Hijaab Jul-16

بزم سخن

سمیہ عثمان

گل مینا خان اینڈ حسینہ ایچ ایس… مانسہرہ

اس عید پر پھر ساتھ ہیں میرے
دوری‘ تنہائی اور تیری یادیں

مشل خان… بھیرکنڈ

مجھ کو اک خواب پریشان سا لگا عید کا چاند
میری نظروں میں ذرا بھی نہ جچا عید کا چاند
آنکھ نم کرگیا بچھڑے ہوئے لوگوں کا خیال
درد دل دے کر ہمیں ڈوب گیا عید کا چاند

ارم وڑائچ… شادیوال‘ گجرات

اس کی باتوں میں اس کی یادوں میں
کہیں میرا عکس بھی تو جھلملاتا ہوگا
لاکھ مصروف سہی وہ اپنے کاموں میں
مگر عید کا تہوار وہ بھی تو مناتا ہوگا

پروین افضل شاہین… بہاولنگر

چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہل ہمت
ان کو یہ دھن ہے کہ جانب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں
ہم اس سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں

مرزا علی شیر بیگ… ٹھٹھہ مغلاں

لگ کے ساحل سے جو رہتا ہے اسے بہنے دو
ایسے دریا کا رخ کبھی موڑا نہیں کرتے

ساریہ چوہدری… ڈوگہ

یہ جو تکتا رہتا ہے دن رات آسمان کو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا آخر
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا

ایس چلبلی… نور پور ٹمن

واہ! رے عشق تیرا کیا کہنا
جو تجھ کو جان لے تو اس کی جان لے

سمیہ کنول… بھیرکنڈ

تلاش مجھ کو نہ کر دشت ویراں میں
نگاہِ دل سے ذرا دیکھ ہر پل تیرے پاس ہوں

کوثر خالد… جڑانوالہ

یوں تو ہر عید پر یاد بہت آتے ہو
اس بار تیری یاد کچھ اس طرح سے آئی
بازار کو جانے کا وقت میں نے نکالا
کہنے کو مبارک عید کارڈ اٹھا لائی

سباس گل… رحیم یار خان

چھوڑ کر چل دیئے یوں وہ ملک عدم
عمر بھر کی پونجی پڑی رہ گئی
برکھا چھائی رہی یاد کی آنکھ میں
اور فقط آنسوئوں کی جھڑی رہ گئی

فصیحہ آصف خان… ملتان

بھولے ہوئے یاد آگئے عید کے دن
بار بار آنسو رُلا گئے عید کے دن
وہ نہ آئیں گے اے دل ناداں
جو ہمیں مجسمۂ غم بناگئے عید کے دن

کرن شہزادی… مانسہرہ

اس کا ملنا مقدر میں نہیں تھا ورنہ
ہم نے کیا کچھ نہیں کھویا اسے پانے کے لیے

فیاض اسحاق مہیانہ… سلانوالی

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
نہیں من میں خون فراہم‘ نہ اشک آنکھوں میں
نماز شوق واجب ہے‘ بے وضو ہی سہی

مشی خان… مانسہرہ

کچھ تم سے محبت ایسی تھی ہم باتیں کرنا بھول گئے
کچھ اور ہی ہم نے کہہ ڈالا جو کہنا تھا وہ بھول گئے
ہم نے تو کہا تھا لوٹ آنا پر تم لوٹ کر آنا بھول گئے
ہوئی رات فلک پر تارے تھے ہم دیا جلانا بھول گئے

انم… برنالی

تیرے ملنے کی ہر وقت پیاس رہتی ہے
تیری آہٹ کی ہر وقت آس رہتی ہے
سب کچھ ہے دنیا میں پھر بھی نہ جانے
یہ زندگی کیوں اداس رہتی ہے

ارم کمال… فیصل آباد

اس کے بعد اور بھی سخت مقام آئے گا
حوصلہ یوں نہ گنوا یہ تیرے کام آئے گا
اتنا مایوس نہ ہو گردش افلاک سے تُو
صبح نکلا جو ستارہ سر شام آئے گا

ریما نور رضوان… کراچی

کس قدر انوکھا ہے رابطہ محبت کا
کب نجانے ہوجائے معجزہ محبت کا
اپنی ذات سے بھی وہ اجنبی لگتا ہے
جس کے ساتھ ہوجائے گا حادثہ محبت کا

مسز نگہت غفار… کراچی

حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں
زلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑدیں
تم نے میرے گھر نہ آنے کی قسم کھائی تو ہے
آنسوئوں سے بھی کہو آنکھوں میں آنا چھوڑدیں

حفصہ یٰسین‘ عائشہ یٰسین…

ایک شخص مجھ کو زخم شناسائی دے گیا
جب دے نہ سکا پیار تو رسوائی دے گیا
جاتے ہوئے وہ اپنی نشانی کے طور پر
کتنے خلوص سے وہ مجھے تنہائی دے گیا

لائبہ میر… حضرو

کبھی ٹوٹا نہیں مرے دل سے تیری یاد کا رشتہ فراز
گفتگو جس سے بھی ہو خیال تیرا ہی رہتا ہے

اقراء مسرت اقو… تلہ گنگ

میں تم سے کیسے کہوں اے مہرباں!
کہ تُو علاج ہے میری ہر اداسی کا

صائمہ ذوالفقار… اقبال نگر

وہ بات کرنے پر نہیں متفق
اور ہم عید ملنے کی حسرت لیے بیٹھے ہیں

رائو تہذیب حسین تہذیب…

جو کسی طور مقابل ہی نہیں ہے ان کے
ایسے انسان پہ پھر چشم عنایت کیسی؟
آج پوچھا تو کھلا راز محبت مجھ پر
اہل زر کو کسی مفلس سے محبت کیسی؟

زین الدین شانی… کراچی

نازک مزاج لوگ تھے جیسے کہ آئینہ
ٹوٹے کچھ اس طرح کہ صدا بھی نہ کرسکے

ثمن الرحمن… حیدر آباد

کچھ میں بھی تھک گئی ہوں اسے ڈھونڈتے ہوئے
کچھ زندگی کے پاس بھی مہلت نہیں رہی
اس کی اک اک ادا سے جھانکنے لگا خلوص
جب مجھ کو اعتبار کی عادت نہیں رہی

اقراء وسیم… اللہ والا ٹائون‘ کراچی‘

عید کا دن بھی بس یہی سوچتے گزر جاتا ہے
ہمارے واسطے یہ عید بھی پچھلی عید سی کیوں ہے

ماریہ‘ طوبی وسیم… کراچی

مجھے عادت سی ہوگئی ہے صبح و شام لکھتی ہوں
تمہیں دلبر تمہیں محسن‘ تمہیں گلفام لکھتی ہوں
میں ہاتھوں پر کتابوں پر درختوں پر‘ دیواروں پر
میں جب لکھوں‘ جہاں لکھوں تمہارا نام لکھتی ہوں

سحرش اویس… کوئٹہ

روز ہی بھول جاتے ہو تم ہمیں
ہم تمہارے دوست ہیں کوئی سبق تو نہیں

فائزہ ناز… جہلم

میں تو خود پر بھی کفایت سے اسے خرچ کروں
وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close