Hijaab Jul-16

جیسا میں نے دیکھا

رفاقت جاوید

قراۃ العین حیدر
عینی آپا ہمیں اپنے سامنے پا کر ایک دم سے چونکیں تو ہم بھی چونک اٹھے وہ بوائے کٹ اورنج بالوں اور میلی ساڑھی پر پشمینے کی سال خوردہ شال میں خاصی مریض اور ماتمی لگ رہی تھیں۔ پروین صوفے کے کنارے پر ایسے ٹک کر بیٹھ گئی جیسے ابھی موقع ملتے ہی بھاگ جائے گی کیونکہ ان کے چہرے پر ناگواری و بیزاری کے نشانات مرقم دیکھ کر پروین مضطرب نظر آنے لگی تھی، ’’اچھا تو تم ہو پروین شاکر‘‘ انہوں نے عینک سے جھانکتے ہوئے قدرے ترشی سے کہا، پھر مجھے اور جاوید کو غور سے دیکھا حالانکہ ہمیں تو وہ اچھی طرح پہچانتی تھیں لیکن نگاہوں میںاپنائیت کی ہلکی سی جھلک بھی نہیں تھی پروین ایسے کوفت زدہ ماحول میں عموماً جی پر اکتفا کر کے دوسروں کو بولنے کاموقع فراہم کیا کرتی تھیں، اس وقت اس جیسا سامع کوئی اور نہ ہوتا تھا آج بھی اس نے ایسا ہی فیصلہ کرلیا تھا۔
تم نے ’’آگ کا دریا‘‘ کے بارے میں کوئی نتیجہ تو اخذ کیا ہوگا، وہ پھر تلخی سے بولیں اور ایک طنزیہ مسکراہٹ ان کے جھریوں سے اٹھے ہوئے چہرے پر پھیلی۔
’’جی، بامعنی اور بہت وزنی کتاب تھی۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’یہ بتائو کہ مجھے کیا حاصل ہوا اپنا ملک، اپنا گھر، اپنا خاندان چھوڑ کر اسی ملک نے پناہ دی۔‘‘ وہ زہر آلود لہجے میں بولی تو ہم خاموشی سے ایک دوسرے کو تکنے لگے جیسے ہماری ان سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کی خواہش سراسر نادانی ہو۔
پاکستان میں بقول ان کے ان کا قیام خاصا اذیت دہ تھا کیونکہ میں بالکل سچی اور کھری تھی اس لیے سب کی نظروں میں چبھنے لگی تھی، جاوید نے انہیں کچھ باتوں کے معقول جواب دیے ان کی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں تسلی و تشفی بھی دینے کی کوشش کی مگر وہ اپنے خیالات پر ڈٹی رہیں کبھی ترش و کڑوی اور کچھ بے معنی اور بہکی ہوئی باتیں کرتی رہیں اور خوب تازیانے برساتی رہیں جنہیں برداشت کرنا بے حد ضروری تھا کیونکہ وہ ہم سے بڑی تھیں آج بھی پروین بہترین سامع ثابت ہوئی تھی۔
جہاں بحث و مباحثہ پریشانی بننے کے مواقع واضح ہوتے تو وپ ایسی خاموشی اختیار کرلیا کرتی تھی کہ سوائے جی، ہاں اور درست کے علاوہ اس کی زبان بقیہ ادائیگی کو بھول جایا کرتی تھی آج بھی کچھ ایسا ہی سماں تھا ہم انہیں اس مختصر ملاقات میں مزید مضطرب کر کے واپس گاڑی میں بیٹھے تو پروین کا ایک ہلکا سا نسوانی قہقہہ فضا میں بکھرا اور نہایت راز داری سے بولی، رف اپنا تو فیوچر نظر آگیا بڑھاپے کی حواس باختگی، احساس شکستگی اور خود کلامی کی اذیت اور ندامت سے رب العزت محفوظ رکھے۔
وہ دعا مانگے جارہی تھی اور ساتھ شریر مسکان لبوں پر تھی گھر پہنچنے تک قرۃ العین حیدر ہماری گفتگو کا محور بنی رہیں، ہماری باتوں میں اس عالیشان عمارت کو کھنڈرات میں منتقل ہوتے دیکھ کر تاسف اور دکھ تھا۔
ان کی کھری کھری باتوں نے ہمیں شرمندہ نہ کیا تھا بلکہ ہمیں ان پر بے پناہ ترس و رحم آرہا تھا کہ وقت نے ان کی جوانی کو تو نگل ہی لیا تھا ساتھ ہی ہوش و خرد پر بھی تالے لگا دیے تھے، لیکن تمام منفی حادثات ذہن میں اور ان کے اثرات ان کی زبان میںمحفوظ ہوگئے تھے جنہیں وہ دن میں نجانے کتنی بار دہراتی ہوں گی تڑپتی ہوں گی خود کو رلاتی ہوں گی، میں نے ماحول میں گمشدہ پروین کو ہلکے سے ہلایا اور پیار سے پوچھا آپ نے تو اس ملاقات میں سوائے پچھتاوے اور پریشانی کے کچھ حاصل نہیں کیا آئی ایم سوری میں جانے سے پہلے آپ کو ان کی حواس باختہ باتیں اور زہریلا بے لحاظ رویہ نہ بتا سکی۔ ان کا ہر پاکستانی کے ساتھ ایسا ہی رویہ ہے۔
کوئی بات نہیں، میں پھر بھی انہیں ملنے ضرور جاتی مجھے ان کی باتوں نے قطعا ہرٹ نہیں کیا رف اس وقت انہیں کسی سہارے کی ضرورت ہے جو ان کی لک آفٹر کرسکے عورت کو ہر صورت اور ہر حال میں ایک بار شادی کرنے کا فیصلہ ضرور کرنا چاہیے ناکامی یا کامیابی تو رب العزت نے مقدر میں درج کردی ہوتی ہے اس سے تو ہم مقابلہ نہیں کرسکتے اب دیکھیں کہ گیتو میری جوانی کا محافظ اور بڑھاپے کا سہارا ثابت ہوگا۔
مجھے انہیں یوں تنہا دیکھ کر آج یہ خوش کن احساس شدت سے ہوا کہ میں اکیلی نہیں ہوں زمانہ میرے ساتھ ہے شاید مجھے ان سے یہی درس لینا تھا جو ملنے چلی آئی، وہ سنجیدگی سے بول رہی تھیں چہرے پر حد درجہ کا اطمینان پھیل گیا تھا۔
جیون کو زہر کومتھ کرامرت نکالنے والی موہنی
بھرا پیالہ ہاتھوں میں لیے پیاسی بیٹھی ہے
وقت کا راہو گھونٹ پہ گھونٹ بھرے جاتا ہے
دیوی بے بس دیکھ رہی ہے!
پیاس سے بیکل ہے اور چپ ہے!
ایسی پیاس کہ جیسے
اس کے ساتوں جنم کی جیبھ یہ کانٹے گڑے رہے ہوں
ساگر اس کا جنم بھون
اور جل کو اس سے بیر
ریت پہ چلتے چلتے اب تو جلنے لگے ہیں پیر
ریت بھی ایسی، جس کی چمک سے
آنکھیں جھلس گئی ہیں
طیّب رزق کی دعا قبول ہوئی آخر
آب زر سے نام لکھے جانے کی تمنا بھی بر آئی، لیکن
پیاسی آتما سونا کیسے پی لے؟
اک سنسار کو روشنی بانٹنے والا سورج
اپنے برج کی تاریکی کو کس ناخن سے چھیلے
شام آتے آتے کالی دیوار پھر اونچی ہوجاتی ہے!
(صد برگ)
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close