Hijaab Sep-16

رخ سخن

سباس گل

شمیم ناز صدیقی
السلام علیکم قارئین آج ہم آپ کی ملاقات جس شخصیت سے کرا رہے ہیں وہ ہیں آپ کی ہماری پسندیدہ رائٹر شمیم ناز صدیقی جو ہماری پر خلوص سی دوست بھی ہیں۔
جنہیں ہم بہت پیار سے آپی کہتے ہیں ان کو ہمارا آپی کہنا اچھا لگتا ہے یہ یہی تو محبت ہے ان کی شمیم ناز صدیقی کے انٹرویو آنچل پاکیزہ دوشیزہ وغیرہ میں آچکے ہیں قارئین جو آپ کی نظر سے ضرور گزریں ہوں گے مگر ہم نے ماہنامہ حجاب کے لیے جو انٹرویو لیا ہے وہ تفصیلی ہے بالکل مختلف کوشش ہے ان کی ذات کی پرتیں قارئین پر کھلیں۔ آئیے بات کرتے ہیں آپی شمیم ناز سے۔
حجاب:السلام علیکم کیسی ہیں آپ؟
شمیم ناز: وعلیکم اسلام اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں تمام قارئین کو میرا خلوص بھرا سلام۔ سباس گل میری طرف سے تمہیں بھی مبارکباد کہ تم ماہنامہ حجاب کے رخ سخن کی انچارج بن گئی ہو، اللہ تعالیٰ تمہیں بہت کامیابیاں عطا کرے، آمین۔
حجاب: شکریہ آپی جزاک اللہ۔ آپ کا نام اگر کوئی قلمی نام ہے تو بتائیے؟
شمیم ناز: شمیم اختر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ قلمی نام شمیم ناز صدیقی اس نام نے شہرت پہچان دی۔
حجاب: آپ کس شہر میں پیدا ہوئیں ڈیٹ آف برتھ، اسٹار؟
شمیم ناز: شہر کراچی 27 مئی کو جب ہم نے دنیا میں آنکھ کھولی تو جھسلتی گرمی اور گرم ہوائوں نے ہمارا استقبال کیا اس کے باوجود مزاج ہمارا ٹھنڈا ہی رہا شکر ہے مزاج پر گرم ہوائوں کا اثر نہیں ہوا، اسٹار جوزا (جیمنی)
حجاب:آپ کا بچپن کیسا گزرا کچھ باتیں یادیں بچپن کی؟
شمیم ناز: بچپن کا ایسا ہوتا ہے کہ جی چاہتا وہ بچپن کے بے فکری کے خوب صورت دن پلٹ آئیں مگر ممکن کہاں… بچپن اچھا گزرا نہ میں بہت شریر تھی نہ بہت سیدھی کھیل کود میں مصروف رہتی خاص کر گڑیا گڈے اور بہت سارے کھیل پڑھائی میں بھی نارمل تھی۔ بچپن میں مجھے مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا ہم سے بڑے بھائی باجی ہمیں منی کہتے کچھ رشتے دار شمسہ کہہ کر پکارتے محلے والوں نے ہمیں ٹارزن کے نام سے نواز رکھا تھا کیونکہ ہم اپنی عمر سے زیادہ بڑے بچوں کے ساتھ ریس کے مقابلے میں دوڑتے اس مقابلے میں ہمیشہ جیت ہماری ہوتی مگر منی کہنے پر ہمیں بڑا اعتراض تھا اور جب ہمارے چھوٹے بہن بھائیوں نے بھی ہمیں منی کہنا شروع کردیا تو ہم نے احتجاج کا دھرنا دینے کا اعلان کردیا کہ جو ہمیں منی کہہ کر پکارے گا ہم اس سے بات نہیں کریں گے ہماری اس دھمکی پر تبدیلی تو آئی تھی اور ایسی آئی کہ سب چھوٹے بہن بھائی ہمیں چھوٹی باجی کہنے لگے وہ بھی جب ہم شعور کی حدوں میں قدم رکھ چکے تھے۔
حجاب: لکھنے کی تحریک اور جراثیم کب پیدا ہوئے؟
شمیم ناز: شعور کی حدوں میںپہنچنے سے پہلے ہی کہانیاں وغیرہ پڑھنے کا شوق یوں پیدا ہوا کہ بڑے بھائی کا شوق تھا ناول رسالے اور ابن صفی کی کہانیاں وغیرہ پڑھنے کا ہمارے گھر میں ڈائجسٹ کی انٹری انہی کے شوق سے ہوئی، پہلے بھائی سے چھپا کر پڑھتے تھے بعد میں خواتین کے ڈائجسٹ، پاکیزہ، آنچل، دوشیزہ وغیرہ ہم فرمائش کر کے منگوانے لگے پڑھنے کے ساتھ ذہن میں ایک ہی بات تھی کاش میں بھی افسانہ نگار بنوں میری بھی اپنی پہچان ہو لگن ہو تو تخلیق کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی ایک جملہ بھی لکھنے کی تحریک پیدا کردیتا ہے۔
حجاب: آپ نے پہلی تحریر کب لکھی اور کہاں شائع ہوئی؟
شمیم ناز: میری پہلی تحریر آئیڈیل امن اخبار میں شائع ہوتی تو ابا جی کی نظر سے گزری۔ بولے تمہارے تایا بڑے ابا نے دیکھ لیا تو ناراض ہوں گے میں نے کہا ابا جی آپ تو ناراض نہیں ہیں وہ مسکرا دیے ان کی مسکراہٹ نے میرا حوصلہ بڑھایا اور میرا قلم چل پڑا۔
حجاب: آپ کا پہلا ناول پہلا افسانہ کس ڈائجسٹ میں شائع ہوا اس لمحے آپ کے احساسات؟
شمیم ناز: 84ء میں میرا پہلا افسانہ سزا ماہنامہ آنچل میں شائع ہوا تو خوشی سے میں ہوا میں اڑ رہی تھی مگر ابا جی کے نہ ہونے کا ملال بھی تھا پہلا مکمل ناول (سرخ گلابوں کے موسم) 2003ء میں آنچل میں شائع ہوا۔
حجاب: اس شوق میں آپ کا مددگار کون ثابت ہوا کیا مخالفت کا سامنا کرنا پڑا؟
شمیم ناز:ہم کہہ سکتے ہیں کہ میں اپنی مدد آپ کی قائل ہوں اور یہ بھی سچ ہے کہ شروع میں ابا جی ہی مددگار تھے کیونکہ وہ ہمارے خطوط آرٹیکل ہم جو لکھتے تھے وہ ابا جی درست کرتے تھے ہماری کامیابی میں بڑے بھائی کا بھی حصہ ہے کیونکہ وہی کتابیں ناول رسالے لاتے تھے اور ہمارے اندر امنگ شروع ہوئی لکھنے کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا امی بہن بھائی سب ہی خوش تھے مگر ایک بات بتاتے چلیں کہ بڑے بھائی ڈائجسٹ ابھی تک پڑھتے ہیں لیکن خواتین کے نہیں انہوں نے ہماری کوئی تحریر نہیں پڑھی مگر ہماری کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ہم نے کبھی کسی سے نہ سفارش کی نہ اصلاح لی جو کامیابی لی اپنی جدوجہد سے لگن سے آج اس مقام تک پہنچے ہیں۔
حجاب: کیا لکھنا آسان ہے آپ کی تخلیق کردہ کہانی پر آپ کی فیلنگ؟
شمیم ناز: کہانی کو تخلیق کرنا پھر ان کرداروں کے ساتھ ہنسنا رونا، ان کے دکھ درد کو اپنے اندر محسوس کرلینا اتنا آسان کہاں ہے۔ میری فیلنگز کچھ یوں ہوتی ہے کہ میں اتنا انوالو ہوجاتی ہوں کہ بھول جاتی ہوں کہ یہ میری ہی تخلیق کردہ کہانی ہے۔
حجاب: ناول افسانہ لکھنے کا پلان یا کہانی کی آمد کیسے ہوتی ہے کوئی خاص وقت؟
شمیم ناز: کوئی خاص وقت جگہ مقرر نہیں کچن میں کام کرتے ہوئے یا کسی سے بات کرتے ہوئے بھی تخلیق کا سلسلہ آمد جاری رہتا ہے۔
حجاب: آپ کا کون سا ناول آپ کے دل کے قریب ہے۔
شمیم ناز: مکمل ناول (محبت مستقل غم ہے) جو ماہنامہ ریشم میں شائع ہوا۔
حجاب: آپ کا کیا خیال ہے قارئین تخلیقی کہانی کو پسند کرتے ہیں یا سچی؟
شمیم ناز: افسانے کہانی چاہے تخلیقی ہوں یا بالکل سچے واقعات پر مگر زندگی کی حقیقتوں سے قریب قاری کو متاثر کرتے ہیں۔
حجاب: کیا آپ خواب دیکھتی ہیں؟
شمیم ناز: خواب دیکھتی ہوں تعبیر بھی پاتی ہوں میری اپنی کتاب ہو میری پہچان ہو اللہ کا شکر ہے مجھے میرے خوابوں نے سر خرو کیا۔
حجاب: آپ کی پہچان آپ کا کون سا ناول یا افسانہ بنا؟
شمیم ناز: پہچان کوئی ایک تحریر نہیں بلکہ کئی تحریریں ہیں جن سے میری پہچان بنتی سنورتی گئی۔ محبت مستقل غم ہے، یہ کیسا جیون، ایک خواب ایک آرزو، خاص کر 2004میں آنچل میں شائع ہونے والا ناولٹ ملا بھی تو کیا ملا قارئین کے دلوں پر نقش ہے اور جس پر مرحومہ فرحت آپا نے مجھے فون کر کے کہا تھا کہ تمہاری تمام تحریروں میں یہ بہترین اور منفرد کہانی ہے۔
حجاب: کیا آپ کی تحریر کردہ کہانی انگریزی میں ترجمے کے لیے منتخب ہوئی؟
شمیم ناز: میری تحریر کردہ کہانی غم کا دریا پار کیا جو دہشت گردی پر لکھی تھی ایسے ماہنامہ دوشیزہ کے بانی سہام مرزا نے انگریزی کے ایک میگزین کے لیے منتخب کیا سچی کہانیاں سے لے کر جو 2001ء میں شائع ہوئی تھی سہام مرزا نے فون کر کے مجھے مبارک باد دی میرے لیے اعزاز سے کم نہیں۔
حجاب: آپ کا آئیڈیل؟
شمیم ناز: میری امی میرا آئیڈیل ہیں ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا وہ حیات نہیں ہیں مگر ہر لمحہ میرے ساتھ ہوتی ہیں۔
حجاب: اپنے بہن بھائی اور فیملی کے بارے میں بتائیں؟
شمیم ناز: ہم سات بہن بھائی چار بھائی تین بہنیں اپنے بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہوں میرے ایک چھوٹے بھائی اخلاق علی کا انتقال ہوچکا ہے اس کی جدائی کی کسک تا زندگی رہے گی۔ ابا جی کو گزرے ایک عرصہ ہوگیا اور جب امی نے بھی رخت سفر باندھا تو ہمیں یوں لگا ماں کے سائے سے کیا جدا ہوئے کہ ہم تنہا ہوگئے۔
حجاب: زندگی کا خوشگوار لمحہ؟
شمیم ناز: جب میں 2013ء میں اچانک عمرے پر عثمان کے ساتھ گئی وہ لمحہ میری زندگی کا انمول لمحہ ہے۔
حجاب: زندگی کا دکھ اور تکلیف بھرا نسخہ؟
شمیم ناز: جب میری پیاری سی بہن شاہین شادی کے صرف پانچ سال بعد بیوہ ہوگئی اور وہ اس سنگدل دنیا میں تنہا ہوگئی اس دکھ نے مجھے غم کی گہرائیوں میں پھینک دیا جی چاہتا ہے اسے غم زندگی سے نکال کر دور بہاراں میں لے آئوں میرے قارئین میرے دوست مجھے پکار رہے ہیں کہ میں منظر سے کہاں غائب ہوں میرا قلم کیوں خاموش ہے۔ فصیحہ کی محبت سباس گل کی چاہت فریدہ فری کا پیار آپ سب انمول ہیں میرے لیے۔
حجاب: آپ کے افسانے ناول کو ایوارڈ سے نوازا گیا؟
شمیم ناز: اللہ کا شکر ہے مجھے پاکیزہ ایوارڈ مل چکا ہے اور پھر 2013ء میں میرے افسانے ایک خواب ایک آرزو کو ایوارڈ ملا۔ ریشم ایوارڈ لینے میں اسلام آباد گئی وہاں جو پزیرائی ملی وہ یادگار ہے۔
حجاب: آپ کی تحریر اصلاحی رنگ لیے ہوتی ہے کہانی میں کوئی نہ کوئی سبق ہوتا ہے؟
شمیم ناز: میری تحریر سے کسی قاری کا صرف وقت پاس ہو وہ کچھ حاصل نہ کرے تو وہ ایک بے مقصد تحریر ہوگی میری کوشش ہوتی ہے جو کچھ لکھوں اس میں کوئی سبق معاشرے کی اصلاح کا پہلو ہو۔
حجاب: آئینہ دیکھ کر کیا خیال آتا ہے؟
شمیم ناز: اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں اس نے مکمل بنایا۔
حجاب: انمول رشتہ آپ کی نظر میں؟
شمیم ناز: والدین کا۔
حجاب: سنا ہے دل کی چوٹ انسان کو شاعر یا ادیب بنا دیتی ہے؟
شمیم ناز: یہ اللہ کی طرف سے قدرتی صلاحیت ہوتی ہے ورنہ دل کی چوٹ کھانے والا ہر انسان ادیب یا شاعر ہوتا۔
حجاب: کیا اس دور میں سچی محبت کا حصول ممکن ہے؟
شمیم ناز: ہر دور میں ممکن رہا ہے بات ہے سچے جذبے کی۔
حجاب: آپ کی کتاب شائع ہوچکی وہ لمحہ آپ کو کیسا لگا۔
شمیم ناز: جب میری کتاب یہ کیسا جیون خوب صورت سرورق کے ساتھ میرے ہاتھ میں آئی مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا میرا یہ خواب پورا ہوگیا ہے اللہ کا شکر ادا کیا اپنے بہن بھائیوں کو زبردست ڈنر کرا کے اس خوشی کو یادگار بنایا میرے سب بہن بھائیوں نے مجھے گفٹ دیے یہ سب میرے اپنے بہن بھائیوں کی محبت تھی کہ انہوں نے اس خوشی میں میرے ساتھ مل کر شرارت بھرے گیم کھیلے اور خوب ہلہ گلہ کیا وہ دن میری زندگی کا یادگار دن ہمیشہ یاد رہے گا۔
حجاب: آپ کی فیورٹ تحریر کون سی ہے؟
شمیم ناز: یہ کیسا جیون، اور ملا بھی تو کیا ملا ان دونوں کہانیوں یعنی ایک افسانہ ہے اور ایک ناولٹ دونوں کے اینڈ قاری کو چونکا دیتے ہیں اب تک میں ان کے حوالے سے داد تعریفی جملے سنتی ہوں مجھے بے انتہا پسند ہے اپنی اب تک کی تمام تحریروں میں۔
حجاب: کس موضوع پر لکھنا آپ کو پسند ہے؟
شمیم ناز: تخلیق کار ہر موضوع پر ڈوب کر لکھتا ہے چاہے موضوع عشق ہو یا معاشرتی گھریلو موضوع میں نے ہر موضوع پر لکھا ہے بے شمار افسانے ناولٹ موضوع بے شمار ہیں لیکن مجھے جو پسند ہے معاشرتی اور خانگی موضوعات پسند ہیں کیونکہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔
حجاب: رائٹر کا اثاثہ اس کی تحریر ہوتا ہے یا تحریر کو سراہنے والے قارئین؟
شمیم ناز: ظاہر ہے رائٹر کی کامیابی ہی اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ تحریر کو سراہنے والے قارئین اور تحریر دونوں اثاثہ ہیں اس کے بغیر کامیابی ادھوری ہوتی ہے۔
حجاب: کوئی ناول کوئی افسانہ لکھنے کے لیے عنوان سوچتی ہیں یا پہلے کہانی تخلیق کرتی ہیں؟
شمیم ناز: اکثر ایسا ہوتا ہے میرے ذہن میں عنوان کی آمد پہلے ہوتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ ناول یا افسانہ مکمل کرتے وقت عوان ہی بدل دیا میرا خیال ہے عنوان قاری کی پہلی نظر پڑتے ہی اپنی طرف کھینچتا ہے موضوع کے ساتھ ساتھ ناول یا افسانے کا عنوان بہت اہم ہوتا ہے۔
حجاب: آپ کے ناول افسانوں کے عنوان بہت خوب صورت متوجہ کرنے والے ہوتے ہیں آپ کو بہت پسند ہو وہ عنوان؟
شمیم ناز: گلاب آنکھوں کے خواب عذاب، تم اپنی محبت واپس لو مکمل ناول۔
حجاب: آپ کے پسندیدہ رائٹر اور کسی کا انداز تحریر پسند ہے؟
شمیم ناز: بشریٰ رحمان اور ان کا انداز تحریر خاص کر اللہ میاں جی، انجم انصار ان کا انداز گفتگو اور تحریر دونوں ہی ایسے کہ جواب نہیں، نگہت عبداللہ، بشریٰ مسرور، بانو قدسیہ، اشفاق احمد نواب محی الدین ہاجرہ مسرور وحیدہ نسیم میرے پسندیدہ رائٹر کی لسٹ میں نمایاں ہیں۔
حجاب: کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ کے کانوں نے صرف ایک جملہ سنا اور آپ نے فوری طور پر پوری کہانی تخلیق کرلی؟
شمیم ناز: مجھے سن تو یاد نہیں کافی عرصہ گزر گیا ایک جہاز گرنے کا حادثہ کراچی میں ہوا تھا میرا چھوٹا بھائی نوشاد علی گھر میں داخل ہوا امی سے کہنے لگا میں خود دیکھ کر آرہا ہوں جلے ہوئے ہاتھ بکھرے پڑے ہیں جلے ہاتھ، اس جملے نے میرے دل و دماغ کو اٹیک کیا اور بھرم کے عنوان سے میں نے ایک منفرد سی کہانی لکھی جو سچی کہانیاں میں شائع ہوئی۔
حجاب: تخلیقی تحریروں کے علاوہ کیا آپ نے بالکل سچی کہانیاں لکھیں؟
شمیم ناز: دو کہانیاں ایک حادثے کی المیہ دوسری سچی کہانی محبت بین کرتی ہے، المیہ دوشیزہ میں اور محبت بین کرتی ہے آنچل میں شائع ہوئی ہے یہ میرے چھوٹے بھائی دلشاد علی نے سنائی تھی جسے میں نے بطور افسانہ خوب صورت الفاظ اور رنگوں سے سجا کر لکھا تھا۔
حجاب: دل کی سنتی ہیں یا دماغ کی؟
شمیم ناز: ہمیشہ دماغ کی سنی ہے کیونکہ دل تو پاگل ہے (مسکراتے ہوئے)
حجاب: زندگی آپ کی نظر میں کیا ہے؟
شمیم ناز: اللہ کی طرف سے ایک خوب صورت تحفہ جو اس کی امانت اسے بڑی دیانت داری اور اچھے اعمال کے ساتھ گزارنا چاہیے۔
حجاب: شہرت کیسی لگتی ہے؟
شمیم ناز: بہت اچھی لگتی ہے لوگوں کی محبت اپنائیت دیکھ کر اپنے رب کا شکر ادا کرتی ہوں میری کتاب یہ کیسا جیون نے میری شہرت میں اور پزیرائی میں اضافہ کیا اکثر اس کتاب کے حوالے سے پزیرائی ملتی ہے تعریفی جملے سننے کو ملتے ہیں تو دل سے یہی نکلتا ہے یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔
حجاب: کیا آپ اپنی تحریر پر تنقید برداشت کرلیتی ہیں؟
شمیم ناز: بہت کھلے دل سے برداشت کرسکتی ہوں پڑھنے والا قاری لکھنے والے سے زیادہ تیز نظر رکھتا ہے اور پھر یہ اس کا حق ہے کیونکہ پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا یہ الگ بات کہ مجھے کبھی بھی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا یہ بالکل سچ ہے۔
حجاب: آپ نے ٹی وی کے لیے کچھ لکھا یا کوئی آفر آئی؟
شمیم ناز: میرے افسانے یہ کیسا جیون کا ڈرامہ بن چکا ہے جو انڈس سے آن ایئر ہوا تھا ایک عورت ایک کہانی کی آفر ہوئی تھی لکھنے کی مگر میری کاہلی کے لکھ نہیں سکی حال ہی میں جویریہ سعود سے ملاقات ہوئی انہوں نے بھی مجھ سے کہانی لکھنے کو کہا ہے۔
حجاب: اپنی شادی کے بارے میں بتائیں کیسے ہوئی؟
شمیم ناز: میری کتاب یہ کیسا جیون عثمان احمد کی نظر سے گزری میری تحریروں نے انہیں اتنا متاثر کیا انہوں مجھے اپنا جیون ساتھی بنانے کا فیصلہ کرلیا ان کا تعلق بھی قلم سے تھا وہ شاعر اور آرٹیکل نگار مجھے جس خوبی نے متاثر کیا وہ تھا ان کا قلم انداز گفتگو اور ان کی شخصیت میری شادی 19 اکتوبر 2003ء میں ہوئی۔
حجاب: شریک حیات کس حد تک معاون ہیں آپ کے اس شوق میں؟
شمیم ناز: خوش قسمتی ہے میری کہہ سکتی ہوں 99 فیصد معاون ہیں میں لکھ رہی ہوں تو کبھی ڈسٹرب نہیں کرتے رسالے کاغذ قلم لا کر دینا یو ایم ایس کرنا تحریروں کو رسالے میں سب سے پہلے یہی تلاش کرتے ہیں میں نے کیا لکھا ہے وہ معاون ہی نہیں قدردان بھی ہیں۔
حجاب: آپ کے شریک حیات شاعر ہیں آپ نے کبھی شاعری کی؟
شمیم ناز: چھوٹے بھائی اخلاق مرحوم کے انتقال کے چند سال بعد اطلاع ملی کہ اس کی منگیتر کی شادی ہوگئی ہے میرا دل بھر آیا کیونکہ ان دونوں کی محبت بڑی بے مثال تھی اس کو پانے کے لیے میرے بھائی نے بڑی قربانی دی تھی اپنے دل کے درد اور احساس کو شعروں میں پرونے کی کوشش کی تو لفظ لفظ سے جڑتے چلے گئے آنسو میری آنکھ سے بہتے چلے گئے۔ نجانے کیسے جو کچھ کہا دل سے کہا لفظ بنتے بنتے شعروں میں ڈھلتے چلے گئے۔
نہ جانے دل کو یقیں کیوں نہیں آتا
تم شہر خموشاں میں جا بسے ہو
ابھی تو محبت کی فصل پر گلاب کھلنے تھے
وہ سارے گلاب تمہیں اپنے دامن میں بھرنے تھے
ابھی تو فصل گل آنی تھی
جشن بہاراں منانی تھی
مگر اس سے پہلے ہی جانے کیوں
تم شہر خموشاں میں جا بسے ہو
من میں ہوک اٹھتی ہے ہم تمہیں یاد کرتے ہیں
آنسو درد بن کر پلکوں کی منڈیریں پار کرتے ہیں
تمہاری محبت تمہاری چاہت کسی اور کی ہوگئی ہے
نئے ہم سفر کے سنگ نئی بہاروں میں کھو گئی ہے
حجاب: آپ ایک شاعر کی شریک حیات ہیں آپ کو ان کی شاعری کیسی لگتی ہے؟
شمیم ناز: مجھے ان کی شاعری اچھی لگتی ہے خاص کر ان کی غزل کے چند اشعار
اس وحشت جنوں سے ملا بھی تو کیا ملا
دامن رفو کیا تو گریباں پھٹا ملا
ڈھونڈا تمام عمر جسے میں نے جا بجا
میں جان سے گیا ہوں تو اس کا پتا ملا
حجاب: آپ کے بچے؟
شمیم ناز: میں عثمان احمد کے بچوں کی اسٹیپ مدر ہوں میں نے اپنے پر خلوص عمل سے سب بچوں کے دل جیتے یہی بچے میرے بچے ہیں جن کے دلوں میں میرے لیے عزت احترام خلوص اپنائیت سب کچھ ہے بیٹیاں بہت خیال رکھتی ہیں خاص کر نجمہ علی میرے بیٹے شکیل احمد نے جب مجھے عثمان کے ساتھ عمرے پر بھیجا تو میرے دل سے یہ احساس بھی جاتا رہا کہ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سب بچوں کو حفظ و امان میں رکھے، آمین۔
حجاب: آپ کی کوئی اچھی عادت بری عادت؟
شمیم ناز: کسی کی بھی برائی کو درگزر کر کے صرف خوبی کو یاد رکھنا بری عادت اپنی ذات کا خیال نہ رکھنا۔
حجاب: کون سا گانا گنگناتی ہیں اکثر؟
شمیم ناز:نہ شکوہ ہے کوئی نہ کوئی گلہ ہے سلامت رہے تو یہ میری دعا ہے۔
حجاب: کیا میاں جی آپ کے لیے گنگناتے ہیں کوئی گانا؟
شمیم ناز: زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم
آپ جیسا ہم سفر مل گیا۔
حجاب: آپ کی نظر میں میاں جی کی خوبی اور خامی۔
شمیم ناز: دل کے نرم ہیں کیئر کرنے والے خامی غصہ جلدی آجاتا ہے۔ مگر صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ بھی جاتا ہے۔
حجاب: وہ آپ کی سنتے ہیں یا اپنی منواتے ہیں؟
شمیم ناز: موڈی ہیں اکثر سن بھی لیتے ہیں زیادہ اپنی منواتے ہیں۔
حجاب: آج کل کیا لکھ رہی ہیں؟
شمیم ناز: کئی افسانے ناولز ادھورے ہیں انہیں مکمل کرنے کی کوشش میں ہوں۔
حجاب: کوئی ایسی خواہش جس پر آپ کا دل مچل جاتا ہو۔
شمیم ناز: آہ… کاش کہ میرے والدین حیات ہوتے میری کامیابی دیکھتے خاص کر ابا جی کیونکہ امی نے تو میرے ناول افسانے پڑھے ہیں مگر ابا جی اگر کاش حیات ہوتے تو بہت خوش ہوتے کیونکہ وہ کہا کرتے تھے تم نے کون سا پی ایچ ڈی کیا ہے جو افسانہ نگار بنو گی وہ اکثر یہی کہتے اور مسکرا دیتے۔
حجاب: بے مثال محبت آپ کی نظر میں؟
شمیم ناز: میری شاہین سے اور اس کی مجھ سے اللہ تعالیٰ ہم دونوں بہنوں کی بے مثال محبت کو ہمیشہ قائم رکھے، آمین۔
حجاب: آپ کی نظر میں آپ کی کائنات؟
شمیم ناز: میری بھتیجی اجالا جسے میں نے اپنی بیٹی بنایا ہوا ہے جو میرے خواب ہیں اس کے لیے رب میرے خوابوں کو سرخرو کرے آمین، میٹرک کا ایگزامز دیا ہے اللہ تعالیٰ اسے شاندار کامیابی عطا کرے، آمین۔
حجاب: موسم کون سا پسند ہے؟
شمیم ناز: سارے ہی موسم اچھے لگتے ہیں اگر دل کا موسم پربہار ہو تو۔
حجاب: کوکنگ کرلیتی ہیں اور آپ کو کون سی ڈش پسند ہے؟
شمیم ناز: بہت اچھی کرلیتی ہوں ہمیشہ اپنے بچوں سے بہن بھائی سے داد وصول کی ہے میاں جی کو تو چائے سے لے کر ہر قسم کی ڈش میرے ہاتھ کی پسند ہے مجھے یخنی پلائو اور شامی کباب پسند ہے۔
حجاب: مشروب آپ کا پسندیدہ؟
شمیم ناز: ٹھنڈا یخ پانی اس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہیے سردی ہو یا گرمی۔
حجاب: ماہنامہ حجاب کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی۔
شمیم ناز: سب سے پہلے تو میں حجاب کے شائع ہونے پر انکل مشتاق احمد قریشی، طاہر بھائی آپا قیصر آرا اور آنچل حجاب کے اسٹاف کو مبارکباد دینا چاہوں گی کہ حسین حجاب کا اجرا کیا۔ اتنی جلدی اپنے قدم جمائے ہیں اپنی پہچان بنالی ہے آنچل کی طرح حجاب بھی جگمگاتا ستارہ بنے آمین اب ہم بھی ساتھ ساتھ رہیں گے ان شاء اللہ۔
حجاب: اپنے قارئین اور نئے لکھنے والوں کو کچھ کہنا چاہیں گی؟
شمیم ناز: سب سے پہلے تو میں ان قارئین کی محبتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جو ہماری تحریروں کو پسند کرتے ہیں ہمیں بنانے سنوارنے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے ہمیں یاد کرنا ہماری کمی کو محسوس کرنا اور ہمیں آواز دینا رسالوں میں کہ ہم کہاں ہیں کیوں نظر نہیں آرہے خاص کر طیبہ نذیر آپا نگہت غفار، فصیحہ آصف، فرح طاہر، فریدہ فری اور دوسرے رسالوں کے قارئین آپ سب کی دعائوں اور محبتوں کی مقروض ہوں میں جزاک اللہ نئے لکھنے والوں کے لیے یہی کہنا چاہوں گی آپ کی تحریروں میں کوئی سبق اور معاشرے کی اصلاح کا پہلو ہونا ضروری ہے جو لکھیں با مقصد لکھیں جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور کامیابی آپ کے قدم چومنے لگتی ہے یہی میرا یقین ہے۔
حجاب قارئین آپ کو انٹرویو کیسا لگا آپ کی آرا کے منتظر رہیں گے آپی شمیم آپ کا شکریہ آپ نے اس انٹرویو کے لیے وقت نکالا۔ ارے نہیں سباس گل میں تمہاری مشکور ہوں تم نے مجھے اس قابل سمجھا خوش رہو آباد رہا۔
…٭٭…
کاشف شہزاد
مزاج آتشِ امکاں ہے خواب پرمائل
جمی ہے برف مقدر کے سائبانوںپر
سفرکا شوق نہیںپراس سے ملنے کو
میںآدھی رات کو جاتا ہوں آسمانوںپر
شعر جذبات و احساسات کا آئینہ ہوتا ہے۔جس طرح دل و جگر کا خون ہوتا ہے اور اس سے ایک قطرہ اشک بنتا ہے۔اسی طرح ایک شعرکی تخلیق میںشاعر کا پوراوجدان حرکت میں رہتاہے۔شاعری ودیعت خدا وندی ہے۔
آج ہم ایسے ہی ایک نامورشخصیت کا انٹرویولینے جارہے ہیںجو شاعر ہونے کے ساتھ ہمہ جہت شخصیت ہیں۔سماجی کاموںمیں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔انہوںنے اعلی پائے کی غزلیں،نظمیں،ہائیکو،تریلے،تروینی،قطعہ اور تنقیدی نظمیں لکھیں۔ان کی شاعری میںسب سے منفرد رنگ چھلکتا ہے۔ان کی شاعری میںایک ردھم بھی ہے۔جب وہ مشاعروں میں اپنے مخصوص اندازمیںپڑھتے ہیں توسامعین سحرزدہ ہوجاتے ہیں۔ان کا اپنا ایک الگ اندازاورمنفرد لہجہ ہے جوان کی شناخت بن گیا۔جینوئن شاعرکی یہی سب سے بڑی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے ہاںکسی دوسرے شاعرکا رنگ نہیں ہوتا۔وہ خوداپنا لہجہ اوررنگ خود تخلیق کرتا ہے۔کچھ لوگ بہار کی طرح ہوتے ہیں۔
کاشف شہزادکا نام بھی ان میںسے ایک ہے۔ و ہ افسانے اور افسانچے پر اپنا جوہر دکھاچکے ہیں۔ خدمت خلق میں ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔ ان کی سماجی خدمات گراں قدر ہیں۔ ان کی محبت اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں’’جیون سانجھ‘‘این جی او کے جنرل سیکریٹری منتخب کیاگیا۔کاشف شہزاد ایک پروفیسرکی حیثیت سے بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔انہیںامامیہ کالج میںاردوپڑھاتے ہوئے ۲۳ سال کاعرصہ بیت گیا۔مگر اس پیشے سے ان کی محبت،لگن اور جنون گزرے وقت سے کم تو نہیں ہوئے مگر بڑھتے چلے جارہے ہیں۔جس کی وجہ سے انہیںامامیہ کالج ساہیوال کا اسٹاف سیکریٹری منتخب کیا گیا۔کاشف شہزاد مزید جن فیلڈزمیں اپنی خدمات سرانجام د ے رہیںہیں۔
وہ متعد ماہنامے ،سالنامے کے ایڈیٹر۔مجیدامجد اکیڈمی کے جوئنٹ سیکریٹری،سوشل ویلفئیر ڈپارٹمنٹ، کمیونیٹی ڈیولپمنٹ، کمیونیٹی آرگنائزیشن اور وومن آرگنائزیشن اوروومن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے پروجیکشن اور ایونٹ ڈائریکٹر۔ مبصر، صدا کار، براڈ کاسٹر، ساہیوال ڈویژن کے پہلے ڈی جے، آر جے، آٹو پین میوزیکل بینڈکے شاعر اور اینکر، ریڈیو ڈرامہ آرٹسٹ، اسکرپٹ رائٹر۔
مزید میں ان کے بارے میں کچھ کہوںتو سورج کو چراغ د کھانے کے برابر ہوگا۔سوچا آج انہیںحجاب فیملی سے ملوادیا جائے۔
تو آئیے پروفیسر کاشف شہزاد سے ملتے ہیں۔
سوال:سر آپ کی تاریخ پیدائش اور مقام؟
جواب: ۵ ستمبر۱۹۷۰ساہیوال
سوال:کاشف سر سب سے پہلے تو ہمارے اس سوال کا جواب دیجئیے کہ آپ اتنی فیلڈز میںبیک وقت اپنی خدمات سرانجام دے رہیں ہیں۔اتنا مصروف رہنے کی کوئی خاص وجہ؟
جواب: فراغت انسان کے شایان شان نہیں۔ ویسے بھی ایک دفعہ ملنے والی زندگی میںکئی زندگیاں جینا چاہتا ہوں۔
سوال:خود کے لیے کب وقت نکالتے ہیں؟
جواب :اپنے لیے وقت نکالنے کا وقت نہیں ملتا۔ ویسے بھی میںاپنے لیے زیادہ کانشس کبھی نہیں رہا۔
سوال:شدید تھکن میں کیا کرتے ہیں؟
جواب:شدید تھکن میں زیادہ کام کرتا ہوں۔
سوال:اپنی پروا نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ؟
جواب:یہ میرے لیے زیادہ اہم نہیں۔
سوال:سر کام تو مشینیںبھی کرتی ہیں۔تو کیا یہ کہنا بجا ہوگاکہ آپ خود کو ایک مشینی انسان تصور کرتے ہیں؟
جواب:ہماری جان پے دوہرا عذاب ہے محسن
کہ دیکھنا ہی نہیں،ہم نے سوچنا بھی نہیںہے۔
مشین صرف کام کرتی ہے۔انسان صرف کام نہیںکرتے۔ مشین کام کے دوران غلطی کرے تو کرتی ہی چلی جاتی ہے۔انسان کام کے دوران بھی بہت کچھ سوچتا اور محسوس کرتاہے۔ویسے بھی مشین انسانی احکامات کے تابع ہے اور انسان اپنی سوچ کو تابع خودکرتا ہے۔
سوال:خوب،سر آپ کی کالیفکیشن کیا ہے؟
جواب:قلندر جز دو حرف لاالہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہہ شہر قارون لغت پائے حجازی کا
میںنے ایم اے اردو،انگلش، ،فارسی کیا۔ فلسفہ،سیاسیات اور پنجابی ادھورے رہ گئے۔
سوال:کاشف شہزاد ایک ہمہ جہت شخصیت ،آپ کو اپنی شخصیت کا کون سا روپ پسند ہے؟
جواب: دیکھئیے سباس مجھے اپنا معلم ہونا ہی پسند ہے۔کیونکہ یہ وہ واحد صفت ہے جس پر سرکار مدینہ نے خود پر فخر کیا۔
سوال:آپ کو کتنا عرصہ ہوگیا اس فیلڈمیںآئے؟
جواب: مجھے تئیس سال ہوگئے اردو ادب پڑھاتے ہوئے۔اللہ کاشکراس وقت اٹھارہ گریٹ پر ہوں۔
سو ال:ماشاء اللہ۔ اللہ آپ کومزید کامیابیوںسے ہمکنار کرے‘ آمین۔آپ کا اپنے اسٹوڈنٹس سے رویہ کیسا ہوتا ہے،سختی کرتے ہیں یانرمی اختیار کرتے ہیں؟
جواب:فرینڈلی اینڈفادرریلیشن۔
سوال :کیا آپ موجودہ تعلیمی نظام سے مطمئن ہیں؟
جواب:موجودہ تعلیمی ماحول’’نظام‘‘ کہلانے کا مستحق نہیںہے۔
سوال :طلبہ یونینز کے حق میںہیںیا خلاف؟
جواب:آج کل طلباء یو نین صرف سیاسی مفادات کے حصول کی سیڑھی ہے اور پڑھے بغیرخود کو معتبربنانے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں۔
سوال:آپ کی آواز ماشاء اللہ بہت اچھی ہے۔آر۔جے فیلڈ میں کب آئے آپ اور کس پوسٹ سے اسٹارٹ کیا تھا؟
جواب:نئرے اللہ نت نے مجھے ساہیوال کی تاریخ کا حصہ بنا دیا۔اس کا شکر ہے۔میںساہیوال ڈویژن کا پہلا ایف ایم براڈ کاسٹر ہوں۔۲۰۰۶ میں آغاز کیا تھا۔۱۲اپریل کو دس سال ہوگئے۔
سوال :آر۔ جے بننے کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب:بہت دلچسپ اور حیرت بھرا تجربہ رہا۔اللہ نے اتنی عزت ووقار،شہرت ومحبتوں سے نوازاکہ امکانات کے جانے کتنے جہاں دریافت ہوگئے۔اس کابے حد شکریہ۔
سوال:آج کل ریڈیو پر جو کالز آتی ہیں۔ان میںسے اکثر بہت ہی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ایسی صورتحال میں آپ کیا کرتے ہیں؟
جواب:میں لائیو کالز کے اس لیے خلاف ہوںنہیں لیتا۔
سوال:آپ اور آر۔جے کیا مماثلت ہے؟
جواب :آواز کا استعمال۔
سوال:سناہے کہ آپ نے افسانے بھی لکھے تھے؟
جواب:(مسکراتے ہوئے)کبھی لکھے تھے اب تو یہ بھی معلوم نہیںکہاں رکھے ہیں۔
سوال:آپ نے شاعری کی تمام اصناف پر لکھا،اسکرپٹ اور افسانے بھی لکھے توازراہ تفنن کبھی مزاح بھی لکھا؟
جواب:جی یہ’’ حرکت‘‘بھی کبھی کبھی سرزد ہو ہی جاتی ہے۔
سوال:رائٹرر بننا یہ بچپن سے آپ کا خوب تھا؟
جواب:دیکھئیے کوئی نہیں جانتا کہ وہ مستقبل میںکیا بنے گا۔الحمداللہ گھر کا ماحول ایساعلمی، ادبی،روحانی اور Multi dimensional ملا کہ ادب اورروحانیت نے خود ہی اپنی آغوش میں لے لیا۔
سوال:کسی شخصیت سے متاثرہو کر لکھنا شروع کیا؟
جواب :کسی سے متاثرہوکر لکھنا میرے خیال میںمستحسن نہیں۔غنچے سے خوشبوکو نکالنے کے لیے کوئی بیرونی کوشش درکار نہیںہوتی۔
سوال:آپ نے ادب کی دنیا میں قدم کب رکھا؟
جواب:ساتویں یا آٹھویںکلاس میں۔
سوال:آپ کی پہلی تحریر/شاعری؟
جواب:اداس تنکے آشیاں کے چیخ چیخ اٹھے
گماں کے ہاتھ میں ہیں زردخشک سے پتے
بہت تلاش کیاساحلوںکی بستی میں
ملا سراغ نہ کوئی ادھوری زندگی کا
سوال:واہ واہ۔سب سے پہلے کس میگزین /نیوز پیپرمیں لکھا؟
جواب:بچپن میں بچوں کے میگزین پھول اور ہمدرد میں لکھتا رہا۔
سوال:سب سے پہلا آرٹیکل کون ساتھا؟کس میگزین /نیوز پیپر میں شائع ہوا؟
جواب:اسکول وکالج کے میگزینزمیںآرٹیکل پبلش ہوتے رہے پھر یونیورسٹی کیپھر اوراق،فنون،قندعل،ماہ نو،انڈیا کے میگزین شاعر میں اور بہت سے۔
سوال:بچپن میں کیا بننا چاہتے تھے؟
جواب:بچپن میں سلطان نورالدین زنگی بننا چاہتا تھا۔
سوال:کن علوم پر آپ کو عبور حاصل اور کونسی کونسی زبان بول اور سمجھ سکتے ہیں؟
جواب :اردو،فارسی،ہندی،پوربی اور انگلش بچپن سے ہی گھر میں سیکھتا رہا۔والدہ،خالہ،ماموں،چچا،نانا،نانی سب نے مجھ پر ہی فوکس کیا۔پھر بعد میں مزید بہترہوتا گیا۔پنجابی بھی گھر کی زبان تھی اس لیے وہ بھی ساتھ رہی۔
سوال:اسکول وکالج کے زمانے میںکیسے طالب علم تھے،اس دوران ایسا واقعہ جو اب بھی یاد ہو؟
جواب:زیادہ محنتی طالب علم نہیں تھا۔ایم۔اے میں دل لگا کرپڑھااوریونیورسٹی میںتیسری پوزیشن لی۔بہت سے واقعات یاد گار ہیں۔مگر ایم۔اے کاسیرو سیاحت کا سفر بہت مزے کا تھا۔
سوال:کون سی کتاب ہے جو مجھے یا سب کو بار بار پڑھنی چاہیے؟
جواب:قرآن مجید بار بار پڑھنے میں عافیت ہے۔
سوال:بیشک،کوئی ایسی کتاب (قرآن مجید) کے علاوہ جو آپ کی موسٹ فیورٹ ہے۔اور بار بار ریڈ کرسکتے ہیں؟
جواب:دیوان غالب۔
سوال :کون سے رائیٹرا ور شاعرکو پڑھ کے لگاکہ اس نے قلم سے جہاد کا حق ادا کردیا ؟
جواب: کوئی ایک نہیں،کافی ہیں۔شاعر بھی ،نثر نگار بھی۔الگ الگ پہلوئوں سے اپنا فرض ادا کرنے والے۔درد سے فرحت عباس شاہ تک اور میرامن سے لے کر اسلم سحاب تک۔
سوال:آپ کے خیال میںقلم کسی قوم کی سوچ،حالات بدلنے میں کتنا مددگار ہے؟
جواب:قلم معجزہ دکھاتا ہے۔تاریخ میں بہت سی مثالیں موجود ہیں۔قدیم یونان سے لے کرروم تک۔
سوال:نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ جن سے ان کے کام میںبہتری آئے؟
جواب :نئے لکھنے والے اگر دماغ کی بجائے دل کا ہاتھ پکڑ کر چلیں۔درد مندی کو رہنما بنائیں تو کم لکھنا بھی پر اثر ہوگا۔
سوال:جو لوگ دل کی سنتے ہیںاس کا مطلب و ہ دما غ کی سننے والوں سے بہتر ہیں؟
جواب :اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل‘ لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑدے۔
سوال :آپ کی ایسی کون سی خواہش ہے جو آپ چاہتے ہیں پوری ہو؟
جواب:خواہشات کا نہ ہونا بھی ایک خواہش ہی ہوتی ہے۔کتنی بھی پوری ہوجائیں۔۔پھر بھی فہرست طویل ترہوتی چلی جاتی ہے۔البتہ ایک خواہش ہے کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہوجائے۔بس
سوال: گڈ۔خواہشات دوقسم کے لوگ نہیں رکھتے۔ا یک وہ جس نے سب کچھ پا لیا ہو۔دوسرے وہ جنہیں مانگنے کا سلیقہ نہیںآتا،آپ خود کو کون سے ٹائپ کے لوگوں میںشمار کرتے ہیں؟
جواب:کچھ پانا،مانگنا۔ان سے بھی ماورا بہت کچھ ہے۔جن کو اللہ سے مانگنے کا سلیقہ نہیں شاید ان کا احساس ندامت ان لوگوں سے بہتر ہے جویہ سمجھتے ہیں انہوں نے سب پالیا۔مانگنے کا سلیقہ بھی وہی دیتا ہے اور احساس نارسائی کی لذت بھی وہی عطا کرتا ہے۔میں ان سے کمتر ہوں۔مانگنے کے لیے کچھ نہیں جو اس کا حکم جو اس کی رضا۔
سوال:گڈبہت اچھی سوچ ،زندگی آپ کے لیے کیاہے ؟
جواب:زندگی تلاش ذات کی کھڑکی سے کائناتی مشاہدے سے پختگی پاکر درد سمیٹنے اور محبتیںتقسیم کرنے کا نام ہے۔
سوال:زندگی میں اب تک جو ملااس پر کتنے فیصد مطمئن ہیں؟
جواب:دیکھئیے سباس گل زندگی میںجو کچھ انسان کو ملتا ہے اسے اس پر مطمئن ہونا ہی چاہیے کیونکہ جو کچھ ملا،اگر اتنا بھی نہ ملتا تو کیا ہوتا؟اس لیے ناشکری کی بجا ئے قناعت و غنیمت کو وجہ تسکین بنانا بہتر ہے۔
سوال:کیا زندگی کبھی بوجھ لگی،آخری بار کب روئے ؟
جواب:زندگی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور امانت ہے۔کبھی بوجھ نہیں لگی۔طبیعت حساس تو اتنی ہے کہ پلکیں نم اور آنکھیںسرخ ہی رہتی ہیں۔
سوال:زندگی کو کیسے بیان کریں گے؟
جواب:زندگی دردمندی ہے۔اپنے لیے جی جانے والی زندگی نہیں۔
سوال:ایسا کوئی واقعہ جس نے آپ کو بدل دیا ہو؟
جواب:صرف ایک واقعہ زندگی کو کم بدلتا ہے۔شاید جزوی طور پے در پے مگر روزانہ کئی واقعات ،مناظر، معمولات ایسے ہوتے ہیں جو برق رفتاری سے احساسات کی ترجمانی کے زاویے بدلتے چلے جاتے ہیں۔مجھے لمحہ بہ لمحہ تبدیلی زیادہ بھاتی ہے۔کم وقت میںزیادہ تبدیلی کے امکانات سے شخصیت زندگی کے مختصر عرصے میںخود شناسی ا ورخود احتسابی کے زیادہ مرحلے طے کرلیتی ہے۔
سوال:آپ کی زندگی میںآنے والاشخص جس نے آپ کی زندگی کوبدل دیا؟
جواب:ایک نہیںکئی احباب نے مل کر بہت بدلا ہے۔
سوال:زندگی کا حسن کس چیز میںہے؟
جواب:زندگی کا حسن احساس ذمہ داری میں ہے۔
حجاب :آپ کے خیال میںزندگی گزارنے کے تین اصول ؟
جواب:اللہ پربھروسہ ،خود پر اعتماد اور مثبت سوچ۔
سوال:زندگی میںمشکل حالات میں آپ کیاکرتے ہیں؟کیسے نبٹتے ہیں؟
جواب:جب تدبیر کام نہ کرے تو سب اللہ کے سپرد۔
سوال:زندگی کا کوئی خوب صورت اور بدصورت فیز جو ہمیشہ یاد رہے گا؟
جواب:یونیورسٹی دور۔
سوال:کوئی قابل فخر لمحہ؟
جواب:میرے لیے وہ لمحہ قابل فخر ہے جو مجھے احساس دلائے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربان ہے۔ویسے یہ قابل تشکر لمحے ہوتے ہیں۔فخر و غرور کا ماخذ جو اللہ کو پسند نہیں۔
سوال:فرض کریںاگر دوبارہ زندگی ملی تو کیا بننا پسند کریںگے؟
جواب:زندگی دوبارہ ملی توکاشف شہزاد بنناہی پسند کروں گا۔
سوال:کوئی خواب جن کی تعبیرچاہتے ہیں؟
جواب:خواب میں خود کو ہوا میںاڑتے ہوئے بہت دیکھتاہوں۔ تعبیرکی بجائے یہ ممکن ہو تو کمال ہے۔
سوال:کیا چاندنی راتیں آپ کو پیغام دیتی ہیں،اس کا فسوں آپ پر بھی چلتا ہے؟
جواب:چاندنی رات چپ کی زبان سے بہت باتیں کرتی ہے بچپن سے ہے۔
سوال:کیا چاندنی راتوں کا شاعر کے مزاج پے اثر ہوتا ہے؟
جواب :صرف چاندنی راتو ں کا ہی نہیں،تپتی دوپہروں کا بھی ہوتا ہے۔طبیعت کی حساسیت جس قدر شدید ہوگی۔ مناظر، موسم، لوگ، جملے، ماضی، حال، مستقبل، معاملات زندگی کے نشیب وفرازاسی شدت سے اثر انداز ہوں گے۔ کبھی کبھی تو الفاظ کا دہانہ چھوٹاپڑجاتا ہے احساسات کے پیچیدہ بہائو کے آگے۔جیسے ایک چھوٹے سے دروازے میںسے سینکڑوںافراد ایک دفعہ گزرنے کی کوشش کریں۔
سوال:زبردست سر۔ شعر میںآپ کودرد دل کہناآسان لگتا ہے ؟
جواب:کچھ ٹیسیںلفظوں کے پیراہن سے الجھتی بھی ہیں۔سو ایسے میںصرف مسکرانے پر اکتفا کرنا چاہیے۔
سوال:کہتے ہیں کہ جو محبت کرتے ہیںشاعری بھی وہی کرسکتے ہیں؟کیا آپ کو کسی سے محبت ہوئی ؟
جواب:مجھے کسی سے محبت نہیں کسی کے سوا
میں ہر کسی سے محبت کروں کسی کے لیے
حجاب:واہ ،محبت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
جواب:محبت کے بارے میںمیںوہی کہوںگاجووہ میرے بارے میں کہتی ہے۔
میں محبت ہوں،مجھے آتا ہے نفرت کا علاج
تم ہراک شخص کے سینے میںمیرادل رکھ دو۔
سوال:محبت پہ یقین رکھتے ہیں؟
جواب:محبت پے یقین کرنا نہیں پڑتا۔یہ اپنایقین خوددلادیتی ہے۔
سوال:آپ کا پسندیدہ شعر؟
جواب:بہت سے شعر پسندہیں۔ایک یہ ہے…
تماشا ختم ہوا اورایسے ختم ہوا
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے۔
سوال:خود کوایک شعر میںسمیٹیں؟
جواب:زندگی ہے صدف،قطرہ نیساںہے خودی
وہ صدف کیا ہے؟جو قطرے گہر کرنہ سکے
ہو اگرخود نگروخودگروخودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
سوال:اپنی کوئی نظم ،یا شعر جو آپ کو لگتا ہوکہ بس کمال کی آمدہوگئی تھی؟
جواب:ہنوز منتظر ہوں۔ابھی سفر میںایسا کوئی موڑنہیں آیا۔
سوال:شاعری کس کو سوچ کر کرتے ہیں؟
جواب:شاعری کسی ایک سوچ کی مرہون منت نہیںہوتی۔ہر سوچ شاعری کا سانچہ اورلہجہ خودہی تراش لیتی ہے۔
سوال:آپ کی شا عری موسٹلی چائے پے ہوتی ہے کوئی خاص وجہ؟
جواب:شاید اس لیے کہ چائے کافی پسند ہے اور میںان شاعروںمیں سے نہیںجوشعروادب کے لیے شراب کے محتاج ہیں۔اللہ کا شکر ہے سو صرف اتنا ہی کہوںگا۔
چائے
ہائے
سوال:کیاآپ شعرسے معاشرے کی اصلاح کاکام لے سکتے ہیں؟
جواب:بالکل لیا جاسکتا ہے۔بے شمار مثالیں موجود ہیں۔یونان کے سولن سے لے کر اقبال وفیض تک۔
سعدی سے لے کر حالی تک۔
سوال: سر ماشاء اللہ آپ نے ہرصنف میں شاعری کی ہے مگر سب سے زیادہ کس صنف میں لکھتے ہیں؟
جواب:غزل اور نظم لکھتاہوں۔
سوال:آپ کی شاعری کا مرکزی خیال کیا ہے؟
جواب:ہر خیال اپنی صنف خودطے کرتا ہے۔
سوال:سر کبھی ایسا ہواکہ آپ بہت کچھ لکھنا چاہتے ہوں مگر قلم نہ تھام پاتے ہوں،ایساکبھی ہوا الفاظ نے آپ کا ساتھ چھوڑا ہو،ایسی صورت حال میںایک لکھاری کو کیاکرنا چاہیے؟
جواب:ایک دودفعہ ایسا ہوا۔ایسے میں اللہ سے توبہ کرنی چاہیے کہ اس کی رحمت کیوںکم ہوئی۔
سوال:ایک لکھاری کاکیا فرض ہے؟
لکھاری کاسب سے پہلافرض یہی ہے کہ وہ لکھے اور اصلاحی پہلوپر لکھے۔
سوال:اگر آپ سے قلم چھین لیا جائے تو؟
جواب:قلم چھن جانے پے وہی کہوں گا جوفیض نے کہا تھا۔
’’متاع لوح وقلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میںڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
سوال:کاشف سرآپ سماجی بہبود کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیںاور ایسے کئی اداروں سے آپ وابستہ بھی ہیں۔دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ کیسے پروان چڑھا؟کسی ضرورت مندکی مدد کرکے جوخوشی ملتی ہے اسے کن لفظوں میںبیان کریں گے؟
جواب:بچپن میں یہی سمجھایا گیاکہ عبادت کی قضاہوتی ہے مگر خدمت کی کوئی قضانہیں۔اس لیے یہی فطرت ثانیہ بن گئی۔اس خوشی کوبیان نہیں کیا جاسکتامحسوس کیا جاسکتا ہے۔
سوال:ماشاء اللہ۔بیشک ،کون سی چیزآپ کو متاثر کرتی ہے؟
جواب:دھیمے مزاج کے لوگ متاثر کرتے ہیں۔صاف گو،منکسر المزاج۔
سوال:آپ کی پسندیدہ شخصیت؟
جواب:سرکاردوعالم اور محبوب رب کائنات۔
سوال:جب کسی کو پہلی بار دیکھیں یا ملیں تو کیا نوٹ کرتے ہیں؟
جواب:کتابوں سے زیادہ چہرے پڑھے ہیں۔اس لیے پہلی ملاقات میںچہرے ہی پڑھتاہوں۔
سوال:کسی بات پر غصہ آجاتا ہے،اور کس بات سے فوراًچلا جاتا ہے؟
جواب:نماز سے دھیان ہٹ جائے یا کسی پر ظلم ہوتے دیکھوںتو بہت غصہ آتا ہے۔پھر خود کو ڈانتا ہوںتو ٹھیک ہوجاتاہوں۔
سوال:کوئی ایسی بات جس سے چڑ ہے؟
جواب:جب کوئی میرے جذبوں پر شک کرے۔
سوال:اچھی یا بری عادت؟
جواب:ایک ہی بری عادت ہے سب پر بہت جلد اعتبار کرلیتا ہوں۔
سوال:کوئی ایسی بات جس پر پچھتاواہوا؟
جواب:کچھ ذاتی فیصلوںپر پچھتاوا ہے۔
سوال:کسی کی بری بات یاعادت دیکھیں تو منہ پر کہہ دیتے ہیںیا نہیں،بس دل میںہی غصہ کیے جائو ؟
جواب:سمجھاتا ضرور ہوں۔باقی سب اپنے اپنے مزاج کے پابند ہیں۔ان کی اپنی مجبوری۔
سوال:فارغ وقت میںکیاکرتے ہیں؟
جواب:فارغ وقت میںبہت سوچتا ہوں۔
سوال:آج کل کیا مصروفیات ہیں؟
جواب:آج کل کچھ ذاتی معاملات کوترتیب دے رہا ہوں۔
سوال:آپ کہاںکہاں کی سیر کرچکے ہیں،کون سامقام آپ کو زیادہ پسند ؟
جواب:بہت گھوما پھرا بہت آوارگی کی۔مگر احساس وتخیل کی ٹائم مشین کے ذریعے ذات اور کائنات میں امکانات اور حقائق کے جزیرے دریافت کرنا پسند ہے۔
سوال:کون سا ملک پسند ہے؟
جواب:اپنا پیارا پاکستان۔
سوال:کون سے سفر سے آپ کو ڈر لگتا ہے؟
جواب:ہر اس سفر میںجس میں اللہ کی رحمت شامل نہ ہو۔ڈر لگتا ہے۔
سوال:کون سی دعا ہروقت آپ کے لبوںپر رہتی ہے
جواب:ورد ہیںدوتین وہی حرز جاںرہتے ہیں۔
سوال:آپ کا پسندیدہ جملہ؟
جواب:من عرفہ نفس فقدعرف ربہ۔
سوال:صبح دم آئینہ کیا آپ سے ہم کلام ہوتا ہے؟
جواب:صبح دم آئینہ کہتا ہے کہ اے اجنبی تم جانے پہچانے سے لگتے ہو۔
سوال:دنیا کا خوب صورت ترین رشتہ؟
جواب:ماںاور اولاد۔
سوال:آپ کا قیمتی اثاثہ؟
جواب:میرا ایمان اور فیملی۔
سوال:بہن بھائیوں میںکوئی ایساجسے علمی وادبی حوالے سے اپنی کاپی سمجھتے ہوں؟
جواب:سب کے اپنے اپنے رنگ ہیں۔مگر میرے بچوں میں میرے ذوق چھلکتے ہیں۔
سوال:آپ کی وجہ شہرت کیا ہے ؟شاعری/ریڈیواسکرپٹ رائٹر؟
جواب:اللہ تعالیٰ نے ہر شعبے میںیکساںعزت سے نوازا۔اس لیے اس کی رحمتوںکی نمبرنگ نہیں کرتا۔
سوال:کہا جاتا ہے ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔کیا آپ ایگری ہیں اس بات سے،آپ کی کامیابی کا راز؟
جواب:اللہ کی خصوصی رحمت اور ماں کی دعائیں۔
سوال:کوئی آپ سے آپ کی قیمتی چیز مانگے اور آپ نہ د یناچاہیں تو؟
جواب:اگر میرے پاس واضح دلیل ہوگی قیمتی چیزنہیںدوں گا اور اگر سوالی کے پاس مضبوط دعوی ہوگا تو بصداحترام دے دوں گا۔
سوال:واہ!زبردست،آپ کا پسندیدہ پھول،پھل اور خوشبو؟
جواب:پسندیدہ پھول ٹیولپ،پھل آم اور بارش کے بعد کی مہک پسندہے۔
سوال:کھانا اور لباس میں کیا پسندہے؟
جواب:کھانا گھر کا پسند ہے جو بھی ہو،لباس سیاہ رنگ میں پسند ہے۔
سوال:آپ کا فیورٹ کلر/موسم؟
جواب:موسم سرما/کلرسیاہ۔
سوال:سر کاشف یہ بتائیںکہ ہماری نئی جنریشن کی کس حدتک ادب میں دلچسپی ہے؟
جواب:نئی نسل ادب سے کوسوں دور ہے۔مگر جو لگائو رکھتے ہیںوہ قابل تعریف ہے۔
سوال:سرآپ نے ابھی تک اپنی کتاب پبلش کیوں نہیں کروائی؟
جواب:دیکھئیے۔ چا ہتا تو اب تک کئی بکس پبلش کروا لیتا۔ مگر اپنی بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے کچھ ادھوری نظمیں ہیں نا مکمل غزلیںہیں۔ جو کسی لمحہ تکمیل کے منتظر ہیں ان کوراستے میں اکیلانہیں چھوڑسکتا۔
سوال: اچھا لکھنے کے لیے زیادہ مطالعہ ضروری ہے یا یہ ایک قدرتی صلاحیت ہے؟
جواب: قدرتی صلاحیت نہ ہو تودنیا بھرکی کتب کا مطالعہ کسی کام کا نہیں۔
سوال:سر آخری سوال ہماری نئی جنریشن اور لکھاریوں کے لیے کوئی میسج؟
جواب:نئے لکھنے والوںکویہی کہوں گا کہ جو لکھیںخودپر محسوس کرکے لکھیں۔تحریر و مصنف شاعری و تخلیق کار مشہور نہ بھی ہوں تب بھی حق ادا کرجائیں۔
سوال:بالکل سر۔حجاب قارئین کے لیے آپ کا پیغام؟
جواب:میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔
حجاب ایک دیدہ زیب اور معیاری تحریروں کا میگزین ہے جو علم و ادب کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے۔سب کو چاہیے کہ اس کی تحریروں سے استفادہ کریں،کیونکہ اس میں تحریریں ادب کے معیار کے برابر ہیں۔
سوال:جزاک اللہ سر۔مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے ’’حجاب‘‘ کے لیے اپنا انٹرویو کرنے کا موقع فراہم کیااور اپنی مصروفیت سے ہمارے لیے وقت نکالا۔
جواب:سباس گل آپ کا بھی شکریہ،آپ نے مجھے’’حجاب فیملی‘‘سے ملاقات کا موقع دیا۔آپ کی سلامتی کے لیے ڈھیروں دعائیں۔
سوال:اس کے ساتھ ہی ہم نے کاشف شہزاد سے اجازت چاہی۔
قارئین حجاب کے لیے کاشف شہزاد کی کچھ شاعری پیش خدمت ہے۔
…٭٭…
ابھی سویا ہی تھا،کہ اس کی آہٹ پھر سنائی دی
جو نیند اتری تھی آنکھوں میں وہ پھر آنگن میں جانکلی
ابھی کچھ دیر پہلے تواسے دل سے نکالا تھا
ابھی تو ذہن سے اس کا ہراک وعدہ مٹایاتھا
ابھی تو اس کی خواہش کو دعائوں سے نکالا تھا
ذرا سی دیر گزری،ساغر ہستی اچھالا تھا
ابھی اک نظم اس کے حسن پر لکھ کرجلائی تھی
بجھاکر آخری سگریٹ،میں کتنا کھل کررویا تھا
اسے اب بھول جانے کا ارادہ کرکے سویاتھا
ابھی سویا ہی تھا،کہ اس کی آہٹ پھر سنائی دی
…٭٭…
تمہیں اچھا کوئی مل جائے شاید
تیری خاطر برا ہونا پڑا ہے
…٭٭…
چاندکی راہ گزر سے آگے
کوئی توہے،جو صرف میرا ہے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close