Hijaab Sep-16

آغوش مادرا

حرا قریشی/جویریہ وسیم

ماں کے حوالے سے خیالات
حرا قریشی
انتہائی عقیدت‘ انتہائی محبت‘ انتہائی چاہت کے ساتھ آج ایک لفظ ’’ماں‘‘ کا مفہوم مجھ پر واضح ہوا ہے۔ اس ایک لفظ میں اس قدر لذت کا شیرہ ہے کہ میرے الفاظ اپنی مٹھاس سے مجروح ہو ہی نہیں سکتے۔ مجھ سے جو کوئی پوچھے‘ کون ہے یہ ہستی؟ تو میں قلم پکڑے بس اس ایک سوال کا ہی جواب لکھتی رہوں کہ اس لفظ میں چھپی اچھائی بذات خود فضیلت ہے کہ جس کو گر حروف تہجی کے مداروں میں بانٹ کر لکھوں تو مطالب کچھ یوں ہوجائیں۔
الف سے ارم کا روپ‘ ب سے بارانِ رحمت‘ پ سے پارا (بوجھل‘ رقیق‘ بے قرار)‘ ت سے تبسم گل‘ ٹ سے ٹیکنیشین (ہر ہنر میں ماہر)‘ ث سے ثمر (محبتوں کا)‘ ج سے جفاکش ‘ چ سے چراغ‘ ح سے حبّ‘ خ سے خارا شگاف (باسبب تاثیر دعا کے)‘ د سے دمیدگی(خوشبو کا پھیلنا)‘ ڈ سے ڈھارس‘ ذی سے ذی شان‘ ر سے راحتِ جاں‘ ڑ سے پہاڑ (جرأتوں کا)‘ ز سے زربغت (کمخواب)‘ ژ سے ژرف نگاہ (گہری نظر والی)‘ س سے سادہ‘ ش سے شجر سایہ دار‘ ص سے صراح (خالص شے)‘ ض سے ضابطہ (حفاظت میں رکھنے والی)‘ ط سے طاب (خوشبودار‘ پاک)‘ ظ سے ظل (سایہ)‘ ع سے عجز و انکساری کا پرتو‘ غ سے غنی‘ ف سے فلاح‘ ق سے قدسی‘ ک سے کائنات‘ گ سے گرگ باراں دیدہ (تجربہ کار)‘ ل سے لمحہ (روشنی)‘ م سے ماہِ کامل (پورا چاند)‘ ن سے ناصح‘ و سے واجب التعظیم‘ ہ سے ہیت گلاب کی‘ ے سے یار بارش (ملنسار)۔
میں ہنوز محسوس کرتی ہوں گزشتہ کئی برسوں اور سالوں سے ’’ماں‘‘ کے حوالے سے خیالات اور محسوسات کو بیان کرنے کی کوئی حد ہوسکتی ہے۔ جواب آتا ’’نہیں‘‘ پھر ’’کیوں‘‘ بھی اپنا مقدمہ لیے کھڑا ہوجاتا ہے کہ اس کا ثبوت بھی فراہم کرو تو جواز حاضر ہے۔ اس بات کو ماننے میں مجھے قطعی کوئی قباحت نہیں‘ کوئی نقطہ گراں نہیں کہ اس ذات کی محبت لافانی ہے‘ دائمی ہے اور پھر میری لسان تویہی محسوس کرتی ہے‘ سوچتی ہے اور لکھتی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ دولت ہی اس فرد کے پاس ہے جس کی ماں زندہ ہے (پھر حرا بیٹا تو غریب ہوا ناں) اور پھر جب روٹیاں تین ہوں اور کھانے والی چار تب صرف ماں ہی کہتی ہے کہ مجھے بھوک نہیں۔ مزید وضاحت کروں توجب صبح سے شام تک سخت محبت کے بعد بیٹا گھر آتا ہے تو بھابی پوچھتی ہے ’’آج کیا کمایا؟‘‘ بیوی کہتی ہے ’’آج کیا بچایا؟‘‘ صرف ایک ماں یہ کہتی ہے ’’بیٹا دن میں کچھ کھایا؟‘‘
غزل چشم سے نکل‘ غزالہ کے لالہ رخ پر‘ بہنے والے غم کے آنسو کے موتیوں کو چن چن کر‘ سکھ کی لڑیوں میں پرونے والی‘ پُروقار ہاتھوں کی غمگسار انگلیوں کے پُراثر لمس کو شاید ’’ماں‘‘ کہتے ہیں۔
سخت راتوں میں آسان سفر ہے
سب میری ماں کی دعائوں کا اثر ہے
پھر جن کے پاس یہ قیمتی شے ہے ناں جسے ماں بطور اعلیٰ ترین ہستی کے مخاطب کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے اس سے محبت کریں۔ اس کی قدر کریں کہ اس ماں کی پریشانی تو تھی‘ سبب جس کے اللہ عزوجل نے صفا مروہ کو حج کا رکن بنادیا‘ پھر اگر یہ پاس ہے آپ کے اور اس ہستی کی کوئی معمولی سی خواہش ہے اور اس خواہش کو اگر آپ پورا کردیتے ہیں تو یہ تحفۂ خداوندی بن جاتا ہے آپ کے لیے‘ نظر ہواس کی جانب ہو آپ کی ایک پیار بھری تو جنت کی بشارت ہوجاتی ہے کہ جس کا لمس اگر بھوک ہو آپ کی‘ تو روح اس کے قدسی خمیر سے لبریز ہوجاتی ہے۔ میں اس کی عظمتوں کو جو دہرائوں تو کتنے ہی محنت کش اپنی کامیابیوں‘ اپنی رفعتوں‘ اپنے اوج کا عروج محض اس کی ایک ذات کو لکھ دیں گے۔ ملاحظہ کیجیے ویس کہتا ہے ’’وہ ہاتھ جو جھولا ہلاتا ہے ساری دنیا پر حکمرانی کرتا ہے۔‘‘ ہمینس کا نقطہ نظر یہ ہے ’’اس مطلبی‘ بے مہر اور کھوکھلی دنیا میں کوئی چشمہ اتنا میٹھا‘ مضبوط اور مستقل نہیں جتنا وہ چشمہ جو ماں کے دل میں موجزن ہوتا ہے‘ محبت کا چشمہ۔‘‘ فریڈ ریکس کا تصور کیا خوب ہے ’’جس گھر میں تعلیم یافتہ نیک ماں ہوتی ہے وہ گھر ادب کی یونیورسٹی ہے۔‘‘ ہونگ نے کہا جب تو حرا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی (وجہ؟ خیالات کی مماثلت) ’’مجھے فخر ہے کہ مری ان پڑھ ماں نے مجھے تعلیم یافتہ اور مہذب بنایا۔‘‘ ٹیلر کا جذبہ قابل دید‘ حقائق سے قریب تر ہے ’’وہ کون سی عظیم ہستی ہے جس نے بچپن میں گرتے وقت بے تحاشا دوڑ کر مجھے سہارا دیا؟ وہ کون سی مقدس ہستی تھی جس نے مری چوٹ کو چوما تاکہ وہ چوٹ جلدی سے اچھی ہوجائے؟ ماں صرف مری مہربان ماں۔‘‘ ملر نے ماں کی بہادری کو کیا ہی خوب صورت لفظوں کا پیرہن عطا کیا ہے کہتا ہے ’’میں تمہیں بتائوں کہ دنیا کی عظیم جنگیں کس نے لڑیں؟ ان کی تفصیل تمہیں دیواروں پر لٹکے ہوئے نقشوں میں نہیں ملے گی۔ انہیں دنیا کی بہادر مائوں نے لڑا ہے۔‘‘ ایڈمر نے حرا کے دل کی بات من وعن سامنے رکھ دی ہے ’’میں جو کچھ ہوں اس کا باعث مری ماں ہے۔‘‘
لڑکا اپنی مرحوم ماں کو یاد کرکے روتا ہے اور کہتا ہے ’’میں وہ درخت ہوں جسے کوئی پانی نہیں دیتا۔‘‘ منشی پریم چند اور حرا بیٹا کہتا ہے ’’ماں اگرچہ گل سر بسد ہے مگر اس سے زیادہ نرم‘ مہرباں‘ محبتوں سے پُر اور خوب صورت کوئی نہیں… کوئی نہیں ہے۔احمد ندیم قاسمی کی شاہکار تحریر ’’مامتا‘‘ ماں کے انتہائی جذبات کی خالص ترجماں ہے۔ افسانے میں ایک پنجابی نوجوان کا ذکر ہے جو بھرتی ہوکر ہانگ کانگ میں آتا ہے‘اس کی بوڑھی ماں نے رو رو کر اپنی محبت اور اس کی زندگی کا واسطہ دے کر روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ ایک حاکمانہ تصور کے ساتھ ہانگ کانگ پہنچ گیا۔ ہانگ کانگ پہنچتے ہی فضا میں یہی سرگوشیاں جھلک رہی تھیںکہ جنگ چھڑنے والی ہے۔ متوقع جنگ کے پیش نظر ہر جگہ مورچے کھد رہے تھے‘ وہ پریڈ کے بعد جب اپنی بیرک میں آرام کرتا تو اسے جنگ سے انتہائی خوف محسوس ہوتا ۔
اسے ماں کی یاد آتی تو تڑپ تڑپ کر روتا اور اسے ہر چہرہ کسی نہ کسی ماں کی تلاش اور یاد لیے ہوئے محسوس ہوتا۔ وقت رخصت ماں کی آنکھوں سے بہتے آنسوئوں کی ندی اسے بے چین کردیتی اور سڑکوں پر‘ افق کی طرف تکنے والی چینی پناہ گزینوں کی آنکھوں میں بھی اسے اپنی ماں کا انتظار‘ خوف اور پیار نظر آتا ہے۔ آخر وہ گھڑی آپہنچی‘ جاپانی جہازوں نے ہانگ کانگ کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور وہ جاپانیوں کے ساتھوں جنگی قیدی بن گیا۔ وہ خوب رویا اسے یوں لگا جیسے اب اس کی ماں کا ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوٹ گیا ہے۔ معمولی لغزشوں پر ان کی گولیوں اور وحشیانہ قہقہوں کا نشانہ بننا پڑتا تھا۔ اس کی قمیص کے بٹن ٹوٹ گئے تھے‘ اس نے ایک جاپانی سے ایک بٹن کی بھیک مانگی۔ اس نے اس کے سینے کے بالوں کا ایک گچھا جھٹکے سے توڑ کر اس کے ہاتھ میں دے دیا کہ اس سے باندھ لو‘ کچھ دنوں کے بعد ہانگ کانگ کے ایک ساحلی جزیرے پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا کیونکہ وہاں کے مچھیرے باغی ہورہے تھے یہ نوجوان بھی ان میں شامل تھا وہ اس جزیرے میں پہنچے وہاں کچھ جھونپڑے تھے مکمل سناٹا تھا انہوں نے فائرنگ کی اور جاپانی افسر نے چینی زبان میں وہاں کے رہنے والوں کو باہر آنے کا حکم دیا۔ان سے مردوں‘ بچوں‘ بوڑھوں اور لڑکیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ایک نے بتایا کہ مرد تو مچھلیاں پکڑنے گئے ہوئے ہیں۔ اسی دوران میں ایک چینی عورت پہلے ڈرتے ڈرتے بیٹھی‘ بعد ازاں وہ عورت زارو قطار رو رہی تھی اس ہندوستانی سپاہی کو اپنی ماں کے آنسو بھی یاد آئے اور اپنی بے بسی بھی چونکہ اس کا گریبان بٹنوں کے بغیر تھا او وہ انتہائی سردی محسوس کررہا تھا پھر جاپانیوں نے عوتوں کو کھانے پکانا کا حکم دیا۔ شدید سردی میں اسے اپنی ماں کے آنسو یاد آگئے کہ وہ کیسے اسے سردی سے سینے کو بچانے کی تلقین کیا کرتی تھی۔ اتنے میں وہی عورت بچتی بچاتی اس تک پہنچی اس نے اس سے پوچھا کہ قیدی ہو‘ اس نے سر ہلادیا اس نے کہا تمہاری طرح میرے بیٹے کی قمیص میں بھی بٹن نہیں تھے۔ میں پکارتی رہی اور وہ چلاگیا تمہاری بھی ماں ہوگی۔ قیدی یہ سن کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا‘ اس نے آگے بڑھ کر اس کی قمیص میں بٹن ٹانک دیئے‘ کچھ دور شراب پیتے اور شور مچاتے جاپانیوں کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے اسے چوما‘ اس کی قمیص سے آنسو پونچھے اور واپس چلی گئی۔
اے صاحب عظمت
اے صاحب ثروت
چلو جو سنگ تیرے پا پیادہ
تھام کے مری انگلی فلک چلے
زمین کے فرش پر تارے
گل آفریں بہار رُت میں… شوخ ہوائیں
ہتھیلیوں پر مری اک حسین‘ قیمتی… تاج رکھ جائیں
فاتح و تسخیر زیست کے ’’آج‘‘ رکھ جائیں
تیری پر ہر پکار پر بلیک کہتی ’’مری آنکھیں‘‘
اک ایسا سجدہ رقم کریں
جسے کرنیں آفتاب کی
صدائیں ماہتاب کی
سلام پیش کریں…
سماعتیں مری چھپا کر تیرے معتبر دل کو
بادب‘ دوزانو… قیام پیش کریں
سن اے گل لالہ!
لب تیرے جب پیشانی پر مری
’’بوسے‘‘ ثبت کرتے ہیں
دن بھر… شب بھر… سہ پہر…
سرب عالم کی تاب… ہتھیلیوں پر مری ٹھہر سی جاتی ہے
رابطہ روح کا‘ دن کا‘ جسد خاکی کا… جلترنگ
سماں سا بنتا ہے
میٹھی میٹھی سانسیں تیری
جب بے قرار و تشنہ
میرے اندر اترتی ہیں
سچ کہوں تو ’’ماں‘‘
گلاب جذبات کی گرمی
یوں ہوتی ہے جاوداں
گویا…
طلسم و الہام کی ابتداء
لوگ کہتے ہیں…
نہ ہو پھول ڈالیوں سے جد ا(ماں سے بچے کے ملاپ کی تشبیہ)
یوں حیات ارضی جنت مرے قدموں میں دان کرتی ہے
محبت بادشاہت کا ایک نیا اعلان کرتی ہے…!
’’ماں ایک نعمت ہے‘ نایاب نعمت! اس کا نعم البدل ناممکن ہے‘ زمیں کی گہرائیوں اس خواہر کو اگلنے کے ناقابل اور آسماں ایسا فرشتۂ رحمت بھیجنے سے قاصر۔‘‘ از جبران داستان محبت ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ جبران کو اپنی ماں کی یاد دلاتا رہتاہے۔ اس کی ماں نے اسے ایک دفعہ کہا تھا کہ تو اگر دنیا میں نہ آتا تو ایک فرشتہ ہوتا۔ جبران نے جواب دیا میں تو اب بھی فرشتہ ہوں۔ ماں نے کہا ’’تو پھر تمہارے پر کہاں ہیں؟‘‘ جبران نے اپنے شانوں پر بازو پھیلاتے ہوئے کہا ’’یہ ہیں میرے پر۔‘‘ ماں نے ہنس کر کہا ’’بیٹا! یہ تو اب ٹوٹے ہوئے ہیں۔‘‘
جو میں اپنی عظیم ماں کی بابت کروں تو میں کچھ نہیں! ہاں اندر مری ذات کے جوگوہر نایاب ہیں وہ صرف ماں کے ودیعت کردہ ہیں۔ ایک ایسی ماں جو حسن کا مرقع بھی تھی۔ دادو ستائش کا پیام بھی تھی‘ جرأت و ہمت کے میتارے بھی جس کی ذات میں یکجا تھے۔ جسے نہ صرف اردو‘ پنجابی بلکہ اپنی ملتانی زبان پر بھی بلا کی فوقیت حاصل تھی۔ کیا امور خانہ داری‘ کیا کڑھائی‘ کیا سلائی‘ کیا مہمان داری‘ کیا خدمت گزاری‘ کیا حوصلہ افزائی‘ کیا کشیدہ کاری‘ کیا کٹائی اور بونائی کے فنون ہر ایک فن میں اعلیٰ و یکتا‘ بے مثال تھی وہ ذات بس عین وقت مرگ سے قبل بھی اور بعد میں تو گویا بیماریوں کا ناختم ہونے والا مجموعہ اس کے واحد جسم میں جمع ہوگیا۔
اولاد ہو‘ باپ ہو‘ بھائی ہو‘ بیٹا ہو‘ بہن ہو یا بھائی کوئی بھی عزیز ہر ایک کے لیے ہمدردی اور ڈھارس اور مسائل کا حل پیش کردینے والی ہستی جس قدر بھی جتنا بھی اس کی ذات سے ممکن ہوسکے پھر جب گئی تو وقت کے ساتھ بہت چلا گیا۔
بس رہ گئی تو آہ… خود کو ایک چٹیل میدان میں پایا جب والدہ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئیں‘ سبک رفتار سسکیوں کا تلاطم برپا تھا۔ ہر بندہ عدو معلوم ہوتا تھا‘ کیا بتائیں ناقابل بیان سی حالت زار تھی۔ زار‘ زار بکھرا تھا جسدخاکی یوں لگا تھا منجنیق سر پر دھری گئی ہو‘ قوتِ سامعہ مفلوج ہوگئی ہو‘ بہت سی باتیں ان کہی رہ گئیں‘ بہت سی ساعتیں ویران ہوگئیں گویا قیمتی سامان لٹ گیا۔ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح تھے‘ قدم بوسی کی بھی مہلت عطا نہ ہوئی زیادہ عرصے…
اور کیا کہوں کہ بس… ’’دنیا کی تمام مسرتیں ’’ماں‘‘ اس سہہ حرفی لفظ میں مجتمع ہیں۔ کائنات کی تمام مسرتوں کا امرت بھی اس ایک لفظ میں پنہاں ہے اس لیے بس یہی کہوں گی ’’ماں‘‘ تو وہ مقدس ترین ہستی ہے جس کا وجود شب دیجور میں بھی سب کو اپنی سمت متوجہ کرلیتا تھا اور حرا کے لیے تو ظاہر و باطن کی صفات سے لیس پائیدار ہتھیار تھا۔ بے شک تیرا وجود نہیں مگر تیری تربیت ‘ تیری یاد‘ تیری ناصح مجھے ازسر نو تازگی حیات عطا کرتی ہے۔
پھیلی ہے خوشبو ’’مامتا‘‘ کی یہی کہیں
کیا ہوا جو حراؔ کی ماں نہیں
٭…٭…٭…٭
جویریہ وسمی
مجھے عادت ہے رات کے وقت لکھنے کی‘ میں حجاب سے دس بج کر پانچ منٹ پر محو گفتگو ہوں کیونکہ الفاظ کا جوڑ توڑ رات کی فسوں خیز خاموشی دونوں مل کر الفاظوں کو بہترین انداز میں مرتب کرنے میں میرے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ رات کی پُرسکوں خاموشیاں احساسات میں تلاطم خیز موجوں کو پیدا کردیتی ہیں انہی احساسات کے تلاطم سے الفاظ ٹکراتے ہوئے قلم سے ہوکر اوراق کی زینت بنتے ہیں۔ آیئے اب اصل موضوع کی جانب بڑھتے ہیں کائنات کا سب سے خوب صورت رشتہ اور حسین چیز ماں ہے‘ خوش نصیب ہیں وہ عورتیں جو ماں کہلواتی ہیں۔
کہتے ہیں کہ عورت مکمل تب ہوتی ہے جب وہ ماں بنتی ہے۔ماں دنیا کی وہ واحد ہستی ہے جس کی لغت میں اولاد سے ناراضگی کا لفظ ہی موجود نہیں اس کی ناراضگی میں بھی پیار پوشیدہ ہوتا ہے یا کوئی بھلائی مخفی ہوتی ہے اولاد ماں کو صرف ایک دفعہ پیار سے بلائے تو ماں نہال ہوجاتی ہے۔ اولاد کی نافرمانی کو بھول کر اسے اپنے سینے میں سمولیتی ہے۔ ماں وہ ہستی ہے کہ اس کی محبت آسمان کی وسعتوں کو چھولیتی ہے ماں کی محبت ایسی ہے کہ وہ زمین پر چلتی ہے تو اس کی آہٹیں آسمان سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
ماں میری تمام کامیابیوں کا راز آپ کی دعائوں میں پنہاں ہے بقول شاعرکہ …
گر پیار کرتا ہے نیازی زمانہ مجھ سے
یہ میری ماں کی دعائوں کا اثر لگتا ہے
ماں میں میں اپنی ہر مشکل ہر الجھن کا حل تیری باتوں میں پالیتی ہوں اور تیرے ہاتھوں کی روٹی اکثر بھوک سے زیادہ کھالیتی ہوں۔ تھک ہار کے تیرے آنچل کے نیچے بے فکر سوجاتی ہوں‘ آغوش مادر تپتے صحرا میں ظل بہار ہے۔ماں وہ احساس ہے جو روح کی تسکین‘ آنکھوں کی ٹھنڈک‘ دل کا چین‘ سانسوں کا قرار ہے۔ وہ انمول نگینہ جس کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں وہ ہستی جو صبرو تحمل‘ ایثار و قربانی‘ شفقت و محبت کا نمونہ ہے وہ دعا جو دل کا سفینہ‘ رحمتوں کا خزینہ‘ جور د نہ ہو عرش بریں سے‘ وہی بے مثل قرینہ ہے وہ جزا جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ وہ جیون جس کے بغیر جینا تو زندگی بھی زندگی نہیں۔
بو علی سینا کہتے ہیں اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال میں نے اپنی ماں کی صورت میں دیکھی جب سیب چار تھے اور ہم پانچ تھے تب میری ماں نے کہا مجھے سیب پسند نہیں۔ ماں وہ ہستی ہے جو اپنے بچوں میں تفریق کے نام سے ہی نا آشنا ہے آغوش مادر تاریکی میں روشنی کا باب ہے۔ آغوش مادر اضطرابی کیفیت میں اطمینان کا نام ہے دنیا میں آغوش مادر نام ہے اولاد کے لیے جنت کا۔
ماں ایک ایسا رشتہ ہے جو آپ کی ان کہی باتوں کو بنا پوچھے ہی جان لے۔ ماں نام ہے زندگی کا‘ آغوش مادر پر کیا کیا لکھوں؟ دنیا کی جتنی لائبریریاں ہیں ان میں جتنی کتابیں ہیں اور ان کتابوں میں جتنے الفاظ ہیں اگر آغوش مادر پر لکھنے لگوں تو وہ سب بھی کم پڑجائیں۔ قلم خشک ہوسکتے ہیں اوراق ختم ہوسکتے ہیں مگر آغوش مادر پر لکھے جانے والے الفاظ کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔
اللہ پاک ہم سب کی مائوں کو لمبی زندگی عطا فرمائے اور ان کو صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے‘ ان کا سایہ ہم سب پر تادیر قائم فرمائے اور جن مائوں بہنوں کی ماں ان کو داغ مفارقت دے گئی ہیں ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو باغ رحمت میں سکونت عطا فرما۔ ان کی اقرباء کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ عائشہ پرویز صدیقی‘ مسز نگہت غفاری کی ام کے لیے اگر وہ حیات ہیں تو ڈھیروں دلی دعائیں اور نیک تمنائیں‘ دونوں کو میری جانب سے ڈھیروں سلام‘ ان الفاظ کے ساتھ چاہوں گی آپ سے اجازت‘ دعائوں میں یاد رکھیے گا‘ فی امان اللہ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close