Hijaab Jul-16

آغوش مادر

کنزہ مریم

سوچ رہی ہوں ماں کا ذکر کرتے ہوئے بھی باوضوہونا چاہیے نا‘ اس دنیا میں انسانوں کے ہجوم میں بہت زیادہ رشتوں کے ہوتے ہوئے عزیز ترین دوستوں کی موجودگی کے باوجود کوئی انسان ایسا انہیں ہے کسی انسان کا ظرف بھی ایسا نہیں سوائے ماں کے جو ہم سے اپنی اولاد سے بے ریا اور مخلص ہوکر محبت کرتی ہے۔ صحیح معنوں میں ہماری پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھتی ہے‘ ہماری خوشیوں پر خوش اور ہمارے دکھوں پر دکھی ہوتی ہے۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر جب بھی اپنے رب کے حضور گڑگڑاتی ہے‘ دعا کے لیے دامن پھیلاتی ہے تو اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی‘ اپنی اولاد کے لیے ہی مانگتی ہے۔ ہمیشہ کے سکھ اس کی خواہشات کی تکمیل کی دعائیں میری ماں ایسی ہی ہے بالکل ایسی۔
بدقسمتی سے بروکن فیملی ہے‘ امی نانی اماں کے پاس ہوتی ہیں اور میں ابو اور بھائیوں کے پاس۔ امی کے بغیر رہتے ہوئے چار سال ہوگئے ہیں‘ بہت دل چاہتا ہے بارہا دل میں خیال آتا ہے یاد بھی بہت آتی ہے کہ کاش وہ میرے پاس ہوتیں‘ بڑی بہنوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ ان پر بہت رشک آتا ہے کہ انہوں نے اپنا بہت وقت امی کے ساتھ بتایا‘ دکھ شیئر کیے‘ خانہ داری ان سے سیکھی‘ آج جب میں خود ان ہی امور میں اناڑی ہوں تو امی کی یاد اور بھی زیادہ آتی ہے۔ فون پر بات ہوتی ہے تو مجھے سمجھاتی بھی ہیں لیکن میں ہی کم عقل ہوں‘ مجھے سمجھ میں نہیں آتا اور پھر دکھی ہوکر سوچتی ہوں کہ کاش امی میرے پاس ہوتیں تو اتنی مشکل نہ ہوتی۔ مائیں جس جگہ نہ ہوں وہاں عجیب بے برکتی اور بے رونقی سی رہتی ہے اور ہر پل محسوس بھی ہوتی ہے پتا نہیں اللہ جی نے اتنا سکون کیوں رکھا ہے ماں کی ذات میں ۔
مائوں کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے (عہد الست تنزیلہ ریاض) لگتا ہے کہ رائٹر نے مجھے دیکھ کر یہ جملہ لکھا تھا واقعی میں جب ہماری فیملی مکمل تھی ہر وقت امی ساتھ تھیںتو کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا اور اب جب وہ ساتھ نہیں ہیں تو بہت محسوس ہوتا ہے کہ کیسے وہ مجھے ٹوکتی تھیں‘ سمجھاتی تھیں‘ خانہ داری میں لگانے کی کوشش کرتی تھیں تو میں بڑی بے پروائی سے کہا کرتی تھی ’’امی جی ساری عمر یہی کام کرنے ہیں ابھی تو آرام کرنے دیں‘ جب وقت آئے گا تو کام بھی خود بخود ہی آجائیں گے۔ انسان کے سر پر پڑتی ہے تو انسان کر ہی لیتا ہے‘ کیا ہے پیڑا بناکر روٹی ہی بیلنی ہے۔ سالن پکانا کیا مشکل ہے‘ صفائی کون سا مشکل کام ہے‘ جھاڑو پونچھا ہی تو لگانا ہے‘‘ اور جب سچ میں یہ افتاد سر پر پڑی تو پتا چلا کہ کتنے بیس کا سو ہوتا ہے۔ مجھے بس کام کرنے میں انہیں مینج کرنے میں بہت مشکل ہوئی تھی اور یقین مانیں رات سونے سے پہلے ایک دفعہ روتی ضرور تھی تب امی کی یاد بہت آئی تھی۔
مائیں جو بھی سمجھاتی ہیں ہمارے بھلے کے لیے ہی سمجھاتی ہیں‘ بہت دفعہ کہا امی نے ’’کنزہ کپڑے سلائی کرنا سیکھ لو‘‘ میں آگے سے کہا کرتی تھی ’’امی کیا ہے آپ کو بھی آتے ہیں اور میری دونوں بہنوں کو بھی تو مجھے کیا ضرورت ہے ان سے سلوالیا کروں گی اور آج جب ایک سوٹ کو سلائی کرتے ہوئے دس دفعہ ادھیڑتی ہوں تو ضرور یہ بات یاد آتی ہے۔ وقت تیور بدلتا ہے‘ ایک سا نہیں رہتا۔ انسان کو کم از کم اتنا ضرور آنا چاہیے کہ وقت پڑنے پر کسی کا محتاج نہ ہو۔ اکثر باتیں فون پر ان سے کہہ کر ریلیکس ہوجاتی ہوں بلکہ بعد میں بات بھول بھی جاتی ہوں اور امی کا تین ہفتے بعد بھی فون آئے تو وہ پوچھتی ہیں‘ مسئلہ حل ہوا پریشانی دور ہوئی اور مجھ سے اتنی دور بیٹھ کر مجھے ممکنہ حل بتاتی ہیں لکھنے کے لیے ہمت دیتی ہیں‘ مشورے دیتی ہیں۔ مائیں اتنی سویٹ سی کیوں ہوتی ہیں‘ جب امی کے ساتھ تھی تو بے پروا تھی کسی بات کی فکر اور پریشانی نہیں ہوتی تھی اب تو بے پروائی افورڈ ہی نہیں ہوتی بس یہ ساری عیاشیاں مائوں کے دم سے ہی ہوتی ہیں بلکہ اکثر تو امی بھی حیرانگی سے پوچھتی ہیں ‘ کنزہ کہاں تمہیں کام کہا کرتے تھے اور تمہیں غصہ آجاتا تھا تو اب کیسے کرلیتی ہو غصہ نہیں آتا پہلے پتا ہوتا تھا نا امی ہیں کرلیں گی اب پتا ہے کہ خود ہی کرنا ہے چاہے دل سے کرو چاہے بے دلی سے کرنا تو ہے نا۔
لیکن کوشش بھی بہت ہورہی ہے سگھڑ اور آرگنائزڈ بننے کی لیکن کامیابی نہیں ہورہی تو بس پھر اب
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
اب پتا چلتا ہے کہ مائیں کیا ہوتی ہیں میری ہر ضرورت وہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اب بھی پوری کرتی ہیں اور مجھے اچھے سے اندازہ ہے کہ وہ یہ سب کتنی مشکلوں سے مجھے بھجواتی ہیں اللہ تعالیٰ میری امی جی کو ہمیشہ خوش اور صحت مند رکھیں پاس تھیں تو قدر نہیں تھی اور اب تمہارے نہ ہونے سے کچھ بھی نہیں بدلا۔
یہ سورج بھی وہاں سے ہی نکلتا ہے
آسمان پر تارے بھی مچلتے ہیں
اور چاند کی چاندنی بھی ہوتی ہے
ہوا چلتی ہے اور دریا بھی بہتے ہیں
پھول کھلتے ہیں‘ خوشبو بھی دیتے ہیں
مگر پھر بھی…
بس تمہارے نہ ہونے سے
ہر شے ادھوری لگتی ہے
ہر صبح شام سی لگتی ہے
ہر مسکان اداس لگتی ہے
ہر محفل انجان سی لگتی ہے
ہر دھڑکن بے جان لگتی ہے
سچ تو یہ ہے کہ…
ساری دنیا ویران سی لگتی ہے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close