیازی سے بولیں۔
’’پاپا آپ تو آئیں گے نا…‘‘ کاشی امید بھری نظروں سے انہیں دیکھ کر بولا۔
’’کیوں نہیں…‘‘ وہ فوراً اٹھے۔
نازنین کی آنکھوں میں غصے سے آگ بھڑکنے لگی تھی لیکن کاشی کی وجہ سے وہ انہیں روک نہ سکی۔
اور جہاں اختیار بیگ اس کی پھرتی اور مہارت دیکھ کر حیران ہوئے‘ وہاں کاشی تو کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔
’’آپ تو چھپی رستم نکلیں… آپ نے بتایا نہیں آپ اتنا اچھا کھیل سکتی ہیں۔‘‘
’’آپ تومجھے چیمپئن لگ رہی ہیں۔‘‘ عرشی بھی متاثر لگ رہی تھی۔
’’اور میچ ہار کر جب وہ اس کے ساتھ اندر آیا تو سرینا کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
’’آپ نے کس سے سیکھا یہ سب سرینا باجی۔‘‘
’’میری ماماکہتی تھیں کہ میرے پاپا ٹینس کے چمپئن تھے…بہت اچھا کھیلتے تھے… میںنے یہ ٹیلنٹ ان سے ہی لیا ہے… اصل میں میں نے اپنی ساری عادتیں ان سے ہی لی ہیں۔‘‘
’’توپھر تو آپ کے اتنے ٹیلنٹڈ پاپا سے ملاقات کرنی پڑے گی۔‘‘
’’ضرور کروائوں گی… بس کچھ دن انتظار کرو…‘‘
’’‘کہاں ہیں وہ آج کل۔‘‘
’’بس یہی کہیں ہیں… اسی دنیا میں۔‘‘ اس نے بے حد سنجیدگی سے کہااور اٹھ گئی
’’میں ابھی چینج کرکے آتی ہوں۔‘‘
…٭٭٭…
اگلے دن صبح اس کے کالج جانے سے پہلے اسے جالیا۔
’’تمہیں اپنی شرط یاد ہے نا…؟‘‘
’’جی فرمائیے کس چیز کی قربانی دینی پڑے گی…‘‘ اس نے مسکین سی شکل بنائی۔
’’ایک عدد جاب دلوادو اپنے پاپا کے آفس میں۔‘‘
’’جاب…؟ آپ کو جاب کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ وہ حیران ہوا۔
’’ہے نا… مجھے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے چاہیئں۔‘‘
’’لیکن…؟‘‘
’’لیکن ویکن کچھ نہیں بھائی… تم نے وعدہ کیا تھا… یوں بھی میں سارا دن فارغ کیا کروں …؟‘‘
’’ٹھیک ہے میں کہتا ہوں…‘‘ وہ ایک دم سنجیدہ ہوگیا۔’’آپ نے مجھے بھائی کہا ہے… اس لیے کوشش کروں گا…ورنہ مجھے آپ کا جاب کرنا اچھا نہیں لگے گا۔‘‘
’’دیکھا… یہ بات کہہ کر تم نے بھائی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
شام کو وہ دادی جان کے کمرے میں ان کواخبار پڑھ کر سنارہی تھی کہ شہریار آگئے۔ وہ انہیں دیکھ کر مسکرائی او رپھر پڑھنے میں مصروف ہوگئی… شہریار تھوڑی دیر انتظار کرتے رہے تو اس نے اخبار ایک طرف رکھ دیا۔
’’کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’میں تو ٹھیک ہوں… لیکن یہ آپ کو جاب کی کیا سوجھی سرینا…؟‘‘ انہوں نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’اس میں برائی بھی کیا ہے؟ وقت آسانی سے گزر جائے گا… اور تجربہ بھی حاصل ہوجائے گا۔‘‘ سرینا نے تھوڑا جھجک کر ان سے کہا تو مہرالنساء بیگم نے بھی تشویش سے اس کو دیکھا۔
’’بیٹا تمہیں یہاں کوئی تکلیف تو نہیں ہے … اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلاجھجک کہو…اگر رقم کی ضرورت ہو تو جو چاہیے مجھے کہو… میںہوں نا…‘‘
’’نہیں دادی جان یہ بات نہیں ہے…‘‘ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
’’بس… یہ مجھے ضروری کرنا ہے … ہر قیمت پر… آپ تو سمجھتے ہیں ناشہریار۔پھر کیوں پوچھ ہے ہیں…؟‘‘ اس کی آنکھوں میں شکوہ تھا۔
’’ٹھیک ہے سرینا… آئم سوری… تم صبح تیار رہنا… میں آفس جاتے ہوئے تمہیں ڈراپ کردیا کروں گا۔‘‘
’’لیکن ابھی کاشی نے بات نہیں کی ہوگی۔‘‘ وہ بولی۔
’’میرے ہوتے ہوئے کاشی کو بات کرنے کی کیاضرورت ہے؟‘‘
’’صبح انکل کے ساتھ ہی نہیں جاسکتی میں… روزانہ آپ کہاں تکلیف کریں گے…؟‘‘
’’انکل کے ساتھ جانے میںچچی جان اور نازنین کے ساتھ جنگ شروع ہوجائے گی‘ اس کامقابلہ کیسے کروگی؟‘‘
’’وہ جنگ آپ کے ساتھ جانے سے زیادہ تباہ کن نہیں ہوگی… کیا خیال ہے؟‘‘ وہ ذرا شرارت سے بولی۔
’’میری فکر نہ کرو… میں حالات سے مقابلہ کرلوں گا… لیکن چند دن تک اگر تمہارے اوپر ان کی عنایات کی بارش نہ ہو تو اچھا ہے۔‘‘
اس کی بات پر اس نے مسکرا کر گردن اثبات میں ہلادی۔
/…/…/
آفس نہایت شاندار تھا… اور جب سرینا اندر داخل ہوئی تو کرسی کے پیچھے بیٹھے ہوئے اختیار بیگ کی شخصیت اس کو آفس سے بھی زیادہ شاندار محسوس ہوئی…بلیک سوٹ میں دبلے پتلے لمبے قد کے ساتھ کھڑے… کنپٹیوں پہ تھوڑے سفید بال ان کی وجاہت میں اضافہ کررہے تھے… فون پہ بات کرتے ہوئے اسے دیکھ کر وہ چونکے … وہ فائل ہاتھ میں تھامے ان کے قریب آئی تو اس کے پرپل سوٹ کے ہائی نیک گلے کے اوپر والے بٹن کی جگہ لگے ہوئے بروچ پہ ان کی نظر جم کررہ گئی۔ ماضی کے کچھ خوابوں کی ٹوٹی ہوئی کرچیاں ان کی آنکھوں میں چبھی تھیں۔ لیکن وہ اس بروچ پر سے نظریں نہ ہٹاسکے۔ سر میں درد کی لہر ابھری توانہوں نے اپنا سردونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’انکل…آپ ٹھیک تو ہیں…؟‘‘ وہ بے قرار ہوئی۔انہوںنے کوئی جواب نہ دیا تووہ جلدی سے ایک گلاس میں پانی ڈال کر لائی۔
’’انکل…پلیز پانی پی لیں…‘‘ انہوں نے چونک کر سراٹھایا… اوران کی نظریں پھر سے بروچ میں اٹک کررہ گئیں۔ وہ ایک ٹک اسے دیکھتے ہوئے ماضی میں پہنچ گئے۔
’’ہیپی برتھ ڈے فارو…‘‘ انہوںنے بروچ اس کے سرخ کوٹ کے کالر پہ لگایا تو اس کی آنکھیں ستاروں کی طرح دمک اٹھیں۔
’’کتنا خوب صورت … کس قدر نفیس ہے یہ اختیار۔‘‘
’’نہ تو تم سے زیادہ خوب صورت ہے اور نہ ہی تم سے زیادہ نفیس…‘‘ انہوں نے اس کے گرد بازو پھیلائے تووہ شرما گئی۔
’’آپ سے باتوں میں تو کوئی جیت نہیں سکتا۔ ٹینس کی طرح آپ باتوں کے بھی چمپئن ہیں۔‘‘
’’تمہیں پتا ہے ہمیں سب سے زیادہ خوشی کس چیز کے چیمپئن ہونے پہ ہے…؟‘‘
’’نہیں…آپ ہی بتادیجیے۔‘‘
’’ہم نے تمہیں جیت لیا ہے… تمہاری محبت کو جیت لیا ہے… ہم تمہارے اور تمہاری محبت کے چیمپئن ہیں اور یہ ہماری سب سے بڑی جیت ہے۔‘‘
’’میں نے تو پہلے ہی کہاتھا کہ آپ سے باتوں میں کوئی نہیں جیت سکتا۔‘‘
’’انکل…انکل…آپ ٹھیک تو ہیں…؟‘‘ سرینا نے نرمی سے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ۔ وہ چونک کر حال میں آگئے۔ اوراس کے بڑھے ہوئے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر منہ سے لگالیااور ایک ہی سانس میں خالی کردیا۔
’’میں ٹھیک ہوں بیٹا۔‘‘ انہوں نے خود کو سنبھالا۔
’’یہ تین چار فائلیں ہیں ان کو ٹائپ کرکے لے آئیں۔ پھر میرے سائن ہوجائیں گے تو ان کو میل کردیں… آج ہی۔‘‘
’’ٹھیک ہے انکل…‘‘ وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔
/…/…/
رات کے بارہ بج گئے لیکن اختیار بیگ کی آنکھوں سے نیند کسی روٹھی ہوئی محبوبہ کی طرح غائب تھی۔ زرمینہ کے سوجانے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھے اور کھڑکی میں آکر کھڑے ہوگئے۔باہر چودھویں کا چاند پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہاتھا۔ لان میں ہر چیز دودھ میں نہائی ہوئی لگ رہی تھی۔ پھر وہ چونک گئے۔ انہو ں نے دیکھا کہ کوئی اتنی رات گئے چاندنی سے نہائے لان میں دھیرے دھیرے چہل قدمی کررہا تھا۔ اس کے چلنے کے انداز سے انہوں نے جان لیا کہ وہ سرینا تھی بنا کچھ سوچے سمجھے بے اختیار ہی ان کے قدم سیڑھیوں سے نیچے آکر بیرونی دروازے کی طرف اٹھ گئے۔ وہ لان میں پہنچے تو وہ ایک آرائشی بینچ پربیٹھ چکی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک واک مین تھا۔ اس نے اسے بینچ پہ رکھا اور پھر بٹن دبادیا… دھیمی دھیمی سی آواز ہوا کی لہروں کے ساتھ بہنے لگی… اس نے جان بوجھ کر آواز آہستہ رکھی تھی تاکہ لوگ ڈسٹرب نہ ہوں لیکن رات کی خاموشی کی وجہ سے آواز ان کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔
موتی ہو کہ شیشہ‘ جام کہ در
جو ٹوٹ گیا‘ سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا
تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
اختیار بیگ کے ذہن میں جھماکا سا ہوا… یہ تووہی آواز تھی… بالکل وہی… جو کبھی انہوں نے بڑی وارفتگی سے سنی تھی… جس کا مدھرلوچ اور سریلاپن ان کو مدہوش کردیا کرتاتھا۔ انہوں نے بڑے اصرار سے ایک کیسٹ پہ یہ نظم ریکارڈ کروائی تھی۔ پہلے تووہ مانتی نہیں تھی… لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ یہ ان کے دل کی خواہش ہے تو وہ ان کے دل کی خواہش سے انکار کردیتی یہ توممکن ہی نہ تھا۔ لیکن یہ کیسٹ سرینا کے پاس کیسے آگئی… سرینا کون ہے؟ کیا لگتی تھی اس کی … کیا رشتہ تھا سرینا کااس سے …کیا وہ ان کی …نہیں نہیں وہ ان کی بیٹی کیسے ہوسکتی ہے… اگر وہ بیٹی ہوتی تو فارو اس سے کبھی نہ چھپاتی… انہیں ضرور بتاتی۔
/…/…/
بابا نے جب اختیار بیگ کو آفس جوائن کرنے کے لیے کہا تو وہ گھبراگئے… ابھی وہ آزاد رہ کر کچھ وقت گزارنا چاہتے تھے …ابھی سے اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے سے ان کا دل خوف کھاتاتھا… جاب کرلیتے توپھر امی ان کی شادی زرمینہ سے کروادیتیں اور زرمینہ سے شادی …؟ اوروہ بھی اتنی جلدی… اس زہر سے بھی زیادہ کڑوی لڑکی کا سوچ کر ہی ان کے جسم میں کڑواہٹ گھل گئی… شادی تو ان کو زرمینہ سے کرنی ہی تھی توپھر جتنا زیادہ اسے ٹال سکتے تھے ٹال رہے تھے لیکن بابا نے اب الٹی میٹم دے دیا تھا کہ اگر انہوں نے اس سال جوائن نہ کیا تو وہ اپنا بندوبست کرلیں… اور وہ انہیں خرچے کے نام پہ ایک آنہ بھی نہیں دیں گے … تب بختیار بیگ جو بہت کامیابی سے فرم کو چلارہے تھے آگے بڑھے اور سمجھایا۔
’’دیکھو اختیار… اس بار بابا نے تہیہ کرلیا ہے‘ اس لیے تمہیں ماننا ہی ہے… اور پھر آخر کب تک ٹالتے رہوگے تمہیں ایم بی اے کیے بھی دوسال گزر گئے ہیں آخر کو آفس جوائن کرنا ہے… کل کرنا ہے تو آج ہی کرلو۔‘‘
’’اور پھر زرمینہ سے شادی کرنی پڑے گی اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں آپ…؟‘‘
’’وہ بھی آج نہیں تو کل کرنی پڑے گی… شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا… دیکھو میں بھی کتنا خوش ہوں تمہاری بھابی اور شہریار کے ساتھ…‘‘
’’بھابی سے مت ملائیں اس زہر کی پڑیا کو…‘‘ انہوں نے براسامنہ بنایا تو بختیار بیگ نے قہقہہ لگایا۔
پھر بابا کے سامنے انہوں نے آفس جوائن کرنے کی یہ شرط رکھی کہ انہیں صرف دو ماہ دیئے جائیں‘ وہ دو ماہ کشمیر کی حسین وادیوں میں گزار کر اپنے دماغ کو تروتازہ کرکے پھر آفس جوائن کریں گے۔
کشمیر آکر ان کی روح کو سکون آگیا۔ وہ اکیلے ہی آئے تھے… بختیار بیگ نے بہت کہا کہ کسی دوست کو ساتھ لے جائو لیکن اختیار کا یہ نظریہ تھا کہ اگر قدرتی نظاروں کی سیر کے لیے جائو تو اکیلے جائو تاکہ حسن کی فراوانی میں مدہوش ہو سکو… ایسے میں کسی کی بات یا کسی کی رائے نہ سنائی دے۔
ایسے ہی ایک خوب صورت دن پہاڑی کی ایک ڈھلان پہ وسیع وعریض سبزہ زار کو دیکھ کر ان کا من مچل اٹھا اور وہ سرور میں آکر اس بھاگتے چلے گئے … ہوا چہرے سے ٹکرا رہی تھی تو ان کو بہت بھلا لگ رہا تھا… بھاگتے بھاگتے تھک کر ایک جگہ رکے تو ٹھٹک گئے … انہوں نے بھاگ کر تقریباً تمام فاصلہ طے کرلیاتھا اور وہ اب دوسرے سرے پہ تھے اور وہاں ایک بڑے سے پتھر پہ دونوں بازوئوں میں سر دیئے وہ زارو قطار رو رہی تھی … اس نے سفید ریشم کا لباس پہن رکھا تھا… اس کے لائٹ برائون بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔
وہ چند لمحے کھڑے دیکھتے رہے اور پھر اس کے قریب آگئے …اسی وقت روتے روتے اس نے سراٹھایا۔اس کی لائٹ براؤن بادامی آنکھیں آنسوئوں سے تر تھیں۔
’’کیابات ہے خاتون…؟‘‘ وہ بہت نرمی سے بولے۔ ’’کوئی مسئلہ ہے کیا؟‘‘
اس نے گھبرا کر ان کی طرف دیکھا اور پھر حیران ہوگئی۔
’’آپ کیسے ایک دم سے یہاں آگئے؟ ابھی تو میں نے دیکھا تھا یہاں کوئی نہیں تھا؟‘‘
’’تو آپ نے ادھر ادھر دیکھ کر رونے کا پروگرام بنایا تھا۔ آئم سوری میں نے آپ کا پروگرام خراب کردیا۔‘‘ وہ شرارت سے بولے تو وہ خفت سے مسکرائی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے… میں رو تو نہیں رہی تھی… آنکھوں میں شاید کوئی تنکا…‘‘
ابھی اس نے بات پوری نہیں کی تھی کہ اختیار کا فلک شگاف قہقہہ سن کررک گئی… اور ششدر رہ گئی۔
’’آپ مجھ پر ہنس رہے ہیں…؟‘‘ وہ برا مان گئی۔
’’نہیں تو… مجھے تو کسی نے لطیفہ سنایا تھااس لیے ہنس رہا ہوں…‘‘ وہ مسکراہٹ دبا کر بولے تواس نے گھبرا کر ان کی طرف دیکھا۔
’’آپ جھوٹ بھی بول لیتے ہیں…؟‘‘
’’جب آپ جھوٹ بول سکتی ہیں تو مجھ پہ کیا پابندی ہے؟‘‘ انہوں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ چپ سی ہوگئی… ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں درد کی کیفیت آئی اور چلی گئی… وہ سنجیدہ ہوگئی۔
اختیار اس کے قریب دوسرے بڑے پتھر پہ بیٹھ گئے۔
’’بعض اوقات کسی سے اپنا مسئلہ شیئر کرلیں تو دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔‘‘
لڑکی نے سر جھکالیا۔آنسوئوں کے چند قطرے اس کے گالوں پہ ڈھلکے۔
’’اور مجھے مسئلہ بتانے میں ایک اور فائدہ بھی ہے۔‘‘
’’وہ کیا…؟ اس نے سادگی سے کہا۔
’’میں اس شہر میں اجنبی ہوں… یہاں سے چلاہی جائوں گا۔ آپ کوڈر بھی نہیں رہے گا کہ میں آپ کا راز کسی کو بتانہ دوں…‘‘
’’آپ ٹورسٹ ہیں…‘‘
’’ہاں…پھر کیا خیال ہے؟‘‘
’’میرا ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے… جومیں اجنبی لوگوں کو بتاتی پھروں … ‘‘وہ اٹھ کر چل دی تووہ خاموشی سے وہیں بیٹھے دیکھتے رہے۔ کوئی بات تھی اس لڑکی کے چہرے پہ کہ وہ اسے اپنے تصور سے ہٹانہیں پائے تھے۔ باقی کی ساری شام اس کاچہرہ اور آنسوئوں سے لبریز آنکھیں ان کے تصور میں آکر ہلچل مچاتی رہیں۔ رات کوخواب میں کتنی بار اسے دیکھا… صبح اٹھے تو بے چین ہوگئے۔ یہ کیا بات تھی‘ چند لمحوںکی ملاقات تھی اور ایسا نشان چھوڑ گئی تھی کہ بھلائے نہیں بھول رہی تھی۔ کسی کام میں جی نہیں لگ رہاتھا۔
اس دن وہ دعائیں کرتے رہے کہ اس سے پھر ملاقات ہوجائے … شام کو وہ اسی بے قراری میں جھیل کے کنارے ٹہل رہے تھے کہ درخت کے پیچھے سے ایک جوڑے کے جھگڑے کی آوازیں آنے لگیں۔
’’میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں اعتزاز کہ میں تمہارا یہ مطالبہ اپنی ماں تک نہیں پہنچا سکتی‘ اگروہ اپنا گھر تمہارے نام کردیں گی تو خود کہاں جائیں گی‘ اور اتنی مہنگی موٹر سائیکل کے لیے وہ کسی سے قرض لینا پسند نہیں کریں گی۔ ان کے کچھ اصول ہیں۔‘‘
’’وہ ہمارے ساتھ رہ سکتی ہیں… اور گھر میرے نام کردیں‘ تومیں موٹر سائیکل کے مطالبے سے دستبردار ہوجائوں گا… لوگ تو دامادوں کے لیے اتنا کچھ کرتے ہیں؟‘‘
’’نہیں اعتزاز… وہ گھر بابا کی نشانی ہے امی اسے کبھی کسی اور کے نام نہیں کریں گی اوروہ گھر چھوڑ کر بیٹی اور داماد کے گھر رہنے میں بے عزتی محسوس کریں گی۔‘‘
’’افوہ… تم اور تمہاری ماں کے یہ نام نہاد فضول نظریات… آج کل بیٹی اور بیٹے میں کیا فرق ہے… بیٹی کے ساتھ رہنے میں آخر کیا حرج ہے…؟‘‘
’’بات یہ نہیں اعتزاز کہ بیٹی کے ساتھ رہنے میں حرج ہے یانہیں…بات یہ ہے کہ تمہیں اپنی قوت بازو پہ بھروسہ نہیں ہے… تم محنت کرکے اپنے اور میرے لیے گھر کیوں نہیں بناسکتے …تم موٹر سائیکل کامطالبہ کرکے میری توہین کررہے ہو… مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے تم مکان اور موٹر سائیکل کی صورت میں میری قیمت لگا رہے ہو۔‘‘
’’تو تم انکار کررہی ہو…؟‘‘
’’ہم لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے … اور یوں بھی مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے‘ جو لوگ دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں نااپنی ضروریات کے لیے… وہ اچھے انسان نہیں ہوتے… مجھے ایسا شوہر چاہیے جو میری ماں سے کہے کہ اسے جہیز کے نام پہ کچھ بھی نہیں چاہیے‘ صرف آپ کی بیٹی چاہیے … اور تم…‘‘ وہ خاموش ہوگئی۔
’’تو تم انکار کررہی ہو…؟‘‘ اس کالہجہ زہریلا تھا۔
’’پلیز اعتزاز… ‘‘ وہ لجاجت سے بولی۔
’’ہاں یانہ…‘‘ وہ گرجا۔
لڑکی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
’’یہ ٹسوے بہانا بند کرو اور ہاں یانہ میں جواب دو…تم میری بات مان رہی ہو یانہیں…؟‘‘
لڑکی روتے روتے چپ ہوگئی اور سنجیدگی سے بولی۔
’’نہیں اعتزاز میں تمہاری یہ بات نہیں مان سکتی۔‘‘
’’چاہے میں شادی سے انکار کردوں…؟‘‘
’’ہاں چاہے تم شادی سے انکار کردو…‘‘ وہ اٹل لہجے میں بولی… اوراعتزازغصے میں پائوں پٹختا ہوا مڑااور مڑ کر بولا۔
’’تو میں شادی سے انکار کرتا ہوں… میرا انتظار نہیں کرنا… ‘‘ وہ غصے میں چلتا ہوا اسی طرف مڑگیا جدھر اختیار کھڑے تھے۔اختیار نے گزرتے ہوئے قریب سے اس کی شکل دیکھی… جانے وہ کب تک ادھر ہی دیکھتے رہتے کہ ہچکیوں سے اس کے رونے کی آواز آئی تو وہ جلدی سے آگے بڑھے… درخت کے اس طرف بنچ پہ بیٹھی وہ اپنے دل کا درد آنسوئوں میں بہارہی تھی کہ اس کے جھٹکے کھاتے جسم کو دیکھ کر اختیار کے دل کو چوٹ سی لگی۔ ان کا دل چاہ رہاتھا کہ وہ اس ٹوٹے دل والی غم زدہ لڑکی کواپنے بازوئوں میں چھپا کر اس کا سارا درد لے لیں اوراس کے بدلے زندگی کی ساری خوشیاں اسے سونپ دیں کہ آج کے بعد اس کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہ آئیں۔
کافی دیر تک اختیار نے اس کے چپ ہونے کاانتظار کیا‘ اور جب اس کی ہچکیوں میں ذرا کمی آئی تو بے حد نرم آواز میں بولے۔
’’اتنا اچھا اور بہادری کا فیصلہ کرنے کے بعد اتنی اچھی لڑکی کو اس طرح رونا نہیں چاہیے۔‘‘
اس نے چونک کر سراٹھایا… اور پھر زہریلے لہجے میں بولی۔’’اگر یہ اتنا ہی اچھا فیصلہ ہے تو میرے دل کواتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے …‘‘
’’تو یہ کس نے کہا ہے کہ سیدھے راستے پہ چلنا آسان ہوتا ہے… سچائی اور اخلاقیات کا راستہ تو ہمیشہ کانٹوں سے پر ہوتا ہے۔‘‘
’’میں نے اس راہ پہ چل کر سب کچھ کھودیا ہے۔‘‘
’’اس وقت آپ کا دل دکھا ہوا ہے… اس لیے آپ کو یوں محسوس ہو رہا ہے… اس میں کوئی مصلحت ضرور ہوگی۔ خدا کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔‘‘
’’میں اس وقت کوئی نصیحت نہیںسننا چاہتی… نفرت ہے مجھے نصیحتوں سے۔ حقیقت کی دنیا میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے … اور نہ ہی ان سے کبھی خوشی ملتی ہے خود کو…‘‘
’’اگر آپ اتنی ہی ناخوش ہیں تو آپ مان لیتیں اس کی بات…‘‘
’’مان لیتی …‘‘ وہ حیرت سے انہیں دیکھ رہی تھی …’’کیسے مان لیتی…یہ بالکل میرے نظریات کے خلاف ہے۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔‘‘
’’توپھر اپنے اصولوں کے مطابق فیصلہ کرکے آپ کو اتنا افسوس کیوں ہو رہا ہے؟‘‘
’’افسوس اس لیے ہو رہا ہے کہ اگر وہ اس روز بارات لے کر ہمارے گھر نہ آیا تو میری ماں کی کتنی بے عزتی ہوگی۔ اور ہمارے سب جاننے والے کیا کیاباتیں نہیں بنائیں گے…؟‘‘ وہ زہریلے لہجے میں بولی۔
اوہ… اختیار کے سینے سے سکون بھری ایک سانس خارج ہوئی۔
’’میں تو سمجھ رہا تھا کہ آپ اس کی محبت کی وجہ سے اتنی غم زدہ ہو رہی ہیں‘ تو آپ اپنی ماں کو بتادیں…‘‘
’’کیسے بتادوں…؟ میں یہ بات کیسے کہہ سکتی ہوں ماماسے…؟‘‘ اس کی نظریں جھک گئیں۔ ’’انہیں تکلیف ہوگی۔‘‘
’’یہ بات بھی ٹھیک ہے۔کب ہے شادی ؟‘‘
’’اگلے ہفتے …پورے سات دن بعد…‘‘
’’سات دن بعد…‘‘ وہ حیران ہوئے۔’’ صرف ایک ہفتہ یہ تو سراسربلیک میلنگ ہے۔‘‘
فارینہ کی نظریں جھک گئیں۔ اور چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’اصل میں یہ بات نہیں ہے۔‘‘
’’توپھر…؟‘‘
’’اپنے دوستوں میں شیخی بگھارنے کے لیے …وہ بتانا چاہتا ہے کہ لڑکی اور اس کے گھر والے دونوں اس کی مٹھی میں ہیں۔‘‘
’’لاحول ولاقوۃ…پھر تووہ انسان آپ جیسی لڑکی کے قابل ہی نہیں ہے۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن ماما کا کیا ہوگا…‘‘ وہ بے حد پریشان تھی۔ ان کا دل چاہا اسی وقت کہہ دیں۔
’’تم بالکل فکر نہ کرو… میں کروں گا تم سے شادی… اور یہ میری خوش قسمتی ہوگی…‘‘لیکن جانے کیوں نہ کہہ سکے۔
اگلے چھ دن انہوںنے دن رات سوچنے میں گزارے… محبت کاشکار تو وہ ہوہی گئے تھے اور اس کے بغیر جینے کا تصور کرنا بھی محال لگ رہا تھا… لیکن وہاں ماما اور بابا نے جو ان کا رشتہ زرمینہ سے طے کررکھا تھا اس کا کیا ہوگا؟
ایک دن رہ گیاتھا… وہ پریشان حال اسی جھیل کے کنارے نکل آئے… تو انہوں نے دیکھا وہ وہاں بے قراری سے ٹہل رہی تھی … آنسو تواتر سے گالوں پہ بہہ رہے تھے… انہوں نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کو کندھوں سے تھام لیااور جو فیصلہ وہ پچھلے چھ روز میں نہیں کرسکے تھے‘ وہ اسی لمحے ہوگیا۔
’’مجھے اپنے گھر لے چلو فارینہ… میں تمہاری ماما سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں… اور میں یہ تم پہ ترس کھا کر نہیں کہہ رہا… بلکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں… اور میں خوش قسمت ہوں کہ اعتزاز نے تم سے ایسا مطالبہ کیا… ورنہ تمہاری شادی مجھ سے کیسے ہوتی…؟‘‘
وہ ششدر ہو کر اسے دیکھتی رہ گئی… آنسو وہیں تھم گئے۔
’’لیکن میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں…کہ ہماری زندگی بھی آسان نہیں ہوگی…ماما اور بابا نے میری شادی اپنی بھانجی زرمینہ سے طے کی ہوئی ہے… ہوسکتا ہے وہ میری شادی کو قبول نہ کریں… ہوسکتا ہے وہ گھر میں تمہیں جگہ نہ دیں۔ہوسکتا ہے میںان کومنالوں… لیکن میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘‘
’’مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا… آپ اگر ہماری عزت بچالیں گے تو میں اس کے لیے قربانی دینے سے دریغ نہیں کروں گی‘ آپ کی ماما اگر چاہیں تو آپ زرمینہ سے شادی کرلیں… مجھے وہ بھی قبول ہے۔‘‘
پھر وہ اس کی ماما سے ملے اور انہیں ساری صورت حال بتائی اور اپنی درخواست پیش کی تو اس کی ماما حیران ہوگئیں اور پھر وہ ان کاشکریہ ادا کرتے نہیں تھک رہی تھیں کہ وہ ان کی عزت کی حفاظت کررہاتھا۔ اس طرح فارینہ اختیار کی دلہن بن گئی…شادی کی رات انہوں نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا۔
’’میں دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہوں جس کو ایسی لڑکی ملی جو اپنی عزت نفس کی حفاظت کرنا جانتی ہے اوراس کی خاطر اپنی قیمتی چیز بھی قربان کرنے کو تیار ہوتی ہے… مجھے تمہارے اصولوں پہ ناز ہے… میں سوچتا ہوں کہ اعتزاز کتنا بدقسمت ہے کہ تم جیسا ہیرا اس کے دامن کی زینت بننے والا تھا اوراس نے اس کی قدر کرنے کی بجائے اسے کسی اور کے دامن میں پھینک دیا… میں بہت خوش قسمت ہوں… اور سب سے بڑھ کر مجھے تم سے بہت محبت ہے۔‘‘
وہ تو فارینہ سے محبت کرتے تھے لیکن فارینہ نے اسی دن سے ان کی پوجا شروع کردی تھی…ان کے دن اور رات اتنی تیزی سے خوشیوں کی برسات میں گزررہے تھے کہ وقت گزرنے کا پتا نہ چل رہاتھا۔ اس روز اختیار کو پتا چلا کہ اس کی سالگرہ ہے تووہ اسے وہیں چھوڑ کر مارکیٹ گئے اور خوب صورت بروچ خرید کر لائے۔
’’ہیپی برتھ ڈے فارو…‘‘ انہوںنے بروچ اس کے سرخ کوٹ کے کالر میں لگایا تو اس کی آنکھیں ستاروں کی طرح دمک اٹھیں۔
’’کتنا خوب صورت ہے اور کس قدر نفیس بھی۔‘‘
’’نہ تو تم سے زیادہ خوب صورت ہے اور نہ ہی تم سے زیادہ نفیس…‘‘انہوں نے اس کے گرد پیار سے بازو لپیٹے تووہ شرماگئی۔
’’آپ سے باتوں میں تو کوئی جیت نہیں سکتا… ٹینس کی طرح آپ باتوں کے بھی چمپئن ہیں۔‘‘
’’تمہیں پتا ہے ہمیں سب سے زیادہ خوشی کس چیز کے چیمپئن ہونے کی ہے؟‘‘
’’نہیں آپ ہی بتادیجیے۔‘‘ وہ بڑے ناز سے مسکرائی۔
’’ہم نے تمہیں جیت لیا ہے‘ تمہاری محبت کو جیت لیا ہے‘ ہم تمہارے چمپئن ہیں۔‘‘ انہوں نے بڑے پیار سے کہا تو فارینہ کی آنکھیں اتنی محبت پر مغرور ہوگئیں۔
’’میںنے کہا تھا کہ باتوں میں آپ سے کوئی نہیں جیت سکتا…‘‘ وہ بڑے ناز سے مسکرائی اور پھر اختیار کی طرف دیکھا۔
’’آپ واپس لاہور کب جارہے ہیں…؟‘‘
’’تم ہمیں واپس بھیجنا چاہتی ہو اتنی جلدی…؟‘‘
’’کیسی باتیں کرتے ہیں۔‘‘ اس نے ان کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا۔ ’’میرا بس چلے تو ایک منٹ کے لیے آپ کو آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دوں۔‘‘
’’توپھر کیوں بھیج رہی ہو؟‘‘
’’میں چاہتی تھی آپ واپس جاکر اپنی ماما سے اپنی شادی کاذکر کریں… اور پھر شاید میں اپنے گھر جاسکوں…‘‘ اس کی آنکھوں میں امید اور ناامیدی کی ملی جلی کیفیت دیکھ کر اختیار کے دل کوکچھ ہوا ‘انہوں نے بے اختیار اسے سینے سے لگالیا۔
’’تم فکر کیوں کرتی ہو میری جان… تم وہاںضرور جائوگی… ماماتمہیں ریجیکٹ کرہی نہیں سکتیں۔ تم اتنی پیاری ہو… ان کے بیٹے سے محبت کرتی ہو… ان کابیٹا تم سے محبت کرتا ہے… پھروہ تمہیں کیسے ریجیکٹ کرسکتی ہیں؟‘‘
’’پھر بھی… میرے دل پہ بوجھ سا ہے… کہ میں نے آپ کو ان کی بھانجی سے چھین لیا ہے۔‘‘
’’تم نے نہیں چھینا مجھے… میں تو خود ہی مقناطیس کی طرح کھنچتا چلا آیا ہوں تمہاری طرف… تمہیں پتا ہے پہلے دن جب میں نے تمہیں دیکھا تو ساری رات خواب میں تمہیں ہی دیکھتا رہا…پھراگلی صبح سارا دن تمہیں ڈھونڈتا رہا۔ خدا کو ہمارا ملنا منظور تھا اسی لیے تو اس نے مجھے کشمیر بھیجا…اسی لیے اعتزاز کوتم سے دور کیا‘ اسی لیے تمہارااتنا اچھا روپ میرے سامنے لایا کہ مجھے محبت ہوگئی تم سے۔‘‘
’’لیکن اگر آپ کی ماما نے آپ کومجبور کیا کہ زرمینہ سے شادی ضرور کرنی ہے تو پلیز انکار مت کیجیے گا… میرے لیے اتنا ہی کافی ہے جتنا مجھے مل گیا… میں نے آپ کو پالیا یہی بہت ہے …زرمینہ کو بھی حق ہے آپ کو پانے کا۔ صرف اس وجہ سے کہ میں غیر ارادی طور پہ آپ کے رستے میں آگئی ہوں… اسے ساری عمر نارسائی کا دکھ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
اور اختیار اس کو دیکھ کرر ہ گئے۔ کوئی عورت ایسا نہیں چاہ سکتی۔ کوئی عورت دوسری عورت کا دکھ جھیلنے کو خود سے تیار نہیں ہوتی۔
’’امیزنگ… ‘‘وہ اسے دیکھ کرمسکرائے…’’تم واقعی اس زمین کی مخلوق نہیں ہو۔‘‘
’’اب زیادہ تعریفیں کرکے میرا دماغ ساتویں آسمان پہ مت پہنچائیں… پھر کب جارہے ہیں لاہور؟‘‘
’’دیکھو میری جان… ابھی دو ماہ کے لیے تومیں اجازت لے کرآیا ہوں… دو ماہ تو ہمیں کسی بھی خطرے کے خوف سے اپنی خوشی برباد کرنے کاحق نہیں ہے… دو ماہ گزر جائیں پھر سوچوں گا جانے کے بارے میں… اور پھر پروگرام بنائیں گے کہ کیسے ہینڈل کیاجائے ماما اور بابا جان کو… اوران دو ماہ میں ہم آپ کو مزید مغرور بنائیں گے‘ آپ کے اتنے زیادہ ناز اٹھائیں گے کہ ہمارے بغیر آپ کو سانس لینا بھی مشکل ہوجائے …اور ہمارے جانے کے بعد آپ ہمارے نام کی مالا جپتی رہیں۔‘‘
’’بہت برے ہیں آپ… اچھایہ بتائیں دوپہر کو کیا کھائیں گے…؟‘‘
’’مجھے قیمہ اور کچنار بہت پسند ہے… اگر تمہیں بنانا آتاہے تو…‘‘
’’جناب مجھے سب کچھ آتا ہے بنانا… آپ نام لیں ہم حاضر کریں گے… وہ جاتے جاتے بولی اور وہ اسے پیار سے دیکھتے رہ گئے… تھوڑی دیر بعد بور ہو کر اس کے پیچھے ہی کچن میں آگئے… لیکن دروازے پہ ہی ٹھٹک کررک گئے۔ وہ کام کرتے کرتے ہرچیز سے بے خبر گارہی تھی۔
موتی ہو کہ شیشہ جام کہ در
جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا…
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا
تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
اتنی خوب صورت آواز تھی اس کی… سریلی… مدھر اور لوچ دار… وہ کھوئے ہوئے وہیں کھڑے رہے…نظم ختم کرکے وہ کام کرتے کرتے مڑی تو ان کو دیکھ کر مسکرادی۔
’’اور کیا کیا راز رکھا ہوا ہے ہم سے …؟اتنی اچھی اچھی خوبیاں… اتنی پیاری عادتیں‘ آج ہی کھل کر سامنے آجائو۔‘‘
’’آپ نے سنا نہیں وہ جو کہاوت ہے اس کے بارے میں…‘‘ وہ شوخی سے بولی۔
’’کون سی کہاوت؟‘‘
’’کہ مرد دریافت کا پرندہ ہے‘ اس کے سامنے ایک ایک کرکے پرت کھولو تو اس کی دلچسپی اور محبت قائم رہتی ہے …ورنہ وہ کسی اور طرف دیکھنے لگتا ہے۔‘‘
’’ہوں…‘‘ انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔’’تو یہ خیالات ہیں تمہارے میرے بارے میں…؟‘‘
’’میں آپ کی بات کب کررہی ہوں؟‘‘ وہ مزیدشوخ ہوگئی۔
’’کیوں میں مرد نہیں ہوں؟‘‘
’’آپ تو میرے سرتاج ہیں… میرے مجازی خدا ہیں…آپ دوسرے مردوں کی طرح تھوڑی ہیں…؟‘‘ وہ بھیگی آواز کے ساتھ ان کے ساتھ جالگی…اختیار نے بازو اس کے گرد حمائل کردیے۔
’’اتنا مان ہے مجھ پہ…؟‘‘
’’خود سے بھی زیادہ… آپ تو میرے ٹوٹے ہوئے دل کے شیشے کے لیے مسیحا بن کر آئے ہیں… لیکن اگر آپ کے ہاتھوں یہ شیشہ ٹوٹا تو پھر کبھی نہیں جڑے گا… ہوسکتا ہے میں پھر بھی زندہ رہوں… لیکن میری روح مرجائے گی۔‘‘
وہ رو رہی تھی… اور وہ اس کو چپ کرانے کی ہمت نہ کرسکے۔
’’میں اگر تمہارا مسیحا ہوں تو میں یہ دل توڑنے کی ہمت کیسے کرسکتا ہوں… میں تمہیں توڑنے سے پہلے خود ٹوٹ جائوں گا… مجھ پہ اعتبار ہے ناتمہیں…اس لیے یوں دل توڑنے والی باتیں کیوں لے بیٹھی ہو…؟‘‘
وہ روتے روتے ہنس پڑی۔
’’ایسے ہی کبھی کبھی دل ڈرنے لگتا ہے… اتنی بڑی خوشی ملی ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی… مجھے معاف کردیں۔‘‘
’’تم نے وہ کہاوت نہیں سنی جن سے پیار کیا جاتا ہے ان سے معافی نہیں مانگی جاتی۔‘‘
’’آئم سوری…‘‘ وہ بے اختیار کہہ اٹھی تووہ ہنسنے لگے۔
’’انگریزی میں بھی نہیں…‘‘
’’چلیے آپ اندر‘ تھوڑی دیر میں کھانا پک جائے گا تو وہیں لے آئوں گی۔‘‘
’’نہیں میں بھی یہیں بیٹھوں گا۔‘‘
’’اندرجائیں نا…ماما کیا کہیں گی…؟‘‘
’’کیا کہیں گی… ارے بابا ہمارا ہنی مون ہے یہ اس عرصے میں میاں بیوی کو کچھ نہیں کہا جاتا۔‘‘
’’آپ نہیں سمجھیں گے…‘‘ وہ بے اختیار مسکرائی۔
/…/…/
اس روز وہ کشتی میںسیر کے لیے گئے تووہ بہت اداس ہورہی تھی… خوشیوں بھرے رات دن میں دوماہ گزرنے کا پتا بھی نہ چلا تھا اور اختیار کے جانے کے دن قریب آرہے تھے۔
’’آپ لاہور جاکر مجھے یاد کریں گے نا…؟‘‘
’’ہرگز نہیں ‘‘
’’کیوں…؟ ’‘ وہ شاکڈ تھی۔
’’تمہیں بھولوں گا تو یاد کروں گاناں… تم بتائو تم کتنا یاد کروگی مجھے …؟‘‘
’’جتنی بار سانس لوں گی… ہرسانس کے ساتھ آپ کو یاد کروں گی۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسونکل آئے۔
’’اگر تم روئیں تو میں ناراض ہوجائوں گا…‘‘ انہوں نے دھمکی دی۔
اس نے خاموشی سے آنکھیں پونچھ لیں…اور پھر چپ بیٹھی رہی۔
اگلے دن انہیں واپس جانا تھا… وہ صبح ہی گھر سے نکلے کہ میں مارکیٹ جارہاہوں… تمہارے لیے ایک سرپرائز لینے کے لیے… ماما بھی خالہ زہرہ کے گھر ان کی مزاج پرسی کے لیے گئی ہوئی تھیں کہ دروازے پہ دستک ہوئی… اس نے کھولا تو سامنے ہی اعتزاز کھڑا تھا… اس نے نفرت سے دروازہ بند کرنا چاہا تو اس نے زور لگا کر کھولااوراندر آگیا۔ سر سے پائوں تک معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا۔
’’ہوں… تو یہ ٹھاٹ ہیں…‘‘ کہتا ہوااندر کی جانب چل دیا… وہ گھبرا کر اس کے پیچھے لپکی۔
’’اعتزاز کہاں جارہے ہو… تمہیں جرأت کیسے ہوئی یہاں آنے کی…؟‘‘
لیکن وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔
اعتزاز ادھر کیوں جارہے ہو… کیاچاہیے تمہیں…؟‘‘
وہ کمرے کے عین وسط میں کھڑا کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’میرے ساتھ کہیں جاتے ہوئے تمہیں شریعت یاد آجاتی تھی… اور اس اجنبی کے ساتھ تو خوب گلچھڑے اڑارہی ہو… اس و قت تمہیں خیال نہیں آرہا مذہب کا؟‘‘
’’کچھ خدا کاخوف کرو اعتزاز… میں نے شادی کی ہے اس سے۔‘‘
’’شادی کی ہے …؟ ‘‘اس نے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا…بے شمار چوڑیاں ٹوٹ کر بستر پر جاگریں۔
’’تم اس کو شادی کہتی ہو…‘‘ اس نے اس کے بالوں سے پونی کھینچ کر اس کے بال بکھیردیے اور دھکا دے کر اسے بیڈ پر گرادیا۔
’’یہ چار دن کی چاندنی شادی نہیں کہلاتی میری جان… دیکھ لینا…کل کو رفوچکر ہوجائے گااور پھرشکل نہیں دکھائے گا… میری بات مان لیتیں تو عیش کرتیں ساری عمر عیش۔‘‘
فارینہ نے ایک زور کاتھپڑ اس کے منہ پہ دے مارا… وہ غصے سے بے قابو اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالنا چاہتاتھا کہ باہر سے زور دار کھٹکے کی آواز آئی وہ اسے چھوڑ کر باہر بھاگ آیا۔ اتنے میں فارینہ نے ایک موٹی سی لکڑی پکڑ لی… باہر ایک بلی کے کودنے سے لکڑی کا ایک تختہ نیچے گراتھا۔
’’اگرتم میرے قریب آئے تو میں سر پھاڑ دوں گی تمہارا…؟‘‘اس نے لکڑی اس کے آگے کرکے اسے دھمکایا۔
’’تم سمجھتی ہو تم بچ جائوگی مجھ سے… وہ کم بخت چلا جائے گا تو پھر آئوں گا… میں نے بڑی مدت سے نظر رکھی ہوئی ہے تم پہ… اوراعتزاز اپنا شکار ہاتھ سے کہیں نہیں جانے دیتا… کبھی نہیں۔‘‘
وہ غصے سے کہتا دروازے کی طرف بڑھا… اور وہ اپنی پھولی سانسیں درست کرنے کے لیے کچھ دیر وہیں صحن میں کھڑی رہی۔
/…/…/
اختیار جیب میں فارینہ کے لیے تحفہ ڈالے خوش خوش گلی کے موڑ تک پہنچے تو انہوں نے گھر سے اعتزاز کو نکلتے دیکھا ۔ ان کاخون کھول گیا… انہوں نے اسے کندھوں سے پکڑ کر روک لیا۔
’’تم کیوں گئے تھے اندر…؟تمہیں جرأت کیسے ہوئی…؟‘‘ ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔
’’کیوں …وہ تمہاری پراپرٹی ہے کیا…؟ اور یہ کوئی پہلی بار تو نہیں جومیں اندر گیا ہوں…‘‘ اس کے چہرے پر بڑی خبیث ہنسی تھی۔ اختیار کا زوردار تھپڑ اس کے چہرے پہ پڑا۔
’’میری بیوی ہے وہ اور میں نے شادی کی ہے اس سے… پراپرٹی کا لفظ تم جیسے حیوان استعمال کرتے ہیں۔‘‘
’’ارے بڑی دیکھی ہیں ایسی شادیاں… تم جیسے ہزاروں نوجوان آتے ہیں یہاں اور شادیاں کرکے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں… اور پھر لڑکیوں کے لیے یہی راستہ رہ جاتا ہے…‘‘ اختیار نے بے قابو ہو کر پھر ایک تھپڑ اس کے منہ پہ رسید کیا… تووہ خباثت سے مسکرایا۔
’’تم سمجھتے ہو… بڑی پاک باز ہے وہ…‘‘
’’اگر پاک باز نہ ہوتی تو عزت نفس نہ رکھتی۔ اور تمہاری بے جافرمائشیں مان لیتی۔‘‘ وہ غصے سے بولے تو اعتزاز نے زور کا قہقہہ لگایا ۔
’’ارے وہ تو ڈرامہ تھا تمہیں دکھانے کے لیے کیاتھا… ہمیں معلوم تھا تم وہاں موجود ہو… اگر تمہیں مجھ پہ اعتبار نہ ہو تو اندر جائو اگر تمہاری بیوی بستر سے ٹوٹی چوڑیاں اور اپنے بکھرے بال نہ سمیٹ رہی ہو تو پھر جو چور کی سزا وہ میری…‘‘ وہ کہہ کر چلا گیا۔ تووہ مردہ قدموں سے گھر کی طرف چل دیے۔اور سیدھے بیڈروم میں داخل ہوئے۔ فارینہ بیڈ سے چوڑیاں سمیٹ رہی تھی …چوڑیاںا ٹھا کرا س نے ڈسٹ بن میں ڈالیں… تو ان پہ نظر پڑی۔
’’ارے آگئے آپ…‘‘وہ اپنے بال سمیٹ کر کیچر میں جکڑ کر مسکرائی… تو اختیار کی ٹانگوں سے جان نکل گئی… وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گئے۔
’’کیا بات ہے…طبیعت تو ٹھیک ہے…؟‘‘ وہ ان کے پاس ہی دوزانو ہو کربیٹھ گئی… انہوں نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا۔
’’بس جانا ہے ناتو اداس ہو رہا ہوں… کوئی آیا تو نہیں تھا میرے پیچھے سے…‘‘
’’نہیں تو… ‘‘ اس نے جان بوجھ کر اعتزاز کانام لینے سے گریز کیا تاکہ جاتے جاتے وہ غصے کاشکار ہو کر نہ جائیں لیکن اس کے جواب سے اختیار کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ وہ ایک جھٹکے سے اسے پرے دھکیل کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’کب سے چل رہا ہے یہ کھیل…؟‘‘ وہ زور سے دھاڑے تووہ پتھر کا بت بن گئی۔ بے یقینی سے ان کی طرف دیکھا۔
’’تم نے مجھ سے جھوٹ بولا… اس خبیث انسان کی خاطر… میں تمہیں پاکیزہ سمجھتا رہااور تم اندر سے کیا نکلیں ‘ اتنی بدصورت ہو تم اندر سے…تم دونوں نے میرے سامنے ڈرامہ کیا…مجھے پھانسنے کے لیے… یہ ٹوٹی چوڑیاں اور یہ بکھرے بال… ‘‘ انہوں نے جھپٹ کر اس کا کیچر اتاراجس سے اس کے بال پھر بکھر گئے۔
’’یہ کون سی داستان سنا رہے ہیں… یہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ تم جھوٹی ہو… تم ڈرامے باز ہو تم انتہائی بدصورت ہو تم پاکیزہ نہیں ہو…‘‘
’’بتائو کیا چاہیے تھا مجھ سے تمہیں؟تم دونوں کو کیا چاہیے…کیامجھے میرے خاندان کو بلیک میل کرنا چاہتے ہو… تو بتائو کتنا روپیہ چاہیے تم لوگوں کو… بتائو کتنا مال چاہیے تمہیں…؟‘‘
وہ غیظ وغضب میں چیخ رہے تھے۔ انہیں خود خبر نہیں تھی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں… اور فارینہ اگراس کے منہ میں کبھی زبان تھی بھی تو آج وہ اپنے آپ کو گونگی سمجھ رہی تھی… بولنا تو درکنار…وہ اس جگہ سے ہلنے کی طاقت بھی نہیں پارہی تھی…پھروہ خود کو ڈیفنڈ کیسے کرتی…؟
’’میںنے تمہیں اپنی زندگی سے بڑھ کرچاہا تھا۔ اپنا سب کچھ ہار دیاتھا تمہارے آگے… اتنا چاہا تھا تمہیں کہ بعض اوقات اس چاہت کی زیادتی سے درد ہونے لگتاتھا میرے دل میں… تمہارے وجود نے میرے ادھورے وجود کو مکمل کیا تھا… لیکن تم نے کیا کیا میرے ساتھ… مجھے بالکل تہی دامن کردیا… میری زندگی چھین لی…میری عزت نفس چھین لی…میرے دل کے شیشے کو توڑ کر چور چور کردیا تم نے… بولو کیوں کیا تم نے یہ سب میرے ساتھ… میں نے کیا چھینا تھا تم سے…میں نے کیا لیاتھا تمہارا… کیوں برباد کردیا مجھے بولو… کیوں کیا ایسا…؟‘‘انہوں نے اسے جھنجوڑ ڈالا…لیکن وہ ابھی بھی زبان کھولنے کے قابل نہ ہوسکی۔ اس کا دل تو نیچے ہی نیچے بیٹھتا چلاجارہاتھا… اس کی خاموشی سے ان کے نام نہاد شک کو تقویت مل رہی تھی… اعتزاز کا حربہ کامیاب ہورہاتھا۔
’’میں جاتو رہا ہوں…اب کبھی تمہاری منحوس صورت دیکھنے نہیں آئوں گا… میں تمہیں آزاد کرکے جارہا ہوں… میرے جانے کے بعد جتنے گل کھلانا چاہو کھلا لینا… میں تمہیں طلاق دیتا ہوں…
’’نہیں…‘‘ وہ ایک دم چیخ کر آگے بڑھی… لیکن انہوں نے اپنی زبان نہ روکی جب تک تین بار وہ تین حرف نہ کہہ لیے… فارینہ کو یوں لگا اس کے کانوں میں کسی نے پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا ہو… انہوں نے جیب سے ایک ڈبا نکالااور اس کے قدموں میں پھینک دیا۔
’’تمہارے لیے سرپرائز لینے گیاتھا… لیکن جو سرپرائز تم نے مجھے دی ہے… تم تو بازی لے گئیں مجھ سے…‘‘
وہ انہی قدموں سے واپس لوٹ گئے… وہ ان کے پیچھے بھاگنا چاہتی تھی… لیکن اس کے حواسوں نے ساتھ نہ دیا… اور وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر گئی۔
/…/…/
وہ لٹ لٹا کر واپس آگئے… خاموش سنجیدہ اور غم زدہ… آتے ہی اگلے دن انہوں نے آفس جوائن کرلیا اور خود کو کاموں میں غرق کرلیا… سب حیران تھے کہ شوخ وشریر اور چلبلے اختیار بیگ کو کیا ہوگیا ہے۔
آفس جوائن کرتے ہی ماما نے شادی کا تقاضا شروع کردیا… انہوں نے اس پہ بھی اعتراض نہ کیا اور چپکے سے ان کی بات مان لی… زرمینہ دلہن بن کر ان کے گھر آگئی… ان کو کبھی اس کے دل سے کوئی تعلق محسوس نہیں ہوا تھا… وہ اس کی ضروریات پوری کرتے اور وہ ان کی ضرورت پوری کرتی…وہ میاں بیوی تو بن گئے تھے لیکن ہم سفر نہ بن سکے… دکھ سکھ کے ساتھی نہ بن سکے… ابھی ان کی شادی کو ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ زرمینہ نے یہ گھر بدلنے کا تقاضا شروع کردیا… یہ علاقہ اسے پسند نہ تھا… بابا جان بھی اس لیے مان گئے کہ خاندان نے بڑھنا تھا تو بڑے گھر کی ضرورت پڑنی تھی… یوں بھی کاروبار وسیع ہو رہا تھا اور ان کے پاس اب اتنی دولت تھی کہ اچھے علاقے میں محل نما گھر بھی لے سکتے تھے۔ چنانچہ وہ شہر کے سب سے مہنگے علاقے میں شفٹ ہوگئے۔
اختیار بیگ کی زندگی بس مجبوراً زندہ رہنے کانام تھی۔ ان کا دل مرچکاتھا…وہ جانے کس لیے زندگی کی ڈور کھینچے چلے جارہے تھے…فارینہ کو یاد کیے بغیر اب بھی ان کا دن نہیں گزرتاتھا… ابھی تک پھانس بن کر ان کے دل میں چبھی ہوئی تھی۔ نہ نکلتی تھی اور نہ ہی ان کو چین آتا تھا۔ ان کے علم میں شاید نہ ہو لیکن ان کے لاشعور میں احساس جرم تھا جو ناسور بن کر ان کی رگوں میں سمایا ہواتھا… ایک بار ان کے دوست کی شادی کسی غلط فہمی کی وجہ سے ٹوٹ گئی تھی تو ان کے دل میں خیال پیدا ہوا تھا کہ شاید ان کو بھی غلط فہمی ہوئی ہو… بعض اوقات آنکھوں دیکھااور کانوں سنا بھی غلط ہوسکتا ہے… ہوسکتا ہے انہوں نے بھی غلط دیکھا ہو…اور انہوں نے تو کچھ ایسا دیکھابھی نہ تھا… ایک خبیث انسان کے دیے ہوئے چند خود ساختہ اور شیطانی اشاروں کو بنیاد بنا کر اپنی اور فارینہ کی زندگی تباہ کردی…انہوں نے تو اس کو اپنے دفاع کاموقع بھی نہ دیا… غصے نے ان کواندھا کردیاتھا… اسی لیے تو اسلام نے غصے کو حرام قرار دیا ہے۔ غصے کے اثرات کس قدر تباہ کن ہوتے ہیں‘ یہ ان کو آج معلوم ہوا تھا۔ اپنے دل کی جلن کے ہاتھوں وہ مجبور ہو کر دوبارہ کشمیر گئے تھے کہ دیکھیں توسہی وہ دشمن جاں کس حال میں ہے… وہ اعتزاز کے کہنے کے مطابق عیاشی کی زندگی بسر کررہی ہے یا ان کے نام پہ بیٹھی ہے… لیکن ہمسایوں سے پتا چلا کہ وہ تو ان کے جانے کے ہفتے کے اندر اندر شہر چھوڑ کر چلے گئے اور پھر ان کو کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں گئے…؟اور سرینا کو دیکھ کر ان کے زخموں کے ٹانکے پھر سے کھل گئے تھے۔ اس لڑکی میں ان کو فارینہ کی جھلک نظر آتی تھی لیکن وہ اس سے پوچھنے کی جرأت نہ کرسکے کہ فارینہ اس کی کیا لگتی تھی؟ اگراس نے فارینہ کے بارے میں کچھ ایسا بتادیا جس نے ان کا رہاسہاسکون بھی چھین لیا تو کیا ہوگا… جانے اس پہ کیا گزری ہوگی… جانے اس نے کس طرح ان کی باتیں برداشت کی ہوں گی… کیسے زندگی گزاری ہوگی…کاش وہ جان سکتے کہ وہ کہاں ہے…؟ کس حال میں ہے …؟ زرمینہ کے بارے میں سوچ کر ان کا حلق پھر کڑوا ہوگیا… یہ نہیں تھا کہ فارینہ زیادہ خوب صورت تھی… زرمینہ فارینہ سے کہیں زیادہ خوب صورت تھی لیکن فارینہ کے چہرے پہ کچھ ایسا تھا کہ نظر وہاں رک جاتی تھی… اس کے چہرے سے نظر ہٹانا بہت مشکل تھااور پھر محبت تو محبت ہوتی ہے وہ چہرے کی خوب صورتی دیکھ کر نہیں کی جاتی… اور انہیں تو اس کے دل سے محبت ہوئی تھی۔
اذان کی آواز کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے ساری رات یادوں کے شکستہ مزار پہ پھول چڑھاتے گزاردی تھی… وہ دھیرے سے اندر آئے اور خاموشی سے بستر پر لیٹ گئے۔
/…/…/
آج چھٹی کا دن تھا۔ اس لیے سب دیر سے اٹھے تھے۔ ناشتے کے بعد اختیار بیگ تو اخبار دیکھ رہے تھے‘زرمینہ اور نازنین ٹی وی پہ کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھیں اور عرشی بھی اخبار سے اپنے لیے مرضی کا صفحہ نکال لائی تھی۔ بختیار بیگ آج گھر میں نہیں تھے وہ رخشندہ کے پاس گئے تھے اور رخشندہ نے ان کے ساتھ ہی واپس آنا تھا۔ تبھی کاشی اپنی کتابیں اٹھائے سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔
’عرشی سریناباجی کہاں ہیں…؟‘‘
’’وہ تو آج کچن میں ہیں… کوئی اسپیشل ڈش تیار کررہی ہیں۔‘‘
’’اچھا مجھے تو ان سے میتھس کے پرابلمز پوچھنے تھے… وہ تھوڑا سا مایوس ہواتو نازنین نے تیوری چڑھا کر دیکھا۔
’’سرینا سے پوچھنے کی کیاضرورت ہے… پاپا ہیں نا ان سے پوچھو۔‘‘
’’ایک ہی بات ہے۔ سرینا سے پوچھوں یاپاپا سے۔‘‘
’’کیوں ایک بات کیوں ہے …؟‘‘
’’دونوں کامیتھس ایک جیسا اچھا ہے… بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ سرینا باجی کا میتھس پاپا سے بھی زیادہ اچھاہے۔ پاپا کا نالج ذرا اولڈ ہوگیا ہے …جبکہ وہ ماڈرن میتھس میں بھی ایکسیلنٹ ہیں۔‘‘
اختیار بیگ کے چہرے پہ مسکراہٹ کی کرن سی چمکی…جیسے ان کو اس بات پرفخر ہو… لیکن پھر وہ سنجیدہ ہوگئے۔
’’میں کیوں خوش ہو رہا ہوں… جانے اس کا فارینہ سے کیا رشتہ تھا… اتنے میں عرشی بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’کاشی میں بھی اپنی کتاب لے آئوں…مجھے بھی چند پرابلمز کے بارے میں پوچھنا ہے… وہ آئیں تو میراانتظار کرنا…‘‘
’’تمہاراانتظار کیوں کروں…؟ میں اپنے ٹائم میں سے تمہیں ایک سیکنڈ بھی نہیں دوںگا۔‘‘
’’یہ تمہارا ٹائم کہاں سے آگیا… کیاتم نے ان کے ٹائم پہ اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔‘‘ وہ تیزی سے بولی۔
اسی وقت شہریار اندر داخل ہوئے۔
’’تم دونوں کس بات پر جھگڑ رہے ہو؟‘‘
’’یہ تواپنی مہمان سے پوچھو… وہی ہے جھگڑے کی وجہ… جانے خود کو کیا سجھتی ہے…؟ ‘‘ نازنین نے اپنا غبار نکالا تو شہریار نے کنفیوز ہو کراسے دیکھا۔
’’سرینا ہے کہاں اینی وے …‘‘
’’کچن میں ہیں… کوئی خاص ڈش تیار کررہی ہیں۔‘‘
شہریار وہیں سے کچن کی طرف مڑ گئے… نازنین بل کھا کررہ گئی… شہریار کچن میں آئے تو وہ ایپرن باندھے اپنے کام میں مشغول تھی۔ آگ کی گرمی سے چہرہ گلابی ہو رہا تھا اور برائون بالوں کی لٹیں باہر نکل کر گالوں پہ چپکی ہوئی تھیں۔
’’سرینا آپ کو کیا ضرورت ہے کچن میں آنے کی … آپ کا جو دل چاہے رانی اور نذیراں کو بتادیا کریں… وہ بنادیں گی۔‘‘
سرینا نے چونک کر دیکھا اور پھر دلنشین انداز میں مسکرائی۔
’’آپ کب آئے…؟‘‘ پھر خود ہی بولی۔ ’’میں تو دادی جان کے لیے سوپ بنانے آئی تھی … اور پھر ایک خا ص ڈش بھی تیار کرنی تھی… مجھے کچن میں کام کرنا اچھا لگتا ہے… اور مجھے کھانا پکانے کابہت شوق ہے۔ ماما نے مجھے ہر اچھی ڈش میں طاق کیا ہواتھا… اگر آپ کو کوئی کھانا بہت زیادہ پسند ہے تو مجھے بتائیے گا… میں وہ بھی بنادوں گی۔‘‘
شہریار نے اشتیاق سے اسے دیکھا… عام سے حلیے میں ایپرن باندھے یوں کھانا پکاتے ہوئے وہ کتنی اچھی لگ رہی تھی۔ کچھ ایسا ہی منظر وہ اکثر تصور میں دیکھتے تھے۔انہوں نے بے اختیار نظر چرالی۔
’’دادی جان کیسی ہیں؟‘‘
’’صبح ناشتے کے وقت بالکل ٹھیک تھیں… میں نے ان کے لیے دلیہ بنایاتھا۔ اور ہاں دادی جان نے آج مجھے خاص تحفہ بھی دیا ہے۔ تحفہ تو نہیں کہنا چاہیے‘ کئی ایک ملبوسات ہیں… کیا آپ نے خریدے تھے؟‘‘
’’ہاں…انہوں نے مجھ سے ہی کہا تھا… پسند آئے؟‘‘
’’آپ کی چوائس بہت عمدہ ہے… بہت نفیس ہے…‘‘ اس نے کھل کر تعریف کی تووہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سوچنے لگے۔
ٹھیک ہی کہتی ہو تم… لیکن چوائس کتنی بھی عمدہ کتنی بھی نفیس کیوں نہ ہو… اس کے حصول پہ تو اخیتار نہیں ہوتانا۔
’’کیا سوچنے لگے …؟‘‘
’’کبھی کسی جینٹل مین سے اس کی سوچوں کے بارے میں مت پوچھیے…‘‘ وہ ذرا شرارتی لہجے میں بولے۔ ’’ہوسکتا ہے آپ کے لیے شاکنگ ہو…‘‘
’’تو میں تو آپ سے پوچھ رہی تھی…‘‘ وہ بھی شرارت سے بولی‘تووہ محظوظ ہوتے ہوئے کچن سے نکل آئے۔ لائونج میں پہنچے تو ابھی تک مسکراہٹ کی ننھی سی کرن ان کے چہرے پہ باقی تھی۔ نازنین کے سینے پہ سانپ لوٹنے لگے۔
’’تمہاری کیوں بتیسی نکل رہی ہے…؟‘‘ وہ چمک کر بولی تو اختیار بیگ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’نازو… تمیز کے دائرے میں رہ کر گفتگو کرو…‘‘ انہوں نے ناگواری سے کہا تو زرمینہ بیگم نے تیکھی نظر اپنے شوہر پر ڈالی۔
’’آج آپ اپنی لاڈلی بیٹی سے کیوں اتنا ناراض ہو رہے ہیں؟‘‘
’’لاڈ پیار کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بڑوں کی موجودگی کا بھی لحاظ نہ رہے۔‘‘
اسی وقت سرینا مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی لیکن ماحول کو ٹینس دیکھ کر فوراً اندر کی طرف مڑ گئی۔
لنچ ٹائم پہ سب ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے تو کاشی نے پوچھا۔
’’آپ کی اسپیشل ڈش کہاں ہے باجی؟‘‘
’’رانی لارہی ہوگی۔‘‘
’’ویسے ہے کیا یہ اسپیشل ڈش۔‘‘
’’قیمہ اور کچنار…‘‘ اس نے فخر سے جانے کیوں اختیار بیگ کی طرف دیکھا۔
’’میں نے اپنی ماما سے پکانا سیکھا تھا… میری ماما جیسا کچنار قیمہ اور کوئی نہیں بنا سکتا… ماما کہتی تھیں کہ پاپا کی پسندیدہ ڈش تھی اور وہ بڑے شوق سے پکاتی تھیں… جب میں نے شروع کیا تو ماما کہتی تھیں میرے ہاتھ میں ان کا ذائقہ ہے۔‘‘
’’میرے پاپا کو تو نفرت ہے کچنار سے…‘‘ نازنین نخوت سے بولی۔’’پاپا کہتے ہیں اس ٹیبل پر کبھی قیمہ اور کچنار کی ڈش نہیں آنی چاہیے۔ تمہاری محنت تو غارت گئی۔‘‘ نازنین نے دل کی حسرت نکالی۔
اختیار بیگ نے بے اختیار سرینا کی طرف دیکھا… اس کا چہرہ ایک دم زرد سا ہوگیا… اس نے نہ جانے کن نظروں سے ان کی طرف دیکھا کہ وہ شرمندگی محسوس کرنے لگے۔
’’آپ کو قیمہ اور کچنار پسند نہیں ہے انکل…کیوں؟‘‘
’’ہوگی ماضی کی کوئی تلخ یاد اس سے وابستہ کہ ان کو نفرت ہوگئی۔‘‘ زرمینہ بیگم نے بے نیازی سے اپنی پلیٹ میں کھانا نکالا۔
’’بیٹا تم رانی سے کہو تمہاری ڈش لائے آج ہم کھائیں گے۔‘‘
’’پاپا…؟‘‘ نازنین نے احتجاج کیا۔
’’رئیلی انکل…؟‘‘ وہ ایک دم خوشی سے آبدیدہ ہوگئی۔ شہریار نے گہری نگاہوں سے اس لڑکی کی طرف دیکھا جو چند لمحوں پہلے ایک دم مرجھاگئی تھی اوراب کھلے ہوئے پھول کی مانند تروتازہ تھی اور جانے کیوں ان کے دل میں درد سا ہونے لگا… کاش تم ہمیشہ اسی طرح خوش رہ سکو۔
اختیار بیگ نے پہلا لقمہ لیا تو نوالہ جیسے ان کے حلق میں اٹکنے لگا۔ آنکھیں نم ہوگئیں… ماضی کی ایک تصویر نظروں کے سامنے آگئی۔ فارینہ کی امید وناامیدی کے بیچ میں نظریں ان کے چہرے پہ تھیں۔
’’کیسا پکا ہے…؟‘‘ وہ بے حد اشتیاق سے ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ان کو شرارت سوجھی۔ ’’ایک دم بدمزہ…‘‘انہوں نے منہ بنایا۔ ’’میںنے اس سے بدمزہ کھانا آج تک نہیں کھایا۔‘‘
فارینہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔اور وہ رونے والی ہو رہی تھی۔
’’لیکن اختیار… میں نے تو اتنی محبت اور محنت سے پکایا تھا… بدمزہ کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘
’’محبت سے پکایا تھا؟‘‘
’’ہاں… بہت زیادہ محبت سے۔‘‘
’’اسی لیے تو اتنامزے دار ہے میری جان۔‘‘ انہوں نے کھینچ کر اسے پاس بٹھالیا۔ ’’میں نے اتنا مزے دار کچنار کبھی زندگی میں نہیں کھایا۔ لائو میں ان ہاتھوں کو چوم لوں جن سے تم نے بنایا ہے اسے۔‘‘
’’جناب آرام سے کھانا کھائیے…‘‘ وہ بڑے ناز سے اترا کر بولی۔
’’چچا جان…‘‘ شہریار نے ان کا کندھا ہلایا۔’’کہاںپہنچ گئے آپ… سرینا کچھ پوچھ رہی ہے؟‘‘
وہ چونک کرحقیقت کی دنیا میں آگئے۔
’’کیسا بنا ہے انکل…؟‘‘ اس نے چہرے پہ وہی امید اور ناامیدی کی کیفیت لیے پوچھا۔
’’ایک دم فرسٹ کلاس…‘‘ وہ مسکرائے ۔ ’’بہت مزے دار ہے… بالکل وہی ذائقہ…‘‘ وہ بے اختیار کہہ اٹھے۔ زرمینہ کا ہاتھ وہیں پلیٹ میں رک گیا۔
’’اور آج سے آفیشلی یہ ڈش بھی اس میز کی زینت بنا کرے گی۔ اور ہم کھایا کریں گے۔‘‘
’’ہرا۔‘‘ کاشی نے کھڑے ہو کر مکا ہوا میں لہرایا۔نازنین کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
’’پاپا دس از ناٹ فیئر…ہمیں کچنار بالکل پسند نہیں ہے۔‘‘
’’تو بیٹا آپ کچھ اور لے لیں۔ کچنار ان لوگوں کے لیے چھوڑ دیں جن کو پسند ہے۔‘‘ انہوں نے نرمی سے کہا۔
زرمینہ نے گہری نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا۔ اور دوبارہ پلیٹ کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
/…/…/
وہ سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے کی طرف جارہی تھی کہ زرمینہ بیگم نے اسے بازو سے پکڑااور کھینچ کر دیوار کی آڑ میں لے گئیں۔وہ حیرت سے انہیں دیکھتی رہ گئی۔
’’کون ہو تم… اورکہاں سے آئی ہو…؟‘‘
’’شہریار نے اس روز بتایا تو تھا آپ سب کو…‘‘ وہ خائف ہوئے بغیر بڑے آرام سے بولی۔
’’میں سچائی کی بات کررہی ہوں… اس کہانی کی بات نہیں کررہی جو تم دونوں نے مل کر ہمیں سنائی تھی۔‘‘ وہ زہریلے لہجے میں بولیں تو سرینا نے سنجیدگی سے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’آپ کو کیوں لگ رہا ہے کہ وہ کہانی ہے سچ نہیں ہے؟‘‘
’’میں یہ سب خرافات نہیں جانتی…‘‘ وہ سرد لہجے میں بولیں۔’’اگر تمہارا تعلق میرے شوہر کے ماضی کے افیئرز میں سے کسی افیئر سے ہے تو چپ چا پ واپس لوٹ جائو تو اچھا ہے۔‘‘
’’تو آپ کو اپنے شوہر پہ اعتبار نہیں ہے… اور کتنے افیئرز آ پ کے علم میں ہیں…ذرا میں بھی تو جانوں…‘‘ وہ ڈری نہیں بلکہ بے باکی سے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
’’دیکھو لڑکی…‘‘
’’میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ میرا نام سرینا ہے…‘‘
’’تمہارا جو بھی نام ہے‘ میں تمہیں وارن کررہی ہوں کہ اس گھر کے سکون میں کنکر پھینکنے کی کوشش مت کرنا۔ میرا نام زرمینہ ہے اور میں اس طرح کی چالوں کوناکام بنانا جانتی ہوں۔‘‘
’’تو اس کامطلب ہے آپ پہلے بھی یہ کام کرچکی ہیں۔‘‘ وہ محظوظ ہوتے ہوئے مسکرائی۔ ’’لیکن آپ بے فکر رہیے۔ میری طرف سے کنکر پھینکنے کی کوئی کوشش نہیں ہوگی۔ البتہ…‘‘ وہ ذرا سا رکی ۔’’آپ کے شوہر کی طرف سے کوئی گارنٹی میں نہیں دے سکتی…وہ گارنٹی آپ کو ان ہی سے مانگنی ہوگی…‘‘ وہ مسکراتی ہوئی وہاں سے پلٹ کر اپنے کمرے میں آگئی اور زرمینہ بیگم زہریلی ناگن کی طرح بل کھاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں۔ اندر آکر انہوں نے اپنے پرس سے چابی نکالی اور الماری کا پٹ کھول کر ایک دراز کا قفل کھولا… اس میں سے کاغذات نکال کر ان کا جائزہ لیا… اور پھر ان کو اطمینان سے واپس رکھ کر دراز لاک کردی۔
/…/…/
اگر تمہارا تعلق میرے شوہر کے ماضی کے کسی افیئر سے ہے‘ میں اس طرح کی چالوں کو ناکام بنانا جانتی ہوں…سرینا نے پیچھے ہو کر کرسی سے سرٹکا کر آنکھیں بند کرلیں… اور دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیوں کو دبانے لگی… کل جب سے زرمینہ نے اپنے دل کازہر اس پہ انڈیلا تھا وہ متعدد بار اس کی آوازوں کو اپنے سر سے ٹکراتا محسوس کررہی تھی۔ اور آج اپنے آفس میں بیٹھ کر بھی وہ ان جملوں کی بازگشت سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہی تھی… زرمینہ بیگم نے تو شاید اسے ڈرانے کے لیے وارننگ دی تھی لیکن اس کے لیے‘ سوچوں کے نئے دروازے کھل گئے تھے۔
زرمینہ بیگم اختیار بیگ کے ماضی کے افیئرز کے بارے میں کیسے جانتی ہیں…؟ کیا اختیار بیگ نے خود ہی ان کو اپنے راز سے آگاہ کیا تھا؟ کیا کسی اور ذریعے سے ان کومعلوم ہواتھا؟یہ اور ذریعہ کیا ہوسکتا ہے…؟انہوںنے کون سی چالوں کوناکام بنایا ہے؟ کس کی چالوں کو ناکام بنایا ہے…؟کیا اختیار بیگ کے ایک سے زیادہ افیئرز تھے…؟ کیا اختیار بیگ دل پھینک قسم کے آدمی تھے…؟ یہ آخری سوال اس کے دل کو مضطرب کرگیا۔
وہ اٹھ کر کمرے میں بے چینی سے چکر لگانے لگی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے… بے قراری تھی کہ بڑھتی جارہی تھی۔ اس کا دل چاہ رہاتھا کہ دھاریں مار مار کر روئے تاکہ دل کا سارا غبار نکل جائے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتی تھی… بے اختیار اس کے لبوں پہ اپنی ماما کے پسندیدہ اشعار آگئے۔
موتی ہو کہ شیشہ‘ جام کہ در
جو ٹوٹ گیا‘ سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا
تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
اس کی آنکھیں بند تھیں… اور ان میں سے آنسو نکل نکل کر گالوں پہ ڈھلک رہے تھے اور وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔
تبھی اسے اپنے سر پہ کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں… اختیار بیگ اس کے اتنے قریب کھڑے تھے… ان کی آنکھوں میں جانے کیا تھا کہ وہ اک ٹک انہیں دیکھے گئی… پھر فوراً سنبھل گئی۔
’’آئم سوری سر… مجھے خود پہ قابو نہیں رہا… آئم سوری آئند ہ ایسا نہیں ہوگا…‘‘
’’تمہیں سوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا… کیا بات ہے طبیعت خراب ہے؟‘‘
’’سر میں درد تھا بہت…‘‘ وہ بے اختیار کہہ اٹھی۔
’’تم یہیں رکو…‘‘ وہ ایکدم آفس سے نکل کر اپنے آفس کی طرف گئے جب واپس آئے توان کے ہاتھ میں ٹیبلیٹ تھیں… انہوں نے گلاس میں پانی ڈالا… اوراس کی طرف بڑھادیا۔
’’یہ لو… فوراً کھالو…‘‘ وہ ایک ٹرانس کے عالم میں انہیں دیکھتے ہوئے کسی معمول کی طرح عمل کرنے لگی۔
’’اب بیٹھ جائو کرسی پہ… میں چائے کا آرڈر دیتاہوں۔‘‘ انہوں نے بیل بجائی اور ملازم کے آنے پہ دو کپ چائے کا آرڈر دیااور میز کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئے… سرینا بس حیرت سے ان کو دیکھتی جارہی تھی… اگر وہ چاہتے تو اپنے آفس میں جاکرملازم کے ہاتھ ٹیبلٹس اورچائے بھیج سکتے تھے لیکن وہ خود جاکر لائے تھے اپنے ہاتھوں سے اس کو کھلائی تھی اور اس کے آفس میں اپنے لیے بھی چائے منگوائی تھی…اور ابھی تک وہیں بیٹھے تھے۔ اس کامطلب ہے انہیں اس کی پروا تھی۔ چائے آئی تو اس کے سامنے کپ رکھ کر انہوں نے پوچھا۔
’’اب بتائو کیا مسئلہ ہے…؟‘‘
’’مسئلہ …؟‘‘ اس نے سر جھکالیا۔’’مسئلہ تو کوئی نہیں سر…‘‘
’’اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو گھر چلی جائو… میں ڈرائیور سے کہتا ہوں چھوڑ آئے…‘‘
’’نوسر میں ابھی ٹھیک ہوجائوں گی۔ آپ فکر نہ کریں… ابھی چائے ختم ہوگی تو میرا سر درد یوں بھاگ جائے گا۔‘‘ اس نے چٹکی بجائی۔ تو اختیار بیگ اسے دیکھتے رہ گئے۔ پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’اچھا پھر درد ٹھیک ہوجائے تو ہاشم انڈسٹریز کی فائل لے کر میرے آفس آجانا…‘‘
’’اوکے سر… میں پانچ منٹ میں آجائوں گی۔‘‘
وہ فائل لے کر ان کے آفس میں داخل ہوئی تو وہ کرسی پہ بیٹھے سوچوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ کر دھیرے سے مسکرائے… وہ ان کے سامنے میز کی دوسری طرف کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر فائل کے کاغذات ترتیب سے رکھ کرکھڑی ہوئی اور پھر آگے کو جھک کر فائل کا رخ ان کی طرف کرکے ان کے سامنے رکھی…ایسے میں اس کا لاکٹ آگے کو پھسل گیا…اوراختیار بیگ کی نظروہیں فریز ہوگئیں۔آنکھوں میں گزرے وقت کی دھول اڑنے لگی۔
ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سرینا کے لیے بھی وقت جیسے تھم سا گیا۔
کتنے سارے جاں گسل لمحے یونہی گزر گئے…اس لاکٹ کو وہ کیسے بھول سکتے تھے… یہ انہوں نے کتنی چاہت سے تیار کروایا تھا… آتے ہوئے اسے سرپرائز دینا چاہتے تھے یہ اس طرح کا کھلنے اور بند ہونے والالاکٹ تھا جس میں انہوں نے ایک سائیڈ پہ اپنی اور دوسری سائڈ پہ فارینہ کی تصویر لگائی تھی۔ لیکن اس کے ساتھ جو کربناک اور زہریلی یاد جڑی ہوئی تھی‘ انہوں نے اس یاد کی وجہ سے پچھلے چوبیس سال کس کرب میں گزارے تھے وہ ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جان سکتاتھا… وہ بہت بے چینی سے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر لگارہے تھے۔
اوروہ خاموشی سے کرسی پہ بیٹھی آنکھوں میںدرد کی پرچھائیاں لیے انہیں دیکھ دیکھ کر بے قرار ہو رہی تھی۔
آخر وہ اس کے قریب رکے… اسے کندھوں سے پکڑ کراٹھایا…اوراس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولے۔
’’تم کون ہو… اور فارینہ سے تمہارا کیا تعلق ہے…؟‘‘
’’میں سرینا ہوں اور فارینہ سے میرا وہی تعلق ہے جو آپ سے ہے…‘‘ وہ نہایت خاموشی اور سادگی سے بولی۔
اس بات کا انہیں کافی دیر سے شک تھا… لیکن جب یہ اس کی زبان سے سنا تو وہ ساکت رہ گئے۔
’’تم…؟‘‘ وہ کانپتی جذبات سے پرآواز میں بولے۔ ’’تم ہماری بیٹی ہو… میری اور فارینہ کی بیٹی…؟‘‘
’’ہاں پاپا…‘‘ اس کے آنسو پوری سرعت سے گالوں پہ ڈھلک آئے۔
’’میں آپ کی بیٹی ہوں… میں آپ کی وہ بدنصیب بیٹی ہوں… جس کو کبھی آپ کا پیار نہیں ملا… جس نے کبھی آپ کو نہیں دیکھا تھا میں نے ساری عادتیں اور تمام پسندوناپسند آپ سے لی… لیکن آپ کو نہ پایا… اور نازنین نے کوئی عادت اور کوئی پسند آپ سے نہیں لی… لیکن اس نے آپ کو پایا… ہے نا قسمت کی ستم ظریفی… میں کس قدر بدنصیب ہوں کہ میں باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیموں کی طرح پلی… میں تمام نعمتوں کے ہوتے ہوئے بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ترستی رہی… ہم نے ساری عمر نانی کی بہن کے گھر گزاردی… ہمارا اس عالی شان گھر میں رہنے کا حق تھا لیکن ہم بے سروسامانی کی حالت میں کسی اور کے گھر میں پلتے رہے… ماما ایک بے جان مورتی کی طرح ہماری ساری ضروریات پوری کرتی رہیں‘ ہماری تعلیم کے اخراجات پورے کرتی رہیں… لیکن ان کے دل میں کوئی امنگ اور کوئی خوشی ہم نے نہیں دیکھی۔ وہ ایک روبوٹ کی مانند اپنی ذمہ داریاں نبھاتی تھیں۔ ہم سے پیار بھی مشینی انداز میں کرتی تھیں لیکن جب بھی ہم نے آپ کے بارے میں پوچھا تو ان کے ہونٹوں پہ ایک چپ ہوتی تھی اور آنکھوں میں درد کے سائے… وہ ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیتی تھیں لیکن جب ہم آپ پہ غصہ کرتے تھے تو وہ برداشت نہیں کرتی تھیں… اس حالت میں بھی وہ آپ کے خلاف کوئی بات نہیں سننا چاہتی تھیں… آپ نے ان کے ساتھ ایسا کیوں کیا…؟وہ تو ایثار ووفا اور پیار ومحبت کی دیوی تھیں آپ نے کیوں ان کا دل توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا… وہ تو آپ کو مسیحا سمجھتی تھیں لیکن آپ نے مسیحا بن کر ان کے دل کا شیشہ اس طرح توڑا کہ وہ کسی طرح بھی جڑنے کے قابل نہ رہا… اور انہوں نے اسی ٹوٹے شکستہ دل کے ساتھ باقی کی عمر گزار دی صرف ہمارے لیے …بعض اوقات مجھے غصہ آتاتھا ہمارے اوپر کہ ہم کیوں ان کی راہ کی رکاوٹ بنے… کاش ہم نہ ہوتے تووہ سکون سے مرتو سکتی تھیں لیکن آپ نے بہت ظلم کیا ان پہ‘ میں تو ماما کے سامنے پھر بھی چپ ہوجاتی تھی لیکن بھائی…!‘‘
’’بھائی…؟‘‘اختیار صاحب حیرت سے بولے۔ ’’کون بھائی…؟‘‘
’’میں اسفند یار کی بات کررہی ہوں… ہم جڑواں بہن بھائی ہیں نا۔‘‘
’’جڑواں بہن بھائی…؟‘‘ وہ وہیں دوبارہ کرسی پہ گرسے گئے… اور دونوں ہاتھوں میں سر کو تھام لیا۔
’’میرے دو بچے تھے اوراس نے مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ مجھے اطلاع دے دیتی۔‘‘
’’ماما نے اطلاع دی تھی آپ کو…‘‘ وہ زور دے کر بولی۔ ’’انہوں نے کتنے ہی خط لکھے تھے لیکن آپ پھر بھی نہیں آئے‘ آپ نے کوئی پرواہ نہیں کی… آپ نے کسی خط کا جواب نہیں دیا۔‘‘
’’مجھے کوئی خط نہیں ملا۔‘‘ وہ جیسے خواب میں بول رہے تھے۔ ’’یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ میں اپنی اولاد کو اس طرح اگنور کرتا… ان کوان کا حق نہ دیتا۔‘‘
وہ پھر اٹھ کر ٹہلنے لگے۔ ساتھ ساتھ بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے جارہے تھے …پھر چلتے چلتے ایک دم اس کے پاس رکے۔
’’اور تمہارا بھائی… وہ کہاں ہے…؟‘‘
’’وہ الیکٹریکل انجینئر ہے اور جس کمپنی میں جاب کرتا ہے اس نے اسے اسپیشل کورس کے لیے امریکہ بھیجا ہے۔‘‘
ان کے چہرے پہ رنگ سا آگیا۔ وہ کس قدر بدنصیب تھے کہ اپنے ہیروں کو اس طرح پھینک کر چلے آئے تھے اور پھر بھی خوش نصیب تھے کہ فارینہ نے ان کو تراش خراش کر اتنا نفیس رنگ دیاتھا۔
’’ایک بات اور پوچھنی تھی۔‘‘ تھوڑی دیر بعد وہ جھجکتے ہوئے انداز میں بولے لیکن پوچھنے کی ہمت نہیں کرپارہے تھے۔
’’ماما کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں…؟‘‘ وہ ان کی ہی ذہین بیٹی تھی… فوراً جان گئی۔ اس کی آنکھوں سے ڈھیر سارے آنسو نکل کر گالوں پہ بکھر گئے… اس نے دھیرے سے اپنا پرس کھولا… اس میں سے ایک چھوٹی سی ڈائری نکالی اوران کی طرف بڑھادی۔
’’ماما تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں… چند ماہ پہلے ان کی وفات ہوگئی… اب آپ کی ملاقات ان سے صرف ان صفحات کے ذریعے ہی ہوسکتی ہے۔‘‘
انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے ڈائری تھام لی… اور خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا سرینا اٹھ گئی۔
’’میں اپنے آفس میں جاتی ہوں…آپ کو شاید تنہائی کی ضرورت ہو…‘‘ وہ ابھی دروازے تک نہیں پہنچی تھی کہ ان کی آواز آئی۔
’’سرینا…‘‘ وہ بے اختیار مڑی… ’’پاپا کے گلے نہیں لگوگی…‘‘ انہوںنے حسرت سے اپنے بازو پھیلادیئے… وہ تڑپ کر پلٹی اور بھاگتے ہوئے ان بازوئوں میں سماگئی۔
’’آپ کو نہیں پتا پاپا میں نے کتنی بار خواب میں یہ منظر دیکھا ہے۔ اور کتنی بار اس خواب کے پورا ہونے کی تمنا کی ہے…اورآج …آج مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ یہ بھی کہیں خواب نہ ہو۔‘‘ وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور اختیار بیگ کا دل خون کے آنسو رو رہاتھا۔ انہوں نے کتنی خوب صورت زندگی کو ٹھوکر مار دی تھی۔
’’نہیں… یہ خواب نہیں ہے …اور اب جب تم اپنے پاپا کے پاس پہنچ گئی ہو تو اب میں کبھی تمہیں خود سے جدا نہیں ہونے دوں گا۔ کاش میں نے تمہیں پہلے جانا ہوتا… تم تو میرا اصلی ولی عہد ہو‘ تم نے میرے ٹینس کاشوق مجھ سے لیا ہے… تم نے میتھس میں میرے جیسا دماغ لیاہے… تمہیں وہ چیزیں پسند ہیں جو تمہارے پاپا کو پسند ہیں… تم ہی میرا اصلی ولی عہد ہو۔‘‘
’’نہیں پاپا اسفند نے بھی آپ کا دماغ لیا ہے‘ اسے بھی میتھس بہت پسند ہے۔ اسے بھی ٹینس میں مہارت حاصل ہے اور اسے بھی قیمہ اور کچنار کے علاوہ بگھارے بینگن بہت پسند ہیں۔‘‘
آ ج وہ ہوائوں میں اڑ رہی تھی۔ خوشی سے قدم زمین پہ نہیں ٹک رہے تھے۔
اختیار بیگ وہ ڈائری اپنے سامنے رکھے سوچ رہے تھے کہ وہ کس طرح اسے کھولنے کی ہمت کریں۔
/…/…/
دادی جان کے کمرے میں آکر سرینا بھاگ کر ان سے لپٹ گئی۔
’’دادی جان… میں آج کتنی خوش ہوں… میں آپ کو بتانہیں سکتی… میرا دل چاہ رہا ہے ساری دنیا کو پھولوں سے سجا دوں… تاروں سے بھردوں۔‘‘
’’کیابات ہے… میری بیٹی کو آج کیا مل گیا…؟‘‘
’’آج مجھے کل کائنات کی دولت مل گئی ہے۔ آج میرا سب سے بڑا خواب پورا ہوگیا ہے۔ آج میں نے وہ پالیا ہے جس کی بچپن سے تمنا کی تھی۔ جس کی حسرت میں پہروں رویا کرتی تھی۔
’’اللہ تمہیں تمہارے خواب مبارک کرے۔‘‘ انہوں نے اس کا سر اپنے سینے سے لگا کرچوم لیا۔ آج میرے دل کو بھی سکون نصیب ہوا ہے۔ میں چاہتی تھی تمہیں وہ ساری خوشیاں ملیں جن کی تم حق دار ہو اور تمہارے سارے غم میں اپنے دامن میں سمیٹ لوں۔ خدا کاشکر ہے آج میری خواہش پوری ہوگئی۔‘‘
’’آپ جانتی تھیں دادی اماں؟‘‘ اس نے حیرت سے سراٹھایا۔
’’ہاں بیٹا… شہریار نے سب سے پہلے مجھے ہی بتایا تھا۔… اور میرے کہنے پہ ہی تمہیں ادھر لے کرآیا تھا۔‘‘ دادی اماں نے محبت سے کہاتووہ دوبارہ ان سے لپٹ گئی۔
’’اورآج میں بہت خوش ہوں کہ آپ اصل میں میری اپنی دادی اماں ہیں۔‘‘
’’اور جس نے تمہیں جنم دیا ہے وہ ماں بہت خوش نصیب ہے… کاش میں اپنی بہو سے مل سکتی ۔ ‘‘ دادی اماں کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ سرینا کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔
’’اور جن پھولوں سے تم اس دنیا کو بھردینا چاہتی ہو… وہ اس وقت تمہارے گالوں پہ کھل رہے ہیں او روہ ستارے تمہاری آنکھوں میں چمک رہے ہیں۔‘‘
’’دادی پوتی میں کیا رازونیاز ہو رہے ہیں…؟‘‘ اسی وقت شہریار اندر آئے اور سرینا کی کیفیت دیکھ کر حیران رہ گئے… خوشی نے اسے ایک انوکھا خوب صورت رنگ دیا تھا۔
’’رازوں کا وقت ختم ہوگیا شہریار…؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔ ’’اب تو یہ سب کچھ کھلنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘
’’سب کچھ کھلنے کا…؟‘‘ انہو ںنے معنی خیز انداز سے ان کی طرف دیکھا تووہ حفیف سی ہو کر مسکرادی۔
’’دادی جان… آج آپ بھی باہر چلیں… سب کے درمیان بیٹھیں… آپ کو مزا آئے گا۔‘‘
پھر وہ دادی جان کو وہیل چیئر میں بٹھا کر شہریار کی مدد سے باہر لے کرآئی تو سب نے تعجب سے دیکھا۔ شہریار نے ان کی چیئر صوفے کے بالکل ساتھ لگا دی… عرشی اور کاشی بھی ان کے ساتھ قالین پہ بیٹھ گئے۔ رانی اور نذیراں چائے کی ٹرالی دھکیلتی ہوئی ادھر ہی لے آئیں… زرمینہ بیگم اور نازنین ابھی اوپر سے نہیں آئی تھیں اس لیے کھل کر آپس میں ہنسی مزاح کررہے تھے۔ شہریار نے چائے کا کپ سرینا کی طرف بڑھایا تو اس نے مسکرا کر شکریہ کہتے ہوئے کپ تھام لیا۔ اسی وقت زرمینہ اور نازنین سیڑھیوں سے اتررہی تھیں… نیچے کامنظر دیکھ کر اور سب کو اس قدر خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر دونوں آگ بگولا ہوگئیں۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے…اور یہ خالہ جان آج باہر کیا کررہی ہیں…؟‘‘
’’آج دادی جان کاباہر بیٹھنے کاموڈ ہو رہا تھا چچی جان… تومیں انہیں باہر لے آیا۔ ان کی صحت پہ اچھااثر پڑے گا…‘‘ شہریار نے سرینا کے بولنے سے پہلے ہی کہہ دیا‘ تووہ خاموش ہوگئی۔ لیکن پھر کچھ سوچ کر بولی۔
’’دادی جان آپ روز اسی طرح یہاں لائونج میں بیٹھا کریں… اس طرح آپ بور نہیں ہوں گی۔‘‘
’’اے لڑکی… تم اپنے مشورے اپنے پاس ہی رکھو اور ہمارے گھریلو معاملات میں دخل اندازی مت کرو۔‘‘
’’معاف کیجیے آنٹی… میں آپ کے گھریلو معاملے میں ہرگز مداخلت نہیں کررہی…میں تو اپنی دادی جان کے بارے میں بات کررہی ہوں۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی تو نازنین چیخ پڑی۔
’’وہ تمہاری دادی جان نہیں ہیں۔‘‘
’’پلیز نازنین مجھ سے اس طرح چیخ کر بات مت کرو… یہ ایٹی کیٹس کے خلاف ہے۔‘‘
’’اوہ یو…یو مڈل کلاس گرل…تم خود کو کیا سمجھتی ہو…؟ اگر شہریار تمہیں یہاں لے آیا ہے تو تم مجھ سے مقابلہ کرنے لگی ہو… تم سمجھتی ہو شہریار تمہاری حمایت کرے گا… ہرگز نہیں وہ میرا منگیتر ہے اور میں اسے اس بات کی اجازت نہیں دوں گی کہ تم جیسی لڑکیوں کے منہ لگے۔‘‘
شہریا رکاچہرہ سرخ ہوگیا… وہ ایک دم کھڑا ہوگیا۔
’’نازنین بی ہیو یورسیلف…سرینا میری مہمان ہے اور اس گھر کی یہ روایت ہے کہ مہمان کی عزت کی جاتی ہے۔‘‘
’’مہمان…مائی فٹ…‘‘ وہ بے انتہا تنفر سے بولی۔
’’تم ہرایرے غیرے کو کہیں سے اٹھا کر لے آئوگے تو میں اس کی عزت کرنے لگوں گی اور تم اس کی سائیڈ لے رہے ہو…؟‘‘
’’شہریار…‘‘ زرمینہ نے ذرا تحمل سے کہا۔ ’’بیٹا مجھے امید نہیں تھی کہ تم یوں نازنین کی انسلٹ کروگے۔‘‘
’’چچی جان آپ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی اس کی حمایت کررہی ہیں…ہمیں ہر قسم کے حالات میں اپنے جذبات کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے… اور اس کو یہ سبق ابھی سے سیکھنا پڑے گا۔‘‘
’’تم مجھے سبق سکھانے والے کون ہوتے ہو…؟‘‘
’’ابھی تو تم نے بتایا تھا کہ میں تمہارا کون ہوتا ہوں…‘‘انہوں نے تمسخر سے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ کچھ کہنے کے قابل نہ رہی۔
’’شہریار دادی جان کو اندر نہ لے چلیں…؟‘‘ سرینا نے جان بوجھ کر اسے مخاطب کرتے ہوئے معصومیت سے کہا تو شہریار نے بے اختیار ہونٹوں پہ آنے والی مسکراہٹ کو بڑی مشکل سے دانتوں میں دبایا ورنہ بڑا طوفان کھڑا ہوجاتا۔
’’سرینا آپ شرارت سے باز نہیں آئیں گی… آپ کو نازنین کو بھڑکانے میں مزہ آتا ہے…؟‘‘ اندر آکر وہ مسکرایا۔
’’بہت… ‘‘وہ خوشی سے ہنسی…’’آپ کو بہت برا لگتا ہے؟ آفٹر آل وہ منگیتر ہے آپ کی …‘‘
شہریار نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا۔’’اپنی اپنی قسمت ہے … ہر کوئی آپ کی طرح خوش قسمت تو نہیں ہوتا۔‘‘
’’کیا آپ نے میری قسمت میں کوئی شہزادہ گلفام دیکھ لیا ہے…؟‘‘
’’ہاں ایک شہزادہ ہے تو… جو بہت چاہتا ہے آپ کو…‘‘
’’کون… کیا نام ہے اس کا…؟‘‘ وہ کنفیوز ہوکر انہیں دیکھنے لگی۔
’’گلفام ہی ہے… اصل میں اس کی آنکھوں میں آج کل ہر وقت پھول کھلے رہتے ہیں کسی کے تصور سے… اس لیے گلفام ہی ہوانا…‘‘
’’اوہ…وہ سمجھ کر مسکرائی… اور پھر دادی جان کی طرف متوجہ ہوئی…’’دادی جان ذرا پوچھئے گا کون خوش قسمت ہے وہ جس کے تصور سے پھول مہکتے ہیں…شہزادہ گلفام کے دل میں۔‘‘
’’بیٹا تم دونوں اپنی گفتگو میں مجھ بوڑھی کو کیوں لاتے ہو بیچ میں۔‘‘
’’میں بتاتا ہوں دادی جان ایسا کیوں ہے…؟‘‘ شہریار نے گہری نظروں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔
’’بعض لوگ بہت بزدل ہوتے ہیں… وہ اپنے راز کو راز رکھنے میں ماہر ہوتے ہیں…آپ کو یاد ہے سرینا پہلے دن جب آپ دادی جان سے ملنے آئی تھیں تو آپ نے کیا کہاتھا…؟‘‘
’’نہیں تو…؟‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’آپ نے کہاتھا دادی جان آپ اپنا ہر راز مجھے بتاسکتی ہیں… میں راز کو راز رکھنے میں ماہر ہوں۔‘‘
’’ہوں …اور آپ نے کہا تھا یہ تو ہم جانتے ہیں… اور میں نے پوچھا تھا کہ کیامطلب ہے آپ کا…؟‘‘
’’اور میں نے کہا تھا پھر کبھی سہی… مطلب پھر کبھی سہی…تو میں یہی تو عرض کررہاتھا کہ بعض لوگ راز کو راز رکھنے میں ماہر ہوتے ہیں…دل کی بات زبان پہ نہیں لاتے۔‘‘
سرینا نے جلدی سے رخ موڑ لیا۔
’’جب دل کی بات زبان پہ لانے سے رسوائی کے علاوہ کسی چیز کی توقع نہ ہو تو پھر وہ بات راز ہی رہنی چاہیے۔‘‘
’’اور یوں بھی …‘‘ اس نے واپس رخ موڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔’’کسی اور کی چیز پہ نظر نہیں رکھنی چاہیے۔‘‘
دادی جان نے لیٹ کر آنکھیں بند کرلی تھیں شاید وہ جان بوجھ کر سوتی بن گئی تھیں کہ وہ دونوں دل کی بات آرام سے کرسکیں۔
’’میں نہ تو کوئی چیز ہوں …اور نہ ہی کسی کی جائیداد ہوں…‘‘ وہ انتہائی سنجیدگی اور متانت سے بولے۔
’’میں وہی کروں گا جو چاہوں گا اور جومیرے دل کی مرضی ہوگی… چاہے آپ اس معاملے میں کوئی بھی رائے رکھتی ہوں… میں چچا جان کی طرح خود کو قربانی کے لیے پیش نہیں کروں گا… مجھے صرف یہی کہنا ہے …‘‘ وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئے اور وہ دم بخود کھڑی رہ گئی۔
/…/…/
اختیار بیگ نے ڈائری کا پہلا صفحہ کھولا تو ان کی ساری حسیات آنکھوں میں سمٹ آئیں۔
’’میں اتنے دنوں سے یہی سوچ رہی تھی کہ اختیار کے منہ سے وہ ہولناک اور تباہ کن باتیں سننے کے بعد میں زندہ کس طرح رہی… زندہ کیوں رہی…؟ وہ جب اپنے دل کا سارا زہر میرے کانوں میں انڈیل رہے تھے تو میری تمام حسیں جیسے منجمد ہوکررہ گئی تھیں… میں نہ تو ہل سکتی تھی نہ بول سکتی تھی‘ اور نہ ہی قدم اٹھا کر آگے بڑھ سکتی تھی۔ اگر میں بول سکتی تو انہیں چیخ کر وہیں روک دیتی… اگر میں چل سکتی تو بڑھ کر ان کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیتی… لیکن مجھے تو یہ شاک اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دے رہاتھا کہ اختیار یہ سب کچھ مجھ سے کیسے کہہ سکتے ہیں… مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ اختیار اتنے سفاک ہوسکتے ہیں؟ اس بات نے میرے جسم سے جان ہی نکال دی تھی… انہوں نے دو ماہ مجھے ہر طرح سے دیکھا تھا‘ میرے ساتھ سارا وقت گزارا تھا مجھے اندر باہر سے ہر طرح سے جانتے تھے‘ پھر وہ مجھ سے وہ ساری باتیں کس طرح کہہ سکتے تھے‘ لیکن جب وہ اس حد سے آگے بڑھے… اور ان کی زبان پہ طلاق کا نام آیا تو میں پوری قوت سے چیخ پڑی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا… اور وہ ایک چھوٹا ساڈبا پھینک کر ہمیشہ کے لیے نکل گئے… میں نے ان کے پیچھے جانا چاہا لیکن میرے قدموں نے ساتھ نہ دیا… میں وہیں بے ہوش ہوگئی۔‘‘
اختیار نے میز پہ اپنا سررکھ دیا اور بچوں کی طرح رو پڑے…ان کے دل سے غم لاوے کی طرح ابل کر آنکھوں کے راستے باہر آرہاتھا‘ آگے اس نے تفصیل لکھی تھی کہ اصل میں کیا ہوا تھا… اختیار کا دل چاہ رہاتھا کہ زمین پھٹ جائے او روہ اس میں سماجائیں…انہوں نے کتنی سفاکی سے اس کے شفاف دامن پہ گندگی کے چھینٹے دے مارے تھے… اوروہ بھی صرف اس کینہ پرور خبیث آدمی کے کہنے پر۔
’’آج مجھے معلوم ہوا کہ خدانے مجھے کیوں زندہ رکھا… میں ڈاکٹر کے پاس گئی تو اس نے بتایا کہ میں ماں بننے والی ہوں…میرا دل غم سے کچھ اور بوجھل ہوگیا… میں اس ننھی جان کو دنیا میں لاکر کیا کروں گی… جس کی دنیا پہلے ہی اجڑ گئی ہے… میں اسے اچھی زندگی کیسے دوں گی… اس کاباپ کہاں سے مہیا کروں گی… لیکن یہ تو میرے اور اختیار کے پیار کی نشانی ہے…اختیار نے میرے ساتھ جو بھی کیا اس کے باوجود میں تو اس سے محبت کرتی ہوں۔کچھ بھی ہو مجھے تو اسے جنم دینا ہی ہے لیکن اختیار کو بتانا بھی ضروری ہے۔ یہ ان کی اولاد ہے اور اس کے بارے میں جاننا ان کا حق ہے۔
’’اختیار نے مجھے جو ایڈریس دیاتھا…آج میں نے اس پہ خط لکھ دیا ہے اور ان کو بتادیا ہے کہ وہ باپ بننے والے ہیں ۔ شاید اس خبر سے وہ واپس آجائیں۔‘‘
اعتزاز نے اختیار کے جانے کے بعد بلاخوف گھر آنا شروع کردیاہے… میں آج تک ماما کی وجہ سے بچی ہوئی ہوں لیکن میں اس وقت سے ڈرتی ہوں اگر وہ کبھی ماما کی غیر موجودگی میں آگیاتو میں اپنی حفاظت کیسے کروں گی… میں نے ماما سے کہہ دیا ہے کہ ہم خالہ کے پاس ملتان چلے جاتے ہیں… خالہ کابڑا سا گھر ہے… اور وہ اکیلی ہوتی ہیں… پہلے تو ماما نہیں مانتی تھیں لیکن جب میں نے اعتزاز کے ارادوں کے بارے میں بتایا تو راضی ہوگئیں… ملتان پہنچتے ہی میں نے دوبارہ اختیار کو خط لکھا اور اطلاع دی… ساتھ میں ملتان کاایڈریس بھی لکھ دیا… لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔‘‘
’’آج تین ماہ ہوگئے ہیں… لیکن اختیار نے میرے کسی خط کا جواب نہیں دیا… اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ وہ کبھی مجھے معاف نہیں کریں گے… اور کبھی میری پاکیزگی پہ یقین نہیں کریں گے…کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ ان کے دیئے ہوئے ایڈریس پہ خود ہی پہنچ جائوں…شاید مجھے دیکھ کر ان کی محبت جاگ جائے لیکن اگر انہوں نے سب کے سامنے میری بے عزتی کردی اور گھر سے نکل جانے کو کہاتو… میرے پاس کیابچے گا…؟
’’آج میں نے آخری بار اختیار کو خط لکھا… اس بار میں چیک اپ کے لیے گئی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میں جڑواں بچوں کی ماں بنوں گی تومیں نے سوچا اختیار کو حق ہے یہ جاننے کا کہ وہ جڑواں بچوں کے باپ بن رہے ہیں… لیکن خط واپس آگیا… لفافے پہ لکھا تھا کہ ایڈریس چینج ہوگیا ہے… شاید اختیار نے گھر بدل لیا۔‘‘
’’سرینا اور اسفند میری آنکھوں کی روشنی ہیں… اگر اختیار ایک بار انہیں دیکھ لیتے تو ان کی محبت میں گرفتار ہوجاتے لیکن ان بچوں کی قسمت میں شاید باپ کی محبت نہیں لکھی۔‘‘
’’سرینااور اسفند جڑواں ہیں اس لیے ان کی عادتیں بہت ملتی ہیں او ریہ دیکھ کر میرے دل کوسکون نصیب ہوتا ہے کہ دونوں نے اپنا ٹینس کاٹیلنٹ اپنے باپ سے لیا ہے… دونوں کا میتھ غضب کا ہے بالکل اختیار کی طرح… دونوں کو قدرتی طور پہ وہی کھانے پسند ہیں جو ان کے باپ کو پسند تھے… کاش اختیار انہیں دیکھ سکتے۔‘‘
’’دونوں بہن بھائی بڑے ہوگئے ہیں اور اپنے باپ کے بارے میں پوچھتے ہیں لیکن میں کیا بتائوں…خاموش ہوجاتی ہوں… میں نے اپنا زیور سنبھال کررکھا تھا… وہ میں نے صرف اور صرف ان دونوں کی تعلیم کے لیے رکھا ہوا ہے…اختیار کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا چاہیے… بالکل اپنے باپ کی طرح۔‘‘
’’سرینا میں میری بہت زیادہ جھلک ہے لیکن اسفند کو دیکھ کر مجھے اختیار کی یاد آتی ہے… وہ باپ سے بہت ملتا ہے… میں جب بھی اسے یہ بات کہتی ہوں وہ غصہ ہوجاتا ہے… اپنے باپ کے بارے میں کچھ بھی سننا نہیں چاہتا اور میرا دل اس بات سے افسردہ ہوجاتا ہے… اس کے برعکس سرینا ہر وقت مجھ سے اپنے باپ کے بارے میں سننا چاہتی ہے۔ میں اپنی حسرت اس سے باتیں کرکے پوری کرلیتی ہوں۔ وہ اپنے باپ کی ہر چھوٹی چھوٹی بات جانتی ہے جومیرے علم میں تھی۔ اسے بہت خواہش ہے اختیار سے ملنے کی… وہ واحد تصویر جو اختیار نے مجھے دی تھی اس نے فریم کروا کے سنبھال کررکھی ہوئی ہے اور اکثر اسے دیکھتی رہتی ہے… او رمیں سوچتی ہوں کاش اختیار اسے دیکھ سکتے تو اس پہ فخر کرتے۔‘‘
’’آج سرینا الماری سے میرے لیے کپڑے نکال رہی تھی کہ وہ چھوٹا سا ڈبا نیچے گر پڑا… اس نے جلدی سے اٹھا کر اسے کھولااور لاکٹ نکال کرمیرے سامنے کیا۔
’’یہ کیا ہے ماما… یہ کس کا ہے…؟ وہ اشتیاق سے بولی… میری اس لاکٹ پہ نظر پڑی تو میری سانس رک گئی۔
’’اسے واپس رکھ دو سرینا… اور آئندہ اس کو ہاتھ مت لگانا؟‘‘
’’کیوں ماما…؟‘‘وہ حیرت زدہ تھی۔
’’بس میں نے کہہ دیا ہے… اتنا ہی کافی ہے۔‘‘
’’اوکے ماما… وہ اچنبھے سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ ’’ویسے ہے بڑی خوب صورت چیز… اور قیمتی بھی…‘‘
اس کی قیمت کا اندازہ وہ کیا جانے…یہ تومیری زندگی کے سیاہ ترین دن کی یادگار تھی۔ اسے روشنی کا پیغام بننا تھا مگر یہ اندھیروں کانشان تھی۔ کس نفرت سے اختیار نے اسے میرے قدموں میں پھینکا تھا۔ مجھے لگا تھا یہ چھوٹا سا ڈبا مجھے ڈس لے گا۔ میں اسے کھول کر دیکھنے کی جرأت نہ کرسکی۔ ماما نے اسے اٹھا کر الماری میں رکھ دیا۔ تب سے وہیں پڑا تھا… اور میں اسے کبھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی…ماما نے مرنے سے پہلے اسے سرینا کے حوالے کردیا کہ یہ تمہارے باپ کی نشانی ہے۔‘‘
’’سرینا اور اسفند دونوں اپنی منزل پہ پہنچ گئے ہیں… میں چاہتی تھی کہ جانے سے پہلے سرینا کی شادی کردوں تاکہ سکون سے مرسکوں… لیکن یہ شاید میری قسمت میں نہیں ہے… میں نے اسفند سے وعدہ لیا ہے کہ جلد از جلد اس کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہو…اور اگر کبھی اختیار سے آمنا سامنا ہو تو اس سے عزت سے پیش آئے اور انہیں‘ بتائے کہ ان کی ماں بے قصور تھی۔‘‘
ڈائری ختم ہوگئی تھی… لیکن وہ اندھیرے میں کتنے گھنٹوں سے بیٹھے تھے… یوں لگ رہا تھا جیسے زندگی بے کار ہوگئی ہے …زندہ رہنے کی کوئی وجہ نہ ہو… وہ اسی طرح بے جان جسم اور غم سے چور ہوا دل لیے بیٹھے رہے۔ان کا دل چاہ رہاتھا کہ خود کو ایسی سزا دیں جس سے دل کو تھوڑا سکون نصیب ہو اوران کے احساس جرم میں تھوڑی کمی آئے… لیکن انہوں نے زرمینہ کے ساتھ جو زندگی گزاری تھی وہ بھی کسی سزا سے کم تو نہیں تھی۔ اس نے کبھی ان کا غم جاننے کی کوشش نہیںکی تھی … ان کے زخموں پہ مرہم رکھنے کے بارے میں کبھی نہ سوچاتھا۔
زرمینہ ان کے زخموں پہ کیا مرہم رکھتیں انہیں اختیار کی طرف سے جو زخم ملے تھے وہ خود مرہم کے طلبگار تھے لیکن ان پہ مرہم رکھنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ شروع سے اختیار سے منسوب تھیں اور ان کے حوالے سے انہوں نے بے شمار خواب دیکھے تھے لیکن جب یہ خواب پورا ہونے کا وقت آیاتو ان پہ یہ انکشاف ہوا کہ یہ خواب صرف خواب ہی تھے ان میں اختیار کا تو کوئی حصہ نہیں تھا… وہ دلہن بن کر اپنے دل میں ارمانوں کے ہزاروں گلاب کھلا کر لائی تھی لیکن پہلی ہی رات اختیار کے سرد رویے نے ان کا دل توڑ دیا… ان کے ارمانوں کا گلا گھونٹ دیا۔ وہ تو سمجھ رہی تھیں کہ ان کی طرح اختیار بھی ان سے محبت کرتے ہوں گے لیکن ان کا دل ٹوٹ گیا… اس کانتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے رخشندہ اور مہرالنساء بیگم سے بھی کنارہ کشی کرلی… ان کے ساتھ بھی سرد رویہ اختیار کرلیا… وہ بس اپنی ہی ذات میں گم رہتی تھیں اور ایک روز جب ڈاک پہ انہوں نے سرسری سی نظر ڈالی تو کشمیر سے آئے ایک خط نے ان کی توجہ کھینچ لی۔ انہیں پتا تھا کہ اختیار کشمیر گئے تھے اور دو ماہ وہاں گزار کرآئے تھے… تجسس سے مجبور ہو کر انہوں نے چپکے سے وہ لفافہ چھپا لیااور اپنے کمرے میں جاکر دروازہ لاک کرکے پڑھا تو اختیار کے تمام رویوں کی وجہ ان کی سمجھ میں آگئی تو یہ بات ہے… اختیار کشمیر میں اپنا دل ہار کر اور شادی کرکے آئے تھے … اور اب بچے کے باپ بھی بننے والے تھے۔ فارینہ نے رو رو کر اپنی ساری داستان بھی ساتھ لکھی تھی او راپنی صفائی بھی پیش کی تھی۔
یہ خط اختیار سے چھپانا لازمی تھا۔ بچے کی خبر سن کر اختیار کا رکنا ناممکن تھا… انہوں نے اسے اپنے لاکڈ دراز میں منتقل کردیا… اب وہ ہمیشہ ڈاک آنے کے وقت صحیح جگہ پہ موجود رہتیں تاکہ اگر اور خط آئے تو اختیار کے ہاتھ نہ لگے… پھرانہیںخطرہ لاحق ہوگیا کہ اگرخط کا جواب نہ ملنے کی صورت میں خود ہی وہ آگئی تو کیا ہوگا؟ پھر وہ اختیار کو اس کے پنجے سے کیسے چھڑائیں گی‘ تب انہوں نے بابا جان سے گھربدلنے کی ضد شروع کردی۔
باباجان کا خود بھی یہی خیال تھا کہ بچوں کی اولادیں ہوں گی تو گھر چھوٹا پڑجائے گا… اس لیے وہ گھر جو شاید کچھ عرصے بعد خریداجاتا وہ جلدی خریداگیا… اور وہاں منتقل ہوکرزرمینہ نے سکون کا سانس لیا… اوراس کے بعد کوئی خط نہ آیا… اور جب وہ امید سے ہوئیں گھر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی… بختیار احمد نے اختیار بیگ کو یاد دلایا…
’’تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے نااختیار کہ اگر تمہاری پہلی بیٹی ہوئی تو اس کی نسبت میرے شہریار سے طے ہوگی…؟‘‘
’’یاد ہے بھائی… یاد ہے فکر نہ کرو…میری پہلی بیٹی تمہارے شہریار کی دلہن ہی بنے گی۔‘‘
بیٹی کی پیدائش پہ اختیار بیٹی کی طرف تو مائل ہوگئے …لیکن زرمینہ کے ساتھ ان کا رویہ سرد ہی رہا۔ پھرکاشی پیدا ہوا تو بھی انہیں کوئی خاص فرق نہ پڑا… بعض اوقات زرمینہ اس پتھر دل انسان کی سنگدلی پہ حیران بھی ہوتیں …کہ کیسا مرد ہے اتنی خوب صورت بیوی گھر میں موجود ہے لیکن وہ ہر وقت ماضی کی راکھ میں گم رہتا ہے… وہ کیا جانیں یہ تو دل کے معاملات ہوتے ہیں… لیکن خود دار وہ بھی تھیں محبت کی بھیک مانگنا ان کو بھی گوارا نہیں تھا… اگر زندگی اسی طرح کٹنی ہے تو کٹ جائے… وہ بھی اس پتھر کے ساتھ سر نہیں پھوڑیں گی۔
/…/…/
آفس آنے کے لیے وہ شہریار کی گاڑی میں بیٹھی تو فوراً ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ غیر معمولی طو رپر سنجیدہ تھے۔ وہ ان کی طرف دیکھ کرمسکرائی۔
’’موڈ کچھ خراب لگ رہا ہے۔‘‘
’’ کس کا…؟‘‘
’’ظاہر ہے آپ کا…اور تو کوئی نہیں اس گاڑی میں…‘‘ وہ اس کی بات پہ خاموش رہے تووہ بولی۔
’’کسی سے خفا ہیں کیا…؟‘‘ شہریار نے گردن موڑ کر شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھااور پھرسڑک کی طرف دیکھنے لگے۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے… آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’آپ مجھ سے توخفا نہیں ہیں نا؟وہ چند لمحے کچھ سوچتے رہے۔
’’ہو بھی سکتا ہوں۔‘‘
’’تو اس کامطلب ہے مجھ سے ہی خفا ہیں آپ… لیکن کیوں ؟‘‘
شہریار نے گہری سانس لی اور خاموش رہے… تب ہی آفس آگیا تو بات وہیں ختم ہوگئی۔ اس کے اترتے ہی انہوں نے گاڑی آگے بڑھادی… خداحافظ بھی نہ کہا تو سرینا کے دل میں ملال اتر آیا۔اندر آتے ہی وہ سیدھی اختیار بیگ کے آفس میں آگئی۔
’’السلام علیکم پاپا…‘‘ اس کے تروتازہ چہرے پہ مسکراہٹوں کے پھول کھل رہے تھے۔ اختیار بیگ بے اختیار اٹھے اور اسے گلے سے لگالیا۔
’’کہاں رہی ہماری بیٹی کل سارا وقت… گھر میں سارا وقت میری نظریں تمہیں ہی ڈھونڈتی رہیں۔‘‘
’’پاپا…میں سارا وقت اپنے کمرے میں اگلا دن طلوع ہونے کا انتظار کرتی رہی۔ تاکہ آفس آسکوں اور آپ کو پھر سے پاپا کہہ سکوں… نیچے بھی اسی لیے نہیں آئی کہ آپ کو دیکھ کر انکل کہنا اب میرے لیے قابل قبول نہیں رہا۔‘‘
’’توہم آج شام ہی گھر میں باقاعدہ اعلان کروادیتے ہیں کہ آپ ہماری بیٹی ہیں۔‘‘
’’رئیلی…‘‘ اس کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔’’لیکن… لیکن زرمینہ آنٹی اور نازنین وہ کیاسوچیں گی؟ انہیں تو بہت بڑا شاک لگے گا…اور نازنین کو بہت غصہ آئے گا پاپا۔‘‘
’’توکیا تم چاہتی ہو میں اسے راز رکھوں…؟‘‘
’’نہیں پاپا… میں تو ساری دنیا کو بتادینا چاہتی ہوں لیکن کسی کو دکھ بھی نہیں دینا چاہتی۔‘‘
’’بیٹابات یہ ہے کہ جب بھی ان کو اس حقیقت کا پتا چلے گا۔شاک پہنچے گا‘ اس لیے جتنی جلدی سچائی ظاہر ہوجائے اتناہی اچھا ہے۔ آخر تو سب کو بتانا ہے نا۔‘‘
/…/…/
ساری شام وہ بے حد مضطرب رہی… سب لائونج میں چائے پی رہے تھے لیکن وہ سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی… شہریار کی گہری نظریں بار بار اس کے بے چین چہرے کی طرف اٹھ رہی تھیں… دادی جان بھی آج وہیل چیئر پر باہر ہی بیٹھی تھیں۔ عرشی ان کے پاس کارپٹ پہ بیٹھی مزے مزے کی باتیں کرکے دل بہلا رہی تھی۔ دادی جان نے سرینا کی طرف دیکھا… اس کا کپ جوں کا توں رکھا تھا … انہوں نے اس کی توجہ اس کی طرف مبذول کروائی تو اس نے چونک کر کپ اٹھایا… اور جانے کیسے اس کا ہاتھ کانپااور چائے نازنین کے اوپر گرگئی… وہ تڑپ کراٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اے یوجاہل گنوار… تم مجھے جلانا چاہتی ہو۔‘‘
’’آئی ایم سوری نازنین… غلطی سے گرگئی۔‘‘
’’سوری کی بچی …غلطی سے یہ سب نہیں ہوا… تم نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے…‘‘
’’آئی سویئر نازنین…‘‘
’’اوشٹ اپ…‘‘ اس کاچہرہ غصے سے لال ہو رہاتھا۔ زرمینہ بیگم سب کچھ دیکھ رہی تھیں لیکن انہوں نے ایک بار بھی اسے منع کرنے کی کوشش نہیں کی… تو دادی جان نے اسے سمجھانا چاہا۔
’’نازوبیٹا… ایسے نہیں کہتے … سرینا مہمان ہے… اور مہمانوں سے اس طرح بی ہیو نہیں کرتے۔‘‘
’’مہمان …مہمان…‘‘ اس نے غصے سے پائوں زمین پہ مارا…’’میں تنگ آگئی ہوں اس مہمان سے اسے کہیں چلی جائے اب یہاں سے‘ بہت رہ لیا۔‘‘
’’نازنین… تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا۔‘‘
’’تم مجھے ڈانٹ رہے ہو اس کی وجہ سے … کیوں اٹھالائے ہو تم اس مصیبت کو ادھر۔‘‘
سرینا کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’میںنے سوری کردیاہے نازنین اتنا کافی ہے… اس کایہ مطلب نہیں تم میری انسلٹ کرو۔‘‘
’’انسلٹ ان کی ہوتی ہے جن کی کوئی عزت ہو… اتنی ہی عزت پیاری ہے تو کیوں ہمارے گھر میں اس طرح پڑی ہو چلی کیوں نہیں جاتیں؟‘‘
’’اس لیے کہ یہ میرا بھی گھر ہے…‘‘ اس نے غصے سے اپنی آنکھیں نازنین کی آنکھوں میں ڈالیں۔
’’اچھا…‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی… ’’کل کو تم یہ بھی کہوگی کہ میرے پاپا تمہارے بھی پاپا ہیں۔‘‘
’’کل کیوں…؟‘‘ وہ اسی طرح بے باکی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔ ’’میں آج ہی کہہ رہی ہو کہ تمہارے پاپا میرے بھی پاپا ہیں۔ ان فیکٹ وہ میرے پاپا پہلے بنے تھے۔‘‘
سب بت بن کر ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
’’اوہ یو شٹ اپ…‘‘غصے کی زیادتی سے نازنین چلائی اور اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا… سرینا کو تھپڑ مارنے کے لیے …لیکن اس ہاتھ کو کسی آہنی گرفت نے تھام لیا… نازنین نے حیرت سے مڑ کر دیکھا او راختیار بیگ کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی۔
’’سرینا ٹھیک کہہ رہی ہے نازو… وہ میری بیٹی ہے۔‘‘
نازنین پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھتی رہی… کتنی ہی دیر کچھ بول نہ سکی… پھر آہستہ سے بولی۔
’’پاپا… آپ مذاق کررہے ہیں…؟‘‘
’’نہیں بیٹا… یہ ایک بہت بڑی سچائی ہے…‘‘
زرمینہ بیگم خواب کی سی کیفیت میں چلتی ہوئی ان کے قریب آئیں… اور شعلہ برساتی نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
’’آئی ہیٹ یو اختیار… میں جس دن سے ڈرتی تھی آخر وہ دن آگیا میری زندگی میں… آئی ہیٹ یو۔‘‘
’’تم جانتی تھیں کہ سرینا…‘‘
’’نہیں سرینا کے بارے میں تو نہیں جانتی تھی …‘‘ ان کالہجہ زہر آلود تھا۔’’لیکن اتنا ضرور پتا تھا کہ اس دنیا میں کہیں تمہاری دوسری اولاد بھی ہے۔‘‘
اختیار بیگ ششدر ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا۔
’’کیسے جانتی تھیں تم…؟‘‘
’’کیسے جانتی تھی …؟انہوں نے چھوٹا ساقہقہہ لگایا جس پہ رونے کا گمان ہوتاتھا۔’’تمہاری اس چہیتی کے خطوط میں ہی وصول کرتی تھی… اور پڑھ کر سنبھال لیے تھے… یہ گھر بھی میری ضد پہ اسی لیے بدلا گیا تھا کہ تم خط کا جواب تو دے نہیں سکتے تھے اس لیے مجھے خدشہ تھا کہ وہ کہیں گھر ہی نہ پہنچ جائے۔‘‘
’’کیوں… کیوں کیا تم نے ایسا…؟‘‘
’’کیوں کیا…؟‘‘ ان کے لہجے میں تمسخر کے ساتھ اجڑی ہوئی تمنائوں کی راکھ بھی تھی۔
’’تم بتائو تم نے میرے ساتھ جوکیا وہ کیوں کیا…تم نے مجھے کیا دیا… ساری عمر کی نارسائی… تم نے مجھے سچ بتایا کبھی؟ تم نے مجھے بتایا کہ تم اپنا دل پہلے ہی ہار چکے ہو…اس لیے میرے لیے کچھ نہیں تمہارے پاس…؟ بولو تم بزدل انسان تم میں سچ بولنے کی ہمت تھی…؟ تم نے کبھی مجھے محبت کے ایک بول کے قابل نہیں سمجھا تو کیا میں تمہیں سزا نہ دیتی…؟‘‘
’’تم کون ہوتی ہو سزا دینے والی؟‘‘
’’تو تم نے کیا سوچ کر مجھے سزا دی تھی۔ تم نے بھی تو ایک بار یہ نہیں سوچا کہ میرا کیا قصور تھا… جس کی سزا مجھے مل رہی ہے… بولو… آج مجھے ساری عمر کی بے نیازی اور سرد مہری کا حساب چاہیے ہے تم سے … کسی اور کی سزاتم نے مجھے کیوں دی…؟‘‘
دادی جان نے اختیار بیگ کے جھکے سر کو دیکھا…اور انہیں ان دونوں پہ ترس آیا…دونوں اپنے اپنے خول میں بند رہے تھے۔ دونوں تکلیفیں جھیلتے رہے تھے اپنی اپنی آگ میں جلتے رہے تھے لیکن آرام اور سکون کے لیے دونوں نے ہی ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھاتھا۔ایک کے احساس جرم نے انہیں چین نہ لینے دیا تھا اور دوسرے کی انا راستے میں دیوار بن کرکھڑی رہی تھی… اور اتنے سارے سال بے نیل ومرام گزار دیئے تھے… کتنا بڑا نقصان کیاتھا انہوں نے… کاشی چپکے سے سرینا کے پاس آیا۔
’’ہیلو نیوسسٹر… مجھے بہت خوشی ہے کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔‘‘
’’اور مجھے بھی بہت خوشی ہے کہ تم میرے اپنے بھائی ہو…‘‘ وہ بھی بڑے پیار سے بولی۔ عرشی بھی مسکراتی ہوئی اس کے قریب آئی۔
’’ہیلو کزن…‘‘ سرینا نے اسے لپٹالیا۔
’’مجھے نہیں گلے لگایا آپ نے… میں تو بھائی ہوں آپ کا۔‘‘ کاشی نے شکوہ کیا تو اس نے اسے گلے سے لگالیا۔
شہریار نے بھی پاس آکر کہا۔’’ہیلو کزن… ویلکم ٹو دافیملی…‘‘ تو کاشی شرارت سے بولا۔
’’اب آپ میرے والا شکوہ مت دہرادیجیے گا شہریار بھائی…وہی گلے لگانے والا…‘‘ تو سرینا بری طرح جھینپ گئی۔ شہریار کے چہرے پہ بھی رنگ سا آگیا۔ زرمینہ بیگم اور نازنین اوپر جاچکی تھیں۔
’’پاپا… دادی جان… آج تو سیلبریٹ کرنے کی ضرورت ہے۔کیوں شہریار بھائی…؟‘‘
سرینا اختیار بیگ کے پاس کارپٹ پہ دوزانوبیٹھ گئی۔
’’پاپا…زرمینہ آنٹی اور نازنین کے دل دکھے ہوئے ہیں …پلیز آپ جائیے ناان کے پاس۔‘‘
اختیار بیگ نے بے حدپیار سے اس کاہاتھ تھام لیا۔
’’تم واقعی فارینہ کی بیٹی ہو… معاف کردینے والی… محبت کرنے والی…تم فکر نہ کرو… ابھی دونوں کو ہی تنہائی چاہیے ہے… میں انہیں سمجھادوں گا…اور تم دیکھ لینا ہم سب ایک اچھی فیملی کی طرح رہیں گے۔ تم یہ بتائو اسفند کب تک آرہا ہے…؟‘‘
’’ابھی تو دو ماہ باقی ہیںان کے آنے میں۔ اور میں آپ کو وارن کرتی ہوں پاپا… ان سے ڈیل کرنا آسان نہیں ہوگا آپ کے لیے … وہ ماما کے لاڈلے تھے اور انہیں آپ سے ہزاروں شکایات ہیں۔‘‘
’’تم کیوں فکر کرتی ہوبیٹا… میں قصور وار ہوں اس لیے اس کا غصہ سہنے کے لیے تیار ہوں۔ جس طرح مجھے نازنین کا غصہ سہنا ہے…زرمینہ کومطمئن کرنا ہے… اس طرح اس کو بھی کرلوں گا۔‘‘
/…/…/
سرینا کے دل میں زرمینہ کے لیے سافٹ کارنرپید اہوگیا تھا۔ اسے ان پہ ترس آتاتھا وہ ساری عمر نہ صرف اپنے شوہر کی محبت سے محروم رہی تھیں بلکہ ان خطوط کی وجہ سے ایک آگ میں جلتی رہی تھیں یہ الگ بات تھی کہ ان کی وجہ سے ہی وہ دونوں اپنے پاپا کی محبت سے محروم رہے تھے لیکن اس کی سزا انہوں نے ساری عمر بھگتی تھی اور اب توماما رہی نہیں تھیں او راس کے پاپا کو بھی اب خوشی چاہیے تھی ان کو بھی دکھ سکھ کی ساتھی کی ضرورت تھی… تاکہ وہ کم از کم باقی کی عمر تو سکون سے گزار سکیں۔ اس لیے سرینا نے ان کے ساتھ اپنا رویہ بہت اچھا کرلیاتھا… کبھی کبھی ان سے خود ہی گفتگو شروع کردیتی۔ ان کے بالوں کی ان کی خوب صورتی کی تعریف کردیتی… ان کی پسند اور ناپسند کے متعلق پوچھ لیتی۔
زرمینہ چونک جاتیں۔ اسے تو مجھ سے ناراض ہونا چاہیے کہ میری وجہ سے دونوں بہن بھائی اپنے باپ سے جدا رہے ہیں۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ سرینا فطرتاً محبت کرنے والی اور معاف کردینے والی لڑکی ہے۔ اگر وہ جانتیں تو شاید اتنا حیران نہ ہوتیں لیکن روز بروز سرینا کے یہ اوصاف کھل کر ان کے سامنے آرہے تھے۔ اور ان کی کدورت میں معمولی سی کمی آئی تھی۔ لیکن نزنین کی وجہ سے وہ اس سے بات کرتے ہوئے ڈرتی تھیں۔ کیونکہ جب سے نازنین کو معلوم ہوا کہ سرینا اختیار بیگ کی بیٹی ہے وہ اپنے خول میں سمٹ گئی تھی۔ زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہتی… اختیار بیگ نے بہت کوشش کی اسے اس حصار سے باہر لانے کی لیکن وہ تو اپنے پاپا سے شدید ناراض تھی لیکن وقت چونکہ ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے‘اس لیے وہ بھی اس صورت حال کی عادی ہوگئی تھی۔ وہ زبان سے تسلیم نہیں کرتی تھی لیکن دل سے اس نے تسلیم کرلیاتھا کہ اب سرینا کہیں نہیں جانے والی اسے اسی گھر میں رہنا ہے۔
اختیار بیگ نے جب سے زرمینہ بیگم کی طرف توجہ دینی شروع کی تھی‘ ان کی شخصیت بھی بدلنا شروع ہوگئی۔ اب ان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آتی تھی… اب ان کی آنکھوں نے شعلے برسانا چھوڑ دیاتھا۔ سرینا سے زیادہ بات تو نہیں کرتی تھیں لیکن جب بھی کرتیں نرمی سے ہی کرتیں… اب تو زرمینہ بیگم اور اختیار بیگ کے درمیان میاں بیوی والی چھوٹی چھوٹی نوک جھونک بھی ہوتی تھی۔ اکثر شام کو دونوں باہر بھی جاتے تھے… سرینا کے دل کوسکون سامل گیا… اس کے پاپا خوش تھے تووہ خوش تھی۔ ساری عمر ماما کو غمزدہ دیکھنے کے بعد وہ اب پاپا کو بھی اسی موڈ میں دیکھتے رہنا گوارا نہیں کرسکتی تھی۔
پھرایک روز بختیار بیگ رخشندہ کے ساتھ واپس آگئے۔ انہوں نے آتے ہی گھر کے ماحول میں حیرت انگیز تبدیلیاں دیکھیں… اور نئی سرپرائز سے دونوں کے چہرے خوشی سے چمکنے لگے۔ رخشندہ سرینا کودیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ اس کی شخصیت اور پیاری عادتیں دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئیں… لیکن ایک بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی تھی… کہ شہریارکو کیا ہوگیا تھا… وہ سنجیدہ اور خاموش کیوں ہو گیاتھا؟ انہوں نے بڑے پیار سے پاس بٹھا کر اس سے پوچھا بھی لیکن اس نے ان کو کسی چیز کی ہوا بھی نہ لگنے دی… و ہ مضطرب اور بے چین ہوگئیں… ہر وقت الگ تھلگ بیٹھ کرسوچوں میں گم رہنا… سب کے ساتھ ہنسی مذاق میں شامل نہ ہونا… کوئی بات تو تھی جو اسے اندر ہی اندر کھائے جارہی تھی … ایک دن یونہی جب سرینا نے سب سے ان کی پسند پوچھ کر اپنے ہاتھوں سے شاندار لنچ تیار کیا تھا… تو سب اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے۔ رخشندہ کو بھی سب چیزیں بہت پسند آئی تھیں۔ رخشندہ نے ازراہ مذاق سرینا کی طرف دیکھا۔
’’پتا نہیں وہ کون سا خوش قسمت گھر ہوگا جہاں میری بیٹی جاکر روشنی کرے گی۔‘‘ تو یونہی ان کی نظرشہریار پر پڑگئی… اس کے چہرے پہ سایہ سا لہراگیا… رخشندہ ٹھٹک گئیں۔
’’کیوں شہریار… اچھا کھانا پکایا ہے ناسرینا نے…؟‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے کہا اور اٹھ کر باہر نکل گیا۔رخشندہ نے بے اختیار سرینا کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پہ تاریک سائے تھے… اور آنکھیں نم تھیں… رخشندہ نے بے اختیار اپنا چمچہ پلیٹ میں رکھ دیا۔ ان کا دل دھک سے رہ گیا۔ تو یہ بات تھی… ان کابیٹا سرینا کی محبت میں گرفتار ہوگیاتھا۔ اور جانتاتھا کہ وہ اس کامقدر نہیں بن سکتی… کیونکہ اس کے مقدر کا ستارہ نازنین نے بننا تھا۔ ان کا دل کٹ کررہ گیا۔ تو کیا ان کابیٹا ساری عمر نامراد ہی رہے گا۔
/…/…/
سرینا بے قراری سے اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔ اسے شہریار کی دل گرفتہ اور سنجیدہ شکل دیکھ کر بے چینی ہو رہی تھی۔ کاش وہ اس کے لیے کچھ کرسکتی۔ وہ اس کے دل کی دھڑکن بن گیاتھا۔وہ بھی اس سے محبت کرنے لگی تھی۔ بلکہ وہ تو اس دن ہی اس سے متاثر ہوگئی تھی جب پہلی بار اسے دیکھا تھا۔ ان دنوں اسفند امریکہ جانے کی تیاریاں کررہاتھا۔ اوراسے کچھ کاغذات نہیں مل رہے تھے اس نے بڑی مشکل سے کاغذات ڈھونڈے اور ڈرائنگ روم کی طرف بھاگی۔
’’اسفند…اسفند… یہ لو مل گئے تمہارے کاغذات… ‘‘ وہ بھاگ کر اندر داخل ہوئی اور وہیں ٹھٹک گئی… اندر کوئی اجنبی صوفے پہ بیٹھا اسفند سے بات کررہاتھا۔
’’سوری…‘‘
’’او! کوئی بات نہیں سرینا… ‘‘ اسفند ہنس کر بولا۔ ’’ادھر آئو تمہارا تعارف کروائوں…یہ شہریار ہیں ہماری کمپنی کی لاہور والی برانچ میں کام کرتے ہیں۔ ان دنوں چند روزہ کانفرنس کے سلسلے میں ان سے ملاقات ہوئی تو پہلی ملاقات میں ہی دوستی ہوگئی۔شہریار…یہ میری جڑواں بہن سرینا ہے۔‘‘
شہریار ایک دم کھڑے ہوگئے… بلیک سوٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ اور گرے اینڈ گرین ٹائی میں کھڑے وہ انتہائی شاندار لگ رہے تھے …ان کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر ایک خاص چمک سی پیدا ہوئی۔ جس سے وہ بے اختیار جھینپ گئی۔
’’نائس ٹومیٹ یو… اینڈ آئی رئیلی مین اٹ…‘‘
’’آپ بیٹھیے‘ میں آپ کے لیے چائے کاانتظام کرتی ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے باہر نکل گئی…باہر آکر اپنی سانسوں کو ہموار کیا… دل تھا کہ دھڑک دھڑک کر دیوانہ ہو رہاتھا۔ وہ پہلی نظر میں ہی اس کے دل میں جگہ بنا گیاتھا… اور جب چائے کی ٹرالی لے کر وہ اندر داخل ہوئی تو اسفند کمرے میں نہیں تھا۔ اور وہ شیلف پر رکھی پاپا کی تصویر کے سامنے کھڑا محویت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ آہٹ پہ مڑا تو اس کی آنکھوں میں کنفیوز سے تاثرات تھے۔ وہ تصویر ہاتھ میں لے کرمڑا۔
’’کیا میں پوچھ سکتا ہوں یہ کس کی تصویر ہے؟‘‘ اس نے پوچھا اتنے میں اسفند بھی آگیااور وہیں کھڑا ہوگیا۔
’’یہ میرے پاپا کی تصویر ہے۔‘‘ وہ بڑ ے پیار سے بولی تووہ اور بھی حیران ہوا۔
’’کیانام ہے تمہارے پاپا کا…؟‘‘ وہ بے چین تھا جاننے کے لیے۔
’’اختیار بیگ نام ہے ان کا…آپ جانتے ہیں انہیں…؟‘‘ وہ امید بھری نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی اور شہریار ایک دم ایکسائیٹڈ ہوگیا۔
’’یہ میرے چچا ہیں… لیکن میں کچھ سمجھا نہیں… اگر آپ لوگ چچا کی اولاد ہیں …تو اس کامطلب ہے انہوں نے دوسری شادی کررکھی ہے۔‘‘
’’نہیں دوست… بدقسمتی سے وہ تمہارے چچا کی پہلی شادی تھی … جو انہوں نے کشمیر میں کی تھی اور…‘‘ اسفند کا لہجہ زہریلا ہوگیا…پھرشہریار کے اصرار پر ساری کہانی شہریار کو سنائی تووہ حیران رہ گئے۔
’’لیکن اسفند تمہارے امریکہ جانے کے بعد سرینا کہاں رہے گی؟‘‘
’’میرے ایک دوست کی فیملی کے ساتھ‘۔‘‘
شہریار نے چند لمحے کچھ سوچا۔
’’تمہارا وہ دوست میں نہیں ہوسکتا کیا؟ اس طرح سرینا اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہے گی۔‘‘
’’نہیں… کبھی نہیں…سرینا وہاں نہیں جائے گی۔‘‘ اسفند اٹل لہجے میں بولا۔
’’دیکھویار… پہلے اچھی طرح سوچ لو…‘‘ شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’جہاں تک چچا جان کومیں جانتا ہوں ‘ وہ اس قسم کے انسان نہیں ہیں کہ انہیں اپنے بچوں کی موجودگی کا علم ہو او روہ ان کو نظر انداز کریں ۔ان کا حق نہ دیں… بیچ میں کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ جووہیں پہ جاکر معلوم ہوسکتی ہے۔ یوں بھی سرینا کا حق ہے اس گھر پہ اتنا ہی حق ہے جتنا …میرایانازنین اور کاشف کاہے۔‘‘
پھرشہریار کو اسے کنوینس کرنے میں تین چار دن لگے او روہ اس شرط پہ مانا کہ جیسے ہی و واپس آئے گا سرینا کو فوراً واپس لے آئے گا۔ اور سرینا خوشی سے بے قابو ہو رہی تھی۔
لاہور آکر ہی اسے معلوم ہواتھا کہ جس شخص کے سامنے وہ پہلی ملاقات میں ہی دل ہار گئی تھی وہ تو کسی اور کا مقدر تھا…اور ان دونوں کے درمیان رشتہ بھی ایسا تھا کہ اسے محبت میں اور آگے بڑھنے کا کوئی حق نہ تھا۔ اسے تو ہرقدم بہت احتیاط سے رکھنا تھا۔ لیکن اس کی تمام احتیاطوں کے باوجود وہ زبردستی اندر گھستا چلا آیاتھا… اسے دل پہ تو اختیار ہی نہ رہاتھالیکن اس نے دل کے اس راز کو دل کے اندر ہی رکھا ہواتھا۔ نہ تو وہ شہریار کو بتانے کی جرأت کرسکتی تھی اور نہ ہی کسی اور کو۔ادھر شہریار کی سنجیدگی اور افسردگی دیکھ کر اس کا دل کڑھتاتھا۔ اور دوسرے شہریار کااسے اگنور کرنا اسے تکلیف دے رہا تھا۔ شہریار کومعلوم تو تھا کہ وہ کتنے نازک موڑ پر کھڑی ہے پھراسے اس سے شکوہ کیوں تھا… وہ تو اس کی مجبوریوں کو سمجھتاتھا… پھراپنے عمل سے اس کے دل کو تکلیف کیوں دے رہا تھا… اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
/…/…/
رخشندہ نے کتاب بختیاربیگ کے ہاتھ سے لے کر بیڈ پہ رکھی اور انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔
’’آپ نے دیکھا نہیں شہریار خاموش اورافسردہ رہنے لگا ہے؟‘‘
’’ہاں نوٹ تو کیا ہے میں نے… کیا کوئی خاص وجہ ہے؟‘‘
’’بڑی گڑبڑ ہو جائے گی بختیار… مجھے تو اس گھر کی فضائوں میں طوفان کے آثار نظر آرہے ہیں۔‘‘
’’کیوں بھئی… ‘‘وہ چونک گئے …’’ایسی کیا بات ہوگئی…؟‘‘
’’آپ کو علم ہے ناشہریار بچپن سے نازو سے منسوب ہے۔‘‘
’’ہاں سب کومعلوم ہے۔‘‘
’‘’لیکن شہریار شاید اس سے شادی نہ کرنا چاہے۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’سرینا کی وجہ سے… وہ سرینا سے محبت کرنے لگا ہے۔ اور مجھے تو لگتا ہے سرینا بھی۔‘‘
بختیار بیگ نے اپنی عینک اتار کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھی اور سنجیدگی سے رخشندہ کی طرف دیکھا۔
’’یہ توواقعی سیریس بات ہے۔‘‘
/…/…/
’’شہریار ہم سوچ رہے ہیں اب تمہاری شادی کردیں… تمہیں جاب شروع کیے بھی کافی دیر ہوگئی ہے اور خیر سے نازو نے بھی بی اے کرلیا ہے…‘‘ رخشندہ نے شہریار کے کمرے میں آکر ان سے بات کی تووہ پریشانی سے کھڑے ہوگئے‘ چہرہ ایک دم تاریک ہوگیا… رخشندہ کے دل پہ چوٹ سی پڑی ۔
’’اتنی جلدی کیا ہے امی… وہ بے چینی سے بولے… ان کی آنکھوں میں سرخ ڈورے شب بیداری کے غماز تھے۔
’’دیر کی بھی تو کوئی وجہ نہیں ہے۔اگر تم کہیں اور انٹرسٹڈ ہو تو بتادو…؟‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے امی… اگر ہوں بھی تو کیا کرلیں گی آپ… کیا چچا جان اور چچی جان کو ناراض کرسکتی ہیں؟‘‘
’’دیکھو بیٹا… تمہاری خوشی کے لیے میں کچھ بھی کرسکتی ہوں۔‘‘
’’ہاں… لیکن کیا فائدہ…؟وہ نہیں مانے گی۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے سرینا کو اعتراض ہے…‘‘ رخشندہ نے کہا تووہ حیران رہ گیا۔
’’آپ کو کیسے پتا ؟‘‘
’’بیٹا میں ماں ہوں تمہاری… اور آنکھیں کھلی رکھتی ہوں۔‘‘
’’مجھے چند دن کی مہلت دیں امی…میں آپ کو جلد بتادوں گا۔‘‘
/…/…/
سب لائونج میں بیٹھے اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے کہ فون کی گھنٹی بجی… فون اختیار بیگ کے صوفے کے پاس ٹیبل پہ تھا۔
’’ہیلو… ‘‘انہوں نے فون اٹھالیا۔
’’ہیلو… میں اسفند یار بول رہا ہوں۔ کیا آپ مہربانی سے سرینا سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ تیار رہے میں اسے پک کرنے آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں۔‘‘
’’اسفند…‘‘ بے اختیار ان کے منہ سے نکلا سب نے چونک کر انہیں دیکھا۔
’’جی…پلیز انہیں میراپیغام دے دیں… تھینک یو…‘‘ کہہ کر اس نے سلسلہ منقطع کردیا۔ اختیار بیگ ریسیور کو گھورتے رہ گئے۔ سرینا جلدی سے اٹھ کر ان کے پاس آئی اور دوزانو ہو کر قالین پہ بیٹھ گئی۔
’’پاپا اسفند کا فون تھا؟‘‘
’’ہاں… وہ کہہ رہاتھا وہ تمہیں لینے آرہا ہے۔ تم چلی جائوگی اس کے ساتھ…؟‘‘ وہ بے چینی سے بولے… تووہ کچھ بھی تو نہ کہہ سکی… اسے یہ علم نہ تھا کہ اسفند کس طرح ری ایکٹ کرے گا۔اس لیے سر جھکا لیا۔
’’آپ فکر کیوں کرتے ہیں چچا جان اسے آنے تو دیجیے۔ پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘
اور آدھے گھنٹے کے بعد وہ دروازے پہ موجود تھا۔ سب نے اشتیاق سے دیکھا… ڈارک برائون سوٹ میں ملبوس اپنے لمبے قد کے ساتھ پروقار انداز میں چلتا وہ اندر آیاتو اختیار بیگ کی سانس جیسے سینے میں اٹکنے لگی… وہ ان سے بہت زیادہ مشابہت رکھتاتھا… شہریار نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا۔
’’سرینا تم ریڈی ہونا…‘‘ اس نے سوال کیا تو اس نے گھبرا کر شہریار کی طرف دیکھا۔
’’یاراتنی جلدی کیا ہے… ذرا دم تو لو… کیا کچھ کھائے پیے بغیر ہی چلے جائوگے… تم ہماری مہمان نوازی پہ داغ لگانا چاہتے ہو…اورابھی تو تمہارا تعارف بھی نہیں ہوا کسی سے۔‘‘
’’سوری شہریار… میرے لیے ایک ایک لمحہ بھاری ہے اس گھر میں …میں کسی سے ملنا نہیں چاہتا… ‘‘اسفند نے اتنا کہا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا۔
’’کیا اپنے باپ سے بھی نہیں ملوگے…؟ ‘ ‘ اسفند یار پتھر کابت بن گیا… بہت آہستہ آہستہ گھوم کر وہ ان کی طرف مڑا اور چند لمحے آنکھوں میں اضطراب اور تاسف لیے ان کی طرف دیکھتا رہا۔
’’آپ سے تو ضرور ملنا چاہوں گا سر اختیار بیگ…‘‘ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔ ’’کیونکہ میں اس شخص کو دیکھنا چاہتاتھا جس نے میری ماں جیسی باوفا اور فرشتوں کی مانند پاکیزہ عورت کا دل چور چور کردیا اور پھر اس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ پلٹ کر دیکھتا کہ ٹوٹے ہوئے شیشوں کے اس ڈھیر نے اس کی روح تک کو کیسے زخمی کیا…اس میں اتنی جرأت نہ تھی کہ اپنے دونوں بچوں کے سرپہ ہاتھ رکھ کر ان کا حق ان کودے سکتا… آپ تو دیکھنے لائق چیز ہیں… آپ کو دیکھے بغیر میں کیسے جاسکتا ہوں… لیکن اب یہ بھی دیکھ لیا ہے… اس لیے چلتاہوں… چلو سرینا۔‘‘
شہریار نے اسے کندھوں سے پکڑ کر روک لیا…
’’پلیز اسفند… میں مانتا ہوں تم بہت غصے میں ہو…لیکن چند گھنٹے یہاں رک جانے سے تمہیں تو شاید کوئی فرق نہ پڑے… لیکن یہ سب لوگ جو بڑے اشتیاق سے تم سے ملنے کے منتظر ہیں ان کا دل ٹوٹ جائے گا۔‘‘ اسفند نے بے اختیار سب کی طرف دیکھا۔
’’یہ میری امی اور باباجان ہیں… یعنی تمہارے تایا جان… یہ ادھر میری بہن عرشی ہے … اور یہ دونوں تمہارے بہن بھائی ہیں کاشی اور نازنین…‘‘ کاشی بے اختیار اس کے گلے لگ گیا۔
’’مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی بھائی جان…آئی ہوپ کہ آپ کامیتھ بھی سرینا باجی کی طرح بہت اچھا ہوگا… اور ٹینس میں آپ بھی مجھے اسی طرح ہراسکیں گے‘ کیونکہ ہم دونوں بہن بھائیوں کا میتھ اور ٹینس دونوں صفر ہیں۔‘‘
اسفند کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی۔ کاشی کو دیکھ کرا س کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی۔ تایا جان اور تائی جان نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا… سب ہی اس کی شخصیت سے مرعوب نظر آرہے تھے… سب سے مل کر وہ پھر سرینا کی طرف مڑا تو سرینا اس کے قریب آئی اور اس کاہاتھ تھام لیا اوراس کی آنکھوں میں منت بھرے انداز سے دیکھ کر بولی۔
’’پلیز اسفی… میری خاطر تھوڑی دیر تو رکو…‘‘
جانے کیوں ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر شہریار کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھرگئی… دونوں بہن بھائی بہت خوب صورت تصور پیش کرتے تھے… اختیار بیگ نے حسرت سے ان دونوں کی طرف دیکھا… انہوں نے کتنا قیمتی وقت گنوایاتھا۔
’’دیکھو سرینا…میں نے تمہیں اس وعدے پہ چھوڑا تھا کہ واپسی پہ تم فوراً میرے ساتھ چلوگی…اب تم ٹال مٹول سے کام لے رہی ہو‘ اور مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے… میں اس گھر میں ایک منٹ بھی رکنا نہیں چاہتا… ماما کی روح کو ہمیں یہاں دیکھ کر کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی… جس گھر میں ان کے لیے جگہ نہ تھی وہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
’’لیکن پاپا کا کیا ہوگا… میں پاپا کو نہیں چھوڑنا چاہتی… اور تم یہ غلط کہہ رہے ہو…ماما کی روح آج بہت خوش ہوگی کہ ہمارا جس گھر میں پلنے کا حق تھا ہم وہاں پہنچ گئے ہیں۔‘‘
’’سرینا… میں یہاں نہیں رکوں گا…‘‘ اسفند فیصلہ کن انداز میں بولے تو سرینا نے بے بسی سے پاپا کی طرف دیکھا۔
’’یہ تمہارا گھر ہے… تم میرے پوتے ہو…اور تم یہاں سے کہیں نہیں جائوگے… یہ میرا حکم ہے اسفند…‘‘ اسفند نے بے اختیار مڑ کر دیکھا… وہیل چیئر پہ سفید بالوں‘ سفید لباس اور سفید نرم چہرے کے ساتھ دادی جان کوئی آسمانی مخلوق معلوم ہو رہی تھیں… وہ دھیرے دھیرے ان کی طرف کھنچتا چلا گیا اورپھر بے اختیار دوزانو ہو کر پاس بیٹھ گیا۔جانے کیوں انہیں دیکھ کر اس کا دل پگھل رہاتھا۔ اور آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔
’’تم اپنی دادی سے ملے بغیر ہی جارہے تھے…بڑے افسوس کی بات ہے… میری بہو نے تمہیں یہ تو نہیں سکھایا ہوگا؟‘‘
’’نہیں دادی جان…وہ ایسا سبق کیسے سکھا سکتی ہیں… اور میں آ پ کے بارے میں تو جانتا ہی نہیں تھا۔‘‘ اس نے ان کا ہاتھ پکڑ کرآنکھوں سے لگایا تو سب کی آنکھیں نم ہوگئیں… سرینا بھی قریب آکر دوزانو ہوگئی۔
’’میںنے آپ سے کہا تھانا دادی جان…میرے بھائی جیسا اور کوئی نہیں ہے۔‘‘
’’یہ آپ مجھ سے بے وفائی کررہی ہیں سرینا باجی…‘‘ کاشی شرارت سے بولا…’’کون ہے جو مجھ سے مقابلہ کرسکے…؟‘‘
سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
’’پھر تم رک رہے ہو‘نا…؟‘‘ دادی جان نے کہا تو اسفند کے چہرے پہ سایہ سا لہرا گیا۔ اس کی نظر اختیار بیگ پہ پڑی تبھی زرمینہ بیگم اس کے قریب آگئیں۔
’’تمہیں تمہارے پاپا سے دور رکھنے میں ساراقصور میرا ہے اسفند۔ اس میں تمہارے پاپا کاتو کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ تم دونوں کے بارے میں جانتے تک نہیں تھے… میں تمہاری مجرم ہوں… سزا کی حق دار بھی میںہی ہوں۔‘‘
انہوںنے خطوط کے بارے میں ساری تفصیل اس کو سنائی تو وہ بہت زیاد بے چین ہوگیا۔
’’پاپا نے جس بری طرح سے ماما کا دل توڑا… وہ بھلانا میرے لیے بہت مشکل ہے۔ میں جب بھی اس بارے میں سوچتا ہوں میرے دل میں غصے سے ابال اٹھتے ہیں… یہ قسمت کی کتنی ستم ظریفی ہے کہ اگر عورت کسی وجہ سے مرد سے طلاق لینا چاہے تو ہزاروں دلیلیں اس کے خلاف دینے کے لیے ہزاروں لوگ ہوتے ہیں یہاں تک کہتے ہیں کہ خدا کے نزدیک طلاق کا فعل سب سے زیادہ ناپسندیدہ فعل ہے لیکن جب مرد اپنی خود ساختہ وجوہات کی بناء پر عورت کو طلاق دینا چاہتا ہے تو تب کوئی اس طرح نہیں سوچتا… مرد تو تین حرف کہنے میں تین سیکنڈ بھی نہیں لگاتے…یہ کہاں کاانصاف ہے…؟‘‘
کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا… سب کے سر جھکے ہوئے تھے۔ محفل کی فضا بوجھل ہوگئی تھی…اسفند یارنے سب کی طرف دیکھا…
’’ٹھیک ہے میں چند دن یہاں ٹھہرنے کو تیار ہوں۔‘‘
سب کے چہروں پہ خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
/…/…/
شہریار نے سرینا سے بات کی تھی۔ اپنا دل او راپنے دل کے جذبات بھی اس کے سامنے رکھے تھے لیکن سرینا نے بھیگی آنکھوں سے اسے ایک ہی جواب دیا تھا… ’’میں اگر ایسا چاہوں بھی تو نہیں کرسکتی شہریار… نازو بچپن سے آپ سے منسوب ہے اس نے آپ کے حوالے سے ہزاروں خواب دیکھے ہوں گے… میں کیسے وہ خواب اس کی آنکھوں سے نوچ لوں… میں کیسے اس خاندان کو ایک بارپھرغم سے ہمکنار کردوں… انہوں نے کتنی مشکل سے مجھے قبول کیا ہے… پھر نازو میری بہن ہے… میں اس کا دل توڑ کر اس کی جگہ لینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔‘‘
’’اس کامطلب ہے تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں ہے…؟‘‘ ان کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہاتھا۔
’’میرے دل میں آپ کی جگہ …؟‘‘ وہ پھیکی سی ہنسی کے ساتھ بولی۔ ’’آپ کی میرے دل میں جو جگہ ہے وہ کسی اور کی نہیں ہوسکتی شہریار اور نہ ہی ہوگی… اس کے باوجود آپ نازو کامقدر ہی بنیں گے… کیونکہ وہ آپ سے بہت محبت کرتی ہے…‘‘ شہریار نے سکون سے اس کی طرف دیکھا۔
’’اگر وہ اس کی قسمت میں نہیں تو نہ سہی ان کے لیے زندگی گزارنے کے لیے یہ احساس ہی کافی ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتی ہے۔‘‘
پھر دونوں طرف شادی کی تیاریاں زوروشور سے شروع ہوگئیں۔ دادی جان نے اسفند کو بھی زبردستی روک لیا تھا۔ وہ دو دن کے لیے ملتان گئے اور کمپنی میں حاضری دے کر چھٹیاں لے کر آگئے۔ نازنین یکسر بدل گئی تھی ‘ اب اس کی ناک پہ ہر وقت غصہ نہیں دھرا رہتاتھا۔ بہت آرام سے بات کرتی‘ بڑوں کے ساتھ بھی تمیز سے بات کرتی‘ کبھی کبھی سرینا اور اسفند کو مخاطب کرکے بھی کوئی بات کرلیتی… اس روز وہ پہلی بار اس کے کمرے میں آئی تو سرینا حیران رہ گئی۔
’’چلومیرے ساتھ شاپنگ کے لیے… سارا دن کمرے میں گھسی رہتی ہو… تمہیں پتا نہیں تمہاری بہن کی شادی ہے۔ اور تمہیں تیاریوں میں حصہ لینا ہے۔‘‘ وہ خوشگوار حیرت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اصل میں مجھے اپنی پسند پہ اعتبار نہیں ہے… سوچا تم مشورہ دوگی تو اچھی خریداری ہوگی۔‘‘
وہ کسی معمول کی طرح اس کے ساتھ چل پڑی۔ اس دن انہوں نے ڈھیر ساری شاپنگ کی… پھر دونوں زری کے کام کے لیے بڑی سی دکان پہ گئے… تو نازنین نے اس کا ناپ بھی دلوایا۔
’’تمہارے تینوں دن کے جوڑے میں خود بنوارہی ہوں اور تمہیں کسی پہ اعتراض نہیں کرنا۔‘‘
وہ خاموش بیٹھی رہی… مہندی کے جوڑے پہ وہ خاموش رہی لیکن شادی کے دن والے سوٹ پہ وہ بے اختیار بول اٹھی۔
’’یہ کیسے پہنوں گی نازو… اتنا برائٹ لہنگااور پھراتنا کام…؟‘‘
’’چپ بیٹھی رہو… تم دلہن کی بہن ہو… تمہارا جوڑا بہت اچھا ہونا چاہیے۔‘‘
اور وہ خاموش ہوگئی… اتنی مشکل سے تو نازنین راستے پہ آئی تھی اس لیے اسے ناراض کرنے کی ہمت وہ نہ کرسکی۔
اسی عرصے میں شہریار نے اسفند اور اختیار بیگ کے درمیان جمی برف کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی‘ بختیار بیگ نے بھی بھتیجے سے بے پناہ پیار کااظہار کیا… اور پھر اختیار بیگ نے بھی پوری کوشش کی کہ بیٹے کے دل کا میل دور کرسکیں… وہ اسے اپنے آفس لے گئے اور اسے اپنی کرسی پہ بٹھادیا… سارے اسٹاف سے اپنے بیٹے کی حیثیت سے اس کا تعارف کروایا اور ایسا کرتے ہوئے ان کے چہرے پہ جو فخر تھاوہ اسفند سے پوشیدہ نہ رہ سکا۔ اس کا دل تھوڑاتھوڑا پگھلنے لگا۔
دادی جان کا دل اسے ایک لمحہ بھی اپنی نظروں سے دور کرنے کو نہیں چاہتاتھا اور اصل میں اسفند کے رکنے کی بڑی وجہ بھی مہرالنساء بیگم تھیں۔ وہ اپنی دادی جان کا پہلی نظر میں ہی گرویدہ ہوگیا تھا۔
مہندی والے دن زرد جوڑے میں سرینا بہت اچھی لگ رہی تھی… نازنین نے اورنج اور ریڈ امتزاج والے ڈریس کو منتخب کیاتھا… سرینا نے اسے خود سجایا تھا ۔ ان آنسوئوں کو اس نے پیچھے ہی روک کر ہونٹوں پہ مسکراہٹیں سجائی تھیں… نازنین کی نظر سارا وقت اس کے چہرے پہ رہی تھی۔ جو ضبط گریہ سے کندن کی طرح دمک رہاتھا۔
جب نازنین اور شہریار ساتھ ساتھ بیٹھے تو سرینا کا دل دھڑکنے لگا۔
کاشی شرارت سے بولا۔ ’’سرینا باجی اصل میں پیلا جوڑا تو آپ نے پہنا ہے‘ لگتا ہے نازنین باجی کی نہیں آپ کی مہندی ہے…‘‘ وہ خفت سے جھینپ گئی۔ نازو نے گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھااور پھر شہریار کی طرف گردن موڑی… اس کا چہرہ تاریک ہو رہاتھا۔
اس نے بڑی مشکل سے کانپتے ہاتھوں سے شہریار اور نازو کو مہندی لگائی۔رات کو فنکشن ختم ہوا تو بزرگوں کی اگلے دن کے فنکشن کے لیے لمبی میٹنگ ہوئی۔
اگلے دن دلہن تیار کرنے کے لیے ماہر خاتون کو گھر ہی بلایا گیا۔ اس نے نازنین کو تیار کردیاتو نازنین نے اسے بھی آگے کردیا… وہ بہت زیادہ گھبرائی بہت انکار کیا لیکن نازنین کے آگے اس کی ایک نہ چلی… وہ آئینے میں اپنی صورت دیکھ کر حیران رہ گئی۔
’’میں اس طرح نیچے نہیں جائوں گی نازو… مجھے شرم آتی ہے …پاپا کیا کہیں گے اور اسفند کیا سوچے گا؟‘‘
’’کوئی کچھ نہیں کہے گا…تم تو پاگل ہو… شادی بیاہ کے موقعوں پہ سبھی میک اپ کرتے ہیں۔‘‘
باہر خوب صورت لائٹوں اور دیدہ زیب آرائش کے ساتھ لان میں اسٹیج کااہتمام کیا گیا تھا لیکن نکاح اندر لائونج میں ہی ہوناتھا۔ اس کے صوفے کو بہت خوب صورت کپڑے اور پھولوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ شہریار کو بٹھادیاگیاتھا۔ وہ آف وائٹ شیروانی اور سرپہ خوب صورت کلاہ پہنے بہت ہینڈسم لگ رہاتھا… سب ان کاانتظار کررہے تھے… لیکن سرینا اس طرح نیچے جانے پہ راضی نہ ہو رہی تھی۔
’’تو تم مجھے نیچے نہیں لے کرجائوگی سرینا… میں اکیلی جائوں… اکیلی جاتی اچھی لگوں گی…؟‘‘ بادل نخواستہ وہ اسے ساتھ لے کر سیڑھیوں کی طرف آئی تو سب کی نظریں اوپر اٹھ گئیں۔ سرینا کا دم نکلنے لگا‘ یوں لگ رہاتھا وہ سیڑھیوں سے گرجائے گی… بڑی مشکل سے وہ اسے لے کر نیچے آئی… اور ایک صوفے کی طرف لائی… نازنین نے اسے بھی ساتھ ہی بٹھالیا… اور دوپٹہ سر سے اتار کر کندھے پہ سجا کربیٹھ گئی۔
’’یہ کیا کررہی ہو…دوپٹہ سر پہ ہی رکھو نازو… سب کیا کہیں گے…؟‘‘
’’کہنے دو…آج کل یہی رواج ہے… اس طرح تصویریں اچھی آتی ہیں۔‘‘ وہ گھبرا کر سب کی طرف دیکھنے لگی… شہریار کی نظریں مسلسل اس کے چہرے پہ تھیں جس کی وجہ سے اسے اور بھی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ تبھی مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کردیا۔
’’مسٹر شہریار ولد بختیار بیگ کیا تمہیں سرینا ولد اختیار بیگ سے …‘‘
سرجھکائے ہوئے سرینا نے چونک کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور پھر نارنین کے چہرے کی طرف…نازنین نے شرارت سے مسکراتے ہوئے دوپٹہ اس کے سرپہ اوڑھا کر گھونگٹ نکال دیا… اس نے غصے سے دوپٹہ اتار کر شہریار کی طرف دیکھا… وہ بھی حیران نظروں سے مولوی صاحب کی طرف دیکھ رہاتھا… سرینا نے ششدر ہو کر باقی سب چہروں پہ نظر دوڑائی… سب کے چہروں پہ مسکراہٹ تھی۔
’’مولوی صاحب آپ کو شاید غلطی…‘‘
’’میاں صاحبزادے… ‘‘مولوی صاحب ہنسے …’’مجھے تو یہی دونوں نام دیئے گئے ہیں… غلطی شاید آپ کے بزرگوں کو لگی ہو…ان سے پوچھو…‘‘
’’باباجان… یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’یہ تو تم بعد میں پوچھنا… پہلے مولوی صاحب کو جواب دو قبول ہے یانہیں۔‘‘
’’لیکن باباجان…‘‘ اس نے گھبرا کر سرینا کی طرف دیکھا… جو لگتاتھا بے ہوش ہونے والی ہو… اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں… رخشندہ اسے اٹھا کر دادی ماں کے کمرے میں لے آئیں… مولوی صاحب کے سامنے تماشا نہیں بنایاجاسکتا تھا۔سب پیچھے پیچھے اندر آگئے…اندر آتے ہی سرینا کھڑی ہوگئی۔
’’ایسا نہیں ہوسکتا پاپا… میں نازو کے حق پہ ڈاکا نہیں ڈال سکتی… میں ایسا نہیں کرسکتی۔‘‘
’’تم کون سے حق کی بات کررہی ہو سرینا… ‘‘ نازو ایک دم تن کر کھڑی ہوگئی۔’’شہریار مجھ سے محبت نہیں کرتا اور میں ایک ایسے شخص کی بیوی بننا پسند نہیں کرتی جو مجھ سے محبت نہ کرے… جس کے دل میں کوئی اور بستاہو… میرا ظرف اتنا بڑا نہیں ہے کہ میں ساری زندگی محبت کی بھیک مانگتے گزار دوں یہ جانتے ہوئے بھی کہ میری جھولی ہمیشہ خالی رہے گی۔ میں ماما اور پاپا کی تاریخ نہیں دہرانا چاہتی… اس ساتھی کا ساتھ بہت کربناک ہوتا ہے جس سے آپ کو چاہت نہ ملے…اور میری انا یہ گوارا نہیں کرتی… کبھی نہیں کرے گی… میں اپنی عزت نفس قربان نہیں کرسکتی… تم اگر شہریار سے شادی نہیں کروگی توپھر بھی میں اس سے شادی نہیں کروں گی۔‘‘
’’لیکن نازو کیاتمہیں ذرا بھی تکلیف نہیں ہو رہی… اور پھر یہ رشتہ برسوں پہلے بزرگوں نے طے کیا تھا۔‘‘
’’بزرگوں نے طے ضرور کیا تھا‘ لیکن کیاطے کیا تھا ذرا یہ بزرگوں سے بھی تو پوچھو…؟‘‘ سرینا نے اپنی گھبرائی نظروں سے بزرگوں کی طرف دیکھا۔
’’بیٹا ہم نے یہ طے کیا تھا کہ شہریار کی شادی اختیار بیگ کی پہلی بیٹی سے ہوگی اور اس کی پہلی بیٹی کون ہے…تم ہی تو ہو…‘‘ سرینا کاچہر ایک دم گلابی ہوگیا۔ اختیار بیگ نے بے اختیار نازنین کو گلے سے لگالیا۔
’’مجھے تم پہ فخر ہے کہ تم میری بیٹی ہو۔‘‘ ان کے چہرے پہ آسودہ مسکراہٹ تھی۔
’’میں سرینا سے اکیلے میںبات کرنا چاہتا ہوں…‘‘ شہریار نے سنجیدگی سے کہا تو سرینا کے چہرے کارنگ اڑ گیا۔
اسفند کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھر گئی۔ رات بزرگوں نے نازنین کے کہنے پہ یہی تو طے کیاتھا اور اختیار بیگ نے خاص طور پہ اسفند یار سے اجازت طلب کی تھی… جس نے اسفند کے دل کو جیت لیا تھا۔
کمرہ خالی ہوا تو شہریار اس کے قریب آگیا… سرینا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی طرف دیکھا…وہ آخر اتنا سنجیدہ…اوراتنے غصے میں کیوں تھا؟
’’مجھے معلوم ہے سرینا… تم اس رشتے کو قبول نہیں کرنا چاہتیں…اس لیے تمہیں مروت میں آکر اپنی قربانی نہیں دینی چاہیے۔ تم فکر نہ کرو… میں خود چچا جان سے انکار کردوں گا۔‘‘
سرینا کی ٹانگوں سے جان ہی نکل گئی اس نے خوفزدہ نظروں سے شہریار کی طرف دیکھا… شہریار باہرکی طرف بڑھنے لگے تو سرینا بے اختیار ان کے پیچھے لپکی۔
’’شہریار…‘‘ اس نے جلدی سے ان کابازو پکڑلیا…‘‘کس نے کہا مجھے یہ رشتہ قبول نہیں ہے؟‘‘
’’میں جانتا ہوں… تم دل سے راضی نہیںہو۔‘‘
’’آپ کو کیسے پتا…؟ آپ جانتے کیا ہیں میرے بارے میں…؟‘‘
شہریار مڑے او راس کی آنکھوں میں براہ راست دیکھا۔
’’اتنا تو جانتا ہوں کہ مجھے پہلی بار دیکھنے کے بعد ہی اپنا دل ہار بیٹھی تھیں… ‘‘ وہ ایک دم شرماگئی۔
’’اب ایسی بھی کوئی بات نہیں… پہلی بار دیکھنے کے بعد تو نہیں…‘‘
’’پھر کب…؟‘‘
’’جب میں آپ کو بٹھا کر چائے لے کر آئی تھی تب۔‘‘ وہ شرارت سے بولی۔تووہ قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔ اور پھر سنجیدگی سے بولا۔
’’لیکن میں تو تبھی تم سے متاثر ہوگیاتھا جب تم اسفند کو پکارتی ہوئی اندر آئی تھیں اور میری نظر اس پیارے چہرے پہ پڑی تھی۔ میں نظریں ہٹانا بھول گیاتھا۔‘‘
’’اب آپ جائیے پلیز…سب کیا سوچ رہے ہوں گے۔‘‘ شہریار کوئی جواب دینا چاہتاتھا لیکن پھر اسے دیکھتا ہوا باہر نکل گیا… دل کی حکایتیں سنانے کے لیے وقت جلدی آنے والاتھا۔ اس کے باہر نکلتے ہی سب ہنستے ہوئے اندرداخل ہوگئے۔
/…/…/
’’پاپا میری ایک خواہش ہے…؟‘‘ سرینا اختیار بیگ کے قریب کارپٹ پہ بیٹھ کر ان کے گھٹنوں پہ پیار سے ٹھوڑی رکھ کر بولی تو اختیار بیگ اس پہ نثار ہوگئے۔شہریار مسکرایا اور اسفند حیران ہوا۔
’’اینی تھنگ مائی ڈارلنگ۔‘‘
’’میں چاہتی ہوں شادی سے پہلے آپ کوماما کی قبر پہ لے کرجائوں… تاکہ ان کی روح کو کچھ سکون ملے… اس طرح میرا دل بھی مطمئن ہوجائے گا۔ مجھے بھی سکون ملے گا… یہ میری بہت بڑی خواہش تھی۔‘‘
اختیار بیگ کے چہرے پہ سایہ سالہراگیا۔ بہت بڑا امتحان ہوگا یہ ان کے لیے۔ وہ قبر میں سوچکی تھی ہمیشہ کے لیے‘ لیکن وہ اس کی قبر کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہیں پاتے تھے۔ کس منہ سے وہ وہاں جائیں گے‘ کیسے مٹی کی اس ڈھیری کو دیکھیں گے جس کے اندر ان کی زندگی کا حاصل سب سے قیمتی ہیرا دفن تھا۔ اس سے کیا کہیں گے… وہ اپنی سوچوں میں گم تھے… اسفند انہیں خاموش دیکھ کر بے چین ہوگیا۔ سب کی نظریں ان پہ جمی تھیں ۔ اس سے پُہلے کہ اسفند کوئی سخت بات کہتا وہ دکھی لہجے میں بولے۔
’’کیوں نہیں… تم دونوں کی ہرخواہش پوری کرنا میرا فرض ہے… اور یہ خواہش‘ اس سے تو میری زندگی کی ڈور بندھی ہے‘ مجھے وہاں جانا ہے‘ ضرور جانا ہے‘ اس سے معافی مانگنی ہے اور اس کے ہر اذیت ناک لمحے کا حساب دینا ہے۔‘‘
’’ہم سب جائیں گے۔دادی جان بھی۔‘‘
اور جب وہ سب وہاں پہنچے تو اختیا بیگ کے قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔ دل کادرد ان کی آنکھوں سے ظاہر تھا… وہ ٹکٹکی باندھ کرمٹی کی اس ڈھیری کو دیکھ رہے تھے جس کے چاروں طرف زرد گلاب کے پودے لگے تھے اور کتبے پہ فارینہ اختیار بڑے خوب صورت حروف میں چمک رہاتھا۔
’’زرد گلاب…‘‘ انہوں نے زیر لب دہرایا تو دل بھر بھر آرہاتھا۔
’’ہاں ماما نے وصیت کی تھی کہ ان کی قبر کے گرد زرد گلاب کے پودے لگائے جائیں کیونکہ آپ کو زرد گلاب بہت پسند تھے۔ یوں انہیں آپ کی موجودگی کااحساس رہے گا۔‘‘
’’اوہ فارینہ…‘‘ وہ بے اختیار روپڑے۔ ’’تم وفا کی دیوی او ر …اور میں‘میں کیا ہوں۔‘‘ انہوں نے غم کی انتہائوں کو چھوتے ہوئے سب کی طرف دیکھا۔
’’پلیز مجھے تھوڑی دیر یہاں تنہا چھوڑ دیاجائے۔‘‘سب وہاں سے ہٹ گئے۔
اختیار بیگ دو زانو ہو کر قبر کے پاس بیٹھ گئے اور اشکوں کے بے بہا موتی قبر کی مٹی میں جذب ہونے لگے۔
’’فارینہ… میں بہت برا ہوں‘ میںنے تمہارے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ میں نے تمہارا پھولوں جیسا دل توڑا… اور بے دردی سے توڑا… ایسے توڑاکہ پھر وہ کبھی جڑ نہ سکا‘ تم ٹوٹا دل لیے اپنے فرائض پورے کرتی رہیں… میرے ساتھ پھر بھی برا نہیں کیا… میری سنگدلی کے بدلے مجھے دوہیرے تحفے میں دیے… تم ٹھیک کہتی تھیں‘ شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں۔ ٹوٹے شیشے اور ٹوٹے دل کوئی نہیں جوڑ سکتا۔ تم کیا جانو دل میرا بھی ٹوٹا تھا ‘ ٹکڑے ٹکڑے ہواتھا… وہ بھی آج تک نہیں جڑسکا… اس لیے کہ شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں ہے۔ میرے اردگرد ہزاروں لوگ ہیں‘ میری بیوی ہے‘ میرے بچے ہیں‘ لیکن میرا دل جڑ نہ سکا اسے سکون نہ آسکا۔ اب سکون آیا ہے تو تمہارے ہی دل کے ٹکڑوں سے۔ سرینا اور اسفند… جومیرے اور تمہارے مشترکہ ٹکڑے ہیں۔ انہوں نے ہی میری شخصیت کو جوڑا ہے‘ کیونکہ ان میں تمہارا عکس ہے۔ اور میرے دل کے ٹکڑے …میں کیا کہوں ان کے بارے میں… ہر ٹکڑے پہ آج بھی تمہارا نام لکھا ہے۔
تمہاری عزت کا موتی ہمیشہ آب وتاب سے میرے دل میں چمکتا رہے گا۔ میرے اور تمہارے بچوں کو اس کی روشنی راستہ دکھاتی رہے گی۔ مجھے جینے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔پلیز مجھے معاف کردینا… مجھے معاف کردینا… میں باقی زندگی پچھتاوے میں ہی گزاروں گا۔‘‘
وہ پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رو دیے… تبھی ان کے کندھے پہ کسی نے ہاتھ رکھ دیا …وہ دھیرے سے پلٹے… اور حیران رہ گئے‘ وہاں کوئی نہیں تھا… لیکن ہاتھ کا لمس ابھی بھی باقی تھا۔ انہوں نے بے اختیار کندھے پہ ہاتھ رکھا‘ لمس محسوس ہو رہا تھالیکن وہاں ہاتھ نہیں تھا… فارینہ ان کی حالت پہ بے چین تھی‘ اس کی روح ان کے آس پاس ہی منڈلارہی تھی۔
’’شکریہ فارینہ… شکریہ میری جان مجھے معاف کردینے کا شکریہ۔مجھے اپنی موجودگی کااحساس دلانے کا شکریہ۔ تم واقعی انمول ہو‘ تمہاری محبت نایاب ہے اور میں ہمیشہ تمہیںیاد رکھوں گا‘ تم ہمیشہ اس دل کی مکین رہوگی۔‘‘
پھروہ لمس ختم ہوگیا‘ دونوں کو ہی قرار آگیا تھا۔ اور جب وہ سب کے پاس واپس آئے تو سب نے ہی دیکھا کہ ان کے چہرے پہ بے تحاشا سکون اور الوہی چمک تھی۔ انہوں نے سوچ لیا تھاکہ وہ کثرت سے قبر پہ آیا کریں گے اور فارینہ سے باتیں کیا کریں گے‘ اتنا تو ان کاحق بنتا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close